20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 20:128–129

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

سو کیا ان کو سمجھ نہ آئی اس بات سے کہ کتنی غارت کردیں ہم نے ان سے پہلے جماعتیں یہ لوگ پھرتے ہیں ان کی جگہوں میں اس میں خوب نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کو

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ Open ayah 20:129 in the Quran reader

اور اگر نہ ہوتی ایک بات کہ نکل چکی تیرے رب کی طرف سے تو ضرور ہوجاتی مٹھ بھیڑ اور اگر نہ ہوتا وعدہ مقرر کیا گیا

خلاصہ تفسیر (یہ معترضین جو اعراض پر اصرار کر رہے ہیں تو) کیا ان لوگوں کو (اب تک) اس سے بھی ہدایت نہیں ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے گروہوں کو (اس اعراض ہی کے سبب عذاب سے) ہلاک کرچکے ہیں کہ ان (میں سے بعض) کے رہنے کے مقامات میں یہ لوگ بھی چلتے (پھرتے) ہیں (کیونکہ شام کو جاتے ہوئے اہل مکہ کے رستہ میں بعض ان قوموں کے مکانات آتے تھے) اس (امر مذکور) میں تو اہل فہم کے (سمجھنے کے) لئے (کافی) دلائل (اعراض کے نتائج بد ہونے کے) موجود ہیں اور (ان پر فوری عذاب نہ آنے سے جو ان کو شبہ اپنے مذہب کے مذموم نہ ہونے کا ہوتا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ) اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے فرمائی ہوئی نہ ہوتی (وہ یہ کہ بعض مصلحتوں کی وجہ سے ان کو مہلت دی جاوے گی) اور (عذاب کے لئے) ایک میعاد معین نہ ہوتی (کہ وہ قیامت کا دن ہے) تو (ان کے کفر و اعراض کے اقتضاء سے) عذاب لازمی طور پر ہوتا (خلاصہ یہ کہ کفر تو مقضی عذاب کا ہے لیکن ایک مانع کی وجہ سے توقف ہو رہا ہے پس ان کا وہ شبہ اور فوری عذاب نہ آنے سے اپنے حق پر ہونے کا استدلال غلط ہے، غرضیہ کہ امہال ہے اہمال نہیں) سو (جب عذاب کا آنا یقینی ہے تو) آپ ان کی (کفر آمیز) باتوں پر صبر کیجئے (اور بغض فی اللہ کی وجہ سے جو ان پر غیظ آتا ہے اور ان پر تاخیر عذاب سے اضطراب ہوتا ہے اس اضطراب کو ترک کیجئے اور اپنے رب کی حمد وثناء کے ساتھ (اس کی) تسبیح (و تقدیس) کیجئے (اس میں نماز بھی آگئی) آفتاب نکلنے سے پہلے (مثلاً نماز فجر) اور اس کے غروب سے پہلے (مثلاً نماز ظہر و عصر) اور اوقات شب میں (بھی) کیا کیجئے (مثلاً نماز مغرب و عشاء) اور ان کے اول و آخر میں (تسبیح کرنے کے واسطے اہتمام کے لئے مکرر کہا جاتا ہے جس سے نماز فجر و مغرب کے ذکر کی بھی اہتماماً تکریر ہوگئی) تاکہ (آپ کو ثواب ملے) آپ (اس سے) خوش ہوں (مطلب یہ کہ آپ اپنی توجہ معبود حقیقی کی طرف رکھئے لوگوں کی فکر نہ کیجئے) اور ہرگز ان چیزوں کی طرف آپ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے (جیسا اب تک بھی نہیں دیکھا) جس سے ہم نے کفار کے مختلف گروہوں کو (مثلاً یہود و نصاری و مشرکین کو) ان کی آزمائش کے لئے متمتع کر رکھا ہے کہ وہ (محض) دنیوی زندگی کی رونق ہے (مطلب اوروں کو سنانا ہے کہ جب معصوم نبی کے لئے یہ ممانعت ہے جن میں احتمال بھی نہیں تو غیر معصوم کو تو اس کا اہتمام کیونکر ضروری نہ ہوگا اور آزمائش یہ کہ کون احسان مانتا ہے اور کون سرکشی کرتا ہے اور آپ کے رب کا عطیہ (جو آخرت میں ملے گا) بدرجہا (اس سے) بہتر اور دیرپا ہے (کہ کبھی فنا ہی نہ ہوگا، خلاصہ کلام کا یہ ہوا کہ نہ ان کے اعراض بکسر الہمزہ کی طرف التفات کیا جاوے نہ ان کے اعراض بفتح الہمزہ یعنی اسباب عیش کی طرف سب کا انجام عذاب ہے) اور اپنے متعلقین کو (یعنی اہل خاندان کو یا مؤمنین کو) بھی نماز کا حکم کرتے رہئے اور خود بھی اس کے پابند رہئے (یعنی زیادہ توجہ کے قابل یہ امور ہیں) ہم آپ سے اور (اسی طرح دوسروں سے ایسے) معاش (کموانا) نہیں چاہتے (جو طاعات ضروریہ سے مانع ہوں) معاش تو آپ کو (اور اسی طرح اوروں کو) ہم دیں گے (یعنی مقصود اصلی اکتساب نہیں بلکہ دین اور اطاعت ہیں، اکتساب کی اسی حالت میں اجازت یا امر ہے کہ ضروری اطاعت میں وہ مخل نہ ہو) اور بہتر انجام تو پرہیزگاری ہی کا ہے (اس لئے ہم حکم دیتے ہیں لَا تَمُدَّنَّ اور وَاْمُرْ اَهْلَكَ الخ اور معترضین کے بعض احوال و اقوال جو اوپر معلوم ہوئے اسی طرح ان کا ایک اور قول بھی مذکور ہوتا ہے کہ) وہ لوگ (عناداً) یوں کہتے ہیں کہ یہ رسول ہمارے پاس کوئی نشانی (اپنی نبوت کی) کیوں نہیں لاتے) (آگے جواب ہے کہ) کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کے مضمون کا ظہور نہیں پہنچا (مراد اس سے قرآن ہے کہ اس سے کتب سابقہ کے مضمون پیشین گوئی کے صدق کا ظہور ہوگیا مطلب یہ کہ کیا ان کے پاس قرآن نہیں پہنچا جس کی پہلے سے شہرت تھی کہ وہ نبوت پر کافی دلیل ہے) اور اگر ہم ان کو قبل قرآن آنے کے (سزائے کفر میں) کسی عذاب سے ہلاک کردیتے (اور پھر قیامت کے روز اصلی سزا کفر کی دی جاتی کہ وہ لازم ہی تھی) تو یہ لوگ (بطور عذر کے) یوں کہتے کہ اے ہمارے رب آپ نے ہمارے پاس کوئی رسول (دنیا میں) کیوں نہ بھیجا تھا کہ ہم آپ کے احکام پر چلتے قبل اس کے کہ ہم (یہاں خود) بےقدر ہوں اور (دوسروں کی نگاہ میں) رسوا ہوں (سو اب اس عذر کی بھی گنجائش نہیں رہی، اگر وہ یوں کہیں کہ وہ عذاب کب ہوگا تو) آپ کہہ دیجئے کہ (ہم) سب اتنظار کر رہے ہیں سو (چندے) اور انتظار کرلو اب عنقریب تم کو (بھی) معلوم ہوجاوے گا کہ راہ راست والے کون ہیں اور وہ کون ہے جو (منزل) مقصود تک پہنچا (یعنی وہ فیصلہ عنقریب بعد موت یا بعد الحشر ظاہر ہوجاوے گا۔) معارف و مسائل اَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ ، يَهْدِ میں ضمیر قاعل ہدی کی طرف راجع ہے جو اسی لفظ کے ضمن میں مذکور ہے اور ہدی سے مراد قرآن یا رسول ہے تو معنے یہ ہیں کہ کیا قرآن یا رسول اللہ ﷺ نے ان کو یعنی اہل مکہ کو یہ ہدایت نہیں دی اور اس سے باخبر نہیں کیا کہ تم سے پہلے کتنی امتیں اور جماعتیں اپنی نافرمانی کی وجہ سے عذاب خداوندی میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوچکی ہیں جن کے گھروں اور زمینوں میں اب تم چلتے پھرتے ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں ضمیر فاعل اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہو اور معنے یہ ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ہدایت نہیں دی۔ الخ
Ayah 20:130

