10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsجواھر القرآن

Ayah 10:37

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور وہ نہیں52 یہ قرآن کہ کوئی بنا لے اللہ کے سوا اور لیکن تصدیق کرتا ہے اگلے کلام کی اور بیان کرتا ہے ان چیزوں کو جو تم پر لکھی گئیں جس میں کوئی شبہ نہیں پروردگار عالم کی طرف سے

52: یہ شکوے کے لیے تمہید ہے۔ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے کسی غیر کا افتراء نہیں۔ “ تَصْدِیْقَ الَّذِيْ بَیْنَ یَدَیْهِ ” یہ قرآن کے افتراء نہ ہونے کی پہلی وجہ ہے یعنی یہ قرآن تو کتب سابقہ کے مضامین کی تصڈیق کرتا ہے۔ “ وَ تَفْصِیْلَ الْکِتٰبِ ” یہ دوسری وجہ ہے۔ یہ قرآن شرائع اسلام اور فرائض و احکام کی تفصیل کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر فرمائے ہیں۔ “ تبیین ما کتب فرض من الاحکام والشرائع من قوله کتاب اللہ علیکم ” (مدارک ج 2 ص 125) ۔
Ayah 10:38

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا لوگ کہتے ہیں کہ یہ بنا لایا ہے53 تو کہہ دے تم لے آؤ54 ایک ہی سورت ایسی اور بلا لو جس کو بلا سکو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو

53: یہ شکویٰ ہے مشرکین نے کہا تھا کہ یہ قرآن محمد خود بناتا اور خدا کے ذمہ لگا دیتا ہے۔ “ یَقُوْل ھؤلاء المشرکون افتري محمد ھذا القران واختلقہ من قبل نفسه ” (خازن ج 3 ص 190) ۔ 54: یہ جواب شکویٰ ہے۔ اگر یہ قرآن محمد ﷺ کا کلام ہے تو تم بھی اہل لسان ہو اپنے سب ہم مسلک فصحاء و بلغا کو اکٹھا کرلو اور اپنے مزعومہ معبودوں سے بھی امداد حاصل کرلو اور قرآن جیسی فصیح وبلیغ صرف ایک ہی سورت بنا کرلے آؤ۔ اکثر مفسرین نے آیت کی تفسیر میں یہی تقریر کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تم ایسی فصاحت وبلاغت پر مشتمل کلام بنا کرلے آؤ۔ اکثر مفسرین نے آیت کی تفسیر میں یہی تقریر کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تم ایسی فصاحت و بلاغت پر مشتمل کلام بنا کرلے آؤ۔ اس طرح ایسا بلیغ کلام لانے سے ان کے عجز کا اظہار مقصود ہے لیکن اس پر شبہ ہوتا ہے کہ مقابلہ ہمیشہ فصحاء اور بلغاء سے نہیں ہوتا اس لیے مناسب یہ ہے کہ آیت کا مطلب یہ ہو کہ تم ایسی ایک سورت بنا کرلے آؤ جو قرآن کی طرح عقلی، نقلی اور وحی کے دلائل پر مشتمل ہو۔ اس لیے اعجاز قرآن کو صرف ایک پہلو میں منحصر نہ کرنا چاہئے بلکہ قرآن مجید ہر پہلو سے معجز ہے جیسا کہ علامہ تفتا زانی نے تلویح شرح توضیح میں مختلف اقوال نقل فرمائے ہیں “ اختلفوا فی جهة اعجاز القراٰن مع الاتفاق علی کو نه معجزا فقیل انه ببلاغته و قیل باخباره عن المغیبات و قیل باسلوبه وقیل بصرف اللہ تعالیٰ العقول عن المعارضة الخ ” (تلویح ص 18) ۔
Ayah 10:39

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ55 جھٹلانے لگے جس کے سمجھنے پر انہوں نے قابو نہ پایا اور ابھی آئی نہیں اس کی حقیقت56 اسی طرح جھٹلاتے رہے ان سے اگلے سو دیکھ لے کیسا ہوا انجام گناہگاروں کا

55: انہوں نے قرآن کے مضامین میں غور و فکر نہیں کیا نہ ان کی تہ تک پہنچنے کی کوشش کی ہے اس لیے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ان کی تکذیب کسی معقول سبب پر مبنی ہو اور انہوں نے قرآنی مضامین میں کوئی شبہ پایا ہو بلکہ وہ محض ضد وعناد کی بنا پر تکذیب کر رہے ہیں۔ یعنی “ کلامھم و انکارھم للقراٰن لیس مبتنیا علی التحقیق والتفکر ” (مظہری ج 5 ص 28) ۔ 56: یہ جملہ حالیہ ہے یعنی ابھی تک ان کو وعید کا مصداق (عذاب) نہیں آیا۔ حاصل یہ کہ قرآن کے مقابلہ میں سورت بنا کر لانا تو درکنار ان میں اتنا عقل و فہم کہاں وہ تو ایک ایسی بات کی تکذیب کر رہے ہیں جس کے بطلان کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ابھی ان کو اس تکذیب کی سزا نہیں ملی وہ پہلے لوگوں کا حال نہیں دیکھتے کہ تکذیب کی ان کو کیا سزا ملی۔ “ کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ الخ ” مشرکین امم سابقہ نے بھی یہی کیا تھا۔ فکر و تدبر کے بغیر ہی محض عنادًا پیغام خداوندی کی تکذیب کردی “ کذبوا رسلھم قبل النظر فی معجزاتھم و قبل تدبرھا عنادًا و تقلیدًا للاٰباء ” (مارک ج 2 ص 126) ۔ پھر ان کا جو انجام ہوا وہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے۔
Ayah 10:40

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور بعضے ان میں یقین کریں گے قرآن کا اور بعضے یقین نہ کریں گے57 اور تیرا رب خوب جانتا ہے شرارت والوں کو

57: ان میں کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو دل سے قرآن یا پیغمبر خدا ﷺ کو مانتے ہیں مگر ازراہ عناد اس کا اقرار و اظہار نہیں کرتے اور کچھ ایسے ہیں جو دل سے بھی نہیں مانتے۔ “ اي یصدق به فی نفسه و یعلم انه حق و لکن یعاند بالتکذیب (وَمِنْھُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ ) لا یصدق به ویشک فیه ” (مدارک ) ۔
Ayah 10:41

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اگر تجھ کو جھٹلائیں58 تو کہہ میرے لیے میرا کام اور تمہارے لیے تمہارا کام تم پر ذمہ نہیں میرے کام کا اور مجھ پر ذمہ نہیں جو تم کرتے ہو

