9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsجواھر القرآن

Ayah 9:41

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

نکلو ہلکے40 اور بوجھل اور لڑو اپنے مال سے اور جان سے اللہ کی راہ میں یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم کو سمجھ ہے

40:“ خِفَافاً ” کم ہتھیاروں کے ساتھ “ وَ ثِقَالاً ” زیادہ ہتھیاروں کے ساتھ مطلب یہ ہے کہ ہتھیاروں اور سامان کی قلت و کثرت کو مت دیکھو۔ ہتھیار کم ہوں یا زیادہ ہر حال میں جہاد کے لیے ضرور نکلو یہ مطلب نہیں کہ مریض ہو یا نہ ہو ضرور نکلو۔ کیونکہ “ لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَاءِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضیٰ ” سے ضعفاء اور مرضی مستثنی ہیں۔
Ayah 9:42

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

اگر مال41 ہوتا نزدیک اور سفر ہلکا تو وہ لوگ ضرور تیرے ساتھ ہو لیتے لیکن لمبی نظر آئی ان کو مسافت اور اب قسمیں کھائیں گے اللہ کی کہ اگر ہم سے ہوسکتا تو ہم ضرور چلتے تمہارے ساتھ وبال میں ڈالتے ہیں اپنی جانوں کو اور اللہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں

41: اس میں ان منافقین کا ذکر ہے جو جہاد میں شریک نہیں ہوئے۔ “ عَرَضاً قَرِیْبًا ” یعنی مال غنیمت آسانی سے ہاتھ آسکتا اور سفر متوسط ہوتا تو وہ ضرور آپ کے ساتھ جاتے لیکن مسافت زیادہ اور بامشقت تھی اس لیے وہ ساتھ نہ گئے۔ “ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللهِ الخ ” جہاد سے آپ کی واپسی پر وہ آپ کے سامنے جھوٹی قسمیں کھائیں گے کہ ان میں جہاد کی استطاعت نہ تھی اگر استطاعت ہوتی تو ضرور جہاد میں شریک ہوتے۔ یہ واقعہ جنگ تبوک کا ہے۔
Ayah 9:43

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

اللہ بخشے تجھ کو42 کیوں رخصت دے دی تو نے ان کو یہاں تک کہ ظاہر ہوجاتے تجھ پر سچ کہنے والے اور جان لیتا تو جھوٹوں کو

42: جہاد کیلئے جانے سے پہلے بعض منافقین نے جھوٹے بہانوں سے جہاد میں شریک نہ ہونے کی حضور ﷺ سے اجازت مانگی آپ نے ان کے بہانے صحیح مان لیے اور ان کو اجازت دیدی حالانکہ ان کے تمام بہانے جھوٹے تھے اور انہوں نے طے کرلیا تھا کہ جہاد میں نہ جانے کی اجات مانگو اگر اجازت دے دیں تو بہتر اور اگر اجازت نہ دیں تب بھی جہاد میں شرکت مت کرو۔حضور ﷺ کے اجازت دے دینے سے ان کی بدنیتی اور منافقت پر پردہ پڑگیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف عتاب فرمایا کہ ہم نے آپ کی یہ لغزش معاف تو کردی مگر آپ نے ان کو تخلف کی اجازت کیوں دی ؟ آپ ان کو اجازت نہ دیتے تو روانگی کے وقت ان کے جھوٹ کا پول کھل جاتا اور آپ کو معلوم ہوجاتا کہ ان میں مخلص کون ہے اور منافق کون۔ “ قال مجاھد ھؤلاء قوم قالوا نستاذن فی الجلوس فان اذن لنا جلسنا وان لم یؤذن لنا جلسنا ” (قرطبی ج 8 ص 155) یہ تنبیہ خاص واقعہ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی عام نہیں ہے بقرینہ “ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ ” (نور) ۔
Ayah 9:44

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

نہیں رخصت مانگتے تجھ سے43 وہ لوگ جو ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اس سے کہ لڑیں اپنے مال اور جان سے اور اللہ خوب جانتا ہے ڈر والوں کو

43: اس میں مخلصین صحابہ کا ذکر ہے اور مراد خاص واقعہ ہے یعنی اس خاص موقع پر مخلص مومنین اپنے مال وجان سے جہاد میں شریک ہونے سے چھٹی نہیں مانگتے۔ البتہ اگر وہ کسی دوسرے موقع پر اپنے کسی ذاتی کام کے لیے اجازت چاہیں تو آپ جسے مناسب سمجھیں اجازت دے دیں جیسا کہ سورة نور میں فرمایا۔ “ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْکَ لِبَعْضِ شَانِھِمْ الخ ”۔
Ayah 9:45

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

رخصت وہی مانگتے ہیں44 تجھ سے جو نہیں ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور شک میں پڑے ہیں دل ان کے سو وہ اپنے شک ہی میں بھٹک رہے ہیں

44: یہ بھی مذکورہ واقعہ سے مخصوص ہے اس میں جھوٹے بہانے کر کے اجازت لینے والے منافقین کا زکر ہے۔ یعنی اس موقع پر مؤمنین مخلصین تخلف عن الجہاد کی اجازت نہیں مانگتے۔ صرف وہی لوگ اجازت مانگتے ہیں جن کا اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں اور اپنے ایمان پر مضطرب اور شک وتردد میں مبتلا ہیں۔ یعنی منافقین تو گویا اس موقع پر اجازت مانگنا ہی نفاق کی علامت تھی۔ “ یَتَرَدَّدُوْنَ یقال فی العرف رددہ فتردد ” یعنی پہلی بات کی طرف واپس لوٹنا (صراح) تحیر یعنی حیران ہونا اس کا لغوی معنی نہیں۔ لغوی معنی تو پہلا ہی ہے۔ البتہ معنی ثانی اس کو لازم ہے۔ “ یتحیرون لان التردد دیدن المتحیر کما ان الثبات دیدن المستبصر ” (مدارک ج 2 ص 98) ۔
Ayah 9:46

