8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsجواھر القرآن

Ayah 8:41

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 8:41 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ جو کچھ42 تم کو غنیمت ملے کسی چیز سے سو اللہ کے واسطے ہے اس میں سے پانچواں حصہ اور رسول کے واسطے اور اس کے قرابت والوں کے واسطے اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے واسطے اگر تم کو یقین ہے اللہ پر اور اس چیز پر جو ہم نے اتاری اپنے بندے پر فیصلہ کے دن43 جس دن بھڑ گئیں دونوں فوجیں اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

42: حصہ دوم : دوسرا حصہ “ وَاعْلَمُوْا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ الخ ” سے آخر سورت تک ہے۔ اس حصے میں بھی وہ دونوں مضمون مذکور ہیں جو حصہ اول میں مذکور ہوئے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس حصہ میں “ اَلْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ” کی تفصیل کی گئی ہے اور اس کی جو علل بیان کی گئی ہیں ان کی تعداد پانچ ہے اور قوانین جہاد سات ہیں وہ تمام مؤمنین کے لیے اور پانچ خاصحضور ﷺ کے لیے۔ مضمون اول (تفصیل مصارف انفال مع علل): یہاں “ اَلْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ” کا مضمون تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ چناچہ “ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ الخ ” میں مال غنیمت کے خمس یعنی پانچویں حصے کے مصارف مذکور ہیں۔ (1) “ لِلرَّسُوْلِ ” پیغمبر خدا صلی اللہ ه علیه وسلم کی وفات سے آپ کا حصہ ساقط ہوچکا ہے۔ (2) ۔ “ وَ لِذِيْ القُرْبٰی ” اہل قرابت اس سے آنحضرت ﷺ کے اہل قرابت یعنی بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب میں سے جو اسلام لا چکے تھے وہ مراد ہیں۔ کیونکہ انہوں نے شروع ہی سے آنحضرت ﷺ کا ساتھ دیا تھا اسلام کی وجہ سے یا قرابت کی وجہ سے، یہ حصہ ذوی القربیٰ کو دیا جاتا تھا خواہ اغنیاء ہوں یا فقراء لیکن اب یہ حصہ بھی ساقط ہوچکا ہے۔ البتہ بنو ہاشم اور بنو المطلب میں جو فقراء ہیں انکو فقراء (مساکین) کے حصے میں سے دیا جائے گا اور دوسرے فقراء پر ان کو مقدم کیا جائے گا۔ (3) ۔ “ وَالْيٰتٰمٰی ” یتیم کی جمع ہے۔ یتیم اسے کہتے ہیں جو نابالغ ہو اور اس کا باپ فوت ہوچکا ہو۔ “ الیتیم انقطاع الصبي عن ابیه قبل بلوغه ” (مفردات ص 572) یتیم اگر محتاج ہو تو اس کو حصہ ملیگا اگر محتاج نہیں غنی ہے تو اس کو نہیں ملیگا۔ (4) ۔ “ وَالْمَسَاکِیْنَ ” فقراء اور اہل حاجت مسلمان۔ (5) ۔ “ وَابْنِ السَّبِیْلِ ” جو مسافر اپنے گھر سے دور ہو اور صاحب حاجت ہو سفر میں اس کا خرچ ختم ہوچکا ہو۔ خمس کے بعد باقی چار حصے مجاہدیں اور غانمین کے درمیان تقسیم کیے جائیں گے سوار کو دو حصے اور پیدل کو ایک حصہ۔ 43 ۔ “ يَوْمَ الْفُرْقَانِ ” (فیصلے کا دن) سے یوم بدر مراد ہے کیونکہ اس دن کی جنگ حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن تھی اور “ يَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ ” یہ “ يَوْمَ الْفُرْقَانِ ” سے بدل ہے اور “ اَلْجَمْعٰنِ ” (دو فریق) سے مسلمانوں اور کافروں کی فوجیں مراد ہیں اور “ مَا اَنْزَلْنَا ” سے جنگ بدر میں مسلمانوں کو فتح و نصرت عطا کرنا اور فرشتوں کا اتارنا مراد ہے۔ یعنی اگر تمہارا اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان ہے اور اس بات پر ایمان ہے کہ جنگ بدر میں فتح و نصرتکا سامان اللہ ہی نے بہم پہنچایا اور اسی کی مہربانی سے اور اسی کی امداد و اعانت سے مسلمانوں کو غلبہ نصیب ہوا اور مشرکین ذلیل اور مقہور ہوئے۔ تو اس جنگ میں جو مال غنیمت حاصل ہوا اس کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کرو اور اپنی رائے کا اس میں دخل نہ دو ۔ “ ان الملائکة والنصر لما کانا منه تعالیٰ وجب ان یکون ما حصل بسببھما من الغنیمة مصروفا الی الجھات التی عینھا اللہ سبحانه ” (روح ج 10 ص 6) ۔
Ayah 8:42

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

جس وقت تم تھے44 ارلے کنارہ پر اور وہ پرلے کنارہ پر اور قافلہ نیچے اتر گیا تھا تم سے اور اگر تم آپس میں وعدہ45 کرتے تو نہ پہنچتے وعدہ پر ایک ساتھ لیکن اللہ کو کر ڈالنا تھا ایک کام کو جو مقرر ہوچکا تھا تاکہ مرے جس کو مرنا ہے46 قیام حجت کے بعد اور جیوے جس کو جینا ہے قیام حجت کے بعد اور بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے

44: یہ حکم سابق کی پہلی علت ہے۔ یہاں تینوں جماعتوں کے مراکز قیام کا ذکر کیا گیا۔ “ اَلْعُدْعَةِ الدُّنْیَا ” یعنی وادی کا وہ کنارہ جو مدینہ سے قریب تھا یہاں مسلمانوں کا پڑاؤ تھا۔ “ اَلْعُدْوَةِ الْقُصْوٰي ” وادی کا دوسرا کنارہ جو مدینہ سے دور تھا اس پر مشرکین کی فوجیں خیمہ زن تھیں۔ “ والرَّکْبُ ” یہ راکب کی اسم جمع ہے۔ مراد مشرکین کا تجارت قافلہ ہے یعنی قافلہ دونوں لشکروں سے نچلی جانب ساحل سمندر پر تھا۔ حاصل یہ کہ مشرکین کا تجارتی قافلہ مشرک فوج کی پشت پر تھا اس طرح مسلمانوں کے مقابلے میں مشرکین کی قوت و شوکت کئی گنا تھی مگر اس کے باوجود الہک نے ان کو مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب کیا۔ 45: میدان بدر میں اچانک دونوں فوجوں کے درمیان مڈ بھیڑ ہوگئی۔ اگر دونوں فریق پہلے لڑائی کا وقت مقرر کرلیتے تو ممکن تھا کہ ان میں سے کوئی وعدے کے مطابق نہ پہنچ پاتا یا پہنچنے میں پس و پیش کرتا لیکن اللہ تعالیٰ ایک ایسے کام فیصلہ کرنا چاہتا تھا جو کرنے کے لائق تھا یا س کے علم قدیم میں مقدر تھا۔ “ کان ینبغی ان یفعل ای لیحکم ما قد علم انه یکون کائنا ” (مدارک ج 2 ص 80) اور اس سے اعزاز دین اعلاء کلمۃ اللہ، امداد مؤمنین اور قہر اعداء مراد ہے۔ (مدارک) ۔ مسلمان قافلہ پر حملہ کرنے کو نکلے تھے اور مشرکین کی فوج قافلہ کی حفاظت کو آئی تھی دونوں کو ایک دوسرے کا علم نہیں تھا قافلہ بچ گیا اور یہ دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوگئیں۔ اس طرح اللہ نے تدبیر سے دونوں فوجوں کو بھڑا دیا۔ 46: جنگ بدر کی عظیم الشان فتح کے معجزے کافروں پر اسلام اور پیغمبر اسلام (علیہ السلام) کی صداقت واضح ہوگئی اور انہیں آپ کی سچائی کا یقین ہوگیا اس لیے جو مشرکین جنگ بدر میں مرے وہ بھی اس یقین کے ساتھ مرے اور جو زندہ رہے وہ بھی حق پہچان کر زندہ رہے اس طرح اللہ کی حجت قائم ہوگیئ۔ اس صورت میں “ مَنْ ھَلَکَ ” اور “ مَنْ حَيَّ ” سے مشرکین ہی مراد ہوں گے یا “ مَنْ ھَلَکَ ” سے مشرکین اور “ مَنْ حَيَّ ” سے مسلمان مراد ہیں۔ “ ان الذین ھلکوا انما ھلکوا بعد مشاھدة ھذا المعجزة والمؤ منون الذین بقوا فی الحیوة شاھدوا ھذه المعجزة القاھرة ” (کبیر ج 4 ص 547) ۔
Ayah 8:43

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

جب اللہ نے وہ کافر47 دکھلائے تجھ کو تیری خواب میں تھوڑے اور اگر تجھ کو بہت دکھلا دیتا تو تم لوگ نامردی کرتے اور جھگڑا ڈالتے کام میں لیکن اللہ نے بچا لیا اس کو خوب معلوم ہے جو بات ہے دلوں میں

47: یہ دوسری علت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو خواب میں مشرکین کی تعداد کم دکھائی آپ نے بیدار ہو کر صحابہ سے اس کا ذکر فرمایا جس سے ان کے دلوں میں ہمت وجرات کے جذبات ابل پڑے۔ فرمایا اگر مشرکین کی تعداد زیادہ دکھائی جاتی تو تم سست پڑجاتے اور جنگ کے معاملے میں تمہارے درمیان اختلاف ہوجاتا لیکن اللہ تعالیٰ نے تم کو بزدلی اور اختلاف سے بچا لیا کیونہ وہ دلوں کے چھپے بھید جانتا ہے۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ ان مشرکین میں سے اکثر کا علم الٰہی میں ایمان لانا مقدر تھا اس لیےحضور ﷺ کو خواب میں ان کی تعداد کم دکھائی۔
Ayah 8:44

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور جب تم کو دکھلائی وہ فوج48 مقابلہ کے وقت تمہاری آنکھوں میں تھوڑی اور تم کو تھوڑا دکھلایا ان کی آنکھوں میں تاکہ کر ڈالے اللہ ایک کام جو مقرر ہوچکا تھا اور اللہ تک پہنچتا ہے ہر کام

48: یہ تیسری علت ہے۔ جب دونوں فوجیں بالمقابل ہوئیں اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کے تصرف سے مسلمانون کو مشرکین بہت کم نظر آئے تاکہ وہ جرات سے لڑیں نیز تاکہ پیغمبر (علیہ السلام) کے خواب کی تصدیق ہوجائے اور کافروں کو مسلمان کم نظر آرہے تھے اور وہ واقعہ میں بھی کم ہی تھے۔ یہ تو مسلمانوں کی فتح اور کامیابی کے ظاہری اسباب تھے۔ “ وَ اِلَی اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ” اور حقیقت میں تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے قبضہ و تصرف میں ہیں اور وہی متصرف و مختار ہے۔ اور فتح و شکست اس کے ہاتھ میں ہے۔
Ayahs 8:45–46

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

اے ایمان والو49 جب بھڑو کسی فوج سے تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم مراد پاؤ

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اور حکم مانو اللہ کا اور اس کے رسول کا، اور آپس میں نہ جھگڑو، پس نامرد ہوجاؤ گے اور جاتی رہے گی تمہاری ہوا اور صبر کرو بیشک اللہ ساتھ ہے صبر والوں کے

49: مضمونِ ثانی (قوانین جہاد) پہلا قانون جہاد برائے مؤمنین : اے ایمان والو ! جب کسی کافر فوج سے مقابلہ ہوجائے۔ تو مقابلے میں ثابت قدم رہو اور فتح و نصرت کے لیے اللہ کو یاد کرو اور اسی کو پکارو۔ “ وَ اَطِیعُوْ اللّٰهَ الخ ” اور اللہ و رسول کے احکام کی پیروی کرو اور آپس میں نزاع وجدال سے پرہیز کرو۔ ورنہ تم کمزور و بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری قوت اور شان و شوکت جاتی رہے گی۔
Ayah 8:47

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 8:47 in the Quran reader

اور نہ ہوجاؤ ان50 جیسے جو کہ نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھانے کو اور روکتے تھے اللہ کی راہ سے اور اللہ کے قابو میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں

