7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsجواھر القرآن

Ayah 7:80

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور بھیجا لوط کو جب کہا اس نے اپنی86 قوم کو کیا تم کرتے ہو ایسی بےحیائی کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں

86 یہ چوتھا قصہ ہے اور دوسرے دعوے سے متعلق ہے کیونکہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اللہ کے محرمات سے حرام کا سا معاملہ نہیں کرتی تھی۔ “ اَلْفَاحِشَةَ ” سے لڑکوں کیساتھ خلاف فطرت فعل کرنا مراد ہے۔ اس فعل کی ابتداء قوم لوط میں ہوئی اس سے قبل کسی قوم نے یہ فعل نہیں کیا تھا۔
Ayah 7:81

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

تم تو دوڑتے ہو87 مردوں پر شہوت کے مارے عورتوں کو چھوڑ کر بلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے

87: یہ “ اَلْفَاحِشَةَ ” کی تفسیر ہے۔ “ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ” بل ترقی کے لیے ہے یعنی برسر عام مجالس میں بھی تم اس فعل شنیع کا ارتکاب کرتے ہوئے نہیں شرماتے ہو۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا “ وَ تَاتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ ”(عنکبوت رکوع 3) “ وَ مَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖ الخ ”۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی پند و نصیحت کے جواب میں قوم نے فیصلہ کیا کہ ان کو گاؤں سے نکال دیا جائے۔ یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں۔
Ayahs 7:82–84

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

اور کچھ جواب نہ دیا اس کی88 قوم نے مگر یہی کہا کہ نکالو ان کو اپنے شہر سے یہ لوگ بہت ہی پاک رہنا چاہتے ہیں

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

پھر بچا دیا ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو مگر اس کی عورت کہ رہ گئی وہاں کے رہنے والوں میں

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور برسایا ہم نے ان کے اوپر مینہ یعنی پتھروں کا پھر دیکھ کیا ہوا انجام گناہ گاروں کا

88: اللہ نے اس بد کردار قوم پر آسمان سے پتھر برسا کر اسے تباہ کردیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور جو ان پر ایمان لا چکے تھے صرف وہی بچ سکے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی چونکہ درپردہ مشرکہ تھی اس لیے وہ بھی عذاب میں ہلاک ہوگئی۔ “ فَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ مَّطَرًا ” بارش سے پتھروں کی بارش مراد ہے۔ پہلے ان کی بستیوں کو الٹا دیا گیا۔ پھر اوپر سے پتھر برسائے گئے جیسا کہ سورة ہود رکوع 7 میں فرمایا۔ “ فَلَمَّا جَاءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ ”۔
Ayah 7:85

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور مدین کی طرف بھیجا ان کے بھائی شعیب کو89 بولا اے میری قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا معبود اس کے سوا تمہارے پاس پہنچ چکی ہے دلیل تمہارے رب کی طرف سے سو پوری کرو ناپ اور تول اور مت گھٹا کر دو لوگوں کو ان کی چیزیں اور مت خرابی ڈالو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد یہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم ایمان والے ہو90

89: یہ پانچواں قصہ ہے اور دوسرے اور تیسرے دونوں دعو وں سے متعلق ہے۔ “ یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللّٰهَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُہٗ ” میں تیسرا دعوی مذکور ہے۔ یعنی اے میری قوم تم صرف اللہ ہی کی عبادت کرو اور صرف اسی کو پکارو۔ اللہ کے سوا کوئی تمہارا کارساز نہیں۔ اور “ فَاَوْفُوْا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوْا النَّاسَ اَشْیَاءَھُمْ ” الخ میں دوسرا دعویٰ مذکور ہے۔ قوم شعیب (علیہ السلام) ان محرمات الٰہیہ کے ساتھ حرام کا برتاؤ نہیں کرتی تھی بلکہ ناپ تول کے ذریعے دوسرے کا حق مار لینے کو جائز سمجھتی تھی۔ اس لیے ان کو حکم دیا گیا کہ وہ ان محرمات کو حرام سمجھیں اور ان ناجائز طریقوں سے لوگوں کے حقوق تلف نہ کریں اور زمین میں شر و فساد نہ پھیلائیں۔ 90: یعنی امور مذکورہ دنیا و آخرت میں تمہارے لیے بہتر ہیں بشرطیکہ تم ایمان لے آؤ اور دعوت توحید کو مان لو۔ المراد بالخیریۃ ما یشمل امر الدنیا والاخرۃ ای ذلکم خیر لکم فی الدارین بشرط ان تومنوا (روح ج 8 ص 177)
Ayah 7:86

