Ayah 5:76136 یہ چوتھی بات ہے جو بَلِّغْ مَااُنْزِلَ اِلَیْکَ کے تحت داخل ہے۔ تَعْبُدُوْنَ میں خطاب نصاریٰ سے ہے اور مِنْ دُوْنِ اللہِ سے حضرت مسیح اور ان کی والدہ مراد ہے۔ والخطاب للنصاریٰ نہاھم عن عبادۃ عیسیٰ ۔۔۔ (بحر ج 3 ص 538) والمراد بما لا یملک عیسیٰ او ھو وامہ علیہما الصلوہ والسلام (روح ج 6 ص 209) یہ نصاری کے عقیدہ الوہیت مسیح و مریم کے بطلان پر ایک اور دلیل ہے۔ مطلب یہ کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو اور جن کو غائبانہ پکارتے ہو وہ تو تمہارے کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ وہ عالم الغیب ہیں کہ تمہارا حال جان لیں اور تمہاری پکار سن لیں۔ یہ صفتیں صرف اللہ ہی میں ہے ہیں۔ وَاللہُ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ اس میں واؤ تعلیلیہ ہے اور یہ ماقبل کی علت ہے یعنی ہر بات کو سننے والا اور ہر چیز کو جاننے والا تو اللہ ہے نہ کہ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ۔ اس میں ھُوَ ضمیر فصل اور خبر کے معرف باللام سے حصر کا مفہوم پیدا ہوگیا ہے۔ ای واللہ ھو السمیع لکل شیء لا عیسیٰ وامہ العلیم بکل شیء ای لا عیسیٰ وامہ قالہ الشیخ قدس سرہ۔
فائدہ : عام مفسرین نے اگرچہ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ میں ما کو عموم پر محمول کیا ہے اور اس سے تمام احکام مراد لیے ہیں۔ لیکن مذکورہ چار امور کو انہوں نے مستقل احکام قرار دیا ہے اور ما انزل کے تحت داخل نہیں کیا۔ حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک ما عموم کے لیے ہے۔ جو تمام احکام کو شامل ہے اور مذکورہ چار باتیں مَا اُنْزِلَ کے تحت داخل ہیں۔ یعنی یہ چاروں ان امور میں داخل ہوتے ہیں جن کاتبلیغ میں آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے۔
شیعہ کہتے ہیں اس آیت میں مَا اُنْزِلَ سے حضرت علی کی خلافت کا اعلان مراد ہے چناچہ اس پر وہ ایک روایت بھی پیش کرتے ہیں غدیر خم کے مقام پر آنحضرت ﷺ نے خطبہ دیا اس میں آپ نے فرمایا : من کنت مولاہ فعلی مولاہ یعنی جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولی ہے۔ مولی سے وہ والی اور خلیفہ مراد لیتے ہیں۔ یہ استدلال کئی وجوہ سے درست نہیں ہے۔ 1 ۔ یہ روایت درجہ صحت کو نہیں پہنچتی۔ اس کے اکثر طرق ضعیف اور شاذ ہیں اور بعض طرق موضوع و مردود ہیں۔ جیسا کہ علامہ سید محمود آلوسی نے روح المعانی ج 6 ص 194 تا 198 میں اس پر تفصیل سے کلام کیا ہے۔ 2 ۔ لفظ مَوْلیٰ لغت عرب میں والی اور حاکم کے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔ بلکہ مولیٰ کے معنی آقا، غلام، مددگار، دوست وغیرہ کے آتے ہیں۔ چناچہ علامہ محمد طاہر فرماتے ہیں۔ واسم الموالی یقع علی الرب والمالک والسید والمنعم والمعتق والناصر والمحب والتابع والجار وابن العم والحلیف والعقید و الصحر والعبد والمعتَق والمنعم علیہ الخ (مجمع بحار الانوار ص 464 ج 3) ۔ ان معانی میں والی یا حاکم کا کوئی ذکر نہیں۔ اس لیے اس سے حضرت علی ؓ کی خلافت مراد لینا سراسر غلط ہے۔ )
Ayah 5:77137 یہ اہل کتاب کے لیے زجر ہے۔ دین میں غلو سے اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنا مراد ہے مثلاً حضرت مسیح اور ان کی والدہ کو اور حضرت عزیر (علیہم السلام) کو الوہیت کا درجہ دینا اور ان کو حاجات میں غائبانہ طور پر پکارنا وغیرہ۔ غَیْرَ الْحَقِّ ، اٰخِذِیْنَ مقدر کا مقو لہ ہے جو اَلَا تَغْلُوْا کے فاعل سے حال ہے۔ اَھْوَاءَ قَوْمٍ میں قوم سے یہود و نصاریٰ کے اسلاف اور ان کے آباء وا جداد مراد ہیں۔ فرمایا تم اپنے ان گذشتہ عالموں اور پیروں اور اپنے باپ دادا کی پیروی میں حق کا انکار نہ کرو۔ جو خود گمراہ تھے اور جنہوں نے ہزاروں لاکھوں بندگانِ خدا کو توحید اور صراط مستقیم سے گمراہ کیا ای اسلافکم وائمتکم الذین کانوا علی الضلال قبل مبعث النبی ﷺ (مدارک ج 1 ص 230) جو لوگ خود گمراہ اور بےدین ہوں ان کی پیروی کسی طرح جائز نہیں ان کی پیروی سے حرمان و خسران کے سوا کچھ حاصل نہیں۔
Ayah 5:78138 یہ مشرکین اہل کتاب کے لیے تخویف دنیوی ہے حضرت داود (علیہ السلام) کی زبان پر جو لوگ ملعون ہوئے ان سے مراد اصحاب السبت ہیں۔ انہیں ہفتے کے دن مچھلی کا شکار کرنے سے منع کیا گیا مگر وہ باز نہ آئے اور اللہ کے حکم کی پروا نہ کی تو حضرت داود (علیہ السلام) نے ان پر بد دعا کی اللہم العنھم واجعلھم ایۃ اے اللہ ان کو اپنی رحمت سے دور ہٹا دے اور انہیں آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کی نشانی بنا دے۔ تو ان کو اللہ تعالیٰ نے مسخ کر کے بندر بنا دیا۔ اور جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے ملعون ہوئے ان سے اصحاب مائدہ مراد ہیں جنہوں نے آسمان سے دسترخوان اتارنے کا مطالبہ کیا تھا جب دستر خوان اترا اور انہوں نے اس سے کھایا بھی مگر ایمان نہ لائے تو حضرت مسیح (علیہ السلام) نے دعا کی اللہم العنہم کما لعنت اصحاب السبت اے اللہ ان کو اسی طرح ملعون و مردود کردے جس طرح تو نے اصحاب سبت کو کیا تھا۔ ان کو اللہ نے مسخ کر کے خنزیر بنا دیا۔ (کبیر ج 3 ص 645) یہ سزا ان کو خدا کی نافرمانی اور اس کی حدود کو توڑنے کی وجہ سے دی گئی۔
Ayah 5:79139 یہ ان ملعونین کی نافرمانی اور تجاوز عن الحد کی تفصیل ہے۔ یعنی جو برے افعال اور بد اعمالیاں ان کی قوم میں رائج تھیں اور جن کا وہ ارتکاب کرتے تھے ان سے وہ ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔
Ayah 5:80140 یہ منافقین اہل کتاب کے لیے زجر ہے۔ یہ لوگ درپردہ کافروں سے دوستی رکھتے تھے اور ظاہر میں مسلمان ہونے کے مدعی تھے۔ اَنْ سَخِطَ اللہُ الخ بِئْسَ کا مخصوص بالذم ہے یعنی انہوں نے کافروں سے دوستی کر کے بہت برا توشہ آگے بھیجا ہے کہ اللہ کا غضب خرید لیا اور عذاب جہنم میں خلود کے مستحق ہوئے یا اَنْ سے پہلے حرف جر لام یا با محذوف ہے ای لِاَنْ یا بِاَنْ اس طرح یہ جملہ ماقبل کا سبب ہوگا اور بِئْسَ کا مخصوص بالذم محذوف ہوگا اور مطلب یہ ہوگا کہ جو توشہ اعمال آگے بھیجا ہے وہ بہت بری چیز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان پر نا خوش ہوگیا۔
