Explained with ayahs 95–98
گائے پرست سامری اور بچھڑا۔
حضرت موسیٰ ؑ نے سامری سے پوچھا کہ تو نے یہ فتنہ کیوں اٹھایا ؟ یہ شخص باجروکا رہنے والا تھا اس کی قوم گائے پرست تھی۔ اس کے دل میں گائے محبت گھر کئے ہوئے تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کیا تھا۔ اس کا نام موسیٰ بن ظفر تھا ایک روایت میں ہے یہ کرمانی تھا۔ ایک روایت میں ہے اس کی بستی کا نام سامرا تھا اس نے جواب دیا کہ جب فرعون کی ہلاکت کے لئے حضرت جبرائیل ؑ آئے تو میں نے ان کے گھوڑے کے ٹاپ تلے سے تھوڑی سی مٹی اٹھا لی۔ اکثر مفسرین کے نزدیک مشہور بات یہی ہے حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ آئے اور حضرت موسیٰ ؑ کو لے کر چڑھنے لگے تو سامری نے دیکھ…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 74
یعنی صرف یہی نہیں کہ زندگی بھر کے لیے معاشرے سے اس کے تعلقات توڑ دیے گئے اور اسے اچھوت بنا کر رکھ دیا گیا۔ بلکہ یہ ذمہ داری بھی اسی پر ڈالی گئی کہ ہر شخص کو وہ خود اپنے اچھوت پن سے آگاہ کرے اور دور ہی سے لوگوں کو مطلع کرتا رہے کہ میں اچھوت ہوں، مجھے ہاتھ نہ لگانا۔ بائیبل کی کتاب احبار میں کوڑھیوں کی چھوت سے لوگوں کو بچانے کے لیے جو قواعد بیان کیے گئے ہیں ان میں سے ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ
" اور جو کوڑھی اس بلا میں مبتلا ہو اس کے کپڑے پھٹے اور اس کے سر کے بال بکھرے رہیں اور وہ اپنے اوپر کے ہونٹ کو ڈھانکے اور چلا چلا کر کہے ناپاک ناپاک۔ جتنے دنوں تک وہ اس بلا میں مبتلا رہے وہ ناپاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
فَاِنَّ لَكَ فِي الْحَيٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ ، حضرت موسیٰ ؑ نے سامری کے لئے دنیا کی زندگی میں یہ سزا تجویز کی کہ سب لوگ اس سے مقاطعہ کریں کوئی اس کے پاس نہ جاوے اور اس کو بھی یہ حکم دیا کہ کسی کو ہاتھ نہ لگائے اور زندگی بھر اسی طرح وحشی جانوروں کی طرح سب سے الگ رہے۔ یہ سزا ہوسکتا ہے کہ ایک قانون کی صورت میں ہو جس کی پابندی اس پر اور دوسرے سب بنی اسرائیل پر منجانب موسیٰ ؑ لازم کردی گئی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ قانونی حیثیت کی سزا سے آگے خود اس کی ذات میں بقدرت خداوندی کوئی ایسی بات پیدا کردی گئی ہو کہ نہ وہ دوسروں کو چھو سکے نہ کوئی دوسرا اس کو چھو سکے جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ…
Read the full tafseer →سامری پر لعنت
اس کے اس عذر سے حضرت موسیٰ پر اس کی مکاری اور شرارت اچھی طرح واضح ہوگئی۔ انہوں نے اس کے اوپر لعنت کردی اور عمر بھر کے لیء اس کو یہ سزا دی کہ اب تو یہ کہتا پھرے گا کہ لوگو، میں ناپاک ہوں، نہ کوئی مجھے ہاتھ لگائے اور نہ میں کسی کو ہاتھ لگا سکتا ہوں اور ساتھ ہی اس کو آخرت کے عذاب کی بھی خبر دے دی کہ ایک عذاب موعود کا دن بھی تیرے لئے آنے والا ہے جس سے تو کسی طرح بھی اپنے کو بچا نہ سکے گا۔ وہ بہرحال شدنی ہے۔
فاذھب یعنی دور دفع ہو۔ یہ یہاں دھتکارنے کے معنی میں آیا ہے۔
فی الحیوۃ یعنی تیرے لئے یہ لعنت کی سزا وقتی اور عارضی نہیں ہے بلکہ عمر بھر کے لئے یہ تیرے اوپر مسلط کردی گی۔
لام اس کا…
Read the full tafseer →97۔ 1 یعنی عمر بھر تو یہی کہتا رہے گا کہ مجھ سے دور رہو، مجھے نہ چھونا، اس لئے کہ اسے چھو تے ہی چھونے والا بھی اور یہ سامری بھی دونوں بخار میں مبتلا ہوجاتے۔ اس لئے جب کسی انسان کو دیکھتا تو فوراً چیخ اٹھتا کہا جاتا ہے کہ پھر یہ انسانوں کی بستی سے نکل کر جنگل میں چلا گیا، جہاں جانوروں کے ساتھ اس کی زندگی گزری اور یوں عبرت کا نمونہ بنا رہا، گویا لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے جو شخص جتنا زیادہ حیلہ و فن اور مکر و فریب اختیار کرے گا، دنیا اور آخرت میں اس کی سزا بھی اسی حساب سے شدید تر اور نہایت عبرت ناک ہوگی۔
97۔ 2 یعنی آخرت کا عذاب اس کے علاوہ ہے جو ہر صورت بھگتنا پڑے گا۔
