4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 4:160–161

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

سو یہود کے گناہوں کی وجہ سے107 ہم نے حرام کیں ان پر بہت سی پاک چیزیں جو ان پر حلال تھیں اور اس وجہ سے کہ روکتے تھے اللہ کی راہ سے بہت

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور اس وجہ سے کہ سود لیتے تھے اور ان کو اس کی ممانعت ہوچکی تھی اور اس وجہ سے کہ لوگوں کا مال کھاتے تھے ناحق اور تیار کر رکھا ہے ہم نے کافروں کے واسطے جو ان میں ہیں عذاب دردناک

ٖ 107 پہلے فَبِمَا نَقْضِہِم وَ قَوْلَہِمْ ، وَ کُفْرِہِمْ وَ قَتْلِہِمْ سے یہود کی خباثتیں بیان کیں اور ان کی جزا بیان نہیں کی تھی اس لیے بعد عہد کی وجہ فَبِظُلْمٍ کی جامع تعبیر سے ان کی خباثتوں کے ذکر کا اعادہ کیا اور پھر حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ سے ان کی سزا بیان کی یعنی یہ حرمت طیبات کا حکم ان مزکورہ بالا اسباب کی بنا پر نافذ کیا گیا اور ان شرارتوں کی ان کو یہ سزا دی گئی کہ بعض حلال اور پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کردی گئیں۔ لیکن حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ یہاں طَیِّبَات سے وہ چیزیں مراد نہیں ہیں جو سورة انعام کی اس آیت میں مذکور ہیں۔ وَعَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ الایۃ (انعام رکوع 18) کیونکہ یہ چیزیں تو انجیل سے پہلے ہی حرام ہوچکی تھیں لہذا ان کی حرمت کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے انکار کی سزا کیونکر قرار دیا جاسکتا ہے اس لیے یہاں مراد یہ ہے کہ حکومت اور باقی انعامات ان سے چھین لیے گئے وَاَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ الخ یہ ان کے لیے تخویف اخروی ہے۔
Ayah 4:162

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

لیکن جو پختہ ہیں علم میں ان میں108 اور ایمان والے سو مانتے ہیں اس کو جو نازل ہوا تجھ پر اور جو نازل ہوا تجھ سے پہلے اور آفریں ہے نماز پر قائم رہنے والوں کو اور جو دینے والے ہیں زکوٰۃ کے اور یقین رکھنے والے ہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر سو ایسوں کو ہم دیں گے بڑا ثواب

108 یہ ان علماء اہل کتاب کیلئے بشارت ہے جو آخری پیغمبر اور آخری کتاب پر ایمان لے آئے تھے یہ پہلی زجروں سے متعلق ہے یعنی یہ یہود تو ایسی خباثتیں کرتے چلے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان نہیں لاتے اور قرآن کو نہیں مانتے مگر ان میں جو راسخ فی العلم علماء ہیں وہ تو سب کچھ مان چکے ہیں وہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات پر ایمان لاتے ہیں اسی طرح محمد ﷺ اور قرآن پر بھی ایمان لا چکے ہیں۔
Ayahs 4:163–165

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

ہم نے وحی بھیجی تیری طرف5 جیسے وحی بھیجی نوح پر109 اور ان نبیوں پر جو اس کے بعد ہوئے اور وحی بھیجی ابراہیم پر اور اسماعیل پر اور اسحاق پر اور یعقوب پر اور اس کی اولاد پر اور عیسیٰ پر اور ایوب پر اور یونس پر اور ہارون پر اور سلیمان پر اور ہم نے دی داؤد کو زبور

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور بھیجے ایسے رسول کہ جن کا احوال ہم نے سنایا تجھ کو اس سے پہلے اور ایسے رسول جن کا احوال نہیں سنایا تجھ کو اور باتیں کیں اللہ نے موسیٰ سے بول کر

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

بھیجے پیغمبر خوشخبری اور ڈر سنانے والے تاکہ باقی نہ رہے لوگوں کو اللہ پر الزام کا موقع رسولوں کے بعد اور اللہ زبردست ہے حکمت والا

