6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsجواھر القرآن

Ayah 6:121

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور اس میں سے نہ کھاؤ جس پر133 نام نہیں لیا گیا اللہ کا اور یہ کھانا گناہ ہے اور شیطان دل میں ڈالتے ہیں اپنے رفیقوں کے تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم نے ان کا کہا مانا تو تم بھی مشرک ہوئے

133 جن جانوروں پر خالص اللہ کا نام نہیں لیا گیا انہیں مت کھاؤ یعنی ان کو حلال نہ سمجھو وَاِنَّہٗ لَفِسْقٌ۔ جن جانوروں پر خالص اللہ کا نام نہ لیا جائے بلکہ غیر اللہ کا نام لیا جائے ان کو حلال جاننا فسق اور کفر ہے۔ فسق سے اس کا کامل درجہ یعنی کفر مراد ہے وَاِنَّ الشَّیٰطِیْنَ ای من الجن والانس۔ یعنی شیاطین جن وانس اپنے ماننے والوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے اور ان کو مشرکانہ افعال کی ترغیب دیتے ہیں۔ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْھُم اگر تم نے اے جماعت مومنین ان کی بات مان لی اور تحریمات لغیر اللہ کو حرام اور نذور غیر اللہ کو حلال جاننے لگے جیسا کہ وہ کہتے ہیں تو یاد رکھو پھر تم بھی ان جیسے مشرک ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے محرمات کو حلال جاننا اور اس کے حلال کو حرام جانا بھی شرک ہے۔ قال الزجاج فیہ دلیل علی ان کل من احد شیئا مما حرم اللہ او حرم شیئا مما احل اللہ تعالیٰ فھو مشرک الخ (کبیر ج 4 ص 203) ۔
Ayahs 6:122–123

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

بھلا ایک شخص جو کہ134 مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کردیا اور ہم نے اس کو دی روشنی کہ لیے پھرتا ہے اس کو لوگوں میں برابر ہوسکتا ہے اس کے کہ جس کا حال یہ ہے کہ پڑا ہے اندھیروں میں وہاں سے نکل نہیں سکتا اسی طرح مزین کر دئیے کافروں کی نگاہ135 میں ان کے کام

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور اسی طرح کیے ہیں ہم نے ہر بستی میں گناہ گاروں کے سردار کہ حیلے کیا کریں وہاں اور جو حیلے کرتے ہیں سو اپنی ہی جان پر اور نہیں سوچتے

134 بشارت مع تخویف۔ یہ مومن و کافر اور موحد و مشرک کی تمثیل ہے۔ کفر وشرک کو موت اور ظلمت سے ور ایمان و توحید کو حیات اور نور سے تشبیہ دی یعنی جو شخص پہلے کافر و مشرک تھا اللہ نے اس کے مردہ دل کو زندگی عطا فرمائی اور اسے ایمان کی توفیق دے کر ہدایت کی روشنی عطا کی وہ اس شخص کی مانند نہیں ہوسکتا جو کفر شرک کے اندھیروں میں گھرا ہوا ہے اور ایمان کی توفیق اور ہدایت کی روشنی سے محروم ہے کَذٰلِکَ زُیِّنَ الخ یہ انکار کی چوتھی وجہ کا اعادہ ہے۔ 135 یہ نہ ماننے کی چھٹی وجہ ہے۔ اَکٰبِرَ جَعلْنَا کا مفعول اول اور مُجْرِمِیْھَا مفعول ثانی یا برعکس لِیَمْکُرُوْا لام عاقبت یعنی ہر بستی کے بڑے بڑے لوگ مجرم ہوتے ہیں اور دین حق کے خلاف مکر و فریب کی چالیں سوچتے اور لوگوں کو قبول حق سے روکتے رہتے ہیں۔ وَمَا یَمکُرُوْنَ الخ مکر و فریب کا وبال خود ان کی اپنی جانوں پر پڑے گا۔ اس سے وہ دین کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے یعنی ما یحیق ھذا المکر الا بھم لان وبال مکرھم یعود علیھم (خازن ج 2 ص 148) ۔
Ayah 6:124

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب آتی ہے ان کے پاس136 کوئی آیت تو کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ مانیں گے جب تک کہ نہ دیا جاوے ہم کو جیسا کچھ کہ دیا گیا ہے اللہ کے رسولوں کو اللہ خوب جانتا ہے اس موقع کو کہ جہاں بھیجے اپنے پیغام عنقریب پہنچے گی گناہ گاروں137 کو ذلت اللہ کے ہاں اور عذاب سخت اس وجہ سے کہ وہ مکر کرتے تھے

136 یہ شکوی ہے جب ان کو کوئی معجزہ دکھایا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہمیں وہ معجزات نہ دکھائے جائیں جو پہلے رسولوں نے دکھائے تھے۔ اَللہُ اَعْلَمُ الخ جواب شکوی۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کو یہ بات معلوم ہے کہ مرتبہ رسالت کی اہلیت کس شخص میں ہے اسی طرح اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ کونسا اور کس قسم کا معجزہ کس موقع کے مناسب ہے اور وہ اپنی حکمت بالغہ کے مطابق معجزات کا اظہار فرماتا ہے۔ تمہاری خواہشات کا پابند نہیں۔ حصن حصین میں ہے کہ یہ تمام قبولیت دعاء کا ہے جب تلاوت کنندہ اس آیت پر پہنچے تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی حاجت کے لیے دعا مانگے۔ 137 یہ تخویف اخروی ہے صَغَارٌ۔ ذلت اور رسوائی۔ بِمَا کَانُوْا یَمْکُرُوْنَ با سببیہ ہے یعنی یہ سزا ان کو دین اسلام کے خلاف مکر و فریب کے جال بچھا کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی وجہ سے ملے گی۔
Ayah 6:125

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

سو جس کو اللہ چاہتا ہے138 کہ ہدایت کرے تو کھول دیتا ہے اس کے سینہ کو واسطے قبول کرنے اسلام کے اور جس کو چاہتا ہے کہ گمراہ کرے کردیتا ہے اس کے سینہ کو تنگ بےنہایت تنگ گویا وہ زور سے چڑھتا ہے آسمان پر اسی طرح ڈالے گا اللہ عذاب کو ایمان نہ لانے والوں پر

138 ہدایت اور گمراہی اللہ کے اختیار میں ہے جسے وہ ہدایت دینا چاہے اس کے سینے میں وسعت پیدا کردیتا ہے اور اسے قبول حق کی توفیق عطا کردیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہے اس کا سینہ تنگ کردیتا ہے اور اس سے قبول حق کی توفیق سلب کرلیتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ اس کے قانون تکوینی کے مطابق ہوتا ہے۔ وہ منیبین کو ہدایت دیتا ہے اور معاندین کو گمراہ کرتا ہے۔ ضد وعناد کی وجہ سے ان کے دلوں میں قبول حق کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔
Ayah 6:126

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

اور یہ ہے139 راستہ تیرے رب کا سیدھا ہم نے واضح کردیا نشانیوں کو غور کرنے والوں کے واسطے

139: یہ مذکورہ بیان کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی تحریمات غیر اللہ کی نذور کو حرام جاننا شرک اعتقادی اور شرک فعلی سے اجتناب کرنا یہ تمام چیزیں ہی صراط مستقیم اور یہی اللہ کا دین ہے جو اس نے مقرر فرمایا ہے ای ھذا لادین الذی شرعناہ لک یا محمد بما اوحینا الیک ھذا القراٰن ھو صراط اللہ المستقیم الخ (ابن کثیر ص 175 ج 2) ۔
Ayah 6:127

