9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsجواھر القرآن

Ayah 9:81

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

خوش ہوگئے پیچھے رہنے والے اپنے بیٹھ رہنے سے جدا ہو کر رسول اللہ سے76 اور گھبرائے اس سے کہ لڑیں اپنے مال سے اور جان سے اللہ کی راہ میں اور بولے کہ مت کوچ کرو گرمی میں تو کہہ دوزخ کی آگ سخت گرم77 ہے اگر ان کو سمجھ ہوتی

76:“ فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ الخ ”“ اَلْمُخَلَّفُوْنَ ” یعنی ان کو اللہ نے پیچھے چھوڑ دیا اور جہاد میں شریک ہونے کی ان کو توفیق نہ دی۔ “ اي خلفھم اللہ و ثبطھم ” (قرطبی ج 8 ص 216) ۔ حضرت شیخ نے فرمایا “ اي المخلفون بقھر اللہ ” اس سے وہ منافقین مراد ہیں جو جنگ تبوک میں عمداً شریک نہ ہوئے۔ “ مَقْعَد ” مصدر میمی ہے جو منافقین غزوہ تبوک میں شریک نہ ہوئے وہ بہت خوش تھے کہ شدت گرما میں وہ سفر کی تکلیفوں اور صعوبتوں سے بچ گئے اور انہوں نے اللہ کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرنے کو ناپسند کیا۔ “ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ ” منافقوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا یا انہوں نے مومنوں کو بد دل کرنے کی غرض سے ان سے کہا کہ گرمی میں مت جاؤ اور اپنے گھروں میں آرام کرو۔ “ قال بعضھم لبعض او قالوا للمؤمنین تثبیطا ” (مدارک ج 2 ص 106) ۔ 77:“ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ الخ ” اللہ تعالیٰ نےحضور ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان آرام و راحت کے دلداد گان سے فرما دیں جہنم کی آگ جو آخرت میں ان کا ٹھکانا ہوگی دنیا کی اس گرمی سے کہیں زیادہ سخت اور شدید ہوگی۔
Ayah 9:82

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

سو وہ ہنس لیویں تھوڑا اور رو ویں بہت سا78 بدلہ اس کا جو وہ کماتے تھے

78:“ فَلْیَضْحَکُوْا الخ ” امر بمعنی خبر ہے۔ منافقین جہاد میں شریک نہ ہو کر بہت خوش ہیں اور ہنس رہے ہیں لیکن دنیا کی یہ خوشی اور ہنسی اس افسوس اور رونے کے مقابلے میں بہت کم ہے جو آخرت میں ان کے حصے میں آئیں گے۔ “ اخبار عن عاجل امرھم و اٰجله من الضحک القلیل فی الدنیا والبکاء الکثیر فی الاخري ” (روح ج 10 ص 112) ۔
Ayah 9:83

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

سو اگر پھر لے جائے تجھ کو اللہ79 کسی فرقہ کی طرف ان میں سے پھر اجازت چاہیں تجھ سے نکلنے کی تو تو کہہ دینا کہ تم ہرگز نہ نکلو گے میرے ساتھ کبھی اور نہ لڑو گے میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے تم کو پسند آیا بیٹھ رہنا پہلی بار سو بیٹھے رہو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ

79:“ فَاِنْ رَّجَعَکَ الخ ” اس میں بھی ان منافقین کا ذکر ہے جو غزوہ تبوک میں شریک نہ ہوئے۔ منافقین کی شرارتوں اور ان کی عداوت اور دشمنی کو واشگاف کرنے کے بعدحضور ﷺ سے فرمایا کہ یہ لوگ اس لائق ہی نہیں ہیں کہ آپ کی صحبت میں رہیں لہذا جب آپ بخیر و عافیت مدینہ واپس پہنچ جائیں اور اس کے بعد کوئی جنگ درپیش ہو اور یہ منافقین اس میں شریک ہونے کے لیے آپ سے اجازت مانگیں تو آپ ان کو غزوہ میں شریک ہونے کی ہرگز اجازت نہ دیں اور صاف فرمادیں کہ اب کبھی بھی تم ہمارے ساتھ جہاد میں شریک نہیں ہوسکتے۔ بس اب گھروں ہی میں بیٹھے رہو۔
Ayah 9:84

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

اور نماز نہ پڑھ80 ان میں سے کسی پر جو مرجائے اور کبھی نہ کھڑا ہو اس کی قبر پر وہ منکر ہوئے اللہ سے اور اس کے رسول سے اور وہ مرگئے نافرمان

80:“ وَ لَا تُصَلِّ عَلیٰ اَحَدٍ الخ ” اگ ان منافقین میں سے کوئی مرجائے تو آپ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہو کر اس کیلئے دعائے مغفرت کریں کیونکہ وہ اگرچہ بظاہر مسلمان ہیں لیکن دل سے پکے کافر ہیں نہ خدا پر ان کا ایمان ہے نہ رسول پر اور وہ اسی کفر پر مر رہے ہیں۔
Ayah 9:85

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

اور تعجب نہ کر81 ان کے مال اور اولاد سے اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ عذاب میں رکھے ان کو ان چیزوں کے باعث دنیا میں اور نکلے ان کی جان اور وہ اس وقت تک کافر ہی رہیں

81:“ وَ لَا تُعْجِبُکَ الخ ” اس کی تفسیر پہلے گذر چکی ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ 54 ص 441 ۔
Ayahs 9:86–87

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

اور جب نازل ہوتی ہے کوئی سورت82 کہ ایمان لاؤ اللہ پر اور لڑائی کرو اس کے رسول کے ساتھ ہو کر جو تجھ سے رخصت مانگتے ہیں مقدور والے ان کے اور کہتے ہیں ہم کو چھوڑ دے کہ رہ جائیں ساتھ بیٹھنے والوں کے

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

خوش ہوئے کہ رہ جائیں پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ اور مہر کردی گئی ان کے دل پر سو وہ نہیں سمجھتے