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور مت بیٹھو91 راستوں پر کہ ڈراؤ اور روکو اللہ کے راستہ سے اس کو جو کہ ایمان لائے اس پر اور ڈھونڈو اس میں عیب اور یاد کرو جب کہ تھے تم92 بہت تھوڑے پھر تم کو بڑھا دیا اور دیکھو کیا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا

91: حضرت ابن عباس، قتادہ، مجادہ اور سدی سے منقول ہے کہ قوم شعیب (علیہ السلام) کے مشرکین شہر میں آنیوالے تمام راستوں پر بیٹھ جاتے اور جو لوگ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے آتے ان کو روک لیتے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو عیاذاً باللہ کذاب (بڑا جھوٹا) کہہ کر ان کو بد ظن کرنے کی کوشش کرتے اور ساتھ ہی ان کو قتل کرنے کی دھمکی بھی دیتے۔ کانوا یقعدون علی الطرقات المفضیۃ الی شعیب فیتوعدون من اراد المجئ الیہ و یصدونہ و یقولون انہ کذاب فلا تذھب الیہ، کما کانت قریش مکۃ تفعلہ مع النبی ﷺ و ھذا ظاھر (قرطبی ج 7 ص 279) جیسا کہ قریش مکہ آنحضرت ﷺ کے پاس حاضر ہونیوالوں سے کیا کرتے تھے۔ 92 یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر انعام ذکر فرمایا۔ قلت و کثرت سے تعداد میں کمی بیشی مراد ہے یا دولت کی۔ مفسرین نے دونوں قول لکھے ہیں۔ “ وَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ الخ ” اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا شکر ادا کرو اور اس کی دعوت کو مان لو ورنہ جن لوگوں نے اللہ کی دعوت کو جھٹلایا اور شرک اور دوسرے اعمال بد سے زمین میں فساد پھیالا ان کا حشر تم دیکھ چکے ہو کہ ان کو اللہ نے کس طرح تباہ کیا تمہارا بھی یہی انجام ہوگا۔
Ayah 7:87

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور اگر تم میں سے ایک فرقہ93 ایمان لایا اس پر جو میرے ہاتھ بھیجا گیا اور ایک فرقہ ایمان نہیں لایا تو صبر کرو جب تک اللہ فیصلہ کرے درمیان ہمارے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

93: یہ منکرین کے لیے تخویف دنیوی ہے یعنی تم میں سے کچھ لوگ میری دعوت قبول کرچکے ہیں اور کچھ لوگوں نے اس کو رد کیا ہے۔ اب تم اللہ کے فیصلے کا انتظار کرو کہ وہ کس طرح ایمان والوں کو بچاتا ہے اور نہ ماننے والوں کو ہلاک کرتا ہے۔ فیہ وعید و تھدید یعنی حتی یقضی اللہ و یفصل بینا ویعز المؤمنین المصدقین و ینصرھم ویھلک المکذبین الجاحدین و یعذبھم (خازن ج 2 ص 215) ۔
Ayah 7:88

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

بولے سردار94 جو متکبر تھے اس کی قوم میں ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو کہ ایمان لائے تیرے ساتھ اپنے شہر سے یا یہ کہ تم لوٹ آؤ ہمارے دین میں بولا کیا ہم بیزار ہوں تو بھی