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

انہی کے لئے ہے140 سلامتی کا گھر اپنے رب کے ہاں اور وہ ان کا مددگار ہے بسبب ان کے اعمال کے

140:۔ بشارت اخروی ہے ضمیر مجرور قوم یذکرون کی طرف راجع ہے۔ یعنی جو لوگ اللہ کی آیتوں سے نصیحت حاصل کرتے اور ان کے مطابق عمل کرتے ہیں آخرت میں ان کے لیے سلامتی اور امن ہے اور یہ ان کے اعمال صالحہ کی جزاء ہوگی۔
Ayah 6:128

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور جس دن141 جمع کرے گا ان سب کو فرمائے گا اے جماعت جنات کی تم نے بہت کچھ تابع کرلیے اپنے آدمیوں میں سے اور کہیں گے ان کے دوستدار آدمیوں میں سے اے رب ہمارے کام نکالا ہم نے ایک نے دوسرے سے اور ہم پہنچے اپنے اس وعدہ کو جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا فرماوے گا آگ ہے گھر تمہارا رہا کرو گے اسی میں مگر جب چاہے اللہ142 البتہ تیرا رب حکمت والا خبردار ہے

141:۔ یہ تخویف اخروی ہے یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ اس سے پہلے یَقُوْلُ مقدر ہے اِسْتَکْثَرْتُمْ مَّنَ الْاِنْسِ تم نے بہت سے انسانوں کو اپنے تابع کرلیا اور بہت سوں کو گمراہ کیا اَوْلِیَاءُھُمْ مِّنَ الْاِنسِ ضمیر مجرور الجن کی طرف راجع ہے اور اولیاء سے مراد متبعین ہے وقال اولیاء الجن ای الکفار من الانس (بحر ج 4 ص 220) ای الذین اطاعوھم واتبعوھم (روح ص 25 ج 8) ۔ جن لوگوں نے دنیا میں شیاطین کی پیروی کی وہ اظہار ندامت اور اعترافِ جرم کے طور پر کہیں گے اے اللہ بیشک ہم ایک دوسرے سے (یعنی جن انسانوں سے اور انسان جنوں سے) فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور آج اس میعاد پر آپہنچے ہیں جو تو نے مقرر کر رکھی تھی یعنی قیامت۔ ایک دوسرے سے فرائدہ اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں بعض مشرک جنوں کی پناہ ڈھونڈتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ وہ جنوں کی پناہ میں محفوظ ہوجاتے ہیں۔ اور دوسری طرف جنوں کو یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ انسانوں کی نظروں میں معظم و مقدس ہوجاتے ہیں۔ عن الحسن وابن جریج والزجاج وغیرھم ان استمتاع الانس بھم انھم کانوا اذا سافر احدھم و خاف الجن قالوا اعوذ بسید ھذا الوادی واستمتاعھم بالانس اعترافھم بانھم قادرون علی اعاذتھم واجارتھم (روح) قال ابن عباس ایضا ومقاتل استمتاع الانس بالجن قال بعضہم اعوذ بعظیم ھذا الوادی من شر اھلہ اذا بات بالوادی فی سفرہ واستمتاع الجن والانس افتخارھم علی قومھم وقولھم قد سدنا الانس حتی صاروا یعوذون بنا (بحر) ۔ 142 یہ ماقبل سے استثناء ہے اور اس سے معلوم ہوا ہے کہ مشرکین کو کبھی دوزخ سے باہر نکالا جائے گا اور اس سے مراد وہ وقفہ ہے جن ان کو ماء حمیم (گرم پانی) پلانے کے لیے باہر لایا جائے گا۔ یا جب ان کو طبقہ زمہریر یہ میں داخل کیا جائے گا۔ (روح) یا کوئی اور عذاب دیا جائے گا۔ جیسا کہ فرمایا سَاُرْھِقُہٗ صَعُوْدًا (روح) کذا قال اشیخ قدس سرہ۔
Ayah 6:129

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم ساتھ ملاویں گے143 گناہ گاروں کو ایک کو دوسرے سے ان کے اعمال کے سبب

143 نہ ماننے کی ساتویں وجہ۔ یعنی بوجہ شرک تمام مشرکین ایک دوسرے کے دوست بن جاتے ہیں اور دعویٰ توحید کو قبول نہیں کرتے۔ جیسا کہ سورة عنکبوت ع 3 میں ہے اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ اَوْثَانًا مَوَدَّۃً بَیْنَکُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا جس طرح مشرک پیر کے مرید باہم پیر بھائی ہوتے ہیں اور اہل توحید کی بات نہیں مانتے۔
Ayah 6:130

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے جماعت جنوں144 کی اور انسانوں کی کیا نہیں پہنچے تھے تمہارے پاس رسول تمہی میں سے کہ سناتے تھے تم کو میرے حکم اور ڈراتے تھے تم کو اس دن کے پیش آنے سے کہیں گے کہ ہم نے اقرار کرلیا اپنے گناہ کا اور ان کو دھوکا دیا دنیا کی زندگی نے اور قائل ہوگئے اپنے اوپر اس بات کے کہ وہ کافر تھے

144 تخویف اخروی ہے اور اس سے قبل یُقَالُ لَھُمْ مقدر ہے۔ یعنی قیامت کے دن ان سے یہ کہا جائے گا قَالُوْا شَھِدْنَا عَلیٰ اَنْفُسِنَا یہ کفار جن و انس کی طرف سے اعتراف ہوگا کہ بلاشبہ ان کے پاس اللہ کے رسول آئے مگر وہ دنیوی عیش میں منہمک اور ظاہری شان و شوکت پر مغرور ہوگئے اور اللہ کے رسولوں کا انکار کردیا۔
Ayah 6:131

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

یہ اس واسطے کہ تیرا145 رب ہلاک کرنے والا نہیں بستیوں کو ان کے ظلم پر اور وہاں کے لوگ بیخبر ہوں

145 اشارہ مضمون مذکور کی جانب ہے یعنی ہم اپنی آیتیں بیان کرنے والے، ڈر سنانے والے اور خوشخبری دینے والے رسولوں کو اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ لوگوں پر ہماری حجت قائم ہوجائے اور یہ بات ہمارے دستور کے خلاف ہے کہ لوگ ہمارے احکام سے بیخبر ہوں اور ان کے پاس کوئی رسول نہ بھیجا ہو۔ اور پھر ان کو ہلاک کردیا جائے۔ ای لایھلکھم حتی یبعث الیھم رسولا (بحر ج 4 س 224) ۔
Ayah 6:132

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور ہر ایک146 کے لئے درجے ہیں ان کے عمل کے اور تیرا رب بیخبر نہیں ان کے کام سے

146 لِکُلٍّ کی تنوین مضاف الیہ محذوف سے عوض ہے اصل میں تھا لکل عامل بطاعۃ اللہ او بمعصیتہ درجات ای منازل یبلغھا بعملہ ان کان خیرا فخیر وانکان شرا فشر (خازن ج 2 ص 153) ۔ یعنی ہر مومن و کافر کو اس کے اعمال کے مطابق درجہ ملے گا۔ جس طرح مومن و کافر کے درجات میں تفاوت ہے اسی طرح مومنوں اور کافروں کے درجات میں بھی کثرت وقلت حسنات و سیئات کے اعتبار سے تفاوت ہوگا۔
Ayahs 6:133–134