Ayah 5:81141 یہ ان کے دعوائے ایمان کی تکذیب ہے۔ یعنی اگر وہ واقعی دل وجان سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاچکے ہوتے تو کافروں سے دوستانہ تعلقات ہرگز نہ رکھتے۔ اس لیے ان کا دعوی ایمان سراسر جھوٹا اور محض منافقانہ ہے۔
Ayah 5:82142 نزول قرآن کے وقت تین جماعتیں اسلام کی مخالف تھیں یہود و نصاریٰ اور مشرکین، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے خلاف شدت عداوت کے اعتبار سے ان کی درجہ بندی فرما دی۔ شدتِ عداوت میں یہودی سب سے پہلے درجہ پر ہیں اور وہ دنیا میں مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ دوسرے درجے پر مشرکین ہیں۔ دو جماعتوں کا صراحت سے ذکر فرمایا۔ اور تیسری جماعت یعنی نصاریٰ کا حال خود بخود معلوم ہوگیا کہ تیسرے درجے پر نصاریٰ مسلمانوں کے دشمن ہیں۔
143 ھُمْ ضمیر اَلنَّاس کی طرف راجع ہے۔ مسلمانوں کے دشمنوں کی درجہ بندی کرنے کے بعد مسلمانوں سے محبت اور دوستی کرنیوالوں کا ذکر فرمایا۔ یعنی آنحضرت ﷺ کے زمانے میں جو لوگ موجود تھے ان میں مسلمانوں کی محبت سب سے زیادہ حبشہ کے ان عیسائیوں کے دلوں میں تھی جنہوں نے مہاجرین حبشہ سے قرآن اور آنحضرت ﷺ کی تعلیمات سن کر اسلام قبول کرلیا تھا۔ ان کی نرم دلی کا یہ حال تھا کہ جب ان کے سامنے قرآن پڑھا گیا تو وہ اس سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اس آیت میں نصاریٰ سے حبشہ کے بادشاہ نجاشی اور دوسرے وہ عیسائی مراد ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ اس سے تمام عیسائی مراد نہیں ہیں کیونکہ باقی عیسائی بھی مسلمانوں کے اسی طرح دشمن تھے جس طرح یہود اور مشرکین۔ لم یرد بہ جمیع النصاری لانہم فی عداوۃ المسلمین کالیھود فی قتلھم المسلمین واسرھم وتخریب بلادھم وھدم مساجدھم واحراق مصاحفھم لا وکرامۃ لھم بل الایۃ فیمن اسلم منھم مثل النجاشی و اصحابہ (معالم ج 3 ص 66)
144 یہ ماقبل کی علت ہے قِسِّیْسِیْنَ ، قسیس کی جمع ہے جس کے معنی عالم کے ہیں اور یہ لفظ نصاریٰ کے سب سے بڑے عالم پر بولا جاتا ہے۔ فی القاموس ھو رئیس النصاری فی العلم (مظہری ج 3 ص 164) اور رُھْبَان، رَاھِبٌ کی جمع ہے یعنی تارک الدنیا اور عبادت گذار درویش۔ حبشہ کے عیسائیوں میں سے جو اسلام لا چکے ہیں ان میں چونکہ بڑے بڑے علماء اور درویش شامل ہیں اور ان کے دل میں تکبر و غرور نہیں ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے حق کو قبول کرلیا ہے اور یہی ایمان والوں سے ان کی محبت و مودت کی وجہ ہے۔
Ayah 5:83145 یہ ان کی نرم دلی اور خدا خوفی کا بیان ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن کی آیتیں پڑھی گئیں تو وہ خدا کے خوف سے رونے لگے اور انہوں نے حق کو پہچان کر فورا قبول کرلیا کیونکہ وہ خود تورات وانجیل کے عالم تھے اور آخر الزمان پیغمبر ﷺ کے اوصاف سے واقف تھے۔ یَقُوْلُوْن الخ قرآن کی آیتیں سن کر روتے جا رہے تھے۔ اے ہمارے پروردگار ہم تیری توحید پر اور تیرے آخری پیغمبر پر ایمان لے آئے اب ہمیں بھی حضرت محمد ﷺ کی امت میں لکھ لے اور اس میں شامل فرما لے۔ اَلشَّاھِدِیْنَ سے امت محمدیہ مراد ہے کیونکہ وہ قیامت کے دن انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں حق تبلیغ ادا کرنے گواہی دیں گے۔ مع امۃ محمد (علیہ السلام) الذین ھم شہداء علی سائر الامم یوم القیمۃ (مدارک ج 1 ص 231) ای مع امۃ محمد الذیں یشھدون بالحق الخ (قرطبی ج 6 ص 259) ۔
Ayahs 5:84–86146 یعنی جب ہماری خواہش یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں ہمیں نیک لوگوں کی معیت اور سنگت عطا فرمائے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم اللہ پر ایمان نہ لائیں اور ان تمام سچی باتوں کو نہ مانیں جو اللہ کی طرف سے ہم کو پہنچی ہیں۔ فَاَثَابَھُمْ یہ ان کے لیے بشارت اخروی ہے۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا الخ یہ منکرین اور مکذبین کے لیے تخویف اخروی ہے یہاں تک نفی شرک فی التصرف کا بیان تھا۔
Ayah 5:87147 دوسرا حصہ۔ دوسرا جزء۔ نفی شرک فعلی۔ یہاں سے سورت کے دوسرے حصے کا دوسرا جزء شروع ہوتا ہے۔ جس میں لف و نشر غیر مرتب کے طور پر مسئلہ نفی شرک فعلی کا اعادہ کیا گیا ہے۔ شرک فعلی کے سلسلے میں چار چیزیں بیان کی گئی ہیں۔ 1 ۔ اول تحریمات غیر اللہ یا تحریمات عباد یا تحریمات مشرکین۔ 2 ۔ غیر اللہ کی نذریں۔ 3 ۔ تحریمات اللہ اور۔ 4 ۔ اللہ کی نذریں۔ اور 4 کا حکم یہ ہے کہ وہ حلال ہیں انہیں کھانا چاہئے اور 2 اور 3 کا حکم یہ ہے کہ وہ حرام ہیں انہیں نہیں کھانا چاہئے۔ اس آیت میں تحریمات غیر اللہ کا ابطال فرمایا۔ مشرکین نے اپنے معبودوں کی رضا جوئی کے لیے محض اپنی طرف بعض حلال اور پاک چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا۔ مثلا بحیرہ سائبہ وغیرہ جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ بحالت شرک جن حلال چیزوں کو تم نے حرام کر رکھا تھا ان کو حلال جانو اور ان کو کھاؤ اور تحریمات اٹھاؤ طََیِّبٰتِ مَا اَحَلَّ الخ میں اضافت بیانی ہے اور مطلب یہ ہے کہ پاکیزہ چیزوں کو یعنی ان چیزوں کو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں حرام مت ٹھہراؤ وَلَا تَعْتَدُوْا۔ حد سے مت گذرو۔ یہاں مراد یہ ہے کہ اپنی طرف سے اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام مت کرو۔ ای لا تحرموا ما احل اللہ و شرع (قرطبی ج 6 ص 263) ۔
Ayah 5:88148: یہ ماقبل ہی کی تاکید و تفصیل ہے کہ جو حلال وطیب چیزیں اللہ نے تم کو دی ہیں ان سے پورا پورا فائدہ اٹھاؤ اور جس چیز پر تم ایمان لائے ہو اس سے ڈرتے رہو اور اس کے احکام کی مخالفت ہرگز نہ کرو۔ نہ حلال چیزوں کو حرام جانو اور نہ ان کو بےجا صرف کرو۔
Ayah 5:89149 یہاں یمین (قسم) کی دو قسموں یعنی یمین لغو اور یمین منعقدہ کا حکم بیان فرمایا ہے۔ تحریمات عباد کے ابطال کے بعد قسم کے احکام بیان فرمائے۔ دونوں میں ربط اور مناسبت یہ ہے کہ جس طرح ایک شخص اپنی طرف سے تحریم کر کے ایک چیز کو اپنے اوپر حرام کرلیتا ہے اسی طرح یمین کے ذریعے بھی حلال کو حرام کرلیتا ہے۔ اس لیے تحریمات عباد کے ساتھ یمین کے احکام بیان فرما دئیے۔
