Ayah 10:3752: یہ شکوے کے لیے تمہید ہے۔ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے کسی غیر کا افتراء نہیں۔ “ تَصْدِیْقَ الَّذِيْ بَیْنَ یَدَیْهِ ” یہ قرآن کے افتراء نہ ہونے کی پہلی وجہ ہے یعنی یہ قرآن تو کتب سابقہ کے مضامین کی تصڈیق کرتا ہے۔ “ وَ تَفْصِیْلَ الْکِتٰبِ ” یہ دوسری وجہ ہے۔ یہ قرآن شرائع اسلام اور فرائض و احکام کی تفصیل کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر فرمائے ہیں۔ “ تبیین ما کتب فرض من الاحکام والشرائع من قوله کتاب اللہ علیکم ” (مدارک ج 2 ص 125) ۔
Ayah 10:3853: یہ شکویٰ ہے مشرکین نے کہا تھا کہ یہ قرآن محمد خود بناتا اور خدا کے ذمہ لگا دیتا ہے۔ “ یَقُوْل ھؤلاء المشرکون افتري محمد ھذا القران واختلقہ من قبل نفسه ” (خازن ج 3 ص 190) ۔
54: یہ جواب شکویٰ ہے۔ اگر یہ قرآن محمد ﷺ کا کلام ہے تو تم بھی اہل لسان ہو اپنے سب ہم مسلک فصحاء و بلغا کو اکٹھا کرلو اور اپنے مزعومہ معبودوں سے بھی امداد حاصل کرلو اور قرآن جیسی فصیح وبلیغ صرف ایک ہی سورت بنا کرلے آؤ۔ اکثر مفسرین نے آیت کی تفسیر میں یہی تقریر کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تم ایسی فصاحت وبلاغت پر مشتمل کلام بنا کرلے آؤ۔ اکثر مفسرین نے آیت کی تفسیر میں یہی تقریر کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تم ایسی فصاحت و بلاغت پر مشتمل کلام بنا کرلے آؤ۔ اس طرح ایسا بلیغ کلام لانے سے ان کے عجز کا اظہار مقصود ہے لیکن اس پر شبہ ہوتا ہے کہ مقابلہ ہمیشہ فصحاء اور بلغاء سے نہیں ہوتا اس لیے مناسب یہ ہے کہ آیت کا مطلب یہ ہو کہ تم ایسی ایک سورت بنا کرلے آؤ جو قرآن کی طرح عقلی، نقلی اور وحی کے دلائل پر مشتمل ہو۔ اس لیے اعجاز قرآن کو صرف ایک پہلو میں منحصر نہ کرنا چاہئے بلکہ قرآن مجید ہر پہلو سے معجز ہے جیسا کہ علامہ تفتا زانی نے تلویح شرح توضیح میں مختلف اقوال نقل فرمائے ہیں “ اختلفوا فی جهة اعجاز القراٰن مع الاتفاق علی کو نه معجزا فقیل انه ببلاغته و قیل باخباره عن المغیبات و قیل باسلوبه وقیل بصرف اللہ تعالیٰ العقول عن المعارضة الخ ” (تلویح ص 18) ۔
Ayah 10:3955: انہوں نے قرآن کے مضامین میں غور و فکر نہیں کیا نہ ان کی تہ تک پہنچنے کی کوشش کی ہے اس لیے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ان کی تکذیب کسی معقول سبب پر مبنی ہو اور انہوں نے قرآنی مضامین میں کوئی شبہ پایا ہو بلکہ وہ محض ضد وعناد کی بنا پر تکذیب کر رہے ہیں۔ یعنی “ کلامھم و انکارھم للقراٰن لیس مبتنیا علی التحقیق والتفکر ” (مظہری ج 5 ص 28) ۔
56: یہ جملہ حالیہ ہے یعنی ابھی تک ان کو وعید کا مصداق (عذاب) نہیں آیا۔ حاصل یہ کہ قرآن کے مقابلہ میں سورت بنا کر لانا تو درکنار ان میں اتنا عقل و فہم کہاں وہ تو ایک ایسی بات کی تکذیب کر رہے ہیں جس کے بطلان کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ابھی ان کو اس تکذیب کی سزا نہیں ملی وہ پہلے لوگوں کا حال نہیں دیکھتے کہ تکذیب کی ان کو کیا سزا ملی۔ “ کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ الخ ” مشرکین امم سابقہ نے بھی یہی کیا تھا۔ فکر و تدبر کے بغیر ہی محض عنادًا پیغام خداوندی کی تکذیب کردی “ کذبوا رسلھم قبل النظر فی معجزاتھم و قبل تدبرھا عنادًا و تقلیدًا للاٰباء ” (مارک ج 2 ص 126) ۔ پھر ان کا جو انجام ہوا وہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے۔
Ayah 10:4057: ان میں کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو دل سے قرآن یا پیغمبر خدا ﷺ کو مانتے ہیں مگر ازراہ عناد اس کا اقرار و اظہار نہیں کرتے اور کچھ ایسے ہیں جو دل سے بھی نہیں مانتے۔ “ اي یصدق به فی نفسه و یعلم انه حق و لکن یعاند بالتکذیب (وَمِنْھُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ ) لا یصدق به ویشک فیه ” (مدارک ) ۔
Ayah 10:4158: یہ زجر ہے۔ یعنی اگر حجت قائم کردینے کے باوجود مشرکین آپ کی تکذیب پر اصرار کریں اور نہ ماننے پر اڑ جائیں یہاں تک کہ آپ ان کے ایمان سے مایوس ہوجائیں تو آپ ان سے صاف فرما دیں میں تمہیں ماننے پر مجبور نہیں کرتا تم اپنی راہ پہ چلو، میں اپنی راہ پر گامزن ہوں، تم اپنے عمل تکذیب و اشراک کی سزا پاؤ گے، میں اپنے عمل تبلیغ وانذار اور طاعت و عبادت کی جزا پاؤں گا۔ ہر ایک کے ساتھ اس کے اعمال کے مطابق برتاؤ کیا جائے گا۔ “ لی ثواب عملی فی التبلیغ والانذار والطاعة لِله تعالیٰ (وَ لَکُمْ عَمَلُکُمْ ) اي جزاءہ من الشرک ” (قرطبی ج 8 ص 346) ۔
