16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsجواھر القرآن

Ayah 16:81

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

اور اللہ نے بنا دیے تمہارے واسطے اپنی بنائی ہوئی چیزوں کے سائے65 اور بنا دیں تمہارے واسطے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہیں اور بنا دیے تم کو کرتے جو بچاؤ ہیں گرمی میں اور کرتے جو بچاؤ ہیں لڑائی میں اسی طرح پورا کرتا ہے اپنا احسان تم پر تاکہ تم حکم مانو

65:۔ اللہ تعالیٰ نے درختوں اور چھتوں کیلئے سائے بنا دئیے، پہاڑوں میں غاریں بنادیں جو وقتاً فوقتاً بارش، طوفانِ باد، دھوپ اور سردی سے بچنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ اون اور روئی وغیرہ پیدا کی جن سے سردی اور گرمی سے بچنے کے لیے لباس تیار کیا جاتا ہے۔ صرف گرمی کا ذکر فرمایا حالانکہ یہ کپڑے سردی سے بھی بچاتے ہیں اس لیے کہ عرب میں شدت کی گرمی پڑتی ہے جس سے بچنے کے لیے انہیں درختوں کے سایوں، پہاڑوں کے غاروں اور مختلف قسم کے کیڑوں کی ضرورت تھی۔ سردی وہاں اس قدر کم پڑتی ہے جو زیادہ اہتمام کے بغیر بھی برداشت کی جاسکتی ہے۔ ” تقیکم باسکم “ لوہے کی زرہیں جو جنگ میں پہنی جاتی تھیں تاکہ بدن پر تلوار یا تیر اثر نہ کرسکے۔ ” کذلک یتم نعمتہ الخ “ یہ ساری نعمتیں تمہیں اس لیے دیں تاکہ منعم (نعمت دہندہ) کو پہچانو، اس کا شکر بجالاؤ، اس کی پوری پوری اطاعت کرو اور اس کے ساتھ شرک نہ کرو اور اسی کو منعم سمجھو، اور اسی کو متصرف و کارساز سمجھ کر حاجات میں پکارو۔ یعنی لعلکم یا اھل مکۃ تخلصون للہ الوحدانیۃ الالوھیۃ والعبادۃ والطاعۃ و تعلمون انہ لا یقدر علی ھذہ الانعامات الا اللہ (خازن ج 4 ص 108) ۔
Ayah 16:82

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

پھر اگر پھرجائیں66 تو تیرا کام تو یہی ہے کھول کر سنا دینا

66:۔ یہ تمام مذکورہ دلائل سے متعلق ہے اور اِنْ کی جزا محزوف ہے ای فان تولوا بعد ھذہ الدلائل الواضحۃ والبینات القاھرۃ فاف لھم۔ یعنی یہ معاندین اگر ایسے واضح دلائل و بینات کے بعد بھی مسئلہ توحید کو نہ مانیں تو تف ہے ان کی عقلوں پر۔ اگر وہ نہ مانیں تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں کیونکہ آپ کا فرض تبلیغ ہے جو آپ نے احسن طریق سے انجام دے دیا۔ صاحب مدارک نے فلا تبعۃ علیک جزا مقدر مانی ہے۔ ای فلا تبعۃ علیک وفی زلک لان الذی علیک ھو التبلیغ الظھار و قد فعلت (مدارک ج 2 ص 228) ۔
Ayah 16:83

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

پہچانتے ہیں67 اللہ کا احسان پھر منکر ہوجاتے ہیں اور بہت ان میں ناشکر ہیں

67:۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو خوب پہچانتے ہیں اور انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں مگر اس کے باوجود عملاً ان کا انکار کرتے ہیں کیونکہ اللہ کے سوا غیروں کی عبادت کرتے اور ازراہ عناد و تعنت ان نعمتوں کو اپنے معبودان باطلہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ای یعرفون ان اللہ تعالیٰ ھو المسدی الیھم ذلک وھو المتفضل بہ علیہم و مع ھذا ینکرون ذلک و یعبدون معہ غیرہ و یسندون النصر والرز الی غیرہ ( ابن کثیر ج 2 ص 580) ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے اس لیے ان پر دلائل کا کوئی اثر ہوگا نہ امتنان کا۔
Ayahs 16:84–85

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

اور جس دن کھڑا کریں ہم68 ہر فرقہ میں ایک بتلانے والا پھر حکم نہ ملے منکروں کو اور نہ ان سے توبہ لی جائے

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور جب دیکھیں گے ظالم عذاب کو پھر ہلکا نہ ہوگا ان سے اور نہ ان کو ڈھیل ملے

68:۔ تخویف اخروی ہے۔ یہ ماقبل سے متعلق ہے یعنی دنیا میں ماننے پر نہیں آتے قیامت کے دن جب تمام امتیں احکم الحاکمین کی عدالت میں حاضر ہوں گی تو ہر امت کا رسول بطور گواہ پیش ہو کر اپنی امت کے نیک و بد کے بارے میں بیان دے گا کہ اس نے دعوت حق کے ساتھ کیسا سلوک کیا، اس دن ان منکرین کو اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے لب کشائی کی اجازت نہ ہوگی اور نہ ان سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ ” و اذا را الذین الخ “ انبیاء (علیہم السلام) کی گواہی کے بعد مشرکین کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر نہ ان کے عذاب میں کچھ تخفیف ہوگی اور نہ انہیں عذاب میں داخل کرنے سے پہلے کچھ مہلت دیجائے گی۔
Ayah 16:86

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب دیکھیں مشرک69 اپنے شریکوں کو بولیں اے رب یہ ہمارے شریک ہیں جن کو ہم پکارتے تھے تیرے سوا تب وہ ان پر ڈالیں گے بات کہ تم جھوٹے ہو

69:۔ قیامت کے دن جب مشرکین ان خاصانِ خدا کو دیکھیں گے تو فوراً بول اتھیں گے کہ ہمارے پروردگار یہ ہیں ہمارے حمایتی اور سفارشی جن کو ہم دنیا میں تیرے سوا پکارا کرتے تھے۔ شاہ عبدالقادر دہلوی فرماتے ہیں۔ ” جو لوگ پوجتے ہیں بزرگوں کو وہ بزرگ بےگناہ ہیں۔ ایک شیطان اپنا وہی نام رکھ کر پجواتا ہے اس سے ان کو کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو “” فالقوا الخ “ یعنی وہ بزرگ مشرکین سے کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو جو ہمیں خدا شریک بتا رہے ہو نہ ہم نے کبھی تم سے کہا کہ ہماری عبادت کیا کرنا اور اگر تم نے اپنی بد بختی سے ایسا کیا بھی ہے تو خدا گواہ ہے ہمیں تمہاری عبادت اور پکار کی خبر بھی نہیں ” فکفی باللہ شہیدا بیننا و بینکم ان کنا عن عبادتکم الخ “ (یونس ) ۔
Ayahs 16:87–88

