16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 16:41–42

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:41 in the Quran reader

اور جنہوں نے گھر چھوڑا اللہ کے واسطے33 بعد اس کے کہ ظلم اٹھایا البتہ ان کو ہم ٹھکانا دیں گے دنیا میں اچھا اور ثواب آخرت کا تو بہت بڑا ہے اگر ان کو معلوم ہوتا

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:42 in the Quran reader

جو ثابت قدم رہے اور اپنے رب پر بھروسہ کیا

33:۔ مہاجرین کے لیے بشارت دنیوی واخروی ہے۔ اس سے مہاجرین صحابہ ؓ مراد ہیں جنہیں محض توحید کی وجہ سے مشرکین مکہ نے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا اور وہ حبشہ اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ ھم رسول اللہ و اصحابہ ظلمھم اھل مکۃ ففروا بدینھم الی اللہ منھم من ھاجر الی الحبشۃ ثم الی المدینۃ فجمع بین الھجرین ومنھم من ھاجر الی المدینۃ (مدارک ج 2 ص 221) اللہ تعالیٰ نے مہاجرین ؓ کو دنیا میں بھی باعزت اور پرشوکت زندگی عطا فرمائی اور آخرت کا اجر وثواب اس سے کہیں بڑھ کر ہوگا۔ ” اَلَّذِیْنَ صَبَرُوْا الخ “ یہ ” اَلَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا “ کی صفت ہے۔ یہ گویا مذکور الصدر اجر وثواب کا سبب ہے یعنی انہوں نے مشرکین تمام مظالم و مصائب کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور دین اسلام کو نہ چھوڑا اور اللہ تعالیٰ کی امداد و نصرت پر بھروسہ کیا۔
Ayah 16:43

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:43 in the Quran reader

اور تجھ سے پہلے بھی ہم نے34 یہی مرد بھیجے تھے کہ حکم بھیجتے تھے ہم ان کی طرف سو پوچھو یاد رکھنے والوں سے اگر تم کو معلوم نہیں

34:۔ یہ ایک شبہ یا سوال مقدر کا جواب ہے۔ مشرکین نے کہا ہم دعوی توحید کو اس لیے نہیں مانتے کہ اس دعویٰ کو لانے والا انسان اور بشر ہے۔ نبوت و رسالت تو بہت بڑا اعزاز ہے جو بشر کو نہیں مل سکتا اس لیے اگر فرشتہ آتا تو ہم اس کی بات مان لیتے۔ فرمایا اس سے پہلے ہم نے جتنے بھی پیغمبر کتابیں اور صحیفے دے کر بھیجے ہیں وہ سب کے سب انسان اور بشر تھے۔ اہل کتاب کے علماء سے پوچھ کر تسلی کرلو وہ بھی تمہیں بتا دیں گے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) بشر تھے۔ قال الزجاج فاسئلوا اھل الکتب الذین یعرفون معانی کتب اللہ تعالیٰ فانہم یعرفون ان الانبیاء (علیہم السلام) کلھم بشر (کبیر ج 5 ص 460) ۔
Ayahs 16:44–47

بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ١ؕ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:44 in the Quran reader

بھیجا تھا ان کو نشانیاں دے کر اور ورقے اور اتاری ہم نے35 تجھ پر یہ یادداشت کہ تو کھول دے لوگوں کے سامنے وہ چیز جو اتری ان کے واسطے

اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 16:45 in the Quran reader

تاکہ وہ غور کریں سو کیا نڈر ہوگئے وہ لوگ جو برے فریب کرتے ہیں اس سے کہ دھنسا دیوے اللہ ان کو زمین میں یا آپہنچے ان پر عذاب جہاں سے خبر نہ رکھتے ہوں

اَوْ یَاْخُذَهُمْ فِیْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَۙ Open ayah 16:46 in the Quran reader

یا پکڑلے ان کو چلتے پھرتے سو وہ نہیں ہیں عاجز کرنے والے

اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:47 in the Quran reader

یا پکڑ لے ان کو ڈرانے کے بعد سو تمہارا رب بڑا نرم ہے مہربان

35:۔ ترغیب الی القرآن ہے یعنی ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے تاکہ آپ مسئلہ توحید ان کو کھول کر بتائیں اور ان کو خوب سمجھائیں۔ ” اَ فَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَکَرُوْا الخ “ ازالہ شبہ اور ترغیب کے بعد معاندین کو تخویف دنیوی سنائی۔ یعنی جو لوگ اسلام کو مٹانے کے درپے ہیں اور اس مقصد کے لیے ہر وقت نئے نئے پروگرام اور منصوبے بناتے رہتے ہیں وہ ہمارے عذاب سے بےخوف اور مطمئن نہ ہوجائیں۔ انہیں ڈرنا چاہئے کہ مبادا انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے۔ اچانک کسی طرف سے ان پر کوئی آسمانی آفت ٹوٹ پڑے، کسی سفر ہی میں عذاب الٰہی انہیں گھیر لے یا مال مویشی اور زراعت کی تباہی سے انہیں نقصان اٹھانا پڑے۔ ” فَاِنَّ رَبَّکُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ“ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے جو مجرموں کو فورًا نہیں پکڑلیتا بلکہ انہیں مہلت دیتا ہے کہ شاید وہ راہ راست پر آجائیں۔
Ayahs 16:48–50

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ Open ayah 16:48 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھتے36 وہ جو کہ اللہ نے پیدا کی ہے کوئی چیز کہ ڈھلتے ہیں سائے ان کے داہنی طرف سے اور بائیں طرف سے سجدہ کرتے ہوئے اللہ کی اور وہ عاجزی میں ہیں

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:49 in the Quran reader

اور اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو آسمان میں ہے اور جو زمین میں ہے جانداروں سے اور فرشتے اور وہ تکبر نہیں کرتے

یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩ Open ayah 16:50 in the Quran reader

