6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsجواھر القرآن

Ayah 6:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

سب تعریفیں2 اللہ کے لئے ہیں جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین اور بنایا اندھیرا3 اور اجالا پھر بھی یہ کافر اپنے رب کے ساتھ اوروں کو برابر کئے دیتے ہیں

2:۔ حصہ اول۔ نفی شرک فی التصرف یا نفی شرک اعتقادی سورة انعام سے قرآن مجید کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے جو سورة بنی اسرائیل کے آخر تک ہے۔ اس حصے کا مرکزی مضمون ربوبیت ہے یعنی اس حصے میں زیادہ تر یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر چیز کو پیدا کرنے کے بعد اس کو حد کمال تک پہنچانے والا اور ہر چیز کی دیکھ بھال کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ خلاصہ کے بیان میں مذکور ہوچکا ہے کہ سورة انعام کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ سورت کی ابتداء سے لے کر رکوع 14 میں وَھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ تک ہے اس حصے میں نفی شرک فی التصرف کا ذکر کیا گیا ہے اور مسئلہ توحید پر عقلی ونقلی اور وحی سے گیارہ دلائل بیان کیے گئے ہیں۔ نو دلائل عقلیہ، دو نقلی دلیلیں اور تین دلائل وحی۔ حَمْد سے صفات الوہیت مراد ہیں جیسا کہ سورة فاتحہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے ملاحظہ ہو ص 4 حاشیہ 2 ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ایک دعویٰ ہے۔ یعنی وہ تمام صفات کارسازی جنہیں تم اپنے معبودوں کے لیے ثابت کرتے ہو وہ سب اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں اور تمہارے معبودوں میں نہیں پائی جاتی ہیں۔ اَلَّذِیْ اسم موصول تعلیل کے لیے ہے اور اس کا صلہ مذکورہ دعویٰ پر پہلی عقلی دلیل ہے یعنی زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا۔ اندھیرے اور اجالے کو بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا کارساز اور متصرف بھی وہی ہے اس لیے اسی کو پکارو چونکہ مشرکین اس بات کو مانتے تھے کہ زمین و آسمان اور ساری کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے جیسا کہ ارشاد ہے وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللہُ (لقمان ع 3) اس لیے اس مسلمہ حقیقت کو بطور حجت ذکر فرمایا۔ 3 ظلمت سے گمراہی اور نور سے ہدایت مراد ہے۔ چونکہ گمراہی کے راستے بہت ہیں اور نجات و ہدایت کا راستہ ایک ہی ہے یعنی اسلام۔ اس لیے ظلمات کو جمع اور نور واحد استعمال کیا گیا۔ لان المراد بالظلمۃ الضلال۔ ھو متعدد و باالنور الھدی وھو واحد (روح ج 7 ص 82) ۔ ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا الخ میں ثُمَّ استبعاد کے لیے ہے۔ یعنی جب تم کو معلوم ہوگیا کہ ہر شئے کا خالق اور مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے تو یہ بات عقل سے بعید ہے کہ مخلوق میں سے کسی کو اللہ تعالیٰ کے برابر کرو اور اس کو اللہ کی طرح متصرف سمجھو و لم للاستبعاد (جامع البیان ص 12) و ثم لاستبعاد ما وقع من الذین کفروا (روح ج 7 ص 85) ۔
Ayah 6:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے پیدا کیا تم کو مٹی سے4 پھر مقرر کردیا ایک وقت ایک مدت مقرر ہے اللہ کے نزدیک پھر بھی تم شک کرتے ہو

4 اس میں حصر ہے۔ یعنی اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا ہے۔ اس طرح اس آیت کے باقی حصوں میں بھی حصر ہے۔ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّی عِنْدَہٗ یعنی مقررہ اجل کی اسی ہی کو خبر ہے اور اس کا علم اسی کے پاس ہے۔ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ ۔ ثُمَّ یہاں بھی استبعاد کے لیے ہے تمترون۔ مِرْیَۃٌ سے ہے یا مِرَاءٌ سے پہلی صورت میں اس کے معنی ہوں گے۔ پھر تم شک کرتے ہو اور دوسری صورت میں پھر تم جھگڑا کرتے ہو تشکرون من المریۃ او تجادلون من المراء و معنی ثم استبعاد (مدارک ج 2 ص 3) ۔
Ayah 6:3

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور وہی ہے اللہ آسمانوں میں اور زمین میں5 جانتا ہے تمہارا چھپا اور کھلا اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

5 لفظ اللہ سے وصف مشہور مراد ہے یعنی فاعل اور متصرف، اب حرف جار لفظ اللہ کے متعلق ہوگا اور ظرفیت کا معنی درست ہوگا۔ اس آیت کی ابتداء میں حصر ہے اس لیے اس کے باقی حصوں میں بھی حصر ہوگا یعنی زمین و آسمان میں وہی متصرف ہے اور وہی تمہارے ظاہر و باطن کو جانتا ہے اور وہی جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ یہ صفتیں اللہ کے سوا کسی اور میں نہیں ہیں۔ لہذا اس کے سوا متصرف و کارساز بھی کوئی نہیں۔
Ayah 6:4

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے6 مگر کرتے ہیں اس سے تغافل

6 و َ مَا تَاتِیْھِمْ سے یَسْتَھْزِء وْنَ تک منکرین پر زجر و شکوہ ہے اور آیات سے دلائل توحید مراد ہیں جو قرآن میں مذکور ہیں بقرینہ مَا یَا تِیْھِمْ مّنْ ذِکْرٍ مِّنْ رَّبِّھِمْ مُّحْدَثٍ تا فَھُمْ مُّعْرِضُوْنَ (انبیاء ع 1، 2) ۔ فَقَدْ کَذَّبُوْا بِالْحَقِّ حق کے تین معنی ہیں۔ اولَ اظہار حق، دوم سچی بات، سوم ظاہر اور واضح بات۔ یہاں تیسرا معنی مراد ہے۔ جب انہوں نے ایک ایسی حقیقت کا انکار کردیا جو بالکل واضح اور ظاہر ہے تو وہ عذاب کے مستحق ہیں جیسا کہ فَسَوْفَ یَاتِیْھِمْ کی فا فصحیہ ہے اس پر دال ہے۔
Ayah 6:5

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

سو بیشک جھٹلایا انہوں نے حق کو جب ان تک پہنچا سو اب آئی جاتی ہے ان کے آگے حقیقت اس بات کی جس پر ہنستے تھے7

7 انباء سے دنیا اور آخرت کا عذاب مراد ہے۔ المراد ما یعم ذلک (العقوبات العاجلۃ والعقوبات التی تحل بھم فی الاخرۃ من عذاب النار و نحوہ) (روح ج 7 ص 93) ۔
Ayah 6:6

