20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 20:81–82

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

کھاؤ54 سھتری چیزیں جو روزی دی ہم نے تم کو اور نہ کرو اس میں زیادتی پھر تو اترے گا تم پر میرا غصہ اور جس پر اترا میرا غصہ سو وہ پٹکا گیا

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

اور میری بڑی بخشش ہے اس پر جو توبہ کرے اور یقین لائے اور کرے بھلا کام پھر راہ پر رہے

54:۔ جو حلال روزی میں نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی دولت کو بےجا اور برے کاموں میں خرچ نہ کرو۔ ” وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ الخ “ نافرمانوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ” وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ الخ “ فرمانبرداروں کے لیے بشارت اخروی۔
Ayahs 20:83–84

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اور کیوں جلدی کی تو نے55 اپنی قوم سے اے موسیٰ

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

بولا وہ یہ آرہے ہیں میرے پیچھے اور میں جلدی آیا تیری طرف اے میرے رب تاکہ تو راضی ہو

55:۔ حسب میقات خداوندی جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم کے ستر نقباء اور سرداروں کو لے کر کوہ طور کی طرف روانہ ہوئے تو وفور اشتیاق کی وجہ سے راستہ میں تیزی سے آگے نکل گئے۔ اور نقباء سے پہلے میقات پر پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے موسیٰ ! ایسی جلدی کیوں کی کہ ساتھیوں کو پیچھے چھوڑ آئے عرض کیا میرے پروردگار تیری رضا و خوشنودی کی خاطر جلد حاضر ہوا ہوں اور وہ بھی کوئی دور نہیں یہ میرے پیچھے ہی آرہے ہیں۔ یا قوم سی ساری قوم مراد ہے یعنی قوم کو پیچھے چھوڑ کر اتنی جلدی کیوں آگئے۔ جواب دیا وہ بھی قریب ہی ہیں اور میری واپسی کا انتظار کر رہے ہیں۔
Ayah 20:85

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

فرمایا ہم نے تو بچلا دیا تیری قوم کو56 تیرے پیچھے اور بہکایا ان کو سامری نے

56:۔ یعنی تم تو ادھر آگئے۔ اور تمہارے پیچھے ہم نے تمہاری قوم کو ایک آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے ان کو گمراہ کردیا ہے ای اختبرنا ھم بما فعل السامری (روح ج 16 ص 243) ۔ سامری چونکہ منافق تھا اور قوم کو گمراہ کرنے اور ان میں شرک پھیلانے کے موقعوں کی تلاش میں رہتا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں عدم موجودگی کو غنیمت سمجھ کر لوگوں سے زیورات لے کر ان کو ڈھال کر گوسالے کی شکل کا بت تیار کیا۔ جو گو سالے کی طرح آواز نکالتا تھا اور لوگوں سے کہا کہ تمہارا رب تو یہ ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) (عیاذا باللہ) بھول میں ہیں۔ جو کوہ طور پر رب سے ہم کلام ہونے چلے گئے مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر سورة بقرہ ص 36 حاشیہ 112) ۔
Ayah 20:86

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

پھر الٹا پھرا موسیٰ57 اپنی قوم کے پاس غصہ میں بھرا پچہتاتا ہوا کہا اے قوم کیا تم سے وعدہ نہ کیا تھا تمہارے رب نے اچھا وعدہ کیا طویل ہوگئی تم پر مدت یا چاہا تم نے کہ اترے تم پر58 غضب تمہارے رب کا اس لئے خلاف کیا تم نے میرا وعدہ

57:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور کی میعاد گذرنے اور تورات لینے کے بعد جب قوم میں واپس آئے تو سخت غضبناک اور متاسف ہوئے۔ یہ غیظ و غضب اللہ کی توحید پر غیرت کی بنا پر تھا۔ ” وَعْدًا حَسَنًا “ سے تورات دینے کا وعدہ مراد ہے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان کو تورات دے گا جو سراپا نور ہدایت ہوگی۔ وعدھم ان یعطیھم التوراۃ التی فیھا ھدی ونور ولا وعدا حسن من ذلک واجمل (بحر ج 6 س 268) ۔ 58:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم سے کطاب کر کے فرمایا۔ میری قوم ! کیا اللہ نے تم سے ایک بہت ہی اچھا وعدہ نہیں فرمایا تھا کہ وہ تمہیں تورات دے گا اور پھر میں اس وعدہ کے مطابق تورات لینے کے لیے کوہ طور پر چلا بھی گیا۔ پھر کیا تم چالیس دن بھی صبر نہ کرسکے اور میرا انتطار نہ کیا۔ کیا یہ مدت اتنی طویل تھی کہ تم انتظار کرتے کرتے اکتا گئے تھے اور پھر بچھڑے کی پوجا میں لگ گئے ؟ یا جان بوجھ کر تم نے شرک کر کے اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دی ہے یہاں تک کہ تم اپنے عہد و پیمان کو بھی پس پشت ڈال دیا جو تم نے مجھ سے کیا تھا کہ میقات سے واپسی تک ہم اللہ کی اطاعت پر قائم رہیں گے لانھم وعدوہ ان یقیموا علی طاعۃ اللہ عز و جل الی ان یرجع الیھم من الطور (قرطبی ج 11 ص 234) ۔
Ayahs 20:87–88