94: اس کے جواب میں قوم کے متکبر اور مشرک سرداروں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ یا تو تم اپنا دین توحید چھوڑ کر واپس ہمارے دین میں آجاؤ ورنہ ہم تم کو اور جو تم پر ایمان لے آئے ہیں سب کو اپنے گاؤں سے نکال دیں گے۔ “ قَدِ افْتَرَیْنَا الخ ” جب اللہ تعالیٰ نے ہم کو تمہارے دین شرک سے محفوظ فرما لیا اور ہمیں یقین ہوگیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود اور کارساز نہیں لہذا اس کے سوا پکار کے لائق بھی کوئی نہیں۔ اس کے باوجود اگر ہم تمہارے دین پر آجائیں اور تمہاری طرح شرک کرنے لگیں تو یہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان اور افتراء ہوگا ہم سے تو یہ ہرگز نہیں ہوسکے گا کہ ہم تمہارے دین پر آجائیں۔ “ اِلَّا اَنْ يَّشَاءَ اللّٰهُ ” یہ استثناء منقطع ہے یعنی جو اللہ چاہے وہی ہوتا ہے۔
Ayah 7:89

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

بیشک ہم نے بہتان باندھا اللہ پر جھوٹا اگر لوٹ آئیں تمہارے دین میں بعد اس کے کہ نجات دے چکا ہم کو اللہ اس سے اور ہمارا کام نہیں کہ لوٹ آئیں اس میں مگر یہ کہ چاہے اللہ رب ہمارا گھیرے ہوئے ہے ہمارا پروردگار سب چیزوں کو اپنے علم میں اللہ ہی پر ہم نے بھروسا کیا اے ہمارے رب فیصلہ کر ہم میں95 اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

95: جب حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کے تمرد وعناد کو دیکھ کر ان کے ایمان سے مایوس ہوگئے اور قوم کی ایذاء رسانی انتہاء کو پہنچ گئی تو اب اللہ تعالیٰ سے آخری فیصلے کی دعاء مانگی۔ قال ابن عباس وکان شعیب کثیر الصلاۃ فلما۔۔۔ قومه فی کفرہم و غیظھم و یئس من صلاحھم دعا دلیھم فقال ربنا افتح الخ فاستجاب اللہ دعاء ہفاھلکہم بالرجفة (قرطبی ج 7 ص 251) ۔
Ayah 7:90

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اور بولے سردار جو کافر تھے96 اس کی قوم میں اگر پیروی کرو گے تم شعیب کی تو تم بیشک خراب ہو گے

96: قوم شعیب (علیہ السلام) کے مشرک سردار اپنے ہم مسلک لوگوں کو دین حق قبول کرنے سے روکنے کیلئے ان سے کہتے تھے اگر تم نے شعیب کی بات مان لی تو تم خسارے میں رہو گے۔ کیونکہ اس کا دین قبول کرلینے کے بعد تم ناپ تول میں کمی بیشی سے جو کچھ کماتے تھے، وہ نہیں کما سکو گے۔ نیز ہدایت کے عوض گمراہی خریدو گے جو سراسر خسارہ ہے مشرکین شرک کو ہدایت اور توحید کو گمراہی سمجھتے تھے۔ ای مغبونون لاستبدالکم الضلالۃ بالھدی وولفوات ما یحصل لکم بالبخس والتطفیف (روح ج 9 ص 6) ۔
Ayahs 7:91–92

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

پھر آپکڑا ان کو زلزلہ97 نے پس صبح کو رہ گئے اپنے گھروں کے اندر اوندھے پڑے

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

جنہوں نے جھٹلایا شعیب کو گویا کبھی بسے ہی نہ تھے وہاں جنہوں نے جھٹلایا شعیب کو وہی ہوئے خراب

97:“ اَلرَّجْفَةُ ” زلزلہ (قرطبی) ۔ ایک شدید زلزلہ آیا جس سے وہ تمام ہلاک ہوگئے اور اسے ہلاک ہوئے گویا کہ وہ اپنے گھروں میں کبھی آباد ہی نہ تھے۔
Ayah 7:93