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور تیرا رب بےپروا147 ہے رحمت والا اگر چاہے تو تم کو لے جاوے اور تمہارے پیچھے قائم کر دے جس کو چاہے جیسا تم کو پیدا کیا اوروں کی اولاد سے

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور آنے والا ہے اور تم عاجز نہیں کرسکتے

147 یہ تخویف دنیوی ہے۔ یہاں اگر کسی کے دل میں یہ اشکال پیدا ہو کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت اور صفت عذاب دونوں کو کیوں جمع کردیا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی دونوں صفتوں کو بیان کرنا مقصود ہے کہ بیشک اللہ رحیم اور مہربان ہے۔ لیکن نافرمانوں کو عذاب دینے پر بھی قادر ہے۔ تائید وَھُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ ذوْ الْعَرْشِ الْمَجِیْد فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ۔ تم نہیں مانو گے تو وہ تمہیں ہلاک کردے گا اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو آباد کردے گا جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی جگہ تم کو دی۔ اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ الخ تمہیں جس چیز (عذاب یا قیامت) کا وعدہ دیا جارہا ہے وہ آخر رہے گی۔ اللہ کے وعدے میں ہرگز تخلف نہیں ہوگا۔ اور نہ تم ہی اس کو روکنے کی قدرت اور طاقت رکھتے ہو۔
Ayah 6:135

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

تو کہہ دے اے لوگو148 تم کام کرتے رہو اپنی جگہ پر میں بھی کام کرتا ہوں سو عنقریب جان لو گے تم کہ کس کو ملتا ہے عاقبت کا گھر بالیقین بھلا نہ ہوگا ظالموں کا

148:۔ یہاں اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْن تک تخویف اخروی ہے۔
Ayah 6:136

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور ٹھہراتے ہیں اللہ149 کا اس کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور مواشی میں ایک حصہ پھر کہتے ہیں یہ حصہ اللہ کا ہے اپنے خیال میں اور یہ ہمارے شریکوں کا ہے سو جو حصہ150 ان کے شریکوں کا ہے وہ تو نہیں پہنچتا اللہ کی طرف اور جو اللہ کا ہے وہ پہنچ جاتا ہے ان کے شریکوں کی طرف کیا ہی برا انصاف کرتے ہیں

149 یہ غیر اللہ کی نذر ونیاز کا دوسری بار ذکر ہے پہلے قَدْ فَصَّلَ الخ میں اجمالاً ذکر کیا یہاں قدرے تفصیل سے ذکر فرمایا یعنی مشرکین نہ صرف چوپایوں ہی کو غیر اللہ کا حصہ نکالتے ہیں بلکہ وہ غلوں اور پھلوں سے بھی غیر اللہ کی نذر و نیاز مقرر کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ صرف وہی جانور حرام نہیں جسے غیر اللہ کی تعظیم کیلئے ذبح کیا جائے بلکہ وہ بھی حرام ہے جو زندہ غیر اللہ کی نذر و نیاز کے طور پر دیدیا جائے۔ مشرکین زمین کی پیداوار سے اور جانوروں سے اپنے معبودوں کی نیاز کے سے معین کردیتے تھے ور ساتھ اللہ کا حصہ بھی متعین کرتے تھے۔ 150:۔ اپنے معبودانِ باطلہ کی نذر و نیاز کے حصوں کو اللہ کی نذر کے مصارف میں خرچ نہیں کرتے تھے لیکن اللہ کی نذروں کو اپنے معبودوں کی نذروں کے مصارف میں خرچ کردیتے تھے۔ ای فما عینوہ لشرکائھم لا یصرف الی الوجوہ التی یصرف الیھا ما عینوہ للہ تعالیٰ وما عینوہ للہ تعالیٰ یصرف الی الوجوہ التی۔
Ayah 6:137

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اور اسی طرح مزین151 کردیا بہت سے مشرکوں کی نگاہ میں ان کی اولاد کے قتل کو ان کے شریکوں نے تاکہ ان کو ہلاک کریں اور رلاملا دیں ان پر ان کے دین کو اور اللہ چاہتا تو یہ کام نہ کرتے سو چھوڑ دے جانیں اور ان کا جھوٹ

151 یہ غیر اللہ کی نذر ونیاز کی ایک تیسری شق کا بیان ہے۔ جس طرح مشرکین پھلوں، غلوں اور چوپایوں سے غیر اللہ کا حصہ نکالتے تھے اسی طرح وہ اپنی اولاد میں سے بھی بعض کو اپنے معبودوں کی نذر کو طور پر ذبح کرتے تھے۔ وقیل انھم کانواینذاحدھم اذا بلغ بنوہ عشرۃ نحر واحد منھم (روح ج 8 ص 32) ۔ شُرَکَاءُھُمْ ۔ زَیَّنَ کا فاعل اور قَتْلَ اَوْلَادِھِمْ اس کا مفعول ہے۔ چونکہ معبودوں سے محبت و عقیدت ان سے یہ کام کراتی تھی اور اسی وجہ سے وہ اس کام کو عبادت سمجھتے تھے اس لیے مجازاً فعل تزیین کو شرکاء کی طرف منسوب کیا گیا۔
Ayahs 6:138–139

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ مواشی152 اور کھیتی ممنوع ہے اس کو کوئی نہ کھاوے مگر جس کو ہم چاہیں ان کے خیال کے موافق اور بعضے مواشی کی پیٹھ پر چڑھنا حرام کیا اور بعض مواشی کے ذبح کے وقت نام نہیں لیتے اللہ کا اللہ پر بہتان باندھ کر عنقریب وہ سزا دے گا ان کو اس جھوٹ کی

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور کہتے ہیں جو بچہ ان مواشی کے پیٹ میں ہے اس کو تو خاص ہمارے مرد ہی کھاویں اور وہ حرام ہے ہماری عورتوں پر اور جو بچہ مردہ ہو تو اس کے کھانے میں سب برابر ہیں وہ سزا دے گا ان کو ان تقریروں کی وہ حکمت والا جاننے والا ہے

152 یہ تحریمات غیر اللہ کا دوسری بار ذکر ہے۔ یہاں باقی ماندہ صورتوں میں سے چار کا ذکر ہے۔ 1 ۔ ھٰذِہٖ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌالخ۔ کچھ چوپایوں اور کھیتوں کو وہ اپنے معبودوں کے لیے مقرر کردیتے تھے اور کہتے تھے انہیں کوئی نہیں کھا سکتا۔ 2 ۔ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُھُوْرُھَا۔ بعض نام زد کرتے تھے ذبح کے وقت ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ 3 ۔ وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْکُرُوْنَ اسْمَ اللہِ عَلَیْھَا۔ جن چوپایوں کو وہ غیر اللہ کے لیے نامزد کرتے تھے ذبح کے وقت ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ 4 ۔ وَ قَالُوْا مَافِیْ بُطُوْنِ ھٰذِہٖ الاَْنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوْرِنَا الخ۔ بحائر وسوائب کے بارے میں وہ یہ فیصلہ کردیتے تھے کہ ان کے پیٹ کا بچہ اگر زندہ پید اہو تو مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام ہوگا اور اگر مردہ پیدا ہو تو دونوں جنسوں کے لیے حلال ہوگا۔ مشرکین کا عقیدہ تھا کہ ان معبودوں کے لیے تحری میں کرنے سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے کہ ہم نے اس کے برگزیدہ بندوں کی تعظیم کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس فعل کو اپنی ذات مقدسہ پر افتراء قرار دیا۔ اور اس اختراء پر ان کو تخویف اخروی سنائی۔
Ayah 6:140

