4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsجواھر القرآن

Ayah 4:41

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ Open ayah 4:41 in the Quran reader

پھر کیا حال ہوگا جب بلاویں گے ہم ہر امت میں سے احوال کہنے والاف 31 اور بلاویں گے تجھ کو ان لوگوں پر احوال بتانے والا

31 یہ ما قبل کی تخویف کا تکملہ ہے یعنی جب قیامت کے دن گذشتہ امتوں کے منکرین کے خلاف ان کے انبیاء (علیہم السلام) گواہی دے رہے ہوں گے اور اے محمد ﷺ آپ اپنے زمانہ کے ان مشرکین و کفار کے خلاف گواہی دیں گے اس وقت ان کا کیا حال ہوگا۔ اس وقت ان کی حالت ناگفتہ بہ ہوگی اور شدت ہول اور خوف عذاب کی وجہ سے وہ خواہش کریں گے کہ زمین میں سما جائیں جیسا کہ اگلی آیت میں مذکور ہے کیف یکون حالھم اذا جئنا یوم القیمۃ من کل امۃ من الامم وطائفۃ من الطوائف بشھید یشھد علیھم بما کانوا علیہ من فساد العقائد و قبائح الاعمال و نبیھم (روح ج 5 ص 34) ۔ اس آیت میں آنحضرت ﷺ کیلئے لفظ شہید استعمال ہوا ہے جس سے اہل بدعت آپ کے ہر امتی کیساتھ حاضر و ناظر ہونے پر استدلال کرتے ہیں مگر یہ استدلال صحیحہ نہیں کیونکہ شہید کے معنی یہاں رقیب اور نگہبان کے ہیں اور پھر یہ نگہبانی بھی آنحضرت ﷺ کی زندگی سے مخصوص تھی جیسا کہ صحیح بخاری (ج 2 ص 665) میں ہے کہحضور ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میری امت کے کچھ لوگوں کو جہنم کی طرف لے جایا جائیگا تو میں اللہ تعالیٰ سے عرض کروں گا یہ تو میرے امتی ہیں اس پر مجھے جواب دیا جائیگا کہ آپ کے جو بعد ان لوگوں نے جو کچھ کیا ہے وہ آپ کو معلوم نہیں تو :۔ فاقول کما قال العبد الصالح و کنت علیھم شھیداً ما دمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم (میں اس کے جواب میں وہی کچھ کہوں گا جو اللہ کا نیک بندہ عیسیٰ (علیہ السلام) کہے گا کہ جب تک میں ان میں موجود تھا ان پر نگران رہا اور جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگہبان تھا) اس لیے اس آیت سے آپ کے ہر زمانہ میں ہر جگہ حاضر و ناظر ہونے پر استدلال درست نہیں لفظ شہید کی پوری بحث سورة بقرہ رکوع 17 کی تفسیر میں آیت وَ یَکُوْنُ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْداً کے تحت گذر چکی ہے۔
Ayah 4:42

یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ١ؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:42 in the Quran reader

اس دن آرزو کرینگے وہ لوگ جو کافر ہوئے تھے اور رسول کی نافرمانی کی تھی کاش برابر کئے جاویں وہ زمین میں32 اور نہ چھپا سکیں گے اللہ سے کوئی بات

ٖ 32 یہاں کافروں اور نافرمانوں کا حال بیان کیا گیا ہے جس کی طرف پہلے اشارہ کیا گیا تھا استئناف لبیان حالھم التی اشیر الی شدقھا و نظاع تھا (روح ج 5 ص 34) لَوْ تُسَوّٰی میں لَوْ مصدریہ ہے اور جملہ بتاویل مفرد یَوَدُّ کا مفعول ہے۔ لو مصدریۃ ای یودون ان یدفنوا وتسی الارض ملتبسۃ بہم (روح) ۔
Ayah 4:43

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:43 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نزدیک نہ جاؤ نماز کے جس وقت کہ تم نشہ میں ہو33 یہاں تک کہ سمجھنے لگو جو کہتے ہو اور نہ اس وقت کہ غسل کی حاجت ہو مگر راہ چلتے ہوئے یہاں تک کہ غسل کرلو34 اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں یا آیا ہے کوئی شخص تم میں جائے ضرور سے یا پاس گئے ہو عورتوں کے پھر نہ ملا تم کو پانی تو ارادہ کرو زمین پاک کا پھر ملو اپنے منہ کو اور ہاتھوں کو بیشک اللہ ہے معاف کرنے والا بخشنے والا

33 یہ امر مصلح ہے چودہ امور انتظامیہ برائے رعیت بیان کر کے فرمایا صرف ایک اللہ کی عبادت کرو شرک سے بچو۔ اس کے بعد احسان کرنے اور ظلم سے بچنے کی تلقین فرمائی اور زجر و تخویف کے ذریعے احسان و انفاق پر اکسایا اور سب سے آخر میں امر مصلح یعنی نماز کا ذکر فرمایا کیونکہ نماز احسان کرنے ظلم و حق تلفی سے بچنے اور توحید پر قائم رہنے میں ممد و معاون ہے نماز سے دلوں میں الفت و محبت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے خصوصاً نماز با جماعت کی برکت سے دلوں کی تمام کدورتیں صاف ہوجاتی ہیں اور آدمی اپنے بھائی بندوں اور رشتہ داروں پر آمادہ انعام و احسان ہوجاتا ہے جیسا کہحضور ﷺ کا ارشاد ہے سَوُّوْا صُفُوْفَکُمْ او لیخالفن اللہ بین قلوبکم (مشکوۃ ص 97 بحوالہ مسلم) یعنی صفیں سیدھی کیا کرو ورنہ تمہارے دلوں میں باہمی نفرت و عداوت پیدا ہوجائے گی اس سے معلوم ہوا کہ نماز باجماعت ادا کرنے اور صفیں سیدھی رکھنے سے دلوں میں الفت پیدا ہوگی۔ اسی طرح نماز کی پابندی سے نمازی کے دل میں گناہوں سے نفرت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ متقی بن جاتا ہے۔ حدیث میں ہے جب انسان نماز میں قیام کرتا ہے تو گویا وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہو کر عاجزی کر رہا ہے اور اس پر اللہ کی رحمت برس رہی ہے، جب رکوع میں جاتا ہے تو رحمت خداوندی کے دریا میں غوطہ لگانے کیلئے تیار ہوجاتا ہے اور جب سجدہ میں جاتا ہے تو گویا دریائے رحمت میں غوطہ لگا رہا ہے اور گویا خدا کے قدموں پر سر رکھدیا ہے پھر جس طرح قدموں پر گرے ہوئے سے کہا جاتا ہے کہ اب سر اٹھاؤ اسی طرح باری تعالیٰ نے حکم دیا کہ اب سر اٹھالے وہ شخص اٹھا کر پھر دوبارہ قدموں پر گر پڑتا ہے (کنز العمال) بدن کی طہارت اور وضو چونکہ نماز کے مصحح ہیں اور ان کے سوا نماز جائز نہیں ہوسکتی اس لیے نماز کے ساتھ بدن کی طہارت اور وضو کے احکام بیان کردئیے گئے اس طرح طہارت بھی بالواسطہ احسان کرنے پر ممد ہے۔ 34 حَتّیٰ تَغْتَسِلُوْا۔ جُنُباً سے متعلق ہے اور عَابِرِیْ سَبِیْلٍ سے مسافرین مراد ہیں۔ الا ان تکونوا مسافرین (مدارک ج 1 ص 176) اور یہ ما قبل سے مستثنی ہے یعنی حالت جنابت میں نماز کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ غسل کرلو البتہ اگر تم حالت سفر میں جنبی ہوجاؤ اور پانی نہ ملے تو تیمم کرلو۔ اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ یا یہاں صنعت است خدام کے ماتحت حتی تعلموا ما تقولون تک الصلوۃ سے نماز مراد ہے اور وَ لَا جُنُباً میں الصلوۃ سے مواضع الصلوۃ یعنی مسجدیں مراد ہیں۔ اور عابری سبیل سے مسجدوں سے گذرنا مراد ہے مطلب یہ کہ بحالت جنابت تم مسجد سے گذر سکتے ہو جیسا کہ امام شافعی کا مذہب ہے وَ لَا جُنُباً ای و لا تقربوا المسجد جنبا الا عابری سبیل الا مجتازین فیہ (مدارک) اَوْ جَاءَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِنَ الْغَائِطِ ۔ یہاں او بمعنی واؤ حالیہ ہے کیونکہ اگر او اپنے اصل معنی پر رہے اس سے لازم آئیگا کہ مریض اور مسافر پر بغیر حدث بھی تیمم ضروری ہے حالانکہ ایسا نہیں قال الرازی معناہ وجاء حتی لا یلزم المریض و المسافر التیمم بلا حدث (مدارک ج 1 ص 212) بعض نے کہا ہے کہ یہاں او زائدہ ہے اور بعض نے اس سے قبل کوئی مناسب معطوف علیہ محذوف مانا ہے لیکن سب سے اولی یہ ہے کہ او کبھی تغایر مفہوم کیلئے بھی آتا ہے جیسا کہ مسلم الثبوت میں ہے۔ قالہ الشیخ الانور (رح)۔
Ayahs 4:44–45

