6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsجواھر القرآن

Ayah 6:41

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

بلکہ اسی کو پکارتے ہو پھر دور کردیتا ہے اس مصیبت کو جس کے لئے اس کو پکارتے ہو48 اگر چاہتا ہے اور تم بھول جاتے ہو جن کو شریک کرتے تھے

48 اس سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کی دعاء اور پکار کا قبول ہونا ضروری نہیں اس آیت کی روشنی میں قَالَ رَبُّکُمْ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ (مومن ع) کا مطلب بھی واضح ہوگیا کہ اس کا منشا یہ ہے کہ مصائب و بلیات میں مجھ ہی کو پکارو قبول کرنے کی طاقت اور قدرت صرف مجھ ہی میں ہے یہ مطلب نہیں کہ میں ہر شخص کی پکار کو قبول ضرور ر کرلوں گا۔
Ayah 6:42

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور ہم نے رسول بھیجے تھے بہت سی امتوں پر تجھ سے پہلے پھر ان کو پکڑا ہم نے49 سختی میں اور تکلیف میں تاکہ وہ گڑ گڑاویں

49 یہ تخویف دنیوی ہے یعنی جن امتوں نے آپ سے پہلے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا ہم نے دنیا میں ان کو جسمانی بیماریوں اور مالی پریشانیوں میں مبتلا کردیا تاکہ وہ ضد سے باز آجائیں اور عاجزی اختیار کریں اور کفر و انکار سے توبہ کرلیں۔ الْباْسَا سے قحط اور تنگدستی مراد ہے اور الضَّرَّاء سے بیماری اور مال وجان کا نقصان الاول القحط والجوع والثانی المرض و نقصان الانفس والموال (مدارک ج 2 ص 10) ۔
Ayah 6:43

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

پھر کیوں نہ گڑ گڑائے50 جب آیا ان پر عذاب ہمارا لیکن سخت ہوگئے دل ان کے اور بھلے کر دکھلائے ان کو شیطان نے جو کام وہ کر رہے تھے

50 جب دنیا میں ان پر ہمارا عذاب آیا تو بجائے اس کے کہ وہ گڑگڑا کر ہم سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے اور توبہ و استغفار کرتے لیکن انہوں نے انتہائی سنگدلی سے کام لیا اور اپنے کفر و انکار پر اڑے رہے کیونکہ شیطان کی تسلی اور وسوسہ اندازی سے وہ اپنے مشرکانہ اعمال و اقوال کو اعمال صالحہ سمجھنے لگے۔ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ میں مَا سے مشرکانہ اعمال مراد ہیں۔
Ayah 6:44

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پھر جب وہ بھول گئے اس نصیحت کو جو ان کو کی گئی تھی51 کھول دیے ہم نے ان پر دروازے ہر چیز کے یہاں تک کہ جب وہ خوش ہوئے ان چیزوں پر جو ان کی دی گئیں پکڑ لیا ہم نے ان کو اچانک پس اس وقت وہ رہ گئے ناامید

51 ن مَا سے مسئلہ توحید مراد ہے اور نِسْیَان سے ترک مراد ہے ای ترکوا ما دعاھم الرسل علیھم الصلوۃ والسلام الیہ وردوہ علیھم (روح جلد 7 ص 151) جب مشرکین نے ضد وعناد سے مسئلہ توحید کا انکار کردیا تو ہم نے ان کو دنیا میں بطور استدراج دولت مند کردیا اور ان کی باگ ڈھیلی چھوڑ دی یہاں تک کہ اچانک ہمارے عذاب نے ان کو آلیا معاندین اور ضد کرنے والوں کے ساتھ ہماری سنت مستمرہ یہی ہے۔ حَتّٰی اِذَا فَرِحُوْا ای بغیر الحق یعنی مغرور ہوگئے۔
Ayah 6:45

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

پھر کٹ گئی جڑ ان52 ظالموں کی اور سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو پالنے والا ہے سارے جہان کا

52 پھر اللہ تعالیٰ ان کو اس طرح پکڑتا ہے اور ان پر ایسا عذاب نازل کرتا ہے کہ ان کی بالکلیہ جڑ ہی کٹ جاتی ہے اور ان کی نسل ہی تباہ ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ قوم نوح کا حشر ہوا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ اور تمام صفات کا رسازی اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہیں۔ مشرکین جن معبودان باطلہ کو متصرف اور مشکل کشا سمجھتے تھے ان میں سے کوئی بھی ان کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکا۔۔ تو معلوم ہوا کہ اللہ ہی کارساز اور مافوق الاسباب متصرف ہے اور کوئی نہیں۔ تائید۔ فَلَوْلَا نَصَرَھُمُ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللهِ قُرْبَانًا اٰلِھَةً (احقاف ع 4) اور فَمَا اَغْنَتْ عَنْھُمْ اٰلِھَتُھُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللھ مِنْ شَیْءٍ لَمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّکَ (ھود ع 9) ۔
Ayah 6:46

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

تو کہہ دیکھو تو53 اگر چھین لے اللہ تمہارے کان اور آنکھیں اور مہر کر دے تمہارے دلوں پر تو کون ایسا رب ہے اس کے سوا جو تم کو یہ چیزیں لا دیوے دیکھ ہم کیونکر طرح طرح سے بیان کرتے ہیں باتیں پھر بھی وہ کنارہ کرتے ہیں