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

بیشک خراب ہوئے153 جنہوں نے قتل کیا اپنی اولاد کو نادانی سے بغیر سمجھے اور حرام ٹھہرا لیا اس رزق کو جو اللہ نے ان کو دیا بہتان باندھ کر اللہ پر بیشک وہ گمراہ ہوئے اور نہ آئے سیدھی راہ پر

153 اس آیت میں بالاختصار دونوں مضمونوں کا اعادہ کیا گیا ہے۔ قَتَلُوْا اَوْلَادَھُمْ سَفَہًا بِغَیْرِ عِلْمٍ ۔ میں نذر غیر اللہ کا اور وَحَرَّمُوْا مَا رَزَقَھُمُ اللہُ میں تحریمات غیر اللہ کا اِفْتِرَآءً مصدر بمعنی اسم فاعل حَرَّمُوْا کے فاعل سے حال واقع ہے۔ اس آیت میں نذر غیر اللہ کا اور تحریمات غیر اللہ کا تیسری بار ذکر ہے۔
Ayah 6:141

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

اور اسی نے پیدا کئے154 باغ جو ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں اور جو ٹٹیوں پر نہیں چڑھائے جاتے اور کھجور کے درخت اور کھیتی کہ مختلف ہیں ان کے پھل اور پیدا کیا زیتون کو اور انار کو ایک دوسرے کے مشابہ اور جدا جدا بھی کھاؤ ان کے پھل میں سے جس وقت پھل لاویں اور ادا کرو155 ان کا حق جس دن ان کو کاٹو اور بےجا خرچ نہ کرو اس کو خوش نہیں آتے بیجا خرچ کرنے والے

154:۔ یہ نذر غیر اللہ کا چوتھی بار ذکر ہے یہاں اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ تک غلوں، پھلوں اور میووں کی مختلف انواع و اقسام کا ذکر کرے کے فرمایا ان سے خالص اللہ کا حق ادا کرو اور ان میں غیر اللہ کی نذرو نیاز مت دو ۔ مَعْرُوْشَاتٍ وَّ غَیْڑَ مَعْرُوْشَاتٍ ۔ بعض مفسرین نے ان دونوں صفتوں کو انگور سے متعلق کیا ہے یعنی بعض انگور ایسے ہیں جن کے لیے لکڑی کے عریش (چھپر) بنا کر ان پر ان کو چڑھا یا جاتا ہے اور بعض ویسے ہی زمین پر پھیل جاتے ہیں۔ بعض کے نزدیک معروشات سے انگور اور دوسری اسی قسم کی بیلیں مراد ہیں جو عریش پر چڑھائی جاتی ہیں اور غیر معروشات سے تناور درخت مراد ہیں۔ مُتَشَابِھًا، غَیْرَ مُتَشَابِہٍ یعنی یہ پھل اور میوے شکل و صورت اور رنگ میں تو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ لیکن ذائقہ میں مختلف ہیں۔ کوئی میٹھا کوئی ترش اور کوئی تلخ۔ متشباھہا فی اللون غیر متشابہ فی الطعم (مدارک ج 2 ص 28) ۔ 155 یعنی مذکورہ بالا اشیاء میں سے اللہ کا حق ادا کرو جو اس نے تم پر فرض کیا ہے۔ واٰتوا حقہ الذی اوجبہ اللہ تعالیٰ (روح) مشرکین زمین کے حاصلات سے اللہ کا حصہ تو پہلے بھی نکالتے تھے جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے۔ وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا الخ۔ اس لیے یہاں مراد یہ ہے۔ اٰتُوْا حَقَّہٗ خَاصَّۃً یعنی زمین کی پیداوار سے صرف اللہ ہی کا حق ادا کرو اور اس میں سے نذر و نیاز صرف اللہ ہی کے نام کی دو وَ لَا تُسْرِفُوْا امام مجاہد اور امام زہری کہتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ خدا کی نافرمانی میں خرچ نہ کرو المعنی لاتنفقوا فی معصیۃ اللہ تعالیٰ (روح ج 8 ص 38) امام مقاتل فرماتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ معبودان باطلہ کو چوپایوں اور زمین کی پیداوار میں شریک نہ کرو یعنی ان سے ان کے نام کی نذریں نیازیں مت دو ۔ قال مقاتل المراد لا تشرکوا الاصنام فی الحرث و الانعام (روح، خازن ج 2 ص 158) ۔
Ayah 6:142

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور پیدا کئے مواشی میں بوجھ اٹھانے والے156 اور زمین سے لگے ہوئے کھاؤ اللہ کے رزق میں سے اور مت چلو شیطان کے قدموں پر وہ تمہارا دشمن ہے صریح

156 حَمُوْلَۃً وَّ فَرْشًا دونوں جَنّٰتٍ پر معطوف ہیں۔ یہ تحریمات غیر اللہ کا چوتھی بار تفصیل سے ذکر ہے۔ حَمُوْلَۃٌ سے وہ چوپائے مراد ہیں جو بوجھ اٹھاتے ہیں اور فرش سے وہ مراد ہیں جنہیں ذبح کے لیے زمین پر گرایا جاتا ہے یا جن کے بالوں سے بنے ہوئے فرش زمین پر بچھائے جاتے ہیں۔ کُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللہُ یعنی ان میں سے جو حلال ہیں انہیں کھاؤ اور زمانہ جاہلیت کی تحریمات کو اٹھاؤ اور اللہ کا شکر بجا لاؤ اور شیطان کی پیروی میں اللہ کی حلال چیزوں کو حرام نہ کرو۔ ای مما احللہ اللہ لکم ولا تحرموا کفعل الجاھلیۃ وھذا نص فی الاباغۃ وازالۃ ما سنہ الکفار من البحیرۃ والسائبۃ (بحر ج 4 ص 239)
Ayah 6:143

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

پیدا کئے آٹھ نر اور مادہ157 بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو پوچھ تو کہ دونوں نر اللہ نے حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ بچہ کہ اس پر مشتمل ہیں بچہ دان دونوں مادہ کے بتلاؤ مجھ کو سند158 اگر تم سچے ہو

157 یہ حَمُوْلَۃً وَّ فَرْشًا سے بدل ہے یہاں حلال چوپایوں کی آٹھ جوڑوں میں تقسیم فرمائی اثنین (دو ) سے ہر جگہ نر و مادہ مراد ہے۔ ضَانٌ سے اس نے نر و مادہ پیدا کیا یعنی دنبہ اور دنبی۔ مینڈا اور بھیڑ بھی یہاں اسی میں داخل ہے۔ اور ایک جوڑا معز کا پیدا فرمایا یعنی بکر اور بکری۔ قُلْ ءٰ الذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ الخ استفہام انکار و توبیخ کے لیے ہے (بحر) اور اس میں مشرکین سے اس خود ساختہ تحریم پر دلیل عقلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ نے یہ دونوں جوڑے تمہارے انتفاع کے لیے پیدا فرمائے ہیں اب تم بتاؤ کہ تم نے ان کے نر و مادہ اور مادہ کے پیٹ کے بچے کے بارے میں اپنی طرف سے حلت و حرمت کے جو احکام و ضع کر رکھے ہیں یہ تم نے کہاں سے اخذ کیے ہیں۔ ان کی تمہارے پاس کیا دلیل ہے کیا اللہ نے ان جوڑوں کے نروں کو حرام کیا ہے یا ماداؤں کو یا ان بچوں کو جو ابھی مادہ جانوروں کے رحموں ہی میں ہیں۔ اگر کسی جانور کا نر ہونا اس کی حرمت کی علت ہے تو ہر نر جانور حرام ہونا چاہئے اور اگر اس کا مادہ ہونا حرمت کی علت ہے تو اس صورت میں تمام مادہ جانور حرام ہونے چاہئیں اور اگر بچے کا مادہ کے رحم میں ہونا اس کی حرمت کا سبب ہے تو ہر چوپایہ (نر و مادہ) حرام ہونا چاہئے تو اس سے معلوم ہوا کہ ان کی بلا وجہ تحریم محض تسویل شیطان اور تلبیس ابلیس ہے فلو علل بالذکورۃ وجب ان یحرم الذکر او بالانوثۃ فکذلک او باشتمال۔۔۔ وجب ان یحرما لاشتمالھا۔۔۔ (بحر) ۔ 158 عِلْمٍ سے یہاں نقلی دلیل مراد ہے۔ یعنی اگر تمہارے پاس ان مزعومہ تحریمات پر کوئی عقلی دلیل موجود نہیں تو کوئی نقلی دلیل ہی پیش کرو۔ سابقہ انبیاء (علیہم السلام) میں سے کسی کا قول یا گذشتہ کتب سماویہ میں سے کسی کا کوئی حوالہ۔
Ayah 6:144