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 4:44 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جن کو ملا ہے کچھ حصہ کتاب سے35 خرید کرتے ہیں گمراہی اور چاہتے ہیں کہ تم بھی بہک جاؤ راہ سے

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا Open ayah 4:45 in the Quran reader

اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو اور اللہ کافی ہے حمایتی اور اللہ کافی ہے مددگار

35 اَلَمْ تَرَ اِلیَ الَّذِیْنَ سے فَلَا یُؤْمِنُونَ اِلَّا قَلِیْلاً تک یہود پر زجریں اور شکوے ہیں کہ وہ مذکورہ احکام کو نہیں مانتے تھے کیونکہ یہ احکام رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے ہیں نیز وہ آپ کی تکذیب کرتے اور ان کی کتابوں میں آپ کی جو صفتیں مذکور تھیں ان میں تحریف کرتے تھے کیونکہ آپ کو آخری پیغمبر مان لینے کی صورت میں آپ کا لایا مسئلہ توحید بھی ماننا پڑے گا اور مسئلہ توحید کو ماننے سے ان کی گدیاں نذریں، منتیں اور تمام دنیوی وقار ختم ہوجائے گا۔ ان سے فرمایا کہ اگر وہ آخری پیغمبر کو مان لیتے تو ان کے لیے بہتر تھا۔ یَشْتَرُونَ کے معنی یستبدلون کے ہیں اور مفعول کے بعد بالھدی محذوف ہے اور جملہ اوتوا کی ضمیر سے حال ہے۔ و معنی یشترون یستبدلون فھو فی موضع نصب علی الحال و فی الکلام حذف تقدیرہ یشترون الضللۃ بالھدی (قرطبی ج 242) مِنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا میں من بیانیہ ہے۔ اور یہ اَلَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْباً کا بیان ہے اور اَلْکَلِمَ سے آنحضرت ﷺ کی وہ صفات مراد ہیں جو تورات میں مذکور تھیں۔ یہودیوں کے مولوی ان میں تحریف کرتے تھے ان کی اسی تحریف کو پہلے اَلضَّلٰلَۃ سے تعبیر فرمایا۔ علماء یہود اپنے ماننے والوں اور اپنے معتقدین سے بڑی بڑی رقمیں وصول کرتے اور اپنی خواہشات کے مطابق تورات میں لفظی اور معنوی تحریفیں کیا کر تھے قال الزجاج النعی یاخذون الرشا ویحرفون التورۃ فالضلالۃ ھو ھذا لتحریف ای اشتروھا بمال الرشا (روح ج 5 ص 45)
Ayah 4:46

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

بعضے لوگ یہودی پھیرتے ہیں بات کو اس کے ٹھکانے سے اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا اور کہتے ہیں کہ سن نہ سنایا جائیو اور کہتے ہیں راعنا 36 موڑ کر اپنی زبان کو اور عیب لگانے کو دین میں اور اگر وہ کہتے ہم نے سنا اور مانا اور سن اور ہم پر نظر کر تو بہتر ہوتا ان کے حق میں اور درست لیکن لعنت کی ان پر اللہ نے ان کے کفر کے سبب سو وہ ایمان نہیں لاتے مگر بہت کم

36 یہ یہود کی ایک دوسری شرارت کا بیان ہے۔ منافقین و یہود ان الفاظ سے آنحضرت ﷺ کو خطاب کرتے یہ الفاظ ذو وجہین ہیں اور ان میں ایک پہلو مدح کا ہے دوسرا ذم کا۔ مدح کی صورت میں یہ اسمع فلان فلانا اذا سبہ سے ماخوذ ہے اور مطلب یہ ہے اِسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ مکروھا (مدارک ج 1 ص 178) یعنی خدا کرے آپ کوئی اور ناپسندیدہ بات نہ سننے پائیں اور ذم کی صورت میں اس کا مفہوم یہ ہے خدا کرے تمہارے کانوں تک بھلائی کی کوئی آواز نہ پہنچے یعنی (عیاذاً باللہ) تم بہرے ہوجاؤ ان الفاظ سے ان کی مراد تو دوسرے معنی ہوتے لیکن ظاہر یوں کرتے کہ وہ پہلے معنی مراد لے رہے ہیں اسی طرح لفظ رَاعِنَا بھی ذو وجہین ہے ایک مفہوم تو یہ ہے کہ گفتگو میں ہماری بھی رعایت فرمائیے اور ہماری طرف بھی توجہ دیجئے دوم یہ رعونت بمعنی حماقت سے اسم فاعل ہے اس میں بھی وہ نیت بد سے دوسرے معنی مراد لیتے یا یہ کہ وہ زبان کو موڑ کر لفظ راعنا کو اس طرح ادا کرتے کہ وہ راعینا بن جاتا جس کا مطلب ہے ہمارا چرواہا۔ لَیًّا حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ یہ مصدر بمعنی اسم فاعل یُحَرِّفُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے موہم الفاظ استعمال کرتے ہیں جن کا ایک پہلو صحیح ہوتا ہے لیکن اس میں ایک خفی پہلو شرک کا بھی ہوتا ہے جس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ اس قسم کے موہم شرک الفاظ مسلمانوں میں رائج ہوجائیں جو آگے چل کر شرک کا ذریعہ بنیں۔ چناچہ لفظ رَاعِنَا کو انہوں نے اسی لیے منتخب کیا کہ اس میں اچھے معنی کے ساتھ شرکیہ مفہوم کی بھی گنجائش ہے بظاہر اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارا خیال بھی فرمائیے اور ہماری طرف بھی توجہ دیجئے لیکن اس میں آپ کو نگہبانی اور حفاظت کیلئے پکارنے کا پہلو بھی موجود ہے جیسا کہ صراح میں ہے مراعاۃ نگہداشتن (یعنی نگہبانی کرنا) واسترعاء نگہداشتن خواستن (یعنی نگہبان بنانا) فی المثل من استرعی الذئب فقد ظلم یعنی جس نے بھیڑئیے کو ریوڑ کا نگہبان بنایا اس نے ظلم کیا۔ اس طرح یہاں لَیًّا کا وہی مفہوم ہے جو سورة آل عمران رکوع 8 میں اس آیت کا ہے۔ وَاِنَّ مِنْھُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَھُمْ بِالْکِتَابِ الایۃ دیگر مفسرین نے لَیًّا کو یَقُوْلُوْنَ سے متعلق کیا ہے۔ یعنی وہ اپنی زبانوں کو حق سے باطل کی طرف پھیرتے ہیں اور اللہ کی کتاب میں تحریف کرتے ہیں ای یلوون السنتھم عن الحق ای یمیلنھا الی ما فی قلوبھم (قرطبی ج 5 ص 243) یا یہ کہ وہ اپنی زبانوں کو ما فی الضمیر (دل کی بات) سے پھیر کر اس کے خلاف کا اظہار کرتے ہیں مثلاً دل میں تو پیغمبر خدا ﷺ کی تحقیر کا جذبہ موجزن ہے مگر زبان سے ایسے الفاظ ادا کرتے ہیں جن سے تعظیم و توقیر کا پہلو بھی نکلتا ہے اویفتلون بالسنتھم ما یضمرون من الشتم الی ما یظھرونہ من التوقیر نفاقا (مدارک ج 1 ص 178) ۔
Ayahs 4:47–48