ڈر رکھتے ہیں اپنے رب کا اپنے اوپر سے اور کرتے ہیں جو حکم پاتے ہیں

36:۔ توحید پر چوتھی عقلی دلیل۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی پیدا کیا ہے ان کے سائے اللہ کے قانون تکوینی کے تحت گھٹتے بڑھتے ہیں اس طرح کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے تکوینی احکام کی مطیع و فرمانبردار ہے۔ ” عَنِ الْیَمِیْنَ وَاالشَّمَائِلَ الخ “ لفظ مَا صورۃً مفرد ہے اس لیے اس کی رعایت سے یمین مفرد لایا گیا اور مَا معنی جمع ہے کیونکہ اس سے تمام سایہ دار مخلوق مراد ہے اس لیے اس کی رعایت سے شمائل جمع استعمال کیا گیا۔ ” وَ ھُمْ دَاخِرُوْنَ “ اس سے ذوی العقول اور گیر ذوی العقول سب مراد ہیں لیکن تغلیباً ضمیر عقلاء کی استعمال کی گئی ہے۔ ” وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ الخ “ زمین و آسمان کی ہر جاندار مخلوق اور فرشتے سب اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی سے سجدہ کرتے ہیں۔ ” یَخَافُوْنَ رَبَّھُمْ الخ “ فرشتے بایں قرب و منزلت اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور اس کے پورے پورے فرمانبردار ہیں۔ الغرض کائنات کی ہر چیز اور ساری مخلوق اللہ کے سامنے عاجز اور مطیع و منقاد ہے لہذا ان میں سے کوئی بھی معبود ہونے کے لائق نہیں۔ ” مِنْ شَیْءٍ “ کی تعبیر مفید استغراق ہے۔
Ayahs 16:51–52

وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 16:51 in the Quran reader

اور کہا ہے اللہ نے37 مت پکڑو معبود دو وہ معبود ایک ہی ہے سو مجھ سے ڈرو

وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًا١ؕ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ Open ayah 16:52 in the Quran reader

اور اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور اسی کی عبادت ہے ہمیشہ سو کیا سوائے اللہ کے کسی سے ڈرتے ہو

37:۔ یہ دعوی توحید کا دوسری بار اعادہ اور دلائل ماقبل کا حاصل وثمرہ ہے یعنی جب تکوینی طور پر ساری کائنات اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجز و بےبس اور اس کے زیر تصرف و اختیار ہے تو پھر اللہ کے سوا کسی اور کو الہ مت بناؤ۔ الٰہ یعنی کارساز اور مالک و مختار وہی ایک اللہ ہے۔ اسی سے ڈرو اور مصائب و آفات میں صرف اسی کو پکارو ” اِلٰھَیْنِ “ کے بعد ” اِثْنَیْنِ “ اس لیے فرمایا کیونکہ جنس الٰہ کی نفی مقصود نہیں بلکہ تعداد آلہہ کی نفی مقصود ہے۔ ” وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ الخ “ یہ چوتھی دلیل سے متلعق ہے اور اسی کا حصہ ہے۔ ” وَاصِباً اي دائما “ (قرطبی) ۔ ربیع بن انس سے منقول ہے واصبا اي خالصا (روح) اور ” اَلدِّیْن “ کے معنی عبادت کے ہیں۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں الدین سے شہادت توحید اور تمام شرعی حدود و فرائض کی اقامت مراد ہے قال ابن جبیر العبادۃ وقال عکرمۃ شھادۃ ان لا الٰہ الا اللہ و اقامۃ الحدود والفرائض (بحر ج 5 ص 501) ۔ یعنی اللہ کے ساتھ کسی اور کو الوہیت میں مت شریک کرو اس کے سوا کوئی الوہیت کے لائق نہیں کیونکہ ساری کائنات کا مالک وہی ہے لہذا وہی سب کا کارساز ہے اور ہمیشہ سے وہی عبادت اور پکار کا مستحق ہے لہذا خالص اسی کی عبادت کرو، مشکلات میں صرف اسی کو پکارو اور اس کے تمام حدود و فرائض کی پورے خلوص کیساتھ پابندی کرو ” اَ فَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ “ یہ زجر ہے۔ فرمایا تمہیں ڈرنا تو اللہ سے چاہئے جو سارے جہان کا مالک اور سب کا کارساز ہے مگر تم گیر اللہ سے ڈرتے ہو اور تم نے غیروں کو کارساز اور حاجت روا بنا رکھا ہے۔
Ayahs 16:53–54

وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْئَرُوْنَۚ Open ayah 16:53 in the Quran reader

اور جو کچھ تمہارے پاس ہے نعمت38 سو اللہ کی طرف سے پھر جب پہنچتی ہے تم کو سختی تو اسی کی طرف چلاتے ہو (اسی سے فریاد کرتے ہو)

ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 16:54 in the Quran reader

پھر جب کھول دیتا ہے سختی تم سے اسی وقت ایک فرقہ تم میں سے اپنے رب کے ساتھ لگتا ہے شریک بتانے

38:۔ یہ امتنان ہے بطور زجر۔ چاہئے تو یہ تھا کہ تمہاری امیدیں اور تمہارا خوف اللہ تعالیٰ ہی سے وابستہ ہوتا۔ کیونکہ دلائل سے ثابت ہوگیا کہ سب کچھ کرنیوالا اور سب کچھ دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے تم غور کرو تمہارے پاس جس قدر بھی نعمتیں ہیں وہ سب کی سب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں اور جب تم پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو۔ ” ” ثُمَّ اِذَا كشَف الخ “ پھر جب وہ اپنی مہربانی سے تمہاری مشکلات آسان اور اور تمہاری تکالیف دور فرما دیتا ہے تو تم میں سے بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے لگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کو غیر اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔ اگر اللہ نے فرزند عطا فرمادیا تو لگے کہنے فلاں بزرگ کی نذر مانی تھی اس لیے بیٹا ہوا یا فلاں بزرگ کے مزار سے مٹی لا کر مریض کو پلائی تھی تو وہ چنگا بھلا ہوگیا وغیرہ۔ والفریق ھنا ھم المشرکون المعتقدون حالۃ الرجاء ان الھتم تنفع و تضر و تشفی (بحر ج 5 ص 502) سید محمود آلوسی حنفی فرماتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ آجکل اپنی حاجتوں اور مصیبتوں میں غیر اللہ کی پناہ ڈھونڈتے ہیں ان کی گمراہی تو پہلے گمراہوں سے بھی بد تر ہے۔ وفی الایۃ ما یدل علی ان صنیع اکثر العوام الیوم من الجوار الی غیرہ تعالیٰ ممن لا یملک لہم بل ولا لنفسہ نفعاً ولا ضرا عند اصابۃ الضر لہم واعراضھم عن دعائہ تعالیٰ عند ذلک بالکلیۃ سفہ عظیم و ضلال جدید لکنہ اشد من الضلال القدیم (روح ج 14 ص 166) ۔
Ayah 16:55

