6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsجواھر القرآن

Ayah 6:81

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

اور میں کیونکر ڈروں87 تمہارے شریکوں سے اور تم نہیں ڈرتے اس بات سے کہ شریک کرتے ہو اللہ کا ان کو جس کی نہیں اتاری اس نے تم پر کوئی دلیل اب دونوں فرقوں میں کون مستحق ہے دلجمعی کا بولو اگر تم سمجھ رکھتے ہو

87 مَا اَشْرَکْتُمْ میں مَا سے معبودان باطلہ مراد ہیں۔ اور صلہ میں عائد محذوف ہے ای ما اشرکتموہ اسی طرح ما لم ینزل میں بھی ما سے معبودان باطلہ مراد ہیں اور بِہٖ میں مضاف محذوف ہے بمعبودیتہ یعنی ڈرنا تو تمہیں چاہئے جو علیم وقدیر اور متصرف و کارساز ہستی کے ساتھ اس کے لاچار بندوں کو شریک بناتے ہو جن کے معبود ہونے پر کوئی دلیل موجود نہیں، میں تمہارے ان معبودان باطلہ سے کیوں ڈروں جو بےبس اور بےاختیار ہیں فای الفریقین احق بالامن اب تم ہی بتاؤ کہ عذاب سے امن و سلامتی کا مستحق کون ہے تم شرک کرنے والے یا میں شرک سے دور رہنے والا اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے والا۔ اگلی آیت میں اس سوال کا جواب ہے۔
Ayah 6:82

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

جو لوگ یقین لے آئے88 اور نہیں ملا دیا انہوں نے اپنے یقین میں کوئی نقصان انہی کے واسطے ہے دلجمعی اور وہی ہیں سیدھی راہ پر

88 یہ پہلے سوال کا جواب ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا کلام ہے یا ادخال الٰہی ہے۔ ظلْم سے مراد شرک ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری ج 2 ص 666 میں ہے جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے گھبرا کرحضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا یارسول اللہ ہم میں سے کون ہے جس نے ظلم و زیادتی نہ کی ہو اس پر سورة لقمان کی آیت اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْم نازل ہوئی۔ یعنی امن و سلامتی صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی توحید کو مانا اور پھر اس میں ذرہ برابر شرک کی ملاوٹ نہ کی۔
Ayah 6:83

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

اور یہ89 ہماری دلیل ہے کہ ہم نے دی تھی ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلہ میں درجے بلند کرتے ہیں ہم جس کے چاہیں تیرا رب حکمت والا ہے جاننے والا

89 تِلْکَ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے گذشتہ استدلال کی طرف اشارہ ہے۔ اشارۃ الی جمیع ما احتج بہ ابراھیم (علیہ السلام) علی قومہ (مدارک ج 2 ص 17) ۔
Ayahs 6:84–86

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور بخشا ہم نے ابراہیم کو90 اسحاق کو اور یعقوب سب کو ہم نے ہدایت دی اور نوح کو ہدایت کی ہم نے ان سب سے پہلے اور اس کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان کو اور ایوب اور یوسف کو اور موسیٰ اور ہارون کو اور ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں نیک کام والوں کو

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو سب ہیں نیک بختوں میں

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور اسماعیل اور الیسع کو اور یونس کو اور لوط کو اور سب کو ہم نے بزرگی دی سارے جہان والوں پر

90 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تفصیل سے ذکر کرنے کے بعد اجمالی طور پر تمام انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر فرمایا ستر پیغمبروں کا ذکر نام لے کر اور باقیوں کا اشارے سے انبیاء (علیہم السلام) کے ذکر میں بھی نہایت ہی عمدہ ترتیب ملحوظ رکھی گئی۔ پہلے چاروں یعنی حضرت ابراہیم، اسحاق یعقوب اور نوح (علیہم السلام) اصول انبیاء میں پھر داود اور سلیمان (علیہما السلام) بہت بڑے بادشاہ تھے، حضرت ایوب اور یوسف (علیہما السلام) کو زندگی میں بڑی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا، موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو بڑے بڑے معجزے عطا کیے گئے۔ زکریا، یحیی، عیسیٰ اور الیاس (علیہم السلام) بہت بڑے عابد و زاہد تھے اور اسمعیل، الیسع، یونس اور لوط (علیہم السلام) کے ادیان کی زیادہ شہرت نہیں ہوئی اور نہ ان کے اتباع تھے (من البحر ج 4 ص 173) ۔ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ کی ضمیر کو اگر ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف راجع کیا جائے تو لوط (علیہ السلام) تو برادر زادہ ہونے کی وجہ سے ان کی ذریت میں شامل ہوجائیں گے لیکن یونس (علیہ السلام) اس میں شامل نہیں ہوسکتے اس لیے ضمیر کا مرجع نوح (علیہ السلام) کو بنانا ہی صحیح ہے۔
Ayah 6:87

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور ہدایت کی ہم نے بعضوں کو91 ان کے باپ داؤد میں سے اور ان کی اولاد میں سے اور بھائیوں میں سے اور ان کو ہم نے پسند کیا اور سیدھی راہ چلایا

91 سترہ نبیوں کا نام بنام ذکر کرنے کے بعد اب یہاں باقی انبیاء (علیہم السلام) کا اجمالاً ذکر فرمایا یعنی مذکورہ نبیوں کے آباء و اجداد میں سے، ان کی اولاد میں سے اور ان کی برادری میں سے جتنے بھی نبی گذرے ہیں ان سب کو ہم نے باقی مخلوق پر برتری عطا کی اور ان سب کو صراط مستقیم (سیدھی راہ) یعنی راہ توحید کی طرف راہنمائی کی وَمِنْ اٰبائِھِمْ (مذکورہ بالا نبیوں کے باپوں میں سے) اس سے مراد یہ ہے کہ جن انبیاء کے باپ تھے اسی طرح وَمنْ ذُرِّیّٰتِھِمْ وَ اِخْوَانِھِمْ کا مطلب بھی یہ ہے کہ ان میں سے جن کے اولاد اور بھائی تھے یہ مطلب نہیں کہ ان میں سے ہر ایک کا باپ بھی تھا اور ہر ایک کی اولاد بھی تھی جیسا کہ قادیانی کہتے ہیں اور اس سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے باپ کے وجود پر استدلال کرتے ہیں۔
Ayah 6:88

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ اللہ کی ہدایت ہے92 اس پر چلاتا ہے جس کو چاہے اپنے بندوں میں سے اور اگر یہ لوگ شرک کرتے تو البتہ ضائع ہوجاتا جو کچھ انہوں نے کیا تھا

