Ayah 5:4376 وَ کَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ الخ استفہام تعجب کے لیے (روح) یہاں یہود کے روئیے پر دوہرے تعجب کا اظہار فرمایا۔ تعجب ہے یہ لوگ اپنے معاملات کے مقدمے آپ کے پاس کیوں لاتے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس اللہ کی کتاب تورات موجود ہے اس میں ان کے مقدمات کے فیصلے بھی موجود ہیں پھر اس پر تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ اس کے باوجود جب آپ کے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہیں پھر آپ کے فیصلوں اعراض کرتے ہیں وَ مَا اُولئِکَ بِالْمُؤمِنِیْنَ ۔ ان کا تو تورات پر بھی ایمان نہیں جس پر ایمان لانیکے وہ بڑے مدعی ہیں اگر تورات پر ان کا ایمان ہوتا تو اس کے احکام پر عمل کرتے اور قرآن پر بھی ایمان لے آتے جو تورات کے احکام کی تصدیق کرتا ہے وَ مَا اُولئِکَ بِالْمُوْمِنِیْنَ بِشَیْءٍ مِنْ کتاب اللہ تعالیٰ الا بالتوراۃ و الا لعلملوا بھا و اٰمنوا بما یصدقہ یوافقہ ولا بکتابک (مظھری ج 3 ص 122) ۔
77 فِیْھَا حُکْمُ اللہِ ۔ حکم اللہ سے قتل اور قطع الطریق کا حکم یعنی قصاص وغیرہ مراد ہے جیسا کہ وَ کَتَبْنَا عَلَیْھِمْ فِیْھَا اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفسِ الخ اس پر شاہد ہے۔
فائدہ : اس سے پہلے یہود قطاع الطریق اور قتل و غارت گری سے زمین پر فساد برپا کرنے والوں کی سزاؤں کا ذکر تھا اس لیے اس مناسبت سے حکم اللہ سے یہاں تمام حدود مراد ہیں صرف زنا کی سزا ہی مراد نہیں اور ان آیتوں کے شان نزول کے طور پر یہودی مرد و زن کے زنا کا جو واقعہ بیان کیا جاتا ہے وہ بھی بلا شبہ اس آیت کے تحت داخل ہے لیکن آیت کا حل اس واقعہ پر موقوف نہیں۔
Ayah 5:4478 اِنَّا اَنْزَلْنَا التَّوْرَاۃ پہلے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ آپ قسط اور حق کے مطابق فیصلے کریں جس سے مراد یہ تھی کہ آپ اللہ کے نازل کردہ قرآن کے مطابق فیصلے فرمائیں یہاں فرمایا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اتاری جو سراپا ہدایت اور روشنی تھی تاکہ وہ اور ان کے بعد آنیوالے اسرائیلی اور احبارو رہبان اس پر عمل کرکے اس کے مطابق اپنے جھگڑے چکائیں۔ چناچہ تمام بنی اسرائیلی اور تمام سچے صوفی اور درویش اور تمام علماء صادقین جو بنی اسرائیل میں موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد گذرے وہ تورات کے احکام پر عمل کرتے رہے کیونکہ اللہ کی کتاب تورات کی تعلیمات کی حفاظت اور ان کی ترویج کی ذمہ داری ان پر ڈالی گئی تھی اور وہ اس کے عالم تھے اور اس کی تعلیمات کے نگران تھے۔ اَلَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا یہ النَّبِیُّوْنَ کی صفت مادہ ہے یعنی اللہ کے فرمانبردار نبی الذین اسلموا ھھنا نعت فیہ معنی المدح مثل بسم اللہ الرحمن الرحیم (قرطبی ص 189 ج 6) ۔ اَلَّذِیْنَ ھَادُوْا۔ یہ جار مجرور یَحْکُمُ کے متعلق ہے۔ ھادوا تابوا من الکفر (روح، مظہری، قرطبی) یعنی جو لوگ کفر سے تائب ہوچکے تھے مراد وہ لوگ ہیں جو تورات کی تعلیمات پر عمل کرتے تھے۔ الرَّبَّانِیُّوْنَ الرَّبّانی کی جمع ہے یعنی اللہ والے اور اس سے اس وقت کے صوفی اور تارک الدنیا درویش مراد ہیں۔ احبار، حبر کی جمع ہے یعنی بہت بڑا عالم الربانیوں ای الصوفیۃ الزھاد۔۔۔ والاحبار جمع حبر۔ ھو العالم المحکم للشیء (مظھری ج 3 ص 123) بِما میں ب سببیہ ہے۔ کتاب اللہ سے تورات مراد ہے۔ شُھَداء شہید کی جمع ہے جس کے معنی یہاں نگراں، خبردار اور بیان کرنے والے کے ہیں۔ شھداء قباء یعلمونہ و یبینونہ (مظھری ج 3 ص 124) رقباء یحمونہ من ان یحوم۔۔۔۔ التغییر و التبدیل بوجہ من الوجہ (روح ص 144 ج 6) ۔
79 اس میں خطاب علماء اور رؤساء یہود سے ہے (روح) جب انبیاء (علیہم السلام) ربانیون اور احبار تورات پر عمل کرتے چلے آئے ہیں اور کوئی ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکا تو اے علماء اور رؤساء یہود تم لوگوں سے کیوں ڈرتے ہو۔ تم کسی سے مت ڈرو اور صرف مجھ ہی سے ڈرو اور تورات میں میں نے جو احکام نازل کیے ہیں ان پر عمل کرو اور ان میں تحریف اور تغییر و تبدل مت کرو۔
80 میری آیتوں کو چھپا کر اور ان میں تحریف کر کے ان کے عوض دنیا کی حقیر دولت مت حاصل کرو۔ حکومت کے دباؤ سے، اقتدار یا دولت کے لالچ میں میرے دین سے روگردانی مت کرو اور حق بیان کرنا اور صداقت کا اعلان کرنا مت ترک کرو۔ ایصال ثواب کے لیے تلاوت قرآن کی اجرت لینے کی ممانعت بھی اس آیت سے مفہوم ہوتی ہے۔
81 یہ ان علماء اور رؤساء یہود کے لیے وعید شدید ہے جو تورات پر عمل نہ کریں اور معاملات کا فیصلہ اس کے احکام کے مطابق نہ کریں۔ ایسے لوگوں کو کافر قرار دیا۔ حالانکہ عمل نہ کرنا ایک عملی کوتاہی ہے جس سے آدمی کافر نہیں ہوجاتا اس لیے عمل نہ کرنے اور اس کے مطابق فیصلے نہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کے احکام کی صداقت اور حقانیت کا اعتقاد نہ رکھے اس طرح یہاں عمل نہ کرنے کا کامل درجہ مراد ہے الحکم و ان کان شاملا لفعل القلب والجوارح لکن المراد بہ ھنا عمل القلب وھو التصدیق ولا نزاع فی کفر من لم یصدق بما انزل اللہ تعالیٰ (روح ص 145 ج 6) ۔ اور مسند احمد میں ہے۔ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ ای لم یعتقد یہ حکم اور اسی طرح آئندہ احکام یعنی جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام پر اعتقاد نہ رکھیں اور ان پر عمل نہ کریں وہ کافر ہیں، ظالم ہیں اور فاسق ہیں یہ احکام یہود و نصاریٰ ہی سے مخصوص نہیں ہیں اگر اہل اسلام قرآن مجید میں اور احادیث میں اللہ اور رسول کے بیان کردہ احکام پر اعتقاد نہ رکھیں اور ان پر عمل نہ کریں تو ان کا بھی یہی حال ہوگا۔
