7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 7:118–120

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

پس ظاہر ہوگیا حق115 اور غلط ہوگیا جو کچھ انہوں نے کیا تھا

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

پس ہار گئے اس جگہ اور لوٹ گئے ذلیل ہو کر

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور گر پڑے جادوگر سجدہ میں

115:“ وَقَعَ اَيْ ظھر ” یعنی حق ظاہر ہوگیا اور جادوگروں کا عمل باطل ہوگیا۔ “ فَغُلِبُوْا ھُنَالِکَ ” فرعون اور اس کی قوم بھرے مجمع میں مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہو کر وہاں سے واپس لوٹے۔ “ وَ اُلْقِيَ السَّحَرَةُ ” یعنی زور سے سجدے میں ڈال دئیے گئے کیونکہ انہوں نے پہلے “ اِمَّا اَنْ تُلْقِیَ ” کہہ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ادب کیا تھا۔ “ من اتی یمشی اتیته ھرولة ” جب جادوگروں نے دیکھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اژدہا بن کر ان کی تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل گیا اور پھر دوبارہ اپنی اصلی حالت پر آگیا مگر اس کے باوجود اس کے حجم میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تو ان پر حق واضح ہوگیا اور وہ سمجھ گئے کہ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) جادوگر نہیں ہیں بلکہ اللہ کے سچے پیغمبر ہیں، معجزہ عصا دیکھ کر ان کو شرح صدر ہوگیا اور وہ حق کے سامنے اس قدر مغلوب ہوگئے کہ بےاختیار سجدے میں گر پڑے گویا کہ کسی نے ان کو پکڑ کر سجدے میں گرا دیا ہے۔ “ و عبر بذلک تنبیھا علی ان الحق بھرھم واضطرھم الی السجود بحیث لم یبق لھم تما لک فکان احدا دفعھم والقھم الخ ”(روح ج 9 ص 36) ۔
Ayahs 7:121–123

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

بولے ہم ایمان لائے116 پروردگار عالم پر

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

بولا فرعون کیا تم ایمان لے آئے اس پر میری اجازت سے پہلے یہ تو مکر ہے جو بنایا تم سب نے اس شہر میں تاکہ نکال دو اس شہر سے اس کے رہنے والوں کو سو اب تم کو معلوم ہوجائے گا

116: جادوگروں نے فوراً اسی جگہ اعلان کردیا کہ ہم فرعون کی ربوبیت سے بیزار ہوئے اور اس رب العالمین پر ایمان لائے جس کو موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) اپنا رب مانتے ہیں۔ “ قَالَ فِرْعَوْنُ الخ ” فرعون نے غضبناک ہو کر جادوگروں سے کہا کہ تم نے میرے نوکر اور ملازم ہو کر میری اجازت کے بغیر ہی موسیٰ کے رب کو مان لیا ہے۔ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے یہ سارا معاملہ سوچی سمجھی اسکیم کے مطابق کیا ہے اور تم موسیٰ و ہارون سے مل کر لوگوں کو مرعوب و مغلوب کر کے یہاں سے نکالنا چاہتے ہو۔ “ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ” تمہیں ابھی معلوم ہوجاتا ہے کہ تمہارے ساتھ کیا ہوگا۔ یہ فرعون کی طرف سے جادوگروں کو سزا کی دھمی ہے جس کا ذکر اگلی آیت میں ہے۔
Ayahs 7:124–125

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

میں ضرور کاٹوں گا تمہارے ہاتھ117 اور دوسری طرف کے پاؤں پھر سولی پر چڑھاؤں گا تم سب کو

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

وہ بولے ہم کو تو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہی ہے

117: یعنی میں تمہارے ہاتھ پاؤں کٹوا کر تم کو سولی پر لٹکا دوں گا “ مِنْ خِلَافٍ ” یعنی ہر ایک کی ایک جانب کا ہاتھ اور دوسری جانب کا پاؤں۔ “ قَالُوْا الخ ” جادوگروں نے کہا اگر تو ایسا کرے گا تو یہ ہمارا عین مقصود ہے کیونکہ اس طرح ہم اپنے رب کی آغوش رحمت میں پہنچ جائیں گے۔
Ayah 7:126

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

اور تجھ کو ہم سے یہی دشمنی ہے118 کہ مان لیا ہم نے اپنے رب کی نشانیوں کو جب وہ ہم تک پہنچیں اے ہمارے رب دہانے کھول دے ہم پر صبر کے اور ہم کو مار مسلمان

118: اور ہمارا قصور صرف یہ ہے کہ ہم اپنے رب کی ٓیات اور اس کے بھیجے ہوئے معجزات پر ایمان لے آئے ہیں۔ تم اس بات کو جرم سمجھتے ہو حالانکہ ہمارے لیے یہ چیز نہایت قابل فخر ہے۔ اس لیے ہم اس سزا سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ “ رَبَّنَا اَفْرِغْ عَلَیْنَا الخ ” یہ جادگروں کی دعا ہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ فرعون مذکورہ بالا سزا دینے پر تلا ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ اے ہمارے آقا و مولا ! اے ہمارے پروردگار ہمیں صبر و استقامت عطا فرما تاکہ ہم اس آزمائش میں ثابت قدم رہیں اور ہمارا خاتمہ ایمان واسلام پر ہو۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ فرعون نے دھمکی کے مطابق جادوگروں کو سزا دے دی تھی “ فقیل ان فرعون اخذ السحرة و قطعھم علی شاطئ النھر وانھ اٰمن بموسی عند ایمان السحرة ستمائة الف ” (قرطبی ج 7 ص 261) ۔ جادوگروں کے ایمان لانے کے ساتھ دوسرے لوگوں میں سے چھ لاکھ نفوس نے اسلام قبول کیا۔
Ayah 7:127

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

اور بولے سردار قوم فرعون کے119 کیوں چھوڑتا ہے تو موسیٰ کو اور اس کی قوم کو کہ دھوم مچائیں ملک میں اور موقوف کر دے تجھ کو اور تیرے بتوں کو بولا اب ہم مار120 ڈالیں گے ان کے بیٹوں کو اور زندہ رکھیں گے ان کی عورتوں کو اور ہم ان پر زور آور ہیں

