Ayahs 21:76–77خلاصہ تفسیر
اور نوح (علیہ السلام کے قصہ) کا تذکرہ کیجئے جبکہ اس (زمانہ ابراہیمی) سے پہلے انہوں نے (اللہ تعالیٰ سے) دعا کی (کہ ان کافروں سے میرا بدلہ لے لیجئے) سو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو اور ان کے متبعین کو بڑے بھاری غم سے نجات دی (یہ غم کفار کی تکذیب اور اس کے ساتھ طرح طرح کی اذائیں پہنچانے پیش آتا تھا) اور (نجات اس طرح دی کہ) ہم نے ایسے لوگوں سے ان کا بدلہ لیا جنہوں نے ہمارے حکموں کو (جو کہ حضرت نوح ؑ لائے تھے) جھوٹا بتلایا تھا بلاشبہ وہ لوگ بہت برے تھے اس لئے ہم نے ان سب کو غرق کردیا۔
معارف و مسائل
وَنُوْحًا اِذْ نَادٰي مِنْ قَبْلُ ، من قبل سے مراد ابراہیم و لوط (علیہما السلام) سے پہلے ہونا ہے۔ جن کا ذکر اوپر کی آیات میں آیا ہے اور نوح ؑ کی جس نداء کا ذکر اس جگہ مجملاً آیا ہے اس کا بیان سورة نوح میں یہ ہے کہ نوح ؑ نے قوم کے لئے بد دعا کی رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا یعنی اے پروردگار روئے زمین پر کافروں میں کسی بسنے والے کو نہ چھوڑ اور ایک جگہ یہ ہے کہ جب نوح ؑ کی قوم نے کسی طرح ان کا کہنا نہ مانا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا، اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ، یعنی میں مغلوب اور عاجز ہوچکا ہوں آپ ہی ان لوگوں سے انتقام لے لیجئے۔
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّيْنٰهُ وَاَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ ، کرب عظیم سے مراد یا تو طوفان میں غرق ہونا ہے جس میں پوری قوم مبتلا ہوئی، یا اس قوم کی ایذائیں مراد ہیں جو وہ طوفان سے پہلے حضرت نوح اور ان کے خاندان کو پہنچاتے تھے۔
Ayah 21:78خلاصہ تفسیر
اور داؤد اور سلیمان (علیہما السلام کے قصہ) کا تذکرہ کیجئے جبکہ دونوں (حضرات) کسی کھیت کے بارے میں (جس میں غلہ تھا یا انگور کے درخت تھے کذا فی الدر المنثور) فیصلہ کرنے لگے جبکہ اس (کھیت میں کچھ لوگوں) کی بکریاں رات کے وقت جا پڑیں (اور اس کو چر گئیں) اور ہم اس فیصلہ کو جو (مقدمہ والے) لوگوں کے متعلق ہوا تھا دیکھ رہے تھے سو ہم نے اس فیصلہ (کی آسان صورت) کی سمجھ سلیمان کو دے دی اور (یوں) ہم نے دونوں (ہی) کو حکمت اور علم عطا فرمایا تھا (یعنی داؤد ؑ کا فیصلہ بھی خلاف شرع نہ تھا صورت مقدمہ کی یہ تھی کہ جس قدر کھیت کا نقصان ہوا تھا اس کی لاگت بکریوں کی قیمت کے برابر تھی۔ داؤد ؑ نے ضمان میں کھیت والے کو وہ بکریاں دلوا دیں اور اصل قانون شرعی کا یہی مقتضا تھا جس میں مدعی یا مدعا علیہ کی رضا کی شرط نہیں مگر چونکہ اس میں بکری والوں کا بالکل ہی نقصان ہوتا تھا اس لئے سلیمان ؑ نے بطور مصالحت کے جو کہ موقوف تھی جانبین کی رضا مندی پر یہ صورت جس میں دونوں کی سہولت اور رعایت تھی تجویز فرمائی کہ چند روز کے لئے بکریاں تو کھیت والے کو دی جاویں کہ ان کے دودھ وغیرہ سے اپنا گزر کرے اور بکری والوں کو وہ کھیت سپرد کیا جاوے کہ اس کی خدمت آب پاشی وغیرہ سے کریں جب کھیت پہلی حالت پر آجاوے کیھت اور بکریاں اپنے اپنے مالکوں کو دے دیجاوی۔ کذا فی الدر المنثور عن مرة و ابن مسعود و مسروق و ابن عباس و مجاہد و قتادہ و الزہری۔ پس اس سے معلوم ہوگیا کہ دونوں فیصلوں میں کوئی تعارض نہیں کہ ایک کی صحت دوسرے کی عدم صحت کو مققضی ہو اس لئے كُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّعِلْمًا بڑھا دیا گیا) اور (یہاں تک تو کرامت عامہ کا ذکر تھا جو دونوں حضرات میں مشترک تھی آگے دونوں حضرات کی خاص خاص کرامتوں کا بیان ہے) ہم نے داؤد ؑ کے ساتھ تابع کردیا تھا پہاڑوں کو کہ (ان کی تسبیح کے ساتھ) وہ (بھی) تسبیح کیا کرتے تھے اور (اسی طرح) پرندوں کو بھی (جیسا سورة سبا میں ہے يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ) اور (کوئی اس بات پر تعجب نہ کرے کیونکہ ان کاموں کے) کرنے والے ہم تھے (اور ہماری قدرت کا عظیم ہونا ظاہر ہے پھر ان معجزات میں تعجب ہی کیا ہے) اور ہم نے ان کو زرہ (بنانے) کی صنعت تم لوگوں کے (نفع کے) واسطے سکھلائی (یعنی) تاکہ وہ (زرہ) تم کو (لڑائی میں) ایک دوسرے کی زد سے بچائے (اور اس نفع عظیم کا مقتضا یہ ہے کہ تم شکر کرو) سو تم (اس نعمت کا) شکر کرو گے بھی (یا نہیں) اور ہم نے سلیمان ؑ کا تیز ہوا کو تابع بنادیا تھا کہ وہ ان کے حکم سے اس سر زمین کی طرف کو چلتی جس میں ہم نے برکت کر رکھی ہے (مراد ملک شام ہے جو ان کا مسکن تھا کذا فی الدر عن السدی ویدل علیہ عمارتہ بیت المقدس یعنی جب ملک شام سے کہیں چلے جاتے اور پھر آتے تو یہ آنا اور اسی طرح جانا بھی ہوا کے ذریعہ سے ہوتا تھا جیسا در منثور میں بروایت و تصحیح حاکم حضرت ابن عباس سے اس کی کیفیت مروی ہے کہ سلیمان ؑ مع اعیان ملک کے کرسیوں پر بیٹھ جاتے پھر ہوا کو بلا کر حکم دیتے وہ سب کو اٹھا کر تھوڑی دیر میں ایک ایک ماہ کی مسافت قطع کرتی) اور ہم ہر چیز کو جانتے ہیں (ہمارے علم میں سلیمان کو یہ چیزیں دینے میں حکمت تھی اس لئے عطا فرمائی) اور بعضے بعضے شیطان (یعنی جن) ایسے تھے کہ سلیمان ؑ کے لئے (دریاؤں میں) غوطے لگاتے تھے (تاکہ موتی نکال کر ان کے پاس لا دیں) اور وہ اور کام بھی اس کے علاوہ (سلیمان کے لئے) کیا کرتے تھے اور (گو وہ جن بڑے سرکش اور شریر تھے مگر) ان کے سنبھالنے والے ہم تھے (اس لئے وہ چوں نہیں کرسکتے تھے)
معارف و مسائل
نَفَشَتْ فِيْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ ، لفظ نفش کے معنی عربی لغت کے اعتبار سے یہ ہیں کہ رات کے وقت کوئی جانور کسی کے کھیت پر جا پڑے اور نقصان پہنچائے۔