Ayah 5:4582 یہ تورات میں قصاص کے حکم کا ذکر ہے۔ یعنی ہم نے تورات میں یہود پر قصاص نفس اور قصاص اطراف اور قصاص جروح کو فرض قرار دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ مقتول کے بدلے قاتل کو قتل کیا جائے اور اگر کوئی شخص دوسرے شخص کا عضو کاٹ ڈالے تو اس کا بھی وہ عضو کاٹا جائے اور اگر کوئی کسی کو زخمی کردے تو اسے بھی زخمی کیا جائے مگر انہوں ان حدود کو قائم نہ کیا اور امیر و غریب اور شریف و خسیس کا امتیاز قائم کردیا۔ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ اصل میں ذات قصاص تھا مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام کردیا گیا۔ فَمَنْ تَصَدَّقَ الخ جس نے اپنا قصاص معاف کردیا وہ اس کے لیے گناہوں کا کفارہ ہوگا۔
83 یہاں ان لوگوں کو ظالم فرمایا جو تورات میں نازل شدہ اللہ کے احکام قصاص پر عمل نہ کریں جیسا کہ یہود کے علماء کیا کرتے تھے وہ شرفاء اور رؤساٌء کو ادنی حیثیت کے لوگوں اور غریبوں کے قصاص میں قتل نہیں کرتے تھے اس طرح مظلوموں کی حق تلفی ہوتی تھی۔ ایک تو وہ ظالم تھا جس نے کسی بیچارے انسان پر ظلم کیا لیکن جب علماء یہود نے مظلوم کو ظالم سے اس کا حق نہ دلوایا تو وہ بھی ظالم ٹھہرے۔
Ayah 5:4684 پہلے یہود کو تورات دینے اور اس کے احکام پر سختی سے عمل کرنے کی تاکید کا ذکر تھا یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر انجیل نازل کرنے کا ذکر فرمایا اور ساتھ علماء نصاریٰ کو انجیل پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی مُصَدِّقاً یہ عیسیٰ سے حال واقع ہے۔ وَ اٰ تَیْنٰہُ الْاِنجْجِیلَ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایک طرف تورات کے تصدیق کنندہ تھے اور دوسری طرف خود بھی صاحب کتاب تھے ان کو ہم نے انجیل دی جس میں تورات کی طرح ہدایت کی روشنی تھی۔ وَمُصَدِّقاً جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تورات کے احکام کی تصدیق کرتے تھے اسی طرح انجیل بھی تورات کی مصدق تھی۔
Ayah 5:4785: اہل انجیل سے علماء انصاری مراد ہیں جو انجیل کے عالم تھے فرمایا علماء انجیل کو چاہئے کہ وہ ان تعلیمات پر عمل کریں جو اللہ تعالیٰ نے انجیل میں نازل فرمائی ہیں۔ جو لوگ انجیل میں اللہ کے نازل کردہ احکام پر عمل نہ کریں وہ فاسق اور اللہ کے نافرمان ہیں۔ یا اس سے درجہ کامل مراد ہے۔ ای المثمردون الخارجون عن حکمہ او عن الایمان (روح ص 151 ج 6) ۔
Ayah 5:4886: خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے ہے علماء یہود و نصاریٰ کو تورات وا نجیل پر عمل کرنے کی تاکید کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ سے فرمایا کہ آپ پر بھی میں نے ایک کتاب نازل کی ہے جو ہر لحاظ سے کامل اور حق و صداقت بیان کرتی ہے اور پہلی کتابوں میں مذکور عقائد اور اصولی احکام اور اخلاق کی تصدیق کرتی ہے۔ اَلْکِتٰبَ میں الف لام عہد کے لیے اور اس سے قرآن عظیم مراد ہے ای الفرد الکامل الحقیق بان یسمی کتابا علی الاطلاق لتفوقہ علی سائر الکتب السماویۃ و ھو القراٰن العظیم فاللام للعھد (روح) مِنَ الْکِتٰبِ ۔ مِنْ بیانیہ ہے اور یہ مَا کا بیان ہے اور الف لام جنس کے لیے ہے اس سے مراد وہ تمام کتب سماویہ ہیں جو قرآن مجید سے پہلے نازل ہوچکی تھیں۔ من الکتاب ای کل کتاب نزل من السماء سوی القراٰن (کبیر ج 3 ص 607)
87 عَلَیْہِ کی ضمیر ما کی طرف راجع ہے۔ مُھَیْمِنًا ای رقیباً و حافظاً (روح، قرطبی، کبیر وغیرہ) چونکہ قرآن مجید خود ہر قسم کی تحریف و تغیر سے محفوظ اور نسخ و تبدل سے مامون ہے اس لیے وہ پہلی تمام آسمانی کتب کا محافظ اور ان کی تعلیمات کا نگران ہے۔ قرآن ایک آسمانی معیار ہے اس کے ذریعے پہلی کتابوں کی محرف اور غیر محرف تعلیمات و احکام کا یقینی فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے اس سے پہلی کتابوں کے منسوخ اور غیر منسوخ احکام کا بھی سراغ لگایا جاسکتا ہے۔ قال الخلیل و ابو عبیدۃ ای رقیباً علی سائر الکتب السماویۃ المحفوظۃ عن التغییر حیث یشھد لھا بالحصۃ والثبات و یقرر اصول شرائعھا و ما یتابد من فروعھا و یعنی احکامھا المنسوخۃ (روح ص 152 ج 6) ۔ 88: یہ وَ اِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ الخ کی تفصیل ہے یعنی جب ہم نے آپ کو ایسی خوبیوں والی کتاب دی ہے تو جب اہل کتاب اپنے جھگڑے آپ کے پاس لے کر آئیں تو آپ اس عظیم الشان کتاب کے مطابق ان کا فیصلہ فرمائیں اور ان کی نفسانی خواہشوں کی پیروی نہ کریں۔ اَھْوَاءْ سے مراد علماء اہل کتاب کے خود ساختہ احکام ہیں جو انہوں نے تورات و انجیل میں تحریف کر کے از خود گھڑ لیے تھے۔ ای اراءھم التی اصطلحوا علیھا و ترکوا بسبھا ما انزل اللہ علی رسولہ (ابن کثیر ج 2 ص 66) ۔ عَمَّا۔ حرف جار بتضمین معنی اعراض و عدول لَا تَتَّبِعْ کے متعلق ہے ای لا تتبع اھواءھم عادلا (او معرضا) عما جاءک (روح و مدارک ج 1 ص 222) ۔ یعنی آپ کے پاس جو حق آچکا ہے اس سے اعراض کرتے ہوئے آپ ان کی خواہشات کا اتباع نہ کریں۔
89: شِرْعَۃً وَّ مِنْھَاجًا : دونوں لفظ متحد المعنی ہیں دونوں کے معنی راستے کے ہیں اور دونوں سے مراد دین ہے ای اسے شرعۃ ظہور و وضوح کے اعتبار سے اور منہاج اس پر چلنے کے اعتبار سے کہا جاتا ہے بعض مفسرین نے دونوں میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ شِرْعَۃً سے احکام فرعیہ اور مِنْھَاج سے احکام اعتقادیہ مراد ہیں مگر علامہ آلوسی نے اس کو پسند نہیں کیا و قیل الشرعۃ الاحکام الفرعیۃ والمنھاج الاحکام والاعتقادیۃ و لیس بشی ءٍ (روح ص 156 ج 6) ۔ یہاں اہل کتاب کو آنحضرت ﷺ کے اتباع کی ترغیب دی فرمایا ہر امت کے لیے ہم نے دین مقرر کیا تاکہ وہ اس پر عمل کریں۔ جو لوگ ایک پیغمبر کے زمانے میں ہوتے ہیں وہ اس کی امت کہلاتے ہیں اور ان پر اس کے دین کی پیروی لازم ہوتی ہے اس کے بعد جب دوسرا پیغمبر آجائے تو اس کی آمد سے امت بدل جائے گی اور اب اس کا دین واجب الاتباع ہوگا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت تک لوگوں کے لیے تورات کو دین مقرر کیا گیا اس کے بعد حضرت مسیح (علیہ السلام) سے لے کر آنحضرت ﷺ کی بعثت تک انجیل دین کا دستور العمل تھی پھرحضور ﷺ کی بعثت سے تورات و انجیل منسوخ ہوئیں اور تمام بنی آدم کے لیے قرآن مجید شرعۃ اور منہاج قرار پایا اور سب پر آنحضرت ﷺ کے لائے ہوئے قرآن اور دین کا ماننا لازم اور فرض ہواء، یہود اور نصاریٰ پر تورات اور انجیل پر عمل کرنا اس وقت ضروری تھا جب وہ قرآن کی آمد سے پہلے منسوخ نہیں ہوئی تھیں۔ استئناف جیء بہ لحمل اھل الکتاب من معاصریہ ﷺ علی الانقیاد لحکمہ (علیہ الصلوۃ والسلام) بما انزل اللہ تعالیٰ الیہ من الحق (روح و ابو السعود ج 3 ص 590) ۔
