Ayah 20:1سورة طہٰ
سورة طہ مکہ میں نازل ہوئی اور اس کی ایک سو پینتیس آیتیں ہیں اور آٹھ رکوع
اس سورت کا دوسرا نام سورة کلیم بھی ہے (کما ذکر السخاوی) وجہ یہ ہے کہ اس میں حضرت کلیم اللہ موسیٰ ؑ کا واقعہ مفصل مذکور ہے۔
مسند دارمی میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کرنے سے بھی دو ہزار سال پہلے سورة طہٰ و یٰسن پڑھی (یعنی فرشتوں کو سنائی) تو فرشتوں نے کہا کہ بڑی خوش نصیب اور مبارک ہے وہ امت جس پر یہ سورتیں نازل ہوں گی اور مبارک ہیں وہ سینے جو ان کو حفظ رکھیں گے اور مبارک ہیں وہ زبانیں جو ان کو پڑھیں گی، یہی وہ مبارک سورت ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے قتل کا تہیہ کر کے نکلنے والے عمر بن خطاب کو ایمان قبول کرنے اور آنحضرت ﷺ کے قدموں میں گرنے پر مجبور کردیا جس کا واقعہ کتب سیرت میں معروف و مشہور ہے۔
ابن اسحٰق کی روایت اس طرح ہے کہ عمر بن خطاب ایک روز تلوار لے کر آنحضرت ﷺ کے قتل کے ارادے سے گھر سے نکلے۔ راستہ میں نعیم بن عبداللہ مل گئے، پوچھا کہاں کا ارادہ ہے عمر بن خطاب نے کہا کہ میں اس گمراہ شخص کا کام تمام کرنے کے لئے جا رہا ہوں جس نے قریش میں تفرقہ ڈال دیا، ان کے دین و مذہب کو برا کہا ان کو بیوقوف بنایا اور ان کے بتوں کو برا کہا۔ نعیم نے کہا کہ عمر تمہیں تمہارے نفس نے دھوکہ میں مبتلا کر رکھا ہے کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ محمد ﷺ کو قتل کردو گے اور ان کا قبیلہ بنو عبد مناف تمہیں زندہ چھوڑے گا کہ زمین پر چلتے پھرتے رہو۔ اگر تم میں عقل ہے تو اپنی بہن اور بہنوئی کی خبر لو کہ وہ مسلمان اور محمد ﷺ کے دین کے تابع ہوچکے ہیں، عمر بن خطاب پر ان کی بات اثر کرگئی اور یہیں سے اپنی بہن بہنوئی کے مکان کی طرف پھرگئے۔ ان کے مکان میں حضرت خباب بن ارت صحابی ان دونوں کو قرآن کی سورت طٰہٰ پڑھا رہے تھے جو ایک صحیفہ میں لکھی ہوئی تھی۔
ان لوگوں نے جب محسوس کیا کہ عمر بن خطاب آرہے ہیں تو حضرت خباب گھر کے کسی کمرہ یا گوشہ میں چھپ گئے اور ہمشیرہ نے یہ صحیفہ اپنی ران کے نیچے چھپا لیا مگر عمر بن خطاب کے کانوں میں خباب بن ارت کی اور ان کے کچھ پڑھنے کی آواز پہنچ چکی تھی اس لئے پوچھا کہ یہ پڑھنے پڑھانے کی آواز کیسی تھی جو میں نے سنی ہے ؟ انہوں نے (اول بات کو ٹالنے کے لئے) کہا کہ کچھ نہیں، مگر اب عمر بن خطاب نے بات کھود لی کہ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ تم دونوں محمد ﷺ کے تابع اور مسلمان ہوگئے ہو اور یہ کہہ کر اپنے بہنوئی سعید بن زید پر ٹوٹ پڑے۔ ان کی ہمشیرہ فاطمہ نے جب دیکھا تو شوہر کو بچانے کے لئے کھڑی ہوگئیں۔ عمر بن خطاب نے ان کو بھی مار کر زخمی کردیا۔
جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو بہن بہنوئی دونوں نے بیک زبان کہا کہ سن لو ہم بلا شبہ مسلمان ہوچکے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے ہیں اب جو تم کرسکتے ہو کرلو ہمشیرہ کے زخم سے خون جاری تھا اس کیفیت کو دیکھ کر عمر بن خطاب کو کچھ ندامت ہوئی اور بہن سے کہا کہ وہ صحیفہ مجھے دکھلاؤ جو تم پڑھ رہی تھیں تاکہ میں بھی دیکھوں محمد ﷺ کیا تعلیم لائے ہیں۔ عمر بن خطاب لکھے پڑھے آدمی تھے اس لئے صحیفہ دیکھنے کے لئے مانگا۔ بہن نے کہا کہ ہمیں خطرہ ہے کہ ہم نے یہ صحیفہ اگر تمہیں دے دیا تو تم اس کو ضائع کردو یا بےادبی کرو۔ عمر بن خطاب نے اپنے بتوں کی قسم کھا کر کہا کہ تم یہ خوف نہ کرو میں اس کو پڑھ کر تمہیں واپس کردوں گا۔ ہمشیرہ فاطمہ نے جب یہ رخ دیکھا تو ان کو کچھ امید ہوگئی کہ شاید عمر بھی مسلمان ہوجائیں۔ اس وقت کہا کہ بھائی بات یہ ہے کہ تم نجس ناپاک ہو اور اس صحیفہ کو پاک آدمی کے سوا کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا اگر تم دیکھنا ہی چاہتے ہو تو غسل کرلو۔ عمر نے غسل کرلیا پھر صحیفہ ان کے حوالہ کیا گیا تو اس میں سورة طٰہٰ لکھی ہوئی تھی اس کا شروع حصہ ہی پڑھ کر عمر نے کہا کہ یہ کلام تو بڑا اچھا اور نہایت محترم ہے۔ خباب بن ارت جو مکان میں چھپے ہوئے یہ سب کچھ سن رہے تھے عمر کے یہ الفاظ سنتے ہی سامنے آگئے اور کہا کہ اے عمر بن خطاب مجھے اللہ کی رحمت سے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے رسول کی دعا کے لئے منتخب فرما لیا ہے کیونکہ گزشتہ کل میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے کہ اللھم اید الاسلام بابی الحکم بن ہشام اور بعمر بن الخطاب، یا اللہ اسلام کی تائید وتقویت فرما ابوالحکم بن ہشام (یعنی ابو جہل) کے ذریعہ یا پھر عمر بن خطاب کے ذریعہ۔ مطلب یہ تھا کہ ان دونوں میں سے کوئی مسلمان ہوجائے تو مسلمانوں کی کمزور جماعت میں جان پڑجائے۔ پھر خباب نے کہا کہ اے عمر اب تو اس موقع کو غنیمت سمجھ، عمر بن خطاب نے خباب سے کہا کہ مجھے محمد ﷺ کے پاس لے چلو (قرطبی) آگے ان کا حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا اور اسلام قبول کرنا مشہور و معروف واقعہ ہے۔
خلاصہ تفسیر
طٰہٰ (کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) ہم نے آپ پر قرآن (مجید) اس لئے نہیں اتارا کہ آپ تکلیف اٹھائیں بلکہ ایسے شخص کی نصیحت کے لئے (اتارا ہے) جو (اللہ سے) ڈرتا ہو یہ اس (ذات) کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے (اور) وہ بڑی رحمت والا عرش پر (جو مشابہ ہے تخت سلطنت کے اس طرح) قائم (اور جلوہ فرما) ہے (جو کہ اس کی شان کے لائق ہے اور وہ ایسا ہے کہ) اسی کی ملک ہیں جو چیزیں آسمانوں میں اور جو چیزیں زمین میں ہیں اور جو چیزیں ان دونوں کے درمیان میں ہیں (یعنی آسمان سے نیچے اور زمین سے اوپر) اور جو چیزیں تحت الثریٰ میں ہیں (یعنی زمین کے اندر جو تر مٹی ہے جس کو ثریٰ کہتے ہیں جو چیز کہ اس کے نیچے ہے، مراد یہ کہ زمین کی تہہ میں جو چیزیں ہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کی قدرت و سلطنت تھی) اور (علم کی یہ شان ہے کہ) اگر تم (اے مخاطب) پکار کر بات کہو تو (اس کے سننے میں تو کیا شبہ ہے) وہ تو (ایسا ہے کہ) چپکے سے کہی بات کو اور (بلکہ) اس کے سوا کوئی معبود ہونے کا مستحق نہیں اس کے (بڑے) اچھے اچھے نام ہیں (جو اوصاف و کمالات پر دلالت کرتے ہیں سو قرآن ایسی ذات جامع الصفات کا نازل کیا ہوا ہے اور یقینی حق ہے)۔
معارف و مسائل
طٰہ، اس لفظ کی تفسیر میں علماء تفسیر کے اقوال بہت ہیں۔ حضرت ابن عباس سے اس کے معنی یا رجل اور ابن عمر سے یا حبیبی منقول ہیں، بعض روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ طٰہ اور یٰسٓ آنحضرت ﷺ کے اسماء گرامی میں سے ہیں اور بےغبار بات وہ ہے جو حضرت صدیق اکبر اور جمہور علماء نے فرمائی کہ جس طرح قرآن کی بہت سی سورتوں کے ابتداء میں آئے ہوئے حروف مقطعہ مثلاً الٓمّٓ وغیرہ متشابہات یعنی اسرار میں سے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا لفظ طٰہ بھی اسی میں داخل ہے۔