58: یہ زجر ہے۔ یعنی اگر حجت قائم کردینے کے باوجود مشرکین آپ کی تکذیب پر اصرار کریں اور نہ ماننے پر اڑ جائیں یہاں تک کہ آپ ان کے ایمان سے مایوس ہوجائیں تو آپ ان سے صاف فرما دیں میں تمہیں ماننے پر مجبور نہیں کرتا تم اپنی راہ پہ چلو، میں اپنی راہ پر گامزن ہوں، تم اپنے عمل تکذیب و اشراک کی سزا پاؤ گے، میں اپنے عمل تبلیغ وانذار اور طاعت و عبادت کی جزا پاؤں گا۔ ہر ایک کے ساتھ اس کے اعمال کے مطابق برتاؤ کیا جائے گا۔ “ لی ثواب عملی فی التبلیغ والانذار والطاعة لِله تعالیٰ (وَ لَکُمْ عَمَلُکُمْ ) اي جزاءہ من الشرک ” (قرطبی ج 8 ص 346) ۔
Ayah 10:42

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور بعضے ان میں59 کان رکھتے ہیں تیری طرف کیا تو سنائے گا بہروں کو اگرچہ ان کو سمجھ نہ ہو

59: یہ بھی زجر ہے۔ منکرین میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو ظاہری کانوں سے تو آپ کی باتیں اور آپ کی تلاوت سنتے ہیں۔ مگر ان کے دلوں میں انابت نہیں اور یہ باتیں ان کے دلوں میں نہیں اترتیں۔ “ اَ فَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الخ ” یہ استفہام انکاری ہے اور “ الصُّمَّ ” (بہروں) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دلوں مہر جباریت کی بنا پر ماننے کی استعداد سلب کرلی گئی ہو اور اس کے ساتھ وہ عقل و فکر سے بھی محروم ہوں یعنی جن لوگوں کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے ان کو راہ راست پر لانا آپ کے اختیار میں نہیں۔ “ و جعلھم کالصم للختم علی قلوبھم والطبع علیھا اي لا تقدر علی ھدایة من اصمه اللہ عن سماع الھدي ” قرطبی)
Ayah 10:43

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور بعضے ان میں60 نگاہ کرتے ہیں تیری طرف کیا تو راہ دکھائے گا اندھوں کو اگرچہ وہ سوجھ نہ رکھتے ہوں

60: اور کچھ ان میں سے ایسے ہیں جو ظاہری آنکھوں سے آپ کی طرف دیکھتے اور آپ کی صداقت اور نبوت کے دلائل کا واضحہ کا مشاہدہ کرتے ہیں مگر دل سے آپ کی تصدیق نہیں کرتے کیونکہ مہر جباریت کی وجہ سے ان کی بصیرت معطل ہوچکی ہے اور ان کی مثال ان اندھوں کی سی ہے جو ظاہری آنکھوں کے ساتھ ساتھ اندرونی بصیرت یعنی عقل و فراست بھی محروم ہوں اس لیے ان کے راہ راستہ پر آنے کی اب کوئی امید نہیں یعنی “ انھم فی الیاس من ان یقبلوا و یصدقوا کالصم والعمی الذین لا عقول لھم ولا بصائر ” (مدارک ج 2 ص 126) ۔
Ayah 10:44

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

اللہ ظلم نہیں کرتا61 لوگوں پر کچھ بھی لیکن لوگ اپنے اوپر آپ ظلم کرتے ہیں

61: جملہ ماقبل کی علت ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل و بصیرت اور ہدایت سے محروم کر کے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے کیونکہ جب دلائل وبراہین سے حق ان پر واضح ہوگیا تو انہوں نے اسے تسلیم نہ کیا، اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی عقل وخرد سے کام نہ لیا اور جان بوجھ کر، عمداً قصداً ، محض ضد وعناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا اس لیے یہ ان کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے کہ انہیں قبول ہدایت کی توفیق سے محروم کردیا گیا۔ “ اي لعدم استعمال مشاعرھم فیما خلقت له واعراضھم عن قبول الحق و تکذیبھم للرسل و ترک النظر فی الادلة ” (روح ج 11 ص 126) ۔
Ayah 10:45

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور جس دن ان کو جمع کرے گا گویا وہ نہ رہے تھے مگر ایک گھڑی دن62 ایک دوسرے کو پہچانیں گے بیشک خسارے میں پڑے جنہوں نے جھٹلایا اللہ سے ملنے کو اور نہ آئے وہ راہ پر

62: یہ تخویف اخروی ہے جو لوگ حق بات کو سننے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے انہیں آخرت کے عذاب سے خبر دار رہنا چاہئے۔ “ یَوْمٍ ” کا عامل “ یَتَعَارَفُوْنَ ” ہے۔ “ وَ قوله (یَتَعَارَفُوْنَ ) یجواز ان یکون متعلقا بیوم نحشرھم ” (کبیر ج 17 ص 103 طبع جدید) ۔ “ کَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْا ” سے پہلے “ يَقُوْلُوْنَ ” محذوف ہے یعنی جب ہم ان کو قبروں سے اٹھائیں گے تو وہ کہیں گے گویا کہ عالم برزخ میں ہم صرف ایک گھڑی ٹھہرے ہیں اور میدان حشر میں وہ ان لوگوں کو پہچانیں گے جنہیں دیا میں پہچانتے تھے۔ کفار و مشرکین جب آخرت کے شدید ترین اور دردناک عذاب کا مشاہدہ کریں گے تو عالم برزخ کا عذاب اس کے مقابلے میں انہیں آرام و راحت معلوم ہوگا اور وہ برزخی قیام کے زمانے کو ساعات راحت کی طرح بہت قلیل سمجھیں گے۔ بعض مفسرین نے دنیا میں قیام کی قلت مراد لی ہے۔ “ قال ابن عباس فی قبورھم وقال الضحاک فی الدنیا یستقصرون مدة لبثھم فی الدنیا والقبور لھول ما یرون الخ ” (مظہری ج 5 ص 31) ۔
Ayah 10:46

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اور اگر ہم دکھائیں گے63 تجھ کو کوئی چیز ان وعدوں میں سے جو کیے ہم نے ان سے یا وفات دیں تجھ کو، سو ہماری ہی طرف ہے، ان کو لوٹنا، پھر اللہ شاہد ہے ان کاموں پر جو کرتے ہیں

63: تخویف دنیوی ہے۔ منکرین اور معاندین کو ذلیل ورسوا کرنے کا ہم نے آپ سے جو وعدہ کر رکھا ہے اس کی بعض صورتیں اگر ہم دنیا ہی میں ظاہر کردیں اور آپ کو دکھا دیں تو ہم اس پر بھی قادر ہیں اور اگر دنیا میں ان کی سزا اور رسوائی کی تمام صورتوں کے ظہور سے قبل ہی ہم آپ کو وفات دیدیں تو ان کی مزید ذلت ورسوائی آپ میدان حشر میں مشاہدہ فرمالیں گے۔ “ اي واما نرینک بعض الذي نعدھم فی الدنیا فذلک او نتوفینک قبل ان نریکه فنحن نریکه فی الاخرة ” (مدارک ج 2 ص 127) ۔ “ ثُمَّ اللّٰه الخ ” میں ثُمَّ تراخی کیلئے نہیں بلکہ محض تعقیب ذکری کیلئے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر زمانہ میں حاضر و ناظر ہے قیامت کی کیا خصوصیت ہے یا “ ثُمَّ ” بمعنی واؤ ہے یا شہادت سے مراد اس کا لازم ہے یعنی جزاء و سزا دینا اس صورت میں “ ثم ” تعقیب زمانی کیلئے ہوگا “ ھی علی الاول للتراخی الرتبی و علی الثانی علی الظاھر ” (روح ج 11 ص 129) ۔
Ayah 10:47