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

بولے59 ہم نے خلاف نہیں کیا تیرا وعدہ اپنے اختیار سے لیکن60 اٹھوایا ہم نے بھاری بوجھ قوم فرعون کے زیور کا سو ہم نے اس کو پھینک دیا پھر اس طرح ڈھالا سامری نے

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

پھر بنا نکالا ان کے واسطے ایک بچھڑا ایک دھڑ جس میں آواز گائے کی پھر کہنے لگے یہ معبود ہے تمہارا اور معبود ہے موسیٰ کا سو وہ بھول گیا

59:۔ قوم نے معذرت کے طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا بیشک ہم نے آپ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت پر قائم رہنے کا عہد کیا تھا۔ مگر ہم سے جو عہد شکنی ہوئی ہے یہ ہم نے جان بوجھ کر اور اپنے اختیار سے نہیں کی۔ بلکہ سامری نے چالاکی سے ایسی صورت پیدا کردی جس کے پیش نظر ہم بےاختیار اور مجبور ہوگئے۔ ای من قدرتنا واختیارنا (ابن کثیر ج 3 ص 162) ابن زید لم نملک انفسنا ای کنا مضطرین (قرطبی) یعنی ہم نے جو کچھ کیا ہے وہ ہم سے سامری نے کرایا ہے۔ 60:۔ اس میں انہوں نے بیچارگی اور اضطرار کی تصویر پیش کی کہ ہوا یوں کہ قبطیوں (قوم فرعون) سے جو زیورات ہم نے بطور استعارہ لیے تھے۔ اب ان کی ہلاکت کے بعد ان کی واپسی کا کوئی امکان نہ تھا اور نہ ان کو اپنے استعمال میں لانا ہمارے لیے جائز تھا کیونکہ وہ غیر کا حق تھا اس لیے اس سے نجات حاصل کرنے اور گناہ سے بچنے کے لیے ہم نے تمام زیورات گھروں سے باہر پھینک دئیے اور سامری نے انہیں پگھلا کر جو کچھ اس کے پاس تھا اس میں ڈال دیا اور اس سے ایک بچھڑے کی شکل کا جانور بنا ڈالا جو بچھڑے کی طرح بولتا تھا اور پھر کہنے لگا۔ تمہارا اور موسیٰ کا معبود تو یہ ہے وہ بھول میں ہیں کہ اپنے معبود کا کلام سننے کے لیے کوہ طور پر چلے گئے ہیں۔ ای فغفل عنہ موسیٰ و ذھب یطلبہ فی الطور (روح ج 16 ص 248) ۔
Ayah 20:89

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

بھلا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ وہ61 جواب تک نہیں دیتا ان کو کسی بات کا اور اختیار نہیں رکھتا ان کے برے کا اور بھلے کا

61:۔ یہ چوتھی آیت توحید ہے۔ اور اس سے گوسالہ پرستوں کی حماقت کی طرف اشارہ ہے کہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ گوسالہ ان کی کسی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور نہ ان کا نفع و نقصان ہی اس کے اختیار میں ہے اور معبود صرف وہی ہوسکتا ہے جو عالم الغیب اور متصرف و مکتار اور کارساز ہو۔ ثم بین اللہ تعالیٰ فساد اعتقادھم بان الالوھیۃ لا تصلح لمن سلبت عنہ ھذہ الصفات (بحر ج 6 ص 219) ای ھو عاجز عن الخطاب والجر والنفع فکیف تتخذونہ الھا (مدارک ج 2 ص 49) ۔ لہذا بےبس اور عاجز کو معبود بنالینا سراسر حماقت اور قضیہ عقل کے صریح خلاف ہے۔
Ayah 20:90

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

اور کہا تھا ان کو62 ہارون نے پہلے سے اے قوم بات یہی ہے کہ تم بہک گئے اس بچھڑے سے اور تمہارا رب تو رحمان ہے63 سو میری راہ چلو اور مانو بات میری