Ayah 20:2مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓي، لتشقیٰ ، شقاء سے مشتق ہے جس کے معنی تعب اور مشقت و تکلیف کے ہیں۔ نزول قرآن کی ابتداء میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام تمام رات عبادت کے لئے کھڑے رہتے اور نماز تہجد میں تلاوت قرآن میں مشغول رہتے تھے یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کے قدمین مبارک پر ورم آ گیا اور دن بھر اس کی فکر میں رہتے تھے کہ کسی طرح کفار کو ہدایت ہو وہ قرآن کی دعوت کو قبول کرلیں۔ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو ان دونوں قسم کی مشقت سے بچانے کے لئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ پر قرآن اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت اور تکلیف میں پڑجائیں، تمام رات جاگنے اور تلاوت قرآن میں مشغول رہنے کی ضرورت نہیں۔ چناچہ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ کا معمول یہ بن گیا کہ شروع رات میں آرام فرماتے تھے اور آخر شب میں بیدار ہو کر تہجد ادا فرماتے تھے۔
اسی طرح اس آیت میں اس کی طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ آپ کا فرض صرف تبلیغ و دعوت کا ہے جب آپ نے یہ کام کرلیا تو پھر اس کی فکر آپ کے ذمہ نہیں کہ کون ایمان لایا اور کس نے دعوت کو قبول نہیں کیا۔ (تلخیص از قرطبی)
Ayahs 20:3–4اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى، ابن کثیر نے فرمایا کہ نزول قرآن کی ابتداء میں ساری رات تہجد و تلاوت میں مشغول رہنے سے بعض کفار نے مسلمانوں پر یہ آوازے کسے کہ ان لوگوں پر قرآن کیا نازل ہوا ایک مصیبت نازل ہوگئی نہ رات کا آرام نہ دن کا چین۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے اشارہ فرمایا کہ یہ جاہل بدنصیب حقائق سے بیخبر کیا جانیں کہ قرآن اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا علم خیر ہی خیر اور سعادت ہی سعادت ہے اس کو مصیبت سمجھنے والے بیخبر اور احمق ہیں۔ صحیحین کی حدیث میں بروایت معاویہ آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا من یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین، یعنی اللہ تعالیٰ جس شخص کی بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اس کو دین کا علم اور سمجھ بوجھ عطا فرما دیتے ہیں۔
اس جگہ امام ابن کثیر نے ایک صحیح حدیث دوسری بھی نقل فرمائی ہے جو علماء کیلئے بڑی بشارت ہے یہ حدیث طبرانی نے حضرت ثعلبہ بن الحکم سے روایت کی ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ اسناد اس کی جید ہے۔ حدیث یہ ہے۔
قال رسول اللہ ﷺ یقول اللہ تعالیٰ للعلماء یوم القیامة اذا قعد علی کرسیہ لقضاء عبادہ انی لم اجعل علمی وحکمتی فیکم الا وانا ارید ان اغفر لکم علی ما کان منکم ولا ابالی (ابن کثیر ص 141 ج 3)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال کا فیصلہ کرنے کے لئے اپنی کرسی پر تشریف فرما ہوں گے تو علماء سے فرما دیں گے کہ میں نے اپنا علم و حکمت تمہارے سینوں میں صرف اسی لئے رکھا تھا کہ میں تمہاری مغفرت کرنا چاہتا ہوں باوجود ان خطاؤں کے جو تم سے سرزد ہوئیں اور مجھے کوئی پروا نہیں۔
مگر یہ ظاہر ہے کہ یہاں علماء سے مراد وہی علماء ہیں جن میں علم کی قرآنی علامت خشیت اللہ موجود ہو اس آیت میں لفظ لّمَنْ يَّخْشٰى اسی طرح اشارہ کرتا ہے جن میں یہ علامت نہ ہو وہ اس کے مستحق نہیں۔ واللہ اعلم
Ayah 20:5عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى، استواء علی العرش کے متعلق صحیح بےغبار وہی بات ہے جو جمہور سلف صالحین سے منقول ہے کہ اس کی حقیقت و کیفیت کسی کو معلوم نہیں۔ متشابہات میں سے ہے۔ عقیدہ اتنا رکھنا ہے کہ استواء علی العرش حق ہے اس کی کیفیت اللہ جل شانہ کی شان کے مطابق و مناسب ہوگی جس کا ادراک دنیا میں کسی کو نہیں ہو سکتا۔
Ayah 20:6وَمَا تَحْتَ الثَّرٰى، ثریٰ ، نمناک گیلی مٹی کو کہتے ہیں جو زمین کھودنے کے وقت نکلتی ہے مخلوقات کا علم تو صرف ثریٰ تک ختم ہوجاتا ہے، آگے اس ثریٰ کے نیچے کیا ہے اس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں، اس نئی تحقیق و ریسرچ اور نئے نئے آلات اور سائنس کی انتہائی ترقی کے باوجود اب سے چند سال پہلے زمین کو برما کر ایک طرف سے دوسری طرف نکل جانے کی کوشش سے مدتوں تک جاری رہی۔ ان سب تحقیقات اور انتھک کوششوں کا نتیجہ اخبارات میں سب کے سامنے آ چکا ہے کہ صرف چھ میل کی گہرائی تک یہ آلات جدیدہ کام کرسکے، آگے ایک ایسا غلاف حجری ثابت ہوا جہاں کھودنے کے سارے آلات اور سائنس جدید کے سب افکار عاجز ہوگئے یہ صرف چھ میل تک کا علم انسان حاصل کرسکا ہے جبکہ زمین کا قطر ہزاروں میل کا ہے اس لئے اس اقرار کے سوا چارہ نہیں کہ ماتحت الثریٰ کا علم حق تعالیٰ ہی کی مخصوص صفت ہے۔
Ayahs 20:7–8يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰي، سِر سے مراد وہ چیز ہے جو انسان نے اپنے دل میں چھپائی ہوئی ہے کسی پر ظاہر نہیں اور اخفیٰ سے مراد وہ بات ہے جو ابھی تک تمہارے دل میں بھی نہیں آئی آئندہ کسی وقت دل میں آوے گی حق تعالیٰ ان سب چیزوں سے واقف و باخبر ہیں کہ اس وقت کسی انسان کے دل میں کیا ہے اور کل کو کیا ہوگا۔ کل کا معاملہ ایسا ہے کہ خود اس شخص کو بھی آج اس کی خبر نہیں کہ کل کو میرے دل میں کیا بات آوے گی۔ (قرطبی)
Ayahs 20:9–10خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام کے قصہ) کی خبر پہنچی ہے (یعنی وہ سننے کے قابل ہے کہ اس میں توحید و نبوت کے متعلق علوم ہیں جن کی تبلیغ نافع ہوگی وہ قصہ یہ ہے کہ) جب کہ انہوں نے (مدین سے آتے ہوئے ایک رات جس میں سردی بھی تھی اور رستہ بھی بھول گئے تھے کوہ طور پر) ایک آگ دیکھی (کہ واقع میں وہ نور تھا مگر شکل آگ کی سی تھی) سو اپنے گھر والوں سے (جو صرف بی بی تھی یا خادم وغیرہ بھی) فرمایا کہ تم (یہاں ہی) ٹہرے رہو (یعنی میرے پیچھے پیچھے مت آنا کیونکہ یہ تو احتمال ہی نہ تھا کہ بدون ان کے آگے سفر کرنے لگیں گے) میں نے ایک آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید میں اس میں سے تمہارے پاس کوئی شعلہ (کسی لکڑی وغیرہ میں لگا کر) لاؤں (تاکہ سردی کا علاج ہو) یا (وہاں) آگ کے پاس رستہ کا پتہ (جاننے والا کوئی آدمی بھی) مجھ کو مل جاوے سو وہ جب اس (آگ) کے پاس پہنچے تو (ان کو منجانب اللہ) آواز دی گئی کہ اے موسیٰ میں تمہارا رب ہوں، پس تم اپنی جوتیاں اتار ڈالو، (کیونکہ) تم ایک پاک میدان یعنی طویٰ میں ہو (یہ اس میدان کا نام ہے) اور میں نے تم کو (نبی بنانے کے لئے منجملہ دیگر خلائق کے) منتخب فرمایا ہے سو (اس وقت) جو کچھ وحی کی جارہی ہے اس کو غور سے سن لو (وہ یہ ہے کہ) میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود (ہونے کے لائق) نہیں، تو تم میری ہی عبادت کیا کرو اور میری ہی یاد کے لئے نماز پڑھا کرو (دوسری بات یہ سنو کہ) بلاشبہ قیامت آنے والی ہے میں اس کو (تمام خلائق سے) پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں (اور قیامت اس لئے آوے گی تاکہ ہر شخص باز نہ رکھنے پاوے جو اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی (نفسانی) خواہشوں پر چلتا ہے (یعنی تم ایسے شخص کے اثر سے قیامت کے لئے تیاری کرنے سے بےفکر نہ ہوجانا) کہیں تم (اس بےفکری کی وجہ سے) تباہ نہ ہوجاؤ۔