53 یہ توحید پر ساتویں عقلی دلیل ہے اَرَاَیْتُمْ کی تحقیق حاشیہ 46 میں گذر چکی ہے سمع اور بصر سے یا ظاہری حواس مراد ہیں یا باطنی لیکن بقرینہ وَخَتَمَ عَلیٰ قُلُوْبِکُمْ راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان سے باطنی سمع و بصر مراد ہے کیونکہ ختم علی القلوب سے سمجھنے کی استعداد سلب کرلینا مراد ہے۔ سرکشی اور عناد کی وجہ سے فہم کی استعداد سلب کرلی جاتی ہے اور اسی حالت کو مہر لگادینا کہا گیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا خَتَمَ اللہُ عَلیٰ قُلُوْبِھِمْ اور جو مان لیتے ہیں اس پر قائم ہوجاتے ہیں ان کے حق میں وَرَبَطْنَا عَلیٰ قُلُوْبِھِمْ ارشاد ہوتا ہے ثُمَّ ھُمْ یَصْدِفُوْنَ میں ثُمَّ استبعادیہ ہے اور یَصْدِفُونَ ای یعرضون یعنی ہم آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ پھر بھی اعراض کرتے ہیں۔
Ayah 6:47

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

تو کہہ دیکھو تو54 اگر آوے تم پر عذاب اللہ کا اچانک یا ظاہر ہو کر تو کون ہلاک ہوگا ظالم لوگوں کے سوا

54 یہ علیحدہ دلیل نہیں بلکہ چھٹی عقلی دلیل کا اعادہ ہے۔ پہلے گذر چکا ہے کہ اَرَاَیْتَ کے بعد استفہام ضرور آتا ہے خواہ مذکور ہو خواہ مقدر۔ گذشتہ آیت کے قرینہ سے یہاں اَغَیْرَ اللہِ تَدْعُوْنَ یا فَمن یدفعہ مقدر ہے اور ھَلْ یُھْلَکُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ علیحدہ جملہ ہے ظالمون یعنی مشرکین کیونکہ انہوں نے شرک کی وجہ سے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ یعنی المشرکین لانھم ظلموا انفسہم بالشرک (خازن ج 2 ص 111) ۔
Ayahs 6:48–49

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم رسول نہیں بھیجتے55 مگر خوشی اور ڈر سنانے کو پھر جو کوئی ایمان لایا56 اور سنور گیا تو نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو ان کو پہنچے گا عذاب اس لئے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے

55 یہ سوال مقدر کا جواب ہے سوال پہلے گزر چکا ہے کہ اگر یہ اللہ کا سچا رسول ہوتا تو ہمیں معجزات مطلوبہ دکھاتا وَ قَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلیہ ایۃ الخ۔ 56 ماننے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا یہ نہ ماننے والوں کیلئے تخویف اخروی ہے۔
Ayah 6:50

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

تو کہہ میں نہیں کہتا57 تم سے کہ میرے پاس ہیں خزانے اللہ کے اور نہ میں جانوں غیب کی بات اور نہ میں کہوں تم سے کہ میں فرشتہ ہوں58 میں تو اسی پر چلتا ہوں جو میرے پاس اللہ کا حکم آتا ہے تو کہہ دے کب برابر ہوسکتا ہے اندھا اور دیکھنے والا سو کیا تم غور نہیں کرتے

57 یہ پانچویں سوال کا جواب ہے۔ سوال یہ تھا کہ اگر یہ رسول ہوتا تو بڑا مالدار ہوتا جیسا کہ انہوں نے کہا تھا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلیٰ رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ (زخرف ع 3) اور فَلَوْلَا اُلْتِیَ عَلَیْہِ اَسْوِرَۃٌ مِّنْ ذَھَبٍ (زخرف ع 5) وَ لَا اَعْلَمُ الْغَیْبَ یہ چھٹے سوال کا جواب ہے سوال یہ تھا کہ اگر یہ رسول ہوتا تو ہمیں ملک شام کے میوہ جات کے نرخ بتا دیتا تاکہ ہم فائدہ حاصل کرلیتے وَلَا اَقُوْلُ لَکُمْ اِنِّیْ مَلَکٌ۔ یہ ساتویں سوال کا جواب ہے سوال یہ تھا کہ اگر یہ رسول ہے تو کھاتا پیتا کیون ہے جیسا کہ سورة فرقان میں ان کا قول نقل کیا گیا مَالِھٰذَا الرَّسُوْلُ یَا کُلُ الطَّعَام وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ (ع 2) ۔ 58 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ سے صاف صاف اعلان کرادیا کہ نہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں۔ لیکن اہل بدعت اس آیت میں عجیب یہودیانہ تحریف کر کے اس کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے پاس اللہ کے تمام خزانے موجود تو تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ لوگوں سے یوں کہیں کہ میں زبان سے تو اس بات کا دعویٰ نہیں کرتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اگرچہ فی الواقعہ ہیں ضرور۔ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ وَلَا اَعْلَمُ الْغَیْبَ کا عطف عِنْدِیْ پر ہے اور مطلب یہ ہے کہ میں تم سے یہ بھی نہیں کہتا کہ میں غیب نہیں جانتا بلکہ میں تو غیب جانتا ہوں۔ مَعَاذَ اللہِ یہ صریح قرآن مجید کی تحریف ہے اور یہ مطلب خود قرآن کے سیاق وسباق کے خلاف ہے کیونکہ پھر آیت کے اگلے حصے میں بھی یہ کہنا پڑے گا کہ میں تم سے یہ دعویٰ بھی نہیں کرتا کہ میں فرشتہ نہیں بلکہ میں تو فرشتہ ہوں اور یہ صریح غلط ہے۔ لہذا جس طرح وَلَا اَقُوْلُ لَکُمْ اِنِّیْ مَلَکٌ کا عطف عِنْدِیْ پر نہیں ہوسکتا اس کا عطف لا محالہ لَا اَقُوْلُ پر ہی ہے اسی طرح وَلَا اَعْلَمُ الْغَیْبَ کا عطف بھی لامحالہ لَا اَقُوْلُ پر ہی ہے۔
Ayah 6:51

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

اور خبردار کر دے اس قرآن سے59 لوگوں کو جن کو ڈر ہے اس کا کہ جو جمع ہوں گے اپنے رب کے سامنے اس طرح پر کہ اللہ کے سوا نہ کوئی ان کا حمایتی ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا تاکہ وہ بچتے رہیں