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى Open ayah 20:130 in the Quran reader

سو تو سہتا رہ جو وہ کہیں اور پڑھتا رہ خوبیاں اپنے رب کی سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اور کچھ گھڑیوں میں رات کی پڑھا کر اور دن کی حدوں پر شاید تو راضی ہو

فَاصْبِرْ عَلٰي مَا يَــقُوْلُوْنَ ، اہل مکہ جو ایمان سے بھاگنے کے لئے طرح طرح کے حیلے بہانے تلاش کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو برے برے کلمات سے یاد کرتے تھے، کوئی ساحر کوئی شاعر کوئی کاذب کہتا تھا۔ ان کی ایذاؤں کا علاج قرآن کریم نے اس جگہ دو چیزوں سے بتلایا ہے اول یہ کہ آپ ان کے کہنے کی طرف التفات نہ کریں بلکہ صبر کریں۔ دوسری چیز اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہوجانا ہے جو اگلے جملے میں فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے۔ دشمنوں کی ایذاؤں سے بچنے کا علاج صبر اور اللہ کی یاد میں مشغول ہونا ہے دشمنوں سے تو اس دنیا میں کسی چھوٹے بڑے، اچھے برے انسان کو نجات نہیں ملتی۔ ہر شخص کا کوئی نہ کوئی دشمن ہوتا ہے اور دشمن کتنا ہی حقیر و ضعیف ہو اپنے مخالف کو کچھ نہ کچھ ایذا پہنچا ہی دیتا ہے، زبانی گالی گلوچ ہی سہی، سامنے ہمت نہ ہو تو پیچھے ہی سہی۔ اس لئے دشمن کی ایذاؤں سے بچنے کی فکر ہر شخص کو ہوتی ہے۔ قرآن کریم نے ان کا بہترین اور کامیاب نسخہ دو چیزوں سے مرکب بیان فرمایا ہے۔ اول صبر یعنی اپنے نفس کو قابو میں رکھنا اور انتقام کی فکر میں نہ پڑنا دوسرے اللہ تعالیٰ کی یاد اور عبادت میں مشغول ہوجانا۔ تجربہ شاہد ہے کہ صرف یہی نسخہ ہے جس سے ان ایذاؤں سے نجات مل سکتی ہے ورنہ انتقام کی فکر میں پڑنے والا کتنا ہی قوی اور بڑا اور صاحب اقتدار ہو بسا اوقات مخالف سے انتقام لینے پر قادر نہیں ہوتا اور یہ فکر انتقام ایک مستقل عذاب اس کے لئے بن جاتا ہے اور جب انسان کی توجہ حق تعالیٰ کی طرف ہوجائے اور وہ دھیان یہ کرے کہ اس دنیا میں کوئی کسی کو کسی طرح کا نقصان یا ایذا بغیر مشیت خداوندی کے نہیں پہنچا سکتا اور اللہ تعالیٰ کے اعمال و افعال سب حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اس لئے جو صورت پیش آئی ہے اس میں ضرور کوئی حکمت ہوگی تو مخالف کی ایذاؤں سے پیدا ہونے والا غیظ و غضب خود بخود کافور ہوجاتا ہے اسی لئے آخر آیت میں فرمایا لَعَلَّكَ تَرْضٰى یعنی اس تدبیر سے آپ راضی خوشی بسر کرسکیں گے۔ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ یعنی آپ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کریں اس کی حمد و شکر کے ساتھ۔ اس میں اشارہ ہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ کا نام لینے یا کچھ عبادت کرنے کی توفیق ہوجائے اس کو چاہئے کہ اپنے اس عمل پر ناز و فخر کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی حمد و شکر کو اپنا وظیفہ بنائے یہ ذکر اللہ یا عبادت اسی کی توفیق کا نتیجہ اور ثمرہ ہے۔ اور یہ لفظ سَبِّحْ بِحَمْدِ عام ذکر و حمد کے معنے میں بھی ہوسکتا ہے اور خاص نماز کے معنے میں بھی عموماً حضرات مفسرین نے اسی کو لیا ہے اور اس کے بعد جو اوقات معین کر کے بتلائے ہیں وہ بھی نمازوں کے اوقات قرار دیئے ہیں۔ مثلاً قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ سے مراد نماز فجر اور قَبْلَ غُرُوْبِهَا سے مراد نماز ظہر و عصر اور وَمِنْ اٰنَاۗئِ الَّيْلِ سے مراد رات کی سب نماز میں مغرب عشاء یہاں تک کہ تہجد بھی اس میں شامل ہے اور پھر لفظ اَطْرَاف النَّهَارِ سے اس کی مزید تاکید بتلائی گئی ہے۔
Ayah 20:131

