4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsجواھر القرآن

Ayah 4:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا Open ayah 4:1 in the Quran reader

اے لوگوں ڈرتے رہو اپنے رب سے2 جس نے پیدا کیا تم کو ایک جان سے اور اسی سے پیدا کیا اس کا جوڑا اور پھیلائے ان دونوں سے بہت مرد اور عورتیں اور ڈرتے رہو اللہ سے جس کے واسطہ سے سوال کرتے ہو آپس میں اور خبردار رہو قرابت والوں سے بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے

2 یہ تخویف اخروی ہے اور اور کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارا خالق اور محسن و مربی ہے اس سے ڈرو اور جو احکام آئندہ بیان ہو رہے ہیں ان کی تعمیل کرو۔ تمہاری ہر حرکت خدا کی نگاہ میں ہے وہ تمہارے ظاہر و باطن کو جانتا ہے اور جو اس کے احکام کی مخالفت کریگا اسے عذاب دے گا۔ تخویف اخروی کے بعد پوری سورت میں عذاب سے بچنے کے لیے تین امور بیان فرمائے۔ (1) ظلم نہ کرو۔ چناچہ احکام رعیت کا خلاصہ ہے ظلم نہ کرو۔ (2) شرک نہ کرو۔ (3) احسان کرو۔ احکام رعیت کے بعد یہ دونوں امور مذکور ہیں۔ نَفْسٍ وَّاحِدَۃً سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ جو تمام انسانوں کے باپ ہیں۔ فرعکم من اصل واحد و ھو نفس اٰدم ابیکم (مدارک ج 1 ص 185) تَسَاء لُوْنَ یہ اصل میں تَتَسَاءَلُوْنَ تھا۔ ایک تاء بطور تخفیف خذف کردی گئی ہے۔ باب تفاعل کا خاصہ اشتراک ہے۔ اس لیے تَسَاء لُوْنَ بِہٖ کا مطلب یہ ہوگا کہ تم اللہ کے نام پر ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو۔ ای یسال بعضکم بعضا باللہ (مدارک ج 1 ص 159) والتساء ل باللہ ھو کقولک اسالک باللہ و احلف علیک باللہ واستشفع الیک باللہ (خازن ج 1 ص 396) ۔ یا تَسَاءَلُوْنَ بمعنی تسالون مجرد ہے اور بہ میں باء زائدہ۔ اور مطلب یہ ہے کہ جس اللہ سے تم سوال کرتے اور مانگتے ہو اس سے ڈرو۔ وَالْاَرْحامَ یہ رحم کی جمع ہے اور لفظ اللہ پر معطوف ہے اور اس سے مراد قطع ارحام ہے۔ یعنی اللہ سے ڈرو اور قطع رحمی سے بھی بچو۔ اتقوا الارحام ان تقطعوھا (مدارک، معالم، خازن) ۔ یہ حکم اول کی طرف اشارہ ہے۔ اصل میں یہ آیت پوری سورت کی تمہید ہے ابتداء میں تخویف اخروی کے ذریعے خبردار کیا گیا کہ آنیوالے احکام (احکام رعیت اور احکامِ سلطانیہ) کی پیروی کرو۔ ورنہ عذاب آخرت کے لیے تیار ہوجاؤ۔ اور آیت کے آخر میں احکام رعیت کی مناسبت سے قطع رحمی سے منع فرمایا۔ کیونکہ احکام رعیت کا تعلق تمام تر رشتہ داروں سے حسن سلوک اور حسن معاشرت سے ہے اور پھر اِنَّ اللہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْباً فرما کر اپنے بندوں کو خبردار کیا کہ اللہ کی کبھی نہ اونگھنے والی نگاہ تمہاری ہر حرکت کی نگرانی کر رہی ہے۔ تمہارے نیک و بد اعمال سب اس کے سامنے ہیں تمہاری اطاعت اور نافرمانی اس پر ظاہر و آشکارا ہے اس لیے تم سب اس کے احکام بجا لاؤ۔ اور مکافات عمل سے غافل مت ہوجاؤ۔
Ayah 4:2

وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا Open ayah 4:2 in the Quran reader

اور دے ڈالو یتیموں کو ان کا مال3 اور بدل نہ لو برے مال کو اچھے مال سے اور نہ کھاؤ ان کے مال اپنے مالوں کے ساتھ بیشک یہ ہے بڑا وبال

3:۔ چودہ احکام رعیت۔ پہلا حکم رعیت۔ (یتیموں کا مال نہ کھاؤ وہ تمہارے لیے خبیث ہے) ۔ مال یتیم کے بارے میں تین چیزوں سے منع فرمایا (1) یتیم کا عمدہ مال لے کر اس کے بدلے اپنا ردی مال دیدینا۔ جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ ایسا کرتے تھے۔ وکانوا فی الجاھلیۃ لعدم الدین لا یتحرجون عن اموال الیتیمی فکانوا یاخذون الطیب والجید من اموال الیتمی ویبدلونہ بالردی من اموالہم الخ (قرطبی ج 5 ص 9) مال یتیم کو بوجہ حرمت خبیث فرمایا کیونکہ وہ ولی یتیم کے لیے حرام ہے (2) اپنے پاس مال نہ ہو تو یتیم کا مال کھانا۔ لا تتعجلوا اکل الخبیث من اموالھم وتدوا انتظار الرزق الحلال من عنداللہ (قرطبی) (3) اور اگر اپنے پاس بھی مال ہو تو یتیم کا مال اس میں ملا کر کھانا یہ تینوں طریقے ظالمانہ تھے اس لیے ان سے منع فرمایا۔ الی اموالکم میں الی بمعنی مع ہے اور اس سے تیسرے حکم کی طرف اشارہ ہے۔ یا اَمْوَالِکُمْ سے پہلے مضاف مقدر ہے ای الی حصول اموالکم اس طرح یہ حکم ثانی کی طرف اشارہ ہوگا۔ وَ اٰتُوْا الْیَتَامیٰ اَمْوَالَھُمْ میں خطاب اولیائے یتیم سے ہے۔ اور یتیموں کو ان کا مال دینے سے یہاں یہ مراد نہیں کہ ان کا مال ان کے حوالے کردو کیونکہ یہ حکم آگے آرہا ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ یتیموں کا مال محفوظ رکھو اور اس میں کسی قسم کی خیانت نہ کرو۔ والمراد باتیاء اموالہم ترکہا سالمۃ غیر متعرض لھا بسوء فھو مجاز مستعمل فی لازم معناہ (روح ج 4 ص 186) ۔
Ayah 4:3

وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ Open ayah 4:3 in the Quran reader

اور اگر ڈرو کہ انصاف نہ کرسکو گے یتیم لڑکیوں کے حق میں4 تو نکاح کرلو اور جو عورتیں تم کو خوش آویں دو دو تین تین چار چار پھر اگر ڈرو کہ ان میں انصاف نہ کرسکو گے تو ایک ہی نکاح کرو5 یا لونڈی جو اپنا مال ہے اس میں امید ہے کہ ایک طرف نہ جھک پڑو گے

4 دوسرا حکم رعیت۔ (اگر یتیم لڑکیوں سے نکاح کرو تو ان کا مہر اور دوسرے حقوق ادا کرو) زمانہ جاہلیت میں ایسا بھی ہوتا تھا کہ ایک شخص کی تولیت میں یتیم لڑکی مثلاً اس کی چچا زاد بہن ہوتی جو وراثت میں اس کی شریک ہوتی وہ شخص یہ سوچ کر کہ اگر اس یتیمہ کی شادی کسی دوسرے شخص سے کریگا تو اس کی دولت اس کے ہاتھ سے نکل جائے گی، وہ خود ہی اس لڑکی سے نکاح کرلیتا لیکن مہر اور دیگر حقوق معاشرت میں اس سے بےانصافی کرتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یتیم سے بےانصافی اور ان پر ظلم کرنے سے ممانعت فرمادی اور مسلمانوں تلقین فرمائی کہ اگر وہ اپنی زیر کفالت یتیم لڑکیوں سے نکاح کریں تو ان کی حیثیت کے مطابق ان کے مہر ادا کریں اور ان کے دوسرے حقوق بھی پورے کریں۔ لیکن اگر انہیں یہ ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کے بعد وہ ان سے انصاف کا برتاؤ نہیں کرسکیں گے تو انہیں چاہئے کہ وہ یتیم لڑکیوں سے نکاح نہ کریں بلکہ دوسری عورتوں میں سے جو شرعاً ان کے نکاح میں آسکتی ہیں، ایک، دو ، تین، یا چار عورتوں سے نکاح کرلیں۔ مَا طَابَ سے مراد ہے ما حل یعنی جن عورتوں سے نکاح حلال ہے اور ِمِنَ النِّسَاءِ سے وہ عورتیں مراد ہیں جو یتٰمٰی کے علاوہ ہوں۔ 5 وَاحِدَۃٌ کا ناصب اس سے پہلے محذوف۔ ای فاختاروا واحدۃ (روح ج 4، ص 195 و مدارک ج 1 ص 160) ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت اس صورت میں ہے کہ ان سب کے ساتھ انصاف کرسکو لیکن اگر یہ اندیشہ ہو کہ انصاف کے ساتھ ان کے حقوق ادا کرنے سے قاصر رہو گے تو صرف ایک بیوی پر ہی اکتفا کرو۔ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ اس کا عطف وَاحِدَۃً پر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ایک آزاد عورت کے بھی حقوق ادا نہ کرسکو تو اپنی لونڈیوں پر ہی اکتفا کرو۔ ای ان خاف ان لا یعدل فی واحدۃ فما ملک یمینہ (قرطبی ج 5 ص 20) ذٰلِکَ سے ایک بیوی یا لونڈیوں پر اکتفا کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ اَلَّا تَعُوْلُوْا ای اَلَّا تَجُوْرُوْا (قرطبی روح۔ مدارک) یعنی ایک بیوی یا اپنی مملوکہ لونڈیوں پر اکتفا کرنا تمہارے لیے عدل و انصاف سے قریب تر ہے اور ظلم و جور سے بچنے کا قریب ترین ذریعہ ہے۔
Ayah 4:4

وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader

اور دے ڈالو عورتوں کو مہر ان کے خوشی سے6 پھر اگر وہ اس میں سے کچھ چھوڑ دیں تم کو اپنی خوشی سے تو اس کو کھاؤ رچتا بچتا

ٖف 6 تیسرا حکم رعیت : (یتیم لڑکیوں کے علاوہ دوسری عورتوں کے بھی مہر ادا کرو) ۔ پہلے حکم سے ترقی کر کے فرمایا کہ یتیم لڑکیوں کے علاوہ جن عورتوں سے نکاح کرو ان کو بھی مہر ادا کرنا ضروری ہے۔ ہاں اگر وہ خوشی سے پورا مہر یا اس کا کچھ حصہ معاف کردیں تو وہ تمہارے لیے حلال ہے اسے کھاؤ اور اپنے استعمال میں لاؤ۔ صَدُقٰت۔ صدقۃ کی جمع ہے۔ صدقۃ کے معنی ہیں مہر۔ نِحْلَۃٌ کے معنی فریضۃ کے ہیں اور یہ صَدُقٰت سے حال واقع ہے۔ نِحلَۃٌ ای فریضۃ قالہ ابن عباس وابن زید وابن جریج وقتادۃ فانتصابہا علی الحالیۃ من الصدقات ای اعطوھن مھورھن حال کونھا فریضۃ من اللہ تعالیٰ لھن (روح ج 4 ص 198) ۔ عَنْ شَیْءٍ موقع حال میں واقع ہے اور عَافیَّات کے معنی کو متضمن ہے۔ اور نَفْساً تمیز ہے جو طِبْنَ کی نسبت سے ابہام کا رفع کر رہی ہے اور ھَنِیْئاً صحت مند اور مَرِیْئاً ہضم ہونے والا۔ یہ دونوں الفاظ بطور مبالغہ وارد ہوئے ہیں۔ مطلب یہ کہ اگر عورتیں بطیب خاطر مہر کا کچھ حصہ یا پورا مہر معاف کردیں تو وہ تمہارے لیے حلال و طیب ہے اور اس کے کھانے میں تم پر کسی قسم کی ملامت نہیں اور نہ گناہ ہے وھذہ عبارۃ عن المبالغۃ فی الاباحۃ و ازالۃ النبعۃ (مدارک ج 1 ص 161) ۔
Ayahs 4:5–6

وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader

اور مت پکڑا دو بےعقلوں کو اپنے وہ مال جن کو بنایا ہے اللہ نے تمہارے گزران کا سبب7 اور ان کو اس میں سے کھلاتے اور پہناتے رہو اور کہو ان سے بات معقول

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور سدھاتے رہو یتیموں کو جب تک پہنچیں نکاح کی عمر کو پھر اگر دیکھو ان میں ہوشیاری تو حوالہ کر دو ان کے مال ان کا اور کھا نہ جاؤ یتیموں کا مال ضرورت سے زیادہ اور حاجت سے پہلے کہ یہ بڑے نہ ہوجائیں اور جس کو حاجت نہ ہو تو مال یتیم سے بچتا رہے اور جو کوئی محتاج ہو تو کھاوے موافق دستور کے پھر جب ان کو حوالہ کرو ان کے مال تو گواہ کرلو اس پر اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو

7 چوتھا حکم رعیت۔ (سن رشد سے پہلے یتیموں کو ان کا مال نہ دو ۔ جب دو اس پر گواہ بنا لو) ۔ یہ حکم یتیموں کا مال ان کے حوالے کرنے سے متعلق ہے۔ یعنی جب تک یتیم کم عقل اور نابالغ ہوں اس وقت تک ان کے اموال ان کے حوالے نہ کرو۔ البتہ ان کی خوراک و پوشاک وغیرہ کے اخراجات انہی کے مال سے اٹھاؤ اور یتیموں سے کہہ دو کہ تمہارا مال ہمارے پاس محفوظ ہے ہم اس کے امین اور محافظ ہیں۔ جب تم بالغ ہوجاؤ گے اور اپنے نفع اور نقصان کو سمجھنے لگو گے تو تمہارا مال تمہارے حوالے کردیا جائیگا۔ اور جب یتامی سنِ رشد کو پہنچ جائیں اور تم ان کے اموال ان کے سپرد کرنے لگو تو اصولی طور پر گواہ بنا لو تاکہ تم پر تہمت خیانت کا شبہ باقی نہ رہے اور ان کو اطمینان ہوجائے کہ تم نے ان کا مال ضائع نہیں کیا۔ اِسْرَافاً وَّ بِدَاراً دونوں مصدر ہیں بمعنی اسم فاعل اور لَا تَاکُلُوْا کی ضمیر سے حال ہیں اَیْ لَاتَاکُلُوْھَا مُسْرِفِیْنَ وَ مُبَادِرِیْنَ (روح ج 4 ص 207، مدارک ج 1 ص 162) اور اَنْ یَّکْبَرُوْا سے پہلے مِنْ مقدر ہے۔ یعنی یتیموں کا مال اس طرح مت کھاؤ کہ اسراف سے کام لو اور ان کا سارا مال ہضم کرنے کی غرض سے جلدی جلدی اسے ختم کر ڈالو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بڑے ہو کر سن رشد کو پہنچ جائیں اور تمہیں ان کا مال ان کے حوالے کرنا پڑے۔ اس کے بعد جائز طریقہ سے مال یتیم سے فائدہ اٹھانے کی اجازت فرمادی۔ وَمَنْ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ ۔ یعنی اگر یتیم کا ولی مالدار ہو تو وہ یتیم کے مال سے بالکلیہ اجتناب کرے نہ اس میں قرض لے اور نہ اس میں تجارت کرے۔ وَمَنْ کَانَ فَقِیْراً فَلْیَاکُلْ بِالْمَعْرُوْف۔ اور اگر تنگ دست ہو تو اسے اجازت ہے کہ جائز طریقہ سے انتفاع کرے۔ مثلاً اس میں سے قرض لے اور بوقت فراخی ادا کردے۔ یا مال یتیم میں تجارت کرے اور منافع سے جائز حصہ وصول کرے۔ یا اس کے مال کی حفاظت و اصلاح کی اجرت لے۔ والمعروف القرض ای یستقرض مال الْیتیم اذا احتاج الیہ فاذا ایسر قضاہ وقال قوم المعروف ان یاخذ من مالہ بقدر قیامہ واجرۃ عملہ (خازن ج 1 ص 403) ۔
Ayah 4:7

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

مردوں کا بھی حصہ ہے اس میں جو چھوڑ مریں ماں باپ اور قرابت والے8 اور عورتوں کا بھی حصہ ہے اس میں جو چھوڑ مریں ماں باپ اور قرابت والے تھوڑا ہو یا بہت ہو حصہ مقرر کیا ہوا ہے

8 پانچواں حکم رعیت (ترکہ میں تمام ورثاء کے حصے مقرر ہیں کسی کا حصہ کم نہ کرو) جاہلیت کی ایک رسم تھی کہ وہ میت کے ترکہ سے عورتوں اور بچوں کو حصہ نہیں دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے وراثت سے حصہ کا حقدار صرف وہی ہوسکتا ہے جو جنگ کرے اور اپنے علاقہ اور اپنی قوم کی حفاظت کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسم کو توڑنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میت کا ترکہ خواہ کم ہو یا زیادہ اس میں تمام وارثوں کا حق ہے۔ مردوں کا بھی اور عورتوں کا بھی۔ بڑوں کا بھی اور بچوں کا بھی۔ البتہ تمام وارثوں کے حصے جدا گانہ ہیں اور ان کی مقداریں مقرر ہیں۔
Ayah 4:8

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور جب حاضر ہوں تقسیم کے وقت رشتہ دار اور یتیم اور محتاج9 تو ان کو کچھ کھلا دو اس میں سے اور کہہ دو ان کو بات معقول

9 یعنی اگر ورثاء میں یتامی اور مساکین بھی ہوں تو ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے کھانے کے لیے انہیں کچھ دے دیا کرو۔ اور ان سے کہہ دیا کرو اب ترکہ تقسیم نہیں کر رہے جب تقسیم ہوگا تم کو بھی بلا لیا جائے گا۔ کیونکہ ترکہ میں غیر منقولہ جائیداد کی تقسیم بیک وقت ممکن نہیں۔ اس آیت میں اُوْلُوْا القُرْبیٰ سے ورثاء مراد ہیں اور وَالْیَتیٰمیٰ وَالْمَسٰکِیْن کا عطف تفسیری ہے اور فَارْزُقُوْھُم بمعنی فَاَطْعِمُوْھُم ہے اور اُوْلُوْ القُربیٰ کے بعد یتامی اور مساکین کی تخصیص ان کے حقوق کی نگہداشت کے پیش نظر ہے تاکہ ان کے حقوق ضائع نہ کیے جائیں۔ اس طرح یہ آیت منسوخ نہیں ہے۔ اس کے بعد وَلْیَخَشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَکُوْا الخ اور اِنَّ الَّذِیْنَ یَاکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتیٰمیٰ ظُلْماً الخ یہ دونوں زجریں بھی اس پر قرینہ ہیں کہ اس آیت میں یتامیٰ اور مساکین سے وارث مراد ہیں۔ اور فَارْزُقُوْھُم کا حکم وجوبی استحبابی نہیں۔ کیونکہ زجر ترک مندوب اور مستحب پر نہیں ہوتا بلکہ فرض یا واجب کے ترک پر ہوتا ہے اس لیے اب اس تاویل کی ضرورت نہیں کہ پہلے اولوا القربی، یتامی اور مساکین کو ترکہ سے حصہ دیا کرتے تھے۔ اور اب آیت میراث سے یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے اور نہ اس توجیہ کی ضرورت ہے کہ یہ حکم استحبابی تھا۔ اور اب ابھی اپنے استحباب پر باقی ہے۔
Ayahs 4:9–10