82:“ وَ اِذَا اُنْزِلَتْ الخ ” یہ منافقین کی منافقت کی واضح علامت ہے کہ جب جہاد کا حکم نازل ہوتا ہے تو وہ مالی طاقت اور جسمانی قدرت کے باجود جہاد سے جی چراتے اور آپ کے پاس آ کر اجازت مانگتے ہیں کہ انہیں جہاد کی شمولیت سے مستثنی کردیا جائے اور گھروں میں رہنے دیا جائے وہ جہاد میں شریک ہو کر جرات و شجاعت کے جوہر دکھانے کے بجائے بزدلوں کی طرح مدینہ میں عوتوں کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں اور یہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی اور اللہ اور رسول کی محبت سے تہی ہیں۔ ان کے دلوں پر ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے مہر جباریت لگ چکی ہے اور وہ جہاد کے دینی اور دنیوی منافع سمجھنے سے قاصر ہیں۔
Ayahs 9:88–89

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

لیکن رسول83 اور جو لوگ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے وہ لڑے ہیں اپنے مال اور جان سے اور انہی کے لیے ہیں خوبیاں اور وہی ہیں مراد کو پہنچنے والے

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

تیار کر رکھے ہیں اللہ نے ان کے واسطے باغ کہ بہتی ہیں نیچے ان کے نہریں رہا کریں ان میں یہی ہے بڑی کامیابی

83:“ لٰکِنِ الرَّسُوْلُ الخ ” یہاں سے لے کر “ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ” تکحضور ﷺ کے ساتھ مال و جان سے جہاد کرنے والے صحابہ کرام اور مخلص مومنین کی فضیلت اور ان کے لیے اخروی بشارت مذکور ہے۔
Ayah 9:90

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

اور آئے بہانے کرنے والے84 گنوار تاکہ ان کو رخصت مل جائے اور بیٹھ رہے جنہوں نے جھوٹ بولا تھا اللہ سے اور اس کے رسول سے، اب پہنچے گا ان کو جو کافر ہیں ان میں عذاب دردناک

84:“ وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ الخ ” یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا جو واقعی معذور تھے اور اپنا عذر بیان کر کےحضور ﷺ سے تخلف عن الجہاد کی اجازت لیتے تھے اور اس سے بنی غفار کے لیے لوگ مراد ہیں۔ “ ثم بین تعالیٰ حال ذوي الاعذار فی ترک الجهاد الذین جاء وا رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم یعتذرون الیه و یبینون له ما ھم فیه من العنف و عدم القدرة علی الخروج الخ ” (ابن کثیر ج 2 ص 381) “ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا الخ ” لیکن منافقین نے پوری دیدہ دلیری سے کام لیا اور کسی قسم کا کوئی عذر و بہانہ پیش کیے بغیر ہی جہاد میں شریک نہ ہوئے اور گھروں میں بیٹھ رہے۔ “ سَیُصِیبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا الخ ” یہ ان کے لیے تخویف اخروی ہے۔
Ayah 9:91

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

نہیں ہے85 ضعیفوں پر اور نہ مریضوں پر اور نہ ان لوگوں پر جن کے پاس نہیں ہے خرچ کرنے کو کچھ گناہ جب کہ دل سے صاف ہوں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ نہیں ہے نیکی والوں پر الزام کی کوئی راہ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

85:“ لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَاءِ الخ ” یہاں ان عذروں کا بیان ہے جن کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہونے والے واقعی معذور ہیں۔ “ اَلضُّعَفَاء ” یعنی بوڑھے، بچے اور عورتیں نیز لنگڑے اور اندھے بھی اس میں شامل ہیں۔ “ وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ ” پہلے ان لوگوں کو ذکر تھا جو جسمانی طاقت کے فقدان کی وجہ سے معذور تھے یہاں مالی استطاعت نہ ہونے کا عذر بیان کیا گیا یعنی جن لوگوں کے پاس سامان جنگ اور سفر خرچ کے لیے روپیہ نہیں وہ بھی معذور ہیں۔ “ یعنی الفقراء العاجزین عن اھبه الغزو والجهاد فلا یجدون الزاد والراحلة والسلاح و مؤنة السفر ” (خازن ج 3 ص 111) “ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰه الخ ” یعی بشرطیکہ وہ شہر میں رہ کر فتنہ و فساد بپا نہ کریں اور مجاہدین کے بارے میں جھوٹی خبریں نہ اڑائیں۔
Ayah 9:92

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں پر کہ86 جب تیرے پاس آئے تو ان کو تو سواری دے تو نے کہا میرے پاس کوئی چیز نہیں کہ تم کو اس پر سوار کر دوں تو الٹے پھرے اور ان کی آنکھوں سے بہتے تھے آنسو اس غم میں کہ نہیں پاتے وہ چیز جو خرچ کریں

86:“ وَلَا عَلَی الَّذِیْنَ الخ ” اسی طرح ان لوگوں پر بھی تخلف عن الجہاد کی وجہ سے گناہ نہیں جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوئ ہے تاکہ آپ ان کے لیے سواری کا انتظام فرمائیں لیکن سواری نہ ہونے کی وجہ سے وہ مایوس ہو کر زور و قطار رونے لگے اس لیے کہ وہ جہاد میں شریک نہیں ہوسکیں گے اور اس کے اجر سے محروم ہوجائیں گے۔
Ayah 9:93

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

راہ الزام کی تو ان پر ہے87 جو رخصت مانگتے ہیں تجھ سے، اور وہ مال دار ہیں خوش ہوئے اس بات سے کہ رہ جائیں ساتھ پیچھے رہنے والیوں کے اور مہر کردی اللہ نے ان کے دلوں پر سو وہ نہیں جانتے

