20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 20:41–43

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

اور بنایا میں نے تجھ کو خاص اپنے واسطے25

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

جا تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں لے کر اور سستی نہ کریو میری یاد میں

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

جاؤ طرف فرعون کے اس نے بہت سر اٹھایا

25:۔ یہ اللہ تعالیٰ کا پانچواں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر سب سے بڑا انعام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسالت و نبوت سے سرفراز فرمایا۔ ” اِذْھَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْکَ “ انعامات یاد دلانے کے بعد فرمایا تم اور تمہارا بھائی دونوں معجزات کے ساتھ جاؤ اور میرے ذکر اور میری توحید کی تبلیغ میں سستی ہرگز نہ کرنا۔ ” اِذْھَبَا اِلیٰ فِرْعَوْنَ “ یہ پہلے ” اِذْھَبَا “ سے بدل ہے۔
Ayahs 20:44–45

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

سو کہو اس سے26 بات نرم شاید وہ سوچے یا ڈرے

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

بولے اے رب ہمارے ہم ڈرتے ہیں کہ بھبک پڑے ہم پر یا جوش میں آجائے

26:۔ فرعون کے پاس جا کر اسے نرمی سے وعظ کرنا۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کرے یا اس کے دل میں خوف خدا آجائے۔ تذکر اور خشیۃ میں فرق یہ ہے کہ تذکر سے مراد یہ ہے کہ وہ تمہاری تبلیغ سے اس قدر متاثر ہو کہ انکار توحید سے باز آجائے اور ساتھ ہی مسئلہ توحید کو مان بھی لے اور خشیۃ سے مراد یہ ہے کہ یا کم از کم توحید کے انکار ہی سے باز آجائے ” لَعَلَّهٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی “ فلیرجع من انکارہ الی الاقرار و ان ینتقل من الانکار الی الاقرار لکنہ یحصل فی قلبہ الخوف فیترک الانکار وان کان لا ینتقل الی الاقرار الخ (کبیر ج 6 ص 55) ۔ اور حضرت شیخ فرماتے ہیں تذکر سے مراد یہ ہے کہ معجزہ دیکھے بغیر ہی مان لے اور تخشی سے مراد یہ ہے کہ معجزہ دیکھ کر مان لے۔ پہلا درجہ اعلی ہے اور دوسرا ادنی قرآن مجید میں عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے۔ یعنی پہلے اعلی پھر ادنی درجہ مذکور ہوتا ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ” ھَلْ لَّکَ اِلیٰ اَنْ تَزَکی وَ اَھْدِیَکَ اِلٰی رَبِّکَ فَتَخْشٰی “ (نازعات) نیز ارشاد ہے ” لَعَلَّهٗ یَزَّکّٰی اَوْ یَذَّکَّرُ فَتَنْفَعَهٗ الذِّکْريٰ “ (عبس) ۔ ” قَالَا رَبَّنَا الخ “۔ قالا بصیغہ تچنیہ یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) نے کہا اے ہمارے پروردگار ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا۔ مراد یہ ہے کہ اتمام دعوت اور اظہار معجزات سے پہلے ہی ہمیں سزا دینے کی کوشش کرے گا۔ ای ان یعجل علینا بالعقوبۃ ولا یصبر الی اتمام الدعوۃ واظھار المعجزۃ (روح ج 16 ص 196) ۔ ” اَوْ اَنْ یَّطْغے ٰ الخ “ یا حد سے تجاوز کرے گا۔ یعنی کمال سرکشی اور بےباکی کے باعث۔ اے ہمارے پروردگار وہ تیری شان میں گستاخی کرے گا۔ او ان یزاد طغیانا الی ان یقول فی شانک مالا ینبغی (روح) ۔ لیکن حضرت شیخ فرماتے ہیں دونوں میں فرق یہ ہے ” اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَا “ یعنی دعوت پیش کرنے سے پہلے ہی ہم پر زیادتی کرے۔ ” اَوْ اَنْ یَّطْغٰے “ یعنی دعوت پیش کرنے کے بعد ہمیں قتل کرادے۔ یفرط علینا بان لا یسمع منا او ان یطغی بان یقتلنا (کبیر ج 6 ص 57) ۔ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) اللہ کے پیغمبر تھے اور اللہ تعالیٰ پر ان کو کامل بھروسہ بھی تھا۔ لیکن بتقاضائے بشریت ان کے دلوں میں خوف تھا، جس کا انہوں نے اظہار کردیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ غیر اللہ سے ماتحت الاسباب خوف وہراس شرک نہیں۔
Ayahs 20:46–47