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

اور آپڑیں اللہ کے آگے اس دن70 عاجز ہو کر اور بھول جائیں جو جھوٹ باندھتے تھے

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

جو لوگ منکر ہوئے ہیں اور روکتے ہیں اللہ کی راہ سے ان کو ہم بڑھا دیں گے عذاب پر عذاب بدلہ اس کا جو شرارت کرتے تھے

70:۔ قیامت کے روز مشرکین سر افگندہ ہوں گے اور عذاب کے لیے تیار ہونگے اور جن خود ساختہ حمایتیوں اور سفارشیوں سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں وہ سب غائب ہوں گے اور کوئی بھی کام نہیں آئے گا۔ ” الذین کفروا الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ وہ کفار جو نہ خود مانتے تھے اور نہ دوسروں کو ماننے دیتے تھے انہیں دوگنا تگنا عذاب دیا جائے گا کیونکہ وہ خود تو گمراہ تھے ہی اس کے ساتھ انہوں نے مخلوقِ خدا کو بھی گمراہ کیا اور انہیں جہنم میں دھکیلا۔ ای عذابا بکفرہم وعذابا بصدھم عن سبیل اللہ (مدارک ج 2 ص 229) ۔
Ayah 16:89

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور جس دن کھڑا کریں گے ہم ہر فرقہ میں71 ایک بتلانے والا ان پر انہی میں کا اور تجھ کو لائیں بتلانے کو ان لوگوں پر اور اتاری ہم نے تجھ پر کتاب72 کھلا بیان ہر چیز کا اور ہدایت اور رحمت اور خوشخبری حکم ماننے والوں کے لیے

71:۔ اعادہ بوجہ بعد عہد برائے بیان امر زائدہ ” من انفسہم “ یعنی قیامت کے دن ہم ہر امت سے گواہ کھڑا کریں گے مراد ہر امت کا رسول ہے یا اس سے مراد ہر آدمی کے ہاتھ پاؤں ہیں جو قیامت کے دن بول کر آدمی کے نیک و بد اعمال کی گواہی دیں گے۔ ” و جئنا بک الخ “ اور آپ کو ہم ان مشرکین پر بطور گواہ قیامت کے دن اپنی عدالت میں حاضر کریں گے۔ قیامت کے دنحضور ﷺ اپنے زمانہ کے نیک و بد لوگوں کے بارے میں گواہی دیں گے اور سب کے بارے میں بیان فرمائیں گے کہ انہوں نے آپ کی دعوت کے ساتھ کس قسم کا سلوک کیا۔ چناچہ صحیح مسلم میں ہےحضور ﷺ نے فرمایا اقول کما قال العبد الصالح الخ میں وہی جواب دوں گا جو اللہ کے نیک بندے عیسیٰ (علیہ السلام) دیں گے۔ یعنی ” و کنت علیھم شہیدا ما دمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم الایۃ۔ “ یعنی جب تک میں ان میں موجود رہا اس وقت تک تو ان کے حال کو جانتا تھا مگر بعد کا مجھے علم نہیں وہ کیا کرتے رہے۔ لفظ ” شہیداً “ کی پوری تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 273 ص 70، 71 ۔ 72:۔ پہلے حصہ میں نفی شرک فی التصرف پر چھ دلائل عقلیہ اور ایک دلیل نقلی کے بعد یہ دلیل وحی ہے یعنی ایک طرف تو عقل سلیم کی واضح شہادتیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب، متصرف و مختار اور کارساز نہیں اور تمام انبیاء (علیہم السلام) بھی اسی لیے مبعوث کیے گئے اور یہ مسئلہ بذریعہ وحی آپ پر نازل کیا گیا ہے آپ اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے۔ ہم نے آپ پر ایک ایسی جامع کتاب نازل کی ہے جس میں عقائد سے لے کر اعمال تک اور اخلاق سے لے کر معاملات تک کے بارے میں تمام بنیدی اور ضروری احکام بیان کردیے گئے ہیں۔ اہل بدعت اس آیت سے آنحضرت ﷺ کے لیے علم غیب کلی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ قرآن میں ہر چیز بیان کردی گئی ہے۔ یعنی ماکان و ما یکون اورحضور ﷺ قرآن مجید کو کما حقہ سمجھتے تھے لہذا اس سے ثابت ہوا کہحضور ﷺ کو ماکان ومایکون کا کلی اور تفصیلی علم تھا۔ مگر یہ استدلال صحیح نہیں کیونکہ ان کا استدلال اس پر مبنی ہے کہ یہاں لفظ کل استغراق حقیقی کے لیے ہو اور یہ دعوی باطل ہے کیونکہ ” تبیانا لکل شیء “ میں کل استغراق حقیقی کے لیے نہیں بلکہ استغراق اضافی کے لیے ہے اور اس سے دین کے بنیادی اور ضروری احکام مراد ہیں جیسا کہ مفسرین نے اس کی صراحت فرمائی ہے۔ تبیانا لکل شیء من امور الدین (مدارک ج 2 ص 229) ۔ قال مجاھد تبیانا للحلال والحرام (قرطبی ج 10 ص 164) ۔ لکل شیء یحتاج الیہ من الامر والنہی والحلال والحرام والحدود والاحکام (معالم ج 4 ص 110) ۔ تبیانا لکل شیء یعنی من امور الدین (خازن) ۔ والمراد من کل شیء علی ما ذھب الیہ جمع ما یتعلق بامور الدین (روح ج 4 ص 214) ۔ (تبیانا) بیانا بلیغا (لکل شیء) یتعلق بامور الدین (ابو السعود ج 5 ص 507) قال الزمخشری المعنی انہ بین کل شیء من امور الدین الخ (بحر ج 9 ص 527) (تبیانا) بیانا بلیغا (لکل شیء) یحتاجون الیہ من امور الدین (جامع البیان ص 237) ۔ ان حوالوں سے معلوم ہوگیا کہ مفسرین کرام (شکر اللہ مساعیھم) نے یہاں لفظ کل استغراق اضافی پر محمول کیا ہے اور استغراق حقیقی کسی نے بھی مراد نہیں لیا لہذا مبتدعین کا استدلال باطل ہے اور اس آیت سے حضور ﷺ کے لیے علم غیب کلی ثات نہیں ہوسکتا۔ حضرت شیخ نے فرمایا کہ قرآن مجید کے تمام احکام دین کا بیان ہونے سے مراد یہ ہے کہ کچھ احکام قرآن میں صراحۃً مذکور ہیں اور کچھ بحوالہ رسول ﷺ جیسا کہ فرمایا ” ما اٰتکم الرسول فخذوہ و ما نھکم عنہ فانتھوا “۔
Ayah 16:90

