Ayah 5:12 حصہ اول۔ 1 ۔ شرک فعلی کی نفی۔ 2 ۔ شرک اعتقادی (شرک فی التصرف) کی نفی
سورت کی ابتداء سے سورت کے پہلے حصے کی ابتداء ہوتی ہے یہ حصہ رکوع 6 میں وَاللہُ عَلیٰ کُلِّ شَیءٍ قَدِیْرٌ پر ختم ہوتا ہے اس حصے میں شرک کی دو قسموں یعنی شرک فعلی اور شرک اعتقادی کا رد ہے۔ شروع سے لیکر رکوع 3 میں وَ سَوْفَ یُنَبِّئُھُمُ اللہُ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ تک میں نفی شرک فعلی کا مضمون مذکور ہے اور اس کے متصل بعد یَا اَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَاء کُمْ رَسُوْلُنَا الخ سے لیکر حصہ اول کے آخر تک شرک فی التصرف کی نفی کا بیان ہے۔
3 العقود، عقد کی جمع ہے جس کے معنی اصل لغت میں مضبوطی سے گرہ باندھنے کے ہیں لیکن بطور استعارہ یہ لفظ پختہ اور مضبوط عہد و پیمان باندھنے اور خریدو فروخت وغیرہ معاملات کے لیے عام استعمال ہوتا ہے۔ اس آیت میں عقود سے کیا مراد ہے اس بارے میں مفسرین کی آراء مختلف ہیں۔ بعض نے اسلام سے پہلے کے عہد و پیمان اور قسمیں مراد لی ہیں۔ بعض کہتے ہیں اس سے بیع و شراء اور نکاح وغیرہ کے عقود مراد ہیں۔ بعض نے اس کے ساتھ آپس میں کیے گئے وعدے بھی شامل کیے ہیں۔ پھر بعض مفسرین نے اس آیت کو مومنین اہل کتاب کے ساتھ مختص کیا ہے اور عقود سے وہ میثاق مراد لیا ہے جو تورات اور انجیل میں آنحضرت ﷺ کی تصدیق اور آپ کی تائید کرنے کے بارے میں ان سے لیا گیا تھا۔ یہ تمام اقوال تفسیر ابن جریر ج 6 ص 28 و قرطبی ج 6 ص 32 اور روح المعانی ج 6 ص 48 وغیرہ میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ مگر ان تمام صورتوں میں اس جملے کا مابعد سے کوئی واضح تعلق اور ربط سمجھ میں نہیں آتا اور یہ جملہ ما بعد سے بےجوڑ سا معلوم ہوتا ہے لیکن محققین کے نزدیک اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عام ہے اور اس سے تمام مومنین مراد ہیں خواہ وہ اہل کتاب سے ایمان لائے ہوں یا مشرکین عرب سے۔ قال ابن جریج ھو خاص باھل الکتٰب و فیھم نزلت و قیلھی عامۃ و ھو الصحیح (قرطبی) اسی طرح محقق مفسرین جن کے سرخیل حضرت عبداللہ بن عباس ہیں، کی رائے یہ ہے کہ عقود سے وہ تمام فرائض و واجبات حلال و حرام کی تمام حدود، اسلام کے باقی تمام احکام اور معاملات کے عقود مراد ہیں، جن کی پابندی اور جن کو پورا کرنے کا ہر شخص قبول اسلام یا حد بلوغ کو پہنچتے وقت اللہ تعالیٰ سے عہد کرتا ہے علامہ خازن یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللہِ مِنْ بَعْدِ مِیثَاق (بقرہ رکوع 3) کی تفسیر میں فرماتے ہیں ای عھدا ابرمہ اللہ تعالیٰ واحکم بما انزل اللہ فی کتابہ من ایاتہ الدالۃ علی توحیدہ (خازن ج 1 ص 37) حضرت شیخ (رح) اسی کو ترجیح دیتے تھے۔ کیونکہ قرآن مجید کی بعض دوسری آیتوں سے اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ مثلاً اسی سورت میں رکوع 2 میں ارشاد ہے۔ وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیْکُمْ وَ مِیثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہٖ اِذْقُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر مسلمانوں کو وہ عہد یاد دلایا جو انہوں نے سَمِعْنَا (ہم نے سن لیا) اور اَطَعْنَا (ہم نے قبول کیا) کہہ کر باندھا تھا۔ نیز یہ مفہوم اجلّہ صحابہ وتابعین سے منقول ہے۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں۔ اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ معناہ بما اجل و بما احل و بما حرم و بما فرض و بما حد فی جمیع الاشیاء (قرطبی) اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ یعنی یا ایہا الذین التزمتم بایمانکم انوع العقود والعھود فی اظھار طاعۃ اللہ اوفوا بتکلک العقود (کبیر ج 3 ص 517، نیشا پوری، ج 6 ص 42) المراد بھا ما یعم جمیع ما الزمہ اللہ تعالیٰ عبادہ و عقد علیھم من التکالیف والاحکام الدینیۃ و ما یعقدونہ فیما بینھم من عقود الامانات و المعاملات و نحوھما الخ (روح ج 6 ص 48) شاہ ولی اللہ صاحب اس آیت کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں “ اے مومنان وفا کنید بعہدہا یعنی عہدی کہ با خدا بستہ اید در التزام احکام او ” اس مفہوم کی بنا پر اس کا تعلق اور بط ما بعد سے بالکل واضح ہے اور اس آیت کا یہ حصہ پوری سورت کے لیے بمنزلہ تمہید ہے۔ اس میں فرمایا اے ایمان والو تم نے جو فرائض و واجبات اور حلال و حرام وغیرہ کے احکام کی بجا آوری اور ان کے التزام کا اللہ تعالیٰ سے عہد کیا ہے اسے پورا کرو۔ پھر اس کے بعد اُحِلَّتْ لَکُمْ بَھِیْمۃُ الْاَنْعَامِ سے حلال و حرام کے احکام بیان کرنے شروع کردئیے۔ اس سے مقصود شرک فعلی کی نفی ہے۔
4 ایفائے عقود اور التزامِ احکام کا عام حکم دینے کے بعد چوپایوں کی حلت و حرمت کا ذکر فرمایا جس سے اصل مقصد شرک فعلی کا رد ہے۔ یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب نے بعض حلال چیزوں کو اپنے معبودوں کی تعظیم اور خوشنودی کے لیے محض اپنے ظن اور تخمین سے حرام کر رکھا تھا۔ مشرکین نے اس نوع کے جو چوپائے حرام کر رکھے تھے وہ ان کے یہاں بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام سے مشہور و معروف تھے۔ جن کا تفصیلی ذکر سورة مائدہ کے رکوع 14 میں آرہا ہے۔ ان کے پاس ان کی حرمت پر کوئی دلیل نہیں تھی ان حلال چیزوں کی تحریم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پر افترا قرار دیا ہے۔ وَ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَھُمُ اللہُ افْتِرَاءً عَلَی اللہِ (انعام رکوع 16) یہود نے اونٹ کا گوشت اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا۔ علی ہذا اسی قسم کی کئی تحریمات نصاریٰ نے تراش رکھی تھیں۔ ان تحریمات کا حکم یہ ہے کہ وہ باطل ہیں، انہیں اٹھانا چاہیے اور ان سے کوئی حلال چیز حرام نہیں ہوتی۔ مذکورہ اشیاء جس طرح مشرکین کی تحریم سے پہلے حلال تھیں اسی طرح اب بھی حلال ہیں۔ چناچہ اُحِلَّتْ لَکُمْ بَھِیْمۃ الْاَنْعَامِ میں انہی تحریمات مشرکین یا تحریمات لغیر اللہ کا حکم بیان فرمایا کہ یہ چوپائے تمہارے لیے حلال ہیں ان کو کھاؤ اور انہیں حرام مت سمجھو۔ کانت للعرب سنن فی الانعام من البحیرۃ والسائبۃ والوصیلۃ والحام یاتی بیانھا فنزلت ھذہ الایۃ رافعۃ لتلک الاوھام الخیالیۃ ولآراء الفاسدۃ الباطلۃ (قرطبی ج 6 ص 34) و مقتضی ھذین التاویلین انہ تعالیٰ اراد تحلیل ما حرم اھل الجاھلیۃ علی انفسھم من الانعام کالبحیرۃ والسائبۃ (مظھری ج 3 ص 7) شرک فعلی کے ساتھ شرک اعتقادی بھی ضرور ہوتا ہے کیونکہ جب کسی کے دل میں غیر اللہ کے متعلق یہ اعتقاد پیدا ہوجائے کہ وہ مختار و متصرف اور غیب دان ہے تو پھر اس کی خوشنودی کیلئے وہ حلال چوپایوں کو حرام کردیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وہ چوپائے حلال ہیں ان کو حلال سمجھو بھی اور ان کو کھاؤ بھی تاکہ شرک اعتقادی اور شرک فعلی دونوں کی جڑ کٹ جائے۔ یہ مضمون قرآن مجید کی متعدد آیتوں میں مذکور ہے۔ مثلاً ۔ کُلُوْا مِمَّا فِیْ الْاَرْضِ حَلٰلاً طَیِّباً (بقرہ رکوع 21) ۔ 2 ۔ لَاتُحَرِّإُوْا طَیِّبٰتِ مَا اَحَلَّ اللہُ لَکُمْ (مائدۃ رکوع 12) ۔ 3 ۔ مَا جَعَلَ اللہُ مِنْ بَحِیْرَۃٍ وَّ لَا سَائِبَۃٍ وَّ لَا وَصِیْلَۃٍ وَّ لَا حَامٍ (مائدۃ رکوع 14) ۔ 4 ۔ قَالُوْا ھٰذِہٖ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ لَّا یَطْعَمُہٗ اِلَّا مَنْ نَّشَاءُ الخ (انعام رکوع 16) ۔ 5 ۔ قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللہِ الَّتِیْ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ (اعراف رکوع 4) ۔ بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ میں اضافت بیانی ہے۔ و اضاف تھا الی الانعام للبیان کثوب خز ای احل لکم اکل البھیمۃ من الانعام (روح ج 6 ص 49) یعنی تمہارے لیے انعام چوپائے حلال ہیں انہیں کھاؤ کسی کے حرام کرنے سے وہ حرام نہیں ہوسکتے۔ اس سے مراد ابل، بقر اور غنم ہیں جیسا کہ سورة انعام کے رکوع 17 میں تفصیل سے مذکور ہے۔ غیر اللہ کی تحریمات کے مقابلے میں اللہ کی تحریمات ہیں ان کا حکم آیت کے اگلے حصے میں مذکور ہے۔
5 یہ ماقبل سے استثنا ہے اور اس میں اللہ کی تحریمات کے حکم کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو حرام سمجھو اور ان کو مت کھاؤ یعنی تمہارے لیے تمام انعام چوپائے حلال ہیں البتہ ان میں سے جن کا ذکر آگے آرہا ہے وہ حرام ہیں انہیں مت کھاؤ مَایُتْلیٰ سے آیت تحریم مراد ہے جو اسی رکوع میں آگے آرہی ہے۔ ایۃ تحریمہ وھو قولہ حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃ الایۃ (مدارک ج 1 ص 208) ۔
6 یہ دوسرا دعویٰ ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی تحریمات کا بیان ہے ان کا حکم یہ ہے ان کو قائم رکھو اور ان کو حلال مت جانو۔ عام مفسرین نے اس کو لَکُمْ کی ضمیر خطاب سے حال قرار دیا ہے اور مقصود احسان جتلانا بیان کیا ہے کہ حالت احرام میں صرف شکار حرام کیا ہے باقی چوپائے حرام نہیں کیے کما فی الکشاف ج 1 ص 412 ۔ اس طرح تحریمات اللہ کا مسئلہ محض طبعی بن کر رہ جائیگا حالانکہ وہ مقصودی مسئلہ ہے اس لیے اسے کُمْ سے حال بنانے کی بجائے کان محذوف کی خبر قرار دیا جائے ای کونوا غیر محلی الصید اور کان کا مع اسم حذف کرنا اور خبر کو باقی رکھنا کلام عرب میں شائع ہے جیسا کہ امام ابن مالک الفیہ میں رقمطراز ہیں یحذفونھا ویبقون الخبر۔ بعدلووان کثیرا اشتھر۔ اس سے معلوم ہوا کہ لَوْ اور اِنْ کے بعد کان کا حذف بکثرت ہوتا ہے اور ان کے علاوہ بھی حذف جائز ہے۔
7 یہ مُحِلِّی الصَّیْدَ میں ضمیر مستتر سے حال ہے۔ حُرُمٌ، حَرَامٌ کی جمع ہے جس کے معنی محرم یعنی احرام والے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ احرام کی حالت میں شکار کو حلال مت سمجھو۔ اِنَّ اللہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ یہ پہلے دونوں دعو وں کی اجمالی دلیل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو ہر چیز کا مالک ہے وہ جو چاہے حکم صادر فرمائے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
Ayah 5:28 یہ تیسرا دعویٰ ہے یہاں اللہ کی نذروں، نیازوں اور بیت اللہ کی منتوں کی حرمت و عزت قائم رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ شَعَائِرُ اللہ الصفا والمروۃ والھدی والبدن کل ھذا من شعائر اللہ (ابن جریر ج 6 ص 31) حضرت شیخ نے فرمایا شعائر اللہ ما کان معلما بقربان یتقرب بہ الی اللہ من صلوۃ او دعاء او ذبیحۃ او غیرھا۔ امام رازی فرماتے ہیں۔ قال بعضھم الشعائرھی الھدایا تطعن فی اسنامھا و تقلد لیعلم انہ ھدی (کبیر ج 3 ص 521) ۔ وَلَا الشَّھْرَ الْحَرَامَ الف لام جنس کا ہے اور اس سے مراد چار عزت والے مہینے ہیں جن میں جنگ و قتال ممنوع تھا۔ یعنی رجب، ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم الحرام۔ وَلَا الْھَدْیَ یہ ھَدْیَۃ کی جمع ہے اور اس سے وہ چوپائے مراد ہیں جو تقرب الی اللہ کی نیت سے بیت اللہ کی طرف ہدیہ اور نذر و منت کے طور پر لیجائے جاتے ہیں۔ و ھو ما اھدی الی البیت و تقرب بہ الی اللہ تعالیٰ من النسائک وھو جمع ھدیۃ (مدارک ج 1 ص 208) الھدی ما اھدی الی بیت اللہ تعالیٰ من ناقۃ او بقرۃ او شاۃ الخ (قرطبی ج 6 ص 39) وَ لَا الْقَلَائِدَ یہ قَلَادَۃ کی جمع ہے اور قلادہ وہ نشانی ہے جسے ہدی کے جانوروں کے گلے میں لٹکا دیا جاتا تھا تاکہ دیکھنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ یہ بیت اللہ کی ہدی ہے اور اس سے کوئی تعرض نہ کرے۔ قلادوں کی بےحرمتی کرنے سے بطور مبالغہ منع فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ خود ہدایا تو کجا ان کے گلے کے قلادوں کی بےحرمتی بھی مت کرو۔ یا القلائد سے پہلے ذوات مضاف محذوف ہے ای ذوات القلائد یعنی قلادوں والے جانوروں کے بےحرمتی مت کرو۔ المراد منہ الھدی ذوات القلائد۔ الثانی انہ نھی عن التعرفض القلائد الھدی مبالغہ فی النھی عن التعرض للھدی (کبیر ج 3 ص 821) وَ لَا آمِّیْنَ الْبَیْتَ الخ اس سے اطراف مکہ کے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے مشرکین سے مل کر حدیبیہ کے دن حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو بیت اللہ کے طواف سے روکا تھا مگر بعد میں اسلام قبول کرلیا اور محض اللہ کی رضا کے لیے ہدایا لیکر حج کو آتے تھے ان کو چھیڑنے اور ان کی بےحرمتی کرنے سے منع فرمایا۔ حاصل یہ کہ ایمان والوں کو اس سے منع فرمایا کہ وہ شعائر اللہ اور اللہ کے گھر کی نذروں، منتوں اور حجاج کرام کی بےحرمتی کریں یا ان سے کسی قسم کا ناجائز تعرض کریں۔ حضرت شاہ ولی اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں “ مترجم گوید یعنی تعرض حاجیاں و معتمران مسلماناں نباید کرد ولفظہ ایشاں نباید گرفت واللہ اعلم ” حضرت شیخ کے نزدیک بھی راجح یہی ہے کہ اس سے مسلمان حجاج ہی مراد ہیں۔ بعض مفسرین نے آمِّیْنَ الْبَیْتَ سے وہ مشرکین مراد لیے ہیں جنہوں نے حدیبیہ کے دن آپ کو بیت اللہ سے روکا تھا اور مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ یعنی جب یہ لوگ حج کو آئیں تو ان سے تعرض مت کرو اور مشرکین کا اپنے زعم میں حج کرنے سے مقصود اللہ کی رضا مندی تھا اگرچہ شرک کی وجہ سے وہ اللہ کی رضامندی حاصل نہیں کر پاتے تھے ان کے نزدیک یہ آیت فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوْا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُم (توبہ) سے منسوخ ہے لیکن جو مفسرین اس آیت کو مسلمانوں کے حق میں مانتے ہیں ان کے نزدیک یہ آیت منسوخ نہیں وقال بعض المفسرین ان الایۃ فی المسلمین فھی محکمۃ وحکمہا باق فلم تنسخ (المنار ج 6 ص 126) وکذا فی الکبیر ج 3 ص 522) لیکن حضرت شیخ کے نزدیک پہلا معنی راجح ہے۔