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

اور مت پسار اپنی آنکھیں اس چیز پر جو فائدہ اٹھانے کو دی ہم نے ان طرح طرح کے لوگوں کو رونق دنیا کی زندگی کی ان کے جانچنے کو اور تیرے رب کی دی ہوئی روزی بہتر ہے اور بہت باقی رہنے والی

دولت دنیا چند روزہ ہے یہ اللہ کے نزدیک مقبولیت کی علامت نہیں بلکہ مومن کے لئے خطرہ کی چیز ہے وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ ، اس میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے اور دراصل ہدایت کرنا امت کو ہے کہ دنیا کے مالداروں سرمایہ داروں کو قسم قسم کی دنیوی رونق اور طرح طرح کی نعمتیں حاصل ہیں۔ آپ ان کی طرف نظر بھی نہ اٹھایئے کیونکہ یہ سب عیش فانی اور چند روزہ ہے اللہ تعالیٰ نے جو نعمت آپ کو اور آپ کے واسطے سے مؤمنین کو عطا فرمائی ہے وہ بدرجہا ان کی اس چند روزہ رونق حیات سے بہتر ہے۔ دنیا میں کفار و فجار کی عیش و عشرت اور دولت و حشمت ہمیشہ ہی سے ہر شخص کے لئے یہ سوال بنتی رہی ہے کہ جب یہ لوگ اللہ کے نزدیک مبغوض اور ذلیل ہیں تو ان کے پاس یہ نعمتیں کیسی اور کیوں ہیں اور اطاعت شعار مؤمنین کی غربت و افلاس کیوں ؟ یہاں تک کہ فاروق اعظم جیسے عالی قدر بزرگ کو اس سوال نے متاثر کیا۔ جس وقت وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ کے خاص حجرہ میں داخل ہوئے جس میں آپ خلوت گزیں تھے اور یہ دیکھا کہ آپ ﷺ ایک موٹی موٹی تیلیوں کے بوریئے پر لیٹے ہوئے ہیں اور ان تیلیوں کے نشانات آپ کے بدن مبارک پر کھڑے ہوگئے ہیں تو بےاختیار رو پڑے اور عرض کیا یا رسول اللہ یہ کسری و قیصر اور ان کے امراء کیسی کیسی نعمتوں اور راحتوں میں ہیں اور آپ ساری مخلوق میں اللہ کے منتخب رسول اور محبوب ہیں اور آپ کی معیشت کا یہ حال ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے ابن خطاب کیا تم اب تک شک و شبہ میں مبتلا ہو۔ یہ لوگ تو وہ ہیں جن کی لذات و محبوبات اللہ نے اسی دنیا میں ان کو دے دی ہیں آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں وہاں عذاب ہی عذاب ہے (اور مومنین کا معاملہ برعکس ہے) یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ دنیا کی زینت اور راحت طلبی سے بالکل بےنیاز اور بےتعلق زندگی کو پسند فرماتے تھے باوجودیکہ آپ کو پوری قدرت حاصل تھی کہ اپنے لئے بہتر سے بہتر راحت کا سامان جمع کرلیں اور جب کبھی دنیا کی دولت آپ کے پاس بغیر کسی محنت مشقت اور سعی و طلب کے آبھی جاتی تھی تو فوراً اللہ کی راہ میں غرباء فقراء پر اس کو خرچ کر ڈالتے تھے اور اپنے واسطے کل کے لئے بھی کچھ باقی نہ چھوڑتے تھے۔ ابن ابی حاتم نے بروایت ابو سعید خدری نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان اخوف ما اخاف علیکم ما یفتح اللہ لکم من زھرۃ الدنیا (ابن کثیر) مجھے تم لوگوں کے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ خوف اور خطرہ ہے وہ دولت وزینت دنیا ہے جو تم پر کھول دی جاوے گی۔ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے امت کو پہلے ہی یہ خبر بھی دے دی ہے کہ آئندہ زمانے میں تمہاری فتوحات دنیا میں ہوں گی اور مال و دولت اور عیش و عشرت کی فراوانی ہوجائے گی۔ وہ صورت حال کچھ زیادہ خوش ہونے کی نہیں بلکہ ڈرنے کی چیز ہے کہ اس میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کے احکام سے غفلت نہ ہوجائے۔
Ayah 20:132

