12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsجواھر القرآن

Ayah 12:41

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

اے رفیقو قید خانہ کے37 ایک جو ہے تم دونوں میں سو پلائے گا اپنے خاوند کو شراب اور دوسرا جو ہے سولی دیا جائے گا، پھر کھائیں گے جانور اس کے سر میں سے فیصل ہوا وہ کام جس کی تحقیق تم چاہتے تھے

37:۔ دونوں قیدیوں کو دعوت اسلام دینے اور ان پر مسئلہ توحید واضح کرنے کے بعد ان کے خوابوں کی تعبیر بیان فرمائی کہ ان میں سے ایک یعنی ساقی دوبارہ دربار شاہی میں اپنی ملازمت پر بحال ہوجائے گا اور اپنے آقا کو شراب پلانے کی خدمت انجام دے گا کیونکہ اس کا جرم ثابت نہیں ہوسکے گا۔ لیکن دوسرا یعنی شاہ کا باورچی مجرم ثابت ہوگا اس لیے اسے سولی پر لٹکایا جائے گا اور پرندے اس کا بھیجا نوچ کھائیں گے۔ ” قُضِیَ الْاَمْرُ الخ “ تمہارے خوابوں کی جو تعبیر میں نے بیان کی ہے وہ لا محالہ ہو کر رہے گی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے مذکورہ تعبیر وحی سے بیان کی تھی یا علم تعبیر کی بنا پر۔ آپ چونکہ نبی تھے اس لیے آپ کی تعبیر اٹل تھی۔ انھما لما سالاہ عن ذلک المنام صدقا فیہ او کذبا فان اللہ تعالیٰ اوحی الیہ ان عاقبۃ کل واحد منھما تکون علی الجوہ المخصوص فلما نزل الوحی بذلک الغیب عند ذلک السؤال وقع فی الظن انہ ذکرہ علی سبیل التعبیر (کبیر ج 18 ص 143) ۔
Ayah 12:42

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور کہہ دیا یوسف نے اس کو جس کو گمان کیا تھا38 کہ بچے گا ان دونوں میں میرا ذکر کرنا اپنے خاوند کے پاس سو بھلا دیا اس کو شیطان نے ذکر کرنا اپنے خاوند سے پھر رہا قید میں کئی برس

38:۔ ظن بمعنی علم و یقین ہے کیونکہ تعبیر ذریعہ وحی بیان کی گئی تھی۔
Ayahs 12:43–44

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور کہا بادشاہ نے میں خواب میں دیکھتا ہوں سات گائیں موٹی ان کو کھاتی ہیں سات گائیں دبلی اور سات بالیں ہری اور دوسری سو کھی اے دربار والو تعبیر کہو مجھ سے میرے خواب کی اگر ہو تم خواب کی تعبیر دینے والے

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

بولے یہ خیالی خواب ہیں اور ہم کو ایسے خوابوں کی تعبیر معلوم نہیں

39:۔ یہ آٹھواں حال ہے۔ شاہ مصر نے خواب میں دیکھا کہ سات دبلی پتلی گائیں دوسری سات موٹی گائیوں کو کھا گئی ہیں اسی طرح اس نے سات تروتازہ خوشے دیکھے جو دوسرے سات خشک خوشوں پر لپٹ گئے ہیں۔ شاہ مصر اس خواب سے گھبرایا اور صبح شہر کے علماء کاہنوں اور نجومیوں کو بلا کر ان کے سامنے اپنا خواب بیان کیا اور ان سے کہا کہ اس کی تعبیر بیان کرو۔ ” قَالُوْا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ “ ان میں سے کسی کی سمجھ میں اس کی تعبیر نہ آئی اس لیے اسے خواب پریشاں کہہ کر ٹال دیا اور کہا کہ خیال پریشان ہے یہ خواب ہے ہی نہیں اس لیے اس کی کوئی تعبیر نہیں۔
Ayah 12:45

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اور بولا وہ جو40 بچا تھا ان دونوں میں سے اور یاد آگیا اس کو مدت کے بعد میں بتاؤں تم کو اس کی تعبیر سو تم مجھ کو بھیجو

40:۔ ” اُمَّۃً “ مدت طویلہ مراد ہے بعد مدۃ طویلۃ الخ (مدارک ج 2 ص 172) ۔ ساقی جب الزام زہر خورانی سے بری ہو کر قید سے آزاد کردیا گیا تو اسے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اپنے بادشاہ سے ذکر کرنا یاد نہ رہا اور اس پر ایک عرصہ گذر گیا یہاں تک کہ شاہ مصر کے خواب کا معاملہ پیش آیا اور سب اہل علم وخرد اس کی تعبیر سے عاجز ہوگئے تو ساقی کو حضرت یوسف (علیہ السلام) یاد آئے اس نے کہا ٹھہرو اس کی تعبیر میں ابھی لے کر آتا ہوں۔ ” فَاَرْسِلُوْنِ “ یعنی مجھے قید خانے میں داخل ہونے کا خاص اجازت نامہ دے کر بھیجو۔
Ayah 12:46