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

اور چاہیے کہ ڈریں وہ لوگ کہ اگر چھوڑی ہے اپنے پیچھے اولاد ضعیف10 تو ان پر اندیشہ کریں یعنی ہمارے پیچھے ایسا ہی حال ان کا ہوگا تو چاہئیے کہ ڈریں اللہ سے اور کہیں بات سیدھی

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

جو لوگ کہ کھاتے ہیں مال یتیموں کا ناحق وہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب داخل ہو نگے آگ میں

10 یہ ان لوگوں کو زجر ہے جو یتامی اور مساکین کی حق تلفی کریں اور میراث سے ان کو ان کا مقررہ حصہ نہ دیں۔ لِیَخْشَ کا مفعول (اللہ) محذوف ہے۔ یعنی اولاء میت خدا سے ڈریں اور سوچیں کہ اگر وہ مرجائیں اور ان کے پیچھے ان کے یتیم بچے رہ جائیں تو وہ ان کے حق میں کس قسم کے سلوک کی تمنا کریں گے۔ اس لیے اب ان کو دوسرے یتیموں اور مسکینوں سے ویسا ہی برتاؤ کرنا چاہئے جیسے برتاؤ کی وہ اپنی یتیم اور مسکین اولاد سے تمنا اور خواہش رکھتے ہیں۔ ای افعلوا بالیتامی ما تحبون ان یفعل باولادکم من بعدکم (قرطبی ج 5 ص 51) ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَاکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیتٰمٰی ظُلْماً اِنَّمَا یَاکُلُوْنَ فِی بُطُوْنِہِمْ نَاراً ۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ پہلے احکام کا خلاصہ یہ ہے کہ یتیم لڑکوں اور لڑکیوں کی حق تلفی نہ کرو۔ ان سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرو۔ اور ان کا مال ظلماً نہ کھاؤ۔ اس لیے یہاں اس پر وعید شدید کی دھمکی دی گئی ہے۔
Ayah 4:11

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader

حکم کرتا ہے تم کو اللہ تمہاری اولاد کے حق میں کہ ایک مرد کا حصہ ہے برابر دو عورتوں کے11 پھر اگر صرف عورتیں ہی ہوں دو سے زیادہ تو ان کے لئے ہے دو تہائی اس مال سے جو چھوڑ مرا اور اگر ایک ہی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے12 اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کے لئے دونوں میں سے چھٹا حصہ ہے اس مال سے جو کہ چھوڑ مرا اگر میت کے اولاد ہے اور اگر اس کے اولاد نہیں اور وارث ہیں اس کے ماں باپ تو اس کی ماں کا ہے تہائی پھر اگر میت کے کئی بھائی ہیں تو اس کی ماں کا ہے چھٹا حصہ بعد وصیت کے جو کر مرا یا بعد ادائے قرض کے13 تمہارے باپ اور بیٹے تم کو معلوم نہیں کون نفع پہنچائے تم کو زیادہ حصہ مقرر کیا ہوا اللہ کا ہے بیشک اللہ خبردار ہے حکمت والا

11 چھٹا حکم رعیت (ورثاء کے مقررہ حصے یہ ہیں ان کے مطابق تقسیم کرو) پہلے فرمایا تھا کہ ترکہ میت میں بلا امتیاز مرد و زن اور بلا تفریق صغیر وکبیر ہر وارث کا مقررہ حصہ اب یہاں وارثوں کے مقررہ حصے بیان کردئیے ہیں کہ وارثوں کے مقررہ حصے یہ ہیں ان کو ان کا پورا پورا حق دو اور اس میں کمی بیشی نہ کرو۔ اس رکوع میں تقسیم ترکہ کی کل بارہ صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ پہلی صورت۔ اگر میت کی اولاد میں لڑکے بھی ہوں اور لڑکیاں بھی تو ان کے مابین ترکہ اس طرح تقسیم ہوگا کہ ہر لڑکے کو لڑکی سے دوگنا حصہ ملے۔ یہ صورت لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنَ میں مذکور ہے۔ دوسری صورت اگر میت کی اولاد میں لڑکا کوئی نہ ہو صرف لڑکیاں ہوں اور وہ بھی دو یا دو سے زیادہ ہوں تو ترکہ کے دو ثلث یعنی دو تہائی حصے ان کے ہوں گے۔ باقی دوسرے ورثاء میں تقسیم ہوگا۔ فَانْ کُنَّ نِسَاءًفَوْ قَ اثْنَتَیْنِ فَلَھُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ میں دوسری صورت مذکور ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ لفظ فوق اس آیت میں زائد ہے۔ جیسا کہ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ میں زائد ہے (بحر ج 3 ص 182) کیونکہ دو کا بھی یہی حکم ہے اور اِنْ کَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَھَاالنِّصْفُ بھی اس پر قرینہ ہے۔ 12 اس میں تیسری صورت بیان کی گئی ہے۔ یعنی اگر میت کی اولاد صرف ایک لڑکی ہو تو وہ ترکہ کے نصف کی حقدار ہے اور باقی نصف دوسرے وارثوں میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔ چوتھی صورت میں مذکورہ تینوں صورتوں میں میت کی اولاد کے ساتھ اگر اس کے والدین بھی موجود ہوں تو دونوں میں سے ہر ایک کو کل ترکہ کا سدس یعنی چھٹا حصہ ملے گا۔ اور باقی دوسرے ورثاء کا ہوگا۔ مثلاً ایک آدمی مرگیا۔ اور اس نے ماں باپ۔ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں وارث چھوڑے اور ترکہ کی مالیت اٹھارہ سو روپے ہے تو دو سدس یعنی چھ سو روپے والدین کے ہوں گے۔ بحساب تین سو فی کس اور باقی ماندہ پہلی صورت کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ بھائی کو چھ سو روپیہ اور دونوں بہنوں کو تین تین سو روپیہ ملے گا۔ یہ صورت وَلِاَبَوَیْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنْ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ میں مذکور ہے۔ پانچویں صورت : اگر میت کے کوئی اولاد نہ ہو اور نہ کوئی بھائی بہن ہو اور اس کے ماں باپ زندہ ہوں تو اس کی والدہ ثلث یعنی تیسرے حصہ کی حقدار ہوگی اور باقی ماندہ سارا ترکہ باپ کو ملیگا۔ یہ صورت فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَہٗ اَبَوٰہُ فَلِاُمِّہِ الثُّلُثُ میں بیان کی گئی ہے۔ چھٹی صورت اگر میت کے کوئی لڑکی لڑکا نہ ہو اور دو یا دو سے زیادہ بھائی یا بہنیں یا مخلوط بھائی بہنیں اور ماں باپ زندہ ہوں تو اس کی والدہ کو چھٹا حصہ ملیگا اور باقی سب والد کو اور اس کے بھائی بہنیں محروم رہیں گے۔ فَاِنْ کَانَ لَہٗ اِخْوَۃٌ فَلِاُ مِّہ السُّدُسُ میں یہی صورت مذکور ہے۔ یہاں لفظ اخوۃ اگرچہ جمع ہے لیکن دو کا بھی یہی حکم ہے اور لفظ جمع کا اطلاق دو پر لغت عرب میں عام ہے۔ جمہور مفسرین اسی طرف گئے ہیں۔ قال الجمہور ان حکم الاثنین فی باب المیراث حکم الجماعۃ (روح ج 4 ص 226) ۔ 13 یہ حکم پہلی تمام صورتوں سے متعلق ہے یہاں دو حقوق ایسے بیان کیے گئے ہیں جن کا ادا کرنا ورثاء میں ترکہ تقسیم کرنے پر مقدم ہے۔ مرنے والے کو شریعت نے یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنے ترکہ سے ثلث یعنی تیسرے حصہ تک ان رشتہ داروں کے حق میں وصیت کرجائے جو شرعاً وارث نہیں ہیں اور وصیت کی تنفیذ تقسیم ترکہ پر مقدم ہے۔ سب سے پہلے ترکہ میت سے اس کی تجہیز و تکفین کی جائے جو نہ اسراف کی حد کو پہنچے اور نہ کنجوسی کی حد کو بلکہ اس میں میت کی مالی حالت کو پیش نظر رکھا جائے اس کے بعد میت کے ذمہ جو حقوق العباد (بندوں کے حقوق) وہ ادا کیے جائیں۔ مثلاً قرضہ اور ادھار وغیرہ اَوْ دَیْنٍ میں انہی حقوق کا ذکر ہے۔ حقوق العباد ادا کرنے کے بعد باقی ماندہ ترکہ کے تیسرے حصہ میں سے میت کی وصیتیں نافذ کی جائیں۔ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْ بِھَا اَوْ دَیْنٍ میں یہ حکم مذکور ہے۔ اس کے بعد جو بچ جائے وہ وارثوں میں ان کے حقوق کے مطابق تقسیم کیا جائے۔ آبَاءُ کُمْ وَ اَبْنَا ءُکُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّھُمْ اَقَرَبُ لَکُمْ نَفْعاً دستور جاہلیت میں صرف بیٹے ہی میت کے ترکہ کے وارث ہوتے تھے، بیٹیوں کو کچھ نہیں دیتے تھے۔ ابتداء اسلام میں والدین کے حق میں وصیت کا حکم تھا اس کے بعد آیت میراث سے تمام وارثوں کے حصے مقرر کر دئیے گئے اور پہلا حکم منسوخ کردیا گیا اور فرمایا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ والدین اور بیٹوں میں سے کون تمہارے لیے دنیوی یا اخروی نفع کا باعث ہے کبھی باپ کی طرف سے ایسا دنیوی یا اخروی نفع حاصل ہوجاتا ہے جو بیٹے کی طرف سے نہیں ہوتا اور کبھی بالعکس۔ اس لیے ہم نے نفس میراث میں سب کو برابر کردیا ہے اور سب کے حصے مقرر کردئیے ہیں (من ابن کثیر ج 1 ص 459) ۔
Ayah 4:12

وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ Open ayah 4:12 in the Quran reader

اور تمہارا ہے آدھا مال جو کہ چھوڑ مریں تمہاری عورتیں اگر نہ ہو ان کے اولاد14 اور اگر ان کے اولاد ہے تو تمہارے واسطے چوتھائی ہے اس میں سے جو چھوڑ گئیں بعد وصیت کے جو کر گئیں یا بعد قرض کے اور عورتوں کے لئے چوتھائی مال ہے اس میں سے جو چھوڑ مرو تم اگر نہ ہو تمہاری اولاد اور اگر تمہاری اولاد ہے تو ان کے لئے آٹھواں حصہ ہے اس میں سے جو کچھ تم نے چھوڑا بعد وصیت کے جو تم کر مرو یا قرض کے اور اگر وہ مرد کہ جس کی میراث ہے باپ بیٹا کچھ نہیں رکھتا یا عورت ہو ایسی ہی اور اس میت کے ایک بھائی ہو یا بہن ہو تو دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے15 اور اگر زیادہ ہوں اس سے تو سب شریک ہیں ایک تہائی میں بعد وصیت کے جو ہوچکی ہے یا قرض کے جب اوروں کا نقصان نہ کیا ہو یہ حکم ہے اللہ کا اور اللہ ہے سب کچھ جاننے والا تحمل کرنے والا

14 پہلی چھ صورتیں ذوی الفروض نسبیہ کی تھیں اب آگے ذوی الفروض سببیہ یعنی خاوند بیوی کے حصوں کا بیان ہے۔ ساتویں صورت۔ اگر بیوی فوت ہوجائے اور اس کے کوئی اولاد نہ ہو تو بیوی کے ترکہ سے خاوند کو نصف ملیگا۔ باقی دوسرے ورثاء ہیں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔ آٹھویں صورت فَاِن ْکَانَ لَھُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ الخ یعنی اگر بیوی فوت ہوجائے اور اس کے اولاد ہو خواہ موجودہ خاوند سے یا پہلے خاوند سے تو اس صورت میں بیوی کے ترکہ سے چوتھا حصہ خاوند کا ہوگا۔ اور باقی دیگر ورثاء کا ہوگا۔ نویں صورت۔ وَلَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّکُمْ وَلَدٌ۔ اور اگر خاوند فوت ہوجائے اور کوئی اولاد نہ چھوڑے تو بیوی کو ترکہ کا چوتھا حصہ ملیگا۔ اگر بیویاں ایک سے زیادہ ہوں تو وہی چوتھا حصہ ان میں مساوی طور پر تقسیم کیا جائے۔ دسویں صورت : فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُمُ مِمَّا تَرَکْتُم الخ اور اگر میت کے اولاد ہو خواہ موجودہ بیوی سے یا سابقہ سے تو بیوی خواہ ایک ہو یا زیادہ ہوں وہ ترکہ کا آٹھواں حصہ پائیں گی۔ ٖف 15 گیارہویں اور بارہویں صورت۔ کَلٰلَۃٌ لغت میں اس مرد یا عورت کو کہتے ہیں جس کے اصول اور فروع میں کوئی مذکر موجود نہ ہو اور اصطلاح شرع میں اس میں یہ اضافہ کیا گیا ہے کہ اس کے لڑکی بھی نہ ہو جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق، عمر، ابن عباس وغیرہم سے منقول ہے۔ الکلۃ من لم یترک ولدا ولا والدا (ابن جریر ج 4 ص 177) سلیم بن عبد کہتے ہیں کہ اس پر مفسرین کا اجماع ہے۔ اجمعوا ان الکلۃ الذی لیس لہ ولد ولا والد (ایضا) اس سورت میں کلالہ کی چھ صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ چار سورت کے آخر میں اور دو اس رکوع میں۔ اول کلالہ مرد ہو یا عورت اگر وہ مرجائے اور اس کا ایک مادری بھائی یا ایک مادری بہن زندہ ہو تو اس کو ترکہ کا سدس یعنی چھٹا حصہ دیا جائے۔ وَاِنْ کَانَ رَجُلٌ سے السُّدُسُ تک اس کا بیان ہے۔ دوم یہ کہ مادری بھائی بہنیں ایک سے زیادہ ہوں تو وہ ترکہ کا ثلث پائیں گے اور ثلث ان کے عدد رؤس کے مطابق مساوی حصوں میں تقسیم کیا جائے گا اور نر و مادہ کے حصہ میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ فَاِنْ کَانُوْا اَکثَرَ مِنْ ذٰلِکَ فَھُمْ شُرَکَاءُ فِی الثُّلُثِ میں یہ صورت مذکور ہے۔ بھائی بہنوں سے یہاں اولاد الام یعنی مادری مراد ہیں جیسا کہ حضرت صدیق اور سعد بن ابی وقاص سے منقول ہے ای من ام کما ھو فی قراءۃ بعض السلف منھم سعد بن ابی وقاص و کذا فسرھا ابوبکر الصدیق فیما رواہ قتادۃ عنہ (ابن کثیر ج 1 ص 460) اور اگر بھائی بہنیں اخیافی یا علاتی ہوں تو ان کے حصے اس سورت کے آخر میں بیان کیے گئے ہیں۔ غَیْرَ مضَآرٍّ ، یُوْصِیْ کے فاعل سے حال ہے بصورتِ قراءت فعلِ معروف اور بصورتِ قراءت فعل مجہول فعل محذوف کے فاعل سے حال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مرنے والا وصیت یا اقرار بالدین سے وارثوں کو نقصان نہ پہنچائے مثلا یہ تیسرے حصہ سے زیادہ وصیت نہ کرے اور جس کا اس کے ذمہ کوئی حق نہیں اس کے لیے قرض کا اقرار نہ کرے۔ فلا یقر بحق لیس علیہ ولا یوصی باکثر من الثلث قالہ ابن جبیر (روح ج 4 ص 231) ۔
Ayahs 4:13–14

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 4:13 in the Quran reader

یہ حدیں باندھی ہوئی اللہ کی ہیں اور جو کوئی حکم پر چلے اللہ کے اور رسول کے اس کو داخل کریگا جنتوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں ہمیشہ رہیں گے ان میں16 اور یہی ہے بڑی مراد ملنی

وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 4:14 in the Quran reader

اور جو کوئی نافرمانی کرے اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی اور نکل جاوے اس کی حدوں سے ڈالے گا اس کو آگ میں ہمیشہ رہیگا اس میں اور اس کے لئے ذلت کا عذاب ہے

16 یہ بشارت اخروی ہے۔ احکام میراث جن کی آئے دن ضرورت رہتی ہے بیان کرنے کے بعد فرمایا یہ اللہ کی حدود اور اس کے مقررہ احکام ہیں جو اللہ کے رسول کی وساطت سے بندوں کو دئیے گئے ہیں جو ان احکام پر ایمان لائیگا اور ان پر عمل کریگا اس کے لیے آخرت میں جنات نعیم اور نعیم مقیم کی بشارت ہے۔ وَمَنْ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ الخ یہ ان لوگوں کے لیے تخویف اخروی ہے جو اللہ کی حدود کو توڑتے اور اس کے نافذ کردہ احکامِ میراث کو معطل کرتے اور ان کے مطابق وارثوں میں ترکہ تقسیم نہیں کرتے۔ عصیان سے یہاں عصیان کا کامل درجہ مراد ہے۔ یعنی جو شخص ان احکام پر ایمان نہ لائے وہ کافر ہے اور اس کی سزا یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہیگا جیسا کہ وَیَتَعدَّ حُدُودہٗ اس پر قرینہ ہے۔ اور جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللہُ فَاُولئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ (مائدہ رکوع 7) مسند امام احمد میں مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ کی مَنْ لَّمْ یَعْتَقِدْ سے تفسیر کی گئی ہے یعنی جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام پر ایمان نہ لائیں اور ان کے حق ہونیکا اعتقاد نہ رکھیں وہ کافر ہیں۔
Ayahs 4:15–18

وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا Open ayah 4:15 in the Quran reader

اور جو کوئی بدکاری کرے تمہاری عورتوں میں سے تو گواہ لاؤ ان پر چار مرد اپنوں میں سے17 پھر اگر وہ گواہی دیویں تو بند رکھو ان عورتوں کو گھروں میں یہاں تک کہ اٹھا لیوے ان کو موت یا مقرر کر دے اللہ ان کے لئے کوئی راہ

وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader

اور جو دو مرد کریں تم میں سے وہی بدکاری تو ان کو ایذاء دو پھر اگر وہ دونوں توبہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان کا خیال چھوڑ دو بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:17 in the Quran reader

توبہ قبول کرنی اللہ کو ضرور تو ان کی ہے جو کرتے ہیں برا کام جہالت سے پھر توبہ کرتے ہیں جلدی سے تو ان کو اللہ معاف کردیتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا ہے حکمت والا

وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:18 in the Quran reader

اور ایسوں کی توبہ نہیں جو کئے جاتے ہیں برے کام یہاں تک جب سا منے آجائے ان میں سے کسی کی موت تو کہنے لگا میں توبہ کرتا ہوں اب اور نہ ایسوں کی توبہ جو مرتے ہیں حالت کفر میں ان کے لئے تو ہم نے تیار کیا ہے عذاب دردناک

