5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsجواھر القرآن

Ayah 5:12

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اور لے چکا ہے اللہ عہد32 بنی اسرائیل سے اور مقرر کئے ہم نے ان میں بارہ سردار اور کہا اللہ نے میں تمہارے ساتھ ہوں33 اگر تم قائم رکھو گے نماز34 اور دیتے رہو گے زکوٰۃ اور یقین لاؤ گے میرے رسولوں پر اور مدد کرو گے ان کی اور قرض دو گے اللہ کو اچھی طرح کا قرض تو البتہ دور کرونگا میں تم سے گناہ تمہارے اور داخل کروں گا تم کو باغوں میں کہ جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں پھر جو کوئی کافر ہوا تم میں سے اس کے بعد 35 تو وہ بیشک گمراہ ہوا سیدھے راستہ سے

32 ابتدائے سورت میں ایفائے عقود اور اسلام کے حدود و احکام کی پابندی کا حکم دیا اس کے بعد تحلیل و تحریم کی کچھ حدود بیان فرمائیں اور آخر میں ماننے والوں اور مذکورہ عہود پورا کرنے والوں کو اخروی بشارت اور نہ ماننے والوں اور نقص عہد کرنے والوں کو اخروی عذاب کی وعید سنائی۔ اب یہاں سے نقض عہد (عہد توڑنے) کی سزا کے دو نمونے بیان فرمائے تاکہ مسلمان ان سے عبرت حاصل کریں اور نقض عہد سے بچیں پہلے بنی اسرائیل (یہود) سے عہد لینے کا ذکر فرمایا۔ میثاق سے یہاں اللہ کی توحید کو قائم کرنے، شرک سے بچنے اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے اور اس کے احکام کی پیروی کرنے کا عہد مراد ہے اس کی طرف لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوۃ الخ میں اشارہ ہے۔ ومعنی الایۃ ان اللہ اخذ میثاقہم ان یعبدوہ ولا یشرکوا بہ شیئا وان یعملوا بما فی التوراۃ من الاحکام والتکالیف (خازن ج 2 ص 21) ۔ وَ بَعَثْنَا مِنْھُمْ الخ نقیب کے معنی قوم کے سردار اور قوم کی طرف سے ذمہ داری اٹھانے والے کے ہیں۔ النقیب کبیر القوم (قرطبی ج 6 ص 112) قال ابن عباس النقیب الضمین (خازن) ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں میں سے ہر قبیلے کا ایک سردار منتخب کریں اور ہر سردار کے ذریعے اس کے قبیلے سے مذکورہ بالا عہد و پیمان کی پابندی کرائیں۔ امر جل شانہ موسیٰ (علیہ السلام) ان یاخذ من کل سبط کفیلا علیھم بالوفاء فیما امروا بہ فاخذ علیھم المیثاق الخ (روح ج 6 ص 85) ۔ 33 معیت سے یہاں مراد معیت معنوی ہے۔ اس میں خطاب نقباء سے ہے یا تمام بنی اسرائیل سے یعنی میں تمہارے ساتھ ہوں تمہارے افعال کو دیکھتا اور تمہارے اقوال کو سنتا ہوں اگر عہد پورا کرو گے تو میری حمایت اور تائید و نصرت تمہارے ساتھ ہوگی اور اگر نقض عہد کرو گے تو میں سزا دینے پر بھی قادر ہوں۔ والمعنی انی معکم بالعلم والقدرۃ فاسمع کلامکم واری افعالکم واعلم ضمایرکم واقدر علی ایصال الجزاء الیکم (کبیر ج 3 ص 564) ۔34 یہ جملہ شرطیہ ہے جو میثاق مذکور سے متعلق پانچ امور پر مشتمل ہے۔ 1 ۔ اگر تم نماز قائم کرو گے۔ 2 ۔ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّکٰوۃَ اور صدقاتِ واجبہ ادا کروگے۔ 3 ۔ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ اور میرے تمام رسولوں پر ایمان لاؤ گے۔ 4 ۔ وَ عَزَّرْتُمُوْھُمْ اور دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد کروگے اور ان کا ساتھ دو گے۔ 5 ۔ وَ اَقْرَضْتُمُ اللہَ اور نفلی صدقات سے قوم کے غرباء کی امداد کرتے رہو گے۔ لَاُکَفِّرَنَّ عَنْکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ ۔ یہ شرط مذکور کی جزا ہے یعنی اگر تم مذکورہ احکام بجا لاؤ گے تو ہم اس کی جزا یہ دینگے کہ تمہارے گناہ معاف کردینگے اور تمہیں جنت میں داخل کرینگے۔ 35 جس نے اس مؤکد عہد اور پختہ میثاق کے بعد اس کی کسی ایک شق کو توڑ دیا تو وہ بلاشبہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا اور کھلی گمراہی میں جا پڑا اور اس کی کوئی معذرت قبول نہ ہوگی۔
Ayah 5:13

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

سو ان کے عہد توڑنے پر36 ہم نے ان پر لعنت کی اور کردیا ہم نے ان کے دلوں کو سخت پھیرتے ہیں کلام کو اس کے ٹھکانے سے اور بھول گئے نفع اٹھانا اس نصیحت سے جو ان کو کی گئی تھی اور ہمیشہ تو مطلع ہوتا رہتا ہے ان کی کسی دغا پر مگر37 تھوڑے لوگ ان میں سے سو معاف کر اور درگزر کر ان سے اللہ دوست رکھتا ہے احسان کرنے والوں کو

36 اس سے پہلے نقضو محذوف ہے ای فنقضوا عہد اللہ من بعد میثاقہ۔ یعنی یہود نے اللہ سے پختہ عہد کرنیکے بعد اسے توڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے محض نقض عہد کیوجہ سے ان کو حسب ذیل سزائیں دیں۔ لعَنّٰھُمْ ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر کے ذلیل و خوار کردیا۔ وَجَعلْنَا قُلُوْبَھُمْ قٰسِیَۃً اور ان کے دلوں سخت کردیا یہاں تک کہ ان سے قبول حق کی استعداد سلب کرلی کہ وہ حق بات کے لیے نرم نہ ہوسکیں۔ یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعہٖ ۔ یہ ما قبل کے لیے صفت کا شفہ ہے استئناف لبیان مرتبۃ قساوۃ قلوبھم فانہ لا مرتبۃ اعظم ما ینشا عنہ الاجتراء علی تحریف کلام رب العلمین والافتراء علیہ عز و جل (روح ج 6 ص 89) ان کے دلوں کی سیاہی اور سختی اس حد تک پہنچ گئی کہ وہ رب العلمین کے کلام میں تحریف کرنے لگے اور اس پر بہتان باندھنے لگے۔ وَ نَسُوْا حَظًّا الخ نَسوْا بمعنی ترکوا ہے یعنی تورات میں جن احکام کی ان کو نصیحت کی گئی تھی ان کے معتد بہ حصے پر انہوں نے عمل کرنا چھوڑ دیا یہ نقض عہد ہی کا وبال تھا کہ ان کے عوام و خواص میں بد عملی پھیل گئی اور دین کی دولت بھی ہاتھ سے جاتی رہی۔ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلیٰ خَآئِنَۃٍ مِّنْھُمْ ۔ خائنۃ بمعنی خیانت ہے یہ بھی نقض عہد ہی کا نتیجہ ہے کہ وہ ہر وقت دین میں خیانت اور غدر پر کمر بستہ نظر آتے ہیں۔ اور خیانت و بد عہدی ان کی عادت مستمرہ بن چکی ہے اور وہ اس کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ غدر اور خیانت میں وہ بالکل اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ والمعنی ان الغدر والخیانۃ عادۃ مستمرۃ لھم ولاسلافہم کما یعلم من وصفھم بالتحریف و ما معہ الخ (روح ج 6 ص 90) ای ھذہ عادتہم و دیدنہم معک وھم علی مکان اسلافہم من خیانۃ الرسل و قتلھم الانبیاء فھم لا یزالون یخونونک و ینکثون عھودک و یظاھرون علیک اعدائک و یھمون بالفتک بک (بحر ج 3 ص 446) موجودہ زمانہ کے علماء سوء میں مذکورہ بالا چاروں باتیں بطور اتم موجود ہیں۔ ٖ 37 یہ ماقبل سے استثناء ہے اور اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو ان میں سے اسلام لے آئے اور اپنے سابقہ گناہوں تحریف اور خیانت و غدر وغیرہ سے تائب ہوگئے وھم عبداللہ بن سلام و اصحابہ الذین اسلموا من اھل الکتاب (خازن جلد 2 ص 23) فَاعْفُ عَنْھُمْ الخ عنھم کی ضمیر سے وہی لوگ مراد ہیں جنہیں ما قبل سے مستثنی کیا گیا ہے یعنی مومنین اہل کتاب فرمایا ان سے در گذر کرو اور ان کے گذشتہ گناہوں اور ان کی سابقہ خیانت و بد عہدی سے ان پر مواخذہ نہ کرو۔ فاعف عن مؤمنیھم ولا تؤاخذھم بما لسف منھم (مدارک ج 1 ص 214، بحر) اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ یہ جملہ ما قبل کے لیے بمنزلہ تعلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنیوالوں کو دوست رکھتا ہے اس لیے آپ ان سے احسان اور حسن سلوک کا معاملہ فرمائیں۔ یہ نقض عہد کی سزا کا پہلا نمونہ تھا جس سے اہل اسلام کی تنبیہ مقصود ہے۔ یعنی جس طرح یہود کو عہد توڑنے اور ہمارے احکام و حدود کو پامال کرنے کی وجہ سے ہم نے ذلیل کردیا یہاں تک کہ ان کا دین بھی ان کے ہاتھ سے جاتا رہا اگر تم بھی نقض عہد کرو گے تو تمہارے بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔
Ayah 5:14