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور پیدا کئے اونٹ میں سے دو159 اور گائے میں سے دو پوچھ تو دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ بچہ کہ اس پر مشتمل ہیں بچہ دان دونوں مادہ کے کیا تم حاضر تھے160 جس وقت تم کو اللہ نے یہ حکم دیا تھا پھر اس سے زیادہ ظالم کون161 جو بہتان باندھے اللہ پر جھوٹا تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے بلا تحقیق بیشک اللہ ہدایت نہیں کرتا ظالم لوگوں کو

ٖ 159 اسی طرح ابل کا اس نے جوڑا پیدا کیا۔ یعنی اونٹ اونٹنی اور بقر سے ایک جوڑا، بیل اور گائے بھینس اور بھینسا بھی اسی میں داخل ہیں۔ قُلْ ءٰ الذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ الخ اس کی تقریر وہی ہے جو حاشیہ (157) میں گذر چکی ہے۔ 160 اس سے دلیل وحی کی نفی مقصود ہے اور استفہام انکاری ہے یعنی کیا تم بقائمی ہوش و حواس سن رہے تھے جب اللہ نے تم کو اس تحریم کا حکم دیا تھا ؟ مطلب یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوا حاصل یہ کہ ان تحریمات باطلہ کے لیے تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں نہ عقلی ونقلی اور دلیل وحی۔ 161 یہ زجر ہے اور فاء تفریعیہ ہے یعنی جب تمہارے پاس کسی قسم کی کوئی دلیل نہیں تو تم اپنی طرف سے تحری میں کرنے کی وجہ سے اللہ پر افتراء کر رہے ہو اور تم سب سے بڑے ظالم ہو۔ کیونکہ جو شخص لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اپنی طرف سے احکام وضع کر کے خداوند تعالیٰ پر افتراء کرتا ہے وہ سب سے بڑا ظالم اور گنہگار ہے اس سے بڑھ کر کوئی بد کردار نہیں ہوسکتا۔
Ayah 6:145

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

تو کہہ دے کہ میں نہیں162 پاتا اس وحی میں کہ مجھ کو پہنچی ہے کسی چیز کو حرام کھانے والے پر جو اس کو کھاوے مگر یہ کہ وہ چیز مردار ہو یا بہتا ہوا خون یا گوشت سور کا کہ وہ ناپاک ہے یا ناجائز ذبیحہ جس پر نام پکارا جاوے اللہ کے سوا کسی اور کا پھر جو کوئی بھوک سے بےاختیار ہوجاوے نہ نافرمانی کرے اور نہ زیادتی کرے تو تیرا رب بڑا معاف کرنے والا ہے نہایت مہربان

162 یہ نذر غیر اللہ کا پانچویں بار ذکر ہے۔ اس آیت میں نذر غیر اللہ فِسْقًا اُھِلَّ لِغَیْرِ اللہِ بِہٖ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ فِسْقًا کا مضاف محذوف ہے۔ جسے حذف کر کے اس کو اس کے قائم مقام کیا گیا ہے۔ ای ذات فسق اور یہ موصوف کو مقدر کی صفت ہے ای کلمۃ ذات فسق یعنی فسق و معصیت کا وہ کلمہ بھی حرام ہے۔ جس کے ذریعے غیر اللہ کی نذر مانی جائے۔ لہذا نذر غیر اللہ بطریق اولی حرام ہے۔ یہ تفسیر حضرت شیخ قدس سرہ کے قول کے مطابق ہے۔ دیگر مفسرین کے نزدیک اصل میں شیئًا فسقًا ہے اور اس کو عین فسق اس لیے قرار دیا کہ یہ فعل انتہائی فسق اور اللہ کی نافرمانی سے ناشی ہے۔
Ayah 6:146

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور یہود پر163 ہم نے حرام کیا تھا ہر ایک ناخن والا جانور اور گائے اور بکری میں سے حرام کی تھی ان کی چربی مگر جو لگی ہو پشت پر یا انتڑیوں پر یا جو چربی کہ ملی ہو ہڈی کے ساتھ یہ ہم نے ان کو سزا دی تھی ان کی شرارت پر اور ہم سچ کہتے ہیں

163:۔ یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال یہ تھا کہ اگر ان چیزوں کے علاوہ باقی تمام چیزیں حلال ہیں تو ہر ذی ظفر (کھر والا) جانور جس کی انگلیاں پھٹی ہوئی نہ ہوں اور گائے اور بکری کے بعض حصے یہود پر کیوں حرام کیے گئے تو اس کا جواب دیا گیا کہ ان چیزوں کی حرمت نہ سب کے لیے تھی نہ ابدی تھی۔ بلکہ یہ چیزیں تو صرف یہود پر بطور سزا حرام کی گئیں جیسا کہ فرمایا :۔ ذٰلِکَ جَزَیْنٰھُمْ بِبَغْیِھِمْ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ یعنی یہ چیزیں ہم نے ان پر ان کی سرکشی اور ان کے کفر وعناد کی سزا کے طور پر حرام کی تھیں۔
Ayah 6:147

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

پھر اگر تجھ کو جھٹلاویں164 تو کہہ دے کہ تمہارے رب کی رحمت میں بڑی وسعت ہے اور نہیں ٹلے گا اس کا عذاب گناہ گار لوگوں سے

164 یہ لوگ اللہ کے حکم پر مغرور ہیں اور تکذیب پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ آپ فرما دیں بیشک اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ لیکن اس کا عذاب بھی بڑا سخت اور اٹل ہوتا ہے جو کسی مجرم سرکش و معاند سے ٹل نہیں سکتا۔
Ayah 6:148

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

اب کہیں گے165 مشرک اگر اللہ چاہتا تو شرک نہ کرتے ہم اور نہ ہمارے باپ دادے اور نہ ہم حرام کرلیتے کوئی چیز اسی طرح جھٹلایا کئے166 ان سے اگلے یہاں تک کہ انہوں نے چکھا ہمارا عذاب تو کہہ کچھ علم بھی ہے تمہارے پاس کہ اس کو ہمارے آگے ظاہر کرو تم تو نری اٹکل پر چلتے ہو اور صرف تخمینے ہی کرتے ہو