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

اللہ حکم کرتا ہے انصاف کرنے کا اور بھلائی کرنے کا73 اور قرابت والوں کے دینے کا اور منع کرتا ہے بےحیائی سے اور نامعقول کام سے اور سرکشی سے تم کو سمجھاتا ہے تاکہ تم یاد رکھو

73:۔ دلائل توحید اور تخویفات دنیویہ و اخرویہ کے بعد عذاب سے بچنے کا علاج بتایا کہ شرک نہ کرو انصاف کو اپنی زندگی کا دستور بناؤ، ظلم وعدوان سے اجتناب کرو، احسان و تفضل سے کام لو، بےحیائی اور برے کاموں سے باز آجاؤ۔ اگر تم ان امور پر عمل کرو گے تمہارے دلوں میں نیکی سے محبت اور برائی سے نفرت پیدا ہوگی جو آخرتمہاری استقامت کا باعث ہوگی۔ العدل سے مراد توحید ہے۔ العدل التوحید قالہ ابن عباس قرآن مجید کی یہ آیت اس قدر جامع ہے کہ اس میں تمام ابواب خیر اور تمام ابواب شر کو جمع کردیا گیا ہے۔ قال ابن مسعود ھذہ اجمع ایۃ فی القران لخیر یتمچل و لشر یجتنب (قرطبی ج 10 ص 165) ۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں عذاب دینے کا ذکر ہو وہاں دفع عذاب کے لیے تین امور بیان کیے جاتے ہیں۔ یعنی شرک نہ کرو، احسان کرو اور ظلم نہ کرو۔ اس سورت میں اہل مکہ کے لیے عذاب کی دھمکی تھی اس لیے امور ثلاثہ کو ذکر کیا گیا۔
Ayah 16:91

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

اور پورا کرو عہد اللہ کا74 جب آپس میں عہد کرو اور نہ توڑو قسموں کو پکا کرنے کے بعد اور تم نے کیا ہے اللہ کو اپنا ضامن اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو

74:۔ یہاں عہد سے ایمان و اسلام کا عہد مراد ہے جو ہر آدمی اسلام قبول کرتے وقت یا بالغ ہوتے وقت اللہ تعالیٰ سے کرتا ہے۔ یعنی ایمان پر مضبوطی سے قائم رہنا اور اسلام کے تمام احکام و حدود کی پابندی کرنا۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب صحابہ کرام نے آنحضرت ﷺ کے ہاتھ مبارک پر دین اسلام پر قائم رہنے کی بیعت کی تھی۔ اس میں مسلمانوں کو اس عہد بیعت پر قائم رہنے کی تاکید کی گئی۔ عھد اللہھی البیعۃ لرسول اللہ ﷺ علی السلام لقولہ ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ الخ (کبیر ج 5 ص 513، مدارک ج 2 ص 329) ۔ ” بعد توکیدھا الخ “ یعنی اپنے عہدوں کو مضبوط اور پختہ کرنے کے بعد مت توڑو کیونکہ تم نے اللہ کا نام لے کر عہد کیا ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کو گواہ بنایا ہے۔
Ayah 16:92

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:92 in the Quran reader

اور مت رہو75 جیسے وہ عورت کہ توڑا اس نے اپنا سوت کا تا ہوا محنت کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کہ ٹھہراؤ اپنی قسموں کو دخل دینے کا بہانہ ایک دوسرے میں اس واسطے کہ ایک فرقہ ہو چڑھا ہوا دوسرے سے یہ تو اللہ پرکھتا ہے تم کو76 اس سے اور آئندہ کھول دے گا اللہ تم کو قیامت کے دن جس بات میں تم جھگڑ رہے تھے

75:۔ یہ عہد تورنے والوں کے لیے تمچیل ہے۔ کہتے ہیں مکہ مکرمہ میں ایک عورت تھی جس کے دماغ میں خلل تھا وہ سوت کا تتی تھی مگر کاتنے کے بعد سوت کو نوچ ڈالتی (ابن کثیر) فرمایا عہد کو توڑنا بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ وہ کم عقل عورت سوت کات کر توڑ دیتی تھی۔ ” انکاثا “ ٹکڑے ٹکڑے۔ یہ ” غزلھا “ سے حال ہے۔ ” تتخذون، لا تکوانوا “ کے فاعل سے حال ہے۔ ” دخلاً “ سے مراد غدر و خیانت ہے اور یہ ” تتخذون “ کا مفعول ثانی ہے (روح) ان تکون ای بسبب ان تکون (مدارک) امۃ اول سے جماعت مشرکین اور امۃ ثانی سے جماعت مومنین مراد ہے اوبی تعداد اور مال و دولت میں زیادہ، ازید عددا واوفر مالا (مدارک ج 2 ص 230) ۔ یعنی مشرکین کی کثرت تعداد اور فراوانی مال و زر کی وجہ سے اپنے عہد و میثاق کو اپنے بھائیوں سے غدر و خیانت کا ذریعہ نہ بنانا۔ المعنی لا تغدروا بجماعۃ بسبب ان تکون جماعۃ اخری اکثر منھا واعز بل علیکم الوفاء بالایمان (روح ج 14 ص 322) ۔ 76:۔ کفار کو کثرت مال عطا کرنے کی حکمت بیان فرمائی کسی قوم کی کثرت تعداد اور دولت تمہارے لیے عہد شکنی کا باعث نہ بنے کیونکہ یہ ایک آزمائش ہے جس سے تمہارا امتحان مقسود ہے کہ کون اپنے عہد پر قائم رہتا ہے اور کون عہد کو توڑتا ہے۔ ” و لیبینن لکم الخ “ قیامت کے دن تم پر خوب واضح ہوجائے گا کہ عہد تور کر تم نے بہت بڑا جرم کیا ہے۔
Ayah 16:93