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

اے کتاب والو ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے نازل کیا37 تصدیق کرتا ہے اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے پہلے اس سے کہ ہم مٹا ڈالیں بہت سے چہروں کو پھر الٹ دیں انکو پیٹھ کی طرف یا لعنت کریں ان پر جیسے ہم نے لعنت کی ہفتہ کے دن والوں پر اور اللہ کا حکم تو ہو کر ہی رہتا ہے

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

بیشک اللہ نہیں بخشتا اس کو جو اس کا شریک کرے اور بخشتا ہے اس سے نیچے کے گناہ جس کے چاہے اور جس نے شریک ٹھہرایا اللہ کا اس نے بڑا طوفان باندھا

37 یہ اہل کتاب کو ایمان لانے اور توحید کو مان لینے کی ترغیب ہے اور ساتھ ہی اخروی تخویف ہے یعنی اب وقت ہے ایمان لے آؤ قبل اس کے کہ ہمارا عذاب آجائے جب عذاب نازل ہوجائیگا پھر ایمان لانے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ زجروں اور تخویفوں کے درمیان ایک بار پھر زور دار الفاظ میں مقصود اصلی پر تنبیہ فرمادی کہ شرک کرنا اور توحید سے منہ موڑنا اتنا بڑا جرم اور کبیرہ گناہ ہے کہ وہ کسی کو بھی معاف نہیں ہوگا۔ یہ ناصحانہ انداز ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی واعظ حکیم اور ناصح مشفق دوران وعظ بہت سے مسائل بیان کرے اور درمیان میں کہہ دے کہ فلاں کام نہایت اہم اور ضرور ہے اور اس کا بجالانا ابدی ہے۔ پہلے احکام نوعیت بیان کر کے وَاعْبُدُوْا اللہَ وَ لَا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا سے اصل مسئلہ کی طرف متوجہ کیا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کی عبادت اور پکار میں کسی کو شریک نہ بناؤ۔ اس کے بعد بطور ترقی فرمایا شرک نہ کرو کیونکہ وہ ایک ناقابل معافی گناہ ہے اس سے ہر حال میں بچو یہ کسی حیلے سے معاف نہیں ہوگا۔
Ayahs 4:49–50

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جو اپنے آپ کو پاکیزہ کہتے ہیں38 بلکہ اللہ ہی پاکیزہ کرتا ہے جس کو چاہے اور ان پر ظلم نہ ہوگا تاگے برابر

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

دیکھ کیسا باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ اور کافی ہے یہی گناہ صریح

38 یہ اہل کتاب کو زجر ہے جو اپنی صفائی اور پاکیزگی کے دعوے کرتے تھے۔ حضرت قتادہ اور حسن فرماتے ہیں یہ آیت ان یہود و نصاریٰ کے حق میں نازل ہوئی جو کہتے تھے نَحْنُ اَبْنَاءُ اللہِ وَ اَحِبَّاءہ یعنی ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں نیز کہتے تھے لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ھُوْداً اَوْ نصَاریٰ یعنی جنت میں یہود و نصاریٰ کے بغیر کوئی نہیں جائیگا (قرطبی ج 5 ص 246 و روح ج 5 ص 54) اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوے کا ابطال فرمایا کہ ان کے اپنی پاکیزگی اور طہارت کے یہ دعوے سب غلط ہیں۔ پاک و طاہر تو وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ اس کے ایمان وعمل کی بنا پر پاک فرمائے۔ اُنْظُرْ کَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلیَ اللہِ الْکَذِبَ ۔ لیکن ان کے یہ دونوں دعوے اللہ پر صریح بہتان ہے کیونکہ ان دعو وں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان کو اپنا محبوب منتخب کیا ہے اور ان سے وعدہ کیا ہے کہ جنت ان کے لیے مخصوص اور ریزرو ہے حالانکہ یہ سراسر غلط اور خلاف واقع ہے۔ وافترائھم علی اللہ ھو قولھم نحن ابناء اللہ و احباءہ و قولھم لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا او نصاری (کبیر ج 3 ص 345) ۔
Ayahs 4:51–52

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا Open ayah 4:51 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جن کو ملا ہے کچھ حصہ کتاب کا جو مانتے ہیں بتوں کو اور شیطان کو39 اور کہتے ہیں کافروں کو کہ یہ لوگ زیادہ راہ راست پر ہیں مسلمانوں سے

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:52 in the Quran reader

یہ وہی ہیں جن پر لعنت کی ہے اللہ نے اور جس پر لعنت کرے اللہ نہ پاویگا تو اس کا کوئی مددگار

39 یہ بھی اہل کتاب کو زجر ہے وہ شیطان اور اصنام کی عبادت کرنیوالوں کو ہدایت یافتہ کہتے تھے اور اَلْجِبت سے بت اور ہر معبود غیر اللہ مراد ہے اور اَلطَّاغُوْتُ سے مراد شیطان ہے جو بتوں میں کلام کرتا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ بت بول رہا ہے۔ الجبت الاوثان والطاغوت شیاطین الاوثان و لکل صنم شیطان و یعبر عنہ فیغتر بہ الناس (معالم) سے متعلق ہے اور وَ یَقُوْلُوْنَ میں واو تفسیری ہے اور یَقُوْلُوْنَ ، یُؤْمِنُوْنَ کی تفسیر ہے۔ اہل کتاب کو اچھی طرح معلوم تھا کہ بت پرستی شرک ہے لیکن اس کے باوجود بت پرستی اور بت پرستوں کی نہ صرف حمایت کرتے تھے بلکہ ان مشرکوں کو مومنوں سے بہتر سمجھتے تھے تو ان کا یہ فعل محض بغض وحسد اور ضد وعناد کی وجہ سے تھا۔ لاشک انھم کانوا عالمین بان ذالک باطل فکان اقدامھم علی ھذا القول لمحض العناد والتعصب (کبیر ج 3 ص 345) ۔
Ayah 4:53

اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ Open ayah 4:53 in the Quran reader

کیا ان کا کچھ حصہ ہے سلطنت میں پھر تو یہ نہ دیں گے لوگوں کو ایک تل برابر 40

40 یہود آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں سے بہت زیادہ حسد رکھتے تھے کیونکہ ایک طرف اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکومت عطا فرمادی اور دوسری طرف اسلام دن بدن ترقی کر رہا تھا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ حسد کیوں کرتے ہیں کیا ان کے پاس سلطنت یا حکومت ہے جو ان سے مسلمانوں نے چھین لی ہے اگر ان کے پاس کسی جگہ کی حکومت ہوتی تو وہ اس سے پھوٹی کوڑی بھی کسی کو نہ دیتے جب ان کے پاس کچھ ہے ہی نہیں نہ ان سے کچھ چھینا گیا ہے تو ان کا حسد بلا وجہ ہے جیسا کہ سورة ص میں فرمایا۔ اَمْ عِنْدَھُمْ خَزَائِنُ رَحْمَۃِ رَبِّکَ الْعَزِیْزِ الْوَھَّاب۔
Ayah 4:54

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا Open ayah 4:54 in the Quran reader

یا حسد کرتے ہیں لوگوں کا اس پر جو دیا ہے ان کو اللہ نے اپنے فضل سے41 سو ہم نے تو دی ہے ابراہیم کے خاندان میں کتاب اور علم اور ان کو دی ہے ہم نے بڑی سلطنت

41 یہود کے حسد کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ ان کے پاس اگرچہ سلطنت نہیں ہے لیکن پیغمبر خدا ﷺ اور مسلمانوں کو کیوں ملی ہے یہ کب سلطنت اور نبوت کے لائق تھے تو اس کا جواب فرمایا کہ ہم نے اپنے فضل و رحمت سے جو نعمتیں مثلاً نبوت، علم و حکمت اور حکومت وغیرہ اپنے پیغمبر کو دی ہیں ان پر وہ حسد کرتے ہیں اور ان کو ان انعامات کا اہل نہیں سمجھتے حالانکہ یہ تمام نعمتیں ہم پہلے آل ابراہیم کو دے چکے ہیں آل ابراہیم کو ہم نے نبوت و رسالت بھی دی اور حکومت بھی جس سے معلوم ہوا کہ آل ابراہیم میں ان نعمتوں کی صلاحیت موجود ہے اور حضرت محمد ﷺ بھی تو آل ابراہیم ہی سے ہیں اس لیے ان میں کیوں صلاحیت نہیں اور اگر ان کو ہم نے اپنے انعامات و احسانات سے نوازا ہے تو کونسی قابل تعجب بات ہے۔ ال ابراہیم الذین ھم اسلاف محمد (علیہ السلام) وانہ لیس ببدع ان یوتیہ اللہ مثل ما اوتی اسلافہ (مدارک ج 1 ص 179) ۔
Ayahs 4:55–57

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا Open ayah 4:55 in the Quran reader

پھر ان میں سے کسی نے اس کو مانا اور کوئی اس سے ہٹا رہا42 اور کافی ہے دوزخ کی بھڑکتی آگ

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:56 in the Quran reader

بیشک جو منکر ہوئے ہماری آیتوں سے ان کو ہم ڈالیں گے آگ میں جس وقت جل جائے گی کھال ان کی تو ہم بدل دیویں گے ان کو اور کھال تاکہ چکھتے رہیں عذاب بیشک اللہ ہے زبردست حکمت والا

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا Open ayah 4:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور کام کئے نیک البتہ ان کو ہم داخل کرینگے باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں رہا کریں ان میں ہمیشہ ان کیلئے وہاں عورتیں ہیں ستھری اور ان کو ہم داخل کرینگے گھنی چھاؤں میں

ف 42 :۔ یہاں بیان فرمایا کہ اہل کتاب دو قسم کے لوگ تھے کچھ تو وہ تھے جو ایمان لاچکے تھے اور کچھ ایسے تھے جو ایمان نہیں لائے تھے۔ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْھِمْ ناراً الخ یہ منکرین اہل کتاب کیلئے اخروی تخویف ہے اور وَالَّذِیْن اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوْ ا الصّٰلِحٰت سَنُدْخِلُھُمْ الخ مومنین اہل کتاب کیلئے اخروی بشارت ہے یہاں تک احکام رعیت تھے اب احکام سلطانیہ کا بیان شروع ہوتا ہے۔
Ayahs 4:58–59

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 4:58 in the Quran reader

بیشک اللہ تم کو فرماتا ہے کہ پہنچا دو امانتیں امانت والوں کو43 اور جب فیصلہ کرنے لگو لوگوں میں تو فیصلہ کرو انصاف سے بیشک اللہ اچھی نصیحت کرتا ہے تم کو بیشک اللہ ہے سننے والا دیکھنے والا

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

اے ایمان والو ! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول ﷺ کا اور حاکموں کا جو تم میں سے ہوں پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو رجوع کرو طرف اللہ کے اور رسول ﷺ کے اگر یقین رکھتے ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر یہ بات اچھی ہے اور بہت بہتر ہے اس کا انجام

حصہ دوم (احکام سلطانیہ): پہلا حکم سلطانی : حقداروں کو ان کے حقوق دلواؤ اور فیصلے انصاف سے کیا کرو یہاں خطاب حکام اور امراء مسلمین کو ہے جیسا کہ حضرت علی اور دوسرے مفسرین سے منقول ہے۔ قال علی بن ابی طالب و زید بن اسلم و شھر بن حوشب وابن زید ھذا خطاب لولاۃ الملمین خاصۃ الخ (قرطبی ج 5 ص 256) یہاں حکام اور صاحب اقتدار طبقہ کو حکم دیا گیا کہ حقداروں کے حقوق لوگوں سے دلواؤ اور باہمی نزاعات اور جھگڑے عدل و انصاف سے طے کرو اور رعیت کو حکم دیا گیا کہ ایسے حکام کی فرمانبرداری کرو اور اپنے جھگڑے ایسے حکام کے پاس لے جایا کرو جو عدل و انصاف سے فیصلہ کیا کریں۔ حضرت شیخ (رح) نے فرمایا کہ اَمَانَات سے یہاں مراد عام ہے اور ہر قسم کی ذمہ داریوں اور عدل و انصاف کے فیصلوں کو شامل ہے الخطاب عام یتناول الولاۃ فیما الیھم من الامات فی قسمۃ الاموال ورد الظلامات و عدل الحکومات الخ (بحر ج 3 ص 277) ۔ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیءٍ الخ اس میں خطاب حکام اور رعایا سے ہے یعنی اگر حکام اور رعایا میں کسی معاملہ میں تنازع یا اختلاف پیدا ہوجائے تو اس کو ختم کرنے صورت یہ ہے کہ اس کے متعلق اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی طرف رجوع کیا جائے اور کتاب و سنت سے جو ہدایات ملیں ان پر عمل کیا جائے نہ یہ کہ چند انسانوں کی ایک مشاورتی ٹیم کو فیصل بنا کر اس کے فیصلوں کو حرف آخر کی حیثیت دی جائے۔
Ayahs 4:60–61