97۔ 3 اس سے معلوم ہوا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
41: سامری کے جرم کی سزا اس کو یہ دی گئی کہ تمام لوگ اس کا بائیکاٹ کریں، نہ کوئی اسے چھوئے اور نہ وہ کسی کو ہاتھ لگائے۔ اب یہ بھی ممکن ہے کہ اس کو یہ سزا قانونی حکم کے ذریعے دی گئی ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے، جیسا کہ بعض روایات میں آیا بھی ہے، کہ اس کے جسم میں کوئی ایسی بیماری پیدا ہوگئی تھی کہ کوئی شخص اسے ہاتھ لگاتا تو اس کو بھی اور ہاتھ لگانے والے کو بھی بخار چڑھ جاتا۔
42: اس سے مراد آخرت کے عذاب کا وعدہ ہے۔
Read the full tafseer →جائو تم ملک بدر ہو ، تمہیں کوئی شخص بھی ہاتھ نہ لگائے گا ، نہ اچھائی سے اور نہ برائی کے ساتھ اور نہ تم کسی کے ساتھ ہاتھ لگائو گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے دین میں یہ سزائوں میں سے ایک سزا تھی۔ یہ اچھوت بنانے کی سزا تھی اور مجرم کو گندا قرار دیا جاتا تھا کہ نہ وہ کسی کو ہاتھ لگائے ، نہ اس کے ساتھ کوئی ہاتھ لگائے۔ یہ کہ تمہارے لئے باز پرس کا ایک وقت مقرر ہے ، تو اس سے مراد قیامت کا وقت جزاء و سزا ہے جس سے اگر کوئی بچنا چاہے بھی تو نہیں بچ سکتا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ نے بڑی سختی اور غصے میں یہ احکام دیئے کہ اس بچھڑے کو لے جا کر جلائو اور اس کی آنکھ کو پانی میں بکھیر دو ۔ سختی اور غصہ حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →9 یعنی مجھے ہاتھ مت لگاؤ مجھ سے علیحدہ رہو، چونکہ اس نے بچھڑا کا ڈھونگ بنایا تھا حُبِ جاہ و ریاست سے کہ لوگ اس کے ساتھ ہوں اور سردار مانیں اس کے مناسب سزا ملی کہ کوئی پاس نہ پھٹکے، جو قریب جائے وہ خوددور رہنے کی ہدایت کر دے۔ اور دنیا میں بالکل ایک ذلیل، اچھوت اور وحشی جانور کی طرح زندگی گزارے۔
10 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " دنیا میں اس کو یہ ہی سزا ملی کہ لشکر بنی اسرائیل سے باہر الگ رہتا۔ اگر وہ کسی سے ملتا یا کوئی اس سے تو دونوں کو تپ چڑھتی، اسی لیے لوگوں کو دور دور کرتا۔ اور یہ جو فرمایا کہ ایک وعدہ ہے جو خلاف نہ ہوگا۔ شاید مراد عذاب آخرت ہے اور شاید دجال کا نکلنا، وہ بھی یہود میں سامری…
Read the full tafseer →آیت 97 قَالَ فَاذْہَبْ فَاِنَّ لَکَ فِی الْْحَیٰوۃِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَص ”
سامری بطور سزا جس بیماری میں مبتلا کیا گیا تھا اس کی تفصیل تو نہیں ملتی مگر ان الفاظ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ عملاً وہ اچھوت بن کر رہ گیا تھا۔ نہ وہ کسی کے قریب جاسکتا تھا اور نہ ہی کوئی دوسرا شخص اس کے پاس آسکتا تھا۔ بعض روایات میں اس طرح کی تفصیلات ملتی ہیں کہ اگر کوئی شخص اس کے قریب جاتا تو دونوں سخت بخار میں مبتلا ہوجاتے تھے اور یوں باقی تمام زندگی اسے معاشرتی مقاطعہ کی سزا بھگتنا پڑی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
67 یعنی اس کو موسیٰ (علیہ السلام) نے اچھوت قرار دے دیا کہ کوئی شخص اس سے کسی قسم کا بھی تعلق نہ رکھے۔ پھر اس کے لئے مزید سزا یہ تھی کہ وہ خود دوسروں سے کہتا تھا کہ مجھ سے پرے رہنا، مجھ سے بچ کر رہنا، مجھے ہاتھ نہ لگانا، میں ناپاک ہوں لہذا مجھے نہ چھونا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اگر کوئی سامری کو ہاتھ لگاتا یا اسے چھوتا تو سامری کو اور چھونے والے کو دونوں کو تپ چڑھ جاتی تھی۔ لہذا سامری اس بات پر مجبور تھا کہ دوسروں سے کہے کہ مجھے ہاتھ نہ لگانا، ساتھ ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے یہ بھی بتلا دیا کہ یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے اس جرم کی پوری سزا ہوچکی بلکہ آخرت میں جو تجھے عذاب ہونے والا ہے وہ بھی کبھی…