Ayah 21:79فَفَهَّمْنٰهَا سُلَيْمٰنَ ، فَفَهَّمْنٰهَا کی ضمیر بظاہر مقدمہ اور اس کے فیصلہ کی طرف راجع ہے اور معنی یہ ہیں کہ جو فیصلہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ تھا اللہ تعالیٰ نے وہ حضرت سلیمان کو سمجھا دیا۔ اس مقدمہ اور فیصلہ کی صورت اوپر خلاصہ تفسیر میں آ چکی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت داؤد ؑ کا فیصلہ بھی ازروئے قانون شرعی غلط نہیں تھا مگر جو فیصلہ اللہ تعالیٰ نے سلیمان ؑ کو سمجھایا اس میں فریقین کی رعایت اور مصلحت تھی اس لئے اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ پسندیدہ قرار دیا گیا۔ امام بغوی نے حضرت ابن عباس اور قتادہ اور زہری سے اس واقعہ کی روایت اس طرح کی ہے کہ دو شخص حضرت داؤد ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان میں ایک شخص بکریوں والا دوسرا کھیتی والا تھا کھیتی والے نے بکریوں والے پر یہ دعوی کیا کہ اس کی بکریاں رات کو چھوٹ کر میرے کھیت میں گھس گئیں اور کھیت کو بالکل صاف کردیا کچھ نہیں چھوڑا (غالباً مدعا علیہ نے اس کا اقرار کرلیا ہوگا اور بکریوں کی پوری قیمت اس کے ضائع شدہ کھیت کی قیمت کے برابر ہوگی اس لئے) حضرت داؤد نے یہ فیصلہ سنا دیا کہ بکریوں والا اپنی ساری بکریاں کھیت والے کو دیدے (کیونکہ جو چیزیں قیمت ہی کے ذریعہ لی اور دی جاتی ہیں جن کو عرف فقہاء میں ذوات القیم کہا جاتا ہے وہ اگر کسی نے ضائع کردی تو اس کا ضمان قیمت ہی کے حساب سے دیا جاتا ہے بکریوں کی قیمت چونکہ ضائع شدہ کھیتی کی قیمت کے مساوی تھی اس لئے یہ ضابطہ کا فیصلہ فرمایا گیا) یہ دونوں مدعی اور مدعا علیہ حضرت داؤد ؑ کی عدالت سے واپس ہوئے تو (دروازے پر ان کے صاحبزادے) حضرت سلیمان ؑ سے ملاقات ہوئی انہوں نے دریافت کیا کہ تمہارے مقدمہ کا کیا فیصلہ ہوا ؟ ان لوگوں نے بیان کردیا تو حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا اگر اس مقدمہ کا فیصلہ میں کرتا تو اس کے علاوہ کچھ اور ہوتا جو فریقین کے لئے مفید اور نافع ہوتا۔ پھر خود والد ماجد حضرت داؤد ؑ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہی بات عرض کی۔ حضرت داؤد ؑ نے تاکید کے ساتھ دریافت کیا کہ وہ کیا فیصلہ ہے جو دونوں کے لئے اس فیصلہ سے بہتر ہے تو حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا کہ آپ بکریاں تو سب کھیت والے کو دیدیں کہ وہ ان کے دودھ اور اون وغیرہ سے فائدہ اٹھاتا رہے اور کھیت کی زمین بکریوں والے کے سپرد کردیں کہ وہ اس میں کاشت کر کے کھیت اگائے جب یہ کھیت اس حالت پر آجائے جس پر بکریوں نے کھایا تھا تو کھیت کھیت والے کو دلوا دیں اور بکریاں بکری والے کو۔ حضرت داؤد ؑ نے اس فیصلے کو پسند فرما کر کہا کہ بس اب فیصلہ یہی رہنا چاہئے اور فریقین کو بلا کر دوسرا فیصلہ نافذ کردیا (مظہری و قرطبی وغیرہ)
کیا فیصلہ دینے کے بعد کسی قاضی کا فیصلہ توڑا اور بدلا جاسکتا ہے
