Ayah 21:1خلاصہ تفسیر
ان (منکر) لوگوں سے ان کا (وقت) حساب نزدیک آپہنچا (یعنی قیامت وقتاً فوقتاً نزدیک ہوتی جاتی ہے) اور یہ (ابھی) غفلت (ہی) میں (پڑے) ہیں (اور اس کے یقین کرنے اور اس کے لئے تیاری کرنے سے) اعراض کئے ہوئے ہیں (اور ان کی غفلت یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ) ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو نصیحت تازہ (حسب حال ان کے) آتی ہے (بجائے اس کے ان کو تنبہ ہوتا) یہ اس کو ایسے طور سے سنتے ہیں کہ (اس کے ساتھ) ہنسی کرتے ہیں (اور) ان کے دل (اصلاً ادھر) متوجہ نہیں ہوتے اور یہ لوگ یعنی ظالم (اور کافر) لوگ (آپس میں) چپکے چپکے سرگوشی کرتے ہیں (اس لئے نہیں کہ ان کو اہل اسلام کا خوف تھا کیونکہ مکہ میں کفار ضعیف نہ تھے بلکہ اس لئے کہ اسلام کے خلاف خفیہ سازش کر کے اس کو مٹائیں) کہ یہ (یعنی محمد ﷺ محض تم جیسے ایک (معمولی) آدمی ہیں (یعنی نبی نہیں اور یہ جو ایک دلکش و دلربا کلام سناتے ہیں اس پر اعجاز کا شبہ اور اس اعجاز سے نبوت کا خیال نہ کرنا کیونکہ وہ حقیقت میں سحر آمیز کلام ہے) تو کیا (باوجود اس بات کے) پھر بھی تم جادو کی بات سننے کو (ان کے پاس) جاؤ گے حالانکہ تم (اس بات کو خوب) جانتے (بوجھتے) ہو پیغمبر ﷺ کو جواب دینے کا حکم ہوا اور انہوں) نے (موافق حکم کے جواب میں) فرمایا کہ میرا رب ہر بات کو (خواہ) آسمان میں ہو اور (خواہ) زمین میں ہو اور خواہ ظاہر ہو یا خفی ہو خوب) جانتا ہے اور وہ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے (سو تمہارے ان اقوال کفریہ کو بھی جانتا ہے اور تم کو خوب سزا دے گا اور انہوں نے کلام حق کو صرف جادو کہنے پر اکتفا نہیں کیا) بلکہ یوں (بھی) کہا کہ یہ (قرآن) پریشان خیالات ہیں (کہ واقع میں دلکش بھی نہیں) بلکہ (اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ) انہوں نے (یعنی پیغمبر نے) اس کو (قصداً و اختیاراً اپنے دل سے) تراش لیا ہے (اور خواب کے خیالات میں تو انسان قدرے بےاختیار اور معذور اور مبتلائے اشتباہ بھی ہوسکتا ہے اور یہ افتراء کچھ قرآن ہی کے ساتھ خاص نہیں) بلکہ یہ تو ایک شاعر شخص ہیں (ان کی تمام باتیں ایسی ہی تراشیدہ اور خیالی ہوتی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ رسول نہیں ہیں اور بڑے مدعی رسالت کے ہیں) تو ان کو چاہئے کہ ایسی کوئی (بڑی) نشانی لاویں جیسا پہلے لوگ رسول بنائے گئے (اور بڑے بڑے معجزات ظاہر کئے اس وقت ہم رسول مانیں اور ایمان لائیں اور یہ کہنا بھی ایک بہانہ تھا ورنہ انبیاء سابقین کو بھی نہ مانتے تھے حق تعالیٰ جواب میں فرماتے ہیں کہ) ان سے پہلے کوئی بستی والے جن کو ہم نے ہلاک کیا ہے (باوجود ان کے فرمائشی معجزات ظاہر ہوجانے کے) ایمان نہیں لائے سو کیا یہ لوگ (ان معجزات کے ظاہر ہونے پر) ایمان لے آویں گے (اور ایسی حالت میں ایمان نہ لانے پر عذاب نازل ہوجاوے گا اس لئے ہم وہ معجزات ظاہر نہیں فرماتے اور قرآن معجزہ کافی ہے) اور (رسالت کے متعلق جو ان کا یہ شبہ ہے کہ رسول بشر نہ ہونا چاہئے اس کا جواب یہ ہے کہ) ہم نے آپ سے قبل صرف آدمیوں ہی کو پیغمبر بنایا ہے جن کے پاس ہم وحی بھیجا کرتے تھے سو (اے منکرو) اگر تم کو (یہ بات) معلوم نہ ہو تو اہل کتاب سے دریافت کرلو (کیونکہ یہ لوگ اگرچہ کافر ہیں مگر خبر متواتر میں راوی کا مسلمان یا ثقہ ہونا شرط نہیں، پھر تم ان کو اپنا دوست سمجھتے ہو تو تمہارے نزدیک ان کی بات معتبر ہونی چاہئے) اور (اسی طرح رسالت کے متعلق جو اس شبہ کی دوسری تقریر ہے کہ رسول فرشتہ ہونا چاہئے اس کا جواب یہ ہے کہ) ہم نے ان رسولوں کے (جو کہ گذر چکے ہیں) ایسے بدن نہیں بنائے تھے جو کھانا نہ کھاتے ہیں (یعنی فرشتہ نہ بنایا تھا) اور (یہ لوگ جو آپ کی وفات کے انتظار میں خوشیاں منا رہے ہیں لقولہ تعالیٰ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيْبَ الْمَنُوْنِ کذا فی المعالم، یہ وفات بھی منافی نبوت نہیں کیونکہ) وہ (گزشتہ حضرات (بھی دنیا میں) ہمیشہ رہنے والے نہیں ہوئے (پس اگر آپ کی بھی وفات ہوجاوے تو نبوت میں کیا اعتراض لازم آیا، غرض یہ کہ جیسے پہلے رسول تھے ویسے ہی آپ بھی ہیں اور یہ لوگ جس طرح آپ کی تکذیب کرتے ہیں اسی طرح ان حضرات کی بھی اس زمانے کے کفار نے تکذیب کی) پھر ہم نے جو ان سے وعدہ کیا تھا (کہ مکذبین کو عذاب سے ہلاک کریں گے اور تم کو اور مؤمنین کو محفوظ رکھیں گے ہم نے) اس (وعدہ) کو سچا کیا ان کو اور جن جن کو (نجات دینا) منظور ہوا (اس عذاب سے) ہم نے نجات دی اور (اس عذاب سے) حد (اطاعت) سے گزرنے والوں کو ہلاک کیا (سو ان لوگوں کو ڈرنا چاہئے اے منکرو اس تکذیب کے بعد تم پر دنیا و آخرت میں عذاب آوے تو تعجب نہیں کیونکہ) ہم تمہارے پاس ایسی کتاب بھیج چکے ہیں کہ اس میں تمہاری نصیحت (کافی) موجود ہے کیا (باوجود ایسی تبلیغ موعظت کے) پھر بھی تم نہیں سمجھتے (اور نہیں مانتے)۔
معارف و مسائل
سورة انبیاء کی فضیلت
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ سورة کہف اور مریم اور طہ اور انبیاء یہ چاروں سورتیں نزول کے اعتبار سے ابتدائی سورتیں اور میری یہ قدیم دولت اور کمائی ہیں جن کی ہمیشہ حفاظت کرتا ہوں (قرطبی)
اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ ، یعنی وہ وقت قریب آگیا جبکہ لوگوں سے ان کے اعمال کا حساب لیا جاوے گا مراد اس سے قیامت ہے اور اس کا قریب آجانا دنیا کی پچھلی عمر کے لحاظ سے ہے کیونکہ یہ امت آخر الامم ہے اور اگر حساب عام مراد لیا جائے تو حساب قبر بھی اس میں شامل ہے جو ہر انسان کو مرنے کے فوراً بعد دینا ہوتا ہے اور اسی لئے ہر انسان کی موت کو اس کی شخصی قیامت کہا گیا ہے من مات فقد قامت قیامتہ، یعنی جو شخص مر گیا اس کی قیامت تو ابھی قائم ہوگئی اس معنے کے اعتبار سے حساب کا وقت قریب ہونا تو بالکل ہی واضح ہے کہ ہر شخص کی موت خواہ کتنی ہی عمر ہو کچھ دور نہیں خصوصاً جبکہ عمر کی انتہا نامعلوم ہے تو ہر دن ہر گھنٹہ موت کا خطرہ سامنے ہے۔
مقصود اس آیت سے غفلت شعار لوگوں کو متنبہ کرنا ہے جس میں سب مومن و کافر داخل ہیں کہ دنیا کی خواہشات میں مشغول ہو کر اس حساب کے دن کو نہ بھلائیں کیونکہ اس کو بھلا دینا ہی ساری خرابیوں اور گناہوں کی بنیاد ہے۔