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:93 in the Quran reader

اور اللہ چاہتا تو77 تم سب کو ایک ہی فرقہ کردیتا لیکن راہ بھلاتا ہے جس کو چاہے اور سجھاتا ہے جس کو چاہے اور تم سے پوچھ ہوگی جو کام تم کرتے تھے

77:۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، ان میں کوئی اختلاف نہ ہوتا اور سب ہی اللہ کے عہد پر قائم ہوتے لیکن اللہ تعالیٰ ہر شخص کا امتحان لینا چاہتا ہے کہ ان میں کون ضد کرتا ہے اور کون اللہ کی طرف انابت اور رجوع کرتا ہے۔ ” ولکن یضل من یشاء “ چناچہ جو لوگ عقل و فکر سے کام نہیں لیتے اور محض ضد وعناد کی وجہ سے حق کا انکار کرتے ہیں انہیں ہدایت کی توفیق نہیں ملتی۔ ” و یھدی من یشاء “ اور جو لوگ نیک نیتی سے حق کی جستجو کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی دستگیری فرماتا اور انہیں قبول حق کی توفیق دے دیتا ہے۔
Ayah 16:94

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:94 in the Quran reader

اور نہ ٹھہراؤ78 اپنی قسموں کو دھوکا آپس میں کہ ڈگ نہ جائے کسی کا پاؤں جمنے کے پیچھے اور تم چکھو سزا اس بات پر کہ تم نے روکا اللہ کی راہ سے اور تم کو بڑا عذاب ہو

78:۔ امر زائد مرتب کرنے کے لیے مضمون مذکور کا بصورت نہی اعادہ کیا گیا۔ نیز اعادہ سے تاکید مقصود ہے اپنی قسموں اور اپنے عہدوں کو غدر و خیانت کا ذریعہ نہ بناؤ ورنہ اس (عہد شکنی) کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارے پاؤں دین اسلام کی راہ سے پھسل جائیں گے اور تم میں سے جو لوگ عہد بیعت توڑ کر دوبارہ کفر میں چلے جائیں گے ان کا یہ عمل دوسروں کے لیے بھی بیعت تور کر اسلام سے خارج ہونے کا باعث ہوگا اس لیے تمہیں دنیا اور آخرت میں اس عہد شکنی کا سخت ترین عذاب جھیلنا پڑے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں عہد اور ایمان سے مراد عام نہیں بلکہ بیعت اسلام کا عہد مراد ہے کیونکہ اتنی سخت وعید ترک اسلام پر ہی ہوسکتی ہے اور اس کے بعد ” من کفر باللہ من بعد ایمانہ الخ “ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ عہد سے عہد اسلام مراد ہے۔
Ayah 16:95

وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:95 in the Quran reader

اور نہ لو79 اللہ کے عہد پر مول تھوڑا سا بیشک جو اللہ کے یہاں ہے وہی بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم جانتے ہو

79:۔ اسلام قبول کرنے کے بعد مشرکین کی ظاہری شان و شوکت، مال و دولت اور افراد کی کثرت کو دیکھ کر عہد اسلام کو مت توڑو کیونکہ یہ دنیا کا تمام ساز و سامان اور مال و دولت آخرت کے مقابلے میں نہایت حقیر اور بےوقعت ہے۔ اسلام پر قائم رہنے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے یہاں تمہاری جو قدر و منزلت اور تمہارے لیے جو اجر وثواب ہے وہ اس دنیوی مال، سامان اور عیش سے کہیں بہتر ہے۔
Ayah 16:96

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:96 in the Quran reader

جو تمہارے پاس ہے80 ختم ہوجائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے کبھی ختم نہ ہوگا اور ہم بدلے میں دیں گے صبر کرنے والوں کو ان کا حق اچھے کاموں پر جو کرتے تھے

80: دنیا کی تحقیر کا بیان مقصود ہے یعنی دنیوی ساز و سامان کی طرف توجہ نہ کرو بلکہ آخرت کی فکر کرو۔ کیونکہ دنیا کی ہر چیز فانی اور ختم وجانے والی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے یہاں منکرین کے لیے جو عذاب ہے اور مومنین کے لیے جو ثواب ہے وہ کبھی کتم نہیں ہوگا جو لوگ دنیا میں عہد اسلام پر قائم رہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے احکام و حدود کی پابندی کریں گے آخرت میں ان کے تمام اعمال کا انہیں پورا پورا اجر وثواب ملے گا۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں جہاں دولت دنیا کے فریب میں آنے سے ڈرایا جاتا ہے وہاں عام طور سے تین باتیں مذکور ہوتی ہیں (1) دولت دنیا قلیل و حقیر ہے۔ (2) اس کی وجہ سے دنیا میں عذاب آتا ہے (3) آخرت میں بھی عذاب ہوگا۔ امر اول ” ما عندکم ینفد “ سے امر دوم ” و تذوقوا السوء “ سے اور امر سوم ” ولکم عذاب عظیم “ سے ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 16:97

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:97 in the Quran reader

جس نے کیا نیک کام81 مرد ہو یا عورت ہو اور وہ ایمان پر ہے تو اس کو ہم زندگی دیں گے ایک اچھی زندگی اور بدلے میں دیں گے ان کو حق ان کا بہتر کاموں پر جو کرتے تھے

81:۔ جو مرد و زن دنیا میں نیک کام کرے بشرطیکہ وہ مومن ہو تو اس کی دنیا کی زندگی بھی پاکیزہ اور پر لطف ہوگی کیونکہ مومن موحد کو اللہ تعالیٰ کی بندگی، اطاعت، اور صبر و قناعت میں جو لطف اور قلبی اطمینان حاصل ہوتا ہے وہ شاہانِ دنیا کو تخت و تاج اور بیشمار سامان تعیش سے بھی نصیب نہیں ہوتا۔ اور آخرت میں بھی اپنے تمام اعمال کی پوری پوری جزا پائیں گے۔ بعض مفسرین نے ” حیۃ طیبۃ “ سے اخروی زندگی مراد لی ہے۔ جس کا پاکیزہ اور پر لطف ہونا کسی تشریح و توضیح کا محتاج نہیں۔ والمراد بالحیاۃ الطیبۃ الحیاۃ التی تکون فی الجنۃ اذ ھناک حیاۃ بلا موت و غنی بلا فقر و صحۃ بلا سقم و ملک بلا ھلک و سعادۃ بلا شقاوۃ (روح ج 14 ص 226) ۔
Ayahs 16:98–100