165 یہ شکوی ہے اور شرک پر مشرکین کی سب سے بڑی دلیل کا تذکرہ ہے۔ یعنی مشرکین عنقریب اپنے مشرکانہ افعال کے جواز میں یہ دلیل پیش کریں گے کہ اگر اللہ کو منظور ہوتا کہ ہم شرک نہ کریں تو ہم اور ہمارے باپ دادا کبھی شرک فی التصرف نہ کرتے اور نہ غیر اللہ کے لیے تحری میں کرتے تو اس سے معلوم ہوا کہ ہم جو کچھ کرتے رہے ہیں اللہ اس پر راضی ہے۔ سبحان اللہ ہذا بہتان عظیم۔ 166 جواب شکوی ہے۔ یعنی ان سے پہلے لوگوں نے بھی حق کی تکذیب کی اور اسی طرح کی بےسرو پا دلیلیں پیش کیں۔ یہاں تک کہ ہمارے عذاب نے انہیں آگھیرا۔ قُلْ ھَلْ عِندَکُمْ مِّنْ عِلْمٍ ۔ یعنی پہلی دلیل تو بالکل واہی اور لغو ہے آپ ان سے فرمائیں اگر تمہارے پاس گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) سے کوئی نقلی دلیل ہے تو وہ پیش کرو۔ دلیل تماہرے پاس کیا ہوگی تم تو ہر بات ظن وتخمین سے کہتے اور دین کے معاملے میں بھی محض ظن فاسد کی پیروی کرتے ہو۔
Ayah 6:149

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

تو کہہ دے بس اللہ کا الزام پورا ہے167 سو اگر وہ چاہتا تو ہدایت کردیتا

167 اَلْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃ وہ واضح دلیل جو قوت و متانت میں انتہاء کو پہنچی ہوئی اور ہر لحاظ سے کامل ہو۔ یعنی مشرکین کے پاس تو کوئی معمولی سی دلیل بھی نہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے پاس مضبوط اور محکم دلائل ہیں جن سے اس نے توحید کے ہر پہلو کا اثبات اور شرک کے ہر پہلو کا رد فرمایا ہے فَلَوْشَاءَ لَھَدٰ کُمْ اَجْمَعِیْنَ اس کے بعد وَلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ مقدر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایمان لانے پر مجبور نہیں (اگرچہ وہ ایسا کرسکتا تھا) کو ین کہ اس طرح امتحان و ابتلاء کی حکمت فوت ہوجاتی۔
Ayah 6:150

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

تم سب کو تو کہہ کہ لاؤ168 اپنے گواہ جو گواہی دیں اس بات کی کہ اللہ نے حرام کیا ہے ان چیزوں کو پھر اگر وہ ایسی گواہی دیں بھی تو تو نہ اعتبار کر ان کا169 اور نہ چل ان کی خوشی پر170 جنہوں نے جھٹلایا ہمارے حکموں کو اور جو یقین نہیں کرتے آخرت کا اور وہ اپنے رب کے برابر کرتے ہیں اوروں کو

168 ھَلُمَّ اسم فعل بمعنی امر ہے ای احضروھم اور شُھَدَآءَ سے مشرکین کے اکابر اور رؤساء اور ان کے مقتداء و پیشوا مراد ہیں جنہوں نے ان کو گمراہ کر رکھا تھا۔ فرمایا مشرکین سے کہو کہ وہ اپنے پیشواؤں کو بلائیں تاکہ وہ اس بات کا اقرار کریں کہ اللہ نے ان اشیاء کو حرام کیا ہے اور اس پر دلائل بھی پیش کریں۔ اس سے مقصود علی رؤس الاشہاد ان کی تذلیل و تفضیح ہے۔ کیونکہ ان تابعین کی طرھ ان کے متبوعین بھی دلائل سے تہی دست ہیں۔ و ھم کبراءھم الذین اسسوا ضلالھم والمقصود من احضارھم تفضیحھم والزامھم ون لا متمسک لھم کمقلدیھم (روح ج 8 ص 52) ۔ 169 اگر مشرکین کے پیشوا، آپ کے سامنے یہ جھوٹی بات کہہ دیں کہ واقعی اللہ نے ان اشیاء کو حرام کیا ہے تو فَلَا تَشْھَدْ مَعَھُمْ آپ ان کی بات کی ہرگز تصدیق نہ کریں کیونکہ یہ صریح جھوٹ اور سراسر باطل ہے یا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اسبات کی شہادت دیدیں تو اس میں ان کی موافقت نہ کریں۔ ای فلا تصدقھم فانہ کذب بحث (روح) ای لا توافقھم لانھم کذبۃ فی شھادتہم کما ان الشھود کذبۃ فی دعواھم (بحر ج 4 ص 248) ۔ 170 ۔ ان کے پاس دلائل تو ہیں نہیں وہ جو کچھ کہیں گے خواہشات نفسانیہ کے تحت کہیں گے۔ اس لیے آپ ان کی پیروی نہ کریں وہ تو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کی تکذیب کر رہے ہیں، آخرت پر ان کا ایمان نہیں ہے اور وہ اللہ کے ساتھ شریک بنا رہے ہیں۔
Ayah 6:151

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:151 in the Quran reader

تو کہہ تم آؤ171 میں سنا دوں جو حرام کیا ہے تم پر تمہارے رب نے کہ شریک نہ کرو اس کے ساتھ کسی چیز کو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور مار نہ ڈالو اپنی اولاد کو مفلسی سے ہم رزق دیتے ہیں تم کو اور ان کو اور پاس نہ جاؤ بےحیائی کے کام کے172 جو ظاہر ہو اس میں سے اور جو پوشیدہ ہو اور مار نہ ڈالو اس جان کو جس کو حرام کیا ہے اللہ نے مگر حق پر تم کو یہ حکم کیا ہے تاکہ تم سمجھو

171 یہ تحریمات الٰہیہ کا ذکر ہے۔ سورة مائدہ میں تحریمات الٰہیہ کی صرف ایک صورت مذکور تھی۔ یعنی غَیْرَ مُحِلیِّ الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ اور باقی ماندہ صورتیں سورة انعام کی اس آیت میں ذکر کی گئی ہیں اس سورت میں مسئلہ نذر غیر اللہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اَلَّا تُشْرِکُوْا ای اٰمرکم محرمات الہیہ میں سب سے پہلے شرک کو ذکر کیا گیا اور پھر قتل سے روکا گیا درمیان میں والدین سے حسن سلوک کا حکم دیا گیا۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ اگر ماں باپ بھی شرک کرنے پر مجبور کریں تو اس معاملہ میں ان کی اطاعت بھی جائز نہیں جیسا کہ سورة عنکبوت ع 1 میں فرمایا۔ وَاِنْ جَاھَدَاکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْہُمَا۔ 172 مذکورہ محرمات کے علاوہ حسب ذیل امور کو بھی اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے۔ فواحش ظاہرہ و باطنہ یعنی بےحیائی کی تمام صورتیں خواہ وہ علانیہ ہوں یا پوشیدہ، قتل نفس ناحق، مال یتیم کا ناجائز طریقے سے کھانا۔ ناپ تول میں کمی بیشی کر کے کسی کی حق تلفی کرنا۔ جھوٹی شہادت دینا اور فیصلے میں بےانصافی کرنا وغیرہ یہ تمام محرمات الہیہ ہیں یعنی ان امور کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے لہذا ان کی تحریم کو باقی رکھو اور ان کو حلال مت سمجھو۔
Ayah 6:152