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور وہ جو38 کہتے ہیں اپنے کو نصاریٰ ان سے بھی لیا تھا ہم نے عہد ان کا پھر بھول گئے نفع اٹھانا اس نصیحت سے جو ان کو کی گئی تھی پھر ہم نے لگا دی آپس میں ان کے دشمنی اور کینہ39 قیامت کے دن تک اور آخر جتاوے گا ان کو اللہ جو کچھ کرتے تھے

38 ۔ وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّا نَصٰرٰی الخ یہ نقض عہد کی سزا کا دوسرا نمونہ ہے۔ یعنی ہم نے نصاریٰ میں عہد توڑنے کی وجہ سے عداوت ڈال دی اور ان کے دلوں میں باہمی بغض پیدا کردیا۔ اگر تم بھی نقض عہد کرو گے تو تمہیں بھی ہی یہی سزا ملے گی۔ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوْا بِہٖ جس طرح بنی اسرائیل سے توحید و رسالت اور دیگر احکام کی بجا آوری کا عہد لیا تھا اسی طرح نصاریٰ سے بھی لیا مگر انہوں نے بھی یہودیوں کی طرح عہد توڑا اور اللہ کے اوامر کو پامال کیا۔ آنحضرت ﷺ کی تکذیب کی حالانکہ انجیل میں آپ پر ایمان لانے کا حکم تھا اور انہوں نے یہودیوں کی طرح انجیل میں تحریف بھی کی۔ ای فی التوحید والایمان بمحمد ﷺ اذ ھو مکتوب فی الانجیل (فَنَسُوْا حَظًّا) وھو الایمان بمحمد (علیہ الصلوۃ والسلام) ای لم یعملوا بما امروا بہ و جعلوا ذالک الھوی والتحریف سببا للکفر بمحمد ﷺ (قرطبی ج 6 ص 117) ٖف 39 فَاَغْرَیْنَا بَیْنَھُمُ الخ بینھم کی ضمیر نصاریٰ کے لیے ہے اور اس سے ان کے مختلف گروہ مراد ہیں مثلاً یعقوبیہ، نسطوریہ اور ملکانیہ وغیرہ یعنی نصاریٰ نے ہمارا عہد و میثاق توڑ دیا تو ہم نے دنیا میں ان کو یہ سزا دی کہ انہیں مختلف فرقوں میں بانٹ دیا اور ان کے درمیان بغضاء و عداوت کی آگ بھڑکا دی جو قیامت تک باقی رہے گی۔ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُھُمُ اللہُ بِمَا کَانُوْا یَضْنَعُوْنَ نقضِ عہد کی سزا دنیا میں تو وہ تھی جو پہلے مذکور ہوئی یہاں اخروی عذاب کی وعید سنائی کہ دنیا میں انہوں نے بد عہدیاں اور خیانتیں کی ہیں آخرت میں بھی ان کی سخت سزا پائیں گے۔ ای فی القیامۃ بالجزاء و العقاب (مدارک ج 1 ص 214) حضرت شیخ نے فرمایا یہود و نصاری کی عہد شکنی پر ان کی سزا ذکر کرنے سے اہل اسلام کی تنبیہ مقصود ہے اگر انہوں نے نقض عہد کیا اللہ کے احکام سے سرتابی کی تو ان کو یہ تمام سزائیں دی جائیں گی جو یہود و نصاریٰ کو علیحدہ علیحدہ دی گئیں۔ چناچہ اب مسلمانوں کو نقض عہد کی سزا مل رہی ہے۔ وہ فرقوں میں بٹ چکے ہیں اور ان کے درمیان بغض وعداوت کی آگ شعلہ زن ہے۔ یہاں تک سورت کے پہلے حصے مضمون اول یعنی شرک فعلی کی نفی کا بیان ختم ہوا۔
Ayah 5:15

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے کتاب والو40 تحقیق آیا ہے تمہارے پاس رسول ہمارا ظاہر کرتا ہے تم پر بہت سی چیزیں جن کو تم چھپاتے تھے کتاب میں سے اور درگزر کرتا ہے بہت چیزوں سے بیشک تمہارے پاس آئی ہے اللہ کی طرف سے روشنی اور کتاب

40 حصہ اول۔ مضمون ثانی۔ شرک اعتقادی یا شرک فی التصرف کی نفی۔ یَا اَھْلَ الْکِتٰبِ الخ یہاں سے پہلے حصے کے دوسرے مضمون (شرک فی التصرف کی نفی) کا بیان شروع ہوتا ہے۔ پہلے بطور تمہید اہل کتاب کو آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ اہل کتاب سے یہاں یہود و نصاریٰ دونوں فریق مراد ہیں۔ اس آیت میں حضور ﷺ کے اوصاف بیان فرمائے۔ اول یُبَیِّنُ لَکُمْ الخ یعنی تورات و انجیل کی بہت سی باتیں جنہیں تم چھپاتے ہو وہ انہیں کھول کر بیان کرتا ہے۔ دوم وَ یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ اور بہت سی باتوں سے در گذر کرتا ہے یعنی جن مسائل کو تم چھپاتے ہو ان میں سے بہت سے مسائل ایسے ہیں جنہیں وہ ظاہر نہیں کرتا کیونکہ ان کے اظہار میں دین کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ اہل کتاب کو معلوم ہوجائے کہ ان کی چوریوں اور خیانتوں کا پیغمبر (علیہ السلام) کو علم ہے تاکہ وہ رسوائی سے بچنے کے لیے حق کو چھپانا اور تورات و انجیل میں خیانت کرنا چھوڑ دیں۔
Ayah 5:16

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

ظاہر کرنے والی41 جس سے اللہ ہدایت کرتا ہے اس کو جو تابع ہوا اس کی رضا کا سلامتی کی راہیں اور ان کو نکالتا ہے اندھیروں سے روشنی میں اپنے حکم سے اور ان کو چلاتا ہے سیدھی راہ