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 16:98 in the Quran reader

سو جب تو پڑھنے لگے قرآن82 تو پناہ لے اللہ کی شیطان مردود سے

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:99 in the Quran reader

اس کا زور نہیں چلتا پر جو ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 16:100 in the Quran reader

اس کا زور تو انہی پر ہے جو اس کو رفیق سمجھتے ہیں اور جو اس کو شریک مانتے ہیں

82:۔ یہ دلیل وحی یعنی ” و نزلنا علیک الکتب الخ “ سے متعلق ہے۔ یعنی ہم نے آپ پر ایک ایسی جامع کتاب نازل کی ہے کہ اس میں تمام ضروریاتِ دین کی پوری تفصیل موجود ہے اور جس میں مذکور الصدر امور ثلاثہ کا ذکر ہے یعنی شرک نہ کرو، احسان کرو اور ظلم نہ کرو پس جب آپ اس کی تلاوت فرمانے لگیں تو اس کی ابتداء میں شیطان سے استعاذہ ضرور کرلیا کریں کیونکہ وہ دورانِ تلاوت وسوسے ڈالنے اور لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگرچہ آپ پر اس کا کوئی مکر و فریب اثر انداز نہیں ہوسکتا کیونکہ مؤمنین صادقین جو اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں ان پر شیطان کا بس نہیں چل سکتا البتہ اس کے ورغلانے اور وسوسے ڈالنے کا ان لوگوں پر اثر ہوتا ہے جو وسوسوں پر عمل کرتے اور اس کے گمراہ کرنے سے اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ بِہٖ میں باء سببیہ ہے والمعنی بسببہ ای من اجلہ و من اجل حملہ ایاھم علی الشرک باللہ صاروا مشرکین (کبیر ج 5 ص 519) ۔
Ayah 16:101

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:101 in the Quran reader

اور جب ہم بدلتے ہیں83 ایک آیت کی جگہ دوسری آیت اور اللہ خوب جانتا ہے جو اتارتا ہے84 تو کہتے ہیں تو تو بنا لاتا ہے یہ بات نہیں پر اکثروں کو ان میں خبر نہیں

83:۔ یہ مشرکین پر شکوی ہے جو قرآن مجید پر شیطانی وسوں سے بےجا شبہات وارد کرتے تھے یہ ان کا پہلا شبہ ہے جو دلیل وحی سے متعلق ہے قرآن مجدی میں جو احکام ابتداء میں وقتی مصالح کی بنا پر نازل کیے گئے تھے جب ان کی ضرورت باقی نہ رہی تو انہیں منسوخ کردیا گیا اس پر مشرکین طعن کرنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک بات کہے پھر اسے واپس لے لے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ (عیاذا باللہ) یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ یہ محمد کا کلام ہے جسے وہ غلط طور سے اللہ کی طرف منسوب کردیتا ہے۔ مشرکین ظالم و ایسے بیباک تھے کہحضور ﷺ کو مخاطب کر کے پورے وثوق سے کہنے لگے ” انما انت مفتر “ اے محمد بات صرف یہی ہے کہ تو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتا ہے یعنی اللہ نے یہ کلام نازل نہیں فرمایا (انما انت مفتر) متقول علی اللہ تعالیٰ تامر بشیء چم یبدو لک فتنھی عنہ (روح ج 14 س 231) ۔ 84:۔ یہ درمیان میں جمہ معترضہ ہے جس میں نسخ کی حکمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو کچھ نازل کرتا ہے اس کی مصلحتوں اور اس کے مواقع کو وہ خوب جانتا ہے یہ کور باطن محض نادانی سے اعتراض کرتے ہیں۔
Ayah 16:102

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 16:102 in the Quran reader

تو کہہ اس کو اتارا ہے پاک فرشتے نے85 تیرے رب کی طرف سے بلاشبہ تاکہ ثابت کرے ایمان والوں کو اور ہدایت اور خوشخبری مسلمانوں کے واسطے

85:۔ یہ جواب شکوی ہے اور شبہ اولیٰ کا رد ہے۔ یعنی یہ قرآن میرا افتراء نہیں بلکہ یہ روح القدس یعنی حضرت جبریل (علیہ السلام) نے اللہ کی جانب سے مجھ پر نازل کیا ہے تاکہ نسخ کے ذریعہ مومنوں کا امتحان کرے۔ چناچہ جب کوئی آیت منسوخ کی جاتی ہے تو مؤمنوں کا ایمان اور پختہ ہوجاتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اب منسوخ کے بجائے ناسخ ہمارے حق میں زیادہ مفید ہے اور اسی میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ لیبلوھم بالنسخ حتی اذا قالوا فیہ ھو الحق من ربنا والحکمۃ لانہ حکیم لا یفعل الا ما ھو حکمۃ وصواب حکم لھم بثبات القدم و صحۃ الیقین و طمانیۃ القلب (مدارک ج 2 ص 231) ۔
Ayah 16:103

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:103 in the Quran reader

اور ہم کو خوب معلوم ہے کہ وہ کہتے ہیں86 اس کو تو سکھلاتا ہے ایک آدمی جس کی طرف تعریض کرتے ہیں اس کی زبان ہے عجمی اور یہ قرآن زبان عربی ہے صاف

86:۔ یہ مشرکین کا دوسرا طعن ہے مکہ مکرمہ میں ایک رومی غلام بلعام نامی رہتا تھا یہ اسلام لا چکا تھاحضور ﷺ اسے اسلام احکام کی تعلیم فرمایا کرتے تھے لیکن مشرکین نے مشہود کردیا کہ وہ رومی غلام محمد ﷺ کو یہ قرآن سکھاتا ہے۔ ” لسان الذی یلحدون الیہ الخ “ یہ اس طعن کا جواب ہے۔ مشرکین اپنے خبچ باطن سے تعلیم قرآن کی نسبت جس شخص کی طرف کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ قرآن تو صاف، شستہ اور سلیس عربی زبان میں ہے اس لیے یہ اس عجمی کا کلام کس طرح ہوسکتا ہے۔ مشرکین کا یہ طعن کسی دلیل پر مبنی نہیں تا محض ازراہ ِ عناد تھا۔ مگر جواب نہایت معقول دیا گیا۔
Ayahs 16:104–105