50 یہ زجر ہے۔ “ بَطَرًا ” فخر اور غرور۔ موصول سے ابوجہل اور اس کا لشکر مراد ہے جو کہ قافلہ کی حمایت کے لیے اپنی تعداد اور بہادری اور سامان جنگ پر فخر و ناز کرتے ہوئے اور لوگوں سے داد شجاعت وصول کرنے کی غرض سے مکہ مکرمہ سے نکلے تھے۔ “ والمراد بھم اھل مکة ابوجهل و اصحابه حین خرجوا الحمایة العیر ”(روح ج 10 ص 14) ۔ “ وَ یُصُدُّوْنَ ” یہ “ بَطَرًا ” پر معطوف ہے اور بتاویل اسم فاعل “ خَرَجُوْا ” فاعل سے حال ہے۔ “ سَبِیْلِ اللّٰه ” سے اللہ کا دین مراد ہے۔
Ayah 8:48

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 8:48 in the Quran reader

اور جس وقت خوش نما کردیا51 شیطان نے ان کی نظروں میں ان کے عملوں کو، اور بولا کوئی بھی غالب نہ ہوگا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں تمہارا حمایتی ہوں پھر جب سامنے ہوئیں دونوں فوجیں تو وہ الٹا پھرا اپنی ایڑیوں پر اور بولا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں ڈرتا ہوں اللہ سے اور اللہ کا عذاب سخت ہے

51: یہ چوتھی علت ہے۔ جنگ بدر کی اہمیت کو ابلیس نے بھی محسوس کرلیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اگر فتح مسلمانوں کی ہوئی تو عرب سے کفر و شرک کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس لیے مشرکین کی تائید وحمایت کے لیے وہ بھی ایک عرب سردار سراقہ بن مالک کنانی کی صورت میں شیاطین کی فوج لے کر میدان جنگ میں آ نمودار ہوا۔ اور آتے ہی کہا اب میں کمک لے کر تمہاری پشت پناہی کیلئے آگیا ہوں۔ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا۔ مشرکین یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ لیکن جب اس نے فرشتوں کے جتھے دیکھے اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا تو مع شیاطین میدان سے بھاگ نکلا۔ اس وقت وہ حارث بن ہشام کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔ جب بھاگا تو حارث نے کہا کی اس حالت میں ہمیں چھوڑے جا رہا ہے تو اس نے جواب دیا میں تمہاری امداد سے دستبردار ہوتا ہوں کیونکہ مجھے وہ کچھ نظر آرہا ہے جسے تم نہیں دیکھ سکتے۔ اللہ کا عذاب جو تم پر فرشتوں کے ہاتھوں نازل ہونے والا ہے جس سے تم بیخبر ہو میں اس سے ڈر رہا ہوں۔ ابلیس کے بشکل سراقہ میدان چھوڑنے سے مشرکین کی ہمتیں پست ہوگئیں اور وہ مات کھا گئے۔ (روح، خازن وغیرہ) ۔
Ayah 8:49

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:49 in the Quran reader

جب کہنے لگے منافق52 اور جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ لوگ مغرور ہیں اپنے دین پر اور جو کوئی بھروسہ کرے اللہ پر تو اللہ زبردست ہے حکمت والا

52: یہ پانچویں علت ہے۔ یہ بات منافقین نے مدینہ میں کہی تھی کیونکہ جنگ بدر میں کوئی منافق شریک نہیں ہوا۔ منافقین نے مدینہ میں مسلمانوں کے بارے میں کہا تھا کہ یہ لوگ تو اپنے مذہب کے پیچھے دیوانے ہوگئے ہیں۔ یہ اتنی قلیل تعداد (تین سو تیرہ) سے مشرکین کی اتنی بڑی فوج کا کس طرح مقابلہ کرسکیں گے۔ “ اغتروا بدینھم فخرجوا وھم ثلثمائة و بضعة عشر الی ذھاء الف ” (مدارک ج 2 ص 82) ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا “ وَ مَنْ يَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰه الخ ” جو لوگ قلت عدد اور ضعف اسباب کے باوجود اپنے معاملات اللہ کے سپرد کردیتے ہیں وہ اپنی حکمت اور تدبیر سے ان کو غلبہ عطا کردیتا ہے۔
Ayahs 8:50–51

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 8:50 in the Quran reader

اور اگر تو دیکھے53 جس وقت جان قبض کرتے ہیں کافروں کی فرشتے مارتے ہیں ان کے منہ پر اور ان کے پیچھے اور کہتے ہیں چکھو عذاب جلنے کا

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ Open ayah 8:51 in the Quran reader

یہ بدلا ہے اسی کا جو تم نے آگے بھیجا اپنے ہاتھوں اور اس واسطے کہ اللہ ظلم نہیں کرتا بندوں پر

53: یہ تخویف واخروی ہے۔ “ اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ” سے وہ کفار مراد ہیں جو بدر میں قتل ہوئے۔
Ayah 8:52

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:52 in the Quran reader

جیسے دستور فرعون والوں کا54 اور جو ان سے پہلے تھے کہ منکر ہوئے اللہ کی باتوں سے سو پکڑا ان کو اللہ نے ان کے گناہوں پر بیشک اللہ زور آور ہے سخت عذاب کرنے والا

54: تخویف دنیوی ہے اور یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے “ اي دابھم کداب اٰل فرعون ” یعنی ان مقتولین بدر کا حال قوم فرعون اور اس سے پہلے کی سرکش قوموں مثلا قوم نوح قوم عاد، قوم ثمود وغیرہ کی طرح ہے۔ “ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ” یہ ان کے حال کی تفسیر ہے۔ انہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔ اسی طرح مشرکین قریش کو بھی جنگ بدر میں ان کے کفر وعناد ہی کی سزا دی گئی۔ “ عادة ھؤلاء الکفار فی کفرھم کعادة کفار اٰل فرعون فی کفرھم فجوزي ھؤلاء بالقتل والاسر یوم بدر کما جو زي ال فرعون بالاغراق ”(خازن ج 3 ص 35) ۔
Ayah 8:53

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:53 in the Quran reader

اس کا سبب یہ ہے55 کہ اللہ ہرگز بدلنے والا نہیں اس نعمت کو جو دی تھی اس نے کسی قوم کو جب تک وہی نہ بدل ڈالیں اپنے جیوں کی بات، اور یہ کہ اللہ سننے والا جاننے والا ہے