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر فرقے کا ایک رسول ہے64 پھر جب پہنچا ان کے پاس رسول ان کا فیصلہ ہوا ان میں انصاف سے اور ان پر ظلم نہیں ہوتا

64: تخویف دنیوی ہے۔ تمام امم سابقہ کا بالاجمال ذکر کردیا ہے کہ ہم نے ہر قوم میں اپنا رسول بھیجا جس نے ان کو پیغام حق سنایا اور دعوت توحید دی لیکن جب انہوں نے انکار کیا تو عین عدل و انصاف کے مطابق ان کو تہس نہس کردیا گیا ہے۔ اے مشرکین مکہ ! تم بھی سن لو نہ مانو گے تو اقوام سابقہ کا سا حشر ہوگا۔
Ayah 10:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور کہتے ہیں65 کب ہے یہ وعدہ اگر تم سچے ہو

65: یہ شکویٰ ہے۔ مشرکین مکہ فرط انکار اور ضد وعناد کی وجہ سے آنحضرت ﷺ سے مطالبہ کرتے کہ جس عذاب یا قیامت سے تو ہمیں ڈراتا ہے وہ کہاں ہے اور کب آئے گا اسے جلدی لاؤ۔ “ یرید کفار مکة لفرط انکارھم واستعجالھم العذاب اي متی العقاب او متی الساعة التی یعدنا محمد ” (قرطبی ج 8 ص 349) ۔
Ayah 10:49

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

تو کہہ66 میں مالک نہیں اپنے واسطے برے کا نہ بھلے کا مگر جو چاہے اللہ ہر فرقے کا ایک وعدہ ہے67 جب آپہنچے گا ان کا وعدہ پھر نہ پیچھے سرک سکیں گے ایک گھڑی اور نہ آگے سرک سکیں گے

66: یہ جواب شکویٰ برسبیل ترقی ہے یعنی تم مجھ سے عذاب یا قیامت لانے کا مطالبہ کرتے ہو تو یہ بہت بڑی بات ہے میں تو اپنے نفع اور نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتا۔ ہر چیز کا مالک و مختار صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اس لیے عذاب لانا میرے بس کی بات نہیں “ لما استعجلوا النبی صلی اللہ علیه وسلم بالعذاب قال اللہ له قل لھم یا محمد لا املک لنفسي ضرًا و لا نفعًا اي لیس ذٰلک لی ولا لغیري ” (قرطبی) “ اي لا اقدر علی شیئ منهما بوجه من الوجوه ” (روح ج 11 ص 130) اور “ اِلَّا مَا شَاءَ ” استثناء منقطع ہے یعنی میں تو اپنے نفع اور نقصان کا بھی مختار نہیں البتہ جو اللہ چاہے وہی ہوتا ہے۔ “ اي ولکن ما شاء اللہ من ذلک کائن فکیف املک لکم اضر و جلب العذاب ” (مدارک ج 2 ص 127) ۔ 67: البتہ یہ ضرور کہوں گا کہ جس عذاب اور قیامت کا تم سے وعدہ کیا جا چکا ہے اس کا ایک وقت مقرر ہے اور وہ مقررہ وقت پر لا محالہ آکر رہے گا اس میں تخلف محال ہے اور نہ اس میں تقدم و تاخر ممکن ہے جب عذاب اپنے وقت سے نہ پہلے آسکتا ہے نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے تو پھر تمہارے مطالبے پر وقت سے پہلے میں کیسے لاسکتا ہوں ؟ “ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ ” جملہ استنفافیہ ہے یا “ اِذَا جَاءَ ” پر معطوف ہے لیکن “ لَا یَسْتَاخِرُوْنَ ” پر معطوف نہیں کیونکہ جب معین وقت آجائے تو پھر اس پر تقدم ممکن نہیں اس لیے نفی تقدم کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا (روح) حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ “ اِذَا ” کی جزاء محذوف ہے “ فَاِذَ ا جَاءَ اَجَلُھُمْ یعذبون ” جب ان کے عذاب کی اجل آپہنچے گی اس وقت وہ مبتلائے عذاب ہوجائیں گے اور اس میں تقدم وتاخر نہیں ہوگا یعنی عذاب اپنے وقت معین سے نہ پہلے آئے گا نہ اس سے پیچھے۔
Ayah 10:50

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو68 اگر آپہنچے تم پر عذاب اس کا راتوں رات یا دن کو تو کیا کرلیں گے اس سے پہلے گناہ گار

68: زجر مع تخویف دنیوی “ بَیَاتًا اَوْ نَھَارًا ” منصوب علی الظرفیة ہیں “ مَا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ ”“ مَا ذَا ” بمعنی “ اَيُّ شَیءٍ ” ہے مشرکین بہت عجلت کرتے اور عذاب کے جلدی آنے کا مطالبہ کرتے ہیں اگر راتوں رات یا دن میں جبکہ وہ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں اچانک ہی اللہ کا عذاب آجائے تو یہ مجرم اور بدکردار لوگ جلدی کر کے اس سے بچاؤ کے لیے کیا حیلہ یا تدبیر عمل میں لائیں گے ؟ استفہام انکاری ہے یعنی اس سے بچنے کا کوئی حیلہ نہیں کرسکیں گے تو پھر اس کا وقت پوچھنے سے کیا فائدہ یا مطلب یہ ہے کہ عذاب کونسی خوشی کی چیز ہے جس کے جلدی آنے کا مجرمین مطالبہ کرتے ہیں اس صورت میں استفہام تعجب کے لیے ہوگا کہ ان مجرمین پر تعجب ہے کہ وہ کیسی خوفناک اور ہلاکت خیز چیز کو جلدی طلب کر رہے ہیں (روح و موضح قرآن) ۔
Ayahs 10:51–52

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا پھر جب69 عذاب واقع ہوچکے گا تب اس پر یقین کرو گے اب قائل ہوئے70 اور تم اسی کا تقاضا کرتے تھے

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر کہیں گے گنہگاروں کو چکھتے رہو عذاب ہمیشگی کا وہی بدلہ ملتا ہے جو کچھ کماتے تھے