59 یہ تخویف اخروی ہے۔ اَلَّذِیْنَ یفون۔ یعنی جو لوگ اللہ سے ڈرتے اور اس کے حکم کی تعمیل میں سعی کرتے ہیں، انابت کرتے ہیں، ضد نہیں کرتے۔ جیسا کہ فرمایا فَاَعْرِضْ عَمَّنْ تَوَلّٰی عَنْ ذِکْرِنَا (النجم ع 3) ۔
Ayah 6:52

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور مت دور کر60 ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام چاہتے ہیں اس کی رضا تجھ پر نہیں ہے ان کے حساب میں سے کچھ اور نہ تیرے حساب میں سے ان پر ہے کچھ کہ تو ان کو دور کرنے لگے پس ہوجاوے گا تو بےانصافوں میں

60 یہ زجر ہے یعنی جو لوگ خالصا اللہ ہی کو پکارتے ہیں اور اسی کی خوشنودی ڈھونڈتے ہیں۔ آپ ان کو اپنی مجلس سے نہ ہٹائیں آپ پر ان کا کوئی بوجھ نہیں اور نہ ان پر آپ کا کوئی بوجھ ہے۔ سب کی روزی اللہ کے ذمہ ہے۔ ای جزاءھم ورزقھم علی اللہ و جزاءک ورزقک علی اللہ لا غیرہ (قرطبی ج 6 ص 433) آپ کے اور ان کے درمیان محض ایمان اور عمل صالح کا تعلق ہے۔ ایسا نہ ہو کہ کہیں آپ ان لوگوں کو دھتکار کر ظالموں میں سے ہوجائیں۔
Ayah 6:53

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے آزمایا ہے بعضے لوگوں کو بعضوں سے61 تاکہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے فضل کیا ہم سب میں کیا نہیں ہے اللہ خوب جاننے والا شکر کرنے والوں کو

61 اب تک دعویٰ توحید پر سات عقلی دلیلیں بیان ہوئیں ابآگے منکرین کے انکار کی وجوہ کا سلسلہ شروع ہورہا ہے کہ ایسے واضح عقلی دلائل کے باجود منکرین توحید کا کیوں انکار کرتے ہیں۔ یہ انکار کی پہلی وجہ ہے اور کاف اس میں تشبیہ کے لیے نہیں بلکہ بیان کمال کے لیے ہے۔ لِیَقُوْلُوْا میں لام عاقبت کیلئے ہے۔ اس وجہ کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین جو دولت مند تھے وہ مسلمانوں کو حقیر سمجھتے تھے اور غریب لوگوں کے اسلام کی طرف سبقت کرنے کی وجہ سے ان سے حسد کرتے تھے۔ الکفار الاغنیاء کانوا یحسدون فقراء الصحابۃ ؓ عنھم علی کو نھم سابقین فی الاسلام متسارعین الی قبولہ (روح ج، ص 162) ۔
Ayah 6:54

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

اور جب آویں تیرے پاس62 ہماری آیتوں کے ماننے والے تو کہہ دے تو سلام ہے تم پر لکھ لیا ہے تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو کہ جو کوئی کرے تم سے برائی ناواقفیت سے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیک ہوجاوے تو بات یہ ہے کہ وہ ہے بخشنے والا مہربان

62 یہ ایمان والوں کے لیے بشارت ہے کَتَبَ عَلیٰ نَفْسِہٖ یعنی یہ مشرکین اگرچہ تم کو حقیر سمجھتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ازراہ فضل و احسان ایمان والوں کے لیے رحمت و شفقت اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ اس لیے جو مومن غلطی کے بعد سچی توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور معاف فرمادے گا۔
Ayah 6:55

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور اسی طرح 63 ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں آیتوں کو اور تاکہ کھل جاوے طریقہ گناہ گاروں کا

ف 63:۔ یہ عدم تسلیم کی دوسری وجہ ہے یعنی جس قدر مشرکانہ عقائد کی برائی کھول کر بیان کی جاتی ہے اسی قدر ان کے بغض اور کفر میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ ” ولتستبین “ میں واؤ کے بارے میں تین اقوال ہیں (1) ۔ اس کا معطوف علیہ کوئی مناسب فعل محذوف ہے۔ مثلا ” لتبین سبیلھم “ (2) یہ جملہ مذکورہ کے مضمون پر معطوف ہے۔ (3) زائدہ ہے۔
Ayahs 6:56–57

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

تو کہہ دے مجھ کو روکا64 گیا ہے اس سے کہ بندگی کروں ان کی جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا تو کہہ میں نہیں چلتا تمہاری خوشی پر بیشک اب تو میں بہک جاؤں گا اور نہ رہوں گا ہدایت پانے والوں میں

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

تو کہہ دے کہ مجھ کو شہادت پہنچی میرے رب کی اور تم نے اس کو جھٹلایا میرے پاس نہیں جس چیز کی تم جلدی کر رہے ہو حکم کسی کا نہیں سو اللہ کے بیان کرتا ہے حق بات اور وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے

64 چوتھا طریق تعلیم یعنی مجھے اس بات سے منع کردیا گیا ہے کہ میں ان باطل معبودوں کو پکاروں جن کو تم پکارتے ہو۔ قُلْ لَّا اَتَّبِعُ الخ یہ پانچواں طریق تعلیم ہے یعنی مجھے یہ حکم بھی ملا ہے کہ میں تمہاری خواہشات اور تمہارے خود ساختہ دین کی پیروی کروں اگر میں ایسا کروں گا تو ہدایت کی راہ سے بھٹک کر گمراہ ہوجاؤں۔ قُلْ اِنِّیْ عَلیٰ بَیِّنَۃٍ یہ چھٹا طریق تعلیم ہے۔ یعنی میرے پاس تو اللہ کی طرف سے دلائل موجود ہیں جو میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ باقی رہا وہ عذاب جس کے جلدی آنے کا تم مطالبہ کر رہے ہو وہ میرے اختیار و تصرف میں نہیں وہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ للہ وحدہ من غیر ان یکون لغیرہ سبحانہ دخل مافیہ بوجہ من الوجوہ (روح ج 7 ص 169)
Ayah 6:58