150 یمین لغو کی تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں ص 108 پر حاشیہ 445 میں گذر چکی ہے یمین لغو کا حکم یہ ہے کہ اس پر کوئی مواخذہ نہیں نہ دنیا میں کفارہ نہ آخرت میں سزا وَلٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ الخ لیکن یمین منعقدہ پر مواخذہ ہوگا یعنی اگر اسے توڑ دیا تو اس کا کفارہ دینا ہوگا۔ یمین منعقدہ یہ ہے کہ آئندہ زمانے میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر اللہ کے نام کی قسم کھائی اگر قسم پوری کردی تو بہتر ورنہ اس کا کفارہ واجب ہوگا۔ فَکَفَّارَتُہٗ الخ۔ قسم توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت ایسا کھانا کھلاوے جیسا کہ وہ عام طور پر اپنے گھر میں کھاتے ہیں۔ کھانا کھلانے کے بجائے اگر دس مسکینوں کو فی کس دو سیر گندم یا چار سیر جو دیدے تو بھی جائز ہے۔ یا دس مسکینوں کو متوسط درجے کے کپڑے دیدے۔ فی کس دو کپڑے، چادر اور قمیص یا تہبند اور قمیص یا پگڑی اور چادر علی ہذا القیاس یا غلام آزاد کردے اگر ان مالی صورتوں میں سے کسی ایک کی طاقت نہ ہو تو پھر لگاتار تین روزے رکھے کیونکہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرات میں ہے۔ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃ ایام متتابعات یہ قرات مشہور ہے (مظہری ج 3 ص 179) ۔
151 اس کے دو معنی ہیں اول یہ کہ قسم کھا کر اس پر پکے رہو اور اسے توڑو مت۔ دوسرے یہی کہ سرے سے قسم کھاؤ ہی مت۔ فبروا فیھا ولا تحنثوا اذا لم یکن الحنث خیرا او لا تحلفوا اصلا۔ (مدارک ص 233 ج 1) حضرت شیخ قدس سرہ دوسرے مفہوم کو ترجیح دیتے کیونکہ وہ سیاق قرآن کے مطابق ہے۔
Ayah 5:90152 یہ دوسرے مسئلے کا بیان ہے یعنی غیر اللہ کی نذر و نیاز حرام اور نجس ہے اَلْمَیْسِرُ یعنی جوا۔ اس سے جوئے کی کوئی بھی مخصوص صورت مراد نہیں بلکہ وہ تمام صورتیں اور شرطیں مراد ہیں۔ جن پر جوئے کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ مثلا لاٹری، ریس پر بازی لگانا وغیر۔ اَلْاَنْصَابُ ، نُصُبٌ کی جمع ہے یعنی بڑے بڑے بت، مراد ان کے نام پر دی جانے والی نذریں ہیں والْاَزْلَام اس سے تیروں کے ذریعے تقسیم مراد ہے۔ ان تمام چیزوں کو ناپاک اور شیطانی فعل قرار دیا اور فرمایا ان سے اجتناب کرو اور دور رہو اسی میں تمہاری کامیابی اور فلاح کا راز مضمر ہے۔
Ayah 5:91153 یہ شراب اور جوئے سے اجتناب کرنے کی علت بیان فرمائی انصاب اور ازلام سے احتراز کی علت یعنی شرک فی التصرف اور شرک فعلی چونکہ ظاہر اور واضح تھی اس لیے اسے بیان نہیں فرمایا۔ اَنْ یُوْ قِعَ الخ یعنی شراب نوشی اور جوئے بازی کے ذریعے شیطان تم میں بغض و عداوت پیدا کرنا اور تمہیں اللہ کی یاد سے خصوصاً نماز سے غافل کرنا چاہتا ہے۔ کیا پھر بھی تم ان برائیوں سے باز نہیں آؤ گے۔
Ayah 5:92154 یہ حکم بالا کی تاکید ہے۔ اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور ان کی نافرمانی سے بچو۔ اگر تم نے اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے اعراض کیا تو اس سے تم نے ہمارے رسول کا کچھ نقصان نہیں کیا کیونکہ اس کا فرض ابلاغ تھا جسے اس نے احسن طریق سے ادا کردیا۔ پیغمبر (علیہ السلام) کی نافرمانی سے تم اپنی ہی عاقبت برباد کر رہے ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی مخالفت کرنے والوں کے لیے وعید شدید ہے و ھذا تھدید عظیم ووعید شدید فی حق من خالف فی ھذا التکلیف واعرض فیہ عن حکم اللہ (کبیر ج 3 ص 658)
Ayahs 5:93–94155 یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ یعنی جو لوگ اب تک شراب پیتے رہے، جوا کھیلتے رہے اور غیر اللہ کی نذریں نیازیں کھاتے رہے اور نزول تحریم سے پہلے ہی فوت ہوگئے ان کا کیا ہوگا۔ تو اس کے جواب میں فرمایا کہ جو مومنین نزول تحریم سے پہلے مذکورہ بالا اشیاء کھاتے پیتے رہے ہیں ان پر کوئی گناہ نہیں اِذَا مَا اتَّقَوْا جب کہ وہ شرک سے بچے رہے اور صدق دل سے ایمان لائے اور نیک اعمال کیے ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا پھر اس اتقاء عن الشرک اور ایمان خالص پر قائم رہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا۔ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَ رَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا (حجرات ع 3) ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا پھر وہ اتقاء کامل یعنی درجہ احسان تک پہنچ گئے۔ اتقوا الشرک وامنوا باللہ ورسولہ (قرطبی ج 6 ص 296) اذا ما اتقوا الشرک (مدارک ص 233 ج 1) قال محمد بن جریر الاتقاء الاول ھو الاتقاء یتلقی امر اللہ بالقبول والتصدیق والدینونۃ بہ والعمل والاتقاء الثانی بالثبات علی التصدیق والثالث الاتقاء بالاحسان والتقرب بالنوافل (قرطبی)
Ayah 5:95ف 156:۔ یہ تیسرے مسئلے کا بیان ہے۔ یعنی اللہ کی تحریمات کو قائم رکھو اور ان کو حلال مت سمجھو۔ یہاں احرام کی حالت میں شکار کرنے سے منع فرمایا۔ شکار کرنا اگرچہ حلال ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جو تحلیل و تحریم کا مختار ہے بحالت احرام شکار کو حرام کردیا ہے۔ لہذا اس کے حکم کی تعمیل لازم ہے۔ لَیَبلُوَنَّکُمْ یہ بحالت احرام شکار کرنے کی ممانعت کی تفصیلی علت ہے یعنی اس ممانعت سے اللہ تعالیٰ یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اس کو غیب دان جان کر کون اس سے ڈرتا ہے کہ اللہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے اور اس کی اطاعت سے ثواب اور اس کی مخالفت سے عذاب ہوگا۔ پہلے اِنَّ اللہَ یَحْکُمُ مَایُرِیْدُ میں اجمالی علت کا بیان تھا۔