ٖ 109 یہ یَسْئَلُکَ اَھْلُ الْکِتٰبِ یہود کو زجروں اور تخویفوں کے بعد اب یہاں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے جو اس سے پہلے رکوع میں گذر چکا ہے یعنی آہستہ آہستہ وحی بھیجنا کوئی آپ کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ آپ سے پہلے جتنے بھی پیغمبر گذرے ہیں حضرت نوح (علیہ السلام) تک سب کی طرف اسی طرح آہستہ آہستہ وحی بھیجی جاتی تھی۔ ھذا متصل بقولہ یَسْئَلُکَ اَھْلُ الْکِتٰبِ اَنْ تُنَزّلَ عَلَیْھِمْ کِتَاباً مِّنَ السَّمَاءِ ؟ علم تعالیٰ الیہ امر محمد ﷺ کامر من تقدمہ من الانبیاء (قرطبی ج 6 ص 15) فاللہ تعالیٰ اجاب عن ھذہ الشبھۃ بان ھؤلاء الانبیاء الاثنی عشر کلھم کانوا انبیاء و رسلا مع ان اواحدا منھم ما اتی بکتاب مثل التوراۃ دفعۃ واحدۃ (کبری ج 3 ص 508) اور زَبُوْراً میں تنوین تعظیم کے لیے ہے اور زبور کا علیحدہ ذکر کر کے اس طرف اشارہ فرمایا کہ زبور جیسی شاندار کتاب بھی متفرق طور پر نازل ہوئی۔ گیارہ پیغمبروں کا نام بنام ذکر کر کے بعد میں فرمایا کہ ان کے علاوہ بہت سے رسول ایسے بھی گذرے ہیں جن کا ذکر ہم نے آپ سے نہیں کیا ان پر بھی تمام احکام کی وحی دفعۃً نازل نہیں ہوئی تھی۔ وَکَلَّمَ اللہُ مُوْسیٰ تَکْلِیماً باقی رہا تمہارا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دلیل لانا کہ ان پر تورات ایک ہی دفعہ نازل ہوئی تھی تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وحی تورات ہی میں منحصر نہیں تھی تورات کے علاوہ بھی ان پر وحی آتی تھی اور وہ تھوڑی تھوڑی ہی نازل ہوتی تھی۔
Ayahs 4:166–170

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

لیکن اللہ شاہد ہے اس پر جو تجھ پر نازل کیا کہ یہ نازل کیا ہے اپنے علم کے ساتھ110 اور فرشتے بھی گواہ ہیں اور اللہ کافی ہے حق ظاہر کرنے والا

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور روکا اللہ کی راہ سے وہ بہک کر دور جا پڑے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور حق دبا رکھا ہرگز اللہ بخشنے والا نہیں ان کو اور نہ دکھلاوے گا ان کو سیدھی راہ

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

مگر راہ دوزخ کی رہا کریں اس میں ہمیشہ اور یہ اللہ پر آسان ہے

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

اے لوگوں تمہارے پاس رسول آچکا ٹھیک بات لے کر تمہارے رب کی سو مان لو تاکہ بھلا ہو تمہارا اور اگر نہ مانو گے تو اللہ ہی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور ہے اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا

110 یہ اگر قرآن کو نہیں مانتے اور اس پر اعتراضات کرتے ہیں تو اس سے اس کی صداقت میں کوئی فرق نہیں آسکتا اس بات کی گواہی تو خود اللہ تعالیٰ دیتا ہے کہ اس کو اسی نے ہی نازل کیا ہے کیونکہ ایسی جامع بلند مضامین والی اور معجز کتاب غیر اللہ کی طرف سے نہیں ہوسکتی اس طرح قرآن خود ہی مشہود بہ اور خود ہی مشہود علیہ ہے پھر اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا سے تخویف اخروی ہے یعنی اے یہود اب بھی وقت ہے کفر و انکار اور ضد وعناد سے باز آجاؤ اور ایمان لے آؤ ورنہ یاد رکھو اللہ کے قبضہ سے نہیں بچ سکتے ہو کیونکہ ساری کائنات اس کے تصرف وا قتدار کے تحت ہے وہ تمہیں اس کی سخت سزا دے گا۔ یَا ایُّھَاالنَّاسُ قَدْ جَاءَکُمْ الرَّسُوْلُ سے خطاب عام کر کے حضرت پیغمبر ﷺ پر ایمان لانے کی ترغیب دی کہ اس پر ایمان لاؤ اور مسئلہ توحید مان لو اور اللہ کے سوا حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کو پکارنا چھوڑ دو کیونکہ وہ الہ نہیں ہیں الہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
Ayah 4:171

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ Open ayah 4:171 in the Quran reader

اے کتاب والو مت مبالغہ کرو اپنے دین کی بات میں111 اور مت کہو اللہ کی شان میں مگر پکی بات بیشک مسیح جو ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا وہ رسول ہے112 اللہ کا اور اس کا کلام ہے جس کو ڈالا مریم کی طرف اور روح ہے اس کے ہاں کی سو مانو اللہ کو اور اس کے رسولوں کو اور نہ کہو کہ خدا تین ہیں اس بات کو چھوڑو بہتر ہوگا تمہارے واسطے بیشک اللہ معبود ہے اکیلا اس کے لائق نہیں ہے کہ اس کے اولاد ہو اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور کافی ہے اللہ کار ساز