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر وہ چاہتے45 نکلنا تو ضرور تیار کرتے کچھ سامان اس کا لیکن پسند نہ کیا اللہ نے ان کا اٹھنا سو روک دیا ان کو اور حکم ہوا کہ بیٹھے رہو ساتھ بیٹھنے والوں کے

45: ی بھی ان کی منافقت کی دلیل ہے کہ انہوں نے وسعت کے باوجود جہاد کے لیے کوئی سامان تیار نہیں کیا تھا۔ اگر نیک نیتی سے ان کا ارادہ جہاد میں شریک ہونیکا ہوتا تو وہ جہاد کے لیے کچھ سامان تو تیار کرتے لیکن اللہ تعالیٰ کو پسند اور منظور ہی نہ تھا کہ وہ جہاد میں شریک ہوں اس لیے اس نے ان کے دلوں سستی، ضعف اور بزدلی ڈال دی تاکہ وہ جہاد میں شریک ہی نہ ہوں۔ “ انبعاث ” جہاد کے لیے اٹھنا۔ “ فثبط ” ان کو بٹھا دیا اور بوجہ مہر جباریت ان کے دلوں سے جہاد کا شوق چھین لیا۔
Ayah 9:47

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر نکلتے46 تم میں تو کچھ نہ بڑھاتے تمہارے لیے مگر خرابی اور گھوڑے دوڑاتے تمہارے اندر بگاڑ کروانے کی تلاش میں اور تم میں بعضے جاسوس ہیں ان کے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو

46:“ خبالاً ” یعنی فساد اور خرابی “ وَلَاَوْضَعُوْا ”۔ لا نافیہ نہیں بلکہ لام ابتدائیہ برائے تاکید ہے۔ “ یَبْغُوْنَ ”“ اَوْضَعُوْا ” کی ضمیر سے حال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ منافقین تمہارے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے تو تمہیں فائدہ پہنچانے کی بجائے اپنی شرارتوں سے فساد اور خرابی ہی بپا کرتے اور چغلی کے ذریعے تمہارے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے۔ عین “ و لاسرعوا فیکم و ساروا بینکم بالقاء النمیمة ” (خازن ج 3 ص 104) ۔ “ وَ فِیْکُمْ سَمّٰعُوْنَ لَھُمْ ” یعنی کچھ منافقین تم میں رہ کر اپنے اکابر اور سرداروں کے لیے جاسوسی کا کام کرتے ہیں اور تمہارے پوشیدہ راز ان تک پہنچاتے ہیں۔
Ayah 9:48

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

وہ تلاش کرتے رہے ہیں47 بگاڑ کی پہلے سے اور الٹتے رہے تیرے کام یہاں تک کہ آپہنچا سچا وعدہ اور غالب ہوا حکم اللہ کا اور وہ ناخوش ہی رہے

47: یعنی اس سے پہلے وہ ہر طرح سے آپ کی مخالفت کرچکے ہیں اور وہ کونسا حیلہ ہے جو انہوں نے آپ کی مخالفت میں استعمال نہیں کیا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کی ہر کوشش کو ناکام اور ان کے ہر حیلہ کو باطل کردیا اور دین حق کو ان کے باطل پر غلبہ عطا فرما دیا۔
Ayah 9:49

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور بعضے ان میں48 کہتے ہیں مجھ کو رخصت دے اور گمراہی میں نہ ڈال، سنتا ہے وہ تو گمراہی میں پڑچکے ہیں اور بیشک دوزخ گھیر رہی ہے کافروں کو

48: جد بن قیس منافق نے ازراہ شرارتحضور ﷺ سے کہا کہ میں ایک عاشق مزاج آدمی ہوں اس لیے آپ مجھے جہاد سے چھٹی دیدیں کیونکہ میں رومیوں کی عورتوں کو دیکھ کر صبر نہیں کرسکوں گا اور فتنے میں پڑجاؤں گا۔ یہ غزوہ تبوک کا واقعہ ہے جس میں رومیوں سے جنگ تھی۔ “ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا ” اللہ تعالیٰ نے جواب فرمایا کہ وہ اس فتنے سے تو ڈرتا ہے مگر وہ یہ خیال نہیں کرتا کہ منافقت اور مخالفت رسول کی وجہ سے وہ اس سے کہیں بڑے فتنے میں گر چکے ہیں جس کا انجام کہ انہیں جہنم میں ڈالا جائے گا جس کی آگ ان کو چاروں طرف سے اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ “ قال الجد قد عرف قومی انی مغرم بالنساء و انی اخشی ان رایت بنات بنی الاصفر الا اصبر عنھن فلا تفتنی وذان لی فی القعود الخ ” (قرطبی ج 8 ص 185) ۔
Ayah 9:50

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

اگر تجھ کو پہنچے49 کوئی خوبی تو وہ بری لگتی ہے ان کو اور اگر پہنچے کوئی سختی تو کہتے ہیں ہم نے تو سنبھال لیا تھا اپنا کام پہلے ہی اور پھر کر جائیں خوشیاں کرتے

49:“ حَسَنَةً ” سے فتح و نصرت اور غنیمت مراد ہے اور “ مُصِیْبَةً ” سے شدت اور وقتی شکست مراد ہے یعنی اگر آپ کو دشمن پر فتح حاصل ہو اور مال غنیمت ہاتھ آجائے تو وہ دل ہی دل میں کڑھتے اور بہت نا خوش ہوتے ہیں اور اگر آپ کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو کہتے ہیں ہم اچھے رہے کہ حزم اور احتیاط سے کام لیا اور ایسے موقع پر شامل ہی نہیں ہوئے اور گپیں ہانکنے کے بعد خوش خوش اپنے گھروں کو واپس لوٹتے ہیں اس سے ہوئے تھے۔
Ayah 9:51

