4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsجواھر القرآن

Ayah 4:81

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ قبول ہے پھر جب باہر گئے تیرے پاس سے57 تو مشورہ کرتے ہیں بعضے بعضے ان میں سے رات کو اس کے خلاف جو تجھ سے کہہ چکے تھے اور اللہ لکھتا ہے جو وہ مشورہ کرتے ہیں سو تو تغافل کر ان سے اور بھروسہ کر اللہ پر اور اللہ کافی ہے کارساز

57 یہ منافقین کا شکوی ہے اور ان کی دو رخی چال پر ان کو زجر ہے جب وہ آپ کے پاس موجود ہوتے ہیں اس وقت تو آپ کی اطاعت کا دم بھرتے ہیں اور کہتے ہیں حضور آپ کا حکم ہمارے سر و چشم لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو اپنے قول واقرار کے برعکس رات کو آپ کے اور مسلمانوں کے خلاف منصوبے بناتے ہیں لیکن آپ ان کی پروا نہ کریں۔ اور اللہ پر بھروسہ رکھیں وہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور ہم نے ان کے تمام منصوبے نوٹ کر رکھے ہیں اور ان کو اس شرارت کی پوری پوری سزا دیں گے۔ تَقُوْلُ میں دو احتمال ہیں یا تو یہ واحد مونث غائب کا صیغہ ہے اور ضمیر غائب طائفہ کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ منافقین کا طائفہ اور ان کے سرداروں کی جماعت اپنے ہی اقرار کے باعث رات کو منصوبے بناتے ہیں یا یہ واحد مذکر حاضر کا صیغہ ہے اور خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے یعنی وہ آپ کے احکام و ارشادات کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔
Ayah 4:82

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

کیا غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر یہ ہوتا کسی اور کا سوا اللہ کے تو ضرور پاتے اس میں بہت تفاوت58

58 اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ اس میں بیان کردہ امور وحقائق نفس الامر اور واقع سے مختلف ہوتے اور بیان کا نفس الامر سے مختلف ہونا جھوٹ اور کذب ہوتا ہے تو حاصل یہ نکلا کہ اگر قرآن خدا کا کلام نہ ہوتا بلکہ انسان کا خود ساختہ ہوتا تو اس کے کئی بیانات نفس الامر کے خلاف اور جھوٹے ہوتے لیکن اگر قرآن کے بیان کردہ امور و حقائق کو بنظر انصاف دیکھا جائے اور ان میں غور و فکر کیا جائے تو اس میں ایک بات بھی خلاف واقع نہیں مل سکے گی بان یکون بعض اخباراتہ الغیبیۃ کا لاخبار عما یسرہ المنافقون غیر مطابق للواقع الخ (روح ج 5 ص 92 و خازن ج 1 ص 470) حضرت شیخ (رح) کے نزدیک یہی راجح ہے یا اختلاف سے عام اختلاف مراد ہے خواہ باہمی تناقض ہو یا نفس الامر سے مخالفت یا اسلوب بیان اور فصاحت و بلاغت میں اختلاف وغیرہ کما فی القرطبی ج 5 ص 290 وغیرہ )
Ayah 4:83

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس پہنچتی ہے کوئی خبر امن کی یا ڈر کی تو اس کو مشہور کردیتے ہیں59 اور اگر اسکو پہنچا دیتے رسول ﷺ تک اور اپنے حاکموں تک تو تحقیق کرتے اس کو جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں اس کی60 اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی مہربانی تو البتہ تم پیچھے ہو لیتے شیطان کے مگر تھوڑے

59 یہ شکوہ منافقین کی دوسری وجہ ہے کہ وہ ان خبروں اور رازوں کا افشا کرتے ہیں اور ان کو مشہور کرتے ہیں جن کا پوشیدہ رکھنا ہی اسلام اور مسلمانوں کے لیے مفید ہے ان کا تعلق خواہ امن سے ہو یا خوف سے حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ جہاد پر جو لشکر بھیجتے جب وہ غالب یا مغلوب ہو کر واپس آتے تو منافقین ان کی خبریں غلط انداز میں پھیلا دیتے۔ ان الرسول کان اذا بعث سریۃ من السرایافغلبت او غلبت تحدثوا بذالک وانشوہ ولم یصبروا الخ (بحر ج 3 ص 305) لَعَلِمَہٗ کی ضمیر منصوب اَمْرٌ کی طرف راجع ہے۔ 60 اس کے دو معنی ہیں اول یہ کہ اَلَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنہ سے وہ لوگ مراد ہیں جو اس قسم کی خبر کو معلوم کرنے کے درپے اور اس کے علم کے متلاشی تھے اور منھم کی ضمیر رسول اور اولی الامر کی طرف راجع ہے اور جار مجرور عَلِمَہٗ کے متعلق ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ان خبروں کو مشہور نہ کرتے اور جن لوگوں کو یہ خبریں معلوم کرنے کا شوق تھا اور رسول اللہ ﷺ اور اولی الامر یعنی صحابہ میں جو لوگ صاحب مشورہ اور صاحب تدبر تھے ان سے معلوم کرلیتے دوم یہ کہ مِنْھُم میں من بیانیہ ہے اور ھم ضمیر اولی الامر کی طرف راجع ہے اور اَلَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنَ سے وہ لوگ مراد ہیں جو اولی الامر میں صاحب بصیرت و استنباط تھے۔
Ayahs 4:84–86

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

سو تو لڑ61 اللہ کی راہ میں تو ذمہ دار نہیں مگر اپنی جان کا اور تاکید کر مسلمانوں کو قریب ہے کہ اللہ بند کر دے لڑائی کافروں کی اور اللہ بہت سخت ہے لڑائی میں اور بہت سخت ہے سزا دینے میں

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو کوئی سفارش کرے نیک بات میں اس کو بھی ملے گا اس میں سے ایک حصہ اور جو کوئی سفارش کرے بری بات میں اس پر بھی ہے ایک بوجھ اس میں سے اور اللہ ہے ہر چیز پر قدرت رکھنے والا

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب تم کو دعا دیوے کوئی تو تم بھی دعا دو اس سے بہتر یا وہی کہو الٹ کر بیشک اللہ ہے ہر چیز کا حساب کرنے والا

ٖ 61 فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ سے اِنَّ اللہَ عَلیٰ کُلِّ شَیْ ءٍ حَسِیْباً تک حکم ثالث یعنی و َ مَالَکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ پر تنویر ہے اور بعد عہد کی وجہ سے اس کا اعادہ ہے یہاں دوبارہ قتال کی ترغیب دی اور آنحضرت ﷺ کو مومنوں کو جہاد کی ترغیب دینے کا حکم فرمایا۔ تنکیل کے معنی تعذیب یعنی سزا دینے کے ہیں۔ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً الخ یہ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ سے متعلق ہے یعنی آپ مومنوں کو ترغیب الی الجہاد کا وعظ کریں اور جو شخص اچھی بات کا وعظ و نصیحت کرے اور نیک کاموں کی ترغیب دے اسے اللہ کی طرف سے بہت بڑا اجر وثواب ملے گا اور جو شخص کسی برے کام کی ترغیب دے اسے اس کی سزا ملے گی اور مُقِیْتٌ کے معنی اقتدار والا یا حافظ و نگہبان (مُقِیْتاً ) مُقْتَدِراً اَوْ حَفِیظاً (مدارک ج 1 ص 187) ۔ وَاِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّۃٍ الخ یہ بھی ماقبل سے متعلق ہے اور اس میں خطاب رعیت کو ہے یعنی اگر تمہارے پاس کوئی واعظ جہاد کی ترغیب کے لیے آئے اور تم کو سلام دے تو تم اس کے الفاظ کی نسبت زیادہ اچھا جواب دو مثلاً اگر اس نے السلام علیکم کہا ہے تو تم اس کے جواب میں ورحمۃ اللہ کا اضافہ کرو اور اگر زیادہ نہ کرو تو اس کے الفاظ کے مطابق تو ضرور جواب دو حاصل یہ کہ ان سے خوشی کے ساتھ پیش آؤ۔ اور ان کے حکم کی تعمیل کرو۔ اس آیت سے پہلے اور اس کے بعد چونکہ مضمون جہاد کا ذکر ہے۔ اس لیے سیاق وسباق کی رعایت کر کے مفہوم بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 4:87

