7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsجواھر القرآن

Ayah 7:158

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

تو کہہ اے لوگو156 میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے سو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس بھیجے ہوئے نبی امیّ پر جو کہ یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کے سب کلاموں پر اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ

156: پہلے ذکر فرمایا کہ تورات و انجیل میں حضرت موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) نے اس جلیل القدر پیغمبر کی بشارت دی اس کے بعدحضور ﷺ کو خود اپنی رسالت کا اعلان کرنے کا حکم فرمایا۔ “ ذکر ان موسیٰ بشر به و ان عیسیٰ بشر به ثم امره ان یقول بنفسه انی رسول اللہ الیکم جمیعا ” (قرطبی ج 7 ص 302) ۔
Ayah 7:159

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 7:159 in the Quran reader

اور موسیٰ کی قوم میں157 ایک گروہ ہے جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں

157: اس سے مراد وہ یہودی ہیں جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے تھے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ ؓ
Ayah 7:160

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور جدا جدا کردیے ہم نے158 ان کو بارہ دادوں کی اولاد بڑی بڑی جماعتیں اور حکم بھیجا ہم نے موسیٰ کو جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے کہ مار اپنی لاٹھی اس پتھر پر تو پھوٹ نکلے اس سے بارہ چشمے پہچان لیا ہر قبیلہ نے اپنا گھاٹ اور سایہ کیا ہم نے ان پر ابر کا اور اتارا ہم نے ان پر من اور سلویٰ کھاؤ ستھری چیزیں جو ہم نے روزی دی تم کو اور انہوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا لیکن اپنا ہی نقصان کرتے رہے

158: یہ آٹھواں واقعہ ہے۔ حضرت یعقوب (علیہم السلام) کے بارہ بیٹے تھے۔ ان بارہ بھائیوں کی اولاد بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ یہاں سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنے احسانات یاد دلائے ہیں۔ قوم کا بارہ قبیلوں پر مشتمل ہونا یہ بھی اللہ کا ایک احسان ہے۔ “ وَ اَوْحَیْنَا اِلٰی مُوْسٰی الخ ” یہ دوسرا احسان ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے حکم دیا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو اس سے پانی کے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہر قبیلے کے لوگوں نے آسانی کے ساتھ علیحدہ چشمہ سے پانی پیال۔ اور دھوپ سے بچانے کے لیے ان پر بادلوں کا سایہ کردیا اور کھانے کے لیے ترنجبین اور بٹیریں بھیج دیں۔ جب وہ صبح اٹھتے تو ایک قسم کے پودے پر ترنجبین وافر مقدار میں ملتی اور بٹیریں چل کر ان کے قریب آجاتی اور وہ ہاتھ سے ان کو پکڑ لیتے۔ یہ انعامات میدان تیہ میں عطا ہوئے۔
Ayah 7:161

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:161 in the Quran reader

اور جب حکم ہوا ان کو159 کہ بسو اس شہر میں اور کھاؤ اس میں جہاں سے چاہو اور کہو ہم کو بخش دے اور داخل ہو دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے تو بخش دیں گے ہم تمہاری خطائیں البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو

159: انعامات کے بعد بنی اسرائیل کی سرکشی اور کج روی کا ذکر فرمایا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد حضرت یوشع (علیہ السلام) آپ کے جانشین ہوئے۔ ان کی قیادت میں بنی اسرائیل نے ملک شام فتح کرلیا تو اللہ نے حکم دیا کہ بیت المقدس کے شہر میں جاؤ اور وہاں جاکر میری عبادت بجا لاؤ اور “ الباب ” سے یہاں بیت المقدس کے شہر کا دروازہ مراد نہیں بلکہ اس سے بیت المقدس کی مسجد کا دروازہ مراد ہے۔ اس آیت کی تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے ملاحظہ ہو۔ ص 37 ص 38 حاشیہ 117 تا 119 ۔
Ayah 7:162

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ Open ayah 7:162 in the Quran reader

سو بدل ڈالا160 ظالموں نے ان میں سے دوسرا لفظ اس کے سوا جو ان سے کہہ دیا گیا تھا پھر بھیجا ہم نے ان پر عذاب آسمان سے بسبب ان کی شرارت کے

160: اس کی تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے۔ ملاحظہ ہو ص 38 حاشیہ 120 و 121 ۔
Ayah 7:163

وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:163 in the Quran reader

اور پوچھ ان سے161 حال اس بستی کا جو تھی دریا کے کنارے جب حد سے بڑھنے لگے ہفتہ کے حکم میں جب آنے لگیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتہ کے دن پانی کے اوپر اور جس دن ہفتہ نہ ہو تو نہ آتی تھیں اس طرح ہم نے ان کو آزمایا اس لیے کہ وہ نافرمان تھے

161:“ قِصَصْ ” کے اختتام پر اصحاب سبت کا واقعہ ذکر فرمایا اور اس سے مقصود تخویف دنیوی ہے۔ “ اَلْقَرْیَةَ ” سے “ اَیْلَة ” مراد ہے جو مدین اور طور کے درمیان سمندر کے کنارے پر واقع تھا۔ ہفتہ کا دن دین موسوی میں قابل تعظیم تھا اور اس دن میں مچھلی کا شکار ان کے لیے جائز نہیں تھا۔ لیکن ان کے ابتلاء و امتحان کے لیے اللہ کے حکم سے ہفتہ کے دن مچھلیاں پانی کے اوپر کنارے سے بالکل قریب کثرت سے آجائیں اور باقی ایام میں غائب رہتیں۔ اس صورت حال کو دیکھ کر انہوں نے یوم سبت کی تعظیم کو بالائے طاق رکھ کر مچھلی کا شکار کرنا شروع کردیا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ابلیس نے ان کو یہ حیلہ بتایا کہ وہ سمندر کے کنارے حوض بنا لیں اور جمعہ کے دن مچھلیوں کو ہانک کر حوض میں ڈال دیا کریں اور اتوار کے دن پکڑ لیا کریں۔ چناچہ انہوں نے اس حیلے سے اللہ کے حکم کو توڑا تو اللہ نے ان پر عذاب نازل فرمایا اور وہ سب بندر بن گئے۔
Ayah 7:164