: 90: اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو جبراً تمام لوگوں کے دلوں میں ایمان داخل کر کے اور ان کو دین پر قائم کر کے ایک ہی امت بنا دیتا اور ان میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہ ہوتا لیکن یہ چیز اس کی حکمت کے خلاف تھی کیونکہ اس طرح ان کی آزمائش نہیں ہوسکتی تھی اس لیے اس نے بندوں کو اختیار دے دیا تاکہ وہ خداداد عقل و شعور سے سوچ سمجھ کر اپنی مرضی سے جو چاہیں راستہ اختیار کریں اس طرح ان کا امتحان ہوجائے گا کہ ان میں سے کون نیکی کی طرف دوڑتا ہے اور کون برائی اختیار کرتا ہے اس دور ابتلاء (دنیا) کے بعد آخرت میں سب اللہ کے سامنے حاضر کیے جائیں گے اور وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزاء و سزا دے گا۔ قرآن مجید میں اکثر جگہوں میں تمام لوگوں کو ایک دین پر جمع نہ کرنے کی حکمت بیان نہیں کی گئی اس مقام کے قرینے سے ان تمام جگہوں میں یہ حکمت ملحوظ و مقدر ہوگی۔ مثلاً وَ لَوْ شَاءَ اللہُ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً (ہود ع 1) ۔ اور شوری ع 1 میں فرمایا وَ لَوْ شَاءَ اللہُ لَجَعَلَھُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً اور سورة رعد ع 4 میں ہے۔ وَ لَوْ یَشَاءُ اللہُ لَھَدَی النَّاسَ جَمِیْعًا۔ اسی طرح سورة سجدہ ع 2 میں ارشاد ہے۔ وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا کُلَّ نَفْسٍ ھُدٰھَا ان تمام آیتوں میں وَ لٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ کی قید ملحوظ ہوگی۔
Ayah 5:4991 یہ اٰمُرُکَ محذوف کا مفعول ہے یا یہ اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتٰبَ میں اَلْکِتٰبَ پر معطوف ہے یعنی جس طرح ہم نے آپ پر کتاب نازل کی اسی طرح یہ امر بھی نازل کیا وَاحْذَرْھُمْ الخ آنحضرت ﷺ کو خبر دار کیا کہ آپ یہود کے مکر و فریب سے ہوشیار رہیں کہیں وہ آپ کو کسی معاملہ میں صحیح فیصلے سے بھٹکا نہ دیں۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا الخ اگر وہ آپ کے فیصلے کو نہ مانیں تو آپ یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو دنیا ہی میں ان کے گناہوں کی سزا دینا چاہتا ہے چناچہ یہود کو اپنی سرکشی اور آنحضرت ﷺ کی مخالفت کی دنیا میں بھی سزا مل گئی کچھ قتل ہوئے، کچھ جلا وطن ہوئے۔ اور کچھ ذلت کے ساتھ جزیہ دینے پر مجبور ہوئے ای یعذبھم بالجلاء والجزیۃ والقتل و کذٰلک کان (قرطبی ج 6 ص 214) ۔
فائدہ : پہلے رکوع 6 میں فرمایا۔ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ پھر ہی آیت میں بِالْقِسْطِ کی قید بڑھا کر فرمایا فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ اس کے بعد رکوع 7 بِالْقِسْطِ کی جگہ بِمَا اَنْزَلَ اللہُ فرما کر واضح کردیا کہ قِسْطٌ سے اللہ کے نازل کردہ احکام مراد ہیں اور ساتھ ہی وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَاءَھُمْ فرما کر آنحضرت ﷺ کو یہود کی خواہشات کی پیروی کرنے سے منع فرمایا پھر اس سے اگلی آیت میں وَاحْذَرْھُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْکَ کا اضافہ فرما کر آپ کو خبردار کیا کہ آپ ان کے مکر و فریب سے بچے رہیں وہ آپ کو سرمایہ داروں اور اپنے مریدوں اور پیروکاروں کے ذریعے کسی فتنے اور چال میں الجھا کر حق کے خلاف فیصلہ کرانے کی کوشش کریں گے۔
Ayah 5:5092 یہود قطاع الطریق قتل و رہزنی کرتے تھے اور قتل کے بدلے فدیہ دے کر قصاص سے جان بچالیتے تھے آنحضرت ﷺ کے سامنے بھی ان کی یہی کوشش تھی کہ مال دے کر قتل سے بچ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو بالکل وہی جاہلیت کا فیصلہ ہے کیا یہ لوگ آخر الزمان پیغمبر کے سامنے بھی وہی جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں۔
فائدہ : قال اشیخ قدس سرہ اگر غور سے دیکھا جائے تو ابتدائے سورت سے لے کر یہاں تک یہود قطاع الطریق کے متعلق آیات تھیں۔ ابتدا میں کہا گیا اگر تم نے قدیم بغض کی بنا پر نئے مسلمانوں کی معاونت اور امداد نہ کی اور ان قطاع الطریق کو ان سے نہ روکا تو یہ معاونت علی الظلم شمار ہوگی اب ان آیتوں میں بھی ان قطاع الطریق ہی کا ذکر ہے۔
93 لِقَوْمٍ میں لام بمعنی عِنْدَ ہے۔ جو فیصلہ یہود چاہتے ہیں وہ سراسر جاہلیت کا فیصلہ ہے اور جو فیصلہ خدا کا پیغمبر صادر کرتا ہے وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور جو لوگ اللہ پر، اللہ کے رسول پر، اللہ کی کتاب پر اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے جو اس کے رسول ﷺ کے ذریعے صادر ہوتا ہے، بہتر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکتا۔
Ayah 5:5194: یہود و نصاریٰ کی خباثتیں اور ان کی بد اعمالیاں ذکر کرنے کے بعد مسلمانوں کو ان سے ترک موالات کا حکم دیا کہ ان سے دوستی نہ کرو اور نہ باہمی تعاون اور امداد کا ان سے کوئی معاہدہ کرو بلکہ آپس میں دوستی اور محبت بڑھاؤ۔ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَاء بَعْضٍ ۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں یہود آپس میں اور نصاریٰ آپس میں لیکن تمہارے دشمن ہیں اس لیے ان سے خیر خواہی یا بھلائی کی توقع مت رکھو۔ وَ مَنْ یَّتَوَلَّھُمْ الخ جو ان سے دوستی کرے گا وہ بھی انہی میں شمار ہوگا یہ بطور زجر و توبیخ فرمایا۔ وَ ھُوَ مخرج مخرج التشدید و المبالغۃ فی الزجر (روح ج 6 ص 157): بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ یہود و نصاریٰ سے موالات کی وجہ سے انہی جیسے مجاہدین ہوجائیں گے۔