9 یہ غَیْرَ مُحِلِّیْ الصَّیْدِ الخ سے متعلق ہے۔ وہاں بحالتِ احرام شکار کرنے سے منع فرمایا تھا یہاں فرمایا جب احرام سے باہر آجاؤ تو شکار کرنے کی اجازت ہے یہ امر وجوب کے لیے نہیں، اباحت کے لیے ہے۔ فالامر للاباحۃ بعد الحظر (روح ج 6 ص 55) ۔
10 جَرْمٌ کے معنی برانگیختہ کرنے اور اکسانے کے ہیں۔ ای لایحملنکم عن ابن عباس وقتادۃ (قرطبی ج 6 ص 44) شَنَاٰنُ بغض و عداوت شَنَاٰنُ قَوْمٍ ای بغضھم (مفردات ص 268) حضرت شیخ نے فرمایا قوم سے یہاں وہی جدید مسلمان مراد ہیں جن کا پہلے آمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ میں ذکر ہوچکا ہے۔ اَنْ صَدُّوْکُم۔ اَنْ سے پہلے لام تعلیل مقدر ہے ای لان صدوکم اور یہ ماقبل کی علت ہے۔ عنِ المسجد الحرام یہ صَدُّوْکُمْ سے متعلق ہے۔ اَنْ تَعْتَدُوْا، اَنْ مصدریہ ہے اور یہ لَایَجْرِمَنَّکُمْ کا مفعول ثانی ہے من القرطبی والکشاف۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی کہ جن مشرکین نے حدیبیہ کے دن ان کو بیت اللہ کے طواف سے روکا تھا ان میں سے جو اسلام لا چکے تھے مذکورہ واقعہ کی بنا پر ان سے بغض نہ رکھا جائے اور ان پر کسی قسم کی زیادتی نہ کی جائے اور ان سے بدلہ نہ لیا جائے اور نہ ان کو حرم کی طرف ہدایا لیجانے اور بیت اللہ کا حج کرنے سے روکا جائے۔ ای لا یحملنکم بغض قوم لصدھم ایاکم عن المسجد الحرام علی اعتدائکم علیھم وا نتقامکم منھم للتشفی (روح ج 6 ص 56) عام مفسرین نے آمِّیْنَ الْبَیْت کی طرح یہاں بھی قوم سے مشرکین مراد لیے ہیں لیکن حضرت شیخ کے نزدیک پہلا معنی راجح ہے۔ وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْویٰ الخ پہلے فرمایا تم خود ان پر زیادتی نہ کرو۔ یہاں فرمایا اگر کوئی اور ان پر ظلم و زیادتی کرے تو تم سب مل کر ظالم کا مقابلہ کرو۔ اور احسان وتقویٰ کے معاملات میں ایک دوسرے سے تعاون کرو لیکن ظلم اور گناہ کے کاموں میں کسی کا ہاتھ نہ بٹاؤ۔ شعائر اللہ کی نہ خود بےحرمتی کرو نہ ان کی بےحرمتی ہونے دو ان کو بےحرمت ہوتے ہوئے دیکھ کر خاموش رہنا اور اطراف مکہ کے جدید مسلمانوں پر یہودیوں کا ظلم و ستم دیکھ کر بیٹھے رہنا اور ان کی مدد نہ کرنا یہ بھی بےحرمتی کرنے اور تعاون علی الاثم والعدوان میں داخل ہے۔
Ayah 5:311 یہ چوتھا دعویٰ ہے اس میں غیر اللہ کی نذر و نیاز اور دیگر محرمات کا ذکر ہے ان کا حکم یہ ہے کہ یہ حرام ہیں ان کی حرمت باقی رکھو اور انہیں مت کھاؤ اَلْمَیْتَۃُ وہ حلال چوپایہ جو شرعی ذبح کے بغیر مرجائے۔ وَالدَّمُ بہتا ہوا خون جو ذبح کے وقت نکلتا ہے۔ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ ۔ خنزیر کا گوشت۔ خنزیر نجس العین ہے اور اس کے تمام اجزاء نجس اور ناپاک ہیں اور ان سے انتفاع جائز نہیں۔ گوشت کی تخصیص صرف اس لیے کی گئی ہے کہ جانور کا مقصودی حصہ گوشت ہی ہوتا ہے جب گوشت حرام ہے تو باقی اجزاء بطریق اولیٰ حرام ہوں گے۔ انما خص اللحم بالذکر مع کونہ نجسا بجمیع اجزائہ بالنص والاجماع لانہ معظم المقصود من الحیوان (مظھری ک 3 ص 14) ۔ وَمَا اُھِلَّ لِغَیْرِ اللہِ بِہٖ ۔ اُھِلَّ ، اِھْلالٌ سے ماضی مجہول کا صیغہ ہے۔ اہلال کے معنی آواز بلند کرنے کے ہیں۔ واصلہ دفع الصوت۔ چناچہ محاورات میں کہا جاتا ہے اھل الرجل واستھل اذا رفع صوتہ۔ یعنی اس نے آواز بلند کی اسی طرح کہا جاتا ہے۔ اھل المعتمر اذا رفع صوتہ بالتلبیۃ یعنی عمرہ بجا لانے والے نے بلند آواز سے تلبیہ پڑھا (لسان العرب ج 11 ص 70) لِغَیْرِ اللہِ بحذف مضاف ای لتعظیم غیر اللہ اور بِہٖ میں ب بمعنی علیٰ ہے۔ مَا اُھِلَّ الخ مَا سے کیا مراد ہے۔ اس میں تین احتمال ہیں (1) مَا سے وہ چوپایہ مراد ہے جسے غیر اللہ (پیغمبر، ولی، فرشتہ یا جن وغیرہ) کو متصرف و کارساز، غیب دان اور مافوق الاسباب حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر اس کی تعظیم کے پیش نظر اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے نذر و منت کے طور پر متعین اور نامزد کردیا جائے۔ یہ نذر غیر اللہ ہے اور حرام ہے اس طرح وہ جانور حرام ہوجاتا ہے اگر اسے اللہ کا نام لے کر ذبح کیا تب بھی وہ حرام ہی رہتا ہے اور حلال نہیں ہوتا اس کا حکم بالکل وہی ہے جو مردار کا ہے۔ نذر غیر اللہ کی حرمت کا مسئلہ قرآن مجید میں مختلف اندازِ بیان کے ساتھ کئی جگہ مذکور ہے۔ مثلاً : 1 ۔ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتۃ وَالدَّمَ وَلَھْمَ الْخِنْزِیرِ وَمَا اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللہِ (بقرہ رکوع 21) ۔ 2 ۔ سورة مائدہ کی زیر بحث آیت میں۔ 3 ۔ اَوْ فِسْقًا اُھِلَّ لِغَیْرِ اللہِ بِہ (انعام رکوع 18) ۔ 4 ۔ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیتَۃَ وَالدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَا اُھِلَّ لِغَیْرِ اللہِ بہٖ (نحل رکوع 15) ۔ 5 وَقَال لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا (نساء رکوع 17) ۔ 6 ۔ وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰہِ بِزَعْمِھِمْ وَ ھٰذَا لِشُرَکَاءِنَا (انعام رکوع 16) ۔ 7 ۔ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْا اَوْلَادَھُمْ سَفَہًا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَحَرَّإُوْا مَا رَزَقَھُمُ اللہُ افْتِرَاءً عَلَی اللہِ (انعام رکوع 16) ۔ 8 ۔ وَیَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰھُمْ (نحل رکوع 7) اسی طرح حضور علیہ الصلوۃ والسلا کا ارشاد ہے۔ لعن اللہ من ذبح لغیر اللہ (مظھری ج 3 ص 14) جو شخص غیر اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور اس کی تعظیم بجا لانے کے لیے جانور ذبح کرے وہ ملعون ہے۔ مسند امام احمد میں ہے۔ لعن اللہ من ذبح لغیر اللہ ای لتعظیم غیر اللہ تفسیر کبیر ج 2 ص 121، تفسیر نیشا پوری ج 2 ص 102 اور فتاوی عزیزی ج 1 ص 56 کی عبارتیں تفسیر جواہر القرآن ص 84 میں منقول ہوچکی ہیں۔ ان عبارتوں کا حاصل یہ ہے کہ جو جانور غیر اللہ کی تعظیم کے لیے نامزد کردیا گیا ہو وہ حرام ہوجاتا ہے۔ حرمت اور نجاست اس میں اس طرح سرایت کرجاتی ہے کہ اللہ کا نام لیکر ذبح کرنے سے بھی وہ جانور حلال اور پاک نہیں ہوتا اور غیر اللہ کی تعظیم کی نیت سے ذبح کرنے والا شخص بھی مرتد ہوجاتا ہے۔ اب کچھ مزید حوالے ملاحظہ ہوں :۔ مخدوم علی بن احمد مہائمی المتوفی ص 835 ھ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ جو چوپایہ غیر اللہ کے تقرب کے لیے نامزد کردیا گیا ہو وہ حرام ہے اگرچہ اسے اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے۔ (وَ مَا اُھِلَّ لِغَیْرِ اللہِ بِہٖ ) فانہ و ان ذکر معہ اسم اللہ فقد عارض المطھر فیہ المنجس مع نجاستہ بالموت وان لم یذکر فقد زید فی تنجیسہ (تبصیر الرحمن ج 1 ص 178) نذر غیر اللہ کے حرام ہونے کے بارے میں فقہاء کرام کی عبارتیں مقدمہ میں مذکور ہوچکی ہیں انہیں دیکھ لیا جائے (مقدمہ ص 50) نذر غیر اللہ کے بارے میں عہد قریب کے اکابر، علماء اور محققین کا بھی یہی مسلک رہا ہے۔ بعض بزرگوں کے ارشادات ملاحظہ ہوں :۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی (رح) فرماتے ہیں :۔ “ جو جانور غیر کے نام کا ہو اس کو اسی نیت سے ذبح کرنا بسم اللہ کہہ کر بھی حرام ہے اور جانور حرام ہی رہتا ہے۔ ایسے جانور کو ذبح نہ کرے اور کسی کا بکرا کہنا بوجہ مالک ہونے کے درست ہے مگر کسی کی تعظیم اور قربت کا کہنا حرام ہے اگر نیت ہو کہ اس کا ثواب لوجہ اللہ کسی کو پہنچے اس میں کچھ حرج نہیں۔ تعظیم غیر پر ذبح سے حرام ہوتا ہے نہ مالک ہونے سے کسی بشر کے، دونوں میں فرق ہے۔ فقط “ بندہ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ ” (فتاویٰ رشیدیہ مبوب ص 400) ۔
مولانا عبدالحیی فرنگی محلی (رح) فرماتے ہیں :۔ “ ماہل بہ لغیر اللہ سے مراد وہ جانور ہے جو بقصد تقرب الی غیر اللہ ذبح کیا جاوے اور مقصود اراقۃ الدم سے تعظیم غیر خدا ہو اور جان دینا خاص غیر کے لحاظ سے ہو وے ایسا جانور حرام ہے اگرچہ وقت ذبح کے بسم اللہ اس پر کہی جاوے۔ ذبح لقدوم الامیر و نحوہ کو احد من العظماء یحرم لانہ اھل بہ لغیر اللہ و لو ذکر اسم اللہ علیہ و لو ذبح للضیف لا یحرم۔ انتھی (مجموعہ فتاویٰ ج 2 ص 89) ۔
مولانا اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں :۔ “ بزرگوں کی نذر و نیاز کا جانور اگر اس واسطے ذبح کیا جاوے کہ وہ بزرگ ہم سے خوش ہوں اور ہمارا کام کردیں اور ان کو متصرف فی التکوین سمجھے اور ان سے تقرب کے لیے ذبح کرے اور ذبح سے وہی مقصود ہوں چناچہ اس زمانہ میں اکثر جہال کا یہی عقیدہ ہوتا ہے تو یہ عقیدہ رکھنے والا مشرک اور وہ ذبیحہ بالکل حرام ہے، اگرچہ بوقت ذبح اللہ کا نام لیا جاوے۔ و ما اھل بہ لغیر اللہ اور اگر اللہ کے واسطے وہ جانور ذبح کیا اور اللہ کے واسطے دے کر اس کا ثواب کسی بزرگ کی روح کو بخش دیا تو یہ جائز ہے۔ فقط۔ 5 ربیع الثانی 1301 ھ ”(فتاویٰ امدادیہ ج 4 ص 87)
مَا کی تفسیر میں دوسرا احتمال یہ ہے جیسا کہ شاہ عبدالعزیز صاحب نے تفسیر عزیزی میں فرمایا ہے کہ مَا عام ہے اور اس کی مراد بھی عام ہے خواہ جانور ہو یا غلہ، مٹھائی ہو یا کوئی اور چیز جو غیر اللہ کے تقرب کے لیے دی جائے سب اس میں شامل ہیں۔ اگر مَا سے صرف ذبیحہ مراد لیا جائے تو پھر اس کے بعد وَمَا ذُبِحَ عَلیَ النُّصُبِ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ لہذا جن لوگوں نے مَا سے صرف ذبیحہ مراد لیا ہے انہوں نے مَا اُھِلَّ کی صرف ایک صورت بیان کی ہے جو مشرکین میں اس وقت رائج تھی۔ ورنہ یہ بات وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مشرکین مکہ جانوروں کے علاوہ غلہ وغیرہ کی نذریں بھی غیر اللہ کے لیے مانتے تھے جیسا کہ وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَا مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا الخ سے معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ سے صرف ذبیحہ مراد ہو اور وَمَا اُھِلَّ سے مراد عام ہو۔ یعنی جانور اور غلہ وغیرہ پہلی اور دوسری دونوں تفسیروں کی صورت میں بِہٖ میں ب کو بمعنی عَلیٰ لینا پڑیگا۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب مَا عام ہے تو بعض مفسرین نے اس سے صرف ذبیحہ کیوں مراد لیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اہل عرب کے یہاں لفظ اہلال کا زیادہ تر استعمال مذبوحہ پر ہوتا تھا اس لیے اس کے پیش نظر انہوں نے مَا سے مذبوحہ مراد لیا اس سے ان کا یہ مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مذبوحہ کے علاوہ باقی اشیا سے غیر اللہ کی نیاز جائز ہے بلکہ ان مفسرین کے نزدیک جس طرح جانوروں سے غیر اللہ کی نیاز حرام ہے اسی طرح باقی اشیا غلہ، کپڑا وغیرہ سے بھی حرام ہے۔
حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ آیت کے مفہوم میں ایک تیسرا احتمال بھی ہے۔ وہ یہ کہ مَا سے مراد وہ کلام ہو جس سے غیر اللہ کے تقرب کے لیے جانور نامزد کیا گیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ایسا کلمہ بھی حرام اور مشرکانہ ہے جسے غیر اللہ کی نذر و منت مانتے وقت بلند کیا جائے۔ حاصل مطلب اس کا بھی وہی ہوگا جو حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب (رح) نے لکھا ہے اس صورت میں بِہٖ کی ب اپنے اصل پر رہیگی اور اسے علی کے معنی میں لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے اھللت بالتلبیۃ واھللت بالتسمیۃ علی الذبیحۃ صراح میں اھل ؟ ذا رفع صوتہ بالتلبیۃ و بالتسمیۃ علی الذبیحۃ جیسا کہ پہلے لسان العرب سے منقول ہوچکا ہے فمجرور الباء ھو لفظ یرفع بہ الصوت ای اسم اللہ مثلاً فالمراد من قولہ تعالیٰ وَمَا اُھِلَّ ای لفظ رفع بہ الصوت لتعظیم غیر اللہ والتقرب الیہ۔ حاصل یہ کہ اس کلام سے تکلم اور اس قول کا تلفظ ہی حرام کردیا۔ جس سے غیر اللہ کا تقرب مقصود ہو اور اسی وجہ سے ہر وہ چیز بھی حرام ہوگی جس سے غیر اللہ کا تقرب مطلوب ہو۔ اور بعینہ اِنَّہٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُھِلَّ لِغَیْرِ اللہِ بِہٖ (انعام رکوع 18) میں فِسْقًا سے بھی کلمہ تقرب ہی مراد ہے جس کے ذریعے غیر اللہ کی نذر و منت مانی جائے۔
تنبیہ : بعض علماء اسلام نے لکھا ہے کہ اولیائے کرام کی نذریں حلال ہیں، حرام نہیں ہیں۔ اس کا مطلب سمجھنے میں بہت سے لوگوں کو دھوکہ ہوا ہے۔ جن علماء نے یہ لکھا ہے کہ اولیائے کرام کی نذریں حلال ہیں ان کی مراد یہ ہے کہ جو مسلمان اولیاء اللہ کی نذریں مانتے ہیں وہ ان کو نہ غیب داں سمجھتے ہیں، نہ مافوق الاسباب متصرف و مختار اور نہ ان کو حاجات میں غائبانہ پکارتے ہیں اور نہ ان نذروں سے اولیاء اللہ کا تقرب حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے بلکہ ان نذروں سے ان کا مقصد اللہ کی عبادت اور اس کی رضاجوئی ہوتا ہے اور اولیاء اللہ کی ارواح کو ایصالِ ثواب مقصود ہوتا ہے اس مسئلہ میں کوئی جھگڑا نہیں یہ بالاتفاق جائز ہے لیکن اس نیت کے باوجود اسے غیر اللہ کی نذر کہنا کراہیت سے خالی نہیں۔ اسی طرح تمام علماء اسلام کے نزدیک یہ مسئلہ بھی متفق علیہ ہے کہ جو نذر ونیاز غیر اللہ کے تقرب کیلئے دی جائے وہ حرام ہے۔ باقی رہا عوام کا فعل تو اس کے بارے میں جب تک کھلے دلائل اور واضح قرائن سے معلوم نہ ہوجائے کہ ان کی نیت تقرب الی غیر اللہ کی ہے اس وقت تک حرام ہونے کا حکم نہیں لگایا جاسکتا۔