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 7:164 in the Quran reader

اور جب بولا162 ان میں سے ایک فرقہ کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو جن کو اللہ چاہتا ہے کہ ہلاک کرے یا ان کو عذاب دے سخت5 وہ بولے الزام اتارنے کی غرض سے تمہارے رب کے آگے اور اس لیے کہ شاید وہ ڈریں

162: ان لوگوں میں جماعتیں تھیں پہلی جماعت ہفتہ کے دن شکار کرتی تھی۔ دوسری جماعت ان کو اس سے منع کرتی تھی اور تیسری جماعت نہ شکار کرتی تھی اور نہ شکار کرنے والوں کو منع کرتی تھی بلکہ منع کرنے والوں سے بھی کہتی تھی کہ تم خوب جانتے ہو کہ اللہ ان کو ہلاک کرنے والا یا شدید عذاب میں مبتلا کرنے والا ہے۔ اس لیے ان کو وعظ و نصیحت کر کے کیوں دماغ سوزی کرتے ہو۔ “ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰی رَبِّکُمْ ” تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو اللہ کے سامنے بطور معذرت ان کو اس فعل قبیح سے روکتے ہیں تاکہ نہی عن المنکر کا جو فریضہ ہمارے ذمہ ہے اس میں کوتاہی نہ ہونے پائے۔ نیز ممکن ہے کہ وہ اس فعل سے باز آجائیں۔ “ مَعْذِرَةً ” فعل مقدر یعنی “ نَعْتَذِرُ ” کا مفعول مطلق ہے۔ “ قال جمھور المفسرین ان بنی اسرائیل افترقت ثلث فرق فرقة عصمت و صادت وفرقة نھت و اعتزلت وفرقة اعتزلت و لم تنه و تعص وان ھذه الطائفة قالت للناھیة لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمًا نِ اللّٰهُ مُھْلِکُھُمْ اَوْ مُعَذِّبُھُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ” (قرطبی ج 7 ص 307) ۔
Ayahs 7:165–166

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:165 in the Quran reader

پھر جب وہ بھول163 گئے اس کو جو ان کو سمجھایا تھا تو نجات دی ہم نے ان کو جو منع کرتے تھے برے کام سے اور پکڑا گناہ گاروں کو برے عذاب میں بسبب ان کی نافرمانی کے

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ Open ayah 7:166 in the Quran reader

پھر جب بڑھنے لگے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے تو ہم نے حکم کیا کہ ہوجاؤ بندر ذلیل

163: یہاں “ نَسُوْا ” بمعنی “ تَرَکُوْا ” ہے یعنی جب انہوں نے اپنی قوم کے صلحاء اور ناصحین کی پند و نصیحت کو چھوڑ دیا اور اس سے بالکلیہ اعراض کرلیا تو برائی سے روکنے والوں کو تو ہم نے بچا لیا مگر ان ظالموں کو جو سرکشی اور نافرمانی کرتے تھے دردناک عذاب سے پکڑ لیا۔ “ فَلَمَّا عَتَوْا ” جب وہ اللہ کی نافرمانی میں حد سے بڑھ گئے اور ان کا انکار ضد وعناد کی حد کو پہنچ گیا تو ہم نے ان کی شکلیں مسخ کردیں اور ان کو بندر بنا دیا۔
Ayah 7:167

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:167 in the Quran reader

اور اس وقت کو یاد کرو جب خبر کر164 دی تھی تیرے رب نے کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو کہ دیا کرے ان کو برا عذاب بیشک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے

164: یہ تخویف دنیوی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اسلاف کو آگاہ کردیا تھا کہ اگر وہ آخر الزمان پیغمبر نبی امی صلی اللہ علی ہو سلم پر ایمان نہ لائے تو قیامت تک ذلیل و خوار رہیں گے اور ان پر ہمیشہ ایسے لوگ مسلط رہیں گے جن کے ہاتھوں وہ سخت تکلیفیں اٹھائیں گے۔
Ayah 7:168

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:168 in the Quran reader

اور متفرق کردیا ہم نے165 ان کو ملک میں فرقے فرقے بعضے ان میں نیک اور بعضے اور طرح کے اور ہم نے ان کی آزمایش کی خوبیوں اور برائیوں میں تاکہ پھر آئیں

165: اور ہم نے ان کی جمعیت کو متفرق کردیا اور زمین کے مختلف حصوں میں ان کو منتشر کر کے ان کی قوت و شوکت کو ختم کردیا۔ ہر زمانے میں ان میں کچھ اچھے لوگ بھی رہے ہیں جو اپنے اصلی دین پر قائم رہے یا جنہوں نے آنحضرت ﷺ کا زمانہ پایا اور آپ پر ایمان لائے لیکن اکثریت فاسق اور کافر ہی رہی۔ “ وَ بَلَوْنٰھُمْ الخ ” اور ہم خوشحالی اور قحط سالی اور دیگر طریقوں سے آرام و راحت اور تکلیف و شدت سے ان کی آزمائش بھی کرتے رہے تاکہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرلیں اور اللہ کے دین کی سچے دل سے پیروی کرنے میں لگ جائیں۔
Ayah 7:169