55: یہ بیان مذکور کی طرف اشارہ ہے اور “ بِاَنْ ” کا متعلق محذوف ہے “ اي لتستیقنوا ” یعنی یہ مذکورہ امور اس لیے بیان کیے گئے تاکہ تمہیں یقین ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اپنی کسی نعمت سے اس وقت تک محروم نہیں فرماتا جب تک لوگ خود ہی اپنے ان اعمال واحوال کو نہ بدل ڈالیں جن سے وہ اللہ کی نعمتوں اور اس کی دی ہوئی فطری صلاحیتوں اور خوبیوں کو غلط استعمال کرنے لگتے ہیں اور ان سے ٹھیک اور برمحل کام نہیں لیتے اور ان کو اللہ تعالیٰ ہی کے احکام کی مخالفت میں بروئے کار لانے میں مصروف ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے اپنی نعمتیں چھین کر ان کو سخت عذاب میں مبتلا کردیتا ہے۔
Ayah 8:54

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 8:54 in the Quran reader

جیسے دستور فرعون والوں56 کا اور جو ان سے پہلے تھے کہ انہوں نے جھٹلائیں باتیں اپنے رب کی، پھر ہلاک کردیا ہم نے ان کو ان کے گناہوں پر اور ڈبو دیا ہم نے فرعون والوں کو اور سارے ظالم تھے

56: تخویف دنیوی ہے۔ یہ مضمون ماقبل کی تمثیل ہے۔ قوم فرعون اور ان سے پہلے کی سرکش اقوام کا حال دیکھو، ہم نے ان کو تمام دنیوی نعمتیں اور آسائشیں دے کر سرفراز کیا مگر جب ہمارے پیغمبر ہماری آیتیں لے کر ان کے پاس گئے تو انہوں نے ان کی تکذیب کی اور گناہوں میں منہمک ہوگئے اور ہماری نعمتوں کی ناشکری کی تو ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا۔ “ کُلٌّ کَانُوْا ظٰلِمِیْنَ ” یہ تمام اقوام ظالم تھیں۔ انہوں نے ہماری دی ہوئی نعمتوں کا غلط اور بےموقع استعمال کیا۔ میری نافرمانی کی میرے پیغمبروں اور میری کتابوں کو جھٹلایا اور اسی کی پاداش میں مبتلائے عذاب کیے گئے۔ بالکل یہی حال ان مشرکین مکہ کا تھا۔ ان کو ہم نے عقل و فہم کی دولت سے نوازا، مال و زر سے ان کے خزانے بھر دئیے۔ پورے عرب میں ان کی سرداری اور برتری قائم کردی۔ لیکن جب ہمارا آخری پیغمبر ہمارا آخری پیغام لے کر ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے ہماری دی ہوئی تمام نعمتوں اور صلاحیتوں کو اس کی عداوت اور مخالفت میں صرف کر ڈالا۔ جنگ بدر میں قتل اور قید و بند سے اسی جرم کی ان کو سزا دی گئی۔
Ayahs 8:55–56

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

بدتر سب57 جانداروں میں اللہ کے ہاں وہ ہیں جو منکر ہوئے پھر وہ نہیں ایمان لاتے

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

جن سے تو نے معاہدہ کیا ہے ان میں سے پھر وہ توڑتے ہیں اپنا عہد ہر بار اور وہ ڈر نہیں رکھتے

57: یہ زجر ہے جو کفار معاندین کفر میں راسخ اور عناد پر مصر ہیں وہ خدا کے نزدیک اس کی ساری مخلوق سے بدتر ہیں وہ ایمان کبھی نہیں لائیں گے۔ ان کی شرارت اور خبث باطن کا یہ حال ہے کہ جب بھی آپ ان سے کوئی عہد لیتے ہیں وہ ہر بار عہد شکنی کرتے ہیں اور عہد توڑنے میں ذرا نہیں ہچکچاتے۔ اس سے بنی قریظہ کے یہود مراد ہیں جنہوں نےحضور ﷺ سے عہد کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی نہ امداد کریں گے اور نہ ان کو مسلمانوں کے خلاف اکسائیں گے۔ مگر وہ اپنے عہد پر قائم نہ رہے اور انہوں نے جنگ بدر میں اسلحہ سے مشرکین کی امداد کی۔ جب مشرکین شکست کھا گئے تو یہودحضور ﷺ سے معذرت کرنے لگے کہ ہم سے غلطی ہوگئی ہے۔ چناچہ آپ نے دوبارہ ان سے عہد لیا۔ مگر اس کے بعد غزوہ خندق میں انہوں نے پھر عہد توڑ دیا اور مشرکین کا ساتھ دیا۔ “ قال ابن عباس ھم قریظة فانھم نقضوا عھد رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم واعانوا علیه المشرکین بالسلاح یوم بدر ثم قالوا اخطانا فاھدھم مرة اخري فنقضوه ایضا يوم الخندق ” (کبیر ج 4 ص 557) ۔
Ayah 8:57

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

سو اگر کبھی تو پائے ان کو58 لڑائی میں تو ان کو ایسی سزا دے کہ دیکھ کر بھاگ جائیں ان کے پچھلے تاکہ ان کو عبرت ہو

58 ۔ یہ دوسرا قانونِ جنگ ہے اور نبی کریم ﷺ سے مخصوص ہے یعنی جو لوگ آپ کے ساتھ اس طرح بار بار عہد شکنی کر رہے ہیں اگر کبھی جنگ میں آپ کے بالمقابل آجائیں تو آپ انہیں ایسی سزائے سخت دیں کہ جو پیچھے رہ گئے ہیں وہ بھی خوفزدہ ہوجائیں یا ان کی آنے والی نسلیں بھی اس سے عبرت حاصل کریں اور آئندہ کبھی نقض عہد (عہد توڑنے) کی جرات نہ کرسکیں۔
Ayahs 8:58–59

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور اگر تجھ کو ڈر59 ہو کسی قوم سے دغا کا تو پھینک دے ان کا عہد ان کی طرف ایسی طرح پر کہ ہوجاؤ تم اور وہ برابر بیشک اللہ کو خوش نہیں آتے دغا باز

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

اور یہ نہ سمجھیں کافر لوگ کہ وہ بھاگ نکلے وہ ہرگز تھکا نہ سکیں گے ہم کو

59: لیکن اگر کسی قوم نے ابھی تک صریح عہد شکنی نہیں کی لیکن آثار و قرائن سے آپ کو اندازہ ہوجائے کہ وہ عہد توڑنے والے ہیں تو آپ کو اجازت ہے کہ اگر مناسب سمجھیں تو ان کا عہد واپس کردیں اور معاہدہ سے دست برداری کی ان کو اطلاع دے کر مناسب کاروائی کریں تاکہ معاہدہ کے بارے میں دونوں فریق علم وآگاہی میں برابر ہوجائیں اور کوئی فریق اندھیرے میں نہ رہے۔
Ayah 8:60