12 وہ چوپایہ جسے گلا گھونٹ کر مار دیا جائے جیسا کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ چوپائے کو گلا گھونٹ کر مار ڈالتے اور کھالیتے تھے۔ قال ابن عباس ؓ کان اھل الجاھلیۃ یخنقون البھیمۃ و یاکلونھا فحرم ذلک علی المومنین (روح ج 6 ص 57) وَالْمَوْقُوْذَۃُ جو جانور ضرب اور چوٹ سے مرجائے۔ وَالْمُتَرَدِّیَۃُ جو چوپایہ اونچی جگہ سے گر کر مرجائے۔ وَالنَّطِیْحَۃ جس چوپائے کو دوسرا چوپایہ سینگ مار کر ہلاک کر ڈالے۔ وَ مَا اَکَلَ السَّبُعُ اور جس چوپائے کو درندہ پھاڑ کھائے۔ یہ سب حرام ہیں۔ اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ یہ ماقبل سے استثناء ہے بعض کے نزدیک یہ استثناء مَا اَکَلَ السَّبُعُ سے مختص ہے لیکن اجلہ صحابہ وتابعین اور جمہور مفسرین اسے وَالْمُنْخَنِقَۃُ سے لے کر مَا اَکَلَ السَّبُعُ تک سب سے استثناء قرار دیتے ہیں انہ استثناء من جمیع ما تقدم من قولہ وَالْمُنْخَنِقَۃ الی قولہ وَمَا اَکَلَ السَّبُعُ وھو قول علی وابن عباس والحسن وقتادۃ الخ (کبیر ج 3 ص 525) والاستثناء یرجع الی المنخنقۃ وما بعدھا (مدارک ج 1 ص 209) ۔ قال علی وابن عباس والحسن و قتادۃ و ابراہیم و طاؤس و عبید ابن عمیر والضحاک و ابن زید و الجمہور ھو راجع الی المذکورات ای من قولہ وَالْمُنْخَنِقَۃ الخ (بحر ج 3 ص 423) لہذا مَا اُھِلَّ لِغَیْرِ اللہِ بِہٖ سے اس استثناء کا کوئی تعلق نہیں اور وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرنے سے بھی حلال نہیں ہوتا۔ مَا اُہِلَّ لِغَیْرِ اللہِ کی حرمت قرآن مجید میں اس کے علاوہ تین اور جگہوں میں بھی مذکور ہے مگر وہاں کسی جگہ بھی یہ استثناء موجود نہیں کیونکہ وہاں باقی اشیاء کا ذکر نہیں تو معلوم ہوا کہ استثناء کا تعلق پہلی چار چیزوں سے نہیں صرف بعد میں مذکور باقی اشیاء سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان مذکورہ جانوروں میں سے جس میں ابھی زندگی باقی ہو اگر بروقت اسے ذبح کرلیا جائے تو وہ حلال ہے زندگی کی علامت یہ ہے کہ وہ ذبح کیے ہوئے جانور کی طرح پھڑک رہا ہو۔ ای الا ما ادرکتموہ و فیہ بقیۃ حیات یضطرب اضطراب المذبوح و ذکیتموہ (روح ) ۔
13 اَلنُّصُبِ ۔ نصاب کی جمع ہے اور اس سے وہ اصنام مراد ہیں جن کی تعظیم کے لیے مشرکین ان کے استھانوں پر جانور ذبح کیا کرتے تھے (روح ج 6 ص 58) یعنی وہ چوپائے جو غیر اللہ کے استھانوں ان کی خانقاہوں اور قربان گاہوں پر ان کی تعظیم اور ان کا تقرب حاصل کرنے کی غرض سے ذبح کیے جائیں وہ بھی حرام ہیں۔ ذبح کے وقت خواہ غیر اللہ کا نام لیا جائے جیسا کہ مشرکین اپنے معبودوں کے نام سے ذبح کرتے تھے مثلا باسم اللات والعزی۔ یا ان کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جیسا کہ آجکل بعض جاہل مسلمان کرتے ہیں۔ فوت شدہ بزرگوں کی نذر و منت کے بکرے وغیرہ عرسوں اور میلوں کے ایام میں قبروں پر لیجاتے ہیں اور وہاں ذبح کرتے ہیں جیسا کہ شاہ کوٹ اور بھڑی شاہ رحمن اور دوسرے بزرگوں کے عرسوں اور میلوں کے ایام میں قبروں پر لیجاتے ہیں اور وہاں ذبح کرتے ہیں بعض لوگ جانور مزاروں پر لے جا کر خود ذبح نہیں کرتے بلکہ مجاوروں اور گدی نشینوں کے حوالے کردیتے ہیں دونوں کا ایک ہی حکم ہے اور دونوں حرام ہیں۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ مَا اُھِلَّ لِغَیْرِ اللہِ بِہٖ اور مَا ذُبِحَ عَلیَ النُّصُبِ دونوں ایک چیز نہیں ہیں بلکہ اول عام ہے اور ثانی اس کا ایک جزو ہے یعنی اول سے ہر وہ چیز مراد ہے جو غیر اللہ کے تقرب کے لیے نامزد کردی گئی ہو خواہ وہ جانور ہو یا غلہ اور نقدی وغیرہ اور ثانی سے مراد صرف وہ جانور ہیں جو غیر اللہ کی تعظیم کے لیے استھانوں پر ذبح کیے جائیں چونکہ بزرگوں کے استھانوں اور ان کی خانقاہوں کی لوگوں کے دلوں میں بڑی قدر و منزلت تھی اور وہ ان کی عظمت اور تقدس کی وجہ سے وہاں چوپایوں کو لے جا کر ذبح کرتے تھے اس لیے خصوصیت سے ایسے ذبیحوں کی حرمت کا ذکر فرمایا۔ مفسر ابن عطیہ فرماتے ہیں ماذبح علی النصب جزء مما اھل بہ لغیر اللہ لکن خص بالذکر بعد جنسہ لشھرۃ الامر و شرف الموضع و تعظیم النفوس (بحر ج 3 ص 424) ۔
14 اَنْ مصدریہ ہے اور اَزْلَام، زلم (کجمل اور صرد) کی جمع ہے اور زلم کے معنی تیر کے ہیں یعنی تیروں کے ذریعہ حصہ اور فال معلوم کرنا بھی حرام ہے۔ جیسا کہ مشرکین کیا کرتے تھے انہوں نے تیروں پر کچھ الفاظ لکھ رکھے تھے۔ مثلاً کسی پر اِفْعَلْ (کر) اور کسی پر لَاتَفْعَلْ (نہ کر) کسی پر لَکَ النِّصْفُ (تمہار آدھا ہے) کسی پر لَکَ الرُّبُعُ (تمہارا چوتھا ہے) ۔ اور بعض تیروں پر کچھ نہیں تھا۔ تمام تیروں کو ایک خریطے میں ڈال کر باری باری اس سے تیر نکالتے اور اس پر لکھی ہوئی عبارت کے مطابق عمل کرتے تھے یہ تیر ان کے عبادت خانوں میں رکھے رہتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ ان کے معبود غیب دان اور متصرف ہیں۔ اور وہ اپنے تصرف سے ان تیروں کے ذریعے ان کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں اس سے ان کا مقصد اپنے معبودوں سے صلاح مشورہ اور ان کی منظوری حاصل کرنا ہوتا تھا۔ اس استقسام کی بنیاد چونکہ غیر اللہ کو متصرف اور غیب دان ماننے پر ہے اس لیے اسے حرام قرار دیا۔ انہ کان استشارۃ مع الاصنام واستعانۃ منھم کما یشیر الی ذلک ما روی عن ابن عباس ؓ من انہم اذا ارادوا ذلک اتوا بیت اصنامھم و فعلوا ما فعلوا فلھذا صار حراماً (روح ج 6 ص 58) استقسام چونکہ حرام ہے اس لیے جو مال اس موقع پر بتوں کی نذر کے طور پر ان کے خادموں اور مجاوروں کو دیا جاتا تھا وہ بھی حرام ہے۔
15 ذٰلِکَ سے مذکورہ تمام محرمات کا حلال جاننے کی طرف اشارہ ہے اور فسق سے فسق کا کامل درجہ یعنی کفر مراد ہے۔ مطلب یہ کہ مذکورہ محرمات کو حرام نہ سمجھنا اور ان کا تناول کرنا کفر ہے اور ان کو حرام سمجھنا اور ان کے کھانے سے بچنا عین ایمان وا طاعت اور وفاء عقود میں میں داخل ہے جس کا ابتدائے سورت میں حکم دیا گیا ہے۔ وقال الزمخشری اشارۃ الی الاستقسام والی تناول ما حرم علیھم لان المعنی حرم علیھم تناول المیتۃ وکذا وکذا (بحر ج 3 ص 425) وقیل یر جع الی جمیع ما ذکر من الاستحلال لجمیع ھذہ المحرمات و کل شیء منھا فسق وخروج من الحلال الی الحرام والانکفاف عن ھذہ المحرمات من الوفاء بالعقود اذا قال اوفوا بالعقوعد (قرطبی ج 6 ص 60) 16 اَلْیَوْمَ سے وہ دن مراد ہے جس دن مذکورہ تحریمات پر مشتمل یہ آیت نازل ہوئی۔ اور وہ جمعہ کا دن ذی الحجہ 9 ھ کی آٹھ تاریخ کا دن تھا وقیل یوم نزول الایۃ وروی عن ابن جریج و مجاھد و ابن زید و کان کما رواہ الشیخان عن عمر ؓ عصر یوم الجمعۃ عرفۃ حجۃ الوداع (روح ج 6 ص 60 وبحرج 3 ص 425) مطلب یہ کہ ان محرمات کے بیان کے بعد مشرکین کو اب یہ امید باقی نہیں رہی کہ وہ تمہارے دین کو مٹا سکیں گے اور نہ ان کو تم سے یہ توقع باقی رہی ہے کہ تم دوبارہ ان کا دین قبول کرلوگے اور مذکورہ بالا خبائث و محرمات کو کھانے لگو گے انقطع رجاء ھم من ابطال دینکم ور جو عکم عنہ بتحلیل ھذہ الخباء ث وغیرھا (روح و کبیر ج 3 ص 527) فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِیْ اس لیے اب تم اس بات سے مت ڈرو کہ مشرکین تم پر اور تمہارے دین پر غالب آجائیں گے بلکہ مجھ سے ڈرو، میرے احکام کی پیروی کرو اور میری نافرمانی سے بچو تاکہ میری تائید و نصرت ہمیشہ تمہارے شامل حال رہے۔