69: یہاں تقدیم وتاخیر ہے اصل میں یوں تھا۔ “ ءَ اِذَا مَا وَقَعَ ثُمَّ اٰمَنْتُمْ بِهٖ ” اور “ ثُمَّ ” استبعاد کے لیے ہے یعنی تم عذاب کو اس طرح جلدی مانگتے ہو گویا کہ جب عذاب آجائے گا تو پھر تم ایمان لے آؤ گے یہ بات تو پہلے سے بھی زیادہ تعجب انگیز اور بعید از عقل ہے۔ “ ءَاِذَا مَا وَقَعَ العذاب و حل بکم حقیقة اٰمنتم به وجیء بثم دلالة علی زیادة الاستبعاد ” (روح ج 11 ص 124) ۔ 70: اس سے پہلے “ یقال ” مقدر ہے اور اس کے بعد “ اٰمنتم ” یعنی جب عذاب آگیا اور منکرین عذاب دیکھ کر ایمان لے آئے تو ان سے کہا جائے گا کہ اب عذاب دیکھ کر ایمان لاتے ہو اور ایسے ایمان سے نفع کی امید رکھتے ہو حالانکہ تم اس عذاب کو بطور استہزاء و تمسخر جلدی مانگتے تھے یہ توبیخ و تہدید کے طور پر کہا جائے گا۔ “ اٰلْئٰنَ تؤمنون ترجون الانتفاع بالایمان مع انکم کنتم قبل ذلک به تستعجلون علی سبیل السخریة والاستھزاء ” (کبیر ج 17 ص 109) ۔
Ayah 10:53

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور تجھ سے خبر پوچھتے ہیں کیا سچ ہے یہ بات71 تو کہہ البتہ قسم میرے رب کی یہ سچ ہے اور تم تھکا نہ سکو گے

71: یہ شکویٰ ہے۔ منکرین آپ سے پوچھتے ہیں کہ واقعی عذاب یا قیامت کا آنا حق ہے۔ “ قُلْ اِيْ وَ رَبِّيْ الخ ” یہ جواب شکویٰ ہے میرے پیغمبر آپ ان کے جواب میں فرم ادیں کیوں نہیں مجھے اپنے رب کی قسم وہ حق ہے اور اس کا وقوع ناگزیر ہے اور تم اس کے لانے والے کو عاجز نہیں پاؤ گے اور نہ خود کو اس سے بچا سکو گے۔
Ayah 10:54

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور اگر ہو ہر شخص گناہ گار کے پاس72 جتنا کچھ ہے زمین میں البتہ دے ڈالے اپنے بدلے میں اور چھپے چھپے پچتائیں گے جب دیکھیں گے عذاب اور ان میں فیصلہ ہوگا انصاف سے اور ان پر ظلم نہ ہوگا

72: تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن مشرکین عذاب الٰہی سے بچنے کی آرزو کریں گے یہاں تک کہ اس دن اگر دنیا کی ساری دولت اور زر و جواہر کے خزانے ان کے قبضہ میں ہوں تو عذاب سے بچنے کیلئے وہ سب کچھ فدیہ میں دینے کو تیار ہوں گے۔ “ وَ اَسَرُّوْا ” اور قیامت کے دن وہ عذاب کو دیکھ کر دنیا کی بد اعمالیوں پر پچھتائیں گے اور سخت پشیمان اور آزردہ ہوں گے اور اپنی پشیمانی کو چھپانے کی کوشش کریں گے مگر وہ چھپی نہ رہے گی۔ یا “ اَسَرُّوْا ” بمعنی “ اَظْھَرُوْا ” ہے کیونکہ یہ لفظ اضداد میں سے ہے “ وفی القاموس ایضًا اسرہ کتمه واظھره ” (روح ج 11 ص 137) ۔ یعنی قیامت کے دن عذاب کو دیکھ کر وہ سخت پچھتائیں گے اور اپنی بد اعمالیوں پر ندامت اور پشیمانی کا اظہار کریں گے۔
Ayahs 10:55–56

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

سن رکھو اللہ کا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں73 سن رکھو وعدہ اللہ کا سچ ہے پر بہت لوگ نہیں جانتے

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی ہے وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے

73: یہ توحید پر چھٹی عقلی دلیل ہے اور یہ نفی شرک فعلی کے لیے تمہید ہے جو اگلی دلیل میں مذکور ہے زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی ہے، ہر چیز اس کے تصرف و ملک اور اس کی قدرت کے تحت ہے۔ “ ھُوَ یُحْیی وَ یُمِیْتُ الخ ” وہ ایسا قادر و متصرف ہے کہ موت وحیات بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ جب وہی مالک و مختار اور متصرف ہے تو پھر اس کی پیدا کی ہوئی اور اس کی مملوکہ اشیاء میں سے غیروں کے حصے کیوں مقرر کرتے ہو ؟ اور غیروں کے لیے تحریمات کیوں کرتے ہو ؟ لہذا تمہاری خود ساختہ تحلیل و تحریم بےجا ہے۔ “ اَلَا اِنَّ وَعْدَ اللّٰه حَقٌّ الخ ” جب وہی مالک و مختار ہے تو وہ اپنا وعدہ پورا کرنے پر بھی قادر ہے اس لیے جو وعدہ بھی اس نے کیا ہے خواہ منکرین کے لیے عذاب کا یا مؤمنین کیلئے ثواب کا وہ لا محالہ پورا ہو کر رہے گا۔
Ayah 10:57

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

اے لوگو74 تمہارے پاس آئی ہے نصیحت تمہارے رب سے اور شفاء دلوں کے روگ کی اور ہدایت اور رحمت مسلمانوں کے واسطے

74: یہ ترغیب الی القرآن ہے۔ اللہ کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسی کتاب آچکی ہے جو سراپا ہدایت و رحمت ہے، نصیحت و حکمت سے لبریز اور تمام روحانی بیماریوں کے لیے پیغام شفا ہے وہ توحید، دیگر عقائد حقہ اور احکام شرعیہ بیان کرتی اور شرک و بدعت اور اعمال جاہلیہ سے روکتی ہے، اس لیے اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اس کی ہدایات پر عمل کرو۔ تاکہ شرک و بدعت اور اخلاق رذیلہ سے پاک ہوجاؤ۔
Ayah 10:58

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

کہہ اللہ کے فضل سے اور اس کی مہربانی سے75 سو اسی پر ان کو خوش ہونا چاہیے یہ بہتر ہے ان چیزوں سے جو جمع کرتے ہیں

