10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 10:76–77

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

پھر جب پہنچی ان کو96 سچی بات ہمارے پاس سے کہنے لگے یہ تو جادو ہے کھلا

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

کہا موسیٰ نے کیا تم یہ کہتے ہو حق بات کو جب وہ پہنچے تمہارے پاس کیا یہ جادو ہے اور نجات نہیں پاتے جادو کرنے والے

96: جب قوم فرعون کے پاس ہمارے پیغمبر معجزات لے کر پہنچے تو انہوں نے معجزات کو جادو قرار دیا اور ان کے من جانب اللہ ہونے سے انکار کیا۔ “ وَقَالَ مُوْسیٰ الخ ” ان کے اس قول باطل کے جواب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم اللہ کے دئیے ہوئے معجزات کو جو سراپا حق ہیں جادو کہہ رہے ہو کیا یہ معجزے جادو ہیں جو پوری تحدی اور چیلنج کے ساتھ تمہارے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں حالانکہ جادو گروں میں ایسی جرات و جسارت کہاں کہ وہ اس طرح تحدی کریں اور پھر کامیاب بھی ہوجائیں کیونکہ جادو ایک فریب ہے جو چل نہیں سکتا “ یعنی حاصل السحر تمویه و تخییل و صاحب ذلک لا یفلح ” (خازن ج 3 ص 202) ۔
Ayah 10:78

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

بولے97 کیا تو آیا ہے کہ ہم کو پھیر دے اس راستہ سے جس پر پایا ہم نے اپنے باپ دادوں کو اور تم دونوں کو سرداری مل جائے اس ملک میں اور ہم نہیں ہیں تم کو ماننے والے

97: برسر اقتدار لوگوں کو ہمیشہ اپنا وقار و اقتدار بحال رکھنے کی فکر دامنگیر رہتی ہے اور وہ اپنے ملک میں اٹھنے والی ہر تنظیم کا اسی نقطہ نگاہ سے جائزہ لیتے ہیں کہ یہ تنظیم ان کے اقتدار کے لیے کس قدر مفید یا نقصان رساں ہے فرعون نے بھی محسوس کرلیا کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت توحید قبول کرلی گئی تو اس کی خدائی اور ربوبیت ختم ہوجائیگی۔ بات تحفظ اقتدار کی تھی مگر فرعون اور قوم فرعون نے مذہب کی آڑ میں دعوت توحید کی مخالفت کی اور کہا کیا تو ہمیں ہمارے آباء و اجداد کے دین سے منحرف کرنے آیا ہے اور ہمارے ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ “ عَمَّا ”۔ “ مَا ” موصولہ سے مراد دین ہے۔ “ اَلْکِبْرِیَاء ” بڑائی، سرداری اور حکومت۔
Ayahs 10:79–82

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور بولا فرعون98 لاؤ میرے پاس جو جادوگر ہو پڑھا ہوا

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

پھر جب آئے جادوگر کہا ان کو موسیٰ نے ڈالو جو تم ڈالتے ہو

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے ڈالا موسیٰ بولا کہ جو تم لائے ہو سو جادو ہے اب اللہ اس کو بگاڑتا ہے بیشک اللہ نہیں سنوارتا شریروں کے کام

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے اور پڑے برا مانیں گناہ گار

98: آخر فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلے کی ٹھان لی اور ملک کے تمام ماہر جادوگروں کو بلانے کے احکام جاری کردئیے۔ “ فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ الخ ” ملک کے نامی گرامی جادوگر جمع ہوگئے جب مقابلے کے لیے آمنے سامنے ہوئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا جو مکر و فریب لائے پیش کرو۔ “ فَلَمَّا اَلْقَوْا الخ ” جب انہوں نے اپنے جادو کی لاٹھیاں اور رسیاں زمین پر ڈال دیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ تو محض جادو اور مکر و فریب ہے جو ابھی باطل ہوا چاہتا ہے، تم لوگ میرا مقابلہ کر کے دعوت توحید کو روکنا اور شرک کو پھیلنے کا موقع دینا چاہتے ہو جو سراسر فساد فی الارض ہے اور اللہ تعالیٰ فسادیوں کے منصوبوں کو ناکام بناتا ہے۔ “ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ ” اور واضح دلائل وبراہین سے توحید کو غالب اور برتر فرماتا ہے۔ اس کے بعد اندماج ہے یعنی پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاتھی پھینکی جو ان کی تمام لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل گئی یہ دیکھ کر تمام جادوگر سجدہ ریز ہوگئے۔ الخ۔
Ayah 10:83