معارف و مسائل
وَهَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى، سابقہ آیات میں قرآن کریم کی عظمت اور اس کے ضمن میں تعظیم رسول کا بیان ہوا تھا اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ اس مناسبت سے ذکر کیا گیا کہ منصب رسالت و دعوت کی ادائیگی میں جو مشکلات اور تکلیفیں پیش آیا کرتی ہیں اور انبیاء سابقین نے ان کو برداشت کیا ہے وہ آنحضرت ﷺ کے علم میں آجائیں تاکہ آپ اس کے لئے پہلے سے مستعد اور تیار ہو کر ثابت قدم رہیں جیسا کہ ایک آیت میں ارشاد ہے (آیت) وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤ َادَكَ ، یعنی رسولوں کے یہ سب قصے ہم آپ سے اس لئے بیان کرتے ہیں تاکہ آپ کا قلب مضبوط ہوجائے اور منصب نبوت کا بار اٹھانے کے لئے تیار ہوجائے۔
اور موسیٰ ؑ کا یہ قصہ جو یہاں مذکور ہے اس کی ابتداء یوں ہوئی کہ جب وہ مدین پہنچ کر حضرت شعیب ؑ کے مکان پر اس معاہدہ کے ساتھ مقیم ہوگئے کہ آٹھ یا دس سال تک ان کی خدمت کریں گے اور انہوں نے تفسیر بحر محیط وغیرہ کی روایت کے مطابق ابعد الاجلین یعنی دس سال پورے کر لئے تو شعیب ؑ سے رخصت چاہی کہ میں اب اپنی والدہ اور بہن سے ملنے کے لئے مصر جاتا ہوں اور جس خطرہ کی وجہ سے مصر چھوڑا تھا کہ فرعونی سپاہی ان کی گرفتاری اور قتل کے درپے تھے عرصہ دراز گزر جانے کے بعد اب وہ خطرہ بھی باقی نہ رہا تھا۔ شعیب ؑ نے ان کو مع اہلیہ یعنی اپنی صاحبزادی کے کچھ مال اور سامان دے کر رخصت فرما دیا راستہ میں ملک شام کے بادشاہوں سے خطرہ تھا اس لئے عام راستہ چھوڑ کر غیر معروف راستہ اختیار کیا۔ موسم سردی کا تھا اور اہلیہ محترمہ حاملہ قریب الولادت تھیں کہ صبح شام میں ولادت کا احتمال تھا۔ غیر معروف راستہ اور جنگل میں راستہ سے ہٹ کر طور پہاڑ کی مغربی اور داہنی سمت میں جا نکلے، رات اندھیری سردی برفانی تھی اسی حال میں اہلیہ کو درد زہ شروع ہوگیا۔ موسیٰ ؑ نے سردی سے حفاظت کے لئے آگ جلانا چاہا۔ اس زمانے میں دیا سلائی (ماچس) کے بجائے چقماق پتھر استعمال کیا جاتا تھا جس کو مارنے سے آگ پیدا ہوجاتی تھی اس کو استعمال کیا مگر اس سے آگ نہ نکلی۔ اسی حیرانی و پریشانی کے عالم میں کوہ طور پر آگ نظر آئی جو درحقیقت نور تھا تو گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے وہاں جاتا ہوں تاکہ تمہارے لئے آگ لاؤں اور ممکن ہے کہ آگ کے پاس کوئی راستہ جاننے والا مل جائے تو راستہ بھی معلوم کرلوں۔ گھر والوں میں اہلیہ محترمہ کا ہونا تو متعین ہے بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی خادم بھی ساتھ تھا۔ وہ بھی اس خطاب میں داخل ہے بعض روایات میں ہے کہ کچھ لوگ رفیق سفر بھی ساتھ تھے مگر راستہ بھولنے میں یہ ان سے جدا ہوگئے تھے۔ (بحر محیط)
Ayah 20:11فَلَمَّآ اَتٰىهَا، یعنی جو آگ دور سے دیکھی جب اس کے پاس پہنچے۔ مسند احمد وغیرہ میں وہب بن منبہ کی روایت ہے کہ موسیٰ ؑ اس آگ کی طرف چلے اور اس کے قریب پہنچے تو ایک عجیب حیرت انگیز منظر دیکھا کہ ایک بڑی آگ ہے جو ایک ہرے بھرے درخت کے اوپر شعلے مار رہی ہے مگر حیرت یہ ہے کہ اس درخت کی کوئی شاخ یا پتہ جلتا نہیں بلکہ آگ نے درخت کے حسن اور تروتازگی اور رونق میں اور زیادتی کردی ہے۔ یہ حیرت انگیز منظر کچھ دیر تک اس انتظار میں دیکھتے رہے کہ شاید کوئی چنگاری آگ کی زمین پر گرے تو یہ اٹھالیں۔ جب دیر تک ایسا نہ ہوا تو موسیٰ ؑ نے گھاس وغیرہ کے کچھ تنکے جمع کر کے اس آگ کے قریب کیا کہ ان میں آگ لگ جائے گی تو ان کا کام ہوجائے گا مگر جب گھانس پھونس آگ کے قریب کئے تو آگ پیچھے ہٹ گئی، اور بعض روایات میں ہے کہ آگ ان کی طرف بڑھی یہ گھبرا کر پیچھے ہٹ گئے، بہرحال آگ حاصل کرنے کا مطلب پورا نہ ہوا۔ یہ عجیب و غریب آگ سے حیرت کے عالم میں تھے کہ ایک غیبی آواز آئی (روح) یہ واقعہ موسیٰ ؑ کو پہاڑ کے دامن میں پیش آیا جو ان کی داہنی جانب تھا اور جس کا نام طویٰ تھا۔
Ayah 20:12نُوْدِيَ يٰمُوْسٰى، اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ، بحر محیط، روح المعانی وغیرہ میں ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے یہ آواز اس طرح سنی کہ ہر جانب سے یکساں آرہی تھی اس کی کوئی جہت متعین نہیں تھی اور سننا بھی ایک عجیب انداز سے ہوا کہ صرف کانوں سے نہیں بلکہ تمام اعضاء بدن سے سنا گیا جو ایک معجزہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ آواز کا حاصل یہ تھا کہ جس چیز کو آپ آگ سمجھ رہے ہیں وہ آگ نہیں اللہ تعالیٰ کی ایک تجلی ہے اور اس میں فرمایا کہ میں ہی آپ کا رب ہوں۔ حضرت موسیٰ ؑ کو اس آواز کے متعلق یہ یقین کس طرح ہوا کہ حق تعالیٰ ہی کی آواز ہے ؟ اس کا اصل جواب تو یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے ان کے قلب کو اس پر مطمئن کردیا کہ وہ یقین کرلیں کہ یہ آواز حق تعالیٰ ہی کی ہے دوسرے اس آگ کے حیرت انگیز حالات کہ درخت کو جلانے کے بجائے اس کی تازگی اور حسن بڑھا رہی ہے اور آواز بھی عام لوگوں گی آواز کی طرح نہیں کہ ایک سمت سے آئے بلکہ ہر طرف سے یہ آواز یکساں سنی گئ، دوسرے صرف کانوں نے نہیں بلکہ ہاتھ پاؤں اور دوسرے اعضاء جو سننے کیلئے وضع نہیں ہوئے سب اس کی سماعت میں شریک تھے اس سے بھی سمجھا گیا کہ حق تعالیٰ کی طرف سے یہ آواز ہے۔
حضرت موسیٰ ؑ نے حق تعالیٰ کا کلام لفظی بلا واسطہ سنا
روح المعانی میں بحوالہ مسند احمد وہب کی روایت ہے کہ موسیٰ ؑ کو جب نداء یا موسیٰ کے لفظ سے دی گئی تو انہوں نے لبیک کہہ کر جواب دیا اور عرض کیا کہ میں آواز سن رہا ہوں مگر آواز دینے والے کی جگہ معلوم نہیں، آپ کہاں ہیں تو جواب آیا کہ میں تیرے اوپر، سامنے، پیچھے اور تیرے ساتھ ہوں۔ پھر عرض کیا کہ میں یہ کلام خود آپ کا سن رہا ہوں یا آپ کے بھیجے ہوئے کسی فرشتہ کا ؟ تو جواب آیا کہ میں خود ہی آپ سے کلام کر رہا ہوں۔ اس پر صاحب روح فرماتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ موسیٰ ؑ نے یہ کلام لفظی بلا واسطہ فرشتہ کے خود سنا ہے جیسا کہ اہل سنت والجماعت میں سے ایک جماعت کا مسلک یہی ہے کہ کلام لفظی بھی قدیم ہونے کے باوجود سنا جاسکتا ہے اس پر جو شبہ حدوث کا کیا جاتا ہے اس کا جواب ان کی طرف سے یہ ہے کہ کلام لفظی اس وقت حادث ہوتا ہے جبکہ وہ مادی زبان سے ادا کیا جائے جس کے لئے جسم، سمت، جہت شرط ہے، نیز سننے کیلئے صرف کان مخصوص ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے جس طرح سنا کہ نہ آواز کی کوئی جہت و سمت تھی اور نہ سننے کے لئے صرف کان مخصوص تھے سارے اعضاء سن رہے تھے، ظاہر ہے یہ صورت احتمال حدوث سے پاک ہے۔ واللہ اعلم