Read the full tafseer →114۔ گویا اسے دنیا میں یہ سزا ملی کہ اسے حکما ” اچھوت “ قرار دے دیا گیا اور ہمارے ہندوستان میں یہ جو چھوت چھات کا ملعون دستور چل پڑا ہے بہ قول فاضل گرامی مولانا مناظر احسن صاحب گیلانی زاد مجدہ عجب نہیں کہ اس کی اصل بھی اسی سامری کی ” لامساسیت “ سے نکلے فقہاء نے یہاں سے دو مسئلہ اخذ کیے ہیں ایک یہ کہ مجرم کے لئے سزائے حبس دوام جائز ہے (لامساس کا مضمون جس میں آچکا) دوسرے یہ کہ مجرم سے اختلاط وملاقات کا منع کردینا جائز ہے، اہل اشارات نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ جو خطائیں بدون خبث وعدم بغاوت صادر ہوجاتی ہیں ان سے توبہ کی توفیق بھی اکثر نصیب ہوجاتی ہے۔ جیسے یہاں سامری کو پوری سزا ملی اور عام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
آیت نمبر 90 تا 104
ترجمہ : اور ہارون (علیہ السلام) نے ان سے پہلے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے واپس آنے سے پہلے کہہ دیا تھا اے میری قوم تم اس گوسالہ کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کر دئے گئے ہو اور بلاشبہ تمہارا رب تو رحمٰن ہے لہٰذا تم اس کی عبادت کرنے میں میری اتباع کرو اور عبادت کے معاملہ میں میری بات مانو ان لوگوں نے جواب دیا ہم تو اسی پر جمے رہیں گے یعنی اسی کی عبادت پر قائم رہیں گے موسیٰ کے ہمارے پاس واپس آنے تک موسیٰ (علیہ السلام) نے واپسی کے بعد فرمایا اے ہارون جب تم نے ان کو دیکھا کہ یہ گمراہ ہوگئے بچھڑے کی عبادت کی وجہ سے تو میرے پاس چلے آنے سے کیا امر مانع ہوا ؟ اَلاَّ تَتَّبِعَنّ میں لا…
Read the full tafseer →قال فاذہب فان لک فی الحیوۃ ان تقول لا مساس وان لک موعدا لن تخلفہ
موسیٰ نے کہا تو بس تیرے لئے (اس دنیا کی) زندگی میں ایک اور مقرر وعدہ ہے جو تجھ سے ٹلنے والا نہیں۔ مساس علم مصدر ہے (نفی بمعنی نہی ہے) یعنی مجھے چھونا نہیں میرے قریب نہ آنا میں کہتا ہوں شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اللہ نے اس کے دل میں انسانوں سے وحشت پیدا کردی ہو اسی لئے وہ جنگلوں اور ویرانوں میں مارا مارا پھرتا تھا اسی حالت میں مرگیا۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو حکم دے دیا تھا کہ اس سے میل جول نہ رکھنا اس کے پاس بھی نہ جانا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے لا مساس کی تفسیر میں فرمایا نہ تجھے چھونا ہے نہ تیری اولاد…
Read the full tafseer →(97) حضرت موسیٰ ؑ نے سامری سے فرمایا جا تیری زندگی میں یہی سزا تجویز ہوئی ہے کہ تو یہ کہتا پھرے گا کہ مجھے کوئی ہاتھ نہ لگائے تاکہ نہ تو کسی کے قریب جائے گا اور نہ تیرے پاس کوئی آئے گا اور قیامت کے دن تیرے لیے ایک اور عذاب کا وقت مقرر ہے جو تجھ سے ٹلنے والا نہیں اور اب اپنے اس معبود کا بھی نظارہ کرلے جس کی عبادت پر تو جما ہوا بیٹھا تھا دیکھ ہم اس کو آگ میں جلا دیں گے یا یہ کہ ہم اس کو ریزہ ریزہ کردیں گے پھر اس کے ذرات کو دریا میں بکھیر کے اڑا دیں گے۔
Read the full tafseer →قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِي الْحَيٰوةِ۔۔ :”مِسَاسَ“ ”قَاتَلَ یُقَاتِلُ مَقَاتَلَۃً وَ قِتَالًا“ کی طرح باب مفاعلہ کا مصدر ہے جس میں مشارکت پائی جاتی ہے، یعنی ایک دوسرے کو چھونا، ہاتھ لگانا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ زندگی بھر کے لیے ایسی بیماری اور عذاب میں مبتلا ہوا کہ وہ کسی کو ہاتھ لگاتا یا کوئی اسے ہاتھ لگاتا، دونوں صورتوں میں اسے شدید تکلیف ہوتی، جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ وہ اس سے بچنے کے لیے خود ہی کہتا پھرتا کہ نہ میں تمہیں ہاتھ لگاتا ہوں اور نہ تم مجھے ہاتھ لگاؤ۔ بعض تابعین نے کہا ہے کہ ہاتھ لگنے کی صورت میں سامری اور دوسرے شخص دونوں کو بخار چڑھ جاتا تھا، مگر انھوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–104
