Ayah 14:4139:۔ انبیاء (علیہم السلام) بارگاہ الٰہی میں انتہائی تقرب کے باعث اپنی معمولی لغزشوں اور بھول چوک کو بھی گناہ سمجھتے۔ ابراہیم (علیہ السلام) ایسی ہی معمولی لغزشوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ رہے ہیں۔ والدین سے آدم و حواء (علیہما السلام) مراد ہیں اور اگر حقیقی والدین مراد ہوں تو یہ دعاء ان کے ایمان سے مایوسی اور نہی ربانی سے قبل کی ہوگی ای اٰدم وحواء او قالہ قبل النھی والیاس عن ایمان ابویہ (مدارک ج 2 ص 204) ۔
Ayahs 14:42–4340:۔ آخر میں پھر وقائع اخرویہ کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ اس صورت کا اصل موضوع وقائع کا بیان ہی ہے۔ یہ چھٹی بار وقائع کا ذکر ہے۔ پہلے فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کے تمام اعمال سے باخبر ہے اس کے بعد تخویف اخروی بیان کی گئی۔ ” اِنَّمَا یُؤَخِّرُھُمْ الخ “ وہ جلدی انہیں اس لیے نہیں پکڑتا کہ وہ قادر نہیں یا ان کے اعمال سے واقف نہیں بلکہ گرفت میں تاخیر اس لیے کرتا ہے تاکہ آخرت میں ان کو ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دے۔ ” تَشْخَصُ الخ “ قیامت کے دن ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ ” مُھْطِعِیْنَ “ دوڑتے ہوئے بلانے والے کی طرف جا رہے ہوں گے ” مُقْنِعِیْ رُءُوْسِھِمْ “ اپنے سروں کو اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے ” لَا یَرْتَدُّ اِلَیْھِمْ “ ان کی نگاہیں ابھی اوپر ہی کو اٹھی ہوں گی اور وہ اپنی پلکوں کو نیچے نہیں کرسکیں گے۔ ” وَ اَفْئِدَتُھُمْ ھَوَاءٌ“ ان کے دلوں پر حیرت و دہشت طاری ہوگی اور فرط خوف وہیبت کی وجہ سے عقل و فہم سے خالی ہوں گے۔
Ayah 14:4441:۔ عذاب سے دنیوی عذاب مراد ہے بقرینہ ” اَخِّرْنَا اِلٰی اَجَلٍ الخ “ ان معاندین کو اس دن سے ڈرائیے جو تمام اقوام معاندہ پر آیا ہے جب ان پر اللہ کا عذاب آجاتا تو وہ گڑگڑا کر دعائیں مانگنے لگتے ہمارے پروردگار ! ہمیں تھوڑی سی مہلت ہی دیدے اب ہم تیری توحید کو مانیں گے اور تیرے پیغمبروں کا اتباع کریں گے ” اَوَلَمْ تَکُوْنُوْا الخ “ ان کو جواب دیا جاتا کیا تم قسمیں کھا کھا کر نہیں کہا کرتے تھے کہ ہم پر عذاب آئے گا ہی نہیں زوال سے مراد عذاب ہے یا زوال سے مراد موت ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ہم بیک وقت تمام نہ مریں گے بلکہ باری باری مریں گے۔
Ayah 14:4542:۔ جن ظالموں نے ضد وعناد سے توحید کا انکار کیا اور ہمارے پیغمبروں کو جھٹلایا جن کو عذاب سے ہلاک و برباد کیا ان کی بتاہی کے بعد ان کے شہروں اور علاقوں میں تم آباد ہوئے اور تم نے ان کی تباہی کے آثار سے معلوم کرلیا کہ ہم نے ان مکذبین کا کیا حشر کیا اور پھر ہم نے مثالیں دے دے کر مسئلہ توحید کو اچھی طرح سمجھا دیا مگر اس کے باوجود تم نے انکار کیا اور مسئلہ توحید کو ماننے کا جو موقع ہم نے فراہم کیا تھا اس سے تم نے فائدہ نہ اٹھایا اس لیے اب اگر تمہیں دوبارہ مہلت دی گئی تب بھی تم نہیں مانو گے۔ یا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے معاندین کے قصص و واقعات بیان کر کے تم کو تنبیہ کی کہ دیکھو اگر نہیں مانو گے تو ان ہلاک شدہ قوموں کی طرح تم پر بھی ہولناک عذاب بھیجا جائے گا۔