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 7:169 in the Quran reader

پھر ان کے پیچھے166 آئے ناخلف جو وارث بنے کتاب کے لے لیتے ہیں اسباب اس ادنیٰ زندگانی کا اور کہتے ہیں کہ167 ہم کو معاف ہوجائے گا اور اگر ایسا ہی اسباب ان کے سامنے پھر آئے تو اس کو لے لیویں کیا ان سے کتاب168 میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوا سچ کے اور انہوں نے پڑھا ہے جو کچھ اس میں لکھا ہے اور آخرت کا گھر بہتر ہے ڈرنے والوں کے لیے کیا تم سمجھتے نہیں

166: قوم کے صالحین اور نیک لوگوں کے بعد نااہل اور برے لوگ پیدا ہوئے جو تورات کی علمی وراچت پر قابض ہوئے جنہوں نے تورات کو دنیوی اغراض کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔ “ یَاخُذُوْنَ عَرَضَ ھٰذَا الْاَدْنیٰ ” وہ غلط فتوی اور خلاف حق فیصلہ دے کر لوگوں سے رشوتیں لیتے اور کتاب اللہ کی تحریف کر کے غیر اللہ کی نذریں اور نیازیں حلال ہونے کے فتوے دے کر اور عوام کو چھٹی باتیں بتا کر دولت جمع کرنے میں لگ گئے۔ “ و المراد بھذا العرض ما یاخذونه من الرشا فی الحکومات و علی تحریف الکلام ” (روح ج 9 ص 96) ۔ 167: اللہ کی کتاب کو خبیث دنیا کے عوض فروخت کر رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی یہ دعوی بھی ہے کہ ہمیں اس گناہ پر گرفت نہیں ہوگی۔ اس لیے کہ ان کا دعویٰ تھا کہ “ نَحْنُ اَبْنَاءُ اللّٰهِ وَ اَحِبَّاءُہٗ ”۔ “ وَ اِنْ يَّاتِیْھِمْ الخ ” یہ “ يَقُوْلُوْنَ ” کی ضمیر سے حال ہے۔ یعنی ایک طرف تو وہ اس گناہ کی مغفرت کے امید وار ہیں اور دوسری طرف ان کا حال یہ ہے کہ اس گناہ پر اصرار بھی کر رہے ہیں اور متاع دنیا کے عوض اللہ کی کتاب کو بیچنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اگلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول شنیع کا چار طریقوں سے رد فرمایا ہے۔ 168: یہ یہود کے قول مذکور کے بطلان کی پہلی دلیل ہے یعنی اگر وہ بخشے ہوئے تھے تو ان سے تورات پر عمل کرنے کا عہد لینے کی کیا ضرورت تھی۔ “ مِیْثَاقُ الْکِتٰبِ ” یعنی وہ عہد جو تورات میں ان سے لیا گیا تھا۔ “ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا ” یہ “ مِیْثَاقٌ ” کا عطف بیان یا اس سے بدل ہے۔ یعنی میثاق (عہد) یہ تھا کہ وہ اللہ کی طرف صرف حق بات ہی کو منسوب کریں۔ اور اپنی طرف سے غلط باتیں بنا کر اللہ کے ذمہ نہ لگائیں اور وہ تورات پڑھ چکے ہیں اور یہ عہد ان کو خوب یاد ہے۔ اس لیے ان کا فرض تھا کہ وہ اس عہد کو پورا کرتے مگر انہوں نے حقیر دنیا کی خاطر اللہ کا عہد توڑ دیا حالانکہ دار آخرت ان کے لیے بہتر تھا۔ اگر وہ اللہ سے ڈرتے اور عہد پر قائم رہتے۔
Ayah 7:170

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 7:170 in the Quran reader

اور جو لوگ خوب پکڑ رہے169 ہیں کتاب کو اور قائم رکھتے ہیں نماز کو، بیشک ہم ضائع نہ کریں گے ثواب نیکی والوں کا

169: یہ میثاق پر قائم رہنے والوں کیلئے بشارت ہے اور اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو تورات کے عہد پر قائم رہے اور اس کے احکام پر عمل کیا اور اس میں کسی قسم کی تحریف نہ کی۔ مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام اور دوسرے اسلام قبول کرنے والے یہودی “ قال مجاھد ھم الذین امنوا من اھل الکتاب کعبدالله بن سلام و اصحابه تمسکوا بالکتاب الذي جاء به موسیٰ علیه السلام فلم یحرفوه و لم یکتموه و لم یتخذوه ماکلة ”(ابو السعود ج 4 ص 456) ۔
Ayah 7:171

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

اور جس وقت اٹھایا ہم نے 170 پہاڑ ان کے اوپر مثل سائبان کے اور ڈرے کہ وہ ان پر گرے گا ہم نے کہا پکڑو جو ہم نے تم کو دیا ہے زور سے اور یاد رکھو جو اس میں ہے تاکہ تم بچتے رہو

170: یہ یہود کے قول کی شناعت پر دوسری دلیل ہے یعنی اگر وہ بخشے ہوئے ہوتے تو کوہ طور ان پر معلق کر کے ان سے تورات کو قائم کرنے کا عہد کیوں لیا جاتا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کے سامنے تورات پیش کی اور اس کے احکام پر عمل کرنے کا حکم دیا تو وہ بگڑ گئے اور کہنے لگے اس کے احکام تو سخت ہیں ہم سے ان پر عمل نہیں ہوسکتا۔ کا یہ انکار چونکہ سراسر عنادًا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل (علیہ السلام) کو حکم دیا۔ انہوں نے کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کردیا۔ بنی اسرائیل کو یقین ہوگیا کہ وہ ضرور ان پر گر پڑے گا تو انہوں نے عہد کیا کہ وہ تورات کے احکام پر ضرور عمل کریں گے۔
Ayahs 7:172–174