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا دیکھتے نہیں کہ کتنی ہلاک کردیں ہم نے ان سے پہلے8 امتیں جن کو جما دیا تھا ہم نے ملک میں اتنا کہ جتنا تم کو نہیں جمایا اور چھوڑ دیا ہم نے ان پر آسمان کو لگاتار برستا ہوا اور بنا دیں ہم نے نہریں بہتی ہوئی ان کے نیچے پھر ہلاک کیا ہم نے ان کو ان کے گناہوں پر اور پیدا کیا ہم نے ان کے بعد اور امتوں کو

8 یہ تخویف دنیوی ہے۔ مَکَّنّٰھُمْ تمکین کے معنی قدرت و ہمت عطا کرنے کے ہیں۔ مِنْ تَحْتِھِمْ میں مضاف محذوف ہے ای تحت اشجارھم او تحت قصورھم یا یہ قبضہ اور تصرف سے کنایہ یعنی وہ نہریں ان کے قبضہ و تصرف میں تھیں۔ بِذُنُوْبِھِمْ ۔ با سببیہ ہے۔ یعنی ان کے گناہوں اور دعویٰ توحید نہ ماننے کے سبب سے ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔
Ayah 6:7

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اور اگر اتاریں ہم تجھ پر لکھا ہوا کاغذ میں9 پھر چھو لیویں وہ اس کو اپنے ہاتھوں سے البتہ کہیں گے کافر یہ نہیں ہے مگر صریح جادو

9 یہ مشرکین کے ساتھ شبہات میں سے پہلے شبہ کا جواب ہے۔ مشرکین کہتے تھے کہ جب تک آپ آسمانوں پر جا کر وہاں سے لکھی لکھائی کتاب نہ لے آئیں اس وقت تک ہم ایمان نہیں لائیں گے جیسا کہ سورة بنی اسرائیل رکوع 10 میں ہے وَلَنْ نُّوْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتٰبًا نَّقْرَء ہٗ تو اس کا جواب دیا کہ اگر ہم کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب ان پر نازل کردیں جسے یہ اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیں لیکن پھر بھی یہ مشرکین اور کفار وہی کچھ کہیں گے جو اب کہتے ہیں کہ یہ تو بس کھلا ہوا جادو ہے۔
Ayahs 6:8–9

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کیوں نہیں اترا10 اس پر کوئی فرشتہ اور اگر ہم اتاریں فرشتہ تو طے ہوجاوے11 قصہ پھر ان کو مہلت بھی نہ ملے

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

اور اگر ہم رسول بنا کر بھیجتے کسی فرشتہ کو تو وہ بھی آدمی ہی کی صورت میں ہوتا اور ان کو اسی شبہ میں ڈالتے جس میں اب پڑ رہے ہیں

10 یہ دوسرا شبہ ہے۔ مشرکین کہتے تھے کہ پیغمبر کے ساتھ ایک فرشتہ بھی آنا چاہئے تھا جو اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا اور اس کے دعوی کے تصدیق کرتا جیسا کہ الفرقان رکوع 1 میں لَوْلَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُوْنَ مَعَہٗ نَذِیْراً تو اس کا جواب دیا وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَایُنْظَرُوْنَ یعنی اگر پیغمبر (علیہ السلام) کے ساتھ فرشتہ آتا اور مشرکین اس کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیتے اور اس کے بعد اگر وہ پیغمبر کا انکار کردیتے تو انہیں فوراً ہلاک کردیا جاتا اور کچھ سوچنے کی انہیں ہرگز مہلت نہ دی جاتی۔ 11 یہ تیسرے شبہ کا جواب ہے۔ مشرکین کہتے تھے کہ اگر اللہ کو پیغمبر بھیجنا منظور تھا تو کسی فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیج دیتا۔ بشر کو اس نے پیغمبر کیوں بنایا ہے تو اس کو جواب دیا کہ اگر فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے تو لا محالہ انسانی اور بشری شکل میں ہی بھیجتے تو اس صورت میں بھی اس کے بارے میں ان کے دلوں میں وہ شبہات ہوتے جو اب ہیں کہ یہ تو بشر ہے فرشتہ نہیں۔
Ayah 6:10

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہنسی کرتے رہے ہیں رسولوں سے تجھ سے پہلے12 پھر گھیر لیا ان سے ہنسی کرنے والوں کو اس چیز نے کہ جس پر ہنسا کرتے تھے

12: یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ ابو جہل، امیہ بن خلف، ولید بن مغیرہ اور دیگر مشرکین آنحضرت ﷺ سے استہزاء کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ آپ سے پہہلے انبیاء (علیہم السلام) سے بھی ان کی قوم کے سرکش اور معاند لوگ اسی طرح استہزاء اور تمسخر کیا کرتے تھے۔ آخر ان کو ان کی شرارتوں کی سزا مل گئی۔ تسلیۃ لرسول اللہ ﷺ عما یلقاہ من قومہ کالولید ابن المغیرۃ وامیۃ بن خلف وابی جہل واضرابھم (روح ج 7 ص 101) حَاقَ بمعنی نزل یعنی نازل ہوا۔ اور منھم میں من بمعنی باء ہے اور ھُم ضمیر سے رسل اور مؤمنین مراد ہیں۔
Ayah 6:11

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

تو کہہ دے کہ سیر کرو ملک میں13 پھر دیکھو کیا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا

13 یہ تخویف دنیوی ہے یعنی آپ ان منکرین اور مستہزئین سے کہیں کہ زمین میں چل پھر کر ان لوگوں کا انجام دیکھو جنہوں نے مبلغین توحید حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کی۔
Ayah 6:12

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

پوچھ کہ کس کا ہے جو کچھ کہ ہے آسمانوں14 اور زمین میں کہہ دے اللہ کا ہے اس نے لکھی ہے اپنے ذمہ مہربانی البتہ تم کو اکھٹا کر دے گا قیامت کے دن تک کہ اس میں کچھ شک نہیں جو لوگ نقصان میں ڈال چکے اپنی جانوں کو وہی ایمان نہیں لاتے

14 یہ مسئلہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے لیکن علی سبیل الاعتراف من الخصم یعنی دلیل میں ایک ایسی حقیقت ذکر کی گئی ہے جسے مشرکین بھی مانتے تھے کہ جو کچھ بھی زمین و آسمان میں ہے سب کا مالک اللہ ہی ہے۔ قُلْ لِّلّٰہِ یہاں ہمزہ استفہام تقریری مقدر ہے اصل میں تھا قُلْ اَ لِلّٰہِ ۔ مطلب یہ ہے کہ سب کچھ اللہ ہی کا ہے۔ کَتَبَ عَلیٰ نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ یعنی اللہ نے اپنی مخلوق پر رحم کرنا اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ لَیَجْمَعَنَّکُمْ الخ اِلیٰ بمعنی فی ہے اور یہ منکرین کیلئے تخویف اخروی ہے۔
Ayah 6:13