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

اور حکم کر اپنے گھر والوں کو نماز کا اور خود بھی قائم رہ اس پر ہم نہیں مانگتے تجھ سے روزی ہم روزی دیتے ہیں تجھ کو اور انجام بھلا ہے پرہیزگاری کا

اپنے اہل و عیال اور متعلقین کو نماز کی پابندی کی تاکید اور اس کی حکمت وَاْمُرْ اَهْلَكَ بالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا، یعنی آپ اپنے اہل کو بھی نماز کا حکم کیجئے اور خود بھی اس پر جمے رہئے۔ یہ بظاہر دو حکم الگ الگ ہیں ایک اہل و عیال کو نماز کی تاکید دوسرے خود اس کی پابندی لیکن غور کیا جائے تو خود اپنی نماز کی پوری پابندی کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ آپ کا ماحول آپ کے اہل و عیال اور متعلقین نماز کے پابند ہوں کیونکہ ماحول اس کے خلاف ہوا تو طبعی طور پر انسان خود بھی کوتاہی کا شکار ہوجاتا ہے۔ لفظ اَهْلَ میں بیوی اولاد اور متعلقین سبھی داخل ہیں جن سے انسان کا ماحول اور معاشرہ بنتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ پر جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ روزانہ صبح کی نماز کے وقت حضرت علی اور فاطمہ کے مکان پر جا کر آواز دیتے تھے الصلوة الصلوة (قرطبی) اور حضرت عروہ ابن زبیر جب کبھی امراء و سلاطین کی دولت و حشمت پر ان کی نظر پڑتی تو فوراً اپنے گھر میں لوٹ جاتے اور گھر والوں کو نماز کے لئے دعوت دیتے اور یہ آیت پڑھ کر سناتے تھے اور حضرت فاروق اعظم جب رات کو تہجد کے لئے بیدار ہوتے تو اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کردیتے تھے اور یہی آیت پڑھ کر سناتے تھے (قرطبی) جو آدمی نماز اور اللہ کی عبادت میں لگ جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے رزق کا معاملہ آسان بنا دیتے ہیں لَا نَسْــَٔــلُكَ رِزْقًا یعنی ہم تم سے یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ تم اپنا اور اپنے اہل و عیال کا رزق اپنے زور علم و عمل سے پیدا کرو بلکہ یہ معاملہ ہم نے اپنے ذمہ رکھا ہے کیونکہ رزق کی تحصیل دراصل انسان کے بس میں سے ہی نہیں وہ زیادہ سے زیادہ یہی تو کرسکتا ہے کہ زمین کو نرم قابل کاشت بنائے اور کچھ دانے اس میں ڈال دے مگر دانہ کے اندر سے درخت نکالنا اور پیدا کرنا اس میں تو اس کا کوئی ادنی دخل نہیں وہ براہ راست حق تعالیٰ کا فعل ہے۔ درخت نکل آنے کے بعد بھی انسان کا سارا عمل اس کی حفاظت کرنا اور جو پھل پھول قدرت نے اس کے اندر پیدا فرمائے ہیں ان سے فائدہ اٹھانا۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہوجائے اللہ تعالیٰ یہ بار محنت بھی اس کے لئے آسان اور ہلکا کردیتے ہیں۔ ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ یقول اللہ تعالیٰ یا ابن ادم تفرغ لعبادتی املاء صدرک غنی واسد فقرک وان لم تفعل ملاءت صدرک شغلا ولم اسد فقرک (ابن کثیر) (اللہ تعالیٰ فرماتا ہےاے ابن آدم تو میری عبادت کے لئے اپنے آپ کو فارغ کرلے تو میں تیرے سینے کو غناء و استغنا سے بھر دوں گا۔ اور تیری محتاجی کو دور کر دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرا سینہ فکر اور شغل سے بھر دوں گا اور محتاجی دور نہ کروں گا (یعنی جتنا مال بڑھتا جائے گا حرص بھی اتنی ہی بڑھتی چلی جائے گی۔ اس لئے ہمیشہ محتاج ہی رہے گا۔) اور حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ من جعل ھمومہ ھما واحدا ھم المعاد کفاہ اللہ ھم دنیاہ ومن تشبعت بہ الھموم فی احوال الدنیا لم یبال اللہ فی ای اودیۃ ھلک رواہ ابن ماجہ (ابن کثیر) جو شخص اپنے سارے فکروں کو ایک فکر یعنی آخرت کی فکر بنا دے تو اللہ تعالیٰ اس کے دنیا کے فکروں کی خود کفالت کرلیتا ہے اور جس کے فکر دنیا کے مختلف کاموں میں لگے رہے تو اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں کہ وہ ان فکروں کے کسی جنگل میں ہلاک ہوجائے۔
Ayahs 20:133–134