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:60 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ایمان لائے ہیں اس پر جو اترا تیری طرف44 اور جو اترا تجھ سے پہلے چاہتے ہیں کہ قضیہ لے جائیں شیطان کی طرف اور حکم ہوچکا ہے ان کو کہ اس کو نہ مانیں اور چاہتا ہے شیطان کہ ان کو بہکا کر دور جا ڈالے

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ Open ayah 4:61 in the Quran reader

اور جب ان کو کہے کہ آؤ اللہ کے حکم کی طرف جو اس نے اتارا اور رسول ﷺ کی طرف تو دیکھے تو منافقوں کو کہ ہٹتے ہیں تجھ سے رک کر

44 یہ اَطِیْعُوْا اللہَ وَ اَطِیْعُوْ الرَّسُوْلَ سے متعلق ہے اور ان منافقین یہود کیلئے زجر ہے جو دعوے کرتے تھے کہ وہ تورات کی تعلیم کے مطابق قرآن پر اور آخری پیغمبر پر دل و جان سے ایمان لا چکے ہیں مگر ان کا عمل ان کے اس دعویٰ کے سراسر خلاف تھا۔ امام ثعلبی اور ابن ابی حاتم نے حضرت عبداللہ بن عباس سے نقل کی ہے کہ ایک منافق بشر نامی کا ایک یہودی سے جھگڑا ہوگیا تو اس یہودی اور اس کے متعلقین نے اس منافق سے کہا کہ چلو یہ جھگڑا ہم تمہارے پیغمبر کے پاس لے چلتے ہیں تو اس منافق نے کہا کہ نہیں یہودیوں کے سردار کعب بن اشرف کے پاس چلو۔ آخر مقدمہ عدالت نبوی میں پہنچا آپ نے فریقین کے بیانات سن کر یہودی کے حق میں فیصلہ صادر فرما دیا۔ جس کا منافق کو بہت رنج ہوا وہاں سے اٹھ کر بشر نامی منافق نے یہودی سے کہا چلو حضرت عمر کے پاس چلیں اس کا خیال تھا کہ وہ مجھے مسلمان سمجھ کر میری طرفداری کریں گے لیکن وہاں پہنچ کر یہودی نے حضرت عمر سے کہہ دیا کہ رسول اللہ ﷺ اس مقدمے کا فیصلہ میرے حق میں فرما چکے ہیں لیکن بشر اس پر راضی نہیں ہوا۔ حضرت عمر نے یہ سنتے ہی اندر سے تلوار لا کر اس منافق کا سر تن سے جدا کردیا اور فرمایا جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر راضی نہ ہو میرے نزدیک اس کا فیصلہ یہی ہے۔ اس طرح اَلطَّاغُوْت سے یہاں کعب بن اشرف مراد ہے (روح ج 5 ص 67) لیکن عموم کے اعتبار سے طاغوت ہر معبودغیر اللہ پر بولا جاتا ہے اور اس آیت میں بھی عموم الفاظ کے پیش نظر طاغوت کو ہر معبود غیر اللہ پر محمول کرنے کی گنجائش ہے اس طرح آیت میں ان مشرکوں کے حال کا تذکرہ ہوگا جو بزرگان دین کے بتوں اور ان کی قبروں میں مافوق الفطرت کرشمے مان کر ان کی خانقاہوں پر اپنے جھگڑے لے جاتے ہیں جیسا کہ مشرکین مکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بت سے تقسیم کا فیصلہ لیتے تھے اور آجکل بعض جہلا فخر سے کہتے ہیں کہ تم فلاں بزرگ کی قبر پر ہاتھ رکھ دو یا اس کے روضے کی کنڈی کھول دو ۔ میں یہ چیز اس کی قبر پر رکھتا ہوں تم اٹھا لو۔ وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلیٰ مَآ اَنْزَلَ اللہُ وَ اِلیَ الرُّسُوْلِ اسی مذکورہ واقعہ سے متعلق ہے۔
Ayahs 4:62–63

فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا Open ayah 4:62 in the Quran reader

پھر کیا ہو کہ جب ان کو پہنچے مصیبت اپنے ہاتھوں کے کئے ہوئے سے45 پھر آویں تیرے پاس قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی ہم کو غرض نہ تھی مگر بھلائی اور ملاپ

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا Open ayah 4:63 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ جانتا ہے جو ان کے دل میں ہے سو تو ان سے تغافل کر اور ان کو نصیحت کر اور ان سے کہہ ان کے حق میں بات کام کی

45 مُصِیبَۃٌ سے قتل کا مذکورہ واقعہ مراد ہے اور مَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ سے حضرت رسول خدا ﷺ کے فیصلہ پر اعتماد نہ کرنا اور اسے کافی نہ سمجھنا مراد ہے کیونکہ مصیبت قتل ان پر اسی بناء پر آئی کہ انہوں نے دربار نبوی کا فیصلہ تسلیم نہ کیا۔ جب حضرت عمر ؓ نے بشر منافق کو قتل کردیا تو اس کے ورثاء نے حضرت نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچ کر مقتول کے خون بہا کا مطالبہ کیا اور لگے قسمیں کھانے کہ ہم نے آپ کا فیصلہ رد نہیں کیا تھا بلکہ حضرت عمر کے پاس جانے سے ہماری نیت یہ تھی کہ وہ ہمارے درمیان صلح کرا دیں۔ اُوْلئِکَ یَعْلَمُ اللہُ مَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ الخ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتیں جانتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ وہ منافق ہیں اور آپ کے سامنے جھوٹی قسمیں کھا رے ہیں اور صریح غلط بیانی کر رہے ہیں اس لیے آپ ان کے بیانات سے اعراض کریں اور ان کا خون بہا وغیرہ کا کوئی مطالبہ قبول نہ کریں۔ اور انہیں نہایت ہی صاف صاف الفاظ اور مؤثر انداز میں منافقت سے باز آجانے کی تلقین فرمائیں۔
Ayah 4:64

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:64 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی رسول ﷺ نہیں بھیجا مگر اسی واسطے کہ اس کا حکم مانیں اللہ کے فرمانے سے46 اور اگر وہ لوگ جس وقت انہوں نے اپنا برا کیا تھا آتے تیرے پاس پھر اللہ سے معافی چاہتے اور رسول ﷺ بھی ان کو بخشواتا تو البتہ اللہ کو پاتے معاف کرنے والا مہربان

46 رسولوں کے بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے مگر یہ منافقین اطاعت کے بجائے نافرمانی پر تلے ہوئے ہیں۔ وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ جَآءُوْکَ جونہی ان سے یہ گناہ صادر ہوا تھا کہ انہوں نے پیغمبر خدا ﷺ کے فیصلہ سے اعراض کیا اگر اسی وقت وہ اس پر نادم ہوجاتے اور پیغمبر (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر توبہ کرتے اور اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی معافی مانگتے اور آپ بھی ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے قبولیت توبہ اور معافی کی سفارش فرماتے تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لیتا اور ان کا گناہ معاف کردیتا۔ وَاسْتَغْفِرْ لَھُمُ الرَّسُوْل وسئل اللہ تعالیٰ ان یقبل توبتھم و یغفر ذنوبھم (روح ج 5 ص 70) ۔ اس آیت کا تعلقحضور ﷺ کی زندگی کے اسی واقعہ سے ہے اور آپ کی قبر سے استمداد و استشفاع جائز نہیں جیسا کہ حضرت مولا شاہ محمد اسحاق نے شاہ عبدالحق محدث دہلوی ایک عبارت سے پیدا ہونیوالی غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا ہے :۔” حق آنست کہ انکار فقہاء عام است از آنکہ استمداد از قبور انبیاء کنند یا از قبو رغیر ایشاں ہمہ جائز نیست چناچہ از عبارت دیگر کتب فقہاء کہ دریں جواب ایرادہ کردہ می شود واضح خواہد گردید (مسائل اربعین مسئلہ 40 ص 43) ”۔ ترجمہ : اور حق یہ ہے کہ فقہاء کا انکار عام ہے۔ استمداد خواہ انبیاء (علیہم السلام) کی قبروں سے ہو خواہ غیر انبیاء کی قبروں سے سب ناجائز ہے جیسا کہ فقہاء کرام کی دوسری کتابوں کے حوالوں سے جو ہم اسی سوال کے جواب میں ذکر کریں گے واضح ہوجائے گا۔
Ayahs 4:65–68