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

پھر الٹا پھرا ان لوگوں سے اور بولا اے میری قوم98 میں پہنچا چکا تم کو پیغام اپنے رب کے اور خیر خواہی کرچکا تمہاری اب کیا افسوس کروں کافروں پر

98: جب قوم ہلاک ہوگئی تو وہاں سے چلے اور تحسر اور تاسف کے طور پر قوم کو خطاب کر کے فرمایا۔ اے میری قوم میں نے تو تمہیں اللہ کے تمام پیغام پہنچا دئیے اور تمہاری خیر خواہی کا حق ادا کردیا۔ اس سے ان کا مقصد ہلاک شدہ مشرکین کو کچھ سنانا نہ تھا بلکہ محض اظہار افسوس مقصود تھا۔
Ayah 7:94

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

اور نہیں بھیجا ہم نے99 کسی بستی میں کوئی نبی کہ نہ پکڑا ہو ہم نے وہاں کے لوگوں کو سختی اور تکلیف میں تاکہ وہ گڑ گڑائیں

99: التفات بسوئے اہل مکہ : یعنی ہماری سنت جاریہ یہی رہی ہے کہ ہم نے جس بستی میں کوئی نبی بھیجا وہاں کے باشندوں کو مختلف طریقوں سے آزمایا۔ ان کو مالی وجانی تکلیفوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کریں اور اپنے گناہوں سے تائب ہو کر اللہ کی توحید کو مان لیں اور انیک اعمال بجا لائیں۔ “ ثُمَّ بَدَّلْنَا الخ ” جب اس طرح ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی تو ہم نے ان کی تلیف اور تنگدستی کو راح و فراخی سے بدل دیا تاکہ اس طرح ان کے دلوں میں شکر و اطاعت کا جذبہ پیدا ہو۔ لان ورود النعمۃ فی البدن و المال بعد الشدۃ والضیق یستدعی الانقیاد للطاعۃ والاشتغال بالشکر (خازن ج 2 ص 228) ۔
Ayah 7:95

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر بدل دی ہم نے برائی کی جگہ بھلائی یہاں تک کہ100 وہ بڑھ گئے اور کہنے لگے کہ پہنچتی رہی ہے101 ہمارے باپ دادوں کو بھی تکلیف اور خوشی پھر پکڑا ہم نے ان کو ناگہاں اور ان کو خبر نہ تھی

100:“ عَفَوْا ” ای کثروا۔ یعنی جب ان کے مال و اولاد میں کثرت ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے تکلیف و راحت اور تنگدستی و فراخی دونوں طریقوں سے ان کا امتحان فرمایا مگر وہ کسی طرح کفر و شرک سے باز نہ آئے۔ اعلم اللہ تعالیٰ انہ اخذھم بالشدۃ والرخاء فلم یزدجروا ولم یشکروا (قرطبی ج 2 ص 252) ۔ 101: اس اختلاف احوال سے انہوں نے کچھ عبرت حاسل نہ کی اور نہ اسے اللہ کی طرف سے ابتلاء سمجھا اور یوں کہنے لگے کہ ہمارے باپ دادا پر بھی حالات آتے رہے ہیں کبھی تکلیف اور تنگدستی اور کبھی راحت اور فراخی ہم پر بھی اسی طرح آرہے ہیں۔ یہ تکلیف اور آسودگی تغیرات زمانہ میں سے ہے کسی پیغمبر کے انکار یا اسکو ماننے کی وجہ نہیں ہے۔ “ فَاَخَذْنٰھُمْ بَغْتَةً ” یہانتک کہ ان پر اچانک ہمارا عذاب آپہنچا اس حال میں کہ انہیں اس کا وہم و گمان بھی نہ تھا۔
Ayah 7:96

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اور اگر بستیوں والے102 ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم کھول دیتے ان پر نعمتیں آسمان اور زمین سے لیکن جھٹلایا انہوں نے پس پکڑا ہم نے ان کو ان کے اعمال کے بدلے