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں62 بیشک تم کو جمع کریگا قیامت کے دن اس میں کچھ شبہ نہیں اور اللہ سے سچی کس کی بات

62 ترغیب الی الجہاد کے بعد اصل مسئلہ (مسئلہ توحید) بیان فرما دیا جس کی خاطر جہاد کرنا ہے اور ساتھ لَیَجْمَعَنَّکُمْ الخ سے تخویف اخروی سنادی کہ اگر اللہ کا حکم نہیں مانو گے اور جہاد سے گریز کرو گے تو آخر کار قیامت کے دن میدان حشر میں اللہ کے سامنے کیے جاؤ اور اپنے اعمال کی سزا پاؤ گے اور کہیں بھاگ کر جان نہیں بچا سکو گے۔
Ayahs 4:88–89

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

پھر تم کو کیا ہوا کہ منافقوں کے معاملہ میں دو فریق ہو رہے ہو اور اللہ نے ان کو الٹ دیا بسبب ان کے اعمال کے63 کیا تم چاہتے ہو کہ راہ پر لاؤ جس کو گمراہ کیا اللہ نے اور جس کو گمراہ کرے اللہ ہرگز نہ پاویگا تو اس کے لئے کوئی راہ

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر ہوجاؤ جیسے وہ کافر ہوئے تو پھر تم سب برابر ہوجاؤ سو تم ان میں سے کسی کو دوست مت بناؤ یہاں تک کہ وطن چھوڑ آویں اللہ کی راہ میں پھر اگر اس کو قبول نہ کریں تو ان کو پکڑو اور مار ڈالو جہاں پاؤ اور نہ بناؤ ان میں سے کسی کو دوست اور نہ مددگار

63 چوتھا حکم سلطانی :۔ راستہ میں مدینہ منورہ سے باہر جو منافق تمہیں ملے اسے بھی قتل کر ڈالو البتہ جن سے تمہارا معاہدہ ہوچکا ہے اور غیر جانبدار ہیں ان کو قتل نہ کرو) یہاں سے منافقین کے دو گروہوں کا حکم بیان کیا گیا ہے ایک وہ منافقین جو مدینہ سے دوسرے شہروں میں نکل گئے تھے دوم وہ جو ایسے کافروں کے پاس جا کر پناہ گزین ہوگئے تھے جن کے اور مسلمانوں کے درمیان معاہدہ ہوچکا تھا۔ اس آیت میں المنافقین سے منافقین کا پہلا گروہ مراد ہے ان کے قتل کے بارے میں مسلمان دو فریقوں میں بٹ گئے ایک فریق نے کہا وہ منافق ہیں انہیں قتل کرنا چاہیے دوسرے فریق نے ان کے قتل میں توقف کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو زجر و توبیخ کے طور پر فرمایا کہ تم ان منافقین کے بارے میں دو فریق کیوں ہوگئے حالانکہ ان کے کرتوت اس بات کے متقاضی تھے کہ تم ان کے قتل میں ذرّہ برابر تامل نہ کرتے یہ ان کی بد عملی اور خباثت باطن ہی کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان سے ہٹا کر کفر کی طرف دھکیل دیا۔ اَرْکَسَھُمْ رَدَّھُمْ اِلی الکفر (روح) ۔ یعنی اللہ نے ان کو کفر کی طرف الٹا دیا اور دھکیل دیا۔ وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ الخ۔ لَوْ مصدریہ ہے اور یہ ان منافقین کی ایک بہت بڑی خباثت کا بیان ہے۔ وہ بظاہر تو مسلمان ہیں اور مسلمان کہلاتے ہیں مگر ان کے دلوں میں وہی کفر و شرک ہے اور وہ دل سے چاہتے ہیں کہ جو لوگ خلوص دل سے ایمان لا چکے ہیں وہ پھر سے کافر ہوجائیں اور کفر و ضلالت میں ان کے ساتھ یکساں ہوجائیں۔ جو لوگ کفر اور گمراہی میں اس حد تک پہنچ چکے ہیں تم ان کی رعایت مت کرو اور وہ جہاں بھی تمہیں مل جائیں بلا تامل ان کو قتل کرو۔
Ayah 4:90

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جو ملاپ رکھتے ہیں ایک قوم سے کہ تم میں اور ان میں عہد ہے64 یا آئے ہیں تمہارے پاس کہ تنگ ہوگئے ہیں دل ان کے تمہاری لڑائی سے اور اپنی قوم کی لڑائی سے بھی اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو تم پر زور دے دیتا تو ضرور لڑتے تم سے سو اگر یکسو رہیں وہ تم سے پھر تم سے نہ لڑیں اور پیش کریں تم پر صلح تو اللہ نے نہیں دی تم کو ان پر راہ

64 یہ دوسرے فریق کا حکم ہے یعنی جو منافقین ان کفار کے پاس چلے گئے جن کے ساتھ تمہارا معاہدہ اور میثاق ہے انہیں قتل مت کرو تاکہ معاہدہ کی خلاف ورزی نہ ہو۔ اسی طرح جو جنگ و قتال سے بالکل علیحدہ ہوجائیں اور تمہارے پاس آکر صاف اعلان کردیں کہ وہ نہ تمہارے ساتھ جنگ کریں گے نہ کافروں کے ساتھ اور تم سے سلامتی کی درخواست کریں ان سے بھی در گذر کرو اور دیکھو اگر واقعی وہ جنگ سے کنارہ کش ہوگئے ہیں اور صحیح معنوں میں صلح و سلامتی چاہتے ہیں تو انہیں بھی قتل نہ کرو۔ حَصِرَتْ صُدُوْرُھم بتقدیر قَدْ جملہ جَاءُوْا کی ضمیر فاعل سے حال ہے اور اَنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ سے پہلے حرف جار محذوف ہے ای عَنْ اَنْ یُّقِاتِلُوْکُم اَوْ لِاَنْ یُّقَتِلُوْکُم (روح و بحر) ۔
Ayah 4:91

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

اب تم دیکھو گے ایک اور قوم کو جو چاہتے ہیں کہ امن میں رہیں تم سے بھی اور اپنی قوم سے بھی65 جب کبھی لوٹائے جاتے ہیں وہ فساد کی طرف تو اس کی طرف لوٹ جاتے ہیں پھر اگر وہ تم سے یکسو نہ رہیں اور نہ پیش کریں تم پر صلح66 اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو ان کو پکڑو اور مار ڈالو جہاں پاؤ اور ان پر ہم نے تم کو دی ہے کھلی سند