119:“ وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ الخ ” جب فرعون کے درباری امراء نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو فرعون سے کہنے لگے کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو آزاد چھوڑے رکھیں گے کہ وہ زمین میں فساد کرتے پھریں حالانکہ وہ آپ کو اور آپ کی مورتیوں کو بھی نہیں پوجتے۔ فرعون نے اپنے بت بنوا کر اپنی رعیت کو دے دئیے تھے تاکہ وہ ان کی پوجا کیا کریں یہاں “ اٰلِھَتَکَ ” سے یہی بت مراد ہیں (شاہ عبدالقادر) ۔ 120: فرعون نے جواب دیا کہ اب میں اپنے پرانے دستور کے مطابق بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنا اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑنا از سر نو شروع کردوں گا تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ ہمارا تشدد و غلبہ ان پر اب بھی باقی ہے۔
Ayah 7:128

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا121 اپنی قوم سے مدد مانگو اللہ سے اور صبر کرو بیشک زمین ہے اللہ کی اس کا وارث کر دے جس کو وہ چاہے اپنے بندوں میں اور آخر میں بھلائی ہے ڈرنے والوں کے لیے

121: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تسلی دی اور فرمایا فرعونیوں کی جانب سے اس وقت جو کچھ تمہارے ساتھ ظلم وستم ہورہا ہے اس پر صبر کرو اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے اللہ سے مدد مانگو اور یاد رکھو زمین اللہ کی ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کا مالک اور حکمران بنا دیتا ہے اور آخر کار غلبہ انہی لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو صبر کریں اور اللہ سے مدد چاہیں۔ یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے لطیف انداز میں اپنی قوم کو فرعون سے نجات پانے اور بالآخر حکومت مصر مل جانے کی خوشخبری سناد ی “ تصریح بما رمز الیه من البشارة قبل و کشف عنه وھو اھلاک فرعون واستخلافھم بعده فی ارض مصر ” (مدارک ج 3 ص 54) ۔
Ayah 7:129

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

وہ بولے ہم پر تکلیفیں رہیں122 تیرے آنے سے پہلے اور تیرے آنے کے بعد کہا نزدیک ہے کہ رب تمہارا ہلاک کر دے تمہارے دشمن کو اور خلیفہ کردے تم کو ملک میں پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو

122: قوم نے مایوسانہ انداز میں کہا اے موسیٰ ! تیری آمد سے پہلے بھی ہم تکلیفوں میں مبتلا کئے جاتے تھے اور تیرے آنے کے بعد بھی ہمارا وہی حال ہے۔ یعنی تیرے آنے سے ہماری تکلیفوں کا کچھ مداوا نہیں ہوا۔ “ قَالَ عَسٰی الخ ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا جلدی نہ کرو، صبر سے کام لو، ایک وقت آئے گا جب اللہ تمہارے دشمنوں کو تباہ و برباد کر کے ان کی پستیوں پر تمہیں قابض بنا دے گا۔ پھر پتہ چل جائے گا کہ تم کیسے کام کرتے ہو آیا اللہ کے انعامات بےپایاں کا شکر ادا کرتے ہو اور اس کے احکام بجا لاتے ہو یا اس کی ناشکری اور نافرمانی کرتے ہو۔
Ayah 7:130

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور ہم نے پکڑ لیا 123 فرعون والوں کو قحطوں میں اور میووں کے نقصان میں تاکہ وہ نصیحت مانیں

123: یہ تیسرا واقعہ ہے۔ پہلے فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ اب یہاں سے ان کی ہلاکت کے مبادی کا ذکر شروع ہوا۔ “ السنین ”“ سنة ” کی جمع ہے اور مراد قحط کے سال ہیں۔ “ وا لسنین جمع سنة والمراد بھا عام القحط ” (روح ج 9 ص 31) ۔
Ayah 7:131

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

پھر جب پہنچی ان کو124 بھلائی کہنے لگے یہ ہے ہمارے لائق اور اگر پہنچی برائی تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھ والوں کی سن لو ان کی شومی تو اللہ کے پاس ہے پر اکثر لوگ نہیں جانتے

124: قوم فرعون پر جب کبھی فراخی اور راحت آجاتی تو کہتے ہم اپنی ذاتی خوبیوں کی وجہ سے اسی کے مستحق ہیں لیکن اگر کوئی مالی یا جانی تکلیف پہنچ جاتی تو اسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کی طرف منسوب کرتے اور کہتے یہ سب انہی کی نحوست ہے۔ “ عیاذا بالله۔ اَلَا اِنَّمَا طٰٓئِرُھُمْ عِنْدَ اللّٰهِ ” حضرت ابن عباس فرماتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان پر جو تکلیف و مصیبت آرہی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور اس کی قضاء و قدر سے ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور مومنوں کی نحوست کو کوئی دخل نہیں۔ “ قال ابن عباس طائرھم ما یصیبھم ای ماطار لھم فی القدر مما ھم لا قوة ”(بحر ج 4 ص 370) ۔
Ayah 7:132

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور کہنے لگے جو کچھ125 تو لائے گا ہمارے پاس نشانی کہ ہم پر اس کی وجہ سے جادو کرے، سو ہم ہرگز تجھ پر ایمان نہ لائیں گے

125: یہ قوم فرعون کا مقولہ ہے۔ یعنی ہمیں مرعوب و مسحور کرنے کے لیے یہ جو تو جادو کھیل اور بزعم خویش معجزات دکھا رہا ہے ہم ان سے ہرگز متاثر ہونے والے نہیں اور نہ تیری نبوت پر ایمان لانے کو تیار ہیں۔
Ayah 7:133

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

پھر ہم نے بھیجا ان پر طوفان اور ٹڈی اور چچڑی اور مینڈک اور خون بہت سی نشانیاں جدا جدا پھر بھی تکبر کرتے رہے اور تھے وہ لوگ گناہ گار126