111 حضرت شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ خطاب نصاری سے ہے کیونکہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو انہوں نے ہی الٰہ بنایا تھا لیکن امام نسفی فرماتے ہیں کہ یہ خطاب یہود و نصاری دونوں سے ہے اور یہی راجح ہے کیونکہ پہلے کی تمام زجریں یہود سے متعلق ہیں یعنی اے یہود عیسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں برا نہ کہو اور وہ معبود نہیں اور آخری پیغمبر پر بھی اعتراض نہ کرو دونوں کو مانو، ہاں تین خدا مت کہو (وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَۃً ۔ غلو کے معنی حد سے تجاوز کرنے کے ہیں اور یہ دونوں فریق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں حد سے گذر چکے تھے یہودی ان کی شان میں گستاخی کرتے اور کہتے تھے کہ العیاذ باللہ وہ زانیہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ کو ان کے رتبے سے بڑھا کر خدا کا بیٹا اور اس کا نائب سمجھنے لگے تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دونوں جماعتوں کو ان کے بارے میں غلو اور تجاوز عن الحد سے منع فرمایا۔ لا تجاوزوا الحد فغلت الیھود فی حط المسیح من منزلتہ حتی قالوا انہ ابن الزبنا و غلت النصاریٰ فی رفعہ عن مقدارہ ھیث جعلوہ ابن اللہ (مدارک ج 1 ص 206) 112 حضرت مسیح مریم صدیقہ کا بیٹا ہے جو معجزانہ طور پر محض کلمہ کن سے بغیر باپ حضرت مریم کے بطن سے پیدا ہوئے اور وہ اللہ کے سچے رسول ہیں اس لیے انہیں ابن زانیہ مت کہو بلکہ دوسرے انبیا (علیہم السلام) کی طرح ان پر بھی ایمان لاؤ اور عیسائیوں سے فرمایا۔ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلَاثۃٌ یعنی تین خدا مت کہوا الٰہ تو ایک ہی ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اس لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الہ مت کہو بلکہ ان کو اللہ کا رسول مانو۔
Ayahs 4:172–173

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا Open ayah 4:172 in the Quran reader

مسیح کو اس سے ہرگز عار نہیں کہ وہ بندہ ہو اللہ کا113 اور نہ فرشتوں کو جو مقرب ہیں اور جس کو عار آوے اللہ کی بندگی سے اور تکبر کرے سو وہ جمع کرے گا ان سب کو اپنے پاس اکٹھا

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:173 in the Quran reader

پھر جو لوگ ایمان لائے اور عمل کئے انہوں نے اچھے تو ان کو پورا دے گا ان کا ثواب اور زیادہ دے گا اپنے فضل سے اور جنہوں نے عار کی اور تکبر کیا سو ان کو عذاب دے گا عذاب دردناک اور نہ پاویں گے اپنے واسطے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ مددگار

113 یہ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلَاثَۃ سے متعلق ہے استنکاف کے معنی ناک بھوں چڑھانے کے ہیں یعنی اس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی توہین یا تخفیف نہیں کیونکہ وہ تو خود اللہ کی عبادت سے نفرت نہیں کرتے اور اس کا بندہ اور عابد ہونے سے ناک بھوں نہیں چڑھاتے پھر تم انہیں کو معبود بناتے ہو یہی حال فرشتوں کا ہے وَمَنْ یَّسْتَنْکِف زجر ہے اور فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلحت بشارت اخروی ہے۔ وَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْکَفُوا الخ تخویف اخروی ہے۔
Ayahs 4:174–175

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:174 in the Quran reader

اے لوگوں تمہارے پاس پہنچ چکی تمہارے رب کی طرف سے سند114 اور اتاری ہم نے تم پر روشنی واضح

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ Open ayah 4:175 in the Quran reader

سو جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کو مضبوط پکڑا تو ان کو داخل کرے گا اپنی رحمت اور فضل میں اور پہنچا دے گا ان کو اپنی طرف سیدھے راستہ پر