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 4:65 in the Quran reader

سو قسم ہے تیرے رب کی وہ مومن نہ ہو نگے یہاں تک کہ تجھ کو ہی منصف جانیں اس جھگڑے میں جو ان میں اٹھے47 پھر نہ پاویں اپنے جی میں تنگی تیرے فیصلہ سے اور قبول کریں خوشی سے

وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ Open ayah 4:66 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر حکم کرتے کہ ہلاک کرو اپنی جان یا چھوڑ نکلو اپنے گھر تو ایسا نہ کرتے مگر تھوڑے ان میں سے اور اگر یہ لوگ کریں وہ جو ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو البتہ ان کے حق میں بہتر ہو اور زیادہ ثابت رکھنے والا ہو دین میں

وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:67 in the Quran reader

اور اس وقت البتہ دیں ہم ان کو اپنے پاس سے بڑا ثواب

وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا Open ayah 4:68 in the Quran reader

اور چلاویں ان کو سیدھی راہ

47 یہاں ایمان کیلئے تین شرطیں بیان کی گئی ہیں۔ اول حَتّیٰ یُحَکِّمُوْکَ آپ کو فیصل مانیں دوم لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا آپ کے فیصلے کو دل و جان سے قبول کریں۔ سوم وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْماً آپ کے فیصلے کے خلاف زبان پر گلہ کا کوئی لفظ نہ لائیں حاصل یہ کہ صرف زبانی اقرار سے مومن نہیں بن سکتے۔ جب زبانی اقرار کے ساتھ عملی طور پر بھی پیغمبر خدا ﷺ کو فیصل نہ مانیں گے۔ اور آپ کا فیصلہ دل سے قبول نہیں کریں گے اور فیصلہ اپنے خلاف ہونے کی صورت میں کبیدہ خاطر اور دل میں رنجیدہ نہیں ہوں گے اور نہ زبان پر حرف شکایت لائیں گے اس وقت تک مومن نہیں بن سکتے۔ وَ لَوْا اَنَّا کَتَبْنَا عَلَیْھِمْ اَنِ اقْتُلوْا اَنْفُسَکُم الخ یہ لوگ اس قسم کے آسان احکام پر بھی عمل نہیں کرتے اگر ان پر سخت احکام فرض کردئیے جاتے تو سوائے معدود چند ان میں سے کوئی بھی ان پر عمل کرتا یہ احکام تو نہایت آسان ہیں اگر یہ لوگ ان پر دل و جان سے عمل کرلیتے تو اس میں ان کی اپنی ہی بہتری تھی۔ دنیا میں بھی امن اور چین سے رہتے اور آخرت میں بھی بہت بڑا اجر پاتے۔
Ayahs 4:69–70

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًاؕ Open ayah 4:69 in the Quran reader

اور جو کوئی حکم مانے اللہ کا اور اس کے رسول ﷺ کا سو وہ ان کے ساتھ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا 48 کہ وہ نبی اور صدیق اور شہید اور نیک بخت ہیں اور اچھی ہے ان کی رفاقت

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠ Open ayah 4:70 in the Quran reader

یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ کافی ہے جاننے والا

48 یہ دل و جان سے ماننے والے مخلص مومنین کیلئے اخروی بشارت ہے مطلب یہ ہے کہ جو لوگ احکام الٰہی اور ارشادات نبوی پر پورا پورا عمل کریں گے اور دل و جان سے ان کے احکام کے سامنے سر جھکا دیں گے قیامت کے دن جنت میں ان کو انبیاء علیہم السلام۔ صدیقین۔ شہداء اور نیک لوگوں کی معیت اور سنگت نصیب ہوگی اور وہ جنت میں ان کے ساتھ ہوں گے۔ آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے سے آدمی نبی بھی بن سکتا ہے کیونکہ رسالت و نبوت تو وہبی چیز ہے جو محض عطاء الٰہی سے حاصل ہوتی ہے ہے کسب اور ریاضت اور کثرت عبادت سے حاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ ارشاد ہے اللہ اَعْلَمُ حَیْچُ یَجْعَلُ رِسَالَتہ (انعام رکوع 15) آنحضرت ﷺ سے اس آیت کا یہی مفہوم منقول ہے۔ امام سعید بن جبیر، مسروق، ربیع اور سدی کبیر سے منقول ہے۔ صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ دنیا میں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کی جدائی گوارا نہیں کرسکتے لیکن آخرت میں آپ کا درجہ چونکہ بہت بلند ہوگا اس لیے آپ کی زیارت نہیں کرسکیں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ قال اصحاب رسول اللہ ﷺ یا رسول اللہ ما ینغی لنا ان نفارقک فی الدنیا فانک لو قدمت رفعت فوقنا فلم نرک فانزل اللہ و من یطع اللہ والرسول الایۃ (ابن جریر ج 5 ص 97، ابن کثیر ج 1 ص 522) ۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں۔ ای ھم معھم فی دار واحدۃ و نعیم واحد یستمتعون برویتھم والحضور معھم لا انھم یساو ونھم فی الدرجۃ (قرطبی ج 5 ص 272) اور پھر آخر میں وَحَسُنَ اُولئِکَ رَفِیْقًا سے اس بات کی صراحت فرما دی یہ حضرات بہت ہی اچھے رفیق اور ساتھی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں اخروی معیت اور رفاقت کا ذکر ہے۔ چونکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے انسان صدیق اور ولی تو بن سکتا ہے لیکن نبی نہیں ہوسکتا البتہ آخرت میں نبیوں کا رفیق بن سکتا ہے اسی لیے یہاں فرمایا ہے کہ آخرت میں فرمانبردار لوگ نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے رفیق ہوں گے اور دوسری جگہ فرمایا وَالَّذِیْنَ اٰمِنُوْا بِاللہِ و َرُسُلِہٖ اُولئِک ھُمُ الصِّدِّیقُوْنَ وَ الشُّھَداء (حدید رکوع 2) یعنی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والے صدیق اور شہید ہیں یہ نہیں فرمایا کہ وہ نبی ہیں۔
Ayah 4:71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا Open ayah 4:71 in the Quran reader