Ayah 21:2مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَـمَعُوْهُ وَهُمْ يَلْعَبُوْنَ ، لَاهِيَةً قُلُوْبُهُمْ جو لوگ آخرت اور قبر کے عذات سے غفلت اور اس کے لئے تیاری سے اعراض کرنے والے ہیں یہ ان کے حال کا مزید بیان ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن کی کوئی نئی آیت آتی اور پڑھی جاتی ہے تو وہ اس کو اس حالت میں سنتے ہیں کہ کھیل اور ہنسی مذاق کرتے ہیں اور ان کے دل اللہ سے اور آخرت سے بالکل غافل ہوتے ہیں اس کی یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ قرآن کی آیات سننے کے وقت یہ اپنے کھیل اور شغل میں اسی طرح لگے رہتے ہیں قرآن کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ خود آیات قرآن ہی سے کھیل اور ہنسی مذاق کا معاملہ کرنے لگتے ہیں۔
Ayahs 21:3–4اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ، یعنی یہ لوگ آپس میں آہستہ آہستہ سرگوشی کر کے یہ کہتے ہیں کہ یہ جو اپنے کو نبی اور رسول کہتے ہیں یہ تو ہم جیسے ہی انسان ہیں کوئی فرشتہ تو ہیں نہیں کہ ہم ان کی بات مان لیں اور پھر اس کلام الٰہی کو جو ان کے سامنے پڑھا جاتا تھا اور اس کی حلاوت و بلاغت اور دلوں میں تاثیر کا کوئی کافر بھی انکار نہ کرسکتا تھا، اس سے لوگوں کو ہٹانے کی صورت یہ نکالی کہ اس کو سحر اور جادو قرار دیں اور پھر لوگوں کو اسلام سے روکنے کے لئے یہ کہیں کہ جب تم سمجھ گئے کہ یہ جادو ہے تو پھر ان کے پاس جانا اور یہ کلام سننا دانشمندی کے خلاف ہے شاید یہ گفتگو آپس میں آہستہ اس لئے کرتے تھے کہ مسلمان سن لیں گے تو ان کی احمقانہ تلبیس کا پول کھول دیں گے۔
Ayah 21:5بَلْ قَالُـوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۢ، اضغاث احلام ان خوابوں کو کہا جاتا ہے جن میں کچھ نفسانی یا شیطانی خیالات شامل ہوجاتے ہیں اس لئے اس کا ترجمہ پریشان خیالات سے کیا گیا ہے۔ یعنی ان منکرین نے اول تو قرآن کو جادو کہا پھر اس سے آگے بڑھے تو پریشان خواب کہنے لگے پھر اس سے بھی آگے بڑھے تو کہنے لگے یہ تو اللہ تعالیٰ پر افتراء اور بہتان ہے کہ یہ اس کا کلام ہے پھر کہنے لگے کہ اصل بات یہ ہے کہ یہ کوئی شاعر آدمی ہے شاعرانہ خیالات اس کے کلام میں ہوتے ہیں۔
فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَةٍ یعنی اگر یہ واقعی نبی و رسول ہیں تو ہمارے مانگے ہوئے خاص معجزات دکھلائیں اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں اس کا بھی تجربہ اور مشاہدہ ہوچکا ہے کہ جس طرح کا معجزہ انہوں نے خود طلب کیا اللہ کے رسول کے ہاتھوں وہی معجزہ سامنے آ گیا مگر وہ پھر بھی ایمان نہ لائے اور منہ مانگے معجزے کو دیکھنے کے بعد بھی جو قوم ایمان سے گریز کرے اس کے لئے اللہ کا قانون یہ ہے کہ دنیا ہی میں عذاب نازل کر کے ختم کردی جاتی ہے اور چونکہ امت مرحومہ کو حق تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے اعزاز میں دنیا کے عذاب عام سے محفوظ کردیا ہے اس لئے ان کو ان کے مانگے ہوئے معجزات دکھلانا مصلحت نہیں۔
Ayah 21:6آگے۔ اَفَهُمْ يُؤ ْمِنُوْنَ میں اسی طرف اشارہ ہے کہ کیا منہ مانگے معجزہ کو دیکھ کر یہ ایمان لے آئیں گے مراد یہ ہے کہ ان سے اس کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی اس لئے مطلوبہ معجزہ نہیں دکھایا جاتا۔
Ayahs 21:7–9فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ، اہل الذکر سے مراد اس جگہ علماء تورات و انجیل ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے تھے مطلب یہ ہے کہ اگر تمہیں پچھلے انبیاء کا حال معلوم نہیں کہ وہ انسان تھے یا فرشتے تو علماء تورات و انجیل سے معلوم کرلو کیونکہ وہ سب جانتے ہیں کہ سب انبیاء سابقین انسان ہی کی نوع سے تھے اس لئے اگر یہاں اہل الذکر سے مطلق اہل کتاب یہود و نصاری ہی مراد ہوں تو بعید نہیں کیونکہ اس معاملے کے سبھی شاہد ہیں۔ خلاصہ تفسیر میں اسی احتمال کو اختیار کر کے تشریح کی گئی ہے۔
مسئلہ
تفسیر قرطبی میں ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جاہل آدمی جس کو احکام شریعت معلوم نہ ہوں اس پر عالم کی تقلید واجب ہے کہ عالم سے دریافت کر کے اس کے مطابق عمل کرے۔
Ayah 21:10قرآن کریم عربوں کے لئے عزت و فخر ہے
كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ، کتاب سے مراد قرآن ہے اور ذکر اس جگہ بمعنے شرف و فضیلت اور شہرت کے ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہ قرآن جو تمہاری زبان عربی میں نازل ہوا تمہارے لئے ایک بڑی عزت اور دائمی شہرت کی چیز ہے تمہیں اس کی قدر کرنا چاہئے جیسا کہ دنیا نے دیکھ لیا کہ اہل عرب کو حق تعالیٰ نے قرآن کی برکت سے ساری دنیا پر غالب اور فاتح بنادیا اور پورے عالم میں ان کی عزت و شہرت کا ڈنکا بجا اور یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ یہ عربوں کی مقامی یا قبائلی یا لسانی خصوصیت کی بناء پر نہیں بلکہ صرف قرآن کی بدولت ہوا۔ اگر قرآن نہ ہوتا تو شاید آج کوئی عرب قوم کا نام لینے والا بھی نہ ہوتا۔
Ayahs 21:11–15خلاصہ تفسیر
اور ہم نے بہت سی بستیاں جن کے رہنے والے ظالم (یعنی کافر) تھے تباہ کر ڈالیں اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی تو جب ان ظالموں نے ہمارا عذاب آتا دیکھا تو اس بستی سے بھاگنا شروع کیا (تاکہ عذاب سے بچ جاویں۔ حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ) بھاگو مت اور اپنے سامان عیش اور اپنے مکانات کی طرف واپس چلو شاید تم سے کوئی پوچھے پاچھے (کہ تم پر کیا گزری مقصود اس سے بطور تعریض کے ان کی احمقانہ جسارت پر تنبیہ ہے کہ جس سامان اور مکان پر تم کو ناز تھا اب نہ وہ سامان رہا نہ مکان نہ کسی دوست ہمدرد کا نام و نشان رہا) وہ لوگ (نزول عذاب کے وقت) کہنے لگے کہ ہائے ہماری کم بختی بیشک ہم لوگ ظالم تھے ان کا یہی شور و غل رہا یہاں تک کہ ہم نے ان کو ایسا (نیست و نابود) کردیا جس طرح کھیتی کٹ گئی ہو یا آگ بجھ گئی ہو۔
معارف و مسائل
ان آیات میں جن بستیوں کے تباہ کرنے کا ذکر ہے بعض مفسرین نے ان کو یمن کی بستیاں حضور اء اور قلابہ قرار دیا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک رسول بھیجا تھا جس کے نام میں روایات مختلف ہیں۔ بعض میں موسیٰ بن میشا اور بعض میں شعیب ذکر کیا گیا ہے اور اگر شعیب نام ہے تو وہ مدین والے شعیب ؑ کے علاوہ کوئی اور ہیں۔ ان لوگوں نے اللہ کے رسول کو قتل کر ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک کافر بادشاہ بخت نصر کے ہاتھوں تباہ کرایا۔ بخت نصر کو ان پر مسلط کردیا جیسا کہ بنی اسرائیل نے جب فلسطین میں بےراہی اختیار کی تو ان پر بھی بخت نصر کو مسلط کر کے سزا دی گئی تھی مگر صاف بات یہ ہے کہ قرآن نے کسی خاص بستی کو معین نہیں کیا اس لئے عام ہی رکھا جائے اس میں یہ یمن کی بستیاں بھی داخل ہوں گی واللہ اعلم
Ayah 21:16خلاصہ تفسیر