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال فاذھب یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ہمارے درمیان سے چلا جا۔ فان لک فی الحیوۃ ان تقول لامساس زندگی بھر تو یہی کہتا رہے گا کہ مجھے کوئی نہ چھوئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے اپنی قوم سے نکال دیا۔ اور بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اس کے ساتھ نہ ملیں اور نہ اس کے قریب جائیں اور نہ اس سے کلام کریں۔ یہ اس کے یے بطور سزا تھا۔ شاعر نے کہا :
تمیم کر ھط السامری وقولہ الا لا یرید السامری مساسا
حسن نے کہا : اللہ تعالیٰ نے سامری کی سزا یہ بنائی کہ لوگوں کو وہ نہ چھوئے اور نہ لوگ اسے چھوئیں، یہ اس کے لیے اور جو اس میں سے قیامت تک ہوگا سب کے لیے سزا ہے۔ گویا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–97
1:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔
3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔
4:۔ ابن منذر اور…
Read the full tafseer →[قَالَ : (موسٰی (علیہ السلام) نے) کہا ] [فَاذْهَبْ : پس تو جا (یعنی دفع ہو)] [فَان : تو بیشک ] [لَكَ : تیرے لئے ہے ] [فِي الْحَيٰوةِ : زندگی میں ] [ان : کہ ] [تَقُوْلَ : تو کہے ] [لَا مِسَاسَ : مت چھؤو ] [وَان : اور بیشک ] [ لَكَ : تیرے لئے ] [مَوْعِدًا : ایک وعدے کا وقت ہے ] [لَّنْ تُخْلَفَهٗ : تجھ سے ہرگز خلاف نہیں کیا جائے گا اس کے ] [وَانظُرْ : اور تو دیکھ ] [اِلٰٓى اِلٰهِكَ الَّذِي : اپنے اس اِلٰہ کی طرف ] [ظَلْتَ : تو ہوا ] [عَلَيْهِ : جس پر ] [عَاكِفًا : اعتکاف کرنے والا ] [لَنُحَرِّقَنَّهٗ : ہم لازماً جلا کر بھسم کریں گے اس کو ] [ثُمَّ : پھر ] [لَنَنْسِفَنَّهٗ : ہم لازماً بکھیر دیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سامری سے خطاب، اس کے لیے بددعا کرنا اور اس کے بنائے ہوئے معبود کو جلا کر سمندر میں بکھیر دینا
حضرت ہارون (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے خطاب اور عتاب سے فارغ ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تیرا کیا حال ہے یہ حرکت تو نے کیوں کی کس طرح سے کی ؟ اس پر اس نے جواب دیا کہ میں نے وہ چیز دیکھی جو دوسرے لوگوں کو نظر نہ آئی، میں نے اس میں سے ایک مٹھی اٹھالی اور جو مٹھی بھری تھی وہ اس مجسمہ میں ڈال دی جو میں نے چاندی سونے سے بنایا تھا علماء تفسیر نے لکھا ہے کہ سامری بھی بنی اسرائیل میں سے تھا اور ایک قول یہ ہے کہ ان میں سے نہیں تھا بلکہ قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
موسیٰ (علیہ السلام) کی کوہ طور سے واپسی اور گوسالہ پرستی کا واقعہ
قال اللہ تعالیٰ وما اعجلک عن قومک یموسی .... الیٰ .... وسع کل شیء علما۔
القصہ جب فرعون غرق ہوگیا۔ تو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ استدعا کی کہ ہمارے لیے کوئی دستور ہدایت اور قانون شریعت چاہئے کہ ہم اس پر چلیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بارے میں حق تعالیٰ سے درخواست کی، حق تعالیٰ نے توریت عطا کرنے کا وعدہ فرمایا کہ ہم تم کو ایسی کتاب عطا کریں گے۔ جس میں احکام شریعت جمع ہوں گے اور یہ حکم۔ یا کہ ستر علماء اپنے ہمراہ لے کر کوہ طور پر آئیں تاکہ وہ اس کرامت کا جلوہ دیکھیں۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی جگہ پر تو ہارون…
Read the full tafseer →70:۔ سامری کو دنیا میں اپنے کیے کی سزا یہ ملی کہ جب بھی کوئی شخص اس کے قریب جاتا تو دونوں کو تپ چڑھ جاتا اس لیے وہ لوگوں سے کہتا کہ مجھ سے دور رہو وہ چاہتا تھا کہ فریب سے قوم کا سردار بن جائے لیکن سزا ایسی ملی کہ کوئی شخص اس کے قریب بھی نہ پھٹکتا تھا۔ بالکل اچھوتوں کی طرح زندگی گذار دی۔ ” وَ اِنَّ لَکَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ “ وہ تو دنیا میں عذاب تھا اور دنیا میں شرک پھیلانے اور فساد بپا کرنے کی سزا آخرت میں بھی ملے گی۔ آخرت میں سزا کی وعید ضرور پوری ہوگی اللہ تعالیٰ اس کے خلاف نہیں کرے گا۔ ای لن یخلفک اللہ موعدہ الذی وعدک علی الشرک والفساد فی الارض ینجزہ لک فی الاخرۃ بعد ما عاقبک بذلک فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