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

جا کر کہا اے یوسف اے سچے حکم دے ہم کو اس خواب میں سات گائیں موٹی ان کو کھائیں سات دبلی اور سات بالیں ہری اور دوسری سوکھی تاکہ لے جاؤں میں لوگوں کے پاس شاید ان کو معلوم ہو41

41:۔ اس سے پہلے اندماج ہے یعنی پھر انہوں نے ساقی کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس بھیجا اور اس نے جا کر شاہ مصر کا خواب ان کے سامنے بیان کیا فی الکلام حذف ای فارسلوہ فاتاہ فقال یا یوسف الخ (روح ج 12 ص 254) ۔ ” اَیُّھَا الصِّدِّیْقُ “ اے بہت ہی سچ بولنے والے۔ ساقی قید خانے میں چند دن حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ رہ کر نیز اپنے خواب کے معاملہ میں ان کی سچائی کا تجربہ کرچکا تھا اس لیے ان کو لقب صدیق سے خطاب کیا۔
Ayahs 12:47–49

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

کہا تم کھیتی کرو گے سات برس جم کر 42 سو جو کاٹو اس کو چھوڑ دو اس کی بال میں مگر تھوڑا سا جو تم کھاؤ

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر آئیں گے اس کے بعد سات برس سختی کے کھا جائیں گے جو رکھا تم نے ان کے واسطے مگر تھوڑا سا جو روک رکھو گے بیج کے واسطے

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر آئے گا اس کے پیچھے ایک برس اس میں مینہ برسے گا لوگوں پر اور اس میں رس نچوڑیں گے

42:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے شاہ مصر کے خواب کی تعبیر اس طرح بیان فرمائی کہ پہلے سات سال تک تم لوگ حسب عادت کھیتی باڑی کرو گے اور غلہ اگاؤ گے لیکن ایسا کرنا کہ خوشوں سے دانے نہ نکالنا بلکہ خوشوں ہی کا ذخیرہ کرلینا تاکہ غلہ خراب نہ ہو اور اسے کیڑا نہ لگ جائے البتہ کھانے کے لیے جس قدر غلہ درکار ہو وہ خوشوں سے نکال لینا۔ ” ثُمَّ یَاْتِیْ الخ “ پھر اس کے بعد سات سال سخت قحط کے آئیں گے ان میں تم اپنا پہلے سات سالوں کا تمام ذخیرہ ختم کر ڈالو گے پھر اس کے بعد خوشحالی کا دور شروع ہوگا، بارش خوب ہوگی اور پھل میوے اور غلے وافر پیدا ہوں گے۔ خواب سے سات سال خوشحالی اور غلہ کی فراوانی کے اور پھر سات سال قحط کے مفہوم ہوتے ہیں اس لیے دونوں مدتوں کے بعد پھر خوشحالی کے دور کا آغاز ہونا بیان فرما دیا تاکہ اس کے بعد قحط کے ختم ہونے کا لوگوں کو اطمینان ہوجائے۔
Ayahs 12:50–51

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

اور کہا بادشاہ نے43 لے آؤ اس کو میرے پاس، پھر جب پہنچا اس کے پاس بھیجا ہوا آدمی کہا44 لوٹ جا اپنے خاوند کے پاس اور پوچھ اس سے کیا حقیقت ہے45 ان عورتوں کی جنہوں نے کاٹے تھے ہاتھ اپنے میرا رب تو ان کا فریب سب جانتا ہے

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

کہا بادشاہ نے عورتوں کو کیا حقیقت ہے تمہاری جب تم نے پھسلانا چاہا یوسف کو اس کے نفس کی حفاظت سے بولیں حاشا اللہ ہم کو معلوم نہیں اس پر کچھ برائی بولی عورت عزیز کی اب کھل گئی سچی بات میں نے پھسلانا چاہا تھا اس کو اس کے جی سے اور وہ سچا ہے