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:133 in the Quran reader

اور لوگ کہتے ہیں یہ کیوں نہیں لے آتا ہمارے پاس کوئی نشانی اپنے رب سے، کیا پہنچ نہیں چکی ان کو نشانی اگلی کتابوں میں کی

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى Open ayah 20:134 in the Quran reader

اور اگر ہم ہلاک کردیتے ان کو کسی آفت میں اس سے پہلے تو کہتے اے رب کیوں نہ بھیجا ہم تک کسی کو پیغام دے کر کہ چلتے تیری کتاب پر ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے

بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى یعنی پچھلی آسمانی کتابیں تورات و انجیل اور صحف ابراہیم ؑ وغیرہ سب کے سب رسول آخر الزماں محمد مصطفے ٰ ﷺ کی نبوت و رسالت کی شہادت دیتے آئے ہیں کیا یہ بینات ان منکرین کے لئے کافی سے زیادہ ثبوت نہیں ہے۔
Ayah 20:135

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ Open ayah 20:135 in the Quran reader

تو کہہ ہر کوئی راہ دیکھتا ہے سو تم بھی راہ دیکھو آئندہ جان لو گے کون ہیں سیدھی راہ والے اور کس نے راہ پائی۔

فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاط السَّوِيِّ وَمَنِ اهْتَدٰى، یعنی آج تو اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو زبان دی ہوئی ہے ہر ایک اپنے طریقے اور اپنے عمل کے بہتر اور صحیح ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے لیکن یہ دعویٰ کچھ کام دینے والا نہیں۔ بہتر اور صحیح طریقہ تو وہی ہوسکتا ہے جو اللہ کے نزدیک مقبول و صحیح ہو، اور اس کا پتہ قیامت کے روز سب کو لگ جائے گا کہ کون غلطی اور گمراہی پر تھا کون صحیح اور سیدھے راستہ پر، اللھم اھدنا لما اختلف فیھا الی الحق باذنک ولاحول ولاقوة الا بک ولا ملجا ولا منجا منک الا الیک۔ الحمد للہ الذی و فقنی لتکمیل سورة طہ ضحی یوم الخمیس، لاربعة عشر خلت من ذی الحجة الحرام 1390 ھ واللہ سبحانہ وتعالی اسال لتکمیل باقی القرآن واللہ المستعان وعلیہ التکلان