Ayah 5:5295: مَرَضٌی یعنی نفاق کی بیماری۔ اس سے مراد منافقین ہیں اور یہ منافقین پر شکویٰ ہے۔ دَائِرَۃٌ یعنی کوئی حادثہ اور مصیبت منافقین دوڑ دوڑ کر یہود و نصاریٰ کی طرف جاتے ہیں اور انہوں نے در پردہ ان سے دوستی گانٹھ رکھی ہے اور عذر یہ پیش کرتے ہیں کہ اگر وہ ان سے موالات نہ کریں تو وہ ان کو مالی مشکلات اور دیگر دنیوی مصائب سے دوچار ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ یہود و نصاریٰ کی طرف سے ان کو مالی امداد ملتی تھی۔ لِاَنَّھُمْ کانوا اھل ثروۃ وکانوا یعینونھم علی مہماتھم ویقرضونہم (کبیر ج 3 ص 611) ۔
96: عَسیٰ کی نسبت جب اللہ کی طرف ہو تو وہ حتمی وعدے کے لیے ہوتا ہے یعنی ایسا ضرور ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو اس کے دشمنوں (یہود و نصاریٰ ) پر فتح دے گا یا اپنے رسول کو منافقین کے نفاق اور ان کے پوشیدہ اسرار ظاہر کرنے کا حکم دیدے گا تو منافقین کافروں سے اپنی پوشیدہ دوستی پر سخت نادم اور پشیمان ہوں گے کیونکہ ایک تو کافروں کے مغلوب و مفتوح ہونے کی وجہ سے وہ ان کی امداد اور پشت پناہی سے محروم ہوجائیں گے دوم ظہور نفاق کی وجہ سے شرمسار ہوں گے۔
Ayah 5:5397 یہ مسلمانوں کی طرف سے منافقین کے حال بد اور ان کے عذر پر تعجب کا اظہار ہے ان منافقین نے پختہ قسمیں کھا کھا کر آنحضرت ﷺ کو یقین دلایا تھا کہ وہ آپ کے دین پر ہیں اور آپ کے ساتھی ہیں اور وقت آنے پر یہود کے مقابلے میں آپ کی مدد کریں گے مسلمانوں کا ساتھ دیں گے مگر ان کے کرتوتوں سے ان کا نفاق ظاہر ہوگیا۔ حَبِطَتْ اَعْمَالَھُمْ الخ ان کے تمام اعمال ضائع اور بےنتیجہ ہوگئے اور بےنتیجہ ہوگئے اور ان پر آخرت کا کوئی اجر مترتب نہیں ہوگا کیونکہ اعمال کے مفید اور موجب ثواب ہونے کے لیے ایمان خالص شرط ہے اور وہ اس سے محروم ہیں۔
Ayah 5:5498 یہ خطاب مسلمانوں سے ہے اور ان پر زجر ہے کہ وہ یہود و نصاریٰ سے دوستی اور ان کی حمایت کر کے ارتداد کی راہ اختیار نہ کریں بین ان موالاتھم مستدعیۃ للارتداد عن الدین (روح ج 6 ص 160) ۔ لیکن اگر انہوں نے منافقین کی طرح ان سے موالات کرلی تو اس سے اللہ کے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی خدمت کے لیے ایسے لوگوں کو میدان میں لے آئے گا جو اس سے بجان و دل محبت کریں گے اور ظاہر و باطن میں اس کے مطیع و فرمانبردار ہوں گے اور ان کی ان خوبیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بھی ان کو محبوب رکھے گا اور دین و دنیا میں ان کی مدد کرے گا اور ان کو اپنے انعامات سے نوازے گا۔ اَذِلَّۃٍ اور اَعِزَّۃٍ یہ دونوں قَوْمٍ کی صفتیں۔ اذلۃ۔ ذلیل بمعنی عاجز کی جمع ہے اور علی بمعنی لام ہے۔ اَعِزَّۃٍعزیز بمعنی غالب اور سخت گیر کی جمع ہے یعنی وہ اپنے مومن بھائیوں کے سامنے عاجز اور ان پر مہربان ہوں گے لیکن کافروں کے حق میں سخت ہوں گے اور ان کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے وہ اللہ کی راہ میں محض اللہ کی خوشنودی کے لیے اور اس کے دین کی سربلندی کی خاطر جہاد کریں گے اور کسی کی ملامت کی پروا نہیں کریں گے۔
Ayah 5:5599 یہود و نصاریٰ کی دوستی سے منع کرنے کے بعد فرمایا تمہاری دوستی تو صرف اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں سے ہونی چاہئے تم انہی سے دوستی اور مولات کرو یہی تمہارے دوست ہیں۔ یہود و نصاریٰ تو آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں وہ تمہارے کبھی دوست نہیں بن سکے۔ وجہ النظم انہ تعالیٰ لما نھی فی الایت المتقدمۃ عن موالات الکفار امر فی ھذہ الایۃ بموالاۃ من یجب موالاتہ (کبیر ج 3 ص 617) اللہ تعالیٰ کے ولی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کارساز ہے مومنین اسی پر بھروسہ کریں اور اسی کو کارساز سمجھیں۔ اللہ کے رسول کی ولایت سے مراد یہ ہے کہ آپ کا اتباع کیا جائے اور آپ کے تمام حقوق محبت سے ادا کیے جائیں اور مومنین کی ولایت سے مراد یہ ہے کہ آپس میں محبت و اتفاق سے رہیں اور نیکی کے کاموں میں باہم تعاون کریں۔
100 یہ پہلے موصول اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے بدل ہے وَھُمْ رَاکِعُوْنَ یہ یُقِیْمُونَ اور یُؤْتُوْنَ کے فاعل سے حال ہے اور راکعون کے معنی ہیں۔ خاشعون متواضعون لِلّٰہِ تعالیٰ (روح ج 6 ص 167) علامہ خازن نے لکھا ہے کہ رکوع سے یہاں خضوع مراد ہے۔ المراد من الرکوع ھنا الخضوع والمعنی ان المؤمنین یصلون ویز کون و ھم منقادون خاضعون لاوامر اللہ و نواھیہ (خازن ج 2 ص 55) یہ ان ایمان والوں کی صفتیں ہیں جن سے دوستی رکھنی چاہئے یعنی وہ نماز زکوۃ اور دوسرے تمام اعمال پورے اخلاص اور خشوع و تواضع سے بجالاتے ہوں اور ان کے اعمال شائبہ نفاق وریا سے پاک ہوں۔ مومنین کی یہ صفات بیان کر کے منافقین سے احتراز کرنے کی تعلیم دینا مقصود ہے کیونکہ وہ بھی مومن ہونے کے مدعی تھے۔ المراد بذکر ھذہ الصفات تمییز المومنین عن المنافقین لان المنافقین کانوا یدعون انہم مؤمنون۔ (خازن و کبیر ج 3 ص 618) ۔
Ayah 5:56101 جو لوگ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول ﷺ اور مومنین سے دوستی اور محبت کا رشتہ قائم کرتے ہیں۔ یعنی اللہ اور رسول کی پوری پوری اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہیں اور ایمان والوں کے خلاف بغض و عداوت نہیں رکھتے بلکہ ان سے اتحاد و اتفاق کے ساتھ رہتے ہیں تو یہ لوگ حزب اللہ یعنی اللہ کی جماعت ہیں اور اللہ کی جماعت ہی انجام کار غالب اور کامران ہوتی ہے۔ یہ اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں سے محبت و موالات کرنے کی ترغیب ہے۔
Ayahs 5:57–58102 پہلے یہود و نصاریٰ کی موالات سے منع فرمایا اب یہاں منافقین اہل کتاب اور مشرکین سے دوستی اور محبت کرنے سے منع فرمایا۔ اَلَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ھُزُوًا وَّ لَعِبًا الخ سے منافقین اہل کتاب مراد ہیں۔ جنہوں نے دین اسلام کو ایک کھیل اور مذاق بنا رکھا تھا کیونکہ جب وہ مسلمانوں کے پاس آتے تو کہتے ہم مومن ہیں اور جب اپنے صنادید کے پاس جاتے تو کہتے ہم تمہارے دین پر ہی ہیں مسلمانوں کی نمازوں میں ہم محض بغرض استہزاء شریک ہوجاتے ہیں۔ وَ اِذَا نَادَیْتُمْ الخ یہ ان کے استہزاء کا بیان ہے یعنی وہ نماز میں تمہارے ساتھ محض استہزاء و تمسخر کے لیے شریک ہوتے اور اس سے ان کا مقصد تمہیں دھوکہ دینا ہے تاکہ تم ان کو مومن سمجھو لانھم عند اقامۃ الصلوۃ یقولون ھذہ الاعمال التی اتینا بھا استہزاء بالمسلمین و سخریۃ منھم فانھم یظنون انا علی دینھم مع انا لسنا کذالک (کبیر ج 3 ص 624) ۔