Ayah 10:4259: یہ بھی زجر ہے۔ منکرین میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو ظاہری کانوں سے تو آپ کی باتیں اور آپ کی تلاوت سنتے ہیں۔ مگر ان کے دلوں میں انابت نہیں اور یہ باتیں ان کے دلوں میں نہیں اترتیں۔ “ اَ فَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الخ ” یہ استفہام انکاری ہے اور “ الصُّمَّ ” (بہروں) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دلوں مہر جباریت کی بنا پر ماننے کی استعداد سلب کرلی گئی ہو اور اس کے ساتھ وہ عقل و فکر سے بھی محروم ہوں یعنی جن لوگوں کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے ان کو راہ راست پر لانا آپ کے اختیار میں نہیں۔ “ و جعلھم کالصم للختم علی قلوبھم والطبع علیھا اي لا تقدر علی ھدایة من اصمه اللہ عن سماع الھدي ” قرطبی)
Ayah 10:4360: اور کچھ ان میں سے ایسے ہیں جو ظاہری آنکھوں سے آپ کی طرف دیکھتے اور آپ کی صداقت اور نبوت کے دلائل کا واضحہ کا مشاہدہ کرتے ہیں مگر دل سے آپ کی تصدیق نہیں کرتے کیونکہ مہر جباریت کی وجہ سے ان کی بصیرت معطل ہوچکی ہے اور ان کی مثال ان اندھوں کی سی ہے جو ظاہری آنکھوں کے ساتھ ساتھ اندرونی بصیرت یعنی عقل و فراست بھی محروم ہوں اس لیے ان کے راہ راستہ پر آنے کی اب کوئی امید نہیں یعنی “ انھم فی الیاس من ان یقبلوا و یصدقوا کالصم والعمی الذین لا عقول لھم ولا بصائر ” (مدارک ج 2 ص 126) ۔
Ayah 10:4461: جملہ ماقبل کی علت ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل و بصیرت اور ہدایت سے محروم کر کے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے کیونکہ جب دلائل وبراہین سے حق ان پر واضح ہوگیا تو انہوں نے اسے تسلیم نہ کیا، اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی عقل وخرد سے کام نہ لیا اور جان بوجھ کر، عمداً قصداً ، محض ضد وعناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا اس لیے یہ ان کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے کہ انہیں قبول ہدایت کی توفیق سے محروم کردیا گیا۔ “ اي لعدم استعمال مشاعرھم فیما خلقت له واعراضھم عن قبول الحق و تکذیبھم للرسل و ترک النظر فی الادلة ” (روح ج 11 ص 126) ۔
Ayah 10:4562: یہ تخویف اخروی ہے جو لوگ حق بات کو سننے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے انہیں آخرت کے عذاب سے خبر دار رہنا چاہئے۔ “ یَوْمٍ ” کا عامل “ یَتَعَارَفُوْنَ ” ہے۔ “ وَ قوله (یَتَعَارَفُوْنَ ) یجواز ان یکون متعلقا بیوم نحشرھم ” (کبیر ج 17 ص 103 طبع جدید) ۔ “ کَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْا ” سے پہلے “ يَقُوْلُوْنَ ” محذوف ہے یعنی جب ہم ان کو قبروں سے اٹھائیں گے تو وہ کہیں گے گویا کہ عالم برزخ میں ہم صرف ایک گھڑی ٹھہرے ہیں اور میدان حشر میں وہ ان لوگوں کو پہچانیں گے جنہیں دیا میں پہچانتے تھے۔ کفار و مشرکین جب آخرت کے شدید ترین اور دردناک عذاب کا مشاہدہ کریں گے تو عالم برزخ کا عذاب اس کے مقابلے میں انہیں آرام و راحت معلوم ہوگا اور وہ برزخی قیام کے زمانے کو ساعات راحت کی طرح بہت قلیل سمجھیں گے۔ بعض مفسرین نے دنیا میں قیام کی قلت مراد لی ہے۔ “ قال ابن عباس فی قبورھم وقال الضحاک فی الدنیا یستقصرون مدة لبثھم فی الدنیا والقبور لھول ما یرون الخ ” (مظہری ج 5 ص 31) ۔
Ayah 10:4663: تخویف دنیوی ہے۔ منکرین اور معاندین کو ذلیل ورسوا کرنے کا ہم نے آپ سے جو وعدہ کر رکھا ہے اس کی بعض صورتیں اگر ہم دنیا ہی میں ظاہر کردیں اور آپ کو دکھا دیں تو ہم اس پر بھی قادر ہیں اور اگر دنیا میں ان کی سزا اور رسوائی کی تمام صورتوں کے ظہور سے قبل ہی ہم آپ کو وفات دیدیں تو ان کی مزید ذلت ورسوائی آپ میدان حشر میں مشاہدہ فرمالیں گے۔ “ اي واما نرینک بعض الذي نعدھم فی الدنیا فذلک او نتوفینک قبل ان نریکه فنحن نریکه فی الاخرة ” (مدارک ج 2 ص 127) ۔ “ ثُمَّ اللّٰه الخ ” میں ثُمَّ تراخی کیلئے نہیں بلکہ محض تعقیب ذکری کیلئے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر زمانہ میں حاضر و ناظر ہے قیامت کی کیا خصوصیت ہے یا “ ثُمَّ ” بمعنی واؤ ہے یا شہادت سے مراد اس کا لازم ہے یعنی جزاء و سزا دینا اس صورت میں “ ثم ” تعقیب زمانی کیلئے ہوگا “ ھی علی الاول للتراخی الرتبی و علی الثانی علی الظاھر ” (روح ج 11 ص 129) ۔