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

پھر کوئی ایمان نہ لایا موسیٰ پر99 مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے ڈرتے ہوئے فرعون سے اور ان کے سرداروں سے کہ کہیں ان کو بچلا نہ دے اور فرعون چڑھ رہا ہے ملک میں اور اس نے ہاتھ چھوڑ رکھا ہے

99:“ مِنْ قَوْمِهٖ ” کی ضمیر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ فرعون اور اس کی قوم اسرائیلیوں کو ایذائین دیتے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت بنی اسرائیل کے لیے فرعون کی غلامی سے نجات کا پیغام بھی اپنے اندر رکھتی تھی اس لیے وہ دل سے ان کے حامی تے مگر فرعون اور اس کی قوم کے ڈر سے وہ علانیہ ان کی حمایت نہیں کرسکتے تھے مگر اس کے باوجود کچھ نوجوانوں نے ہمت کر کے ایمان کا اظہار کردیا اور علانیہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دین پر آگئے۔
Ayah 10:84

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور کہا موسیٰ نے100 اے میری قوم اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر تو اسی پر بھروسہ کرو اگر ہو تم فرماں بردار

100: جب بنی اسرائیل فرعون اور فرعونیوں کے مظالم و شدائد سے تنگ آگئے اور ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شکویٰ کیا کہ آپ کی آمد سے پہلے ہم یکساں طور پر فرعون کی طرف سے مصائب و آلام میں مبتلا ہیں کیا ہم ہمیشہ اسی حال میں رہیں گے۔ “ اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ” (اعراف رکوع 15) ۔ اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو تسلی دی کہ جب تم اللہ پر ایمان لا چکے ہو تو اللہ پر بھروسہ کرو اور تسلیم و رضا سے کام لو اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ تمہارے دشمن کو ہلاک کر کے اس کے تمام مقبوضات کو تمہارے قبضہ میں دیدے گا۔ پھر تمہارا بھی پتہ چل جائے گا کہ تم کسی ڈگر پر چلتے ہو۔
Ayahs 10:85–86

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

تب وہ بولے ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا101 اے رب ہمارے نہ آزما ہم پر زور اس ظالم قوم کا

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور چھڑا دے ہم کو مہربانی فرما کر ان کافر لوگوں سے

101: قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تلقین پر صبر و استقامت اور توکل علی اللہ کا عہد کرلیا اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ہمیں اس مشرک اور فاسق وفاجر قوم سے نجات عطا فرما اور ہمیں ان کے ہاتھوں ذلت ورسوائی سے بچا۔
Ayah 10:87

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور حکم بھیجا ہم نے موسیٰ کو102 اور اس کے بھائی کو کہ مقرر کرو اپنی قوم کے واسطے مصر میں سے گھر اور بناؤ اپنے گھر قبلہ رو اور قائم کرو نماز اور خوشخبری دے ایمان والوں کو

102: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے قبل بنی اسرائیل اپنی مسجدوں میں عبادت کرتے تھے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مبعوث ہو کر توحید کی دعوت دی تو فرعون اسرائیلیوں پر برہم ہوگیا اور ان کے تمام عبادت خانے گرا دئیے اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کو وحی بھیجی کہ اپنی قوم کو حکم دے دو وہ شہر میں اپنے کچھ گھروں کو عبادت کیلئے مخسوص کرلیں اور انہی میں عبادت بجا لائیں اور نماز قائم کریں اور ساتھ ہی ان کو فرعون سے نجات کی خوشخبری بھی سنا دیں۔ (قرطبی و مظہری) ۔
Ayah 10:88