17 ساتواں حکم رعیت (عورتوں کو وراثت سے حصہ ضرور دو لیکن اگر ان سے زنا سرزد ہوجائے تو ان پر شرعی حکم نافذ کرو) ۔ احکام وراثت بیان کرنے کے بعد ان عورتوں کا حکم بیان کیا گیا جن سے زنا کا رتکاب ہوجائے۔ یعنی عورتوں کو میراث سے بیشک حصہ دو لیکن اگر کسی عورت سے زنا سرزد ہوجائے تو اگر چار گواہوں کی شہادت سے ان کا جرم ثابت ہوجائے تو ان کو بند رکھو یہاں تک کہ ان کے لیے کوئی دوسرا حکم آجائے اور اگر ان کو بطور سزا کوئی تکلیف دینا چاہو تو زیادہ نہ دو اور حد اعتدال سے آگے نہ بڑھو۔ یہ حکم حد شرعی کے نزول سے پہلے تھا۔ اور اگر وہ سچی توبہ کرلیں تو پھر ان سے تعرض نہ کرو اور انہیں کچھ نہ کہو کیونکہ جو شخص گناہ کرنے کے بعد سچی توبہ کرلے اور گناہ پر اصرار نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ وَالَّذٰنِ یَاتِیٰنِھَا مِنْکُمْ فَاٰذُوْھُمَا یہ ساتواں حکم اسی سے متعلق ہے۔ یعنی اس میں زنا ہی کا حکم مذکور ہے۔ اِنَّمَا التَّوْبَۃ عَلَی اللہِ لِلَّذِیْنَ الخ یعنی اللہ نے محض اپنے فضل وکرم سے ان لوگوں کی توبہ کو قبول کرنا اپنے ذمہ لے رکھا ہے جو نادانی میں گناہ کریں اور پھر فوراً ہی سچی توبہ کرلیں اور آئندہ کے لیے اس گناہ کے قریب بھی نہ پھٹکیں۔ وَلَیْسَتِ التَّوْبَۃُ لِِلِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الخ یہ زجر اور تخویف اخروی ہے یعنی جو لوگ زندگی میں بےدھڑک اور اندھا دھند گناہ کرتے ہیں جب موت کا وقت آپہنچے اور غرغرہ کی حالت شروع ہوجائے تو توبہ کرنے لگیں تو یہ توبہ خدا کو منظور نہیں ہوگی۔ اسی طرح وہ لوگ جو حالت کفر میں مرجائیں ان کے گناہ ہرگز معاف نہیں ہوں گے اور انہیں دردناک سزا دیجائیگی۔
Ayahs 4:19–21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

اے ایمان والو حلال نہیں تم کو کہ میراث میں لے لو عورتوں کو زبردستی18 اور نہ روکے رکھو ان کو اس واسطے کہ لے لو ان سے کچھ اپنا دیا ہوا مگر یہ کہ وہ کریں بےحیائی صریح اور گزران کرو عورتوں کے ساتھ اچھی طرح پھر اگر وہ تم کو نہ بھاویں تو شاید تم کو پسند نہ آوے ایک چیز اور اللہ نے رکھی ہو اس میں بہت خوبی

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اور اگر بدلنا چاہو ایک عورت کی جگہ دوسری عورت کو اور دے چکے ہو ایک کو بہت سا مال تو مت پھیر لو اس میں سے کچھ کیا لیا چاہتے ہو اس کو ناحق اور صریح گناہ سے

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور کیونکر اس کو لے سکتے ہو اور پہنچ چکا ہے تم میں کا ایک دوسرے تک اور لے چکیں وہ عورتیں تم سے عہد پختہ

18 آٹھواں حکم رعیت۔ (ورثہ میں مال ملا کرتا ہے عورتیں نہیں ملا کرتیں۔ ہاں اگر وہ راضی ہوں تو ان سے نکاح کرلو) زمانہ جاہلیت کی ایک ننگ انسانیت رسم یہ تھی کہ ورثاء مال کی طرح اپنے مورثوں کی بیویوں کو بھی اپنی وراثت سمجھتے تھے اور اگر وہ کسی سے نکاح کرنا چاہتی تھیں تو انہیں جبرا روک دیتے تھے اگر وہ خوبرو ہوتی تو خود اس سے نکاح کرلیتے ورنہ اسے محبوس رکھتے اور اس کے مرنے کے بعد اس کے مال پر قابض ہوجاتے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وراثت میں مال ملا کرتا ہے عورتیں نہیں ملا کرتیں۔ ہاں اگر کوئی عورت بخوشی نکاح کرنا چاہے تو نکاح کرلو بشرطیکہ وہ تمہاری محرم نہ ہو۔ کَرْھاً ۔ فعلِ محذوف کا مفعول مطلق ہے ای تکرھون کرھا ولا تعضلوھن ای لاتمنعوھن (جامع ص 35) یعنی ان کو منع نہ کرو۔ ببعض میں با تعدیہ کے لیے ہے اور خطاب وارثوں سے ہے۔ بعض دفعہ ورثاء بیوہ کو اس شرط پر دوسری جگہ نکاح کی اجازت دیتے کہ خاوند سے جو کچھ اسے میراث میں ملا ہے وہ اسے واپس کردے یا اپنا مہر واپس دیدے تو اس سے منع فرمایا یا خطاب خاوندوں سے ہے کچھ لوگ اپنی بیویوں کو نہ طلاق دیتے اور نہ حسن سلوک سے پیش آتے تھے بلکہ ان کو تنگ کرتے تھے تاکہ وہ اپنے وصول کردہ مہر واپس دے کر خلع کرلیں اس پر ممانعت کا حکم نازل فرمایا اور حسن معاشرت کا حکم دیا وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوقجٍ الخ یعنی تم عورتوں کو مال کی خاطر تنگ نہ کرو اور اگر بیوی کو طلاق دے کر کسی دوسری عورت سے شادی کرنا چاہو تو پہلی بیوی کو دئیے ہوئے مہر سے کچھ بھی واپس مت لو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرد کی طرف سے ناچاقی کی وجہ سے خلع نہیں ہوسکتا۔ بُھْتَاناً وَّ اِثْماً ۔ دونوں مصدرین بمعنی اسم فاعل تاخذون کے فاعل سے حال ہیں ای اتاخذونہ باھتین واٰثمِیْنَ اور افضی بعضکم الی بعض جماع سے کنایہ ہے امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ خلوت صحیحہ کے بعد طلاق ہوجائے۔ اگرچہ جماع کی نوبت نہ آئے تو بھی عورت سے مہر کا کوئی حصہ واپس لینا جائز نہیں۔
Ayahs 4:22–23

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

اور نکاح میں نہ لاؤ جن عورتوں کو نکاح میں لائے19 تمہارے باپ مگر جو پہلے ہوچکا یہ بےحیائی ہے اور کام ہے غضب کا اور برا چلن ہے

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

حرام ہوئی ہیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بیٹیاں بھائی کی اور بہن کی اور جن ماؤں نے تم کو دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں اور تمہاری عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں ہیں جن کو جنا ہے تمہاری ان عورتوں نے جن سے تم نے صحبت کی اور اگر تم نے ان سے صحبت نہیں کی تو تم پر کچھ گناہ نہیں اس نکاح میں اور عورتیں تمہارے بیٹوں کی جو تمہاری پشت سے ہیں اور یہ کہ اکٹھا کرو دو بہنوں کو مگر جو پہلے ہوچکا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

19 نواں حکم رعیت : (عورتیں نکاح سے ملتی ہیں لیکن حسب ذیل عورتیں اگر راضی بھی ہوں تب بھی نکاح میں نہیں آسکتیں) پہلے فرمایا تھا کہ جو عورتیں رضامندی سے تمہارے ساتھ نکاح کرنا چاہیں ان سے نکاح کرلو لیکن حسب ذیل عورتیں اگر راضی ہوں تب بھی ان سے نکاح نہ کرو کیونکہ یہ محرمات ہیں اور ان سے نکاح کرنا تمہارے لیے ابدی حرام ہے یہاں پندرہ محرمات مذکور ہیں۔ (1) باپ کی منکوحہ، یعنی جو عورت باپ کی زوجیت میں آچکی ہو پھر بیوہ یا مطلقہ ہوجائے۔ (2) ماں۔ دادی اور نانی بھی امہات میں داخل ہیں۔ (3) وَبَنٰتُکُمْ بیٹیاں اس میں پوتیاں اور نواسیاں بھی داخل ہیں۔ (4) اَخَوٰتُکُمْ بہنیں خواہ عینی ہوں یا علاتی اور اخیافی۔ (5) وَعَمّٰتُکُمْ پھوپھیاں۔ (6) وَخٰلٰتُکُمْ خالائیں (7) وَبَنٰتُ الْاَخِ بھیتیجیاں۔ ان کی بیٹیوں کا بھی یہی حکم ہے۔ (8) وَبَنٰتُ الْاُخْتِ بھانجیاں اور ان کی بیٹیاں بھی اسی حکم میں ہیں۔ (9) وَاُمَّھٰتُکُمُ الّٰتِیْ اَرْضَعْنَکُمْ اور وہ عورتیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو۔ (10) وَاَخَوٰتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ اور تمہاری دودھ شریک بہنیں۔ (11) وَاُمَّھٰتُ نِسَائِکُمْ اپنی بیویوں کی مائیں خواہ نسبی ہوں یا رضاعی۔ (12) وَرَبَائِبُکُم الخ تمہاری بیویوں کی بیٹیاں جو ان کے پہلے خاوندوں سے ہوں بشرطیکہ تم ان سے خلوت کرچکے ہو لیکن اگر کسی نے ابھی اپنی بیوی سے خلوت نہ کی ہو تو اس کو طلاق دے کر اس کی بیٹی سے نکاح کرسکتا ہے۔ فِیْ حُجُوْرِکُمْ کی قید محض اتفاقی ہے احترازی نہیں ہے۔ (13) وَحَلآ ئِلُ اَبْنَا ئِکُمُ الَّذِینَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں اَلَّذِینَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ کی قید احترازی ہے اور اس سے متبنی کی بیوی سے احتراز ہے کیونکہ بیوگی یا طلاق کے بعد اس سے نکاح جائز ہے۔ (14) وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اور دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا۔ دو بہنیں خواہ نسبی ہوں یا رضاعی۔ اسی طرح ہر وہ دو عورتیں جن کے درمیان رشہ محرمیت ہو۔ مثلاً خالہ اور بھانجی، پھوپھی اور بھتیجی۔ ان کو بھی ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں (15) وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النَّسَاءِ اور جو عورتیں صحیح نکاح کے ساتھ دوسروں کی منکوحہ ہوں، ان سے بھی نکاح جائز نہیں۔ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ سے بظاہر یہ شبہ پڑتا ہے کہ شادی شدہ آزاد عورتوں سے نکاح جائز نہیں لیکن شادی شدہ لونڈیوں سے نکاح جائز ہے حالانکہ ایسا کرنا جائز نہیں اس لیے لونڈیوں سے وہ لونڈیاں مراد نہیں ہیں جو پہلے سے مسلمانوں کی ملک میں ہوں بلکہ وہ لونڈیاں مراد ہیں جو بذریعہ سبی (قید) کافروں سے مسلمانوں کے ہاتھ آئیں تو دارالکفر میں ان کا خاوندوں سے سابقہ نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور ان سے نکاح جائز ہے والمراد بالملک الملک بالسبی خاصۃ فانہ المقتضی لفسخ النکاح و حلھا للسابی دون غیرہ و ھو قول عمر و عثمان و جمھور الصحابۃ و التابعین و الائمۃ الاربعۃ (روح ج 5 ص 2) ۔
Ayah 4:24