Ayah 5:59103 پہلے فرمایا کہ جن اہل کتاب نے تمہارے دین کو ایک کھیل بنا رکھا ہے ان سے موالات نہ کرو یہاں فرمایا ان سے پوچھو تو سہی کہ ہمارے دین کی کونسی بات تم کو ناپسند ہے جس کی وجہ سے تم نے اس کو استہزاء و تمسخر کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ کیا تمہیں یہ بات پسند اور گوارا نہیں کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کتاب ہم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں ہم سے پہلے نازل ہوئی ہیں ہم ان سب کو سچی مانتے ہیں ہمارا دین تو یہی ہے کیا تمہیں یہ باتیں ناپسند ہیں، حالانکہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی بری اور ناپسندیدہ نہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ اَنَّ اَکْثَرَکُمْ فٰسِقُوْنَ تمہاری اکثریت سرکش اور متمرد ہے اور تم بغض وعناد اور سرکشی کی وجہ سے ہمارے دین سے استہزاء کرتے ہو۔ حضرت نے فرمایا یہاں اِعْلَمُوْا محذوف ہے ای وَاعْلَمُوْا اَنَّ اَکْثَرَکُمْ فٰسِقُوْنَ ۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ واؤ زائدہ ہے اور جملہ ما قبل کی علت اور اصل میں لام تعلیل مقدر ہے۔ ای ھل تنقمون منا الا الایمان لان اکثرکم فسقون (روح ج 6 ص 174) ۔
Ayah 5:60104 یہود نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ عیاذاً باللہ) تمہارے دین سے بد تر دین ہم نے نہیں دیکھا تو اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ھذا جواب للیھود لما قالوا ما نعرف دینا شرا من دینکم۔ (خازن ج 2 ص 57) یعنی آپ یہود سے فرما دیں کہ ہمارے دین کو تم اپنے زعم میں سب سے برا سمجھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤ کے سب سے برا دین کس کا ہے اور خدا کے یہاں کس دین والے کو بد ترین جزا ملے گی۔ مَنْ لَّعَنَہُ اللہُ اس سے پہلے مضاف محذوف ہے۔ ای دین من لعنہ اللہ (مدارک ج 1 ص 225) ۔ یعنی سب سے برا دین تو ان لوگوں کا ہے جو بارگاہ خداوندی سے ملعون و مرود ہے اور جن پر خدا کا غضب ہوا اور جن کو اللہ تعالیٰ نے بطور سزا مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنا دیا اور جنہوں نے شیطان کی عبادت کی۔ الطَّاغُوْت کے دو معنی ہیں۔ 1۔ شیطان اور۔ 2 ۔ ہر معبود غیر خدا یہاں دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں۔ والطاغوت ھو الشیطان و قیل ھو العجل وقیل ھو الکھان والاحبار وجملتہ ان کل من اطاع احدا فی معصیۃ اللہ فقد عبدہ وھو الطاغوت (خازن ج 2 ص 57) مذکور بالا تمام باتیں یہود میں پائی جاتی ہیں لہذا معلوم ہوا کہ ان کا دین ہی سب سے برا دین ہے۔ یعنی من الیھود من لعنہ اللہ و غضب علیہ ومنھم من جعلھم قردۃ وخنازیر (خازن) ۔
105 اُولئِکَ سے اشارہ مذکورہ بالا ملعونین، مغضوبین، ممسوخین اور عباد شیطان کی طرف ہے وہ لوگ ہے جن کے حالات یہ ہیں یعنی یہود ہی خدا کے یہاں سب سے برے ہیں اور سیدھی راہ سے بہت دور ہیں اور جہنم میں ان کا ٹھکانا بہت برا ہے۔
Ayah 5:61106 جَاءُوْا کا فاعل وہی منافقین یہود ہیں جو کافروں سے دوستی رکھتے اور دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں یہاں ان کے نفاق اور خبث باطن کا بیان فرمایا، جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو دل و جان سے ایمان لا چکے ہیں۔ وَقَدْ دَّخَلُوْا بِالْکُفْرِ جملہ قَالُوْا کی ضمیر سے حال ہے۔ جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ وہ اپنے دلوں میں کفر لے کر آتے ہیں اس لیے ان کا دعویٰ ایمان سراسر جھوٹا ہے۔ وَ ھُمْ قَدْ خَرَجُوْا بہ۔ یہ بھی قَالُوْا کے فاعل سے حال واقع ہے یعنی جب وہ آپ کی مجلس سے چلے جاتے ہیں تو اس وقت بھی ان کے دلوں میں وہ کفر جاگزیں ہوتا ہے اور آپ کے وعظ و تبلیغ اور قرآنی آیات کا ان کے دلوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اللہ کی آیت سن کر اور ان کا انکار کر کے کفر میں اور پختہ ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا۔ وَالَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ فِیْ اٰذَانِہِمْ وَقْرٌ وَّ ھُوَ عَلَیْھِمْ عَمًی۔ (حم السجدۃ ع 5) ۔
Ayah 5:62107 ۔ منافقین یہود کی خباثت بیان کرنے کے بعد ان کے عام غلط کار علماء اور بد عمل درویشوں پر شکوی فرمایا کہ وہ برائی کے ہر میدان میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ وہ لوگوں کو شرک سکھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احکام و حدود کو توڑتے ہیں، رشوتیں لیتے ہیں اور غیر اللہ کی نیازیں کھاتے ہیں۔ اَلْاِثْمِ سے مراد شرکیہ کلمات ہیں۔ وقیل کلمۃ الشرک وھو قولھم عزیر ابن اللہ (ابو السعود ج 3 ص 612) یا اثم عام ہے اور اس سے ہر گناہ مراد ہے۔ اَلْعُدْوَانُ اللہ کی حدود سے تجاوز کرنا۔ السُّحْتُ یعنی رشوت اور غیر اللہ کی نذر و نیاز وہ جو کچھ کر رہے ہیں بہت برا ہے۔
Ayah 5:63108 عام علماء یہود پر شکوی کے بعد ان کے اکابر علماء اور پیشواؤں پہ شکوی فرمایا کہ ان لوگوں کو تو مذکورہ برائیوں اور ان کے انجام بد کا پورا پورا علم تھا انہوں نے ان کو ان کاموں سے کیوں نہ روکا ان کی یہ خاموشی اور حق پوشی بہت ہی بری بات۔ المراد ھھنا تخصیص الذین یقتدی بھم افناءھم ویعلمون قباحۃ ما ھم فیہ الخ (ابو السعود روح ج 6 ص 179) ۔