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

تو کہہ دے ہم کو ہرگز نہ50 پہنچے گا مگر وہی جو لکھ دیا اللہ نے ہمارے لیے وہی ہے کارساز ہمارا، اور اللہ ہی پر چاہیے کہ بھروسہ کریں مسلمان

50: آپ فرما دیں خیر و شر اللہ کی طرف سے مقدر ہے اور وہی ہمارا کارساز اور مالک و مختار ہے اور جو اس نے ہمار قسمت میں لکھا ہے وہ ضرور ہو کر رہے گا اور ہمارا بھروسہ اللہ پر ہے اور مومن کی شان ہے کہ وہ اللہ پر ہی بھروسہ رکھیں “ و حق المؤمنین ان لا یتوکلوا علی غیر اللہ ” (مدارک ص 99 ج 2) ۔
Ayah 9:52

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

تو کہہ دے تم کیا امید کرو گے51 ہمارے حق میں مگر دو خوبیوں میں سے ایک کی اور ہم امیدوار ہیں تمہارے حق میں کہ ڈالے تم پر اللہ کوئی عذاب اپنے پاس سے یا ہمارے ہاتھوں سو منتظر رہو ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں

51: یعنی جب آپ جہاد سے واپس آئیں تو ان منافقین سے فرمائیں کہ ہمارے بارے میں تمہیں دو باتوں میں سے ایک ہی بات کی توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسی آسمانی عذاب سے ہلاک کردے یا تم ہمارے ہاتھوں قتل ہوجاؤ اس لیے تم ہمارے انجام کا انتظار کرو اور ہم نے تمہارے انجام کا انتظار کرتے ہیں۔ “ اِحْدَي الْحُسْنَیَیْنِ ” یعنی فتح یا شہادت۔
Ayah 9:53

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

کہہ دے کہ مال خرچ کرو52 خوشی سے یا ناخوشی سے ہرگز قبول نہ ہوگا تم سے بیشک تم نافرمان لوگ ہو

52:“ طَوْعًا ” یعنی بلا الزام اور “ کَرْھًا ” بالالزام کیونکہ منافقین رضائے الٰہی کے لیے خرچ نہیں کرتے۔ منافقین میں چونکہ قبول اعمال کی شرط یعنی ایمان خالص مفقود ہے اس لیے ان کا کوئی عمل از قسم نفاق وغیرہ خدا کے یہاں قبول نہیں ہوگا۔
Ayah 9:54

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور موقوف نہیں ہوا53 قبول ہونا ان کے خرچ کا مگر اسی بات پر کہ وہ منکر ہوئے اللہ سے اور اس کے رسول سے، اور نہیں آتے نماز کو مگر ہارے جی سے اور خرچ نہیں کرتے مگر برے دل سے

53: یہ ان منافقین کے صدقات قبول نہ ہونے کی وجہ ہے۔ یعنی اگرچہ وہ بظاہر نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور خرچ بھی کرتے مگر ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہے۔ ان کے دل کفر ونفاق سے ملوث ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نماز خشوع و خضوع اور مستعدی سے نہیں پڑھتے اور خرچ بھی کرتے ہیں تو بےدلی کے ساتھ اور مجبوراً کرتے ہیں۔ اور اس سے ان کا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا نہیں ہوتا۔
Ayah 9:55

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

سو تو تعجب نہ کر54 ان کے مال اور اولاد سے یہی چاہتا ہے اللہ کہ ان کو عذاب میں رکھے ان چیزوں کی وجہ سے دنیا کی زندگی میں اور نکلے ان کی جان اور وہ اس وقت تک کافر ہی رہیں

54: ان کے مال و اولاد کی کثرت ان کے حق میں بہتر نہیں۔ یہ ان کو اس لیے دئیے گئے ہیں تاکہ ان کے ذریعے دنیا ہی میں اللہ ان کو مبتلائے عذاب کردے ان کے دلوں میں مال اور اولاد کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی ہے اس لیے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم اور جہاد وغیرہ میں ان کی اولاد کا قید ہوجانا ان کے لیے ایک دنیوی عذاب ہے۔
Ayahs 9:56–57

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور قسمیں کھاتے ہیں55 اللہ کی کہ وہ بیشک تم میں ہیں اور وہ تم میں نہیں و لیکن وہ لوگ ڈرتے ہیں تم سے

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر وہ پائیں کوئی پناہ کی جگہ یا غار یا سر گھسانے کو جگہ تو الٹے بھاگیں اسی طرف رسیاں تڑاتے

55: یعنی جب آپ جنگ سے فارغ ہو کر واپس مدینہ پہنچیں گے تو یہ منافقین جھوٹی قسمیں کھا کھا کر آپ کو یقین دلانے کی کوشش کریں گے کہ وہ مخلص مؤمن اور آپ کے سچے تابعدار ہیں مگر یاد رکھئے ان لوگوں کا آپ کی جماعت سے کوئی تعلق نہیں یہ محض ڈر اور خوف کی وجہ سے آپ کی خوشامد کرتے اور اسلام کا اظہار کرتے ہیں۔ “ لَوْ یَجِدُوْنَ الخ ” اگر قتل و قید سے بچنے کے لیے انہیں کوئی جائے پناہ مل جائے یا وہ پہاڑوں کی غاروں میں اور زمین کی سرنگوں میں چھپ کر جان بچا سکیں تو وہ دور کر ان کمین گاہوں میں جا چھپیں اور آپ کی خوشامد کرنے اور اسلام ظاہر کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کریں۔ “ و معنی الایة انھم کارھون من مصاحبتکم اشد الکراھة لو یجدون مخلصًا مکم لفارقوکم ” (مظہری ج 4 ص 229) ۔
Ayah 9:58

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور بعضے ان میں56 وہ ہیں کہ تجھ کو طعن دیتے ہیں خیرات بانٹنے میں سو اگر ان کو ملے اس میں سے تو راضی ہوں اور اگر نہ ملے تو جبھی وہ ناخوش ہوجائیں