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور جب نکالا تیرے رب171 نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو اور اقرار کرایا ان سے ان کی جانوں پر کیا میں نہیں ہوں تمہارا رب بولے ہاں ہے ہم اقرار کرتے ہیں کبھی کہنے لگو قیامت172 کے دن ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا کہنے لگو کہ شرک تو نکالا تھا ہمارے باپ دادوں نے ہم سے پہلے اور ہم ہوئے ان کی اولاد ان کے پیچھے تو کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو کیا گمراہوں نے

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور یوں ہم کھول کر بیان کرتے ہیں باتیں تاکہ وہ پھر آئیں

171: یہ ان کے قول باطل کے رد کی تیسری وججہ ہے یعنی اگر بخشے ہوئے ہوتے تمام بنی آدم کے ساتھ ان سے ہم اپنی ربوبیت کا عہد کیوں لیتے۔ “ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ”، “ مِنْ بَنِیْ اٰدَمَ ” سے بدل ہے اور “ ذُرِّیَّتَھُمْ ”، “ اَخذَ ” کا مفعول ہے۔ یعنی اولاد آدم سے ان کی اولاد کو پیدا کیا اور سب سے عہد لیا۔ “ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ” کیا میں تمہارا پروردگار اور مالک نہیں ہوں۔ “ قَالُوْا بَلیٰ ” تو سب نے کہا کیوں نہیں ؟ بیشک تو ہمارا رب ہے۔ ہم سب اس کا اقرار کرتے ہیں کہ تو ہمارا رب اور معبود ہے۔ “ والمعنی شھدنا انک ربنا والٰھنا ” (قرطبی ج 7 ص 318) ۔ یہ عہد کب لیا گیا ؟ عام طور پر مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ عہد عالم ارواح میں لیا گیا۔ اس طرح کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی تمام اولاد کی روحوں کو نکال کر ان سے اقرار لیا گیا۔ حضرت شیخ (رح) نے ھ فرمایا یہ عہد ہر شخص سے اس کی پیدائش کے وقت لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شخص اپنی فطرت کے لحاظ سے موحد ہوتا ہے جیس کہ ارشاد ربانی ہے۔ “ فِطْرَةَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ” اسی طرح ایک جہ فرمایا۔ “ وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلقَھُمْ لَیقُوْلُنَّ اللّٰهُ ”(زخرف رکوع 7) ۔ یہ اللہ کے خالق ومالک ہونے کا سبق ان کو پیدائش کے وقت ہی سے ملا تھا۔ 172: یہ اصل میں “ کراھة ان تقولوا یا لئلا تقولوا ” تھا۔ یعنی یہ عہد ربوبیت اس لیے لیا تاکہ قیامت کے دن تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہم تو توحید سے بالکل بیخبر تھے اور ہم کو اس کا بالکل علم ہی نہ تھا۔ “ اَوْ تَقُوْلُوْا ” یہ پہلے “ تَقُوْلُوْا ” پر معطوف ہے اور نہ یہ عذر پیش کس کو گے کہ شرک کے اصل بانی تو ہمارے باپ دادا تھے ہم ان کے بعد پیدا ہوئے اور ہم نے محض ان کی دیکھا شرک کیا اس لیے ان کے فعل کی وجہ سے ہمیں کیوں ہلاک کرتا ہے۔ اس عذر کو ختم کرنے کے لیے ہم نے ہر ایک سے عہد لیا۔
Ayah 7:175

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

اور سنا دے ان کو173 حال اس شخص کا جس کو ہم نے دی تھیں اپنی آیتیں پھر وہ ان کو چھوڑ نکلا پھر اس کے پیچھے لگا شیطان تو وہ ہوگیا گمراہوں میں

173: یہ ان کے قول کے رد کی چوتھی وجہ ہے۔ یعنی اگر وہ بخشے ہوئے ہوتے اور ان کو کسی عمل خیر کی حاجت اور گناہوں سے بچنے کی ضرورت نہ ہوتی تو ان ہی میں کے ایک نیک اور پارسا آدمی کو اس کے گناہ عظیم کی وجہ سے ہم ذلت کے گڑھے میں کیوں ڈال دیتے۔ ان آیتوں میں بلعم بن باعوراء کے قصے کی طرف اشارہ ہے۔ بلعم بن باعوراء بنی اسرائیل میں سے تھا اور اس کے پاس آسمانی کتاب کا علم تھا وہ بہت نیک اور صالح تھا کہتے ہیں وہ اسم اعظم جانتا تھا اس لیے بہت مستجاب الدعوات تھا۔ بعد میں دولت کے لالچ اور اپنی بیوی کے بہکانے سے آیات و ہدایات کو چھوڑ کر گمراہ ہوگیا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جبارین سے جہاد کا ارادہ کیا تو وہ بلعم کے پاس آئے اور اس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر بد دعاء کرنے کی درخواست کی پہلے تو اس نے انکار کیا اور کہا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا پیغمبر ہے اور اس کے ساتھ فرشتے اور مومنین ہیں اس لیے میں اس پر کس طرح بد دعا کرسکتا ہوں۔ آخر ان کے اصرار اور کچھ تحفے تحائف پیش کرنے اور بیوی کے بہکانے پر وہ مان گیا۔ جونہی اس نے اللہ کے نبی کے خلاف زبان کھولی۔ اللہ نے اس کی ساری روحانیت سلب کرلی۔ تمام کمالات زائل ہوگئے۔ ایمان سے محروم کردیا گیا اور اس کی زبان منہ سے نکل کر نیچے لٹک گئی جس طرح شدت گرما کی وجہ سے کتے کی زبان باہر نکل آتی ہے اور وہ ہانپنے لگتا ہے۔ اس میں اس کی ذلت کا اظہار ہے۔
Ayahs 7:176–177