41 قَدْ جَاءَکُمْ مِّنَ اللہِ نُورٌ وَّ کِتَابٌ مُّبِیْنٌ۔ اس آیت میں نور سے مراد کتاب مبین یعنی قرآن مجید ہے اور عطف تفسیری ہے۔ والمراد بہ و بقولہ کتاب مبین القرآن لما فیہ من کشف ظلمات الشرک والشک وابانۃ ما خفی علی الناس من الحق والاعجاز البین والعطف لتنزیل المغایرۃ بالعنوان ؟ المغایرۃ بالذات (ابو السعود ج 3 ص 543) یعنی نور اور کتاب سے قرآن مراد ہے کیونکہ اس سے شرک و شبہات کے اندھیرے دور ہوتے ہیں اور لوگوں پر حق واضح ہوتا ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ معطوف علیہ اور معطوف میں تغایر ضروری ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ تغایر فی العنوان کافی ہے۔ اس کے بعد کتاب کی تین صفتیں بیان فرمائی۔ اول یَھْدِیْ بِہِ اللہُ الخ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہٗ ۔ یَھْدِیْ کا مفعول اول ہے۔ اور سُبُلَ السَّلَامِ اس کا مفعول ثانی ہے۔ جو لوگ اللہ کی رضامندی کے متلاشی ہیں ان کو وہ اس کتاب کے ذریعہ سلامتی کی راہوں تک پہنچا دیتا ہے جن پر چل کر وہ اللہ کی رضا حاصل کرسکتے ہیں۔ دوئم۔ وَیُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ اور اپنی توفیق اور تائید سے ان کو شرک و گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر توحید و ہدایت کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ سوئم۔ وَیَھْدِیْھِمْ اِلیٰ صِرَاطِ مُّسْتَقِیْمٍ اور ان کو صراط مستقیم (سیدھی راہ) دکھاتا ہے جس پر تمام انبیاء (علیہم السلام) خود گامزن رہے اور جس کی طرف اپنی امتوں کو دعوت دیتے رہے۔ لفظ نور کی تحقیق بعض لوگ جو علم و دیانت سے بےبہرہ ہیں اور قرآن مجید کو اپنی تحریفات کا نشانہ بناتے ہیں جن کا سرمایہ دین ہے کہتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو نور فرمایا ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ آپ بشر نہیں ہیں اور آپ کے جسد اطہر کا سایہ نہیں تھا کیونکہ بشریت اور نور میں تضاد ہے اور نور کا سایہ نہیں ہوتا۔ اس کے دو جواب ہیں۔ پہلا جواب۔ اس آیت میں نور سے آنحضرت ﷺ ذات گرامی مراد نہیں بلکہ اس سے قرآن مجید مراد ہے۔ جیسا کہ سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ کی طرف سے ہمارے پاس دو ہی چیزیں آئی ہیں۔ ایک حضور ﷺ دوم قرآن مجید۔ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کی آمد کا ذکر اس سے قبل یَا اَھْلَ الْکِتَابِ قَدْ جَاءَکُمْ رَسُوْلُنَا سے فرمایا۔ اور دوسری چیز یعنی قرآن مجید کا ذکر قَدْ جَاءَکُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ وَّ کِتَابٌ مُّبِیْنٌ سے فرمایا کِتَابٌ مُّبِیْنٌ کا عطف نُوْرٌ پر عطف تفسیری ہے۔ متعدد مفسرین نے اس کی صراحت کی ہے۔ مفسر ابو السعود کا حوالہ پہلے گذر چکا ہے۔ امام نسفی حنفی فرماتے ہیں۔ یرید القراٰن لکشفہ ظلمات الشرک والشک و لابانتہ ما کان خافیا علی الناس من الحق (مدارک ج 1 ص 214) قاضی ثناء اللہ فرماتے ہیں وجاز ان یکون العطف تفسیر یا وسمی محمدا ﷺ والقرآن نورا لکونھما کاشفین لظلمات الکفر (مظھری ج 3 ص 67، کذا فی البحر ج 3 ص 448 وغیرہ) جیسا کہ سورة حدید ع 3 میں فرمایا۔ وَ اَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ ۔ یہاں بھی عطف تفسیری ہے اور المیزان سے الکتاب ہی مراد ہے۔ اور اگر واو کو عاطفہ ہی قرار دیا جائے تو اس صورت میں وہ ایک ہی چیز (قرآن) کے دو متغائر وصف نور اور کتاب مبین) بیان کرنے کے لیے ہوگی۔ قرآن نور ہے کیونکہ اس سے کفر و شرک اور شکوک و شبہات کے اندھیرے چھٹ جاتے ہیں۔ نیز وہ کتاب مبین ہے یعنی حق و باطل کو اس طرح کھول کر بیان کرتی ہے کہ ہر شخص بخوبی ان میں امتیاز کرسکتا ہے۔ قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے کئی بار نور سے تعبیر فرمایا۔ مثلا ارشاد ہے۔ وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ نُوْراً مُّبِیْناً (نساء ع 24) اسی طرح سورة تغابن ع 1 میں فرمایا فَاٰمِنُوْا بِاللہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْ اَنْزَلْنَا۔ ان دونوں آیتوں میں نور سے لا محالہ قرآن مجید ہی مراد ہے۔ دوسرا جواب : اگر سیاق وسباق کے خلاف اس آیت میں نور سے مراد آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی ہی مراد لی جائے تو بھی ان کا مطلب حاصل نہیں ہوسکتا۔ نہ اس سے آپ کی بشریت کا انکار ثابت ہوتا ہے نہ آپ کے سایہ کی نفی ہوتی ہے کیونکہ لفظ نور کا آپ کی ذات اقدس پر اطلاق بطور تشبیہ و استعارہ ہے جس سے آپ کی شان رہنمائی اور وصف ہدایت کو نمایاں کرنا مقصود ہے جس طرح نور (روشنی) سے اندھیرا زائل ہوجاتا ہے اور ہر چیز صاف نظر آنے لگتی ہے۔ اسی طرح حضور ﷺ کی تعلیمات سے کفر و شرک اور ضلالت و جہالت کے اندھیرے دور ہوتے ہیں اور صراط مستقیم صاف صاف دکھائی دینے لگتا ہے تو آنحضرت ﷺ کو نور اس لیے نہیں فرمایا کہ آپ کی ذات نور ہے بشر نہیں ہے بلکہ آپ کو نور اس لیے فرمایا کہ آپ کی صفت نور ہے۔ آپ کے ذریعے کفر و شرک کا اندھیرا دور ہوا اور راہ حق واضح ہوئی جیسا کہ مفسرین کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ علامہ خازن لکھتے ہیں یعنی محمد ﷺ انما سماہ نورا لانہ یھتدی بالنور فی الظلام (خازن ج 2 ص 214) امام نسفی فرماتے ہیں او النور محمد (علیہ السلام) لانہ یھتدی بہ کما یھتدی بالنور فی الظلام کما سمی سراجا (مدارک ج 1 ص 314) تفسیر مظہری کا حوالہ پہلے گذر چکا ہے۔ جن مفسرین نے نور سے آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی مراد لی ہے ان میں سے کسی نے بھی اس سے آپ کی بشریت یا آپ کے سایہ کی نفی پر استدلال نہیں کیا بلکہ سب نے اس اطلاق کو استعارہ قرار دیکر اس سے نور ہدایت یعنی ہدایت کی روشنی مراد لی ہے۔
Ayah 5:17

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

بیشک کافر ہوئے42 جنہوں نے کہا کہ اللہ تو وہی مسیح ہے مریم کا بیٹا تو کہہ دے پھر کس کا بس چل سکتا ہے43 اللہ کے آگے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کرے مسیح مریم کے بیٹے کو اور اس کی ماں کو اور جتنے لوگ ہیں زمین میں سب کو اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں44 اور زمین کی اور جو کچھ درمیان ان دونوں کے ہے پیدا کرتا ہے جو چاہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

42 لَقَدْ کَفَرَ الخ یہ یَا اَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَاءَکُمْ رَسُوْلُنَا الخ سے متعلق ہے۔ اے اہل کتاب ہمارا آخری رسول تمہارے پاس آچکا ہے۔ جو ان سچی باتوں کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے جنہیں تم چھپاتے تھے۔ من جملہ ان کے ایک بات یہ تھی کہ جو لوگ غیر خدا مثلاً حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں یہ عقیدہ رکھیں کہ وہ عین خدا ہے اور اللہ تعالیٰ حضرت مسیح میں حلول کیے ہوئے ہے یا اللہ تعالیٰ بشکل مسیح دنیا میں آیا ہے (شاہ عبد القادر) ایسے لوگ یقینا بلا شبہ کافر ہیں۔ یہ ان عیسائیوں کے خیال کا رد ہے جو حضرت مسیح میں اللہ تعالیٰ کے حلول کے قائل ہیں۔ یعنی یعقوبی فرقہ (روح جلد 6 ص 98) لیکن حضرت شیخ فرماتے ہیں اس سے اتحاد ذات مراد نہیں بلکہ اتحاد صفات مراد ہے یعنی عیسائیوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو صفات ِ کارسازی (صفات ربوبیت) میں خدائے تعالیٰ کا شریک سمجھ رکھا تھا۔ وہ حضرت مسیح کو غیب دان، مافوق الاسباب متصرف و مختار مانتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سے خدائی اختیارات دے رکھے ہیں اور وہ حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے غائبانہ طور پر ان کو پکارتے تھے۔ یہ عقیدہ اور فعل صریح شرک تھا اس لیے ایسے لوگوں کے کافر ہونے کا تاکید سے اعلان فرمایا۔ اس آیت کا مابعد حضرت شیخ قدس سرہ کے بیان کردہ مفہوم کی تائید کرتا ہے اس آیت کا ماقبل سے ربط یہ ہے کہ مسلمانوں سے فرمایا۔ یہود و نصاریٰ سے مت ڈرو جن کو ہم نے ذلیل کردیا ہے اور جن کے درمیان ہم نے عداوت ڈال دی ہے بلکہ ان سے صاف کہہ دو کہ تم کافر و مشرک ہو۔ 43 قُلْ فَمَنْ یَّمْلِکُ الخ یہ نصاریٰ کے مذکورہ بالا کفریہ عقیدہ کے بطلان پر عقلی دلیل ہے۔ یعنی الہ (معبود) تو صرف وہی ہوسکتا ہے۔ جس کی قدرت کامل ہو اور جس کے اختیارات ہر چیز پر حاوی ہوں۔ حضرت مسیح اور حضرت مریم (علیہما السلام) جن کو عیسائی معبود مانتے ہیں وہ خدا کے سامنے بالکل عاجز اور بےبس ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان دونوں کو اور ان کے ساتھ ساری مخلوق کو ہلاک کرنا چاہے اور انہیں موت کی نیند سلا دینا چاہے تو وہ خود تو کیا دنیا کی کوئی طاقت انہیں موت سے نہیں بچا سکتی۔ جو خود اس قدر بےبس ہیں کہ اپنی ذات سے بھی کوئی تکلیف دور نہیں کرسکتے وہ دوسروں کی کیا کارسازی کریں گے۔ بعض مفسرین نے اس آیت سے حیات مسیح (علیہ السلام) پر استدلال کیا ہے کیونکہ اِنْ اَرَادَ میں اِنْ واقع ہے جو مستقبل میں وقوع جزا پر دلالت کرتا ہے لیکن اس پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اس سے تو حضرت مریم کی حیات بھی ثابت ہوجائے گی تو اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے وَاُمَّہٗ سے پہلے وَ قَدْ اَھْلَکَ مقدر ہے لیکن یہ تمام تکلفات باردہ ہیں۔ حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری فرمایا کرتے تھے کہ اس آیت کا حیات و ممات حضرت مسیح سے کوئی تعلق نہیں۔ اس آیت کا موضوع مسیح اور ان کی والدہ کی الوہیت کی نفی ہے۔ اور وَاُمَّہٗ میں واو عاطفہ نہیں بلکہ بمعنی مع ہے اور اُمَّہٗ مفعول معہ ہے عطف کی صورت میں فعل کا تعلق معطوف علیہ اور معطوف دونوں سے مستقل طور پر ہوتا ہے مگر مفعول معہ کی صورت میں مفعول بہ اور مفعول معہ دونوں کے مجموعے سے فعل متعلق ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ فعل دونوں سے فرداً فرداً بھی متعلق ہے یا نہیں تو اس ترکیب کو اس سے بحث نہیں ہوتی۔ یہ چیز خارجی قرائن اور دلائل سے ثابت ہوگی۔ اسی طرح یہاں اہلاک کا تعلق مسیح اور امہ اور مَنْ فِی الْاَرضِ کے مجموعے سے ہے۔ رہی یہ بات کہ اہلاک تینوں سے فرداً فرداً خاج میں متعلق ہے یا نہیں تو اس کی یہاں بحث نہیں ہے۔ یہ حضرت شیخ انور کے خصوصی جواہر پاروں میں سے ہے۔ 44 وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ الخ مبتداء پر جزا کی تقدیم افادہ حصر کے لیے ہے۔ یعنی آسمانوں اور زمین کے تمام اختیارا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں وہی ہر چیز کا مالک ہے نہ کہ حضرت مسیح اور ان کی والدہ اور مشرکین کے دوسرے مزعومہ معبودین۔ یَخْلُقُ مَا یَشَاءُ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ حضرت مسیح اور ان کی والدہ میں یہ صفت موجود نہیں۔ وَاللہُ عَلیٰ کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ ہر چیز پر قدرت بھی اللہ ہی کو ہے حضرت مسیح اور ان کی والدہ کو نہیں تو پھر وہ معبود کیسے بن سکتے ہیں۔ چونکہ ابتداء کلام میں حصر ہے اس لیے باقی دو حصوں میں بھی حصر ہوگا۔ تفصیل کے لیے مقدمہ تفسیر جواہر القرآن ص 11 ملاحظہ کیجئے۔
Ayah 5:18