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور کہا موسیٰ نے103 اب رب ہمارے تو نے دی ہے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو رونق اور مال دنیا کی زندگی میں اے رب اس واسطے کہ بہکائیں تیری راہ سے اے رب مٹا دے ان کے مال اور سخت کر دے ان کے دل کہ نہ ایمان لائیں جب تک دیکھ لیں عذاب دردناک

103: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے معجزات ظاہرہ اور دلائل قاہرہ سے دعوت توحید کو واضح اور الم نشرح کردیا مگر قوم جحود و انکار اور ضد وعناد پر مصر رہی اور وہ ان کے ایمان سے مایوس ہوگئے تو اب ان کے لیے بد دعا کی اور بد دعا کرنے کی وجوہات بھی بیان کردیں کہ اے اللہ تو نے ان کو دنیوی مال و متاع اور شان و شوکت عطا کی ہے اور وہ حب مال وجاہ کی وجہ سے تیری توحید کو نہیں مانتے۔ اے اللہ جن اموال کی وجہ سے وہ مغرور ہیں ان کو تباہ و برباد کردے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دے کہ وہ ایمان کی طرف راغب نہ ہو سکیں کیونکہ اب تیری سنت جاریہ کے مطابق وہ اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ ان کے دلوں پر مہر جباریت لگا دی جائے اور ان سے توفیق ایمان سلب کرلی جائے۔ “ اي اجعلھا قاسیة و اطبع علیھا حتی لاتنشرح للایمان کما ھو قضیة شانھم ” (روح ج 11 ص 173) ۔ “ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا ” میں “ رَبَّنَا ” کا اعادہ بعد عہد کی وجہ سے ہے۔
Ayahs 10:89–92

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

فرمایا قبول ہوچکی دعا تمہاری104 سو تم دونوں ثابت رہو اور مت چلو راہ ان کی جو ناواقف ہیں

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور پار کردیا ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پھر پیچھا کیا ان کا فرعون نے اور اس کے لشکر نے شرارت سے اور تعدی سے یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا بولا یقین کرلیا میں نے کہ کوئی معبود نہیں مگر جس پر کہ ایمان لائے بنی اسرائیل اور میں ہوں فرمانبرداروں میں

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

اب یہ کہتا ہے اور تو نافرمانی کرتا رہا اس سے پہلے اور رہا گمراہوں میں

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

سو آج بچائے دیتے ہیں ہم تیرے بدن کو تاکہ ہو وے تو اپنے پچھلوں کے واسطے نشانی اور بیشک بہت لوگ ہماری قدرتوں پر توجہ نہیں کرتے

104: اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبول دعا کی خوشخبری سنائی گئی کہ تمہاری دعا قبول ہوچکی ہے لیکن ابھی چند دن صبر و استقامت سے کام لینا ہوگا “ وَلَا تَتَّبِعٰنِ الخ ” اللہ پر بھروسہ رکھو وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے امور و احکام کی حکمتوں اور مصلحتوں سے بیخبر ہوتے ہیں وہ اللہ کے وعدوں کے بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہیں اور صبر و استقامت کے بجائے عجلت اور بےصبری کا اظہار کرتے ہیں اے موسیٰ و ہارون ایسے بیخبر لوگوں کی سی کوئی حرکت تم سے ہرگز سرزد نہ ہونے پائے۔ “ وَجَاوَزنَا بِبَنِیْ اِسْرَائِیْلَ الْبَحْرَ ” جب اللہ کے وعدے کے مطابق بنی اسرائیل کی نجات اور فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کا وقت آگیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر راتوں رات شہر سے روانہ ہوگئے جب فرعون کو پتہ چلا تو وہ بھی اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ ان کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوا۔ بنی اسرائیل جب دریا کے کنارے پہنچے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دریا میں اپنا عصا ڈالا تو اس میں بارہ راستے بن گئے اسرائیلی بخیریت پار ہوگئے ان کے پیچھے فرعون بھی مع لاؤ لشکر دریا میں گھس گیا اللہ نے پانی کو روانی کا حکم دیدیا اور فرعون مع قوم غرق ہو کر ہلاک ہوگیا۔ “ قَالَ اٰمَنْتُ الخ ” جب فرعون ڈوب رہا تھا تو اس نے اپنے ایمان کا اعلان کیا کہ میں اس اللہ پر ایمان لے آیا جس کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لا چکے ہیں۔ فرعون کا ایمان عذاب میں مبتلا ہونے کے بعد تھا اس لیے قبول نہ ہوا۔ “ اٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ الخ ” جب ایمان لانے اور اللہ کی عبادت وطاعت کا وقت تھا اس وقت تو نے انکار کیا اور اللہ کی نافرمانیاں کیں اور شرک پھیلا کر دنیا کو شر و فساد سے بھر دیا اس لیے اب ایمان لانے سے کیا فائدہ۔ “ فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ ” یہ “ نجوة ” (اونچی جگہ) سے ماخوذ ہے یعنی آج ہم تیری لاش کو اونچی جگہ ڈالیں گے تاکہ تو باقی ماندہ لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت کا نشان بن جائے “ نلقیک بنجوة من الارض ” (مدارک ج 2 ص 134) ۔ یہ مطلب نہیں کہ تیری لاش کو قیامت تک محفوظ رکھوں گا۔
Ayahs 10:93–95