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١۫ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:55 in the Quran reader

تاکہ منکر ہوجائیں39 اس چیز سے جو کہ ہم نے ان کو دی ہے سو مزے اڑالو آخر معلوم کرلو گے

39:۔ لام عاقبت کا ہے یعنی ان کے اس روئیے کا انجام اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری ہے۔” فتمتعوا الخ “ یہ تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے یعنی ہماری نعمتوں سے فائدہ اٹھا لو اور ناشکری کرلو۔ کب تک ایسا کرو گے آخر اپنی تمام بد اعمالیوں کا انجام بد اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے اور اپنی غلطی معلوم کرلوگے۔
Ayah 16:56

وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:56 in the Quran reader

اور ٹھہراتے ہیں ان کے لیے جن کی خبر نہیں رکھتے40 ایک حصہ ہماری دی ہوئی روزی میں سے قسم اللہ کی تم سے پوچھنا ہے41 جو تم بہتان باندھتے ہو

40:۔ یہ زجر ہے اور اس میں دوسری بار نفی شرک فعلی کا ذکر ہے۔ یعنی تم غیر اللہ کو متصرف و کارساز سمجھتے ہو اور ان کی خاطر نذریں دیتے اور تحریمات کرتے ہو۔ اور جو نعمتیں ہم نے تمہیں دی ہیں ان میں سے غیر اللہ کے لیے حصے نکالتے ہو شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں ” یہ ان کو فرمایا جو اپنے کھیت میں، مواشی میں، تجارت میں اللہ کے سوا کسی کی نیاز ٹھہراتے ہیں سب مال اللہ کا ہے اور کسی کا حق نہیں۔ مگر اللہ کی راہ میں دے اپنے ثواب کو۔ پھر اپنے بدلے ثواب کسی اور کو دلوادے “۔ المراد من ھذا النصیب البحیرۃ والسائبۃ والوصیلۃ والحام وھو قول الحسن (کبیر ج 5 ص 473) ۔ 41:۔ یہ تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے یعنی اس شرک فعلی کے بارے میں تم سے ضرور باز پرس ہوگی۔
Ayah 16:57

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ١ۙ وَ لَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 16:57 in the Quran reader

اور ٹھہراتے ہیں42 اللہ کے لیے بیٹیاں وہ اس سے پاک ہے اور اپنے لیے جو دل چاہتا ہے

42:۔ یہ زجر ہے مشرکین کے بعض قبائل (خزاعہ اور کنانہ) فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے مگر ان کا اپنا حال یہ تھا کہ وہ خود بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔ ” سبحنہٗ “ یہ مشرکین کے قول باطل کا رد ہے کہ اللہ تعالیٰ تو بےنیاز اور اولاد سے پاک ہے۔ مشرکین فرشتوں کو خدا کی صلبی بیٹیاں مانتے تھے۔ بلکہ ان کا عقیدہ تھا کہ جس طرح بیٹیاں باپ کو بہت عزیز ہوتی ہیں اور باپ ان کی کوئی بات رد نہیں کرتا اسی طرح فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پیارے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی سفارش کو ضرور مان لیتا ہے اور رد نہیں کرتا جیسا کہ ” و یجعلون للہ البنات “ کی تعبیر بتا رہی ہے یعنی وہ اللہ کے لیے بیٹیاں بناتے ہیں۔ علاوہ ازیں سورة زخرف رکوع 2 میں مشرکین کا قول اس طرح بیان کیا گیا ہے ” ام اتخذ مما یخلق بنت و اصفکم بالبنین “ اتخاذ بنات یعنی بیٹیاں بنا لینا کی تعبیر بتا رہی ہے کہ وہ فرشتوں کو صلبی بیٹیاں نہیں بلکہ بیٹیوں کی مانند سمجھتے تھے۔
Ayahs 16:58–59

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ Open ayah 16:58 in the Quran reader

اور جب خوشخبری ملے ان میں کسی کو بیٹی43 کی سارے دن رہے منہ اس کا سیاہ اور جی میں گھٹتا رہے

یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ١ؕ اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 16:59 in the Quran reader

چھپتا پھرے لوگوں سے مارے برائی اس خوشخبری کے جو سنی اس کو رہنے دے ذلت قبول کر کے یا اس کو داب دے مٹی میں سنتا ہے برا فیصلہ کرتے ہیں

43:۔ یہ مشرکین کے مذکورہ بالا قول کا الزامی جواب ہے کہ ان کا اپنا حال تو یہ ہے کہ اگر کسی کے گھر لڑکی پیدا ہوجائے تو غم واندوہ کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے۔ ” یتوای من القوم الخ “ اور کئی کئی دن وہ لوگوں سے چھپا رہتا ہے اور مارے شرم کے کسی کو منہ نہیں دکھاتا اور پھر سوچتا ہے کہ کیا ذلت و رسوائی برداشت کر کے اسے زندہ رکھوں یا اسے زندہہی کو زمین میں دفن کردوں۔ ” الا ساء ما یحکمون “ یہ کس قدر بری اور شرمناک بات ہے کہ جس چیز کو وہ خود ناپسند کرتے ہیں اسے اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرتے ہیں۔
Ayah 16:60

لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 16:60 in the Quran reader

جو نہیں مانتے44 آخرت کو ان کی بری مثال ہے اور اللہ کی مثال (شان) سب سے اوپر اور وہی ہے زبردست حکمت والا