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آرام پکڑتا ہے رات میں اور دن میں15 اور وہی ہے سب کچھ سننے والا جاننے والا

15 یہ تیسری عقلی دلیل ہے یہ آیت از قبیل التفہا تبنا و ماء باردا ہے کیونکہ سکون تو صرف رات میں ہوتا ہے۔ دن میں لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوتے ہیں اس لیے النھار سے پہلے اس سے مناسب فعل محذوف ہے اصل میں تھا وَ لَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَ مَا نَشَرَ فِی النَّھَارَ نُشُوْراً ۔ تقدیم ظرف مفید حصر ہے۔ یعنی رات دن میں جو بھی ساکن و متحرک ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے اور کسی کا نہیں۔ وَ ھُوَ السَّمِیْع ای لکل شیء اَلْعَلِیْمُ ای بکل شیء یعنی ہر چیز کا سننے والا اور ہر چیز کا جاننے والا اللہ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ یہاں تعریف خبر مفید حصر ہے۔
Ayah 6:14

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

کہہ دے16 کیا اور کسی کو بناؤں اپنا مددگار اللہ کے سوا جو بنانے والا ہے آسمانوں اور زمین کا اور وہ سب کو کھلاتا ہے اور اس کو کوئی نہیں کھلاتا کہہ دے مجھ کو حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے حکم مانوں17 اور تو ہرگز نہ ہو شرک والا

16 یہ پہلا طریق تعلیم ہے۔ وَلِیًّا یعنی کارساز فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ یہ اللہ کی صفت ہے یعنی ہر چیز کو ابتداءً پیدا کرنے والا۔ آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ ان مشرکین کو جواب دیں جو آپ کو اپنے عاجز معبودوں کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں کہ کیا میں اس اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو کارساز مان لوں جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور سب کا روزی دینے والا ہے اور خود سب سے بےنیاز ہے۔ 17 یہ دوسرا طریق تعلیم ہے۔ لَاتَکُوْنَنَّ سے پہلے قیل لی محذوف ہے یعنی مجھے تو یہ حکم ملا ہے کہ میں اللہ کے سامنے سب سے پہلا سر جھکانے والا ہوں۔ نیز مجھے حکم دیا گیا ہے کہ مشرکین کے نظریات و اعمال میں سے کچھ بھی قبول نہ کروں۔ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ کا مفہوم تفصیل سے انعام کے آخری رکوع میں قُلْ اِنَّ صلٰوتِیْ وَنُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الخ میں بیان کیا گیا ہے۔
Ayahs 6:15–16

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

تو کہہ میں ڈرتا ہوں18 اگر نافرمانی کروں اپنے رب کی ایک بڑے دن کے عذاب سے

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

جس پر سے ٹل گیا وہ عذاب اس دن تو اس پر رحم کردیا اللہ نے یہی ہے بڑی کامیابی

18 یہ تیسرا طریق تعلیم ہے۔ یعنی تم لوگ تو اللہ کی معرفت اور اس کی پہچان سے بےبہرہ ہو اس لیے دن رات اس کی نافرمانیوں میں منہمک ہو اور اس کے ساتھ شرک کرتے ہو اور تمہارے دلوں میں اس کے عذاب کا کوئی ڈر خطرہ نہیں لیکن مجھے تو خطرہ ہے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں گا تو اسکے سخت عذاب کی لپیٹ میں آجاؤں گا۔
Ayah 6:17

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اور اگر پہنچا دے تجھ کو اللہ کچھ سختی19 تو کوئی اس کو دور کرنے والا نہیں سوا اس کے اور اگر تجھ کو پہنچا دے بھلائی تو وہ ہر چیز پر قادر ہے

19 یہ مسئلہ توحید پر چوتھی عقلی دلیل ہے ضُرٌّ سے مراد ہر تکلیف ہے۔ مثلاً بیماری، تنگدستی، مصیبت وغیرہ اسی طرح خیر سے ہر وہ بھلائی مراد ہے جس سے انسان کو خوشی اور سرور حاصل ہو۔ مثلاً تندرستی، دولت، آرام و راحت وغیرہ۔ آیت میں خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن مراد ہر مخاطب ہے۔ یعنی اگر اللہ کی طرف سے کوئی مصیبت یا تکلیف آجائے تو اللہ کے سوا کوئی اسے دور نہیں کرسکتا نہ کوئی پیغمبر، نہ ولی اور نہ کوئی فرد اور جن اور اگر اللہ تعالیٰ آرام و راحت پہنچانا چاہے تو اسے بھی کوئی نہیں روک سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ تکلیف پہنچانے پر بھی اور خیر پہنچانے پر بھی۔ فَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔ ما قبل کی علت ہے اور وَ اِنْ یَّمْسَسْکَ بِخَیْرٍکی جزاء محذوف ہے۔ ای فَلاَ رَادَّ لِفَضْلِہٖ بقرینۃ وَاِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِہٖ (یونس ع 11) ۔
Ayah 6:18

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

اور اسی کا زور ہے اپنے بندوں پر20 اور وہی ہے بڑی حکمت والا سب کی خبر رکھنے والا

20 یہ بھی دلیل ہی کا حصہ ہے اور وہ کسی کے سامنے عاجز و مغلوب نہیں ہوسکتا۔ وَھُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ اور وہی حکمت والا اور وہی ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ تینوں صفتوں کے صیغوں پر الف لام افادہ حصر کیلئے ہے واللام ھنا و فیما تقدم للقصر (ص 117 ج 7) اس عقلی دلیل سے اللہ تعالیٰ کا کمال قدرت اور کمال علم ثابت ہوگیا۔ لہذا جب اس کے سوا کوئی قادر مطلق اور غیب دان نہیں تو اس کے سوا کارساز بھی کوئی نہیں۔ وَھُوَالْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ اشارۃ الی کمال القدرۃ وَھُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْر اشارۃ الی کمال العلم (بحر ج 4 ص 89) ۔
Ayah 6:19

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

تو پوچھ سب سے بڑا گواہ کون ہے21 کہہ دے اللہ گواہ ہے میرے اور تمہارے درمیان اور اترا ہے مجھ پر22 یہ قرآن تاکہ تم کو اس سے خبردار کروں اور جس کو یہ پہنچے کیا تم گواہی دیتے ہو23 کہ اللہ کے ساتھ معبود اور بھی ہیں تو کہہ دے میں تو گواہی نہ دوں گا کہہ دے وہی ہے معبود ایک اور میں بیزار ہوں تمہارے شرک سے