اور (ہمارے یکتا ہونے پر ہماری مصنوعات دلالت کر رہی ہیں کیونکہ) ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے اس کو اس طور پر نہیں بنایا کہ ہم فعل عبث کرنے والے ہوں (بلکہ ان میں بہت سی حکمتیں ہیں جن میں بڑی حکمت توحید حق پر دلات ہے اور) اگر ہم کو (آسمان اور زمین کے بنانے سے کوئی حکمت مقصود نہ ہوتی بلکہ ان کو محض) مشغلہ ہی بنانا منظور ہوتا (جس میں کوئی معتدبہ فائدہ مقصود نہیں ہوتا محض دل بہلانا منظور ہوتا ہے) تو ہم خاص اپنے پاس کی چیز کو مشغلہ بناتے (مثلاً اپنی صفات کمال کے مشاہدہ کو) اگر ہم کو یہ کرنا ہوتا (کیونکہ مشغلہ کو مشاغل کی شان سے مناسبت چاہئے تو کہاں ذات خالق کائنات اور کہاں یہ مصنوعات حادثہ البتہ صفات کو بوجہ قدیم اور لازم ذات ہونے کے باہم مناسبت سے سو جب بدلائل عقلیہ و اجماع اہل ملل اس کا بھی مشغلہ قرار دیا جانا محال ہے تو مصنوعات حادثہ میں تو کسی کو اس کا وہم بھی نہ ہونا چاہئے پس ثابت ہوا کہ ہم نے عبث یعنی فضول پیدا نہیں کیا) بلکہ اثبات حق اور ابطال باطل کے لئے پیدا کیا ہے اور) ہم (اس) حق بات کو (جس کے ثبوت پر مصنوعات دلالت کرتی ہیں اس) باطل بات پر (اس طرح غالب کردیتے ہیں جیسے یوں سمجھو کہ ہم اس کو اس پر) پھینک مارتے ہیں سو وہ (حق) اس (باطل) کا بھیجا نکال دیتا ہے (یعنی اس کو مغلوب کردیتا ہے) سو وہ (باطل مغلوب ہو کر) دفعتہ جاتا رہتا ہے (یعنی دلائل توحید جو ان مصنوعات سے حاصل ہوتے ہیں شرک کی بالکلیہ نفی کردیتے ہیں جس کی جانب مخالف کا احتمال ہی نہیں رہتا) اور (تم جو باوجود ان دلائل قاہرہ کے شرک کرتے ہو تو) تمہارے لئے اس بات سے بڑی خرابی ہے۔ جو تم (خلاف حق کے) گھڑتے ہو اور (حق تعالیٰ کی وہ شان ہے کہ) جتنے کچھ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اسی کے (مملوک) ہیں اور (ان میں سے) جو اللہ کے نزدیک (بڑے مقبول و مقرب) ہیں (ان کی بندگی کی یہ کیفیت ہے کہ) وہ اس کی عبادت سے عار نہیں کرتے اور نہ تھکتے ہیں (بلکہ) شب و روز (اللہ کی) تسبیح (و تقدیس) کرتے ہیں (کسی وقت) موقوف نہیں کرتے (جب ان کی یہ حالت ہے تو عام مخلوق تو کس شمار میں ہے پس لائق عبادت کے وہی ہے اور جب کوئی دوسرا ایسا نہیں تو پھر اس کا شریک سمجھنا کتنی بےعقلی ہے) کیا (باوجود ان دلائل توحید کے) ان لوگوں نے خدا کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں (بالخصوص) زمین کی چیزوں میں سے (جو کہ اور بھی ادنی تر اور نازل تر ہیں جیسے پتھر یا معدنیات کے بت) جو کسی کو زندہ کرتے ہیں (یعنی جو جان بھی نہ ڈال سکتا ہو ایسا عاجز کب معبود ہونے کے قابل ہوگا اور) زمین (میں یا) آسمان میں اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور معبود (واجب الوجود) ہوتا تو دونوں (کبھی کے) درہم برہم ہوجاتے (کیونکہ عادة دونوں کے ارادوں اور افعال میں تزاحم ہوتا، ایک دوسرے سے ٹکراتے اور اس کے لئے فساد لازم ہے لیکن فساد واقع نہیں ہے اس لئے متعدد معبود بھی نہیں ہو سکتے) سو (ان تقریرات سے ثابت ہوا کہ) اللہ تعالیٰ جو کہ مالک ہے عرش کا ان امور سے پاک ہے جو کچھ یہ لوگ بیان کر رہے ہیں (کہ نعوذ باللہ اس کے اور شرکاء بھی ہیں حالانکہ اس کی ایسی عظمت ہے کہ) وہ جو کچھ کرتا ہے اس سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا اور اوروں سے باز پرس کی جاسکتی ہے (یعنی اللہ تعالیٰ باز پرس کرسکتا ہے پس کوئی عظمت میں اس کا شریک نہیں ہوا پھر معبودیت میں کوئی کیسے شریک ہوسکتا ہے، یہاں تک تو بطور ابطال اور نقص و استلزام محال کے کلام تھا آگے بطور سوال اور منع کے کلام ہے کہ) کیا خدا کو چھوڑ کر انہوں نے اور معبود بنا رکھے ہیں (ان سے) کہئے کہ تم اپنی دلیل (اس دعویٰ پر) پیش کرو (یہاں تک تو سوال اور دلیل عقلی سے شرک کا ابطال تھا آگے دلیل نقلی سے استدلال ہے کہ) یہ میرے ساتھ والوں کی کتاب (یعنی قرآن) اور مجھ سے پہلے لوگوں کی کتابیں (یعنی توراة و انجیل و زبور) موجود ہیں (جن کا صدق اور منزل من اللہ ہونا دلیل عقلی سے ثابت ہے اور اوروں میں گو تحریف ہوئی ہے مگر قرآن میں تحریف کا احتمال نہیں، پس جو مضمون ان کتب کا قرآن کے مطابق ہوگا وہ یقینا صحیح ہے اور ان سب دلائل مذکورہ کا مقتضا یہ تھا کہ یہ لوگ توحید کے قائل ہوجاتے لیکن پھر بھی قائل نہیں) بلکہ ان میں زیادہ وہی ہیں جو امر حق کا یقین نہیں کرتے سو (اس وجہ سے) وہ (اس کے قبول کرنے سے) اعراض کر رہے ہیں اور (یہ توحید کوئی جدید بات نہیں جس سے تو خوش ہو بلکہ شرع قدیم ہے چنانچہ) ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا پیغمبر نہیں بھیجا جس کے پاس ہم نے یہ وحی نہ بھیجی ہو کہ میرے سوا کوئی معبود (ہونے کے لائق) نہیں پس میری (ہی) عبادت کیا کرو اور یہ (مشرک) لوگ (جو بیں ان میں بعضے) یوں کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے (فرشتوں کو) اولاد بنا رکھی ہے (توبہ توبہ) وہ (اللہ تعالیٰ اس سے) پاک ہے (اور وہ فرشتے اس کی اولاد نہیں ہیں) بلکہ (اس کے) بندے ہیں (ہاں) معزز (بندے ہیں اسی سے بےعقلوں کو اشتباہ ہوگیا اور ان کی عبدیت اور محکومیت اور ادب کی یہ کیفیت ہے کہ) وہ اس سے آگے بڑھ کر بات نہیں کرسکتے (بلکہ منتظر حکم رہتے ہیں) اور وہ اسی کے حکم کے موافق عمل کرتے ہیں (اس کے خلاف نہیں کرسکتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ) اللہ تعالیٰ ان کے اگلے پچھلے احوال کو (خوب) جانتا ہے (پس جو حکم ہوگا اور جب حکم ہوگا موافق حکمت کے ہوگا اس لئے نہ عملی مخالفت کرتے ہیں نہ قولی مسابقت کرتے ہیں) اور (ان کے ادب کی یہ کیفیت ہے کہ) وہ بجز اس (شخص) کے جس کے لئے (شفاعت کرنے کی) اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو اور کسی کی سفارش نہیں کرسکتے اور وہ سب اللہ تعالیٰ کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں اور (یہ تو بیان تھا ان کی مغلوبیت اور محکومیت کا آگے بیان ہے اللہ تعالیٰ کی غالبیت اور حاکمیت کا، گو حاصل دونوں کا متقارب ہے یعنی) ان میں سے جو شخص (بالفرض) یوں کہئے کہ (نعوذ باللہ) میں علاوہ خدا کے معبود ہوں سو ہم اس کو سزائے جہنم دیں گے (اور) ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں (یعنی خدا کا ان پر پورا بس ہے جیسے اور مخلوقات پر، پھر وہ خدا کی اولاد جس کے لئے خدا ہونا ضروری ہے کیسے ہو سکتے ہیں۔)
معارف و مسائل