75:“ فضل ” سے مراد قرآن اور رحمت سے توفیق ایمان واسلام مراد ہے یا دونوں سے مراد قرآن ہی ہے اس آیت میں نہایت تاکید اور اہتمام سے قرآن کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت ہے خوش ہونے کا حکم دیا گیا ہے اس آیت کی فصاحت و بلاغت کا کمال یہ ہے کہ لفظی تکرار کے بغیر اس میں معنوی تکرار اور تاکید موجود ہے۔ چناچہ یہاں تین بار اس کی تاکید ہے۔ (1) “ بِفَضْلِ اللّٰه ” کا متعلق محذوف ہے اصل میں تھا “ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِه فَلْیَفْرَحُوْا ”۔ (2) “ فَبِذٰلِکَ ” فاء اس پر دلالت کر رہی ہے کہ بِذٰلکَ کا متعلق محذوف ہے جو بقرینہ ما بعد “ لِیَفْرَحُوْا ” ہے۔ (3) “ فَلْیَفْرَحُوْا ” جملہ ہے جس کا متعلق بِذٰلِکَ مقدر ہے اس طرح “ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ” دو مستقل جملے ہوں گے اور اصل کلام یوں ہوگا “ فَبِذٰلِکَ لِیَفْرَحُوْا ”۔ “ فَبِذٰلِکَ لِیَفْرَحُوْا ” پہلے جملہ سے “ فَلْیَفْرَحُوْا ” اور دوسرے جملہ سے “ بِذٰلِکَ ” محذوف ہوگا۔ “ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ” میں ظرف کی فعل پر تقدیم مفید حصر ہے اسی ہی کے ساتھ انہیں خوش ہونا چاہئے نہ کسی دوسری کتاب یا دنیوی مال و منال سے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ دیگر مفسرین نے صرف دو جملے بنائے ہیں۔ ایک “ بِفَضلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِه فَلْیَفْرَحُوْا ” دوم “ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ”۔ امام رازی فرماتے ہیں “ و تقدیرہ بفضل اللہ و برحمته فلیفرحوا ثم یقول مرة اخري (فبذلک فلیفرحوا) والتکرار للتاکید ” (کبیر ج 17 ص 117، کذا فی الروح والمدارک) ۔
Ayah 10:59

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو76 اللہ نے جو اتاری تمہارے واسطے روزی پھر تم نے ٹھہرائی اس میں سے کوئی حرام اور کوئی حلال کہہ کیا اللہ نے حکم دیا تم کو یا اللہ پر افتراء کرتے ہو

76: یہ توحید پر ساتویں عقلی دلیل ہے اور اسے بھی شرک فعلی ہی کی نفی مقصود ہے اور یہ چھٹی دلیل سے متعلق ہے جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ زمین و آسمان کی ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور ان میں وہی متصرف و مختار ہے تو اب تم بتاؤ اللہ نے رزق کی جو انواع و اقسام تم کو عطا فرمائی ہیں ان میں تم نے اپنی مرضی سے تحلیل وتحریم کیوں کی ہے ؟ کیا اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی ہے یا تم اپنے فعل کو اللہ کی طرف منسوب کر کے اس پر بہتان تراشی کرتے ہو۔ مشرکین بعض اوقات اپنے مشرکانہ افعال کو اللہ کی طرف منسوب کر کے کہہ دیتے تھے کہ اللہ نے ہمیں ان کا حکم دیا ہے “ ان اللہ امرنا بھا ” حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ پر سراسر افتراء ہے۔ مشرکین اپنے معبودوں کی خوشنودی کے لیے کئی قسم کے چوپائے نامزد کر کے چھوڑ دیتے اور کھیتوں اور غلوں سے بھی اپنے معبودوں کا حصہ مقرر کردیتے ان چوپایوں (سائبہ بحریوہ وغیرہ) اور غلہ کے حصوں کا استعمال حرام قرار دیدیتے بعض مادہ جانوروں کے بارے میں وہ اعلان کردیتے کہ ان سے زندہ بچہ پیدا ہو تو وہ مردوں کے لیے حلالا اور عورتوں کے لیے حرام ہے اور اگر مردہ پیدا ہو تو سب کے لیے حلال جیسا کہ اس کی تفصیل سورة مائدہ رکوع 14 تا 16 میں گذر چکی ہے۔ یہاں مشرکین کو اسی خود ساختہ تحلیل و تحریم پر سرزنش فرمائی۔ “ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَلَالًا وَّ حَرَامًا وقال مجاھد ھو ما حکموا به من تحریم البحیرة والسائبة والوصیلة والحام وقال الضحاک ھو قول اللہ تعالیٰ وَ جَعَلُوْا لِلّٰه مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا ” (قرطبی ج 8 ص 355، معالم ج 3 ص 195) “ اي فبغضتموہ و قسمتموہ الی حرام و حلال و قلتم (ھٰذہٖ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ) و (مَا فِیْ بُطُوْنِ ھٰذِه الْاَنْعَامِ خَا لِصَةً لِّذُکُوْرِنَا وَ مُحَرَّمًا عَلیٰ اَزَوَاجِنَا) الی غیر ذلک ” روح ج 11 ص 142 ۔
Ayah 10:60

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور کیا خیال ہے77 جھوٹ باندھنے والوں کا اللہ پر قیامت کے دن اللہ تو فضل کرتا ہے لوگوں پر اور لیکن بہت لوگ حق نہیں مانتے

77: یہ تخویف و تہدید ہے “ یَوْمَ الْقِیٰمَة، ” مفعول فیہ ہے۔ “ ظَنٌّ ” کا یعنی یوم قیامت کے بارے میں ان افتراء کرنے والے مشرکین کا کیا گمان ہے کہ میں ان کے ساتھ کیا کرنے والا ہوں۔ کیا میں ان کو چھوڑ دوں گا اور ان سے مؤاخذہ نہیں کروں گا ؟ “ اَیَحْسَبُوْنَ انه لا یؤاخذھم ولا یجازیھم علی اعمالھم فھو استفھام بمعنی التوبیخ والتقریع والوعیذ العظیم لمن یفتري علی اللہ الکذب ” (خازن ج 3 ص 195) استفہام برائے توبیخ و تہدید ہے۔
Ayah 10:61

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور نہیں ہوتا تو کسی حال میں78 اور نہ پڑھتا ہے اس میں سے کچھ قرآن اور نہیں کرتے ہو تم لوگ کچھ کام کہ ہم نہیں ہوتے حاضر تمہارے پاس جب تم مصروف ہوتے ہو اس میں اور غائب نہیں رہتا تیرے رب سے ایک ذرہ بھر زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ چھوٹا اس سے اور نہ بڑا جو نہیں ہے کھلی ہوئی کتاب میں