مقام ادب میں جوتے اتار دینا ادب کا مقتضا ہے
فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ، جوتے اتارنے کا حکم یا تو اس لئے دیا گیا کہ مقام ادب ہے اور جوتا اتار کر ننگے پاؤں ہوجانا مقتضائے ادب ہے اور یا اس لئے کہ جوتے مردار کی کھال کے بنے ہوئے تھے جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔ حضرت علی اور حسن بصری اور ابن جریج سے وجہ اول ہی منقول ہے اور جوتا اتارنے کی مصلحت یہ بتلائی تاکہ آپ کے قدم اس مبارک وادی کی مٹی سے لگ کر اس کی برکت حاصل کریں اور بعض نے فرمایا کہ یہ حکم خشوع اور تواضع کی صورت بنانے کے لئے ہوا جیسا کہ سلف صالحین طواف بیت اللہ کے وقت ایسا ہی کرتے تھے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بشیر بن خصاصیہ کو قبروں کے درمیان جوتے پہن کر چلتے دیکھا تو فرمایا اذا کنت فی مثل ھذا المکان فاخلع نعلیک یعنی جب تم اس جیسے مکان سے گزرو (جس کا احترام مقصود ہے) تو اپنے جوتے اتار لو۔
جوتے اگر پاک ہوں تو ان میں نماز درست ہوجانے پر سب فقہاء کا اتفاق ہے، اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام سے پاک جوتے پہن کر نماز پڑھنا صحیح روایات سے ثابت بھی ہے مگر عام عادت و سنت یہی معلوم ہوتی ہے کہ جوتے اتار کر نماز پڑھی جاتی تھی کہ وہ اقرب الی التواضع ہے۔ (قرطبی)
اِنَّكَ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى، حق تعالیٰ نے زمین کے خاص خاص حصوں کو اپنی حکمت سے خاص امتیاز اور شرف بخشا ہے جیسے بیت اللہ مسجد اقصیٰ ، مسجد نبوی اسی طرح وادی طویٰ بھی انہی مقامات مقدسہ میں ہے جو کوہ طور کے دامن میں ہے (قرطبی)
Ayah 20:13قرآن سننے کا ادب
فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوْحٰى، حضرت وہب بن منبہ سے منقول ہے کہ قرآن سننے کے ادب میں سے یہ ہے کہ انسان اپنے تمام اعضاء کو فضول حرکت سے روکے کہ کسی دوسرے شغل میں کوئی عضو بھی نہ لگے اور نظر نیچی رکھے اور کلام سمجھنے کی طرف دھیان لگائے اور جو شخص اس ادب کے ساتھ کوئی کلام سنتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے سمجھنے کی بھی توفیق دے دیتے ہیں۔ (قرطبی)
Ayah 20:14اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدْنِيْ ۙ وَاَ قِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ ، اس کلام میں حضرت موسیٰ ؑ کو دین کے تمام اصول کی تعلیم دے دی گئی یعنی توحید، رسالت، آخرت، فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوْحٰى میں رسالت کی طرف اشارہ ہے اور فاعْبُدْنِيْ کے معنی یہ ہیں کہ صرف میری عبادت کریں، میرے سوا کسی کی عبادت نہ کریں یہ مضمون توحید کا ہوگیا آگے اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ میں آخرت کا بیان ہے۔ فَاعْبُدْنِيْ کے حکم میں اگرچہ نماز کا حکم بھی داخل ہے لیکن اس کو جداگانہ اس لئے بیان فرما دیا کہ نماز تمام عبادات میں افضل و اعلیٰ بھی ہے اور حدیث کی تصریح کے مطابق دین کا عمود اور ایمان کا نور ہے اور ترک نماز کافروں کی علامت ہے۔
وَاَ قِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ کا مطلب یہ ہے کہ نماز کی روح ذکر اللہ ہے اور نماز اول سے آخر تک ذکر ہی ذکر ہے زبان سے بھی دل سے بھی اور دوسرے اعضاء سے بھی اس لئے نماز میں ذکر اللہ سے غفلت نہ ہونی چاہیے اور اس کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ اگر کوئی شخص نیند میں مغلوب ہوگیا یا کسی کام میں لگ کر بھول گیا اور نماز کا وقت نکل گیا تو جب نیند سے بیدار ہو یا بھول پر تنبہ ہو اور نماز یاد آئے اسی وقت نماز کی قضاء پڑھ لے جیسا کہ بعض روایات حدیث میں آیا ہے۔
Ayah 20:15اَكَادُ اُخْفِيْهَا، یعنی قیامت کے معاملہ کو میں تمام مخلوقات سے مخفی رکھنا چاہتا ہوں یہاں تک کہ انبیاء اور فرشتوں سے بھی اور اکاد سے اس طرف اشارہ ہے کہ اگر لوگوں کو قیامت و آخرت کی فکر دلا کر ایمان و علم صالح پر ابھارنا مقصود نہ ہوتا تو اتنی بات بھی ظاہر نہ کی جاتی کہ قیامت آنے والی ہے جیسا کہ اوپر آیت میں آیا ہے اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ، مقصود اس سے اخفائے قیامت میں مبالغہ کرنا ہے۔
لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا تَسْعٰي (تاکہ جزاء دیا جائے ہر نفس اپنے عمل کی) اس جملہ کا تعلق اگر لفظ اتیة سے ہے تو معنی ظاہر ہیں کہ قیامت کے آنے کی حکمت و مصلحت یہ ہے کہ دنیا تو دار الجزاء نہیں یہاں نیک و بد عمل کی جزاء کسی کو نہیں ملتی، اور اگر کبھی دنیا میں کچھ جزاء مل بھی جاتی ہے تو وہ عمل کی پوری جزاء نہیں ہوتی ایک نمونہ سا ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ کوئی ایسا وقت آئے جہاں ہر نیک و بد عمل کی جزاء و سزا پوری دی جائے۔
اور اگر جملہ کا تعلق اَكَادُ اُخْفِيْهَا سے قرار دیا جائے تو یہ بھی ممکن ہے اور معنے یہ ہوں گے کہ قیامت اور موت کے وقت اور تاریخ کو مخفی رکھنے میں حکمت یہ ہے کہ لوگ اپنے اپنے عمل اور سعی میں لگے رہیں اپنی شخصی قیامت یعنی موت اور پورے عالم کی قیامت یعنی حشر کے دن کو دور سمجھ کر غافل نہ ہو بیٹھیں۔ (روح)
Ayah 20:16فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا، اس میں حضرت موسیٰ ؑ کو خطاب کر کے تنبیہ کی گئی ہے کہ ایسا نہ ہونا چاہیے کہ آپ کافروں اور بےایمانوں کے کہنے سے قیامت کے معاملے میں غفلت برتنے لگیں اور وہ آپ کی ہلاکت کا سبب بن جائے، ظاہر ہے کہ کسی نبی و رسول سے جو معصوم ہے یہ غفلت نہیں ہو سکتی اس کے باوجود ایسا خطاب کرنا دراصل ان کی امت اور عام مخلوق کو سنانا ہے کہ جب اللہ کے پیغمبروں کو بھی ایسی تاکید کی جاتی ہے تو ہمیں اس کا کتنا اہتمام کرنا چاہیے۔
Ayah 20:17خلاصہ تفسیر
اور (حق تعالیٰ نے موسیٰ ؑ سے یہ بھی فرمایا کہ) یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا چیز ہے اے موسیٰ ! انہوں نے کہا کہ یہ میری لاٹھی ہے میں (کبھی) اس پر سہارا لگاتا ہوں اور (کبھی) اس سے اپنی بکریوں پر (درختوں کے) پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے اور بھی کام (نکلتے) ہیں (مثلاً کندھے پر رکھ کر اسباب وغیرہ لٹکا لینا یا اس سے موذی جانوروں کو دفع کرنا وغیرہ وغیرہ) ارشاد ہوا کہ اس (عصا) کو (زمین پر) ڈال دو اے موسیٰ سو انہوں نے اس کو (زمین پر) ڈال دیا تو یکایک وہ (خدا کی قدرت سے) ایک دوڑتا ہوا سانپ بن گیا (جس سے موسیٰ ؑ ڈر گئے) ارشاد ہوا کہ اس کو پکڑ لو اور ڈرو نہیں ہم ابھی (پکڑتے ہیں) اس کو اس کی پہلی حالت پر کردیں گے (یعنی یہ پھر عصا بن جاوے گا اور تم کو کوئی گزند نہ پہنچے گا، ایک معجزہ تو یہ ہوا) اور (دوسرا معجزہ اور دیا جاتا ہے کہ) تم اپنا (داہنا) ہاتھ اپنی (بائیں) بغل میں دے لو (پھر نکالو) وہ بلا کسی عیب (یعنی بلا کسی مرض برص وغیرہ) کے (نہایت) روشن ہو کر نکلے گا کہ یہ دوسری نشانی (ہماری قدرت اور تمہاری نبوت کی) ہوگی (اور یہ حکم لاٹھی کے ڈال دینے اور ہاتھ کو گریبان میں دینے کا اس لئے ہے) تاکہ ہم تم کو اپنی (قدرت کی) بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دکھلائیں (تو اب یہ نشانیاں لے کر) تم فرعون کے پاس جاؤ وہ بہت حد سے نکل گیا ہے (کہ خدائی کا دعویٰ کرتا ہے تم اس کو تبلیغ توحید کرو اور اگر نبوت میں شبہ کرے تو یہی معجزے دکھلا دو)۔