17 تحریمات اللہ، تحریمات غیر اللہ اور اللہ کی نذروں اور غیر اللہ کی نذروں کے بیان سے دین اسلام کے تمام فرائض و حدود اور حلال و حرام کے احکام کی تکمیل ہوگئی اور آج کے دن سے ہم نے دین کو مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کردی۔ عن ابن عباس والسدی ان المعنی الیوم اکملت لکم حدودی وفرائضی وحلالی وحرامی بتنزیل ما انزلت (روح) اکملت لکم ما تحتاجون الیہ من تعلیم الحلال والحرام والتوقیف علی الشرائع وقوانین القیاس و اصول الاجتھاد (بحر) اتمام نعمت سے اسلام کا غلبہ، کفر وشرک کی مغلوبیت، دین کی تکمیل علم و حکمت کا اعطاء امن اور وسعت مال وغیرہ مراد ہے (روح، بحر، قرطبی وغیرہ) وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْناً اور دنیا کے تمام ادیان میں سے دین اسلام کو تمہارے لیے پسند کیا کیونکہ یہی وہ دین ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے اور جس پر تمام انبیاء (علیہم السلام) کار بند تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کا پسندیدہ دین صرف اسلام ہے اور نجات صرف اسلام کی پیروی سے حاصل ہوگی۔ جو شخص اسلام کو چھوڑ کر کسی اور دین کی پیروی کرتا ہے اس کی نجات نہیں ہوگی اور آخرت میں وہ خسارے میں رہیگا۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَ فِی الْاٰخِرۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (ال عمران رکوع 9) اور اسلام سے نجات صرف اسی مسلمان کو نصیب ہوگی جو ضروریات دین کا معتقد ہوگا۔ صرف نام کا مسلمان ہونا کافی نہیں اگر کوئی مسلمان کہلانے کے باوجود دین کے ضروری عقائد میں سے کسی ایک عقیدے کا انکار کردے تو وہ مسلمان نہیں رہتا اور اس کی نجات نہیں ہوگی۔ مثلا ختم نبوت کا انکار، آنحضرت ﷺ کی سنت کے دین میں حجت ہونے کا انکار۔ اللہ کی صفات مختصہ میں غیر اللہ کو شریک ماننا وغیرہ۔
18 محرمات کا ذکر کرنے کے بعد اضطراری حالت کا حکم بیان فرمایا کہ مذکورہ بالا اشیاء ہیں تو قطعی حرام لیکن اگر کوئی شخص بھوک سے بےبس ہوجائے اور کوئی حلال چیز میسر نہ آسکے اور اس بات کا اندیشہ ہو کہ حلال چیز کے میسر ہونے تک وہ زندہ نہیں رہ سکے گا یا ایسے عوارض میں مبتلا ہوجائیگا جو موت پر منتج ہوں گے تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ مذکورہ محرمات میں سے بقدرسدِ رمق یعنی اس قدر کھالے جس سے اس کی جان بچ جائے۔ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ ۔ متجانف کے معنی ہیں مائل یعنی اس شرط پر اسے کھانے کی اجازت ہے کہ وہ گناہ کی طرف مائل ہونیوالا نہ ہو۔ مطلب یہ کہ سد رمق سے زیادہ حرام چیز کا تناول نہ کرے۔ کیونکہ حرام چیز کھانے کی اجازت اضطرار سے مشروط ہے جب اس نے بقدر سد رمق کھالیا تو اضطراری حالت ختم ہوگئی اب اس سے زیادہ کھائیگا تو سخت گنہگار ہوگا۔ فَاِنَّ اللہَ غَفُوْ رٌرَّحِیْمٌ بحالت اضطرار حرام چیز حلال تو نہیں ہوجاتی لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنی شان رحمت سے اس حالت میں ان محرمات کے تناول کی اجازت دیدی اور اس حالت میں حرام کھانے کا گناہ معاف فرمادیا۔
Ayah 5:419 اس میں تین اقوال ہیں۔ 1 ۔ امام زہری کہتے ہیں کہ صحابہ کرام اکثر آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کرتے تھے کہ ان کے لیے کونسی چیزیں حلال ہیں اور کونسی حرام تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ 2 ۔ عدی بن حاتم اور زید ابن مہلہل نے آپ سے دریافت کیا کہ ہم کتوں اور بازوں سے شکار کرتے ہیں۔ بعض جانوروں کو ہم زندہ پالیتے اور ذبح کرلیتے ہیں۔ اور بعض ہمارے پہنچنے سے پہلے مرجاتے ہیں۔ ان میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی جو اصل سوال کے جواب سے زائد پر مشتمل ہے۔۔ 3 ۔ یہ آیت ابتدائے سورت یعنی اُحِلَّتْ لَکُمْ بَھِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ سے متعلق ہے اس میں اجمال تھا یہاں اس کی تفصیل ہے۔ یہ آخری قول سب سے زیادہ مناسب ہے۔ اُحِلَّ لَھُمْ میں ضمیر متکلم لَنَا کی جگہ ضمیر غائب استعمال ہوئی ہے۔ علامہ رضی نے لکھا ہے جہاں دونوں ضمیروں کا استعمال جائز ہو وہاں متکلم کی جگہ غائب کی ضمیر استعمال کی جاسکتی ہے۔ فائدہ : شان نزول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پہلے فلاں واقعہ ہوچکا تھا اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔ کیونکہ کئی واقعات جن کا حکم اسی آیت میں مذکور ہوتا ہے اس آیت کے بعد واقع ہوتے ہیں آیت کو پہلے واقعہ سے مخصوص کرنے سے فہم قرآن میں بڑی الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں صحابہ وتابعین کا یہ کہنا کہ یہ آیت فلاں واقعہ میں نازل ہوئی اور یہ آیت فلاں حادثہ میں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ آیت فلاں فلاں واقعہ اور حادثہ کو شامل ہے۔ وہ حادثہ اس آیت کے نزول سے پہلے پیش آیا ہو یا اس کے بعد (الفوز الکبیر ص 35) حضرت شیخ فرماتے ہیں، شان نزول کے ذکر میں جو یہ آتا ہے فنزلت۔ اس میں فا ترتیب زمانی کے لیے نہیں ہوتی بلکہ تعقیب ذکری کے لیے ہوتی ہے۔
20 طیبات سے وہ چیزیں مراد ہیں جن سے طبائع سلیمہ نفرت نہ کریں۔ یا وہ اشیاء جن کی حرمت کتاب و سنت اور اجماع و قیاس سے ثابت نہ ہو ای ما لیس بخبیث منھا او ھو کل ما لم یات تحریمہ فی کتاب اللہ او سنۃ او اجماع او قیاس (مدارک ج 1 ص 210) ای ما لم تستخبثہ الطباع السلیمۃ ولم تنفر عنہ (ابو السعود ج 3 ص 524) طَیِّبَات حلال ہیں اور خبائث حرام جیسا کہ فرمایا۔ لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبَاتِ مَا اَحَلَّ اللہُ لَکُمْ اور ایک جگہ فرمایا وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبَائِثَ (اعراف رکوع 19) یہ اصل سوال سے زائد ہے مشرکین عرب نے کئی طیبات (پاکیزہ چیزیں) کو اپنے معبودوں کی تعظیم و تقرب کے لیے محض اپنے ظن و گمان سے حرام کر رکھا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر پاکیزہ چیز تمہارے لیے حلال ہے۔ لما کانت العرب تحرم اشیاء من الطیبات کالبحیرۃ والسائبۃ والوصیلۃ والحام بغیر اذن من اللہ تعالیٰ قرر ھنا ان الذی احلھی الطیبات (بحر ج 3 ص 428، کبیر ج 3 ص 530) ۔