43:۔ یہ پندرہ احوال میں سے نواں حال ہے ساقی نے جب شاہ کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بتائی ہوئی تعبیر بیان کی اور ساتھ ہی غلے کو ذخیرہ کرنے کا جو طریقہ انہوں نے بتایا تھا اس سے ذکر کیا تو شاہ مصر نے محسوس کیا کہ اس کے قید خانے میں ایک ایسا صاحب علم و بصیرت شخص موجود ہے جو اس کے دربار کی رونق ہونا چاہئے اور اس کے علم و تدبر اور فہم و فراست سے ملکی معاملات میں استفادہ کرنا چاہئے اس لیے انہیں فوراً اپنے پاس حاضر کرنے کا حکم دیا ” وَاْتُوْنِی بِہٖ “ لما راٰی من علمہ و فضلہ واخبارہ عما لا یعلمہ الا اللطیف الخبیر (روح ج 12 ص 257 ۔ 44:۔ شاہ کا فرستادہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچا تو انہوں نے سمجھا کہ جب تک شاہ کے سامنے اور تمام پبلک کے سامنے ان کی براءت ثابت نہ ہوجائے اس وقت تک وہ جیل سے باہر قدم نہ رکھیں۔ کیونکہ اس کے بغیر پبلک کے دلوں میں اور شاہ کے دل میں یہ وسوسہ باقی رہے گا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے اپنے آقا کی خیانت کی تھی اگرچہ زبان سے وہ اس کا اظہار نہ کریں۔ خشی ان یخرج و ینال من الملک مرتبۃ و یسکت عن امر ذنبہ صفحا فیراہ الناس بتلک العین ابدًا و یقولون ھذا الذی راود امراۃ مولاہ فاراد یوسف (علیہ الصلوۃ والسلام) ان یبین براء تہ ویحقق منزلتہ من العفۃ والخیر و حینئذ یخرج للاخطاء والمنزلۃ (قرطبی ج 9 ص 207) ۔ 45:۔ یعنی ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے مجھے گناہ میں پھنسانے کے لیے مکر کیے تھے وہ اب کیا کہتی ہیں۔ ” قَالَ مَاخَطْبُکُنَّ “ چناچہ شاہ نے ان عورتوں کو اور عزیز مصر کی بیوی کو بلا کر ان سے پوچھا کہ بتاؤ جب تم نے یوسف کو ورغلانے کی کوشش کی تھی تو کیا تم نے اپنی جانب اس کا کچھ میلان پایا تھا ھل وجدتن فیہ میلا الیکن (روح) ۔ ” قُلْنَ خَاشَ لِلّٰہِ الخ “ تو سب بول اٹھیں حاشا و کلا ہم نے یوسف میں کوئی برائی نہیں پائی اور اس نے ہماری طرف ادنی رغبت اور میلان بھی نہیں کیا۔ ” قَالَتِ امْرَاَۃُ الْعَزِیْزِ الخ “ اب زلیخا بھی بولی کہ اب تو حق بات واضح ہوچکی ہے اس لیے اب چھپانے سے کچھ نہیں بن سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ قصور میرا ہی تھا۔ میں ہی نے یوسف کو ورغلایا تھا وہ اپنی بات کا سچا اور کیریکٹر کا پختہ ہے۔
Ayah 12:52

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

یوسف نے کہا یہ اس واسطے کہ عزیز معلوم کر لیوے کہ میں نے اس کی چوری نہیں کی چھپ کرف 46 اور یہ کہ اللہ نہیں چلاتا فریب دغا بازوں کا

46:۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ امرۃ العزیز کا قول ہے یا حضرت یوسف (علیہ السلام) کا۔ حضرت قتادہ، حسن اور حضرت ابن عباس کے نزدیک یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قول ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ بادشاہ کو معلوم ہوجائے کہ میں نے عزیز مصر کی عدم موجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی۔ لِیَعْلَمَ کا فاعل بادشاہ ہے نہ کہ عزیز مصر کیونکہ وہ اس وقت مرچکا تھا۔ قال ابن عباس فارسل الملک الی النسوۃ والی امراۃ العزیز وکان قد مات العزیز (قرطبی ج 9 ص 207) لیعلم الملک انی لم اخنہ بالغیب (کبیر ج 18 ص 154) ۔
Ayah 12:53

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں پاک نہیں کہتا اپنے جی کو47 بیشک جی تو سکھلاتا ہے برائی مگر جو رحم کردیا میرے رب نے بیشک میرا رب بخشنے والا ہے مہربان

47:۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی براءت کا اظہار کیا تو خیال آیا میں خود ہی اپنی ذات کا تزکیہ کر رہا ہوں یہ تو سب کچھ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہوا ہے اس لیے انکسار و تواضع کے طور پر فوراً کہا ” وَ مَا اُبَرِّئُ نَفْسِیْ الخ “ میں اپنی ذات کا تزکیہ نہیں کرتا نفس انسانی بڑا سرکش ہے اس کے اغواء سے صرف وہی بچ سکتا ہے جس کی اللہ تعالیٰ محض اپنی مہربانی سے دستگیری فرمائے۔ وَمَا اُبَرِّئُ نَفْسِیْ ھضم للنفس و انکسار و تواضع للہ عز و جل فان رؤیۃ النفس فی مقام العصمۃ والتزکیۃ ذنب عظیم فاراد ازالۃ ذلک عن نفسہ الخ (خازن ج 3 ص 290) قال الحسن لما قال یوسف ذٰلِکَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْہُ بِالْغَیْبِ کرہ نبی اللہ ان یکون قد زکی نفسہ فقال وَ مَا اُبَرِّئُ نَفْسِیْ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ الخ، تزکیۃ النفس مذمومۃ الخ۔ (قرطبی ج 9 ص 210 و خازن) ۔
Ayah 12:54

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

اور کہا بادشاہ نے لے آؤ48 اس کو میرے پاس میں خالص کر رکھوں اس کو اپنے کام میں پھر جب بات چیت کی اس سے49، کہا واقعی تو نے آج سے ہمارے پاس جگہ پائی معتبر ہو کر

48:۔ جب بادشاہ پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامنی اور عصمت واضح ہوگئی تو اب اس نے حکم دیا کہ انہیں فورًا میرے پاس لاؤ میں انہیں اپنا خاص مشیر بنا لوں اور اپنی مملکت کے اہم امور اس کے سپرد کردوں۔ ای اجعلہ خالصا لنفسی، افوض الیہ امر مملکتی (قرطبی ج 9 ص 212) ۔ 49:۔ جب دونوں مل کر بیٹھے اور کھل کر گفتگو ہوئی تو شاہ پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ایسی خوبیاں ظاہر ہوئیں جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھیں تو اس نے اعلان کیا کہ آج سے ہمارے یہاں آپ کو بہت بلند مرتبہ عطا کیا جاتا ہے اور حکومت کے تمام معاملات میں آپ معتمد علیہ اور امین ہیں۔ ذومکانۃ و منزلۃ امین مؤتمن علی کل شیء (مدارک ج 2 ص 174) ۔
Ayah 12:55

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

یوسف نے کہا مجھ کو مقرر کر ملک کے خزانوں پر50 نگہبان ہوں خوب جاننے والا

50:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے سمجھ لیا کہ شاہ مصر اب لازمی طور پر حکومت کا کوئی محکمہ ان کے سپرد کرے گا اس لیے انہوں نے خود ہی اپنے کو ایک ایسے محکمہ کے لیے پیش کردیا جس کا براہ راست تعلق پبلک سے تھا تاکہ متوقع قحط کے زمانے میں مخلوقِ خدا سے پوری پوری ہمدردی ہوسکے اور ہر ایک کو اس کا حق مل جائے اور قحط کے زمانہ میں غلے کی حفاظت اور اس کے خرچ کا انتظام درست رہے۔ انہ (علیہ السلام) علم بالوحی انہ سیحصل القحط والضیق الشدید الذی ربما افضی الی ھلاک الخلق العظیم فلعلہ تعالیٰ امرہ بان یدبر فی ذلک ویاتی بطریق لاجلہ یقل ضرر ذلک القحط فی حق الخلق (کبیر ج 18 ص 161) ۔
Ayahs 12:56–57

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اور یوں قدرت دی ہم نے یوسف کو51 اس زمین میں جگہ پکڑتا تھا اس میں جہاں چاہتا پہنچا دیتے ہیں ہم رحمت اپنی جس کو چاہیں اور ضائع نہیں کرتے ہم بدلہ بھلائی والوں کا

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور ثواب آخرت کا بہتر ہے ان کو جو ایمان لائے اور رہے پرہیزگاری میں

51:۔ کاف بیان کمال کے لیے ہے۔ یوں ہم نے یوسف کو قید خانے سے نکال کر حکومت پر متمکن فرمایا اور سارا ملک مصر ان کے تصرف میں دے دیا کہ وہ جہاں چاہیں جائیں اور جہاں چاہیں رہیں۔ ہم اپنے مخلص بندوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں اور ان کے صبر کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ ” وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَۃِ الخ “ یہ تو دنیا میں جزاء ہے اور آخرت کی جزاء اس سے کہیں زیادہ اور اعلیٰ وارفع ہے۔
Ayah 12:58

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور آئے بھائی یوسف کے52 پھر داخل ہوئے اس کے پاس تو اس نے پہچان لیا ان کو، اور وہ نہیں پہچانتے تھے