ربط آیات :
موسیٰ (علیہ السلام) کتاب لے کر کوہ طور سے واپس آئے تو قوم کو شرک میں مبتلا دیکھ کر سخت برہم ہوئے۔ پہلے اپنے بھائی کو سرزنش کی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو بےقصور ہیں۔ انہوں نے تو افہام و تفہیم کی پوری کوشش کی تھی مگر قوم نہ مانی اور الٹا ان کے قتل کے درپے ہوئے۔ ہارون (علیہ السلام) نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ ایمان والوں کو ساتھ لے کر باقی قوم سے الگ ہوجائیں اور کوہ طور کی طرف چل دیں۔ انہیں خطرہ تھا کہ جماعت میں ایسا تفرقہ پیدا ہوجائے گا جس کی اصلاح ناممکن ہوجائے گی۔ بہرحال جب موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے بھائی کی بےگناہی کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے اور بھائی کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا…
Read the full tafseer →قَالَ فَاذْہَبْ فَاِنَّ لَكَ فِي الْحَيٰوۃِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ 0۠ وَاِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَہٗ 0ۚ وَانْظُرْ اِلٰٓى اِلٰہِكَ الَّذِيْ ظَلْتَ عَلَيْہِ عَاكِفًا 0ۭ لَنُحَرِّقَنَّہٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّہٗ فِي الْيَمِّ نَسْفًا 97
ذهب
الذَّهَبُ معروف، وربما قيل ذَهَبَةٌ ، ويستعمل ذلک في الأعيان والمعاني، قال اللہ تعالی: وَقالَ إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] ،
( ذ ھ ب ) الذھب
ذھب ( ف) بالشیء واذھبتہ لے جانا ۔ یہ اعیان ومعانی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں ۔
حيى
الحیاة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
1 ؎ جو چھوئے گا اس کو تپ چڑھ جائے گی جزامیوں کی طرح لوگوں سے دور رہا کرے گا کوئی بھی تیرے پاس نہ پھٹکے گا یہ بڑی سزا تھی۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قَالَ فَاذْھَبْ فَاِنَّ لَکَ فِی الْحَیٰوۃِ اَنْ تَقُوْلَ لاَ مِسَاسَ ص وَاِنَّ لَکَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَہٗ ج وَانْظُرْ اِلٰٓی اِلٰھِکَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْہِ عَاکِفًا ط لَـنُحَرِّقَـنَّـہٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَـنَّـہٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا۔ (طٰـہٰ : 97)
(موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا چل دور ہو، اب زندگی بھر تجھے یہی پکارتے رہنا ہے کہ مجھے نہ چھونا اور تیرے لیے ایک اور وقت موعود بھی ہے جو تجھ سے ٹلنے والا نہیں اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس پر تو ریجھا ہوا تھا، اب ہم اس کو جلائیں گے، پھر اس کو سمندر میں بکھیر دیں گے۔ )
سامری کے لیے سزا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری کی بات سے اندازہ کرلیا کہ وہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سامری اور اس کے بنائے ہوئے بچھڑے کا انجام۔
جب سامری نے اعتراف جرم کرلیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے بد دعا دی کہ تو زندگی بھر یہ کہتا پھرے گا۔ کہ لوگو ! میرے قریب نہ آنا۔ اس کے ساتھ ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے آخرت کے عذاب کی تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایسا دن اور ایسا عذاب ہوگا جو ٹلنے والا نہیں پھر اسے کہا کہ اب اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے اپنے معبود کی طرف دیکھ جس کے سامنے تو اعتکاف کرتا تھا۔ ہم اسے ہر صورت جلا کر راکھ بنا دیں گے اور پھر اس راکھ کو تیرے سامنے سمندر میں پھینک دیا جائے گا۔ جہاں تک سامری کی سزا کا تعلق ہے موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا سے اس کی یہ…