21 یہ دوسرے قول کے مطابق اصل سوال کا جواب ہے اور اس میں مضاف محذوف ہے۔ ای صید ما علمتم یعنی ان شکاری جانوروں کا شکار تمہارے لیے حلال ہے جن کو تم تعلیم دے لو۔ بعض درندوں کو اگر سدھا لیا جائے تو ان کا شکار حلال ہے۔ مثلا کتا، بجو، چیتا، باز، عقاب وغیرہ، ان کا شکار حلال ہونے کے لیے کچھ شرائط ہیں جن کا ذکر آگے آرہا ہے۔ مِنَ الْجَوَارِحِ یہ جَارِھۃ کی جمع ہے۔ یعنی زخم کرنے والے جارحہ کے معنی کا سبہ (کمانے والے) کے بھی آتے ہیں۔ چونکہ شکاری جانور مالکوں کے لیے روزی مہیا کرتے ہیں اس لیے انہیں جوارح (کواسب) کہا گیا۔ مُکَلِّبِیْنَ ای مفرین یعنی تعلیم یافتہ کو شکار کے پیچھے چھوڑنے والے۔ یہ عَلِمْتُمْ کی ضمیر سے حال ہے۔
ٖف 22 جب تم سکھائے ہوئے شکاری جانور کو شکار کے پیچھے چھوڑو اور وہ شکار کر پکڑ کر روک رکھے اور اس میں سے خود کچھ نہ کھائے تو سمجھ لو کہ وہ تعلیم یافتہ ہے اس کا مارا ہوا شکار کھالو۔ وَاذکُرُوْا اسْمَ اللہِ عَلَیْہِ ۔ جب شکاری جانور کو چھوڑو تو اس وقت بسم اللہ پڑھ لیا کرو۔ ان آیتوں سے حلت شکار کی حسب ذیل شرطیں مفہوم ہوئیں۔ 1۔ شکاری جانور تعلیم یافتہ ہو۔ یہ شرط عَلِمْتُمْ اور تُعَکِّمُوْنَہُنَّ میں صراحۃً مذکور ہے۔ جانور کے تعلیم یافتہ ہونے کی تین علامتیں ہیں۔ اول یہ کہ وہ خود بخود شکار کے پیچھے نہ بھاگے جب تک مالک اسے اشارہ نہ کرے۔ دوم یہ کہ شکار کے پیچھے چھوڑنے کے بعد اگر مالک اسے واپس بلا لے تو واپس آجائے۔ یہ دونوں باتیں مکلبین سے مفہوم ہوتی ہیں۔ سوم یہ کہ وہ شکار کو پکڑ رکھے اور اسے کھائے نہیں یہ کُلُوْا مِمَّا اَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ میں بصراحت مذکور ہے۔ 2 ۔ شکاری جانور کو شکار کے پیچھے چھوڑنا۔ یہ شرط مکلبین میں صراحت سے مذکور ہے اگر شکاری جانور مالک کے اشارے کے بغیر ہی شکار کے پیچھے دوڑ پڑا۔ اور مالک نے بسم اللہ اللہ اکبر کہہ لیا تو وہ شکار حلال نہیں ہوگا۔ 3 ۔ جانور کو چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھنا یہ شرط بھی وَاذْکُرُوْا اسْمَ اللہِ عَلَیْہِ میں صراحۃ مذکور ہے۔ 4۔ شکاری جانور شکار کو زخمی کرے۔ یہ شرط اَلْجَوَارِح کی تعبیر سے مفہوم ہو رہی ہے۔ اگر شکاری کتے نے خرگوش کو گلے سے دبوچ لیا اور وہ دم گھٹنے سے مرگیا اور اسے کوئی زخم نہ آیا تو وہ حلال نہیں ہوگا ان مذکورہ شرائط کے ساتھ کیا ہوا شکار صرف اسی حالت میں حلال ہے جب کہ مالک کے اس تک پہنچنے تک وہ جان دے چکا ہو اگر مالک کے پہنچنے تک وہ زندہ ہو تو اسے شرعی طور پر ذبح کرنا لازم ہوگا اگر مالک نے شکار کو زندہ پایا اور اسے ذبح کرنے کی مہلت بھی ملی مگر ذبح نہ کیا تو وہ شکار حرام ہوگا۔
Ayah 5:523:۔ یہ اعادہ احسان جتلانے کے لیے کیا گیا ہے یا تاکید کے لیے جیسا کہ خازن نے لکھا ہے۔ نیز یہ اگلے حکم کیلئے تمہید ہے۔ وَطَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْکِتَابَ الخ یہاں طعام سے ذبیحہ مراد ہے کیونکہ اہل کتاب کی باقی خوردنی اشیاء کی حلت میں کوئی کلام نہیں۔ المراد بہ الذبائح لان غیرھا لم یختلف فی حلہ وعلیہ اکثر المفسرین (روح ج 6 ص 65) ۔ اہل کتاب سے یہاں تمام یہود و نصاریٰ مراد ہیں لیکن ان کا ذبیحہ حلال اس شرط پر ہے کہ اللہ کا نام لے کر ذبح کریں اگر کسی یہودی نے حضرت عزیر کے نام پر یا کسی عیسائی نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے نام پر جانور ذبح کیا تو وہ حلال نہیں ہوگا۔ وَ طَعَامُکمْ حِلٌّ لَّھُمْ ۔ اس میں خطاب مومنوں سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ اے ایمان والو اگر تم اپنا ذبیحہ یا دیگر خوردنی اشیاء میں سے کچھ اہل کتاب کو کھلا دو تو اس میں تم پر کوئی حرج نہیں۔ لیکن حضرت شیخ فرماتے ہیں یہود پر پہلے ذِیْ ظُفُرٍ یعنی ناخن والے جانور حرام تھے جیسا کہ ارشاد ہے : وَ عَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظفُرٍ (انعام ع 18) ۔ اب قرآن میں ایسے جانوروں کو ان کے لیے حلال کردیا گیا۔ (شاہ عبدالقادر (رح)) ۔
24 محصنات سے عفائف اور پاکدامن عورتیں مراد ہیں خواہ آزاد ہوں یا لونڈیاں۔ یہ قول ابراہیم نخعی، شعبی اور حسن بصری سے منقول ہے۔ والمراد بہن عند الحسن والشعبی وابراہم العفائف (روح) اور عفائف کی قید احترازی نہیں بلکہ محض پاکدامن عورتوں سے نکاح کرنے ترغیب کے لیے ہے تاکہ ان سے پیدا ہونیوالی اولاد پاکیزہ اخلاق سے متصف ہو اور اخلاق رذیلہ سے پاک ہو (روح و خازن ج 2 ص 13) ۔ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْکِتٰبَ ۔ یہاں بھی محصنات سے عفائف اور پاکدامن عورتیں مراد ہیں خواہ آزاد ہوں یا لونڈیاں یعنی یہود و نصاری کی عورتوں سے مسلمانوں کو نکاح کرنا حلال کردیا گیا ہے۔ پاکدامن کی قید یہاں بھی مذکورہ بالا حکمت کیلئے ہے۔ اِذَا اٰتَیْتُمُوْ ھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ ۔ اجور سے مراد مہور (جمع مہر) ہیں۔ مہر دینے کو شرط سے تعبیر کرنے میں مہر ادا کرنے کی تاکید اور ادا کے وجوب کی طرف اشارہ ہے مُحْصِنِیْنَ یہ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ کے فاعل سے حال ہے۔ جس طرح عورتوں میں احسان اور پاکدامنی کی صفت کا ذکر کیا تھا اسی طرح مردوں میں بھی عفیف اور پاکدامن ہونے کی قید لگائی اور اس سے مردوں کو بھی پاکیزہ اور بےداغ زندگی گذارنے کی ترغیب دینا مقصود ہے۔ فکما شرط الاحصان فی النساء وھی العفۃ عن الزنا کذلک شرطھا فی الرجال الخ (ابن کثیر ج 2 ص 21) ۔ غَیْرَ مُسَافِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْ اَخْدَانٍ یہ دونوں بھی حسب سابق حال ہیں ان دونوں لفظوں سے۔ مُحْصِنِیْنَ کے مفہوم ہی کی تاکید و توضیح فرمائی یعنی مردوں کو اس طرح عفیف اور پاکدامن رہنا چاہئے کہ زنا اور بدکاری سے ہر حال میں بچیں، نہ تو ایسا کریں کہ جس عورت سے بھی موقع میسر آئے بدکاری کرلیں اور نہ مخصوص عورتوں سے پوشیدہ دوستی کر کے ایسا کریں۔