65 مذکورہ بالا دو گروہوں کے علاوہ کچھ ایسے منافقوں سے بھی تم کو واسطہ پڑے گا جو ایک طرف تو تم سے امن اور سلامتی چاہیں گے اور ظاہری طور پر صلح کا معاہدہ کرلیں گے اور دوسری طرف اپنی قوم سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے دین پر ہی ہیں اور تمہارے ساتھی ہیں اور اس طرح اپنے گھروں میں رہ کر دونوں طرف سے محفوظ و مامون رہنے کی کوشش کریں گے۔ نبہ علی طائفۃ اخری مخادعۃ یریدون الاقامۃ فی مواضعھم مع اھلیھم یقولون لھم نحن معکم و علی دینکم و یقولون لھم نحن معکم و علی دینکم ویقولون للمسلمین کذلک اذا وجدوا (بحر ج 3 ص 318) ۔ کُلَّمَا رُدُّوْا اِلَی الْفِتْنَۃِ اُرْکِسُوْا فِیْھَا۔ اور جب کبھی ان کو مسلمانوں سے جنگ کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے تو وہ اسلام کا ظاہری اقرار یا صلح و معاہدہ چھوڑ چھاڑ فوراً جنگ اور شر و فساد میں کود پڑتے ہیں۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں چونکہ ان کے دلوں پر مہرجباریت ثبت ہوچکی ہے اس لیے وہ اللہ کی جانب سے قہر و جباریت کے ساتھ قتال میں شامل کیے جاتے ہیں۔ ٖ 66 سو اگر وہ تمہارے ساتھ جنگ کرنے سے گریز نہ کریں اور سلامت روی اختیار نہ کریں اور نہ تمہارے ساتھ جنگ کرنے سے اپنے ہاتھوں کو روکیں تو پھر تمہارے لیے بھی ان کا خون مباح ہے تمہیں جہاں کہیں مل جائیں انہیں پکڑو اور بلا دریغ تہ تیغ کر دو ۔ وَیُلْقُوْا اِلَیْکُمُ السَّلَمَ وَ یَکُفُّوْا اَیْدِیَھُمْ دونوں یَعْتَزِلُوْ کُمْ پر معطوف ہیں۔
Ayahs 4:92–93

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

اور مسلمان کا کام نہیں کہ قتل کرے مسلمان کو مگر غلطی67 سے اور جو قتل کرے مسلمان کو غلطی68 سے تو آزاد کرے گردن ایک مسلمان کی اور خون بہا پہنچائے اس کے گھر والوں کو مگر یہ کہ وہ معاف کردیں پھر اگر مقتول تھا ایسی قوم میں سے کہ وہ تمہارے دشمن69 ہیں اور خود وہ مسلمان تھا تو آزاد کرے گردن ایک مسلمان کی اور اگر وہ تھا ایسی قوم میں سے کہ تم میں اور ان میں عہد ہے70 تو خون بہا پہنچائے اس کے گھر والوں کو اور آزاد کرے گردن ایک مسلمان کی پھر جس کو میسر نہ ہو تو روزے رکھے دو مہینے کے برابر71 گناہ بخشوانے کو اللہ سے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور جو کوئی قتل کرے مسلمان کو جان کر تو اس کی سزا دوزخ ہے پڑا رہے گا اسی میں اور اللہ کا اس پر غضب ہوا اور اس کو لعنت کی اور اس کے واسطے تیار کیا بڑا عذاب

ٖف 67 پانچواں حکم سلطانی (راستہ میں خیال رکھنا کہیں غلطی سے تمہارے ہاتھوں کوئی مسلمان قتل نہ ہوجائے اور اگر خطاءً ایسا ہوجائے تو اس کا حکم یہ ہے) فرمایا یہ تو مومن کی شان نہیں کہ وہ کسی مومن کو عمداً اور جان بوجھ کر قتل کرے البتہ یہ ممکن ہے کہ اس کے ہاتھوں غلطی اور خطا سے مومن قتل ہوجائے۔ قتل خطا کی بڑی دو قسمیں ہیں ایک یہ کہ قصد و ارادہ میں غلطی سے قتل مسلم واقع ہو یا عمل کی غلطی سے پہلی صورت کی مثال یہ ہے کہ دور سے کسی آدمی کو دیکھا اور سمجھا کہ وہ حربی کافر ہے اور اس پر فائر کردیا لیکن در اصل وہ مومن تھا دوسری صورت کی مثال یہ ہے کہ کافر کو نشانہ بنا کر تیر پھینکا یا شکار پر فائر کیا مگر وہ کسی مسلمان کے جا لگا اور وہ مرگیا۔ پھر جو شخص غلطی سے کسی مسلمان کے ہاتھوں قتل ہوجائے اس کی تین صورتیں ہیں۔ اول یہ کہ مقتول مومن ہو اور دار الاسلام کا شہری ہو۔ دوم یہ کہ مقتول ہو تو مؤمن لیکن حربی کافروں میں رہتا ہو۔ سوم یہ کہ مقتول کافر ہو لیکن ایسی قوم کا فرد ہو جس کا مسلمانوں سے معاہدہ ہو۔ مثلاً ذمی ہو جو دار الاسلام میں مستقل طور پر سکونت پذیر ہو یا عارضی ہو، یعنی دار الاسلام میں اجازت نامہ کے ذریعے عارضی طور پر مقیم ہو۔ تینوں کا حکم مختلف ہے۔ 68 یہ قتل کی پہلی صورت کا حکم ہے اس صورت میں قاتل پر ایک مسلمان غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا اور مقتول کے ورثاء کو دیت (خون بہا) ادا کرنا واجب ہے۔ دیت کی رقم ورثاء میں ان کے حصوں کی مناسبت سے تقسیم ہوگی اگر اس کا کوئی وارث نہیں تو وہ رقم بیت المال (سرکاری خزانہ) میں جمع ہوگی۔ اِلَّا اَنْ یَّصَّدَّقُوْا یہ وجوب دیت سے مستثنی ہے یعنی اگر مقتول کے ورثاء پورا خون بہایا اس کا کچھ حصہ معاف کردیں تو معاف کردہ حصے کا ادا کرنا واجب نہیں ہوگا۔ خون بہا کی مقدار ایک سو اونٹ ہے اور اگر سو اونٹ کا انتظام نہ ہوسکے تو ایک ہزار دینار یا دس ہزار درہم۔ درہم موجودہ پاکستانی سکہ کے مطابق تقریباً چار آنے کے برابر ہے۔ 69 قتل کی دوسری صورت کا حکم یہ ہے کہ قاتل پر ایک مسلمان غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا واجب ہے اس صورت میں خون بہا واجب نہیں اذا سلم الحربی فی دار الحرب ولم یھاجرنا الینا فقتلہ مسلم خطا تجب الکفارۃ بقتلہ للعصمۃ المؤثمۃ وھی الاسلام ولا تجب الدیۃ لان العصمۃ المقومۃ بالدار و لم توجد (مدارک ج 1 ص 189) ۔ 70 یہ ذمی یا کافر معاہد کے قتل کا حکم ہے یعنی اس کے قاتل پر کفارہ اور دیت دونوں واجب ہیں۔ ھذا فی الذمی و المعاھد یقتل خطا فتجب الدیۃ والکفارۃ (قرطبی ج 5 ص 325) ۔ مقتول مومن ہو جیسا کہ پہلی صورت میں تھا یا کافر جیسا کہ تیسری صورت میں دونوں کے قاتل پر دیت کا ایجاب ایک ہی انداز سے بیان کیا گیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ مومن اور کافر ذمی یا مستامن کا خون بہا برابر ہے۔ ان کان المقتول ذمیا فحکمہ حکم المسلم و فیہ دلیل علی ان دیۃ الذمی کدۃ المسلم (مدارک) ۔ 71 اس کا تعلق کفارے کی تینوں صورتوں سے ہے یعنی اگر غلام یا لونڈی میسر نہ آسکے تو اس کی جگہ متواتر دو ماہ کے روزے رکھنے سے کفارہ ادا ہوجائے گا لیکن شرط یہ ہے کہ دو ماہ میں ایک دن کا روزہ بھی ناغہ نہ ہو اگر ایک دن بھی ناغہ ہوگیا تو پھر از سر نو دو ماہ کے روزے رکھنے پڑیں گے یہاں قتل خطا کی تینوں صورتوں کا حکم بیان ہوا۔ وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَاء ہٗ جَھَنَّمُ قتل خطا کے بعد قتل عمد پر تخویف اخروی فرمائی۔ قتل عمد کا فقہی حکم کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلیٰ (بقرہ) میں بیان ہوچکا ہے یہاں خَالِداً فِیْھَا کے الفاظ سے اس طرف اشارہ فرما دیا ہے کہ یہاں قتل عمد سے اس کا درجہ کامل مراد ہے یعنی مومن کو عمداً اور اس کے قتل کو بوجہ ایمان جائز سمجھ کر قتل کرے اور قتل مومن کی حلت کا معتقد ہو چناچہ امام نسفی فرماتے ہیں۔ ای قاصدا قتلہ لایمانہ وھو کفر او قتلہ مستحلا لقتلہ وھو کفر ایضا (مدارک ج 1 ص 189) ۔
Ayahs 4:94–96