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور ہم چاہتے تو بلند کرتے اس کا رتبہ ان آیتوں کی بدولت لیکن وہ تو ہو رہا زمین کا174 اور پیچھے ہو لیا اپنی خواہش کے تو اس کا حال ایسا جیسے کتا اس پر تو بوجھ لادے تو ہانپے اور چھوڑ دے تو ہانپے یہ مثال ہے ان175 لوگوں کی جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو سو بیان کر یہ احوال تاکہ وہ دھیان کریں

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

بری مثال ہے ان لوگوں کی کہ جھٹلایا انہوں نے ہماری آیتوں کو، اور وہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے

174: یعنی وہ دنیا کی طرف مائل ہوگیا۔ “ اي رکن الی الدنیا و مال الیھا ” (روح ج 9 ص 114) ۔ ذلت و دناءت طبع میں اس کی مثال بالکل کتے کی سی ہے کہ اگر اس پر حملہ کرو اور بھگاؤ تو بھی وہ ہانپتا ہے اور اگر اسے آزاد چھور دو تو بھی وہ ہانپتا ہے۔ یعنی زبان باہر لٹکا کر ہانپنا اس کی طبعی عادت ہے۔ اسی طرح بلعم بن باعوراء کی زبان لٹک گئی تھی۔ 175:“ اَلَّذِیْنَ کَذَّبُوْا ” سے مشرکین مکہ مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس سے منقول ہے وہ پہلے تمنا کیا کرتے تھے کہ ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی ہادی اور رہنما آئے۔ جب اللہ کا پیغمبر ہادی بن کر آگیا تو اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرنے لگے اور ہدایت کی راہ سے ہٹ گئے (روح) ان لوگوں کی مثال بعینہ بلعم بن باعوراء کی سی ہے جسے اللہ نے ہدایت دی مگر وہ ہدایت سے نکل کر شیطان کے تابع ہوگیا۔ “ سَاءَ مَثَلاً الخ ” اللہ کی آیتوں کو جھٹلا کر اپنی جانوں پر ظلم کرنیوالوں کی مثال بہت ہی بری ہے کوئی غیرت مند انسان اس کو اپنے پر چسپاں کرنے کے لیے تیار نہیں۔
Ayah 7:178

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جس کو اللہ راستہ دے176 وہ ہی راستہ پاوے اور جس کو وہ بچلا دے سو وہی ہیں ٹوٹے میں

176: یہ پہلے دعوے سے متعلق ہے یعنی آپ کی جرات و استقلال سے توحید کی تبلیغ کرتے رہیں۔ ہدایت اور گمراہی اللہ کے اختیار میں ہے۔
Ayah 7:179

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور177 ہم نے پیدا کیے دوزخ کے واسطے بہت سے جن اور آدمی ان کے دل ہیں کہ ان سے سمجھتے نہیں اور آنکھیں ہیں کہ ان سے دیکھتے نہیں اور کان ہیں کہ ان سے سنتے نہیں وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی زیادہ بےراہ وہی لوگ ہیں غافل

177: یہ دوسرے دعوی سے متعلق ہے جو لوگ کفر و شرک پر مصر ہیں اور ضد وعناد کی وجہ سے حق بات کا انکار کتے ہیں ان کو ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کو ہم نے دل دئیے۔ آنکھیں اور کان دئیے مگر وہ ہیں کہ ان چیزوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ وہ بالکل چوپایوں کی مانند ہیں جن کو بالکل حق و باطل کا کوئی امتیاز نہیں بالکل یہی حال ان لوگوں کا ہے یہانتک کہ وہ جانوروں کی طرح ننگے ہونے سے بھی نہیں شرماتے جیسا کہ مشرکین طواف کعبہ کے وقت کیا کرتے تھے۔
Ayah 7:180

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور اللہ کے لیے ہیں سب نام اچھے178 سو اس کو پکارو وہی نام کہہ کر اور چھوڑ دو ان کو جو کج راہ چلتے ہیں اس کے ناموں میں وہ بدلہ پا رہیں گے اپنے کیے کا

178: یہ تیسرے دعوی سے متعلق ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے بیشمار صفاتی نام ہیں تم اس کی صفتوں کے ساتھ صرف اسی کو پکارو اور اسی سے حاجتیں مانگو اس کے سوا کوئی عالم الغیب اور کارساز نہیں۔ “ وَ ذَرُوْا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ الخ ” اور جو لوگ اللہ کی صفات میں الحاد اور کجروی اختیار کرتے ہیں آپ ان سے اجتناب کریں ان کو اپنے کیے کی جزا و سزا نہ ملے گی۔ اللہ کی صفات میں الحاد سے مراد یہ ہے کہ اس کی صفات میں غیر اللہ کو شریک کیا جائے یا کسی کو اللہ کا ولد اور نائب قرار دے کر اللہ کی ابوت کو اس کی طرف منسوب کیا جائے جیسا کہ عیسائی اور مشرکین مکہ کیا کرتے تھے۔ حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں۔ “ یعنی ابو المسیح ابو الملائکہ میگفتند (فتح الرحمن) ”
Ayah 7:181

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ان لوگوں میں کہ جن کو179 ہم نے پیدا کیا ہے ایک جماعت ہے کہ راہ بتلاتے ہیں سچی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں

179: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مذکورہ بالا اوصاف رکھنے والوں کے علاوہ ہیں۔
Ayahs 7:182–183

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جنہوں نے جھٹلایا180 ہماری آیتوں کو ہم ان کو آہستہ آہستہ پکڑیں گے ایسی جگہ سے جہاں سے ان کو خبر بھی نہ ہوگی