114 یہاں سے آنحضرت ﷺ اور قرآن پر ایمان لانے کی ترغیب ہے۔ اور پھر فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَ اعْتَصمُوْا سے ایمان لانے والوں کے لیے اخروی بشارت ہے۔ برھانٌ سے آنحضرت ﷺ اور نور سے قرآن مجید مراد ہے ای رسولہ یبھر المنکر بالاعجاز (وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ نُوْراً مُّبِیْناً ) قراٰنا یستضاء بہ فی ظلمات الحیرۃ (مدارک ج 1 ص 207) یعنی برہان سے آنحضرت ﷺ مراد ہیں جو بذریعہ معجزات منکرین پر غالب آئے اور نور مبین سے مراد قرآن ہے جس کے ذریعے شکوک و شبہات اور حیرت کے اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اسی طرح امام ثوری اور حسن سے منقول ہے (بُرْھَانٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ ) یعنی محمد ﷺ والنور المنزل ھو القراٰن (قرطبی ج 6 ص 27) علی ہذا۔ حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ، سدی سے بھی یہی منقول ہے (روح ج 6 ص 42)
Ayah 4:176

یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 4:176 in the Quran reader

حکم پوچھتے ہیں تجھ سے سو کہہ دے اللہ حکم بتاتا ہے تم کو کلالہ کا115 اگر کوئی مرد مرگیا اور اس کے بیٹا نہیں اور اس کے ایک بہن ہے تو اس کو پہنچے آدھا اس کا جو چھوڑ مرا اور وہ بھائی وارث ہے اس بہن کا اگر نہ ہو اس کے بیٹا116 پھر اگر بہنیں دو ہوں تو ان کو پہنچے دو تہائی اس مال کا جو چھوڑ مرا اور اگر کئی شخص ہوں اسی رشتہ کے کچھ مرد اور کچھ عورتیں تو ایک مرد کا حصہ ہے برابر دو عورتوں کے بیان کرتا ہے اللہ تمہارے واسطے تاکہ تم گمراہ نہ ہو117 اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے118