87:“ اِنَّمَا السَّبِیْل الخ ” گرفت اور الزام کا راستہ ان منافقین پر ہے جو طاقتور اور دولتمند ہونے کے باوجود محض آرام طلبی کی خاطر ہاد میں شریک نہیں ہونا چاہتے۔ وہ اس قدر بزدل اور پست ہمت ہیں کہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ پیچھے رہنا پسند کرتے ہیں۔ اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر جھوٹے بہانے بنا کر اجازت مانگتے ہیں۔ “ وَ طَبَعَ اللّٰه الخ ” اللہ نے ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر جباریت ثبت کردی ہے کہ وہ جہاد کے دنیوی اور اخروی فوائد کو نہیں سمجھ سکتے۔ “ ( فَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) ما فی الجهاد من الخیر فی الدنیا والاخرة ” (خازن ج 3 ص 111)
Ayah 9:94

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

بہانے لائیں گے88 تمہارے پاس جب تم پھر کر جاؤ گے ان کی طرف تو کہہ بہانے مت بناؤ ہم ہرگز نہ مانیں گے تمہاری بات ہم کو بتا چکا ہے اللہ تمہارے احوال اور ابھی دیکھے گا اللہ تمہارے کام89 اور اس کا رسول پھر تم لوٹائے جاؤ گے طرف اس جاننے والے چھپے اور کھلے کی سو وہ بتائے گا تم کو جو تم کر رہے تھے

88:“ یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْکُمْ الخ ” خطاب آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام سے ہے یعنی جب آپ لوگ غزوہ تبوک سے واپس مدینہ پہنچیں گے تو منافقین تمہارے پاس آکر جہاد میں شریک نہ ہونے کے بارے میں بہانے پیش کریں گے “ قُلْ لَا تَعْتَذِرُوْا ” یعنی واپسی پر جب وہ عذر پیش کریں تو آپ فرما دیں کہ بہانے مت بناؤ۔ ہم تمہاری باتوں پر یقین نہیں کرینگے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اصل حقیقت سے آگاہ فرما دیا ہے اور تمہارے دل کے پوشیدہ رازوں پر مطلع کردیا ہے۔ “ لان اللہ تعالیٰ قد انبانا بالوحی بما فی ضمائرکم من الشر و الفساد ” (روح ج 11 ص 2) ۔ 89:“ وَ سَیَرَي اللّٰهُ عَمَلَکُمْ الخ ” سے مراد وہ اعمال سے ہیں جو نبی کریم ﷺ کی زندگی میں منافقین کیا کرتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے گذشتہ اعمال تو ظہر ہوچکے ہیں اور عنقریب تمہارے آئندہ اعمال کو بھی اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر پر اور تمام مومنین پر ظاہر فرما دے گا اور سب کو معلوم ہوجائیگا کہ تم نے اپنا رویہ تبدیل کرلیا ہے یا نہیں۔ “ اي اتنیبون عما انتم علیه ام تثبتون علیه ” (روح) ۔ فائدہ : بعض لوگ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر ہر صبح و شام امت کے اعمال پیش ہوتے ہیں اس طرح آپ ہر امتی کے تمام احوال سے باخبر رہتے ہیں۔ اور اس کی تائید میں وہ مسند بزار کی ایک روایت پیش کرتے ہیں۔ جس میں آیا ہے۔ “ تعرض علی اعمالکم حسنھا و سیئھا الخ ” لیکن یہ استدلال سراسر باطل اور غلط ہے۔ اول اس لیے کہ اس سے تمام مفسرین نےحضور ﷺ کے زمانے میں منافقین کے اعمال مراد لیے ہیں اور کسی نے بھی اس سے عرض ِ اعمال کو ثابت نہیں کیا۔ روح المعانی کا حوالہ پہلے گذر چکا ہے۔ امام بغوی اور علامہ خازن ج 3 ص 112 میں لکھتے ہیں۔ “ یعنی فی المستانف اتتوبون من نفاقکم ام تقیمون علیه ” حافظ ابن کثیر رقمطراز ہیں “ اي سیظهر اعمالکم فی الدنیا ” (ج 2 ص 382) ۔ تو معلوم ہوا کہ اس آیت میں خطاب صرف زمانہ نبوی کے منافقین سے ہے ساری امت مراد نہیں۔ نیز منافقین کے صرف وہی اعمال مراد ہیں جو وہ حضرت پیغمبر ﷺ اور صحابہ کرام کی موجودگی میں کرتے تھے ان کے تمام اعمال مراد نہیں اور جو حدیث پیش کی جاتی ہے حقیقت میں وہ روایت بالمعنی ہے۔ اصل حدیث وہی ہے جو صحیح مسلم ج 1 ص 207 میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوذر ؓ سے مروی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔ “ عرضت علی اعمال امتی حسنھا و سیئھا فوجدت فی محاسن اعمالھا الاذي یماط عن الطریق و وجدت فی مساوي اعمالھا النخاعة تکون فی المسجد ولا تدفن ” یعنی میرے سامنے میری امت کے اعمال پیش کیے گئے اور اس سے بالاتفاق عرض اجمالی مراد ہے یعنی آپ کے سامنے نیک اور برے اعمال کی فہرستیں پیش کی گئیں کہ نیکی کے اعمال کونسے ہیں اور گناہ کے کام کونسے۔ بعض لوگ “ عرضت علی وجور امتی الخ ” سے عرض اعمال پر استدلال کرتے ہیں۔ یہ حدیث ابو داود ص 66 اور ترمذی ج 2 ص 115 میں حضرت انس ؓ کی روایت سے منقول ہے لیکن یہ استدلال بھی درست نہیں۔ اول اس لیے کہ اس سے بھی عرض اجمالی مراد ہے۔ دوم یہ روایت منقطع ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں مطلب راوی جو حضرت انس ؓ سے روایت کرتا ہے ان سے اس کا سماع ثابت نہیں۔ “ قال محمد بن اسمعیل البخاري و لا اعرف للمطلب بن عبدالله بن خطب سماعا من احد من اصحاب النبی صلی اللہ صلی اللہ علیه وسلم الخ ”۔ علاوہ ازیں اگر مضارع مجہول کا صیغہ ہی صحیح مان لیا جائے تو بھی اس سے انکا مدعا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ عرض مستلزم علم نہیں جیسا کہ حضرت علامہ انور شاہ صاحب نے فرمایا۔ “ الا تري الی قوله تعالیٰ ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَی الْمَلٓئِکَةِ ، فکان عرضا و قال تعالی، وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاء کُلَّھَا، فکان ھذا تعلیما فالعرض اخر والتعلم اخر ” (فیض البار ج 4 ص 80) ۔ لیکن اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ عرض مستلزمِ علم ہے تو اس سے بہت سی آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ کو رد کرنا پڑے گا۔ مثلا قیامت کے دن انبیاء و اولیاء اس بات سے لاعلمی ظاہر کرینگے کہ مشرکین ان کی وفات کے بعد ان کی عبادت کیا کرتے تھے۔ “ فَکَفیٰ بِاللّٰهِ شَھِیْدًا بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اِنْ کُنَّا عَنْ عِبَادَتِکُمْ لَغٰفِلِیْنَ ” (پ 11 سورة یونس رکوع 3) اسی طرح صحیح بخاری ج 2 ص 665 میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا۔ کہ قیامت کے دن کچھ لوگوں کو حوض کوثر سے ہٹا دیا جائے گا تو میں کہوں گا یہ تو میرے امتی ہیں اس پر مجھے جواب دیا جائیگا کہ ان لوگوں نے کرتوت کیے ہیں آپ کو وہ معلوم نہیں اس وقت میں وہی کچھ کہوں گا جو عبد صالح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا “ کُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْھِمْ الخ ” تو اگر عرض اعمال واقعی صحیح ہے تو آنحضرت ﷺ کو ان امور کا علم ہونا چاہئے حالانکہ ایسا نہیں کیونکہ قیامت کے دن آپ ان سے انکار فرمائیں گے۔ دوم عرض اعمال کا عقیدہ شیعوں کا خانہ ساز ہے اہلسنت کے یہاں اس کی کوئی اصل نہیں چناچہ اصول کافی میں ایک مستقل باب ہے۔ جس کا عنوان ہے “ باب عرض الاعمال علی النبی والائمة علیھم السلام ” اس باب کے تحت مؤلف کتاب علامہ یعقوب کلینی نے امام جعفر صادق، امام رضا اور دیگر ائمہ سے کئی روایتیں نقل کی ہیں جن کا مضمون یہ ہے کہ امت کے تمام ابرار وفجار اور نیکوں اور بروں کے اعمال ہر روز صبح و شام حضرت نبی کریم اور اماموں کے سامنے پیش ہوتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ عرض اعمال شیعوں کا مذہب ہے۔ ایک ایسی حدیث جس کی صحت بھی مشکوک ہے اور جو مدعا پر نص صریح بھی نہی ہے اگر اس سے عرض اعمال کا فرضی عقیدہ ثابت کیا جائے اور اس کے مقابلہ میں آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ و صریحہ کو ترک کردیا جائے۔ تو یہ کہاں کا انصاف ہے۔
Ayah 9:95