157 مُتَعَمِّدًا۔ قَتَلَہ کے فاعل سے حال ہے اور فَجَزَاءٌ کی خبر محذوف ہے۔ ای فعلیہ جزاء اور مِثْلُ مَا قَتَلَ ، جَزَاءٌ سے بدل ہے یا اس کی صفت ہے اور مِنَ النَّعَمِ مَا کا بیان ہے یعنی جس نے احرام کی حالت میں عمداً قصداً شکار کرلیا تو اس کا مثل اس پر بطور جزا واجب ہوگا۔ اور مثل سے امام ابوحنیفہ کے نزدیک مثل معنوی مراد ہے۔ یعنی اس کی قیمت۔ جیسا کہ یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ اس پر قرینہ ہے۔ کیونکہ مثل صوری کا فیصلہ تو ہر شخص کرسکتا ہے۔ اس کے لیے دو دیانت دار آدمیوں کے فیصلے کی ضرورت نہیں ہے۔
158 بِہٖ کی ضمیر سے حال ہے اور بَالِغَ الْکَعْبَۃِ ، ھَدْیًا کی صفت ہے۔ اگر شکار کی قیمت اس قدر ہو کہ اس سے کوئی ہدی کا جانور خریدا جاسکے تو اسے خرید کر حدود حرم میں ذبح کردیا جائے۔ اَوْ کَفَّارَۃٌ الخ اس کا عطف فَجَزَاءٌ پر ہے اور طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اس سے بدل ہے یا اس کی قیمت کا غلہ خرید کر مساکین پر اس طرح تقسیم کرے کہ ہر مسکین کے حصے نصف صاع یعنی دو سیر گندم یا صاع یعنی چار سیر جو سے کم نہ آئے اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا یہ بھی فَجَزَاءٌ پر معطوف ہے اور اس میں کفارے کی تیسری صورت کا بیان ہے۔ یعنی یا ایسا کرے کہ گندم کے ہر دو سیر یا جو کے ہر چار سیر کے عوض ایک ایک روزہ رکھے۔
159 یہ فعل مقدر اوحینا ذلک الجزاء سے متعلق ہے۔ یعنی ہم نے یہ جزاء اس لیے واجب کی تاکہ مجرم اپنے کیے کا مزہ چکھ لے۔ اور اس حکم تحریم سے پہلے جو تم بحالت احرام شکار کرتے رہے ہو وہ معاف ہے وَمَنْ عَادَ الخ لیکن جو شخص اس کے بعد اس حکم کی مخالفت کرے گا اور تحریم کے بعد اس فعل کا اعادہ کرے گا تو اس سے اللہ تعالیٰ انتقام لے گا۔ یعنی اس پر جزا واجب ہوگی۔ اگر اس نے جزا ادا نہ کی تو اسے آخرت میں عذاب دیا جائے گا۔ (مظہری و مدارک) ۔
Ayah 5:96160: شکار کی دو قسمیں تھیں۔ پانی کا شکار یعنی مچھلی اور خشکی کا شکار یعنی پرندے اور چوپاے۔ یہاں تفصیل کردی گئی کہ پانی کا شکار احرام کی حالت میں بھی جائز ہے۔ لیکن جب تک تم احرام میں رہو گے۔ اس وقت تک خشکی کے جانور کا شکار کرنا حرام ہے۔ وَاتَّقُوْا اللہَ الَّذِیْ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ اللہ سے ڈرو اور اس کے حکم کی نافرمانی مت کرو آخرت میں اس کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے اس تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 5:97161 یہ چوتھا مسئلہ یعنی اللہ کی نذروں کا بیان ہے۔ اَلْبَیْتَ الْحَرَامَ ۔ الکعبۃ سے بدل یا عطف بیان ہے۔ قِیٰمًا جَعَلَ کا مفعول ثانی ہے اور قیام بمعنی قوام ہے یعنی ان کے امور دین و دنیا کے قائم اور راست ہونے کا ذریعہ وھو ما یقوم بہ امر دینھم و دنیا ھم (مظھری ج 3 ص 205) ۔ بیت اللہ سے امور دین کا قوام اس طرح ہے کہ حج وعمرہ اور ہدایا کا تعلق اس سے اور امور دنیا کا اس طرح کہ اہل حرم قتل و غارت وغیرہ سے محفوظ رہتے ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ بیت اللہ کی بدولت تمام دنیا کے لوگوں کی زندگی محفوظ ہے اور یہ اس وقت تک ہے جب تک دنیا کے لوگوں کی زندگی محفوظ ہے اور یہ اس وقت تک ہے جب تک دنیا کے مسلمان وہاں حاضر ہو کر حج وعمرہ بجا لاتے رہیں گے اگر لوگ حج کرنا چھوڑ دیں یہاں تک کہ ایک متنفس بھی حج نہ کرے تو اللہ تعالیٰ فوراً دنیا کو تباہ کرے دے۔ قیل لو ترکوہ عاما لم ینظروا ولم یوخر وا (مدارک ص 235 ج 1)
162 یہ الکعبۃ پر معطوف ہے اور الف لام جنس کا ہے مراد رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم ہے ان عزت والے مہینوں میں بھی لوگ قتال سے محفوظ رہتے ہیں۔ وَالْھَدْیَ وَالْقَلَائِدَ یہ بھی الکعبۃ پر معطوف ہیں ھدی اور قلائد کی تفسیر حاشیہ میں گذر چکی ہے۔ دونوں سے مراد وہ چوپائے ہیں جو بیت اللہ کی نذر ہوں اور محض اللہ کی رضا جوئی کی خاطر حدود حرم میں ذبح کے لیے لے جائے جائیں۔ بیت اللہ کی نذر و منت کے جانور بھی لوگوں کے لیے باعث امن و سلامتی ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے راستے میں کوئی چور یا ڈاکو ان سے کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کرتا۔ یا مطلب یہ ہے کہ جب تک لوگ اللہ کے نام کی نذریں نیازیں دیتے رہیں گے اس وقت اللہ تعالیٰ ان کو ہر بلا سے امن میں رکھے گا۔
163 یہ ما قبل کی علت ہے یعنی چونکہ تمام ما فی السموات والارض کا غیب اللہ ہی جانتا ہے۔ اس لیے نیازیں بھی اسی کے نام کی دو اس سے معلوم ہوا کہ جب اللہ کے سوا کوئی غیب دان نہیں تو اس کے سوا نذر و نیاز کے لائق بھی کوئی نہیں۔ صنعۃ احتیاک۔ یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَا اَحَلَّ اللہُ لَکُمْ (ع 12) میں تحریمات غیر اللہ کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ دلیل مذکور نہیں ہے۔ اس کے بعد یا ایہا الذین ایمنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام جس میں غیر اللہ کی نیازوں کا مسئلہ مذکور ہے۔ مگر اس کے ساتھ اس کی دلیل مذکور نہیں۔ پھر یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّکُمُ اللہُ (ع 13) میں تحریمات اللہ کا بیان ہے اور اس کے ساتھ لِیَعْلَمَ اللہُ مَنْ یَّخَافُہٗ بِالْغَیْبِ سے اس کی دلیل بھی بیان کی گئی ہے۔ اس کے بعد جَعَلَ اللہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ الخ میں اللہ کی نیازوں کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ذ َالِکَ لِتَعْلَمُوْا اَنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰت وَ مَا فِی الْاَرضِ الخ سے اس کی دلیل بھی مذکور ہے یہاں صنعت احتیاک ہے۔ یعنی جن مسائل کے ساتھ ان کی دلیل مذکور نہیں ان کی دلیل بھی وہی ہے جو دوسرے مسائل کے ساتھ ذکر کی گئی ہے حاصل یہ ہے کہ جب آسمان و زمین کے تمام غیبوں کو جاننے والا اور ہر جگہ حاضر و ناظر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس لیے نیازیں بھی اسی کے نام کی دو اور تحری میں بھی اسی کی باقی رکھو۔ چونکہ اللہ کے سوا کوئی نبی یا ولی، کوئی فرشتہ یا جن غیب دان اور حاضر و ناظر نہیں۔ اس لیے اللہ کے سوا کسی کی نیازیں نہ دو اور نہ کسی کے لیے تحری میں کرو
