12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 12:80–81

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

پھر جب ناامید ہوئے اس سے69 اکیلے ہو بیٹھے مشورہ کرنے کو، بولا ان میں بڑا کیا تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ نے لیا ہے تم سے عہد اللہ کا اور پہلے جو قصور کرچکے ہو یوسف کے حق میں سو میں تو ہرگز نہ سرکوں گا اس ملک سے جب تک کہ حکم دے مجھ کو باپ میرا یا قضیہ چکا دے اللہ میری طرف اور وہ ہے سب سے بہتر چکانے والا

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

پھر جاؤ اپنے باپ کے پاس اور کہو اے باپ تیرے بیٹے نے تو چوری کی اور ہم نے وہی کہا تھا جو ہم کو خبر تھی اور ہم کو غیب کی بات کا دھیان نہ تھا

69:۔ یہ بارہواں حال ہے۔ جب وہ بنیامین کی واپسی سے ناامید ہوگئے تو علیحدہ ہو کر مشورہ کیا۔” قَالَ کَبِیْرُھُمْ الخ “ بڑے بھائی یہودا نے کہا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم اپنے باپ کو اللہ کا عہد دے کر آئے ہو اور اس سے پہلے تم یوسف کے بارے میں بھی غلطی کرچکے ہو اس لیے میں تو یہاں سے نہیں ہلوں گا یہاں تک کہ باپ مجھے اجازت دے یا اللہ تعالیٰ مجھے بذریعہ الہام واپس جانے کا حکم فرما دے یا اللہ تعالیٰ میرے واپس جانے کی کوئی اور باعزت راہ نکال دے۔ یعنی عزیز مصر بنیامین مجھے واپس دے دے اور میں اسے لے کر واپس چلا جاؤ۔ ” اِرْجِعُوْا اِلیٰ اَبِیْکُمْ الخ “ تم سب واپس جاؤ اور والد گرامی کی خدمت میں عرض کرنا کہ بنیامین چوری کے جرم میں پکڑ لیا گیا۔ جو کچھ ہم نے آنکھوں سے دیکھا ہے وہی بیان کر رہے ہیں۔ اصل حقیقت کا ہمیں کوئی علم نہیں اور نہ ہم غیب ہی جانتے ہیں۔
Ayahs 12:82–83

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور پوچھ لے اس بستی سے جس میں ہم تھے70، اور اس قافلہ سے جس میں ہم آئے ہیں اور ہم بیشک سچ کہتے ہیں

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

بولا کوئی نہیں، بنالی ہے تمہارے جی نے ایک بات اب صبر ہی بہتر ہے شاید اللہ لے آئے میرے پاس ان سب کو وہی ہے خبردار حکمتوں والا

70:۔ آپ مصر میں آدمی بھیج کر تصدیق کرلیں اور ان قافلہ والوں سے دریافت فرما لیں جن کے ہمراہ ہم آئے ہیں آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ ہم سچ کہہ رہے ہیں۔ ” قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ الخ “ اس سے پہلے اندماج ہے۔ جب نو بھائی مصر سے روانہ ہو کر واپس وطن پہنچے اور سارا ماجرا حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا نہیں اس میں بھی تمہارا ہی فریب ہے تم نے یوسف کی طرح بنیامین کو بھی کہیں غائب کردیا ہے۔ اچھا میرا کام تو صبر ہی ہے یہ دکھ میرے لیے مقدر ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تینوں بھائیوں کو صحیح سلامت واپس لائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) غیب داں نہ تھے کیونکہ انہوں نے بنیامین کے معاملہ میں بھی اپنے بیٹوں کو ملزم قرار دیا حالانکہ اس میں ان کا کوئی قصور نہ تھا۔
Ayah 12:84

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

اور الٹا پھرا ان کے پاس سے71، اور بولا اے افسوس یوسف پر اور سفید ہوگئیں آنکھیں اس کی غم سے سو وہ آپ کو گھونٹ رہا تھا

71:۔ بیٹوں کی لائی ہوئی ناپسندیدہ خبر پر اظہار کراہت کے طور پر ان سے اعراض کیا اور بنیامین کی جدائی سے غم یوسف (علیہ السلام) تازہ ہوگیا۔ ” وَابْیَضَّتْ عَیْنَاہُ “ غم فراق یوسف میں زیادہ رونے کی وجہ سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی آنکھیں سفید ہوگئیں۔ ” فَھُوَ کَظِیْمٌ“ اور وہ بیٹوں پر سخت ناراض تھے مگر ناراضی کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا غم یوسف میں اس قدر رونا اور اس قدر رنج وحزن کا اظہار بتقاضائے بشریت تھا۔ انسان کی فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ غم واندوہ کے موقع پر وہ اپنے کو قابو میں نہیں رکھ سکتا یہی وجہ ہے کہ انسان کا صبر قابل تعریف ہے۔ و یجوز للنبی (علیہ السلام) ان یبلغ بہ اجزع ذلک المبلغ لان الانسان مجبول علی ان لا یملک نفسہ عند الحزن فلذلک حمد صبرہ الخ (مدارک ج 2 ص 180) ۔
Ayah 12:85

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

کہنے لگے قسم اللہ کی تو نہ چھوڑے گا یوسف کی یاد کو جب تک کہ گھل جائے یاف 72 ہوجائے مردہ

72:۔ ” حَرَضًا “ قریب الموت یا جسمانی اور دماغی لحاظ سے بیکار۔ بیٹوں نے کہا آپ اب بھی یوسف کو نہیں بھلاتے وہ خدا جانے کب کا مٹ مٹا چکا ہے آپ ہمیشہ یوسف کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آپ کی تمام قوتیں جواب دے چکیں یا آپ ہلاک ہوجائیں مگر یوسف کو اب نہیں دیکھ پائیں گے۔
Ayah 12:86