92 ذٰلِکَ ھَدَیْنٰہُمْ سے مفہوم مصدر کی طرف اشارہ ہے ای الھدی الی الطریق المستقیم ھو ھدی اللہ (بحر ج 4 ص 175، روح ج 7 ص 215) وَ لَوْ اَشْرَکُوْا الخ اس کی ضمیر سے تمام انبیاء (علیہم السلام) مراد ہیں جن کا پہلے صراحۃً یا کنایۃً ذکر ہوچکا ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) کا شرک کرنا اگرچہ محال ہے لیکن اگر بالفرض وہ بھی شرک کر گذرتے تو ان کے بھی تمام اعمال ضائع ہوجاتے اس تعبیر کے شرک کی انتہائی شناعت و قباحت کا ذکر کرنا مقصود ہے۔
Ayah 6:89

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

یہی لوگ تھے93 جن کو دی ہم نے کتاب اور شریعت اور نبوت پھر اگر ان باتوں کو نہ مانیں مکہ والے تو ہم نے ان باتوں کے لئے مقرر کردیے ہیں ایسے لوگ جو ان سے منکر نہیں

93 ان کو ہم نے کتاب، حکمت اور نبوت عطا فرمائی یعنی رسولوں پر کتابیں اور صحیفے نازل کیے اور ہر صاحب کتاب کے بعد آنے والے نبی پر پہلی کتاب کا اتباع لازم قرار دیا یہاں تک کہ حضرت محمد ﷺ پر سلسلہ نبوت منقطع ہوگیا۔ فَاِنْ یَّکْفُرْ بِھَا الخ کی ضمیر سے آیات یا نبوت مراد ہے اور لیسوا اسم اشارہ سے اہل مکہ اور قوْماً سے صحابہ کرام ؓ مراد ہیں یعنی اگر مشرکین مکہ آیات توحید کو یا نبوت کو نہیں مانتے تو مانیں ہم ایک قوم کو آیات توحید اور نبوت انبیاء پر ایمان لانے کے لیے مقرر کرچکے ہیں اور وہ ایسے راسخ الایمان اور دائم الیقین ہیں کہ کسی بھی وقت ان کے ایمان میں ذرا بھر بھی فرق نہیں آسکتا لَیْسُوْا بِھَا بِکٰفِرِیْن ای فی وقت من الاوقات بل مستمرون علی الایمان بھا۔ قال ابن عباس و مجاھد ھم الانصار واھل المدینۃ وقیل اصحاب النبی ﷺ مطلقاً روح ص 216 ج 7، ابو السعود ص 136 ج 4) ۔
Ayah 6:90

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

یہ وہ لوگ تھے جن کو ہدایت کی اللہ نے94 سو تو چل ان کے طریقہ پر تو کہہ دے کہ میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کچھ مزدوری یہ تو محض نصیحت ہے جہان کے لوگوں کو

94 ھُدیٰ کے بعد ھُمْ عائد محذوف ہے اور اُولئکَ سے مذکور الصدر تمام انبیاء (علیہم السلام) مراد ہیں۔ یعنی یہ تمام انبیاء (علیہم السلام) صرف ایک اللہ ہی کو متصرف و کارساز مانتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے تھے اس لیے آپ بھی مسئلہ توحید میں ان کے نقش قدم پر چلیں۔ اس سے مراد صرف ایمان و توحید اور اصول دین ہیں تمام احکام وشرائع مراد نہیں کیونکہ شرائع تمام انبیاء (علیہم السلام) کی مختلف رہی ہیں والمراد بھدٰھم طریقتھم فی الایمان باللہ و توحیدہ و اصول الدین دون الشرائع فہی مختلفہ (مدارک ج 2 ص 17) ۔
Ayahs 6:91–92

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور نہیں پہچانا انہوں نے95 اللہ کو پورا پہچاننا جب کہنے لگے کہ نہیں اتاری اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز پوچھ تو کس نے اتاری96 وہ کتاب جو موسیٰ لے کر آیا تھا روشن تھی اور ہدایت تھی لوگوں کے واسطے جس کو تم نے ورق ورق کر کے لوگوں کو دکھلایا اور بہت سی باتوں کو تم نے چھپا رکھا اور تم کو سکھلا دیں97 جن کو نہ جانتے تھے تم اور نہ تمہارے باپ دادے تو کہہ دے کہ اللہ نے اتاری پھر چھوڑ دے ان کو اپنی خرافات میں کھیلتے رہیں

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

اور یہ قرآن کتاب ہے جو کہ ہم نے اتاری برکت والی تصدیق کرنے والی ان کی جو اس سے پہلی ہیں اور تاکہ تو ڈراوے مکہ والوں کو اور اس کے آس پاس والوں کو اور جن کو یقین ہے آخرت کا وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور وہ ہیں اپنی نماز سے خبردار

95 یہ یہود پر شکوی ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں۔ ما عظموا اللہ تعالیٰ حق تعظیمہ اور ابو العالیہ فرماتے ہیں۔ ما وصفوہ حق صفتہ اور قدروا کی ضمیر سے جمہور کے نزدیک یہود مراد ہیں اور اذ ظرف۔ قدروا کے متعلق ہے (روح) مَا اَنْزَلَ اللہُ الخ یعنی آج تک اللہ نے کسی بشر پر اپنا کوئی کلام نازل نہیں کیا اس سے ان کا مقصد آنحضرت ﷺ کی رسالت پر طعن کرنا تھا کہ جب آپ بھی بشر ہیں تو اسے معلوم ہوا کہ آپ پر بھی اللہ کی طرف سے کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔ 96 یہ جواب شکویٰ ہے اور یہود کے قول نا معقول کا رد ہے کہ اگر تمہارے قول کے مطابق اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں فرمایا تو بتاؤ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جن کو تم بشر مانتے ہو یہ تورات کس نے نازل کی جو سراپا نور ہدایت تھی جسے تم بھی اللہ کی کتاب مانتے ہو اور یہ بھی مانتے ہو کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ہی نازل ہوئی تَجْعَلُوْنَہٗ قَرَاطِیْس الخ یہ جملہ استنافیہ ہے اور اس میں علماء یہود کی ایک شرارت کا ذکر کیا گیا ہے یعنی یہ تورات وہی کتاب ہے جس کے بہت سے حصوں کو تم اپنی خواہشات نفسانیہ کے مطابق محرف و مبدل کر کے مختلف کاغذوں پر لکھ لیتے ہو اور اپنے ماننے والوں اور عقیدت مندوں کو دکھا کر ان پر ظاہر یہ کرتے ہو کہ یہ اللہ کی کتاب تورات کی آیتیں ہیں جسے اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل فرمایا۔ اس طرح تورات کے جو مسائل تمہاری خواہشات کے خلاف اور مذہبی پائیت کی بنیادیں ہلا دینے والے ہیں ان کو چھپاتے ہو اور جو تمہاری خواہشات کے مطابق ہیں ان کو بیان کرتے ہو۔ آجکل کے علماء سوء کا بھی بالکل یہی وطیرہ ہے وہ قرآن میں تحریف لفظی تو کر نہیں سکتے اس لیے اپنے من گھڑت مسائل کے مطابق آیتوں کا مطلب اپنی طرف گھڑ کر عوام کو سنا دیتے ہیں۔ 97 یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نزول وحی کی دوسری دلیل ہے۔ یعنی تورات کے ہی ذریعے تمہیں ان امور غیبیہ کا علم حاصل ہوا جنہیں نہ تم جانتے تھے نہ تمہارے آباؤ و اجداد۔ قُلِ اللہُ بقرینہ سوال یہاں فعل محذوف ہے ای انزلہ اللہ یہ گذشتہ سوال قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْکِتٰب الخ کا جواب ہے۔ آنحضرت ﷺ کو جواب دینے کا حکم دے کر اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہود ضد وعناد کی وجہ سے حق کا انکار کریں گے اس لیے آپ یہ جواب دے دیں وَھٰذَا کِتٰبٌ یہ نفی شرک فی التصرف پر دلیل وحی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نزول کتاب کا ذکر کر کے فرمایا یہ قرآن بھی ہم ہی نے اتارا ہے اور وہ مسئلہ توحید اور اصول دین میں تورات کی تصدیق کرتا ہے تو پھر اس کو تم کیوں نہیں مانتے۔
Ayah 6:93