52:۔ یہ دسواں حال ہے۔ اس سے پہلے اندماج ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) خزائن الارض کے وزیر مقرر ہوگئے اور سات سال تک زمین کی پیداوار کا ذخیرہ کرتے رہے۔ سات سال کے بعد قحط پڑگیا اور دور دور سے لوگ غلہ لینے کے لیے مصر آنے لگے۔ اسی سلسلہ میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی مصر میں ان کے پاس آئے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا مگر وہ ان کو نہ پہچان سکے۔ ان کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یوسف اس قدر بلند وبالا مرتبہ پر پہنچ جائے گا۔
Ayahs 12:59–61

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

اور جب تیار کردیا ان کو ان کا اسباب53 کہا لے آئیو میرے پاس ایک بھائی جو تمہارا ہے باپ کی طرف سے تم نہیں دیکھتے ہو کہ میں پورا دیتا ہوں ناپ اور خوب طرح اتارتا ہوں مہمانوں کو

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

پھر اس کو نہ لائے میرے پاس تو تمہارے لیے بھرتی نہیں میرے نزدیک اور میرے پاس نہ آئیو

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

بولے ہم خواہش کریں گے اس کے باپ سے اور ہم کو یہ کام کرنا ہے

53:۔ جب بھائیوں کو غلہ دے کر رخصت کرنے لگے تو فرمایا اپنے گیارہویں بھائی کو بھی ساتھ لانا تم نے دیکھ لیا کہ میں کتنا چھا معاملہ کرتا ہوں، پورا ناپ کردیتا ہوں اور مہمانوں کی بھی خدمت و تواضع کرتا ہوں۔ ” فَاِنْ لَّمْ تَاتُوْنِیْ بِہٖ الخ “ اگر تم اسے ساتھ نہیں لاؤ گے تو میرے پاس مت آنا میں تمہیں غلہ نہیں دوں گا۔ ” قَالُوْا سَنُرَاوِدُ “ انہوں نے کہا ہم اسے لانے کے لیے اس کے باپ سے کوئی حیلہ بہانہ ضرور کریں گے اور اسے ساتھ لے کر آئیں گے۔
Ayah 12:62

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور کہہ دیا اپنے خدمت گاروں کو54 رکھ دو ان کی پونجی ان کے اسباب میں شاید اس کو پہچانیں جب پھر کر پہنچیں اپنے گھر شاید وہ پھر آجائیں

54:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ملازموں سے فرمایا اس مال کو جس کے عوض انہوں نے غلہ خریدا ہے ان کی بوریوں میں واپس کردو۔ ممکن ہے جب وہ واپس گھر پہنچیں تو اپنا مال پہچان لیں اور ازراہِ دیانت و امانت ہمیں واپس دینے کے لیے دوبارہ مصر آئیں۔
Ayahs 12:63–64

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

پھر جب پہنچے اپنے باپ کے پاس55 بولے اے باپ روک دی گئی ہم سے بھرتی سو بھیج ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو کہ بھرتی لے آئیں، اور ہم اس کے نگہبان ہیں

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

کہا میں کیا اعتبار کروں تمہارا اس پر مگر وہی جیسا اعتبار کیا تھا اس کے بھائی پر اس سے پہلے، سو اللہ بہتر ہے نگہبان اور وہی ہے سب مہربانوں سے مہربان

55:۔ جب وہ واپس والد گرامی کی خدمت میں پہنچے تو عرض کیا کہ بنیامین کا حصہ تو ہم سے روک لیا گیا ہے جب تک وہ ہمارے ساتھ نہیں جائے گا اس وقت تک ہمیں اس کے حصے کا غلہ نہیں ملے گا۔ اس لیے آپ اسے ہمارے ساتھ بھیج دیں ہم اس کی پوری پوری حفاظت کریں گے۔ ” قَالَ ھَلْ اٰمَنُکُمْ عَلَیْہِ الخ “ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا جس طرح میں نے یوسف کے بارے میں تم پر اعتماد کیا تھا اسی طرح بنیامین کے بارے میں تم پر اعتماد کروں یعنی تم ایک بار میرے اعتماد کو مجروح کرچکے ہو لیکن اچھا خدا حافظ ہے اور وہ مہربان ہے مجھے امید ہے کہ وہ مجھ پر جدائی کی دو مصیبتیں مسلط نہیں فرمائے گا۔ فارجوا ان ینعم علی بحفظہ ولا یجمع علی مصیبتین (مدارک ج 2 ص 176) ۔
Ayah 12:65

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور جب کھولی اپنی چیز بست56 پائی اپنی پونجی کہ پھیر دی گئی ان کی طرف، بولے اے باپ ہم کو اور کیا چاہیے، یہ پونجی ہماری پھیر دی ہے ہم کو اب جائیں تو رسد لائیں ہم اپنے گھر کو اور خبرداری کریں گے اپنی بھائی کی اور زیادہ لیویں بھرتی ایک اونٹ کی وہ بھرتی آسان ہے