اے ایمان والو ! لے لو اپنے ہتھیار49 پھر نکلو جدی جدی فوج ہو کر یا سب اکھٹے

ٖف 49 دوسرا حکم سلطانی (اٹھو اور ہتھیاروں سے مسلح ہو کر مشرکین سے جہاد کرو) حِذْرٌ سے جنگی ہتھیار مراد ہیں جیسا کہ امام مقاتل اور محمد باقر سے مروی ہے ای عدتکم من السلاح قالہ مقاتل وھو المروی عن ابی جعفر ؓ (روح ج 5 ص 79) اور ثبات جمع ثُبَۃٌ کی اور ثُبَۃٌ اس جماعت کو کہتے ہیں جس میں دس سے زیادہ آدمی ہوں (ایضا) اور فَانْفِرُوْا کی ضمیر سے حال ہے یعنی جب جہاد کی مہم درپیش ہو تو بلا توقف جہاد میں کود پڑو جیسا بن پڑے یا جیسا موقع و محل کے مناسب ہو سب مل کر دشمن پر حملہ کردو یا چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں حملہ کرو۔
Ayahs 4:72–73

وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا Open ayah 4:72 in the Quran reader

اور بیشک تم میں بعضا ایسا ہے کہ البتہ دیر لگاوے50 گا پھر اگر تم کو کوئی مصیبت پہنچے تو کہے اللہ نے مجھ پر فضل کیا کہ میں نہ ہوا ان کے ساتھ

وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 4:73 in the Quran reader

اور اگر تم کو پہنچا فضل اللہ کی طرف سے تو اس طرح کہنے لگے کا کہ گویا نہ تھی تم میں اور اس میں کچھ دوستی اے کاش کہ میں ہوتا ان کے ساتھ تو پاتا بڑی مراد

ٖف 50 یہ زجر اور شکوی ہے ان منافقین کے لیے جو مسلمانوں میں موجود تھے ان کی اپنی ہمتیں تو پست تھیں ہی ساتھ ساتھ وہ مسلمانوں کو بھی بد دل کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ المراد منہ المنافقون کانوا یثبطون الناس عن رسول اللہ ﷺ (کبیر ج 3 ص 384) ۔ لَیْبَطِّئَنَّ لازم اور متعدی دونوں طرح آتا ہے یعنی وہ خود پیچھے ہٹتے تھے یا لوگوں کو ہٹاتے تھے۔ فَاِنْ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبۃٌ الخ ان منافقوں کا حال یہ تھا کہ اگر خدا نخواستہ مسلمانوں کو شکست ہوجاتی تو کہتے یہ تو ہم پر خدا کا بڑا احسان ہوا کہ ہم ان کے ساتھ جنگ میں شریک نہیں تھے ورنہ ہم بھی ان کے ساتھ پس جاتے۔ وَلَئِنْ اَصَابَکُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللہِ الخ اور اگر مسلمانوں کی فتح ہوجاتی اور مال غنیمت انبار در انبار ان کے ہاتھ آجائے تو منافقین حسرت و افسوس سے انگلیاں کاٹنے لگتے اور کہتے کاش ! ہم بھی ان کے ساتھ ہوتے تو مال غنیمت سے کثیر دولت ہاتھ آتی اور مالا مال ہوجاتے۔ لَیَقُوْلَنَّ کا مقولہ یٰلَیْتَنِی سے شروع ہوتا ہے۔ اور کَاَنْ لَّمْ تَکُنْ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَہٗ مَوَدَّۃٌ درمیان میں جملہ معترضہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ منافقین ایسی باتیں اس لئے کہتے ہیں گویا تمہارے اور ان کے درمیان کسی قسم کا دینی رشتہ اور تعلق موجود نہیں اور منافقوں کی دوستی جو مسلمانوں کے ساتھ تھی وہ محض ظاہری تھی ان کے دل میں وہی بغض و عداوت تھی۔ کذا فی المدارک والخازن و ابی السعود والکبیر وغیرہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ بطور خوشامد ایسی باتیں کرتے ہیں گویا ظاہر کرتے ہیں کہ پہلے میرا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اگر ان کے ساتھ کچھ دوستی کا تعلق ہوتا تو وہ بھی ان کے ساتھ ضرور جہاد میں شریک ہوتا اور فوز عظیم حاصل کرلیتا۔ حضرت شیخ کے نزدیک یہ معنی راجح ہیں۔
Ayah 4:74

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:74 in the Quran reader

سو چاہیے لڑیں اللہ کی راہ میں وہ لوگ جو بیچتے ہیں دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے 51 اور جو کوئی لڑے اللہ کی راہ میں پھر مارا جاوے یا غالب ہو وے تو ہم دیں گے اس کو بڑا ثواب

51 یہ ترغیب الی القتال ہے۔ یَشْرُوْنَ شری سے ہے جو اضداد میں سے ہے اور خریدنے اور بیچنے دونوں معنوں میں مستعمل ہے۔ یہاں یشرون بمعنی یبیعون ہے یعنی وہ دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دیتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب مومنوں نے اپنی زندگی کا مقصد یہ قرار دیا ہے کہ وہ ہر معاملے میں آخرت کو دنیا پر ترجیح دیں گے تو انہیں اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہئے۔ اور انہیں میدان قتال میں ثابت قدم رہنا اور منافقوں کی بد دل کرنے والی باتوں کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔ وَمَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ یہ مجاہدین کے لیے دنیوی اور اخروی بشارت ہے اگر شہید ہوجائیں تو آخرت میں بلند ترین درجات حاصل کریں گے اور اگر شہادت نصیب نہ ہوئی ثواب عظیم اور مال غنیمت سے حصہ تو ضرور ملے گا۔
Ayahs 4:75–76

وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:75 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوا کہ نہیں لڑتے اللہ کی راہ میں52 اور ان کے واسطے جو مغلوب ہیں مرد اور عورتیں اور بچے جو کہتے ہیں اے رب ہمارے نکال ہم کو اس بستی سے کہ ظالم ہیں یہاں کے لوگ اور کردے ہمارے واسطے اپنے پاس سے کوئی حمایتی اور کر دے ہمارے واسطے اپنے پاس سے مددگار

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ Open ayah 4:76 in the Quran reader

جو لوگ ایمان والے ہیں سو لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں اور جو کافر ہیں سو لڑتے ہیں شیطان کی راہ میں سو لڑو تم شیطان کے حمایتیوں سے بیشک فریب شیطان کا سست ہے

ٖ 52 تیسرا حکم سلطانی (کمزور اور ضعیف مسلمانوں کو جو مکہ میں تکلیفیں اٹھا رہے ہیں ان کو ظالم مشرکوں کے پنجہ استبداد سے چھڑاؤ) پہلے سے زیادہ واضح اور مدلل طریقہ سے مشرکین سے جہاد کرنے کا حکم دیا کہ اٹھو ہتھیار پہنو اور ان کمزور مسلمانوں کو مشرکین کے نرغے سے چھڑاؤ جو اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے اللہ ان ظالم مشرکوں سے ہمیں نجات دے لہذا تم اٹھو اور ان کی خلاصی کے لیے جہاد کرو۔ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیلِ اللہِ یہ بھی ترغیب الی الجہاد ہے یعنی مومن تو ہمیشہ اللہ کے دین کو سر بلند کرنے اور دنیا میں امن وامان قائم کرنے کے لیے جہاد کرتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ ان کا حامی اور ناصر و مددگار ہے اس کے برعکس کفار اور مشرکین باطل کی خاطر لڑتے ہیں اس لیے مسلمانوں کو ان باطل پرستوں سے قتال کرنا چاہیے تاکہ دنیا سے باطل مٹ جائے اور اللہ کا دین حق اور اس کی توحید غالب ہوجائے۔ توحید والوں کے مقابلے میں مشرکین ہمیشہ مخذول و مہزوم ہوں گے۔ رغب اللہ المومنین بانھم یقاتلون فی سبیل اللہ وھو ولیھم و ناصرھم و اعداء ھم یقاتلون فی سبیل الشیطان فلا ولی لھم الا الشیطان (مدارک ج 1 ص 184)
Ayah 4:77