44:۔ یہ ماقبل ہی سے متعلق ہے اور اس میں مشرکین کے قول مذکور کی شفاعت ہی کی طرف اشارہ ہے۔ یہ مشرکین جن کا آخرت پر ایمان نہیں اور جن کے دلوں میں آخرت کی جواب دہی کا ڈر نہیں وہ بہت بری صفتوں کے مالک ہیں۔ مثلاً لڑکوں کو پسند کرنا اور لڑکیوں سے نفرت کرنا اور شرم و عار اور تنگدستی کے ڈر سے ان کو زندہ درگور کرنا لیکن اللہ تعالیٰ بلند صفات کا مالک ہے اور ان گھٹیا صفتوں سے منزہ ہے۔ صفۃ السوء وھی الحاجۃ الی الاولاد الذکور وکراھۃ الاناث و وادھن حشیۃ الاملاق (وللہ المثل الاعلی) وھو الغنی عن العالمین والنزاھۃ عن صفات المخلوقین (مدارک ج 2 ص 223) اللہ تعالیٰ مخلوق کی صفات سے منزہ اور اولاد سے مستغنی ہے۔ اسے نہ کسی نائب اور معاون کی حاجت ہے اور نہ وہ کسی کی سفارش کا تابع ہے۔ العزیز فی الاخذ والحکیم فی التاخیر۔ یعنی وہ پکڑنے میں زبردست ہے اور ڈھیل دینے میں بھی اس کی کوئی حکمت ہوتی ہے۔
Ayah 16:61

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَیْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 16:61 in the Quran reader

اور اگر پکڑے45 للہ لوگوں کو ان کی بےانصافی پر نہ چھوڑے زمین پر ایک چلنے والاف 46 لیکن ڈھیل رہتا ہے ان کو ایک وقت موعود تک پھر جب آپہنچے گا ان کا وعدہ نہ پیچھے سرک سکیں گے ایک گھڑی اور نہ آگے سرک سکیں گے

45:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ مشرکین کفر و افتراء میں انتہاء کو پہنچ چکے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ پکڑنے میں عجلت سے کام نہیں لیتا اگر وہ لوگوں کو ان کے گناہوں پر فورًا پکڑ لیتا تو اب تک زمین پر کوئی جاندار زندہ باقی نہ رہتا اور سب ہلاک ہوچکے ہوتے اور زمین زندگی سے خالی ہوچکی ہوتی، کیونکہ معصوم تو صرف انبیاء (علیہم السلام) ہیں باقی سب لوگ (مومن و کافر) کسی نہ کسی درجہ میں ظالم و خطا کار ہیں، جب تمام بدکار اور خطاکار لوگ ہلاک کردئیے گئے تو اب انبیاء معصومین کو زمین پر بھیجنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہتی جب زمین تمام نیک و بد انسانوں سے خالی ہوگئی تو پھر دیگر حیوانات کو زمین پر رکھنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ووجہ الملازمۃ انہ تعالیٰ لواخذھم بما کسبوا من کفر او معصیۃ لعجل ھلاکھم و حینئذ لا یبقی لھم نسل ومن المعلوم ان لا احد الاوفی اٰبائہ من یستحق العقاب واذا ھلکوا جمیعا و بطل نسلھم لا یبقی احد من الناس و حینئذ یھلک الدواب لانھا مخلوقۃ لمنافع العباد و مصالحم الخ (روح ج 14 ص 171) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں ” ما ترک علی ظھرھا من دابۃ “ یہ کنایہ ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑنے لگے تو کوئی اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتا اور نہ کہیں بھاگ کر جاسکتا ہے یہ مطلب نہیں کہ وہ کسی جانور کو بھی زندہ نہیں چھوڑے گا۔ 46:۔ اللہ تعالیٰ مجرموں کو پکڑنے میں جلدی نہیں فرماتا بلکہ اجل مسمی (مقررہ وقت) تک انہیں مہلت دیتا ہے تاکہ انہیں اصلاح حال کا موقع مل جائے۔ لیکن جب عذاب کا وقت معین آ پہنچتا ہے تو انہیں عذاب سے ہلاک کردیا جاتا ہے۔ عذاب نہ اجل معین سے پہلے آسکتا ہے نہ اس میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ” فاذا “ کی جزا محذوف ہے ای فاذا جاء اجلھم یعذبون اور ” لایستاخرون الخ “ جملہ مستقلہ ہے جو ماقبل کی تفسیر کرتا ہے۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔ اس کی تفصیل پہلے گذر ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر سورة یونس حاشیہ نمبر 67 ۔
Ayah 16:62

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا یَكْرَهُوْنَ وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى١ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَ اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ Open ayah 16:62 in the Quran reader

اور کرتے ہیں اللہ کے واسطے جس کو اپنا جی نہ چاہے47 اور بیان کرتی ہیں زبانیں ان کی جھوٹ کہ ان کے واسطے خوبی ہے48 آپ ثابت ہے کہ ان کے واسطے آگ ہے اور وہ بڑھائے جا رہے ہیں

47:۔ یہ ” و یجعلون للہ البنات “ کا اعادہ برائے بعد عہد ہے۔ مشرکین کے ایک جھوٹے دعوے کی قباحت و شناعت کو واضح کرنے کے لیے ان کی مذکورہ بالا شرارت کو دوبارہ بیان کیا گیا یعنی ایک طرف تو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاکیزہ پر اتنا بڑا بہتان باندھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بیٹیاں ہیں حالانکہ خود بیٹیوں کو پسند کرتے یا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں معبود باطلہ کو شریک کرتے ہیں حالانکہ اپنے دائرہ اقتدار میں کسی کی شرکت گوارا نہیں کرتے ” ما یکرھون لانفسہم من البنات و من شرکاء فی ریاستھم الخ “ (مدارک ج 2 ص 224) ۔ اور دوسری طرف یہ جھوٹا دعوی کرتے ہیں کہ وہ جنت کے وارث ہوں گے یعنی اگر بالفرض قیامت آ بھی گئی تو انہیں آخرت میں بھی جنت ملے گی کیونکہ دنیا میں بھی انہیں جنت کی سی عیش حاصل ہے۔ ان لھم الحسنی عند اللہ وھی الجنۃ ان کان البعث حقا (مدارک) انکار علیھم فی دعوھم مع ذلک ان لھم الحسنی فی الدنیا وان کان ثم معاد ففیہ ایضا لھم الحسنی (ابن کثیر ج 2 ص 573) ۔ 48:۔ یہ ” تصف السنتکم الْکذب “ میں الکذب کا بیان ہے۔ ” لاجرم الخ “ یہ تخویف اخروی ہے اور مشرکین کے دعوی باطلہ کا رد ہے یعنی ان کے لیے جنت نہیں بلکہ لامحالہ وہ دوزخ میں جائیں گے۔ ” وانھم مفرطون “ اور انہیں سب سے پہلے دوزخ میں داخل کیا جائیگا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یعجل بھم یوم القیمۃ الی النار و ینسون فیھا ای یخلدون (ابن کثیر ج 2 ص 575) ۔
Ayahs 16:63–64

تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:63 in the Quran reader

قسم اللہ کی ہم نے رسول بھیجے49 مختلف فرقوں میں تجھ سے پہلے پھر اچھے کر کے دکھلائے ان کو شیطان نے ان کے کام سو وہی رفیق ان کا ہے آج اور ان کے واسطے عذاب دردناک ہے

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:64 in the Quran reader

اور ہم نے اتاری تجھ پر کتاب اسی واسطے کہ کھول کر سنادے تو ان کو وہ چیز کہ جس میں جھگڑ رہے ہیں اور سیدھی راہ سجھانے کو اور واسطے بخشش ایمان لانے والوں کے

49:۔ زجر مع تخویف اخروی آپ سے پہلے ہم نے امم سابقہ کے پاس بہت سے رسول پیغام توحید دے کر بھیجے، جس طرح آپ کی قوم شیطان کے ورغلانے سے آپ کی تکذیب کر رہی ہے اسی طرح اقوام سابقہ کو بھی شیطان نے بہکایا پھسلایا اور مشرکانہ اعمال کو ان کے سامنے خوبصورت بنا کر پیش کیا اور انہیں انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب پر اکسایا۔ لہذا قیامت کے دن ان سب کا حامی شیطان ہوگا مگر وہ ان کی ذرہ بھر حمایت نہیں کرسکے گا اور وہ سب دردناک عذاب میں مبتلا کردئیے جائیں گے۔ ” و ما انزلنا علیک الخ “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے ہم نے آپ کو کتاب دے کر بھیجا ہے تاکہ آپ مسئلہ توحید اور حشر و نشر وغیرہ کو کھول کر لوگوں تک پہنچائیں اور ان کی خوب تبلیغ و اشاعت فرمائیں اگر کوئی نہ مانے اس کی پرواہ نہ کریں۔ ع۔ ہیچ مارا باقبولے کار نیست۔
Ayahs 16:65–66

وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠ Open ayah 16:65 in the Quran reader

اور اللہ نے اتارا آسمان سے پانی50 پھر اس سے زندہ کیا زمین کو اس کے مرنے کے پیچھے اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سنتے ہیں

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ Open ayah 16:66 in the Quran reader

اور تمہارے واسطے چوپاؤں میں سوچنے کی جگہ ہے پلاتے ہیں تم کو اس کے پیٹ کی چیزوں میں سے گوبر اور لہو کے بیچ میں سے دودھ ستھرا خوشگوار پینے والوں کے لیے

50:۔ یہ توحید پر پانچویں عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ بارش برسا کر مردہ اور ناکارہ زمین کو سرسبز و شاداب بنا دیتا ہے سمجھ رکھنے والوں کے لیے اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ ” و ان لکم فی الانعام “ چوپایوں میں بھی تمہارے لیے عبرت کا سامان موجود ہے۔ ان کے پیٹ کے گوبر اور خون کے درمیان میں سے وہ خالص اور پاکیزہ دودھ نکالتا ہے جو ان دونوں ناپاک چیزوں کی آمیزش سے بالکل پاک اور مبرا ہوتا ہے اور ہر شخص کے لیے خوشگوار ہے۔ دودھ دینے والے چوپائے جو چارہ یا خوراک کھاتے ہیں ہضم معدے کے بعد جگر اس کے کار آمد اجزاء اپنی طرف جذب کرلیتا ہے اور گوبر معدہ میں رہ جاتا ہے جگر اس سیال مادے کو مزید طنج دینے کے بعد خون کے اجزاء الگ کر کے دل کی طرف بھیج دیتا ہے اور دودھ کے اجزاء الگ کر کے دودھ کی نالیوں کے ذریعہ تھنوں میں پہنچا دیتا ہے۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہے۔ لعبرۃ ای دلالۃ علی قدرۃ اللہ ووحدانیتہ وعظمتہ (قرطبی ج 10 ص 123) ۔
Ayah 16:67

وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 16:67 in the Quran reader

اور میووں سے کھجور کے اور انگور کے51 بناتے ہو اس سے نشہ اور روزی خاصی اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے واسطے جو سمجھتے ہیں

51:۔ کھجور اور انگور سے تم شراب کشید کرتے ہو جو تمہارا بہت ہی مرغوب اور دلپسند مشروب ہے اور اس کے علاوہ ان میووں سے تم کھانے پینے کی عمدہ اور اچھی چیزیں بھی تیار کرتے ہو مثلاً شربت، نبیذ اور سرکہ وغیرہ۔ یہ سورت مکی ہے جب یہ آیت نازل ہوئی اس وقت شراب کی حرمت نازل نہیں ہوئی تھی مدینہ منورہ میں جب شراب کی حرمت کا اعلان ہوگیا تو پھر کسی مسلمان نے شراب کو ہاتھ بھی نہ لگایا۔ ” سکرًا “ کے بعد ” رزقًا حسنًا “ کا علیحدہ ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ شراب رزق حسن نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ مشروب نہیں۔ الایۃ سابقۃ علی تحریم الخمر تکون منسوخۃ (مدارک ج 2 س 224) ۔
Ayahs 16:68–69

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ Open ayah 16:68 in the Quran reader

اور حکم دیا تیرے رب نے52 شہد کی مکھی کو کہ بنا لے پہاڑوں میں گھر اور درختوں میں اور جہاں ٹٹیاں باندھتے ہیں

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:69 in the Quran reader

پھر کھا ہر طرح کے میووں سے پھر چل راہوں میں اپنے رب کی صاف پڑے ہیں نکلتی ہے ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے مختلف رنگ ہیں اس میں مرض اچھے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو دھیان کرتے ہیں