21 یہ گذشتہ چاروں عقلی دلیلوں سے متعلق ہے۔ شہادۃً تمییز بمعنی قسم ہے۔ یعنی کونسی چیز بڑی ہے ازروئے قسم کے یہاں شہادت بمعنی گواہی ہے۔ یعنی سب سے بڑی گواہی کس کی ہے۔ قُلِ اللہُ الخ آپ فرما دیں سب سے بڑی گواہی تو اللہ تعالیٰ کی ہے جس نے گذشتہ عقلی دلائل سے اور آگے دلیل وحی سے بیان فرما دیا ہے کہ غیب دان اور متصرف و مختار وہی ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ 22 یہ نفی شرک فی التصرف پر دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے۔ 23 یہ مذکورہ چاروں عقلی دلائل کا ثمرہ ہے۔ شَہادۃً سے یہاں شہادت عقلی مراد ہے۔ یعنی اے مشرکین کیا ان مذکورہ عقلی دلائل کی موجودگی میں تمہاری عقل اس بات کو مانتی ہے کہ اللہ کے ساتھ کچھ اور معبود بھی ہوسکتے ہیں جو صفات الوہیت میں اس کے شریک ہوں اور غیب دان اور کارساز ہوں۔ قُلْ لَّا اَشْھَدُ آپ فرمادیں میری عقل تو اس بات کو نہیں مانتی۔ قُلْ اِنَّمَا ھُوَ اِلٰہٌ وَّ احِدٌ کلمہ اِنَّمَا حصر کے لیے ہے۔ اور مجھے تمہارے شرک اور مشرکین کے شرک سے بیزاری اور براءت کا اعلان کرنے کا حکم فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے اور میں تمہارے شرک اور تمہارے معبودوں کی عبادت سے بیزار ہوں۔
Ayah 6:20

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن کو ہم نے دی کتاب24 وہ پہچانتے ہیں اس کو جیسے پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو جو لوگ نقصان میں ڈال چکے اپنی جانوں کو وہی ایمان نہیں لاتے

24 الکتاب سے تورات اور انجیل اور موصول سے یہود و نصاری دونوں فریق مراد ہیں اور یَعْرِفُونَہ میں ضمیر منصوب سے قول مذکور یعنی کلمہ توحید کی حقانیت مراد ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ” می شناسد حقیقت ایں قول یعنی کلمہ توحید (فتح الرحمن) اس کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے۔ یَتْلُونَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ ۔ اس معنی کے اعتبار سے اس آیت کا ربط ماقبل کے ساتھ بالکل واضح ہوجاتا ہے۔ عام مفسرین نے ضمیر کا مرجع آنحضرت ﷺ کی ذات کو قرار دیا ہے لیکن اس صورت میں یہ آیت ماقبل سے الگ ہوجاتی ہے۔ اس مضمون میں ایک حدیث بھی وارد ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس پر موقوف نہیں جیسا کہ سیاق وسباق اس پر شاہد ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ علماء یہود و نصاریٰ کو کلمہ توحید کے مضمون کی سچائی اور حقانیت کا اس طرح یقین ہے جس طرح انہیں اپنی اولاد کی پہچان کا یقین ہے۔
Ayah 6:21

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس25 سے زیادہ ظالم کون جو بہتان باندھے اللہ پر یا جھٹلاوے اس کی آیتوں کو بلا شک بھلائی نصیب نہیں ہوتی ظالموں کو

25 زجر ہے مشرکین کے لیے اور استفہام انکار کے لیے ہے یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتا ہے اور اللہ کے نیک بندوں کو خدا کے ساتھ شریک بناتا ہے اور توحید کی آیتوں اور توحید کے دلائل کا انکار کرتا ہے وہ سب سے بڑا ظالم ہے۔ اِنَّہٗ لَایُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ اور ظالم لوگ جو توحید کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں اور جو دن رات شرک کرتے ہیں آخرت میں ان کی نجات نہیں ہوگی تو جو اظلم (یعنی سب سے بڑے ظالم) ہو ان کی بدرجہ اولیٰ نہیں ہوگی۔
Ayah 6:22

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

اور جس دن ہم جمع کریں گے ان سب کو26 پھر کہیں گے ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کیا تھا کہاں ہیں شریک تمہارے جن کا تم کو دعویٰ تھا

26 یہ مشرکین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ شُرَکَاءُکُمْ اس سے وہ نیک پیر اور بزرگ مراد ہیں جن کو مشرکین دنیا میں حاجت روا اور سفارشی سمجھ کر پکارا کرتے تھے، یعنی قیامت کے دن جب ہم سب کو میدانِ محشر میں جمع کریں گے تو مشرکین سے کہیں گے کہ آج تمہارے وہ کارساز اور سفارشی کہاں ہیں جن کے معلق تمہارا خیال تھا کہ وہ ہر مشکل اور ہر مصیبت میں تمہارے کام آئیں گے۔ آج تم پر بہت بڑی مصیبت آپڑی ہے آج وہ تمہاری مدد کے لیے کیوں نہیں آئے۔
Ayahs 6:23–24

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

پھر نہ رہے گا ان کے پاس کوئی فریب مگر یہی کہ کہیں گے27 قسم ہے اللہ کی جو ہمارا رب ہے ہم نہ تھے شرک کرنے والے

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

دیکھو تو کیسا جھوٹ بولے اپنے اوپر اور کھوئی گئیں ان سے وہ باتیں جو بنایا کرتے تھے

27 فِتنَۃٌ کے معنی گمراہی کے ہیں اور یہاں اس سے مشرکین کا جواب مراد ہے۔ چونکہ مشرکین کا جواب صریح جھوٹ ہوگا اس لیے اسے فتنۃ سے تعبیر فرمایا ثم لم یکن جو ابھم الا ان قالوا نسفی فتنۃ لانہ کذب (مدارک ج 2 ص 6 فی البحر ج 4 ص 95 والقرطبی ج 6 ص 401 یقرب منہ) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ ثُمَّ لَمْ تَکُنْ فِتْنَتُھُمْ کا ترجمہ اس طرح فرماتے تھے پھر نہیں ہوگا گندا جواب ان کا۔ مشرکین جب اپنے کو بےبسی اور بیچارگی کے عالم میں پائیں گے تو خیال کریں گے کہ وہ دنیا میں شرک کرنے کا سرے سے انکار ہی کردیں۔ شاید اس طرح عذاب سے بچ جائیں۔ اس خیال پر وہ یہ جھوٹ بولیں گے اور اللہ کے نام کی قسم کھا کر یہ جھوٹا جواب دیں گے کہ وہ سرے سے مشرک تھے ہی نہیں اور انہوں نے دنیا میں ہرگز شرک نہیں کیا جیسا کہ دوسری جگہ ان کا جواب اس طرح نقل کیا گیا ہے۔ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَکُنْ نَّدْعُوْ ا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا (مومن ع 8) بل اضرابیہ ہے۔ پہلے تو کہیں گے کہ آج ہمارے سفارشی اور کارساز غائب ہوگئے ہیں۔ پھر اس بات سے اعراض کر کے فوراً کہیں گے کہ ہم تو اللہ کے سوا کسی اور کو پکارتے ہی نہیں تھے۔
Ayah 6:25