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاۗءَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لٰعِبِيْنَ ، یعنی ہم نے آسمان اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی چیزوں کو لعب اور کھیل کے لئے نہیں بنایا۔ پچھلی آیتوں میں بعض بستیوں کو تباہ و ہلاک کرنے کا ذکر آیا تھا اس آیت میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جس طرح زمین و آسمان اور ان کی تمام مخلوقات کی تخلیق بڑی بڑی اہم حکمتوں اور مصلحتوں پر مبنی ہے جن بستیوں کو تباہ کیا گیا ان کا تباہ کرنا بھی عین حکمت تھا، اس مضمون کو اس آیت میں تعبیر اس طرح کیا گیا کہ یہ توحید یا رسالت کے منکر کیا ہماری قدرت کاملہ اور علم و بصیرت کی ان نمایاں نشانیوں کو جو زمین و آسمان کی تخلیق میں اور تمام مخلوقات کی صنعت گری میں مشاہدہ کی جا رہی ہیں دیکھتے سمجھتے نہیں یا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے یہ سب چیزیں فضول ہی محض کھیل کے لئے پیدا کی ہیں۔
لٰعِبِيْنَ ، لعب سے مشتق ہے، لعب ایسے کام کو کہا جاتا ہے جس سے کوئی صحیح مقصد متعلق نہ ہو (راغب) اور لہو اس کام کو کہتے ہیں جس سے کوئی صحیح یا غلط مقصد ہی نہ ہو خالی وقت گزاری کا مشغلہ بنایا جائے منکرین اسلام جو رسول اللہ ﷺ اور قرآن پر اعتراض اور توحید کا انکار کرتے ہیں، قدرت حق کی ان عظیم الشان نشانیوں کے باوجود نہیں مانتے تو ان کا یہ عمل گویا اس کا دعویٰ ہے کہ یہ سب چیزیں فضول ہی کھیل کے لئے بنائی گئی ہیں، ان کے جواب میں یہ ارشاد ہوا کہ یہ کھیل اور فضول نہیں ذرا بھی غور و فکر سے کام لو تو کائنات کے ایک ایک ذرہ میں اور قدرت کی ایک ایک صنعت میں ہزاروں حکمتیں ہیں اور سب کی سب معرفت حق سبحانہ اور اس کی توحید کے خاموش سبق ہیں۔
ہر گیا ہے کہ از زمین روید وحدہ لاشریک لہ گوید
Ayah 21:17لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ ڰ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ ، یعنی اگر ہم کوئی مشغلہ بطور کھیل کے بنانا ہی چاہتے اور ہمیں یہ کام کرنا ہی ہوتا تو ہمیں اس کی کیا ضرورت تھی کہ زمین و آسمان وغیرہ پیدا کریں یہ کام اپنے پاس کی چیزوں سے بھی ہوسکتا تھا۔
عربی زبان میں حرف لو فرضی چیزوں کے لئے بولا جاتا ہے جس کا کوئی وجود نہ ہو اس جگہ بھی اس حرف سے یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ جو احمق ان تمام علویات اور سفلیات آسمانی اور زمینی مخلوقات اور مصنوعات عجیبہ کو لہو و لعب سمجھتے ہیں کیا وہ اتنی بھی عقل نہیں رکھتے کہ اتنے بڑے بڑے کام لہو و لعب کے لئے نہیں ہوا کرتے یہ کام جس کو کرنا ہو وہ یوں نہیں کیا کرتا، اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ لہو و لعب کا کوئی کام بھی حق تعالیٰ کی عظمت شان تو بہت بلند وبالا ہے کسی اچھے معقول آدمی سے بھی متصور نہیں۔
لہو کے اصلی اور معروف معنی بیکاری کے مشغلہ کے ہیں اسی کے مطابق مذکورہ تفسیر کی گئی ہے۔ بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ لفظ لہو کبھی بیوی کے لئے اور اولاد کے لئے بھی بولا جاتا ہے اور یہاں یہ مراد لی جائے تو مطلب آیت کا یہود و نصاری پر رد کرنا ہوگا جو حضرت مسیح یا عزیر (علیہما السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں کہ اگر ہمیں اولاد ہی بنانی ہوتی تو انسان مخلوق کو کیوں بناتے اپنے پاس کی مخلوق میں سے بنا لیتے۔ واللہ اعلم
Ayah 21:18بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ، قذف کے لغوی معنی پھینکنے اور پھینک مارنے کے، یدمغ کے معنے دماغ پر ضرب لگانے کے ہیں اور زاہق کے معنے جانے والا اور بےنام و نشان ہوجانے والا۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ زمین و آسمان کی عجیب و غریب کائنات ہم نے کھیل کے لئے نہیں بلکہ بڑی حکمتوں پر مبنی کر کے بنائی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کے ذریعہ حق و باطل کا امتیاز ہوتا ہے، مصنوعات قدرت کا مشاہدہ انسان کو حق کی طرف ایسی رہبری کرتا ہے کہ باطل اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔ اسی مضمون کی تعبیر اس طرح کی گئی ہے کہ حق کو باطل کے اوپر پھینک مارا جاتا ہے جس سے باطل کا دماغ (بھیجا) نکل جاتا ہے اور وہ بےنام و نشان ہو کر رہ جاتا ہے۔
Ayah 21:19وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا يَسْـتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ ، یعنی ہمارے جو بندے ہمارے پاس ہیں مراد اس سے فرشتے ہیں وہ ہر وقت ہماری عبادت میں بغیر کسی وقفہ کے ہمیشہ مشغول رہتے ہیں اگر تم ہماری عبادت نہ کرو تو ہماری خدائی میں کوئی فرق نہیں آتا۔ انسان چونکہ دوسروں کو بھی اپنے حال پر قیاس کرنے کا عادی اور خوگر ہوتا ہے اس کو دائمی عبادت سے دو چیزیں مانع ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ کسی کی عبادت کرنے کو اپنے درجہ اور مقام کے خلاف سمجھے اس لئے عبادت کے پاس ہی نہ جائے دوسرے یہ کہ عبادت تو کرنا چاہتا ہے مگر دائمی مسلسل اس لئے نہیں کرسکتا کہ بمقتضائے بشریت وہ تھوڑا کام کر کے تھک جاتا ہے اس کو آرام کرنے اور سونے کی ضرورت پیش آتی ہے اس لئے آخر آیت میں فرشتوں سے ان دونوں موانع کی نفی کردی گئی کہ وہ نہ تو ہماری عبادت سے استکبار کرتے ہیں کہ اس کو اپنی شان کے خلاف جانیں اور نہ عبادت کرنے سے کسی وقت تھکتے ہیں اسی مضمون کی تکمیل بعد کی آیت میں اس طرح فرمائی
Ayah 21:20يُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَايَفْتُرُوْنَ ، یعنی فرشتے رات دن تسبیح کرتے رہتے ہیں کسی وقت سست بھی نہیں ہوتے۔
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے کعب احبار سے پوچھا کہ کیا فرشتوں کو تسبیح کرنے کے سوا اور کوئی کام نہیں، اگر ہے تو پھر دوسرے کاموں کے ساتھ ہر وقت کی تسبیح کیسے جاری رہتی ہے۔ کعب نے فرمایا اے میرے بھتیجے کیا تمہارا کوئی کام اور مغشلہ تمہیں سانس لینے سے روکتا ہے اور کام کرنے میں مخل و مانع ہوتا ہے حقیقت یہی ہے کہ تسبیح فرشتوں کے لئے ایسی ہے جیسے ہمارا سانس یا آنکھ جھپکنا کہ یہ دونوں چیزیں ہر وقت ہر حال میں جاری رہتی ہیں اور کسی کام میں مانع اور مخل نہیں ہوتیں (قرطبی و بحر محیط)
Ayah 21:21اَمِ اتَّخَذُوْٓا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ يُنْشِرُوْنَ ، اس میں مشرکین کی جہالت کو کئی طرح ظاہر فرمایا ہے۔ اول یہ کہ یہ کیسے احمق ہیں کہ خدا بھی بنایا تو زمین کی مخلوق کو بنایا یہ تو علوی اور آسمانی مخلوقات سے بہرحال کمتر و ابتر ہیں دوسرے یہ کہ جن کو خدا بنایا کیا ان کو انہوں نے یہ کام کرتے دیکھا ہے کہ وہ کسی کو زندہ کرتے اور اس میں جان ڈالتے ہیں۔ معبود کے لئے تو یہ بات ضروری ہے کہ موت وحیات خلائق اس کے قبضہ میں ہو۔