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہود اور نصاریٰ45 ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے پیارے تو کہہ پھر کیوں عذاب کرتا ہے تم کو تمہارے گناہوں پر5 کوئی نہیں بلکہ تم بھی ایک آدمی ہو اس کی مخلوق میں46 بخشے جس کو چاہے اور عذاب کرے جس کو چاہے اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ دونوں کے بیچ میں ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

45 وَ قَالَتِ الْیَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰی الخ یہ یہود و نصاری کے ان علماء اور درویشوں پر شکوہ ہے جو خود بھی مشرک تھے اور عوام کو بھی شرک سکھاتے تھے۔ ایک طرف تو وہ حضرت عزیر، حضرت مسیح اور حضرت مریم (علیہم السلام) کو خدا کے شریک ٹھہراتے ہیں دوسری طرف عوام اور جہلائے قوم کے دلوں پر اپنے تقدس کا سکہ بٹھانے کے لیے کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ وہ لوگ حضرت عزیر، اور حضرت مسیح (علیہما السلام) کو الوہیت کا درجہ دیکر اپنے لیے بھی وہی مقام حاصل کرنا چاہتے تھے جیسا کہ آج کل کے گدی نشین اور پیر حضرت نبی علیہ الصلوۃ والسلام، شیخ عبدالقادر اور دیگر اولیاء کو اولہیت کا درجہ دے کر خود بھی وہی مقام حاصل کرنے کے یہود و نصاریٰ کے مشرک احبارو رہبان کی طرح بےسرو پا دعوے کرتے ہیں۔ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمْ الخ یہ شکوہ کا جواب ہے اور یہود و نصاریٰ کے دعویٰ کے غلط اور جھوٹا ہونے پر برہان قاطع ہے۔ فرمایا اگر واقعی تم اللہ کے پیارے اور محبوب ہو تو وہ تمہیں آخرت میں تمہارے گناہوں کی سزا کیوں دیگا۔ جیسا کہ تمہارا اپنا اقرار ہے۔ لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلّا اَیَّاماً مَّعْدُوْدَۃً اگر تم اللہ کے محبوب ہوتے تو وہ تمہیں عذاب نہ دیتا کیونکہ محب اپنے محبوب کو عذاب نہیں دیتا۔ 46 بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ الخ بلکہ تم بھی اللہ کی دوسری مخلوق کی طرح ہو جس طرح دوسرے انسانوں پر اللہ کا قانون جزاء وسزا لاگو ہے اسی طرح تم پر بھی ہے، وہ جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے۔ اس کا قانون یہ ہے کہ وہ مومنوں کو معاف کریگا اور کفار و مشرکین کو سزا دیگا۔ یہ دونوں فریق خواہ کسی خاندان اور قبیلے سے تعلق رکھتے ہوں وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ الخ یہ یہود و نصاریٰ کے قول باطل کے رد کا اعادہ اور اس کا تتمہ ہے۔ یعنی زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی ملک میں ہے اور تمام اختیارات بھی اسی کے ہیں نہ کہ حضرت مسیح اور ان کی والدہ اور احبارو رہبان کے۔
Ayah 5:19

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے کتاب والو ! آیا ہے47 تمہارے پاس رسول ہمارا کھولتا ہے تم پر رسولوں کے انقطاع کے بعد کبھی تم کہنے لگو کہ ہمارے پاس نہ آیا کوئی خوشی یا ڈر سنانے والا سو آچکا تمہارے پاس خوشی اور ڈر سنانے والا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے48

47 یَا اَھْلَ الْکِتَابِ الخ یہ بعد عہد کی وجہ سے یَا اَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَاءَکُمْ الخ گذشتہ کا اعادہ ہے اور اس سے یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ اہل کتاب کی اس قدر خباثتوں اور دینی خیانتوں اور غداریوں کے باوجود ان پر عذاب نازل کر کے ان کو ہلاک کیوں نہیں کردیا گیا۔ فترۃ کے معنی انقطاع کے ہیں یعنی ہمارا رسول اس وقت آیا کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع کے بعد رسولوں کی آمد کا سلسلہ کئی صدیوں کے لیے منقطع ہوچکا تھا۔ اَنْ تَقُوْلُوْا یہاں اَنْ سے پہلے لام تعلیل اور اَنْ کے بعد لائے نفی مقدر ہے۔ اصل میں تھا لِئَلَّا تَقُوْلُوْا روح ج 6 ص 104 جیسا کہ سورة نساء کے آخر میں فرمایا یُبَیِّنُ اللہُ لَکُمْ اَنْ تَضِلُّوْا یہ اصل میں تھا لِئَلَّا تَضِلُّوْا۔ یہ جَاءَکُمْ کی علت ہے۔ حاصل معنی یہ کہ اے اہل کتاب ہمارا رسول تمہارے پاس آچکا ہے جو تمہارے سامنے حق کھول کر بیان کرتا ہے اور تمہارے تمام شکوک و شبہات کو دور کرتا ہے تاکہ جب تمہاری نافرمانیوں اور بد اعمالیوں کی وجہ سے تم پر عذاب الٰہی آئے تو تم یہ عذر پیش نہ کرسکو کہ تمہارے پاس کوئی رسول نہیں آیا جو تمہارے سامنے دین حق کو واضح کرتا اور تمہیں دین حق قبول کرنے کی ترغیب دینا ماننے والوں کو خوشخبری سناتا اور نہ ماننے والوں کو خدا کے عذاب سے ڈراتا۔ اب تمہارے پاس اللہ کا رسول آچکا اور اس نے تبلیغ حق کا فرض ادا کردیا اس لیے اب اگر تم نہیں مانو گے تو تمہارا کوئی عذر قابل قبول نہیں اور نہ تمہارا جرم و گناہ ناقابل معافی ہوگا۔ 48 وَاللہُ عَلیٰ کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ یہ بھی سابق دلیل دعویٰ کا اعادہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز پر قادر ہے۔ نہ کہ حضرت مسیح اور ان کی والدہ علیہما السلام۔
Ayah 5:20

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اور جب کہا49 موسیٰ نے اپنی قوم کو اے قوم یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر جب پیدا کئے تم میں نبی اور کردیا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو جو نہیں دیا تھا کسی کو جہان میں

49 وَ اِذْ قَالَ مُوْسیٰ الخ جہاد نہ کرنے کی صورت میں ذلت اٹھانے کا پہلا نمونہ۔ یعنی جب تم نے اہل کتاب کو ان کے مشرکانہ عقائد کی بنا پر صاف صاف کافر کہہ دیا تو اب خاموشی سے نہیں بیٹھنا ہوگا۔ بلکہ اب وہ تمہارے ساتھ جنگ کریں گے اور تمہیں بھی جوابا ان سے جہاد کرنا ہوگا۔ اگر تم نے اپنی جان کی حفاظت کیلئے ان سے جہاد نہ کیا اور خاموش بیٹھے رہے تو جس طرح بنی اسرائیل نے دشمن سے جہاد نہ کرنے کی وجہ سے ذلت اٹھائی تھی اسی طرح تم بھی ذلیل ہوجاؤ گے۔
Ayah 5:21

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

اے قوم داخل ہو50 زمین پاک میں جو مقرر کردی ہے اللہ نے تمہارے واسطے اور نہ لوٹو اپنی پیٹھ کی طرف پھر جا پڑو گے نقصان میں

50 یٰقَوْمِ ادْخُلُوْا الْاَرضَ الْمُقَدَّسَۃَ الخ حضرت ابن عباس، ابن زید اور سدی کا قول ہے کہ ارض مقدسہ سے بیت المقدس مراد ہے اسے ارض مقدسہ (پاک زمین) اس لیے کہا گیا کہ وہ قدیم سے انبیاء کرام (علیہم السلام) کا مسکن چلا آرہا تھا اور شرک کی نجاست سے پاک تھا۔ ووصفت تلک الارض بذالک لانھا مطہرۃ من الشرک حیث جعلت مسکن الانبیاء علیھم الصلوۃ والسلام (روح ص 106 ج 6) اَلَّتِیْ کَتَبَ اللہُ لَکُمْ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما چکا ہے کہ وہ تمہارا مسکن ہوگا۔ کتب فی اللوح المحفوظ انھا مسکن لکم (مدارک ج 1 ص 216) لیکن پیچھے نہ ہٹنا ورنہ دین و دنیا کا خسارہ اٹھاؤ گے۔ ارض مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم حقیقت میں جہاد کا حکم تھا۔ کیونکہ اس پر ایک بڑی طاقتور کافر قوم قابض تھی جب تک اس قابض قوم سے جہاد کر کے وہ علاقہ اس سے چھین نہ لیا جاتا اس وقت تک بنی اسرائیل اس میں آرام و چین سے نہیں رہ سکتے تھے۔
Ayah 5:22