62:۔ پرستاران گوسالہ کی گمراہی ان کے فعل کی شناعت اور اس کا خلاف عقل ہونا بیان کرنے کے بعد یہاں ان کی خباثت اور اللہ کے پیغمبر حضرت ہارون (علیہ السلام) کے حکم سے ان کی سرکشی اور بغاوت کا ذکر کیا گیا۔ جب حضرت ہارون (علیہ السلام) نے دیکھا کہ قوم کے ہزاروں افراد سامری کی چال میں آخر شرک میں مبتلا ہوگئے ہیں تو انہوں نے اپنا فریضہ تبلیغ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نیابت کا حق ادا کرنے کی غرض سے اور شفقت علی الخلق کے جذبہ کے پیش نظر قوم کو ہر طریقہ سے سمجھایا۔ اور ان کو شرک سے روکنے کی کوشش کی۔ ان ھرون (علیہ السلام) انما قال ذلک شفقۃ منہ علی نفسہ وعلی الخلق اما الشفقۃ علی نفسہ فلانہ کان مامورا من عنداللہ بالامر بالمعروف والنھی عن المنکر وکان مامورا من عند اخیہ موسیٰ (علیہ السلام) بقولہ اخلفنی فی قومی واصلح الخ ّ (کبیر ج 6 ص 95) ۔ 63:۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے گوسالہ پرستوں سے کہا کہ سامری نے تمہاری خیر خواہی نہیں کی اور تمہیں حق و صداقت اور ہدایت کی راہ نہیں دکھلائی۔ بلکہ اس نے تمہیں بچھڑے کے ذریعے گمراہی اور ضلالت میں ڈال دیا ہے۔ ” وَ اِنَّ رَبَّکُمُ الرَّحْمٰنُ “ اور یاد رکھو تمہارا مالک و پروردگار اور تمہارا معبود و کارساز خدائے رحمان ہی ہے اور کوئی نہیں بھلا خدائے رحمان کے مقابلہ میں ایک بےجان اور عاجز بچھڑا بھی معبود ہوسکتا ہے ؟ کچھ تو عقل سے کام لو۔ ” رَبَّکُمُ الرَّحْمٰنُ “ میں مبتدا و خبر کی تعریف مفید حصر ہے یعنی مستحق عبادت صرف رحمان ہی ہے اور کوئی نہیں۔ وتعریف الطرفین لافادۃ الحصر ای وان ربکم المستحق للعبادۃ ھو الرحمن لا غیر (روح ج 16 ص 249) ۔
Ayah 20:91

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

بولے ہم برابر اسی پر لگے بیٹھے رہیں گے64 جب تک لوٹ کر آئے65 ہمارے پاس موسیٰ

64:۔ یہ گوسالہ پرستوں کی انتہائی سرکشی تھی کہ ایک فعل جو سراسر عقل کے خلاف ہے اور اللہ کا ایک پیغمبر اس سے روک رہا ہے مگر انہوں نے بچھڑے کی عبادت چھوڑنے سے صاف انکا کردیا اور کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو آنے دو پھر دیکھا جائے گا وہ کیا کہتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی تک گوسالہ پرستی نہ چھوڑنے سے انکا ارادہ یہ نہیں تھا کہ ان کے آنے پر وہ سچ مچ ہی گو سالہ کی عبادت اور اس کا طواف وغیرہ بند کردیں گے بلکہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کے جواب میں یہ ان کا محض ایک بہانہ تھا۔ جعلوا رجوعہ (علیہ السلام) الیھم غایۃ لعکوفہم علی عبادۃ العجل لکن لا علی طریق الوعد بترکھا عند رجوعہ (علیہ السلام) بل بطریق التعلل والتسویف الخ (ابو السعود ج 6 ص 96) ۔ 65:۔ یعنی بچھڑے کی عبادت اور اس کی تعظیم پر قائم رہیں گے۔ وہ بچھڑے کے پاس اسے خوش کرنے کے لیے ساز بجاتے اور اس کے گرد ناچ کرتے تھے۔ فلما رجع موسیٰ وسمع الصیاح والجلبۃ وکانوا یرقصون حول العجل الخ (قرطبی ج 11 ص 237، خازن و معالم ج 4 ص 225) ۔
Ayahs 20:92–93

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے اے ہارون66 کس چیز نے روکا تجھ کو جب دیکھا تھا تو نے کہ وہ بہک گئے