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

بولا میں تو کھولتا ہوں اپنا اضطراب اور غم اللہ کے سامنے73 اور جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے

73:۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا میں اپنا غم واندوہ اللہ سے بیان کرتا ہوں کیونکہ وہی غمزدہ اور اندوہ گیں لوگوں کا غمگسار اور یار و مددگار ہے اور اللہ کی طرف سے مجھے وہ علم حاصل ہے جو تمہیں حاصل نہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ میرا بیٹا یوسف زندہ ہے کیونکہ بچپن میں اس نے جو خواب دیکھا تھا وہ برحق ہے اس لیے وہ یقیناً ہم سے ملے گا اور میں اور تم سب اس کے سامنے سجدہ بجا لائیں گے۔ معناہ واللہ اعلم ان رؤیا یوسف حق وصدق وانی اوانتم سنسجد لہ (خازن ج 3 ص 310) یا مطلب یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ انبیاء (علیہم السلام) پر امتحانات آتے رہتے ہیں لیکن آخر میں آرام و راحت کا وقت بھی آتا ہے۔ یوسف کی جدائی ایک امتحان ہے اس لیے مجھے یقین ہے کہ اس ابتلاء کے بعد اللہ تعالیٰ یوسف سے میری ملاقات ضرور کرائے گا۔
Ayah 12:87

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

اے بیٹو جاؤ اور تلاش کرو یوسف کی74 اور اس کے بھائی کی اور ناامید مت ہو اللہ کے فیض سے بیشک ناامید نہیں ہوتے اللہ کے فیض سے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں

74:۔ اب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں سے فرمایا جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کی تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے نامید نہ ہونا کیونکہ اللہ کی رحمت سے ناامید ہونا کافروں کا شیوہ ہے۔
Ayah 12:88

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

پھر جب داخل ہوئے اس کے پاس75 بولے اے عزیز پڑی ہم پر اور ہمارے گھر پر سختی اور لائے ہیں ہم پونجی ناقص سو پوری دے ہم کو بھرتی اور خیرات کر ہم پر اللہ بدلہ دیتا ہے خیرات کرنے والوں کو

75: یہ تیرہواں حال ہے فرزندان یعقوب (علیہ السلام) اب تیسری بار مصر وارد ہوگئے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی اے عزیز ! ہم اور ہمارے اہل و عیال قحط سالی کی وجہ سے سخت تکلیف میں مبتلا ہیں اور اس دفعہ تو ہم بہت تھوڑی سی پونجی لائے ہیں۔ آپ مہربانی فرما کر ہمیں پورا غلہ دیدیں اور ہم پر احسان فرمائیں اللہ تعالیٰ آپ کو اس احسان کی جزا دے گا۔ ” مُزْجَاۃٍ “ معمولی، ناقص، بہت تھوڑی ای ببضاعۃ روؤیۃ کا سدۃ لاتنفق فی الطعام الا بتجوز من البائع (خازن ج 3 ص 311) ۔
Ayahs 12:89–90

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

کہا کچھ تم کو خبر ہے76 کہ کیا کیا تم نے یوسف سے اور اس کے بھائی سے جب تم کو سمجھ نہ تھی

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

بولے کیا سچ تو ہی ہے یوسف کہا میں یوسف ہوں اور یہ ہے میرا بھائی اللہ نے احسان کیا ہم پر البتہ جو کوئی ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ ضائع نہیں کرتا حق نیکی والوں کا

76:۔ اب کی بار جب بھائیوں نے اپنے اہل و عیال کی تکلیف اور فاقہ کا ذکر کیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) بےاختیار ہوگئے اور راز فاش کردیا اور بھائیوں سے کہا کیا تمہیں معلوم ہے جو سلوک تم یوسف اور اس کے بھائی بنیامین سے کیا کرتے تھے جب تم نادان تھے۔ ولما قالوا مَسَّنَا وَ اَھْلَنَا الضُّرُّ و تضرعوا الیہ و طلبوا منہ ان یتصدق علیھم ارفضت عیناہ ولم یتمالک ان عفرھم نفسہ (مدارک ج 2 ص 181) ۔ ” قَالُوْا ءَاِنَّکَ الخ “ بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ جو سلوک کیا تھا وہ ایک راز تھا جسے ان کے اور یوسف (علیہ السلام) کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا اس لیے وہ سمجھ گئے یہ یوسف ہی ہے اور بول اٹھے کیا تم یوسف ہی ہو ؟۔ ” قَالَ اَنَا یُوْسُفُ الخ “ انہوں نے فرمایا ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا کہ طویل جدائی کے بعد ہمیں دوبارہ ملا دیا حقیقت یہ ہے کہ جو شخص راہ تقویٰ اختیار کرے اور مصائب پر صبر کرے اللہ تعالیٰ ایسے نیک لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
Ayahs 12:91–92

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

بولے قسم اللہ کی77، البتہ پسند کرلیا تجھ کو اللہ نے ہم سے اور ہم تھے چوکنے والے

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

کہا کچھ الزام نہیں تم پر آج بخشے اللہ تم کو اور وہ ہے سب مہربانوں سے مہربان

77:۔ اب بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برتری اور فوقیت و فضیلت کا اقرار کیا اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرلیا۔ ” قَالَ لَا تَثْرِیْبَ الخ “ مگر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کوئی سرزنش نہ فرمائی اور معافی کا صاف اعلان کردیا کہ آج تم پر کوئی گرفت نہیں میں اپنا حق معاف کرتا ہوں اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔
Ayah 12:93