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader

اور خاوند والی عورتیں مگر جن کے مالک ہوجائیں تمہارے ہاتھ حکم ہو اللہ کا تم پر اور حلال ہیں تم کو سب عورتیں ان کے سواء20 بشرطیکہ طلب کرو ان کو اپنے مال کے بدلے قید میں لانے کو نہ مستی نکالنے کو پھر جس کو کام میں لائے تم ان عورتوں میں سے تو ان کو دو ان کے حق جو مقرر ہوئے اور گناہ نہیں تم کو اس بات میں کہ ٹھرا لو تم دونوں آپس کی رضا سے مقرر کئے پیچھے بیشک اللہ ہے خبردار حکمت والا

20 دسواں حکم رعیت (جن عورتوں سے نکاح جائز ہے خواہ حرہ ہوں یا لونڈیاں، ان کو مہر دینا ہوگا) یہ آٹھویں اور نویں حکم سے متعلق ہے۔ آٹھویں حکم میں فرمایا کہ میراث میں مال ملا کرتا ہے عورتیں نہیں ملا کرتیں۔ ہاں جو عورتیں خوشی سے نکاح کرنا چاہیں ان سے نکاح کرسکتے ہو۔ نویں حکم میں فرمایا کہ یہ پندرہ عورتیں تم پر حرام ہیں وہ اگر راضی ہوں تو بھی ان سے نکاح جائز نہیں۔ اب یہاں علی سبیل الترقی فرمایا کہ ان کے علاوہ باقی عورتیں تم پر حلال ہیں لیکن حلت کی شرط یہ ہے کہ تم ان کو ہمیشہ کے لیے اپنی زوجیت میں رکھنے کی غرض سے ان سے شرعی عقد کرو۔ وقتی یا چند روزہ شہوت رانی مقصود نہ ہو اس سے متعہ کی ممانعت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ متعہ کی غرض وغایت وقتی یا چند روزہ تمتع اور قضاء شہوت کے سوا کچھ نہیں وفیہ اشارۃ الی النھی عن کون القصد مجرد قضاء الشہوۃ و صب الماء و استفراغ اوعیۃ المنی فبطلت المتعۃ بھذا القید لان مقصود المتمتع لیس الا ذاک (روح ج 5 ص 6) اور یہ بھی یاد رکھو جس عورت سے نکاح کرو خواہ آزاد ہو یا لونڈی اس کو مہر ضرور دینا ہوگا وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا تَرَاضَیتُمْ بِہٖ مِنْ بَعْدِ الْفَرِیضَۃ۔ ہاں اگر مہر مقرر ہوچکنے کے بعد عورتیں اپنا پورا مہر یا اس کا کچھ حصہ معاف کردیں تو وہ تمہارے لیے حلال ہے اس میں تم پر کوئی حرج نہیں۔
Ayahs 4:25–28

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور جو کوئی نہ رکھے تم میں مقدور اس کا کہ نکاح میں لائے بیبیاں مسلمان21 تو نکاح کرلے ان سے جو تمہارے ہاتھ کا مال ہیں جو تمہارے آپس کی لونڈیاں ہیں مسلمان اور اللہ کو خوب معلوم ہے تمہاری مسلمانی تم آپس میں ایک ہو سو ان سے نکاح کرو ان کے مالکوں کی اجازت سے اور دو ان کے مہر موافق دستور کے قید میں آنے والیاں ہوں نہ مستی نکالنے والیاں اور نہ چھپی یاری کرنے والیاں پھر جب وہ قید نکاح میں آچکیں تو اگر کریں بےحیائی کا کام تو ان پر آدھی سزا ہے بیبیوں کی سزا سے22 یہ اس کے واسطے ہے جو کوئی تم میں ڈرے تکلیف میں پڑنے سے اور صبر کرو تو بہتر ہے تمہارے حق میں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

اللہ چاہتا ہے کہ بیان کرے تمہارے واسطے اور چلائے تم کو پہلوں کی راہ اور معاف کرے تم کو اور اللہ جاننے والا ہے حکمت والا

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

اور اللہ چاہتا ہے کہ تم پر متوجہ ہوے اور چاہتے ہیں وہ لوگ جو لگے ہوئے ہیں اپنے مزوں کے پیچھے کہ تم پھر جاؤ راہ سے بہت دور

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

اللہ چاہتا ہے کہ تم سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان بنا ہے کمزور

21 جو لوگ آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ لونڈیوں سے نکاح کرلیں۔ لیکن لونڈی سے نکاح کرنے کے لیے اس کے مالک کی اجازت شرط ہے۔ اس آیت سے امام شافعی (رح) نے اس پر استدلال کیا ہے کہ جس میں آزاد عورت سے نکاح کرنے کی استطاعت ہو اس کے لیے لونڈی سے نکاح جائز نہیں جیسا کہ مفہوم شرط کا تقاضا ہے اور اہل حجاز کہتے ہیں کہ غیر مستطیع کے لیے کتابیہ لونڈی سے نکاح جائز نہیں کیونکہ فَتَیَاتِکُم کے بعد المومنات کی قید موجود ہے لیکن امام ابوحنیفہ ؓ کے نزدیک لونڈی خواہ مومنہ ہو خواہ کتابیہ سے بہتر صورت نکاح جائز ہے۔ حرہ سے نکاح کی استطاعت ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَاء اور وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّ وَرَاءَ ذٰلِکُمْ دونوں مطلق ہیں جو نکاح اَمۃ کے جواز پر دلالت کرتی ہیں اور تخصیص وتقیید کے لیے دلیل کی ضرورت ہے باقی رہا مفہوم شرط اور مفہوم صفت تو وہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک حجت نہیں ہے کما تقرر فی الاصول۔ 22 یہاں ان شادی شدہ لونڈیوں کی سزا بیان کی گئی ہے جن سے زنا کا ارتکاب ہوجائے۔ کنواری آزاد عورت کیلئے زنا کی حد سو کوڑے ہے جیسا کہ سورة نور میں مذکور ہے اور لونڈی کیلئے اس کا نصف یعنی پچاس کوڑے ہے۔ ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْکُم الخ عنت سے مراد زنا ہے جیسا کہ ابن عباس سے منقول ہے۔ عن ابن عباس ؓ عنھما ھو الزنا لانہ سبب الھلاک (مدارک ج 1 ص 171) ۔ یعنی آزاد عورتوں کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں لونڈیوں سے نکاح کی اجازت اس لیے دی گئی ہے تاکہ تم گناہ میں مبتلا نہ ہوجاؤ لیکن اگر تم اپنے جذبات کو قابو میں رکھ سکو اور لونڈیوں سے نکاح نہ کرو اور نکاح کی استطاعت کا انتظار کرو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے کیونکہ لونڈی سے نکاح کی صورت میں اس سے تمہاری اولاد اپنی ماں کے تابع ہوگی اور غلام ہوگی اس لونڈی کا مالک تمہاری اولاد کو فروخت کرنے کا حقدار ہوگا۔ یُرِیْدُ اللہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمْ وَ یَھْدِیَکُمْ الخ۔ نکاح سے متعلق تین احکام بیان کرنے کے بعد بیان کی وجہ بتا دی کہ یہ نکاح کی علت و حرمت کے احکام اس لیے بیان کیے گئے ہیں تاکہ تمہیں ان کا علم ہوجائے اور تم ان پر عمل کر کے گناہ سے بچ سکو اور انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین کی راہ پر چل سکو۔
Ayahs 4:29–30

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نہ کھاؤ مال ایک دوسرے کے آپس میں ناحق23 مگر یہ کہ تجارت ہو آپس کی خوشی سے اور نہ خون کرو آپس میں بیشک اللہ تم پر مہربان ہے

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

اور جو کوئی یہ کام کرے تعدی اور ظلم سے تو ہم اس کو ڈالیں گے آگ میں اور یہ اللہ پر آسان ہے

23 گیارہواں حکم رعیت :۔ پہلے مال حرام کھانے کے مخصوص تین طریقوں سے منع فرمایا۔ یتیم کا مال ناحق کھانا، بیوی کا مہر بلا معافی دبا جانا اور میراث میں سے وارثوں کا حق مار لینا اب یہاں مال حرام کھانے سے عام ممانعت فرمائی کہ کسی بھی ناجائز طریقہ سے کسی کا مال نہ کھاؤ۔ وَلَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ اور مال حرام کھانے، شرک کرنے اور اسی طرح کے دوسرے گناہوں سے اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو کیونکہ ایسے گناہوں کا ارتکاب اپنے آپ کو قتل کرنے اور ہلاکت میں ڈالنے کے مرادف ہے۔ المعنی لا تھلکوا انفسکم بارتکاب الاثام ؟ الاموال بالباطل وغیرہ من المعاصی التی تستحقون بھا لعقاب (روح ج 5 ص 16) یا یہ اپنے ظاہر پر ہے اور اس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے کی نہی ہے۔
Ayah 4:31