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:104 in the Quran reader

وہ لوگ جن کو87 اللہ کی باتوں پر یقین نہیں ان کو اللہ راہ نہیں دیتا اور ان کے لیے عذاب دردناک ہے

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 16:105 in the Quran reader

جھوٹ تو وہ لوگ بناتے ہیں جن کو یقین نہیں اللہ کی باتوں پر اور وہی لوگ جھوٹے ہیں

87:۔ یہ معاندین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ یعنی جو لوگ محض ضد وعناد کی وجہ سے اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لانا چاہتے اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت کی توفیق ہی نہیں دیتا اور آخرت میں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ ” انما یفتری الخ “ یہ ظالم میرے پیغمبر ﷺ پر افتراء کا بہتان لگاتے ہیں۔ حالانکہ مفتری یہ خود ہیں کیونکہ افترء وہی شخص کرسکتا ہے جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہ لائے اس لیے جھوٹے اور مفتری یہ خود ہی ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اور پیغمبر (علیہ السلام) پر قرآن اپنی طرف سے بنانے کا افتراء کرتے ہیں۔
Ayah 16:106

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جو کوئی منکر ہو اللہ سے88 یقین لانے کے پیچھے مگر وہ نہیں جس پر زبردستی کی گئی اور اس کا دل برقرار ہے ایمان پر و لیکن جو کوئی دل کھول کر منکر ہوا سو ان پر غضب ہے اللہ کا اور ان کو بڑا عذاب ہے

88:۔ یہ ” فاذا قرات “ سے متعلق ہے قرآن مجید کی آیات سے ایمان والوں کا ایمان تازہ ہوجاتا ہے، ان کے تمام شبہات دور ہوجاتے ہیں اور انہیں ثبات و استقامت کی دولت نصیب ہوجاتی ہے لیکن جو لوگ ایمان لانے کے بعد شبہات سے متاثر ہو کر ایمان سے پھرجائیں ان پر اللہ کا غضب ہوگا اور وہ شدید ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے اور یہ ” اوفوا بعھد اللہ “ سے بھی متعلق ہے اور عہد تورنے والوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔ کفر بعد الاسلام سے عہد اسلام کو تورنا مراد ہے اس طرح یہ بھی قرینہ ہے کہ وہاں عہد سے عہد ایمان و اسلام مراد ہے عام نہیں۔ ” من کفر الخ “ شرط ہے اور ” فعلیھم غضب الخ “ اس کی جزاء مقدر ہے جس کی تقدیر پر ” من شرح الخ “ کا جواب دال ہے۔ ” الا من اکرہ “ جزائے مقدر کے مضمون سے مستثنیٰ ہے ” ولکن من شرح الخ “ ماقبل سے استدراک ہے اور ” فعلیھم غضب الخ “” من شرح “ کا جواب ہے۔ (مدارک، روح، بحر) یعنی جس شخص نے ایمان لانے کے بعد عہد اسلام کو تور دیا اور منہ سے کلمہ کفر کا اقرار کرلیا اس پر اللہ کا غضب ہے البتہ جس شخص کو قتل وغیرہ کی دھمکی دے کر اس سے کلمہ کفر کہلوایا جائے مگر اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو تو وہ غضب الٰہی سے مستثنیٰ ہے البتہ جس نے شرح صدر کے ساتھ اور کفر کو صحیح سمجھ کر اس کا اقرار کیا ہو اس پر اللہ کا غضب ہوگا اور اس کے لیے شدید ترین عذاب ہے۔
Ayahs 16:107–109

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

یہ اس واسطے کہ انہوں نے عزیز رکھا دنیا کی89 زندگی کو آخرت سے اور اللہ راستہ نہیں دیتا منکر لوگوں کو

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

یہ وہی ہیں کہ مہر کردی اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر اور یہی ہیں بیہوش

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 16:109 in the Quran reader

خود ظاہر ہے کہ آخرت میں یہی لوگ خراب ہیں

89:۔ شرح صدر کے ساتھ کفر کو قبول کرنے پر یہ سزا اس لیے دی جائے گی کہ انہوں نے ضد وعناد کی وجہ سے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی اور بوجہ عناد انہیں ہدایت کی توفیق بھی نصیب نہ ہوگی۔ ” اولئک الزین الخ “ ان کو اللہ تعالیٰ نے سوچنے کے لیے دل، سننے کے لیے کان، اور دیکھنے کے لیے آنکھیں دیں مگر انہوں نے ان سے کام نہ لیا اور ضد پر اڑے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کانوں اور آنکھوں پر مہر جباریت ثبت کردی اور ان سے ہدایت کی توفیق سلب کرلی۔ یہ لوگ وسائل علم کو استعمال نہ کرنے کی بنا پر حق سے بالکلیہ غافل ہیں اور آخرت میں ان کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہے۔
Ayah 16:110

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:110 in the Quran reader

پھر بات یہ ہے کہ90 تیرا رب ان لوگوں پر کہ انہوں نے وطن چھوڑا ہے بعد اس کے کہ مصیبت اٹھائی پھر جہاد کرتے رہے اور قائم رہے بیشک تیرا رب ان باتوں کے بعد بخشنے والا مہربان ہے

90:۔ ” ثُمَّ “ تعقیب ذکری کے لیے ہے اور یہ مہاجرین اور مجاہدین کے لیے بشارت اخروی ہے۔ یعنی اس کے بعد یہ بھی سن لوں کہ جن لوگوں نے محض دین حق کی خاطر تکلیفیں اٹھائیں اور وطن سے بےوطن ہوئے، اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور ہر آزمائش میں ثابت قدم رہے اللہ تعالیٰ ان کے حق میں بڑا ہی مہربان اور معاف کرنے والا ہے۔
Ayah 16:111

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 16:111 in the Quran reader

جس دن آئے گا91 ہر جی جواب سوال کرتا اپنی طرف سے اور پورا ملے گا ہر کسی کو جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہ ہوگا