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور بعضے ان میں کان لگائے رہتے ہیں تیری طرف28 اور ہم نے ان کے دلوں پر ڈال رکھے ہیں پردے تاکہ اس کو نہ سمجھیں اور رکھ دیا ان کے کانوں میں بوجھ اور اگر دیکھ لیں تمام نشانیاں تو بھی ایمان نہ لاویں ان پر یہاں تک کہ جب آتے ہیں تیرے پاس29 تجھ سے جھگڑنے کو تو کہتے ہیں وہ کافر نہیں ہے یہ مگر کہانیاں پہلے لوگوں کی

28 یہ زجر ہے یعنی ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو آپ کی باتیں غور سے سنتے ہیں مگر اس کے باوجود ان کے دلوں پر اس کا کس کا کچھ اثر نہیں ہوتا کیونکہ ان کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دئیے ہیں اور ان سے سمجھنے کی قوت سلب کرلی گئی ہے۔ یعنی ان کے دلوں پر مہر جباریت لگا دی گئی ہے اور ان کے کانوں کو ہم نے بہرہ کردیا ہے اور وہ حق بات نہیں سن سکتے وَ اِنْ یَّرَوْا کُلَّ اٰیَۃٍ الخ مہر جباریت کی وجہ سے ان کی آنکھیں بند ہوچکی ہیں۔ اس لیے اگر ان کو تمام معجزات دکھا دئیے جائیں تب بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ 29 حتّٰی انتہائے غایت کے لیے ہے یعنی ماننا تو درکنار وہ اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ جب وہ پیغمبر (علیہ السلام) کے پاس آتے ہیں تو ان کے ساتھ جھگڑنا شروع کردیتے ہیں اور کہتے کیا ہیں۔ اِنْ ھٰذَا اِلَّا اَسَاطِیْرُ الْاوَّلِیْن یعنی یہ پیغمبر جو کچھ بیان کرتا ہے یہ تو محض اگلے لوگوں کی جھوٹی کہانیاں ہیں یہ کافروں کی انتہائی بد قسمتی اور کور چشمی تھی کہ وہ سچے واقعات کو جھوٹا کہتے تھے۔ یہ گذشتہ قوموں کے سچے واقعات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے عبرت اور نصیحت کے لیے بیان کیے ہیں تاکہ لوگ ان میں غور و فکر کر کے عبرت حاصل کریں۔ تائید فَاْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ (الاعراف ع 22) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب مشرکین اپنے انکار پر پختہ ہوجاتے ہیں تو کسی دلیل کو نہیں مانتے تو پھر اہل توحید سے جھگڑا شروع کردیتے ہیں۔
Ayah 6:26

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

اور یہ لوگ روکتے ہیں اس سے30 اور بھاگتے ہیں اس سے اور نہیں ہلاک کرتے مگر اپنے آپ کو اور نہیں سمجھتے

30 یہاں کافروں کی دو بری خصلتیں بیان کی گئی ہیں۔ اول یہ کہ وہ لوگوں کو قرآن سے روکتے ہیں اور انہیں اس کے سننے سے منع کرتے ہیں۔ دوم یہ کہ وہ خود بھی قرآن سے دور بھاگتے ہیں وَ اِنْ یُّھْلِکُوْنَ الخ مگر اس طرح وہ پیغمبر (علیہ السلام) کا، قرآن کا اور مسلمانوں کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکتے الٹا اپنے آپ ہی کو ہلاکت اور تباہی کے گڑھے میں دھکیل رہے ہیں۔
Ayah 6:27

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

اور اگر تو دیکھے31 جس وقت کہ کھڑے کئے جاویں گے وہ دوزخ پر پس کہیں گے اے کاش ہم پھر بھیج دیے جاویں اور ہم نہ جھٹلائیں اپنے رب کی آیتوں کو اور ہوجاویں ہم ایمان والوں میں

31 یہ تخویف اخروی ہے۔ یٰلَیْتَنَا حرف نداء یہاں محض اظہار حسرت کے لیے ہے اس سے کسی کو خطاب مقصود نہیں۔ حرف نداء یا جس طرح نداء اور استغاثہ کے لیے آتا ہے۔ اسی طرح ندب، تعجب، شوق، حسرت اور محبت کے اظہار کے لیے بھی آتا ہے جیسا کہ صحیح مسلم قبیل باب التفسیر میں ہے کہ جبحضور ﷺ مدینہ طیبیہ تشریف لے گئے تو چھوٹی بچیاں گلی کوچوں میں یا محمداہ یا محمداہ کہتی پھر رہی رہی تھیں۔ اس سے ان کا مقصد نداء اور پکار نہ تھا بلکہ وہ محض عقیدت اور محبت کے اظہار کے طور پر یہ کہہ رہی تھیں۔
Ayah 6:28

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

کوئی نہیں بلکہ ظاہر ہوگیا جو چھپاتے تھے پہلے32 اور اگر پھر بھیجے جاویں تو پھر بھی وہی کام کریں جس سے منع کئے گئے تھے اور وہ بیشک جھوٹے ہیں

32 بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں یُخْفُوْنَ سے مراد یہ ہے کہ ان کے وہ گندے عقیدے جنہیں وہ دنیا میں چھپاتے پھرتے تھے لیکن اس پر یہ شبہ وارد ہوتا ہے کہ وہ تو اپنے عقیدے کو اعلانیہ ظاہر کرتے تھے۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ یہاں باب افعال وجدان کے لیے ہے۔ اور یخفون کے معنی ہیں یجدونہ مخفیا یعنی جس چیز کو دنیا میں وہ نہیں دیکھ سکتے تھے بلکہ اسے پوشیدہ پاتے تھے وہ چیز قیامت کے دن ظاہر ہو کر ان کے سامنے آجائے گی اور اس سے مراد جہنم کی آگ ہے۔ وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُھُوْا عَنْہُ ۔ قیامت کے دن مشرکین خواہش کریں گے کہ انہیں واپس دنیا میں لوٹا دیا جائے تو وہ سچے مومن بن جائیں گے اور شرک وکفر کے قریب بھی نہیں پھٹکیں گے۔ فرمایا یہ جھوٹ کہتے ہیں۔ اگر انہیں واپس دنیا میں بھیج دیا جائے تب بھی وہ نہیں مانیں گے۔ اور اس عذاب کو بھول جائیں گے۔33 یہ شکوی ہے اور لَعَادُوْا پر معطوف ہے یعنی اگر انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تو یہ حسب سابق توحید کے ساتھ بعث بعد الموت کا بھی انکار کریں گے اور کہیں کہ بس یہ دنیا کی زندگی ہی اصل زندگی ہے اور اس کے بعد کوئی قیامت اور حشر و نشر وغیرہ نہیں۔ یا اِنَّ ھُمْ لَکَاذِبُونَ پر عطف ہے یا استیناف ہے یعنی یہ لوگ دنیا میں ایسا کہا کرتے تھے عطف علی لعادوا یعنی لو ردوا قالوا وعلی انھم لکاذبون یعنی وھم الذین قالوا ذلک فی الدنیا او استیناف بذکر ما قالوہ فی الدنیا (مظھری ص 256 ج 3) ۔
Ayah 6:29