معارف و مسائل
وَمَا تِلْكَ بِيَمِيْنِكَ يٰمُوْسٰى، بارگاہ رب العالمین کی طرف سے حضرت موسیٰ ؑ سے یہ سوال کرنا کہ آپ کے ہاتھ میں کیا چیز ہے موسیٰ ؑ پر لطف و کرم اور خاص مہربانی کا آغاز ہے تاکہ حیرت انگیز مناظر کے دیکھنے اور کلام ربانی کے سننے سے جو ہیبت اور دہشت ان پر طاری تھی وہ دور ہوجائے یہ ایک دوستانہ انداز کا خطاب ہے کہ تمہارے ہاتھ میں کیا چیز ہے اس کے علاوہ اس سوال میں یہ حکمت بھی ہے کہ آگے اس عصا کو جو ان کے ہاتھ میں تھی ایک سانپ اور اژدھا بنانا تھا۔ اس لئے پہلے ان کو متنبہ کردیا کہ دیکھ لو تمہارے ہاتھ میں کیا چیز ہے جب انہوں نے دیکھ لیا کہ وہ لکڑی کا عصا ہے تب ان کو سانپ بنانے کا معجزہ ظاہر کیا گیا ورنہ موسیٰ ؑ کو یہ احتمال ہوسکتا تھا کہ میں رات کے اندھیرے میں شاید لاٹھی کی جگہ سانپ ہی پکڑ لایا ہوں۔
Ayahs 20:18–19قَالَ هِىَ عَصَايَ ، حضرت موسیٰ ؑ سے سوال صرف اتنا ہوا تھا کہ ہاتھ میں کیا چیز ہے اس کا اتنا جواب کافی تھا کہ لاٹھی ہے مگر حضرت موسیٰ ؑ نے اس جگہ تین باتیں اصل سوال کے جواب سے زیادہ عرض کیں اول یہ کہ یہ عصا میری ہے، دوسرے یہ کہ میں اس سے بہت سے کام لیتا ہوں ایک یہ کہ اس پر ٹیک لگا لیتا ہوں دوسرے یہ کہ اس سے اپنی بکریوں کے لئے درختوں کے پتے چھاڑتا ہوں تیسرے یہ کہ اس سے اور بھی میرے بہت سے کام نکلتے ہیں، اس طویل اور تفصیلی جواب میں عشق و محبت اور اس کے ساتھ رعایت ادب کی جامعیت کا کمال ظاہر ہوتا ہے۔ عشق و محبت کا تقاضا ہے کہ جب محبوب مہربان ہو کر متوجہ ہے تو بات دراز کی جائے تاکہ اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے مگر ساتھ ہی ساتھ ادب کا مقتضا یہ بھی ہے کہ بہت بےتکلف ہو کر کلام زیادہ طویل بھی نہ ہو۔ اس دوسرے مقتضا پر یہ عمل کرنے کے لئے اخیر میں اختصار کردیا کہ وَلِيَ فِيْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى، یعنی میں اس سے اور بھی بہت سے کام لیا کرتا ہوں اور ان کاموں کی تفصیل بیان نہیں کی (روح و مظہری)
تفسیر قرطبی میں اس آیت سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ ضرورت اور مصلحت سے ایسا کرنا بھی جائز ہے کہ جو بات سوال میں نہ پوچھی گئی ہو اس کو بھی جواب میں بیان کردیا جائے۔
مسئلہ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہاتھ میں عصا رکھنا سنت انبیاء ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی بھی یہی سنت تھی اور اس میں بیشمار دینی و دنیوی فوائد ہیں۔ (قرطبی)
Ayahs 20:20–21فَاِذَا هِىَ حَيَّةٌ تَسْعٰي، حضرت موسیٰ ؑ کے ہاتھ میں جو عصا تھی بحکم ربانی اس کو ڈال دیا تو وہ سانپ بن گئی، اس سانپ کے بارے میں قرآن کریم کی آیات میں ایک جگہ تو یہ آیا ہے كَاَنَّهَا جَاۗنٌّ، جان عربی لغت میں چھوٹے اور پتلے سانپ کو کہتے ہیں۔ اور دوسری جگہ آیا ہے فَاِذَا ھِىَ ثُعْبَانٌ، ثعبان کے معنے اژدھا اور بڑے موٹے سانپ کے ہیں، اور اس آیت میں جو لفظ حیة آیا ہے یہ عام ہے ہر چھوٹے بڑے اور پتلے موٹے سانپ کو حیہ کہا جاتا ہے۔ تطبیق ان آیات کی اس طرح ہو سکتی ہے کہ یہ سانپ شروع میں پتلا اور چھوٹا ہو پھر موٹا اور بڑا ہوگیا، یا یہ کہ سانپ تو بڑا اور اژدہا سرعت سیر کے اعتبار سے چھوٹے سانپ کی طرح تھا یعنی عام عادت کے خلاف کہ بڑے اژد ہے تیز نہیں چل سکتے یہ بڑی تیزی سے چلتا تھا اور آیت میں لفظ کانھا سے جو تشبیہ کے معنی میں ہے اس طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ جان سے اس کو تشبیہ ایک خاص وصف سرعت سیر میں دی گئی ہے۔ (مظہری)
Ayahs 20:22–23وَاضْمُمْ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ ، جناح، دراصل جانور کے بازو کو کہا جاتا ہے اس جگہ اپنے بازو کے یعنی بغل میں ہاتھ لگا لینے کا حکم ہوا ہے تاکہ یہ دوسرا معجزہ حضرت موسیٰ ؑ کو عطا کیا جاوے کہ جب بغل کے نیچے ہاتھ ڈال کر نکالیں تو آفتاب کی طرح چمکنے لگے حضرت ابن عباس سے تَخْرُجْ بَيْضَاۗءَ کی یہی تفسیر منقول ہے۔ (مظہری)
Ayah 20:24اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ ، اپنے رسول کو دو عظیم الشان معجزوں سے مسلح کرنے کے بعد ان کو حکم دیا گیا کہ فرعون سرکش کو دعوت ایمان دینے کے لئے چلے جائیں۔
Ayah 20:25خلا صہ تفسیر
(جب موسیٰ ؑ کو معلوم ہوا کہ مجھ کو پیغمبر بنا کر فرعون کی فہمائش کے لئے بھیجا جا رہا ہے تو اس وقت اس منصب عظیم کے مشکلات کی آسانی کے لئے درخواست کی اور) عرض کیا کہ اے میرے رب میرا حوصلہ (اور زیادہ) فراخ کر دیجئے (کہ تبلیغ میں انقباض یا تکذیب و مخالفت میں ضیق نہ ہو) اور میرا (یہ) کام (تبلیغ کا) آسان فرما دیجئے (کہ اسباب تبلیغ کے مجتمع اور موانع تبلیغ کے مرتفع ہوجاویں) اور میری زبان پر سے بستگی (لکنت کی) ہٹا دیجئے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں، اور میرے واسطے میرے کنبے میں سے ایک معاون مقرر کر دیجئے یعنی ہارون کو جو میرئے بھائی ہیں ان کے ذریعہ سے میری قوت کو مستحکم کر دیجئے اور ان کو میرے (اس تبلیغ کے) کام میں شریک کر دیجئے (یعنی ان کو بھی نبی بنا کر مامور بالتبلیغ کیجئے کہ ہم دونوں تبلیغ کریں اور میرے قلب کو قوت پہنچے) تاکہ ہم دونوں (مل کر تبلیغ و دعوت کے وقت) آپ کی خوب کثرت سے پاکی (شرک و نقائص سے) بیان کریں اور آپ (کے اوصاف و کمال) کا خوب کثرت سے ذکر کریں (کیونکہ اگر دو شخص مبلغ ہوں گے تو ہر شخص کا بیان دوسرے کی تائید سے وافر اور متکاثر ہوگا) بیشک آپ ہم کو (اور ہمارے حال کو) خوب دیکھ رہے ہیں (اس حالت سے ہماری احتیاج اس امر کی کہ ایک دوسرے کے معاون ہوں آپ کو معلوم ہے) ارشاد ہوا کہ تمہاری (ہر) درخواست (جو کہ رب اشرح لی الخ میں مذکور ہے) منظور کی گئی اے موسیٰ۔
معارف و مسائل
حضرت موسیٰ ؑ کو جب کلام الہٰی کا شرف حاصل ہوا اور منصب نبوت و رسالت عطا ہوا تو اپنی ذات اور اپنی طاقت پر بھروسہ چھوڑ کر خود حق تعالیٰ ہی کی طرف متوجہ ہوگئے کہ اس منصب عظیم کی ذمہ داریاں اسی کی مدد سے پوری ہوسکتی ہیں اور ان پر جو مصائب اور شدائد آنا لازمی ہیں ان کی برداشت کا حوصلہ بھی حق تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوسکتا ہے اس لئے اس وقت پانچ دعائیں مانگیں، پہلی اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ ، یعنی میرا سینہ کھول دے اس میں ایسی وسعت عطا فرما دے جو علوم نبوت کا متحمل ہوسکے اور دعوت ایمان لوگوں تک پہنچانے میں جو ان کی طرف سے سخت سست سننا پڑتا ہے اس کو برداشت کرنا بھی اس میں شامل ہے۔