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

اب قسمیں کھائیں گے90 اللہ کی تمہارے سامنے جب تم پھر کر جاؤ گے ان کی طرف تاکہ تم ان سے درگزر کرو تو سو تم درگزر کرو ان سے بیشک وہ لوگ پلید ہیں اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے بدلہ ان کے کاموں کا

90:“ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ الخ ” اس میں بھی ان منافقین کا ذکر ہے جو بغیر کسی عذر کے جہاد میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ یعنی جب آپ واپس لوٹ کر ان کے پاس پہنچیں تو وہ قسمیں کھا کھا کر اپنی سچائی اور معذوری بیان کریں گے تاکہ آپ ان سے درگذر کریں۔ “ فَاَعْرِضُوْا عَنْھُمْ ” تم ان سے منہ موڑ لینا کیونکہ وہ نہایت ناپاک لوگ ہیں اور تمہاری صحبت ومجلس کے لائق نہیں ہیں ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور یہ ان کے اپنے ہی اعمال کی سزا ہوگی۔
Ayah 9:96

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

وہ لوگ قسمیں کھائیں گے تمہارے سامنے91 تاکہ تم ان سے راضی ہوجاؤ سو اگر تم راضی ہوگئے ان سے تو اللہ راضی نہیں ہوتا نافرمان لوگوں سے

91:“ یَحْلِفُوْنَ لَکُمْ الخ ” وہ قسمیں اس لیے کھائیں گے تاکہ تم لوگ ان سے راضی ہوجاؤ۔ لیکن یاد رکھو یہ لوگ خدا کے سخت نافرمان اور باغی ہیں۔ اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ان سے کبھی راضی نہیں ہوگا۔ اور صرف تمہاری رضامندی سے انہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ “ اي رضاکم لا ینتج لھم نفعا لان اللہ تعالیٰ ساخط علیھم ولا اثر لرضا احد مع سخطه تعالیٰ ” (روح ج 11 ص 4) ۔
Ayah 9:97

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

گنوار (دیہاتی) بہت سخت ہیں کفر میں92 اور نفاق میں اور اسی لائق ہیں کہ نہ سیکھیں وہ قاعدے جو نازل کیے اللہ نے اپنے رسول پر اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

92:“ اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ الخ ” یہاں جنگل اور دیہات میں رہنے والوں کے احوال کا ذکر کیا گیا ہے ان میں جو کافر اور منافق ہیں وہ کفر و نفاق میں شہریوں کی نسبت زیادہ سخت ہیں اور خدا کے احکام و حدود سے بالکل ناواقف اور جاہل ہیں۔
Ayah 9:98

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور بعضے93 گنوار ایسے ہیں کہ شمار کرتے ہیں اپنے خرچ کرنے کو تاوان اور انتظار کرتے ہیں تم پر زمانہ کی گردشوں کا94 ان ہی پر آئے گردش بری اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