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب سفر کرو اللہ کی راہ میں72 تو تحقیق کرلیا کرو اور مت کہو اس شخص کو جو تم سے سلام علیک کرے کہ تو مسلمان نہیں تم چاہتے ہو اسباب دنیا کی زندگی کا سو اللہ کے ہاں بہت غنیمتیں ہیں تم بھی تو ایسے ہی تھے اس سے پہلے پھر اللہ نے تم پر فضل کیا سو اب تحقیق کرلو بیشک اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

برابر نہیں بیٹھ رہنے والے مسلمان جن کو کوئی عذر نہیں اور وہ مسلمان جو لڑنے والے ہیں اللہ کی راہ میں اپنے مال سے اور جان سے اللہ نے بڑھا دیا لڑنے والوں کا اپنے مال اور جان سے بیٹھ رہنے والوں پر درجہ اور ہر ایک سے وعدہ کیا اللہ نے بھلائی کا اور زیادہ کیا اللہ نے لڑنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں سے اجر عظیم میں

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

جو کہ درجے ہیں اللہ کی طرف سے اور بخشش ہے اور مہربانی ہے اور اللہ ہے بخشنے والا مہربان

72 چھٹا حکم سلطانی (راستے میں اگر کوئی شخص تم سے کہہ دے کہ میں مسلمان ہوں تو اس کے دعوے کی تحقیق کرلو۔ بلا تحقیق یہ سمجھ کر کہ وہ جان کے خوف سے اسلام کا اظہار کر رہا ہے اسے محض اس کے مال کی خاطر قتل مت کرو۔ اس کے تھوڑے سے مال کی پروا نہ کرو اللہ کے یہاں تمہارے لیے بہت کچھ ہے اور پھر یہ بھی سوچو کہ تم بھی پہلے کافر تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے تم کو اسلام لانے کی توفیق دی اس لیے اگر راستے میں کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے تو اس کی ضرور تحقیق کرلیا کرو۔ اس کے بعد لَایَسْتَوِیْ الْقَاعِدُوْنَ سے وَکَانَ اللہُ غَفُوْراً رَّحِیْماً تک جہاد کی ترغیب اور مجاہدین کے لیے اخروی بشارت ہے۔
Ayahs 4:97–100

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ کہ جن کی جان نکالتے ہیں فرشتے اس حالت میں کہ وہ برا کر رہے73 ہیں اپنا کہتے ہیں ان سے فرشتے تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں ہم تھے بےبس اس ملک میں کہتے ہیں فرشتے کیا نہ تھی زمین اللہ کی کشادہ جو چلے جاتے وطن چھوڑ کر وہاں سو ایسوں کا ٹھکانا ہے دوزخ اور وہ بہت بری جگہ پہنچے

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

مگر جو ہیں بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں میں سے جو نہیں کرسکتے کوئی تدبیر اور نہ جانتے ہیں کہیں کا راستہ

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

سو ایسوں کو امید ہے کہ اللہ معاف کرے اور اللہ ہے معاف کرنے والا بخشنے والا

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

اور جو کوئی وطن چھوڑے اللہ کی راہ میں پاوے گا اس کے مقابلہ میں جگہ بہت اور کشایش اور جو کوئی نکلے اپنے گھر سے ہجرت کر کے اللہ اور رسول کی طرف پھر آپکڑے اس کو موت تو مقرر ہوچکا اس کا ثواب اللہ کے ہاں اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان

73 ساتواں حکم سلطانی۔ (اے مکہ میں محصور مسلمانو ! تمہاری مدد کے لیے مجاہدین کو بھیج تو رہا ہوں لیکن تم خود بھی مکہ سے ہجرت کرکے جانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔ ) پہلے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جو جہاد میں شریک ہونے سے جی چراتے تھے اب یہاں ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جو باوجود قدرت کے ہجرت نہیں کرتے تھے۔ بیان لحال القاعدین عن الھجرۃ اثر بیان القاعدین عن الجھاد (روح ج 5 ص 125) اور ان لوگوں کو ظالم اس لیے فرمایا کہ انہوں نے ہجرت نہ کرنے کی وجہ سے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے یہ ان لوگوں کے لیے زجر اور تخویف ہے اور اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مکہ معظمہ میں محصور تھے فرمایا تمہاری مدد اور نصرت کے لیے تو احکام سلطانیہ دے دئیے گئے ہیں اور مجاہدین تمہاری مدد کے لیے آرہے ہیں لیکن اے ایمان واسلام کے دعویدارو تم خود بھی تو کافروں کے چنگل سے نکل بھاگنے کی کوشش کرو۔ اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ والنِّسَاءِ بوڑھے، بچے اور عورتیں جو وہاں سے ہجرت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور ہر طرح سے مجبور ہیں۔ مذکورہ بالا وعید سے مستثنے ہیں۔ وَمَنْ یُّھَاجِرْفِی سَبِیْلِ اللہ الخ یہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے کی ترغیب ہے یعنی کیوں ہجرت نہیں کرتے ہو حالانکہ ہجرت کرنیوالوں کو بہت کچھ انعام بھی ملیگا۔ مُرٰغَماً سے مراد مال غنیمت ہے یا ہجرت کر جانے کی جگہ جہاں وہ آزادی سے دین کا کام کرسکیں گے۔
Ayah 4:101

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

اور جب تم سفر کرو ملک میں تو تم پر گناہ نہیں74 کہ کچھ کم کرو نماز میں سے اگر تم کو ڈر ہو کہ ستاویں گے تم کو کافر البتہ کافر تمہارے صریح دشمن ہیں

74 آٹھواں حکم سلطانی (جہاد کے لیے جارہے ہو تو نماز میں قصر کرو اور عین میدان جنگ میں نماز کا وقت آجائے اور دشمن کے حملے کا ڈر ہو تو نماز اس طرح ادا کرو) ۔ ان آیتوں میں قصر صلوۃ کا حکم دیا گیا اور صلوۃ الخوف کا طریقہ بتایا گیا ہے جب عین میدان جنگ میں نماز کا وقت آجائیگا تو نماز کی فرضیت اس وقت بھی ساقط نہیں ہوگی اور نماز اس حالت خوف میں بھی معاف نہیں ہوگی۔ جمہور مفسرین کے نزدیک یہاں قصر صلوۃ سے چار کے بجائے دو رکعت پڑھنا مراد ہے لیکن شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ قصر سے اختصار قراءت مراد ہے اور اِنْ خِفْتُمْ کی قید احترازی نہیں بلکہ اتفاقی ہے اور قصر (دو گانے) کا حکم سفر جہاد سے مختص نہیں بلکہ ہر سفر میں قصر کا حکم ہے۔
Ayah 4:102

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور جب تو ان میں موجود ہو پھر نماز میں کھڑا کرے75 تو چاہیے ایک جماعت ان کی کھڑی ہو تیرے ساتھ اور ساتھ لے لیویں اپنے ہتھیار پھر جب یہ سجدہ کریں تو ہٹ جاویں تیرے پاس سے اور آوے دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی وہ نماز پڑھیں تیرے ساتھ اور ساتھ لیویں اپنا بچاؤ اور ہتھیار کافر چاہتے ہیں کسی طرح تم بیخبر ہو اپنے ہتھیاروں سے اور اسباب سے تاکہ تم پر حملہ کریں یکبارگی اور تم پر کچھ گناہ نہیں اگر تم کو تکلیف ہو مینہ سے یا تم بیمار ہو کہ اتار رکھو اپنے ہتھیار اور ساتھ لے لو اپنا بچاؤ بیشک اللہ نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے واسطے عذاب ذلت کا