78: یہ توحید پر آٹھویں عقلی دلیل ہے اور اس سے شرک فی العلم کی نفی مقصود ہے “ مِنْ قُرْاٰنٍ ” میں “ مِنْ ” بیانیہ ہے۔ “ قُرْاٰن ”، “ مِنْهُ ” کی ضمیر مجرور کا بیان ہے۔ “ وَ لَا تَعْلَمُوْنَ الخ ” یہ خاص سے عام کی طرف ترقی ہے۔ “ اعلم انه تعالیٰ خصص الرسول فی اول ھذه الایة بالخطاب فی امرین ثم اتبع ذلک بتعمیم الخطاب مع کل المکلفین الخ ” (کبیر ج 17 ص 121) ۔ “ اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ ” یعنی جب تم اپنے کاموں میں منہمک ہوتے ہو۔ حاصل یہ کہ اے پیغمبر ﷺ آپ کوئی بھی کام کریں مثلاً قوم کو اللہ کا قرآن پڑھ کر سنا رہے ہوں، آپ کی اور آپ کی تلاوت کی کیا خصوصیت ہے تم سب لوگ جو کام بھی کرتے ہو جب تم اس میں ہمہ تن مصروف ہوتے ہو ہم تمہارے ہر فعل سے ہر ووقت اور ہر جگہ باخبر رہتے اور علم وقدرت کے اعتبار سے ہر جگہ حاضر و ناظر رہتے ہیں۔ “ وَ مَا یَعْزُبُ ” یہ تخصیص کے بعد اور تعمیم ہے یعنی صرف بندوں کے اعمال و افعال پر ہی منحصر نہیں بلکہ زمین و آسمان کا ایک ذرہ بلکہ اس سے بھی اگر کوئی قلیل اور حقیر مقدار ہو تو وہ بھی اللہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں ساری کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے علم محیط میں موجود ہے۔ “ کِتَابٍ مُّبِیْن ” سے لوح محفوط یعنی علم الٰہی مراد ہے یعنی “ اللوح المحفوظ مع علم اللہ تعالیٰ به ” (قرطبی ج 8 ص 257) ۔ جب علم محیط اور کل اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہوگیا تو آنحضرت ﷺ اور دیگر تمام غیر اللہ سے علم غیب کی نفی متحقق ہوگئی لہذا اللہ تعالیٰ کے سوا کارساز اور متصرف بھی کوئی نہیں۔ کیونکہ کارساز اور متصرف وہی ہوسکتا ہے جو عالم الغیب ہو۔
Ayah 10:62

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

یاد رکھو جو لوگ اللہ کے دوست ہیں نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے79

79: یہ بشارت اخروی ہے۔ “ اَوْلِیَاءَ اللّٰه ” یعنی اللہ کے دوستوں کی آخرت میں یہ شان ہوگی کہ میدان حشر میں اہوال قیامت سے جب اور لوگ گھبرا جائیں گے خوف وہراس سے محفوظ رہیں گے اور جب اور لوگ دنیا میں عملی کوتاہی پر حسرت و افسوس کریں گے اس وقت کوئی غم اور افسوس ان کے دامنگیر نہیں ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی کو عبث اور لا یعنی امور میں صرف نہیں کیا بلکہ ایام زندگی کو اللہ تعالیٰ کی عبادت وطاعت اور اس کی رضا جوئی میں صرف کیا۔ “ لاخوف علیھم فی الاخرة من عقاب اللہ لان اللہ تعالیٰ رضی عنھم فامنھم من عقابه ولا ھم یحزنون علی ما فاتھم من الدنیا ” (ابن جریر ج 11 ص 131) ۔
Ayah 10:63

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

جو لوگ کہ ایمان لائے اور ڈرتے رہے80

80: یہ اولیاء اللہ کی نشانیاں ہیں جن سے انہیں بآسانی پہچانا جاسکتا ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے اولیاء اللہ کی دو صفتیں بیان فرمائی ہیں جو تمام صفات ولایت کی جامع ہیں۔ (1) “ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ” اس سے اعتقاد صحیح کی طرف اشارہ ہے یعنی ان کے تمام عقائد کتاب و سنت کے مطابق ہوں اور ان میں شریعت سے سرِ مو انحرف نہ ہو۔ (2) ۔ “ وَ کَانُوْا یَّتَّقُوْنَ ” اور وہ متقی ہوں یعنی ان کے تمام اعمال و اخلاق شریعت اسلامیہ کے عین مطابق ہوں۔ کتب عقائد میں اس کی تفصیل موجود ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ “ ولی اللہ من یکون اٰتیا بالاعتقاد الصحیح المبنی علی الدلیل ویکون اتیا بالاعمال الصالحة علی وفق ما وردت به الشریعة ” (کبیر ج 17 ص 126) ۔
Ayah 10:64

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لیے خوشخبری دنیا81 کی زندگانی میں اور آخرت میں4 بدلتی نہیں اللہ کی باتیں82 یہی ہے بڑی کامیابی

81: اولیاء اللہ کے لیے دنیا اور آخرت میں جنت کی خوشخبری ہے اور اللہ کی طرف سے پختہ وعدہ ہے دنیا میں خوشخبری سے مراد وہ بشارتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نازل فرمائی ہیں۔ مثلاً “ یُبَشَّرُھُمْ رَبُّھُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ ” (توبہ رکوع 3) اور “ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ الخ ” (بقرة رکوع 3) ۔ “ قال الحسنھی ما یبشرھم اللہ تعالیٰ فی کتابه من جنته و کریم ثوابه بقوله یُبَشِّرُھُمْ رَبُّھُمْ الخ ” (قرطبی ج 8 ص 258) ۔ یا دنیا میں خوشخبری سے مراد رؤیائے صالحہ جیسا کہ حدیث مرفوع میں واقع ہے۔ “ ھی الرؤیا الصالحة یراھا المسلم او یري له ” (مدارک ج 2 ص 129) اور آخرت میں خوشخبری سے مراد یہ ہے کہ موت کے بعد یا قبروں سے نکلنے کے بعد فرشتے ان کو جنت کی بشارت دیں گے۔ 82: اللہ تعالیٰ کے ارشادات میں رد و بدل نہیں ہوسکتا۔ “ کَلِمَاتٍ ” سے اقوال مراد ہیں خواہ احکام واخبار ہوں یا مواعید یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام اٹل ہیں ان میں ترمیم وتبدیل نہیں ہوسکتی مثلاً توحید ہے جو ناقابل تبدیل ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے وعدوں میں تخلف ناممکن ہے۔ “ اي لا تغییر لاقواله التی من جمل تھا مواعیده الخ ” (روح ج 11 ص 152) ۔
Ayah 10:65

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور رنج مت کر ان کی بات سے83 اصل میں سب زور اللہ کے لیے ہے وہی ہے سننے والا جاننے والا

83: یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے، “ اِنَّ الْعِزَّةَ الخ ” یہ ماقبل کے لیے علت ہے یعنی اے میرے پیغمبر آپ مشرکین کی ایذا رسانی اور ان کے توہین آمیز سلوک سے دل برداشتہ اور غمگین نہ ہوں اس سے وہ آپ کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے کیونکہ عزت و ذلت تو اللہ کے اختیار میں اور اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا وآخرت میں عزت و آبرو دینے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ “ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ” وہی ہر بات کو سننے اور جاننے والا ہے اور کوئی نہیں۔ اس سے مقصود شرک فی العلم کی نفی ہے گویا یہ دلیل نہم کا مقدمہ ہے جس سے نفی شرک فی التصرف مقصود ہے۔
Ayah 10:66

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

یاد رکھو اللہ کا ہے جو کوئی ہے آسمانوں میں اور جو کوئی ہے زمین میں84 اور یہ جو پیچھے پڑے ہیں85 اللہ کے سوا شریکوں کو پکارنے والے سو یہ کچھ نہیں مگر پیچھے پڑے ہیں اپنے خیال کے86 اور کچھ نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے ہیں