Ayah 10:4764: تخویف دنیوی ہے۔ تمام امم سابقہ کا بالاجمال ذکر کردیا ہے کہ ہم نے ہر قوم میں اپنا رسول بھیجا جس نے ان کو پیغام حق سنایا اور دعوت توحید دی لیکن جب انہوں نے انکار کیا تو عین عدل و انصاف کے مطابق ان کو تہس نہس کردیا گیا ہے۔ اے مشرکین مکہ ! تم بھی سن لو نہ مانو گے تو اقوام سابقہ کا سا حشر ہوگا۔
Ayah 10:4865: یہ شکویٰ ہے۔ مشرکین مکہ فرط انکار اور ضد وعناد کی وجہ سے آنحضرت ﷺ سے مطالبہ کرتے کہ جس عذاب یا قیامت سے تو ہمیں ڈراتا ہے وہ کہاں ہے اور کب آئے گا اسے جلدی لاؤ۔ “ یرید کفار مکة لفرط انکارھم واستعجالھم العذاب اي متی العقاب او متی الساعة التی یعدنا محمد ” (قرطبی ج 8 ص 349) ۔
Ayah 10:4966: یہ جواب شکویٰ برسبیل ترقی ہے یعنی تم مجھ سے عذاب یا قیامت لانے کا مطالبہ کرتے ہو تو یہ بہت بڑی بات ہے میں تو اپنے نفع اور نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتا۔ ہر چیز کا مالک و مختار صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اس لیے عذاب لانا میرے بس کی بات نہیں “ لما استعجلوا النبی صلی اللہ علیه وسلم بالعذاب قال اللہ له قل لھم یا محمد لا املک لنفسي ضرًا و لا نفعًا اي لیس ذٰلک لی ولا لغیري ” (قرطبی) “ اي لا اقدر علی شیئ منهما بوجه من الوجوه ” (روح ج 11 ص 130) اور “ اِلَّا مَا شَاءَ ” استثناء منقطع ہے یعنی میں تو اپنے نفع اور نقصان کا بھی مختار نہیں البتہ جو اللہ چاہے وہی ہوتا ہے۔ “ اي ولکن ما شاء اللہ من ذلک کائن فکیف املک لکم اضر و جلب العذاب ” (مدارک ج 2 ص 127) ۔
67: البتہ یہ ضرور کہوں گا کہ جس عذاب اور قیامت کا تم سے وعدہ کیا جا چکا ہے اس کا ایک وقت مقرر ہے اور وہ مقررہ وقت پر لا محالہ آکر رہے گا اس میں تخلف محال ہے اور نہ اس میں تقدم و تاخر ممکن ہے جب عذاب اپنے وقت سے نہ پہلے آسکتا ہے نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے تو پھر تمہارے مطالبے پر وقت سے پہلے میں کیسے لاسکتا ہوں ؟ “ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ ” جملہ استنفافیہ ہے یا “ اِذَا جَاءَ ” پر معطوف ہے لیکن “ لَا یَسْتَاخِرُوْنَ ” پر معطوف نہیں کیونکہ جب معین وقت آجائے تو پھر اس پر تقدم ممکن نہیں اس لیے نفی تقدم کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا (روح) حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ “ اِذَا ” کی جزاء محذوف ہے “ فَاِذَ ا جَاءَ اَجَلُھُمْ یعذبون ” جب ان کے عذاب کی اجل آپہنچے گی اس وقت وہ مبتلائے عذاب ہوجائیں گے اور اس میں تقدم وتاخر نہیں ہوگا یعنی عذاب اپنے وقت معین سے نہ پہلے آئے گا نہ اس سے پیچھے۔
Ayah 10:5068: زجر مع تخویف دنیوی “ بَیَاتًا اَوْ نَھَارًا ” منصوب علی الظرفیة ہیں “ مَا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ ”“ مَا ذَا ” بمعنی “ اَيُّ شَیءٍ ” ہے مشرکین بہت عجلت کرتے اور عذاب کے جلدی آنے کا مطالبہ کرتے ہیں اگر راتوں رات یا دن میں جبکہ وہ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں اچانک ہی اللہ کا عذاب آجائے تو یہ مجرم اور بدکردار لوگ جلدی کر کے اس سے بچاؤ کے لیے کیا حیلہ یا تدبیر عمل میں لائیں گے ؟ استفہام انکاری ہے یعنی اس سے بچنے کا کوئی حیلہ نہیں کرسکیں گے تو پھر اس کا وقت پوچھنے سے کیا فائدہ یا مطلب یہ ہے کہ عذاب کونسی خوشی کی چیز ہے جس کے جلدی آنے کا مجرمین مطالبہ کرتے ہیں اس صورت میں استفہام تعجب کے لیے ہوگا کہ ان مجرمین پر تعجب ہے کہ وہ کیسی خوفناک اور ہلاکت خیز چیز کو جلدی طلب کر رہے ہیں (روح و موضح قرآن) ۔
Ayahs 10:51–5269: یہاں تقدیم وتاخیر ہے اصل میں یوں تھا۔ “ ءَ اِذَا مَا وَقَعَ ثُمَّ اٰمَنْتُمْ بِهٖ ” اور “ ثُمَّ ” استبعاد کے لیے ہے یعنی تم عذاب کو اس طرح جلدی مانگتے ہو گویا کہ جب عذاب آجائے گا تو پھر تم ایمان لے آؤ گے یہ بات تو پہلے سے بھی زیادہ تعجب انگیز اور بعید از عقل ہے۔ “ ءَاِذَا مَا وَقَعَ العذاب و حل بکم حقیقة اٰمنتم به وجیء بثم دلالة علی زیادة الاستبعاد ” (روح ج 11 ص 124) ۔
70: اس سے پہلے “ یقال ” مقدر ہے اور اس کے بعد “ اٰمنتم ” یعنی جب عذاب آگیا اور منکرین عذاب دیکھ کر ایمان لے آئے تو ان سے کہا جائے گا کہ اب عذاب دیکھ کر ایمان لاتے ہو اور ایسے ایمان سے نفع کی امید رکھتے ہو حالانکہ تم اس عذاب کو بطور استہزاء و تمسخر جلدی مانگتے تھے یہ توبیخ و تہدید کے طور پر کہا جائے گا۔ “ اٰلْئٰنَ تؤمنون ترجون الانتفاع بالایمان مع انکم کنتم قبل ذلک به تستعجلون علی سبیل السخریة والاستھزاء ” (کبیر ج 17 ص 109) ۔