Ayah 21:22لَوْ كَانَ فِيْهِمَآ اٰلِهَةٌ یہ توحید کی دلیل عادی ہے جو عام عادات کے اعتبار پر مبنی ہے اور دلیل عقلی کی طرف بھی اشارہ ہے جس کی مختلف تقریریں علم کلام کی کتابوں میں مذکور ہیں اور دلیل عادی اس بنا پر ہے کہ اگر زمین و آسمان کے دو خدا اور دونوں مالک و مختار ہوں تو ظاہر یہ ہے کہ دونوں کے احکام پورے پورے زمین و آسمان میں نافذ ہونے چاہئیں اور عادة یہ ممکن نہیں کہ جو حکم ایک دے وہی دوسرا بھی دے یا جس چیز کو ایک پسند کرے دوسرا بھی اس کو پسند کرے اس لئے کبھی کبھی اختلاف رائے اور اختلاف احکام ہونا ناگزیر ہے اور جب دو خداؤں کے احکام زمین و آسمان میں مختلف ہوئے تو نتیجہ ان دونوں کے فساد کے سوا کیا ہے۔ ایک خدا چاہتا ہے کہ اس وقت دن ہو، دوسرا چاہتا ہے رات ہو، ایک چاہتا ہے بارش ہو دوسرا چاہتا ہے نہ ہو، تو دونوں کے متضاد احکام کس طرح جاری ہوں گے اور اگر ایک مغلوب ہوگیا تو مالک مختار اور خدا نہ رہا۔ اس پر یہ شبہ کہ دونوں آپس میں مشورہ کر کے احکام جاری کیا کریں اس میں کیا بعد ہے اس کے جوابات علم کلام کی کتابوں میں بڑی تفصیل سے آئے ہیں۔ اتنی بات یہاں بھی سمجھ لی جائے کہ اگر دونوں مشورہ کے پابند ہوئے ایک بغیر دوسرے کے مشورے کے کوئی کام نہ کرسکے تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ ان میں سے ایک بھی مالک و مختار نہیں، دونوں ناقص ہیں اور ناقص خدا نہیں ہوسکتا اور شاید اگلی آیت
Ayah 21:23لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْــَٔــلُوْنَ میں بھی اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ جو شخص کسی قانون کا پابند ہو جس کے افعال و اعمال پر کسی کو مواخذہ کرنے کا حق ہو وہ خدا نہیں ہو سکتا۔ خدا وہ ہی ہے جو کسی کا پابند نہ ہو، جس سے کسی کو سوال کرنے کا حق نہ ہو۔ اگر دو خدا ہوں اور دونوں مشورہ کے پابند ہوں تو ہر ایک کو دوسرے سے سوال کرنے اور ترک مشورہ پر مواخذہ کرنے کا حق لازمی ہے جو خود منصب خدائی کے منافی ہے۔
Ayahs 21:24–26ھٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ ، اس کا ایک مفہوم تو وہ ہے جو خلاصہ تفسیر میں بیان ہوا ہے کہ ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ سے مراد قرآن اور ذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ سے مراد تورات و انجیل اور زبور وغیرہ کتب سابقہ ہیں اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ میرا اور میرے ساتھ والوں کا قرآن اور پچھلی امتوں کی کتابیں تورات و انجیل وغیرہ موجود ہیں کیا ان میں سے کسی کتاب میں اللہ کے سوا کسی کی عبادت کی تلقین موجود ہے۔ تورات و انجیل وغیرہ میں تحریف ہوجانے کے باوجود یہ تو اب تک بھی کہیں صاف نہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کر کے دوسرا معبود بنا لو۔ بحر محیط میں اس کا یہ مفہوم بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ قرآن ذکر ہے میرے ساتھ والوں کے لئے بھی اور ذکر ہے مجھ سے پہلوں کے لئے بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے ساتھ والوں کے لئے تو دعوت اور تشریح احکام کے لحاظ سے ذکر ہے اور سابقین کے لئے ذکر بایں معنے ہے کہ اس کے ذریعہ سابقین کے احوال و معاملات اور قصص زندہ ہیں۔
Ayahs 21:27–29لَا يَسْبِقُوْنَهٗ بالْقَوْلِ وَهُمْ بِاَمْرِهٖ يَعْمَلُوْنَ ، یعنی فرشتے حق تعالیٰ کی اولاد تو کیا ہوتے وہ تو ایسے خائف اور مؤ دب رہتے ہیں کہ نہ قول میں اللہ تعالیٰ سے سبقت کرتے ہیں نہ عمل میں اس کے خلاف کبھی کچھ کرتے ہیں۔ قول میں سبقت نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک حق تعالیٰ ہی کی طرف سے کوئی ارشاد نہ ہو خود کوئی کلام کرنے میں مسابقت کی ہمت نہیں کرتے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بڑوں کا ایک ادب یہ بھی ہے کہ جب مجلس میں کوئی بات آئے تو جو اس مجلس کا بڑا ہے اس کے کلام کا انتظار کیا جائے پہلے ہی کسی اور کا بول پڑنا خلاف ادب ہے۔
Ayah 21:30خلاصہ تفسیر
کیا ان کافروں کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ آسمان اور زمین (پہلے) بند تھے (یعنی نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی نہ زمین سے کچھ پیداوار، اسی کو بند ہونا فرمایا جیسا کہ اب بھی اگر کسی جگہ یا کسی زمانے میں آسمان سے بارش اور زمین سے پیداوار نہ ہو تو اس جگہ یا اس زمانے کے اعتبار سے ان کو بند کہا جاسکتا ہے) پھر ہم نے دونوں کو (اپنی قدرت) کھول دیا (کہ آسمان سے بارش اور زمین سے نباتات کا اگنا شروع ہوگیا) اور (بارش سے صرف نباتات ہی کو نمو نہیں ہوتا بلکہ ہم نے (بارش کے) پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا ہے (یعنی ہر زندہ جاندار کے وجود اور بقاء میں پانی کا دخل ضرور ہے خواہ بلاواسطہ ہو یا کسی واسطہ سے جیسا کہ دوسری آیت میں ہے وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ مَّاۗءٍ فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلِّ دَاۗبَّةٍ) یا (ان باتوں کو سن کر) پھر بھی ایمان نہیں لاتے اور ہم نے (اپنی قدرت سے) زمین میں پہاڑ اس لئے بنائے کہ زمین ان لوگوں کو لے کر ہلنے نہ لگے اور ہم نے اس (زمین) میں کشادہ کشادہ رستے بنائے تاکہ لوگ (ان کے ذریعہ) منزل (مقصود) کو پہنچ جاویں اور ہم نے (اپنی قدرت سے) آسمان کو (بمقابلہ زمین کے اس کے اوپر مثل) ایک چھت (کے) بنایا جو (ہر طرح سے) محفوظ ہے۔ (یعنی گرنے سے بھی ٹوٹنے پھوٹنے سے بھی اور اس سے بھی کہ شیطان وہاں تک پہنچ کر آسمان کی باتیں سن سکیں مگر یہ آسمان کا محفوظ و مضبوط ہونا بھی دائمی نہیں ایک زمانہ معین تک ہے) اور یہ لوگ اس (آسمان) کے (اندر کی موجودہ) نشانیوں سے اعراض کئے ہوئے ہیں (یعنی ان میں غور و فکر اور تدبر نہیں کرتے) اور وہ ایسا (قادر) ہے کہ اس نے رات اور دن اور سورج اور چاند بنائے (وہ نشانیاں آسمان کی یہی ہیں اور شمس و قمر میں سے) ہر ایک، ایک ایک دائرے میں (اس طرح چل رہے ہیں کہ گویا) تیر رہے ہیں۔
معارف و مسائل
اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا، اس جگہ لفظ رؤ یت بمعنے علم عام ہے خواہ وہ آنکھوں سے دیکھ کر حاصل ہو یا استدلال عقلی سے کیونکہ آگے جو مضمون آ رہا ہے اس کا تعلق کچھ مشاہدہ اور دیکھنے سے ہے کچھ علم استدلالی سے۔
اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا لفظ رتق کے معنے بند ہونے اور فتق کے معنے کھول دینے کے ہیں۔ ان دو لفظوں کا مجموعہ رتق و فتق کسی کام کے انتظام اور اس کے پورے اختیار کے معنے میں استعمال ہوتا ہے۔ الفاظ آیت کا ترجمہ یہ ہوا کہ آسمان اور زمین بند تھے ہم نے ان کو کھول دیا۔ اس میں بند ہونے اور کھول دینے سے مراد کیا ہے اس کی مراد میں حضرات مفسرین نے مختلف اقوال نقل کئے ہیں مگر ان سب میں جو معنے صحابہ کرام اور جمہور مفسرین نے اختیار فرمائے وہ وہی ہیں جو خلاصہ تفسیر میں لئے گئے ہیں کہ بند ہونے سے مراد آسمان کی بارش اور زمین کی پیداوار کا بند ہونا ہے اور کھولنے سے مردا ان دونوں کو کھول دینا ہے۔