84: یہ توحید پر نویں عقلی دلیل ہے جس سے شرک فی التصرف کی نفی مقصود ہے دلیل ششم میں فرمایا تھا ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے لہذا تم اپنی طرف سے تحریم و تحلیل نہ کرو یہاں فرمایا زمین و آسمان کی تمام ذوی العقول مخلوق جن و بشر اور فرشتے سب اللہ تعالیٰ کے مملوک و محکوم اور اس کے عاجز بندے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی ہر بات کو سننے اور جاننے والا نہیں اس لیے ان میں سے کوئی بھی دعاء اور پکار کے لائق نہیں۔ جو لوگ اللہ کے نیک بندوں کو حاجات و مشکلات میں پکارتے ہیں ان کے بارے میں ان کا اعتقاد یہ ہوتا ہے کہ وہ عالم الغیب ہیں اور ان کی تمام باتوں کو سنتے اور جانتے ہیں اس لیے پہلے اعلان کردیا گیا کہ ہر بات کو سننے والا اور ہر چیز کو جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ 85: یہ زجر ہے “ اَلَّذِیْنَ ” مع صلہ “ یَتَّبِعُ ” کا فاعل ہے اور “ یَدْعُوْنَ ” کا مفعول محذوف ہے “ اي شرکاء ” اور شرکاء جو مذکور ہے وہ “ یَتَّبِعُ ” کا مفعول ہے یعنی جو لوگ اللہ سے ورے اور شرکاء کو پکارتے ہیں حقیقت میں وہ اللہ کے شرکاء کو نہیں پکارتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے شریک فی الربوبیت کا تو وجود ہی محال ہے۔ “ وَ مَا یَتَّبِعُوْنَ حقیقة الشرکاء وان کانوا یسمونھا شرکاء لان شکرة اللہ فی الربوبیة محال ” (مدارک ج 2 ص 130) ۔ 86: اصل بات یہ ہے کہ مشرکین اپنے ظن وتخمین سے بندگان خدا کو خدا کے شریک سمجھتے ہیں اور پھر اپنے ظن فاسد اور خیال باطل کی پیروی کرتے ہوئے حاجات میں ان کو پکارتے ہیں حالانکہ فی الواقع اللہ تعالیٰ کا شریک نہ موجود ہے نہ اس کا وجود ممکن ہے۔
Ayah 10:67

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہی ہے جس نے بنایا تمہارے واسطے رات کو کہ چین حاصل کرو اس میں اور دن دیا دکھلانے والاف 87 بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں

87: توحید پر دسویں عقلی دلیل۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہی کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے کہ اس نے رات کو تمہارے آرام کے لیے اور دن کو تمہارے کاروبار کے لیے بنایا تو کیا پھر اس کے سوا کوئی اور کارساز یا متصرف ومختار ہوسکتا ہے ؟ معطوف علیہ میں “ جَعَلَ ” کا مفعول ثانی محذوف ہے اصل میں تھا “ جَعَلَ لَکُمُ اللَّیْلَ مظلماً لِّتَسْکُنُوْا فِیْهِ ” یعنی اس نے رات کو تاریک بنایا تاکہ تم اس میں آرام و سکون حاصل کرو۔ اور معطوف میں مفعول ثانی کا متعلق محذوف ہے۔ “ اي والنھار مبصرا لتبصروا فیه ” اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم دیکھ سکو اور معاش وغیرہ کا انتظام کرسکو۔ (مدارک و روح) معطوف علیہ میں متعلق کا ذکر معطوف میں اس کے حذف کا قرینہ ہے علی ہذا معطوف میں مفعول ثانی کا ذکر معطوف علیہ میں اس کے مقدر ہونے پر قرینہ ہے یہ ایجاز اور بلاغت بھی قرآن کا اعجاز ہے۔
Ayah 10:68

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

کہتے ہیں ٹھہرا لیا اللہ نے بیٹا88 وہ پاک ہے89 وہ بےنیاز ہے اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں نہیں تمہارے پاس کوئی سند اس کی کیوں جھوٹ کہتے ہو اللہ پر جب بات کی تم کو خبر نہیں

88: یہ شکویٰ ہے۔ “ وَلَدٌ ” سے مراد حقیق بیٹا نہیں بلکہ اس سے مراد نائب و متصرف ہے جیسا کہ “ اِتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا ” کی تعبیر سے ظاہر ہے یعنی اللہ نے بیٹا بنا لیا “ والاتخاذ صریح فی التبنی ” (روح ج 11 ص 155) ۔ یہود و نصاری حضرت مسیح و عزیر (علیہما السلام) کو خدا کے بیٹے اور مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بایں معنی نہیں کہتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صلبی اولاد ہیں بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کو اس طرح محبوب ہیں جس طرح بیٹے باپ کو محبوب ہوتے ہیں، جس طرح باپ اپنے پیارے بیٹوں اور اپنی چہیتی بیٹیوں کی ہر بات مانتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنے محبوب اور برگزیدہ بندوں کی کوئی بات رد نہیں فرماتا نیز اللہ کے نیک بندے اللہ تعالیٰ کے نائب ہیں اللہ تعالیٰ نے بعض مافوق الاسباب امور میں ان کو اختیارات عطا فرما دئیے ہیں۔ 89: جواب شکویٰ ہے مشرکین کے مذکورہ بالا قول باطل کو پانچ عنوانوں سے رد کیا گیا ہے (1) “ سُبْحٰنَهٗ ” یعنی اللہ تعالیٰ پاک ہے اور اس عیب سے مبرا ہے کہ اسے بیٹے کی ضرورت ہو۔ (2) “ ھُوَ الْغَنِیُّ ” وہ بےنیاز ہے اور بیٹے کی ضرورت احتیاج کی دلیل ہے۔ (3) “ لَهٗ مَا فِیْ السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِیْ الْاَرْضِ ” وہ ساری کائنات کا مالک و مختار ہے اس لیے اسے بیٹے اور نائب کی حاجت نہیں۔ (4) اس قول باطل پر تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں اس لیے یہ دعوی بلا دلیل باطل اور ناقابل تسلیم ہے۔ (5) “ اَ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰهِ مَا لَاتَعْلَمُوْنَ ” تم اللہ تعالیٰ کی طرف ایک ایسی بےدلیل بات منسوب کرتے ہو جو سراسر تمہاری جہالت اور نادانی پر مبنی ہے۔ لہذا ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو اپنا نائب متصرف نہیں بنا رکھا۔
Ayahs 10:69–70

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

کہہ جو لوگ باندھتے ہیں90 اللہ پر جھوٹ بھلائی نہیں پاتے

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

تھوڑا سا نفع اٹھا لینا دنیا میں پھر ہماری طرف ہے ان کو لوٹنا پھر چکھائیں گے ہم ان کو سخت عذاب بدلہ ان کے کفر کا

90: زجر مع تخویف اخروی۔ ایسے لوگ جو اللہ کی طرف ایسی من گھڑت باتیں منسوب کرتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پائیں گے نہ اللہ کے عذاب سے بچ سکیں گے۔ “ اي لا یفوزون ولا یامنون ” (قرطبی ج 8 ص 361) ۔ “ مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا الخ ” یہ بھی تخویف اخروی ہے۔
Ayah 10:71