Ayahs 5:98–99164 یہ ان لوگوں کے لیے تخویف اخروی ہے جو خود ساختہ تحریمات اور غیر اللہ کی نیازوں سے باز نہ آئیں وَاَنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْم یہ ان لوگوں کے لیے بشارت اخروی ہے جو ان سے باز آجائیں۔ مَا عَلیَ الرَّسُولِ الخ ہمارے پیغمبر (علیہ السلام) کے ذمے صرف ان مسائل کی تبلیغ ہے جسے اس نے احسن طریقے سے سر انجام دیدیا۔ خواہ تم لوگ مانو یا نہ مانو۔ لیکن اللہ تعالیٰ تمہارے ظاہر و باطن کو جانتا ہے اور تمہارا کوئی عمل اس سے پوشیدہ نہیں۔ وہ تمہارے نیک و بد اعمال کی تم کو پوری پوری جزا دے گا۔
Ayah 5:100165 خبیث سے برے اعمال مثلاً شرک وغیرہ اور حرام مال مثلاً غیر اللہ کی نذریں وغیرہ مراد ہیں اور طیب سے نیک اعمال اور حلال مال مراد ہے مثلاً اللہ کی نذریں اور منتیں، یعنی نیک اعمال اور برے اعمال اور اسی طرح حلال مال اور حرام مال خدا کے یہاں برابر نہیں ہیں اور دونوں کے احکام و نتائج یکساں نہیں ہیں۔ اگرچہ شرک و بدعت کے اعمال بہت زیادہ ہوں اور حرام کی کمائی نذر غیر اللہ وغیرہ ڈھیروں ہو لیکن اللہ کے یہاں ان کی کوئی قدر نہیں اور شرک و بدعت اور باقی آلائشوں سے پاک اعمال اگرچہ کم ہوں اور مال اگرچہ قلیل ہو خدا کے یہاں وہی پسندیدہ ہے۔ فَاتَّقُوْ اللہَ الخ اے عقل والو ! اللہ سے ڈرو اور عمل طیب اور مال طیب کو اگرچہ کم ہو۔ عمل خبیث اور مال خبیث پر اگرچہ زیادہ ہو، ترجیح دو تاکہ تم دنیا و آخرت میں فلاح اور کامیابی حاصل کرسکو۔
Ayahs 5:101–102166 نفی شرک فعلی اور نفی شرک فی التصرف کے بیان کے بعد ایمان والوں کو بیجا اور بےمحل سوالات پوچھنے سے منع فرمایا۔ ماقبل سے اس کا ربط یہ ہے کہ جب مسئلہ توحید کے اصول و مبادی بیان ہو رہے ہوں س وقت ایسے جزوی مسائل دریافت نہ کیا کرو۔ جو لوگوں کے دلوں میں بیٹھ چکے ہو کیونکہ ایسے جزوی مسائل اگر قبل از وقت اور بےموقع بیان کردئیے جائیں تو اس سے ماننے کے بجائے لوگ الٹا ان کا انکار کردیں گے اور اس طرح اشاعت توحید میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ جیسا کہ پہلی امتوں میں ایسا ہوچکا ہے۔ مثال کے طور پر آج کل اگر توحید کے ابتدائی اصول بیان کیے جا رہے ہوں تو گیارویں وغیرہ کے مسائل دریافت نہ کیے جائیں کیونکہ ابتداء میں ایسا کرنے سے تبلیغ توحید میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ جب توحید کے مبادی واضح ہوچکیں اور لوگوں کی سمجھ میں آجائیں اس وقت اس قسم کے جزوی مسائل بیان کیے جائیں۔ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا لوگو ! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے لہذا تم حج کرو۔ ایک صحابی بول اٹھے کہ یا رسول اللہ کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے۔ اس پر آپ خاموش ہوگئے یہاں تک کہ اس صحابی نے تین بار اپنا سوال دہرایا۔ اس پر آپ نے فرمایا جب تک میں خود بیان نہ کروں تم اپنی طرف سے کوئی بات نہ پوچھا کرو جو بےمحل ہو۔ اسی طرح ایک شخص نے آپ سے سوال کردیا کہ میرا باپ کون ہے وغیرہ اس قسم کے بےموقع سوالات سب اس نہی کے تحت داخل ہیں۔ ماقبل سے آیت کا ربط وہی ہے جو ہم نے پہلے بیان کیا۔ باقی رہا مذکورہ بالا واقعہ اور اس قسم کے دوسرے واقعات تو وہ بھی اگرچہ آیت کے عموم میں داخل ہیں لیکن آیت کا ربط ان پر موقوف نہیں۔
Ayah 5:103167 یہ مضمون تحریمات غیر اللہ کا اعادہ ہے بحیرہ اس اونٹنی کو کہتے تھے جس کو طواغیت کی خاطر چھوڑ دیتے تھے اور اس کا دودھ استعمال نہیں کرتے تھے۔ سائبہ وہ جانور جس کو طواغیت کی خاطر بار برداری کے لیے استعمال نہیں کرتے تھے وصیلۃ اس نو عمر اونٹنی کو کہتے ہیں جو یکے بعد دیگر دو مادہ بچے جنے اور ان کے درمیان نر بچہ پیدا نہ ہوا ہو۔ ایسی اونٹنی کو مشرکین اپنے معبودوں کی خوشنودی کے لیے آزاد چھوڑ دیتے تھے۔ حام اس اونٹنی کو کہتے ہیں جس کی پشت سے دس بچے پیدا ہوچکے ہوں۔ مشرکین اس کو طواغیت کے لیے چھوڑ دیتے۔ قال ابن المسیب انھا (البحیرۃ) التی منع لبنہا للطواغیت فلا تحلب۔۔۔ (السائبۃ) ھی الناقۃ تبطن عشرۃ الطبن اثاث فتھمل ولا ترکب ولا یجزوبرھا۔ الوصیلۃ من الابل وھی الناقۃ تبکر۔۔۔ انثی ثم نثنی بولادۃ انثی اخری لیس بینھما ذکر فیترکونھا لالھتہم۔۔ الحام) الفحل یولد من ظھرہ عشرۃ البطن فیقولون حمی۔
168 یعنی اللہ تعالیٰ نے تو مذکورہ بالا تحریمات کی ہرگز اجازت نہیں دی لیکن مشرکین یہ سب کچھ اپنی طرف سے کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کفر و شرک کا حکم نہیں دیتا اور یہ تحریمات غیر اللہ تو صریح شرک ہے۔
فائدہ : مشرکین جس طرح غیر اللہ کی خوشنودی اور اپنے معبودان باطلہ کی رضا جوئی کے لیے نذریں مانتے تھے۔ اسی طرح وہ بعض جانوروں کو اپنے معبودوں کی خاطر آزاد چھوڑ دیتے تھے نہ ان کا گوشت کھاتے نہ دودھ پیتے، نہ ان پر سواری کرتے، نہ بوجھ لادتے، یہ تحریمات وہ اپنے معبودوں کو راضی کرنے کیلئے کیا کرتے تھے۔ بحیرہ سائبہ وصیلہ اور حامل جن کا ابھی ذکر ہوا ہے تحریمات غیر اللہ میں داخل ہیں۔ غیر اللہ کی نیازوں کو مشرکین حلال سمجھتے تھے اور جن چیزوں کی انہوں نے اپنی طرف سے تحریم کردی تھی ان کو حرام سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے دونوں کا حکم بیان فرمایا کہ غیر اللہ کی نذریں حرام ہیں انہیں مت کھاؤ اور بحیرہ سائبہ وغیرہ تحریمات غیر اللہ حلال ہیں ان کو کھاؤ اور اپنی خود ساختہ تحریمات کو اٹھاؤ کیونکہ جو چوپائے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے حلال کے ہیں وہ حلال ہی رہیں گے اور بندوں کے حرام کرنے سے حرام نہیں ہوجائیں گے۔ بعض مفسرین نے بحیرہ، سائبہ وغیرہ کو نذر غیر اللہ میں داخل کر کے حرام قرار دیا ہے مگر یہ درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو یہ حکم دیا ہے۔ لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَا اَحَلَّ اللہُ لَکُمْ یعنی جو پاکیزہ چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں انہیں حرام مت کرو۔ اور دوسری طرف فرمایا مَا جَعَلَ اللہُ مِنْ بَحِیْرَ ۃٍ الخ یعنی اللہ نے بحیرہ سائبہ وغیرہ کی تحریم کا کوئی حکم نہیں دیا اور نہ اس کی اجازت دی ہے اس لیے یہ جانور حلال ہیں اور حلال ہی رہیں گے بندوں کی تحریم سے حرام نہیں ہوسکتے۔