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

تو کہہ اگر ہوتی میرے پاس65 وہ چیز جس کی تم جلدی کر رہے ہو تو طے ہوچکا ہوتا جھگڑا درمیان میرے اور درمیان تمہارے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو

65 یہ ساتواں طریق تبلیغ ہے نیز سوال مقدر کا جواب ہے یعنی جب ہم مانتے نہیں تو ہم پر عذاب لے آؤ تو اس کا جواب دیا گیا کہ کہہ دو یہ میرے قبضے میں نہیں غائبانہ حکم اور تصرف صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔
Ayah 6:59

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور اسی کے پاس کنجیاں ہیں غیب کی66 کہ ان کو کوئی نہیں جانتا اس کے سوا اور وہ جانتا ہے جو کچھ جنگل اور دریا میں ہے اور نہیں جھڑتا کوئی پتا مگر وہ جانتا ہے اس کو اور نہیں گرتا کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں اور نہ کوئی ہری چیز اور نہ کوئی سوکھی چیز مگر وہ سب کتاب مبین میں ہے

66 یہ توحید پر آٹھویں عقلی دلیل ہے۔ نیز عذاب نہیں لاسکتے تو یہ بتاؤ کہ عذاب کب آئے گا۔ اس کا جواب دیا کہ اس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ یہ قاعدہ کلیہ ہے اور عندہ ظرف کی تقدیم افادہ حصر کے لیے و یعلم ما فی البر والبحر یہ قاعدہ کلیہ کی جزئیات ہیں اور یہاں بھی حصر ہے وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃً الخ یعنی ان اشیاء اور جزئیات کے احوال متغیرہ کو بھی صرف اللہ ہی جانتا ہے اور کوئی نہیں جانتا۔ کِتٰبٍ مُّبِیْن اس سے مراد اعمال نامے ہیں جو فرشتوں کے پاس ہوتے ہیں یا اس سے لوح محفوظ یعنی علم الٰہی مراد ہے اور یہی اولی اور راجح ہے۔ اِلَّا فِیْ کِتَاب مُّبِیْنٌ۔ وھو علم اللہ او اللوح المحفوظ (مدارک ج 2 ص 13) ۔
Ayah 6:60

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہی ہے کہ قبضہ میں لے لیتا ہے تم کو رات میں5 اور جانتا ہے جو کچھ کہ تم کرچکے67 ہو دن میں پھر تم کو اٹھا دیتا ہے اس میں تاکہ پورا ہو وہ وعدہ جو مقرر ہوچکا ہے پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے پھر خبر دے گا تم کو اس کی جو کچھ تم کرتے ہو

67 جَرَحْتُمْ کے معنی کَسَبْتُمْ کے ہیں اور بالنھار میں باء بمعنی فی ہے یعنی جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو وہ سب معلوم ہے۔ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِ ۔ فیہ کی ضمیر سے نہار ثانی مراد ہے۔
Ayahs 6:61–62

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اور وہی غالب ہے68 اپنے بندوں پر اور بھیجتا ہے تم پر نگہبان یہاں تک کہ جب آپہنچے تم میں سے کسی کو موت تو قبضہ میں لے لیتے ہیں ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اور وہ کوتاہی نہیں کرتے

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر پہنچائے جاویں گے اللہ کی طرف جو مالک ان کا ہے سچا سن رکھو حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے

68 یہ تخویف دنیوی ہے تَوَفَّتہُ رُسُلُنَا سے اہل بدعت اعتراض کرتے ہیں کہ اگر ایک فرشتہ عزرائیل ایک وقت میں ہزاروں جگہ حاضر و ناظر ہو کر ہزاروں انسانوں کی جانیں قبض کرلیتا ہے تو کیا آنحضرت ﷺ ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں ہوسکتے۔ اس آیت سے ان کا اعتراض باطل ہوگیا کیونکہ یہاں رُسُلُنَا جمع کے صیغہ سے معلوم ہوا کہ قبض ارواح پر صرف ایک فرشتہ ہی مقرر نہیں بلکہ اس کے ماتحت ہزاروں لاکھوں فرشتے ہیں جو اس کام پر مقرر ہیں ان کو ملائکۃ الموت یا ملک الموت (بارادہ اسم جنس) کہتے ہیں اس لیے صرف ایک فرشتہ ہی تمام انسانوں کی جانیں نہیں قبض کرتا بلکہ وہ تو صرف حکم خداوندی کے ماتحت اپنے ماتحتوں کو حکم دیتا ہے لہذا اہل بدعت کا دعویٰ باطل ہے۔ اس کی تائید اور کئی آیتوں سے ہوتی ہے۔ مثلاً سورة اعراف ع 4 میں فرمایا حتّٰی اِذَا جَا ءَتْھُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَہُمْ ۔ اہل بدعت سورة سجدہ کی ایک آیت سے استدلال کرتے ہیں۔ قُلْ یَتَوَفّٰکُمْ مَلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُکِّلَ بِکُمْ ۔ وہ کہتے ہیں یہاں ملک الموت واحد کا صیغہ ہے جس سے ایک فرشتہ مراد ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ واحد کا صیغہ نہیں بلکہ اسم جنس ہے جو قلیل اور کثیر دونوں کے استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 6:63

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

تو کہہ کون تم کو بچا لاتا ہے69 جنگل کے اندھیروں سے اور دریا کے اندھیروں سے اس وقت میں کہ پکارتے ہو تم اس کو گڑ گڑا کر اور چپکے سے کہ اگر ہم کو بچا لیوے اس بلا سے تو البتہ ہم ضرور احسان مانیں گے