102: ایمان لانے کی ترکیب ہے۔ جن بستیوں میں اللہ کے پیغمبر آئے اگر ان بستیوں والے اللہ پر ایمان لے آتے اور اللہ کی ہدایت کے مطابق عمل کرتے تو اللہ تعالیٰ ان پر زمین و آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتا مگر انہوں نے تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بد اعمالیوں کے سبب ان کو پکڑ لیا۔
Ayahs 7:97–99

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

اب کیا بےڈر ہیں بستیوں والے103 اس بات سے کہ آپہنچے ان پر آفت ہماری راتوں رات جب سوتے ہوں

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

یا بےڈرے ہیں بستیوں والے اس بات سے کہ آپہنچے ان پر عذاب ہمارا دن چڑھے جب کھیلتے ہوں

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

کیا بےڈر ہوگئے اللہ کے داؤ سے سو بےڈر نہیں ہوتے اللہ کے داؤ سے مگر خرابی میں پڑنے والے

103: ہمزہ استفہام انکار کے لیے ہے۔ اور “ اَھْلَ الْقْرٰي ” سے مکہ اور گرد و نواح کی بستیوں کے لوگ مراد ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی تکذیب کی بعض کے نزدیک یہ عام ہے۔ والمراد بالقری مکۃ وما حولھا لانھم کذبوا محمدا ﷺ و قیل ھو عام فی جمیع القری (قرطبی ج 7 ص 253) مشرکین عرب گذشتہ سرکش قوموں کے انجام بد سے اچھی طرح واقف ہیں مگر اس کے باوجود عناد اور سرکشی پر اڑے ہوئے ہیں کیا انہیں اس بات کا خطرہ اور اندیشہ نہیں کہ کہیں رات کو سوتے وقت یا دن کو جب وہ کھیل میں مصروف ہوں اچانک ہی اللہ کا عذاب آپہنچے اور ان کو ہلاک کردے۔ کیا وہ اللہ کے عذاب سے بالکل ہی بےفکر ہیں۔ جو لوگ اس طرح اللہ کے عذاب سے نڈر ہو کر ایمان و عمل سے غافل ہوجائیں وہ دنیا و آخرت میں خسارہ اٹھائیں گے۔
Ayah 7:100

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

کیا نہیں ظاہر104 ہوا ان لوگوں پر جو وارث ہوئے زمین کے وہاں کے لوگوں کے ہلاک ہونے کے بعد کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو پکڑ لیں ان کے گناہوں پر اور ہم نے مہر کردی ہے ان کے دلوں پر سو وہ نہیں سنتے

104:“ ھدایت ” سے اس کا متعارف و معنی مراد ہے یا بمعنی ظہور ہے۔ یعنی کیا پہلی امتوں کی ہلاکت اور ان کی تباہی ان کی ہدایت کا موجب نہ بنی یاس اس سے ان پر یہ حقیقت واضح نہیں ہوئی کہ کفر وعناد کی وجہ سے ان کو بھی عذاب سے ہلاک کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 7:101

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہ بستیاں ہیں105 کہ سناتے ہیں ہم تجھ کو ان کے کچھ حالات اور بیشک ان کے پاس پہنچ چکے ان کے رسول نشانیاں لے کر پھر ہرگز نہ ہوا کہ ایمان لائیں اس بات پر جس کو پہلے جھٹلا چکے تھے یوں مہر کردیتا ہے اللہ کافروں کے دل پر