52:۔ شہد کی مکھی کو وحی کرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات اس کے دل میں ڈال دی کہ وہ پہاڑوں اور درختوں میں اپنا چھتہ بنائے اور ہر قسم کے پھولوں اور پھلوں سے رس چوس کر کر شہد تیار کرے۔ ” ذللا “ ذلول کی جمع ہے یعنی تابع اور مطیع اور یہ ” سبل ربک “ سے حال ہے۔ شہد کی مکھی جب گشت سے واپس ہوتی ہے تو بھولے بھٹکے بغیر اپنے چھتہ پر آجاتی ہے گویا کہ تمام راستے اس کے فرمانبردار ہیں وہ جس راستہ سے چاہے سیدھی اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاتی ہے۔ ” مختلف الوانہ “ شہد کا رنگ موسمی تغیرات اور ماحول کے مختلف الالوان پھولوں اور پھلوں کی وجہ سے مختلف ہوتا ہے سفید، زرد اور سرخ وغیرہ۔ ” فیہ شفاء للناس “ شہد میں لوگوں کے لیے بیماریوں سے شفاء ہے۔ اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ شہد کو جس طرح چاہیں استعمال کرلیں اس میں شفاء ہے اور ضرر نہیں۔ شہد کی مقدار خوراک مزاج مریض اور نوعیت مرض کو سامنے رکھ کر اس کا استعمال کرنا چاہئے۔ شہد کے شفاء ہونے پر قدیم و جدید تمام اطباء متفق ہیں یہی وجہ ہے کہ اکثر مرکبات طیبہ میں شہد شامل کیا جاتا ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے کرشمے ہیں، یہ سب اسی کے انعامات ہیں، یہ انواعِ رزق اوراقسام مشروبات اسی کی عطا ہے اس لیے اس قادر و حکیم اور منعم و رحیم کے ساتھ غیروں کو صفاتِ کارسازی میں شریک بنانا اور غیروں کے لیے عبادت بجالانا عقل و خرد کے سراسر منافی ہے۔ جب خالق ومالک اور متصرف و کارساز وہی ہے تو اس سے معلوم ہوگیا کہ چوپایوں، پھلوں اور شہد میں سے نذر و نیاز بھی صرف اسی کی دیا کرو اور ان اشیاء میں سے غیر اللہ کے لیے حصہ مقرر نہ کیا کرو۔
Ayah 16:70

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

اور اللہ نے تم کو پیدا کیا53 پھر تم کو موت دیتا ہے اور کوئی تم میں سے پہنچ جاتا ہے نکمی عمر کو کہ سمجھنے کے پیچھے اب کچھ نہ سمجھے اللہ خبردار ہے قدرت والا

53:۔ موت وحیات بھی اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے اسی نے تم سب کو خلعت حیات عطا فرمائی موت بھی اسی کے قبضہ میں ہے کسی کو بچپن میں موت سے ہمکنار فرما دیتا ہے، کسی کو جوانی میں اور کسی کو بڑھاپے میں ” ان اللہ علیم قدیر “ وہ سب کچھ جاننے والا اور بڑی قدرت والا ہے۔ جس طرح وہ نطفہ بےجان سے لے کر انسان کے بڑھاپے تک کے تمام درمیانی انقلابات پر قادر ہے اسی طرح وہ مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرنے پر بھی قادر ہے، یہ منکرینِ قیامت پر احتجاج ہے۔
Ayah 16:71

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

اور اللہ نے بڑائی دی تم میں ایک کو ایک پر روزی میں54 سو جن کو بڑائی دی وہ نہیں پہنچا دیتے اپنی روزی ان کو جن کے مالک ان کے ہاتھ ہیں کہ وہ سب اس میں برابر ہوجائیں کیا اللہ کی نعمت کے منکر ہیں55

54:۔ یہ معبود حق اور معبود باطل کی مثال ہے۔ قال مجاھد ھذا مثل الایھۃ الباطلۃ (ابن کثیر) ۔ اللہ تعالیٰ نے رزق اور دنیوی دولت میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ بعض لوگ بڑے دولت مند اور لینڈ لارڈ ہیں اور بعض بیچارے ان کے نوکر اور کارندے ہیں۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے زیادہ دولت دی ہے اور انہیں دوسروں پر فوقیت بخشی ہے وہ یہ ہرگز گوارا نہیں کرسکتے کہ اپنی دولت اپنے نوکروں اور گلاموں میں تقسیم کردیں تاکہ ان کے غلام دولت اور اختیارات میں ان کے برابر ہوجائیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اس بات کو گوارا نہیں فرماتا کہ وہ اپنی صفات الوہیت اور اپنے اختیارات، علم وقدرت اور ملک و تصرف میں سے اپنے مقرب بندوں کو کچھ حصہ عطا کر کے انہیں اپنے شریک بنالے۔ اس لیے جس طرح اس نے مجازی مالک و مملوک میں دولت اور اختیارات کی کمی بیشی سے فرق قائم رکھا ہے اسی طرح اس نے اپنی صفاتِ کارسازی میں اپنے بندوں کو کچھ بھی نہ دے کر معبود اور عابد کا فرق قائم فرمایا۔ قال تعالیٰ منکرا علیھم (ای علی المشرکین) انتم لا ترضون ان تساو وا عبیدکم فیما رزقنٰکم فکیف یرضی ھو تعالیٰ بمساواۃ عبید لہ فی الالوھیۃ والتعظیم (ابن کثیر ج 2 ص 577) ۔ ” فھم فیہ سواء “ یہ منفی پر متفرع ہے یعنی مالک اپنے مملوک کو اپنی دولت میں سے اس قدر نہیں دیتا کہ وہ اس کے برابر ہوجائیں فی موضع جواب النفی کانہ فیستو وا (بحر ج 5 ص 515) ۔ 55:۔ یہ تمام مذکورہ بالا انعامات تو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے مگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ اللہ کے عطا کردہ چوپایوں اور اس کی پیدا کردہ کھیتیوں میں سے غیر اللہ کی نذر و نیاز دے کر کفران نعمت کرتے ہیں۔
Ayah 16:72

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اور اللہ نے پیدا کیں تمہارے واسطے تمہاری ہی قسم سے عورتیں اور دیے تم کو56 تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے اور کھانے کو دیں تم کو ستھری چیزیں سو کیا جھوٹی باتیں مانتے ہیں اور اللہ کے فضل کو نہیں مانتے