56:۔ جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ بھی واپس اس میں موجود ہے تو کہنے لگے ابا جان ! ہمیں اور کیا چاہئے ہمیں غلہ بھی مل گیا اور سرمایہ بھی واپس آگیا والمعنی ای شیء نطلب وراء ھذا و فی لنا الکیل و رد علینا الثمن (قرطبی ج 9 ص 214) ۔ ” وَنَمِیْرُ اَھْلَنَا وَ نَحْفَظُ الخ “ ہم دوبارہ جا کر اہل و عیال کے لیے غلہ لائیں گے، بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ مزید غلہ لے کر آئیں گے یہ غلہ ہمیں آسانی سے مل جائے گا صرف چھوٹے بھائی کو ساتھ لے جانے کی ضرورت ہے۔
Ayah 12:66

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

کہا ہرگز ہرگز نہ بھیجوں گا اس کو تمہارے ساتھ57 یہاں تک کہ دو مجھ کو عہد خدا کا کہ البتہ پہنچا دو گے اس کو میرے پاس، مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم سب پھر جب دیا اس کو سب نے عہد بولا اللہ ہماری باتوں پر نگہبان ہے

57:۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا جب تک تم اس کی واپسی کے لیے اللہ تعالیٰ کا عہد نہیں دوگے اس تک میں اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا۔ چناچہ جب انہوں نے عہد دے دیا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کو وداع کرتے ہوئے فرمایا ” لَاتَدْخُلُوْا مِنْ بَابٍ وَّاحِدٍ الخ “ مصر میں سب ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا تاکہ تم کو کسی کی نظر بد نہ لگ جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو حسن و جمال اور قوت و قامت کی خوبیاں عطا فرمائی تھیں۔ وانما امرھم بذلک لانہ خاف علیھم العین النھم کانوا قد اعطوا جمالا وقوۃ وامتداد قامۃ الخ (خازن ج 3 ص 298) ۔
Ayah 12:67

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور کہا اے بیٹو نہ داخل ہونا ایک دروازہ سے اور داخل ہونا کئی دروازوں سے جدا جدا اور میں نہیں بچا سکتا58 تم کو اللہ کی کسی بات سے حکم کسی کا نہیں سوائے اللہ کے اسی پر مجھ کو بھروسہ ہے اور اسی پر بھروسہ چاہیے بھروسہ کرنے والوں کو

58:۔ میں تقدیر الٰہی کو نہیں روک سکتا جو کچھ ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا۔ ” اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّہِ “ قضا وقدر اللہ کے اختیار میں ہے۔ میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اور سب کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ میں نے تو محض ایک حیلے کے طور پر یہ کہا ہے۔
Ayah 12:68

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب داخل ہوئے جہاں سے59 کہا تھا ان کے باپ نے کچھ نہ بچا سکتا تھا ان کو اللہ کی کسی بات سے مگر ایک خواہش تھی یعقوب کے جی میں سو پوری کرچکا، اور وہ تو خبردار تھا جو کچھ ہم نے اس کو سکھایا، لیکن بہت لوگوں کو خبر نہیں

59:۔ یہ گیارہواں حال ہے۔ لَمَّا کا جواب محذوف ہے۔ ای وقع ما قضی اللہ مختلف دروازوں سے ان کا داخل ہونا ان کے لیے کوئی فائدہ مند نہ تھا یہ محض حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے دل کی ایک خواہشت تھی جو انہوں نے ظاہر کردی۔ ” اِلَّا حَاجَۃً “ مستثنیٰ منقطع ہے۔ اِلَّا بمعنی لٰکن ہے اور حاجۃ سے پہلے فعل اظھر مقدر ہے۔ ” قَضٰھَا “ ای اظھرہا فوصی بھا۔ (مظہری ج 5 ص 48) ۔
Ayah 12:69

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب داخل ہوئے یوسف کے پاس60 اپنے پاس رکھا اپنے بھائی کو، کہا تحقیق میں ہوں بھائی تیرا سو غمگین مت ہو ان کاموں سے جو انہوں نے کیے ہیں

60:۔ جب تمام بھائی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انہوں نے بنیامین کو اپنے پاس ٹھہرایا اور اسے بتا دیا کہ میں تمہارا بھائی یوسف ہوں اس لیے بڑے بھائی تمہارے ساتھ جو ناروا سلوک کرتے تھے اب اس کا غم نہ کرنا۔ اس پر بنیامین نے کہا کہ اب مجھے ان کے ساتھ ہرگز نہ بھیجو اور مجھے اپنے پاس ہی رکھو۔ یہی سبب تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بنیامین کو اپنے پاس رکھنے کا حیلہ سوچا۔
Ayahs 12:70–72