Read the full tafseer →97: قَالَ (اس کو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا) : فَاذْھَبْ (تو بس چلا جا) ہمارے درمیان دھتکارا ہوا۔ فَاِنَّ لَکَ فِی الحَیٰوۃِ (تیرے لئے اس دنیا کی زندگی میں جب تک تو زندہ رہے گا) ۔ اَنْ تَقُوْلَ (کہ تو کہتا پھرے گا) جو تجھ سے ملنا چاہے گا۔ اور اسے تیرے متعلق علم نہ ہوگا۔ لَامِسَاسَ (چھونا نہیں) مجھے کوئی ہاتھ نہ لگائے اور نہ میں اس کو ہاتھ لگائوں گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو اس کے ساتھ میل جول سے مکمل طور پر منع فرما دیا اور اس پر ان سے ملنا حرام کردیا اور گفتگو بند کردی۔ خریدو فروخت ناجائز قرار دی۔ جب کسی کے ساتھ اتفاقا ہاتھ لگ جاتا تو چھونے والے اور سامری دونوں کو بخار چڑھ…
Read the full tafseer →تفسیر۔
97۔ قال فاذھب فان لک فی الحیوۃ، ،، جب تو اس دنیا میں زندہ رہے گا، ان تقول لامساس، ، میرے قریب تم میں سے کوئی نہ آئے اور نہ ہی وہ مجھے چھوئے۔ حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دے دیا تھا، کہ اس سے میل جول نہ رکھنا، اور اس کے پاس بھی نہ جانا۔ ابن عباس کا قول ہے کہ ، لامساس، کا معنی یہ یہ کہ نہ تجھے چھونا ہے اور نہ ہی تیری اولاد کو۔ مساس مماسۃ سے ہے اس کا معنی یہ ہے کہ میں تم سے بعض بعض کو مس نہ کرے۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ اللہ نے اس کے دل میں انسانوں سے وحشت پیدا کردی تھی۔ اس لیے وہ جنگلوں اور ویرانوں میں مارا مارا پھرتا تھا اور اسی حالت میں مرگیا۔ جو شخص بھی اس کے ساتھ ملتا توسامری کہنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
95۔ 98:۔ بنی اسرائیل اور ہارون (علیہ السلام) پر خفا ہونے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے جو خفگی کی باتیں کی تھیں ان آیتوں میں ان کا ذکر ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے پوجھا تو نے یہ بچھڑا بنانے کا فساد کیوں پھیلایا سامری نے جواب دیا کہ فرعون کے ڈوبنے کے وقت جبرئیل (علیہ السلام) جب گھوڑی پر سوار ہو آئے تو بنی اسرائیل میں سے کسی نے ان کو نہیں دیکھا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے انہیں مجھے دکھا دیا اور میرے دل میں یہ بات سمائی کہ میں نے ان کے گھوڑی کے قدم کے نیچے کی مٹی میں سے ایک مٹھی مٹی اٹھا لی اور جب میں نے زیور کا بچھڑا بنایا تو میرے دل میں یہ…
Read the full tafseer →آیات (97)
یعنی یہ جو تو نے سب کچھ کیا ہے یہ کیا معاملہ ہے ؟ سامری نے جواب دیا۔ (بصرت بمالو یبصروابہ) ” مَیں نے وہ چیزی دیکھی جو انہوں نے نہیں دیکھی “۔ یعنی وہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے جن کو سامری نے سمندر سے باہر نکلتے اور فرعون کے اپنے لشکر ڈوبتے وقت گھوڑی پر سوار دیکھا۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے۔ یعنی میں نے گھوڑی کے سم کے نیچے سے خاک کی ایک مٹھی اٹھائی اور بچھڑے (کے بت) پر ڈال دی۔ (وکذلک سولت لی نفسی) میرے نفس میں مجھے ایسے ہی سمجھایا تھا کہ میں (جبریل کے نقش پا سے) ایک مٹھی خاک لوں اور اسے اس بچھڑے پر ڈال دو اور اس طرح وہ کچھ ہوجائے جو ہوگیا۔ پس موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →98 سامری کیلئے بڑی ہولناک اور نہایت عبرتناک سزا کا اعلان : کہ " تو لوگوں سے کہے گا کہ مجھ سے دور رہو، مجھے ہاتھ نہ لگاؤ "۔ جس سے تو اچھوتوں سے بھی بدتر زندگی گزارے گا اور تجھے خود لوگوں سے یہ کہنا پڑے گا کہ نہ مجھے کوئی چھوئے اور نہ میں کسی کو چھوؤں۔ روایات میں ہے کہ اس کے بعد اگر کوئی اس کو چھو لیتا تو دونوں کو بخار ہوجاتا۔ یہاں تک کہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بھی اس کا یہی حال تھا ۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْ کُلِّ سُوْئٍ وَّ فِتْنَۃ وَزَیْعٍ وَّضلالِ ۔ روایات میں وارد ہے کہ حضرت موسیٰ نے اس سے کہا کہ تو بنی اسرائیل کے علاقے سے نکل جا تو وہ وہاں سے نکل کر جنگلوں کی طرف چلا گیا۔ جہاں وہ جنگلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–98
دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا
تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
ہارون (علیہ السلام) نے فورا ان لوگوں کو اس کام سے باز رہنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا تم ایک بڑی آزمائش میں پھنس گئے ہو اور گمراہ ہو رہے ہو ، لوگو تمہارا معبود تو بہت بڑا رحم کرنے والا ہے جو اس نافرمانی پر بھی تمہیں کسی فوری عذاب میں مبتلا نہیں کر رہا ، لہذا توبہ کرو اور میری پیروی کرو اور میری یہ بات ضرور مان لو مگر وہ نہ مانے بلکہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ (علیہ السلام) واپس نہ آجائیں ہم تو اسی کی پوجا کرتے رہیں گے ، مفسرین کے مطابق بنی اسرائیل تین گروہوں میں بٹ گئے تھے ، ایک گروہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی پیروی پہ قائم رہا مگر ان کی تعداد کم تھی دوسرا گروہ بچھڑے…
Read the full tafseer →ف 12 یعنی یہی نہیں کہ زندگی بھر کے لئے تجھے اپنے معاشرے سے اچھوت بنا کر رکھ دیا گیا بلکہ تیری سزا یہ بھی ہے کہ تو خود لوگوں کو اپنے اچھوت ہونے سے آگاہ کرے اور جہاں سے گزرے یہ کہتا ہوا گزرے دیکھو میں اچھوت ہوں مجھے ہاتھ نہ لگانا۔ “ (از شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
(20:97) لا مساس۔ مصدر منصوب بوجہ عمل لا۔ باب مفاعلہ۔ نہ کوئی مجھے چھوئے نہ میں کسی کو چھوئوں ۔ یعنی باہم چھونا ہی نہ ہو۔ المس کے معنی چھونا کے ہیں اور یہ لمس کے ہم معنی ہے۔ لیکن گاہے لمس کے معنی کسی چیز کو تلاش کرنے کے بھی آتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل بھی جاوے۔ لیکن مس کا لفظ اس وقت استعمال ہوتا ہے مثلاً وان طلقتموھن من قبل ان تمسوہن (2: 237) اور اگر تم عورتوں کو ان سے مجامعت سے پہلے طلاق دے دو ۔ مس بمعنی چھونا۔ پہنچانا۔ اور حق ہونا کے معنی میں بھی آتا ہے۔
لن تخلفہ۔ مضارع منفی مجہول مؤکد بلن۔ واحد مذکر حاضر۔ ہُ ضمیر واحد مذکر غائب اس کا مرجع موعدا ہے۔ ترجمہ۔ تم سے اس کی بابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–98
لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 98
فتنتم تم آزمائش میں ڈالے گئے۔ لننبرح ہم ہرگز نہ کریں گے۔ عکفین جم کر بیٹھنے والے۔ عصیت تو نے نافرمانی کی۔ یا بنوم اے میری ماں کے بیٹے۔ لاحیۃ داڑھی۔ خشیت میں ڈر گیا۔ فرقت تو نے تفرقہ ڈال دیا۔ لڑا دیا۔ خطبک تیرا کہنا، تیرا حال۔ بصرت میں نے دیکھا۔ قبضت میں نے اٹھا لیا۔ اثر الرسول فرشتے کا قدم، فرشتے کا نشان قدم۔ سولت گھڑ لیا، پھسلا دیا۔ لامساس نہ چھونا، ہاتھ نہ لگانا۔ ظلت تو (بیٹھا) رہا۔ نحرقن ہم ضرور جلا ڈالیں گے۔ ننسفن ہم ضرور بکھیر دیں گے۔
تشریح :- آیت نمبر 90 تا 98
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر پہنچ گئے اس وقت بنی اسرائیل کے اکثر لوگوں نے سامری کے فریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح اس سورت میں پہلے لوگوں کے چند قصے بیان کئے گئے ہیں، اسی طرح قرآن میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا ذکر آیا ہے۔ تاکہ اہل کتاب ان قصوں کو اپنی کتابوں کے موافق پا کر اور مشرکین مکہ یہ غیب کی باتیں امی رسول ﷺ سے سن کر قرآن کو اللہ کا کلام ، اور جن پر یہ کلام اترا ہے ان کو اللہ کا سچا رسول جان لیں۔ پھر فرمایا ” ایسی سیدھی بات سمجھانے کے بعد بھی جو کوئی قرآن کو اللہ کا کلام نہ مانے گا، اور اس کی نصیحت کو قبول کرنے سے منہ پھیرے گا، تو قیامت کے دن ایسے گناہوں کے بوجھ کے نیچے یہ لوگ دبے ہوئے ہوں گے۔ جس بوجھ کی سزا میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے۔ پھر فرمایا :” قیامت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
[43] یعنی کوئی اس کے پاس نہ پھٹکے اور جو اس کے قریب جائے اسے وہ خود دور رہنے کی ہدایت کرے اور اس طرح اس دنیا میں بالکل ایک ذلیل، اچھوت اور وحشی جانور کی طرح زندگی گزارے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