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں33 ہمارے لئے زندگی نہیں مگر یہی دنیا کی اور ہم کو پھر نہیں زندہ ہونا

یہ شکوی ہے اور ” لعادوا “ پر معطوفہ ہے۔ یعنی اگر انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تو یہ حسب سابق توحید کے ساتھ بعث بعد الموت کا بھی انکار کریں گے اور کہیں کہ بس یہ دنیا کی زندگی ہی اصل زندگی ہے اور اس کے بعد کوئی قیامت اور حشر و نشر وغیرہ نہیں۔ یا ” انہم لکاذبون “ پر عطف ہے یا استیناف ہے یعنی یہ لوگ دنیا میں ایسا کہا کرتے تھے۔ عطف علی لعادوا یعنی لو ردوا قالوا و علی انہم لکاذبون یعنی وھم الذین قالوا ذالک فی الدنیا او استیناف بذکر ما قالوہ فی الدنیا (مظہری ص 356 ج 3)
Ayah 6:30

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور کاش کے تو دیکھے34 جس وقت وہ کھڑے کئے جاویں گے اپنے رب کے سامنے فرمائے گا کیا یہ سچ نہیں کہیں گے کیوں نہیں قسم ہے اپنے رب کی فرمائے گا تو چکھو عذاب بدلے میں اپنے کفر کے

34 یہ جواب شکوہ ہے مع تخویف اخروی۔ قیامت کے دن جب مشرکین خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے اس وقت فرشتے بطور تبکیت ان سے سوال کریں گے کہ کیا یہ قیامت اور عذاب برھق نہیں ؟ قَالُوْا بلی الخ وہ جواب دیں گے کیوں نہیں خدا کی قسم یہ سب کچھ برحق ہے۔ پھر انہیں عذاب میں مبتلا کردیا جائیگا اور ان سے کہا جائیگا کہ اپنے کفر و شرک کی وجہ سے آج عذاب چکھو۔
Ayah 6:31

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

تباہ ہوئے وہ لوگ35 جنہوں نے جھوٹ جانا ملنا اللہ کا یہاں تک کہ جب آپہنچے گی ان پر قیامت اچانک تو کہیں گے اے افسوس کیسی کوتاہی ہم نے اس میں کی اور وہ اٹھاویں گے اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر خبردار ہوجاؤ کہ برا بوجھ ہے جو وہ اٹھاویں گے

35 یہ تخویف اخروی ہے ان کے لیے جو اللہ کی بقا یعنی قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ یٰحَسْرَتَنَا الخ یہاں بھی حرف نداء اظہار تاسف کے لیے ہے مَافَرَّطْنَا میں مَا مصدریہ ہے ای علی تفریطنا قیامت کے دن مشرکین کہیں گے کہ دنیا میں ایمان و عمل میں کوتاہی کرنے پر ہمیں سخت افسوس ہے۔ اَوْزَارَھُمْ یہ وِزْرٌ کی جمع ہے جس کے معنی بوجھ کے ہیں اور اس سے مراد مشرکانہ اعمال ہیں۔
Ayah 6:32

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

اور نہیں ہے زندگانی36 دنیا کی مگر کھیل اور جی بہلانا اور آخرت کا گھر بہتر ہے پرہیزگاروں کے لئے37 کیا تم نہیں سمجھتے

36 مشرکین چونکہ دنیا کی دولت اور شان و شوکت پر مغرور ہو کر حق کا انکار کرتے تھے اس لیے ان کی اصلاح کے لیے دنیا کی بےثباتی اور اس کے ساز و سامان کی حقارت اور قلت کا ذکر فرمایا کہ جس دنیا پر تم اس قدر مغرور ہو کر اس کی وجہ سے حق کا انکار کر رہے وہ تو چند روزہ نمائش ہے اور آخرت کے مقابلے میں بالکل ہیچ ہے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے۔ (1) لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِی الْبِلَاد (ال عمران ع 3) (2) فَلَا یَغُرَّنَّکَ تَقُلُّبُھُمْ فِی الْبِلَاد (مومن ع 1) ۔ ان دونوں آیتوں میں تقلب مصدر قلت و حقارت کیلئے ہے۔ (3) وَاضْرِبْ لَھُمْ مَّثَلَ الْحَیٰۃِ الدُّنْیَا کَمَآءٍ اَنْزَلْنٰہُ الایۃ (کہف ع 6) ۔ (4) اِعْلَمُوْا اَنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَھْوٌ وَّ زِینَۃٌ (حدید ع 3) ۔ تیسری آیت میں دنیا کی تمثیل اور چوتھی آیت میں لھو ولعب کے الفاظ بھی قلت و حقارت پر دلالت کرتے ہیں۔ 37 اس کا مفعول الشرک مقدر ہے ای یتقون الشرک (خازن ج 2 ص 207 وجلالین) جو لوگ شرک سے بچتے ہیں اور نیک اعمال بجا لاتے ہیں آخرت میں انہی کے لیے بہتری اور بھلائی ہے۔
Ayah 6:33

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

ہم کو38 معلوم ہے کہ تجھ کو غم میں ڈالتی ہیں ان کی باتیں سو وہ تجھ کو نہیں جھٹلاتے لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں

38 یہ آنحضرت ﷺ کے لیے نہایت محبت آمیز انداز میں تسلی ہے۔ حضور ﷺ لوگوں پر نہایت شفیق اور مہربان تھے۔ اور آپ کی آرزو تھی کہ سب لوگ ایمان لے ئ آئیں اور جہنم کی آگ سے بچ جائیں مگر معاندین ماننے کے بجائے الٹے نہ صرف آپ کی تکذیب کرتے بلکہ آپ سے استہزاء کرتے اور تکلیفیں دینے کی کوششیں کرتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی اور فرمایا کہ ہمیں خوب معلوم ہے کہ مشرکین کی تکذیب اور ایذا کی باتیں آپ کو غم میں ڈال رہی ہیں لیکن آپ غم نہ کریں یہ ظالم آپ کو نہیں جھوٹا کہتے آپ کو تو اب بھی صادق و امین سمجھتے ہیں لیکن محض ضد وعناد کی وجہ سے اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔ ایک دفعہ اخنس بن شریق اور ابو جہل کہیں تنہائی میں ملے تو اخنس نے ابو جہل سے کہا کہ اس وقت ہم دونوں کے سوا یہاں اور کوئی نہیں، سچ بتاؤ کہ محمد ﷺ سچا ہے یا جھوٹا۔ ابو جہل نے خدا کی قسم کھا کر کہا کہ محمد نے کبھی جھوٹ نہیں بولا وہ سچا ہے لیکن بات یہ ہے کہ جب تمام اعزازات تو اس کا خاندان لے گیا تو باقی ہمارے حصہ میں پھر کیا رہ گیا اس لیے ہم اس کی نبوت کو کس طرح مان لیں فقال ابو جھل ویحک واللہ ان محمدا لصادق و ما کذب محمد قط و لکن اذا ذھبت بنو قصی باللواء والسقایۃ والحجابۃ والنبوۃ فماذا یکون لسائر قریش (ابن کثیر ج 2 ص 130) ۔
Ayah 6:34

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور جھٹلائے گئے ہیں39 بہت سے رسول تجھ سے پہلے پس صبر کرتے رہے جھٹلانے پر اور ایذا پر یہاں تک کہ پہنچی ان کو مدد ہماری اور کوئی نہیں بدل سکتا اللہ کی باتیں اور تجھ کو پہنچ چکے ہیں کچھ حالات رسولوں کے

39 یہ بھی ماقبل ہی کا حصہ ہے۔ یعنی آپ سے پہلے جو پیغمبر گذرے ہیں ان کی بھی اسی طرح ان کی قوموں نے تکذیب کی اور انہیں تکلیفیں دیں تو انہوں نے صبر کیا اور اپنے فرض تبلیغ کی ادائیگی میں لگے رہے یہاں تک کہ ہماری مدد آپہنچی اور ان کے دشمنوں کو ہلاک کردیا گیا۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ اپنے انبیاء کی مدد کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے۔
Ayah 6:35

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور اگر40 تجھ پر گراں ہے ان کا منہ پھیرنا تو اگر تجھ سے ہو سکے کہ ڈھونڈھ نکالے کوئی سرنگ زمین میں یا کوئی سیٹرھی آسمان میں پھر لاوے ان کے پاس ایک معجزہ اور اگر اللہ چاہتا تو41 جمع کردیتا سب کو سیدھی راہ پر سو تو مت ہو نادانوں میں

40 یہ زجر ہے مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ آپ مطالبات دکھا دیں تو ہم ایمان لے آئیں گے اور حضور ﷺ کے دل میں بھی یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر ان کے مطلوبہ معجزات ان کو دکھا دئیے جائیں تو شاید وہ ایمان لے آئیں اور اعراض نہ کریں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر مشرکین کا اعراض آپ سے اور قرآن سے محض معجزات نہ ملنے کی وجہ سے ہے اور ان کا اعراض آپ کو ناگوار ہے تو آپ ان کو معجزات دکھلا دیں اور اگر آپ میں طاقت ہے تو آپ زمین میں سوراخ کر کے یا آسمان پر سیڑھی لگا کردکھائیں کوئی معجزہ آپ کے قبضے میں نہیں جیسا کہ فرمایا۔ اِنَّمَا الْاٰ یٰتُ عِنْدَ اللہِ نیز فرمایا وَمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاتِیَ بِاٰیۃٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللہ (مومن ع 8) 41 ای ولکن لیبلوکم بقرینہ سورة مائدہ۔ یعنی آپ یہ خیال چھوڑ دیں کہ یہ سب لوگ ایمان لے آئیں۔ اگر یہ بات اللہ کو منظور ہوتی تو وہ جبراً تمام لوگوں کو ہدایت پر جمع کردیتا مگر اس نے ایسا اس لیے نہیں کیا تاکہ ہر شخص کی آزمائش ہوجائے اور ہر آدمی سوچ سمجھ کر راہ اختیار کرے
Ayah 6:36

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

مانتے وہی ہیں42 جو سنتے ہیں اور مردوں کو زندہ کرے گا اللہ پھر اس کی طرف لائے جاویں گے

42 یَسْمَعُوْنَ کے معنی یُنِیْبُوْنَ کے ہیں یعنی صرف وہی لوگ حق کو قبول کرتے ہیں جن کے دلوں میں اللہ کی طرف رغبت ہو بقرینہ وَ مَا یَتَذَّکَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ (مومن ع 2) اور الموتی (مردے) سے یہاں کفار و مشرکین مراد ہیں کیونکہ ان کے ایمان و توحید سے خالی ہونے کی وجہ سے مردہ اور بےجان ہیں۔ والموتی ای الکفار کما قال الحسن ورواہ عنہ غیر واحد وفی اطلاق الموتی علی الکفار استعارۃ تبعیۃ مبنیۃ علی تشبیہ کفرھم وجھلھم بالموت (روح ج 7 ص 142)
Ayah 6:37

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کیوں نہیں اتری اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے43 کہہ دے کہ اللہ کو قدرت ہے اس بات پر کہ اتارے نشانی لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے

43 یہ شکوہ اور سوال ہے۔ مشرکین کہتے تھے کہ ہمیں کوئی ایسی نشانی کیوں نہیں دکھائی جاتی جسے دیکھ کر ہم مان لیں۔ اَللہُ قَادِرٌ الخ سے اس کا جواب دیا گیا کہ معجزہ دکھانے پر تو اللہ تعالیٰ قادر ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ اگر منہ مانگے معجزے کا انکار کیا جائے تو فوراً ہلاکت آجاتی ہے اور مہلت نہیں ملتی۔ اس لیے بندوں کی خیر خواہی اور بہتری اسی میں ہے کہ ان کا مطلوبہ معجزہ نہ دکھایا جائے۔ قال ابن عطیۃ لا یعلمون انھا لو انزلت ولم یومنوا لعوجلوا بالعذاب (بحر ج 4 ص 11) ۔
Ayah 6:38

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور نہیں ہے کوئی چلنے والاف 44 زمین میں اور نہ کوئی پرندہ کہ اڑتا ہے اپنے بازوؤں سے مگر ہر ایک امت ہے تمہاری طرح ہم نے نہیں چھوڑی لکھنے میں کوئی چیز پھر سب اپنے رب کے سامنے جمع ہوں گے45