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

لے جاؤ یہ کرتہ میرا48 اور ڈالو اس کو منہ پر میرے باپ کے کہ چلا آئے آنکھوں سے دیکھتا ہوا، اور لے آؤ میرے پاس گھر اپنا سارا

48:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی قمیص اتار کر بھائیوں کو دی اور فرمایا یہ لے جاؤ اور محترم ابا جان کے چہرے پر ڈالو اس سے ان کی بینائی میں جو نقص واقع ہوگیا ہے ٹھیک ہوجائے گا اور تمام اہل و عیال کو لے کر میرے پاس آجاؤ قمیص میں شفاء کا ہونا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو وحی سے معلوم ہوا تھا جیسا کہ محققین نے فرمایا ہے قال المحققون ان علم یوسف بان القاء ذلک القمیص علی وجہ یعقوب یوجب رد البصر کان بوحی اللہ الیہ ذلک (خازن ج 3 ص 314) ۔
Ayahs 12:94–95

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب جدا جدا ہوا قافلہ79 کہا ان کے باپ نے میں پاتا ہوں بو یوسف کی اگر نہ کہو مجھ کو بوڑھا بہک گیا

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

لوگ بولے قسم اللہ کی توُ تو اپنی اسی قدیم غلطی میں ہے

79: فرزندان یعقوب (علیہ السلام) کا قافلہ جب مصر سے روانہ تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے پوتوں اور دیگر اہل قرابت سے فرمایا آج مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے اگر تم مجھے بےعقل نہ کہو اور میری بات مان لو تو تمہیں میری بات کی سچائی عنقریب معلوم ہوجائے گی۔ لَوْلَا کا جواب محذوف ہے ای لتعلمون ذلک۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو حضرت یعقوب (علیہ السلام) تک کس طرح پہنچی اس کے بارے میں امام رازی فرماتے ہیں کہ یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بطور معجزہ پہنچائی تھی۔ والتحقیق ان یقال انہ تعالیٰ اوصل تلک الرائحۃ الیہ علی سبیل اظھار المعجزات لان وصول الرائحۃ الیہ من ھذہ المسافۃ البعیدۃ امر مناقض للعادۃ فیکون معجزۃ الخ (کبیر ج 18 ص 208) ۔ ” قَالُوْا تَااللہِ الخ “ پوتوں وغیرہ نے یہ بات سن کر کہا دادا ابا جان ! آپ اپنی پرانی بھول میں ہیں اور اب تک یوسف سے دوبارہ ملاقات کے آرزو مند ہیں۔ بھلا یوسف اب آپ کو کہاں سے مل سکتا ہے۔
Ayah 12:96

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

پھر جب پہنچاف 80 خوشخبری والا ڈالا اس نے وہ کرتہ اس کے منہ پر پھر لوٹ کر ہوگیا دیکھنے والا بولا میں نے نہ کہا تھا تم کو کہ میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے

80:۔ ” اَلْبَشِیْرُ “ خوشخبری دینے والا۔ مراد یہودا ہے کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قمیص انہی کے پاس تھی۔ اس نے کہا تھا یوسف کی خون آلود قمیص بھی میں ہی لے کر والد کے پا گیا تھا لہذا آج بشارت کی قمیص بھی میں ہی لے کر جاؤں گا تاکہ پہلی غلطی کی تلافی ہوجائے۔ قال یہودا انا احمل قمیص الشفاء کما ذھبت بقمیص الجفاء (مدارک ج 2 ص 182) ۔ جب قمیص آپ کے چہرہ مبارک پر ڈالی گئی تو آپ کی بینائی بحال ہوگئی اور آپ نے فرمایا دیکھا تم نے میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ علم رکھتا ہوں جو تمہیں حاصل نہیں۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے خوشخبری لانے سے سب سے پہلے یہ سوال کیا کہ تو نے یوسف کو کس دین پر چھوڑا ؟ اس نے جواب دیا اسلام پر، فرمایا اب اللہ کی رحمت تام ہوگئی۔ عن سفیان لما جاء البشیر الی یعقوب قال لہ علی ای دین ترکت یوسف ؟ قال علی الاسلام، قال الان تمت النعمۃ (قرطبی ج 9 ص 261) ۔
Ayahs 12:97–98

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

بولے اے باپ81 بخشوا ہمارے گناہوں کو بیشک ہم تھے چوکنے والے

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

کہا دم لو بخشواؤں گا تم کو اپنے رب سے وہی ہے بخشنے والا مہربان

81:۔ اب بیٹوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ سے معافی مانگیں کیونکہ ہم سے بہت بڑا گناہ سر زد ہوا ہوم نے بلا وجہ آپ کو گم و الم میں اتنا طویل عرصہ مبتلا رکھا۔ ” قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ “۔ فرمایا عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس سے وقت سحر تک تاخیر مراد ہے کیونکہ وہو قت قبولیت دعاء کے لیے خاص اثر رکھتا ہے۔ (قرطبی وغیرہ) ۔
Ayah 12:99

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

پھر جب داخل ہوئے82 یوسف کے پاس جگہ دی اپنے پاس اپنے ماں باپ کو، اور کہا داخل ہو مصر میں اللہ نے چاہا تو دل جمعی سے