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

بولے اے موسیٰ51 وہاں ایک قوم ہے زبردست اور ہم ہرگز وہاں نہ جاویں گے یہاں تک کہ وہ نکل جاویں اس میں سے پھر اگر وہ نکل جاویں گے اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہوں گے

51 قَالُوْا یٰمُوْسیٰ الخ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جواب دیا کہ ارض مقدسہ پر تو ایک بڑی طاقتور اور جابر قوم عمالقہ کا قبضہ ہے ہم تو اس میں قدم بھی نہیں رکھیں گے اور نہ ہم میں ان کے مقابلے کی تاب ہے۔ ہاں اگر وہ خود بخود ہی اس سرزمین کو خالی کردیں اور نکل کر کہیں چلے جائیں تو ہم وہاں جانے کے لیے تیار ہیں۔
Ayah 5:23

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

کہا دو مردوں نے اللہ سے52 ڈرنے والوں میں سے کہ خدا کی نوازش تھی ان دو پر گھس جاؤ ان پر حملہ کر کے دروازہ میں پھر جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو تم ہی غالب ہو گے اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر یقین رکھتے ہو

52 قَالَ رَجُلٰنِ الخ رجلان سے یوشع بن نون اور کالب بن یونا مراد ہیں۔ یَخافُوْنَ کا مفعول محذوف ہے یعنی اللہ جب بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مذکورہ بالا بزدلانہ جواب دیا تو ان میں جو لوگ خدا ترس تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم پر جہاد کے لیے تیار تھے ان میں سے دو شخص یوشع اور کالب جن کو اللہ تعالیٰ نے رسوخ فی الایمان اور ثبات و استقلال کی نعمت سے نوازا تھا اور وہ زبان موسیٰ سے امداد خداوندی اور فتح و نصرت کے وعدے پر پورا پورا اعتماد رکھتے تھے ھذان رجلان ھما یوشع بن نون و کالب بن یوقنا و کانا من الذین یخافون اللہ و انعم اللہ علیہما بالھدایۃ والشقۃ بعون اللہ والاعتماد علی نصرۃ اللہ (کبیر ج 2 ص 573) وہ خدا ترس بنی اسرائیل کو نصیحت کرنے لگے کہ لوگو قوم عمالقہ کی طاقت و جبروت سے خوف مت کھاؤ اگر واقعی تم خدا پر ایمان رکھتے ہو تو اس پر بھروسہ کرو اور اس کا نام لے کر شہر کے دروازے سے اچانک دشمن پر حملہ کردو یقینا تم غالب آجاؤ گے اور فتح تمہاری ہوگی ان دونوں آدمیوں کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت پر ایمان چونکہ نہایت مضبوط تھا اور انہیں یقین تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی فتح و نصرت کا جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ ضرور پورا ہوگا اس لیے انہوں نے پورے یقین اور اعتماد سے کہا کہ اگر تم جہاد کرو گے تو فتح یقیناً تمہاری ہوگی (کبیر) ۔
Ayah 5:24

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

بولے اے موسیٰ53 ہم ہرگز نہ جاویں گے ساری عمر جب تک وہ رہیں گے اس میں سو تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں

53 قَالُوْا یٰمُوْسیٰ الخ ان دونوں کی باتوں کا بنی اسرائیل پر کوئی اثر نہ ہوا بلکہ انہوں نے ان کے وعظ و نصیحت کو کوئی اہمیت ہی نہ دی اور ان کو قابل خطاب بھی نہ سمجھا اور اپنی ضد پر اڑے رہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے وہی اپنا پہلا جواب دہرایا اور اس کے ساتھ مزید کہا فَاذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ الخ بعض مفسرین نے لفظ رب کو اس کے حقیقی مفہوم پر محمول کیا ہے یعنی تم اور تمہارا رب جائیں اور ان سے لڑیں ہم تو یہاں سے ہلیں گے بھی نہیں اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ تم جا کر ان سے لڑو اللہ تمہارا ساتھی ہوگا اور تمہارا ناصر و مددگار ہوگا۔ الوجہ فیہ ان یقال اذھب انت و ربک یعینک علی قتالک (مدارک ص 216 ج 1) ہم میں تو ان کا مقابلہ کرنے کی جراءت نہیں یا انہوں نے یہ الفاظ اللہ اور اس کے رسول سے استہزاء اور استہانت کے طور پر کہے تھے وقالوا ذالک استہانۃ واستہزاءً بہ سبحانہ و برسولہ علیہ الصلوہ والسلام و عدم المبالاہ بھما (روح ج 6 ص ص 108) وابو السعود ج 3 ص 554) یا رب سے مجازاً سردار یعنی حضرت ہارون (علیہ السلام) مراد ہیں کیونکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بڑے بھائی تھے۔ او وربک ؟ و سیدک وھو اخوک الاکبر ھرون (مدارک) یعنی ہم تو جہاد کرنے سے رہے اور اگر تمہیں جہاد لازمی طور پر کرنا ہی ہے تو اپنے بھائی کے ساتھ ان سے جا کر لڑو۔
Ayah 5:25

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

بولا اے رب میرے میرے اختیار میں نہیں54 مگر میری جان اور میرا بھائی سو جدائی کر دے تو ہم میں اور اس نافرمان قوم میں

54 قَالَ رَبِّ الخ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کا گستاخانہ جواب سنا اور احکام ربانی سے ان کی بےاعتنائی اور بےرخی ملاحظہ فرمائی تو ان سے مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ سے مناجات کرنے لگے کہ اے اللہ اس سرکش اور متمرد قوم پر میرا کوئی بس اور زور نہیں چلتا اور وہ تیرے احکام کو نہایت حقارت آمیز طریق سے ٹھکرا رہے ہیں۔ مجھے تو بس اپنی ذات اور اپنے بھائی ہارون پر اختیار ہے اس لیے ہم حاضر ہیں۔ دعاء میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھ صرف حضرت ہارون (علیہ السلام) ہی کا ذکر کیا ہے حالانکہ یوشع اور کالب بھی مخلص اور فرمانبردار تھے ان کا ذکر نہیں کیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا اخلاص چونکہ ان کی گفتگو سے ظاہر ہوچکا تھا اس لیے انہوں نے ان کے دوبارہ ذکر کی ضرورت نہیں سمجھی فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ یہ سرکش بنی اسرائیل پر بد دعاء ہے یعنی اے اللہ ہمارے اور ان کے درمیان جدائی ڈال دے اور ہمیں ان کی صحبت سے نجات عطا فرمایا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اور ان کے حق میں وہ فیصلہ فرما دے جس کے ہم اور وہ مستحق ہیں۔ یعنی فافصل بیننا و بینہم بان تحکم لنا بما نستحق و تحکم علیہم بما یستحقون وھو فی معنی الدعاء علیہم ویحتمل ان یکون المراد خلصنا من صحبتہ۔
Ayah 5:26

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

فرمایا تحقیق وہ زمین حرام کی گئی ہے ان پر55 چالیس برس سر مارتے پھریں گے ملک میں سو تو افسوس نہ کر نافرمان لوگوں پر

55 قَالَ فَاِنَّھَا مُحَرَّمَۃٌ الخ یہ حضرت موسیٰ کی مناجات کا جواب ہے فرمایا ان کے تمردو سرکشی کی وجہ سے ہم نے ان کو یہ سزا دی ہے کہ وہ اب چالیس سال تک ارض مقدسہ میں داخل نہیں ہوسکیں گے اور زمین میں ذلت و رسوائی کے ساتھ در در کے دھکے کھاتے پھریں گے۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ یَتِیْھُوْنَ کے معنی ہیں وہ بےعزت اور خوار رہیں کے یہ معنی نہیں کہ وہ چالیس سال جنگل میں گھومتے رہیں گے اور انہیں راستہ نہیں ملیگا جیسا کہ عام تفسیروں میں لکھا ہے کیونکہ اس جنگل کا طول چالیس میل اور عرض پندرہ میل سے کچھ زائد بیان کیا گیا ہے۔ پھر اسی میدان تیہ میں جب بنی اسرائیل نے غلے اور ترکاری کا مطالبہ کیا تو ان کو حکم دیا گیا۔ اِھْبِطُوْا مِصْراً یعنی کسی شہر میں چلے جاؤ جب انہیں راستہ نہیں ملتا تھا تو پھر مصر جانے کا حکم کیوں دیا گیا۔ مفسر خازن وغیرہ نے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل کی تعداد اس میدان میں چھ لاکھ تھی اور روزانہ ستر ہزار مرتے تھے یہ بھی کذب محض اور اسرائیلیات سے ہے۔ نواب صدیق حسن خان نے تفسیر خازن کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ تفسیر کے لحاظ سے اچھی ہے لیکن واقعات کے اعتبار سے نصفہ من الاکذایب یعنی اس کا نصف جھوٹ ہے کیونکہ وہ یہود کی بہت سی محض جھوٹی باتیں نقل کرتا ہے بنی اسرائیل کی ذلت ورسوائی کا یہ واقعہ بیان کر کے مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی کہ اگر انہوں نے بھی دشمن کے مقابلے میں بزدلی دکھائی اور جہاد سے انکار کردیا تو وہ بھی ذلیل و خوار ہونگے۔
Ayahs 5:27–29