56: اس میں ان منافقین کا ذکر ہے جو آں حضرت ﷺ پر تقسیم صدقات میں انصاف نہ کرنے کا طعن دھرتے تھے۔ ایک دفعہ آپ ہوازن سے حاصل شدہ اموالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے تو ایک منافق معتب بن قشیر نامی بول اٹھا کر یہ تقسیم انصاف پر مبنی نہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا :“ اگر اللہ اور اس کا رسول انصاف نہیں کرینگے تو پھر کون انصاف کرے گا ”۔ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی۔ اصل بات یہ تھی کہ یہ لوگ محض جان و مال کے ڈر اور مال غنیمت کے لالچ کی وجہ سے اسلام کا اظہار کرتے تھے۔ اگر ان کو وافر مال مل جاتا تو خوش رہتے اور اگر نہ ملتا یا کم ملتا تو ناراض ہو کر اس قسم کی باتیں بنانے لگتے۔
Ayahs 9:59–60

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور کیا اچھا ہوتا57 اگر وہ راضی ہوجاتے اسی پر جو دیا ان کو اللہ نے اور اس کے رسول نے اور کہتے کافی ہے ہم کو اللہ وہ دے گا ہم کو اپنے فضل سے اور اس کا رسول ہم کو تو اللہ ہی چاہیے

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

زکوٰۃ جو ہے58 وہ حق ہے مفلسوں کا اور محتاجوں کا اور زکوٰۃ کے کام پر جانے والوں کا اور جن کا دل پر چانا منظور ہے اور گردنوں کے چھڑانے میں اور جو تاوان بھریں اور اللہ کے راستہ میں اور راہ کے مسافر کو ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

57: یہ پوری آیت حیز شرط میں ہے اور جواب شرط محذوف ہے “ اي لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ ” یعنی جو کچھ اللہ کے رسول نے مال غنیمت سے ان کو دیا تھا اگر وہ اس پر قانع ہوجاتے اور کہتے ہمیں مال کی ضرورت نہیں۔ ہمیں اللہ کافی ہے۔ اللہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے مالدار کردے گا۔ اور اللہ کا رسول ﷺ آئندہ کسی موقع پر ہمیں صدقات سے یا غنائم سے دے کر ہماری یہ کمی پوری کر دے گا اور ہمیں مال و دولت کی پرواہ نہیں ہمیں تو اللہ کی رضا چاہئے اور بس تو یہ چیز ان کے حق میں دنیا اور آخرت میں بہتر ہوتی۔ “ مَا اٰتٰھُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ ” میں رسول کے دینے سے مال غنیمت میں سے دینا مراد ہے۔ (کما فی المظہری ج 4 ص 230 والمدارک ج 2 ص 100 والخازن ج 3 ص 108 وابن جریر وابن کثیر وغیرھا) ۔ اسے سے حضرت رسول اللہ ﷺ کا غائبانہ حاجات میں دینا مراد نہیں جیسا کہ اہل بدعت کا خیال ہے۔ حدیث میں جو “ اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ ” وارد ہے اس سے “ قَاسِمٌ للعلم او الغنائم ” مراد ہے۔
Ayah 9:61

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور بعضے ان میں بد گوئی کرتے ہیں نبی59 کی اور کہتے ہیں کہ یہ شخص تو کان ہے تو کہہ کان ہے تمہارے بھلے کے واسطے یقین رکھتا ہے اللہ اور یقین کرتا ہے مسلمانوں کی بات کا اور رحمت ہے ایمان والوں کے حق میں تم میں سے اور جو لوگ بدگوئی کرتے ہیں اللہ کے رسول کی ان کے لیے عذاب ہے دردناک

59:“ وَ مِنْھُمُ الَّذِیْنَ الخ ” یہ منافقین کی ایک شرارت کا ذکر ہے کہ وہ رسول خدا ﷺ کو بد زبانی اور طعن وتشنیع سے ایذاء دیتے تھے۔ “ ھُوَ اُذُنٌ ” یہ منافقوں کا قول ہے یعنی یہ نبی تو کان ہے جس طرح کان ہر بات سنتا ہے اسی طرح یہ ہر سنی سنائی بات کو مان لیتا ہے۔ “ قُلْ اُذُنُ خَیْرٌ لَّکُمْ ” اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ اس کے جواب میں فرما دیں کہ اللہ کا پیغمبر تو صرف سچی باتوں کو مانتا ہے۔ یعنی صرف اللہ اور مؤمنوں کی باتوں کو۔ اور پیغمبر ایمان والوں کے لیے رحمت ہے جو شخص ایمان کا اظہار کرتا ہے وہ اس کا ایمان قبول کرلیتا ہے۔ اور رحمت و شفقت کی وجہ سے اس کے پوشیدہ راز نہیں کھولتا۔ یا مخلص مومنین مراد ہیں اور ان کے لیے آپ کے رحمت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ذریعے ان کو کفر سے نجات ملی اور ہدایت کی راہ ہاتھ لگی۔ جس سے ان کو دین و دنیا کی سعادتیں نصیب ہوئیں۔ “ اي وھو رحمة للذین اٰمنوا منکم اي اظھر والایمان ایھا المنافقون حیث یقبل ایمانکم الظاھر ولا یکشف اسرارکم ولا یفعل بکم ما یفعل بالمشرکین او ھو رحمة للمؤمنین حیث استنقذھم من الکفر الی الایمان ویشفع لھم فی الاخرة بایمانھم فی الدنیا ” (مدارک ج 2 ص 102) ۔
Ayahs 9:62–63

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی تمہارے آگے تاکہ تم کو راضی کریں60 اور اللہ کو اور اس کے رسول کو بہت ضرور ہے راضی کرنا اگر وہ ایمان رکھتے ہیں

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا وہ جان نہیں چکے کہ جو کوئی مقابلہ کرے اللہ سے اور اس کے رسول سے تو اس کے واسطے ہے دوزخ کی آگ سدا رہے اس میں یہی ہے بڑی رسوائی