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو105 پسندیدہ جگہ اور کھانے کو دیں ستھری چیزیں سو ان میں پھوٹ نہیں پڑی یہاں تک کہ پہنچی ان کو خبر بیشک تیرا رب ان میں فیصلہ کرے گا قیامت کے دن جس بات میں کہ ان میں پھوٹ پڑی

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

سو اگر تو ہے شک میں اس چیز سے کہ اتاری ہم نے تیری طرف تو پوچھ ان سے جو پڑھتے ہیں کتاب تجھ سے پہلے بیشک آئی ہے تیرے پاس حق بات تیرے رب سے سو تو ہرگز مت ہو شک کرنے والا

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور مت ہو ان میں جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی باتوں کو پھر تو بھی ہوجائے خرابی میں پڑنے والا

105: بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر و استقامت کی بدولت بہت بڑے بڑے انعامات فرمائے ان کو فرعون کی غلامی سے نجات دی اور ملک شام اور مصر ان کے قبضہ میں دیدئیے اور ہر قسم کی فراخی عیش سے ان کو متمتع کیا مگر انہوں نے انعاماتِ الٰہی کی قدر نہ کی، ان کا شکر ادا نہ کیا اور جس دین توحید کی خاطر انہیں یہ سب کچھ ملا تھا اس کی حفاظت نہ کی بلکہ اسے بدل ڈالا۔ “ فَمَا اخْتَلَفُوْا الخ ” اس کے ساتھ “ بَغْیًا ” کی قید ملحوظ ہوگی بقرینہ “ وَمَاتَفَرَّقُوْا اِلَّا مِنْ بَعْدِ مَاجَاءَھُمُ الْعِلْمُ بَغْیًا بَیْنَھُمْ ” (شوری رکوع 2) ۔ یعنی انہوں نے دلائل وبراہین سے مسئلہ توحید واضح ہوجانے کے بعد محض ضد وعناد اور بغاوت وکجروی سے اس میں اختلاف کیا۔ مزید تفصیل پہلے گذر چکی ہے ملاحظہ تفسیر سورة بقرہ ص 102 حاشیہ نمبر 407.“ فَاِنْ کُنْتَ الخ ” یہ زجر ہے۔ خطاب بظاہر آنحضرت ﷺ سے لیکن مراد غیر رسول ہے کیونکہ آپ کو تو شک تھا ہی نہیں۔ امام ثعلب اور امام مبرد فرماتے ہیں۔ “ فَاِنْ کُنْتُ فِیْ شَکٍّ ” کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد ﷺ آپ ہر کافر سے فرما دیں اگر تجھے کوئی شک ہے الخ۔ “ الخطاب للنبی ﷺ والمراد غیرہ اي لست فی شک ولکن غیرک شک قال ابو عمر محمد بن عبد الواحد الزاھد سمعت الامامین ثعلباً والمبرد یقولان معنی (فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ ) اي قل یا محمد للکافر فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ مِّمَّا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ ” (قرطبی ج 8 ص 382) ۔ قرآن مجید میں مسئلہ توحید و ایسے دلائل و بینات سے بیان کیا گیا ہے کہ اب اس میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی لیکن جو شخص قرآن کے ان دلائل وبراہین کے بعد اور اہل کتاب کے علماء ربانیین کے ایمان لے آنے کے بعد بھی اس میں شک کرے اور اسے نہ مانے تو اس کا انکار انصاف اور عقل پر مبنی نہیں ہوگا بلکہ محض ضد وعناد کی وجہ سے ہوگا۔
Ayahs 10:96–97