105:“ اَلْقُرٰي ” سے تمام مذکورہ بستیوں کی طرف اشارہ ہے۔ جن کے انبیاء (علیہم السلام) اور جن کی قوموں کے واقعات پہلے مذکور ہوچکے ہیں۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ اس اشارہ کا محسوس مبصر ہی کے لیے استعمال ہونا ضروری نہیں بلکہ معہود فی الذہن کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے۔ لہذا “ ماتقول فی ھذا الرجل ” سے مبتدعین کا آنحضرت ﷺ کے قبر میں حاضر ہونے پر استدلال غلط ہے۔ “ بِمَا کَذـَ بُوْا ” میں با سببیہ ہے اور “ کَذٰلِکَ ” میں کاف بمعنی لام ہے۔ یعنی جب ان کے پاس اللہ کے پیغمبر آئے تو انہوں نے ان کی تکذیب کر ڈالی اس لیے جب انہوں نے معجزات پیش کئے تو بھی وہ ایمان نہ لائے اور کفر پر اڑے رہے اس لیے ان کے عناد و انکار کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر جباریت ثبت کردی گئی اور ان سے توفیق ایمان سلب کرلی گئی۔
Ayah 7:102

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

اور نہ پایا ان کے106 اکثر لوگوں میں ہم نے عہد کا نباہ اور اکثر ان میں پائے نافرمان

106: حضرت حسن فرماتے ہیں عہد سے عہد توحید مراد ہے جو امم سابقہ سے انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعے لیا گیا۔ العہد الذی عہد الیھم مع الانبیاء (علیہم السلام) ان یعبدوہ ولا یشرکوا بہ شیئا (قرطبی ج 7 ص 255) ۔ یعنی ان میں اکثر بد عہد ثابت ہوئے اور انہوں نے توحید کو چھوڑ کر شرک اختیار کرلیا۔
Ayahs 7:103–105

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر بھیجا ہم نے ان کے پیچھے107 موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرادروں کے پاس پس کفر کیا انہوں108 نے ان کے مقابلہ میں، سو دیکھ کیا انجام ہوا مفسدوں کا

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

اور کہا موسیٰ نے اے فرعون میں رسول اللہ ہوں پروردگارِ عالم کا

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

قائم ہوں اس بات پر کہ نہ کہوں اللہ کی طرف سے مگر جو سچ ہے لایا ہوں تمہارے پاس نشانی تمہارے رب کی سو بھیج دے میرے ساتھ بنی اسرائیل کو

107: یہ چھٹا واقعہ ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے اور یہاں سے شروع ہو کر رکوع 20 کے آخر میں “ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا کَانُوْا یَظْلِمُوْن ” پر ختم ہوتا ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے مختلف آٹھ واقعات ذکر کیے گئے ہیں جن میں سے ہر واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عزیمت اور ان کے استقلال کی زندہ تصویر ہے۔ ان کے ذکر سے آنحضرت ﷺ کی تشجیع مقصود ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح آپ بھی جرات اور بہادری سے مسئلہ توحید کی تبلیغ کریں اور اس کی وجہ سے آنے والے مصائب و مشکلات کا استقلال سے سامنا فرمائیں۔ پہلا واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کے پاس جا کر اس کو توحید کی دعوت دینا۔ بنی اسرائیل پر طلم کرنے سے منع کرنا، اسے معجزے دکھانا اور پھر فرعون کا ان کے مقابلے کے لیے جادوگروں کو جمع کرنا وغیرہ۔ 108: یعنی انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تمام معجزات کا انکار کیا “ حَقِیْقٌ الخ ” ای واجب (کبیر، خازن وغیرہ) یعنی مجھ پر فرض اور لازم ہے کہ میں اللہ کی طرف کوئی غلط بات منسوب نہ کروں یا “ حَقِیْقٌ” بمعنی “ جَدِیْرٌ” ہے (بحر، روح وغیرہ) ۔ یعنی میں اللہ کا رسول ہوں اس لیے میری شان یہی ہے اور میرے لیے یہی لائق اور زیبا ہے کہ میں اللہ کی طرف صرف سچی بات ہی کی نسبت کروں اس لیے سن لو میں اللہ کا سچا رسول ہوں اور اللہ کی طرف سے معجزات لے کر آیا ہوں۔ لہذا میری دعوت کو قبول کرلو اور بنی اسرائیل کو ظلم وستم سے رہا کردو۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں۔ “ حَقِیْقٌ اَيْ ثَابِتٌ” یعنی میں اس بات پر ثابت اور قائم ہوں کہ اللہ کی طرف صرف سچی بات کی ہی نسبت کروں۔
Ayahs 7:106–108