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

پھر جب تیار کردیا ان کے واسطے اسباب ان کا61 رکھ دیا پینے کا پیالہ اسباب میں اپنے بھائی کے پھر پکارا پکارنے والے نے اے قافلہ والو تم تو البتہ چور ہو

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

کہنے لگے منہ کر کے ان کی طرف تمہاری کیا چیز گم ہوگئی

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

بولے ہم نہیں پاتے بادشاہ کا پیمانہ اور جو کوئی اس کو لائے اس کو ملے ایک بوجھ اونٹ کا، اور میں ہوں اس کا ضامن

61:۔ جب بھائیوں کو غلہ دیکر رخصت کرنے لگے اور سب کا مال ومتاع تیار کرنے لگے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے آنکھ بچا کر سقایہ (پانی پینے کا برتن جس سے غلہ ناپنے کا کام بھی لیتے تھے) ۔ بنیامین کے سامان میں خود رکھ دیا یا کسی نوکر سے رکھوا دیا۔ ” ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ الخ “ جب وہ اپنا مال و متاع اونٹوں پر لاد کر روانہ ہوگئے تو پیمانے کی غلہ ناپنے کے لیے ضرورت پڑی مگر پیمانہ مفقود تھا ملازموں نے خیال کیا کہ ابھی ابھی کنعانی قافلہ روانہ ہوا ہے شاید وہی چرا لے گئے ہوں چناچہ وہ ان کے پیچھے دوڑے اور ان میں سے ایک نے انہیں آواز دی اے قافلہ والو ! ٹھہرو تم چور معلوم ہوتے ہو۔ ” قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا الخ “ وہ پیچھے پلٹے اور ان سے پوچھا کہ تمہاری کیا چیز چوری ہوگئی۔ ” قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِکِ “ انہوں نے کہا بادشاہ کا صواع گم ہوگیا ہے۔ آواز دینے والے نے کہا جو شخص بادشاہ کا پیمانہ واپس کردے گا میں اسے اونٹ کا بوجھ غلہ دلاؤں گا اور میں اس کی ضمانت لیتا ہوں۔ سقایہ اور صواع اور ایک ہی چیز کے دو نام ہیں کیونکہ اس سے دونوں کام لیے جاتے تھے والسقایۃ والصواع شیء واحد (قرطبی ج 9 ص 229) ۔
Ayahs 12:73–74

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

بولے قسم اللہ کی62 تم کو معلوم ہے ہم شرارت کرنے کو نہیں آئے ملک میں اور نہ ہم کبھی چور تھے

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

بولے پھر کیا سزا ہے اس کی، اگر تم نکلے جھوٹے

62:۔ فرزندان یعقوب (علیہ السلام) نے کہا تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم یہاں فساد کرنے نہیں آئے اور نہ چوری کرنا ہمارا کام ہے۔ فرزندان یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے اونٹوں کے منہ باندھ رکھے تھے تاکہ وہ لوگوں کی کھیتی باڑی کا نقصان نہ کریں نیز انہوں نے وہ سرمایہ بھی واپس کردیا تھا جو پہلی بار ان کے سامان میں واپس چلا گیا تھا۔ استشہدوا بعلمھم لما ثبت عندھم من دلائل دینھم وامانتھم حیث دخلوا وافوہ رواحلھم مشدودۃ لئلا تتناول زرعا او طعاما لاحد من اھل السوق و لانھم ردوا بضاعتھم التی وجدوھا فی رحالھم (مدارک ج 2 ص 178) ۔
Ayah 12:75

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

کہنے لگے اس کی سزا یہ کہ جس کے اسباب میں سے ہاتھ آئے وہی اس کے بدلے میں جائے ہم یہی سزا دیتے ہیں ظالموں کو63

63:۔ انہوں نے کہا اگر تم جھوٹے ثابت ہوجاؤ اور تم ہی میں سے کوئی چور ہو تو پھر اس کی سزا کیا ہوگی۔ انہوں نے جواب دیا جس کے سامان سے پیمانہ برآمد ہو اسے غلام بنا لیا جائے اور ہمارے یہاں یہی دستور ہے۔ آل یعقوب (علیہ السلام) میں دستور تھا جو شخص چوری کرے وہ ایک سال تک صاحب مال کی غلامی کرے (مدارک) ۔
Ayah 12:76

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پھر شروع کیں یوسف نے64 ان کی خرجیاں دیکھنی اپنے بھائی کی خرجی سے پہلے آخر کو وہ برتن نکالا اپنے بھائی کی خرجی سے یوں داؤ بتا دیا ہم نے یوسف کو وہ ہرگز نہ لے سکتا تھا اپنے بھائی کو دین میں اس بادشاہ کے مگر جو چاہے اللہ ہم درجے بلند کرتے ہیں جس کے چاہیں اور ہر جاننے والے سے اوپر ہے ایک جاننے والا