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

کہ تو میرے پیچھے نہ آیا کیا تو نے رد کیا میرا حکم

66:۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کا جواب اور اعتذار سنا تو اس سے مطمئن نہ ہوئے اور غصہ کی حالت میں آگے بڑھ کر حضرت ہارون (علیہ السلام) کے سر اور داڑھی کے بال پکڑ لیے اور فرمایا۔ اے ہارون ! جب تو نے دیکھ لیا تھا کہ وہ شرک میں مبتلا ہو کر گمراہ ہوچکے ہیں۔ تو تو نے میرے احکام کی تعمیل کیوں نہ کی۔ احکام سے وہی ہدایات مراد ہیں جو وہ کوہ طور پر جانے سے پہلے ان کو دے گئے تھے۔ ان کا خیال تھا۔ شاید ہارون (علیہ السلام) نے حق تبلیغ ادا نہیں کیا اس لیے قوم گمراہ ہوگئی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چونکہ جلالی طبیعت کے مالک تھے اس لیے قوم کی گمراہی دیکھ کر غضب میں آگئے۔ کان موسیٰ (علیہ السلام) حدیدا متصلبا غضوبا للہ تعالیی وقد شاھد ما شاھدو غلب علی ظنہ تقصیر فی ھرون (علیہ السلام) ففعل بما فعل (روح ج 6 ص 251) ۔
Ayah 20:94

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

وہ بولا اے میری ماں کے جنے67 نہ پکڑ میری داڑھی اور نہ سر میں ڈرا کہ تو کہے گا پھوٹ ڈال دی تو نے بنی اسرائیل میں اور یاد نہ رکھی میری بات

67:۔ حضرت ہارون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ میں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں تو قطعا کوتاہی نہیں کی۔ میں نے ان کو شرک سے پوری سختی سے منع کیا۔ یہاں تک کہ وہ مشتعل ہو کر مجھے قتل کرنے لگے تھے جیسا کہ اعراف میں ہے ” اِنَّ الْقَوْمَ السْتَضْعَفُوْنِیْ وَ کَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ “ اس کے علاوہ یہ ہوسکتا تھا کہ میں شرک نہ کرنے والوں کو ساتھ لے کر شرک کرنے والوں سے جہاد کرتا تو یہ میں نے اس ڈر سے نہیں کیا کہ آپ ہی واپس آکر مجھ سے کہتے کہ تم نے بنی اسرائیل میں فرقہ بندی پیدا کردی۔ اور میری واپسی کا انتظار بھی نہ کیا ای خشیت لو قاتلت بعضھم ببعض وتفانوا و تفرقوا انت قول فرقت بین بنی اسرائیل (روح) ولم ترقب قولی قال ابو عبیدۃ لم تنتظر عھدی و قدومی (قرطبی ج 11 ص 239) ۔
Ayah 20:95

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

کہا موسیٰ نے اب تیری کیا حقیقت ہے68 اے سامری

68:۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا جواب سن کر وہ سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے فرمایا اے سامری ! تم نے یہ حرکت کیوں کی کہ گوسالہ بنا کر قوم کو بت پرستی پر لگا دیا۔ سامری بنی اسرائیل کے قبیلہ سامرہ کا ایک فرد تھا اور سمندر پار کرنے کے بعد در پردہ دین موسیٰ سے مرتد ہوگیا۔ اور منافقانہ طور پر بنی اسرائیل میں شامل رہا۔ بنی اسرائیل نے سمندر سے پار اترنے کے بعد ایک قوم کو گائے کی پوجا کرتے دیکھا۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے۔ ” اِجْعَلْ لَّنَا اِلٰھًا کَمَا لَھُمْ اٰلِھَةً “ جس پر انہوں نے ان کو سرزنش کی۔ سامری نے بنی اسرائیل کا مزاج سمجھ لیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عدم موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بچھڑے کا بت بنا کر پوجا کے لیے قوم کے سامنے رکھ دیا۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ سامری کی قوم گاؤ پرست تھی۔ اس لیے گاؤ پرستی کی محبت اس کے دل میں موجود تھی اور ظاہری طور پر اس نے اسلام کا اظہار کررکھا تھا۔ عن ابن عباس قال کان السامری رجلا من اھل باجرو کان من قوم یعبدون البقر و کان حب عبادۃ القبر فی نفسہ وکان قال اظھرالاسلام مع بنی اسرائیل (ابن کثیر ج 3 س 163) ۔ قال قتادۃ کان السامری عظیما فی بنی اسرائیل من قبیلۃ یقال لہا سامرۃ ولکن عدو اللہ نافق بعد ماقطع البحر مع موسیٰ الخ (قرطبی) ۔
Ayah 20:96

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

بولا69 میں نے دیکھ لیا جو اوروں نے نہ دیکھا پھر بھر لی میں نے ایک مٹھی پاؤں کے نیچے سے اس بھیجے ہوئے کے پھر میں نے وہی ڈال دی اور یہی صلاح دی مجھ کو میرے جی نے