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 6:93 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ ظالم98 کون جو باندھے اللہ پر بہتان یا کہے مجھ پر وحی اتری اور اس پر وحی نہیں اتری کچھ بھی اور جو کہے کہ میں بھی اتارتا ہوں مثل اس کے جو اللہ نے اتارا اور اگر تو دیکھے جس وقت99 کہ ظالم ہوں موت کی سختیوں میں اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہیں کہ نکالو اپنی جانیں آج تم کو بدلے میں ملے گا ذلت کا عذاب اس سبب سے کہ تم کہتے تھے اللہ پر جھوٹی باتیں اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے

98 یہ مشرکین کے لیے زجر ہے۔ کَذِباً سے شرک مراد ہے یعنی غیر اللہ کے تحریمات کرنا اور غیرا للہ کی نذر ونیاز وغیرہ مثل عمرو بن لحی واتباعہ القائلین بان اللہ حرم السوائب والحوامی الخ (مظھری ج 3 ص 300) اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ یہ شکوی ہے جیسا کہ مسیملہ کذاب نے نبوت اور نزول وحی کا دعویٰ کیا تھا وَمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ الخ جیسا کہ مشرکین نے کہا تھا۔ لَوْنَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ھٰذَا۔ 99 یہ تخویف اخروی ہے غَمَرَاتِ الْمَوتِ یعنی موت کی شدائد اور سختیاں بَاسِطُوْا اَیْدِیْھِم ہاتھ پھیلانے والے روح قبض کرنے کے لیے یا مارنے کے لیے ای بالعذاب عن ابن عباس ؓ انہم یضربون وجوھھم و ادبارھم۔ وذھب بعضہم ان ھذا تمثیل لفعل الملئکۃ فی قبض ارواح الظلمۃ بفعل الغریم الملح یبسط یدہ الی من علیہ الحق ویعنف علیہ فی المطالبۃ ولا یمھلہ الخ (روح ج 7 ص 223) بِمَا کُنْتُمْ میں با سببیہ ہے یعنی عذاب تمہیں اللہ پر افتراء کرنے اور اس کی آیتوں سے انکار اور استکبار کی وجہ سے دیا جائے گا۔
Ayah 6:94

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

اور البتہ تم ہمارے پاس آگئے100 ایک ایک ہو کر جیسے ہم نے پیدا کیا تھا تم کو پہلی بار اور چھوڑ آئے تم جو کچھ اسباب ہم نے تم کو دیا تھا اپنی پیٹھ کے پیچھے اور ہم نہیں دیکھتے تمہارے ساتھ سفارش والوں کو جن کو تم بتلایا کرتے تھے کہ ان کا تم میں ساجھا ہے البتہ منقطع ہوگیا تمہارا علاقہ اور جاتے رہے جو دعوے کہ تم کیا کرتے تھے

100 فُرٰادٰی۔ فرد یا فرید کی جمع ہے اور یہ ضمیر خطاب سے حال ہے۔ مَا خَوَّ لْنٰکُمْ ای ما اعطینکم یعنی ہم نے جو تمہیں مال و دولت دی تھی شُفَعَاءَکُمْ وہ نیک پیر اور اولیاء اللہ جن کو مشرکین خدا کے یہاں سفارشی سمجھ کر ان کی عبادت کرتے اور ان کی نذریں نیازیں دیتے تھے۔ یہ مشرکین سے کہا جائے گا کہ آج تم سب تنہا اور اکیلے میدان حشر میں آئے ہو آج تمہارے ساتھ نہ وہ مال و دولت ہے۔ نہ انصار واعوان جن پر تم مغرور تھے اور نہ آج تمہارے وہ سفارشی تمہارے ساتھ ہیں جن کو تم اللہ کی عبادت، ربوبیت اور پکار میں شریک کیا کرتے تھے۔ اور جن کے بارے میں تمہیں یقین تھا کہ وہ ہر آڑے وقت میں تمہارے کام آئیں گے۔ آج وہ کہاں ہیں۔ لَقَدْ تَّقَطَّعَ ای الوصل بینکم۔ آج تمہارے اور ان کے درمیان تمام تعلقات منقطع ہوچکے ہیں اور تمہاری تمام خواہشیں اور آرزؤیں خاک میں مل چکی ہیں۔
Ayah 6:95

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

اللہ ہے کہ پھوڑ نکالتا ہے101 دانہ اور گٹھلی نکالتا ہے مردہ سے زندہ اور نکالنے والا ہے زندہ سے مردہ یہ ہے اللہ پھر تم کدھر بہکے جاتے ہو

ف 101: یہ توحید پر گیارہویں عقلی دلیل ہے یعنی ہر چیز میں متصرف صرف اللہ تعالیٰ ہے اور کوئی نہیں۔ یہ دلیل یہاں سے لے کر اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ تک ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے بہت سے نشانات عالم علوی اور عالم سفلی سے متعلق بیان فرمائے ہیں۔ الحب، حبۃ کی جمع ہے۔ حبۃ کے منعی دانے کے ہیں۔ النوی، نواۃ (گٹھلی) کی جمع ہے جب دانہ یا گٹھلی کو زمین میں بو دیا جاتا ہے تو دست قدرت ان میں شگاف ڈال دیتا ہے جس میں سے پودا پھوٹ نکلتا ہے۔ وہ حی (جاندار، مومن یا پرندے) سے میت (بےجان، کافر یا انڈے) کو نکالتا ہے اور میت سے حی کو یعنی کافر سے مومن کو پیدا کرتا ہے اور بےجان انڈے سے جاندار بچہ پیدا کرتا ہے۔ یہ تینوں باتیں عالم سفلی سے تعلق رکھتی ہیں۔ ذٰلِکُمُ اللہُ الخ یعنی جو ہستی ان مذکورہ بالا صفات کی مالک ہے۔ حقیقت میں وہی الہ ہے اور وہی متصرف و کارساز ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں۔
Ayah 6:96