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

فرمایا نہ ڈرو27 میں ساتھ ہوں تمہارے سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

سو جاؤ اس کے پاس اور کہو ہم دونوں بھیجے ہوئے ہیں تیرے رب کے سو بھیج دے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اور مت ستا ان کو ہم آئے ہیں تیرے پاس نشانی لے کر تیرے رب کی

27:۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اطمینان دلا دیا کہ تم بےخوف و خطر جا کر میرا پیغام پہنچاؤ میری مدد تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ قال العلماء لما لحقھما ما یلحق البشر من الخوف علی انفسھما عرفھما اللہ سبحانہ ان فرعون لا یصل الیھما ولا قومہ (قرطبی ج 11 ص 202) ۔ ” فَاْتِیٰهُ “ لہذا تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے صاف کہہ دو ہم تیرے رب کے پیغمبر ہیں، اس لیے تم بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو اور ان کو عذاب مت دو ۔ اور ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزات لے کر آئے ہیں اور یاد رکھو دنیا اور آخرت میں اللہ کے عذاب سے سلامتی صرف اس شخص کے لیے ہے، جس نے وہ ہدایت قبول کرلی جو ہم لے کر آئے ہیں۔ ای السلام ۃ من العزاب فی الدارین لمن اتبع ذلک بتصدیق ایات اللہ تعالیٰ الھادیۃ الی الحق (روح ج 16 ص 198) ۔
Ayah 20:48

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

اور سلامتی ہو اس کی جو مان لے راہ کی بات ہم کو حکم ملا ہے28 کہ عذاب اس پر جو جھٹلائے اور منہ پھیر لے

28:۔ اسی طرح ہمیں وحی کے ذریعہ یہ اطلاع بھی دی گئی ہے کہ دنیا اور آخرت میں عذاب اس شخص پر آئے گا جس نے اللہ کی آیتوں اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی اور ان کو قبول کرنے اور ان پر ایمان لانے سے اعراض کیا۔
Ayah 20:49

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

بولا پھر کون ہے رب تم دونوں کا29 اے موسیٰ

29:۔ جب حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) فرعون کے پاس جا کر اس کو پیغام حق سنا چکے تو فرعون نے ان سے سوال کیا۔ وہ تمہارا رب کون ہے، جس کے تم رسول ہو، جس کی توحید کی دعوت دیتے ہو۔ اور جس کے عذاب سے ڈرا رہے ہو۔ کیا میرے سوا کوئی اور بھی رب ہے ؟ ” قَالَ رَبُّنَا الخ “ یہ تیسری آیت توحید ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ اس کا کوئی اسم علم ہے نہیں کہ میں کہہ دوں وہ فلاں ہے اس کی صفات بیشمار ہیں۔ اور وہ صفات ہی سے پہچانا جاتا ہے۔ ہمارا رب وہ ہستی ہے جس نے سارے عالم کو پیدا کیا۔ ہر مخلوق کو ایک مخصوص ہیئت اور صورت عطا فرمائی۔ ای انہ یعرف بصفاتہ ولیس لہ اسم علم حتی یقال فلان بل ھو خالق العالم الخ (قرطبی ج 11 ص 204) ۔
Ayah 20:50

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

کہا رب ہمارا وہ ہے جس نے دی ہر چیز کو اس کی صورت پھر راہ30 سجھائی

30:۔ پھر ہر مخلوق کو جو کچھ عطا فرمایا اس سے نفع حاصل کرنے کی اسے راہ بتائی اور اسے اپنی بقا اور حد کمال کو پہنچنے کی تدبیر سجھائی ثم ھدی الی طریق الانتفاع والارتفاق بما اعطاہ و عرفہ کیف یتوصل الی بقائہ وکمالہ الخ (روح ج 16 ص 202) بحوالہ ابو السعود) ۔
Ayahs 20:51–52