Ayah 5:104169 جب مشرکین سے کہا جاتا ہے کہ اپنی طرف سے تحری میں مت کرو اور اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ مان لو کہ یہ چیزیں حرام نہیں ہیں۔ ای ھلموا الی حکم اللہ ورسولہ بان ھذہ الاشیاء غیر محرمۃ (مدارک ص 237 ج 1) تو وہ کہتے ہیں ہمیں اللہ و رسول کے حکم کی ضرورت نہیں ہمیں وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو دیکھا۔ ہمارے اسلاف و اکابر یہ تحریمات کرتے چلے آئے ہیں۔ لہذا ہم بھی کرتے رہیں گے۔ اَوَلَوْکَانَ اٰبَا ء ھُمْ الخ باپ دادا کی تقلید و اقتدا تو صرف اسی وقت کرنی چاہئے جب کہ وہ عالم ہوں اور ہدایت پر ہوں اور ان کی ہر بات دلیل وحجت پر مبنی ہو۔ لیکن اگر وہ جاہل اور گمراہ ہوں تو پھر ان کی اقتدا جائز نہیں مشرکین کے باپ داد بےعلم اور گمراہ تھے۔ کیا وہ پھر بھی انہی کی راہ پر چلیں گے۔ الاقتداء انما یجوز بالعالم المھتدی وانما یکون عالما مھتدیا اذا بنی قولہ علی الحجۃ والدلیل (کبیر ج 3 ص 680) ۔
Ayah 5:105170 اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو اپنی جان کی فکر کرنی چاہئے اور دوسروں کو اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہئے حالانکہ قرآن وسنت سے ثابت ہے کہ ہر شخص اپنی بساط اور اپنے علم کے مطابق تبلیغ فرض ہے۔ یہ الجھن اس وقت پیش آتی ہے جب انفسکم سے ہر آدمی کی اپنی جان مراد لی جائے۔ لیکن محقق مفسرین کی رائے یہ ہے۔ کہ یہاں انفسکم سے تمام اہل اسلام مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اے ایمان والو تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے تمام اہل اسلام کو ہلاکت اور اللہ کے عذاب سے بچاؤ۔ جب تم سب ہدایت یافتہ ہوجاؤ گے اور تمہارا ایمان و عمل درست ہوجائے گا تو کفار و مشرکین تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ چناچہ حضرت صدیق اکبر ؓ کا قول اس پر دال ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں واصح التاویلا تعندنا بتاویل ھذہ الایۃ ما روی عن ابی بکر الصدیق فیھا وھو یا ایہا الذین امنوا علیکم انفسکم الزموا العمل بطاعۃ اللہ و بما امرکم بہ وانتھوا عما نھاکم اللہ عنہ لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم یقول فانہ لا یضرکم ضلال من ضل اذا انتم دمتم العمل بطاعۃ اللہ و ادیتم فیمن ضل من الناس ما الزمکم اللہ بہ فیہ من فرض الامر بالمعروف والنہی عن المنکر الذی ترکبہ او تحاول رکوبہ والاخذ علی یدیہ اذا دام ظلماً (ابن جریر ج 8 ص 60) ۔ اور حضرت عبداللہ بن مبارک سے منقول ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں یہ آیت سب سے زیادہ تاکید کر رہی ہے قال عبداللہ بن المبارک ھذہ اوکد ایۃ فی وجوب الامر بالمعروف والنہی عن المنکر فانہ قال علیکم انفسکم یعنی علیکم اھل دینکم۔ یعنی بان یعظ بعضکم بعضا و یرغب بعضکم بعضا فی الخیرات و ینفرہ عن القبائح والسیئات الخ (کبیر ج 3 ص 681) اب اس آیت کا ماقبل سے ربط یہ ہوا کہ تحریمات غیر اللہ کے مضمون کا اعادہ کرنے کے بعد تمام اہل ایمان کو تاکید فرمائی کہ وہ ایک دوسرے کو توحید پر قائم رہنے اور دیگر نیک اعمال بجا لانے کی تلقین کریں اور شرک اور دیگر برائیوں سے ان کو روکیں۔
Ayah 5:106171 یہ مبتداء ہے اور اِثنٰنِ اس کی خبر ہے۔ خبر سے پہلے شَھَادَۃُ مضاف محذوف ہے اصل میں شَھَادَۃُ اثنَیْنِ مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اسی کا اعراب دے کر اس کے قائم مقام کردیا گیا۔ مِنْ بَعْدِ الصَّلٰوۃِ یہ قید اتفاقی ہے کیونکہ نماز میں مسلمان جمع ہوتے ہیں اس لیے شہادت کے سامنے ہو تو بہتر ہے۔ شرک فعلی کی نفی کے بعد شہادت (گواہی) کے مضمون کا ذکر بظاہر بےربط سا معلوم ہوتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے اللہ کا کلام اس عیب سے پاک ہے۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ تحریمات اللہ، تحریمات غیر اللہ نذور اللہ اور نذور غیر اللہ کے مذکورہ بالا بیان سے واضح ہوگیا کہ غیب دان اور کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہے اس کے سوا نہ کوئی غیب دان ہے نہ متصرف و کارساز اس لیے قسم بھی اللہ کے نام ہی کی کھانی چاہئے۔ یہاں تک کہ غیر مسلموں سے بھی غیر اللہ کی قسم نہ لی جائے کیونکہ غیب دان اور کارساز صرف اللہ ہے اور کوئی نہیں اور جس کے نام کی قسم کھائی جائے اس کا غیب دان اور کارساز ہونا ضروری ہے۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ایک واقعہ پیش آیا دو عیسائی اور ایک مسلمان اکٹھے تجارتی سفر پر روانہ ہوئے۔ مسلمان بیمار ہوگیا اس نے ایک کاغذ پر اپنے سامان کی فہرست تیار کی اور اسے سامان میں چھپا دیا اور ان کو وصیت کی کہ وہ اس کا سامان اس کے وارثوں کو دیدیں۔ وہ فوت ہوگیا تو اس کے ساتھیوں نے اس کے سامان سے ایک نہایت قیمتی جام نکال لیا اور باقی سامان اس کے وارثوں کو دیدیا۔ جب وارثوں نے سامان میں رکھی ہوئی فہرست میں جام کا ذکر دیکھا لیکن سامان میں اسے نہ پایا تو ان دونوں سے اس کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا ہمیں اس کا علم نہیں۔ چناچہ میت کے وارثوں نے یہ مقدمہ حضور ﷺ کے سامنے پیش کردیا آپ نے وارثوں سے گواہ طلب کیے ان کے پاس گواہ نہیں تھے اس لیے آپ نے وارثوں سے کہا کہ وہ ان سے کسی ایسی چیز کی قسم لیں جو ان کے دین میں بڑی سمجھی جاتی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ قسم خواہ غیر مسلم سے لی جائے وہ صرف اللہ کے نام کی ہونی چاہئے نہ کہ غیر اللہ کی۔ یہ روایت ترمذی کی ہے، کے الفاظ یہ ہیں۔ فسالہم البینۃ فلم یجدوا فامرھم ان یستحلفوہ بما یعظم علی اھل دینہ فحلف فانزل اللہ یا ایہا الذین اٰمنوا شہادۃ بینکم الخ (خازن ج 3 ص 86) اس آیت میں فَیُقْسِمَان باللہِ مقصودی جملہ ہے یعنی اگر کوئی ایسی صورت پیش آجائے اور اس میں غیر مسلم سے قسم لینے کی ضرورت پڑجائے تو اس سے بھی اللہ کے نام کی قسم لینی چاہئے جیسا کہ کتب فقہ میں لکھا ہے کہ یہودی سے اس طرح قسم لی جائے واللہ الذی انزل التوراۃ علی موسیٰ علہ السلام اور عیسائی سے واللہ الذی انزل الانجیل علی عیسیٰ (علیہ السلام) اور آتش پرست سے واللہ الذی خلق النار (ہدایہ وغیرہ)