44 یہ توحید پر پانچویں دلیل عقلی ہے۔ دابۃ کے بعد فی الارض اور طائر بعد یَطِیْرُ بِجَنَاحِیَہِ صفات کاشفہ ہیں یعنی تمہارے علاوہ باقی تمام جاندار مخلوق بھی تمہاری طرح مختلف جماعتیں ہیں اور تمہاری طرح محتاج اور ضرورت مند ہیں ان سب کا رازق اور متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے دوسرا کوئی نہیں مَا فَرَّطْنَا فِیْ الْکِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ۔ معتزلہ کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لکھنے میں تفریط نہیں کر رہے اور کتاب سے مراد فرشتوں کے دفتر ہیں۔ اب یہ تخویف اخروی ہوگی اور اہل سنت کے نزدیک کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے۔ عن الحسن و قتادۃ ان المراد بالکتاب الکتاب الذی عند اللہ تعالیٰ وھو مشتمل علی ما کان و ما یکون وھو اللوح المحفوظ (روح ج 7 ص 14) اسی طرح شاہ عبداقادر صاحب (رح) نے لکھا ہے۔ 45 یہ بھی تخویف اخروی ہے۔ پہلے جانوروں اور پرندوں کے ذکر سے وہم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن انسانوں کے ساتھ ان کا بھی حشر ہوگا لیکن ایسا نہیں۔ یہاں صرف انسانوں کا حشر مراد ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے جو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یقتص للجماء من القرناء تو یہ حقیقت پر محمول نہیں بلکہ یہ اس سے کنایہ ہے کہ ظالم سے مظلوم کا بدلہ لیا جائیگا اور اگر بالفرض جانوروں کا حشر مراد لیا جائے تو ان کے حشر سے مراد موت ہوگی نہ کہ جزا وسزا جیسا کہ جامع البیان میں حضرت عبداللہ بن عابس سے منقول ہے۔ حشر کل شیءٍ الموت سوی الجن والانس (ص 504) تحت قولہ واذ الوحوش حشرت۔
Ayah 6:39

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور جو جھٹلاتے ہیں ہماری آیتوں کو46 وہ بہرے اور گونگے ہیں اندھیروں میں جس کو چاہے اللہ گمراہ کرے اور جس کو چاہے ڈال دے سیدھی راہ پر

46 یہ تکذیب کرنے والوں کے لیے زجر ہے۔ یعنی جو لوگ ضد وعناد کی وجہ سے آیات الٰہی کو جھٹلاتے ہیں ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ جاتی ہے اور وہ کفر و شرک کے اندھیروں میں سرگرداں پھرتے ہیں نہ حق سن سکتے ہیں اور نہ حق بات کہہ سکتے ہیں۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ جب منکرین ضد وعناد کی وجہ سے حق کا انکار کرتے ہیں تو حق تعالیٰ ان سے فہم کی استعداد سلب کرلیتا ہے اور ان کے دلون پر مہر جباریت ثبت کردیتا ہے لیکن جسے چاہتا ہے یعنی جو لوگ انابت کرتے ہیں تو ان کو قبول حق کی استعداد عطا فرما دیتا ہے۔
Ayah 6:40

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

تو کہہ دیکھو47 تو اگر آوے تم پر عذاب اللہ کا یا آوے تم پر قیامت کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے بتاؤ اگر تم سچے ہو

47 یہ توحید پر چھٹی عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ امام فراء کہتے ہیں کہ اَرَءَیْتَ دو معنوں میں مستعمل ہے اول رویت عین۔ دوم بمعنی اَخْبِرْنِیْ مثلاً کہا جاتا ہے اَرَاَیْتَکَ ای اخبرنی۔ اس صورت میں ضمیرثانی خواہ واحد ہی کی ہو (ک) یا تثنیہ (کما) اور جمع (کم) کی ہواعراب میں اس کا کوئی مقام نہیں ہوتا (اور اس کی حیثیت محض ایک حرف کی ہوتی ہے جو مخاطب کی حالت افراد اور تثنیہ و جمع کا اظہار کرتا ہے) (من الکبیر ج 4 ص 63) علامہ رضی لکھتے ہیں کہ یہاں رویت بصری ہے یا قلبی اور ارایت بمعنی ابصرت ہے یا بمعنی عرفت اور صرف ایک مفعول کو چاہتا ہے ( جو یہاں حالکم محذوف ہے) اور مجازاً اخبرنی (مجھے بتا) کے معنی میں مستعمل ہے اور ہمیشہ عجیبہ حالت سے استفسار کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ ذھب الرضی تبعا لغیرہ ان رای ھنا بصریۃ وقیل قلبیۃ بمعنی عرف وھی علی القولین متعد لواحد اصل اللفظ الاستفہام عن العلم و العرفان او الابصار الا انہ تجوز بہ عن معنی اخبرنی ولا یستعمل الا فی الاستخبار عن حالۃ عجیبۃ لشیء (روح ج 7 ص 148) اس کے بعد استفہام کا ہونا ضروری ہے خواہ مذکور ہو خواہ مقدر یہاں مذکور ہے یعنی اَ غَیْرَ اللہِ مطلب یہ ہے کہحضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ مشرکین سے فرمائیں مجھے بتاؤ اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائے یا قیامت آپہنچے تو کیا پھر بھی تم غیر اللہ ہی کو پکارو گے۔ بَلْ اِیَّاہُ ۔ یہ اس کا جواب ہے یعنی اس وقت تم غیرا للہ کو نہیں پکاروگے بلکہ اللہ کے سوا تم جن معبودوں کو پکارتے ہو ان سب کو بھول جاؤ گے اور صرف ایک اللہ ہی کو پکارو گے تو وہ اگر چاہے گا تو تم سے مصیبت دور فرما دے گا جس کے لیے تم نے اسے پکارا ہے۔ اس مضمون کی مندرجہ ذیل آیتوں سے تائید ہوتی ہے۔ (1) فَاِذَا رَکِبُوْا فِی الْفُلْکَ د۔ عَوُوْا اللھ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّيْنَ (عنکبوت ع 7) ۔ (2) دَعَوُوْا اللھ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ ھٰذِہٖ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْن۔ (3) فَاِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّا اِيَّاہُ (بنی اسرائیل ع 7) مشرکین چونکہ آنحضرت ﷺ سے سنا کرتے تھے کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے اور شرک کو چھوڑ کر توحید کو نہیں مانیں گے تو ان پر اللہ کا عذاب آئے گا اس لیے مشرکین جب دریاؤں اور سمندروں میں اپنی کشتیوں اور جہازوں کو غضب ناک لہروں میں گھرے ہوئے دیکھتے تو گمان کرتے کہ شاید یہ وہی خدا ہے اور فوراً خالص اللہ تعالیٰ کو پکارنا شروع کردیتے۔