64:۔ سب کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے حاضر کیا گیا انہوں نے پہلے بڑے بھائیوں کے سامان کی تلاشی لی اور آخر میں بنیامین کے سامان سے پیمانہ برآمد ہوگیا۔ ” کَذٰلِکَ کِدْنَا لِیُوْسُفَ “ کاف بیان کمال کے لیے ہے یعنی ہم نے یوسف کو یوں تدبیر سجھائی ورنہ بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ اپنے بھائی کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے کیونکہ شاہ مصر کا دستور یہ تھا کہ چور سے مال مسروقہ کی قیمت سے دوگنا جرمانہ وصول کر کے اسے چھوڑ دیا جائے (کبیر) ۔
Ayah 12:77

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

کہنے لگے اگر اس نے چرایا65 تو چوری کی تھی اس کے ایک بھائی نے بھی اس سے پہلے تب آہستہ سے کہا66 یوسف نے اپنی جی میں اور ان کو نہ جتایا کہا جی میں کہ تم بدتر ہو درجہ میں اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم بیان کرتے ہو

65:۔ فرزندان یعقوب (علیہ السلام) نے یہ واقعہ دیکھ کر شرم سے سرجھکا لیے اور کہنے لگے اگر بنیامین نے چوی کی ہے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں اس سے پہلے اس کے بھائی نے بھی چوری کی تھی۔ بنیامین کے بھائی سے حضرت یوسف (علیہ السلام) مراد ہیں۔ اور ان کی چوری کا قصہ یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بچپن میں پھوپھی نے پرورش کی تھی۔ اور وہ اس کے پاس رہتے تھے جب ذرا بڑے ہوئے تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ان کی پھوپھی انہیں بہت چاہتی اور ان سے والہانہ محبت کرتی تھیں وہ ان کی واپسی پر راضی نہ تھیں اس لیے انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے پاس رکھنے کا ایک حیلہ نکالا کہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کا منطقہ جو انہیں وراثت میں ملا تھا یوسف (علیہ السلام) کی کمر میں کپڑوں کے نیچے باندھ دیا اور پھر کہا کہ میرا منطقہ گم ہوگیا ہے اس کی تلاشہ کی جائے تلاش کرنے پر وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی کمر سے بندھا ہوا پایا گیا اس دستور کے مطابق یوسف (علیہ السلام) پھر ان کو واپس مل گیا۔ (کبیر و قرطبی وغیرہ) ۔ 66:۔ بھائیوں کی بات سن کر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دل میں کہا تم اس سے بھی بد تر اعمال کے مرتکب ہوئے ہو۔ تم نے دھوکہ سے یوسف کو باپ سے جدا کی اور اسے جنگل کے ایک کنوئیں میں پھینک دیا۔ اور رات کو گھر جا کر باپ کے سامنے غلط بیان کی کہ یوسف کو بھیڑئیے نے پھاڑ کھایا ہے تم جو کچھ کہہ رہے ہو اللہ تعالیٰ تو اس کی حقیقت سے باخبر ہے۔
Ayah 12:78

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

کہنے لگے اے عزیز67 اس کا ایک باپ ہے بوڑھا بڑی عمر کا سو رکھ لے ایک کو ہم میں سے اس کی جگہ ہم دیکھتے ہیں تو ہے احسان کرنے والا

67:۔ اب وہ عزیز مصر حضرت یوسف (علیہ السلام) سے درخواست کرنے لگے کہ نیامین کا باپ بہت بوڑھا ہے وہ بیٹے کی جدائی کا صدمہ برداشت نہیں کرسکے گا اس لیے آپ اسے چھوڑ دیں اور اس کی جہ ہم میں سے کسی ایک کو رکھ لیں آپ ہمیں نیکو کار اور محسن نظر آتے ہیں اس لیے امید ہے کہ آپ ہماری درخواست کو رد نہیں فرمائیں گے۔
Ayah 12:79

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

بولا اللہ پناہ دے کہ ہم کسی کو پکڑیں68 جس کے پاس پائی ہم نے اپنی چیز تو تو ہم ضرور بےانصاف ہوئے

68:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا ظلم سے خدا کی پناہ۔ ہم تو صرف اسی کو رکھیں گے جس سے ہمارا مال برآمد ہوا ہے اس کی جگہ دوسرے کو رکھیں تو ہم ظالم ہیں۔ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا میں اِلَّا بمعنی سوی ہے۔