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور تیار کرو ان کی لڑائی کے واسطے60 جو کچھ جمع کرسکو قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے کہ اس سے دھاک پڑے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور دوسروں پر ان کے سوا جن کو تم نہیں جانتے اللہ ان کو جانتا ہے اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ کی راہ میں62 وہ پورا ملے گا تم کو اور تمہارا حق نہ رہ جائے گا

60: تیسرا قانون جنگ برائے مؤمنین یہاں مسلمانوں کو جنگی سامان کی تیاری کا حکم دیا گیا۔ یعنی مسلمان ہر زمانے کے مطابق دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے سامان جنگ تیار رکھیں جب تیر و تفنگ اور نیز و تلوار کا زمانہ تھا اس وقت ان ہتھیاروں کی تیاری اور ان کے استعمال کی ٹریننگ ضروری تھی۔ اب جبکہ مشین گن، توپ، ٹینک اور بمبار طیاروں کا زمانہ ہے اس وقت ان ہتھیاروں کا استحاصل اور ان کے استعمال کی تربیت لازمی ہے۔ تاکہ اللہ کے دین اور مسلمانوں کے دشمن مرعوب رہیں یعنی سامان جنگ کی اس لیے ضرورت ہے کہ ظاہری اسباب کے لحاظ سے کافروں پر تمہاری طاقت کا رعب بیٹھ جائے باقی فتح و شکست کا مدار سامان کی کثرت و قلت پر نہیں وہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ “ مِنْ قُوَّةٍ ” قوت سے ہر وہ ہتھیار اور جنگی تدبیر مراد ہے جو جنگ میں ممد و معاون ہوسکے۔ “ اي من کل ما یتقوی به فی الحرب کائنا ما کان ” (روح ج 10 ص 24) ۔ 62: مشرکین عرب تو مسلمانوں سے علانیہ بر سر پیکار تھے اور ان کی دشمنی کوئی چھپی ہوئی چیز نہ تھی ان کے علاوہ منافقین اور یہود بنی قریظہ تھے جو درپردہ مسلمانوں کے دشمن تھے یا اس سے اہل فارس اور دیگر اقوام مراد ہیں جن سے بعد میں مسلمانوں کا مقابلہ ہونے والا تھا۔ “ و ھم الیھود او المنافقون او اھل فارس ” (مدارک ج 2 ص 84)
Ayahs 8:61–63

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اگر وہ جھکیں63 صلح کی طرف تو تو بھی جھک اسی طرف اور بھروسہ کر اللہ پر بیشک وہی ہے سننے والا جاننے والا

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر وہ چاہیں کہ تجھ کو دغا دیں تو تجھ کو کافی ہے اللہ اسی نے تجھ کو زور دیا اپنی مدد کا اور مسلمانوں کا

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور الفت ڈالی ان کے دلوں میں اگر تو خرچ کردیتا جو کچھ زمین میں ہے سارا نہ الفت ڈال سکتا ان کے دلوں میں لیکن اللہ نے الفت ڈالی ان میں بیشک زور آور ہے حکمت والا

63: یہ جہاد میں مال خرچ کرنے کی ترغیب ہے۔
Ayah 8:64

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی کافی ہے تجھ کو اللہ64 اور جتنے تیرے ساتھ ہیں مسلمان

64: چوتھا قانونِ جہاد مخصوص بآنحضرت ﷺ ۔ اگر مشرکین آپ کے ساتھ صلح کرنے کا ارادہ ظاہر کریں تو آپ بھی اگر اس میں مصلحت سمجھیں تو صلح کا ہاتھ آگے بڑھا دیں۔ اور اللہ پر بھروسہ رکھیں وہ آپ کا حامی وناصر ہے۔ “ جَنَحُوْا اي مالوا ” اور “ سلم ” کے معنی صلح کے ہیں۔ “ اِنَّهٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ” جملہ ماقبل کے لیے علت ہے۔ “ وَ اِنْ يُّرِیْدُوْا الخ ” صلح کی صورت میں مشرکین کی طرف سے دھوکے اور فریب کا اندیشہ ہوکستا تھا کہ بظاہر وہ صلح کا ارادہ ظاہر کریں اور اس سے ان کا مقصد آپ کو جنگی تدبیروں سے غافل اور ان کے خطرے سے مطمئن کرنا ہو تو اس کا جواب بھی ارشاد فرما دیا کہ آپ اس کی فکر نہ کریں آپ کو اللہ کافی ہے۔ اگر ان کا ارادہ فریب دینے کا ہوگا تو اللہ آپ کو ان کے فریب سے محفوظ رکھے گا۔ جس اللہ نے اپنی مدد اور مہاجرین و انصار کے ذریعے آپ کی تائید فرمائی جب کہ سارا عرب آپ کا دشمن تھا وہ اب بھی آپ کی مدد کرے گا۔ “ وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ الخ ” عرب قوم کی عصبیت اور خاندانی رقابت ضرب المثل ہے لیکن اللہ نے اسلام کی برکت سے ان کے دلوں کو عصبیت و عداوت سے پاک وصاف کر کے ان کے دلوں میں باہمی محبت و الفت ڈالدی۔ اگر آپ ساری دنیا کی دولت خرچ کر ڈالتے تو بھی آپ ان کے دلوں میں یہ انقلاب بپا نہ کرسکتے لیکن اللہ نے ان کے دل بدل دئیے اور ان کی عداوت محبت میں تبدیل کردی۔ جو اللہ ایسا قادر و حکیم ہے وہ اس موقع پر بھی کوئی ایسی تدبیر کرے گا کہ آپ دشمن کے مکر و فریب سے محفوظ رہیں گے۔
Ayahs 8:65–66

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے نبی شوق دلا مسلمانوں کو65 لڑائی کا اگر ہوں تم میں66 بیس شخص ثابت قدم رہنے والے تو غالب ہوں دو سو پر اور اگر ہوں تم میں سو شخص تو غالب ہوں ہزار کافروں پر اس واسطے کہ وہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