75 یہ صلوۃ الخوف پڑھنے کا طریقہ ہے اس میں خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن آپ کے بعد تاقیامت آپ کے جانشین بھی اس میں داخل ہیں۔ وھذہ الایۃ خطاب للنبی ﷺ و ھو یتناول المراء بعدہ الی یوم القیامۃ (قرطبی ج 5 ص 364) حاصل یہ ہے کہ جب عین میدان جنگ میں نماز کا وقت آجائے اور کافروں کی طرف سے اچانک حملہ کردینے کا خطرہ ہو تو امام مسلمانوں کو دو حصوں میں تقسیم کردے ایک جماعت تو ہتھیاروں سے لیس دشمن کے مقابلے میں کھڑی رہے اور دوسری امام کے ساتھ نماز میں شریک ہوجائے۔ جب ایک رکعت پڑھ چکیں تو چپکے سے پہلی جماعت کی جگہ چلے جائیں اور پہلی جماعت آخری رکعت میں امام کے ساتھ شریک ہوجائے۔ جب امام دوسری رکعت پر سلام پھیرے تو یہ اٹھ کر اپنی رکعت سابقہ ادا کر کے سلام پھیر دیں اور دشمن کے مقابلے میں چلے جائیں اور جو جماعت ایک رکعت پڑھ کر چلی گئی تھی وہ واپس اپنی جگہ میں آکر اپنی باقی ماندہ رکعت ادا کرے یہ طریقہ دو گانے کی صورت میں ہے اور اگر چار رکعت والی نماز ہو تو امام دونوں جماعتوں کو دو دو رکعتیں پڑھائے۔ لَوْ تَغْفُلُوْنَ میں لَوْ مصدریہ ہے۔
Ayah 4:103

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

پھر جب تم نماز پڑھ چکو تو یاد کرو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے76 اور لیٹے پھر جب خوف جاتا رہے تو درست کرو نماز کو بیشک نماز مسلمانوں پر فرض ہے اپنے مقرر وقتوں میں

76 جب بطریق مذکور صلوۃ الخوف ادا کر چکو تو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر جاری رکھو۔ ذکر اللہ سے اللہ کی پکار مراد ہے لہذا ذکر اللہ بھی نماز کی طرح فرض ہے جو شخص اللہ کو یاد نہ کرے گویا اس نے فرض کو ترک کیا۔ ع : ذکر حق ہمچوں نمازے فرض دان۔ وروی عن ابن عباس ؓ انہ قال عقب تفسیر ھالم یعذر اللہ تعالیٰ احدا فی ترک ذکرہ الا المغلوب علی۔ اور پھر آخر میں (روح ج 5 ص 137) ۔
Ayah 4:104

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

اور ہمت نہ ہارو ان کا پیچھا کرنے سے77 اگر تم بےآرام ہوتے ہو تو وہ بھی بےآرام ہوتے ہیں جس طرح تم ہوتے ہو اور تم کو اللہ سے امید ہے جو ان کو نہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

77 یہ ترغیب الی القتال ہے۔ القوم سے مراد مشرکین ہیں یعنی اگر کسی وقت مشرکین کا تعاقب کرنے کی ضرورت پیش آجائے تو اس میں سستی اور کمزوری نہ دکھاؤ بیشک اس میں تمہیں تکلیف اٹھانی پڑے گی لیکن ساتھ ہی مشرکین کو بھی تکلیف ہوگی۔ تکلیف اٹھانے میں تو تم دونوں فریق برابر ہو مگر ان تکلیفوں کے بدلے اللہ کی رحمت و بخشش اور اخروی انعامات جن کے تم امید وار ہو مشرکین کا ان میں کوئی حصہ نہیں۔ اس لیے مشرکین کی تکلیف تو محض تکلیف ہی ہے لیکن تمہاری تکلیف پر اخروی اجر اور جاودانی نعمتیں مرتب ہوں گی۔ لہذا تمہیں اللہ کی راہ میں ہر تکلیف خوشی اور خندہ پیشانی سے برداشت کرنی چاہیے۔
Ayah 4:105

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ Open ayah 4:105 in the Quran reader

بیشک ہم نے اتاری تیری طرف کتاب سچی کہ تو انصاف کرے لوگوں میں جو کچھ سمجھاوے تجھ کو اللہ78 اور تو مت ہو دغابازوں کی طرف سے جھگڑنے والا

78 نواں حکم سلطانی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی احکام شرعیہ کی تعلیم فرما دی ہے۔ جب آپ سفر جہاد پر نکلیں تو فیصلے ظن وتخمین سے نہ کریں بلکہ قواعد شرعیہ کے مطابق کریں تاکہ آپ دھوکہ نہ کھا سکیں جیسا کہ طعمہ کے قصہ میں آپ کو دھوکہ دیا گیا) ۔ یہاں سے لیکر وَکَانَ فَضْلُ اللہِ عَلَیْکَ عَظِیْماً تک ایک واقعہ سے متعلق ہے واقعہ یہ ہے کہ طعمہ بن ابیرق نامی ایک منافق نے ایک صحابی حضرت رفاعہ بن زید کے مکان میں نقب لگا کر چوری کی۔ مال مسروقہ میں کچھ ہتھیار اور آٹے کا ایک تھیلا تھا۔ اتفاق سے تھیلے میں سوراخ تھا جس سے آٹا چور کے گھر تک راستہ میں گرتا گیا۔ جب چور کو اس بات کا احساس ہوا تو بدنامی سے بچنے کے لیے اس نے مال مسروقہ زید بن یاسمین نامی ایک یہودی کے پاس بطور امانت رکھ دیا۔ صبح جب مالک مکان کو اس واردات کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے بھتیجے حضرت قتادہ بن نعمان سے اس کا ذکر کیا انہوں نے تفتیش سے معلوم کرلیا کہ یہ حرکت بنو ابیرق کی ہے چناچہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا ماجرا کہہ سنایا جب بنو ابیرق کو اس کا علم ہو تو وہ باقاعدہ سازش کر کے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور زید بن یاسمین پر چوری کا الزام لگایا اور قسمیں کھا کھا کر اور اپنے ایمان واخلاص کا واسطہ دے کر آنحضرت ﷺ کو یقین دلا دیا اور طعمہ بن ابیرق جو اصل چور تھا اس کو چوری کے الزام سے بالکل بری اور بےگناہ ثابت کردیا۔ چناچہ آپ نے ان منافقوں کی قسموں اور شہادتوں کو صحیح سمجھ کر یہودی کو چور اور طعمہ کو بےگناہ تصور کرلیا اور پھر یہودی کو چوری کی سزا دینے کا بھی ارادہ فرما لیا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں جن میں آنحضرت ﷺ کو اس اجتہادی لغزش پر تنبیہ فرمائی گئی۔
Ayahs 4:106–109

وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 4:106 in the Quran reader

اور بخشش مانگ اللہ سے79 بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ Open ayah 4:107 in the Quran reader

اور مت جھگڑ ان کی طرف سے جو اپنے جی میں دغا رکھتے ہیں بیشک اللہ کو پسند نہیں جو کوئی ہو دغاباز گنہگار

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا Open ayah 4:108 in the Quran reader

شرماتے ہیں لوگوں سے اور نہیں شرماتے اللہ سے اور وہ ان کے ساتھ ہے جب کہ مشورہ کرتے ہیں رات کو اس بات کا جس سے اللہ راضی نہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں سب اللہ کے قابو میں ہے

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١۫ فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 4:109 in the Quran reader

سنتے ہو تم لوگ جھگڑا کرتے ہو ان کی طرف سے دنیا کی زندگی میں پھر کون جھگڑا کرے گا ان کے بدلے اللہ سے قیامت کے دن یا کون ہوگا ان کا کارساز