69:۔ یہ سامری کا جواب ہے۔ سامری نے کہا کہ مجھ کو ایک ایسی چیز نظر پڑی جو اوروں نے نہیں دیکھی تھی۔ یعنی خدا کے بھیجے ہوئے فرشتہ (جبریل) کو گھوڑے پر سوار دیکھا۔ شاید یہ اسی وقت ہوا ہو جب بنی اسرائیل دریا میں گھسے اور پیچھے پیچھے فرعون کا لشکر گھسا اس حالت میں جبرئیل دونوں جماعتوں کے درمیان کھڑے ہوگئے تاکہ ایک کو دوسرے سے ملنے نہ دیں۔ بہرحال سامری نے کسی محسوس دلیل سے یا وجدان سے یا کسی قسم کے تعارف سابق کی بنا پر سمجھ لیا کہ یہ جبرئیل ہیں ان کے پاؤں یا ان کے گھوڑے کے پاؤں کے نیچے سے مٹھی بھر مٹی اٹھا لی وہ ہی اب سونے کے بچھڑے کے منہ میں ڈال دی۔ کیونکہ اس کے جی میں یہ بات آئی کہ روح القدس کی خاک پا میں یقینا کوئی خاص تاثیر ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ سونا تھا کافروں کا مال لیا ہوا فریب سے، اسی میں مٹی بڑی برکت کی۔ حق اور باطل مل کر ایک کر شتہ بن گیا کہ جاندار کی طرح کی روح اور آواز اس میں ہوگئی۔ ایسی چیزوں سے بہت بچنا چاہئے اس سے بت پرستی بڑھتی ہے۔ تنبیہ :۔ آیت کی جو تفسیر اوپر بیان ہوئی، صحابہ وتابعین اور علماء مفسرین سے یہ ہی منقول ہے۔ (عثمانی) ۔ بعض آثار میں ہے کہ جہاں گھوڑا زمین پر پاؤں رکھتا وہاں فورًا سبزہ نمودار ہوجاتا اس سے سامری نے سمجھا کہ اس میں ضرور کوئی کرشمہ ہوگا اس لیے اس کے پاؤں رکھنے کی جگہ سے مٹھی بھر مٹی اٹھا لی۔ وفی بعض الاثار انہ راہ کلما رفع الفرس یدیہ اور جلیہ علی التراب الیبس یخرج النبات فعرف ان لہ شانا فاخذ من موطئہ حفنۃ (روح ج 16 ص 252) ۔ اس کی زیادہ تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے ملاحظہ ہو حاشیہ (112) ۔
Ayah 20:97

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

کہا موسیٰ نے دور ہو70 تیرے لئے زندگی بھر تو اتنی سزا ہے کہ کہا کرے مت چھیڑو اور تیرے واسطے ایک وعدہ ہے وہ ہرگز تجھ سے خلاف نہ ہوگا اور دیکھ اپنے معبود کو71 جس پر تمام دن تو معتکف رہتا تھا ہم اس کو جلا دیں گے پھر بکھیر دیں گے دریا میں اڑا کر

70:۔ سامری کو دنیا میں اپنے کیے کی سزا یہ ملی کہ جب بھی کوئی شخص اس کے قریب جاتا تو دونوں کو تپ چڑھ جاتا اس لیے وہ لوگوں سے کہتا کہ مجھ سے دور رہو وہ چاہتا تھا کہ فریب سے قوم کا سردار بن جائے لیکن سزا ایسی ملی کہ کوئی شخص اس کے قریب بھی نہ پھٹکتا تھا۔ بالکل اچھوتوں کی طرح زندگی گذار دی۔ ” وَ اِنَّ لَکَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ “ وہ تو دنیا میں عذاب تھا اور دنیا میں شرک پھیلانے اور فساد بپا کرنے کی سزا آخرت میں بھی ملے گی۔ آخرت میں سزا کی وعید ضرور پوری ہوگی اللہ تعالیٰ اس کے خلاف نہیں کرے گا۔ ای لن یخلفک اللہ موعدہ الذی وعدک علی الشرک والفساد فی الارض ینجزہ لک فی الاخرۃ بعد ما عاقبک بذلک فی الدنیا (مدارک ج 3 ص 50) ۔ 71:۔ یہ تو تیری سزا ہوئی۔ اب دیکھ میں تیرے معبود کا کیا حشر کرتا ہوں جس پر تو ہر وقت مجاور بنا بیٹھا رہتا ہے۔ میں ابھی اس کو جلا کر اس کی راکھ دریا میں بہاتا ہوں تاکہ تجھے اور اس کی پوجا کرنے والے دوسرے لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ اس قدر عاجز ہے کہ خود اپنی حفاظت نہیں کرسکتا تو دوسروں کا کیا سنوار سکتا ہے۔
Ayah 20:98