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

بولا اگر تو آیا ہے109 کوئی نشانی لے کر تو لا اس کو اگر تو سچا ہے

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

تب ڈال دیا اس نے اپنا عصا تو اسی وقت ہوگیا اژدہا صریح

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور نکالا اپنا ہاتھ تو اسی وقت وہ سفید نظر آنے لگا دیکھنے والوں کو

109: فرعون نے کہا اگر واقعی تم اپنے دعوے میں سچے ہو اور اپنی نبوت پر واقعی کوئی دلیل اور معجزہ لائے ہو تو پیش کرو۔ “ فَاَلْقٰي عَصَاہُ الخ ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی زمین پر پھینک دی جو گرتے ہی سانپ بن گئی اور پھر گریبان میں ہاتھ ڈال کر باہر نکلا تو وہ روشن اور درخشاں تھا یعنی میری نبوت کا پہلا گواہ تو یہ سانپ والا معجزہ ہے یہ بھی دیکھ لو اور دوسرا یہ نور ہے اسے بھی دیکھ لو۔
Ayahs 7:109–112

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

بولے سردار110 فرعون کی قوم کے یہ تو کوئی بڑا واقف جادوگر ہے

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

نکلانا چاہتا ہے تم کو تمہارے ملک سے اب تمہاری کیا اصلاح ہے

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

بولے ڈھیل دے اس کو اور اس کے بھائی کو اور بھیج پر گنوں میں جمع کرنے والوں کو

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

کہ جمع کر لائیں تیرے پاس جو ہو کامل جادوگر

110: یہ دیکھ کر قوم فرعون کے درباری امراء اور اہل حل و عقد بول اٹھے کہ یہ تو کوئی بہت بڑا ماہر جادوگر ہے اور تمہیں ملک مصر سے نکال کر اس پر خود قابض ہونا چاہتا ہے۔ اس پر فرعون نے کہا “ فَمَا ذَا تَامُرُوْنَ ” تو پھر اس کے معاملے میں تمہارا کیا مشورہ ہے۔ “ قَالُوْا اَرْجِهْ ” انہوں نے کہا اس کے معاملے میں آپ جلدی نہ کریں بلکہ اس کو اور اس کے بھائی کو مہلت دے دیں اور اپنے ملک کے تمام شہروں میں اپنے آدمی بھیج دیں وہ ملک کے تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے دربار میں لا حاضر کریں تاکہ ان دونوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔
Ayahs 7:113–114

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

اور آئے جادوگر111 فرعون کے پاس بولے ہمارے لیے کچھ مزدوری ہے اگر ہم غالب ہوئے

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

بولا ہاں اور بیشک تم مقرب ہوجاؤ گے

111: ملک کے مشہور اور ماہر جادوگر فرعون کے دربار میں حاضر ہوئے تو عرض کی اگر ہم مقابلے میں غالب آگئے تو ہمیں انعام تو ضرور ملے گا۔ “ قَالَ نَعَمْ الخ ” فرعون نے کہا صرف انعام ہی نہیں ملے گا بلکہ اس کے علاوہ تمہیں میرے دربار کا تقرب بھی حاصل ہوگا اور میرے یہاں تمہاری بہت زیادہ قدر و منزلت اور عزت افزائی ہوگی۔
Ayah 7:115