Ayah 10:5371: یہ شکویٰ ہے۔ منکرین آپ سے پوچھتے ہیں کہ واقعی عذاب یا قیامت کا آنا حق ہے۔ “ قُلْ اِيْ وَ رَبِّيْ الخ ” یہ جواب شکویٰ ہے میرے پیغمبر آپ ان کے جواب میں فرم ادیں کیوں نہیں مجھے اپنے رب کی قسم وہ حق ہے اور اس کا وقوع ناگزیر ہے اور تم اس کے لانے والے کو عاجز نہیں پاؤ گے اور نہ خود کو اس سے بچا سکو گے۔
Ayah 10:5472: تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن مشرکین عذاب الٰہی سے بچنے کی آرزو کریں گے یہاں تک کہ اس دن اگر دنیا کی ساری دولت اور زر و جواہر کے خزانے ان کے قبضہ میں ہوں تو عذاب سے بچنے کیلئے وہ سب کچھ فدیہ میں دینے کو تیار ہوں گے۔ “ وَ اَسَرُّوْا ” اور قیامت کے دن وہ عذاب کو دیکھ کر دنیا کی بد اعمالیوں پر پچھتائیں گے اور سخت پشیمان اور آزردہ ہوں گے اور اپنی پشیمانی کو چھپانے کی کوشش کریں گے مگر وہ چھپی نہ رہے گی۔ یا “ اَسَرُّوْا ” بمعنی “ اَظْھَرُوْا ” ہے کیونکہ یہ لفظ اضداد میں سے ہے “ وفی القاموس ایضًا اسرہ کتمه واظھره ” (روح ج 11 ص 137) ۔ یعنی قیامت کے دن عذاب کو دیکھ کر وہ سخت پچھتائیں گے اور اپنی بد اعمالیوں پر ندامت اور پشیمانی کا اظہار کریں گے۔
Ayahs 10:55–5673: یہ توحید پر چھٹی عقلی دلیل ہے اور یہ نفی شرک فعلی کے لیے تمہید ہے جو اگلی دلیل میں مذکور ہے زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی ہے، ہر چیز اس کے تصرف و ملک اور اس کی قدرت کے تحت ہے۔ “ ھُوَ یُحْیی وَ یُمِیْتُ الخ ” وہ ایسا قادر و متصرف ہے کہ موت وحیات بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ جب وہی مالک و مختار اور متصرف ہے تو پھر اس کی پیدا کی ہوئی اور اس کی مملوکہ اشیاء میں سے غیروں کے حصے کیوں مقرر کرتے ہو ؟ اور غیروں کے لیے تحریمات کیوں کرتے ہو ؟ لہذا تمہاری خود ساختہ تحلیل و تحریم بےجا ہے۔ “ اَلَا اِنَّ وَعْدَ اللّٰه حَقٌّ الخ ” جب وہی مالک و مختار ہے تو وہ اپنا وعدہ پورا کرنے پر بھی قادر ہے اس لیے جو وعدہ بھی اس نے کیا ہے خواہ منکرین کے لیے عذاب کا یا مؤمنین کیلئے ثواب کا وہ لا محالہ پورا ہو کر رہے گا۔
Ayah 10:5774: یہ ترغیب الی القرآن ہے۔ اللہ کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسی کتاب آچکی ہے جو سراپا ہدایت و رحمت ہے، نصیحت و حکمت سے لبریز اور تمام روحانی بیماریوں کے لیے پیغام شفا ہے وہ توحید، دیگر عقائد حقہ اور احکام شرعیہ بیان کرتی اور شرک و بدعت اور اعمال جاہلیہ سے روکتی ہے، اس لیے اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اس کی ہدایات پر عمل کرو۔ تاکہ شرک و بدعت اور اخلاق رذیلہ سے پاک ہوجاؤ۔
Ayah 10:5875:“ فضل ” سے مراد قرآن اور رحمت سے توفیق ایمان واسلام مراد ہے یا دونوں سے مراد قرآن ہی ہے اس آیت میں نہایت تاکید اور اہتمام سے قرآن کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت ہے خوش ہونے کا حکم دیا گیا ہے اس آیت کی فصاحت و بلاغت کا کمال یہ ہے کہ لفظی تکرار کے بغیر اس میں معنوی تکرار اور تاکید موجود ہے۔ چناچہ یہاں تین بار اس کی تاکید ہے۔ (1) “ بِفَضْلِ اللّٰه ” کا متعلق محذوف ہے اصل میں تھا “ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِه فَلْیَفْرَحُوْا ”۔ (2) “ فَبِذٰلِکَ ” فاء اس پر دلالت کر رہی ہے کہ بِذٰلکَ کا متعلق محذوف ہے جو بقرینہ ما بعد “ لِیَفْرَحُوْا ” ہے۔ (3) “ فَلْیَفْرَحُوْا ” جملہ ہے جس کا متعلق بِذٰلِکَ مقدر ہے اس طرح “ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ” دو مستقل جملے ہوں گے اور اصل کلام یوں ہوگا “ فَبِذٰلِکَ لِیَفْرَحُوْا ”۔ “ فَبِذٰلِکَ لِیَفْرَحُوْا ” پہلے جملہ سے “ فَلْیَفْرَحُوْا ” اور دوسرے جملہ سے “ بِذٰلِکَ ” محذوف ہوگا۔ “ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ” میں ظرف کی فعل پر تقدیم مفید حصر ہے اسی ہی کے ساتھ انہیں خوش ہونا چاہئے نہ کسی دوسری کتاب یا دنیوی مال و منال سے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ دیگر مفسرین نے صرف دو جملے بنائے ہیں۔ ایک “ بِفَضلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِه فَلْیَفْرَحُوْا ” دوم “ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ”۔ امام رازی فرماتے ہیں “ و تقدیرہ بفضل اللہ و برحمته فلیفرحوا ثم یقول مرة اخري (فبذلک فلیفرحوا) والتکرار للتاکید ” (کبیر ج 17 ص 117، کذا فی الروح والمدارک) ۔