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں ان کو ڈھیل دوں گا بیشک میرا داؤ پکا ہے

180: یہ پہلے دعوے سے متعلق ہے آپ تبلیغ توحید کا فریضہ انجام دیتے ہیں جو لوگ عناد سے تکذیب کرتے ہیں ان کو ہم اسطرح آہستہ آہستہ ہلاکت کی طرف لے جارہے ہیں۔ ہم نے ان کو مہلت اس لیے دے رکھی ہے تاکہ وہ دل کھول کر گناہوں کا ارتکاب کرلیں اور شدید ترین عذاب آخرت کے مستحق ہوجائیں مگر وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اللہ ان پر خوش ہے۔ “ لیس المطلوب الا تدرجهم فی مدارج المعاصی الی ان یحق علیهم، کلمة العذاب الاخروی او الدنیویلی ما قیل علی افظع حال واشنعھا و ؟ ؟ النعم وسیلة الی ذٰلک ”(روح ج 9 ص 127) ۔
Ayahs 7:184–186

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا انہوں نے دھیان نہیں کیا181 کہ ان کے رفیق کو کچھ بھی جنون نہیں وہ تو ڈرانے والا ہے صاف

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا انہوں نے نظر نہیں کی سلطنت میں آسمان اور زمین کی اور جو کچھ پیدا کیا ہے اللہ نے ہر چیز سے اور اس میں کہ شاید قریب آگیا ہو ان کا وعدہ سو اس کے پیچھے کس بات پر ایمان لائیں گے

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جس کو اللہ بچلائے اس کو کوئی نہیں راہ دکھانے والا، اور اللہ چھوڑے رکھتا ہے ان کو ان کی شرارت میں سرگرداں

181: یہ منکرین کے لیے زجر ہے۔ “ اَ وَ لَمْ یَنْظُرُوْا الخ ” یہ زمین و آسمان کی کتاب عبرت کے صفحات ان کے سامنے کھلے ہیں کیا وہ ان میں غور نہیں کرتے۔ یہ تکوینی دلائل اس قدر واضح ہیں کہ ان کو دیکھ کر لامحالہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا یقین ہوجاتا ہے اور کیا نہوں نے کبھی اس میں غور نہیں کیا کہ کہیں ان کی اجل موت یا اجل عذاب قریب آچکی ہو۔ اگر اب وہ قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے تو اس کے بعد کس چیز پر ایمان لائیں گے۔ جو لوگ قرآن جیسی سچی اور صدق محض کتاب پر ایمان نہیں لاتے جو ان کی نجات و فلاح کی ضامن ہے۔ اصل میں ان کی فطرتیں مسخ اور ان کے سوچنے سمجھنے کی قوتیں باطل ہوچکی ہیں۔ “ اذا الم یؤمنوا بھذا الحدیث ھو الصدق المحض و فیه نجاتھم و خلاصھم فکیف یصدقون بحدیث غیرہ والمعنی انه لیس من طباعھم التصدیق بما فیه خلاصھم ” (بحر ج 4 ص 433) ۔
Ayah 7:187

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

تجھ سے پوچھتے ہیں182 قیامت کو کہ کب ہے اس کے قائم ہونے کا وقت، تو کہہ اس کی خبر تو میرے رب ہی کے پاس ہے وہی کھول دکھائے گا اس کو اس کے وقت پر وہ بھاری بات ہے آسمانوں اور زمین میں جب تم پر آئے گی تو بیخبر آئے گی تجھ سے پوچھنے لگتے ہیں کہ گویا تو اس کی تلاش میں لگا ہوا ہے تو کہہ دے اس کی خبر ہے خاص اللہ کے پاس لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے

182: زجر ہے جب آپ قیامت سے ڈراتے ہیں تو یہ ماننے کے بجائے الٹے ضد وعناد کی وجہ سے سوال کرنے لگتے ہیں کہ وہ قیامت آئے گی کب۔ آنحضرت ﷺ علم قیامت کی نفی سات طریقوں کی گئی۔ پہلا طریقہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ اس کے جواب میں صا اف کہہ دیں۔ “ اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّيْ ” کہ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے کہ قیامت کب آئے گی۔ دوسرا طریقہ “ لَا یُجَلِّیْھَا لِوَقْتِھَا اِلَّا ھُو ” جب اس کا وقت آپہنچے گا تو وہ خود ہی اس کو ظاہر فرمائے گا۔ تیسرا طریقہ “ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰت الخ ” زمین و آسمان میں قیامت کے علم کا معاملہ بہت اہم ہے۔ زمین و آسمان کی ساری مخلوق سے قیامت کا علم پوشیدہ ہے اور ہر ایک کی تمنا ہے کہ اس کا علم اس پر منکشف ہوجائے۔ “ اي کل من اھلھا من الملائکة والثقلین اھمه شان الساعة ویتمنی ان یتجلی له علمھا و یشق علیه خفاءھا ” (مدارک ج 2 ص 67) ، “ و المراد کبرت و عظمت علی اھلھا حیث لم یعلموا وقت وقوعھا ” (روح ج 9 ص 133) ۔ چوتھا طریقہ “ يَسْئَلُوْنَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْھَا ” مشرکین قیامت کے بارے میں آپ اس طرح سوال کرتے ہیں کہ گویا آپ اس کی تلاش اور جستجو میں ہیں اور اس کا علم حاصل کرچکے ہیں۔ “ اي عالم بھا کثیر السوال عنھا ” (قرطبی ج 7 ص 336) ۔ پانچواں طریقہ :“ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ اللّٰهِ ”۔ دوبارہ تاکیداً حکم دیا کہ آپ اعلان کردیں کہ قیامت کا علم صرف اللہ ہی کے پاس ہے اللہ تعالیٰ نے قیامت کا علم تمام مخلوق سے پوشیدہ کر رکھا ہے کیونکہ حکمت تشریعیہ کا اقتضاء یہی ہے اسی طرح انسان کی موت کے وقت کا علم مخفی ہے کیونکہ یہ چیز احکام خداوندی کی بجا آوری اور گناہوں سے اجتناب میں زیادہ معاون و مؤثر ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس علم کو کسی نبی مرسل اور ملک مقرب پر بھی ظاہر نہیں فرمایا۔ “ وانما اخفی سبحانه امر الساعة لاقتضاء الحکمة التشریعیة ذلک فانه ادعی الی الطاعة و ازجر عن المعصیة کما ان اخفاء الاجل الخاص للانسان کذلک وظاھر الايٰت انه علیه الصلٰوة والسلام لم یعلم وقت قیامھا نعم علم علیه الصلوۃ والسلام قربھا علی الاجمال ” (روح ج 9 ص 134) ۔
Ayah 7:188