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

اور پاس نہ جاؤ یتیم کے مال کے مگر اس طرح سے کہ بہتر ہو یہاں تک کے پہنچ جاوے اپنی جوانی کو اور پورا کرو ناپ اور تول کو انصاف سے ہم کسی کے ذمہ وہی چیز لازم کرتے ہیں جس کی اس کو طاقت ہو اور جب بات کہو تو حق کی کہو173 اگرچہ وہ اپنا قریب ہی ہو اور اللہ کا عہد پورا کرو تم کو یہ حکم کردیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو

173 یہاں قول سے عام مراد ہے شہادت، فیصلہ اور دیگر امور یعنی جب تم گواہی دو یا کوئی جھگڑا چکاؤ تو اس میں کسی کی جانبداری مت کرو۔ بالکل سراسر عدل وانصاری سے کام لو اگرچہ تمہاری شہادت اور تمہارے فیصلے کی زد تمہارے کسی رشتہ دار پر پڑتی ہو۔ وَاِذَ ا قُلْتُمْ ، قولا فی حکومۃ او شہادۃ او نحوھما (فَاعْدِلُوْا) فیہ وقولوا الحق (روح ج 8 ص 56) ۔
Ayah 6:153

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

اور حکم کیا کہ یہ174 راہ ہے میری سیدھی سو اس پر چلو اور مت چلو اور راستوں پر کہ وہ تم کو جدا کردیں گے اللہ کے راستہ سے یہ حکم کردیا ہے تم کو تاکہ تم بچتے رہو

174 یہ سابقہ دونوں آیتوں میں جو احکام مذکور ہوئے ہیں یہی میری سیدھی راہ ہے اور یہی میرا وہ دین ہے جو میں نے اپنے بندوں کے لیے پسند کیا ہے۔ لہذا تم اسی کی پیروی کرو اور باقی تمام راستوں کو چھوڑ دو ۔ و ان ھذا الذی وصیتکم بہ وامرتکم بہ فی ھاتین الایتین ھو صراطی یعنی طریقی و دینی الذی ارتضیتہ لعبادی (خازن ج 2 ص 165) ۔
Ayah 6:154

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

پھر دی ہم نے175 موسیٰ کو کتاب واسطے پورا کرنے نعمت کے نیک کام والوں پر اور واسطے تفصیل ہر شے کے اور ہدایت اور رحمت کے تاکہ وہ لوگ اپنے رب کے ملنے کا یقین کریں

175 سورت کے دونوں مضمونوں یعنی نفی شرک اعتقادی اور نفی شرک فعلی کو ذکر کرنے کے بعد آخر میں دونوں مضمونوں پر ایک دلیل نقلی اور ایک دلیل وحی ذکر کی گئی۔ اس آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دلیل نقلی پیش کی گئی ہے ثُمَّ یہاں تعقیب ذکری کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مذکور بیان کے بعد یہ بھی سن لو یہ مطلب نہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب اس کے بعد دی گئی۔ تَمَامًا بمعنی اتماماً ۔ اٰتَیْنَا کا مفعول لہ ہے یعنی نعمت دین کے اتمام کے لیے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی یا تماماً بمعنی تاما الکتاب سے حال ہے۔ یعنی وہ کتاب (تورات) کامل و مکمل تھی اور اس میں یہ دونوں مضمون مذکور تھے۔ نفی شرک فی التصرف اور نفی شرک فعلی (تحریمات غیر اللہ ناجائز اور نذر و غیر اللہ حرام ہیں) عَلَی الَّذِیْ اَحْسَنَ یعنی اس شخص کے لیے جو نیک روی اختیار کرے۔ تَفْصِیْلًا لِّکُلِّ شَیْءٍ اور اس (تورات) میں وہ تمام ضروری احکام و مسائل مذکور تھے جن کی دین میں ضرورت تھی۔ فائدہ : ایک حدیث میں آتا ہے فتجلی لی کل شیء یعنی میرے لیے ہر چیز روشن ہوگئی اہل بدعت اس سے آنحضرت ﷺ کے علم غیب کلی پر استدلال کرتے ہیں۔ ان کے استدلال کی بنیاد اس پر ہے کہ یہاں لفظ کل استغراق حقیقی کے لیے ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو یہ حدیث سند کے اعتبار سے ضعیف اور ساقط الاعتبار ہے۔ دوم اگر بالغرض اسے مان لیا جائے تو یہ دعویٰ غلط ہے کہ یہاں کل استغراق حقیقی کے لیے ہے بلکہ یہاں استغراق اضافی مراد ہے۔ اگر اس کو استغراق حقیقی پر محمول کیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ تمام ماکان ومایکون اور تمام شرائع اور احکام کا علم آپ پر منکشف ہوگیا تو اس سے لازم آتا ہے کہ قرآن مجید کا نازل کرنا عبث اور بےفائدہ ہے۔ عیاذا باللہ العظیم قرآن مجید میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ چناچہ زیر تفسیر آیت میں بھی لفظ کل استغراق اضافی کے لیے ہے اور اس سے مراد وہ احکام ہیں جن کی دین میں ضرورت تھی علامہ آلوسی لکھتے ہیں ای بیانا مفصلا لکل ما یحتاج الیہ فی الدین (روح ج 8 ص 60) امام نفسی فرماتے ہیں بیانا مفصلا لکل ما یحتاجون الیہ فی دینھم (مدارک ج 2 ص 32) امام بغوی اور خازن رقمطراز ہیں یعنی وفیہ بیان لکل شیء یحتاج الیہ من شرائع الدین واحکامہ (معالم و خازن واللفظ لہ ج 2 ص 166) ۔
Ayah 6:155

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور ایک یہ کتاب ہے کہ176 ہم نے اتاری برکت والی سو اس پر چلو اور ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت ہو

176 یہ سورت کے دونوں مضمونوں پر دلیل وحی ہے یعنی کتاب بھی تورات کے موافق تحریمات لغیر اللہ کو حلال اور نذور غیر اللہ کو حرام بتا رہی ہے۔ اس کی پیروی کرو اور اس کی مخالفت سے بچو۔
Ayah 6:156

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

اس واسطے کہ کبھی177 تم کہنے لگو کہ کتاب جو اتری تھی سو ان ہی فرقوں پر جو ہم سے پہلے تھے اور ہم کو تو ان کے پڑھنے پڑھانے کی خبر نہ تھی

177 یہ اصل میں تھا کراھیۃ ان تقولوا یا لئلا تقولوا۔ طائفتین سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں۔ یعنی یہ کتاب (قرآن مجید) تم پر اتمام حجت کے لیے نازل کی تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہم سے پہلے یہود ونصاریٰ پر تورات وانجیل نازل ہوئی اور ہم ان کی تعلیم سے بیخبر تھے یا یہ عذر پیش نہ کرسکو کہ یہود ونصاریٰ کی طرح اگر ہم پر بھی کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان سے بڑھ کر آسمانی کتاب کی پیروی کرتے اور ان سے بڑھ چڑھ کر راہ ہدایت پر گامزن ہوتے فَقَدْ جَآءَکُمْ بَیِّنَۃٌ الخ لہذا اتمام حجت کے طور پر اللہ کی طرف سے تمہارے پاس کتاب آچکی ہے۔ جو کھلے دلائل سے بھرپور ہے اور سیدھی راہ دکھاتی ہے اور جس کی پیروی باعث رحمت ہے۔
Ayah 6:157