اب بوجھ ہلکا کردیا اللہ نے تم پر سے اور جانا کہ تم میں سستی ہے سو اگر ہوں تم میں سو شخص ثابت قدم رہنے والے تو غالب ہوں دو سو پر، اور اگر ہوں تم میں ہزار تو غالب ہوں دو ہزار پر اللہ کے حکم سے اور اللہ ساتھ ہے ثابت قدم رہنے والوں کے

65: یہ پانچواں قانون جہاد ہے برائے نبی کریم ﷺ ۔ حاصل یہ ہے کہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو اللہ کافی ہے۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر اور کارساز ہے آپ ایمان والوں کو جہاد کی ترغیب دیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ اگر تم تعداد میں کم ہوگے تو بھی تمہیں دشمن پر فتح اور غلبہ عطا کروں گا۔ “ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤمِنِیْن ” یہ “ حَسْبُکَ ” میں کاف ضمیر پر معطوف ہے یا بقول امام زجاج یہ مفعول معہ ہے یا یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ “ اي من اتبعک من المؤمنین کذالک اي حسبھم اللہ تعالیٰ ” حاصل یہ ہے کہ آپ کو اور ایمان والوں کو تمام مہمات میں اللہ کافی ہے (روح، بحر، کبیر، مدارک) ۔ لفظ اللہ پر اس کو معطوف ماننا غلط ہے۔ کیونکہ کفایت کرنے والا تو صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ علامہ ابن القیم نے زاد المعاد جلد اول میں اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے اور اس کا عطف لفظ اللہ پر بالکل غلط ثابت کیا ہے۔ 66: عام مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت اس سے بعد کی آیت یعنی “ اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰه الخ ” سے منسوخ ہوچکی ہے۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ اگر “ حَرِّضِ الْمُؤمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَال ” کو منسوخ مانا جائے تو یہ غلط ہے کیونکہ اس میں ترغیب الی الجہاد ہے جو بالاتفاق منسوخ نہیں اور اگر “ اِنْ يَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْن الخ ” کو منسوخ مانا جائے تو یہ بھی صحیح نہیں کیونکہ یہ خبر ہے اور خبر میں نسخ نہیں ہوتا بلکہ احکام میں ہوتا ہے البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پہلے بیس مسلمانوں پر دو سو کافروں سے جنگ کرنا فرض تھا اب اس آیت سے فرضیت منسوخ ہوگئی جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں۔ “ شق ذٰلک علی المسلمین اذ فرض علیھم ان لا يفر واحد من عشرة فجاء التخفیف ” (روح ج 10 ص 32) ۔
Ayah 8:67

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

نبی کو نہیں چاہیے67 کہ اپنے ہاں رکھے قیدیوں کو جب تک خوب خونریزی نہ کرلے ملک میں تم چاہتے ہو68 اسباب دنیا کا اور اللہ کے ہاں چاہیے آخرت اور اللہ زور آور ہے حکمت والا

67: چھٹا قانون جنگ برائےحضور ﷺ۔ جنگ بدر میں مشرکین کے ستر آدمی مسلمانوں نے قید کرلئے تھے۔ ان قیدیوں کے بارے میں چونکہ اللہ کی طرف سے کوئی فیصلہ نازل نہیں ہوا تھا اس لیے حضور ﷺ نے ان کے متعلق صحابہ سے مشورہ لیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ آپ کی اپنی قوم کے آدمی اور آپ کے رشتہ دار ہیں آپ ان کی جان بخشی فرما دیں۔ ممکن ہے یہی اسلام قبول کر کے اسلام کے مددگار بن جائیں اور ان سے فدیہ کی جو رقم وصول کی جائے وہ آئندہ جہاد میں کام آئے گی۔ لیکن حضرت عمر فاروق ؓ کا مشورہ تھا یا رسول اللہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کی تکذیب کی، آپ کو وطن سے نکالا اور آپ سے برسر پیکار ہوئے۔ آپ ان کی گردنیں اڑا دیں۔ اکثر صحابہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی رائے سے متفق تھے۔ خود حضور ﷺ کا رجحانِ طبع بھی اسی طرف تھا۔ چناچہ فدیہ لے کر تمام قیدیوں کو رہا کردیا گیا۔ اس پر اللہ کی طرف سے یہ عتاب نازل ہوا کہ کسی پیغمبر کو یہ نہیں چاہئے کہ اس کے قبضہ میں مشرک محارب قیدی ہوں اور وہ انہیں قتل نہ کرے اور فدیہ لے کر چھوڑ دے۔ 68: خطاب صحابہ کرام سے ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے عتاب ہے جنہوں نے زیادہ تر مالی مفاد کے پیش نظر فدیہ لینے کا مشورہ دیا تھا۔
Ayah 8:68

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر نہ ہوتی ایک بات جس کو لکھ چکا اللہ پہلے سے69 تو تم کو پہنچتا اس لینے میں بڑا عذاب

69: چونکہ پہلے فدیہ لینے کی ممانعت کا اللہ کی طرف سے کوئی حکم نازل نہیں ہوتا تھا اس لیے فرمایا کہ اگر لوح محفوظ میں یہ فیصلہ مکتوب نہ ہوتا کہ کسی معاملے کا حکم بیان کرنے سے پہلے اس میں مؤاخذۃ نہیں ہوگا تو ان قیدیوں سے فدیہ لینے پر تمہیں سخت سزا دی جاتی۔ “ اي ما کتب فی اللوح المحفوظ ان لا یؤاخذ قبل البیان والاعذار ” (مدارک ج 2 ص 85) ۔
Ayah 8:69

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

سو کھاؤ جو تم کو غنیمت میں ملا حلال ستھراف 70 اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ ہے بخشنے والا مہربان

70: جب یہ عتاب کی آیتیں نازل ہوئیں تو مسلمان ڈر گئے کہ مال غنیمت کو جس میں قیدیوں کا فدیہ بھی شامل ہے ہاتھ نہ لگائیں اور اپنے استعمال میں نہ لائیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی کہ مال غنیمت اور جو فدیہ تم لے چکے ہو تمہارے لیے حلال و طیب ہے اسے استعمال کرو اور آئندہ کے لیے احتیاط رکھو جو ہوگیا وہ اللہ نے معاف کیا۔
Ayahs 8:70–71