Ayah 5:64109 یہ بھی یہود پہ شکوی ہے۔ یہودیوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر قحط مسلط کردیا۔ اس اثناء میں انہوں نے اپنے مشرکانہ عقیدے کے تحت عم انس کی قبر پر بکری ذبح کی تاکہ بارش ہوجائے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی سے تکوینی اسباب کے تحت بارش برسائی تو یہودی بول اٹھے کہ (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ بخیل ہے وہ ہمیں رزق نہیں دیتا بلکہ ہم جب فقیروں اور درویشوں کو پکارتے اور ان کی نیازیں دیتے ہیں تو وہ ہماری روزی کا انتظام کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر و شرک کی وجہ سے بطور سزا ان پر روزی تنگ کردی تھی۔ اگر وہ اللہ کی کتاب پر عمل کرتے اور اس کی تعلیمات سے منہ نہ موڑتے تو اللہ تعالیٰ ان پر رزق تنگ نہ فرماتا بلکہ فراخی سے دیتا جیسا کہ فرمایا۔ وَ لَوْ اَنَّھُمْ اَقَامُوْا التَّوْرٰۃ وَالْاِنْجِیْلَ وَ مَا اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِھِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِہِمْ (مائدہ ع 9) یہود کی اس گستاخانہ گفتگو کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ غُلَّتْ اَیْدِیْھِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا۔ فرمایا ان کے اس قول شنیع کی وجہ سے ان کے دلوں میں بخل کی بیماری پیدا کردی گئی اور انہیں اللہ کی رحمت سے دور کردیا گیا۔ یہ یہود پر بد دعا ہے اور اللہ کی بد دعا ان کے دلوں میں بخل کی بیماری پیدا کرنے سے عبارت ہے۔ دعاء علیھم بالبخل المذموم کما قال الزجاج و دعاءہ بذلک عبادۃ عن خلقہ الشح فی قلوبھم والقبض فی ایدیھم (روح ج 6 ص 109) چناچہ یہود کے عوام و خواص کی یہی حالت تھی۔ خواص یعنی علماء اور درویش تو صرف عوام سے نذریں بٹورنے کے یار تھے اپنے ہاتھ سے کچھ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور عوام کا یہ حال تھا کہ وہ توحید اور اللہ کے دین کی خاطر ایک پائی خرچ نہیں کرتے تھے وہ جو کچھ بھی خرچ کرتے تھے غیر اللہ کی نیازوں اور احبارو رہبان کے نذرانوں ہی میں خرچ کرتے تھے۔
110: یہ جواب شکوی ہے اور یہود کے قول شنیع کا رد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ تو ہرگز بخیل نہیں وہ تو بہت بڑا کریم اور فیاض ہے اور جس طرح چاہتا ہے اپنی حکمت بالغہ کے مطابق خرچ کرتا ہے جس طرح غل ید یعنی ہاتھ کا بندھا ہوا ہونا بخل اور نہ خرچ کرنے سے کنایہ ہے اسی طرح بسط ید یعنی ہاتھ کا پھیلانا سخاوت اور خرچ کرنے سے کنایہ ہے۔ غل الید و بسطھا مجاز عن البخل والجود او کنایۃ عن ذالک (روح و کبیر ج 3 ص 629) ۔
111: کَثِیْرًا۔ لَیَزِیْدَنَّ کا مفعول اول اور طُغْیَانًا وَّ کُفْرًا مفعول ثانی اور وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ اس کا فاعل ہے۔ سرکشی اور کفر و انکار تو وہ پہلے سے ہی کر رہے ہیں لیکن جیسے جیسے قرٓن مجید کی آیتیں نازل ہوتی ہیں ان کے انکار اور بغض و حسد کی وجہ سے ان کی سرکشی اور کفر میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔
112: یعنی بغض و عداوت تو ان میں پہلے سے بھی موجود ہے لیکن اگر تم اپنے ایمان و اسلام پر ثابت قدم رہو گے تو ہم ان کے باہمی بغض و عداوت میں اور اضافہ کردیں گے۔
113: پہلے اشارہ فرمایا کہ اگر تم سچے مسلمان بن جاؤ گے تو یہود و نصاریٰ کے ہر شر سے محفوظ رہو گے کیونکہ وہ اپنے باہمی بغض وعناد کے سبب تمہارے مقابلے میں نہیں آئیں گے۔ یہاں اس بات کی صراحت فرما دی کہ جب بھی وہ اسلام کے خلاف اعلان جنگ کریں گے ہم ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیں گے اور وہ تمہارے ساتھ جنگ نہیں کرسکیں گے۔ آگ جلانے سے ارادہ جنگ مراد ہے کیونکہ عرب میں دستور تھا کہ جب کوئی قوم کسی قوم کے خلاف اعلان جنگ کرتی تو کسی اونچے ٹیلے پر آگ جلاتی۔ اور آگ بجھانا ان کے شر سے محفوظ رکھنے سے کنایہ ہے۔
114 یہ لوگ ہر وقت فتنہ فساد برپا کرنے اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مکر و فریب کرنے میں لگے رہتے اللہ تعالیٰ ایسے شر انگیز اور فتنہ خیز لوگوں کو پسند نہیں فرماتا اسی لیے سچے مسلمانوں کے خلاف ان کے تمام منصوبوں اور جنگی تدبیروں کو ناکام کر کے مسلمانوں کو ان کے شر سے بچا لیتا ہے۔
Ayah 5:65115 اَلْکِتَاب جنس ہے اور تورات و انجیل دونوں کو شامل ہے اس لیے اہل کتاب سے یہاں یہود و نصاریٰ دونوں فریق مراد ہیں۔ یہاں اہل کتاب کو آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کی ترغیب دی گئی ہے اور ساتھ ہی ایمان لانے کی صورت میں انہیں بشارت اخروی بھی سنا دی گئی ہے۔ اگلی آیت میں بشارت دنیوی مذکور ہے۔
Ayah 5:66116 اقامتِ تورات و انجیل سے ان پر کماحقہ عمل کرنا مراد ہے یعنی تورات و انجیل کی تعلیمات پر عمل کریں۔ اللہ کی توحید پر ایمان لائیں۔ غیر اللہ کی نذر و نیاز اور شرک فی التصرف سے احتراز کریں۔ لَاَکَلُوْا الخ یہ وسعت رزق سے کنایہ ہے یا مِنْ فَوْقِھِمْ سے بارش مراد ہے کیونکہ اسی کے ذریعے زمین انواع و اقسام رزق پیدا کرتی ہے اور مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِمْ سے زمین کی پیداوار پھل، میوے اور غلے وغیرہ مراد ہیں۔ قال ابن عباس وغیرہ یعنی المطر والنبات وقیل المعنی لو سعنا علیم فی ارزاقھم و اکلوا متواصلاً (قرطبی ج 6 ص 241) ۔ 117 اہل کتاب سب کے سب ہی سرکش اور معان نہیں بلکہ کچھ لوگ انصاف دوست اور اعتدال پسند بھی ہیں اس سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے یہود و نصاری سے اسلام قبول کرلیا تھا۔ مثلاً عبداللہ بن سلام اور نجاشی وغیرہ۔ لیکن ان کی اکثریت معاند ہے۔ ضد وعناد سے حق کا انکار کرنا اور حق کو چھپانا ان کا کام ہے۔ ساء ما یعمولن من العناد والمکابرۃ و تحریف الحق والاعراض عنہ (روح ج 6 ص 186) ۔
فائدہ :۔ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں جہاں یہود و نصاریٰ کے احبارو رہبان کے حالات مذکور ہیں۔ وہاں آجکل کے علماء سوء اور پیران سیاہ کار بھی اس کے تحت داخل ہیں اور جہاں منافقین کا ذکر ہے اس میں آج کل کے سرمایہ دار اور برسر اقتدار طبقہ بھی داخل ہے۔
Ayah 5:67118 دوسرا حصہ۔ 1 ۔ نفی شرک فی التصرف۔ اور 2 ۔ نفی شرک فعلی۔