تفسیر ابن کثیر میں ابن ابی حاتم کی سند سے حضرت عبداللہ بن عمر کا یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی انہوں نے حضرت ابن عباس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اس شیخ کے پاس جاؤ ان سے دریافت کرو اور وہ جو جواب دیں مجھے بھی اس کی اطلاع کرو۔ یہ شخص حضرت ابن عباس کے پاس گیا اور دریافت کیا کہ اس آیت میں رتقا اور فتقنا سے کیا مراد ہے ؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ پہلے آسمان بند تھے بارش برساتے تھے اور زمینیں بند تھی کہ اس میں نباتات نہیں اگتی تھی جب اللہ تعالیٰ نے زمین پر انسان کو آباد کیا تو آسمان کی بارش کھول دی اور زمین کا نشو و نما۔ یہ شخص آیت کی تفسیر معلوم کر کے حضرت ابن عمر کے پاس واپس گیا اور جو کچھ ابن عباس سے سنا تھا وہ بیان کیا تو حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ اب مجھے ثابت ہوگیا کہ واقعی ابن عباس کو قرآن کا علم عطا کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے میں تفسیر قرآن کے بارے میں ابن عباس کے بیانات کو ایک جرأت سمجھا کرتا تھا جو مجھے پسند نہ تھی اب معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو علوم قرآن کا خاص ذوق عطا فرمایا ہے انہوں نے رتق و فتق کی تفسیر صحیح فرمائی ہے۔
روح المعانی میں ابن عباس کی اس روایت کو ابن المنذر اور ابونعیم اور ایک جماعت محدثین کے حوالہ سے نقل کیا ہے جن میں حاکم صاحب مستدرک بھی ہیں، حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔
ابن عطیہ عوفی اس روایت کو نقل کر کے کہتے ہیں کہ یہ تفسیر حسن اور جامع اور سیاق وسباق قرآن کے مناسب ہے اس میں منکرین کے خلاف عبرت اور حجت بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی خاص نعمتوں اور قدرت کاملہ کا اظہار بھی جو معرفت و توحید کی بنیاد ہے اور بعد کی آیت میں جو وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ فرمایا ہے اس سے اسی معنے کے اعتبار سے مناسبت ہے۔ بحر محیط میں بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ قرطبی نے اسی کو عکرمہ کا قول بھی قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ ایک دوسری آیت سے بھی اس معنے کی تائید ہوتی ہے یعنی والسَّمَاۗءِ ذَات الرَّجْعِ ، وَالْاَرْضِ ذَات الصَّدْعِ طبری نے بھی اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے۔
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ، مراد یہ ہے کہ ہر جاندار کی تخلیق میں پانی کا دخل ضرور ہے اور جاندار و ذی روح اہل تحقیق کے نزدیک صرف انسان اور حیوانات ہی نہیں بلکہ نباتات بلکہ جمادات میں روح اور حیات محققین کے نزدیک ثابت ہے اور ظاہر ہے کہ پانی کو ان سب چیزوں کی تخلیق و ایجاد اور ارتقاء میں بڑا دخل ہے۔
ابن کثیر نے امام احمد کی سند سے بروایت ابوہریرہ نقل کیا ہے کہ ابوہریرہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ میں جب آپ کی زیارت کرتا ہوں تو میرا دل باغ باغ اور آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتی ہیں، آپ مجھے ہر شی (کی تخلیق) کے بارے میں بتلا دیجئے، آپ نے فرمایا کہ ہر چیز پانی سے پیدا کی گئی ہے، اس کے بعد ابوہریرہ نے سوال کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتلا دیجئے جس پر عمل کرنے سے میں جنت میں پہنچ جاؤ ں، آپ نے فرمایا۔
افش السلام واطعم الطعام وصل الارحام وقم باللیل والناس نیام ثم ادخل الجنۃ بسلام تفرد بہ احمد وھذا اسناد علی شرط الشیخین الخ۔
سلام کرنے کو عام کرو (خواہ مخاطب اجنبی ہو) اور کھانا کھلایا کرو (اس کو بھی حدیث میں عام رکھا ہے کھانا کھلانا ہر شخص کو خواہ کافر فاسق ہی ہو ثواب سے خالی نہیں) اور صلہ رحمی کیا کرو اور رات کو تہجد کی نماز پڑھا کرو جب سب لوگ سوتے ہوں تو جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ گے۔
Ayahs 21:31–32وَجَعَلْنَا فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِهِمْ لفظ مید عربی زبان میں اضطرابی حرکت کو کہا جاتا ہے اور مراد آیت کی یہ ہے کہ زمین پر پہاڑوں کا بوجھ حق تعالیٰ نے اس کا توازن برقرار رکھنے کے لئے ڈال دیا ہے تاکہ وہ اضطرابی حرکت نہ کرسکے جس سے اس کے اوپر بسنے والوں کو نقصان پہنچے۔ اس کی فلسفیانہ تحقیق کہ پہاڑوں کے بوجھ کو زمین کے قرار میں کیا دخل ہے اس کی یہاں ضرورت نہیں۔ تفسیر کبیر وغیرہ میں اس کا مفصل بیان اہل علم دیکھ سکتے ہیں اور بقدر ضرورت سورة نمل کی تفسیر میں حضرت حکیم الامۃ نے تفسیر بیان القرآن میں بھی لکھ دیا ہے۔
Ayah 21:33كُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ لفظ فلک دراصل ہر دائرے اور گول چیز کو کہا جاتا ہے اسی وجہ سے چرغے میں جو گول چمڑا لگا ہوتا ہے اس کو فلکۃ المغزل کہتے ہیں (روح) اور اسی وجہ سے آسمان کو بھی فلک کہہ دیا جاتا ہے۔ یہاں مراد شمس و قمر کی وہ مداریں ہیں جن پر وہ حرکت کرتے ہیں۔ الفاظ قرآن میں اس کی کوئی تصریح نہیں ہے یہ مداریں آسمان کے اندر ہیں یا باہر فضاء میں حالیہ خلائی تحقیقات نے واضح کردیا ہے کہ یہ مداریں آسمان کے اندر ہیں یا باہر فضاء میں۔ حالیہ خلائی تحقیقات نے واضح کردیا ہے کہ یہ مداریں خلاء اور فضاء میں آسمان سے بہت نیچے ہیں۔
اس آیت کے ظاہر سے یہ بھی مفہوم ہوتا ہے کہ آفتاب بھی ایک مدار پر حرکت کرتا ہے جدید فلاسفہ پہلے اس کے منکر تھے اب وہ بھی اس کے قائل ہوگئے ہیں۔ مزید تفصیلات کی یہ جگہ نہیں۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
Ayah 21:34خلاصہ تفسیر