56:۔ یہ دلیل ماقبل سے متعلق ہے اللہ تعالیٰ کا یہ بھی احسان ہے کہ اس نے تمہاری جنس سے تمہارے آرام و سکون کی خاطر تمہارے لیے بیویاں پیدا کیں پھر ان سے اولاد در اولاد پیدا فرمائی اور دنیا میں تمہاری نسل کو بقا نصیب ہوا۔ اور پھر ہر قسم کی پاکیزہ روزی کا سامان بہم پہنچایا۔ ” افبا لباطل یومنون “ لیکن یہ ناشکر گذار انسان اللہ تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں اور اس کی عطا کردہ نعمتوں کو اپنے خود ساختہ معبودوں کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔ یسترون نعمۃ اللہ علیہم و یضیفونہا الی غیرہ ( ابن کثیر) روزی وہ دیتا ہے، مصیبتیں وہ دور کرتا ہے اور اولاد وہی عطا کرتا ہے۔ مگر وہ اسے پیروں فقیروں اور بزرگوں کی عطا سمجھنے لگتے ہیں جیسا کہ ان کے مشرکانہ ناموں سے معلوم ہوتا ہے۔ مثلاً عطا محمد، محمد بخش، احمد بخش، نبی بخش، رسول بخش، حسین بخش، علی بخش، میراں بخش، پیراں دتہ، گوراں دتہ وغیرہ۔ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں ” یعنی بتوں کا احسان مانتے ہیں کہ بیماری سے چنگا کیا یا بیٹا دیا یا روزی دی اور یہ سب جھوٹ وہ جو سچ دینے والا ہے اس کے شکر گذار نہیں “۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرا اور جن و انس کا بھی عجب معاملہ ہے کہ ان کا خالق میں ہوں مگر وہ عبادت غیروں کی کرتے ہیں اور ان کا رازق میں ہوں مگر وہ شکر اوروں کا ادا کرتے ہیں۔ قال رسول اللہ ﷺ قال اللہ تعالیٰ انی والجن والانس فی نبا عطیم اخلق و یعبد غیری وارزق و یشکر غیری (مظہری ج 5 ص 357) ۔
Ayah 16:73

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

اور پوجتے ہیں57 اللہ کے سوا ایسوں کو جو مختار نہیں ان کی روزی کے آسمان اور زمین میں سے کچھ بھی اور نہ قدرت رکھتے ہیں

57:۔ یہ بطور زجر دلیل مذکور کا ثمرہ ہے۔ مذکورہ بالا بیان سے واضح ہوگیا کہ قادر مطلق، مالک الملک اور سب کا رازق اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا وہی سب کا کارساز ہے اور وہی مستحق عبادت و دعاء ہے۔ مگر یہ مشرکین اس قادر و محسن کے ساتھ عبادت اور پکار میں اس کے عاجز و بےبس بندوں کو شریک بناتے ہیں جو مذکورہ کاموں میں سے کچھ بھی نہیں کرسکتے، نہ آسمان سے بارش برسا سکتے ہیں نہ زمین سے روزی پیدا کرسکتے ہیں۔ ان کاموں میں سے کچھ بھی تو ان کے اختیار میں نہیں۔
Ayah 16:74

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

سو مت چسپاں کرو اللہ پر58 مثالیں بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

85:۔ یہ ” و یجعلون للہ البنات “ سے متعلق ہے۔ مشرکین کہتے تھے کہ فرشتے بیٹیوں کی مانند اللہ کو پیارے ہیں اور وہ ان کی کوئی بات رد نہیں کرتا اس لیے ہم فرشتوں کو خدا کے یہاں سفارشی سمجھتے ہیں نیز مشرکین کہتے تھے اصل میں مالک و مختار اور متصرف علی الاطلاق تو واقعی اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن اللہ کے برگزیدہ اور نیک بندے اللہ کی سرکار میں مختار بالاذن ہیں اس لیے ہم ان کو خدا کے یہاں سفارشی سمجھ کر پوجتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کے لیے ایسی مثالیں نہ بیان کرو جن سے شرک کی راہ نکلتی ہو یا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے لیے شریک اور مثیل نہ بناؤ یعنی اپنے معبودانِ باطلہ کو خدا کا شریک مت ٹھہراؤ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یقول سبحانہ لا تجعلوا معی الٰھا غیری فانہ لا الہ غیری (روح ج 14 ص 194) ۔ شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں ” مشرکین کہتے ہیں کہ مالک اللہ ہی ہے پر یہ لوگ اللہ کی سرکار میں مختار ہیں اس واسطے ان کو پوجتے سو یہ غلط مثال ہے اللہ ہر چیز آپ کرتا ہے کسی پر سپرد نہیں کر رکھا اور اگر صحیح مثال چاہو تو آگے دو مثالیں فرمائیں “۔
Ayah 16:75

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:75 in the Quran reader

اللہ نے بتلائی ایک مثال59 ایک بندہ پرایا مال نہیں قدرت رکھتا کسی چیز پر اور ایک جس کو ہم نے روزی دی اپنی طرف سے خاصی روزی سو وہ خرچ کرتا ہے اس میں سے چھپا کر اور سب کے روبرو کہیں برابر ہوتے ہیں سب تعریف اللہ کو ہے پر بہت لوگ نہیں جانت

59:۔ تم نے اپنے معبودوں کے لیے جو مثال بیان کی ہے وہ صحیح نہیں۔ تمہارے خود ساختہ معبودوں کی صحیح مثالیں یہ ہیں۔ پہلی مثال۔ ایک غلام ہو جو دوسرے شخص کا مملوک ہو، وہ اپنے مالک کے رحم و کرم پر اور اس کا محتاج ہو اور اس کے پاس کوئی اختیار بھی نہ ہو۔ اس کے برعکس ایک وہ شخص ہے جو آزاد ہے اور ہم نے اسے حلال کمائی سے بہت سی دولت دی ہو جسے وہ اپنے اختیار سے جب چاہے، جہاں چاہے آزادانہ خرچ کرتا ہو۔ اب تم خود ہی بتاؤ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ استفہام انکاری ہے یعنی دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ ” الحمد للہ “ تمام صفات کارسازی اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں۔ جس طرف ایک عاجز و بےبس غلام اور ایک با اختیار آقا برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح اللہ تعالیٰ جو تمام صفاتِ کارسازی کا مالک اور تمہارے تمام معبودوں کا آقا ہے، تمہارے معبود جو اس کے مملوک و محکوم ہیں اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے اس کے برابر نہیں ہوسکتے۔ لیکن یہ بات اس قدر واضح اور ظاہر ہونے کے باوجود اکثرلوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔
Ayah 16:76