60:“ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ الخ ”“ لَکُمْ ” اور “ لِیُرْضُوْکُمْ ” میں ضمیر خطاب مؤمنین سے کنایہ ہے۔ منافقین، مومنین کے سامنے قسمیں کھا کھا کر اپنی براءت کتے اور ان کو خوش کرنے کی کوشش کرتے اللہ نے فرمایا اگر واقعی وہ مومن ہوتے تو ان کا فرض تھا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ایسا انہوں نے کیا نہیں تو صرف مسلمانوں کو خوش کرنے سے کیا حاصل۔ “ اَلَمْ یَعْلَمُوْا الخ ” یہ تخویف اخروی ہے۔
Ayah 9:64

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

ڈرا کرتے ہیں منافق اس بات سے کہ نازل ہو مسلمانوں پر61 ایسی سورت کی جتا دے ان کو جو ان کے دل میں ہے تو کہہ دے ٹھٹھے کرتے رہو اللہ کھول کر رہے گا اس چیز کو جس کا تم کو ڈر ہے

61:“ یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ الخ ” ان منافقوں کو یہ خطرہ بھی رہتا ہے کہ مبادا ان کے بارے میں آیتیں نازل ہوجائیں اور ان کے دلی نفاق اور کفر وعناد کو ظاہر کر کے ان کو ذلیل ورسوا کردیں۔ “ قُلِ اسْتَھْزِءُوْ ” یہ امر تہدیدی ہے “ مخرج اي مظھر ” ، “ مَا تَحْذَرُوْنَ ” سے ان کا نفاق مراد ہے جس کے ظاہر ہوجانے کا ان کو ڈر تھا۔ یعنی اسلام اور پیغمبر اسلام کا تمسخر اڑا لو کہاں تک اڑاؤ گے آخر اللہ تعالیٰ تمہارے دلی کفر ونفاق اور عناد کو ظاہر کر ہی دے گا۔
Ayah 9:65

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور اگر تو ان سے پوچھے62 تو وہ کہیں گے ہم تو بات چیت کرتے تھے اور دل لگی تو کہہ کیا اللہ سے اور اس کے حکموں سے اس کے رسول سے تم ٹھٹھے کرتے تھے

62:“ وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ الخ ” اس میں ان منافقین کا ذکر ہے جو ازروئے نفاق غزوہ تبوک میں شریک ہوئے مگر دوران سفر میں بھی شرارت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا راستے میں کچھ منافقینحضور ﷺ کے آگے آگے جا رہے تھے آپس میں کہہ رہے تھے کہ یہ شخص (حضور (علیہ السلام) کی طرف اشارہ تھا) ملک شام کے محلات اور روم کے قلعے فتح کرنیکے خواب دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی سے اس گفتگو کی آپ کو اطلاع دیدی آپ نے ان کو روک کر فرمایا تم یہ باتیں کر رہے تھے تو صاف مکر گئے اور کہنے لگے نہیں یا نبی اللہ ہم تو محض دل لگی کی خاطر ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے تاکہ سفر آسانی سے کٹ جائے۔ ان کا یہ جواب صریح جھوٹ تھا اس لیے اس کو کوئی وقعت نہ دے کر اللہ نے فرمایا، ان سے کہو، ظالمو ! تم اللہ، اس کی آیتوں اور اس کے رسول کے ساتھ دل لگی اور استہزاء کرتے ہو۔
Ayah 9:66

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

بہانے مت بناؤ63 تم تو کافر ہوگئے اظہار ایمان کے پیچھے اگر ہم معاف کردیں گے تم میں سے بعضوں کو تو البتہ عذاب بھی دیں گے بعضوں کو اس سبب سے کہ وہ گناہ گار تھے

63:“ لَاتَعْتَذِرُوْا الخ ” یہ تہدید و توبیخ ہے۔ یعنی اے منافقین غلط عذر اور جھوٹے بہانے مت کرو۔ تم نے اظہار ایمان کے بعد استہزاء اور تمسخر سے اپنا کفر ظاہر کردیا ہے اگر ہم ایک جماعت کو توبہ کی وجہ سے معاف کردینگے تو دوسری جماعت کو ضرور عذاب دینگے کیونکہ وہ مجرم ہیں اور انہوں نے اپنے جرم سے توبہ نہیں کی۔ ان تمسخر کرنے والے منافقوں میں جنہوں نے توبہ کرلی اور مخلصانہ ایمان لے آئے ان کو معاف کردیا گیا جیسا کہ مخشی بن حمیر نے صدق دل سے ایمان قبول کرلیا اور نفاق سے تائب ہوگیا۔ اللہ نے اس کو جنگ یمامہ میں شرکت کی توفیق دی اور شہادت نصیب فرمائی اور جنہوں نے توبہ نہیں کی وہ مبتلائے عذاب ہوں گے۔
Ayah 9:67

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتوں64 سب کی ایک چال ہے سکھائیں بات بری اور چھڑائیں بات بھلی اور بند رکھیں اپنی مٹھی بھول گئے اللہ کو سو وہ بھول گیا ان کو تحقیق منافق وہی ہیں نافرمان

64:“ اَلمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ الخ ” یعنی یہ منافقین آپس میں ایک دوسرے سے متحد ہیں ان سب کا مقصد ایک ہے اور ان کے عزائم باہم متفق ہیں ان کے احوال ایمان والوں کے احوال سے سراسر مختلف ہیں۔ وہ برے کاموں (کفر و عصیان) کی لوگوں کو ترغیب دیتے اور نیک کاموں (ایمان و اطاعت) سے لوگوں کو روکتے ہیں۔ اور اللہ کیر اہ میں خرچ کرنے سے بخل کرتے ہیں۔ “ نَسُوْا اللّٰهَ فَنَسِیَھُمْ ” نسیان سے ترک مراد ہے۔ یعنی منافقین نے اللہ کے احکام کی پیروی ترک کردی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو اپنی توفیق اور رحمت سے محروم کردیا “ غفلوا عن ذکرہ وترکوا طاعته (فنسیھم) فترکھم اللہ من توفیقه وھدایته فی الدنیا ورحمته فی الاخرة وترکھم فی عذاب ه ” (مظہری ج 4 ص 262) ۔
Ayahs 9:68–69