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

تو کہہ دے کہ میں183 مالک نہیں اپنی جان کے بھلے کا اور نہ برے کا مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں184 جان لیا کرتا غیب کی بات تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کرلیتا اور مجھ کو برائی کبھی نہ پہنچتی میں تو بس ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں ایمان دار لوگوں کو

183: چھٹا طریقہ : قیامت کا علم تو درکنار وہ تو بہت بڑی بات ہے میں تو اپنے نفع و نقصان کا مالک بھی نہیں ہوں۔ “ اِلَّا مَاشَاءَ الّٰهُ ” یہ استثناء منقطع ہے یعنی جو کچھ اللہ چاہے وہی ہوتا ہے۔ اس میں انتہائی عجز کا اظہار ہے اس سےحضور ﷺ کا علم قیامت سے عجز کامل طور پر ثابت ہوتا ہے۔ “ ولکن ماشاء اللہ من ذلک کائن فا لاستثناء منقطع وھذا ابلغ فی اظھار العجز ” (ابو السعود ج 4 ص 485) ۔ “ والکلام مسوق لاثبات عجزہ عن العلم بالساعة علی اتم وجه ” (روح ج 9 ص 136) ۔ 184: ساتواں طریقہ : یہ آنحضرت ﷺ سے علم غیب کی نفی پر ایک واضح دلیل ہے یعنی اگر میں غیب جانتا ہوتا تو دنیا کے تمام منافع حاصل کرلیتا اور تمام مضار سے بچ جاتا۔ اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ اہل بدعت کہتے ہیں کہ یہاں “ کُنْتُ ” ماضی کا صیغہ ہے اور یہ پہلے کی بات ہے۔ بعد میں آپ کو کلی علم غیب حاصل ہوگیا تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کلمہ لَوْ ماضی پر داخل ہوجائے تو وہ مفید استمرار ہوتا ہے جیسا کہ شرح عقائد اور حاشیہ خیالی میں مذکور ہے۔ “ خیر ” دنیوی منافع اور “ سوء ” سے دنیوی تکلیفیں مراد ہیں۔ اور اس میں شک نہیں کہ حضور ﷺ سے کئی دنیوی منافع فوت ہوگئے اور کئی دنیوی تکلیفیں آپ کو پہنچیں۔ باقی رہی آخرت کی خیر تو وہ آپ کو تمام و کمال حاصل تھی اور آخرت کے مضار سے بھی محفوظ تھے۔ لہذا اب مبتدعین کا یہ اعتراض باطل ہوگیا کہ تمہارے مطلب سے نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کا بھلائی سے محروم ہونا لازم آتا ہے۔
Ayahs 7:189–190

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تم کو پیدا185 کیا ایک جان سے اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا تاکہ اس کے پاس آرام پکڑے، پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانکا حمل رہا ہلکا سا حمل تو چلتی پھرتی رہی اس کے ساتھ، پھر جب بوجھل ہوگئی تو دونوں نے پکارا اللہ اپنے رب کو کہ اگر تو ہم کو بخشے چنگا بھلا تو ہم تیرا شکر کریں

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

پھر جب ان کو دیا چنگا بھلا تو بنانے لگے اس کے لیے شریک اس کی بخشی ہوئی چیز میں سو اللہ برتر ہے ان کے شریک بنانے سے