69 یہ توحید پر نویں دلیل عقلی ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ ظُلُمٰتِ البَرِّ وَالْبَحْرِ سے وہ شدائد و مشکلات مراد ہیں جو خشکی پر یا سمندروں میں انسانوں کو گھیر لیں۔ عن ابن عباس ؓ شدائد ھما وھوالہما التی تبطل الحواس و تدھش العقول (روح ج 7 ص 179) یعنی جب مشرکین شدائد و مشکلات میں گھر جاتے ہیں تو سب کچھ بھول کر صرف اللہ ہی کو پکارتے ہیں تو جب اللہ ہی متصرف و کارساز ہے تو مصیبت دور ہوجانے کے بعد اپنے معبودوں کو کیوں پکارتے ہو اور پھر شرک کرنا شروع کردیتے ہو۔
Ayahs 6:64–65

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

تو کہہ دے اللہ تم کو بچاتا ہے اس سے اور ہر سختی سے پھر بھی تم شرک کرتے ہو تو کہہ اسی کو قدرت ہے70 اس پر کہ بھیجے تم پر عذاب

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا بھڑا دے تم کو مختلف فرقے کر کے اور چکھا دے ایک کو لڑائی ایک کی دیکھ کس کس طرح سے ہم بیان کرتے ہیں آیتوں کو تاکہ وہ سمجھ جاویں

70 یہ تخویف دنیوی ہے یعنی اگر تم انکار ہی کرتے چلے جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ اس پر بھی قادر ہے کہ دنیا میں ہر طرف سے تم پر عذاب نازل کر دے اور تم میں بغض وعداوت ڈال کر تم کو ٹکڑے ٹکڑے کردے اور تم آپس میں لڑنے لگو۔
Ayahs 6:66–67

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور اس کو جھوٹ بتلایا تیری قوم نے71 حالانکہ وہ حق ہے تو کہہ دے کہ میں نہیں تم پر داروغہ

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر ایک خبر کا ایک وقت مقرر ہے اور قریب ہے کہ اس کو جان لو گے

71 یہ زجر ہے۔ لِکُلِّ نَبَاٍ مُسْتَقَرٍ نَبا کے معنی خبر یا امر (معاملہ) مستقر یعنی وقت استقرار اور وقوع کا مطلب یہ کہ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے جب اس کا وقت آجاتا ہے تو اس کے وقوع میں ہرگز تاخیر نہیں ہوتی مثلا جب معاندین کا انکار اور ضد انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو اللہ کا عذاب آجاتا ہے وَ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۔ تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 6:68–69

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور جب تو دیکھے72 ان لوگوں کو کہ جھگڑتے ہیں ہماری آیتوں میں تو ان سے کنارہ کر یہاں تک کہ مشغول ہوجاویں کسی اور بات میں اور اگر بھلا دے تجھ کو شیطان تو مت بیٹھ یاد آجانے کے بعد ظالموں کے ساتھ

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور پرہیزگاروں پر نہیں ہے جھگڑنے والوں کے حساب میں سے کوئی چیز لیکن ان کے ذمہ نصیحت کرنی ہے تاکہ وہ ڈریں

72 یہ زجر ہے یَخُوْضُوْنَ یعنی بحث و تمحیص کرتے اور آیتوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ جب مشرکین آیتوں سے تمسخر کرنے لگیں تو آپ ان کے پاس مت بیٹھیں ہاں اگر وہ کوئی اور موضوع چھیڑدیں تو پھر آپ تبلیغ کے لیے ان کی مجلس میں بیٹھ سکتے ہیں۔ بَعْدَ الذِّکْرٰی یعنی نصیحت کرنے کے بعد یا امر خداوندی یاد آجانے کے بعد۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو ان سے اعراض کرنے کا حکم یاد نہ رہے اور آپ ان کے پاس بیٹھے رہیں تو جب آپ کو یاد آجائے اسی وقت وہاں سے اٹھ کھڑے ہوں اور اس کے بعد وہاں نہ بیٹھیں یا مطلب یہ ہے کہ ان کو نصیحت کرنے کے بعد وہاں نہ بیٹھیں۔
Ayah 6:70

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور چھوڑ دے ان کو73 جنہوں نے بنا رکھا ہے اپنے دین کو کھیل اور تماشا اور دھوکا دیا ان کو دنیا کی زندگانی نے اور نصیحت کر ان کو قرآن سے74 تاکہ گرفتار نہ ہوجاوے کوئی اپنے کئے میں کہ نہ ہو اس کے لئے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ سفارش کرنے والا اور اگر بدلے میں دے75 سارے بدلے تو قبول نہ ہوں اس سے وہی لوگ ہیں جو گرفتار ہوئے اپنے کئے میں ان کو پینا ہے گرم پانی اور عذاب ہے دردناک بدلے میں کفر کے