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

وعدہ دیا ہے اللہ نے منافق مرد اور منافق عورتوں کو اور کافروں کو دوزخ کی آگ کا پڑے رہیں گے اس میں65 وہی بس ہے ان کو اور اللہ نے ان کو پھٹکار دیا، اور ان کے لیے عذاب ہے برقرار رہنے والا

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

جس طرح تم سے اگلے لوگ زیادہ تھے تم سے زور میں اور زیادہ رکھتے تھے مال اور اولاد پھر فائدہ اٹھا گئے اپنے حصہ سے پھر فائدہ اٹھایا تم نے اپنے حصہ سے جیسے فائدہ اٹھا گئے تم سے اگلے اپنے حصہ سے اور تم بھی چلتے ہو انہی کی سی چال وہ لوگ مٹ گئے ان کے عمل دنیا میں اور آخرت میں اور وہی لوگ پڑے نقصان میں

65:“ وَعَدَ اللّٰهُ الخ ” یہ منافقین اور کفار کے لیے تخویف اخروی ہے۔ “ کَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ اي انتم ایھا الکفار کَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِھِمْ ” جو دنیوی عیش و تلذذ ان کے لیے مقدر تھا اس سے انہوں نے فائدہ اٹھا یا اور جو تمہارے لیے مقدر تھا اس سے تم نے فائدہ اٹھایا۔ “ وَ خُضْتُمْ کَالَّذِيْ خَاضُوْا ” اور جس طرح وہ باطل شبہات اور لہو ولعب میں منہمک ہوگئے اسی طرح تم منہمک ہوئے۔ “ اُوْلٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ الخ ” دنیا اور آخرت میں ان کے اعمال اکرت گئے اور ان پر وہ کسی اجر وثواب کے مستحق نہ ٹھہرے اور دنیا و آخرت کا خسارہ اٹھایا۔ اے کفار ! بالکل اسی طرح تمہارے اعمال بھی بےنتیجہ اور ضائع ہوں گے اور آخرت میں خائب و خاسر ہوگے۔
Ayah 9:70

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا پہنچی نہیں ان کو خبر ان لوگوں کی جو66 ان سے پہلے تھے قوم نوح کی اور عاد کی اور ثمود کی اور قوم ابراہیم کی اور مدین والوں کی اور ان بستیوں کی خبر جو الٹ دی گئی تھیں پہنچے ان کے پاس ان کے رسول صاف حکم لے کر سو اللہ تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہ اپنے اوپر آپ ظلم کرتے تھے

66:“ اَلَمْ یَاتِھِمْ الخ ” یہ تخویف دنیوی ہے اس میں خطاب سے غیبت کی طرف التفات ہے اور ضمیر غائب سے کفار و منافقین مراد ہیں یعنی کفار و منافقین کو اقوامِ سابقہ کے حالات سے عبرت حاصل کرنا چاہئے کہ کس طرح ان کو ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ہلاک کیا گیا۔ “ فَمَا کَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَھُمْ الخ ” یعنی اللہ نے ان کو ہلاک کر کے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ظالم تھے اور ضد و انکار کی وجہ سے انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا۔
Ayahs 9:71–72

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کی مددگار67 ہیں سکھلاتے ہیں نیک بات اور منع کرتے ہیں بری بات سے اور قائم رکھتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور حکم پر چلتے ہیں اللہ کے اور اس کے رسول کے وہی لوگ ہیں جن پر رحم کرے گا اللہ بیشک اللہ زبردست ہے حکمت والا

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

وعدہ دیا ہے اللہ نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں کا کہ بہتی ہیں نیچے ان کے نہریں رہا کریں انہی میں اور ستھرے مکانوں کا رہنے کے باغوں میں اور رضامندی اللہ کی ان سب سے بڑی ہے یہی ہے بڑی کامیابی

67:“ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُوْمِنَاتُ الخ ” منافقین کے مقابلہ میں مومنین کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور ہمدرد ہیں۔ نیک کاموں کی ترغیب دیتے اور برے کاموں سے منع کرتے ہیں۔ نماز قائم کرتے، زکوۃ دیتے، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ “ اُوْلٓئِکَ سَیَرْحَمُھُمُ اللّٰهُ ” تا “ ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ” مومنین کے لیے بشارت اخروی ہے۔
Ayah 9:73

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے نبی لڑائی کر کافروں سے اور منافقوں سے اور تند خوئی کر ان پر اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے68

68:“ یَا ایُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدْ الخ ” اس آیت میں کفار اور منافقین سے جہاد بالحجة والدلیل مراد ہے یعنی دلائل وبراہین سے ان کے شبہات، اعتراضات اور مطاعن کا جواب دو ۔ حضرت شیخ قدس سرہٗ نے فرمایا۔ منافقین اطراف مدینہ کے ساتھ جہاد بالسیف کرو اور جو منافقین مدینہ منورہ میں ہیں ان سے جہاد باللسان یعنی دلائل سے جہاد کرو تاکہ لوگ الزام نہ لگائیں کہ یہ پیغمبر مسلمانوں کو مروا رہا ہے۔ “ قال ابن عباس امر بالجھاد مع الکفار بالسیف و مع المنافقین باللسان و شدة الزجر والتغلیظ ” (قرطبی ج 8 ص 204) ۔
Ayah 9:74