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

پھوڑ نکالنے والا صبح کی102 روشنی کا اور اس نے رات بنائی آرام کو اور سورج اور چاند حساب کے لئے یہ اندازہ رکھا ہوا ہے زور آور خبردار کا

102 صبح کو چیرنے والا۔ صبح دن کے لیے بمنزلہ تخم (بی ج) ہے جس طرح بیج کو چیر کر اس سے پودا نکالتا ہے اسی طرح صبح سے دن کی روشنی کو نمودار کرتا ہے۔ سَکَنًا۔ ما یسکن الیہ جس چیز سے سکون و اطمینان حاصل کیا جائے رات کو سکنًا فرمایا کیونکہ دن بھر کی تھکاوٹ رات میں آرام و راحت سے تبدیل ہوجاتی ہے۔ حُسْبَاناً مصدر ہے یعنی سورج اور چاند کو حساب کا ذریعہ بنا دیا ان کی گردش سے موسموں کے اختلاف کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ نیز ان کی حرکت سے وقت کی پیمائش کی جاتی ہے۔
Ayah 6:97

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

اور اسی نے بنا دیئے تمہارے واسطے ستارے103 کہ ان کے وسیلہ سے راستے معلوم کرو اندھیروں میں جنگل اور دریا کے البتہ ہم نے کھول کر بیان کردیئے پتے ان لوگوں کیلئے جو جانتے ہیں

103 رات کے اندھیروں میں، جنگلوں اور سمندروں میں سفر کرنے والے مسافر اگر راہ سے بھٹک جائیں تو مختلف ستاروں کے ذریعے وہ اپنی منزل مقصود کی صحیح سمت معلوم کر کے صحیح وسالم اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے یہ امور عالم علوی یا نظام شمسی سے تعلق رکھتے ہیں۔
Ayah 6:98

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تم سب کو پیدا کیا104 ایک شخص سے پھر ایک تو تمہارا ٹھکانا ہے اور ایک امانت رکھے جانے کی جگہ البتہ ہم نے کھول کر سنا دیئے پتے اس قوم کو جو سوچتے ہیں

104 یہ اللہ تعالیٰ کا ایک اور احسان ہے کہ اس نے زندگی جیسی نعمت عطا فرمائی اور تمام انسانوں کو ایک جان (آدم علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور ہر ایک کے لیے ایک مستقر اور ایک مستودع بنایا۔ مستقر اور مستودع کی تفسیر میں اقوال مختلف ہیں۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں مستقر (رہنے کی جگہ) سے دنیا مراد ہے اور مستودع سے آخرت۔ فمستقر فی الدنیا و مستودع فی الاخرۃ۔
Ayah 6:99

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور اسی نے اتارا105 آسمان سے پانی پھر نکالی ہم نے اس سے اگنے والی ہر چیز پھر نکالی اس میں سے سبز کھیتی جس سے ہم نکالتے ہیں دانے ایک پر ایک چڑھا ہوا اور کھجور کے گابھے میں سے پھل کے گچھے جھکے ہوئے اور باغ انگور کے اور زیتون کے اور انار کے آپس میں ملتے جلتے اور جدا جدا بھی دیکھو ہر ایک درخت کے پھل کو جب وہ پھل لاتا ہے اور اس کے پکنے کو ان چیزوں میں نشانیاں ہیں واسطے ایمان والوں کے

105 آسمان سے بارش بھی وہی برساتا ہے۔ بارش سے تمام کھیت سر سبز و شاداب ہوجاتے ہیں اناج کثرت سے پیدا ہوتا ہے، کھجور کے درخت پھل سے لد جاتے ہیں، انگور، زیتون اور انار کے باغات بھی لہلہانے لگتے ہیں۔ جن کا پھل شکل و صورت ایک جیسا ہونے باوجود ان کا رنگ، ذائقہ اور حجم مختلف ہوتا ہے اِنَّ فِیْ ذٰلک الخ ان مذکورہ امور میں ایمان والوں کو اللہ کی توحید پر بڑے بڑے دلائل نظر آتے ہیں یہ تمام چیزیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ کی قدرت اور اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے لہذا وہی متصرف ورکارساز ہے اور کوئی نہیں۔
Ayah 6:100

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور ٹھہراتے ہیں106 اللہ کے شریک جنوں کو حالانکہ اس نے ان کو پیدا کیا ہے اور تراشتے ہیں اس کے واسطے بیٹے اور بیٹیاں جہالت سے وہ پاک ہے107 اور بہت دور ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں

106:۔ یہ زجر اور شکوی ہے شرکاء مبدل منہ ہے اور الجن اس سے بدل ہے برائے اظہار حقارت۔ یعنی ان جنوں کو انہوں نے اللہ کے شریک بنا رکھا ہے وَخَرَقُوْا لَہٗ بَنِیْنَ وَ بَنَاتٍ اور انہوں نے اللہ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ لی ہیں وہ انبیاء اور اولیاء کو اللہ کے بیٹے اور فرشتوں کو اس کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں ان کا خیال تھا کہ جس طرح اولاد باپ کو بہت محبوب ہوتی ہے اور وہ ان کی ہر بات مان لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیہم السلام، اولیاء کرام اور ملائکہ اللہ تعالیٰ کو بہت پیارے ہیں اس لیے اسے ان کی ہر بات ماننی پڑتی ہے۔ یہود و نصاریٰ نے اللہ کے لیے بیٹے تجویز کیے تھے ور مشرکین مکہ نے بیٹیاں۔ اما الذین اثبتوا لبنین فھم النصاریٰ وقوم من الیھود واما الذین اثبتوا البنات فھم العرب الذین یقولون الملائکۃ بنات اللہ (کبیر ج 4 ص 162) 107 یہ جواب شکوی ہے اللہ تعالیٰ مشرکین کے ان بہتانوں سے بالکل پاک اور منزہ ہے، اس نے کسی کو بیٹا یا بیٹی نہیں بنایا وہ بےنیاز ہے اسے ان چیزوں کی ضرورت نہیں وہ خود مختار متصرف و کارساز ہے۔ اس کا ارادہ کسی کے ماتحت نہیں۔
Ayah 6:101

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

نئی طرح پر بنانے والاف 108 آسمانوں اور زمین کا کیونکر ہوسکتا ہے اس کے بیٹا حالانکہ اس کے کوئی عورت نہیں اور اس نے بنائی ہر چیز اور وہ ہر چیز سے واقف ہے