82:۔ یہ پندرہواں حال ہے جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے تمام اہل و عیال کو لے کر مصر میں حضرت یوسف علیہ السالام کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے والدین یعنی والد اور خالہ کو بڑے اعزازو اکرام کے ساتھ اپنے محل میں اتارا۔ کیونکہ آپ کی حقیقی والدہ کا انتقال ہوچکا تھا۔ ” قَالَ ادْخُلُوْا الخ “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) والدین اور دیگر افراد خاندان کے استقبال کی خاطر شہر سے باہر تشریف لے آئے تھے۔ ” اٰمِنِیْنَ “۔ تکلیف و مصیبت کا جو دور آپ پر گذرا ہے اور بیٹوں کی جدائی اور قحط سالی کی وجہ سے جو تکلیفیں آپ نے اٹھائیں ان سے اب امن میں آچکے ہو۔
Ayah 12:100

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اونچا بٹھایا83 اپنے ماں باپ کو تخت پر اور سب گرے اس کے آگے سجدہ میں اور کہا اے باپ84 یہ بیان ہے میرے اس پہلے خواب کا اس کو میرے رب نے سچ کردیا اور اس نے انعام کیا مجھ پر85 جب مجھ کو نکالا قید خانہ سے اور تم کو لے آیا گاؤں سے بعد اس کے کہ جھگڑا ڈال چکا تھا شیطان مجھ میں اور میرے بھائیوں میں میرا رب تدبیر سے کرتا ہے جو چاہتا ہے بیشک وہی ہے خبردار حکمت والا

83:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے تعظیماً اپنے والدین کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا اور سب یعنی والدین اور بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سجدہ کیا۔ یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کو تھا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) بمنزلہ قبلہ تھے اور لَہٗ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے۔ المعنی خروا شکر اللہ یسجدو ویوسف کالقبلۃ لتحقیق رؤیاہ وروی عن الحسن (رح) (قرطبی ج 9 ص 264) یا سجدہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ہی کو تھا کیونکہ اس کی شریعت میں غیر اللہ کو تعظیمی سجدہ جائز تھا۔ مگر سجدہ عبادت کسی شریعت میں جائز نہیں ہوا۔ دونوں سجدوں میں فرق صرف نیت کا ہے اگر مسجود لہ کو نفع و نقصان کا مالک و مختار اور مافوق الاسباب متصرف و کارساز سمجھ کر سجدہ کرے تو یہ سجدہ عبادت ہے جو اللہ کے سوا کسی کے لیے کبھی جائز نہیں ہوا اور اگر مذکورہ نیت سے نہ ہو تو وہ سجدہ تعظیمی ہے جو پہلی شرائع میں جائز تھا مگر شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام میں حرام کردیا گیا ہے۔ سجدہ تعظیمی کی حرمت اور احادیث نبویہ میں صراحت سے مذکور ہے۔ امام احمد بن حنبل نے حضرت انس سے مرفوعا روایت کی ہے لا یصح لبشر ان یسجد لبشر یعنی کسی بشر کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی بشر کو سجدہ کرے۔ اسی طرح صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا لعن اللہ الیھود والنصری اتخذوا قبور انبیاء ھم مساجدًا (مشکوۃ ص 73) و مسلم از ابوہریرہ آوردہ مرفوعا و مسلم از ابن عباس مرفوعًا آوردہ۔ ابن ابی شیبہ از عمرو علی و سلمان ؓ مرفوعا منع سجدہ تعظیم آوردہ وابن ابی شیبہ از معاذ و عائشہ و جابر ؓ مرفوعاً آوردہ و در مسلم انی انہاکم عن ذلک (قالہ الشیخ (رح) تعالی) امام احمد بن حنبل نے حضرت معاذ بن جبل سے اور ابو داود نے حضرت قیس بن سعد سے روایت کیا کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا اگر غیر اللہ کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کیا کریں۔ لو کنت اٰمرا احدا ان یسجد لاھد لامرت النساء ان یسجدن لازواجھن بما جعل اللہ لھم علیھن من حق (مشکوۃ شریف ص 282) تفسیر خازن و معالم میں ” اَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰہِ “ کے تحت سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے لا تسجدو لغیر اللہ (خازن و معالم ج 7) یعنی غیر اللہ کو سجدہ مت کرو۔ وکذا فی الکبیر۔ حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز (رح) تفسیر عزیزی میں رقمطراز ہیں۔ ” باحادیث متواترہ سجدہ تعظیم منع است “ (تفسیر عزیزی ص 120) شیخ عبدالحق اشعۃ اللمعات ج 1 ص 716 میں فرماتے ہیں ” در شرح شیخ ابن حجر ھیثمی مکی در شرح حدیث لعن اللہ الیھود والنصاری اتخذوا قبور انبیاء ھم مساجد گفتہ است کہ برت تقدیری است کہ نمار گذارو بجانب قبر از جہت تعظیم سے کہ آن حران است باتفاق “۔ اسی طرح شاہ عبدالعزیز (رح) نے فتاوی عزیزی میں سجدہ تعظیم کی حرمت پر اجماع کا ذکر کیا ہے۔ چناچہ حضرت شاہ صاحب سجدہ تعظیم کے حامیوں کے دلائل کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں ” دریں تقیریر سراسر غفلت از اجماع قطعی است بر تحریم سجدہ “ (فتاوی عزیزی ج 1 ص 107) ۔ تمام فقہاء نے سجدہ تعظیم کی حرمت کا اور بعض نے اس کے کفر ہونے کا فتوی دیا ہے۔ فتاوی عالمگیری ج 5 ص 404 میں ہے ” من سجد للسلطان علی وجہ التحیۃ او قبل الارض بین یدیہ لا یکفر و لکن یاثم لارتکاب الکبیرۃ ھو المختار “۔ اور البحر الرائق ج 8 ص 426 میں ہے ” ما یفعل من السجود بین یدی السلطان فحرام و الفاعل والراضی بہ یاثمان و قال شمس الائمۃ السرخسی السجود لغیر اللہ علی وجہ التعظیم کفر کفر “۔ فتاوی عالمگیری میں جواہر اخلاطی سے اور رد المحتار میں شمس الائمہ سے سجدہ تعظیم کا کفر ہونا نقل کیا گیا ہے۔ اسی طرح جامع الرموز، فتاوی ملا علی قاری، تفسیر کبیر، فتاوی بزازیہ وغیرہ میں بھی سجدہ تعظیم کو کفر کہا ہے۔ اور ملتقط میں ہے ” التواضع لغیر اللہ حرام “ (عالمگیری ج 5 ص 404) لہذا ملتقط کی طرف جواز کی نسبت غلط ہے اسی طرح تفسیر تیسیر کی طرف بھی جواز کی نسبت غلط ہے کیونکہ تفسیر تیسیر مطبوعہ میں کہیں جواز مذکور نہیں۔ حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی قدس سرہ فرماتے ہیں۔ ” امر بمنع کردن سجدہ فرمودہ وجواز سجدہ تعظیم در ہیچ کتاب فقہ از مذاہب اربعہ و در ہیچ کتاب حدیث نیامدہ “ (مکتوبات دفتر اول ص 771) ۔ 84:۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جب والدین اور بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کو سجدہ کیا تو وہ کانپ اٹھے اور ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور فوراً کہا اباجان یہ میرے خواب کی تعبیر ہے جسے اللہ نے سچ کردکھانا تھا یعنی آپ اللہ کی جانب سے سجدہ کرنے کے مکلف تھے ورنہ مجھے سجدہ کرنا لائق نہ تھا۔ قال ابن عباس ؓ انہ لما راٰی سجود ابویہ واخوتہ ھالہ ذلک واشعر جلدہ منہ وقال لیعقوب ھذا تاویل رؤیای من قبل۔ یابت لایلیق بمثلک علی جلالتک فی العلم والدین والنبوۃ ان تسجد لولدک الا ان ھذا امر امرت بہ و تکلیف کلفت بہ (کبیر ج 18 ص 214) ۔ 85:۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بہت بڑا احسان فرمایا جبکہ قید خانے سے مجھے رہائی دے کر تخت سلطنت عطا فرمایا۔ میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان شیطان نے جو پھوٹ ڈالی تھی وہ ختم ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ سب کو میری پاس لا کر جدائی کا خاتمہ فرمایا اور تمام واقعات و حوادث میں جو اسرار اور حکمتیں پوشیدہ ہیں ان کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور وہ ہر چیز کو جاننے والا اور ہر حکمت سے باخبر ہے۔
Ayah 12:101