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

بولا پھر کیا حقیقت ہے ان پہلی جماعتوں کی31

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

کہا ان کی خبر میرے رب کے پاس لکھی ہوئی ہے نہ بہکتا ہے میرا رب اور نہ بھولتا ہے

31:۔ جب فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مسکت جواب سنا اور لاجواب ہوگیا تو ایک نیا سوال کرڈالا کہ اچھا پہلے لوگوں کا حال بتاؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کا علم میرے رب کو ہے جو عالم الغیب ہے میں عالم الغیب نہیں ہوں گذشتہ قرنوں کا علم لوح محفوظ میں ثابت ہے۔ ای مکتوب عند ربی فی اللوح المحفوظ (بحر ج 6 ص 249) اور لوح محفوظ علم الٰہی سے کنایہ ہے۔ یا کتاب سے دفتر مراد ہے اور یہ چیز کے علم الٰہی میں ہونے کی تمثیل ہے وجوز ان یکون المراد بالکت الدفتر کما ھو المعروف فی اللغۃ ویکون ذلک تمثیلا لتمکنہ وتقررہ فی علمہ عز و جل (روح ج 16 ص 185) ۔
Ayahs 20:53–54

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہ ہے جس نے بنا دیا تمہارے واسطے32 زمین کو بچھونا اور چلائیں تمہارے لئے اس میں راہیں اور اتارا آسمان سے پانی پھر نکالی ہم نے اس سے طرح طرح کی سبزی

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

کھاؤ اور چراؤ اپنے چوپایوں کو البتہ اس میں نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کو

32:۔ یہ ادخال الٰہی ہے اور ماقبل کے لیے تنویر ہے۔ ” کُلُوْا وَارْعَوْا اَنْعَامَکُمْ “ یہ سارے انعامات اور یہ زمین کی نباتات سب تمہارے استعمال کے لیے ہے۔ خود کھاؤ اور اپنے چوپاؤں کو کھلاؤ۔ ” النُّهی “ نھیۃ کی جمع ہے۔ جس کے معنی عقل کے ہیں۔ یعنی جن لوگوں میں عقل و ہوش کا کچھ مادہ موجود ہے۔ مذکورہ بالا امور میں اللہ کی وحدانیت پر ان کے لیے کھلے دلائل موجود ہیں ان میں غور و فکر کرنے سے اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا یقین کامل حاصل ہوجاتا ہے۔ ای لایات کثیرۃ جلیلۃ واضحۃ الدلالۃ علی شئون اللہ تعالیٰ فی ذاتہ و صفاتہ (روح ج 16 ص 207) ۔
Ayah 20:55

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

اسی زمین سے ہم نے تم کو بنایا33 اور اسی میں تم کو پھر پہنچا دیتے ہیں اور اسی سے نکالیں گے تم کو دوسری بار

33:۔ جس زمین سے تمہاری روزی پیدا ہوتی ہے۔ تمہیں بھی اس سے پیدا کیا گیا اور مرنے کے بعد دوبارہ تم اسی میں لوٹا دئیے جاؤ گے اور پھر قیامت کے دن اسی سے تمہیں دوبارہ زندہ کر کے نکالا جائے گا۔
Ayah 20:56

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور ہم نے فرعون کو34 دکھلا دیں اپنی سب نشانیاں پھر اس نے جھٹلایا اور نہ مانا

34:۔ رجوع بسوئے اصل موضوع۔ آیات سے معجزات مراد ہیں یا دلائل توحید یہ فرعون کی سرکشی اور اس کے عناد و تمرد کا ذکر ہے کہ ہم نے اسے تمام معجزات دکھا ڈالے اور توحید کے دلائل واضح طور پر پیش کیے مگر وہ ایمان نہ لایا اور انکار پر ڈٹا رہا۔ یعنی اس نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر محض ضد وعناد کی وجہ سے انکار کیا۔ ای المعجزات الدالۃ علی نبوۃ موسیٰ وقیل حجج اللہ الدالۃ علی توحیدہ فکذب وابی۔ ای لم یومن وھذا یدل علی انہ کفر عنادا لانہ رای الایات عیانا لا خبرا (قرطبی ج 11 ص 211) ۔
Ayahs 20:57–59