پہلا جز۔ نفی شرک فی التصرف۔ پہلے حصے میں شرک فعلی کی نفی کا بیان تھا اور اس کے بعد شرک فی التصرف کی نفی مذکور تھی اس کے بعد آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ اور اہل کتاب اور منافقین پر زجریں مذکور تھیں۔ اب یہاں سے سورت کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے اس میں ان دونوں مضمونوں (نفی شرک فی التصرف اور نفی شرک فعلی) کا لف و نشر غیر مرتب کے طور پر اعادہ کیا گیا ہے۔
119 مَا موصولہ ہے جو عموم کے لیے ہے اور اس سے وہ تمام احکام مراد ہیں جو وحی جلی یا وحی خفی کے ذریعے آپ پر نازل ہوئے۔ یہاں مَا اُنْزِلَ سے چار چیزیں ذکر کی گئی ہیں جو آگے آرہی ہیں۔ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ الخ اگر آپ نے ایک چیز کا بھی اخفا کیا اور اس کی تبلیغ نہ کی تو آپ نے حق تبلیغ ادا نہیں کیا۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے جانشین علماء و صوفیا کا بھی فرض ہے کہ وہ قرآن و سنت کے تمام احکام کی تبلیغ و اشاعت کریں اگر انہوں نے ایسا نہ کیا بلکہ بعض قرآنی احکام کو بعض دنیوی مصلحتوں اور ذاتی اغراض کی وجہ سے بیان نہ کیا مثلاً شرک و بدعت کا رد نہ کیا اور غیر اللہ کی نذر و نیاز کا مسئلہ بیان نہ کیا تو انہوں نے حق تبلیغ ادا نہیں کیا اور ان کی باقی احکام کی تبلیغ بھی اللہ کے یہاں مقبول نہیں ہوگی۔
120: یعنی آپ اللہ کے تمام احکام کی تبلیغ کیے جائیں۔ اور مشرکین کی مخالفت، طعن وتشنیع اور ملامت کی پرواہ نہ کریں اللہ آپ کو ان کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ اِنَّ اللہَ لَایَھْدِیْ الخ آپ تبلیغ کیے جائیں اگر کچھ لوگ آپ کی تبلیغ سے متاثر نہیں ہوتے اور ہدایت قبول نہیں کرتے تو آپ اس کا غم نہ کریں جو لوگ ایمان نہیں لاتے وہ معاندین ہیں اور معاندین کے دلوں پر ان کی ضد وعناد کی وجہ سے مہر جباریت لگ جاتی ہے اور ان کو اللہ کی طرف سے ہدایت کی توفیق نہیں ملتی۔
Ayah 5:68121: اہل کتاب سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں۔ یہ پہلا مسئلہ ہے جس کی تبلیغ کا یہاں حکم دیا گیا ہے۔ یعنی آپ اہل کتاب سے صاف صاف کہہ دیں کہ جب تک تم تورات اور انجیل کے احکام کو قائم نہیں کرو گے یعنی شرک و غیر اللہ کی نذر و نیاز چھوڑ کر توحید کو نہیں مانو گے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت پر اور قرآن پر ایمان نہیں لاؤ گے اس وقت تک تمہارا کوئی دین نہیں اور تم کھلے بےدین ہو۔ آج مبلغ قرآن کو بھی اپنی تبلیغ کے دوران مسلمانوں پر یہ حقیقت واضح کردینی چاہئے کہ کہ لَسْتُمْ عَلیٰ شَیْءٍ حَتّیٰ تُقِیْمُوْا الْقْرْاٰنَ یعنی جب تک تم قرآن مجید کے تمام احکام کو قائم نہ کرو اس وقت تک تم دیندار نہیں ہوسکتے وَ لَیَزِیْدَنَّ کَثِیْراً الخ اس کی تفسیر کے لیے حاشیہ 111 ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 5:69: 122 اس آیت کی تفسیر سورة بقرہ میں تفصیل سے گذر چکی ہے ملاحظہ ہو ص 40 حاشیہ نمبر 130 ۔
Ayah 5:70123 میثاق سے وہی عہد و میثاق مراد ہے جو بنی اسرائیل سے تورات میں لیا گیا تھا کہ وہ توحید اور تمام احکام و شرائع کی پابندی کریں جیسا کہ سورة بقرہ ع 10 میں فرمایا وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ لَاتَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللہَ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا الایۃ قد تقدم فی البقرۃ معنی المیثاق وھو الا یعبدوا الا اللہ و ما یتصل بہ (قرطبی ج 6 ص 247) ۔ ای باللہ لقد اخذنا میثاقھم بالتوحید و سائر الشرائع والاحکام المکتوبۃ علیھم فی التوراۃ (ابو السعود ج 3 ص 623 روح ج 6 ص 203) ۔
124 عہد لینے کے بعد ہم ان کی طرف لگاتار پیغمبر بھیجتے رہے تاکہ وہ ان کو عہد کی یاد دہانی کراتے رہیں اور ان کو وعظ و نصیحت کے ذریعے عہد پورا کرنے کی تلقین کرتے رہیں۔ یعرفونھم ذلک۔۔۔۔ بالعظۃ والتذکیر ویطلعونھم علی ما یاتون و یذرون فی دینھم (روح) بنی اسرائیل کے پاس بھی تورات موجود تھی اور ان کی طرف جتنے پیغمبر تشریف لائے وہ سب تورات سے مسئلہ توحید بیان کرتے تھے لیکن بنی اسرائیل کے علماء اور درویش اس مسئلہ کی وجہ سے ان کی مخالفت کرنے لگتے یہی حال آج کل کے علماء سوء کا ہے کہ ان کے پاس بھی قرآن مجید موجود ہے لیکن جب علماء ربانی قرآن مجید سے مسئلہ توحید بیان کرتے ہیں تو علماء سوء اور سجادہ نشین مسئلہ توحید کی وجہ سے ان کے دشمن بن جاتے ہیں اور ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا شروع کردیتے ہیں۔
125 جو باتیں ان کی نفسانی خواہشات اور ان کی اپنی مخترعات کے خلاف تھیں۔ مثلاً مسئلہ توحید، غیر اللہ کی نذر و نیاز کی حرمت وغیرہ۔
Ayah 5:71126 فِنْنَۃٌ کے معنی آزمائش اور ابتلاء کے ہیں۔ فَعَمُوْا دین کی جو راہ رسولوں نے ان کو دکھائی تھی اس سے وہ محض سرکشی اور عناد کی وجہ سے وہ دانستہ اندھے بن گئے وَصمُّوْا اور حق بات سننے سے بہرے بن گئے۔ یعنی بنی اسرائیل نے سمجھا کہ اللہ کی طرف سے ان پر کوئی عذاب یا امتحان نہیں آئے گا کیونکہ وہ نَحْنُ اَبْنَاءُ اللہِ وَ اَحِبَّاء ہٗ (ہم اللہ کے چہیتے اور اس کے محبوب ہیں) کے فخر میں مغرور و سر مست تھے (قرطبی) اس لیے انہوں نے تورات کے احکام سے آنکھیں اور کان بند کرلیے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہی نہ سمجھی۔ 127: پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں توبہ کی توفیق دینے اور ان کی توبہ قبول کرنے کا سامان اس طرح بہم پہنچایا کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ وعلیہم کو مبعوث فرمایا جنہوں نے بنی اسرائیل کو توبہ کی راہ دکھائی کہ اگر وہ اللہ کی توحید پر اور آنحضرت ﷺ کی نبوت پر ایمان لے آئیں تو اللہ تعالیٰ ان کے تمام گناہ معاف فرما دے گا۔ (قرطبی) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا کر توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی تَابَ اللہُ عَلَیْھِمْ حین تابوا وامنوا بعیسی (علیہ السلام) (مظھری ج 3 ص 158) ۔
128 لیکن جب آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے اور آپ نے اللہ کی توحید اور اپنی نبوت کی طرف دعوت دی تو ان میں اکثر پھر حق سے اندھے اور بہرے ہوگئے اور ضد وعناد اور بغض و حسد کی وجہ سے حق کا انکار کردیا اور ان میں سے بہت کم لوگوں نے حق کو قبول کیا۔