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

اے رب86 تو نے دی مجھ کو کچھ حکومت اور سکھایا مجھ کو کچھ پھیرنا باتوں کا اے پیدا کرنے والے آسمان اور زمین کے تو ہی میرا کار ساز ہے دنیا میں اور آخرت میں موت دے مجھ کو اسلام پر اور ملا مجھ کو نیک بختوں میں

86:۔ اس سے پہلے حرف نداء محذوف ہے ” ای یارب “۔ اسی طرح ” فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ الخ “ سے پہلے بھی حرف نداء محذوف ہے۔ ” اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ “ یہ مقصود بالنداء ہے۔ یعنی دنیا اور آخرت میں تو ہی کارساز اور یار و مددگار ہے۔ غم واندوہ کو خوشی اور سرور میں تبدیل کرنا اور رنج و تکلیف کو آرام و راحت میں بدل دینا تیری ہی کام ہے۔ ” تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا “: یہ بھی مقصود بالنداء ہے۔ ” اَلصَّالِحِیْنَ “ سے انبیاء (علیہم السلام) مراد ہیں یعنی مجھے بھی درجات و منازل اور ثواب میں ان کے ساتھ ملا دے۔ یہ والدین اور بھائیوں کے سامنے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وہ تقریر ہے جس میں انہوں نے عجیب و غریب انداز میں اپنے خواب کی سچائی، بھائیوں کے ان سے نزاع اور اللہ تعالیٰ کے عظیم احسانات و انعامات کا ذکر فرمایا ہے اور آخر میں نہایت عجز و انکسار سے حسن خاتمہ کی دعا کی ہے۔
Ayah 12:102

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

یہ خبریں ہیں غیب کی ہم بھیجتے ہیں تیرے پاس87 اور تو نہیں تھا ان کے پاس جب وہ ٹھہرانے لگے اپنا کام اور فریب کرنے لگے

87:۔ یہ تیسرا دعویٰ ہے یعنی آپ سچے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی آپ کو امور غیبیہ پر مطلع فرماتا ہے۔ چناچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ بھی ایک امر غیبی تھا جس کی ہم نے آپ کو بذریعہ وحی اطلاع دی اور سارا قصہ تفصیل سے بیان کردیا حالانکہ جب برادران یوسف (علیہ السلام) اپنا پروگرام بنا رہے تھے اور جب انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں پھینکنے کا فیصلہ کیا تھا اس وقت آپ وہاں موجود نہ تھے۔ ” اَلْمَعنیٰ ان ھذا النبا غیب لم یحصل لک الا من جہۃ الوحی لانک لم تحضر بنی یعقوب حین اتفقوا علی القاء اخیھم فی البئر “ (مدارک ج 2 ص 184) ۔
Ayahs 12:103–104