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

بولا کیا تو آیا ہے35 ہم کو نکالنے ہمارے ملک سے اپنے جادو کے زور سے اے موسیٰ

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

سو ہم بھی لائیں گے تیرے مقابلہ میں ایک ایسا ہی جادو سو ٹھہرالے ہمارے اور اپنے بیچ میں ایک وعدہ نہ ہم خلاف کریں اس کا اور نہ تو ایک میدان صاف میں

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

کہا وعدہ تمہارا ہے جشن کا دن اور یہ کہ جمع ہوں لوگ دن چڑھے

35:۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول ماننے کے بجائے محض ضد سے جادوگر قرار دیا اور کہنے لگا۔ معلوم ہوتا ہے کہ تو جادو کے زور سے میرے ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے لیکن میں تیرے جادو سے مرعوب ہونے والا نہیں۔ میرے ملک میں بھی بڑے بڑے جادو گر موجود ہیں میں تیرے مقابلے کے لیے ان کو بلاؤں گا۔ اس لیے کوئی ایسی جگہ مقرر کردے جس کا فاسلہ ہمارے تمہارے لیے برابر ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا۔ بہتر یہی ہے کہ یوم الزینہ یعنی تمہاری عید کے دن ہی مقابلہ ہوجائے۔ کیونکہ اس میں خواہ مخواہ لوگ دور دراز سے آئیں گے۔ یوم الزینہ سے ان کا نوروز مراد ہے۔ اس دن میں وہ باقاعدہ میلہ لگاتے، بازاروں کو خوب سجایا جاتا۔ اور لوگ عمدہ عمدہ کپڑے پہن کر اس میں شریک ہوتے تھے۔
Ayahs 20:60–61

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

پھر الٹا پھرا فرعون36 پھر جمع کئے اپنے سارے داؤ پھر آیا

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

کہا ان کو موسیٰ نے کم بختی تمہاری جھوٹ نہ بولو اللہ پر پھر غارت کر دے تم کو کسی آفت سے اور مراد کو نہیں پہنچا جس نے جھوٹ باندھا

36:۔ فرعون نے مجلس برخاست کی اور جادوگروں کو جمع کرنے کا حکم دے دیا یہاں تک کہ ملک کے مشہور اور ماہر جادوگروں کو بلایا۔ ادھر مقررہ دن بھی آپہنچا۔ ” قَالَ لَھُمْ مُّوْسیٰ الخ “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور جادوگروں سے خطاب کر کے فرمایا۔ ہلاکت ہو تمہارے لیے تم اللہ کے ساتھ شرک کر کے اور میرے معجزات کو جادو کہہ کر اللہ تعالیٰ پر افترا نہ کرو۔ اگر تم باز نہیں آؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بیخ و بن سے اکھیڑ کر رکھ دیگا اور تمہیں بالکلیہ تہس نہس کردے گا۔ ای لا تختلقوا علیہ الکذب ولا تشرکوا بہ ولا تقولوا للمعجزات انھا سحر (قرطبی ج 11 ص 214) ۔
Ayah 20:62

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

پھر جھگڑے اپنے کام پر37 آپس میں اور چھپ کر کیا مشورہ

37:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بات سن کر جادوگر فرعون سے خفیہ طور پر آپس میں گفتگو کرنے لگے اور انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔ ماھذا بقول ساحر (خازن ج 4 ص 221، بحر ج 6 ص 254) ۔ آخر طے یہ ہوا کہ مقابلے میں اگر وہ غالب آگیا تو وہ یقیناً اللہ کا پیغمبر ہے۔ اس لیے سب اس پر ایمان لے آئیں گے۔ (خازن، روح) ۔
Ayahs 20:63–64

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

بولے مقرر یہ دونوں جادوگر ہیں38 چاہتے ہیں کہ نکال دیں تم کو تمہارے ملک سے اپنے جادو کے زور سے اور موقوف کرادیں تمہارے اچھے خاصے چلن کو