73 یہ زجر ہے یعنی ان لوگوں کو چھوڑئیے جنہوں نے لہو ولعب کو اپنا دین بنا رکھا ہے۔ مثلاً غیر اللہ کو پکارتے ہیں اور غیر اللہ کے لیے تحری میں کرتے ہیں ایسے لوگوں سے آپ تعلقات منقطع کرلیں۔ البتہ تذکیر وتبلیغ کرتے رہیں۔ (الثانی) اِتَّخَذُوْا ما ھو لعب و لھو من عبادۃ الاصنام وغیرھا دینا لھم (الثالث) ان الکفار کانوا یحکمون فی دین اللہ بمجرد التشھی والتمنی مثل تحریم السوائب والبحائر۔ فعبر اللہ تعالیٰ عنہم بانہم اتخذوا دینھم لعبا ولھو (کبیر ص 94 ج 4) جیسا کہ آج کل مشرک پیر سارنگی، و کڑا اور دوسرے ساز بجوا کر معرفت الٰہی حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ 74 یہ تخویف اخروی ہے اَنْ تُبْسَلَ یہ ابسال سے مضارع مجہول ہے۔ ابسال کے معنی روکنے یا محروم کرنے کے ہیں۔ ان تبسل ای تحبس (روح) او تحرم الثواب (راغب) اَنْ سے پہلے لام اور اِنْ کے بعد لا مقدر ہے ای لئلا تبسل یا ان تبسل سے پہلے مضاف محذوف ہے ای مخافۃ ان تبسل او کراھۃ ان تبسل (روح) یعنی آپ ایسے لوگوں سے تعلقات معاشرت قطع کرلیں لیکن ان کو اللہ کے عذاب سے ڈراتے رہیں شاید یہ لوگ ایمان لے آئیں اور اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ثواب سے محروم ہو کر ہلاک نہ ہوجائیں کیونکہ جس نے دنیا میں حق کو قبول نہ کیا آخرت میں اس کے لیے جہنم کے سوا کچھ نہیں وہاں کوئی مددگار اور سفارشی نہیں ہوگا۔ 75 عَدْلٌ کے معنی فِدْیَۃٌ کے ہیں۔ اگر بالفرض) کیونکہ واقعہ میں تو ایسا نہیں ہوسکے گا) کوئی مجرم شخص قیامت کے دن فدیہ دے کر عذاب سے بچنا چاہے گا تو اس سے فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ وہی لوگ ہوں گے جو اپنی بد عملی اور کفر وشرک کی وجہ سے ثواب اور اجر سے محروم ہوں گے اس لیے انہیں کفر و انکار کی وجہ سے آخرت میں شدید ترین عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔
Ayahs 6:71–72

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

تو کہہ دے کیا ہم پکاریں اللہ کے سوا76 ان کو جو نہ نفع پہنچا سکیں ہم کو اور نہ نقصان اور کیا پھر جاویں ہم الٹے پاؤں اس کے بعد کہ اللہ سیدھی راہ دکھا چکا ہم کو مثل اس شخص کے کہ راستہ بھلا دیا ہو اس کو جنوں نے جنگل میں جب کہ وہ حیران ہے اس کے رفیق بلاتے ہیں اس کو راستہ کی طرف کہ چلا آ ہمارے پاس تو کہہ دے کہ اللہ نے جو راہ بتلائی وہی سیدھی راہ ہے77 اور ہم کو حکم ہوا ہے کہ تابع رہیں پروردگار عالم کے

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

اور یہ کہ قائم رکھو نماز کو اور ڈرتے رہو اللہ سے اور وہی ہے جس کے سامنے تم سب اکھٹے ہو گے

76 یہ گذشتہ پانچ عقلی دلیلوں کا ثمرہ اور نتیجہ ہے۔ یعنی یہ ثابت ہوگیا کہ (1) ہر جاندار کا روزی رساں اللہ تعالیٰ ہے۔ (تمام مصائب و مشکلات وہی آسان کرتا ہے۔ (3) انسانی حواس اور طاقتیں اسی کے قبضے میں ہیں (4) زمین و آسمان اور بحر وبر کا کلی اور تفصیلی غیب بھی صرف وہی جانتا ہے اور (5) بحر وبر کے شدائد اور ہر کرب وضرر سے وہی نجات دیتا ہے تو معلوم ہوا کہ مالک و مختار متصرف و کارساز اور عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے دوسرا کوئی نہیں تو کیا اس کے باوجود ہم اللہ کے سوا ایسوں کو پکاریں جنہیں ہمارے نفع و نقصان کا ذرہ برابر اختیار نہیں جو نہ متصرف و مختار ہیں نہ غیب دان اگر ہم ایسا کریں تو ہم ہدایت کے بعد الٹے پھر گمراہ ہوجائیں گے کیونکہ شرک سب سے بڑی گمراہی کَالَّذِیْ اسْتَھْوتہ الخ یعنی اس صورت میں ہماری حالت اس شخص کی مانند ہوگی جسے شیاطین نے صراط مستقیم سے بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران و سرگردان پھر رہا ہو اور اس کے دوسرے ساتھی اسے سیدھی راہ کی طرف بلا رہے ہوں لیکن بدقسمتی سے وہ سننے والوں کی آواز تو سن سکتا ہے مگر سیدھی راہ نہیں دیکھ سکتا۔ 77 ان مذکورہ دلائل کے ہوتے ہوئے ہم غیر خدا کو تو پکارنے سے رہے یہ تو سراسر گمراہی ہے اور ہدایت کا راستہ وہی ہے جو اللہ نے ہمیں بتایا ہے یعنی توحید کا راستہ اور ہمیں تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اس اللہ کے سامنے ہی جھکیں جو تمام دنیا جہان والوں کا پروردگار اور مربی ہے وان اقیموا اس سے پہلے قیل لنا مقدر ہے بقرینہ ماقبل۔
Ayah 6:73

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو78 ٹھیک طور پر اور جس دن کہے گا کہ ہوجا تو وہ ہوجائے گا اس کی بات سچی ہے اور اسی کی سلطنت ہے جس دن پھونکا جائے گا صور جاننے والا چھپی اور کھلی باتوں کا اور وہی ہے حکمت والا جاننے والا

78 یہ توحید پر دسویں عقلی دلیل ہے بالحق میں با بمعنی لام ہے یا الحق سے پہلے مضاف محذوف ہے ای لاظھار الحق یعنی یہ زمین و آسمان اور یہ سارا جہاں حق اور توحید کو ظاہر کرنے کے لیے اللہ ہی نے پیدا کیا ہے اور اس کی قدرت کا کیا ٹھکانا جب وہ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ چیز فوراً وجود میں آجاتی ہے قولہ الحق اسی کی بات سچی اور مبنی بر حقیقت ہے لہ الملک الخ قیامت کے دن اسی کی حکومت ہوگی اور اس کے سوا مجازی طور پر بھی کسی کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادۃِ غیب و شہادت کا کلی علم بھی اسی ہی کو ہے اور کسی کو نہیں ماقبل اور مابعد کے قرینے سے یہاں بھی حصر مراد ہے۔ اس عقلی دلیل سے ثابت ہوگیا کہ کارساز و متصرف اور غیب دان صرف اللہ ہی ہے اور کوئی نہیں۔
Ayah 6:74