126: جب معجزات عصا، ید بیضا، قحط سالی وغیرہ سے ان کے دلوں میں عاجزی اور انابت کے کوئی آثار ظاہر نہ ہوئے اور وہ انکار و جحود اور ضد وعناد پر قائم رہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ فرعون اور اس کی قوم سرکشی اور عناد کی انتہاء کو پہنچ چکی ہے اس لیے ان پر ایسا عذاب نازل فرما جس سے بعد والوں کو بھی عبرت حاصل ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بالکلیہ تباہ و برباد کرنے سے پہلے کئی صورتوں میں ان پر عذاب نازل فرمایا تاکہ وہ راہ راست پر آجائیں۔ “ اَلطُّوْفَانَ ” آٹھ دن تک متواتر دن رات ان پر اندھیرا چھایا رہا اور مسلسل بارش ہوتی رہی یہاں تک کہ ان کے گھروں میں اس قدر پانی جمع ہوگیا کہ ان کے کندھوں سے اوپر چڑھ گیا، پورے سات دن وہ اسی حالت میں مبتلا رہے، نہ بیٹھ سکتے تھے، نہ کھانے کے لیے کوئی چیز مہیا ہوسکتی تھی۔ مگر اسرائیلیوں کے گھروں میں پانی داخل نہ ہوا اور اس کی وجہ سے انہیں کوئی تکلیف نہ ہوئی آخر لاچار ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے التجا کی کہ وہ اللہ سے دعاء کر کے انہیں اس مصیبت سے نجات دلا دیں تو وہ ایمان لے آئیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے پانی ہٹا لیا اور زمین ظاہر ہوگئی تو اس میں پہلے سے زیادہ گھاس وغیرہ پیدا ہوئی تو فرعونیوں نے اپنا عہد تور دیا اور کہنے لگے یہ کوئی عذاب تھوڑا ہی تھا یہ تو ہمارے لیے ایک نعمت تھی۔ “ وَالْجَرَادَ ” اس کے بعد اللہ نے ٹڈی دل بھیج دیا جس نے ان کے تمام باغوں اور کھیتوں کا صفایا کردیا ان کا کوئی درخت نہ چھوڑا، یہاں تک کہ ان کے مکانوں کے دروازہ، چھتوں کے شہتیروں اور کڑیوں کو، ان کے کپڑوں اور گھر کے ساز و سامان تک کو نیست و نابود کردیا۔ بنی اسرائیل کی ہر چیز اس عذاب سے بھی محفوظ رہی۔ آخر فرعونیوں کی التجاء پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعاء سے اللہ نے ہوا بھیجی جس نے تمام ٹڈی دل کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا، مگر وہ پھر اپنے قول سے منحرف ہوگئے اور ایمان نہ لائے۔ “ وَالقُمَّل ”: اس کے بعد اللہ نے جوؤں کو مسلط کردیا اور انہوں نے ان کے بدن کے چمڑے اور گوشت کو کھانا شروع کردیا جب قوم فرعون کا کوئی آدمی روٹی کھانے لگتا تو اس کا منہ جوؤں سے بھر جاتا۔ جب اس مصیبت سے نجات ملی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ اب تو ہمیں پورا یقین ہوگیا ہے کہ تو بہت بڑا جادوگر ہے۔ بعض نے “ قُمَّلَ ” سے چچڑیاں یا گیہوں کا کیڑا مراد لیا ہے۔ “ قُمَّلَ ” سے مراد چچریاں ہیں جیسا کہ مترجم (رح) نے اختیار کیا یا جوئیں یا گیہوں وغیرہ غلہ میں جو کیڑا لگ جاتا ہے جس سے غلہ خراب ہوجاتا ہے۔ یعنی بدن اور کپڑوں میں چچریاں اور جوئیں پڑگئیں۔ غلہ میں گھن لگ گیا۔ (تفسیر عثمانی) ۔ “ وَالضَّفَادِعَ ” پھر اللہ نے ان پر مینڈکوں کو مسلط کردیا۔ ان کے گھروں کے صحن، ان کے کمرے، اور تمام برتن مینڈکوں سے بھر گئے۔ اگر وہ بات کے لیے منہ کھولتے تو پھدک کر مینڈک ان کے مونہوں میں پہنچ جاتے، ان کے کھانوں میں داخل ہو کر ان کو خراب کردیتے، اس سے تنگ آ کر انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے زاری کی اور ایمان لانے کا عہد کیا مگر اس دفعہ بھی عہد توڑ دیا۔ “ وَالدَّمَ ” آخر اللہ تعالیٰ نے ان پر خون کا عذاب نازل فرمایا، دریائے نیل خون کا بہنے لگا، قبطیوں کے برتنوں کا پانی تمام خون ہوگیا مگر اسرائیلیوں کے پانی میں کوئی فرق نہ آیا۔ قبطی اسرائیلیوں کے برتنوں سے اپنے برتنوں میں پانی ڈالتے تو وہ خون ہوجاتا یہاں تک کہ اگر کوئی اسرائیلی اپنے منہ پانی لے کر کسی فرعونی کے منہ میں ڈالتا تو وہ اس کے منہ میں پہنچ کر فوراً خون ہوجاتا۔ “ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلَاتٍ ” یہ واضح نشانیاں تھیں مگر انہوں نے ہر بار عناد و استکبار سے کام لیا۔ “ کل ذلک من الروح والقرطبی والخازن وغیرھا ”۔
Ayahs 7:134–135

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب پڑتا ان پر کوئی عذاب127 تو کہتے اے موسیٰ دعا کر ہمارے واسطے اپنے رب سے جیسا کہ اس نے بتلا رکھا ہے تجھ کو اگر تو نے دور کردیا ہم سے یہ عذاب تو بیشک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

پھر جب ہم نے اٹھا لیا ان سے عذاب ایک مدت تک کہ ان کو اس مدت تک پہنچنا تھا اسی وقت عہد توڑ ڈالتے

127: تفصیل مذکور کے مطابق جب ان پر عذاب آتا وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آکر گڑ گڑانے لگتے کہ اللہ سے دعا مانگو اگر ہم سے عذاب اٹھ گیا تو ہم تجھ پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ بھیج دیں گے لیکن جب اللہ ان پر سے عذاب اٹھا لیتا تو وہ ہر بار عہد شکنی کرتے اور ایمان نہ لاتے۔
Ayah 7:136

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

پھر ہم نے بدلہ لیا ان سے 128 سو ڈبو دیا ہم نے ان کو دریا میں اس وجہ سے کہ انہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے تغافل کرتے تھے

128: آخر ان کے مسلسل عناد و استکبار کی وجہ سے ہم نے ان سے بدلہ لیا اور فرعون اور اس کی قوم کو دریائے نیل میں غرق کردیا۔ “ بِانَّھُمْ ” میں باء سببیہ ہے۔
Ayah 7:137

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے129 اس زمین کے مشرق اور مغرب کا کہ جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہوگیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے اور خراب کردیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے اور جو اونچا کر کے چھایا تھا