108 یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے نفی ولد پر چار دلیلیں ذکر فرمائی ہیں یہ پہلی دلیل ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے علم علوی اور عالم سفلی کو عجیب و غریب نظام کے ساتھ پیدا فرمایا ہے وہ فاعل علی الاطلاق ہے۔ اسے کسی ولد یا نائب کی ضرورت نہیں۔ دوسری دلیل اَنّٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ الخ یعنی اللہ تعالیٰ کے بیٹا کس طرح ہوسکتا ہے حالانکہ اس کی بیوی ہی نہیں۔ مطلب یہ کہ تم اللہ کی طرف صاحبہ کی نسبت تو نہیں کرتے ہو لیکن ولد کی نسبت کیوں کرتے ہو حالانکہ ولد صاحبہ (بیوی) کے بغیر نہیں ہوسکتا یعنی اگرچہ تم حقیقی ولد کی نسبت نہیں کرتے ہو لیکن ولد کی طرح نائب تو کہتے ہو جو سراسر غلط ہے۔ تیسری دلیل وَ خَلَقَ کُلَّ شَیْءٍ اس نے تو ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے۔ ہر چیز اس کی مخلوق ہے۔ جسے تم اللہ کا ولد کہتے ہو وہ بھی اللہ کی مخلوق ہے تو کس طرح ہوسکتا ہے کہ مخلوق اپنے خالق کی ولد ہو۔ چوتھی دلیل وَھُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں کوئی ایسی چیز موجود نہیں جو اس کا ولد ہو۔ پہلی، تیسری اور چوتھی دلیل سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی ولد یعنی نائب نہیں اور دوسری دلیل سے ولد حقیقی کی نفی کی گئی ہے۔
Ayah 6:102

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

یہی اللہ109 تمہارا رب ہے نہیں ہے کوئی معبود سوا اس کے پیدا کرنے والا ہر چیز کا سو تم اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے

109 دلیل اور جواب شکوی کے بعد ثمرہ ذکر فرمایا یعنی جب کارساز اور غیب دان کے صرف اللہ ہی ہے اور کوئی نہیں تو صرف اسی کو پکارو پہلے چار دلائل عقلیہ کے بعد ان کا ثمرہ ذکر کیا گیا۔ پھر دلیل عقلی کے بعد دوسرا ثمرہ بیان کیا گیا۔ اب یہاں گیارہویں عقلی دلیل کے بعد تیسری بار دلائل کا ثمرہ بیان کیا گیا ہے۔ دلائل کو اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ ان کے بعد ذہن خود بخود ان نتائج کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔
Ayah 6:103

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

نہیں پا سکتیں110 اس کو آنکھیں اور وہ پاسکتا ہے آنکھوں کو اور وہ نہایت لطیف اور خبردار ہے

110 یعنی دنیا میں انسانی آنکھیں اللہ تعالیٰ کی ذات کا ادراک نہیں کرسکتیں۔ دنیا میں اس کی ذات محض اپنی صفات سے معلوم ہوتی ہے جو دلائل کے ضمن میں بیان ہوچکی ہیں۔ وَھُوَ اللَّطِیْفُ یہ لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ سے متعلق ہے اَلْخَبِیْڑُ یہ وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ سے متعلق ہے بطریق لف و نشر مرتب (وَھُوَ اللَّطِیْفُ ) ای العالم بدقائق الامور و مشکلاتہا (الخبیر) العلیم بظواھر الاشیاء و خفیا تھا وھو من قبیل اللف و النشر (مدارک ج 2 ص 21) ۔
Ayah 6:104

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

تمہارے پاس آچکیں111 نشانیاں تمہارے رب کی طرف سے پھر جس نے دیکھ لیا سو اپنے واسطے اور جو اندھا رہا سو اپنے نقصان کو اور میں نہیں تم پر نگہبان

111 بَصَائِرُ سے دلائل توحید مراد ہیں فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِہٖ جس نے مسئلہ توحید قبول کرلیا اس نے اپنے ہی بھلے کا کام کیا۔ وَمَنْ عَمِیَ فَعَلَیْہَا اور جو شرک پر قائم رہا اس نے اپنا نقصان کیا وَ مَا اَنَا عَلَیْکُمْ بِحَفِیْظٍ میں تم پر نگران نہیں ہوں میں تو صرف اللہ کی طرف سی منذر و مبشر ہوں وَاِنَّمَا اَنَا مُنْذِرٌ اللہ تعالیٰ ھُوَ الَّذِیْ یَحْفَظُ اَعْمَالَکُمْ وَ یُجازِیْکم عَلَیھَا (روح ج 7 ص 249) اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کارساز اور غیب دان نہیں تھے۔
Ayah 6:105

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اور یوں طرح طرح112 سے سمجھاتے ہیں ہم آیتیں اور تاکہ وہ کہیں کہ تو نے کسی سے پڑھا ہے اور تاکہ واضح کردیں ہم اس کو واسطے سمجھ والوں کے

112 یہ نہ مانے کی تیسری وجہ ہے یعنی ہم آیات کو کھول کر بیان کرتے ہیں اور یہ مشرکین ان سے اعراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ پیغمبر کسی سے سیکھ کر آیا ہے وَ لِیَقُوْلُوْا سے پہلے معطوف علیہ محذوف ہے ای لیسعد بھا قوم و یشقی بہا اخرون و لیقولون الخ و معنی (درست) قرات و تعلمت (روح) ۔
Ayah 6:106

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

تو چل113 اس پر جو حکم تجھ کو آوے تیرے رب کا کوئی معبود نہیں سوا اس کے اور منہ پھیرلے مشرکوں سے

113 یہ دوسری دلیل وحی ہے یعنی آپ کی طرف اللہ کی جانب سے یہ وحی آچکی ہے کہ اللہ کے سوا کارساز اور غیب دان کوئی نہیں۔ لہذا اسی کو پکارو۔ اس لیے آپ وحی ربانی کے پابند رہیں اور مشرین کے عقائد باطلہ اوراقوال فاسدہ سے اعراض کریں اور ان کی پروا نہ کریں۔
Ayah 6:107

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا114 تو وہ لوگ شرک نہ کرتے اور ہم نے نہیں کیا تجھ کو ان پر نگہبان اور نہیں ہے تو ان پر داروغہ

114 اس کے بعد وَلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُم مقدر ہے بقرینہ وَ لَوْ شَاء اللہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِی مَا اٰتٰکُمْ (مائدہ) یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو جبرًا ایمان کی توفیق دے دیتا اور اس طرح ابتلاء و امتحان کی حکمت مفقود ہوجاتی۔ حفیظا ذمہ دار، وکیل داروغہ، آپ کے ذمہ صرف تبلیغ ہے اگر وہ نہ مانیں تو اس کی ذمہ داری آپ پر نہیں اور نہ آپ کو اس لیے بھیجا گیا ہے کہ آپ ان کو ماننے پر مجبور کریں۔
Ayah 6:108

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور تم لوگ برا نہ کہو ان کو115 جن کی یہ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا پس وہ برا کہنے لگیں گے اللہ کو بےادبی سے بدوں سمجھے اسی طرح ہم نے مزین116 کردیا ہر ایک فرقہ کی نظر میں ان کے اعمال کو پھر ان کو اپنے رب کے پاس پہنچنا ہے تب وہ جتلا دے گا ان کو جو کچھ وہ کرتے تھے