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت داؤد ؑ جب ایک فیصلہ دے چکے تھے تو سلیمان ؑ کو اس کے توڑنے کا کیا حق تھا ؟ اور اگر خود حضرت داؤد ہی نے ان کا فیصلہ سن کر اپنے سابق فیصلے کو توڑا اور دوسرا جاری کیا تو کیا قاضی کو اس کا اختیار ہے کہ ایک فصلہ دیدینے کے بعد اس کو توڑ دے اور فیصلہ بدل دے۔
قرطبی نے اس جگہ اس طرح کے مسائل پر بڑی تفصیل سے بحث فرمائی ہے خلاصہ اس کا یہ ہے کہ اگر کسی قاضی نے نصوص شرعیہ اور جمہور امت کے خلاف کوئی غلط فیصلہ محض اٹکل سے دے دیا ہے تو وہ فیصلہ باتفاق امت مردود و باطل ہے دوسرے قاضی کو اس کے خلاف فیصلہ دینا نہ صرف جائز بلکہ واجب اور اس قاضی کا معزول کرنا واجب ہے لیکن اگر ایک قاضی کا فیصلہ شرعی اجتہاد پر مبنی اور اصول اجتہاد کے ماتحت تھا تو کسی دوسرے قاضی کو اس فیصلہ کا توڑنا جائز نہیں کیونکہ اگر ایسا کیا جائے گا تو فساد عظیم ہوگا اور اسلامی قانون ایک کھیل بن جائے گا اور روز حلال و حرام بدلا کریں گے، البتہ اگر خود اسی فصلہ دینے والے قاضی کو بعد اس کے کہ اصول اجتہاد کے تحت وہ ایک فیصلہ نافذ کرچکا ہے اب ازروائے اجتہاد یہ نظر آئے کہ پہلے فیصلے اور پہلے اجتہاد میں غلطی ہوگئی ہے تو اس کا بدلنا جائز بلکہ بہتر ہے۔ حضرت فاروق اعظم نے جو ایک مفصل خط حضرت ابو موسیٰ اشعری کے نام قضاء اور فصل مقدمات کے اصول پر مشتمل لکھا تھا اس میں اس کی تصریح ہے کہ فیصلہ دینے کے بعد اجتہاد بدل جائے تو پہلے فیصلہ کو بدل دینا چاہئے۔ یہ خط دار قطنی نے سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔ (قرطبی ملخصاً) اور شمس الائمہ سرخسی نے مبسوط باب القضاء میں بھی یہ خط مفصل دیا ہے۔
اور امام تفسیر مجاہد کا قول یہ ہے کہ حضرت داؤد ؑ اور سلیمان ؑ دونوں کے فیصلے اپنی اپنی جگہ ہیں اور حقیقت اس کی یہ ہے کہ داؤد ؑ نے جو فیصلہ فرمایا تھا وہ ضابطہ کا فیصلہ تھا اور حضرت سلیمان ؑ نے جو فرمایا وہ درحقیقت مقدمہ کا فیصلہ نہیں، بلکہ فریقین میں صلح کرانے کا ایک طریقہ تھا اور قرآن میں والصُّلْحُ خَيْرٌ کا ارشاد وارد ہے اس لئے یہ دوسری صورت میں اللہ کے نزدیک پسندیدہ ٹھہری۔ (مظہری)
حضرت فاروق اعظم نے اپنے قاضیوں کو یہ ہدایت دے رکھی تھی کہ جب آپ کے پاس دو فریق کا مقدمہ آئے تو پہلے ان دونوں میں رضا مندی کے ساتھ کسی بات پر صلح کرانے کی کوشش کریں اگر یہ ناممکن ہوجائے تو اپنا شرعی فیصلہ جاری کریں اور حکمت اس کی یہ ارشاد فرمائی کہ حاکمانہ عدالتی فیصلے سے وہ شخص جس کے خلاف ہوا ہو دب تو جاتا ہے مگر ان دونوں میں بغض و عداوت کا بیج قائم ہوجاتا ہے۔ جو دو مسلمانوں میں نہیں ہونا چاہئے بخلاف مصالحت کی صورت کے کہ اس سے دلوں کی منافرت بھی دور ہوجاتی ہے (از معین الحکام)