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

سو مقرر کرلو اپنی تدبیر پھر آؤ قطار باندھ کر اور جیت گیا آج جو غالب رہا

38:۔ بعض جادوگروں نے کہا یہ (موسی و ہارون علیہما السلام) دونوں جادوگر ہیں تم ڈرو مت وہ جادو کے زور سے تمہارے ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور تمہارا پرانا دین جو نہایت اچھا ہے اس کو مٹانا چاہتے ہیں۔ اس لیے تم سب متفق ہو کر اور پختہ عزم کر کے اپنا جادو چلاؤ اور جادو کا کوئی کرتب ایسا نہ ہو جسے آج تم استعمال نہ کرو اور صفیں باندھ کر میدان میں نکل آؤ۔ کیونکہ آج وہی شخص کامیاب ہوگا جو غالب آئے گا۔
Ayah 20:65

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

بولے اے موسیٰ39 یا تو تو ڈال اور یا ہم ہوں پہلے ڈالنے والے

39:۔ جادوگروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو پہلے اپنی لاٹھی زمین پر ڈالیں۔ یا ان کو اجازت دیں کہ پہلے وہ اپنا فن دکھائیں۔ جادوگروں نے ایسا اس لیے کیا۔ کیونکہ ان کو اپنے فن پر پورا پورا اعتماد تھا۔ یا انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ادب ملحوظ رکھتے ہوئے ایسا کیا۔ جو بعد میں ان کے اسلام کا باعث بنا۔ یا اس لیے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت معلوم کرچکے تھے اور ادب و احترام کے لیے ان کو اختیار دیا۔ خیروہ (علیہ السلام) و قدموہ علی انفسہم اظھار اللثقۃ بامرھم وقیل مراعاۃ للادب معہ (علیہ السلام) (روح ج 16 ص 226) تادبوا مع موسیٰ فکان ذلک سبب ایمانہم (قرطبی ج 11 ص 222) ۔
Ayah 20:66

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

کہا نہیں تم ڈالو40 پھر تب ہی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں اس کے خیال میں آئیں ان کے جادو سے کہ دوڑ رہی ہیں

40:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ جادوگروں سے ہرگز خائف اور متاثر نہیں ہیں۔ اور انہیں اللہ تعالیٰ پر کامل اعتماد اور بھروسہ ہے جادوگروں کو اجازت دیدی کہ پہلے وہی اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینکیں۔ چناچہ انہوں نے فوراً اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالدیں۔ اور دیکھنے والوں کو یوں محسوس ہونے لگا کہ وہ دوڑ رہی ہیں۔
Ayahs 20:67–69

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

پھر پانے لگا اپنے جی میں ڈر41 موسیٰ

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے کہا تو مت ڈر مقرر تو ہی رہے گا غالب

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

اور ڈال جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے کہ نگل جائے جو کچھ انہوں نے بنایا انکا بنایا ہوا تو فریب ہے جادوگر کا اور بھلا نہیں ہوتا جادوگر کا جہاں ہو

41:۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو ادھر ادھر دوڑتے دیکھا تو دل میں خطرہ اور اندیشہ محسوس کیا کہ کہیں لوگ ان کے جادو سے متاثر ہو کر معجزہ عصا سے شک میں نہ پڑجائیں۔ ” قُلْنَا لا تخف “ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔ یہ اندیشہ مت کرو۔ تمہارا معجزہ غالب رہے گا۔ اور فتح تمہاری ہوگی۔ ” وَ اَلْقِ مَافِیْ یَمِیْنِکَ “ اب اپنی لاٹھی زمین پر پھینک دو جو سانپ بن کر ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر جائے گی۔ انہوں نے جو کچھ کیا ہے جادو کے زور سے کیا ہے اور معجزہ کے مقابلہ میں جادوگر کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ معجزات پیغمبروں کے قبضے میں نہیں ہوتے جب پیغمبروں کے قبضہ میں معجزات نہیں تو اولیاء اللہ کے قبضے میں کرامات کہاں۔
Ayah 20:70

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

پھر گر پڑے جادوگر42 سجدہ میں بولے ہم یقین لائے رب پر ہارون اور موسیٰ کے

42:۔ فاء فصیحہ ہے۔ یعنی جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنا عصا زمین پر ڈالا تو وہ فورًا ایک ہیبتناک اژدھا کی شکل میں منتقل ہو کر جادوگروں کی تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل گیا اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو اپنے ہاتھ سے پکڑ لیا تو وہ اپنی اصلی حالت پر آگیا۔ اور اس کے حجم میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہ ہوا۔ جب جادوگروں نے یہ سب کچھ دیکھا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سچائی کا ان کو عین الیقین حاصل ہوگیا اور فوراً بول اٹھے۔ ” اٰمَنَّا بِرَبِّ ھٰرُوْنَ وَ مُوْسٰی “ کہ ہم موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے رب پر ایمان لے آئے اور بےاختیار سجدے میں گر پڑے۔
Ayah 20:71