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ ہم نے نہیں کہا69 اور بیشک کہا ہے انہوں نے لفظ کفر کا اور منکر ہوگئے مسلمان ہو کر اور قصد کیا تھا اس چیز کا جو ان کو نہ ملی اور یہ سب کچھ اسی کا بدلہ تھا کہ دولت مند کردیا ان کو اللہ نے اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے70 سو اگر توبہ کرلیں تو بھلا ہے ان کے حق میں71 اور اگر نہ مانیں گے تو عذاب دے گا ان کو اللہ عذاب دردناک دنیا اور آخرت میں اور نہیں ان کا روئے زمین پر کوئی حمایتی اور نہ مددگار

69:“ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰه الخ ” اس آیت میں دو قصوں کی طرف اشارہ ہے۔ غزوہ تبوک میں آنحضرت ﷺ نے خطبہ دیا اس میں آپ نے ان منافقین کا ذکر کیا جو جہاد میں شریک نہیں ہوئے تھے آپ نے ان کو رجس اور ناپاک فرمایا۔ یہ سن کر ایک منافق جلاس بن سوید کہنے لگا اگر محمد سچ کہتا ہے تو ہم تو گدھوں سے بھی بد تر ہیں۔ یہ بات ایک مخلص مومن عمار بن قیس نے سن لی۔ اس نے آنحضرت ﷺ سے اس کا ذکر کردیا آپ نے جلاس کو بلا کر پوچھا تو اس نے قسم کھا کر انکار کردیا کہ اس نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا “ وَلَقَدْ قَالُوْا کَلِمَةَ الْکُفْرِ ” بعض نے لکھا ہے کہ اس سے مراد عبداللہ بن ابی کا قول ہے جو سورة منافقین میں مذکور ہے۔ یعنی “ لَئِنْ رَّجَعْنَا اِلَی الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْھَا الْاَذَلُّ ”۔ دوسرا قصہ :“ وَ ھَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا ” میں مذکور ہے۔ غزوہ تبوک میں منافقین نے آنحضرت ﷺ کے ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا۔ راستہ میں ایک گھاٹی پر بارہ آدمی مقرر کردئیے تاکہ جب آپ وہاں سے گذریں تو اچانک حملہ کر کے آپ کو قتل کردیں لیکن اللہ تعالیٰ نے بذریعہ جبرئیل (علیہ السلام) آپ کو اس پروگرام کی اطلاع دیدی۔ 70:“ وَ مَا نَقَمُوْا الخ ” آخر ان منافقین کو اسلام اور پیغمبر خدا ﷺ پر ان کو کیا ناراضگی ہے کیا ان کو یہ بات ناپسند ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے ان کو مالدار بنا دیا ہے۔ حاصل یہ کہ اللہ اور رسول کے تو ان پر احسانات اور انعامات ہی ہیں جن کی موجودگی میں ان کو سر اطاعت و تسلیم خم کردینا چاہئے تھا۔ جب آنحضرت ﷺ مدینہ تشریف لائے اس وقت یہ منافقین نہایت تنگدستی کی زندگی بسر کر رہے تھے آپ کی تشریف آوری اور اموال غنیمت کی کثرت سے ان کی زندگی خوشحال ہوگئی۔ جلاس بن سوید مذکور کا ایک قریبی رشتہ دار قتل ہوگیا تو آنحضرت ﷺ نے بارہ ہزار روپیہ خونبہا کے طور پر دلا یا جس سے وہ مالدار ہوگیا۔ “ انھم کانوا حین قدم رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم المدینة فی ضنک من العیش لا یرکبون الخیل ولا یحوزون الغنیمة فاستغنوا بالغنائم وقتل للجلاس مولی فامر رسول اللہ ﷺ بدیته اثنی عشر الفافاً فاستغنی ” (مدارک ج 2 ص 104، قرطبی ج 8 ص 208) ۔ حضرت رسول خدا ﷺ کے منافقین کو غنی کردینے سے یہی مراد ہے یعنی مال غنیمت سے ان کو غنی کردیا اس سے مافوق الاسباب غائبانہ طور پر غنی کرنا مراد نہیں۔ “ کذا فی المدارک و ابن جریر و ابن کثیر ”۔ 71:“ فَاِنْ يَّتُوْبُوْا الخ ” جب یہ آیت نازل ہوئی تو جلاس نے کہا۔ یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ نے مجھے توبہ کی گنجائش دی ہے بیشک میں نے مذکورہ بالا الفاظ کہے تھے اور جھوٹی قسم کھائی تھی اس لیے اب میں اس گناہ اور نفاق سے توبہ و استغفار کرتا ہوں اور صدق دل سے ایمان لاتا ہوں چناچہ آپ نے اس کی توبہ منظور فرما لی اور اس نے بھی آخری دم اخلاص کا ثبوت دیا۔ “ وَ اِنْ يَّتَوَلَّوْا الخ ” یہ نفاق پر قائم رہنے والوں کے لیے دنیوی اور اخروی تخویف ہے۔
Ayahs 9:75–77

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

اور بعضے ان میں وہ ہیں کہ عہد کیا تھا اللہ سے اگر دیوے ہم کو اپنے فضل سے تو ہم ضرور خیرات کریں اور ہو رہیں ہم نیکی والوں میں72

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

پھر جب دیا ان کو اپنے فضل سے تو اس میں بخل کیا اور پھرگئے ٹلا کر

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

پھر اس کا اثر رکھ دیا نفاق ان کے دلوں میں جس دن تک کہ وہ اس سے ملیں گے اس وجہ سے کہ انہوں نے خلاف کیا اللہ سے جو وعدہ اس سے کیا تھا، اور اس وجہ سے کہ بولتے تھے جھوٹ