91:۔ یہ ظرف ” غفور رحیم “ سے متعلق ہے۔ نصب علی الظرفیۃ برحیم (روح ج 14 ص 240) ۔ اور یوم سے قیامت کا دن مراد ہے یعنی قیامت کے دن جب کہ ہر شخص اپنی نجات کے لیے کوشش کر رہا ہوگا اور اپنے دفاع میں مصروف ہوگا اور جس دن ہر ایک کو اس کے اعمال کی پوری پوری جزاء و سزاء دی جائے گی اور کسی پر بھی ظلم نہیں ہوگا اس دن اللہ تعالیٰ مہاجرین و مجاہدین فی سبیل اللہ پر نہایت مہربان ہوگا۔
Ayahs 16:112–113

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 16:112 in the Quran reader

اور بتلائی اللہ نے92 ایک مثال ایک بستی تھی چین امن سے چلی آتی تھی اس کو روزی فراغت کی ہر جگہ سے پھر ناشکری کی اللہ کے احسانوں کی پھر چکھایا اس کو اللہ نے مزہ کہ ان کے تن کے کپڑے ہوگئے بھوک اور ڈر بدلہ اس کا جو وہ کرتے تھے

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 16:113 in the Quran reader

اور ان کے پاس پہنچ چکا رسول انہی میں کا پھر اس کو جھٹلایا پھر آپکڑا ان کو عذاب نے اور وہ گناہ گار تھے

92:۔ قرآن مجید میں لفظ مِثْل چار معنوں میں آیا ہے۔ کہانی، صفت، شیء عجیب اور عبرت یہاں آخری معنی مراد ہے۔ لغت میں صرف پہلے دو معنوں میں مستعمل ہے۔ ” ضرب “ بمعنی جعل، قریۃ مع صفت جعل کا مفعول اول مؤخر۔ مثلًا مفعول ثانی مقدم یعنی کردیا اللہ نے مکہ کو جائے عبرت جس کے اہل بڑے مالدار اور خوشحال تھے پھر شرک کی وجہ سے ان پر قحط کا عذاب پڑا اور رزق تنگ ہوگیا۔ یہاں سے ” وھم ظلمون “ تک سورت کی ابتداء یعنی ” اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ “ سے متعلق ہے ابتدائے سورت میں مشرکینِ مکہ سے فرمایا جلدی نہ کرو پس میرا عذاب آیا ہی سمجھو یہاں فرمایا ہم نے مکہ والوں پر عذاب ڈال دیا۔ قریۃ سے مکہ مکرمہ مراد ہے پہلے اہل مکہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کر رہے تھے، ہر طرف سے میوے، پھل اور غزائی اجناس فراوانی کے ساتھ ان کے پاس پہنچتی تھیں مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اللہ کا پیغمبر جو پیغام توحید لے کر ان کے پاس آیا اس کی تکذیب کی اللہ کے پیغمبر نے انہیں غیر اللہ کو کارساز اور حاجت روا سمجھ کر مشکلات میں پکارنے سمنع کیا مگر وہ باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس جرم کی یہ سزا دی کہ ان پر قحط مسلط کردیا۔ جو سات برس رہا۔ اس دوران میں مشرکین اس حد کو پہنچ گئے کہ اگر انہیں کہیں کتے کا مردار اور گوبر مل جاتا تو اسے بھی خوشگوار طعام کی طرح چٹ کرجاتے۔ لما ابتلوا بالجوع سبعسنین و قطع العرب عنھم المیرۃ بامر النبی ﷺ اکلوا العظام المحرقۃ والجیفۃ والکلاب المیتۃ والجلود وھو الوبر یعالج بالدم (قرطبی ج 10 ص 195) ۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہحضور ﷺ نے مشرکین قریش پر بد دعا کی تھی کہ اے اللہ ان پر اپنی گرفت سخت کر دے اور قحط مصر کی طرح ان پر قحط مسلط کردے۔ اللھم اشدد و طئتک علی مضر و اجعلھا علیھم سنین کسنی یوسف (روح ج 14 ص 244) ۔ مشرکین مکہ جب بےبسی اور بیچارگی کی انتہاء کو پہنچ گئے تو ابو سفیانحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور صلہ رحم اور قرابت کا واسطہ دیا کہ صلہ رحمی اور عفو و در گذر کی تلقین فرماتے ہیں اور آپ کی یہ قوم تو ہلاک ہو رہی ہے اس پر آپ نے بتقاضائے شفقت و رحمت ان ظالموں کے لیے دعا کی اور لوگوں کو ان کے گلہ پاس لے جانے کی بھی اجات دیدی۔ (قرطبی) مکہ میں قحط پڑنے کا واقعہ ہجرت کے بعد پیش آیا۔ یہاں تک سورت کا پہلا حصہ ختم ہوا۔
Ayah 16:114

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

سو کھاؤ93 جو روزی دی تم کو اللہ نے حلال اور پاک اور شکر کرو اللہ کے احسان کا اگر تم اسی کو پوجتے ہو

93:۔ حصہ دوم۔ نفی شرک فعلی :۔ اس حصہ میں شرک فعلی کی دو شقوں کا رد کیا گیا ہے۔ تحریماتِ غیر اللہ اور نذر غیر اللہ۔ مشرکین مکہ پر عذاب اس لیے ڈالا گیا کہ وہ غیر اللہ کو کارساز سمجھ کر پکارتے اور غیر اللہ کے لیے تحریمات کرنے اور نذریں ماننے سے بھی باز آجاؤ۔ اس میں تحریمات غیر اللہ کی نفی کی گئی ہے۔ یعنی جو حلال و طیب رزق اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں میں سے کسی چیز کو اپنی طرف سے اپنے اوپر حرام نہ کرو۔ یعنی بحیرہ، سائبہ وغیرہ نہ بناؤ، اس کی تفصیل سورة مائدہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے ملاحظہ ہو حاشیہ، ص 127، ص 298 ۔ یہ ” ضرب اللہ مثلا الخ “ سے متعلق ہے۔ مشرکین مکہ پر عذاب اس لیے ڈالا گیا کہ انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، اللہ کے پیغمبر کو جھٹلایا، پیغام توحید کو رد کیا، غیر اللہ کو کارساز سمجھ کر پکارا۔ معبودانِ باطلہ کی تحریمات کرنے اور نذریں ماننے لگے۔ حالانکہ انہیں چاہئے تھا کہ وہ شکر نعم بجالاتے، صرف اللہ کو پکارتے، صرف اسی کی نذریں دیتے اور اس کی دی ہوئی حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاتے اور انہیں اپنی طرف سے حرام نہ کرتے۔
Ayah 16:115