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

بولا فرعون تم نے اس کو مان لیا43 میں نے ابھی حکم نہ دیا تھا وہ ہی تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو سکھایا جادو سو اب میں کٹواؤں گا44 تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں اور سولی دوں گا تم کو کھجور کے تنہ پر اور جان لو گے ہم میں کس کا عذاب سخت ہے اور دیر تک رہنے والا

43:۔ جب فرعون نے یہ ماجرا دیکھا تو سٹ پٹایا اور جھنجھلا کر بولا کیا میرے اجازت کے بغیر ہی تم اس پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جب دیکھا کہ تمام جاوگر موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے ہیں۔ اس سے اسے ساری قوم کے متاثر ہوجانے کا خطرہ محسوس ہوا تو اس نے قوم کے دلوں میں یہ بات بٹھانے کی کوشش کی کہ جادوگروں کا ایمان لے آنا کوئی معتد بہ چیز نہیں۔ کیونکہ وہ میری اجازت کے بغیر ایمان لائے ہیں۔ اس کے بعد شاید فرعون نے یہ محسوس کیا کہ جادوگر یا قوم کے سمجھدار لوگ یہ کہیں کہ جادوگروں کو ایمان لانے کے لیے تیری اجازت کی کیا ضرورت تھی جب کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے سچائی کا مشاہدہ کرلیا۔ اس لیے اس نے مزید کہا ” اِنَّهٗ لَکَبِیْرُکُمْ الخ “ معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) تم سے بھی بڑا جادوگر ہے اور اس فن میں تمہارا استاذ ہے اور یہ جو کچھ تم نے کیا ہے یہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے ماتحت کیا ہے جس کا پہلے سے تم نے اپنے استاذ موسیٰ کے ساتھ مل کر منصوبہ بنارکھا تھا (روح) ۔ 44:۔ چناچہ تم نے یہ سب کچھ ایک طے شدہ سازش کے تحت کیا ہے جس سے مجھے اپنی رعیت کے روبرو شرمسار ہونا پڑا۔ لہذا اب میں تم کو اس کی سخت سزا دوں گا مخالف جانب سے تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالوں گا۔ یعنی داہنا ہاتھ بایاں پاؤں یا بایاں ہاتھ اور داہنا پاؤں اور پھر تمہیں کھجور کے درختوں پر سولی دیدوں گا۔ پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم میں سے کس کا عذاب سخت اور دیرپا ہے۔ یعنی تم نے یہ سمجھ لیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا کر تم نجات کے ٹھیکیدار بن گئے اور ہم (فرعون اور اس کے ہمنوا) جہنم کے سخت اور ابدی عذاب میں مبتلا ہوں گے تو یہ تمہیں ابھی معلوم ہوجائے گا کہ میرا عذاب سخت اور دیرپا ہے، یا رب موسیٰ کا جس پر تم ایمان لائے ہو۔ یعنی علی ایمانکم بہ انا، ورب موسیٰ علی ترک الایمان (خازن ج 4 ص 222) ان دھمکیوں سے فرعون کا مقصد یہ تھا کہ شاید وہ خوف زدہ ہو کر ایمان سے واپس آجائیں گے لیکن اس سے ان کا ایمان ویقین اور مستحکم ہوگیا۔
Ayah 20:72

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

وہ بولے ہم تجھ کو زیادہ نہ سمجھیں گے45 اس چیز سے جو پہنچی ہم کو صاف دلیل اور اس سے جس نے ہم کو پیدا کیا سو تو کر گزر جو تجھ کو کرنا ہے تو یہی کرے گا46 اس دنیا کی زندگی میں