Ayah 5:72129 یہ دوسرا مسئلہ ہے جو بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ میں داخل ہے یعنی آپ اس مسئلہ کی بھی تبلیغ اور اشاعت فرما دیں کہ جو لوگ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی صفات مختصہ سے موصوف کرتے ہیں مثلاً ان کو متصرف فی الامور اور مختار سمجھتے ہیں وہ بلاشبہ کافر ہیں شاہ عبدالقادر دہلوی فرماتے ہیں نصاریٰ میں دو قول ہیں بعضے کہتے ہیں اللہ یہی تھا جو صورت مسیح میں آیا اور بعضے کہتے ہیں تین حصہ ہوگیا، ایک اللہ رہا ایک روح القدس ایک مسیح یہ دونوں باتیں صریح کفر ہیں۔
فائدہ : حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا یہاں اتحاد سے اتحاد صفات مراد ہے۔ یعنی نصاریٰ کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اختیارات دیدئیے تھے اور وہ متصرف فی الامور تھے۔ بہر حال لفظ اللہ سے وصف مشہور مراد ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے لکل فرعون موسیٰ ای لکل مبطل محق۔
130 عیسائیوں کے پیر اور پادری کہتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے آباء و اجداد کو یہی تعلیم دے گئے تھے کہ وہ ان کو متصرف و مختار سمجھ کر ان کو پکارا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب فرمائی اور اپنے پیغمبر حضرت مسیح (علیہ السلام) کی طرف سے صفائی پیش کی کہ انہوں نے تو بنی اسرائیل کو یہی تعلیم دی تھی کہ وہ صرف اللہ ہی کو متصرف و کارساز سمجھیں۔ اسی کو پکاریں، اسکی نذریں منتیں دیں اور ہر طرح کی عبادت اسی کے لیے بجا لائیں اور شرک نہ کریں بلکہ شرک سے کوسوں دور بھاگیں۔ کیونکہ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اس پر جنت حرام ہے۔ اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ قیامت کے دن اس کا کوئی یار و مددگار نہیں ہوگا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے اور نہ اس کے حق میں کسی پیر و پیغمبر کی سفارش قبول ہوگی۔ وی ومالہ عند اللہ ناصر ولا معین ولا مقذ مما ھو فیہ (ابن کثیر ص 81 ج 2) ای مالھم من احد ینصرھم بانقاذھم من النار و ادخالھم الجنۃ اما بطریق المبالغۃ او بطریق الشفاعۃ (روح ج 6 ص 207) ۔
Ayah 5:7331 یہ تیسرا حکم ہے جو بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ میں داخل ہے۔ بعض نصاریٰ حضرت مسیح کے علاوہ ان کی والدہ کی الوہیت کے بھی قائل تھے۔ ان کے نزدیک الٰہ یعنی معبودوں کی تعداد تین ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح اور حضرت مریم صدیقہ (علیہما السلام) جیسا کہ سورة مائدہ کے آخری رکوع میں آرہا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے فرمائے گا۔ ء َ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللہِ ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان عیسائیوں کو بھی کافر فرمایا جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین معبودوں میں سے ایک ہے۔
132 حالانکہ معبود اور پکار کے لائق صرف ایک ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے یہی تمام انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم تھی اور خود حضرت مسیح (علیہم السلام) نے بھی بنی اسرائیل کو یہی تعلیم دی تھی وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَھُوْا اگر یہ لوگ اپنے مشرکانہ اقوال و افعال سے باز نہ آئے بلکہ ان پر اصرار کیا تو انہیں دردناک عذاب دیا جائے گا۔ یہ مشرکین نصاریٰ کے لیے تخویف اخروی ہے۔
Ayah 5:74133 یہ مشرکین نصاریٰ کو مشرکانہ عقائد و اعمال سے توبہ کرنے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی تہدید آمیز ترغیب ہے۔ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ یہ توبہ قبول کرنے اور معافی دینے کا وعدہ ہے۔ یعنی اگر وہ شرک و کفر سے سچی توبہ کرلیں اور اپنے کیے کی اللہ سے معافی مانگیں تو وہ اس کو معاف کرنے والا اور مہربان پائیں گے۔
Ayah 5:75134 یہاں چونکہ ان عیسائیوں کا رد مقصود ہے جو حضرت مسیح اور حضرت مریم (علیہما السلام) کو الٰہ (معبود) اور متصرف مانتے تھے اور ان کو حاجات و مشکلات میں غائبانہ پکارتے تھے۔ اس لیے ان دونوں کا خصوصیت سے ذکر فرمایا اور باقی رسولوں کا اجمالی ذکر کیا۔ مسیح (علیہ السلام) جس کو عیسائی خدا کا اوتار اور خدائی صفات کا حامل اور مختار و متصرف مانتے ہیں۔ وہ نہ خدا تھا نہ خدا کا اوتار وہ تو مریم کا بیٹا تھا جو کسی کا بیٹا ہو وہ حادث اور اپنے وجود میں محتاج ہوتا ہے۔ وہ الٰہ نہیں بن سکتا۔ نیز وہ اللہ کا رسول تھا جس کا کام ہی یہ تھا کہ وہ لوگوں کو توحید سکھائے اور شرک سے ان کو روکے۔ اسی طرح ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر گذرے ان سب کا یہی کام تھا۔ لہذا جو لوگ خود دوسروں کو شرک سے منع کریں وہ کس طرح خدا کے شریک ہوسکتے ہیں۔ وَاُمُّہٗ صِدِّیْقَۃٌ اور مسیح (علیہ السلام) کی والدہ صدیقہ تھیں، صدیقیت ولایت کا سب سے اونچا درجہ ہے جو اللہ کی خالص عبادت اور کامل اطاعت سے حاصل ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ حضرت مریم تو خود اللہ کی عبادت گذار تھیں اس لیے وہ معبود بننے کے لائق ہرگز نہیں ہوسکتیں۔
135 تثنیہ سے مراد حضرت مسیح اور حضرت مریم (علیہما السلام) ہیں۔ اس میں ان کے انتہائی احتیاج کا بیان ہے اور ان کی الوہیت کی نفی پر ایک واضح برہان ہے۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ وہ کھانا کھایا کرتے تھے تو معلوم ہوگیا کہ وہ نہ صرف روٹی اور پانی کے محتاج تھے بلکہ ہر اس چیز کے بھی محتاج تھے جس کے تمام لوگ محتاج ہیں جن کی محتاجی کا یہ حال ہو وہ ہرگز معبود بننے کے لائق نہیں ہوسکتے اور نہ متصرف و کارساز ہوسکتے ہیں کیونکہ متصرف و کارساز وہی ہوسکتا ہے جو ہر چیز سے مستثنی اور بےنیاز ہو۔ انھما کانا محتاجین لانھما کانا محتاجین الی الطعام اشد الحاجۃ والالہ ھو الذی یکون غنیا عن جمیع الاشیاء فکیف یعقل ان یکون الھا (کبیر ص 644 ج 3)