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

اور سنا ان کو حال واقعی آدم کے دو بیٹوں کا56 جب نیاز کی دونوں نے کچھ نیاز اور مقبول ہوئی ایک کی اور نہ مقبول ہوئی دوسرے کی کہا میں تجھ کو مار ڈالوں گا وہ بولا اللہ قبول کرتا ہے تو پرہیزگاروں سے

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:28 in the Quran reader

اگر تو ہاتھ چلاوے گا مجھ پر مارنے میں نہ ہاتھ چلاؤں گا تجھ پر مارنے کو میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو پروردگار ہے سب جہان کا

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 5:29 in the Quran reader

میں چاہتا ہوں کہ تو حاصل کرے میرا گناہ اور اپنا گناہ پھر ہوجاوے تو دوزخ والوں میں اور یہی ہے سزا ظالموں کی

56 وَاتْلُ عَلَیْہِمْ الخ یہ دشمن کے مقابلے میں خاموش بیٹھ رہنے اور اس کے حملے کی مدافعت نہ کرنے کے نتیجے کا دوسرا نمونہ ہے۔ یہاں حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو صلبی بیٹوں ہابیل اور قابیل کا واقعہ بیان فرمایا۔ قابیل نے ہابیل کو قتل کرنے کیلئے ہاتھ اٹھایا تو ہابیل نے اس کی مدافعت نہ کی نتیجہ یہ ہوا کہ وہ شہید کردیا گیا اس سے مسلمانوں کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ دشمن کے مقابلے میں خاموش مت بیٹھو دشمن کے مقابلے میں جہاد کرو۔ نہ خود مقتول بنو نہ دوسرے مسلمانوں کو قتل ہونے دو اگر تم نے دشمن سے جہاد نہ کیا اور خاموش بیٹھے رہے تو مارے جاؤ گے جس طرح ہابیل خاموشی کی وجہ سے قابیل کے ہاتھوں مارا گیا۔
Ayah 5:30

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 5:30 in the Quran reader

پھر اس کو راضی کیا اس کے نفس نے57 خون پر اپنے بھائی کے پھر اس کو مار ڈالا سو ہوگیا نقصان اٹھانے والوں میں

57 فَطَوَّعَتْ لَہٗ الخ یعنی نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر خوشی سے آمادہ کردیا اور اس کا قتل اس پر آسان اور سہل کردیا ای فمھلتہ لہ و سعتہ (روح ج 6 ص 114) قابیل نے ہابیل کو کیوں قتل کیا اصل وجہ عداوت کیا تھی اس کے بارے میں صحیح وہی ہے جو حضرت شاہ ولی اللہ (رح) نے فرمایا ہے کہ ہابیل نے نہایت اعلیٰ درجہ کا مینڈھا اللہ کی نیاز میں دیا وہ قبول ہوگیا اور قابیل نے ردی قسم کا اناج اللہ کی نذر کیا وہ قبول نہ ہوا اس وجہ سے اس کے دل میں ہابیل کے خلاف حسد پیدا ہوگیا۔
Ayah 5:31

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ٤ۚۛۙ Open ayah 5:31 in the Quran reader

پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا جو کریدتا تھا زمین کو تاکہ اس کو دکھلاوے58 کس طرح چھپاتا ہے لاش اپنے بھائی کی بولا اے افسوس مجھ سے اتنا نہ ہوسکا کہ ہوں برابر اس کوے کی کہ میں چھپاؤں لاش اپنے بھائی کی پھر لگا پچھتانے

58 لِیُرِیَہٗ الخ اس میں لام تعلیلیہ نہیں بلکہ یہ لام عاقبت ہے یعنی ایک کوا اڑتا ہوا آیا اور قابیل کے سامنے زمین کریدنے لگاجس کا نتیجہ اور انجام یہ ہوا کہ اسے اپنے مقتول بھائی کی نعش چھپانے کی ترکیب سوجھ گئی ورنہ کوا غیب دان نہیں تھا کہ ہابیل کے قتل کا اسے علم تھا اور نہ قابیل کو دفن کرنے کا طریقہ سکھانے آیا تھا لام عاقبت کے لیے قرآن مجید میں عام مستعمل ہے جیسا کہ قصص ع 1 میں ہے فَالْتَقَطَہٗ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَکُوْنَ لَھُمْ عَدُوَّا وَّ حَزَناً یہاں لِیَکُوْنَ میں لام عاقبت کے لیے ہے۔
Ayah 5:32

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ Open ayah 5:32 in the Quran reader

اسی سبب سے59 لکھا ہم نے بنی اسرائیل پر کہ جو کوئی قتل کرے ایک جان کو بلا عوض جان کے یا بغیر فساد کرنے کے ملک میں تو گویا قتل کر ڈالا اس نے سب لوگوں کو اور جس نے زندہ رکھا ایک جان کو تو گویا زندہ کردیا سب لوگوں کو اور لا چکے ہیں ان کے پاس رسول ہمارے کھلے ہوئے حکم پھر بہت لوگ ان میں سے اس پر بھی ملک میں دست درازی کرتے ہیں

59 مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ ۔ مِنْ اجلیہ ہے یعنی خاموش بیٹھے رہنے کی وجہ سے۔ کَتَبْنَا عَلیٰ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ ۔ کَتَبْنَا کا مفعول محذوف ہے یعنی القتال یعنی خاموش بیٹھنے میں چونکہ ذلت و رسوائی ہے اس لیے ہم نے بنی اسرائیل کو دشمن سے قتال کا حکم دیا اور کہا کہ خاموش مت بیٹھو بلکہ مخلوق خدا کو ظالم کے ظلم سے بچاؤ تم نے اگر ایک جان کو بچا لیا تو گویا سب کو بچا لیا۔ اّنَّہٗ مَنْ قَتَلَ یہ فعل محذوف کا معول ہے ای و قلنا۔ قالہ الشیخ روح اللہ روحہ لیکن دیگر مفسرین نے کَتَبْنَا کا مفعول القصاص مقدر کیا ہے اور ذٰلِکَ سے مذکورہ واقعہ قتل مراد لیا ہے یعنی قتل و خون ریزی کو روکنے کے لیے ہم نے قاتل سے قصاص لینا فرض قرار دیا ہے۔
Ayahs 5:33–34

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 5:33 in the Quran reader

یہی سزا ہے60 ان کی جو لڑائی کرتے ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور دوڑتے ہیں ملک میں فساد کرنے کو کہ ان کو قتل کیا جائے61 یا سولی چڑھائے جاویں یا کاٹے جاویں ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے یا دور کردیے جاویں اس جگہ سے یہ ان کی رسوائی ہے دنیا میں اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ١ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 5:34 in the Quran reader

مگر جنہوں نے توبہ کی تمہارے قابو پانے سے پہلے تو جان لو کہ اللہ بحشنے والا مہربان ہے

60 اِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِیْنَ الخ اَلَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللہَ وَ رَسُوْلُہٗ یعنی وہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں یہ تعبیر اس پر شاہد ہے کہ اس سے مسلمان قطاع الطریق (ڈاکو) مراد نہیں ہیں بلکہ یہ آیت یہود قطاع الطریق کے حق میں ہے یعنی کفار کا مقابلہ کرو اور محاربین (یہود قطاع الطریق) سے قتال کرو تاکہ ان کو اپنے کیے کی سزا مل جائے۔ وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ میں یہود قطاع الطریق کا ذکر تھا اب یہاں ان کی سزا بیان فرمائی ان ھذہ الایۃ فی ھؤلاء الذین حکی اللہ تعالیٰ عنہم من بنی اسرائیل انہم بعد ان غیض اللہ علیہم عقاب القتل العمد العدوان فھم مسرفون فی القتل مفسدون فی الارض فمن اتی منھم بالقتل والفساد فی الارض فجزاءھم کذا و کذا۔ (کبیر ج 3 ص 584) ۔ 61 اَنْ یُّقَتَّلُوْا اَوْ یُصلَّبُوْا اگر وہ کسی کو قتل کریں تو انہیں قتل کیا جائے یا سولی پر لٹکایا جائے اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَ اَرْجُلُھُم اگر انہوں نے قتل نہ کیا صرف مال ہی لوٹا ہے تو یہ سزا ہوگی۔ اِلّا الَّذِیْنَ تَابُوا یعنی اگر انہوں نے گرفتار ہونے سے پہلے شرک اور محاربہ اللہ کی دل سے توبہ کرلی۔ لکن الذین تابوا من شرکھم و حربھم للہ ورسولہ الخ (خازن ج 2 ص 38) تو حقوق اللہ معاف ہوجائیں گے مگر حقوق العباد کی تلافی لازم ہوگی۔ فَاعْلَمُواْ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے حقوق تو معاف کردیگا لیکن حقوق العباد میں گرفت فرمائے گا۔
Ayah 5:35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:35 in the Quran reader

اے ایمان والو ڈرتے رہو اللہ سے اور ڈھونڈو اس تک وسیلہ62 اور جہاد کرو اس کی راہ میں تاکہ تمہارا بھلا ہو