Ayah 10:5976: یہ توحید پر ساتویں عقلی دلیل ہے اور اسے بھی شرک فعلی ہی کی نفی مقصود ہے اور یہ چھٹی دلیل سے متعلق ہے جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ زمین و آسمان کی ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور ان میں وہی متصرف و مختار ہے تو اب تم بتاؤ اللہ نے رزق کی جو انواع و اقسام تم کو عطا فرمائی ہیں ان میں تم نے اپنی مرضی سے تحلیل وتحریم کیوں کی ہے ؟ کیا اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی ہے یا تم اپنے فعل کو اللہ کی طرف منسوب کر کے اس پر بہتان تراشی کرتے ہو۔ مشرکین بعض اوقات اپنے مشرکانہ افعال کو اللہ کی طرف منسوب کر کے کہہ دیتے تھے کہ اللہ نے ہمیں ان کا حکم دیا ہے “ ان اللہ امرنا بھا ” حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ پر سراسر افتراء ہے۔ مشرکین اپنے معبودوں کی خوشنودی کے لیے کئی قسم کے چوپائے نامزد کر کے چھوڑ دیتے اور کھیتوں اور غلوں سے بھی اپنے معبودوں کا حصہ مقرر کردیتے ان چوپایوں (سائبہ بحریوہ وغیرہ) اور غلہ کے حصوں کا استعمال حرام قرار دیدیتے بعض مادہ جانوروں کے بارے میں وہ اعلان کردیتے کہ ان سے زندہ بچہ پیدا ہو تو وہ مردوں کے لیے حلالا اور عورتوں کے لیے حرام ہے اور اگر مردہ پیدا ہو تو سب کے لیے حلال جیسا کہ اس کی تفصیل سورة مائدہ رکوع 14 تا 16 میں گذر چکی ہے۔ یہاں مشرکین کو اسی خود ساختہ تحلیل و تحریم پر سرزنش فرمائی۔ “ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَلَالًا وَّ حَرَامًا وقال مجاھد ھو ما حکموا به من تحریم البحیرة والسائبة والوصیلة والحام وقال الضحاک ھو قول اللہ تعالیٰ وَ جَعَلُوْا لِلّٰه مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا ” (قرطبی ج 8 ص 355، معالم ج 3 ص 195) “ اي فبغضتموہ و قسمتموہ الی حرام و حلال و قلتم (ھٰذہٖ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ) و (مَا فِیْ بُطُوْنِ ھٰذِه الْاَنْعَامِ خَا لِصَةً لِّذُکُوْرِنَا وَ مُحَرَّمًا عَلیٰ اَزَوَاجِنَا) الی غیر ذلک ” روح ج 11 ص 142 ۔
Ayah 10:6077: یہ تخویف و تہدید ہے “ یَوْمَ الْقِیٰمَة، ” مفعول فیہ ہے۔ “ ظَنٌّ ” کا یعنی یوم قیامت کے بارے میں ان افتراء کرنے والے مشرکین کا کیا گمان ہے کہ میں ان کے ساتھ کیا کرنے والا ہوں۔ کیا میں ان کو چھوڑ دوں گا اور ان سے مؤاخذہ نہیں کروں گا ؟ “ اَیَحْسَبُوْنَ انه لا یؤاخذھم ولا یجازیھم علی اعمالھم فھو استفھام بمعنی التوبیخ والتقریع والوعیذ العظیم لمن یفتري علی اللہ الکذب ” (خازن ج 3 ص 195) استفہام برائے توبیخ و تہدید ہے۔
Ayah 10:6178: یہ توحید پر آٹھویں عقلی دلیل ہے اور اس سے شرک فی العلم کی نفی مقصود ہے “ مِنْ قُرْاٰنٍ ” میں “ مِنْ ” بیانیہ ہے۔ “ قُرْاٰن ”، “ مِنْهُ ” کی ضمیر مجرور کا بیان ہے۔ “ وَ لَا تَعْلَمُوْنَ الخ ” یہ خاص سے عام کی طرف ترقی ہے۔ “ اعلم انه تعالیٰ خصص الرسول فی اول ھذه الایة بالخطاب فی امرین ثم اتبع ذلک بتعمیم الخطاب مع کل المکلفین الخ ” (کبیر ج 17 ص 121) ۔ “ اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ ” یعنی جب تم اپنے کاموں میں منہمک ہوتے ہو۔ حاصل یہ کہ اے پیغمبر ﷺ آپ کوئی بھی کام کریں مثلاً قوم کو اللہ کا قرآن پڑھ کر سنا رہے ہوں، آپ کی اور آپ کی تلاوت کی کیا خصوصیت ہے تم سب لوگ جو کام بھی کرتے ہو جب تم اس میں ہمہ تن مصروف ہوتے ہو ہم تمہارے ہر فعل سے ہر ووقت اور ہر جگہ باخبر رہتے اور علم وقدرت کے اعتبار سے ہر جگہ حاضر و ناظر رہتے ہیں۔ “ وَ مَا یَعْزُبُ ” یہ تخصیص کے بعد اور تعمیم ہے یعنی صرف بندوں کے اعمال و افعال پر ہی منحصر نہیں بلکہ زمین و آسمان کا ایک ذرہ بلکہ اس سے بھی اگر کوئی قلیل اور حقیر مقدار ہو تو وہ بھی اللہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں ساری کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے علم محیط میں موجود ہے۔ “ کِتَابٍ مُّبِیْن ” سے لوح محفوط یعنی علم الٰہی مراد ہے یعنی “ اللوح المحفوظ مع علم اللہ تعالیٰ به ” (قرطبی ج 8 ص 257) ۔ جب علم محیط اور کل اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہوگیا تو آنحضرت ﷺ اور دیگر تمام غیر اللہ سے علم غیب کی نفی متحقق ہوگئی لہذا اللہ تعالیٰ کے سوا کارساز اور متصرف بھی کوئی نہیں۔ کیونکہ کارساز اور متصرف وہی ہوسکتا ہے جو عالم الغیب ہو۔