115 یہ سورت کا خاتمہ ہے اور احکام رعیت میں سے حکم وراثت پر تنویر ہے یعنی مسئلہ کلالہ پر چونکہ کلالہ کی بعض صورتیں گذشتہ آیت میں مذکور نہ تھیں اس لیے ان کے بارے میں لوگوں نے سوال کیا تو اس کے جواب میں تفصیلی شقوں کے ساتھ یہ آیت نازل ہوئی۔ نیز آیت کی ابتداء میں احکام کا بیان تھا اس لیے خاتمہ میں بھی احکام بیان کر کے اس طرف اشارہ فرمایا کہ اس سورت کا اصلی مقصد بیان احکام ہے اور اس سورت کا ربط آل عمران سے یہ بھی ہے کہ اس میں عدم اعتقاد عبادت و پکار کے اعتبار سے شرک کی نفی تھی یہاں عدم اعتقاد احکام کے اعتبار سے شرک کی نفی ہے یہی وجہ ہے احکام میراث کی مخالفت اور قتل عمد پر خلود فی النار کی وعید سنائی گئی جیسا کہ وَمَنْ یَّقْتُلْ مُوْمِناً مُتَعَمِّداً کے تحت گذر چکا ہے۔ کلالہ کا حکم پہلے رکوع 2 میں بھی گزر چکا ہے یہاں پھر اس کا حکم بیان کیا گیا ہے بظاہر دونوں حکموں میں تضاد معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں تضاد نہیں کیونکہ کلالہ یعنی جس کے اصول و فروع میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو اگر مرجائے تو اس کی تین صورتیں ہیں اول یہ کہ اس کے مادری بھائی بہنیں اس کے وارث ہوں۔ دوم یہ کہ پدری ہوں۔ سوم یہ کہ عینی ہوں تینوں کے احکام مختلف ہیں۔ دوسرے رکوع میں پہلی صورت کا حکم بیان کیا گیا تھا اب یہاں باقی دو صورتوں کا حکم بیان کیا گیا ہے اس لیے یہاں اُخْتٌ سے عینی (ماں باپ دونوں کی طرف سے) اور پدری بہن مراد ہے۔ والمراد بالاخت الاخت من الابوین والاب لان الاخت من الام فرضھا الروس قد مر بیانہ فی صدر السورۃ الکریمۃ (روح ج 6 ص 44) اس آیت میں کلالہ کی وراثت کی چار صورتیں مذکور ہیں پہلی صورت میں صاحب فرض صرف اس کی مذکورہ بالا بہن ہی ہو تو ترکہ کا نصف اسے بطور فرض ملیگا اور باقی عصبات میں تقسیم ہوگا اگر عصبات نہ ہوں تو باقی نصف بھی بطور رد کلالہ کی بہن کو ملیگا۔ 116 یہ دوسری صورت ہے اگر بھائی وارث ہو اور اس کی بہن مرجائے اور اس کے کوئی اولاد نہ ہو تو بھائی اس کے سارے ترکہ کا وارث ہوگا ای الاخ یرث الاخت جمیعھا لھا ان قدر الامر علی العکس من موتھا او بقائہ (مدارک ج 1 ص 207) ۔ تیسری صورت فَاِنْ کَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَھُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَکَ اور اگر کلالہ کی دو بہنیں ہوں تو ان کو بدستور مذکور ترکہ کا دوتہائی ملیگا۔ چوتھی صورت وَاِنْ کَانُوْا اِخْوَۃً رِّجَالاً وَ نِسَاءً اور اگر کلالہ کے ورثاء اس کے بھائی اور بہنیں مخلوط ہوں تو ترکہ کی تقسیم لِلذَّکَرَ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ کے طریق پر ہوگی یعنی ترکہ اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ بہن کو بھائی سے نصف ملے۔ 117 یہاں اَنْ تَضِلُّوْا سے پہلے کراھۃ مضاف مقدر ہے اور یہ یُبَیِّنُ کا مفعول لہ ہے بصرہ کے نحویوں اور امام مبرد کی رائے یہی فقدرہ البصری والمبرد وغیرہ کراھۃ ان تضلوا (بحر ج 3 ص 409) یعنی اللہ تعالیٰ اس طرح تمہارے لیے کھول کر حال یہ بیان کرتا ہے کیونکہ وہ تمہارے سیدھی راہ سے بھٹک جانے کو پسند نہیں کرتا۔ کو فیوں کے امام فراء، زجاج اور کسائی کے نزدیک یہاں اَنْ سے پہلے لام اور اس کے بعد لا مقدر ہے ای لئلا تَضِلُّوْا (روح) یعنی اللہ تعالیٰ احکام اس لیے بیان کرتا ہے کہ تم بھول اور بھٹک نہ جاؤ۔ 118 اللہ تعالیٰ تمہاری زندگی اور موت سے متعلقہ تمام احوال و واردات کو خوب جانتا ہے اور اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے اس لیے وہ تمہارے لیے احکام بیان فرماتا ہے جس میں تمہاری مصلحت اور تمہارا دینی اور دنیوی فائدہ ہو۔ سورة نساء میں آیات توحید مع مختصر خلاصہ جات۔ 1 ۔ وَاعْبُدُوْا اللہَ وَ لَا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا (رکوع 2) نفی شرک فی الدعاء 2 ۔ اِنَّ اللہَ لَایَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَاءُ وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللہِ فَقَدِ افْتَریٰ اِثْماً عَظِیْمًا (رکوع 7) نفی شرک ہمہ اقسام۔ 3 ۔ اَللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ (رکوع 11) نفی شرک ہمہ اقسام۔ 4 ۔ اِنَّ اللہَ لَایَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَاء وَ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالاً بَعِیْداً (رکوع 18) نفی شرک ہمہ اقسام۔ 5 ۔ اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ اِلّااِنٰثاً وَّ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطَاناً مَّرِیْداً ۔ لَّعَنَہٗ اللہُ (ایضاً ) نفی شرک اعتقادی۔ 6 ۔ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْباً مَّفْرُوْضاً ۔ تا۔ وَمَا یَعِدُ ھُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْراً (ایضا) نفی شرک فعلی۔۔ لَّعَنَہٗ اللہُ (ایضاً ) نفی شرک اعتقادی۔ 6 ۔ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْباً مَّفْرُوْضاً ۔ تا۔ وَمَا یَعِدُ ھُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْراً (ایضا) نفی شرک فعلی۔ 7 ۔ یَا اَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْ ا فِیْ دِیْنِکُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَی اللہِ اِلَّا الْحَقَّ ۔ اِنَّمَا الْمَسِیحُ عِیْسیَ ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللہِ وَ کَلِمَتُہٗ اَلْقٰہَا اِلیٰ مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْہُ فَاٰمِنُوْا بِا اللہ وَ رُسُلِہٖ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَۃٌ اِنْتَھُوْا خَیْراً لَّکُمْ اِنَّمَا اللہُ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ، سُبْحٰنَہٗ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗ وَلَدٌ۔ لَہٗ مَا فِیْ السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْض۔ وَ کَفیٰ بِاللہ وَکِیلاً (رکوع 23) نفی شرک اعتقادی و فعلی۔ 8 ۔ لَنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّکُوْنَ عَبْداً لِّلّٰہِ وَلَا الْمَلٓئِکَۃُ الْمُقَرَّبُوْنَ وَ مَنْ یَّسْتَنْکِفَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَ یَسْتَکْبِْ فَسَیَحْشُرُھُمْ اِلَیْہِ جَمِیْعاً (رکوع 24) نفی شرک اعتقادی و فعلی۔