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

جن پر ثابت ہوچکی بات تیرے رب کی وہ ایمان نہ لائیں گے106

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

اگرچہ پہنچیں ان کو ساری نشانیاں جب تک نہ دیکھ لیں عذاب دردناک

106: جن لوگوں کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے اگرچہ تمام دلائل ان کے سامنے پیش کردئیے جائیں اور معجزات کا ان کو مشاہدہ کرادیا جائے۔ “ حَتّٰی یَرَوْا الخ ” ان لوگوں کے ایمان لانے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ وہ دردناک عذاب کی لپیٹ میں آجائیں مگر اس وقت کا ایمان بےسود ہوگا۔ “ اي عند الیاس فیومنون ولا ینفعھم او عند القیامة ولا یقبل منھم ” (مدارک ج 2 ص 135) ۔
Ayah 10:98

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

سو کیوں نہ ہوئی کوئی بستی107 کہ ایمان لاتی پھر کام آتا ان کو ایمان لانا مگر یونس کی قوم جب وہ ایمان لائی اٹھا لیا ہم نے ان پر سے ذلت کا عذاب دنیا کی زندگانی میں اور فائدہ پہنچایا ہم نے ان کو ایک وقت تک

107: بہت سی بستیاں تکذیب انبیاء ورسل (علیہم السلام) کی وجہ سے سزاوار عذاب ٹھہریں اور اجل معین پر عذاب سے ان کو ہلاک کردیا گیا اگر وہ آثار عذاب کو دیکھ کر ایمان لے آتے تو ان کی نجات ہوجاتی اور ایمان سے ان کو فائدہ مل جاتا مگر کسی قوم کو یہ بات میسر نہ ہوئی البتہ قوم یونس (علیہ السلام) نے خوش قسمتی سے ایسا کیا جب انہوں نے آثار عذاب دیکھتے تو ڈر گئے اور ایمان لے آئے تو ہم نے عذاب اٹھا کر ان کو دنیا کی ذلت ورسوائی سے بچالیا۔ “ و المعنی ھلا کانت قریة واحدة من القرٹ التی اھلکنا ھا ثابت عن الکفر واخلصت فی الایمان قبل معاینة العذاب الا قوم یونس ولکن قوم یونس لما اٰمنوا فعلنا بھم کذا وکذا ” (کبیر ج 17 ص 165) ۔
Ayah 10:99

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور اگر تیرا رب چاہتا108 بیشک ایمان لے آتے جتنے لوگ کہ زمین میں ہیں سارے تمام اب کیا تو زبردستی کرے گا لوگوں پر کہ ہوجائیں با ایمان

108: یہ آنحضرت ﷺ کیلئے تسلی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی خواہش تھی کہ سب لوگ ایمان لے آئیں اور مشرکین کے مسلسل انکار پر آپ آزردہ خاطر ہوتے اللہ نے فرمایا آپ کی خوشی کیلئے اگر میں تمام لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کرتا تو کرسکتا تھا مگر یہ میری حکمت بالغہ کیخلاف ہے اس طرح ابتلاء وامتحان کی حکتم فوت ہوجاتی۔ یہاں “ جَمِیْعًا ” کے بعد “ وَ لٰکِنْ لِیَبْلُوَکُمْ ” مقدر ہے بقرینہ “ وَ لَوْ شَاءَ اللّٰهُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْمَا اٰتٰکُمْ ” (مائدہ رکوع 7) ۔
Ayah 10:100

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

اور کسی سے نہیں ہوسکتا109 کہ ایمان لائے مگر اللہ کے حکم سے اور وہ ڈالتا ہے گندگی ان پر جو نہیں سوچتے