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اور سنا ان کو حال نوح کا91 جب کہا92 اپنی قوم کو اے قوم اگر بھاری ہوا ہے تم پر میرا کھڑا ہونا اور نصیحت کرنا اللہ کی آیتوں سے تو میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اب تم سب مل کر مقرر کرو اپنا کام اور جمع کرو اپنے شریکوں کو پھر نہ رہے تم کو اپنے کام میں شبہ پھر کر گزرو میرے ساتھ اور مجھ کو مہلت نہ دو

91: یہ تخویف دنیوی کا پہلا تفصیلی نمونہ ہے۔ قوم نوح (علیہ السلام) کا حال دیکھ لو انہوں نے ہمارے پیغمبر کے حکم کی تعمیل نہ کی اور اس کی طرف سے دی گئی دعوت توحید کو قبول نہ کیا تو ہم نے ان کو نیست و نابود کردیا اگر تم نے بھی نہ مانا تو تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔ “ امرہ علیه السلام ان یذکرھم اقاصیص المتقدمین و یخوفھم العذاب الالیم علی کفرھم ” (قرطبی) ۔ 92:“ فَاجْمِعُوْا ” جملہ انشائیہ “ اِنْ ” شرطیہ کی جزا ہے اور “ شُرَکَاءَکُمْ ” کا ناصب محذوف ہے “ اي ادعوا شرکاء کم ” کیونکہ “ شرکاء کم ”، “ اَجْمِعُوْا ” کے تحت داخل نہیں ہوسکتا اس لیے لفظ اجماع بروزن افعال آراء جمع کرنے اور باہمی اتفاق رائے کرنے کے لیے مستعمل ہے لیکن افراد کو جمع کرنے کے لیے مستعمل نہیں۔ “ غُمَّةً ” پوشیدہ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے خطاب کر کے فرمایا اگر تم میں میرا ٹھہرنا اور اللہ کی توحید بیان کرنا تمہیں ناگوار ہے تو مجھے اس کی ذرہ بھر پروا نہیں۔ میرا اعتماد اور بھروسہ اللہ پر ہے اگر تم مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہتے ہو تو سب باہم مل کر مشورہ کرلو اور اپنے خود ساختہ معبودوں کو بھی بلا لو اور پھر ایک واضح فیصلہ کرلو اور پھر ایک لمحہ کی مہلت دئیے بغیر میرے ساتھ جو کرنا چاہتے ہو کرلو اللہ کی مہربانی سے تم میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکو گے۔
Ayahs 10:72–73

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

پھر اگر منہ پھیرو گے تو میں نے نہیں چاہی تم سے مزدوری93 میری مزدوری ہے اللہ پر اور مجھ کو حکم ہے کہ رہوں فرماں بردار

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

پھر اس کو جھٹلایا سو ہم نے بچا لیا اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور ان کو قائم کردیا جگہ پر اور ڈبو دیا ان کو جو جھٹلاتے تھے ہماری باتوں کو، سو دیکھ لے کیسا ہوا انجام ان کا جن کو ڈرایا تھا

93: اگر تم نہیں مانتے ہو تو میرا اس میں کیا نقصان ہے میں تبلیغ توحید پر تم سے کوئی اجرت تو نہیں مانگتا کہ تمہارے نہ ماننے سے مجھے مالی نقصان کا اندیشہ ہو میں تو محض اللہ کے حکم کی تعمیل اور اس کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے تمہیں تبلیغ کرتا ہوں۔ “ فَکَذَّبُوْہ ” لیکن وہ لوگ تکذیب پر اڑے رہے آخر ہم نے ان کو غرق کردیا اور حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو طوفان سے بچا لیا۔ اب دیکھ لو نہ ماننے والوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔
Ayah 10:74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر بھیجے ہم نے نوح کے بعد94 کتنے پیغمبر ان کی قوم کی طرف پھر لائے ان کے پاس کھلی دلیلیں سو ان سے یہ نہ ہوا کہ ایمان لے آئیں اس بات پر جس کو جھٹلا چکے تھے پہلے سے اسی طرح ہم مہر لگا دیتے ہیں دلوں پر حد سے نکل جانے والوں کے

94: یہ تخویف دنیوی کا اجمالی نمونہ ہے، حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ہم نے اور بہت سے رسول بھیجے جو توحید کے واضح دلائل لے کر اپنی قوموں کے پاس آئے مگر انہوں نے ضد وعناد سے کام لیا اور انکار و جحود پر اڑ گئے۔ “ کَذَّبُوْا بِهٖ ” میں ضمیر مجرور کا مرجع “ مَا ” ہے اور “ مَا ” سے شریعت کے وہ تمام عقائد و اعمال اور اصول و فروع مراد ہیں جو ہر پیغمبر لے کر اپنی امت کے پاس آیا “ و ما موصولة والمراد بھا جمیع الشرائع التی جاء بھا کل رسول اصولھا و فروعھا ” (روح ج 11 ص 162) ۔ یعنی ان کے پاس اللہ کے پیغمبر آئے اور انہوں نے پہلی بار پیغام توحید اور دیگر شرائع کا انکار کردیا تو پھر انکار پر ہی ڈٹے رہے پیغمبروں کے بار بار سمجھانے اور واضح دلائل پیش کرنے کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا یا “ کَذَّبُوْا ” کی ضمیر سے قوم نوح مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس پیغام توحید کو قوم نوح نے ان سے پہلے جھٹلا دیا تھا اب یہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ “ التقدیر بما کذب به قوم نوح من قبل ” (قرطبی ج 8 ص 265) ۔ “ کَذٰلِکَ اي لذٰلِک ” یعنی جو لوگ کفر و انکار اور تکذیب و تردید میں حد سے گذر جائیں اور ضد وعناد پر اتر آئیں ان کے دلوں پر ہم ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے مہر جباریت لگا دیتے اور ان سے توفیق ایمان سلب کرلیتے ہیں۔
Ayah 10:75

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر بھیجا ہم نے ان کے پیچھے95 موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر پھر تکبر کرنے لگے اور وہ تھے لوگ گناہ گار

95: یہ تخویف دنیوی کا دوسرا تفصیلی نمونہ ہے، حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس آیت بینات اور دلائل و معجزات دے کر بھیجا گیا مگر فرعون اور اس کی قوم جو حکومت و دولت کے نشہ میں بد مست تھے پیغام حق اور دعوت توحید کو ٹھکرا دیا اور اللہ کے پیغمبر کے ساتھ مجادلہ و مکابرہ پر اتر آئے آخر جب اللہ نے ان کے مطالبہ کے مطابق ان پر اپنی حجت قائم کردی تو بھی وہ ایمان نہ لائے اور تکذیب و انکار پر مصر رہے جس کا انجام انہوں نے اپنی عبرتناک تباہی کی صورت میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