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

تمہارا معبود تو وہی اللہ ہے72 جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں سب چیز سما گئی ہے اس کے علم میں

72:۔ یہ پانچویں آیت توحید ہے گوسالہ سامری کا عجز اور اس کی بےبسی ظاہر کرنے کے بعد توحید اور معبود حق کا اعلان فرمایا اور کلام کا رخ سامری سے تمام بنی اسرائیل کی طرف موڑ دیا کہ تمہارا معبود تو صرف اللہ ہے۔ جس کے سوا کوئی الوہیت کے لائق نہیں اور کوئی الہ اور معبود بننے کے قابل نہیں، جس کا علم ہر چیز پر حاوی اور ساری کائنات کو محیط ہے اور وہ ہر چیز پر قادر اور علی الاطلاق مختار و متصرف ہے اور یہ گوسالہ جماد اور محض بےجان ہے بھلا یہ کیونکر معبود ہوسکتا ہے۔
Ayahs 20:99–104

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

یوں سناتے ہیں ہم تجھ کو73 ان کے احوال جو پہلے گزر چکے اور ہم نے دی تجھ کو اپنے پاس سے پڑھنے کی کتاب74

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

جو کوئی منہ پھیر لے اس سے سو وہ اٹھائے گا دن قیامت کے ایک بوجھ

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

سدا رہیں گے اس میں اور برا ہے ان پر قیامت میں وہ بوجھ اٹھانے کا

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

جس دن پھونکیں گے صور میں اور گھیر لائیں گے ہم گناہ گاروں کو اس دن نیلی آنکھیں

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

چپکے چپکے کہتے ہوں گے آپس میں تم نہیں رہے مگر دس دن

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

ہم کو خوب معلوم ہے جو کچھ کہتے ہیں جب بولے گا ان میں اچھی راہ روش والا تم نہیں رہے مگر ایک دن

73:۔ کاف بیان کمال کے لیے ہے یعنی ایسی صحیح تفصیلات بیان کرنا ہمارا ہی کام ہے اور کسی کا نہیں۔ اور یہ تیسری آیت تشجیع ہے یعنی گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات ہم آپ پر اس لیے بیان کرتے ہیں تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ انہوں نے توحید کی خاطر کس قدر مصیبتیں اٹھائیں اس طرح آپ پر بھی مصائب آئیں گے لہذا آپ بھی ان پر صبر کریں اور یہ جملہ معترضہ ہے برائے بیان صداقت رسول ﷺ یعنی آپ ہماری وحی سے معلوم کر کے گذشتہ لوگوں کی اخبار بیان کر رہے ہیں۔ لہذا آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ 74:۔ ” ذِکْرًا “ سے قرآن کریم مراد ہے۔ و تفسیر الذکر بالقران ھو الذی ذھب الیہ الجمھور (روح ج 16 ص 259) ۔ ” مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ الخ “ منکرین قرآن کے لیے تخویف اخروی ہے۔
Ayahs 20:105–107

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

اور تجھ سے پوچھتے ہیں75 پہاڑوں کا حال سو تو کہہ ان کو بکھیر دے گا میرا رب اڑا کر

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

پھر کر چھوڑے گا زمین کو صاف میدان

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

نہ دیکھے گا تو اس میں موڑ اور نہ ٹیلا

75:۔ اس سے پہلے چونکہ نفخ صور، حشر نشر اور قیامت کا ذکر تھا۔ اس لیے مشرکین کے لیے اس بات کا موقع تھا کہ وہ یہ سوال پوچھ بیٹھیں کہ جب قیامت آئے گی تو یہ اتنے بڑے بڑے پہاڑ کہاں جائیں گے۔ اس لیے فرمادیا کہ اگر وہ یہ سوال کریں تو آپ اس کا جواب فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ریت کی مانند ریزہ ریزہ کر کے اڑا دے گا۔ اور وہ سب زمین پر بکھر جائیں گے اور زمین بالکل صاف اور ہموار چٹیل میدان کی طرح نظر آئے گی۔ اس میں کہیں اونچ نیچ اور نشیب و فراز نہیں ہوگا۔ ” یَسْئَلُوْنَکَ “ کے جواب میں ” فَقُلْ “ پر فاء اس لیے داخل ہوئی ہے کہ ” یسئلونک “ متضمن معنی شرط ہے۔ کیونکہ یہ سوال متحقق نہیں تھا بلکہ متوقع تھا۔ اور اصل میں ان سالوک ہے اسی لیے جزاء پر فا داخل ہوئی۔ (مدارک) ” قَاعًا “ میدان۔ ” صَفْصَفًا “ صاف ہموار۔ ” عِوَجًا “ نشیب مستی۔ ” اَمْتًا “ بلندی اور اونچائی۔
Ayah 20:108