Ayah 20:26دوسری دعا وَيَسِّرْ لِيْٓ اَمْرِيْ (یعنی میرا کام میرے لئے آسان کر دے) یہ فہم و فراست بھی نبوت ہی کا ثمرہ تھا کہ کسی کام کا مشکل یا آسان ہونا بھی ظاہری تدبیروں کے تابع نہیں یہ بھی حق تعالیٰ ہی کی طرف سے عطیہ ہوتا ہے وہ اگر چاہتے ہیں تو کسی کے لئے مشکل سے مشکل بھاری سے بھاری کام آسان کردیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں تو آسان سے آسان کام مشکل ہوجاتا ہے اسی لیے حدیث شریف میں مسلمانوں کو اس دعا کی تلقین کی گئی ہے کہ اپنے کاموں کے لئے اللہ تعالیٰ سے اس طرح دعا مانگا کریں اللھم الطف بنا فی تیسیر کل عسیر فان تیسیر کل عسیر علیک یسیر، یعنی یا اللہ ہم پر مہربانی فرما ہر مشکل کام کو آسان کرنے کے لئے کیونکہ ہر مشکل کام کا آسان کردینا آپ کے قبضہ میں ہے۔
Ayahs 20:27–28تیسری دعا، وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِيْ ، يَفْقَـــهُوْا قَوْلِيْ ، یعنی کھول دے میری زبان کی بندش تاکہ لوگ میرا کلام سمجھنے لگیں۔ اس بندش کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ دودھ پینے کے زمانے میں تو اپنی والدہ ہی کے پاس رہے اور دریا پار فرعون سے ان کو دودھ پلانے کا وظیفہ اور صلہ ملتا رہا۔ جب دودھ چھڑایا گیا تو فرعون اور اس کی بیوی آسیہ نے ان کو اپنا بیٹا بنا لیا تھا اس لئے والدہ سے واپس لے کر اپنے یہاں پالنے لگے۔ اسی عرصہ میں ایک روز حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون کی داڑھی پکڑ لی اور اس کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کیا اور بعض روایات میں ہے کہ ایک چھڑی ہاتھ میں تھی جس سے کھیل رہے تھے وہ فرعون کے سر پر ماری، فرعون کو غصہ آیا اور اس کے قتل کرنے کا ارادہ کرلیا۔ بیوی آسیہ نے کہا کہ شاہا، آپ بچے کی بات پر خیال کرتے ہیں جس کو کسی چیز کی عقل نہیں اور اگر آپ چاہیں تو تجزیہ کرلیں کہ اس کو کسی بھلے برے کا امتیاز نہیں۔ فرعون کو تجربہ کرانے کے لئے ایک طشت میں آگ کے انگارے اور دوسرے میں جواہرات لا کر موسیٰ ؑ کے سامنے رکھ دیئے خیال تھا کہ بچہ ہے یہ بچوں کی عادت کے مطابق آگ کے انگارے کو روشن خوبصورت سمجھ کر اس کی طرف ہاتھ بڑھائے گا جواہرات کی رونق بچوں کی نظر میں ایسی نہیں ہوتی کہ اس طرف توجہ دیں، اس سے فرعون کو تجربہ ہوجائے گا کہ اس نے جو کچھ کیا وہ بچپن کی نادانی سے کیا۔ مگر یہاں تو کوئی عام بچہ نہیں تھا، خدا تعالیٰ کا ہونے والا رسول تھا جن کی فطرت اول پیدائش سے ہی غیر معمولی ہوتی ہے موسیٰ ؑ آگ کی بجائے جواہرات پر ہاتھ ڈالنا چاہا مگر جبرئیل امین نے ان کا ہاتھ آگ کے طشت میں ڈال دیا اور انہوں نے آگ کا انگارہ اٹھا کر منہ میں رکھ لیا، جس سے زبان جل گئی اور فرعون کو یقین آگیا کہ موسیٰ ؑ کی زبان میں ایک قسم کی تکلیف پیدا ہوگئی اسی کو قرآن میں عقدہ کہا گیا ہے اور اسی کو کھولنے کی دعا حضرت موسیٰ نے مانگی۔ (مظہری و قرطبی)
پہلی دو دعائیں تو عام تھیں سب کاموں میں اللہ تعالیٰ سے مدد حاصل کرنے کے لئے، تیسری دعا میں اپنی ایک محسوس کمزوری کے ازالہ کی درخواست کی گئی کہ رسالت و دعوت کیلئے زبان کی طلاقت اور فصاحت بھی ایک ضروری چیز ہے۔ آگے ایک آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ موسیٰ ؑ کی یہ سب دعائیں قبول کرلی گئیں جس کا ظاہر یہ ہے کہ زبان کی یہ لکنت بھی ختم ہوگئی ہوگی مگر خود موسیٰ ؑ نے حضرت ہارون کو اپنے ساتھ رسالت میں شریک کرنے کی جو دعا کی ہے اس میں یہ بھی فرمایا ہے کہ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا، یعنی ہارون ؑ نے زبان کے اعتبار سے بہ نسبت میرے زیادہ فصیح ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اثر لکنت کا کچھ باقی تھا۔ نیز فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ پر جو عیوب لگائے ان میں یہ بھی کہا کہ وّلَا يَكَادُ يُبِيْنُ ، یعنی یہ اپنی بات کو صاف بیان نہیں کرسکتے۔ بعض حضرات نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے خود اپنی دعا میں اتنی ہی بات مانگی تھی کہ زبان کی بندش اتنی کھل جائے کہ لوگ میری بات سمجھ لیا کریں، اتنی لکنت دور کردی گئی کچھ معمولی اثر بھی رہا تو وہ اس دعا کی قبولیت کے منافی نہیں۔
Ayah 20:29چوتھی دعا واجْعَلْ لِّيْ وَزِيْرًا مِّنْ اَهْلِيْ (یعنی بناوے میرا ایک وزیر میرے ہی خاندان میں سے) پچھلی تین دعائیں اپنے نفس اور ذات سے متعلق تھیں یہ چوتھی دعا اعمال راست کو انجام دینے کے لئے اسباب کرنے سے متعلق ہے اور ان اسباب میں حضرت موسیٰ ؑ نے سب سے پہلے اور اہم اس کو قرار دیا کہ اس کا کوئی نائب اور وزیر ہو جو ان کی مدد کرسکے۔ وزیر کے معنی ہی لغت میں بوجھ اٹھانے والے کے ہیں، وزیر سلطنت چونکہ اپنے امیر و بادشاہ کا بار ذمہ داری سے اٹھاتا ہے اس لئے اس کو وزیر کہتے ہیں۔ اس سے حضرت موسیٰ ؑ کا کمال عقل معلوم ہوا کہ کسی کام یا تحریک کے چلانے کے لئے سب سے پہلی چیز انسان کے اعوان و انصار ہیں وہ منشاء کے مطابق مل جائیں تو آگے سب کام آسان ہوجاتے ہیں اور وہ غلط ہوں تو سارے اسباب و سامان بھی بےکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ آج کل کی سلطنتوں اور حکومتوں میں جتنی خرابیاں مشاہدہ میں آئی ہیں غور کریں تو ان سب کا اصلی سبب امیر ریاست کے اعوان و انصار اور وزرا و امرا کی خرابی بےعملی یا عدم صلاحیت ہے۔
اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ حق تعالیٰ جب کسی شخص کو کوئی حکومت و امارت سپرد فرما دیتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ یہ اچھے کام کرے حکومت کو اچھی طرح چلائے تو اس کو نیک وزیر دے دیتے ہیں جو اس کی مدد کرتا ہے اگر یہ کسی ضروری کام کو بھول جائے تو وزیر یاد دلا دیتا ہے اور جس کام کا وہ ارادہ کرے وزیر اس میں اس کی مدد کرتا ہے۔ (رواہ النسائی عن القاسم بن محمد)
اس دعا میں حضرت موسیٰ ؑ نے جو وزیر طلب فرمایا اس کے ساتھ ایک قید مِّنْ اَهْلِيْ کی بھی لگا دی کہ یہ وزیر میرے خاندان و اقارب میں سے ہو کیونکہ اپنے خاندان کے آدمی کے عادات و اخلاق دیکھے بھالے اور طبائع میں باہم الفت و مناسبت ہوتی ہے جس سے اس کام میں مدد ملتی ہے بشرطیکہ اس کو کام کی صلاحیت میں دوسروں سے فائق دیکھ کرلیا گیا ہو۔
محض اقربا پروری کا داعیہ نہ ہو۔ اس زمانے میں چونکہ عام طور پر دیانت و اخلاص مفقود اور اصل کام کی فکر غائب نظر آتی ہے۔ اس لئے کسی امیر کے ساتھ اس کو خویش و عزیز کو وزیر یا نائب بنانے کو مذموم سمجھا جاتا ہے اور جہاں دیانتداری پر بھروسہ پورا ہو تو کسی صالح و اصلح خویش و عزیز کو کوئی عہدہ سپرد کردینا کوئی عیب نہیں بلکہ مہمات امور کی تکمیل کیلئے زیادہ بہتر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد خلفاء راشدین عموماً وہی حضرات ہوئے جو بیت نبوت کے ساتھ رشتہ داریوں کے تعلقات بھی رکھتے تھے۔
حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی دعا میں پہلے تو عام بات فرمائی کہ میرے خاندان و اہل میں سے ہو، پھر متعین کرکے فرمایا کہ وہ میرا بھائی ہارون ہے جس کو میں وزیر بنانا چاہتا ہوں تاکہ میں اس سے مہمات رسالت میں قوت حاصل کرسکوں۔
Ayahs 20:30–31حضرت ہارون ؑ نے حضرت موسیٰ ؑ سے تین یا چار سال بڑے تھے، اور تین سال پہلے ہی وفات ہائی۔ جس وقت موسیٰ ؑ نے یہ دعا مانگی وہ مصر میں تھے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کی دعا پر ان کو بھی نبی بنادیا تو بذریعہ فرشتہ ان کو بھی مصر ہی میں اس کی اطلاع مل گئی جب موسیٰ ؑ کو مصر میں فرعون کی تبلیغ کے لئے روانہ کیا گیا تو ان کو یہ ہدایت کردی گئی کہ وہ مصر سے باہر ان کا استقبال کریں اور ایسا ہی واقع ہوا۔ (قرطبی)
Ayah 20:32وَاَشْرِكْهُ فِيْٓ اَمْرِيْ ، حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت ہارون کو اپنا وزیر بنانا چاہا تو یہ اختیار خود ان کو حاصل تھا تبرکاً حق تعالیٰ کی طرف سے کرنے کی دعا کی مگر ساتھ ہی وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کو نبوت و رسالت میں اپنا شریک قرار دیں یہ اختیار کسی رسول و نبی کو خود نہیں ہوتا اس لئے اس کی جداگانہ دعا کی کہ ان کو میرے کار رسالت میں شریک فرما دے آخر میں فرمایا
Ayahs 20:33–35صالح رفقاء ذکر و عبادت میں بھی مددگار ہوتے ہیں
كَيْ نُسَبِّحَكَ كَثِيْرًا، وَّنَذْكُرَكَ كَثِيْرًا، یعنی حضرت ہارون کو وزیر اور شریک نبوت بنانے کا فائدہ یہ ہوگا کہ ہم کثرت سے آپ کی تسبیح و ذکر کیا کریں گے۔ یہاں سے یہ سوال ہوسکتا ہے کہ تسبیح و ذکر تو ایسی چیز ہے کہ ہر انسان تنہا بھی جتنا چاہے کرسکتا ہے اس کے لئے کسی ساتھی کے عمل کا کیا دخل لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر و تسبیح میں بھی سازگار ماحول اور اللہ والے ساتھیوں کا بڑا دخل ہوتا ہے جس کے ساتھی اللہ والے نہ ہوں وہ اتنی عبادت نہیں کرسکتا جتنی وہ کرسکتا ہے جس کا ماحول اللہ والوں کا اور ساتھی ذاکر شاغل ہوں، اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص ذکر اللہ میں مشغول رہنا چاہے اس کو سازگار ماحول کی بھی تلاش کرنا چاہئے۔
Ayah 20:36دعائیں یہاں ختم ہوگئیں آخر میں حق تعالیٰ کی طرف سے ان سب دعاؤں کے قبول ہوجانے کی بشارت دے دی گئی قَالَ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤ ْلَكَ يٰمُوْسٰى، یعنی آپ کی مانگی ہوئی سب چیزیں آپ کو دے دی گئیں۔
Ayah 20:37خلاصہ تفسیر
ہم تو اور دفعہ اور بھی (اس کے قبل بےدرخواست ہی) تم ہر احسان کرچکے ہیں جبکہ ہم نے تمہاری ماں کو وہ بات الہام سے بتلائی جو (بوجہ مہتم بالشان ہونے کے) الہام سے بتلانے کے (قابل) تھی (وہ) یہ کہ موسیٰ کو (جلادوں کے ہاتھ سے بچانے کے لئے) ایک صندوق میں رکھو، پھر ان کو (مع صندوق کے) دریا میں (جس کی ایک شاخ فرعون کے محل تک بھی گئی تھی) ڈال دو پھر دریا ان کو (مع صندوق کے) کنارہ (کے پاس) تک لے آوے گا (آخر کار) ان کو ایک ایسا شخص پکڑے گا جو (کافر ہونے کی وجہ سے) میرا بھی دشمن ہے اور ان کا بھی دشمن ہے (خواہ فی الحال بوجہ اس کے کہ سب بچوں کو قتل کرتا تھا خواہ آئندہ ان کا خاص طور پر دشمن ہوگا) اور (جب صندوق پکڑا گیا اور تم اس میں سے نکالے گئے تو) میں نے تمہارے (چہرے کے) اوپر اپنی طرف سے ایک اثر محبت ڈال دیا (تاکہ جو تم کو دیکھے پیار کرے) اور تاکہ تم میری (خاص) نگرانی میں پرورش پاؤ۔ (یہ اس وقت کا قصہ ہے) جبکہ تمہاری بہن (تمہاری تلاش میں فرعون کے گھر) چلتی ہوئی آئیں، پھر (تم کو دیکھ کر اجنبی بن کر) کہنے لگیں (جبکہ تم کسی انّا کا دودھ نہ پیتے تھے) کیا تم لوگوں کو ایسے شخص کا پتہ دوں جو اس کو (اچھی طرح) پالے رکھے (چنانچہ ان لوگوں نے چونکہ ان کو تلاش تھی منظور کیا اور تمہاری بہن تمہاری ماں کو بلا کر لائیں) پھر (اس تدبیر سے) ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پھر پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کو غم نے رہے (جیسا تھوڑے عرصہ تک فراق سے مغموم رہیں) اور (بڑے ہونے کے بعد ایک اور احسان کیا کہ) تم نے (غلطی سے) ایک شخص (قبطی) کو جان سے مار ڈالا (جس کا قصہ سورة قصص میں ہے اور مار کر غم ہوا خوف عقاب سے بھی اور خوف انتقام سے بھی) پھر ہم نے تم کو اس غم سے نجات دی (خوف عقاب سے تو اس طرح کہ استغفار کی توفیق دی اور اس کو قبول کیا اور خوف انتقام سے اس طرح کہ مصر سے مدین پہنچا دیا) اور (مدین پہنچنے تک) ہم نے تم کو خوب خوب محنتوں میں ڈالا (اور پھر ان سے خلاصی دی جن کا ذکر سورة قصص میں ہے کہ خلاصی دینا بھی منت ہے اور خود ابتلاء بھی بوجہ اس کے کہ وہ سبب ہے حصول اخلاق حمیدہ و ملکات فاضلہ کا مستقل احسان ہے)۔
پھر (مدین پہنچے اور) مدین والوں میں کئی سال رہے پھر ایک خاص وقت پر (جو میرے علم میں تمہاری نبوت اور ہم کلامی کے لئے مقدر تھا) تم (یہاں) آئے اے موسیٰ اور (یہاں آنے پر) میں نے تم کو اپنے (نبی بنانے کے) لئے منتخب کیا (سو اب) تم اور تمہارے بھائی دونوں میری نشانیاں (یعنی معجزات کہ اصل دو معجزے ہیں عصا و ید بیضا اور ہر ایک میں وجوہ اعجاز متعدد ہیں) لے کر (جس موقع کے لئے حکم ہوتا ہے) جاؤ اور میری یادگاری میں (خواہ خلوت میں خواہ تبلیغ کے وقت) سستی مت کرنا (اب موقع جانے کا بتلایا جاتا ہے کہ) دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ بہت نکل چلا ہے پھر (اس کے پاس جا کر) اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا شاید وہ (رغبت سے) نصیحت قبول کرلے یا (عذاب الہٰی سے) ڈر جاوے (اور اس سے مان جاوے)۔
معارف و مسائل
وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ مَرَّةً اُخْرٰٓى، حضرت موسیٰ ؑ پر جو انعامات و عنایات حق اس وقت مبذول ہوئیں کہ شرف ہم کلامی سے نوازا گیا، نبوت و رسالت عطا ہوئی، خاص معجزات عطا ہوئے اس کے ساتھ یہاں حق تعالیٰ اپنی وہ نعمتیں بھی ان کو یاد دلاتے ہیں جو شروع پیدائش سے اس وقت تک زندگی کے ہر دور میں آپ پر مبذول ہوتی رہیں اور مسلسل آزمائشوں اور جان کے خطروں کے درمیان قدرت حق نے کن حیرت انگیز طریقوں سے ان کی حفاظت فرمائی۔ یہ نعمتیں جن کا ذکر آگے آتا ہے زمانہ وقوع کے اعتبار سے پہلی ہیں یہاں جو ان کو اخرٰی کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ یہ نعمتیں اس کے بعد کی ہیں بلکہ اخریٰ کبھی مطلقاً دوسرے کے معنے میں بھی آتا ہے جس میں مقدم موخر کا کوئی مفہوم نہیں ہوتا یہاں بھی یہ لفظ اسی معنے میں ہے (روح) حضرت موسیٰ ؑ کا یہ پورا قصہ حدیث کے حوالہ سے تفصیل کے ساتھ آگے آئے گا۔