Ayah 10:6279: یہ بشارت اخروی ہے۔ “ اَوْلِیَاءَ اللّٰه ” یعنی اللہ کے دوستوں کی آخرت میں یہ شان ہوگی کہ میدان حشر میں اہوال قیامت سے جب اور لوگ گھبرا جائیں گے خوف وہراس سے محفوظ رہیں گے اور جب اور لوگ دنیا میں عملی کوتاہی پر حسرت و افسوس کریں گے اس وقت کوئی غم اور افسوس ان کے دامنگیر نہیں ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی کو عبث اور لا یعنی امور میں صرف نہیں کیا بلکہ ایام زندگی کو اللہ تعالیٰ کی عبادت وطاعت اور اس کی رضا جوئی میں صرف کیا۔ “ لاخوف علیھم فی الاخرة من عقاب اللہ لان اللہ تعالیٰ رضی عنھم فامنھم من عقابه ولا ھم یحزنون علی ما فاتھم من الدنیا ” (ابن جریر ج 11 ص 131) ۔
Ayah 10:6380: یہ اولیاء اللہ کی نشانیاں ہیں جن سے انہیں بآسانی پہچانا جاسکتا ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے اولیاء اللہ کی دو صفتیں بیان فرمائی ہیں جو تمام صفات ولایت کی جامع ہیں۔ (1) “ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ” اس سے اعتقاد صحیح کی طرف اشارہ ہے یعنی ان کے تمام عقائد کتاب و سنت کے مطابق ہوں اور ان میں شریعت سے سرِ مو انحرف نہ ہو۔ (2) ۔ “ وَ کَانُوْا یَّتَّقُوْنَ ” اور وہ متقی ہوں یعنی ان کے تمام اعمال و اخلاق شریعت اسلامیہ کے عین مطابق ہوں۔ کتب عقائد میں اس کی تفصیل موجود ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ “ ولی اللہ من یکون اٰتیا بالاعتقاد الصحیح المبنی علی الدلیل ویکون اتیا بالاعمال الصالحة علی وفق ما وردت به الشریعة ” (کبیر ج 17 ص 126) ۔
Ayah 10:6481: اولیاء اللہ کے لیے دنیا اور آخرت میں جنت کی خوشخبری ہے اور اللہ کی طرف سے پختہ وعدہ ہے دنیا میں خوشخبری سے مراد وہ بشارتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نازل فرمائی ہیں۔ مثلاً “ یُبَشَّرُھُمْ رَبُّھُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ ” (توبہ رکوع 3) اور “ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ الخ ” (بقرة رکوع 3) ۔ “ قال الحسنھی ما یبشرھم اللہ تعالیٰ فی کتابه من جنته و کریم ثوابه بقوله یُبَشِّرُھُمْ رَبُّھُمْ الخ ” (قرطبی ج 8 ص 258) ۔ یا دنیا میں خوشخبری سے مراد رؤیائے صالحہ جیسا کہ حدیث مرفوع میں واقع ہے۔ “ ھی الرؤیا الصالحة یراھا المسلم او یري له ” (مدارک ج 2 ص 129) اور آخرت میں خوشخبری سے مراد یہ ہے کہ موت کے بعد یا قبروں سے نکلنے کے بعد فرشتے ان کو جنت کی بشارت دیں گے۔
82: اللہ تعالیٰ کے ارشادات میں رد و بدل نہیں ہوسکتا۔ “ کَلِمَاتٍ ” سے اقوال مراد ہیں خواہ احکام واخبار ہوں یا مواعید یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام اٹل ہیں ان میں ترمیم وتبدیل نہیں ہوسکتی مثلاً توحید ہے جو ناقابل تبدیل ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے وعدوں میں تخلف ناممکن ہے۔ “ اي لا تغییر لاقواله التی من جمل تھا مواعیده الخ ” (روح ج 11 ص 152) ۔
Ayah 10:6583: یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے، “ اِنَّ الْعِزَّةَ الخ ” یہ ماقبل کے لیے علت ہے یعنی اے میرے پیغمبر آپ مشرکین کی ایذا رسانی اور ان کے توہین آمیز سلوک سے دل برداشتہ اور غمگین نہ ہوں اس سے وہ آپ کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے کیونکہ عزت و ذلت تو اللہ کے اختیار میں اور اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا وآخرت میں عزت و آبرو دینے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ “ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ” وہی ہر بات کو سننے اور جاننے والا ہے اور کوئی نہیں۔ اس سے مقصود شرک فی العلم کی نفی ہے گویا یہ دلیل نہم کا مقدمہ ہے جس سے نفی شرک فی التصرف مقصود ہے۔
Ayah 10:6684: یہ توحید پر نویں عقلی دلیل ہے جس سے شرک فی التصرف کی نفی مقصود ہے دلیل ششم میں فرمایا تھا ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے لہذا تم اپنی طرف سے تحریم و تحلیل نہ کرو یہاں فرمایا زمین و آسمان کی تمام ذوی العقول مخلوق جن و بشر اور فرشتے سب اللہ تعالیٰ کے مملوک و محکوم اور اس کے عاجز بندے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی ہر بات کو سننے اور جاننے والا نہیں اس لیے ان میں سے کوئی بھی دعاء اور پکار کے لائق نہیں۔ جو لوگ اللہ کے نیک بندوں کو حاجات و مشکلات میں پکارتے ہیں ان کے بارے میں ان کا اعتقاد یہ ہوتا ہے کہ وہ عالم الغیب ہیں اور ان کی تمام باتوں کو سنتے اور جانتے ہیں اس لیے پہلے اعلان کردیا گیا کہ ہر بات کو سننے والا اور ہر چیز کو جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔
85: یہ زجر ہے “ اَلَّذِیْنَ ” مع صلہ “ یَتَّبِعُ ” کا فاعل ہے اور “ یَدْعُوْنَ ” کا مفعول محذوف ہے “ اي شرکاء ” اور شرکاء جو مذکور ہے وہ “ یَتَّبِعُ ” کا مفعول ہے یعنی جو لوگ اللہ سے ورے اور شرکاء کو پکارتے ہیں حقیقت میں وہ اللہ کے شرکاء کو نہیں پکارتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے شریک فی الربوبیت کا تو وجود ہی محال ہے۔ “ وَ مَا یَتَّبِعُوْنَ حقیقة الشرکاء وان کانوا یسمونھا شرکاء لان شکرة اللہ فی الربوبیة محال ” (مدارک ج 2 ص 130) ۔
86: اصل بات یہ ہے کہ مشرکین اپنے ظن وتخمین سے بندگان خدا کو خدا کے شریک سمجھتے ہیں اور پھر اپنے ظن فاسد اور خیال باطل کی پیروی کرتے ہوئے حاجات میں ان کو پکارتے ہیں حالانکہ فی الواقع اللہ تعالیٰ کا شریک نہ موجود ہے نہ اس کا وجود ممکن ہے۔
Ayah 10:6787: توحید پر دسویں عقلی دلیل۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہی کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے کہ اس نے رات کو تمہارے آرام کے لیے اور دن کو تمہارے کاروبار کے لیے بنایا تو کیا پھر اس کے سوا کوئی اور کارساز یا متصرف ومختار ہوسکتا ہے ؟ معطوف علیہ میں “ جَعَلَ ” کا مفعول ثانی محذوف ہے اصل میں تھا “ جَعَلَ لَکُمُ اللَّیْلَ مظلماً لِّتَسْکُنُوْا فِیْهِ ” یعنی اس نے رات کو تاریک بنایا تاکہ تم اس میں آرام و سکون حاصل کرو۔ اور معطوف میں مفعول ثانی کا متعلق محذوف ہے۔ “ اي والنھار مبصرا لتبصروا فیه ” اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم دیکھ سکو اور معاش وغیرہ کا انتظام کرسکو۔ (مدارک و روح) معطوف علیہ میں متعلق کا ذکر معطوف میں اس کے حذف کا قرینہ ہے علی ہذا معطوف میں مفعول ثانی کا ذکر معطوف علیہ میں اس کے مقدر ہونے پر قرینہ ہے یہ ایجاز اور بلاغت بھی قرآن کا اعجاز ہے۔
Ayah 10:6888: یہ شکویٰ ہے۔ “ وَلَدٌ ” سے مراد حقیق بیٹا نہیں بلکہ اس سے مراد نائب و متصرف ہے جیسا کہ “ اِتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا ” کی تعبیر سے ظاہر ہے یعنی اللہ نے بیٹا بنا لیا “ والاتخاذ صریح فی التبنی ” (روح ج 11 ص 155) ۔ یہود و نصاری حضرت مسیح و عزیر (علیہما السلام) کو خدا کے بیٹے اور مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بایں معنی نہیں کہتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صلبی اولاد ہیں بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کو اس طرح محبوب ہیں جس طرح بیٹے باپ کو محبوب ہوتے ہیں، جس طرح باپ اپنے پیارے بیٹوں اور اپنی چہیتی بیٹیوں کی ہر بات مانتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنے محبوب اور برگزیدہ بندوں کی کوئی بات رد نہیں فرماتا نیز اللہ کے نیک بندے اللہ تعالیٰ کے نائب ہیں اللہ تعالیٰ نے بعض مافوق الاسباب امور میں ان کو اختیارات عطا فرما دئیے ہیں۔
89: جواب شکویٰ ہے مشرکین کے مذکورہ بالا قول باطل کو پانچ عنوانوں سے رد کیا گیا ہے (1) “ سُبْحٰنَهٗ ” یعنی اللہ تعالیٰ پاک ہے اور اس عیب سے مبرا ہے کہ اسے بیٹے کی ضرورت ہو۔ (2) “ ھُوَ الْغَنِیُّ ” وہ بےنیاز ہے اور بیٹے کی ضرورت احتیاج کی دلیل ہے۔ (3) “ لَهٗ مَا فِیْ السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِیْ الْاَرْضِ ” وہ ساری کائنات کا مالک و مختار ہے اس لیے اسے بیٹے اور نائب کی حاجت نہیں۔ (4) اس قول باطل پر تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں اس لیے یہ دعوی بلا دلیل باطل اور ناقابل تسلیم ہے۔ (5) “ اَ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰهِ مَا لَاتَعْلَمُوْنَ ” تم اللہ تعالیٰ کی طرف ایک ایسی بےدلیل بات منسوب کرتے ہو جو سراسر تمہاری جہالت اور نادانی پر مبنی ہے۔ لہذا ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو اپنا نائب متصرف نہیں بنا رکھا۔
Ayahs 10:69–7090: زجر مع تخویف اخروی۔ ایسے لوگ جو اللہ کی طرف ایسی من گھڑت باتیں منسوب کرتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پائیں گے نہ اللہ کے عذاب سے بچ سکیں گے۔ “ اي لا یفوزون ولا یامنون ” (قرطبی ج 8 ص 361) ۔ “ مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا الخ ” یہ بھی تخویف اخروی ہے۔