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

اور یاد کر جب کہا ابراہیم نے79 اپنے باپ آزر کو80 تو کیا مانتا ہے بتوں کو خدا میں دیکھتا ہوں کہ توُ اور تیری قوم صریح گمراہ ہیں

79 یہ توحید پر پہلی نقلی دلیل ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے تفصیلاً اور باقی تمام انبیاء (علیہم السلام) سے اجمالاً تصدیق وتائید اور دستخط کے طور پر آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا لقب ہے اور ان کا نام بقول زجاج باتفاق مؤرخین تارح (بتاء مثناۃ فوقانیہ والف وراء مہملۃ مفتوحہ وحاء مہملہ اور بعض نے خاء معجمہ کہا ہے) ۔ مام ابن جریج سے بھی تارح منقول ہے۔ حضرت ابن عباس، امام مجاہد، سدی سعید بن مسیب ور سلمان تیمی کہتے ہیں کہ آزر بمعنی اعوج (ٹیڑھا) ہے۔ آزر مشرک ہونے کی وجہ سے خطا کار اور ٹیڑھے راستے پر گامزن تھا اس لیے اس لقب سے ملقب کیا گیا (کلہ من الروح ج 7 ص 194 ج 7 والکبیر ج 4 ص 102) ۔ 80 آزر وزن فعل اور علمیت یا وصفیت کی وجہ سے غیر منصرف ہے۔ اور وہ اَبِیْہِ کا عطف بیان ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ نہیں تھا بلکہ ان کا چچا تھا اور چچا کو باپ کہنا عربی زبان کے محاورات میں عام ہے۔ علامہ سیوطی نے اس پر قرآن مجید کی آیت وَتَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیْنَ (شراء ع 11) سے استدلال کیا ہے اور کہا ہے کہ اس آیت میں ساجدین (سجدہ کرنے والوں) سے آنحضرت ﷺ کے آباء و اجداد مراد ہیں اور تَقَلُّب سے پشت بہ پشت منتقل ہونا مراد ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ حضور ﷺ کے آباء و اجداد موحد تھے ان میں کوئی مشرک نہیں تھا اس لیے آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ نہیں تھا بلکہ چچا تھا۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ تھا جیسا کہ قرآن مجید کی نص سے ظاہر ہے اس میں تاویل کی گنجائش نہیں اور قرآن میں ساجدین سے صحابہ کرام مراد ہیں جیسا کہ آیت کے سیاق وسباق سے ظاہر ہوتا ہے جیسا کہ شاہ عبدالقادر دہلوی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔ یعنی جب تو تہجد کو اٹھتا ہے اور یاروں کی خبر لیتا ہے کہ اللہ یاد میں ہیں یا غافل۔ حق تو یہی ہے لیکن آنحضرت ﷺ کے آباء کرام کے ایمان وکفر کی بحث میں ہرگز نہیں پڑنا چاہئے۔ مسئلہ کی زیادہ تحقیق سورة شعراء کے آخر رکوع میں آئیگی۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 6:75

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

اور اسی طرح81 ہم دکھانے لگے ابراہیم کو عجائبات آسمانوں اور زمین کے اور تاکہ اس کو یقین آجاوے

81 اس میں کاف بیان کمال کے لیے ہے یعنی یوں زمین و آسمان کے عجائب ابراہیم (علیہ السلام) کو دکھانا یہ ہمارا ہی کمال ہے اور نُرِیَ فعل مضارع ماضی کی جگہ استعمال کیا گیا ہے ای عرفناہ و بصرناہ (روح) مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰت وَالْاَرْض سے زمین و آسمان کے عجائبات اور قدرت خداوندی کی آیات مراد ہیں۔ وَلِیَکُوْنَ اس کا معطوف علیہ محذوف ہے ای لیستدل بہ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ ۔
Ayah 6:76

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

پھر جب اندھیرا کرلیا اس پر رات نے دیکھا اس نے ایک ستارہ82 بولا یہ ہے رب میرا پھر جب وہ غائب ہوگیا تو بولا میں پسند نہیں کرتا غائب ہوجانے والوں کو

82 ھٰذَا سے پہلے بقرینہ عرف ہمزہ استفہام محذوف ہے گویا یہ کلام بطریق ارخاء العنان ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم ستارہ پرست تھی اور وہ ان کو ستاروں کے احوال کے مشاہدہ کرا کے اس سے اللہ کی توحید اور ستاروں کی عاجزی و بیچارگی پر استدلال کرنا چاہتے تھے چناچہ جب انہیں غروب آفتاب کے بعد سیارہ مشتری نظر آیا تو انہوں نے قوم کو مخاطب کر کے فرمایا کیا یہ میرا رب ہے ؟ اور تمہاری طرح میں بھی اس کو رب مان لوں اچھا ذرا ٹھہر جاؤ دیکھو اس کا حشر کیا ہوتا ہے۔ فَلَمَّا اَفَلَ جب وہ تارہ غروب ہوگیا تو قوم کو سنا کر فرمایا لَااُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ میں ایسے خداؤں کو پسند نہیں کرتا جو ایک حال پر نہ رہیں اور نہ میں ایسے متغیر الحال معبودوں کی ربوبیت کا معتقد ہوں۔
Ayah 6:77

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب83 دیکھا چاند چمکتا ہوا بولا یہ ہے رب میرا پھر جب غائب ہوگیا بولا اگر نہ ہدایت کرے گا مجھ کو رب میرا تو بیشک میں رہوں گا گمراہ لوگوں میں