129:“ اَلْقَوْمَ ” سے بنی اسرائیل مراد ہیں۔ “ اَلْاَرْض ” سے ملک مصر مراد ہے یا ملک شام یا دونوں۔ “ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَھَا ” یہ کنایہ ہے اس کی تمام اطراف و جوانب سے مطلب یہ ہے کہ وہ پورے کا پورا ملک بلا شرکت غیرے بنی اسرائیل کو دیدیا۔ “ وَتَمَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ ” کلمۃ سے اللہ تعالیٰ کا عدہ مراد ہے جو اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے بنی اسرائیل سے فرمایا تھا کہ وہ ان کی مدد کرے گا اور ملک مصر ان کو دے گا۔ “ والمراد من الکلمة وعده تعالیٰ لھم بالنصر والتمکین علی لسان نبیھم علیه السلام ” (روح ج 9 ص 38) ۔ “ بِمَا صَبَرُوْا ” میں باء سببیہ ہے یعنی بنی اسرائیل کے فرعونیوں کے ظلم و ستم اور شدائد و تکالیف پر صبر کرنے کی وجہ سے اللہ نے ان سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا فرمایا اور فرعونیوں نے جو عالیشان عمارتیں اور محلات تعمیر کیے تھے اور جو باغات لگائے تھے وہ سب ہم نے تباہ و برباد کردئیے۔ “ وَ مَا کَانُوْا یَعْرِشُوْنَ ” مراد انگوروں کے باغات ہیں جن کی بیلوں کے لیے وہ عریش بناتے تھے۔
Ayah 7:138

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو130 دریا سے تو پہنچے ایک قوم پر جو پوجنے میں لگ رہے تھے اپنے بتوں کے کہنے لگے اے موسیٰ بنا دے ہماری عبادت کے لیے بھی ایک بت جیسے ان کے بت ہیں کہا تم لوگ تو جہل کرتے ہو

130: یہ چوتھا واقعہ ہے۔ جب فرعون اور اس کی قوم دریائے نیل میں غرق ہوگئی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مع بنی اسرائیل اس کے معجزانہ راستوں سے گذر کر پار ہوگئے تو اب بنی اسرائیل نے سرکشی شروع کردی چناچہ راستہ میں جب ان کا گذر ایک قوم پر ہوا جو بت پرست تھے اور گائے کی پوجا کرتے تھے انہوں نے اپنے عبادت خانے میں گائے کے بت بنا کر رکھے ہوئے تھے۔ “ قال ابن جریج کانت تلک الاصنام تماثیل بقر ” (خازن ج 2 ص 23) ۔ جب اسرائیلیوں نے اس بت پرست قوم کو دیکھا تو ان کا جی بھی للچا اٹھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے ان کے ٹھاکروں جیسا ایک ہمیں بھی ٹھاکر بنا دو تاکہ ہم بھی اس کی پوجا پاٹ کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم بڑے نادان اور جاہل ہو۔ شرک اور بت پرستی سے اللہ نے تم کو نجات دی مگر اب تم پھر اسی گڑھے میں گرنا چاہتے ہو۔
Ayah 7:139

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

یہ لوگ131 تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں، اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں

131: یہ بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کلام ہے۔ یعنی یہ گائے کے پجاری جس دین پر ہیں یہ عنقریب میرے ہاتھوں برباد ہونے والا ہے اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ محض باطل اور لا حاصل ہے اس سے انہیں نہ دنیا میں کچھ نفع ملیگا نہ آخرت میں۔ “ یعنی یدمر اللہ تعالیٰ دینھم الذي ھم علیه علی یدي۔ وان ذلک لا ینفھم اصلا ” (روح ج 9 ص 40) ۔
Ayahs 7:140–141

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

کہا کہہ اللہ کے سوا132 ڈھونڈوں تمہارے واسطے کوئی اور معبود حالانکہ اس نے تم کو بڑائی دی تمام جہان پر

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب نجات دی ہم نے تم کو فرعون والوں سے کہ دیتے تھے تم کو برا عذاب کہ مار ڈالتے تھے تمہارے بیٹوں کو اور جیتا رکھتے تھے تمہاری عورتوں کو اور اس میں احسان ہے تمہارے رب کا بڑا

132: یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد دلائے کہ کیسے ناشکر گذار ہو کیا میں اس اللہ کے سوا تمہیں کوئی اور معبود بنا دوں جس اللہ نے تمام دنیا جہاں کے لوگوں پر تم کو فضیلت دی، مراد یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں جو لوگ موجود ہیں ان میں تم سب سے افضل ہو اس لیے اس سے امت محمدیہ پر ان کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ نیز وہ وقت یاد کرو جب فرعون نے تمہیں انتہائی ذلت کے عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا، وہ تمہارے لڑکوں کو قتل کردیتا تھا اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا اس شدید بلاء و مصیبت سے اللہ نے تمہیں نجات عطا فرمائی۔ اس لیے اب تمہیں اس کے ان انعامات کا شکر ادا کرنا چاہئے۔
Ayah 7:142

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

اور وعدہ کیا ہم133 نے موسیٰ سے تیس رات کا اور پورا کیا ان کو اور دس سے پس پوری ہوگئی مدت تیرے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہ میرا خلیفہ رہ میری قوم میں اور اصلاح کرتے رہنا اور مت چلنا مفسدوں کی راہ

133: یہ پانچواں واقعہ ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر میں بنی اسرائیل سے وعدہ کیا تھا کہ اگر اللہ نے تمہارے دشمن فرعون کو ہلاک کردیا تو میں اللہ کی طرف سے ایک کتاب لاؤں گا جس میں شریعت کے تمام احکام مذکور ہوں گے۔ غرق فرعون کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے کتاب کے لیے التجا کی تو حکم ہوا کہ تیس دن کے روزے رکھو، تیس روزوں کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے منہ کو بو ناگوار سی محسوس ہوئی تو انہوں نے مسواک سے اس کا ازالہ کردیا اس پر اللہ نے حکم فرمایا تمہارے منہ کی بو مجھے کستوری سے بھی زیادہ پسند تھی مگر تم نے مسواک کر کے اس کو زائل کردیا اس لیے اب دس روزے اور رکھو اس طرح پورے چالیس دن ہوگئے۔
Ayah 7:143