Ayah 10:7191: یہ تخویف دنیوی کا پہلا تفصیلی نمونہ ہے۔ قوم نوح (علیہ السلام) کا حال دیکھ لو انہوں نے ہمارے پیغمبر کے حکم کی تعمیل نہ کی اور اس کی طرف سے دی گئی دعوت توحید کو قبول نہ کیا تو ہم نے ان کو نیست و نابود کردیا اگر تم نے بھی نہ مانا تو تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔ “ امرہ علیه السلام ان یذکرھم اقاصیص المتقدمین و یخوفھم العذاب الالیم علی کفرھم ” (قرطبی) ۔
92:“ فَاجْمِعُوْا ” جملہ انشائیہ “ اِنْ ” شرطیہ کی جزا ہے اور “ شُرَکَاءَکُمْ ” کا ناصب محذوف ہے “ اي ادعوا شرکاء کم ” کیونکہ “ شرکاء کم ”، “ اَجْمِعُوْا ” کے تحت داخل نہیں ہوسکتا اس لیے لفظ اجماع بروزن افعال آراء جمع کرنے اور باہمی اتفاق رائے کرنے کے لیے مستعمل ہے لیکن افراد کو جمع کرنے کے لیے مستعمل نہیں۔ “ غُمَّةً ” پوشیدہ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے خطاب کر کے فرمایا اگر تم میں میرا ٹھہرنا اور اللہ کی توحید بیان کرنا تمہیں ناگوار ہے تو مجھے اس کی ذرہ بھر پروا نہیں۔ میرا اعتماد اور بھروسہ اللہ پر ہے اگر تم مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہتے ہو تو سب باہم مل کر مشورہ کرلو اور اپنے خود ساختہ معبودوں کو بھی بلا لو اور پھر ایک واضح فیصلہ کرلو اور پھر ایک لمحہ کی مہلت دئیے بغیر میرے ساتھ جو کرنا چاہتے ہو کرلو اللہ کی مہربانی سے تم میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکو گے۔
Ayahs 10:72–7393: اگر تم نہیں مانتے ہو تو میرا اس میں کیا نقصان ہے میں تبلیغ توحید پر تم سے کوئی اجرت تو نہیں مانگتا کہ تمہارے نہ ماننے سے مجھے مالی نقصان کا اندیشہ ہو میں تو محض اللہ کے حکم کی تعمیل اور اس کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے تمہیں تبلیغ کرتا ہوں۔ “ فَکَذَّبُوْہ ” لیکن وہ لوگ تکذیب پر اڑے رہے آخر ہم نے ان کو غرق کردیا اور حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو طوفان سے بچا لیا۔ اب دیکھ لو نہ ماننے والوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔
Ayah 10:7494: یہ تخویف دنیوی کا اجمالی نمونہ ہے، حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ہم نے اور بہت سے رسول بھیجے جو توحید کے واضح دلائل لے کر اپنی قوموں کے پاس آئے مگر انہوں نے ضد وعناد سے کام لیا اور انکار و جحود پر اڑ گئے۔ “ کَذَّبُوْا بِهٖ ” میں ضمیر مجرور کا مرجع “ مَا ” ہے اور “ مَا ” سے شریعت کے وہ تمام عقائد و اعمال اور اصول و فروع مراد ہیں جو ہر پیغمبر لے کر اپنی امت کے پاس آیا “ و ما موصولة والمراد بھا جمیع الشرائع التی جاء بھا کل رسول اصولھا و فروعھا ” (روح ج 11 ص 162) ۔ یعنی ان کے پاس اللہ کے پیغمبر آئے اور انہوں نے پہلی بار پیغام توحید اور دیگر شرائع کا انکار کردیا تو پھر انکار پر ہی ڈٹے رہے پیغمبروں کے بار بار سمجھانے اور واضح دلائل پیش کرنے کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا یا “ کَذَّبُوْا ” کی ضمیر سے قوم نوح مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس پیغام توحید کو قوم نوح نے ان سے پہلے جھٹلا دیا تھا اب یہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ “ التقدیر بما کذب به قوم نوح من قبل ” (قرطبی ج 8 ص 265) ۔ “ کَذٰلِکَ اي لذٰلِک ” یعنی جو لوگ کفر و انکار اور تکذیب و تردید میں حد سے گذر جائیں اور ضد وعناد پر اتر آئیں ان کے دلوں پر ہم ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے مہر جباریت لگا دیتے اور ان سے توفیق ایمان سلب کرلیتے ہیں۔
Ayah 10:7595: یہ تخویف دنیوی کا دوسرا تفصیلی نمونہ ہے، حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس آیت بینات اور دلائل و معجزات دے کر بھیجا گیا مگر فرعون اور اس کی قوم جو حکومت و دولت کے نشہ میں بد مست تھے پیغام حق اور دعوت توحید کو ٹھکرا دیا اور اللہ کے پیغمبر کے ساتھ مجادلہ و مکابرہ پر اتر آئے آخر جب اللہ نے ان کے مطالبہ کے مطابق ان پر اپنی حجت قائم کردی تو بھی وہ ایمان نہ لائے اور تکذیب و انکار پر مصر رہے جس کا انجام انہوں نے اپنی عبرتناک تباہی کی صورت میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