Ayah 20:38اِذْ اَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّكَ مَا يُوْحٰٓي، یعنی جبکہ وحی بھیجی ہم نے آپ کی والدہ کے پاس ایک ایسے معاملہ کی جو صرف وحی سے ہی معلوم ہوسکتا تھا وہ یہ کہ فرعونی سپاہی جو اسرائیلی لڑکوں کو قتل کرنے پر مامور تھے ان سے بچانے کے لئے ان کی والدہ کو بذریعہ وحی الہٰی بتلایا گیا کہ ان کو ایک تابوت میں بند کر کے دریا میں ڈال دیں اور ان کے ہلاک ہونے کا اندیشہ نہ کریں ہم ان کو حفاظت سے رکھیں گے اور پھر آپ کے پاس ہی واپس پہنچا دیں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ باتیں عقل و قیاس کی نہیں، اللہ تعالیٰ کا وعدہ اور ان کی حفاظت کا ناقابل قیاس انتظام صرف اسی کی طرف سے بتلانے پر کسی کو معلوم ہوسکتا ہے۔
کیا وحی کسی غیر نبی و رسول کی طرف بھی آسکتی ہے
صحیح بات یہ ہے کہ لفظ وحی کے لغوی معنے ایسے خفیہ کلام کے ہیں جو صرف مخاطب کو معلوم ہو، دوسرے اس پر مطلع نہ ہوں۔ اس لغوی معنے کے اعتبار سے وحی کسی کے لئے مخصوص نہیں۔ نبی رسول اور عام مخلوق بلکہ جانور تک اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔
وَاَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ ، میں شہد کی مکھیوں کو بذریعہ وحی تلقین وتعلیم کرنے کا ذکر اسی معنے کے اعتبار سے ہے اور آیت میں اَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّكَ بھی اس معنی لغوی کے اعتبار سے ہے اس سے ان کا نبی یا رسول ہونا لازم نہیں آتا، جیسے حضرت مریم (علیہا السلام) کو ارشادات ربانی پہنچے باوجودیکہ باتفاق جمہور امت وہ نبی یا رسول نہیں تھیں، اس طرح کی لغوی وحی عموماً بطور الہام کے ہوتی ہے کہ حق تعالیٰ کسی کے قلب میں ایک مضمون ڈال دیں اور اس کو اس پر مطمئن کردیں کہ اللہ کی طرف سے ہے جیسے عموماً اولیاء اللہ کو اس قسم کے الہامات ہوتے رہے ہیں، بلکہ ابو حیان اور بعض دوسرے علماء نے کہا ہے کہ اس طرح کی وحی بعض اوقات کسی فرشتے کے واسطے سے بھی ہوسکتی ہے جیسے حضرت مریم کے واقعہ میں اس کی تصریح ہے کہ جبرئیل امین نے بشکل انسانی متمثل ہو کر ان کو تلقین فرمائی مگر اس کا تعلق صرف اس شخص کی ذات سے ہوتا ہے جس کو یہ وحی الہام ہوتی ہے۔ اصلاح خلق اور تبلیغ و دعوت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا بخلاف وحی نبوت کے کہ اس کا منشاء ہی مخلوق کی اصلاح کے لئے کسی کو کھڑا کرنا اور تبلیغ و دعوت کے لئے مامور کرنا ہوتا ہے اس کے ذمہ لازم ہوتا ہے کہ اپنی وحی پر خود بھی ایمان لائے اور دوسروں کو بھی اپنی نبوت کے ماننے اور اپنی وحی کے ماننے کا پابند بنائے جو اس کو نہ مانے اسے کافر قرار دے۔
یہی فرق ہے اس وحی الہام یعنی وحی لغوی میں اور وحی نبوت یعنی وحی اصطلاح میں۔ وحی لغوی ہمیشہ سے جاری ہے اور ہمیشہ رہے گی، اور نبوت حضرت خاتم الانبیاء ﷺ پر ختم ہوچکی ہے۔ بعض بزرگوں کے کلام میں اسی کو وحی تشریعی کے عنوان سے تعبیر کردیا ہے جس کو مدعی نبوت قادیانی نے شیخ محی الدین ابن عربی کی بعض عبارتوں کے حوالہ سے اپنے دعوائے نبوت کے جواز کی دلیل بنایا ہے جو خود ابن عربی کی تصریحات سے باطل ہے۔ اس مسئلہ کی مکمل بحث و توضیح میری کتاب ختم نبوت میں تفصیل سے مذکور ہے۔
ام موسیٰ ؑ کا نام
روح المعانی میں ہے کہ ان کا مشہور نام یوحانذ ہے، اور اتقان میں ان کا نام لحیانہ بنت یصمد بن لادی لکھا ہے، اور بعض لوگوں نے ان کا نام بارخا بعض نے بازخت بتلایا ہے۔ بعض تعویذ گنڈے والے ان کے نام کی عجیب خصوصیات بیان کیا کرتے ہیں صاحب روح المعانی نے فرمایا کہ ہمیں اس کی کوئی بنیاد نہیں معلوم ہوئی اور غالب یہ ہے کہ خرافات میں سے ہے۔
Ayah 20:39فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بالسَّاحِلِ ، اس جگہ یم بمعنے دریا سے بظاہر نہر نیل مراد ہے آیت میں ایک حکم تو موسیٰ ؑ کی والدہ ماجدہ کو دیا گیا ہے کہ اس بچے (موسیٰ علیہ السلام) کو صندوق میں بند کرکے دریا میں ڈال دیں، دوسرا حکم بصیغہ امر دریا کے نام ہے کہ وہ اس تابوت کو کنارہ پر ڈال دے فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بالسَّاحِلِ ، دریا چونکہ بظاہر بےحس و بےشعور ہے اس کو حکم دینے کا مفہوم سمجھ میں نہیں آتا اس لئے بعض حضرات نے یہ قرار دیا کہ اگرچہ یہاں صیغہ امر بمعنی الحکم استعمال ہوا ہے مگر مراد اس سے حکم نہیں بلکہ خبر دینا ہے کہ دریا اس کو کنارہ پر ڈال دے گا۔ مگر محققین علماء کے نزدیک امر اپنے ظاہر پر امر اور حکم ہی ہے اور دریا ہی اس کا مخاطب ہے کیونکہ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی مخلوق درخت اور پتھر تک بےعقل و بےشعور نہیں بلکہ سب عقل و ادراک موجود ہے اور یہی عقل و ادراک ہے جس کے سبب یہ سب چیزیں حسب تصریح قرآن اللہ کی تسبیح میں مشغول ہیں۔ ہاں یہ فرق ضرور ہے کہ انسان اور جن اور فرشتہ کے علاوہ کسی مخلوق میں عقل و شعور اتنا مکمل نہیں جس پر احکام حلال و حرام عائد کر کے مکلف بنایا جائے، دانائے روم نے خوب فرمایا
خاک و باد و آب و آتش بندہ اند بامن و تو مردہ باحق زندہ اند
يَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّيْ وَعَدُوٌّ لَّهٗ ، یعنی اس تابوت اور اس میں بند کئے ہوئے بچے کو ساحل دریا سے ایسا شخص اٹھائے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور موسیٰ کا بھی، مراد اس سے فرعون ہے۔ فرعون کا اللہ کا دشمن ہونا اس کے کفر کی وجہ سے ظاہر مگر موسیٰ ؑ کا دشمن کہنا اس لئے محل غور ہے کہ اس وقت تو فرعون حضرت موسیٰ ؑ کا دشمن نہیں تھا بلکہ ان کی پرورش پر زر کثیر خرچ کر رہا تھا پھر اس کو حضرت موسیٰ ؑ کا دشمن فرمایا تو انجام کار کے اعتبار سے ہے کہ بالآخر فرعون کا دشمن ہوجانا اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا اور یہ کہا جائے تو بھی کچھ بعید نہیں کہ جہاں تک فرعون کی ذات کا تعلق ہے وہ فی نفسہ اس وقت بھی دشمن ہی تھا۔ اس نے حضرت موسیٰ کی تربیت صرف بیوی آسیہ کی خاطر گوارا کی تھی اور اس میں بھی جب اس کو شبہ ہوا تو اسی وقت قتل کرنے کا حکم دے دیا تھا جو حضرت آسیہ کی دانش مندی کے ذریعہ ختم ہوا (روح و مظہری)
وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ ، اس جگہ لفظ محبت مصدر بمعنے محبوبیت ہے اور مطلب یہ ہے کہ حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنی عنایت و رحمت سے آپ کے وجود میں ایک محبوبیت کی شان رکھ دی تھی کہ جو آپ کو دیکھے آپ سے محبت کرنے لگے۔ حضرت ابن عباس اور عکرمہ سے یہی تفسیر منقول ہے (مظہری)
وَلِتُصْنَعَ عَلٰي عَيْنِيْ ، لفظ صنعت سے اس جگہ مراد عمدہ تربیت ہے جیسے عرب میں صنعت فرسی کا محاورہ اسی معنی میں معروف ہے کہ میں نے اپنے گھوڑے کی اچھی تربیت کی اور علی عینی سے مراد علی حفظی یعنی اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا تھا کہ موسیٰ ؑ کی بہترین تربیت براہ راست حق تعالیٰ کی نگرانی میں ہو اس لئے مصر کی سب سے بڑی ہستی یعنی فرعون کے ہاتھوں ہی اس کے گھر میں یہ کام اس طرح لیا گیا کہ وہ اس سے بیخبر تھا کہ میں اپنے ہاتھوں اپنے دشمن کو پال رہا ہوں۔ (مظہری)