62 یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ یعنی اللہ سے ڈرو اور نیک اعمال سے اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو اور جہاد کرو اور اللہ کی حدود قائم رکھو یہ کام تقرب خداوندی کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ اَلْوَسِیْلۃَ یہ فَعِیْلَۃٌ کے وزن پر ہے اور اس سے مراد ہر وہ عبادت و قربت ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوسکے خواہ وہ نماز روزہ ہو یا زکوۃ و حج یا جہاد و اقامت حدود، ابو وائل، حسن، مجاہد، قتادہ، عطاء، سدی، ابن زید اور عبداللہ ابن کثیر فرماتے ہیں۔ الوسیلۃ ھی القربۃ (قرطبی ج 6 ص 159) ۔ یعنی وسیلہ کے معنی عبادت کے ہیں۔ علامہ آلوسی فرماتے ہیں۔ ھی فعیلۃ بمعنی ما یتوسل بہ و یتقرب الی اللہ عز و جل من فعل الطاعات و ترک المعاصی (روح ج 6 ص 124) امام نسفی فرماتے ہیں ھی کل ما یتوسل بہ فاستعیرت لما یتوسل بہ الی اللہ تعالیٰ من فعل الطاعت وترک السیئات (مدارک ج 1 ص 219) حاصل یہ ہے کہ وسیلہ سے مراد نیک عمل ہے خواہ وہ عمل صالح کی بجا آوری ہو یا گناہ کا ترک ہو وسیلہ کی پوری تحقیق سورة بنی اسرائیل کی تفسیر میں آئے گی انشاء اللہ تعالی۔ تو یہاں فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور نیک اعمال بجا لاؤ جہاد کرو اور اللہ کی حدیں قائم کرو ڈاکؤوں اور چوروں پر مقررہ حدیں جاری کرو۔ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ اس میں بشارت اخروی کی طرف اشار ہے۔
Ayah 5:36

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:36 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں63 اگر ان کے پاس ہو جو کچھ زمین میں ہے سارا اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہوتا کہ بدلہ میں دیں اپنے قیامت کے عذاب سے تو ان سے قبول نہ ہوگا اور ان کے واسطے عذاب دردناک ہے

63 اِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوْا الخ یہ ان لوگوں کے لیے تخویف اخروی ہے جو اللہ تعالیٰ کے مذکورہ بالا احکام و حدود کی خلاف ورزی کریں قیامت کے دن اگر ان کو دنیا کی ساری دولت مل جائے اور وہ اسے فدیہ میں دے کر عذاب جہنم سے بچنا چاہیں تو نہیں بچ سکیں گے۔
Ayah 5:37

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 5:37 in the Quran reader

چاہیں گے کہ نکل جاویں آگ سے64 اور وہ اس سے نکلنے والے نہیں اور ان کے لیے عذاب دائمی ہے

64 یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا الخ وہ جہنم سے نکلنے کی خواہش کریں گے مگر انہیں کبھی اس سے نکلنا نصیب نہیں ہوگا اور وہ جہنم کے دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے۔
Ayahs 5:38–39

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 5:38 in the Quran reader

اور چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت65 کاٹ ڈالو ان کے ہاتھ سزا میں ان کی کمائی کی تنبیہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ غالب ہے حکمت والا

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:39 in the Quran reader

پھر جس نے توبہ کی اپنے ظلم کے پیچھے اور اصلاح کی تو اللہ قبول کرتا ہے اس کی توبہ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

65 وَالسَّارِقُ الخ اس کا تعلق اِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ سے ہے وہاں ان لوگوں کی سزا بیان فرمائی جو قتل و غارت گری کریں اور جبراً قہراً مال چھین لیں یہاں چور کی سزا بیان فرمائی یعنی جو چھپ کر مال چرا لے خواہ مرد ہو یا عورت اس کا ہاتھ کاٹ ڈالو۔ فَمَنْ تَابَ الخ چوری کرنے کے بعد جس نے سچی توبہ کرلی اور چوری کا مال مالک کو واپس لوٹا دیا یا اس سے معاف کرالیا اور اگر مالک معلوم نہیں تو مال اللہ کی راہ میں خرچ کردیا تو ایسے لوگوں کی اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرما لیگا اور آخرت میں اس گناہ کی ان کو سزا نہیں دے گا۔ باقی رہی چوری کی حد یعنی ہاتھ کاٹنا تو یہ توبہ سے ساقط نہیں ہوگی۔
Ayah 5:40

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

تجھ کو معلوم نہیں کہ66 اللہ ہی کے واسطے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی عذاب کرے جس کو چاہے اور بخشے جس کو چاہے اور اللہ سب چیز پر قادر ہے

66 اَلَمْ تَعْلَم الخ اس کا تعلق لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ سے ہے ابتدا میں مسئلہ توحید اور شرک فی التصرف کی نفی کا بیان تھا اور یہی اصل مقصد سورت ہے اس کے تحت ان عیسائیوں پر کفر کا فتوی لگایا جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا شریک فی التصرف بناتے تھے اس کے بعد فرمایا اگر وہ تم سے لڑیں تو تم بھی ان سے جہاد کرو اسلیے اب بعد عہد کی وجہ سے اَلَمْ تَعْلَمْ کی تعبیر سے اصل مسئلہ توحید اور نفی شرک فی التصرف کی یاد دہانی کرائی گئی جیسا کہ سورة بقرہ میں مختلف احکام بیان کرنے کے بعد رکوع 32 میں اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا فرما کر ان لوگوں کے حال کی طرف متوجہ فرمایا جو موت کے ڈر سے گھر چھوڑ کر بھاگے تھے مگر پھر بھی موت سے بچ نہ سکے۔ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰواتِ خبر کی تقدیم افادہ حصر کے لیے ہے یعنی آسمانوں اور زمین بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے تمام تصرفات اور اختیارات بھی اسی کے قبضے میں ہیں نہ کہ حضرت مسیح اور ان کی والدہ کے قبضے میں وَاللہُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ یہ بھی حصر پر محمول ہے یعنی ہر چیز پر قادر بھی صرف اللہ ہی ہے نہ کہ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ علیہما الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کی یہ صفات مختصہ اس دعوی پر واضح دلیل ہیں کہ ساری کائنات میں مافوق الاسباب متصرف و مختار صرف اللہ ہی ہے اور تصرف میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ فائدہ : یہاں اگرچہ مقصود تو شرک فی التصرف کی نفی ہے لیکن اس کے ضمن میں شرک فعلی کی بھی نفی ہو رہی ہے کہ جب غیر اللہ مثلاً حضرت مسیح، ان کی والدہ اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام ہر چیز پر متصرف اور ہر چیز پر قادر بھی نہیں تو پھر ان کے نام کی نیازیں بھی نہ دو اور ان کے لیے تحری میں بھی نہ کرو۔ یہاں تک سورت کا پہلا حصہ ختم ہوا۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ اور منافقین اور یہود کے لیے زجریں مذکو رہیں یہود کے علماء اور گدی نشین خود شرک اعتقادی اور شرک فعلی کرتے تھے اور منافقین یعنی رؤسا کا گروہ بھی دل سے ان ہی کا طرفدار تھا اس طرح یہ دونوں فریق آنحضرت ﷺ کے مخالف تھے جن پر زجریں کی گئیں۔ یہ سلسہ یَا ایُّھَا الرَّسُوْل الخ سے شروع ہو کر رکوع 9 کے آخر سَاءَ مَایَحْکُمُوْن تک چلا گیا ہے۔
Ayah 5:41

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے رسول67 غم نہ کر ان کا جو دوڑ کر گرتے ہیں کفر میں وہ لوگ جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے منہ سے اور ان کے دل مسلمان نہیں اور وہ جو یہودی ہیں جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے68 وہ جاسوس ہیں دوسری جماعت کے جو تجھ تک نہیں آئے بدل ڈالتے ہیں بات کو69 اس کا ٹھکانا چھوڑ کر کہتے ہیں70 اگر تم کو یہ حکم ملے تو قبول کرلینا اور اگر یہ حکم نہ ملے تو بچتے رہنا اور جس کو اللہ نے گمراہ کرنا چاہا71 سو تو اس کے لیے کچھ نہیں کرسکتا اللہ کے ہاں یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے نہ چاہا کہ دل پاک کرے ان کے ان کو72 دنیا میں ذلت ہے اور ان کو آخرت میں بڑا عذاب ہے