115 یَدْعُوْنَ کے بعد عائد محذوف ہے ای یدعونھم یعنی ان کے معبودان باطلہ کو بھی گالیاں نہ دو اگرچہ وہ حقیقت میں بھی برے ہوں ایسا نہ ہو کہ مشرکین عناد اور جہالت کی وجہ سے اللہ کو گالیاں دینے لگیں لیکن اس پر ایہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے اس لیے اللہ کو گالیاں دینا ان سے کس طرح متصور ہوسکتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ بعض اوقات غیظ و غضب کی وجہ سے انسان آپے سے باہر ہوجاتا ہے اور اس سے اس قسم کی غلطی صادر ہوجاتی ہے۔ ولا اشکال بناء علی ان الغضب و الغیظ قد یحملھم علی ذلک الا تری ان المسلم قد تحملہ شدۃ غیظہ علی التکلم بالکفر (روح ج 7 ص 351) ۔ یا بحذف مضاف اس سے رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دینا مراد ہے۔ وقیل المراد بسب اللہ تعالیٰ الرسول ﷺ (روح) یا مراد تمام مومنین ہیں کیونکہ مشرکین ان کو محض توحید کی وجہ سے گالیاں دینا ہے۔ 116 یہ نہ ماننے کی چوتھی وجہ ہے یعنی مشرکین کو ان کے مشرکانہ اعمال اچھے اور خوبصورت نظر آتے ہیں اس لیے وہ ان کو چھوڑ کر توحید کی طرف نہیں آتے۔
Ayah 6:109

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

اور وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی117 تاکید سے کہ اگر آوے ان کے پاس کوئی نشانی تو ضرور اس پر ایمان لاویں گے تو کہہ دے کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور تم کو اے مسلمانو کیا خبر ہے118 کہ جب وہ نشانیاں آویں گی تو یہ لوگ ایمان لے آویں گے

117 زجر بطور شکوی وہ بڑی پکی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کو معجزہ دکھایا جائے تو وہ مان لیں گے۔ قُلْ اِنَّمَا الْاٰ یٰتُ عِنْدَ اللہِ الخ جواب شکوہ آپ فرمادیں معجزات تو اللہ کے اختیار میں ہیں میرے اختیار میں نہیں ہیں۔ انما الایت عند اللہ لا عندی فکیف اجیبکم الیھا واتیکم بھا او المعنی ھو القادر علیھا لا انا حتی اتیکم بھا (روح ج 7 ص 253) ۔ 118 چونکہ تمام صحابہ کرام ؓ کی بھی آرزو تھی کہ مشرکین کا مطلوبہ معجزہ آجائے تاکہ وہ ایمان لے آئیں اس لیے یہاں کُمْ ضمیر جمع سے خطاب میں ان کو بھی شامل فرمایا لیا اور فرمایا کہ تمہیں یہ بات معلوم نہیں لیکن میں جانتا ہوں کہ اگر ان کو مطلوبہ معجزہ دے بھی دیا جائے تب بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے اس لیے معجزہ دکھانا حکمت کے خلاف ہے نیز ان بہتری اسی میں ہے کہ ان کو معجزہ نہ دکھایا جائے کیونکہ مطلوبہ معجزہ کے انکار کے بعد فوری عذاب آجاتا ہے اور مہلت نہیں ملتی۔ قیل للمؤمنین تتمنون ذلک وما یدریکم انہم یومنون۔ حاصل الکلام ان القوم طلبوا من الرسل معجزات قویۃ و حلفوا انھا لو ظھرت لامنوا فبین اللہ تعالیٰ انھم واِن حلفوا علی ذلک الا انہ تعالیٰ عالم بانھا لو ظھرت لم یومنوا (کبیر ج 4 ص 185) ۔
Ayah 6:110

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

اور ہم الٹ دیں گے119 ان کے دل اور ان کی آنکھیں جیسے کہ ایمان نہیں لائے نشانیوں پر پہلی بار اور ہم چھوڑے رکھیں گے ان کو ان کی سرکشی میں بہکتے ہوئے

119 واؤ تعلیلیہ ہے اور یہ لَا یُؤمِنُوْنَ کی علت ہے۔ اور کما لم یؤمنوا۔ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَھُمْ کی تعلیل ہے یعنی جب پہلی بار ان کے پاس آیتیں آئیں تو انہوں نے ضد وعناد کی وجہ سے ان کا انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر جباریت ثبت کردی اس لیے اب اگر وہ منہ مانگا معجزہ دیکھیں گے تو ہم ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کو پھیر دیں گے اور وہ ایمان نہیں لائیں گے اور ہم ان کو سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیں گے اور یہ پھیر دنیا تکوینی اسباب کے تحت ہوگا۔ ضد وعناد کی وجہ سے چونکہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے اس لیے ان کی باطنی اور قلبی بصیرت دونوں ماؤف ہوچکی ہیں۔
Ayah 6:111

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ Open ayah 6:111 in the Quran reader

اور اگر ہم120 اتاریں ان پر فرشتے اور باتیں کریں ان سے مردے اور زندہ کردیں ہم ہر چیز کو ان کے سامنے تو بھی یہ لوگ ہرگز ایمان لانے والے نہیں مگر یہ کہ چاہے اللہ لیکن ان میں اکثر جاہل ہیں

120 یہ ماقبل ہی کی تفصیل ہے۔ یعنی اگر ہم ان کے مطلوبہ معجزات ان کو دکھا دیں مثلاً ان پر فرشتے اتار دیں۔ لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلَائِکۃ الخ اور مردے زندہ ہو کر ان سے باتیں کرنے لگیں۔ فَاتُوْا بِاٰبَائِنَا اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ اور ہر چیز جو وہ چاہیں اٹھا کر ان کے سامنے کردیں تو بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اِلَّا اَنْ یَّشَاءَ اللہُ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بیان ہے۔ گمراہی کے تین درجات (1) سشیاطین انس و جنلب انابت الی اللہ۔ (2) ضلال اور (3) مہر جباریت میں سے تینوں ان میں موجود تھے۔
Ayah 6:112

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور اسی طرح121 کردیا ہم نے ہر نبی کے لیے دشمن شریر آدمیوں کو اور جنوں کو جو کہ سکھلاتے ہیں ایک دوسرے کو ملمع کی ہوئی باتیں فریب دینے کیلئے اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ لوگ یہ کام نہ کرتے سو تو چھوڑ دے وہ جانیں اور ان کا جھوٹ