72:“ وَ مِنْھُمْ مَّنْ الخ ” اس آیت میں ثعلبہ بن حاطب نامی منافق کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے اس نےحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ یارسول اللہ ! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بہت سی دولت عطا فرمائے۔ آپ نے فرمایا۔ اے ثعلبہ وہ تھوڑا سا مال جس کے تم حقوق ادا کرسکو اس کثیر مال سے بہتر ہے جس کے حقوق ادا کرنے سے تم قاصر رہو۔ ثعلبہ نے اصرار کیا اور کہا مجھے اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو سچا نبی بنا کر بھیجا اگر اس نے مجھے دولت دی تو میں اس میں سے تمام حقوق واجبہ ادا کروں گا۔حضور ﷺ نے اس کے حق میں دعا فرمائی۔ ثعلبہ نے چند بکریاں خرید لیں اللہ نے ان میں اس قدر برکت ڈالی اور وہ اس قدر بڑھیں کہ اسے مدینہ سے باہر جنگل میں بسیرا کرنا پڑا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ نہ صرف مسجد نبوی میں پنج وقتہ نمازیں ادا کرنے سے محروم ہوگیا بلکہ نماز جمعہ سے بھی غیر حاضر رہنے لگا۔ جبحضور ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے زکوۃ وصول کرنے کے لیے اس کے پاس دو محصل بھیجے جنہیں اس نے یہ کہہ کر واپس کردیا کہ یہ زکوۃ تو جزیہ ہے۔ ابھی جاؤ میں سوچوں گا۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ جب ثعلبہ کو آیتوں کا پتہ چلا تو مال صدقہ لے کرحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے اس کا صدقہ قبول نہ کیا اور فرمایا اللہ نے مجھے تیرا صدقہ قبول کرنے سے منع فرمایا ہے۔حضور ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر ؓ اور عمر ؓ نے بھی اس کا صدقہ قبول نہ کیا۔ “ فَاَعْقَبَھُمْ نِفَاقًا ”“ اَعْقَبَ ” کا فاعل اللہ تعالیٰ تعالیٰ ہے۔ یا بخل جو “ بَخِلُوْا ” میں ضمنًا مذکور ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں نفاق ڈال دیا۔ کیونکہ اس نے اللہ جو وعدہ کیا وہ پورا نہ کیا۔ “ اي اعقبھم اللہ نفاقا فی قلوبھم وقیل اي اعقبھم البخل نفاقاً ” (قرطبی ج 8 ص 212) ۔ “ بِمَا ” میں باء سببیہ ہے “ اي بسبب اخلافھم ما ودوا اللہ من التصدق والصلاح وکونھم کاذبین ” (مدارک ج 2 ص 105) ۔
Ayah 9:78

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا وہ جان نہیں چکے کہ اللہ جانتا ہے ان کا بھید73 اور ان کا مشورہ اور یہ کہ اللہ خوب جانتا ہے سب چھپی باتوں کو

73:“ اَلَمْ یَعْلَمُوْا الخ ” تخویف اخروی ہے۔
Ayah 9:79

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

وہ لوگ جو طعن کرتے ہیں ان مسلمانوں پر جو دل کھول کر74 خیرات کرتے ہیں اور ان پر جو نہیں رکھتے مگر اپنی محنت کا پھر ان پر ٹھٹھے کرتے ہیں اللہ نے ان سے ٹھٹھا کیا ہے اور ان کے لیے عذاب دردناک ہے

74:“ اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الخ ” اس میں ان منافقین کا ذکر ہے جو خوشی خوشی صدقہ و خیرات کرنے والے مسلمانوں کو طعنے دیتے تھے۔ “ اَلَّذِیْنَ ” موصول مع صلہ مبتدا ہے۔ اور “ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْھُمْ ” تخویف اخروی ہے یعنی اللہ ان کو تمسخر اور استہزاء کی سزا دے گا یعنی “ اَنَّه سبحانه و تعالیٰ جازاھم علی سخریتھم ثم وصف ذلک وھو قوله سبحانه وتعالیٰ ( وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) یعنی فی الاخرة ” (خازن ج 3 ص 128) ۔
Ayah 9:80

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

تو ان کے لیے بخشش مانگ یا نہ مانگ75 اگر ان کے لیے ستر بار بخشش مانگے تو بھی ہرگز نہ بخشے گا ان کو اللہ یہ اس واسطے کہ وہ منکر ہوئے اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اللہ راستہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو

75:“ اِسْتَغْفِرْلَھُمْ الخ ” یہ تمام منافقین کا انجام ہے کہ ان کی ہرگز بخشش نہیں ہوگی اگرچہ اللہ کا رسول ستر بار بھی اللہ سے ان کے لیے معافی مانگے کیونکہ ان کے دلوں میں کفر ونفاق ہے اگرچہ بظاہر وہ ایمان کے دعویدار ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ منوا لینا پیغمبر (علیہ السلام) کے اختیار میں نہیں۔ “ اَسْتَغْفِرْ ” امر بمعنی خبر ہے۔ عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین جب مرض الموت میں مبتلا ہوا تو اس کا بیٹا جو مخلص مومن تھاحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے باپ کے لیے استغفار کی درخواست کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں آپ کو ان کے لیے استغفار سے منع کردیا گیا۔ صحیح مسلم میں ہے جب ابن ابی مرگیا توحضور ﷺ اس کا جنازہ پڑھنے لگے تو حضرت عمر نے آپ کا دامن تھام کر عرض کیا یارسول اللہ ! اللہ نے تو آپ کو اس کا جنازہ پڑھنے سے منع فرمادیا ہے اور میں اس کیلئے ستر سے بھی زیادہ بار استغفار کروں گا شاید اللہ اسے معاف کردے (مدارک و قرطبی وغیرہ ) ۔ امام رازی اور علامہ خازن ابن عباس سے ناقل ہیں کہ جب منافقین کے بارے میں مذکورہ بالا آیتیں نازل ہوئیں مسلمانوں پر ان کا نفاق ظاہر ہوگیا اس وقت منافقین نےحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا آپ ان کے لیے اللہ سے استغفار کریں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ “ قال ابن عباس ؓ عنھما ان عند نزول الایة الاولی فی المنافقین قالوا یا رسول استغفر لنا فقال رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم ساستغفر لکم واشتغل بالاستغفار لھم فنزلت ھذه الایة فترک رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم الاستغفار ” (کبیر ج 4 ص 705) ۔