109: اللہ تعالیٰ کے حکم تکوینی اور اس کی مشیت و توفیق کے بغیر کوئی شخص ایمان نہیں لاسکتا اور توفیق صرف انہی لوگوں کو ملتی ہے جو اللہ کی آیتوں میں عقل و فکر سے کام لیں اور ان کے دلوں میں ضد نہ ہو بلکہ انابت اور تلاش حق کا جذبہ ہو۔ “ اَلرِّجْسُ ” شرک کی پلیدی۔ جو لوگ عقل خداداد سے کام نہیں لیتے وہ ہمیشہ شرک کی نجاست سے ملوث رہتے ہیں۔
Ayah 10:101

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

تو کہہ دیکھو تو کیا کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں110 اور کچھ کام نہیں آتی نشانیاں اور ڈرانے والے ان لوگوں کو جو نہیں مانتے

110: آپ ان کو زمین و آسمان کی عجائب المخلوقات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دیں مگر یہ تکوینی دلائل اور انبیاء ورسل (علیہم السلام) کی آسمانی تعلیم ایسے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں دیتی جن سے مہر جباریت کی وجہ سے توفیق ایمان سلب کرلی گئی ہو۔
Ayah 10:102

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

سو اب کچھ نہیں جس کا انتظار کریں مگر انہی کے سے دن جو گزر چکے ہیں ان سے پہلے111 تو کہہ اب راہ دیکھو میں بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھتا ہوں

111: یہ تخویف دنیوی ہے۔ ضدی اور معاند لوگوں پر دلائل و آیات کا کوئی اثر نہیں ہوتا بس ان کے لیے یہی ایک راہ باقی ہے کہ گذشتہ معاند قوموں کا جو حشر ہوا یہ بھی اپنے لیے اسی انجام کا انتظار کریں لہذا تم بھی اس وقت کا انتظار کرو اور میں بھی اس کا انتظار کرتا ہوں تاکہ حق و باطل اور صادق و کاذب کا فیصلہ ہوجائے۔
Ayah 10:103

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

پھر ہم بچا لیتے ہیں اپنے رسولوں کو اور ان کو جو ایمان لائے اسی طرح112 ذمہ ہے ہمارا بچا لیں گے ایمان والوں کو

112:“ ثُمَّ ” تراخی کے لیے نہیں بلکہ تعقیب ذکری کیلئے ہے اور یہ ماننے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔
Ayah 10:104

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

ف 113: کہہ دے اے لوگوں اگر تم شک میں ہو میرے دین سے تو میں عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا اور لیکن میں عبادت کرتا ہوں اللہ کی جو کھینچ لیتا ہے تم کو اور مجھ کو حکم ہے کہ رہوں ایمان والوں میں

113: یہ دعوائے سورت کا علی سبیل التفصیل بیان ہے۔ کہ جب سب کچھ کرنے والا، اور ساری کائنات کا مالک و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہی ہر بات سنتا اور ہر چیز کو جانتا ہے اور اس کے سامنے کوئی شفیع غالب نہیں تو پھر حاجات و مشکلات میں مافوق الاسباب غائبانہ صرف اسی کو پکارو اور کسی کو نہ پکارو۔ “ فَلَا اَعْبُدُ الخ ” معبودانِ باطلہ کے استحقاق عبادت اور ان کی الوہیت کی نفی ہے۔ یعنی کلمہ توحید کے جزء اول “ لَا اِلٰهَ ” کا مضمون اس میں بیان کیا گیا ہے۔ “ وَ لٰکِنْ اَعْبُدُ الخ ” یہ “ اِلَّا اللّٰهُ ” کا مضمون ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات۔ جب تک تمام معبودانِ باطلہ کی نفی اور ایک اللہ کی الوہیت کا اثبات نہ کیا جائے اس وقت تک توحید کامل نہیں ہوسکتی۔
Ayahs 10:105–106

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور یہ کہ سیدھا کر منہ اپنا دین پر حنیف ہو کر114 اور مت ہو شرک والوں میں

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور مت پکار اللہ کے سوا ایسے کو کہ نہ بھلا کرے تیرا اور نہ برا پھر اگر تو ایسا کرے تو تو بھی اس وقت ہو ظالموں میں