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور اکثر لوگ نہیں ہیں یقین کرنے والے اگرچہ تو کتنا ہی چاہے88

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور تو مانگتا نہیں ان سے اس پر کچھ بدلہ یہ تو اور کچھ نہیں مگر نصیحت سارے عالم کو

88:۔ آپ کے سچا ہونے اور اللہ تعالیٰ کا رسول برحق ہونے میں تو کوئی شک نہیں لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ محض ضد وعناد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔ آپ لاکھ چاہیں مگر وہ نہیں مانیں گے۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے آپ کا خیال تھا کہ جب مشرکین کے سوال پر میں یہ قصہ تفصیل سے بیان کردوں گا تو وہ ایمان لے آئیں گے مگر ایسا نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے بطور تسلیہ یہ آیت نازل فرمائی۔ ” ظن ان العرب لما سالتہ عن ھذہ القصۃ واخبرھم یومنون فلم یومنوا فنزلت الایۃ تسلیۃ للنبی ﷺ “ (قرطبی ج 9 ص 271) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو ہدایت دینا آپ کے اختیار و تصرف میں نہ تھا ” ای لیس تقدر علی ھدیۃ من اردت ھدایتہ “ (قرطبی) ۔ ” وَمَاتَسْئَلُھُمْ الخ “ : یہ قرآن تمام بنی آدم کیلئے ایک تذکرہ ہے جس میں دلائل توحید، رسالت، نبوت معاد، احکام شرائع وغیرہ سب کچھ مذکور ہے اور پھر اس کی تبلیغ پر آپ ان سے کوئی اجرت اور تنخواہ بھی طلب نہیں کرتے مگر اس کے باوجود وہ نہیں مانتے یہ ان کی ضد اور کور باطنی کی تنہا ہے اگر میں ذرہ بھر عقل و انصاف ہوتا تو وہ ضرور اسے مان لیتے۔ ” ان ھذا القراٰن یشتمل علی ھذہ المنافع العظیمۃ ثم لاتطلب منہ مالا ولا جعلا فلوا کانوا عقلاء لقبلوا و لم یتمردوا “ (کبیر ج 18 ص 223) ۔
Ayahs 12:105–106

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور بہتیرین نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں89 جن پر گزر ہوتا رہتا ہے ان کا اور وہ ان پر دھیان نہیں کرتے

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور نہیں ایمان لاتے بہت لوگ اللہ پر مگر ساتھ ہی شریک بھی کرتے ہیں

89:۔ اس تفصیلی عقلی دلیل کے علاوہ زمین و آسمان کے عجائب مخلوقات اور غرائب احوال میں توحید کے بیشمار دلائل موجود ہیں جو ہر وقت ان کے سامنے رہتے ہیں مگر وہ ان میں تدبر و تفکر نہیں کرتے۔ ” وَ مَا یُؤْمِنُ الخ “: اور ان میں اکثر لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کو مانتے ہیں مگر اس کے باوجود اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ شرک یہ نہیں کہ اللہ کو یا اس کی بعض صفات کو نہ مانا جائے بلکہ شرک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کو مانتے ہوئے غیر اللہ کو اس کی صفتوں میں شریک مانا جائے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے علاوہ اللہ کے نیک بندوں (انبیاء و ملائکہ (علیہم السلام) اور اولیاء کرام) کو بھی عالم الغیب، حاضر و ناظر، کارساز، متصرف و مختار اور مستحق نذر و نیاز مانا جائے۔ اس بیماری میں آج بھی بہت سے کلمہ گو مبتلا ہیں اللہ تعالیٰ محفوظ فرمائے۔ ” یندرج فیھم کل من اقر باللہ تعالیٰ و خالقیتہ مثلا و کان مرتکبا ما یعد شرکا کیفما کان و من اولئک عبدۃ القبور الناذرون لھا المعتقدون للنفع والضر ممن اللہ تعالیٰ واعلمہ بحالہ فیھا وھم الیوم اکثر من الدود “ (روح ج 13 ص 67) ۔
Ayah 12:107

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا نڈر ہوگئے اس سے کہ آڈھانکے ان کو ایک آفت اللہ کے عذاب کی90 یا آپہنچے قیامت اچانک اور ان کو خبر نہ ہو

90:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کی توحید سے اس قدر غافل اور معرض ہیں کہ انہیں اس بات کا کوئی اندیشہ ہی نہیں کہ کہیں اچانک ہی اللہ کا عذاب انہیں گھیر لے یا اچانک ہی قیامت برپا ہوجائے۔
Ayah 12:108

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

کہہ دے یہ91 میری راہ ہے بلاتا ہوں اللہ کی طرف سمجھ بوجھ کر میں اور جو میرے ساتھ ہے، اور اللہ پاک ہے اور میں نہیں شریک بتانے والوں میں

91:۔ یہ طریق تبلیغ ہے۔ ” ھٰذِہٖ “ یعنی دعوت توحید۔ ” اِدْعُوْا اِلَی اللہِ “” سَبِیْلِیْ “ کا بیان ہے۔ ” بَصِیْرَۃٍ “ دلیل و حجت یا یقین و اذعان یعنی یہ دعوت توحید ہی میری اصل راہ ہے۔ میں اور میرے تمام متبعین پورے شرح صدر کے ساتھ اور دلائل وبراہین کی روشنی میں اللہ کی توحید کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ ” وَ سُبْحٰنَ اللہِ “ ای واقول الخ۔ اور میں اعلان کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے پاد ہے اس لیے میں اس کے ساتھ ہرگز شرک کرنے کو تیار نہیں۔ ” ھذہ سبیلیھی توحید اللہ عز وجل و دین الاسلام۔ (اِلَی اللہِ ) یعنی الی توحید اللہ والایمان بہ (عَلَی بَصِیرَۃٍ ) یعنی علی یقین و معرفۃ “ (خازن ج 3 ص 320) ۔ ” بَصِیْرَۃٍ “ ای بیان و حجۃ واضحۃ عیر عمیاء (روح) ۔
Ayah 12:109