83 پھر جب چمکتا ہوا چاند دیکھا تو کہا کیا یہ میرا رب ہے، کیا میں بھی اس کو اپنا رب اور کارساز بنا لوں ؟ فَلَمَّا اَفَلَ الخ لیکن جب چاند بھی غروب ہوگیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اگر اللہ نے مجھے ہدایت نہ دی ہوتی اور مجھے سیدھی راہ نہ دکھائی ہوتی تو آج میں بھی ان ستارہ پرست مشرکین کی طرح گمراہ ہوتا۔
Ayahs 6:78–79

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جب دیکھا سورج جھلکتا ہوا84 بولا یہ ہے رب میرا سب سے بڑا ہے پھر جب غائب ہوگیا بولا اے میری قوم میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

میں نے متوجہ کرلیا اپنے منہ کو اسی کی طرف جس نے بنائے آسمان اور زمین سب سے یکسو ہو کر اور میں نہیں ہوں شرک کرنے والا

84 جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ سورج نکل آیا ہے تو فرمایا یہ ان سب سے بڑا ہے کیا میرا رب ہے ؟ لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا تو فرمایا اب میری حجت تم پر قائم ہوچکی اور تم نے دیکھ لیا کہ تمہارے معبود کس قدر ناپائیدار ہیں اسلیے میں اعلان کرتا ہوں کہ میں ان تمام معبودان باطلہ سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ الخ میں تو اس سے پہلے باطل معبودوں سے منہ موڑ کر اپنا چہرہ اس منزہ صفات کی طرف پھیر چکا تھا جس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اور میں نے کبھی مشرکین کا عقیدہ قبول نہیں کیا۔ فائدہ : مرزا غلام احمد قادیانی کذاب نے ابتداء میں اپنی بعض کتابوں میں لکھا تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہیں جو شخص وفات مسیح کا قائل ہو وہ مشرک ہے لیکن بعد میں جب اس نے نبوت کا دعویٰ کردیا تو وہ خود وفات مسیح کا قائل ہوگیا تو اس پر اعتراض کیا گیا کہ پہلے تو مشرکانہ عقیدے پر تھا اور نبی نبوت سے پہلے بھی شرک سے پاک ہوتے ہیں تو اس کا جواب دیتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مذکورہ واقعہ سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ نبیوں سے قبل نبوت شرک جیسا گناہ بھی سرزد ہوسکتا ہے (العیاذ باللہ) حالانکہ یہ صریح کفر ہے۔ قادیانی نے ان آیتوں میں دیدہ دانستہ تحریف کی ہے اور دعوی کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس واقعہ کے بعد اللہ کی توحید کا علم ہوا جو سراسر غلط ہے۔ وہ اس واقعہ سے قبل بھی موحد ہی تھے۔ شرک تو اکبر الکبائر ہے اور اللہ کے نبی قبل نبوت صغیرہ گناہوں سے بھی پاک ہوتے ہیں۔ لَئِنْ لَّمْ یَھْدِنِیْ رَبِّیْ ۔ صیغہ ماضی منفی اور اسی طرح اِنِّیْ وَجَّھْتُ ماضی کا صیغہ ہے اور پھر آگے چل کر فرمایا وَحَاجَّہٗ قَوْمُہٗ قَالَ اَتُحَاجُّوْنِّیْ فِیْ اللہِ ۔ یہاں بھی وَ قَدْھَدَان ماضی کا صیغہ ہے پھر اس کے بعد ارشاد فرمایا وَتِلْکَ حُجَّتُنَا اٰتَیْنَا ھَا اِبْرَاھِیمَ عَلیٰ قَوْمِہٖ یہ تمام قرائن اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس واقعہ سے قبل بھی توحید پر ہی تھے اور یہ طرز استدلال نہیں اللہ کی طرف سے ان کی قوم پر بطور حجت عطا ہوا۔ بعض لوگ کہتے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بارہ سال تک غار میں رہے اس کے بعد انہیں غار سے نکالا گیا یہ بےبنیاد ہے
Ayah 6:80

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور اس سے جھگڑا کیا85 اس کی قوم نے بولا کیا تم مجھ سے جھگڑا کرتے ہو اللہ کے ایک ہونے میں اور وہ مجھ کو سمجھا چکا اور میں ڈرتا نہیں ہوں86 ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو اس کا مگر میرا رب ہی کوئی تکلیف پہچانی چاہے احاطہ کرلیا ہے میرے رب کے علم نے سب چیزوں کا کیا تم نہیں سوچتے

85 جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی طرف سے مامور ہو کر شرک کی مذمت کی تو ان کی مشرک قوم ان سے جدال و مخاصمت پر اتر آئی تو انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اللہ کی توحید کے بارے میں مجھ سے جھگڑا کرتے ہو۔ حالانکہ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے دلائل ثلثہ یعنی عقلی، نقلی توحید کی سیدھی راہ دکھائی ہے فِی اللہِ یہاں مضاف محذوف ہے۔ ای فی توحیدہ وقد ھدانی الی التوحید (مدارک ج 2 ص 16) ای بالدائل الثلاثۃ۔ 86 یہ سوال مقدر کا جواب ہے مشرکین نے دوران مخاصمت یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے معبودوں کی مخالفت چھوڑ دو ورنہ وہ تمہیں نقصان پہنچائیں گے تو اس کا جواب دیا کہ جن کو تم کارساز اور متصرف سمجھ کر اللہ کی عبادت اور پکار میں شریک کرتے ہو وہ بالکل بےبس ہیں میں ان سے ہرگز نہیں ڈرتا۔ ہاں اگر مجھے کوئی نقصان پہنچ بھی گیا تو میں سمجھوں گا کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ میرے رب کا علم ہر چیز پر حاوی اور ہر شئ کو محیط ہے۔