93:“ وَمِنَ الْاَعْرَابِ الخ ” منافقین اعراب میں سے کچھ ایسے ہیں جو جہاد یا صدقات و خیرات میں خرچ کی ہوئی رقم کو محض تاوان سمجھتے ہیں کیونکہ وہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں ثواب کی نیت سے اور رضائے الٰہی کے لیے خرچ نہیں کرتے بلکہ مسلمانوں کے خوف یا ریاکاری کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ “ و المعنی ان من الاعراب من یعتقد ان الذي ینفقه فی سبیل اللہ غرامة لانه لا ینفق ذلک الا خوفًا من المسلمین او مراءة لھم ولم یرد بذلک الانفاق وجه اللہ وثوابه ” (خازن ج 3 ص 113) ۔ 94:“ وَ یَتَرَبَّصُ بِکُمْ الخ ” اور وہ منافقین اعراب اس انتظار میں رہتے ہیں کہ تم حوادثت زمان اور مصائب دوران میں مبتلا رہو۔ لیکن مصیبت اور رنج میں وہ خود مبتلا ہیں۔ پیغمبر خدا ﷺ اور صحابہ کرام پر جو بھی آرام و راحت اور فتح و ظفر کا موقع آتا ہے وہ ان بدخواہوں کے لیے مصیبت سے کم نہیں ہوتا۔
Ayah 9:99

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور بعضے گنوار وہ ہیں95 کہ ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور شمار کرتے ہیں اپنے خرچ کرنے کو نزدیک ہونا اللہ سے اور دعا لینی رسول کی سنتا ہے وہ ان کے حق میں نزدیکی ہے داخل کرے گا ان کو اللہ اپنی رحمت میں بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

95:“ وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ الخ ” یہاں ان دیہات والوں کی تعریف فرمائی جو مخلص مومن تھے۔ ان کا حال یہ تھا کہ وہ جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اسے اللہ تعالیٰ کے تقرب اس کی رضا اور اللہ کے رسول کی دعا کا ذریعہ سمجھتے ہیں “ اَلَا اِنَّھَا قُرْبَةٌ لَّھُمْ ” بیشک وہ ان کے لیے قرب خداوندی کا ذریعہ ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کے اعتقاد کی تصدیق ہے۔ “ سَیُدْخِلُھُمُ اللّٰهُ الخ ” یہ بشارت اخروی ہے۔
Ayah 9:100

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

اور جو لوگ قدیم ہیں96 سب سے پہلی ہجرت کرنے والے اور مدد کرنے والے اور جو ان کے پیرو ہوئے نیکی کے ساتھ اللہ راضی ہوا ان سے اور وہ راضی ہوئے اس سے اور تیار کر رکھے ہیں واسطے ان کے باغ کہ بہتی ہیں نیچے ان کے نہریں رہا کریں انہی میں ہمیشہ یہی ہے بڑی کامیابی

96:“ وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ الخ ” یہ مہاجرین و انصار اور ان کے نقش پر چلنے والوں کے لیے بشارتِ اخروی ہے۔
Ayah 9:101

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور بعضے تمہارے گرد کے97 گنوار منافق ہیں اور بعضے لوگ مدینہ والے اڑ رہے ہیں نفاق پر تو ان کو نہیں جانتا ہم کو وہ معلوم ہیں ان کو ہم عذاب دیں گے دوبارہ98 پھر وہ لوٹائے جائیں گے بڑے عذاب کی طرف

97:“ وَ مِمَّنْ حَوْلَکُمْ الخ ” یہ مدینہ منورہ اور اس کے گرد و نواح کے منافقین کا ذکر ہے۔ “ لَا تَعْلَمُھُمْ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ” اس میں خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے۔ وہ نفاق اور اخفاء حال میں اس قدر ماہر اور چابکدست ہیں کہ آپ کو ان کے نفاق کا علم تک نہیں لیکن اللہ ان کو خوب جانتا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہحضور ﷺ کو کلی غیب کا علم نہیں تھا۔ “ یعنی انھم بلغوا من المھارة فی النفاق والتنوق فی مراعاة التقیة والتحامی عن مواقع التھمة الی حیث یخفی علیک مع کمال فطنتک و صدق فراستک حالھم ” (روح ج 11 ص 12) ۔ 98:“ سَنُعَذِّبُھُمْ الخ ” یہ منافقین کے لیے تخویف دنیوی و اخروی ہے۔ دو دفعہ کے عذاب سے دنیا میں قتل یا قید وبند یا ظہور نفاق سے ذلت ورسوائی کا اور مرنے کے بعد قبر کا عذاب مراد ہے اور عذاب عظیم آخرت کا عذاب ہے (خازن، معالم وغیرہ) ۔
Ayahs 9:102–104

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

اور بعضے لوگ ہیں اقرار کیا انہوں نے اپنے گناہوں کا99 ملایا انہوں نے ایک کام نیک اور دوسرا بد قریب ہے کہ اللہ معاف کرے ان کو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

لے ان کے مال میں سے زکوٰۃ کہ پاک کرے تو ان کو اور بابرکت کرے تو ان کو اس کی وجہ سے اور دعا دے ان کو بیشک تیری دعا ان کے لیے تسکین ہے اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا وہ جان نہیں چکے کہ اللہ آپ قبول کرتا ہے توبہ اپنے بندوں سے اور لیتا ہے زکوٰتیں اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

99:“ وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا الخ ” یہ ان پانچ صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی، جو مخلص مومن تھے مگر غزوہ تبوک میں شریک نہ ہوئے۔ بعد میں سخت نادم ہوئے اور اپنے کو ستونوں سے باندھ لیا اور گڑ گڑا کر توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمالی۔ “ خُذْ مِنْ اَمواَلِھِمْ الخ ” آنحضرت ﷺ کو ان کے صدقات قبول کرنے سے منع کردیا گیا تھا۔ اب ان کی توبہ قبول ہوجانے کے بعد آپ کو حکم ملا کہ آپ ان کے صدقات قبول کریں اور ان کے حق میں دعا فرمائیں۔ کیونکہ آپ کی دعا ان کے لیے باعث آرام و سکون ہے۔ بعض مفسرین نے ان کی تعداد دس، آٹھ اور چھ ذکر کی ہے۔ (قرطبی) ۔
Ayah 9:105