مجاہد کے اس قول پر یہ معاملہ قاضی کے فیصلہ کو توڑنے اور بدلنے کا نہیں رہا بلکہ فریقین کو جو حکم سنایا تھا وہ ابھی گئے بھی نہ تھے کہ ان میں ایک صورت مصالحت کی نکل آئی اور وہ دونوں اس پر راضی ہوگئے۔
دو مجتہد اگر اپنے اپنے اجتہاد سے دو متضاد فیصلے کریں تو کیا ان میں سے ہر ایک صواب اور درست ہے یا کسی ایک کو غلط کہا جائے
اس موقع پر مختصر یہ بحث بھی کی ہے کہ ہر مجتہد ہمیشہ مصیب ہی ہوتا ہے اور دو متضاد اجتہاد ہوں تو دونوں کو حق سمجھا جائے گا یا ان میں سے ایک فیصلہ کو خطا اور غلط قرار دیا جائے گا اس میں قدیم زمانے سے علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ آیت مذکورہ سے دونوں جماعتوں نے استدلال کیا ہے جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ دونوں اجتہاد حق ہیں اگرچہ متضاد ہوں ان کا استدلال آیت کے آخری جملے سے ہی جس میں فرمایا وَكُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّعِلْمًا۔ اس میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان دونوں کو حکمت اور علم عطا کرنے کا ارشاد ہے حضرت داؤد ؑ پر کوئی عتاب نہیں ہے نہ ان کو یہ کہا گیا کہ ان سے غلطی ہوگئی اس سے معلوم ہوا کہ داؤد ؑ کا فیصلہ بھی حق تھا اور سلیمان ؑ کا فیصلہ بھی، البتہ حضرت سلیمان ؑ کے فیصلہ کو فریقین کے لئے اصلح ہونے کی بناء پر ترجیح دے دیگئی اور جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ اختلاف اجتہادی کے مواقع میں حق ایک طرف ہوتا ہے دوسرا غلط ہوتا ہے ان کا استدلال اسی آیت کے پہلے جملہ سے ہی یعنی ڎفَفَهَّمْنٰهَا سُلَيْمٰنَ کہ اس میں تخصیص کر کے حضرت سلیمان کے بارے میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کو حق فیصلہ سمجھا دیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ داؤد ؑ کا فیصلہ حق نہ تھا گو وہ بوجہ اپنے اجتہاد کے اس میں معذور ہوں اور ان سے اس پر کوئی مواخذہ نہ ہو۔ یہ بحث اصول فقہ کی کتابوں میں بڑی تفصیل سے آئی ہے وہاں دیکھی جاسکتی ہے یہاں صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے اجتہاد کیا اور کوئی حکم دینی اصول اجتہاد کے ماتحت بیان کیا۔ اگر اس کا اجتہاد صحیح ہوا تو اس کو دو اجر ملیں گے ایک اجتہاد کرنے کی محنت کا دوسرا صحیح و صواب حکم تک پہنچنے کا اور اگر یہ اجتہاد صحیح نہ ہوا اس سے خطا ہوگئی تو پھر اس کو ایک اجر اجتہاد کی محنت کا ملے گا دوسرا اجر جو اصل حکم صحیح تک پہنچنے کا تھا وہ نہ ملے گا (یہ حدیث اکثر مستند کتب حدیث میں منقول ہے) اس حدیث سے اس اختلاف علماء کی حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ درحقیقت یہ اختلاف ایک نزاع لفظی جیسا ہے کیونکہ حق دونوں طرف ہونے کا حاصل یہ ہے کہ اجتہاد میں خطا کرنے والے مجتہد اور اس کے متبعین کے لئے بھی اجتہاد حق و صحیح ہے اس پر عمل کرنے سے ان کی نجات ہوجائے گی خواہ یہ اجتہاد