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 16:76 in the Quran reader

اور بتائی اللہ نے ایک دوسری مثال60 دو مرد ہیں ایک گونگا کچھ کام نہیں کرسکتا اور وہ بھاری ہے اپنے صاحب پر جس طرف اس کو بھیجے نہ کر کے لائے کچھ بھلائی کہیں برابر ہے وہ اور ایک وہ شخص جو حکم کرتا ہے انصاف سے اور ہے سیدھی راہ پر

60:۔ یہ دوسری مثال ہے۔ دو شخص ہوں جن میں سے ایک وہ شخص ہے جس میں یہ چار صفتیں ہوں۔ گونگا بہرہ مملوک ہو، اس کے اختیار میں بھی کچھ نہ ہو۔ وہ الٹا اپنے مالک پر بوجھ ہو اور مالک جدھر بھی اسے بھیجے وہ کوئی کام نہ بجا لاسکے اور ایک وہ شخص ہے جس کو اللہ نے قت گویائی عطا فرمائی ہے اور وہ عدل و انصاف کی تلقین کرتا ہے اور اپنے اختیار سے سیدھی راہ پر چل رہا ہے اس طرح اس کا قول اور عمل دونوں ہی سراپا خیر و برکت ہیں۔ یہ دونوں شخص ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ جس طرح ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح معبود برحق اور تمہارے معبودانِ باطلہ میں فرق ہے۔ معبود حق مالک و مختار اور خیر و برکت کا سرچشمہ ہے مگر تمہارے معبود محض عاجز و بےبس ہیں اور ان کی عبادت اور پکار سے کسی خیر اور نفع کا امکان نہیں۔ ” و من یامر بالعدل “” ابکم “ کے مقابلہ میں ہے اور ” وھو علی صراط مستقیم لا یقدر علی شیء الخ “ یعنی باقی تینوں صفتوں کے مقابلے میں ہے۔
Ayah 16:77

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 16:77 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے پاس ہیں61 بھید آسمانوں اور زمین کے اور قیامت کا کام تو ایسا ہے جیسے لپک نگاہ کی یا اس سے بھی قریب اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

61:۔ واؤ تعلیلیہ ہے اور اس میں دعویٰ توحید مذکورہ کی علت بیان کی گئی ہے یعنی سب کچھ کرنیوالا اللہ تعالیٰ ہی ہے کیونکہ غیب داں وہی ہے۔ اگر واؤ استینافیہ ہو تو یہ دوسرے دعوے کا بیان ہوگا یعنی جس طرح سب کچھ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اسی طرح سب کچھ جاننے والا بھی وہی ہے۔ ” و ما امر الساعۃ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت بپا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ جب اسکا معین وقت آجائے گا تو وہ آن واحد میں سارے جہان کو زیر و زبر کردے گا کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayah 16:78

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:78 in the Quran reader

اور اللہ نے تم کو نکالا62 تمہاری ماں کے پیٹ سے نہ جانتے تھے تم کسی چیز کو اور تم کو کان اور آنکھیں اور دل تاکہ تم احسان مانو

62 ۔ یہ توحید پر چھٹی عقلی دلیل ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اس وقت تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے پھر اس نے تمہیں سننے، دیکھنے اور سوچنے سمجھنے کی قوتیں عطا فرمائیں تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو اور اس کے ساتھ شرک نہ کرو اور گیر اللہ کو حاجات میں غائبانہ مت پکارو اور اس کی عطا کردہ قوتوں کو علم دین اور معرفت الٰہی کی تحصیل میں خرچ کرو۔ اجتلاب العلم والعمل بہ من شکر المنعم و عبادتہ والقیام بھقوقہ (مدارک ج 2 ص 227)
Ayah 16:79

اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:79 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھے اڑتے جانور63 حکم کے باندھے ہوئے آسمان کی ہوا میں کوئی نہی تھام رہا ان کو سوائے اللہ کے اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کو جو یقین لاتے ہیں

63:۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک واضح دلیل ہے کہ اس نے جس طرح انسانوں کو مکتلف قوتیں بخشی ہیں اسی طرح اس نے پرندوں کو بھی ارنے کی طاقت دی ہے اور وہ اس کی قدرت سے فضائے آسمانی میں اڑتے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے تکوینی احکام کے تابع ہیں۔
Ayah 16:80

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 16:80 in the Quran reader

اور اللہ نے بنا دیے64 تم کو تمہارے گھر بسنے کی جگہ اور بنادیے تم کو چوپاؤں کی کھال سے ڈیرے جو ہلکے رہتے ہیں تم پر جس دن سفر میں ہو اور جس دن گھر میں اور بھیڑوں کی اون سے اور اونٹوں کی ببریوں سے اور بکریوں کے بالوں سے کتنے اسباب اور استعمال کی چیزیں وقت مقرر تک

64:۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا انعام ہے کہ اس کے انسان کو آسمان کی طرح ہر آن متحرک اور پہاڑوں کی مانند ہر وقت ساکن پیدا نہیں فرمایا بلکہ حرکت کے بعد سکون کا تقاضا اس کی فطرت کا لازمہ قرار دیا اور گھروں کو آرام و راحت کی جگہ بنایا۔ یہ چوپائے بھی اللہ نعمت ہیں ان سے آدمی کس قدر کام لیتا ہے۔ ان کے چمڑوں سے گھر (یعنی خیمے اور سائبان) بناتا ہے جو ہلکے پھلکے ہوتے ہیں۔ سفر و حضر میں ان کے اٹھانے اور نصب کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ عرب کے خانہ بدوش قبائل ایسے خیموں سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ اونٹوں، بھیڑوں اور بکریوں کے بالوں سے مختلف قسم کا سامان مثلاً کمبل، گدے، نمدے اور کوٹ وغیرہ تیار کرتے ہیں۔