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

اور جب پہنچا134 موسیٰ ہمارے وعدہ پر اور کلام کیا اس سے اس کے رب نے بولا اے میرے رب تو مجھ کو دکھا کہ میں تجھ کو دیکھوں فرمایا تو مجھ کو ہرگز نہ دیکھے گا لیکن تو دیکھتا رہ پہاڑ کی طرف اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو توُ مجھ کو دیکھ لے گا پھر جب تجلی کی اس کے رب نے پہاڑ کی طرف کردیا اس کو ڈھا کر برابر اور گر پڑا موسیٰ بیہوش ہو کر پھر جب ہوش میں آیا135 بولا تیری ذات پاک ہے میں نے توبہ کی تیری طرف اور میں سب سے پہلے یقین لایا

134: جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مقررہ وقت پر کوہ طور پر پہنچے اور اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہوئے تو اس کی عنایات بےغایات اور اس کی رحمت ورافت دیکھ کر خیال آیا کہ اگر دیدار خداوندی کی التجاء کروں تو شاید یہ آرزو بھی پوری ہوجائے۔ چناچہ عرض کیا۔ “ رَبِّ اَرِنِیْ اَنْظُرْ اِلَیْکَ ” اے اللہ میرے سامنے اپنی ذات کو ظاہر فرما تاکہ میں اسے دیکھ سکوں، ارشاد ہوا تم میں مجھے دیکھنے کی تاب نہیں اور مجھے دیکھ سکنا محال ہے۔ اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے فرمایا تم اس پہاڑ کو دیکھو اس پر میں اپنی تجلی ڈالتا ہوں اگر وہ اپنی جگہ قائم رہا تو سمجھ لینا کہ تم بھی مجھے دیکھ سکو گے ورنہ نہیں۔ “ فَلَمَّا تَجَلّٰی الخ ” جب اللہ نے طور پہاڑ پر تجلی ڈالی اور اس پر اپنے نور کی چمک کا اظہار فرمایا تو پہاڑ کے ٹکڑے اڑ گئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی بیہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔ “ دَکًّا ” مصدر ہے بمعنی مفعول ای “ مدکوکا متفتتا ” اور “ صعقا ” کے معنی ہیں بیہوش ای مغشیا علیہ (روح) ۔ 135: جب ہوش میں آئے تو اللہ کی تسبیح و تقدیس بیان کرنے لگے کہ اے اللہ تو اس سے پاک اور منزہ ہے کہ کوئی تیرا مثل ہو اور تو دیگر اشیاء کی طرح نظر آسکے میں اپنے سوال کی معافی چاہتا ہوں اور سب سے پہلے اس بات پر ایمان لاتا ہوں کہ یہاں تجھے کوئی نہیں دیکھ سکتا “ ای تنزیھاً لک من مشابھۃ خلقک فی شیء وانا اول المومنین بعظمتک و جلالک او بانہ لا یراک احد فی ھذہ النشاة ” (روح ج 9 ص 46، خازن وغیرہ) ۔
Ayah 7:144

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

فرمایا اے موسیٰ136 میں نے تجھ کو امتیاز دیا لوگوں سے اپنے پیغام بھیجنے کا اور اپنے کلام کرنے کا سو لے جو میں نے تجھ کو دیا اور شاکر رہ

136: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی آرزو چونکہ پوری نہ ہوسکی اس لیے ان کی دلجوئی اور تسلی کے لیے فرمایا اے موسیٰ تجھ پر میرے دوسرے انعامات کیا کم ہیں۔ میں نے تجھ کو اپنی نبوت و رسالت اور کلام و پیام کے لیے منتخب کر کے تیرے زمانے کے تمام لوگوں پر تجھ کو فضیلت دی جو انعام و اکرام میں تجھے دے چکا ہوں اسی پر قناعت کر۔ “ اي اقنع بما اعطیتک ” (قرطبی ج 7 ص 380) اور ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر۔
Ayah 7:145

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اور لکھ دی ہم نے اس کو137 تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور تفصیل ہر چیز کی سو پکڑ لے ان کو زور سے اور حکم کر اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں عنقریب میں تم کو دکھلاؤں گا گھر نافرمانوں کا

137:“ اَلْاَلْوَاحَ ” سے مراد تورات ہے اور “ شَیْءٍ ” سے ہر وہ چیز مراد ہے جن کی شریعت میں ان کو ضرورت تھی یعنی حلال و حرام کے احکام۔ “ من کل شیء یحتاجون الیه من الحلال والحرام والمحاسن والقبائح ”(روح ج 9 ص 56) ۔ “ مَوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا ” مفعول لہ ہیں یا “ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ ” سے بدل ہیں۔
Ayahs 7:146–147

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

میں پھیر دونگا138 اپنی آیتوں سے ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں ساری نشانیاں ایمان نہ لائیں ان پر اور اگر دیکھیں راستہ ہدایت کا تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ اور اگر دیکھیں راستہ گمراہی کا تو اس کو ٹھہرا لیں راہ یہ اس لیے کہ انہوں نے139 جھوٹ جانا ہماری آیتوں کو اور رہے ان سے بیخبر

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور جنہوں نے جھوٹ جانا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو برباد ہوئیں ان کی محنتیں وہی بدلہ پائیں گے جو کچھ عمل کرتے تھے

138: یہاں بنی اسرائیل کو عناد و استکبار کے انجام بد سے ڈرایا۔ یعنی جو لوگ تکبر و غرور کرتے ہیں۔ میری آیتوں کا ضد وعناد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں میں ان کے دلوں کو پھیر دوں گا اور ان کے دلوں پر مہر جباریت لگا دوں گا۔ ان کے دل حق سے بیزار اور باطل کی طرف مائل ہوجائیں گے یہاں تک کہ اگر وہ تمام معجزے بھی دیکھ لیں تو بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ ہدایت کی راہ سے دور بھاگیں گے اور گمراہی کی طرف دوڑ کر جائیں گے۔ 139:“ بِاَنَّھُمْ ” میں باء سببیہ ہے۔ یعنی ان کے ساتھ یہ معاملہ اس لیے کیا گیا کہ انہوں نے اللہ کی توحید کے دلائل کو محض ضد وعناد کی وجہ سے جھٹلایا۔ “ بسبب انھم کذبوا بایات اللہ الدالة علی التوحید ”(خازن ج 2 ص 238) ۔ “ وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا الخ ” یہ تخویف اخروی ہے۔
Ayah 7:148