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور کہہ کہ عمل کیے جاؤ100 پھر آگے دیکھ لے گا اللہ تمہارے کام کو اور اس کا رسول اور مسلمان اور تم جلد لوٹائے جاؤ گے اس کے پاس جو تمام چھپی اور کھلی چیزوں سے واقف ہے، پھر وہ جتا دے گا تم کو جو کچھ تم کرتے تھے

100:“ وَ قُلِ اعْمَلُوْا الخ ” اس سے مراد وہی اعمال ہیں جو وہحضور ﷺ کی زندگی میں کرتے تھے۔ یعنی تم کام کیے جاؤ اللہ کا رسول اور مومنین تمہارے اعمال و اقوال کو دیکھ کر فیصلہ کرلیں گے کہ تم نے سچی توبہ کی ہے یا جھوٹی۔
Ayah 9:106

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

اور بعضے اور لوگ ہیں101 کہ ان کا کام ڈھیل میں ہے حکم پر اللہ کے یا وہ ان کو عذاب دے اور یا ان کو معاف کرے اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

101:“ وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ الخ ” اس میں ان تین مخلص صحابہ کا ذکر ہے جو قدرت کے باوجود محض سستی کی وجہ سے جنگ تبوک میں شریک نہ ہوئے اورحضور ﷺ کی واپسی پر کوئی معذرت نہ کی بلکہ ذرا تاخیر سے اپنے قصور کی معافی مانگی اور سچی توبہ کی۔ ان کی توبہ کچھ دن تاخیر سے قبول ہوئی۔ مذکور الصدر پانچ صحابہ نے بلا تاخیر توبہ کی مگر یہ تینوں توبہ میں پیچھے رہے اس لیے قبولیت میں بھی تاخیر ہوئی۔ “ و الفرق بین القسم الثانی و بین ھذا الثالث ان اولئک سارعوا الی التوبة وھؤلاء لم یسارعوا الیھا قال ابن عباس ؓ عنھما نزلت ھذه الایة فی کعب بن مالک و مرارة بن الربیع وھلال بن امیة ” (کبیر ج 4 ص 738) ۔
Ayah 9:107

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور جنہوں نے بنائی ہے102 ایک مسجد ضد پر اور کفر پر اور پھوٹ ڈالنے کو مسلمانوں میں اور گھات لگانے کو اس شخص کی جو لڑ رہا ہے اللہ سے اور اس کے رسول سے پہلے سے103 اور وہ قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے تو بھلائی ہی چاہی تھی اور اللہ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں

102:“ وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا الخ ” یہاں ان منافقین کا ذکر ہے جنہوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچائے، کفر کو تقویت دینے، مسلمانوں میں تفریق ڈالنے اور دشمنان اسلام کو پناہ دینے کی خاطر مسجد کے نام سے ایک عمارت بنائی۔ “ ضِراراً ، کُفْراً ، تَفْرِیْقًا، اِرْصَاداً ” چاروں “ اِتَّخَذُوْا ” کے مفعول لہ ہیں۔ 103:“ لِمَنْ حاَرَبَ اللّٰهَ الخ ” جنگ حنین میں مشرکین کو شکست ہوئی تو ان کا ایک سرغنہ ابو عامر شام کی طرف بھاگ گیا اور منافقین مدینہ کو لکھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف قیصر روم سے فوجی امداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس لیے تم مسجد کے نام پر ایک عمارت بنا لو تاکہ اس میں بیٹھ کر اطمینان سے اسلام کے خلاف جنگی منصوبہ بندی کرسکو۔ نیز اس طرف سے جو قاصد آیا کرے وہ اسی عمارت میں ٹھہر سکے۔ چناچہ انہوں نے ابو عامر کے ایما پر مسجد بنا لی اورحضور ﷺ سے اس میں نماز پڑھنے کی درخواست کی تاکہ آپ کی تشریف آوری سے ان کے نفاق پر پردہ پڑ سکے اس وقت آپ غزوہ تبوک کیلئے جا رہے تھے۔ اس لیے آپ نے واپسی پر ان کی مسجد میں نماز پڑھنے کا وعدہ فرمالیا۔ واپسی پر آپ کو وعدہ یاد آیا تو اللہ نے بذریعہ وحی آپ کو اصل حقیقت حال سے مطلع کر کے اس مسجد میں جانے سے روک دیا۔ (روح وغیرہ) ۔
Ayah 9:108

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

تو نہ کھڑا ہو اس میں کبھی104 البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد دھری گئی پرہیز گاری پر اول دن سے وہ لائق ہے کہ تو کھڑا ہو اس میں اس میں ایسے لوگ ہیں جو دوست رکھتے ہیں پاک رہنے کو اور اللہ دوست رکھتا ہے پاک رہنے والوں کو

104:“ لَاتَقُمْ فِیْهِ الخ ” یعنی یہ مسجد خانہ خدا نہیں اس میں آپ نماز نہ پڑھیں بلکہ اسے مسمار کرا دیں کیونکہ اس کی بنیاد خدا و رسول اور اسلام کی مخالفت پر رکھی گئی ہے۔ “ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ الخ ” بلکہ وہ مسجد جس کی بنیاد خوف خدا پر رکھی گئی وہ اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں نماز پڑھیں اس سے مسجد قبا مراد ہے۔
Ayah 9:109

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

بھلا جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی105 اللہ سے ڈرنے پر اور اس کی رضامندی پر وہ بہتر یا جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی کنارہ پر ایک کھائی کے جو گرنے کو ہے پھر اس کو لے کر ڈھے پڑا دوزخ کی آگ میں اور اللہ راہ نہیں دیتا ظالم لوگوں کو