اور (یہ لوگ جو آپ کی وفات کی خوشیاں منا رہے ہیں لقولہ تعالیٰ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيْبَ الْمَنُوْنِ ، یہ وفات بھی منافی نبوت کی نہیں کیونکہ) ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی بشر کے لئے (خواہ وہ نبی ہو یا غیر نبی دنیا میں) ہمیشہ رہنا تجویز نہیں کیا (لقولہ تعالیٰ وَمَا كَانُوْا خٰلِدِيْنَ ، پس جیسے آپ سے پہلے انبیاء کو موت آئی اس سے ان کی نبوت میں کسی کو شبہ نہیں ہوا اسی طرح آپ کی وفات سے آپ کی نبوت میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ نبوت اور موت دونوں ایک شخص میں جمع ہو سکتی ہیں) پھر (یہ کہ اگر آپ کا انتقال ہوجاوے تو کیا یہ لوگ (دنیا میں) ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے (آخر یہ بھی مریں گے پھر خوشی کا کیا مقام ہے ؟ مطلب یہ کہ آپ کی وفات سے ان کی خوشی اگر ابطال نبوت کے لئے ہے۔ تب تو مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ الخ اس کا جواب ہے اور اگر ذاتی بغض و عداوت سے ہے تو اَفَا۟ىِٕنْ مِّتَّ اس کا جواب ہے غرض ہر حالت میں یہ انتظار مہمل اور لغو ہے اور موت تو ایسی چیز ہے کہ تم میں) ہر جاندار موت کا مزا چکھے گا اور (یہ جو ہم نے چند روزہ تم کو زندگی دے رکھی ہے تو اس سے مقصود محض یہ ہے کہ) ہم تم کو بری بھلی حالتوں سے اچھی طرح آزماتے ہیں (بری حالت سے مراد جو کہ خلاف مزاج ہو جیسے مرض و فقر اور اچھی حالت سے مراد جو کہ موافق مزاج ہو جیسے صحت اور غنا زندگی میں یہی حالتیں مختلف طور پر پیش آتی ہیں۔ کوئی ان میں ایمان اور اطاعت بجا لاتا ہے اور کوئی کفر و معصیت کرتا ہے مطلب یہ کہ زندگی اس لئے دے رکھی ہے کہ دیکھیں کیسے کیسے عمل کرتے ہو) اور (اس زندگی کے ختم پر) پھر تم سب ہمارے پاس چلے آؤ گے (اور ہر ایک کو اس کے مناسب سزا و جزا دیں گے پس امر مہم تو موت اور مابعد الموت ہی ہوا اور زندگی محض عارضی پھر یہ لوگ اس پر اتراتے ہیں اور پیغمبر کی وفات پر خوشیاں مناتے ہیں یہ نہ ہوا کہ اس مستعار زندگی میں دولت ایمان و اطاعت کما لیتے جو ان کے کام آتی اور الٹا نامہ اعمال سیاہ اور آخرت کی منزل بھاری کر رہے ہیں ڈرتے نہیں) اور (ان منکرین کی یہ حالت ہے کہ) یہ کافر لوگ جب آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ سے ہنسی مذاق کرنے لگتے ہیں (اور آپس میں کہتے ہیں) کہ کیا یہی (صاحب) ہیں جو تمہارے معبودوں (کا برائی سے) ذکر کیا کرتے ہیں (سو آپ پر تو بتوں کے انار کا بھی اعتراض ہے) اور (خود) یہ لوگ (حضرت) رحمان (جل شانہ) کے ذکر پر انکار (اور کفر) کیا کرتے ہیں (تو اعتراض کی بات تو درحقیقت یہ ہے اس لئے ان کو اپنی اس حالت پر استہزاء کرنا چاہئے تھا اور ان کی یہ حالت ہے کہ جب سزائے کفر کا مضمون سنتے ہیں جیسے اوپر ہی ذکر ہوا ہے اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ تو بوجہ تکذیب کے اس کا تقاضا کرتے ہیں کہ یہ سزا جلد آجائے اور یہ تقاضا اور عجلت کچھ انسانی طبیعت کا خاصہ اکثریہ بھی ہے پس اس کا طبعی ہونا ایسا ہے جیسے گویا) انسان جلدی ہی (کے خمیر) کا بنا ہوا (ہے یعنی عجلت اور جلدی مثل اس کے اجزاء ترکیبیہ کے ہے اسی واسطے یہ لوگ عذاب جلدی جلدی مانگتے ہیں اور اس میں دیر ہونے کو دلیل عدم وقوع کی سمجھتے ہیں لیکن اے کافرو یہ تمہاری غلطی ہے کیونکہ اس کا وقت معین ہے سو ذرا صبر کرو) ہم عنقریب (اس کے وقت آنے پر) تم کو اپنی نشانیاں (قہر کی یعنی سزائیں) دکھائے دیتے ہیں، پس تم مجھ سے جلدی مت مچاؤ (کیونکہ عذاب وقت سے پہلے آتا نہیں اور وقت پر ٹلتا نہیں) اور یہ لوگ (جب یہ مضمون سنتے ہیں کہ وقت موعود پر عذاب آوے گا تو رسول اور مؤمنین سے یوں) کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کس وقت آوے گا اگر تم (وقوع عذاب کی خبر میں) سچے ہو (تو توقف کا ہے کا جلدی سے کیوں نہیں واقع کردیا جاتا۔ اصل یہ ہے کہ ان کو اس مصیبت کی خبر نہیں جو ایسی بےفکری کی باتیں کرتے ہیں) کاش ان کافروں کو اس وقت کی خبر ہوتی جبکہ (ان کو سب طرف سے دوزخ کی آگ گھیرے گی اور) یہ لوگ (اس) آگ کو نہ اپنے سامنے سے روک سکیں گے اور نہ اپنے پیچھے سے اور نہ ان کی کوئی حمایت کرے گا (یعنی اگر اس مصیبت کا علم ہوتا تو ایسی باتیں نہ بناتے اور یہ جو دنیا ہی میں عذاب نار کی فرمائش کر رہے ہیں سو یہ ضرور نہیں کہ ان کی فرمائش کے موافق عذاب نار آ جاوے، بلکہ وہ آگ (تو) ان کو ایک دم سے آلے گی سو ان کو بدحواس کر دے گی پھر نہ اس کے ہٹانے کی ان کو قدرت ہوگی اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی اور (اگر وہ یوں کہیں کہ اگر یہ عذاب آخرت میں موعود ہونے کی وجہ سے دنیا میں نہیں ہوتا تو اچھا دنیا میں اس کا کوئی نمونہ تو دکھلا دو تو گو باقاعدہ مناظرہ نمونہ دکھلانا ضرور نہیں لیکن تبرعاً نمونہ کا پتہ بھی دیا جاتا ہے وہ یہ کہ آپ سے پہلے جو پیغمبر گزرے ہیں ان کے ساتھ بھی (کفار کی طرف سے) تمخسر کیا گیا سو جن لوگوں نے ان سے تمخسر کیا تھا ان پر وہ عذاب واقع ہوگیا جس کے ساتھ وہ استہزاء کرتے تھے (کہ عذاب کہاں ہے پس اس سے معلوم ہوا کہ کفر موجب عذاب ہے پس اگر دنیا میں وقوع نہ ہو تو آخرت میں ہوگا اور یہ بھی ان سے) کہہ دیجئے (کہ دنیا میں جو تم عذاب سے محفوظ ہو سو یہ حفاظت بھی حضرت رحمان ہی کر رہا ہے اس میں بھی اسی کا احسان اور دلالت علی التوحید ہے اور اگر تم اس کو تسلیم نہیں کرتے تو پھر بتلاؤ) کہ وہ کون ہے جو رات اور دن میں رحمان (کے عذاب) سے تمہاری حفاظت کرتا ہو (اور اس مضمون کا مسلم مقتضا یہ تھا کہ توحید کے قائل ہوجاتے مگر وہ اب بھی قائل نہ ہوئے) بلکہ وہ لوگ (اب بھی بدستور) اپنے رب (حقیقی) کے ذکر (توحید کے قبول کرنے) سے روگرداں (ہی) ہیں (ہاں ہم مَنْ يَّـكْلَـؤ ُ كُمْ کے مصداق کی توضیح کے لئے صریحاً دریافت کرتے ہیں کہ) کیا ان کے پاس ہمارے سوا اور ایسے معبود ہیں کہ (عذاب مذکور سے) ان کی حفاظت کرلیتے ہوں (وہ بیچارے ان کی تو کیا حفاظت کرتے ان کی بیچارگی دور ماندگی کی تو یہ حالت ہی کہ) وہ خود اپنی حفاظت کی قدرت نہیں رکھتے (مثلاً ان کو کوئی توڑنے پھوڑنے لگے تو مدافعت بھی نہیں کرسکتے کقولہ تعالیٰ وَاِنْ يَّسْلُبْهُمُ الذُّبَاب الخ پس نہ وہ ان کے معبود ان کی حفاظت کرسکتے ہیں) اور نہ ہمارے مقابلہ میں کوئی ان کا ساتھ دے سکتا ہے (اور یہ لوگ باوجود ان دلائل ساطعہ کے جو حق کو قبول نہیں کرتے تو یہ وجہ نہیں کہ دعوی یا دلیل میں کچھ خلل ہے) بلکہ (اصل وجہ اس کی یہ ہے کہ) میں نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو (دنیا کا) خوب سامان دیا یہاں تک کہ ان پر (اسی حالت میں) ایک عرصہ دراز گزر گیا (کہ پشتہائے پشت سے عیش آرام کرتے آ رہے ہیں پس کھا کھا کے غرانے لگے اور آنکھیں پتھرا گئیں مطلب یہ ہے کہ ان ہی میں خلل غفلت کا ہے لیکن باوجود منبہات تشریعیہ و تکوینیہ کے اتنی غفلت بھی نہ ہونا چاہئے چناچہ ایک امر منبہ کا ذکر کیا جاتا ہے وہ یہ کہ) کیا ان کو یہ نظر نہیں آتا کہ ہم (ان کی) زمین کو (بذریعہ فتوحات اسلامیہ کے) ہر چہار طرف سے برابر گھٹاتے چلے جاتے ہیں سو کیا یہ لوگ (یہ توقع رکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور مؤمنین پر) غالب آویں گے (کیونکہ قرائن عادیہ اور دلائل تنزیلیہ متفق ہیں ان کے مغلوب اور اہل حق کے غالب ہوتے جانے پر تاوقتیکہ مسلمان اطاعت خداوندی سے منہ نہ موڑیں اور حمایت اسلام نہ چھوڑیں پس