79 آنحضرت ﷺ نے منافقین کی چرب زبانی اور طاقت لسانی سے زید بن یاسمین کو چور سمجھ کر اس کا ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ فرما لیا تھا پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اصل حقیقت سے آگاہ فرما دیا تو آپ کو معلوم ہوگیا کہ اگر یہ سزا نافذ ہوجاتی تو نفس الامر کے خلاف اور واقع میں خطا ہوتی اس لیے اس میں اگرچہ آپ معذور تھے لیکن پھر بھی اس لغزش پر استغفار کا حکم فرمایا۔ فھم النبی ﷺ ان یقطع ید زید الیھودی (معالم ج 1 ص 494) فلما اطلعہ اللہ علی کذب قوم طعمۃ عرف انہ لو وقع ذلک الامر لکان خطا فی نفس الامر فامرہ بالاستغفار منہ و ان کان معذورا (خازن ج 1 ص 492) ۔ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضیٰ مِنَ الْقَوْل ْ : یُبَیِّتُوْنَ کی ضمیر اَلَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ کی طرف راجع ہے اور مراد اس سے وہی منافقین ہیں یعنی رات کو وہ ایسی باتیں بناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں مراد وہی جھوٹی شہادتیں دینے کا منصوبہ اور مشورہ ہے۔ ھَآ اَنْتُمْ کا خطاب انہی مجادلہ کرنیوالے منافقوں سے ہے اور یہ ان کو زجر ہے۔
Ayahs 4:110–112

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:110 in the Quran reader

اور جو کوئی کرے گناہ یا اپنا برا80 کرے پھر اللہ سے بخشوادے تو پاوے اللہ کو بخشنے والا مہربان

وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:111 in the Quran reader

اور جو کوئی کرے گناہ سو کرتا ہے اپنے ہی حق میں اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:112 in the Quran reader

اور جو کوئی کرے خطا یا گناہ پھر تہمت لگا دے کسی بےگناہ پر تو اس نے اپنے سر دھرا طوفان اور گناہ صریح

80 سُوْ ء سے مراد چوری اور ظلم، نفس سے مراد جھوٹی شہادت ہے یعنی جو شخص چوری اور جھوٹی گواہی جیسا گناہ کر کے بھی اس سے سچی توبہ کرلے اللہ تعالیٰ اس کا گناہ معاف کر کے اسے اپنی رحمت کا مورد بنا لے گا۔ وَمَنْ یَّکْسِبْ خَطِیْئَۃً اَوْ اِثْماً یہ بھی قوم طعمہ کو زجر ہے کیونکہ انہوں نے ایک بےگناہ یہودی پر تہمت لگائی اور طعمہ کو بری کرنے کے لیے جھوٹ قسمیں کھائی اور جھوٹی گواہیاں دیں۔ خَطِیْئَۃً سے مراد چوری اور اثم سے مراد جھوٹی قسم ہے۔ قیل ان الخطیئۃ ھی سرقۃ الدرع والاثم ھو یمینہ الکاذبۃ (خازن ج 1 ص 496، بحر ج 3 ص 346) ۔ وَلَوْ لَا فَضْلُ اللہِ عَلَیْکَ الخ۔ لَوْ کا جواب محذوف ہے یعنی لَاَضَلُّوْک اور لَھَمَّتْ سے استیناف ہے جو ماقبل کے لیے بمنزلہ علت ہے اور ان کافروں کے برے مقصد اور ارادے کو ظاہر کرنے کیلئے لایا گیا ہے یعنی اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو وہ آپ کو صحیح فیصلے سے بھٹکا دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے حقیقت حال سے مطلع کر کے آپ کو ان کے دھوکے سے بچالیا وہ تو اپنی طرف سے آپ کو غلط راہ پر ڈالنے کا تہیہ کرچکے تھے۔ وجوز ابو البقاء ان یکون الجواب محذوفا والتقدیر ولو لا فض (رح) اللہ عَلَیْکَ وَرَحْمَتُہٗ لا ضلوک ثم استانف بقولہ سبحانہ (لھمت) ای لقد ھمت بذالک (روح ج 5 ص 143) ۔
Ayah 4:113

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَ رَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ١ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا Open ayah 4:113 in the Quran reader

اور اگر نہ ہوتا تجھ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تو قصد کر ہی چکی تھی ان میں ایک جماعت کہ تجھ کو بہکا دیں اور بہکا نہیں سکتے مگر اپنے آپ کو اور تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اللہ نے اتاری تجھ پر کتاب اور حکمت اور تجھ کو سکھائیں وہ باتیں جو تو نہ جانتا تھا اور اللہ کا فضل تجھ پر بہت بڑا ہے81