105:“ اَفَمَنْ اَسَّسَ الخ ” اس میں مسجد قبا کے بانیوں کی تعریف اور ان کے لیے بشارت ہے اور مسجد ضرار کے بانیوں کی مذمت اور ان کے لیے تخویف ہے۔ “ فَانْھَارَ بِهٖ ” میں با تعدیہ کے لیے ہے۔ مسجد قبا والوں نے چونکہ اس کی بنیاد خوف خدا اور اللہ کی رضا جوئی پر رکھی تھی۔ اس لیے وہ ان کے لیے دخول جنت کا باعث بنی۔ اس کے برعکس مسجد ضرار والوں نے اس کی بنیاد جہنم کے کنارے پر یعنی کفر و نفاق اور شر و فساد پر رکھی اس لیے وہ ان کو جہنم میں لے گری۔ “ اي من اسس بنیانه علی الاسلام خیر ام من اسس بنیانه علی الشرک والنفاق ” (قرطبی ج 8 ص 285) ۔
Ayah 9:110

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

ہمیشہ رہے گا اس عمارت سے جو انہوں نے بنائی تھی106 شبہ ان کے دلوں میں مگر جب ٹکڑے ہوجائیں ان کے دل کے اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

106:“ لَا یَزَالُ بُنْیَانَھُمُ الخ ”۔ “ رَيْبَةً ” سے شک و نفاق مراد ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے (روح، قرطبی) مسج ضرار بنا کر منافقین بہت خوش ہوئے لیکن جبحضور ﷺ نے اسے گرادینے کا حکم صادر فرمایا تو اس سے ان کا کفر ونفاق اور زیادہ ہوگیا اس طرح مسجد ضرار دینی فائدے کا باعث ہونے کے بجائے ان کے دلوں میں زیادتی نفاق کا سبب بنی اور اب ان کے دلوں کو نفاق کی بیماری سے کبھی نجات نہیں مل سکے گی الا یہ کہ ان کے دلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے بےحس اور بےشعور کردیا جائے۔ “ لَا یَزَالُ ھدمه سبب شک و نفاق زائدا علی شکھم و نفاقھم لما غاظھم من ذلک و عظم علیھم ” (مدارک ج 2 ص 112) ۔
Ayahs 9:111–112

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

اللہ نے خرید لی107 مسلمانوں سے ان کی جان اور ان کا مال اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں پھر مارتے ہیں اور مرتے ہیں وعدہ ہوچکا اس کے ذمہ پر سچا تورات اور انجیل اور قرآن میں اور کون ہے قول کا پورا اللہ سے زیادہ سو خوشیاں کرو اس معاملہ پر جو تم نے کیا ہے اس سے اور یہی ہے بڑی کامیابی

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

وہ توبہ کرنے والے ہیں بندگی کرنے والے شکر کرنے والے بےتعلق رہنے والے رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے حکم کرنے والے نیک بات کا اور منع کرنے والے بری بات سے اور حفاظت کرنے والے ان حدود کے جو باندھی اللہ نے اور خوشخبری سنا دے ایمان والوں کو

107:“ اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي الخ ” یہاں سے لے کر “ وَ بَشِّرِ الْمُوْمِنیْنَ ” تک اللہ کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرنیوالوں، اللہ کے احکام و حدود کی پابندی کرنے والوں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بجا لانیوالوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔
Ayah 9:113

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

لائق نہیں نبی کو108 اور مسلمانوں کو کہ بخشش چاہیں مشرکوں کی اور اگرچہ وہ ہوں قرابت والے جب کہ کھل چکا ان پر کہ وہ ہیں دوزخ والے

108:“ مَاکَانَ لِلنَّبِیِّ الخ ” یعنی اگر پیغمبر خدا ﷺ اور مومنوں کے بعض رشتہ دار بھی بحالت شرک مرچکے ہوں یا زندہ ہوں لیکن ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہو تو ان کے لیے دعا و استغفار کرنا بھی ممنوع ہے اور مہر جباریت لگ جانے سے پہلے ان کے لیے ہدایت کی دعا کرنے کی اجازت ہے۔ مہر جباریت کا علم انبیاء (علیہم السلام) کو وحی کے ذریعہ ہوجاتا تھا لیکن انقطاعِ وحی کے بعد یہ حکم ہے کہ مشرک جب تک زندہ رہے اس لیے ہدایت کی دعا کرنا چاہئے۔ اور اگر بحالت شرک مرجائے تو اس کے لیے دعائے مغفرت جائز نہیں۔
Ayah 9:114

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

اور بخشش مانگنا109 ابراہیم کا اپنے باپ کے واسطے سو نہ تھا مگر وعدہ کے سبب کہ وعدہ کرچکا تھا اس سے پھر جب کھل گیا ابراہیم پر کہ وہ دشمن ہے اللہ کا تو اس سے بیزار ہوگیا بیشک ابراہیم بڑا نرم دل تھا تحمل کرنے والا

109:“ وَ مَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرَاھِیْمَ الخ ” یہ سوال مقدر کا جواب ہے جو ماقبل سے ناشی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب پیغمبر کے لیے اور مومنوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے حق میں استغفار کریں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر کیلئے کیوں استغفار کیا تھا جیسا کہ قرآن میں ہے “ وَ اغْفِرْ لِاَبِیْ اِنَّهٗ کَانَ مِنَ الضَّالِّیْنَ ” (شعراء رکوع 5) ۔ تو اس کا جواب فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا استغفار اس وعدے کی بنا پر تھا جو انہوں نے بوقت رخصت باپ سے کیا تھا۔ جیسا کہ سورة مریم رکوع 3 میں ہے “ قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْکَ سَاَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیْ اِنَّهٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا ” لیکن جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے اور اس کے دل پر مہر جباریت ثبت ہوچکی ہے اور اب وہ کبھی ایمان نہیں لائے گا تو اس کے لیے استغفار ترک کردیا اور اس سے براءت اور بیزاری کا اعلان فرمادیا۔ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبل العلم تھی جب ان کو اصل حقیقت معلوم ہوگئی تو پھر اس کے لیے دعا نہیں مانگی۔ یا مطلب یہ ہے کہ جب وہ زندہ تھا تو اس کی ہدایت کی دعا کرتے تھے اور جب وہ شرک پر مرگیا تو ان پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے اس لیے پھر اس کے لیے مغفرت کی دعا نہیں کی۔ “ اي مستمر علی عداوته تعالیٰ و عدم الایمان به وذلک بان اوحی الیه علیه السلام انه مصر علی الکفر و اخرج ابن جریر وابن المنذر و جماعة عن ابن عباس ؓ ان ذلک التبین کان بموته کافرا والیه ذھب قتادة قیل والا نسب بوصف العداوة ھو الاول ” (روح ج 11 ص 35) ۔
Ayahs 9:115–116