Ayah 5:107172: اِسْتَحَقَّا اِْثْمًا یعنی وہ خیانت اور جھوٹی شہادت سے گناہ کے مستحق ہوئے۔ اَلَّذِیْنَ سے ورثاء میت مراد ہیں اور اَلْاَوْلَیَیْنِ سے وہ دونوں شخص مراد ہیں جنہوں نے میت کے مال میں خیانت کی اور پھر جھوٹی گواہی دی اور میت کے وارثوں کو نقصان پہنچایا المراد بالاولیان الوصیان اللذان اظھرت خیانتھما۔ فمعنی استحق علیھم الاولیان خان فی مالھم و جنی علیہم الوصیان اللذان عثر علی خیاتہما (روح ج 8 ص 50) ۔ حاصل یہ کہ جب بعد میں معلوم ہوجائے کہ سفر میں جن دو آدمیوں کو میت نے وصیت کی تھی وہ خیانت مجرمانہ کے مرتکب ہوئے ہیں اور انہوں نے غلط بیان کی ہے تو پھر میت کے وارثوں میں سے دو آدمیوں سے قسم لی جائے وہ اللہ کے نام کی قسم کھا کر اپنا بیان دیں کہ ان دونوں نے جھوٹ بولا ہے اور ہمارا بیان صحیح اور قابل قبول ہے اور ہم نے اپنے بیان میں حق سے تجاوز نہیں کیا۔
Ayah 5:108173 یہ شہادت کے مذکورہ بالا طریقہ کی طرف اشار ہے۔ یعنی پہلے تو ان سے گواہی لی جائے جن کو میت نے وصی بنایا ہے۔ اگر ان کی خیانت اور کذب بیانی ظاہر ہوجائے تو پھر میت کے وارثوں سے قسم لی جائے۔ ہی طریقہ اصل مقصد حاصل کرنے کے لیے قریب ترین ذریعہ ہے۔ اس سے یا تو گواہ عذاب آخرت سے ڈر کر صحیح گواہی دیدیں گے یا پھر دنیا میں رسوائی کے ڈر سے سچی گواہی دیں گے کیونکہ انہیں یہ اندیشہ ہوگا کہ ان کی قسمیں ردکردی جائیں گی۔ اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌ بَعْدَ اَیْمَانِھِمْ ۔ یعنی ان کی قسموں کے جھوٹ ثابت ہونے کے بعد قسم کھانے کا حق وارثوں کو دیا جائے گا۔ یہاں ایک شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ شرعی قانون کے مطابق قسم منکر دعویٰ کے ذمہ ہوتی ہے لیکن جب پہلے گواہوں کی خیانت ظاہر ہوجائے تو وارثوں پر قسم آتی ہے حالانکہ وہ مدعی ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایک حیثیت سے وارث بھی منکر ہیں کیونکہ وہ پہلے گواہوں کے اس دعوی کا انکار کر رہے ہیں کہ انہوں نے متوفی کا سارا مال بلا خیانت اس کے وارثوں کے حوالے کردیا ہے۔
Ayah 5:109174 پہلے نفی شرک فعلی کے سلسلے میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ غیب دان صرف اللہ ہے۔ اس کے سوا کوئی غیب دان نہیں اب یہاں قیامت کے دن پیش آنیوالا ایک واقعہ ذکر کر کے یہ حقیقت بیان فرمائی کہ اور تو اور خود انبیاء (علیہم السلام) جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری مخلوق پر فوقیت اور برتری عطا فرمائی وہ بھی غیب دان نہیں تھے وہ نہ زندگی میں غیب جانتے تھے نہ موت کے بعد لوگ غیر اللہ کے نام کی نذریں اور نیازیں صرف اس لیے دیتے تھے کہ وہ ہماری حاجات کو جانتے اور ہمیں نفع نقصان پہنچانے کی قدرت رکھتے ہیں جیسا کہ آج کل کے مشرکین کا بھی اپنے پیروں کے متعلق عقیدہ ہے۔ تو آخر میں اللہ تعالیٰ نے یہ معاملہ صاف فرما دیا کہ انبیاء (علیہم السلام) تو غیب جانتے نہیں جو سب سے افضل ہیں۔ چناچہ وہ قیامت کے دن صاف کہیں گے کہ ان کے پیچھے جو کچھ ہوتا رہا ہے اس کا انہیں کچھ علم نہیں۔ پھر جو لوگ انبیاء (علیہم السلام) سے رتبہ میں کمتر ہیں وہ کس طرح غیب دان ہوسکتے ہیں۔ یَوْمَ ظرف کا عامل بعد میں مذکور ہے۔ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا۔ فَیَقُوْلُ ، یَجْمَعُ پر معطوف ہے یعنی جس دن اللہ تمام رسولوں کو جمع کر کے ان سے یہ سوال کرے گا کہ تمہیں تبلیغ توحید کے بعد اپنی امتوں کی طرف سے کیا جواب ملا اس دن وہ سب کہیں گے کہ ہمیں تو اس کا کچھ علم نہیں۔ یہ تو غیب کی بات ہے اور تمام غیبوں کا جاننے والا صرف تو ہی ہے اور کوئی نہیں۔ یہ آیت حضرات انبیاء (علیہم السلام) سے علم غیب کی نفی پر برہان قاطع ہے اس آیت میں مَا ذَا اُجِبْتُمْ کے دو معنی ہیں بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ سوال تبلیغ کے وقت سے متعلق ہوگا کہ جب تم تبلیغ کرتے تھے اس وقت لوگوں نے تمہاری بات کو قبول کیا یا نہ تو وہ جواب دیں گے۔ لَا عِلْمَ لَنَا بباطن ما اجاب بہ۔۔۔ (قرطبی ج 6 ص 361) یعنی ان کے باطن کو ہم نہیں جانتے تھے ہمیں صرف ان کے ظاہر کا علم تھا لیکن اس میں عبارت مقدر کر کے مطلب نکالنا پڑتا ہے اس لیے بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ یہ سوال انبیاء (علیہم السلام) سے ان کی وفات سے بعد کے حالات سے متعلق ہوگا کہ تمہاری وفات کے بعد ان لوگوں کے کیا حالات تھے کیا یہ تمہیں پکارتے رہے ہیں اور کیا تمہیں اس کا علم ہے تو اس کے جواب میں انبیاء (علیہم السلام) کہیں گے کہ اے اللہ بعد کے حالات کا تو ہمیں کوئی علم نہیں جیسا کہ اگلی آیت سے اس کی تائید ہوتی ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سوال کے جواب میں یہی کہیں گے۔ کُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْھِمْ الخ اسی طرح سورة یونس ع 3 میں ہے کہ جن انبیاء و اولیاء کو لوگ دنیا میں پکارتے رہے قیامت کے دن وہ صاف کہیں گے کہ ہمیں تو ان کی پکار وغیرہ کا کوئی علم نہیں۔ اِنْ کُنَّا عَنْ عِبَادَتِہِمْ لَغٰفِلِیْنَ بہت سے مفسرین نے اس سوال کو بعد الوفات کے حالات سے متعلق قرار دیا ہے۔ امام رازی لکھتے ہیں لا علم لنا الا ان علمنا جوابہم لنا وقت حیاتنا ولا نعلم ما کان منھم بعد وفاتنا (کبیر ج 3 ص 689) ۔ اہل بدعت کی طرف سے اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ انبیا (علیہم السلام) کو معلوم تو سب کچھ ہوگا لیکن ہول قیامت کے وجہ سے وہ جواب نہیں دے سکیں گے اور علم کی نفی کردیں گے۔ یہ جواب دو وجہ سے غلط ہے۔ 1 ۔ اس لیے کہ انبیاء (علیہم السلام) قیامت کے ہول اور جزع فزع سے محفوظ ہوں گے اور ان پر کوئی گھبراہٹ طاری نہیں ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ لَا یَحْزُنُھُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ (انبیاء ع 7) یعنی جن لوگوں کے لیے حُسْنیٰ (جنت) کا وعدہ ہوچکا ہے۔ وہ قیامت کی فزع اکبر (سب سے بڑی گھبراہٹ) سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ 2 ۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ان کو سب کچھ معلوم تھا تو اس صورت لا علم لنا واقعہ کے صریح خلاف اور جھوٹ ہوگا۔