185: یہ دوسرے دعوی سے متعلق ہے یعنی اولاد کے لیے غیر اللہ کی نذریں نیازیں دیتے ہیں۔ مفسرین کے نزدیک “ نَفْسٍ وَّاحِدَةً ” حضرت آدم (علیہ السلام) مراد ہیں۔ ان آیتوں میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے بعض لوگ اس کو حضرت آدم و حوا (علیہما السلام) کی طرف منسوب کرتے ہیں اور ایک روایت سے تمسک کرتے ہیں۔ محققین نے اس روایت کو غیر معتبر اور اسرائیلیات سے قراردیا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ “ فَلَمَّا تَغَشّٰھَا ” سے روئے سخن بنی آدم کی طرف ہوگیا ہے اور تثنیہ کے صیغوں سے اولاد آدم میں سے مشرک خاوند بیوی مراد ہیں کہ وہ پہلے تو اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں کہ ان کے گھر میں صحیح اور تندرست بیٹا پیدا ہوا اور وہ اس کا شکر ادا کریں گے لیکن جب اللہ ان کو فرزند نرینہ عطا کردیتا ہے تو وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں کہ یہ بیٹا تو ان کو فلاں بزرگ کی برکت سے ملا ہے۔ پھر اسی بزرگ کی نذر و نیاز دیتے ہیں اور بعض اس کا نام بھی مشرکانہ ہی تجویز کرتے ہیں۔ مثلاً عبد ود، عبد یغوث، عبدالعزی، پیراں دتہ، نبی بخش، علی بخش، حسین بخش وغیرہ۔ “ و قال قوم ان ھذا راجع الی جنس الادمیین والتبیین عن حال المشرکین من ذریة اٰدم علیه السلام وھو الذي یعول علیه۔ فقوله جَعَلَا لَهٗ یعنی الذکر والانثی الکافرین الخ ”(قرطبی ج 7 ص 339) لیکن حضرت شیخ (رح) کے یہاں “ نفس واحدة ” سے مرد مراد ہے اور “ مِنْھَا ” سے “ من جنسھا ” مراد ہے یعنی تم سب کو اپنے اپنے باپ سے پیدا کیا اور اس کا جوڑا بھی اسی کی جنس سے پیدا کیا۔ علامہ آلوسی فرماتے ہیں “ اي من جنسھا کما فی قوله سبحانه جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا فمن ابتدائیة ”(روح) اس کے علاوہ بھی بہت سی آیتوں سے اس کی تائید ہوتی ہے مثلاً “ وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا ” (نحل رکوع 10) اور “ وَمِنْ اٰیٰتِهٖ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا ” (روم رکوع 3) ۔ اس طرح آیت میں آدم و حوا (علیہما السلام) کا ذکر نہیں ہے بلکہ شروع ہی سے مطلق خاوند بیوی کا ذکر ہے۔
Ayahs 7:191–193

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا شریک بناتے ہیں186 ایسوں کو جو پیدا نہ کریں ایک چیز بھی اور وہ پیدا ہوئے ہیں

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور نہیں کرسکتے ہیں ان کی مدد اور نہ اپنی مدد کریں

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اور اگر تم ان کو پکارو راستہ کی طرف تو نہ چلیں تمہاری پکار پر برابر ہے تم پر کہ ان کو پکارو یا چپکے رہو

186: مشرکین کی انتہائی کم عقلی اور ہٹ دھرمی کا ذکر فرمایا کہ وہ کیسی عاجز مخلوق کو خدا کے ساتھ شریک بناتے ہیں وہ اس قدر عاجز و لاچار ہیں کہ اپنی مدد نہیں کرسکتے تو ان کی کیا مدد کریں گے۔ “ وَ اِنْ تَدْعُوْھُمْ اِلَی الْھُدٰي الخ ” خطاب مشرکین سے ہے اور اس میں ان کے معبودوں کی انتہائی بےبسی کا بیان ہے۔ یعنی تمہاری مدد کرنا تو درکنار وہ تو تمہاری بات کا جواب بھی نہیں دے سکت۔ ان میں اتنی قدرت ہی نہیں۔ “ والمعنی ان ھذا المعبود الذي یعبدہ المشرکون معلوم من حاله انه کما لا ینفع ولا یضر فکذا لا یصح فیه اذا دعی الی الخیر الاتباع ” (کبیر ج 4 ص 492) یا خطاب آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام سے ہے اور “ اَلْھُدٰي ” سے دین اسلام مراد ہے۔ یعنی اگر آپ ان مشرکین کو توحید اور دین اسلام کی دعوت دیں تو ان پر کوئی اثر نہیں ہوگا اور وہ آپ کی بات نہیں مانیں گے۔ علامہ آلوسی نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔
Ayah 7:194

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

جن کو187 تم پکارتے ہو اللہ کے سوا وہ بندے ہیں تم جیسے بھلا پکارو تو ان کو پس چاہیے کہ وہ قبول کریں تمہارے پکارنے کو، اگر تم سچے ہو

187: یہ تیسرے دعوے سے متعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کارساز پکارے جانے کے لائق نہیں۔ معبودانِ باطلہ کے عجز اور ان کی عبادت کرنے والوں کی سفاہت کا مزید بیان ہے یعنی جن کو تم اللہ کے سوا حاجات میں غائبانہ پکارتے ہو وہ بھی تمہاری مانند اللہ کے عاجز بندے ہیں اور کسی کے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں ان کو پکار کر دیکھ لو اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ وہ نفع ونقصان کے مالک ہیں تو پھر انہیں تمہاری پکار قبول کر کے تمہاری حاجت برآری کرنی چاہئے۔ حالانکہ وہ نہیں کرسکتے۔ “ اي فادعوھم فی دفع ضرا و جلب نفع (اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) فی زعمکم انھم قادرون علی ما انتم عاجزون عنه ” (روح ج 9 ص 144) ۔
Ayahs 7:195–196

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلتے188 ہیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے پکڑتے ہیں یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے دیکھتے ہیں یا ان کے کان ہیں جن سے سنتے ہیں تو کہہ دے کہ پکارو اپنے شریکوں کو پھر برائی کرو میرے حق میں اور مجھ کو ڈھیل نہ دو

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

میرا حمایتی تو اللہ ہے جس نے اتاری کتاب اور وہ حمایت کرتا ہے نیک بندوں کی

188: اس سے معبودان باطلہ مراد ہیں اور یہاں ہر لحاظ سے ان کا عجز بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ حاجات و مشکلات میں مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ “ بعد ما بین ان شرکاءھم لا یقدرون علی شء ما اصلاً امر رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم بان یناصبھم للمحاجة ” (ابو السعود ج 4 ص 495) یا اس سے کفار ماد ہیں جیسا کہ اسی سورت کے رکوع 22 میں گذر چکا ہے۔ “ لَھُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَھُونَ بِھَا وَ لَھُمْ اَعْیُنٌ لَّایُبْصِرُوْنَ بِھَا وَ لَھُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِھَا الخ ”۔