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

اس دن پیچھے دوڑیں گے76 پکارنے والے کے ٹیڑھی نہیں جس کی بات اور دب جائیں گی آوازیں رحمان کے ڈر سے پھر تو نہ سنے گا مگر کھس کھسی آواز

76:۔ ” الداعی الخ “ سے حضرت اسرافیل (علیہ السلام) مراد ہیں جو قیامت کے دن صورت پھونکیں گے۔ صور کی آواز پر تمام مردے زندہ ہو کر ہر طرف سے سیدھے آواز کی جانب چل پڑیں گے۔ یردی اسرافیل (علیہ السلام) اذا نفخ فی الصور (لا عوج لہ) ای عن دعائہ لا یزیغون ولا ینحرفون بل یسرعون الیہ ولا یحیدون عنہ (قرطبی ج 11 ص 246) ۔ اس دن تمام بنی آدم پر ہیبت طاری ہوگی اور کوئی شخص اونچی آواز سے بات بھی نہیں کرسکے گا۔ ہیبت خداوندی اور ہول قیامت کی وجہ سے تمام مخلوق سہمی ہوئی ہوگی۔ ای خفیت لمھابتہ تعالیٰ وشدۃ ھول المطلع (روح ج 16 ص 296) ۔ ” ھَمْسًا “ یعنی نہایت پست۔ اس دن جو بھی بات کرے گا۔ نہایت پست اور خفی آواز سے کرے گا۔
Ayahs 20:109–111

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس دن کام نہ آئے گی سفارش77 مگر جس کو اجازت دی رحمان نے اور پسند کی اس کی بات

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو کچھ ہے ان کے آگے اور پیچھے اور یہ قابو میں نہیں لاسکتے اس کو دریافت کر کے

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

اور رگڑتے ہیں منہ آگے اس جیسے ہمیشہ رہنے والے کے اور خراب ہوا جس نے بوجھ اٹھایا ظلم کا

77:۔ یہاں قیامت کے دن شفاعت کے نافع ہونے کی نفی کی گئی ہے اور اس میں سے پھر شفاعت کی ایک صورت کو مستثنی کیا گیا ہے۔ جس کی تعبیر ” مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ “ سے کی گئی ہے۔ اس سے یا تو شافعین یعنی انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام اور مومنین صالحین مراد ہیں جن کو قیامت کے دن گنہگاروں کی سفارش کرنے کا اذن ملے گا۔ یا مشفوع لھم یعنی وہ گنہگار مومنین مراد ہیں، جن کے حق میں شفاعت ہوگی۔ پہلی صورت میں معبودان باطلہ کی شفاعت کے نافع ہونے کی نفی ہوگی اور دوسری صورت میں مشرکین کے حق میں شفاعت کے مفید ہونے کی نفی مراد ہوگی۔ و معناہ لاجلہ وکذا ورضی لہ ای لاجلہ ویکون من للمشفوع لہ او بدل من الشفاعۃ علی حذف مضاف ای الا شفاعۃ من اذن لہ ویکون من للشافع الخ (بحر ج 6 ص 280) ۔ پہلی صورت کا حاصل یہ ہوگا کہ شفاعت صرف مومنوں کے حق میں ہوگی مشرکوں کے حق میں نہ ہوگی اور دوسری صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ شفاعت صرف انبیاء (علیہم السلام) اور نیک لوگ ہی کریں گے مشرکین پیروں اور راہنماؤں کو شفاعت کی اجازت نہیں ملے گی۔ ” وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ الخ “ قیامت کے دن تمام بنی آدم اللہ کے سامنے عاجز اور سرافگندہ ہوں گے کیا فقیر اور کیا امیر، کیا رعیت اور کیا بادشاہ سب لرزاں اور ترساں ہوں گے اور جنہوں نے شرک کیا ہوگا وہ سراسر خسارے میں ہوں گے۔ ان کے نجات پانے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ عنت ای ذلت وخضعت اور ظلم سے شرک مراد ہے (روح) ۔
Ayahs 20:112–113

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور جو کوئی کرے کچھ بھلائیاں78 اور وہ ایمان بھی رکھتا ہو سو اس کو ڈر نہیں بےانصافی کا اور نہ نقصان پہنچنے کا