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور بنا لیا موسیٰ کی140 قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا ایک بدن کہ اس میں گائے کی آواز تھی، کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا، اور نہیں بتلاتا راستہ معبود بنا لیا اس کو اور وہ تھے ظالم

140: جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر تورات لینے کے لیے گئے تو ان کی عدم موجودگی میں سامری نے قوم کو گمراہ کردیا۔ اسرائیلی پہلے ایک قوم کو گائے کی پوجا کرتے دیکھ چکے تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس کی مورتی کا مطالبہ بھی کرچکے تھے۔ اب سامری نے موقعہ سے فائدہ اٹھا کر بنی اسرائیل سے زیورات حاصل کیے اور ان کو ڈھال کر ایک گوسالے کا بت تیار کیا جو گوسالے کی طرح آواز کرتا تھا۔ اس کی مزید تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے۔ (دیکھو ص 36 حاشیہ 112) ۔
Ayah 7:149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب141 پچھتائے اور سمجھے کہ ہم بیشک گمراہ ہوگئے تو کہنے لگے اگر نہ رحم کرے ہم پر ہمارا رب اور نہ بخشے ہم کو تو بیشک ہم تباہ ہوں گے

141: یہ انتہائی ندامت اور پشیمانی سے کنایہ ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس آئے تو انہوں نے اس احمقانہ اور مشرکانہ فعل پر قوم کی ملامت کی اور ان کو سمجھایا تو وہ بہت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا اور اپنے فعل سے تائب ہوگئے۔ “ اي بعد عود موسیٰ من المیقات یقال للنادم المتحیر قد سقط فی یدہ ” (قرطبی ج 7 ص 285) ۔ قوم کے نادم ہونے کا واقعہ اصل میں اس وقت پیش آیا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے گوسالہ کو جلا کر اس کی راکھ اڑا دی اس واقعے کی اصل ترتیب سورة طٰہٰ میں اس طرح مذکور ہے۔ میقات سے واپسی پر سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم سے خطاب کر کے ان کو ملامت کی۔ “ فَرَجَعَ مُوْسٰی اِلٰی قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا۔ قَالَ یٰقَوْمِ اَ لَمْ یَعِدْکُمْ رَبُّکُمْ الخ ”(طٰہٰ رکوع 4) ۔ قوم کا جواب سننے کے بعد آپ ہارون (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوئے۔ “ قَالَ یٰھٰرُوْنُ مَامَنَعَکَ الخ ” (طٰہٰ رکوع 5) ۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) سے حقیقت حال معلوم کرنے کے بعد سامری سے خطاب کر کے فرمایا “ مَا خَطْبُکَ یٰسَامِرِيُّ الخ ”(طٰہٰ رکوع 5) اسکے بعد قوم کے سامنے گوسالے کو جلا دیا تو ان پر اپنی غلطی کھلی کہ انہوں نے شرک کر کے بڑا ظلم کیا اور نادم ہوئے۔ لہذا یہاں “ وَلَمَّا سُقِطَ ” میں واؤ مطلق جمع کے لیے ہے۔
Ayah 7:150

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب لوٹ آیا موسیٰ142 اپنی قوم میں غصہ میں بھرا ہوا افسوس ناک بولا کیا بری نیابت کی تم نے میری میرے بعد کیوں جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے اور ڈال دیں وہ تختیاں143 اور پکڑا سر اپنے بھائی144 کا لگا کھینچنے اس کو اپنی طرف وہ بولا کہ اے میری ماں کے جنے لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھ کو مار ڈالیں سو مت ہنس مجھ پر دشمنوں کو اور نہ ملا مجھ کو گناہ گار لوگوں میں

142: یہ چھٹا واقعہ ہے۔ “ غَضْبَانَ اَسِفًا ” دونوں “ رَجَعَ ” کی ضمیر سے مترادف یا متداخل حال ہیں۔ “ غَضْبَانَ ” ناراض، غضبناک۔ “ اَسِفًا، شَدِیْدُ الْغَضَبِ ” یعنی بہت غضبناک جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میقات سے واپس آئے تو قوم کو گوسالہ پرستی میں دیکھ کر سخت غضبناک ہوگئے اور فرمایا میرے بعد تم نے یہ جو حرکت کی ہے وہ بہت بری ہے۔ جب کہ میں تمہیں توحید کی تعلیم دے چکا تھا اور شرک کا رد کرچکا تھا۔ “ اي بئسما فعلتم بعد غیبتی حیث عبدتم العجل بعد ما رایتم منی من توحید اللہ تعالیٰ ونفی الشرکاء عنه سبحانه واخلاص العبادة له جل جلاله ” (روح ج 9 ص 66) ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اس قدر غضبناک ہونا غیرت دینی کی وجہ سے تھا۔ چونکہ آپ کے دل میں غیرت دینی انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی اس لیے جوش غضب بھی شدید تھا۔ 143: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایسے جلیل القدر پیغمبر سے یہ تو متصور ہی نہیں ہوسکتا کہ وہ اللہ کی کتاب کو اس طرح زمین پر پھینک دے۔ اس لیے یہاں “ القاء ” محض صورۃً ہے۔ اصل بات یہ تھی کہ دینی حمیت و غیرت کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس قدرت شدت غضب میں آخر بےبس ہوئے۔ یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑگئی اور الواح تورات زمین پر گر پڑیں۔ “ والصوات ان یقال انه علیه السلام لفرط حمیته الدینیة و شدید غضبه لله تعالیٰ لم یتمالک ان وقعت الالواح من یدہ ؟ اختیارہ ” (روح ج 9 ص 67) ۔ 144: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سمجھا شاید ہارون (علیہ السلام) نے قوم کو شرک سے روکنے میں کوتاہی کی ہے۔ اس لیے انہیں سر کے بالوں سے پکڑ کر کھینچا۔ یہ فعل بےان سے بےاختیار شدت غضب اور حمیت دینی کی وجہ سے سرزد ہوا۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے فرمایا میری ماں کے بیٹے ! میں نے روکنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی میں نے تو اپنا فرض ادا کردیا مگر قوم مجھ پر غالب آگئی اور مجھے بےبس کردیا۔ یہاں تک کہ وہ تو مجھے قتل ہی کرنے لگے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو گوسالہ پرستی سے منع کرنے میں پوری پوری کوشش کی اور ان کو روکنے میں انتہائی مبالغہ کیا تھا حتی کہ قوم قتل کرنے پر اتر آئی۔ “ و دل ھذا علی انه بالغ فی الانکار علیھم ھتی ھموا بقتله ” (بحر ج 4 ص 396) ۔ اللہ کے ایک پیغمبر کی یہی شان ہوتی ہے کہ وہ تبلیغ احکام اور اشاعت توحید میں ہر جانی اور مالی خطرے سے بےنیاز ہو کر اپنا فریضہ سر انجام دے اور مداہنت یا تقیہ کی آڑ میں احکام شریعت کو معطل نہ کر ڈالے۔ شیعہ اماموں کو پیغمبروں کی طرح معصوم، مامور من اللہ اور واجب الاطاعت مانتے ہیں مگر اس کے بباوجود ان بزرگوں پر تقیہ کی آڑ میں اسلام کے نہایت اہم احکام کو چھپانے کا الزام بھی دھرتے ہیں۔
Ayah 7:151