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اور جتنے بھیجے ہم نے تجھ سے پہلے92 وہ سب مرد ہی تھے کہ وحی بھیجتے تھے ہم ان کی بستیوں کے رہنے والے سو کیا ان لوگوں نے نہیں سیر کی ملک کی کہ دیکھ لیتے کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے اور آخرت کا گھر تو بہتر ہے پرہیز کرنے والوں کو کیا اب بھی نہیں سمجھتے

92:۔ جواب سوال مقدر۔ یعنی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ کا پیغمبر ہو اور پھر بشر ہو ؟ فرمایا ہمارا دستور ہی یہی ہے کہ ہم نے ہمیشہ انسانوں کی طرف انسانوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور ہمارے بشر پیغمبروں کو جن قوموں نے نہیں مانا ہم نے دنیا میں دردناک عذابوں سے ان کو ہلاک اور تباہ و برباد کیا۔ ان برباد شدہ قوموں کے آثار قدیمہ دیکھ لو اس سے تمہیں ان کے انجام کا علم ہوجائے گا۔ ” اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا الخ “ تخویف دنیوی ہے۔ ” وَلَدَارُ الْاٰخِرۃِ الخ “ ماننے والوں کے لیے بشارت اخروی۔
Ayah 12:110

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ناامید ہونے لگے رسول93 اور خیال کرنے لگے ان سے جھوٹ کہا گیا تھا پہنچی ان کو ہماری مدد پھر بچا دیا جن کو ہم نے چاہا94 اور پھرتا نہیں عذاب ہمارا قوم گناہ گار سے

93:۔ یہ چوتھا دعویٰ ہے۔ یعنی انبیاء سابقین (علیہم السلام) کی طرح آپ پر مصائب آئیں گے۔ مگر آخر کامیابی آپ کی ہوگی۔ حَتّٰی، وَمَا اَرْسَلْنَا الخ کے متعلق ہے اور کَذَّبُوْا میں دو قراءتیں ہیں۔ ایک تکذیب سے ماضی مجہول دوم کذب مجرد سے ماضی مجہول پہلی قراءت کے مطابق مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کے پیغمبروں نے اپنی قوموں کو پیغام توحید دیا یہاں تک کہ کچھ لوگ ایمان لے آئے اور ان پر بہت مصیبتیں اور تکلیفیں آئیں اور مدت مدیدہ تک رہیں اور امداد الٰہی میں تاخیر واقع ہوگئی یہاں تک کہ رسل معاندین کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے اور انہیں گمان ہوا کہ اگر تاخیر نصرت الٰہی کا یہی حال رہا تو مومن بھی ہماری تکذیب کرنے لگیں گے تب اللہ کی امداد آپہنچی۔ اس صورت میں ظَنُّوْا کا فاعل اور کذبوا کا نائب فاعل الرسل ہوں گے اور تکذیب کرنے والوں سے اتباع الرسل مراد ہوں گے۔ یہ تقریر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے منقول ہے۔ صحیح بخاری میں ہے۔ ” عن عروۃ بن الزبیر انہ سال عائشۃ عن قول اللہ تعالیٰ حَتّٰی اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْا اَنَّھُمْ قَدْکُذِبُوْا او کُذِّبُوْا۔ قالت بل کذبھم قومھم قتلف واللہ لقد استیقنوا ان قومھم قد کذبھم وما ھو بالظن فقالت یا عروۃ اجل لقد استیقنوا بذلک فقلت لعہا قد کذبوا فقالت معاذ اللہ لم تکن الرسل تظن ذلک بربھا قلت فما ھذہ الایۃ قالت ھم اتباع الرسل الذین امنوا بربھم وصدقوھم فطال علیھم البلاء واستاخر عنھم النصر حتی اذا استیئس الرسل ممن کذبھم من قومھم وظنوا ان اتباعھم کذبوھم جاءھم النصر عند ذلک “۔ دوسری قراءت کُذِبُوْا بالتخفیف کی صورت میں ظَنُّوْا کا فاعل اور کُذِبُوْا کا نائب فاعل رسل (علیہم السلام) نہیں بلکہ ان کی امم ہیں یعنی رسل (علیہم السلام) معاندین کے ایمان سے مایوس ہوگئے اور امم کے دلوں میں یہ وسوسہ گذرنے لگا کہ رسولوں نے انہیں نصرت الٰہی کے بارے میں جھوٹ بتایا تھا۔ ” وظن المرسل الیھم انھم کذبوا من جہۃ الرسل ای کذبتھم الرسل فی انھم ینصرون علیھم ولم یصدقوھم فیہ “ (مدارک ج 2 ص 185) حضرت علامہ انور شاہ صاحب قد سرہ فرماتے تھے کہ یہاں الزام المخاطب بما لا یلزم کا قاعدہ جاری ہوتا ہے یعنی مخاطب کے ذمہ ایک ایسی بات لگا دینا جسے وہ خود اپنے ذمہ لینے کے لیے تیار نہ ہو اور یہ وہاں ہوتا ہے جہاں بہت زیادہ محبت اور تعلق ہو۔ جیسا کہ فرمایا ” وَ ظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقدِرَ عَلَیْہِ “ یعنی قوم کو چھوڑ کر ہماری اجازت کے بغیر یوں چل نکلا گویا کہ اب ہماری دسترس میں نہیں رہا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دسترس سے باہر ہوگئے ہیں۔ لیکن تعلق محبت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے الزاماً فرمایا۔ ” فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْہِ “ اسی طرح جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کیفیت احیاء کا مشاہدہ کرانے کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے الزاماً فرمایا ” اَوَلَمْ تُؤْمِنْ الخ “ اے ابراہیم کیا تو ہماری قدرت کاملہ پر ایمان نہیں رکھتا ؟ اسی طرح یہاں فرمایا۔ مصائب و تکالیف کے تواتر اور نصرت خداوندی کی تاخیر کی وجہ سے رسل (علیہم السلام) پر غم و تاسف کی کیفیت طاری ہوگئی۔ کیا ہم نے ان سے جھوٹا وعدہ کیا تھا ؟ 94:۔ ” مَنْ نَّشَاءُ “ سے انبیاء (علیہم السلام) اور مومنین مراد ہیں یعنی جب ہمارا عذاب آگیا جو منکرین کے لیے تباہی انبیاء (علیہم السلام) اور مومنین کے حق میں نصرت الٰہی تھا تو ہم نے انبیاء (علیہم السلام) اور مومنین کو بچا لی اور مجرمین کو ہلاک کردیا ان سے ہمارے عذاب کو کوئی چیز نہیں روک سکتی۔
Ayah 12:111