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور اسی طرح اتارا ہم نے قرآن عربی زبان کا اور پھیر پھیر کر سنائی ہم نے اس میں ڈرانے کی باتیں تاکہ وہ پرہیز کریں یا ڈالے ان کے دل میں سوچ

78:۔ یہ نیکو کاروں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ ” وَ کَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰهُ الخ “ کاف بیان کمال کے لیے ہے اور یہ قرآن پر عمل کرنے کی ترغیب ہے۔ یعنی ایسا مدلل اور جامع قرآن نازل کرنا ہمارا کام ہے۔ لہذا تم اس عظیم الشان کتاب پر عمل کرو۔
Ayah 20:114

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

سو بلند درجہ اللہ کا79 اس سچے بادشاہ کا اور تو جلدی نہ کر قرآن کے لینے میں80 جب تک پورا نہ ہوچکے اس کا اترنا اور کہہ اے رب زیادہ کر میری سمجھ

79:۔ یہ آیات توحید کا ثمرہ اور نتیجہ ہے یعنی مذکورہ دلائل توحید سے واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ ہی متصرف و مختار اور عالم الغیب ہے لہذا وہی سب سے بڑا اور عظیم الشان بادشاہ ہے اور وہی معبود برحق ہے اس لیے حاجات میں صرف اسی کو پکارو۔ 80:۔ یہ چوتھی آیت تشجیع کا ذکر ہے۔ یعنی قرآن مجید کی وحی اترتے وقت اس کے پڑھنے میں جلدی نہ کریں۔ بلکہ اسے غور سے سنیں۔ جب وحی ختم ہوجائے تو پھر آپ اسے دہرا لیں۔ جب آپ کے ذہن میں محفوظ ہوجائے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح جرات و استقلال سے قرآن کی تبلیغ فرمائیں۔ ہمارے پیغمبر آدم (علیہ السلام) کی طرح آپ کے عزم اور پائے استقلال میں جنبش نہ آنے پائے۔ جیسا کہ آگے آرہا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے عزم میں کمزوری آگئی۔
Ayah 20:115

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

اور81 ہم نے تاکید کردی تھی آدم کو اس سے پہلے پھر بھول گیا اور نہ پائی ہم نے اس میں کچھ ہمت

81:۔ ہم نے بنی آدم کی تخلیق سے پہلے آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ وہ جنت میں رہیں اور وہیں کے پھلوں اور میووں میں سے جو چاہیں کھائیں اور ایک درخت سے ہم نے ان کو منع کیا تھا کہ اس کے قریب نہ جائیں مگر ان سے بھول ہوگئی اور انہوں نے شجرہ ممنوعہ سے تناول کرلیا۔ اس طرح وہ عزم اور ثبات قدم کا ثبوت نہ دے سکے یا عزم سے پختہ ارادہ مراد ہے، یعنی آدم (علیہ السلام) نے بالارادہ اللہ کے حکم کے خلاف نہیں کیا تھا۔ بلکہ بھول ہوگئی تھی اور اللہ کا حکم یاد نہیں رہا تھا۔ کانہ لما مدح سبحانہ القران وحرض علی استعمال التؤدۃ والرفق فی اخذہ و عھد علی العزیمۃ بامرہ وترک النسیان فیہ ضرب حدیث ادم مثلاً للنسیان فیہ ضرب حدیث ادم مثلا للنسیان وترک العزیمۃ (روح ج 16 ص 219) ۔
Ayahs 20:116–119

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

اور جب کہا ہم نے فرشتوں کو سجدہ کر82 و آدم کو تو سجدہ میں گر پڑے مگر نہ مانا ابلیس نے

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

پھر کہہ دیا ہم نے اے آدم یہ دشمن تیرا ہے اور تیرے جوڑے کا سو نکلوا نہ دے تم کو بہشت سے پھر تو پڑجائے تکلیف میں

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

تجھ کو یہ ملا ہے کہ نہ بھوکا ہو تو اس میں اور نہ ننگا

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

اور یہ کہ نہ پیاس کھینچے تو اس میں اور نہ دھوپ

82:۔ مقصد یہ ہے کہ ابلیس تمہارا پرانا جدی پشتی دشمن ہے اور وہ ہر ممکن طریق سے تمہیں کفر و شرک اور دوسرے گناہوں سے ملوث کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے فریب سے بچو ” اِنَّ لَکَ اَلَّا تَجُوْعَ الخ “ یہ جنت کی خوبیاں ہیں کہ وہاں نہ بھوک ہوگی نہ پیاس اور نہ دھوپ یعنی وہاں ہر قسم کا آرام و سکون ہوگا۔