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

بولا اے میرے رب معاف کر145 مجھ کو اور میرے بھائی کو اور داخل کر ہم کو اپنی رحمت میں اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے

145: جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حقیقت حال کا پتہ چلا اور مععلوم ہوگیا کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) بےقصور ہیں تو شدت غضب میں اپنے فعل مذکور پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا۔
Ayahs 7:152–153

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

البتہ جنہوں نے بچھڑے کو معبود146 بنا لیا ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کا اور ذلت دنیا کی زندگی میں اور یہی سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جنہوں نے کیے برے کام پھر توبہ کی اس کے بعد اور ایمان لائے تو بیشک تیرا رب توبہ کے پیچھے البتہ بخشنے والا مہربان ہے

146: اس سے پہلے “ قُلْنَا ” محذوف ہے۔ کیونکہ یہ واقعہ گذر چکا ہے اور اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو گوسالہ پرستی پر قائم رہے اور توبہ نہ کی۔ “ وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوْا السَّیِّئَاتِ الخ ” اور جو لوگ گناہ کرتے رہے مگر بعد میں توبہ کرلی اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کیا ایسے لوگوں کے اللہ تعالیٰ تمام گذشتہ گناہ معاف فرما دے گا۔ یہ قرینہ ہے کہ پہلی وعید ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے گوسالہ پرستی سے توبہ نہیں کی تھی۔
Ayah 7:154

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب تھم گیا147 موسیٰ کا غصہ تو اس نے اٹھا لیا تختیوں کو اور جو ان میں لکھا ہوا تھا اس میں ہدایت اور رحمت تھی ان کے واسطے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں

147: جب ہارون (علیہ السلام) نے معذرت کردی اور قوم نے بھی نادم ہو کر توبہ کرلی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جوش غضب ٹھنڈا ہوگیا تو الواح کو اٹھا لیا اس میں خدا سے ڈرنے والوں اور انابت کرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت تھی۔
Ayah 7:155

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور چن لیے موسیٰ نے148 اپنی قوم میں سے ستر مرد ہمارے وعدہ کے وقت پر لانے کو پھر جب ان کو زلزلہ نے پکڑا149 تو بولا اے رب میرے اگر تو چاہتا تو پہلے ہی ہلاک کردیتا ان کو اور مجھ کو کیا ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو کیا ہماری قوم کے احمقوں نے یہ سب تیری آزمایش ہے بچلا دے اس میں جس کو تو چاہے اور سیدھا رکھے جس کو چاہے تو ہی ہے ہمارا تھامنے والا سو بخش دے ہم کو اور رحمت کر ہم پر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے

148 ۔ یہ ساتواں واقعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کے ستر منتخب نمائندے چن کر مقررہ وقت پر ان کو طور پہاڑ پر لے آئیں تاکہ وہ ساری قوم کی طرف سے گوسالہ پرستی کے گناہ سے اللہ کے سامنے معذرت کریں۔ جب کوہ طور پر پہنچے تو اللہ نے پہاڑ پر سفید کہر ڈال دی جس سے وہ تمام ڈھک گیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس میں داخل ہوئے اور ساتھ والوں سے فرمایا تم بھی اس بادل میں داخل ہوجاؤ جب وہ اس میں داخل ہوئے تو سجدے میں گر گئے اور اسی حالت میں انہوں نے اللہ کا کلام بھی سنا، جب بادل ہٹ گیا تو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا مطالبہ کردیا اور کہنے لگے۔ “ لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَي اللّٰهَ جَهْرَةً ” یعنی جب تک اللہ کو علانیہ نہیں دیکھیں گے اس وقت تک تیری بات نہیں مانیں گے۔ (من الکبیر والروح وغیرہ) ۔ 149: جب ان کے اس معاندانہ اور گستاخانہ مطالبہ پر اللہ تعالیٰ نے ایک شدید زلزلے سے ان کو ہلاک کردیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کرنے لگے کہ اے اللہ ! اگر تو چاہتا تو ان کو اور ان کے ساتھ مجھ کو بھی اس سے پہلے ہی فرعون کے ہاتھوں یا دریائے قلزم میں غرق کر کے ہلاک کرسکتا تھا۔ جب پہلے تو نے مہربانی فرمائی اور ہم سب کو ہلاکت و تباہی سے محفوط رکھا تو اب ان نادانوں کی اس احمقانہ حرکت کی وجہ سے ہم کو ہلاک نہ فرما “ یعنی انک قدرت علی اھلاکھم قبل ذلک بحمل فرعون علی اھلاکھم و باغراقھم فی البحر وغیرھما فترحمت علیھم و لم تھلکھم فارحمھم الاٰن کما رحمتھم من قبل جریا علی مقتضی کرمک ”(روح ج 9 ص 74) ۔
Ayah 7:156

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں ہم نے رجوع کیا تیری طرف فرمایا میرا عذاب150 ڈالتا ہوں میں اس کو جس پر چاہوں اور میری رحمت شامل ہے ہر چیز کو سو اس کو لکھ دوں گا151 ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور جو ہماری باتوں پر یقین رکھتے ہیں