81 چوری کی یہ مذکورہ واردات جس کی حقیقت سے آپ آگاہ نہیں تھے جس کے اصل چور کا آپ کو علم نہیں تھا اور جس میں چور کے رشتہ داروں نے چور کو بےگناہ ثابت کرنے کے لیے جو رات کو بیٹھ کر منصوبہ بنایا تھا اسے بھی آپ نہیں جانتے تھے لیکن اس واقعہ کی پوری حقیقت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مطلع کردیا اور یہ اللہ تعالیٰ کا آپ پر بہت بڑا احسان اور اس کا عظیم فضل ہے کیونکہ اگر آپ اصل حقیقت سے آگاہ نہ ہوتے تو آپ ایک بےگناہ کو چوری کی سزا دیدیتے اور اصل چور کو بری کردیتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ لوگوں کے دلوں میں آپ کی نبوت کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوجاتے۔ آیت کی مزید تحقیق :۔ اس آیت سے بریلوی آنحضرت ﷺ کے کلی علم غیب پر استدلال کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں لفظ مَا استعمال ہوا ہے جو عموم کے لیے ہوتا ہے تو مطلب یہ ہوا کہ تمام وہ چیزیں جو آپ کو معلوم نہ تھیں وہ ساری کی ساری اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتادیں تو اس سے معلوم ہوا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے کلی علم غیب عطا کردیا تھا مگر اس آیت سے آنحضرت ﷺ کے لیے کلی علم غیب پر استدلال سراسر باطل ہے۔ اولاً اس لیے کہ یہ استدلال اس بات پر مبنی ہے کہ ما اس آیت میں عموم اور استغراق حقیقی کے لیے ہے حالانکہ ماہر جگہ عموم اور استغراق کے لیے نہیں آتا بلکہ اس میں خصوص کا بھی احتمال ہوتا ہے۔ امام ابو البرکات نسفی حنفی فرماتے ہیں۔ و من و ما یحتملان العموم والخصوص و اصلھما العموم (رسالہ منار مع شرح نور الانوار ص 97) ۔ یعنی اگرچہ اصل دونوں میں عموم ہے لیکن دونوں میں خصوص کا احتمال بھی ہوتا ہے اس کی شرح میں ملا جیون فرماتے ہیں۔ یعنی انھما فی اصل الوضع للعموم و یستعملان فی الخصوص بعارض القرائن۔ اور ایسی مثالیں خود قرآن میں بکثرت موجود ہیں جن میں کلمہ ما عموم کے لیے نہیں چناچہ ایک جگہ ارشاد ہے۔ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْا نُوْا تَعْلَمُوْنَ (بقرہ رکوع 18) اور وہ (پیغمبر ﷺ تم کو وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے اس آیت میں خطاب براہ راست صحابہ کرام ؓ سے اور ان کی وساطت سے ساری امت تا قیامت اس آیت کی مخاطب ہے اگر یہاں کلمہ مَا کو عموم اور استغراق حقیقی پر محمول کیا جائے جیسا کہ بریلوی حضرات کا خیال ہے تو اس سے لازم آئے گا کہ تمام صحابہ کرام بلکہ امت محمدیہ کا ہر فرد تا قیامت غیب دان ہو اور اسے ماکان و ما یکون کا کلی علم غیب حاصل ہو۔ حالانکہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں اسی طرح ایک جگہ فرمایا۔ وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْا اَنْتُمْ وَ لَا اٰ بَاءُکُمْ (انعام رکوع 11) ۔ اور سکھایا گیا تم کو وہ کچھ جو تم نہ جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ اس آیت کے سیاق وسباق سے ظاہر ہے کہ اس میں خطاب یہود سے ہے جیسا کہ اکثر مفسرین نے لکھا ہے اور اگر خطاب مسلمانوں سے ہو تو بھی اگر مَا کو یہاں استغراق حقیقی کے لیے لیا جائے تو اس سے ان تمام یہودیوں کو یا تمام مسلمانوں کو غیب دان ماننا پڑے گا۔ جو اس آیت کے مخاطب ہیں ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ مَا ہر جگہ عموم کیلئے نہیں ہوتا۔ ثانیاً مفسرین کرام نے بھی اس آیت میں مَا کو خصوص پر محمول کیا ہے اور اس سے مخصوص امور ہی مراد لیے ہیں اور استغراق حقیقی پر اسے کسی نے بھی محمول نہیں کیا حضرت عبداللہ بن عباس اور مقاتل کہتے ہیں مَا سے مراد شریعت ہے۔ قال ابن عباس و مقاتل ھو الشرع (بحر ج 3 ص 347) مفسر قرطبی، امام بغوی، امام نفسی اور علامہ خازن فرماتے ہیں۔ مَا سے امور دین اور احکام شریعت مراد ہیں وَ عَلَّمَکَ مَا لَم تَکُنْ تَعْلَم یعنی من الشرائع و الاحکام (قرطبی ج 5 ص 382) یعنی من احکام الشرع و امور الدین (معالم و خازن واللفظ لہ ج 1 ص 496) من امور الدین والشرائع (مدارک ج 1 ص 195) ۔ امام ماوردی کہتے ہیں مَا سے کتاب و حکمت مراد ہے۔ وذکر الماوردی الکتاب والحکمۃ (بحر ج 3 ص 347) ان حوالوں سے بخوبی واضح ہوگیا کہ مَا یہاں عموم کے لیے نہیں ہے بلکہ اس سے مراد امور دین اور احکام شریعت ہیں۔ اگر کہا جائے کہ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ مَا سے مراد علم غیب ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جن مفسرین نے علم غیب یا اخبار اولین وآخرین لکھا ہے انہوں نے صحیح اور مختار قول امور دین اور احکام شریعت ہی کو قرار دیا ہے اور دوسرے قول یعنی علم غیب کو کلمہ تمریض قیل سے ذکر کر کے اس کے ضعیف اور غیر معتبر ہونے کی طرف اشارہ کردیا نیز اس ضعیف قول میں بھی کلی علم غیب کا کوئی ذکر نہیں بلکہ اس سے بھی بعض غیب ہی مراد ہے۔ ثالثاً مَا کو یہاں عموم واستغراق پر محمول کرنا آیت کے سیاق وسباق کے بالکل منافی ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے۔ اِنَّا اَنْزَلْنَا اِلَیَْ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ الخ سے حکم سلطانی بیان فرمایا کہ اللہ کے نازل کردہ احکام اور اس کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق فیصلے کیا کرو اس کے بعد جھوٹی تہمت لگانیوالوں اور جھوٹی گواہی دینے والوں کو زجریں کیں اور پھر فرمایا وَعَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ ۔ لہذا ما سے یہاں وہی کچھ مراد ہے جو حضرات مفسرین نے بیان کیا ہے یعنی احکام شریعت لہذا علم غیب کلی مراد لینا سراسر غلط اور باطل ہے نیز اس آیت سے تھوڑا سا پہلے فرمایا۔ وَلَوْ لَا فَضْلُ اللہِ عَلَیْکَ وَ رَحْمَتُہٗ الخ یعنی اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان منافقوں کی ایک جماعت آپ کو صحیح فیصلے سے بھٹکا دیتی۔ اگر آپ کو کلی علم غیب تھا تو پھر کس طرح ممکن تھا کہ منافق آپ کو بھٹکا دیتے اسی طرح وَلَا تَکُنْ لِلْخَائِنِیْنَ خَصِیْمًا سے آپ کو جو تنبیہ کی گئی یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو کلی علم غیب نہیں تھا ورنہ آپ ان جھوٹے منافقین کی کیوں طرف داری کرتے۔ رابعاً سورة نساء جس میں یہ آیت ہے اس کے بعد تقریباً 24 سورتیں اور نازل ہوئیں اگر اس آیت سے آپ کو کلی علم غیب حاصل ہوچکا تھا تو پھر ان چوبیس سورتوں کے نازل کرنے کی کیا ضرورت تھی نیز سورة نساء سے بعد میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے سورة نور، منافقون تحریم اور توبہ وغیرہ ہیں۔ سورة نور میں افک عائشہ ؓ کا واقعہ مذکور ہے جس کی وجہ سےحضور ﷺ عرصہ تک پریشان رہے سورة منافقون میں عبداللہ بن ابی اور دوسرے منافقین کی سازش کا ذکر ہے جس کا آپ کو پتہ نہ چل سکا سورة تحریم میں آپ کے شہد نہ کھانے کی قسم کا ذکر ہے جسے توڑنے کا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا اور سورة توبہ میں مسجد ضرار کے سلسلے میں آپ کو اس مسجد میں جانے سے روک دیا حالانکہ آپ اس مسجد کے بانیوں کو مومن مخلص سمجھ کر اس میں جا کر نماز ادا کرنے کا وعدہ فرماما چکے تھے۔ یہ آیتیں تفصیل کے ساتھ وَمَا کَانَ اللہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلیَ الْغَیْبِ (آل عمران رکوع 18) کی تفسیر میں مذکور ہوچکی ہیں یہ تمام آیتیںحضور ﷺ کی ذات گرامی سے علم غیب کی نفی کرتی ہیں اس لیے اگر زیر بحث آیت سےحضور ﷺ کے لیے کلی علم غیب ثابت کیا جائے تو اس سے بعد میں نازل ہونے والی ان آیتوں کی تکذیب لازم آئیگی جو آپ ﷺ سے کلی علم غیب کی نفی کرتی ہیں تفصیل بالا سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ اس آیت سے آنحضرت ﷺ کے لیے کلی علم غیب ثابت نہیں ہوسکتا۔ ایک من گھڑت قاعدہ : بعض مبتدع مولوی کہتے ہیں کہ مَا عموم کیلئے ہے اور عَلَّمَ کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے اور مفعول نبی اکرم ﷺ ہیں اللہ تعالیٰ مفیض عام ہے اورحضور ﷺ میں استعداد تام تو اس سے ثابت ہوا کہحضور ﷺ کو کلی غیب معلوم تھا۔ اس کا جواب سورة علق میں عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ میں الانسان سے بعض مفسرین کے نزدیک نبی کریم ﷺ مراد ہیں اور بعض بدعتی مولوی بھی اسی کو ترجیح دیتے ہیں تو یہاں بھی فاعل اللہ ہے اور مفعول نبی کریم ﷺ ہیں اور سورة علق کی یہ آیتیں بھی بالاتفاق سارے قرآن سے پہلے نازل ہوئی تھیں تو اگر مَا کو عموم اور استغراق حقیقی کے لیے لیا جائے اور عَلَّمَ ماضی کا صیغہ ہے جو گذشتہ زمانہ میں وقوع فعل پر دلالت کرتا ہے تو مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت سے پہلے یا اس کے نزول کے ساتھ آنحضرت ﷺ کو تمام علوم غیبیہ سکھا دئیے تھے تو (معاذ اللہ) پھر سارے قرآن کے نازل کرنے کی کیا ضرورت تھی کیونکہ یہ تحصیل حاصل ہے نیز یہ قانون بھی کسی کتاب میں نہیں لکھا ہوا کہ فاعل اللہ تعالیٰ ہو اور مفعولحضور ﷺ کی ذات ہو تو وہاں ہمیشہ عموم ہی مراد لیا جاتا ہے بلکہ شرک پھیلانے کے لیے ان مولویوں نے یہ قاعدہ اپنی طرف سے وضع کیا ہے۔ غلط استدلال :۔ مخالفین عموم علم آنحضرت ﷺ پر بعض حدیثوں سے بھی استدلال کرتے ہیں۔ مثلاً صحیح مسلم میں ہے۔ اخبرنا لما کان و ما یکون۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ علوم غیبیہ کلیہ یعنی کل ما کان و ما یکون مثلا کل فوجداری اور دیوانی احکام ہندی، بنگالی، جرمنی وغیرہ کا بیان کرنا تھوڑے سے وقت میں ناممکن ہے بلکہ یہاں مَا سے مراد بعض من امور عظام ہیں یعنی بعض نہایت اہم امور جیسا کہ دوسری روایت میں اس کی تصریح موجود ہے۔ نیز وہ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا۔ شب معراج میں اللہ تعالیٰ نے میری پشت پر ہاتھ رکھا۔ فتجلی لی کل شیء تو میرے لیے سب کچھ روشن ہوگیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سات صحابہ نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں فعلمت الذی سالنی عند کما ھو مصرح فی الدر المنثور اور لفظ تجلی لی کل شیء کے بارے میں خازن نے بیہقی سے نقل کیا ہے کہ اس کے تمام طرق ضعیف ہیں لہذا ان حدیثوں سے آنحضرت ﷺ کے کل علم غیب پر استدلال کرنا غلط اور باطل ہے۔
Ayahs 4:114–115

لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:114 in the Quran reader

کچھ اچھے نہیں ان کے اکثر مشورے مگر جو کوئی کہ کہے صدقہ کرنے کو82 یا نیک کام کو یا صلح کرانے کو لوگوں میں اور جو کوئی یہ کام کرے اللہ کی خوشی کے لئے تو ہم اس کو دیں گے بڑا ثواب

وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠ Open ayah 4:115 in the Quran reader

اور جو کوئی مخالفت کرے رسول ﷺ کی جب کہ کھل چکی اس پرسیدھی راہ اور چلے سب مسلمانوں کے راستہ کے خلاف تو ہم حوالہ کریں گے اس کو وہی طرف جو اس نے اختیار کی اور ڈالیں گے ہم اس کو دوزخ میں اور وہ بہت بری جگہ پہنچا

82 یہ نویں حکم سلطانی سے متعلق ہے۔ منافقوں نے رات کو منصوبہ بنایا تھا کہ وہ زید بن یاسمین یہودی پر چوری کا الزام لگا دیں اور جھوٹی قسمیں کھا کر طعمہ کو چوری کے الزام سے بری کرنے کی کوشش کریں گے تو فرمایا دوسرے کو نقصان پہنچانے اور جھوٹی گواہی دینے کے لیے مشورے نہیں کرنے چاہئیں۔ اراد ما تفاوض بہ قوم بنی ابیرق من التدبیر (قرطبی ج 5 ص 382) بلکہ مشورے تو دوسروں کو فائدہ پہنچانے، ان پر احسان کرنے اور باہمی اصلاح کی بابت ہونے چاہئیں۔ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذَالِکَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللہِ الخ یہ ان لوگوں کے لیے بشارت اخروی ہے جو محض اللہ کی رضا کے لیے مشورے کریں وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ الخ یہ ان لوگوں کے لیے تخویف اخروی ہے جو پیغمبر خدا ﷺ اور مسلمانوں کی مخالفت پر کمر بستہ ہوں اور ان کے خلاف منصوبے بنائیں اور مشورے کریں یہاں تک نو احکام سلطانیہ ختم ہوئے۔
Ayah 4:116

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:116 in the Quran reader

بیشک اللہ نہیں بخشتا اس کو جو اس کا شریک کرے کسی کو اور بخشتا ہے اس کے سوا جس کو چاہے83 جس نے شریک ٹھہرایا اللہ کا وہ بہک کر دور جا پڑا

83 یہ مشرکین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ احکام سلطانیہ کے بعد اصلی مقصد یعنی توحید کا پہلے کی نسبت قدرے تفصیل سے بیان ہے وہاں کہا شرک نہ کرو یہاں بیان کیا کہ شرک بری بلا ہے اسے خدا کبھی نہ بخشے گا۔ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا اِنٰثًا سے شرک اعتقادی کی نفی کی گئی ہے۔ اِنٰثاً سے مراد فرشتے ہیں کیونکہ مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹیوں کے بمنزلہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے وہ خدا کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ ان بعضہم کان یعبد الملئکۃ و کانوا یقولون المائکۃ بنات اللہ (کبیر ج 3 ص 464) وقیل اِلَّا اِنٰثاً ملئکۃ لقولہم الملائکۃ بنات اللہ وھی شفعاءنا عند اللہ (قرطبی ص 387 ج 5)
Ayahs 4:117–120

اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا١ۚ وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًاۙ Open ayah 4:117 in the Quran reader

اللہ کے سوا نہیں پکارتے مگر عورتوں کو اور نہیں پکارتے مگر شیطان سرکش کو84

لَّعَنَهُ اللّٰهُ١ۘ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاۙ Open ayah 4:118 in the Quran reader

جس پر لعنت کی اللہ نے اور کہا شیطان نے کہ میں البتہ لونگا تیرے بندوں سے حصہ مقررہ

وَّ لَاُضِلَّنَّهُمْ وَ لَاُمَنِّیَنَّهُمْ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 4:119 in the Quran reader

اور ان کو بہکاؤں گا اور ان کو امیدیں دلاؤں گا اور ان کو سکھلاؤں گا کہ چیریں جانوروں کے کان اور ان کو سکھلاؤں گا کہ بدلیں صورتیں بنائی ہوئی اللہ کی اور جو کوئی بناوے شیطان کو دوست اللہ کو چھوڑ کر تو وہ پڑا صریح نقصان میں

یَعِدُهُمْ وَ یُمَنِّیْهِمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 4:120 in the Quran reader

ان کو و عدہ دیتا ہے اور ان کو امیدیں دلاتا ہے اور جو کچھ وعدہ دیتا ہے ان کو شیطان سو سب فریب ہے

84 یعنی بظاہر تو فرشتوں اور بزرگوں کی موتیوں کو پکارتے اور ان پر نذریں نیازے چڑھاتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ سب کچھ وہ شیطان کیلئے کر رہے ہیں جو ان مورتیوں سے بولتا ہے کان یدخل فی اجواف الاصنام فیتکلم واعیھا (بحر ج 3 ص 352) یہاں تک شرک اعتقادی کی نفی تھی وقال لا تخذن من عبادک نصیبا مفروضا۔ یہاں سے شرک فعلی کی نفی کی گئی ہے۔ نَصِیْباً مَّفْرُوْضاً مقررہ حصہ یعنی میں تیرے بندوں کو ایسا گمراہ کروں گا کہ وہ شرک کرنے لگیں گے اور اپنے مالوں سے مقررہ حصے غیر اللہ کی نیازوں کے نکالیں گے (شاہ عبدالقادر) ۔ فَلْیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ الخ یعنی وہ غیر اللہ کی خوشنودی کے لیے جانور چھوڑیں گے اور بحیرے سائبے وغیرہ بنائیں گے اور بطور علامت ان کے کانوں میں شگاف کردیں گے ای احملھم علی قطع اٰذان البحیرۃ و السائبۃ ونحوہ (قرطبی ج 5 ص 389) فَلَیُغَّیِّرُنَّ خَلْقَ اللہِ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں۔ خَلْقَ اللہ سے مراد اللہ کا دین ہے اور تغیر سے حلال کو حرام کرنا اور حرام کو حلال کرنا مراد ہے۔ قال ابن عباس یعنی دین اللہ و تغییر دین اللہ ھو تحلیل الحرام و تحریم الحلال (خازن ج 1 ص 499) یہاں تک شرف فعلی کی نفی تھی۔