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

اور اللہ ایسا نہیں110 کہ گمراہ کرے کسی قوم کو جب کہ ان کو راہ پر لا چکا جب تک کھول نہ دے ان پر جس سے ان کو بچنا چاہیے بیشک اللہ ہر چیز سے واقف ہے

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین میں جلاتا ہے اور مارتا ہے اور تمہارا کوئی نہیں اللہ کے سوا حمایتی اور نہ مدگار

110:“ وَ مَاکَانَ اللّٰه الخ ” اللہ تعالیٰ منکرین کے دلوں پر صرف اسی صورت میں مہر جباریت لگاتا اور ان کو عذاب میں صرف اسی وقت مبتلا کرتا ہے جبکہ ہدایت کی راہ خوب واضح کردے اور نیکی اور بدی کو کھول کر بیان کردے۔ اور منکرین جان بوجھ کر محض ضد وعناد کی وجہ سے انکار کریں۔ “ و ما کان اللہ لیوقع الضلالة فی قلوبهم بعد الھدي حتی یکون منھم الامر الذي به یستحق العذاب ” (کبیر ج 4 ص 755) “ اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْکُ السَّمٰوٰت الخ ” زمین و آسمان کا مالک اور ان میں مختار و متصرف صرف اللہ ہی ہے اور کوئی نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی کسی کا ناصر اور یار و مددگار ہے۔
Ayah 9:117

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

اللہ مہربان ہوا111 نبی پر اور مہاجرین اور انصار پر جو ساتھ رہے نبی کے مشکل کی گھڑی میں بعد اس کے کہ قریب تھا112 کہ دل پھرجائیں بعضوں کے ان میں سے پھر مہربان ہوا ان پر بیشک وہ ان پر مہربان ہے رحم کرنے والا

111:“ لَقَدْ تَابَ اللّٰه الخ ” توبہ سے یہاں اللہ کی خصوصی مہربانی اور اس کی خاص عنایت و توفیق مراد ہے جس کی بدولت حضرت نبی اکرم ﷺ سفر جہاد کی صعوبتیں اور مشقتیں اٹھا کر کامل درجہ طاعت سے اکمل درجہ پر پہنچ گئے۔ “ وَ قَدْ یَکون (التوبة من اللہ علی عبده) رجوعاً من حالة طاعة الی اکمل منھا وھذه توبته فی ھذه الایة علی النبی صلی اللہ علیه وسلم لانه رجع به من حالة قبل تحصیل الغزوة و تحمل مشاقھا الی حالة بعد ذلک اکمل منھا الخ ” (بحر ج 5 ص 108) اور مہاجرین و انصار پر اللہ کی توبہ سے یہ مراد ہے کہ شدت گرما اور مشاق سفر کے پیش نظر بعض مسلمانوں کے دلوں میں غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے کا وسوسہ آنے کا اندیشہ تھا۔ لیکن اللہ نے دستگیری فرما کر ان کے دلوں کو سکون و اطمینان اور صبر و استقلال کی دولت سے مالا مال کردیا اور وہ خوشی خوشی جہاد میں شریک ہوئے۔ “ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ ” سے غزوہ تبوک مراد ہے۔ کیونکہ اس میں مسلمانوں کو شدت گرما، قلت زاد وراحلہ اور دیگر تکلیفوں کی وجہ سے مشقتوں اور صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا “ کانوا فی شدة من الظھر و فی شدة من الزاد و فی شدة من الماء و فی شدة زمان من حمارة القیظ و من الجدب والقحط و من ھنا قیل لتلک الغزوة غزوة العسرة و لجیشھا جیش العسرة ” (روح باختصار ج 11 ص 40) ۔ 112:“ کَادَ یَزِیْغُ الخ ” یعنی قریب تھا کہ ایک فریق کے دلوں میں وسوسہ پیدا ہوجاتا اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ وسوسہ پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ وسوسہ سے پہلے ہی اللہ نے دستگیری کی اور ان کو استقامت عطا فرما دی “ توبته علیھم ان تدارک قلوبهم حتی لم تزغ ” (قرطبی ج 8 ص 281) ۔
Ayahs 9:118–119

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 9:118 in the Quran reader

اور ان تین شخصوں پر113 جن کو پیچھے رکھا تھا5 یہاں تک کہ جب تنگ ہوگئی ان پر زمین باوجود کشادہ ہونے کے اور تنگ ہوگئیں ان پر ان کی جانیں اور سمجھ گئے کہ کہیں پناہ نہیں اللہ سے مگر اسی کی طرف پھر مہربان ہوا ان پر تاکہ وہ پھر آئیں بیشک اللہ ہی ہے مہربان رحم والا

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 9:119 in the Quran reader

اے ایمان والو ڈرتے رہو اللہ سے اور رہوساتھ سچوں کے

113:“ وَ عَلَی الثَّلٰثَةِ الخ ”، اس سے وہی تینوں صحابی مراد ہیں جن کا “ وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ الخ ” رکوع 13 میں پہلے ذکر ہوچکا ہے انہوں نے فوری طور پر معذرت نہیں کی تھی اس لیے قبول توبہ میں تاخیر ہوئی۔ تاخیر توبہ کی وجہ سے وہ اس قدر بےچین اور مضطرب رہے کہ زمین بایں وسعت و پہنائی ان پر تنگ ہوگئی لیکن ان کا ایمان تھا کہ اللہ کے سوا ان کا کوئی چارہ ساز اور پناہ دہندہ نہیں اس لیے اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