121 زُخْرُفَ الْقَوْلِ ۔ یعنی غلط اور باطل بات جسے خوبصورت بنا کر پیش خوبصورت بنا کر پیش کیا جائے یہ نہ ماننے کی پانچویں وجہ ہے علی سبیل الترقی۔ جس طرح شیاطین جن و انس ہر پیغمبر کے دشمن ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے پیغمبر کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ اسی طرح حضور ﷺ کے دشمن (شیاطین انس و جن) یہ کام سر انجام دے رہے ہیں اور مسئللہ توحید کے خلاف لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے پھر رہے ہیں۔ مثلاً یہ شخص بےادب ہے اور بزرگوں کی بےادبی کرتا ہے اس سے بچو۔ تائید۔ وَ مَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلّا اِذَا تَمَنّٰی اَلْقٰ الشَّیْطَانُ فیْ اُمْنِیَّتہ۔ یعنی جب اللہ کا پیغمبر اللہ کی آیتیں لوگوں کو پڑھ کر سناتا اس وقت شیطان لوگوں کے دلوں میں اس کے بارے میں وسوسے ڈالنا شروع کردیتا۔
Ayah 6:113

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

اور اس لئے کہ مائل ہوں ان122 ملمع کی باتوں کی طرف ان لوگوں کے دل جن کو یقین نہیں آخرت کا اور وہ اس کو پسند بھی کرلیں اور کیے جاویں جو کچھ برے کام کر رہے ہیں

122:۔ یعنی مائل ہوجائیں اِلَیْہِ کی ضمیر زخرف القول کی طرف راجع ہے وَلِتَصْغیٰ جعلنا کے متعلق ہے ولیرضوہ ولیقترفو۔ لتصغی پر معطوف ہیں۔ یعنی تاکہ وہ اسی زخرف القو، جھوٹی بات کو پسند کریں اور بد اعمالیوں میں منہمک رہیں۔
Ayah 6:114

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

سو کیا اب اللہ کے123 سوا کسی اور کو منصف بناؤں حالانکہ اسی نے اتاری تم پر کتاب واضح اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے124 وہ جانتے ہیں کہ یہ نازل ہوئی ہے تیرے رب کی طرف سے ٹھیک سو تو مت ہو شک کرنے والوں میں سے

123 یعنی اللہ تعالیٰ کا فیصلہ بیان ہوگیا اور اس نے اپنی کتاب بھی اتار دی جس میں صاف صاف فرما دیا کہ سب کچھ جاننے والا اور سب کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس لیے صرف اسی کو پکارو اور اس کے سوا کسی اور کو مت پکارو۔ اب میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کا فیصلہ قبول نہیں کرسکتا۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ مشرکین قریش نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ آپ اپنے اور ہمارے درمیان یہود یا نصاریٰ کے کسی بہت بڑے عالم کو حکم (ج ج) مقرر کرلیں تاکہ وہ آپ کے بارے میں اور آپ کے دین کے بارے میں اپنی کتاب کا فیصلہ سنا دے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور آپ کو یہ اعلان کرنے کا حکم ہوا کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کو حَکَم نہیں مان سکتا۔ (روح) ۔ 124 الکتاب سے تورات و انجیل مراد ہے اور موصول سے علماء یہود و نصاریٰ مراد ہیں۔ والمراد بالکتاب التوراۃ والانجیل والمراد بالموصول اما علماء الیھود والنصاری الخ (روح ج 8 ص 9) ۔ یہ علماء یہود ونصاریٰ سے دلیل نقلی ہے یعنی وہ تورات و انجیل کی روشنی میں اچھی طرح جانتے ہیں کہ قرآن میں مسئلہ توحید اور اس کے علاوہ جو کچھ نازل ہو رہا ہے وہ سب حق ہے اور اللہ کی طرف سے ہے فَلَا تَکُوْنَنَّ میں خطاب ہر سامع کو ہے۔
Ayah 6:115

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

ف 125 اور تیرے رب کی بات پوری سچی ہے اور انصاف کی کوئی بدلنے والا نہیں اس کی بات کو اور وہی ہے سننے والا جاننے والا

125 کَلِمۃٌ سے یا اللہ کا دین مراد ہے یا دعویٰ توحید۔ وتمت ای بالدلائل العقلیۃ والنقلیۃ و دلائل الوحی۔ یعنی دعویٰ توحید عقل ونقل اور وحی کے دلائل سے کامل اور واضح ہوچکا ہے لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ اس دعویٰ توحید کو بدلنے والا کوئی نہیں۔ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ واؤ تعلیلیہ ہے اور یہ ماقبل کی علت ہے اور مبتدا اور جز معرفہ ہونے کی وجہ سے یہ ترکیب مفید حصر ہے۔ یعنی ہر چیز کو سننے والا اور ہر چیز کو جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں اگر اس کے سوا کوئی اور بھی ہر چیز کو جاننے اور سننے والا ہوتا اور ہر چیز کو جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں اگر اس کے سا کوئی اور بھی ہر چیز کو جاننے اور سننے والا ہوتا تو اسے بدلنے کا اختیار بھی ہوتا اِذْ لَیْسَ فَلیْسَ سورة کہف میں فرمایا۔ اُتْلُ مَا اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ کِتٰبِ رَبِّکَ لَامُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ اور اس کی دلیل وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَدًا سے بیان فرمائی مطلب یہ کہ جب ہر چیز کو سننے اور جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں اور اس کے سوا کوئی جائے پناہ بھی نہیں تو اس کے کلمات کو بدلنے والا بھی کوئی نہیں۔
Ayah 6:116

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور اگر تو کہنا مانے گا126 اکثر لوگوں کا جو دنیا میں ہیں تو تجھ کو بہکا دیں گے اللہ کی راہ سے وہ سب تو چلتے ہیں اپنے خیال پر اور سب اٹکل ہی دوڑاتے ہیں

126 یہ زجر ہے اکثر من فی الارض مراد مشرکین ہیں۔ والمراد باکثرھم الکفار (روح) سَبِیْل اللہ سے مراد توحید باری تعالیٰ یعنی اگر آپ کفار و مشرکین کی بات مان لیں گے تو وہ تو آپ کو توحید کی راہ سے ہٹانے ہی کی کوشش کریں گے۔ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ الخ آپ کے پاس تو اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے اور آپ کا علم علم الیقین ہے مگر مشرکین کے پاس ظن وتخمین کے سوا کچھ نہیں وہ محض ظن کی بنا پر شرک کر رہے ہیں یَخْرصُوْنَ وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اللہ کی طرف ولد (نائب) اور شرکاء کی نسبت کرتے ہیں والمراد انھم یکذبون علی اللہ تعالیٰ فیما ینبون الیہ جل شانہ کا تخاذ الود وجعل عبادۃ الاوثان ذریعۃ الیہ سبحانہ (روح ج 8 ص 12) ۔
Ayah 6:117

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

تیرا رب خوب127 جاننے والا ہے اس کو جو بہکتا ہے اس کی راہ سے اور وہی خوب جاننے والا ہے ان کو جو اس کی راہ پر ہیں

127 اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ (راہ توحید) سے گمراہ ہوچکے ہیں اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت پر ہیں۔ یہ مشرکین گمراہ ہیں اور آپ کو بھی اپنی راہ پر ڈالنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں آپ ان سے خبردار رہیں۔
Ayah 6:118