67 یَا ایُّھَا الرَّسُوْلُ الخ حصہ اول میں نفی شرک فعلی اور نفی شرک اعتقادی کے تفصیلی بیان کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دی۔ لَایَحْزُنْکَ یعنی جو لوگ کفر و شرک کی طرف دوڑ دوڑ کر جارہے ہیں ان کا رویہ آپ کو غم میں نہ ڈالے اور آپ کو پریشان نہ کرے اور یہ لوگ دو گروہ ہیں ایک منافقین دوم یہود۔ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اٰمَنَّا الخ۔ مِنْ بیانیہ ہے اور یہ اَلَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ کے پہلے گروہ کا بیان ہے یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی زبانوں سے تو ایمان لانے کا اقرار اور شرک فعلی اور شرک اعتقادی سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہے ان کے دلوں میں وہی کفر و شرک کی پلیدی موجود ہے زبان سے ایمان کا اقرار محض ازراہ نفاق ہے۔ وَ مِنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا۔ یہ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْا پر معطوف ہے۔ اور یہ اَلَّذِیْنَ یُسَارِعُوْن کے دوسرے فریق کا بیان ہے جو دونوں قسم کا شرک اعلانیہ کرتے تھے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو مختار و متصرف جان کر ان کی خوشنودی کے لیے ان کے نام کی نذریں نیازیں دیتے تھے۔ 68 سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ یہ ھُمْ ضمیر محذوف کی خبر ہے۔ کذب (جھوٹ) سے وہ شرکیہ اعمال و عقائد مراد ہیں جو احبارو رہبان بیان کرتے تھے یعنی وہ ان جھوٹی باتوں کو سنتے ہیں اور دل سے ان کو قبول کرتے ہیں حضرت شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں بڑے جاسوس ہیں جھوٹ کہنے کو سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ یہ مبتدائے مقدر کی خبر ثانی ہے اور قوم اٰخرین سے یہود کے علماء اور رہبان (صوفی) مراد ہیں۔ یہ لوگ عوام یہودیوں کو بغرض جاسوسی حضور ﷺ کی مجلس میں بھیجتے تھے تاکہ وہ آپ کی باتیں سن کر ان کو بتائیں۔ ولمراد انھم عیون علیہ علیہ الصلوہ والسلام لاولئک القوم (روح ج 6 ص 136) لَمْ یَاتُوْکَ یہ قوم کی صفت ہے۔ یعنی وہ ان لوگوں (احبارو رہبان) کے لیے جاسوسی کرتے ہیں جو آپ کی مجلس میں نہیں آتے۔ 69 یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ الخ یہ بھی قوم کی صفت ہے۔ الکلم سے کلام اللہ یعنی تورات مراد ہے علماء یہود تورات میں لفظی اور معنوی تحریف کرتے تھے ان کی تحریف سے نہ تورات کی وہ آیتیں محفوظ تھیں جن میں عقائد مذکور تھے نہ وہ آیتیں جن میں احکام مذکور تھے وہ توحید کے بجائے عوام کو شرک کی تعلیم دیتے تھے اور تورات کے بعض احکام و حدود بھی بدل دئیے تھے مثلاً تورات میں شادی شدہ زانی اور زانیہ کی سزا رجم یعنی سنگسار کرنا تھی مگر انہوں رجم کا حکم چھپا ڈالا اور اس کی جگہ کوڑوں کی سزا رائج کردی۔ من بعد مواضعہ ای وضعوا الجلد مکان الرجم (کبیر ج 3 ص 898) ۔ 70 یَقُوْلُوْنَ الخ یہ بھی قوم کی صفت ہے یہود کے علماء اور گدی نشین اپنے پیروؤں کو محرف اور تبدیل شدہ عقائد اور احکام کی تعلیم دے کر حضور ﷺ کی خدمت میں بھیج دیتے تھے اور انہیں تاکید کرتے تھے کہ اگر فلاں معاملے کے بارے میں پیغمبر نے یہ جواب دیا جو ہم نے تمہیں بتایا ہے تو اسے قبول کرلینا لیکن اگر اس نے اس کے خلاف کوئی بات کہی تو اس سے بچنا اسے ہرگز قبول نہ کرنا ان المحرفین والقائلین ھم القوم الاخرون ای یقولون لاتباعھم السماعین لھم (روح ج 1 ص 137) ان اوتیتم ھذا المحرف المزال عن مواضعہ (مدارک ج 1 ص 220) ۔ 71 وَ مَنْ یُّرِدِ اللہُ الخ اس سے پہلے یَقُوْلُوْنَ اور اس کے بعد سَمّٰعُوْنَ یہ دونوں قوم کی صفتیں ہیں درمیان میں یہ ادخال الٰہی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے معاندین کو ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔ فتنتہ ای اضلالہ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ یعنی جس شخص کو اللہ تعالیٰ گمراہ کرنا چاہے آپ اسے کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتے نفع نقصان اور ہدایت و ضلالت اللہ کے قبضے میں ہیں اس کے سوا ان چیزوں پر کسی کا کوئی اختیار نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :۔ قُلْ لَّا اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعاً وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَاءَ اللہُ (اعراف ع 23) ۔ 2 ۔ قُلْ لَّا اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَّ لَا نفعا (جن ع 2) ۔ 3 ۔ لَا یَمْلِکُوْنَ لِاَنْفُسِہِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا (رعد ع 2) ۔ 4 ۔ لَا یَمْلِکُوْنَ لِاَنْفُسِہِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعاً (الفرقان ع 1) ۔ 72 لَھُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ یہ تخویف دنیوی ہے۔ وَ لَھُمْ فِی الْاٰ خِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ یہ تخویف اخروی ہے۔
Ayah 5:42

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

جاسوسی کرنے والے جھوٹ بولنے کے لیے73 اور بڑے حرام کھانے والے سو اگر آویں وہ تیرے پاس تو فیصلہ کر دے ان میں74 یا منہ پھیر لے ان سے اور اگر تو منہ پھیر لے گا ان سے تو وہ تیرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اور اگر تو فیصلہ کرے تو فیصلہ کر75 ان میں انصاف سے بیشک اللہ دوست رکھتا ہے انصاف کرنے والوں کو

73 سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ الخ یہ پہلے سَمّٰعُوْنَ سے بدل ہے۔ اور اَکّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ کی زیادتی کے لیے اس کا اعادہ کیا گیا ہے السحت ای الحرام وہ رشوتیں جو علماء یہود محرف مسائل پر عوام سے لیا کرتے تھے اور وہ نذرانے جو احبارو رہبان عوام کے دلوں میں نَحْنُ اَبْنَاءُ اللہِ وَ اَحِبَّاءۃ کا سکہ بٹھا کر ان سے وصول کرتے تھے اور غیر اللہ کی نیازیں وغیرہ سب سحت میں داخل ہیں جیسا کہ علامہ شامی فرماتے ہیں۔ ولم یثبت فی الشرع جواز الصرف للاغنیاء للاجماع علی حرمۃ النذر للمخلوق و لا ینعقد و لا تشتغل الذمۃ بہ و لانہ حرام بل سحت (رد المحتار حاشیۃ الدر المختار ج 2 ص 128) مطبوعۃ مجتبائی قبیل باب الاعتکاف) اکالون اللسحت وھو ما یاکلونہ بدینھم (روح ص 147 ج 6) ۔ 74 فَاِنْ جَاءُوْکَ الخ جاء وا کی ضمیر سے وہی مذکورہ یہود مراد ہیں یعنی جھوٹ کو پسند کرنے والے۔ اللہ کے کلام میں تحریف کرنے والے، رشوتیں اور غیر اللہ کی نذریں نیازیں کھانے والے۔ یہاں تک ان کے یہ حالات بیان کیے۔ اس کے بعد فرمایا اگر یہ یہودی قصاص، رہزنی، چوری، زنا اور دیگر حدود کا جھگڑا فیصل کرانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوجائیں تو آپ کو اختیار ہے کہ چاہے ان کے درمیان فیصلہ فرما دیں یا ان سے اعراض کریں۔ حضرت شیخ نے فرمایا فاحکم بینھم ای بالقصاص وغیرہ اس کے بعد لف و نشر غیر مرتب کے طور پر مذکورہ دونوں شقوں کے متعلق مزید دو باتیں بیان فرمائی دوسری شق اعراض کے بارے میں فرمایا وَ اِنْ تُعْرِضْ الخ اگر آپ ان سے اعراض کریں تو وہ آپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکیں گے۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں اگر اعراض سے مراد یہ ہو کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ نہ فرما دیں تو اس پر ایک شبہ وارد ہوتا ہے وہ یہ کہ یہود سے ضرر کا خطرہ تو اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ آپ ان کے معاملے میں فیصلہ کریں اور وہ ان کے خلاف جائے لیکن اگر آپ فیصلہ کریں ہی نہیں تو پھر خطرے کا سوال ہی کیا۔ اس لیے یہاں اعراض سے اعراض عن الحکم مراد نہیں بلکہ اعراض عن ابقاء العہد مراد ہے۔ ای وان لم یسلموا حکمک فاعرض عنھم و عن معاھدتھم و قل لھم نحن نقاتل معکم۔ یہود رہزنی اور قتل و غارت کر تھے پھر اپنے علماء کے پاس جا کر فدیہ اور نذرانہ وغیرہ دے کر اپنی جانیں بچا لیتے اور قانون کی گرفت سے محفوظ ہوجاتے تھے اب وہ حضور علیہ الصلوہ والسلام کے سامنے بھی فدیہ وغیرہ دے کر اپنے کو بچانے کی کوشش کرنے لگے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر وہ آپ کے پاس آئیں تو آپ عین شریعت کے مطابق فیصلہ فرمائیں پھر اگر وہ آپ کے فیصلے سے اعراض کریں اور اسے نہ مانیں تو آپ صاف فرما دیں کہ میرا تم سے کوئی معاہدہ نہیں بلکہ ہم تم سے جہاد کریں گے۔ تو اس صورت میں وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہے۔ 75 وَ اِنْ حَکَمْتَ الخ یہ مذکورہ دو باتوں میں سے پہلی بات سے متعلق ہے یعنی اگر آپ ان درمیان فیصلہ کریں تو ہمیشہ عدل و انصاف سے کریں، ان کی خواہشات کی پیروی ہرگز نہ کریں اور اس سے بھی ہوشیار رہیں کہیں وہ اپنی چکنی چپڑی باتوں اور فریب کارانہ چالوں سے آپ کو حق و انصاف سے ہٹا نہ دیں۔ جیسا کہ رکوع 7 میں ان دونوں باتوں کی تفصیل فرمائی۔ 1 ۔ فَاحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللہُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَاء ھُمْ عَمَّا جَاء کَ مِنَ الْحَقِّ اور۔ 2 ۔ وَ انِ احْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللہُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَاء ھُمْ وَاحْذَرْھُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْکَ الخ۔