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

البتہ ان کے احوال سے95 اپنا حال قیاس کرنا ہے عقل والوں کو کچھ بنائی ہوئی بات نہیں لیکن موافق ہے اس کلام کے جو اس سے پہلے ہے اور بیان ہر چیز کا اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں

95:۔ کَانَ کا اسم قرآن ہے۔ ” تَفْصِیْلَ کُلِّ شَیءٍ “ : اہل بدعت اس آیت سے آنحضرت ﷺ کے لیے علم غیب کلی ثابت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں لفظ کُلّ استغراق حقیقی کے لیے ہے جب قرآن مجید میں سب کچھ موجود ہے اور آنحضرت ﷺ قرآن مجید کے سب سے بڑے عالم ہیں تو معلوم ہوا کہ آپ کو علم غیب کلی حاصل ہے۔ مگر یہ استدلال باطل ہے کیونکہ اس آیت میں (ل) استغراق حقیقی کے لیے نہیں بلکہ اضافی کے لیے ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں دین سے متعلق تمام امور مذکور ہیں خواہ صراحۃً خواہ بحوالہ لسان رسول ﷺ ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ” وَ مَااٰتٰکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا “ اس کی تفسیر میں امام نسفی فرماتے ہیں۔ ” کہ شیء یحتاج الیہ فی الدین “ (مدارک ج 2 ص 185) ۔ علامہ قرطبی رقمطراز ہیں۔” مما یحتاج العباد الیہ من الحلال والحرام والشرائع والاحکام “ (قرطبی ج 9 ص 277) ۔ امام بغوی فرماتے ہیں ” مما یحتاج العباد الیہ من الحلال والحرام والامر والنھی “ (معالم ج 3 ص 324) ۔ اور سید محمود آلوسی حنفی فرماتے ہیں ” ای مما یحتاج الیہ فی الدین “ (روح ج 13 ص 73) ۔ ” وَھُدًی وَّرحْمَۃٌ الخ “۔ یہ قرآن انابت کرنے والوں کے لیے گمراہی سے نکال کر ھدایت کی طرف لے جاتا ہے اور اس پر عمل کرنا رحمت الٰہی کے استحقاق کا موجب ہے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ سورة یوسف میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ” وَاللّہُ الْمُسْتَعَانُ عَلیٰ مَا تَصِفُوْنَ “ (رکوع 2) ۔ نفی استعانت از غیرا للہ۔ 2 ۔ ” اِنِّیْ َتَرَکْتُ مِلَّۃَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ “۔ تا۔ ” وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُوْنَ “ (رکوع 5) ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جیل میں بھی توحید کی تبلیغ کی۔ 3 ۔ ” فَاسْتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ “۔ تا۔ ” اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ “۔ سب کچھ سننے اور جاننے والا سب کا حاجت روا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ 4 ۔ ” وَ مَا اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِّنَ اللہِ مِنْ شَیءٍ “۔ تا۔” وَ عَلَیْہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمتَوَکِّلُوْنَ “ (رکوع 8) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ نفع اور نقصان صرف اللہ ہی کے اختیار میں ہے اور کسی کے اختیار میں نہیں۔ 5 ۔ ” رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکَ “۔ تا۔ ” وَھُمْ یَمْکُرُوْنَ “ (رکوع 11) ۔ اللہ تعالیٰ ہی کارساز اور عالم الغیب ہے اس کے سوا کوئی کارساز اور عالم الغیب نہیں۔ 6 ۔ ” وَ مَا یُوْمِنُ اَکْثَرُھُمْ بِاللہِ اِلَّا وَ ھُمْ مُّشْرِکُوْنَ “ (رکوع 12) ۔ بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کو ماننے اور زبان سے اس کی توحید کا اقرار کرنے کے باوجود مشرک ہوتے ہیں۔ 7 ۔ ” قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِیْ “۔ تا۔ ” وَ مَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ “ (رکوع 12) ۔ اللہ تعالیٰ کی توحید ہی میری اور میرے متبعین کی راہ ہے۔ میں اور میرے متبعین ہر قسم کے شرک سے بیزار ہیں۔ سورة یوسف ختم ہوئی