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

سو تم کھاؤ اس جانور128 میں سے جس پر نام لیا گیا ہے اللہ کا اگر تم کو اس کے حکموں پر ایمان ہے

128:۔ حصہ دوم، نفی شرک فعلی۔ 1 ۔ تحریمات غیر اللہ۔ 2 ۔ تحریمات اللہ۔ 3 نذور غیر اللہ۔ سورة انعام کے حصہ اول میں نفی شرک اعتقادی کا بیان تھا۔ اب دوسرے حصے میں نفی شرک فعلی کا بیان ہے۔ یہ حصہ فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللهِ سے لے کر ذٰلِکمْ وَصّٰکُمْ بِهٖ لَعَلَّکمْ تَتَّقُوْنَ (ع 19) تک ہے اس حصے میں شرک فعلی کی تین شقیں مذکور ہیں۔ تحریمات غیر اللہ چار عنوانوں سے۔ تحریمات اللہ ایک دفعہ اور نذور غیر اللہ کو بھی چار عنوانوں سے ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ خلاصہ میں تفصیل سے مذکور ہوچکا ہے اور آگے آرہا ہے۔ تحریمات غیر اللہ کا ذکر پہلی بار مَا سے مراد وہ جانور ہیں جن کو مشرکین نے اپنے معبودوں کی تعظیم اور خوشنودی کے لیے اپنی طرف سے حرام کر رکھا تھا یعنی بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام وغیرہ فرمایا جن جانوروں کو خاصۃً اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہو ان کو کھاؤ یعنی جن چیزوں کو اللہ نے حلال کیا ہے ان کو حلال سمجھ اور اپنی طرف سے ان کو حرام نہ کرو اور اپنی طرف سے تم نے جو تحریمات کر رکھی ہیں ان کو اٹھاؤ۔ وَمَا لَکُمْ اَلَّا تَاکُلُوْا الخ مذکورہ (بحیرہ سائبہ وغیرہ) جانوروں میں سے جن کو خاصۃً اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہو ان کو کھاؤ یا مطلب یہ ہے کہ ان کو حلال سمجھو۔
Ayah 6:119

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور کیا سبب کہ تم نہیں کھاتے اس جانور میں سے کہ جس پر نام لیا گیا ہے اللہ کا اور وہ واضح کرچکا ہے129 جو کچھ کہ اس نے تم پر حرام کیا ہے مگر جب کہ مجبور ہوجاؤ اس کے کھانے130 پر اور بہت لوگ بہکاتے پھرتے ہیں اپنے خیالات پر بغیر تحقیق تیرا رب ہی خوب جانتا ہے حد سے بڑھنے والوں کو

129 غیر اللہ کی نذر و نیاز کی حرمت کا پہلی بار ذکر۔ یہاں اجمال ہے تفصیل آگے آرہی ہے۔ قَدْ فَصَّلَ ماضی کا صیغہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ محرمات کی تفصیل پہلے ہوچکی ہے۔ تفصیل کہاں ہوئی ہے ؟ اس سوال کے جواب میں اگر سورة مائدہ کا نام لیا جائے تو یہ صحیح نہیں کیونکہ سورة انعام مکی ہے اور سورة مائدہ مدنی ہے اور انعام کے بعد نازل ہوئی اس لیے وہ مراد نہیں ہوسکتی۔ اس لیے مولانا اشرف علی تھانوی (رح) نے سورة نحل مراد لی ہے کیونکہ وہ نزول میں انعام پر مقدم ہے لیکن اسمیں اشکال یہ ہے کہ نحل میں تفصیل نہیں اس میں صرف چار محرمات کا ذکر ہے۔ میتہ، دم، خنزیر اور مَا اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللہ۔ اس سے زیادہ تفصیل تو خود انعام میں موجود ہے۔ اس لیے حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس سے محرمات کی یہی تفصیل مراد ہے جو انعام میں مذکور ہے اور قَدْ فَصَّلَ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس سے قبل تفصیل کرچکا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کو تفصیل سے ذکر کررہا ہے جو تم پر حرام ہیں جیسا کہ اس کے بعد رکوع 19 کی ابتدا میں قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ الخ سے محرمات کو تفصیل سے ذکر فرمایا جیسا کہ سورة نور کی ابتداء میں فرمایا سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنٰھَا وَ فَرَضْنٰھَا۔ امام رازی نے بھی اسی کے قریب قریب ہی اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ فرماتے ہیں۔ الاولی ان یقال المراد قولہ بعد ھذہ الایۃ قُلْ لَّا اَجِدُ فِیْمَا اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّماً عَلیٰ طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗ وَ ھٰذِہِ الْاٰ یَۃُ وان کانت مذکورۃ بعد ھذہ الیۃ بقلیل الا ان ھذا القدر من التاخیر لا یمنع ان یکون ھو المراد واللہ اعلم (کبیر ج 4 ص 300) ۔ 130 یہ مَا حَرَّمَ سے استثناء ہے اور اس میں حالت اضطرار کا حکم بیان کیا گیا کہ حالت اضطرار میں یعنی جب بھوک کی وجہ سے زندگی تلف ہوجانے کا اندیشہ ہو تو بقدر سد رمق محرمات میں سے کھا لینا جائز ہے۔ وَاِنَّ کَثِیْرًا الخ بہت سے لوگ دوسروں کو اپنے من گھڑت دین کی باتیں سنا سنا کر اللہ کے اصل دین توحید سے بہکاتے ہیں اس سے مشرک اور گمراہ مولوی اور پیر مراد ہیں۔ مثلاً احبارو رہبان اور قسیسین جو لوگوں کو گمراہ کرتے تھے۔ اَلْمُعْتَدِیْنَ اللہ کی مقررہ حدود سے تجاوز کرنے والے، غیر اللہ کے لیے تحری میں کرنے والے اور غیر اللہ کے لیے نذریں نیازیں دینے والے بھی اس میں داخل ہیں۔
Ayah 6:120

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

اور چھوڑ دو کھلا ہوا گناہ131 اور چھپا ہوا جو لوگ132 گناہ کرتے ہیں عنقریب سزا پاویں گے اپنے کیے کی

131 ظَاھِرَ الْاِثْمِ جو گناہ ظاہری اعضاء سے کیے جائیں مثلاً شرک فعلی وغیرہ بَاطِنَہٗ جو گناہ دل سے کیے جائیں مثلاً شرک اعتقادی وغیرہ الشرک الجلی والخفی (مدارک ج 2 ص 24) المراد بظاھر الاثم افعال الجوارح و باطنہ افعال القلوب الخ (خازن ج 2 ص 146) ۔ 132 یہاں الاثم سے مذکورہ ظاہری اور باطنی اثم ہی مراد ہے یہ تخویف اخروی ہے شرک فعلی اور شرک اعتقادی کرنے والوں کے لیے۔