114: یہ “ اَنْ اَکُوْنَ ” پر معطوف ہے۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ خالصۃً دین حنیف یعنی وہ دین جو ہر قسم کے شرک سے پاک ہے اس کی طرف اپنا رخ سیدھا رکھوں اور شرک کی جانب ادنیٰ میلان بھی نہ کروں۔ “ وَ لَا تَدْعُ الخ ”۔ پہلے “ فَلَا اَعْبُدُ ” میں عبادت غیر اللہ کی نفی کی گئی۔ عبادت کا جزو اعظم چونکہ دعاء اور پکار ہے اس لیے یہاں بالاستقلال غیر اللہ کی پکار سے ممانعت فرمائی۔ یعنی تیرا نفع اور نقصان جن کے قبضہ و اختیار میں نہیں۔ انہیں حاجات میں ہرگز نہ پکار، پکار کے لائق صرف اللہ اللہ تعالیٰ ہی ہے ہر چیز جس کے اختیار و تصرف میں ہے۔ “ فلا حکم الا لله ولا رجوع فی الدارین اِلَّا اللّٰه ” (کبیر ج 17 ص 173) ۔ یہ خطاب بھی ہر انسان سے ہے اگرچہ بظاہر حضور ﷺ ہی مخاطب ہیں کیونکہ آپ کی ذات سے تو غیر اللہ کو پکارنے کا ادنی امکان بھی نہیں۔ “ والمعنی ولا تدع ایھا الانسان من دون اللہ ما لا ینفعک الخ ” ّ (خازن ج 3 ص 215) ۔
Ayah 10:107

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر پہنچا دیوے تجھ کو اللہ115 کچھ تکلیف تو کوئی نہیں اس کو ہٹانے والا اس کے سوا اور اگر پہنچانا چاہے تجھ کو کچھ بھلائی تو کوئی پھیرنے والا نہیں اس کے فضل کو پہنچائے اپنا فضل جس پر چاہے اپنے بندوں میں اور وہی ہے بخشنے والا مہربان

115: یہ ماقبل کے لیے بمنزلہ دلیل ہے۔ یعنی نفع اور نقصان تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اگر تو کسی مصیبت اور تکلیف میں گرفتار ہو تو اس کو اللہ کے سوا دور کرنے والا کوئی نہیں اور اگر اللہ تعالیٰ تجھے بہتری اور بھلائی عطا کرنے کا ارادہ فرما لے تو اسے روکنے کی کسی کو مجال نہیں وہ جسے چاہے تکلیف دے اور جس کو چاہے آرام و راحت عطا فرمائے جب نفع و ضرر اس کے اختیار و تصرف میں ہے تو پھر اس کے سوا کسی اور کو مت پکارو “ وَ اِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰهُ بِضُرٍّ ۔ تقریر لا او دفی حیز الصلة من سلب النفع من المعبودات الباطلة و تصویر لاختصاصه به سبحانه الخ ” (روح ج 11 ص 199) ۔
Ayah 10:108

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

کہہ دے اے لوگوں116 پہنچ چکا حق تم کو تمہارے رب سے اب جو کوئی راہ پر آئے سو وہ راہ پاتا ہے اپنے بھلے کو اور جو کوئی بہکا پھرے سو بہکا پھرے گا اپنے برے کو اور میں تم پر نہیں ہوں مختار

116: یہ مسئلہ توحید مان لینے کی ترغیب ہے۔ لوگو ! اللہ کی طرف سے حق تمہارے پاس آچکا ہے اور دلائل سے واضح ہوچکا ہے اس لیے اسے قبول کرلو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے جو شخص توحید اور دین حق کو قبول کرتا ہے وہ اپنے ہی بھلے کا کام کرتا ہے اور جو اس کا انکار کرتا ہے وہ انکار وجحود کا نتیجہ اور اس کا ضرر بھی خود ہی پائے گا۔ “ وَ مَا اَنَا عَلَیْکُمْ بِوَکِیْلٍ ” میرا کام تبلیغ حق ہے۔ میں نے اپنا فریضہ تبلیغ ادا کردیا باقی رہا تم سے منوانا تو وہ میرا کام نہیں۔
Ayah 10:109