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

اللہ نے یہی حرام کیا ہے تم پر94 مردار اور لہو اور سور کا گوشت اور جس پر نام پکارا اللہ کے سوا کسی اور کا پھر جو کوئی ناچار ہوجائے نہ زور کرتا ہو نہ زیادتی تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے

94:۔ اس میں نذر غیر اللہ کی نفی کی گئی ہے۔ یعنی جن چیزوں مثلاً بحیرہ، سائبہ وغیرہ کو تم حرام سمجھتے ہو اللہ نے تو ان کو حرام نہیں کیا وہ تو حلال ہیں اس لیے ان کو کھاؤ اللہ نے تو ان چیزوں کو حرام کیا ہے مردار، دم مسفوح (ذبح کے وقت بہنے والا خون) خنزیر اور نذر غیر اللہ یہ حرام ہیں ان کو مت کھاؤ اس کی تفسیر گذر چکی ہے ملاحطہ ہو تفسیر سورة بقرہ حاشیہ 314 ص 84 ۔
Ayahs 16:116–117

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور مت کہو95 اپنی زبانوں کے جھوٹ بنا لینے سے کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر بہتان باندھو بیشک جو بہتان باندھتے ہیں96 اللہ پر ان کا بھلا نہ ہوگا

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

تھوڑا سا فائدہ اٹھالیں اور ان کے واسطے عذاب دردناک ہے

95:۔ یہ ماقبل پر متفرع ہے بطور لف و نشر غیر مرتب۔ ” ھٰذَا حَلٰلٌ“ یہ نذر غیر اللہ پر اور ” ھٰذَا حَرَامٌ“ تحریمات غیر اللہ پر متفرع ہے یعنی یہ جو تم اپنی طرف سے تحریم و تحلیل کرتے ہو یہ محض تمہاری کذب بیانی اور اللہ تعالیٰ پر افتراء ہے کیونکہ تحلیل و تحریم کا اختیار تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور کسی کو نہیں ان التحلیل والتحریم انما ھو للہ عز و جل ولیس لاحد ان یقول او یصرح بہذا فی عین من الاعیان الا ان یکون الباری تعالیٰ یخبر بذلک عنہ (قرطبی ج 10 ص 196) ۔ لہذا جو شخص کسی چیز کو حلال یا حرام بتاتا ہے گویا وہ یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال یا حرام کیا ہے۔ مشرکین نے اپنی طرف سے محرمات اور محللات میں اضافہ کردیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے شدید انکار فرمایا۔ انھم کانوا یحرمون البحیرۃ والسائبۃ والوصیلۃ والحام وکانوا یقولون ما فی بطون ھذہ النعام خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازواجنا فقد زادوا فی المحرمات وزادوا ایضا فی المحلات و ذلک لانھم حللوا لمیتۃ والدم و لحم الخنزیر وما اھل بہ لغیر اللہ تعالیٰ فاللہ تعالیٰ بین ان المھرماتھی ھذہ الاربعۃ و بین ان الاشیاء التی یقولون ان ھذا حلال وھذا حرام کذب و افتراء علی (کبیر ج 5 ص 531) ۔ 96:۔ ” ان الذین یفترون “ تا ” عزاب الیم “ ان لوگوں کے لیے تخویف اخروی ہے جو اللہ پر افتراء کرتے اور خواہش نفس سے از خود تحریمات کرتے ہیں وہ آخرت میں فلاح نہیں پائیں گے اور انہیں دردناک عذاب دیا جائے گا۔
Ayah 16:118

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

اور جو لوگ97 یہودی ہیں ان پر ہم نے حرام کیا تھا جو تجھ کو پہلے سنا چکے اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا پر وہ اپنے اوپر آپ ظلم کرتے تھے

97:۔ یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال یہ تھا کہ اگر یہ چیزیں حلال ہیں تو پھر یہودیوں پر کیوں حرام کی گئیں۔ یہود پر اونٹ کا گوشت حرام تھا اور یہ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام سب اونٹ ہی کی قسمیں ہیں۔ تو اس کا جواب دیا گیا کہ یہ چیزیں اصل میں تھیں تو حلال مگر ہم نے یہود کو ان کی سرکشی کی سزا دینے کے لیے یہ جانور ان پر حرام کردئیے۔ ” ما قصصنا علیک من قبل “ سے سورة انعام کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے۔ ” و علی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر الایۃ “ (انعام رکوع 18) ۔ ” و ما طلمناھم الخ “ اور یہ حلال چیزیں ان پر حرام کر کے ہم نے ان پر کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ یہ ان کی سرکشی اور بغاوت کی سزا ہے جیسا کہ سورة انعام کی آیت مذکورہ کے آخر میں فرمایا۔ ” ذلک جزینھم ببغیھم و انا لصدقون “ اور سورة نساء رکوع 22 میں فرمایا ” فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیھم طیبت احلت لھم و بصدھم عن سبیل اللہ “۔
Ayah 16:119

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

پھر بات یہ ہے کہ تیرا رب98 ان لوگوں پر جنہوں نے برائی کی نادانی سے پھر توبہ کی اس کے پیچھے اور سنوارا اپنے کام کو سو تیرا رب ان باتوں کے پیچھے بخشنے والا مہربان ہے

98:۔ ” ثم “ تعقیب زکری کے لیے ہے یعنی پھر یہ بات بھی سن لو اور یہ بھی ” ضرب اللہ مثلا “ سے متعلق ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان تھا کہ اس نے مشرکین مکہ کو عذاب سے بالکلیہ ہلاک نہیں کردیا بلکہ انہیں سوچنے، سمجھنے اور عبرت پکڑنے کے لیے مزید مہلت دی اس لیے جو لوگ نادانی اور بےسمجھی سے کفر و شرک کرتے رہے ہیں اگر وہ اب بھی یعنی عذاب قحط اٹھ جانے کے بعد بھی صدق دل سے توبہ کر کے دین اسلام قبول کرلیں، کفر و شرک سے باز آجائیں اور اعمال صالحہ کو بجا لائیں تو اللہ تعالیٰ ایسا مہربان ہے کہ ان کے تمام سابقہ گناہ معاف کردے گا۔ ” السوء “ سے مراد شرک ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے۔ السوء الشرک قالہ ابن عباس ؓ (قرطبی ج 10 ص 197)