Ayahs 5:110–111175 تمام انبیاء (علیہم السلام) کے اجمالی ذکر کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا خصوصیت سے ذکر فرمایا کیونکہ اس وقت انبیاء (علیہم السلام) میں سے ان کو غیب دان اور کارساز ماننے والے نصاریٰ تھے جو اس وقت علم و دانش میں اور عبادت و رہبانیت میں مشہور و معروف تھے۔ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نذریں نیازیں دیتے ان کی خاطر بکرے وغیرہ بلکہ بعض لوگ اپنے بیٹے بھی ذبح کردیتے تھے۔ اس لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا خاص طور پر ذکر کر کے ان سے علم غیب اور الوہیت کی نفی فرمائی پہلے اِذْ قَالَ اللہ ُ یٰعِیْسیٰ سے لے کر لَا اُعَذِّبُہٗ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ تک اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کی والدہ پر اپنے احسانات اور انعامات گنوائے ہیں اور اصل سوال وَ اِذْ قَالَ اللہُ (ع 6) سے شروع ہوتا ہے۔
176 ظرف نِعْمَتیِ سے متعلق ہے اور نعمۃ یہاں مصدر ہے۔ ای انعامی ظرف لنعمتی ای اذکر انعامی علیکما وقت تائیدی لکما روح القدس سے حضرت جبریل مراد ہیں اور تائید کا مطلب یہ ہے کہ حضرت جبریل ہر وقت ان کے ساتھ رہتے تھے۔ تُکَلِّمُ النَّاسَ یہ اَیَّدْتُّکَ کی ضمیر منصوب سے حال ہے۔ مھد سے زمانہ شیر خوارگی مراد ہے جس میں حضرت مسیح (علیہ السلام) نے معجزانہ طور پر باتیں کر کے اپنی والدہ مطہرہ کی پاک دامنی بیان کی اور کہل اس کو کہتے ہیں جس کے بال سفید ہونے لگیں حضرت مسیح کو چونکہ اس عمر سے قبل ہی اٹھا لیا گیا اس طرح یہ آیت ان کے دوبارہ نزول کی دلیل ہے کیونکہ نزول کے بعد وہ کہولت کو پہنچیں گے اور باتیں کریں گے وَاِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتٰبَ یہ اِذْ اَّ یَّدْتک پر معطوف ہے الکتاب سے قرآن مجید اور الحکمۃ سے سنت نبوی مراد ہے یہ آیت بھی حضرت مسیح (علیہ السلام) کے دوبارہ نزول کی دلیل ہے کیونکہ جب وہ نازل ہوں گے اس وقت اللہ تعالیٰ ان کو قرآن وسنت کا علم عطا فرمائے گا اور وہ ان دونوں کے مطابق ہی فیصلے کریں گے۔ تورات اور انجیل کا علم ان کو رفع الی السماء سے پہلے ہی حاصل تھا۔
177 یہ اور اسی طرح وَاِذْتُخْرِجُ الْمَوْتیٰ اور وَاِذْ کَفَفْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ اور وَ اِذْ اَوْحَیْتُ یہ سب بھی اِذْ اَیَّدْ تُکَ پر معطوف ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو معجزات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو عطا فرمائے تھے یہاں ان کو بطور انعام ذکر فرمایا۔ یعنی پرندے کا پتلا بنا کر اس میں جان ڈالنا، کوڑھی اور مادر زاد اندھے کو چنگا بھلا کردینا اور مردوں کو زندہ کرنا۔ ہر معجزے کے ساتھ بِاِذْنِیْ کی صراحت کر کے اس طرف اشارہ فرمادیا کہ یہ تمام باتیں حضرت مسیح (علیہ السلام) کے اختیار میں نہ تھیں یہ تمام امور میرے اختیار میں تھے اور میں نے اپنی قدرت سے ان کو مسیح کے ہاتھ پر ظاہر کیا۔ اَوْحَیْتُ کے معنی القیت فی روہم کے ہیں۔ یعنی میں نے ان کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول عیسیٰ پر ایمان لے آئیں۔
Ayahs 5:112–113178 یہ اِذْ اَیَّدْتُکَ سے بدل ہے یہاں سے لیکر رکوع 15 کے آخر تک نزول مائدہ کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اور یہ بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ کا ایک انعام تھا کیونکہ جب ان سے ان کی قوم نے آسمان سے دستر خوان اتارنے کا مطالبہ کیا تو انہوں نے اللہ دعا کی تو اللہ نے ان کی دعا قبول فرما کر معجزانہ طور پر آسمان سے دسترخوان نازل فرمایا۔ جن حواریین نے مائدہ کا مطالبہ کیا تھا وہ مخلص مومن تھے اور ازدیاد یقین اور عینی مشاہدے کی خاطر اس معجزے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
179 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگر واقعی تم مومن ہو تو اللہ سے ڈرو اور اس معجزے کا مطالبہ نہ کرو کیونکہ جب طلبیدہ اور منہ مانگے معجزے کا انکار کیا جائے تو اس پر اللہ کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے۔ قَالُوْا نُرِیْدُ الخ اس کے جواب میں انہوں نے کہا ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے سامنے آسمان سے دسترخوان اترے اور ہم اس میں سے کھانا تناول کریں تاکہ ہمارا یقین اور پختہ ہوجائے اور آپ کی صداقت کا ہمیں مشاہدہ ہوجائے اور ہم اس واقعہ کی ان لوگوں کے سامنے گواہی دیں جو اس وقت موجود نہ ہوں۔
Ayahs 5:114–115180 یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا ہے جس میں انہوں نے اللہ سے مائدہ اتارنے کی التجا کی قَالَ اللہُ اللہ نے فرمایا میں ایک بار چھوڑ میں بار بار مائدہ اتارنے کو تیار ہوں لیکن یاد رکھومائدہ اترنے کے بعد جو شخص انکار کرے گا اسے ایسا سخت عذاب دوں گا کہ دنیا میں ایسا سخت عذاب کسی اور کو نہیں دوں گا۔ چنانہ مائدہ اتارا گیا جن کو اللہ نے توفیق دی ان کا ایمان اور مضبوط ہوگیا اور جنہوں نے اس کے بعد کفر کیا اللہ نے ان کو دنیا میں خنزیر بنا دیا اور آخرت میں بھی ان کو سخت ترین عذاب دیا جائے گا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جب مائدہ اترنے کے بعد کفر کرنے پر سخت عذاب کی دھمکی نازل ہوئی تو انہوں نے کہا پھر ہمیں مائدہ کی ضرورت نہیں۔ اس لیے اللہ نے مائدہ نہیں اتارا لیکن جمہور کا مسلک یہ ہے کہ مائدہ اترا تھا اور یہی صحیح ہے۔ و اختلف العلماءالمائدۃ ھل نزلت ام لا فالذی علیہ الجمہور وھو الحق نزولھا الخ (قرطبی ج 6 ص 329) والجمھور علی الاون وعلیہ المقول (روح ج 7 ص 62) ۔