Ayah 14:4643:۔ مشرکین نے اسلام کو مٹانے اور کفر و شرک کو فروگ دینے کے لیے اپنی پوری قوت سے بڑے عظیم پروگرام بنائے ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے ان پروگراموں اور ان خفیہ تدبیروں سے اسلام کو دنیا سے نیست و نابود کردیں گے ” قد مکروا فی ابطال الحق و تقریر الباطل مکرھم العظیم الذی استفرغوا فی عملہ المجھود الخ “ (ابو السعود ج 5 ص 363) ” وَ عِنْدَ اللہِ مَکْرُھُمْ “ لیکن اللہ تعالیٰ کو ان کی تمام خفیہ تدبیروں اور سازشوں کا پورا پورا علم ہے اس لیے ان کی کوئی تدبیر کامیاب نہ ہوسکی اور ” وَ اِنْ کَانَ مَکْرُھُمْ الخ “ اِنْ مخففہ من المثقلہ ہے۔ ای انہ کان الخ۔ حالانکہ مشرکین کے اپنے اندازے کے مطابق ان کی سکیمیں اور تدبیریں ایسی محکم اور مکمل تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہل جائیں یا اِنْ نافیہ ہے اس صورت میں ان کے مکر کا ضعف بیان کرنا مقصود ہوگا۔ یعنی ان کی تدبیر کوئی پختہ نہ تھی کہ اس سے پہاڑ ہل جائیں۔
Ayah 14:47ف 44:۔ یہ تخویف اخروی ہے یہاں سے لے کر ” اِنَّ اللہَ سَرِیْعُ الحِسَابِ “ تک قیامت کے ہولناک مناظر اور آخرت کے مختلف انواع عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے پیغمبروں سے وعدہ ہے کہ وہ دنیا میں ان کی مدد کرے گا اور آخرت میں ان کو مراتب عالیہ عطا فرمائے گا اور ان کے دشمنوں سے ان کا انتقام لے گا اور دنیا و آخرت میں ان کو ذلیل و سوا کرے گا۔ اس لیے کوئی شخص یہ گمان بھی نہ کرے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں سے کیے گئے وعدے کے خلاف کرے گا۔ ” اِنَّ اللہَ عَزِیْزٌ ذُوْانْتِقَامٍ “ یہ ما قبل کے لیے علت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ غالب ہے اور دشمنانِ اسلام سے انتقام لینے والا ہے۔
Ayah 14:4845:۔ ظرف مُخْلِفَ کے متعلق ہے (روح) یعنی جس دن زمین و آسمان بدل جائیں گے اور ساری مخلوق ایک صاف میدان میں اللہ تعالیٰ کے سامنے ہوگی۔ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا۔ زمین و آسمان کے بدل جانے سے مراد یہ ہے کہ سمندر خشک ہوجائیں گے، پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر کے زمین کو ہموار کردیا جائے گا اور آسمان کے تمام ستارے غائب ہوجائیں گے۔ ” عن ابن عباس ؓ تذھب اٰکامھا و جبالھا و اودی تھا و شجرھا و ما فیھا و تمد مد الادیم العکاظ و تصیر مستویۃ لا تری فیھا عوجا ولا امتا و تبدل السموات بذھاب شمسھا و قمرھا و نحوھا “ (روح ج 13 ص 254) ۔
Ayahs 14:49–5146:۔ یہ ” تُبَدَّلُ “ پر معطوف ہے۔ اَصْفَاد، صفد کی جمع ہے یعنی گلے کا طوق اور پاؤں کا زنجیر قیامت کے دن مجرموں کے گلوں میں طوق اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی۔ ” سَرَابِیْلُھُمْ “ سربال کی جمع ہے یعنی قمیص۔ ” قَطِرَانٍ “ ابہل یعنی درخت دیودار کا عصارہ یہ ایک آتش گیر مادہ ہے جو آگ کو تیزی سے پکڑ لیتا ہے (روح، مظہری) ۔ یعنی اس قسم کا کوئی آتش گیر مادہ ہوگا جسے جہنمیوں کے بدنوں پر لیپ دیا جائے گا تاکہ اس آتش گیر مادے کو آگ فوراً پکڑ لے اور ان کو زیادہ تکلیف اور اذیت پہنچے اس کے علاوہ اس مادے میں تیزی اور حدت ہوگی جو بدن میں جلن پیدا کرے گا اور اپنی بد بو کی وجہ سے ان کے لیے مزید تکلیف کا باعث ہوگا۔ ” وھو عصارۃ الابھل۔ وھو اسود منتن لیشتعل فیہ النار بسرعۃ یطلی بہ جلود اھل النار حتی یکون طلاوۃ لھم کالقمیص لیجتمع علیہ لدغ القطران ووحشۃ لونہ ونتن ریحہ مع اسراع النار “ (مظہری ج 5 ص 386) یا قَطِرَان سے گندہک مراد ہے کیونکہ یہ بھی ایک آتش گیر ماد ہے جو جلتے وقت بدبو بھی چھوڑتا ہے، لَیَجْزِیَ اللہُ الخ اس کا متعلق محذوف ہے ای یفعل بہم ذلک لیجزی الخ (روح) یہ سب کچھ اس لیے کیا جائے گا تاکہ انہیں ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دی جائے۔
Ayah 14:5247:۔ آخر میں سورت کے خلاصہ مضامین کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ” ھٰذَا “ سے تمام مذکورہ وقائع اور دلائل کی طرف اشارہ ہے۔ ” وَ لِیُنْذَرُوْا “ کا معطوف علیہ مقدر ہے ای لیومنوا یعنی یہ تمام وقائع اور دلائل اس لیے زکر کیے گئے ہیں تاکہ لوگ ایمان لے آئیں اور وقائع امم سابقہ سنا کر ان کو ڈرایا جائے اور وقائع اور دلائل کے بیان سے جو مسئلہ (یعنی مسئلہ توحید) سمجھانا مقصود ہے تاکہ وہ اس کو مان لیں اور ان کو یقین ہوجائے کہ تنہا اللہ تعالیٰ ہی ساری مخلوق کا کارساز اور ساری کائنات میں اکیلا وہی متصرف و مختار ہے اور وہی پکارے نے کے لائق ہے۔ اور تاکہ عقل و فہم اور ہوش و خرد والے لوگ ان (وقائع و دلائل) میں غور و فکر کریں اور ان میں سے جن کے دلوں میں اخلاص وانابت ہو وہ ان سے نصیحت حاصل کریں اور راہ راست پر آجائیں۔
سورة ابراہیم (علیہ السلام) میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات
1 ۔ ” کِتٰبٌ اَنْزَلنٰہُ اِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ “ (رکوع 1) ۔ خصوصیت سورت ہے یعنی ہم نے یہ کتاب اس لیے نازل ہے تاکہ آپ لوگوں کو وقائع امم سابقہ سنا کر کفر و شرک کے اندھیرے سے نکال کر اسلام اور توحید کی روشنی کی طرف لائیں۔
2 ۔ ” اَللہُ الَّذِیْ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ “ (رکوع 1) ۔ نفی شرک اعتقادی۔
3:۔ ” قَالَتْ لَھُمْ رُسُلُھُمْ “ تا ” فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ “ (رکوع 2) ۔ اثبات بشریت انبیاء (علیہم السلام) و نفی اختیار و تصرف از ایشان علیہم السلام۔
4:۔ ” وَ مَا لَنَا اَنْ لَّا نَتَوَکَّلَ عَلَی اللہِ “ اسم اعظم۔
5:۔ ” اَ لَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ “ (رکوع 3) ۔ نفی شرک اعتقادی۔
6:۔ ” اِنْ یَّشَا یُذْھِبْکُمْ وَ یَاتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ “ (رکوع 3) ۔ ساری کائنات اللہ تعالیٰ کے اختیار و تصرف میں ہے اور کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں۔
7:۔ ” اَلَمْ تَرَ کَیْفَ ضَرَبَ اللہُ مَثَلاً کَلِمَۃً طیِّبَۃً “ تا ” لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ “ (رکوع 4) ۔ توحید کی تمثیل۔
8:۔ ” وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰھِیْمُ “ تا ” وَ لَا فِی السَّمَاء “ (رکوع 6) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اللہ سے دعا کی کہ وہ ان کو اور ان کی اولاد کو شرک سے محفوظ رکھے۔ اور ” رَبَّنَا اِنَّکَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ “ اسم اعظم سے اللہ تعالیٰ کے عالم الغیب والشہادۃ ہونے کا اعلان فرمایا۔
سورة ابراہیم ختم ہوئی