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

بولے اے موسیٰ112 یا تو توُ ڈال اور یا ہم ڈالتے ہیں

112: جب مقررہ تاریخ پر متعینہ جگہ میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور فرعون مع امراء و مقربین اور تمام جادوگر پہنچ گئے اور مقابلہ شروع ہونے لگا تو جادوگروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا پہلے آپ لاٹھی پھینکیں گے یا ہم پہلے اپنا کمال پیش کریں۔ “ قَالَ اَلْقُوْا ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا پہلے تم پھینکو جو کچھ تمہارے پاس ہے۔ چونکہ وہ جادوگروں کے مکر و فریب کا ابطال چاہتے تھے اور وہ اسی صورت میں زیادہ مؤثر تھا کہ وہ اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پہلے ڈالتے۔ اس لیے فرمایا پہلے تم اپنا جوہر دکھاؤ۔ انہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کان یردی ابطال ما اتوا بہ من السحر وابطالہ ما کان یمکن الا باقدامھم علی اظھارہ فاذن لھم فی الاتیان بذالک (کبیر ج 4 ص 400) ۔
Ayah 7:116

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

کہا ڈالو پھر جب انہوں نے ڈالا113 باندھ دیا لوگوں کی آنکھوں کو اور ان کو ڈرایا اور لائے بڑا جادو

113: جب جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں میں جادو چل گیا اور حاضرین کو یوں معلوم ہونے لگا کہ پوری وادی خطرنکا سانپوں سے بھر گئی ہے۔ جادوگروں کے اس عظیم فریب کو دیکھ کر لوگ دہشت زدہ ہوگئے۔ “ سَحَرُوْا اَعْیُنَ النَّاسِ ” اور “ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سَحْرِھِمْ اَنَّھَا تَسْعٰی ”(طٰہٰ رکوع 3) ۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں محسوس ہونے لگا گویا کہ ان کی رسیاں اور لاٹھیاں دوڑ رہی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جادوگروں کی لاٹھیوں اور رسیوں کی حقیقت میں کوئی انقلاب نہیں آیا تھا اور وہ حقیقت میں سانپ نہیں بنی تھیں بلکہ یہ محض ایک فریب نظر تھا۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ جادوگروں نے رسیوں اور لاٹھیوں کے اوپر کے حصے پر مختلف رنگوں سے سانپوں جیسے نقش و نگار بنا رکھتے تھے۔ رسیوں کے اوپر پارہ لگا تھا اور لاٹھیاں اندر سے خالی تھیں اور ان کے خلا میں پارہ بھرا ہوا تھا جب ان کو میدان میں پھینکا گیا تو سورج کی گرمی کی وجہ سے ان میں حرکت پیدا ہوگئی اور وہ ایک دوسری پر لوٹ پوٹ ہونے لگیں اور دیکھنے والوں کو یوں محسوس ہونے لگا کہ پوری وادی سانپوں سے بھر گئی ہے۔ “ و یقال انھم طلوا تلک الجبال بالزئیق ولونوھا و جعلوا داخل العصی زئیقا ایضاً والقوھا علی الارض فلما اثر حر الشمس فیھا تحرکت والتوی بعضھا علی بعض حتی تخیل للناس انھا حیات ”(روح ج 9 ص 35) ۔
Ayah 7:117

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

اور ہم نے حکم بھیجا موسیٰ کو114 کہ ڈال دے اپنا عصا سو وہ جب ہی لگا نگلنے جو سانگ انہوں نے بنایا تھا

114: جادوگروں کا دعویٰ تھا کہ وہ ایسا لاجواب جادو تیار کر کے لائے ہیں کہ دنیا کے تمام جادوگر مل کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ ہاں اگر کوئی خدائی امر ہو تو ہم میں اس کے مقابلے کی طاقت نہیں۔ “ روي ان السحرة قالوا قد عملنا سحرا لا یطیقه سحرة اھل الارض الا ان یکون امرا من السماء فانه لا طاقة لنا به ” (کبیر ج 4 ص 401) ۔ جب جادوگر اپنی سیاں اور لاٹھیاں ڈال چکے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم خداوندی سے اپنی لاٹھی میدان میں پھینک دی اور گرتے ہی وہ ایک عظیم اژدہا کی شکل میں منقلب ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے جادوگروں کی تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل گئی۔ “ مَا یَافِکُوْنَ ” یعنی جو کچھ انہوں نے فریب اور جھوٹ بنایا تھا۔