اس امر میں قائل کرنا بھی تنبیہ کے لئے کافی ہے اگر اس پر بھی عناد و جہالت سے وقوع عذاب ہی کی فرمائش کریں تو) آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف وحی کے ذریعہ سے تم کو ڈراتا ہوں (عذاب کا آنا میرے بس سے باہر ہے) اور (گو یہ طریقہ دعوت الی الحق کا اور یہ انداز کافی ہے، مگر) یہ بہرے جس وقت (حق کی طرف بلائے جانے کے واسطے عذاب سے) ڈرائے جاتے ہیں سنتے ہی نہیں (اور طریق وضوح حق میں تامل ہی نہیں کرتے بلکہ وہی مرغی کی ایک ٹانگ عذاب ہی مانگے جاتے ہیں) اور (کیفیت عالی ہمتی کی یہ ہے کہ) اگر ان کو آپ کے رب کے عذاب کا ایک جھونکا بھی ذرا لگ جاوے تو (ساری بہادری ختم ہوجاوے اور) یوں کہنے لگیں کہ ہائے ہماری کمبختی (کیسی ہمارے سامنے آئی) واقعی ہم خطاوار تھے (بس اس ہمت پر عذاب کی فرمائش ہے واقعی ان کی اس شرارت کا تو یہی مقتضا تھا کہ دنیا ہی میں فیصلہ کردیتے مگر ہم بہت سی حکمتوں سے دنیا میں سزائے موعود دینا نہیں چاہتے بلکہ آخرت کے لئے اٹھا رکھا ہے اور (وہاں) قیامت کے روز ہم میزان عدل قائم کریں گے (اور سب کے اعمال کا وزن کریں گے) سو کسی پر اصلاً ظلم نہ ہوگا اور (ظلم نہ ہونے کا یہ ثمرہ ہوگا کہ) اور اگر (کسی کا کوئی) عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہو تو ہم اس کو (وہاں) حاضر کردیں گے (اور اس کا بھی وزن کریں گے) اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں۔ (ہمارے اس وزن اور حساب کے بعد پھر کسی حساب و کتاب کی ضرورت نہ رہے گی بلکہ اسی پر سب فیصلہ ہوجاوے گا پس وہاں لوگوں کی شرارتوں کی بھی سزائے مناسب و کافی جاری کردی جاوے گی۔
معارف و مسائل
وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ ، سابقہ آیات میں کفار و مشرکین کے باطل دعو وں اور مشرکانہ عقیدوں کی جن میں حضرت مسیح یا عزیر وغیرہ کو خدائی کا شریک یا فرشتوں اور مسیح کو اللہ تعالیٰ کی اولاد کہا گیا ان گمراہ کن عقائد کی تردید و ابطال واضح دلائل کے ساتھ آیا ہے جس کا مخالفین کے پاس کوئی جواب نہ تھا ایسے مواقع میں جب مخالف حجت و دلیل سے مغلوب ہوجائے تو جھنجھلاہٹ پیدا ہوتی ہے اسی کا نتیجہ تھا کہ مشرکین مکہ اس کی تمنا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی جلد وفات ہوجاوے جیسا کہ بعض آیات میں ہے نّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيْبَ الْمَنُوْنِ ، اس آیت میں حق تعالیٰ نے ان کی اس بیہودہ تمنا کے دو جواب دیئے ہیں۔ وہ یہ کہ اگر ہمارے رسول ﷺ کی جلد ہی وفات ہوگئی تو تمہیں کیا فائدہ پہنچے گا ؟ اگر تمہارا مقصد یہ ہے کہ ان کی موت ہوجائے گی تو ہم لوگوں کو بتلائیں گے کہ یہ نبی و رسول نہیں تھے ورنہ موت نہ آتی تو اس کا یہ جواب دیا کہ جن انبیاء کی نبوت کو تم بھی مانتے ہو کیا ان کو موت نہیں آئی، جب ان کی موت سے ان کی نبوت و رسالت میں کوئی فرق نہ آیا تو آنحضرت ﷺ کی وفات سے آپ کی نبوت کے خلاف کوئی پروپیگنڈہ کیسے کیا جاسکتا ہے اور اگر تمہارا مقصد آپ کی جلد وفات سے اپنا غصہ ٹھنڈا کرنا ہے تو یاد رکھو کہ یہ موت کا مرحلہ تمہیں بھی درپیش ہے آخر تمہیں بھی مرنا ہے۔ پھر کسی کی موت سے خوش ہونے کے کیا معنے۔
اگر بمرد عدو جائے شادمانی نیست کہ زندگانی مانیز جاودانی نیست
Ayahs 21:35–36موت کیا چیز ہے
پھر ارشاد فرمایا كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ، یعنی ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ یہاں مراد ہر نفس سے نفوس ارضیہ یعنی زمینی جاندار ہیں۔ ان سب کو موت آنا لازمی ہے نفوس ملائکہ اس میں داخل نہیں، اس میں اختلاف ہے کہ قیامت کے روز فرشتوں کو بھی موت آئے گی یا نہیں ؟ بعض حضرات نے فرمایا کہ ایک لحظہ کے لئے تو سب پر موت طاری ہوجاوے گی خواہ انسان اور نفوس ارضیہ ہوں یا فرشتے اور نفوس سماویہ، بعض حضرات نے فرمایا کہ فرشتے اور جنت کے حور و غلمان موت سے مستثنیٰ ہیں۔ واللہ اعلم (روح المعانی) اور موت کی حقیقت جمہور علماء کے نزدیک روح کا جسد عنصری سے نکل جانا ہے اور روح خود ایک جسم نورانی لطیف ذی حیات متحرک کا نام ہے جو انسان کے پورے بدن میں ایسا سمایا ہوا رہتا ہے جیسے عرق گلاب اس کے پھول میں ابن قیم نے روح کی حقیقت بیان کر کے اس کو سو دلائل سے ثابت کیا ہے۔ (روح المعانی)
لفظ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ سے اشارہ اس طرف پایا جاتا ہے کہ ہر نفس موت کی خاص تکلیف محسوس کرے گا کیونکہ مزہ چکھنے کا محاورہ ایسے ہی مواقع میں استعمال ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ روح کا جیسا اتصال بدن کے ساتھ ہے اس کے نکلنے کے وقت تکلیف اور الم کا احساس امر طبعی ہے، رہا بعض اہل اللہ کا یہ معاملہ کہ ان کو موت سے لذت و راحت حاصل ہوتی ہے کہ دنیا کی تنگیوں سے نجات ہوئی اور محبوب اکبر سے ملاقات کا وقت آ گیا، تو یہ ایک دوسری طرح کی لذت ہے جو مفارقت بدن کی طبعی تکلیف کے منافی نہیں کیونکہ جب کوئی بڑی راحت اور بڑا فائدہ سامنے ہوتا ہے تو اس کے لئے چھوٹی تکلیف برداشت کرنا آسان ہوجاتا ہے اس معنی کے لحاظ سے بعض اہل اللہ نے دنیا کے غم و رنج اور مصیبتوں کو بھی محبوب قرار دیا ہے کہ ”از محبت تلخہا شیریں شوند“
غم چہ استادہ تو بر در ما اندر آیار ما برادر ما
اور مولانا رومی نے فرمایا
رنج راحت شد چو مطلب شد بزرگ گرد گلہ توتیائے چشم گرگ
دنیا کی ہر تکلیف و راحت آزمائش ہے
وَنَبْلُوْكُمْ بالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً ، یعنی ہم شر اور خیر دونوں کے ذریعہ انسان کی آزمائش کرتے ہیں۔ شر سے مراد ہر خلاف طبع چیز ہے جیسے بیماری، رنج و غم، فقر و فاقہ اور خیر سے اس کے بالمقابل ہر مرغوب طبع چیز ہے جیسے صحت و عافیت، خوشی و راحت، غناء و اسباب عیش وغیرہ۔ یہ دونوں طرح کی چیزیں اس دنیا میں انسان کی آزمائش کے لئے آتی ہیں کہ شر یعنی خلاف طبع امور پر صبر کر کے اس کا حق ادا کرنا اور خیر یعنی مرغوب خاطر چیزوں پر شکر کر کے اس کا حق ادا کرنا ہے آزمائش یہ ہے کہ کون اس پر ثابت قدم رہتا ہے کون نہیں رہتا اور بزرگوں نے فرمایا کہ حقوق شکر پر ثابت قدم رہنا بہ نسبت حقوق صبر کے مشکل ہے۔ انسان کو تکلیف پر صبر کرنا اتنا بھاری نہیں ہوتا جتنا عیش و عشرت اور آرام و راحت میں اس کے حق شکر ادا کرنے پر ثابت قدمی مشکل ہوتی ہے اسی بناء پر حضرت فاروق اعظم نے فرمایا
بلینا بالضراء فصبرنا و بلینا بالسراء فلم نصبر (روح المعانی)
یعنی ہم تکلیفوں میں مبتلا کئے گئے اس پر تو ہم نے صبر کرلیا لیکن جب راحت و عیش میں مبتلا کئے گئے تو اس پر صبر نہ کرسکے یعنی اس کے حقوق ادا کرنے پر ثابت قدم نہ رہ سکے۔