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

اگر تم بچتے رہو گے ان چیزوں سے جو گناہوں میں بڑی ہیں تو ہم معاف کریں گے تم سے چھوٹے گناہ تمہارے24 اور داخل کریں گے تم کو عزت کے مقام میں

24 ۔ کَبَائرُ ۔ کبیرۃ کی جمع ہے۔ کبائر سے مراد وہ گناہ ہیں جن پر کتاب وسنت میں سزا اور وعید وارد ہو یا ہر گناہ اپنے ماتحت کے اعتبار سے کبیرہ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ کبائر سے یہاں انواع کفر وشرک مراد ہیں۔ حملوا قولہ تعالیٰ کَبَائِرَ مَاتُنْھَوْنَ عَنْہُ علی انواع الشرک والکفر (بحر ج 3 ص 233) ۔ یعنی اگر تم کفر و شرک کی تمام انواع سے اجتناب کرو گے تو باقی گناہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا معاف کر دے گا مگر شرک معاف نہیں ہوگا۔
Ayahs 4:32–33

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

اور ہوس مت کرو جس چیز میں بڑائی دی اللہ نے ایک کو ایک پر25 مردوں کو حصہ ہے اپنی کمائی سے اور عورتوں کو حصہ ہے اپنی کمائی سے اور مانگو اللہ سے اس کا فضل بیشک اللہ کو ہر چیز معلوم ہے

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ Open ayah 4:33 in the Quran reader

اور ہر کسی کے لئے ہم نے مقرر کر دئیے ہیں وارث اس مال کے کہ چھوڑ مریں ماں باپ اور قرا بت والے اور جن سے معاہدہ ہوا تمہارا ان کو دے دو ان کا حصہ بیشک اللہ کے رو برو ہے ہر چیز

25 بارہواں حکم رعیت (جن وارثوں کے حصے زیادہ ہیں ان کو حصہ پورا پورا دو اور اپنے حق سے زیادہ لینے کی خواہش نہ کرو) یہاں تفضیل سے میراث کے حصوں میں تفضیل مراد ہے۔ بقرینۃ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوْا الخ ورثاء کے حصے کم وبیش مقرر کیے گئے ہیں کسی کا حصہ زیادہ ہے اور کسی کا کم اس لیے حکم دیا گیا کہ کسی کا حق مار لینا اور اس کے حصہ میں کمی کرنا تو درکنار یہ تو صریح ظلم ہے تم اپنے حصہ سے زیادہ لینے کی خواہش بھی نہ کرو۔ پہلے فرمایا کہ لوگوں کا مال باطل طریقوں سے مت کھاؤ اب فرمایا کہ باطل طریقہ سے مال کھانے کا خیال بھی دل میں مت لاؤ۔ وَلِکُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرکَ الْوَالِدَانِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ہر انسان کے اپنے اپنے وارث ہوتے ہیں اس لیے ہر ایک کو میراث سے صرف اپنا حصہ ہی لینا چاہئے اور دوسرے کا حق لینے کی تمنا اور آرزو نہیں کرنی چاہئے۔ بین تعالیٰ ان لکل انسان ورثۃ وموالی فلینقسم کہ واحد بما قسم اللہ لہ من المیراث و لا یتمن مال غیرہ (قرطبی ج 5 ص 165) بعض مفسرین کا قول ہے کہ جاہلیت میں ایک آدمی دوسرے سے موالات کا عقد کرلیتا تھا اور ان میں یہ بات طے پاتی تھی کہ ایک سے لڑائی دوسرے سے لڑائی اور ایک سے صلح دوسرے سے صلح شمار ہوگی اور دونوں ایک دوسرے کا تاوان ادا کریں گے اور دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اس طرح مولی موالات کو میراث سے چھٹا حصہ ملتا تھا ابتداء اسلام میں بھی اس پر عمل کرنے کا حکم بحال رہا چناچہ وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ فَاٰتُوْھُمْ نَصِیْبَھُم میں یہی حکم مذکور ہے پھر ِیہ حکم اسی آیت کے پہلے حصے یعنی وَ لِکُلٍ جَعَلْنَا مَوَالِیَ اور دوسری آیات میراث سے منسوخ ہوگیا (من الکبیر وغیرہ) لیکن حضرت ابن عباس اور مجاہد فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے اصل بات یوں ہے کہ ہجرت کے بعد آنحضرت ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان جو اخوت (بھائی چارہ) قائم کی تھی اس کی وجہ سے ہر مہاجر اپنے انصاری بھائی کا وارث ہوتا تھا اور انصاری کے رشتہ دار وارث نہیں ہوتے تھے۔ جب یہ آیت وَلِکُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ نازل ہوئی تو وہ حکم منسوخ ہوگیا اس کے بعد وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ فَاٰتُوْھُمْ نَصِیبَہُمْ سے حلفاء موالی یعنی ان لوگوں کا حصہ ادا کرنے کا حکم دیا جن سے باہمی تعاون اور نصرت کا عہد باندھا گیا ہو ان لوگوں کے حصہ سے ان کی خیرخواہی، انہیں آرام پہنچانا اور حسب معاہدہ ان سے تعاون اور بذریعہ وصیت ان کی مالی امداد وغیرہ مراد ہے وفی روایۃ عن ابن عباس ؓ عنھما اخرجھا البخاری وابو داود والنسائی وجماعۃ انہ قال فی الایۃ کان المہاجرون لما قدمو المدینۃ یرث لمھاجر الانصاریٰ دون ذوی رحمہ للاخوۃ التی اخی النبی ﷺ بینھم فنزلت (ولکل جعلنا موالی) نسخت ثم قال (وَالَّذِیْنَ عَاقَدَتْ اَیْمَانَکُمْ فَاٰتُوْھُمْ نَصیْبَھُمْ ) من النصر والوفاۃ والنصیحۃ و قد ذھب المیراث ویوصی لہ وروی عن مجاھد مثلہ (روح ج 5 ص 23 کذا فی القرطبی ج 5 ص 16505) اس طرح آیت کے دوسرے حصہ کو پہلے حصہ سے منسوخ کہنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ بعض مفسرین کا خیال ہے بلکہ آیت کے دونوں حصے اپنی جگہ محکم اور برقرار ہیں۔ حضرت شیخ (رح) بھی اسی توجیہہ کو پسند فرماتے تھے آپ فرماتے تھے اگر ایک آیت کے دو معنی ہوسکیں ایک معنی کے اعتبار سے آیت منسوخ ہوا اور دوسرے کے اعتبار سے غیر منسوخ تو آیت کو اسی معنی پر محمول کیا جائے جس پر وہ منسوخ نہ ہو اور اس معنی کو معنی ابقائی کہتے ہیں۔
Ayah 4:34

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا Open ayah 4:34 in the Quran reader

مرد حاکم ہیں عورتوں پر26 اس واسطے کہ بڑائی دی اللہ نے ایک کو ایک پر اور اس واسطے کہ خرچ کئے انہوں نے اپنے مال پھر جو عورتیں نیک ہیں سو تابعدار ہیں نگہبانی کرتی ہیں پیٹھ پیچھے27 اللہ کی حفاظت سے اور جن کی بدخوئی کا ڈر ہو تم کو تو ان کو سمجھاؤ اور جدا کرو سونے میں اور مارو پھر اگر کہا مانیں تمہارا تو مت تلاش کرو ان پر راہ الزام کی بیشک اللہ ہے سب سے اوپر بڑا