45:۔ فرعون کی دھمکیوں کے جواب میں پوری جرات ایمانی کے ساتھ جادوگروں نے کہا کہ حق کے دلائل ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے جن سے ہم اپنے خالق ومالک کو پہچان لیا ہے۔ لہذا اب ان دلائل سے روگردانی کر کے اور اپنے خالق کو چھوڑ کر تجھے کبھی ماننے کے نہیں ہمیں نہ تیرے عذاب کا ڈر ہے نہ تیری داد و دہش کی ہمیں ضرورت ہے۔ ” فَاقْضِ مَا اَنْتَ قَاضٍ “ تو ہمارے ساتھ جو کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کرلے ہمیں اس کی پرواہ نہیں۔ ” وَالَّذِيْ فَطَرَنَا “ یہ ” مَا جَاءَنَا “ پر معطوف ہے۔ 46:۔ آیت کا یہ حصہ اور اگلی آیت ماقبل کے لیے دلیل و علت ہے مع ما بعدہ تعلیل لعدم المبالاۃ المستفاد مما سبق من الامر بالقضاء (روح ج 16 ص 233) ۔ ہمیں تیری پرواہ نہیں رہی تو جو چاہے کرلے تاکہ وہ ہمارے تمام گناہ معاف کردے ہمارا مطلوب و مقصود اس قدر اعلیٰ وارفع ہے کہ ہم تیری دنیوی سزا کو خاطر میں بھی نہیں لاتے۔
Ayah 20:73

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم یقین لائے ہیں اپنے رب پر تاکہ بخشے ہم کو ہمارے گناہ اور جو تو نے زبردستی کروایا ہم سے یہ جادو47 اور اللہ48 بہتر ہے اور سدا باقی رہنے والا

47:۔ یہ ” خَطٰیٰنَا “ پر معطوف ہے جادو پر مجبور کرنے کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ فرعون نے بنی اسرائیل کے چالیس لڑکوں کو جبرًا چھین کر جادوگروں کے حوالے کیا اور ان سے کہا کہ ان کو جادو کے ایسے کمالات سکھا دو کہ دنیا کا کوئی جادوگر ان پر غالب نہ آسکے یہ اسرائیلی جادوگر بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں آئے اور ایمان لانے کے بعد فرعون سے کہا کہ تو نے ہم کو جادو پر مجبور کیا تھا۔ اب ہم اللہ سے یہ گناہ عظیم بخشوانا چاہتے ہیں (ابن کثیر ج 3 ص 159) ۔ یا اکراہ سے مقابلے میں آنے پر مجبور کرنا مراد ہے جیسا کہ بعض روایتوں میں ہے۔ جب جادوگر جمع ہوگئے تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعض نشانات دیکھ کر یقین کرلیا کہ یہ جادو نہیں اس کا مقابلہ ناممکن ہے۔ مگر فرعون کے ڈر سے بادل ناخواستہ مقابلہ میں شریک ہوئے (روح، بحر وغیرہ) ۔ 48:۔ یہ فرعون کے قول ” اَیُّنَا اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰی “ کا جواب ہے۔ یعنی مومنین کے لیے اللہ کا اجر وثواب تیرے انعامات سے بہتر ہے اور نافرمانوں کے لیے اس کا عذاب تیرے عذاب سے زیادہ دیر پا ہے۔ (” وَاللّٰهُ خَیْرٌ ثَوَابًا “ ) لمن اطاعہ (” وَّ اَبْقٰی “ ) عتابا لمن عصاہ وھو رد لقول فرعون و لتعلمن اینا اشد عذابا وابقی (مدارک ج 2 ص 47) ۔
Ayahs 20:74–76

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

بات یہی ہے کہ جو کوئی آیا49 اپنے رب کے پاس گناہ لے کر سو اس کے واسطے دوزخ ہے مرے اس میں نہ جیئے

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو آیا اس کے پاس ایمان لے کر نیکیاں کر کے سو ان لوگوں کے لئے ہیں درجے بلند

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

باغ ہیں بسنے کے بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ہمیشہ رہا کریں گے ان میں اور یہ بدلہ ہے اس کا جو پاک ہوا