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے نبی71 کہہ دے ان سے جو تمہارے ہاتھ میں ہیں قیدی اگر جانے گا اللہ تمہارے دلوں میں کچھ نیکی تو دے گا تم کو بہتر اس سے جو تم سے چھن گیا اور تم کو بخشے گا اور اللہ ہے بخشنے والا مہربان

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر چاہیں گے تجھ سے دغا کرنی سو وہ دغا کرچکے ہیں اللہ سے اس سے پہلے پھر اس نے ان کو پکڑوا دیا اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

ٖف 71: ساتواں قانونِ جہاد برائے پیغمبر علیہ السلام۔ بعض قیدیوں نے اسلام کا اظہار کیا تھا۔ ان کے بارے میںحضور ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے فرما دیں کہ اگر واقعی تم نے خلوص دل سے ایمان قبول کیا ہے تو غم نہ کرو جو فدیہ تم سے لے لیا گیا ہے اللہ تعالیٰ تم کو اس سے بہتر دولت عطا فرمائے گا۔ دنیا میں اس کے عوض کئی گنا مال دے گا یا آخرت میں اس کا اجر دے گا۔ “ خَیْرًا ” اول سے ایمان و تصدیق یا انابت الی اللہ مراد ہے اور “ خَیْرًا ” ثانی “ مَالًا ” مقدر کی صفت ہے۔ اور اگر وہ خیانت کا ارادہ رکھتے ہوں یعنی فدیہ دیتے وقت انہوں نے آپ سے جو عہد کیا ہے کہ آئندہ آپ کے ساتھ جنگ نہیں کریں گے۔ اگر وہ اس عہد کی خلاف ورزی کرنا چاہتے ہیں تو آپ متفکر نہ ہوں وہ اس سے پہلے بھی اللہ سے بد عہدی کر کچے ہیں تو اللہ نے آپ کو ان پر مسلط کردیا اور آپ کے ہاتھوں ان کو پکڑوا دیا۔ اب اگر وہ دوبارہ خیانت اور بد عہدی کریں تو اللہ تعالیٰ پھر ان کو آپ کے قبضے میں دیدے گا وہ بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے۔
Ayah 8:72

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے72 اور گھر چھوڑا اور لڑے اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں اور جن لوگوں نے جگہ دی اور مدد کی وہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور جو ایمان لائے اور گھر نہیں چھوڑا تم کو ان کی رفاقت سے کچھ کام نہیں جب تک وہ گھر نہ چھوڑ آئیں اور اگر وہ تم سے مدد چاہیں دین میں تو تم کو لازم ہے ان کی مدد کرنی مگر مقابلہ میں ان لوگوں کے کہ ان میں اور تم میں عہد ہو اور اللہ جو تم کرتے ہو اس کو دیکھتا ہے

72: یہ ہجرت اور جہاد کی ترغیب ہے۔ یہاں مومنین کے تین فرقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ فریق اول : مہاجرین یعنی جنہوں نے اللہ کے دین کی خاطر اپنا وطن مکہ چھوڑا اور جہاد کیا۔ فریق ثانی انصار یعنی مدینہ کے اصل باشندے جو ہجرت سے قبل ایمان لا چکے تھے اور جنہوں نے مہاجرین کو رہائش کے لیے جگہ مہیا کی اور دامے درمے ان کی مدد کی۔ ان دونوں فریقوں یعنی مہاجرین وانصار کے درمیانحضور ﷺ نے بھائی چارہ قائم فرمادیا۔ ان دونوں کے بارے میں فرمایا “ اُوْلٓئِکَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَاءُ بَعْض ” یعنی مسلمانوں کی یہ دونوں جماعتیں جو حضور علیہ الصلوہ والسلام کے ساتھ ہیں یہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق اور معاون و مددگار ہیں ان میں سے ایک کی صلح سب کی صلح اور ایک سے جنگ سب سے جنگ تصور ہوگی۔ ولایت سے ولایت نصرة وتعان مراد ہے اس صورت میں یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں یا ولایت سے مراد عام ہے جو نصرت ووراثت دونوں کو شامل ہے۔ اس صورت میں یہ آیت اس سورت کی آخری آیت “ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلیٰ بِبَعْضٍ ” سے منسوخ ہوگی۔ یعنی اب توارث کا مدار نسب پر ہوگا نہ کہ ہجرت پر۔ حضرت شیخ (رح) کے نزدیک پہلا معنی راجح ہے۔ فریق ثالث۔ مستضعفین یعنی وہ مسلمان جو بعض مجبوریوں کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہجرت نہ کرسکے اور مکہ ہی میں رہ گئے اور بادل ناخواستہ مشرکین کے ساتھ بدر میں آئے۔ “ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُھَاجِرُوْا الخ ” سے ایسے مسلمانوں کا حکم بیان کیا گیا یعنی جو مسلمان اپنے وطن دار الحرب ہی میں رہے اور دار الاسلام کی طرف ہجرت نہیں کی اگر انہوں نے کافروں کے ساتھ صلح و جنگ کا معاہدہ کرلیا تو دار الاسلام کے سملمان یعنی مہاجرین وانصار اس کے پابند نہیں ہونگے۔ البتہ اگر دار الحرب کے مسلمان دینی کاموں میں کافروں کے مقابلہ میں دار الاسلام کے مسلمانوں سے مدد طلب کریں تو ان پر ان کی امداد کرنا لازم ہے بشرطیکہ جن کافروں کے مقابلے میں مدد طلب کی گئی ان کے اور دارالاسلام کے آزاد مسلمانوں کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہو۔
Ayah 8:73

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں73 وہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں اگر تم یوں نہ کرو گے تو فتنہ پھیلے گا ملک میں اور بڑی خرابی ہوگی