26 تیرہواں حکم رعیت وراثت میں بیشک عورتیں بھی مردوں کے ساتھ شریک ہیں لیکن دو باتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر منظم مقرر کیا ہے اور ان کو ان پر بالادستی اور تسلط کی شان عطا فرمائی ہے۔ بِمَا فَضَّلَ اللہُ بَعْضَہُمْ عَلیٰ بَعْضٍ میں باء سببیہ ہے اور یہ مردوں کے عورتوں پر قوام ہونے کی پہلی علت ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے مردوں کو علم وعقل، فہم و تدبر اور قوت وقدرت میں عورتوں پر جو برتری اور فضیلت عطا فرمائی ہے اس بناء پر وہی اس شرف کے مستحق ہیں کہ نظام کار انہی کے ہاتھ میں ہو اور عورتوں پر انہیں تسلط حاصل ہو وَبِمَا اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْ یہاں بھی باء سببیہ ہے اور یہ تسلط کی دوسری علت ہے یعنی خاوند عورت کو مہر دیتا ہے اور اس کی خوراک، رہائش، پوشاک اور دیگر ضروریات زندگی پر اپنی جیب سے روپیہ خرچ کرتا ہے اس لیے لازمی طور پر مرد کو عورت پر فضیلت حاصل ہے اور وہ عورت پر حاکم ہونے کا مستحق ہے۔ 27 لِلْغَیْب میں لام بمعنی فی ہی ای یحفظن انفسھن وفروجھن فی حال غیبۃ ازواجھن (روح ج 5 ص 24) بِمَا میں باء سببیہ اور مَا مصدریہ ما مصدریۃ ای بحفظہ تعالیٰ ایاھن بالامر بحفظ الغیب والحث علیہ بالوعد والوعید والتوفیق لہ (ابو السعود ج 3 ص 317) جب دو وجوہ سے عورتوں پر مردوں کی برتری اور بالا دستی ثابت ہوگئی تو اب عورتوں پر فرض ہے کہ وہ اپنے خاوندوں کی اطاعت کریں اور ان کی وفادار بن کر رہیں اور ان کی امانت میں خیانت نہ کریں۔ قال ابن عباس امروا علیھن فعلی الماۃ ان تطیع زوجھا فی طاعۃ اللہ (خازن ج 1 ص 432) چناچہ نیک بیویوں میں یہ صفتیں موجود ہوتی ہیں۔ قٰنِتٰتٌ وہ اپنے خاوندوں کی وفا دار ہوتی ہیں۔ خٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ الخ اور اللہ کی طرف سے حفاظت ونگہبانی کی توفیق سے خاوندوں کی عدم موجودگی میں اپنی عزت و آبرو اور عفت وعصمت کی حفاظت کرتی ہیں۔ وَالّٰتِی تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ الخ نشوز سے نافرمانی اور خاوند کی اطاعت سے نفرت اور خاوند سے بد خوئی کا سلوک مراد ہے۔ نُشُوْزَھُنَّ عصیانھن و نرفعھن عن طاعۃ الازواج (مدارک ج 1 ص 174) یعنی جو عورتیں خاوند کی اطاعت نہ کریں اور بد خوئی کا اظہار کریں تو ان کو نصیحت کرو اور خدا کا خوف دلاؤ وَاھْجُرُوْھُنَّ فِیْ الْمَضَاجِعِ اگر زبانی وعظ و نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہو تو ان سے مباشرت اور ہمبستری ترک کردو شاید اس طرح وہ نافرمانی اور بد خوئی سے باز آجائیں وَاضْرِبُوْھُنَّ اگر اس سے بھی وہ متاثر نہ ہوں اور بدستور اپنی شرارت و عصیان کو جاری رکھیں تو بطور سزا ان کو مارو مگر اس قدر نہ مارو کہ ظلم کی حد کو پہنچ جاؤ اور ان کو زخمی کردو یا ان کا کوئی عضو توڑ ڈالو۔ فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلَا تَبْتَغُوْا عَلَیھِنَّ سَبِیْلاً لیکن اگر وہ تمہاری اطاعت کریں اور تمہارے حقوق بجا لایں تو ان سے کسی قسم کا تعرض نہ کرو، ان کی حق تلفی نہ کرو اور انہیں ایذا نہ دو ۔
Ayah 4:35

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا Open ayah 4:35 in the Quran reader

اور اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں آپس میں ضد رکھتے ہیں تو کھڑا کرو ایک منصف مرد والوں میں سے اور ایک منصف عورت والوں میں سے28 اگر یہ دونوں چاہیں گے کہ صلح کرادیں تو اللہ موافقت کردے گا ان دونوں میں بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے

28 چودہواں حکم رعیت :۔ (اگر خاوند بیوی کے درمیان اختلاف پیدا ہوجائے تو اصلاح کی کوشش کرو) اگر خاوند بیوی کے درمیان اختلاف شقاق و مخالفت کی حد تک پہنچ جائے اور وعظ و نصیحت اور مار پیٹ کے بعد بھی ان کے درمیان صلح کی کوئی صورت نظر نہ آئے تو مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ان کے درمیان اصلاح کی کوشش کریں اس طرح کہ دونوں کے رشتہ داروں سے ایک ایک سمجھدار اور معاملہ فہم آدمی منتخب کر کے ان کو زوجین کے درمیان اصلاح پر مقرر کریں۔ اِنْ یُّرِیْدَا اِصْلَاحاً یُّوَفِّقِ اللہُ بَیْنَھُمَا۔ یُرِیْدَا سے دونوں حکم مراد ہیں۔ اور بَیْنَھُمَا کی ضمیر زوجین کی طرف راجع ہے یعنی اگر وہ دونوں حکم نیک نیتی سے خاوند بیوی کے درمیان اصلاح کی کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں الفت و محبت ڈالدے گا اور ان کے درمیان موافقت کردے گا۔ ای ان قصدا اصلاح ذات البین وکانت نیتھما صحیحۃ وقلوبھما انا صحۃ لوجہ اللہ تعالیٰ (یُوَفِّقِ اللہُ بَیْنَھُمَا) یوقع بین الزوجین الموافقۃ والالفۃ والقی فی نفوسھما المودۃ والرافۃ (ابو السعود ج 3 ص 320) یہاں تک رعیت کے لیے چودہ امور انتظامیہ یا بالفاظ دیگر احکام رعیت مذکور ہوئے۔
Ayahs 4:36–39

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ Open ayah 4:36 in the Quran reader

اور بندگی کرو اللہ کی اور شریک نہ کرو اس کا کسی کو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو29 اور قرابت والوں کے ساتھ اور یتیموں اور فقیروں اور ہمسایہ قریب اور ہمسایہ اجنبی اور پاس بیٹھنے والے اور مسافر کے ساتھ اور اپنے ہاتھ کے مال یعنی غلام باندیوں کے ساتھ بیشک اللہ کو پسند نہیں آتا اترانے والا بڑائی کرنے والا

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ Open ayah 4:37 in the Quran reader

وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اور سکھاتے ہیں لوگوں کو بخل اور چھپاتے ہیں جو ان کو دیا اللہ نے اپنے فضل سے اور تیار کر رکھا ہے ہم نے کافروں کے لئے عذاب ذلت کا

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا Open ayah 4:38 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال لوگوں کے دکھانے کو اور ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور نہ قیامت کے دن پر اور جس کا ساتھی ہوا شیطان تو وہ بہت برا ساتھی ہے

وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا Open ayah 4:39 in the Quran reader

اور کیا نقصان تھا ان کا اگر ایمان لاتے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور خرچ کرتے اللہ کے دئیے ہوئے میں سے اور اللہ کو ان کی خوب خبر ہے

29 احکام رعیت بیان کرنے کے بعد اصل مسئلہ توحید کا ذکر فرمایا۔ اُعْبُدُوْا اللہَ صرف خدائے واحد کی عبادت بجا لاؤ صرف اسے ہی پکارو قال ابن عباس المعنی وحدوہ (کبیر ج 3 ص 321) وَلَاتُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئاً اور اس کی عبادت اور پکار میں اس کی کسی مخلوق کو اس کا شریک نہ بناؤ نہ پیغمبروں اور ولیوں کو نہ فرشتوں اور جنوں کو۔ اس کے بعد وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً سے لے کر وَ کَانَ اللہُ بِھِمْ عَلِیْماً تک چار چیزیں بیان کی گئی ہیں (والدین) دوسرے روشتہ داروں، یتیموں، غریبوں، پڑوسیوں، مسافروں غلاموں اور دیگر مستحقین پر احسان کرو۔ حسن سلوک سے پیش آؤ اور ان کی مالی امداد کرو۔ وَالْجَارِ ذِیْ الْقُرْبیٰ وہ پڑوسی جس کا گھر تمہارے گھر سے متصل ہو یا وہ پڑوسی جو تمہارا رشتہ دار ہو۔ وَالْجَارِ الْجُنُبِ جس کا گھر تم سے ذرا فاصلہ پر ہو یا وہ جو تمہارا رشتہ دار نہ ہو قال ابن عباس و مجاھد و عکرمۃ والضحاک و قتادۃ و ابن زید و مقاتل فی اخرین ھو الجار القریب النسیب والجار الجنت ھو الجار الاجنبی لاقرابۃ بینک و بینہ (بحر ج 3 ص 244 ۔ وَالْجَارِ ذِیْ الْقُرْبیٰ قیل ھو الذی قرب جو ارہ والجار الجنب ھو الذی بعد جو ارہ (کبیر ج 3 ص 322) اور اَلصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ سے مراد رفیق سفر (طلب علم تجارت وغیرہ میں) ہے یا بیوی مراد ہے یہ بھی ممکن ہے کہ آیت کے عموم میں دونوں داخل ہوں و قد تتناول الایۃ الجمیع بالعموم (قرطبی ج 5 ص 189 ۔ (2) وَالَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ سے عَذَاباً مُّھِیْناً تک ان لوگوں کے لیے تخویف ہے جو مذکورہ بالا مصارف میں خرچ نہیں کرتے۔ یہاں اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ سے معلوم ہوا کہ بخل سے بخل کا درجہ کامل مراد ہے یعنی وہ اللہ کی راہ میں خرچ بھی نہ کریں اور اللہ پر ایمان بھی نہ لائیں۔ (3) وَالَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ سے فَسَاءَ قَرِیْناً تک بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ صحیح مصارف میں مال خرچ نہیں کرتے اور اگر کرتے بھی ہیں تو محض ریاکاری اور نام و نمود کیلئے کرتے ہیں، خوف خدا یا ثواب آخرت کی وجہ سے نہیں کرتے در اصل خدا اور آخرت پر ان کا ایمان نہیں ہے شیطان ان کا ساتھی اور ہمدم ہے جو انہیں گمراہ کر رہا ہے۔ (4) وَ مَا ذَا عَلَیْھِمْ سے کَانَ اللہُ بِھِمْ عَلِیماً تک ان لوگوں کیلئے زجر اور تخویف اخروی ہے اگر یہ لوگ اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان لے آتے اور اللہ کی دی ہوئی دولت سے اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرتے تو اس میں ان کا کیا نقصان تھا۔ یہاں بھی بخل کا درجہ کامل مراد ہے یعنی خرچ نہ کریں اور اعتقاد بھی نہ رکھیں مراد مشرکین ہیں۔
Ayah 4:40

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:40 in the Quran reader

بیشک اللہ حق نہیں رکھتا کسی کا ایک ذرہ برابر30 اور اگر نیکی ہو تو اس کو دونا کردیتا ہے اور دیتا ہے اپنے پاس سے بڑا ثواب

30 یہاں احسان کرنے کی ترغیب دی گئی ہے کہ اب وقت ہے مال خرچ کرلو۔ اب احکام خداوندی کے مطابق خرچ کرنے کا اجر وثواب آخرت میں کئی گنا ملیگا اس لیے اس موقع کو ہاتھ سے مت جانے دو ۔