(ف 1) سامری نے جو یہ قصہ سنایا ہے کہ میں نے جبریل (علیہ السلام) کے نقش قدم کو دیکھ لیا تھا ، اور ایک مٹھی مٹی وہاں سے اٹھالی تھی اور اس قالب میں ڈال دی تھی ، تاکہ اس میں آواز پیدا ہوجائے ، یا تقدیس آجائے ، یہ محض اس کا اپنا وہم تھا ، جیسا کہ اس نے خود تصریح کردی ہے کہ میرے نفس نے مجھے یونہی سمجھا دیا تھا ، ورنہ قرآن حکیم نے اس بات کی صراحت نہیں فرمائی کہ اس مٹی کی وجہ سے اس میں آواز پیدا ہوگئی تھی ، نہ قرآن میں یہ مذکور ہے کہ جبرئیل کے نقش پا میں یہ تاثیر ہے ۔
ابو مسلم اصفہانی نے ” بصرت “ کے معنی علم کے لئے ہیں ، اور فقبضت قبضۃ من اثر ال رسول “۔ کے معنے سنت موسیٰ کی پیروی کے قرار دیئے ہیں ،…
Read the full tafseer →-97 حضرت موسیٰ نے فرمایا چل جا دنیوی زندگی میں تیرا سزایہ ہے کہ تو لوگوں سے کہتا پھرے کہ کوئی مجھ کو ہاتھ نہ لگائے اور تیرے لئے ایک اور بھی وعدہ مقرر ہے جس کا تجھ سے ہرگز خلاف نہ کیا جائے گا اور تجھ سے وہ ٹلنے والا نہیں اور تو اپنے اس معبود کو دیکھ کر جس کی پرستش پر توجما بیٹھا تھا یقینا ہم اس کو جلا ڈالیں گے اور اس کے ذروں کو دریا میں بہا دیں گے۔ یعنی دنیا کی سزا یہ کہ کسی سے مس نہ ہو اور اچھوتوں کی طرح ہر ایک سے بچ کر چلے اور بھاگتا پھرے سوسائٹی میں کوئی درجہ نہ ہو اور آخرت میں عذاب کا وعدہ جس کا خلاف نہ ہوگا۔
رہا یہ معبود باطل تو اسکو ہم ابھی ختم کئے دیتے ہیں اس کو آگ میں جلا کر اس کی راکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–102
ف 9۔ تاکہ نام و نشان اس کا نہ رہے۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری کو یہ جواب دیا اور اس کو زندگی کی امان دے دی :
97۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری کی بات کو اچھی طرح سنا اور سمجھا اور جواب کے اندر سامری نے جو شرارت کی اس کو بھی اچھی طرح پہنچانا اور خوب غور کیا کہ سامری کو اس شرارت کے عوض قتل کردیا جائے جو بہرحال جائز اور صحیح ہے لیکن اس کے اثرات کیا ہوں گے ؟ اور اگر اس کو زندہ رکھ کر اس کی کھڑی کی گئی تحریک کو اس کی آنکھوں کے سامنے اس کو دکھا کر کچل دیا جائے تو اس سے کیا ہوگا ۔ غور وفکر کے بعد اس کو کہا کہ اچھا اب تیرے لئے دنیا میں تو یہ سزا ہے کہ تو پاگلوں کی طرح مارا مارا پھرے اور جب کوئی انسان تیرے قریب آئے تو تو خود اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
لَكَ فِي الْحَيَاةِ أَن تَقُولَ لَا مِسَاسَ
For your fate in this life is to say: 'Do not touch me'.- 20:97
The punishment proposed by Sayyidna Musa (علیہ السلام) for Samiri in this world was that everyone should sever all contacts with him and not to come near him, and he too was commanded not to touch anyone. Thus he was condemned to spend the rest of his life away from all social contacts - like a wild animal. Whether this punishment was awarded to him by Sayyidna Musa (علیہ السلام) by means of a law which was binding on Samiri as well as on the Bani Isra'il, or whether Samiri was smitten…
Read the full tafseer →74. The words show that he was not only made an outcast for life but was made to inform the people himself that he was an outcast, as given in Leviticus:
And the leper in whom the plague is, his clothes shall be rent, and his head bare, and he shall put a covering upon his upper lip, and shall cry, unclean, unclean. All the days wherein the plague shall be in him he shall be defiled; he is unclean: he shall dwell alone; without the camp shall his habitation be. (13: 45-46).
We conclude from this that either he was inflicted with leprosy as a scourge by Allah or the punishment inflicted on him…
Read the full tafseer →