ف 73: جس طرح مہاجرین وا نصار باہم ایک دوسرے کے رفیق اور معاون ہیں۔ اسی طرح کفار بھی باہم ایک دوسرے کے رفیق و معاون اور باہم دیگر وارث ہیں۔ “ اِلَّا تَفْعَلُوْہُ ” ضمیر منصوب سے امور مذکورہ مراد ہیں۔ یعنی کافر، کافر کا رفیق ہوگا۔ مسلمان کا رفیق نہیں بن سکتا۔ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اس لیے دار الحرب کے مسلمانوں کو ہجرت کر کے دار الاسلام کے مسلمانوں سے جا ملنا چاہئے۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو اس کا نتیجہ شرک کی ترقی اور فساد عظیم کی شکل میں رونما ہوگا۔ کیونکہ دارالحرب میں رہ کر کمزور مسلمان اپنا ایمان محفوظ نہیں رکھ سکیں گے اور نہ ان کا مال وجان خطرے سے بالا ہوگا نہ ان کی عزت و آبرو۔ نیز جب تک مسلمانوں کی طاقت ایک مرکز پر مجتمع نہیں ہوگی اس وقت کفر و شرک کا زور نہیں ٹوٹے گا۔ “ اي ان لا تفعلوا ما امرتکم به من تو اصل المسلمین و تولی بعضهم بعضا تحصل فتنة فی الارض و مفسدة عظیة لان المسلمین ما لم یصیروا یدا واحدة علی الشرک کان الشرک ظاھرا والفساد زائدا ” (مدارک ج 2 ص 87) ۔
Ayah 8:74

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے74 اور اپنے گھر چھوڑے اور لڑے اللہ کی راہ میں اور جن لوگوں نے ان کو جگہ دی اور ان کی مدد کی وہی ہیں سچے مسلمان ان کے لیے بخشش ہے اور روزی عزت کی

74: یہ مہاجرین اور انصار کی بہت فضیلت بیان فرمائی ہے اور ان کی کئی خوبیاں گنائی ہیں۔ مہاجرین کی ہجرت اور ان کے جنگ و قتال کو فی سبیل اللہ اور محض رضائے الٰہی کے لیے ہونے کا سر ٹیفیکیٹ عطا فرمایا اور دونوں فریق کے بارے میں “ اُوْلٓئِکَ ھُمُ الْمُؤمِنُوْنَ حَقًّا ” نازل کرکے اعلان فرما دیا کہ مہاجرین وانصار نہایت سچے اور مخلص مؤمن تھے۔ “ لَھُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ ” سے ان کے مغفور الذنب اور جنتی ہونے کی تصدیق فرما دی۔
Ayah 8:75

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اس کے بعد75 اور گھر چھوڑ آئے اور لڑے تمہارے ساتھ ہو کر سو وہ لوگ بھی تمہی میں ہیں اور رشتہ دار76 آپس میں حق دار زیادہ ہیں ایک دوسرے کے اللہ کے حکم میں تحقیق اللہ ہر چیز سے خبردار ہے77

75: اور جو لوگ ہجرت اولیٰ کے بعد مسلمان ہوئے اور پھر ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں مہاجرین اولین اور انصار سے جا ملے وہ بھی صلح وجنگ کے احکام میں ان کے ساتھ شریک ہوں گے۔ ان کے تاخر سے ان احکام میں کوئی فرق نہیں پڑے گا اگرچہ شرف و فضیلت میں مہاجرین اولین اور انصار سابقین ان سے ممتاز ہیں۔ “ والمراد ان المراد بھم الذین ھاجروا بعد الھجرة الاولی ”(روح ج 10 ص 39) ۔ 76: جو مسلمان دار الحرب میں رہ گئے اور پہلے ہجرت نہ کرسکے، ان کے اور ان کے رشتہ دار مہاجرین کے درمیان اختلاف دارین کی وجہ سے وراثت کا سلسلہ منقطع تھا لیکن جب وہ ہجرت کر کے ان سے جا ملے تو وہ صلح و جنگ کے احکام کے علاوہ وراثت میں بھی ان کے ساتھ شریک ہوجائیں گے اور ان کے اور ان کے رشتہ دار مہاجرین میں توارث جاری ہوجائے گا۔ 77: بیشک اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے وہ اپنے بندوں پر جس طرح چاہتا ہے احکام نافذ کرتا ہے۔ آخری رکوع میں لوگوں کی چار قسموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ تین قسمیں مومنوں کی یعنی (1) مہاجرین۔ (2) انصار۔ (3) جو مومنین مجبوراً ہجرت نہ کرسکے اور (4) کفار۔ “ قسم الناس اربعة اقسام قسم اٰمنوا وھاجروا وقسم امنوا ونصروا وقسم امنوا ولم یھاجروا وقسم کفروا ولم یؤمنوا ” (مدارک ج 2 ص 87) ۔ سورة انفال کی خصوصیات اور اس میں آیات توحید 1 ۔ “ کَمَا اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْ بَیْتِکَ بِالْحَقِّ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکَارِھُوْنَ ” (رکوع 1) نفی علم غیب از آنحضرت ﷺ ۔ 2 ۔ “ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَةِ تَکُوْنُ لَکُمْ ” تا “ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْکٰفِرِیْنَ ” نفی علم غیب از غیر اللہ۔ 3 ۔ “ اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ ” (رکوع 1) ۔ اللہ ہی ناصر و مددگار اور کارساز ہے اور کوئی نہیں۔ 4 ۔ “ فَلَمْ تَقْتُلُوْھُمْ وَ لٰکِنَّ اللّٰهَ قَتَلَھُمْ وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰه رَمٰی ” (رکوع 2) ۔ ولی کی کرامت اور نبی کا معجزہ در حقیقت اللہ کا فعل ہے جو ولی یا نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے۔ کرامت اور معجزہ ولی اور نبی کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ 5 ۔ “ وَ مَا کَانَ صَلَاتُھُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُکَاءً وَ تَصْدِيَةً ” (رکوع 4) اس میں سے مزامیر کی ممانعت نکلتی ہے۔ 6 ۔ “ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِیْ الْمِیْعَادِ ” (رکوع 5) نفی علم غیب از صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین 7 ۔ “ وَ اِنْ يُّرِیْدُوْا اَنْ يَّخْدَعُوْکَ ” (رکوع 8) ۔ نفی علم غیب از آنحضرت صلی اللہ علیہ ولسم۔ 8 ۔ “ ھُوَ الَّذِيْ اَيَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ ” تا “ اِنَّهٗ عَزِيْزٌ حَکِیْمٌ ” (رکوع 8) متصرف و کارساز اور مسبب الاسباب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ 9 ۔ “ يَا اَيُّھَا النَّبِيُّ حَسْبُکَ اللّٰه وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ” (رکوع 8) ہر معاملہ اور ہر مہم میں اللہ تعالیٰ ہی کفایت کرنیوالا ہے اور کوئی نہیں۔ وہی سب کا کارساز ہے۔ سورة انفال ختم ہوئی۔ فللہ الحمد