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا ان لوگوں کو جن کو حکم ہوا تھا کہ اپنے ہاتھ تھامے رکھو53 اور قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ پھر جب حکم ہوا ان پر لڑائی کا اسی وقت ان میں ایک جماعت ڈرنے لگی لوگوں سے جیسا ڈر ہو اللہ کا یا اس سے بھی زیادہ ڈر اور کہنے لگے اے رب ہمارے کیوں فرض کی ہم پر لڑائی کیوں نہ چھوڑے رکھا ہم کو تھوڑی مدت تک کہہ دے کہ فائدہ دنیا کا تھوڑا ہے اور آخرت بہتر ہے پرہیزگار کو اور تمہارا حق نہ رہے گا ایک تاگے برابر

53 یہ منافقین کے لیے زجر ہے ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کو مشرکین کے ہاتھوں بڑی بڑی تکلیفیں اور ایذائیں پہنچتیں تو وہحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کی شکایت کرتے اور آپ سے جہاد کی اجازت چاہتے۔ آپ فرماتے ابھی مجھے جہاد کا حکم نہیں ملا۔ جو احکام تم پر فرض ہوچکے ہیں نماز اور زکوۃ وغیرہ ابھی ان پر ہی عمل کرو۔ پھر ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں جہاد کا حکم نازل ہوا تو ایک فریق (یعنی منافقین) اس حکم سے گھبرا اٹھے اور کہنے لگا کہ اے اللہ تو نے ہم پر قتال کیوں فرض کیا۔ یہ لوگ قتال سے سخت خوفزدہ ہوئے ظاہر ہے ان کا خوف محض موت اور قتل کی وجہ سے تھا تو اس کے جواب میں فرمایا۔ اَیْنَ مَاتَکُوْنُوْا یُدْرِکُکُّمُ الْمَوْتُ الخ موت سے مت ڈرو اور اس سے مت بھاگو۔ موت کوئی صرف میدان جنگ میں لڑنے والوں ہی کو نہیں آتی موت ہر صورت میں آئیگی اگر تم موت سے بچنے کے لیے اونچے اور بہت مضبوط قلعے بنا لو اور ان میں اپنے آپ کو محفوظ کرلو تو موت وہاں بھی آئے گی اور تمہیں ہرگز نہیں چھوڑے گی۔ جب موت سے چھٹکارا نہیں تو بہتر یہی ہے کہ اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہوئے مارے جاؤ تاکہ درجہ شہادت پاؤ اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی عنایات مخصوصہ اور اس کے انعامات خاصہ حاصل کرسکو۔
Ayah 4:78

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

جہاں کہیں تم ہو گے موت تم کو آپکڑے گی اگرچہ تم ہو مضبوط قلعوں میں اور اگر پہنچے لوگوں کو کچھ بھلائی تو کہیں یہ اللہ کی طرف54 سے ہے اور اگر ان کو پہنچے کچھ برائی تو کہیں یہ تیری طرف سے ہے کہہ دے کہ سب اللہ کی طرف سے ہے سو کیا حال ہے ان لوگوں کا ہرگز نہیں لگتے کہ سمجھیں کوئی بات

54 یہ بھی منافقین کے لیے زجر ہے۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ فرماتے ہیں اگر مسلمانوں کی فتح ہوتی اور مال غنیمت ہاتھ لگ جاتا تو منافقین کہتے یہ سب اللہ مہربانی ہے اور اگر کہیں شکست ہوئی تو آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے کہ نعوذ باللہ یہ پیغمبر کی بےتدبیری کا نتیجہ ہے (روح ج 5 ص 88، قرطبی ج 5 ص 284 وغیرہ) تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خیال باطل کا رد فرمایا کہ فتح و شکست اور تنگی و فراخی سب اللہ کی طرف سے ہے وہ ہر چیز کا خالق و مخترع ہے اور وہی نافع و ضار ہے۔ لا خالق و لا مخترع سواہ فلیس الامر کما زعمتم فاللہ تعالیٰ وحدہ ھو النافع الضار و عن ارادتہ تصدر جمیع الکائنات (بحر ج 3 ص 300) حسن اور ابن زید کہتے ہیں کہ یہود اور منافقین آنحضرت ﷺ سے عیاذاً باللہ بد شگون لیتے تھے کہ اس سے پہلے ہم خوشحال تھے ور ہمارے باغات خوب پھل لاتے تھے مگر اس کے آنے سے ہماری زمینوں اور باغوں کی پیداوار کم ہوگئی ہے (بحر و روح وغیرہ) ۔
Ayahs 4:79–80

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

جو پہنچے تجھ کو کوئی بھلائی سو اللہ کی طرف سے ہے55 اور جو پہنچے تجھ کو کوئی برائی سو تیرے نفس کی طرف سے ہے اور ہم نے تجھ کو بھیجا پیغام پہنچانے والا لوگوں کو56 اور اللہ کافی ہے سامنے دیکھنے والا

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جس نے حکم مانا رسول ﷺ کا اس نے حکم مانا اللہ کا اور جو الٹا پھرا تو ہم نے تجھ کو نہیں بھیجا ان پر نگہبان

55 یہ بھی منافقین اور یہود کے مذکورہ بالا قول باطل کا جواب ہے بلکہ اس جواب کی تفصیل ہے اس میں بظاہر خطاب تو حضرت نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن مراد عام ہے اور یہ خطاب ہر مخاطب کو شامل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو جو فائدہ اور بھلائی پہنچتی ہے وہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے اور جو اسے نقصان یا برائی پہنچتی ہے خالق اگرچہ اس کا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن اس کا سبب انسان کی اپنی ہی بد عملی اور کوتاہی ہوتی ہے جیسا کہ ایک جگہ ارشاد ہے۔ وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ (شوری رکوع 4) ۔ یہود مدینہحضور ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے اگر خوشحال تھے تو یہ محض اللہ کا احسان تھا اور آپ کی آمد کے بعد اگر ان پر تنگدستی آگئی تو یہ ان کی اپنی بد عملی کا نتیجہ تھا۔ جب انہوں نے خدا کے پیغمبر کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے بطور تنبیہ ان پر تنگی کردی۔ والضمیر للیھودوالمنافقین روی انہ کان قد بسط علیھم الرزق فلما قدم النبی ﷺ المدینۃ فدعاھم الی الایمان فکفروا مما امسک عنھم بعض الامساک (ابو السعود ج 3 ص 394) ۔ 56 یہاں سے فَمَاَاَرْسَلْنَاکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا تک آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے یعنی ان کو چاہئے تھا کہ ایسی باتیں کرنے بجائے آپ کی اطاعت کرتے کیونکہ آپ کی اطاعت عین اللہ تعالیٰ کی ہے لیکن اگر وہ آپ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے اور آپ کی فرمانبرداری سے اعراض کرتے ہیں تو آپ فکر مند اور غمگین نہ ہوں کیونکہ آپ نے اپنا فرض ادا کرلیا ہے آپ کا فرض صرف تبلیغ ہے جو آپ نے پورا کردیا۔ وَکَفٰی بِاللہِ شَھِیْداً سے تخویف اخروی کی طرف اشارہ فرما دیا کہ ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کوئی عمل ہم سے پوشیدہ نہیں انہیں اپنے اعمال کی پوری پوری سزا ملے گی۔