49:۔ یہاں سے تا ” ذٰلِکَ جَزَاءُ مَنْ تَزَکّٰی “ جادوگروں کے قول کی حکایت ہے یا ادخال الٰہی ہے۔ ” مُجْرِمًا “ سے مراد مشرک ہے۔ و دل قولہ ” مَنْ یَّاتِهٖ مُوْمِنًا “ علی ان المراد بالمجرم المشرک (قرطبی ج 11 ص 227) ۔ ” تَزَکّٰی “ یعنی شرک سے پاک ہوا۔ تطھر من الشرک یقول لا الہ الا اللہ قیل ھذہ الایات الثلث حکایۃ قولھم وقیل خبر من اللہ تعالیٰ لا علی وجہ الحکایۃ وھو اظھر (مدارک ج 2 ص 47) ۔
Ayah 20:77

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور ہم نے حکم بھیجا50 موسیٰ کو کہ لے نکل میرے بندوں کو رات سے پھر ڈال دے ان کے لئے سمندر میں راستہ سوکھا نہ خطرہ کر آپکڑنے کا اور نہ ڈر ڈوبنے سے

50:۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کے معجزات اور ان کی تبلیغ و ارشاد سے فرعون اور اس کی قوم پر اپنی حجت تمام کردی اور وہ ایمان نہ لائے تو اب ان کی تباہی اور بنی اسرائیل کی نجات کا وقت آپہنچا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر راتوں رات شہر سے نکل جائیں۔ راستہ میں بحر قلزم آئے گا۔ لیکن وہ تمہارے سفر میں حائل نہیں ہوگا۔ آپ اپنی لاٹھی اس پر ماریں فورًا اس کا پانی سمٹ کر اس میں بارہ خشک اور چلنے کے قابل راستے بن جائیں گے۔ بےخوف و خطر جائیے۔ نہ فرعون کے پیچھے سے جا پہنچنے سے ڈرئیے نہ سمندر میں غرق ہونے کا خطرہ دل میں لائیے۔
Ayahs 20:78–79

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

پھر پیچھا کیا ان کا51 فرعون نے اپنے لشکروں کو لے کر پھر ڈھانپ لیا انکو پانی نے جیسا کہ ڈھانپ لیا

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور بہکایا فرعون نے اپنی قوم کو اور نہ سمجھایا

51:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) رات کی تاریکی میں قوم کو ساتھ لے کر چل دئیے۔ صبح جب فرعون کو اس کا علم ہوا تو پوری شان و شوکت اور لاؤ لشکر کے ساتھ ان کے تعاقب میں نکل پڑا۔ بنی اسرائیل کے لیے اللہ نے بطور اعجاز دریا میں خشک راستے بنادئیے جن سے وہ صحیح سلامت پار ہوگئے ان کے پیچھے فرعون نے بھی لشکر سمیت گھورے ان کے راستوں میں اتار دئیے۔ جب سارا لشکر سمندر میں اتر چکا اس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے پانی رواں ہوگیا۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس سرکش قوم کا خاتمہ کردیا۔
Ayah 20:80

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے اولاد اسرائیل52 چھڑالیا ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے اور وعدہ ٹھہرایا تم سے داہنی طرف پہاڑ کی53 اور اتارا تم پر من اور سلویٰ

52:۔ قوم فرعون کی ہلاکت اور بنی اسرائیل کی نجات کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنے انعامات یاد دلا کر ان کا شکر ادا کرنے، ان کو ایمان و اطاعت پر قائم رہنے اور طغیانی و سرکشی سے اجتناب کی ترغیب فرمائی۔ لما انجھم من فرعون قال لھم ھذا لیشکروا (قرطبی ج 11 ص 230) ۔ 53:۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا۔ کہ وہ فرعون کی تباہی کے بعد کوہ طور کی داہنی جانب پر پہنچ جائیں۔ ان کو تورات دی جائے گی۔ جو سراپا نور ہدایت اور بنی اسرائیل کے لیے مشعل راہ ہوگی۔ یہاں اس وعدہ کی طرف اشارہ ہے یہ وعدہ اگرچہ صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تھا۔ لیکن تھا پوری قوم کی فلاح و بہبود کے لیے۔ اس لیے ” وَوٰعَدْنٰکُمْ “ سے ساری قوم کو خطاب فرمایا۔ ” وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْويٰ “۔ من وسلوی (ترنجبین اور بٹیروں) کا نزول میدانِ تیہ میں ہوا تھا۔ اس کی زیادہ تفیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے ملاحظہ ہو ص 37 حاشیہ 115 ۔