150: یعنی جس کو چاہوں عذاب دے سکتا ہوں مجھے روکنے والا کوئی نہیں۔ “ وَ رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ الخ ” مطلب یہ ہے کہ میری رحمت سب سے بڑی اور زیادہ ہے اور اس کی کوئی انتہا نہیں اور وہ ہر مستحق پر حاوی ہے۔ “ عموم اي لا نھایة لھا ای من دخل فیھا لم تعجز منه ” (قرطبی ج 7 ص 296) یہ مطلب نہیں کہ ہر شیئ کو شامل ہے۔ 151: اب یہاں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو اللہ کی رحمت کے مستحق ہیں۔ یعنی وہ تمام گناہوں سے بچتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں۔ زکوۃ کی تخصیص اس لیے فرمائی کہ وہ یہود پر نہایت شاق تھی۔ یہودی علماء اور پیر مختلف طیرقوں سے لوگوں کا مال کھانے کے تو عادی تھے، مگر اپنے پاس سے دینا ان کے لیے نہایت مشکل تھا۔
Ayah 7:157

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں152 اس رسول کی جو نبی اُمیّ ہے کہ جس کو پاتے ہیں لکھا ہوا اپنے پاس تورات اور انجیل میں وہ حکم کرتا ہے ان کو153 نیک کام کا اور منع کرتا ہے برے کام سے اور حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں اور حرام کرتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان پر سے ان کے بوجھ اور وہ قیدیں جو ان پر تھیں سو جو لوگ اس پر ایمان154 لائے اور اس کی رفاقت کی اور اس کی مدد کی، اور تابع ہوئے اس نور کے155 جو اس کے ساتھ اترا ہے وہی لوگ پہنچے اپنی مراد کو

152: یہ بھی ان لوگوں کی صفت ہے جو رحمت خداوند کے مستحق ہیں۔ پہلے اوصاف بیان کرنے کے بعد یہود و نصاریٰ کے لیے گنجائش باقی تھی کہ وہ آنحضرت ﷺ کا انکار کرنے کے باوجود دعوی کرلیں کہ ان میں یہ اوصاف پائے جاتے ہیں۔ لہذا وہی اللہ کی رحمت کے مستحق ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے استحقاق رحمت کے لیے حضرت نبی امی ﷺ پر ایمان لانے کو شرط قرار دیدیا جن کے تمام اوصاف تورات وانجیل میں صاف صاف مذکور ہیں۔ “ الْاُمِّی ” یہ “ اُمٌّ ” (ماں) کی طرف منسوب ہے۔ یعنی جو شخص اسی حالت میں باقی ہو جس حالت میں اس کو ماں نے جنا ہو۔ آنحضرت ﷺ لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے۔ “ او الی امه کا نه علی الحالة التی ولدته امه علیھا ” (روح ج 9 ص 79) ۔ اور یہ آنحضرت ﷺ کا ایک معجزہ تھا۔ یا یہ “ ام القري ” کی طرف منسوب ہے جو مکہ مکرمہ کا نام ہے۔ (ایضا) ۔ 153: وہ نبی امی ﷺ ان کو نیک کاموں کا حکم دیتا ہے اور برے کاموں سے منع کرتا ہے اور اللہ کے حکم سے پاکیزہ چیزوں کی حلت اور ناپاک اور خبیث چیزوں کی حرمت کا اعلان کر رہا ہے۔ اس آیت میں تحلیل و تحریم کی نسبت آنحضرت ﷺ کی طرف مجازی ہے۔ اصل میں تحلیل و تحریم کا اختیار تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ لیکن اللہ کا پیغمبر ﷺ چونکہ اشیاء کی حلت و حرمت کا مظہر و مبین ہے اس لیے مجازاً تحلیل و تحریم کی نسبت آپ کی طرف کی گئی۔ “ طَیِّبٰتٍ ” سے اونٹ کا گوشت اور گائے بکری کی چربی مراد ہے جو تورات کے حکم سے یہود پر حرام تھی یا اس سے محرمات مشرکین یعنی بحائر و سوائب وغیرہ مراد ہیں۔ یعنی “ بذلک ما کان محرما علیھم فی التورثة من الطیبات وھو لحوم الابل و شحم الغنم و المعز والبقر وقیل ھو ماکانوا یجرمونه علی انفسهم فی الجاھلیة من البحائر والسوائب والوصائل والحوامی ” (خازن ج 2 ص 245 معالم) اور “ خَبَائِث ” سے میتہ، خون، خنزیر اور نذر غیر اللہ وغیرہ مراد ہیں۔ “ ما یستخبث کالدم والمیة و لحم الخنزیر و ما اھل لغیر اللہ به ” (مدارک ج 2 ص 61) ۔ 154: اگر آیت کے اس حصے کو بھی بنی اسرائیل کے ساتھ مختص مانیں تو “ قُلْ یٰاَ یُّھَا النَّاسُ ” سے لے کر “ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْن ” تک جملہ معترضہ ہوگا جس میں تمام بنی آدم کو آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے اور اگر یہ حصہ عام اور بنی اسرائیل کے ساتھ مختص نہ ہو تو اس صورت میں یہاں سے لے کر “ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ ” تک جملہ معترضہ ہوگا۔ 155:“ النُّوْرُ ” سے یہاں قرا ان مراد ہے اور قرآن کو بطور استعارہ نور کہا گیا ہے۔ جس طرح نور یعنی روشنی خود ظاہر ہوتی ہے اور دوسروں کے لیے اشیاء کو ظاہر اور روشن کرتی ہے۔ اسی طرح قرا ان خود واضح ہے اور دوسروں کے لیے ہدایت کی راہ روشن اور احکام شریعت کو ظاہر کرتا ہے۔ “ و ھو القران عبر عنه بالنور المنبئ عن کو نه ظاھرا بنفسه و مظھرا لغیره ” (ابو السعود ج 4 ص 441) ۔ “ و ھو القراٰن و عبر عنه بالنور لظھورہ فی نفسه باعجازہ و اظھار لغیره من الاحکام الخ ” (روح ج 9 ص 82) ۔ جس طرح یہاں قرآن کے لیے لفظ نور بطور استعارہ استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے لیے بھی لفظ نور بطور استعارہ استعمال ہوا ہے اور لفظ نور سے آنحضرت ﷺ کی صفت ہدایت کی تعبیر مقصود ہے۔ اس لیے لفظ نور سے آنحضرت ﷺ کے سائے کی نفی پر استدلال کرنا سراسر غلط اور تحریف قرآن کے مرادف ہے۔