25 یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال یہ تھا کہ جب اہل کتاب کا ذبیحہ بھی حلال ہے اور ان کی عورتوں سے نکاح بھی درست ہے تو شاید انکار مذہب بھی حق ہوگا تو اس کا جواب فرمایا کہ ایمان کے لیے تمام احکام دل سے ماننا اور تمام شرائع پر عمل کرنا ضروری ہے اہل کتاب چونکہ اسلام کے تمام احکام و شرائع کو نہیں مانتے اس لیے انکا مذہب باطل ہے اس شبہ کا اظہار خود اہل کتاب عورتوں نے بھی مسلمانوں سے کیا تھا کہ جب اللہ نے ہمارے ساتھ تمہیں نکاح کرنے کی اجازت دیدی ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ اسے ہمارا دین بھی پسند ہے لما قال اللہ تعالیٰ والمحصنات من الذین اوتوا الکتب قال نساء اھل الکتب لولا ان اللہ رض یدیننا لم یبیح لکم نکاحنا (قرطبی ج 6 ص 79) ۔ جب اللہ نے مسلمانوں کو یہودی اور عیسائی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دیدی تو باہمی اختلاط اور رہن سہن سے اس بات کا اندیشہ ہوسکتا تھا کہ خاوندغیر مسلم بیوی کے بعض مذہبی خیالات سے متاثر ہو کر ان کو قبول کرلے اس لیے نکاح کی اجازت کے ساتھ تہدید فرما دی کہ خبر دار اپنے ایمان پر قائم رہنا اور بیوی کے خیالات سے متاثر ہو کر ایمان سے غداری نہ کرنا۔ ورنہ تمام اعمال ضائع اور رائیگاں جائیں گے اور آخرت میں خسران کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Ayah 5:626 ایفائے عقود کے عام حکم کے بعد چاروں مسائل (تحریمات اللہ، تحریمات غیر اللہ، اللہ کی نذریں اور غیر اللہ کی نذریں) بیان فرمائے اور آپس میں بغض وعداوت رکھنے سے منع فرمایا۔ اب یہاں ایک امر مصلح (نماز) کا ذکر کیونکہ نماز سے ظاہر و باطن کی تطہیر ہوتی ہے۔ اس طرح نماز ایفائے عقود، محرمات کو حرام سمجھنے، حلال کو حلال سمجھنے اور باہمی بغض و عداوت کو دور کرنے میں ممد و معاون ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ اِنَّ الصلوۃ تَنْھیٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْکَرِ (عنکبوت ع 5) اور صحیح حدیث میں ہے سووا صفوفکم او لیخالفن اللہ بین قلوبکم یعنی نماز میں صفیں سیدھی کیا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں بغض و عداوت پیدا کردیگا۔ نماز کے ساتھ طہار (وضو، تیمم، غسل) کے احکام بھی بیان فرمائے۔ کیونکہ طہارت نماز کی شرط ہے اس کے بغیر نماز سے اس کے متعلقہ فوائد حاصل نہیں ہوسکتے۔ مطلب یہ ہے کہ نماز کو اس کے تمام آداب اور شرائط وا ارکان کے ساتھ ادا کرو تاکہ اس کے مطلوبہ فوائد سے بہرہ مند ہو سکو۔ 27 اَرْجُلَکُمْ کا عطف وُجُوْھَکُمْ پر ہے اور وہ فَاغْسِلُوْا کے تحت داخل ہے اور منہ اور ہاتھوں کی طرح پاؤں کا دھونا بھی فرض ہے۔ ایک قراءت میں وَ اَرْجُلِکُمْ لام کی زیر سے وارد ہے۔ اس سے شیعوں نے یہ مسئلہ نکالا کہ جر کی حالت میں اس کا عطف رُءُوْسِکُمْ پر ہے اس لیے سر کی طرح پاؤں کا بھی مسح ہی فرض ہے دھونا فرض نہیں۔ اس کے دو جواب ہیں۔ 1 ۔ اَرْجُلِکُمْ قراءت جر کی صورت میں بھی اصل میں منصوب ہے۔ اور اس کا عطف وُجُوْھَکُمْ پر ہے رُءُوْسِکُمْ پر نہیں ہے اور اَرْجُلِکُمْ کی جر، جر جوار ہے۔ یعنی رُءُوْسِکُمْ کے ساتھ واقع ہونے کی وجہ سے مجرور ہے اور اس کا حکم وہی ہے جو وُجُوْھَکُمْ کا ہے یعنی دھونا۔ 2 ۔ محققین کا مسلک یہ ہے کہ ایک ہی آیت میں دو مختلف قراءتیں دو مستقل آیتوں کے حکم میں ہوتی ہیں اور ہر آیت ایک جدا گانہ مستقل حکم کو ثابت کرتی ہے اس آیت میں بھی چونکہ دو قراءتیں ہیں لہذا یہ دو آیتوں کے حکم میں ہوگی اور اس سے پاؤں کے بارے میں دو مختلف حکم ثابت ہو رہے ہیں۔ ایک پاؤں کو دھونے کا، دوسرا پاؤں پر مسح کرنیکا۔ یہ دونوں حکم متضاد ہیں اور ان میں جمع ممکن نہیں اسلیے ان دونوں حکموں کو دو مختلف حالتوں پر محمول کیا جائے گا۔ پہلی قراءت جو پاؤں کے دھونے کا حکم دے رہی ہے وہ اس حالت پر محمول ہے جب پاؤں موزوں میں ملبوس نہ ہوں اور دوسری قراءت جو پاؤں کے دھونے کا حکم دے رہی ہے وہ موزے پہنے ہوئے ہونے کی حالت پر محمول ہے اس طرح دونوں قراءتوں پر عمل ہوسکتا ہے۔ فَاطَّھَّرُوْا مجر کی جگہ باب تفعل کا استعمال مبالغہ کے لیے ہے۔ یعنی غسل جنابت میں مبالغہ کرو۔ اور بدن کی ہر اس جگہ پر پانی پہنچاؤ جہاں پانی پہنچانے میں کوئی دقت نہ ہو ای فاغتسلو علی اتم وجہ (روح ج 6 ص 80) ۔ اس طرح یہ آیت غسل جناب میں مضمضہ (کلی کرنے) اور استنشاق (ناک میں پانی ڈالے) کے وجوب پر نص ہے۔ کیونکہ کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے) پر بلا دقت عمل ہوسکتا ہے۔ 28 یہاں پر لفظ اَوْ بالکل اسی طرح ہے جس طرح سورة نساء میں آیت وضو میں وارد ہوا ہے اس کی پوری تحقیق سورة نساء میں ص 223 پر گذر چکی ہے۔
Ayah 5:729 امر مصلح کے بعد سورت کے ابتدائی مضمون یعنی اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ کا اعادہ فرمایا پہلے بطور تمہید اپنی نعمت کی یاد دہانی کرائی۔ نعمت سے نعمت اسلام مراد ہے۔ وھی نعمۃ الاسلام (روح ج 6 ص 82 ابو السعود ج 3 ص 530) اسلام اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے کیونکہ تمام بنی آدم کی دینی اور دنیوی بہبود اور بہتری اسی سے وابستہ ہے وَمِیْثَاقَہ الخ اس سے وہی عہد و میثاق مراد ہے جو ہر مسلمان اللہ کے حدود و احکام اس کے فرائض و واجبات اور اس کے حلال و حرام کو بجا لانے کے لیے اللہ سے باندھتا ہے۔ یہ آیت قرینہ کہ اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ سے تمام احکام و حدود کی پابندی مراد ہے۔
Ayahs 5:8–1030 ۔ یہ بھی پہلے مضمون کا اعادہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عقود و حقوق کو اپنی امکانی طاقت کے مطابق بجا لانے کی کوشش کرو۔ عدل و انصاف کا دامن ہاتھ سے مت چھوڑو اور بغض و عداوت کی بنا پر حق و انصاف سے روگردانی مت کرو۔ اس میں وَلَا اٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ کے مضمون کا اعادہ ہے۔ وَعَدَ اللہُ الخ احکام و حدود بیان کرنے کے بعد ان لوگوں کو اخروی بشارت دی گئی جو ان کو بجا لائینگے اور اللہ کی حدود کو قائم کرینگے۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا الخ یہ ان لوگوں کے لیے وعید اور تخویف اخروی ہے جو اللہ کے احکام کو پامال کریں اور اس کی حدود کو توڑیں۔
Ayah 5:1131: حکم سابق کا دوبارہ اعادہ ہے اللہ کا انعام یاد رکھو اور آمر بالقسط بنو، عدل و انصاف کی راہ پر چلو، اللہ سے کیے ہوئے تمام عہد پورے کرو اور شعائر اللہ کی بےحرمتی کرنے والوں کو بےحرمتی مت کرنے دو یہودیوں میں سے جو شعائر اللہ کی بےحرمتی کرتے ہیں تمہیں کچھ ڈر خطرہ ہو تو اس کی پرواہ نہ کرو اور اسے خاطر میں نہ لاؤ۔ اللہ سے ڈرو، اس کی نافرمانی سے بچو اور اس پر بھروسہ رکھو جس طرح اس نے ایک موقعہ پر کافروں کے حملے اور ان کی شرارت سے تمہیں محفوظ رکھا وہ اب بھی یہودیوں کی شرارت سے تمہاری حفاظت فرمائے گا۔ اِذْ ھَمَّ قَوْمٌ یہ ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام کے ساتھ مقام عسفان میں نماز ظہر ادا کی تو یہ دیکھ کر مشرکین کو افسوس ہوا کہ کیوں نہ انہوں نے بحالت نماز ان پر حملہ کر کے انہیں ختم کردیا اس کے بعد انہوں نے منصوبہ بنایا کہ چلو نماز عصر کی حالت میں ان پر حملہ کریں گے اللہ تعالیٰ نے نماز خوف کا حکم نازل فرما کر ان کے منصوبے کو خاک میں ملا دیا (روح ج 6 ص 84، مظہری ج 3 ص 62) ایمان والوں کو خدا پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ یہود و نصاریٰ کی طرف سے دل میں کوئی خطرہ یا ڈر نہ رکھنا چاہئے۔ یہود پر ہم نے لعنت و ذلت مسلط کردی ہے اور نصاریٰ میں پھوٹ ڈال دی ہے اب وہ تم سے جنگ نہیں کرسکیں گے۔