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

یا کہنے لگو کہ اگر ہم پر اترتی کتاب تو ہم تو راہ پر چلتے ان سے بہتر سو آچکی تمہارے پاس حجت تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت اب اس سے زیادہ ظالم کون178 جو جھٹلاوے اللہ کی آیتوں کو اور ان سے کتراوے ہم سزا دیں گے ان کو جو ہماری آیتوں سے کتراتے ہیں برا عذاب بدلے میں اس کترانے کے

178 یہ زجر ہے۔ فاء تفریعیہ ہے۔ لہذا اب سب سے بڑا ظالم وہ ہوگا جو اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرے اور ان سے منہ موڑے۔ سَیَجْزِیْ الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ الخ یہ تخویف اخروی ہے۔
Ayah 6:158

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

کا ہے کی راہ دیکھتے ہیں179 لوگ مگر یہی کہ ان پر آئیں فرشتے یا آئے تیرا رب یا آئے کوئی180 نشانی تیرے رب کی جس دن آئے گی ایک نشانی تیرے رب کی کام نہ آئے گا کسی کے اس کا ایمان لانا جو کہ پہلے سے ایمان نہ181 لایا تھا یا اپنے ایمان میں کچھ نیکی نہ کی تھی تو کہہ دے تم راہ دیکھو ہم بھی راہ دیکھتے ہیں

179 یہ تخویف دنیوی ہے۔ عذاب دنیوی ہے۔ عذاب دنیوی کی یہاں تین صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ یعنی مذکورہ دلائل وبراہین کے باوجود وہ ایمان نہیں لا رہے ہیں۔ کیا وہ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں خہ موت کے فرشتے آپہنچیں اور ان کی جانیں قبض کرلیں تو موت کے بعد ان کی آنکھیں کھل جائیں گی یا یہ کہ ان پر اللہ کا عذاب آجائے یا قیامت کی نشانیوں میں سے کوئی ایسی نشانی دیکھ لیں جو ان کو ایمان لانے پر مجبور کردے۔ مگر ان تینوں صورتوں میں ایمان لانا بےسود ہوگا فرشتوں کے آنے سے قبض ارواح کے لیے یا اللہ کا عذاب لے کر آنا مراد ہے۔ یَاتِیْ رَبُّکَ ای یاتی امر ربک بالعذاب (روح ج 8 ص 62) ۔ 180 بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ جس نشان کا یہاں ذکر ہے۔ اس سے سورج کا مغرب سے طلوعہونا مراد ہے۔ حضرت شیخ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں اس سے ہر وہ نشان مراد ہے۔ حضرت شیخ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں اس سے ہر وہ نشان مراد ہے جسے دیکھ کر لوگ ایمان لانے پر مجبور و مضطر ہوجائیں اور طلوع الشمس من المغرب بھی اس میں داخل ہے۔ جیسا کہ علامہ ابن صفی نے طلوع الشمس من المغرب کو بطور مثال پیش کیا ہے اور جن نشانات کے ظاہر ہونے پر ایمان فائدہ مند نہیں ہوگا ان کو اس میں منحصر نہیں کیا۔ آیت مع تفسیر ملاحظہ ہو۔ اَوْ یَاتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ کطلوع الشمس من المغرب (یَوْمَ یَاتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ ) التی تضطرھم الی الایمان۔ (جامع البیان ص 130) فرعون بوقت غرق ایمان لے آیا تھا مگر اس کا ایمان قبول نہ ہوا۔ کیونکہ وہ ایمان اضطراری تھا اور ایمان لانے پر عذاب غرق نے اس کو مضطر کیا تھا۔ صحیح بخاری باب التفسیر میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا۔ لا تقوم الساعۃ حتی تطلع الشمس من المغرب فاذا خلعت وراٰھا الناس اٰمنوا اجمعون وذلک لا ینفع نفساً ایمانھا ثم قرا ھَلْ یَنْظُرُوْنَ الخ اس سے معلوم ہوتا ہے کہحضور ﷺ نے یہ آیت بطور استشہاد تلاوت فرمائی نہ کہ بطور تفسیر جن روایتوں سے تفسیر ہونے کا احتمال ہوتا ہے وہ روایت بالمعنی ہے۔ لہذا اس آیت سے مطلق نشانات مراد ہیں۔ جنہیں دیکھ کر انسان ایمان لانے پر مجبور و مضطر ہوجائے اس کی تائید سورة مومن ع 9 کی اس آیت سے ہوتی ہے۔ فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُھُمْ اِیْمَانُھُمْ لَمَّا رَاَوْ بَاسَنا۔ 181:۔ اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایمان کے غیر نافع ہونے کی دو صورتیں بیان کی گئی ہیں ایک یہ کہ اضطراری حالات کے رونما ہونے کے بعد ایمان لایا جائے۔ دوم یہ کہ بحالت ایمان اعمال صالحہ بجا نہ لائے۔ دوسری شق کا مقتضا یہ ہے کہ جس مومن نے کوئی نیک عمل نہ کیا اس کا ایمان بےکار ہے اور اس کی نجات نہیں ہوگی۔ حالانکہ یہ بات کتاب و سنت کی صریح نصوص اور اہل سنت و جماعت کے متفق علیہ مسلک کے سراسر خلاف ہے۔ چناچہ معتزلہ اسی کے قائل ہیں۔ مفسرین نے اس کے مختلف جواب دئیے ہیں جو متداول تفسیروں میں مذکور ہیں۔ حضرت شیخ قدس سرہٗ فرماتے ہیں یہ آیت علفتہا تبنا و ماء بارداً کے قبیل سے ہے۔ اصل میں تھا لَا يَنْفَعُ نَفْسًا عَمَلُھَا لَمْ تَکُنْ کَسَبَتْ فِیْ اِيْمَانِھَا خَیْرًا۔ یعنی دوسری شق میں اس سابق ایمان کے نافع ہونے کی نفی نہیں کی گئی جس میں عمل صالح نہ ہو۔ بلکہ اس شق سے اس عمل صالح کے نافع ہونے کی نفی مقصود ہے جو اضطراری حالات کے بعد واقع ہو۔ علامہ آلوسی نے بھی بعض علماء سے اسی قسم کا ایک جواب نقل کیا۔ لانہ قیل لاینفع نفسا ایمانھا ولا کسبھا فی ایمانھا خیرا لم یکن امنت من قبل او لم تکن کسبت خیرا (روح ج 8 ص 66) ۔
Ayah 6:159

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

جنہوں نے راہیں182 نکالیں اپنے دین میں اور ہوگئے بہت سے فرقے تجھ کو ان سے کچھ سروکار نہیں ان کا کام اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہی جتلائے گا ان کو جو کچھ وہ کرتے تھے

182 تخویف اخروی ہے اور اس سے مراد مشرکین کی جماعتیں میں جنہوں نے توحید کو چھوڑ کر مشرکانہ عقائد کی بنیادوں پر مختلف فرقے بنا لیے۔ جو شخص اس سے فقہاء اسلام اور ائمہ دی کا باہمی فروعی اختلاف مراد لیتا ہے وہ قرآن میں صریح تحریف کا مرتکب ہے۔
Ayah 6:160

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 6:160 in the Quran reader

جو کوئی لاتا ہے ایک نیکی183 تو اس کیلئے ان کا دس گناہ ہے اور جو کوئی لاتا ہے ایک برائی سو سزا پاوے گا اسی کے برابر اور ان پر ظلم نہ ہوگا

183 یہ ایمان لانے والوں اور اعمال صالحہ بجا لانے والوں کے لیے بشارت ہے۔