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

اور تو چل اسی پر جو حکم پہنچے تیری طرف117 اور صبر کر جب تک فیصلہ کرے اللہ اور وہ ہے سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا

117: یہ توحید پر دلیل وحی ہے۔ یعنی مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس چیز کی پیروی کروں جو میری طرف وحی کی گئی ہے اور مسئلہ توحید جس طرح دلائل کے ساتھ میں نے بیان کیا ہے بالکل بعینہ اسی طرح ذریعہ وحی مجھ پر نازل ہوا ہے۔ “ وَاصْبِرْا لخ ”۔ یہ آپ کے لیے تسلی ہے۔ یعنی اتباع وحی کی وجہ سے اگر آپ کو کوئی تکلیف یا گزند پہنچے تو آپ صبر وثبات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اور آپ کے دشمنوں کے درمیان آپ کو کامیاب و کامران اور ان کو ناکام اور ذلیل و خوار کر کے اپنا آخری فیصلہ فرما دے۔ “ و المعنی انه تعالیٰ امرہ باتباع الوحی والتنزیل فان وصل الیه بسبب ذلک الاتباع مکروہ فلیصبر علیه الی ان یحکم اللہ فیه وَھُوَ خَیْرُ الْحٰکِمِیْنَ (کبری ج 17 ص 176) و لا یخفی ما فی ھذہ الایات من الموعظة الحسنة وتسلیة النبی صلی اللہ علیه وسلم و وعد للمؤمنین والوعید للکافرین ” (روح ج 11 ص 202) سورة یونس کی خصوصیات اور اس میں آیات توحید 1 ۔ “ اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ ” تا “ ذٰلِکُمُ اللّٰهُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ۔ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ ”۔ (رکوع 1) نفی شرک اعتقادی و نفی شفاعت قہری۔ “ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْ بَعْدِ اِذْنِهٖ ” یہ اس سورت کی خصوصیت ہے۔ 2 ۔ “ ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَاءً ” تا “ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ ” (رکوع 1) نفی شرک فی التصرف، 3 ۔ “ وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ” تا “ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ” (رکوع 2) ۔ نفی شرک فی التصرف و نفی شفاعت قہری جو اس سورت کی خصوصیت ہے۔ 4 ۔ “ وَیَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ” تا “ مَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ” (رکوع 3) ۔ دنیا میں جن کو کارساز سمجھ رکھا ہے آخرت میں وہ اپنے پجاریوں کی دعاء اور پکار سے لا علمی کا اظہار کریں گے۔ 5 ۔ “ ھُوَ الَّذِيْ یُسَیِّرُکُمْ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ” تا “ فَنُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ”(رکوع 3) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ مشرکین مشکل ترین کاموں میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے تھے۔ یہ بھی اس سورت کی خصوصیت ہے۔ 6 ۔ “ قُلْ ھَلْ مِنْ شُرَکَاءِکُمْ ” تا “ فَمَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ ” (رکوع 4) ۔ جن کو تم نے خدا کے شریک بنا رکھا ہے وہ بالکل عاجز اور بےبس ہیں اس لیے الوہیت کے لائق نہیں ہیں۔ 7 ۔ “ اَلاَ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِیْ السَّمٰوٰتِ ” تا “ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ ” (رکوع 6) ۔ نفی شرک فی التصرف 8 ۔ “ قُلْ اَرَاَیْتُمْ مَّا اَنْزَلَ اللّٰهُ ” تا “ اَمْ عَلَی اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ ” (رکوع 6) ۔ نفی شرک فعلی، تحریمات غیر اللہ اور نذر لغیر اللہ۔ یہ سورت کی خصوصیت ہے۔ 9 ۔ “ وَ مَا تَکُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَاتَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ ” تا “ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ” (رکوع 7) ۔ نفی شرک فی العلم۔ 10 ۔ “ ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَکُمُ اللَّیْلَ ” تا “ لِقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ” (رکوع 7) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 11 ۔ “ قُلْ یَا اَیُّھَا النَّاسُ اِنْ کُنْتُمْ ” تا “ وَ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ” (رکوع 11) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ الحمد للہ۔ سورة یونس ختم ہوئی