اپنی ذات میں خطاء ہی ہو مگر اس پر عمل کرنے والوں کو کوئی گناہ نہیں اور جن حضرات نے یہ فرمایا ہے کہ حق دونوں میں ایک ہی ہے دوسرا غلط اور خطا ہے اس کا حاصل بھی اس سے زیادہ نہیں کہ اصل مراد حق تعالیٰ اور مطلوب خداوندی تک نہ پہنچنے کی وجہ سے اس مجتہد کے ثواب میں کمی آجائے گی اور یہ کمی اس وجہ سے ہے کہ اس کا اجتہاد حق بات تک نہ پہنچا لیکن یہ مطلب ان کا بھی نہیں ہے کہ مجتہد خاطی پر کوئی ملامت ہوگی یا اس کے متعبین کو گناہگار کہا جائے گا۔ تفسیر قرطبی میں اس مقام پر ان تمام مباحث کو پوری تفصیل سے لکھا ہے اہل علم وہاں دیکھ سکتے ہیں۔
یہ مسئلہ فقیہہ کہ اگر کسی کے جانور دوسرے آدمی کی جان یا مال کو نقصان پہنچاویں تو فیصلہ کیا ہونا چاہئے
حضرت داؤد ؑ کے فیصلہ سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ جانور کے مالک پر ضمان آئے گا اگر یہ واقعہ رات میں ہوا ہو لیکن یہ ضروری نہیں کہ داؤد ؑ کی شریعت کا جو فیصلہ ہو وہی شریعت محمدیہ میں رہے اس لئے اس مسئلے میں ائمہ مجتہدین کا اختلاف ہے۔ امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ اگر رات کے وقت کسی کے جانور کسی دوسرے کے کھیت میں داخل ہو کر نقصان پہنچاویں تو جانور کے مالک پر ضمان آئے گا اور اگر دن میں ایسا ہو تو ضمان نہیں آئے گا ان کا استدلال حضرت داؤد کے فیصلہ سے بھی ہوسکتا ہے مگر شریعت محمدیہ کے اصول کے تحت انہوں نے ایک حدیث سے استدلال فرمایا ہے جو موطا امام مالک میں مرسلاً منقول ہے کہ حضرت براء بن عازب کی ناقہ ایک شخص کے باغ میں داخل ہوگئی اور اس کو نقصان پہنچا دیا تو رسول اللہ ﷺ نے یہ فصلہ فرمایا کہ باغوں اور کھیتوں کی حفاظت رات میں ان کے مالکوں کے ذمہ ہے اور ان کی حفاظت کے باوجود اگر رات کو کسی کے جانور نقصان پہنچاویں تو جانور کے مالک پر ضمان ہے اور امام اعظم ابوحنیفہ اور فقہاء کوفہ کا مسلک یہ ہے کہ جس وقت جانوروں کے ساتھ ان کا چرانے والا یا حفاظت کرنے والا کوئی آدمی موجود ہو، اس نے غفلت کی اور جانوروں نے کسی کے باغ یا کھیت کو نقصان پہنچا دیا اس صورت میں تو جانور کے مالک پر ضمان آتا ہے خواہ یہ معاملہ رات میں ہو یا دن میں اور اگر مالک یا محافظ جانوروں کے ساتھ نہ ہوں جانور خود ہی نکل گئے اور کسی کے کھیت کو نقصان پہنچا دیا تو جانور کے مالک پر ضمانت نہیں معاملہ دن اور رات کا اس میں بھی برابر ہے امام اعظم کی دلیل وہ حدیث ہے جو بخاری و مسلم اور تمام محدثین نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جرح العجماء جبار یعنی جانور جو کسی کو نقصان پہنچاوے وہ قابل مواخذہ نہیں یعنی جانور کے مالک پر اس کا ضمان نہیں ہے (بشرطیکہ جانور کا مالک یا محافظ اس کے ساتھ نہ ہو جیسا کہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے) اس حدیث میں دن رات کی تفریق کے بغیر عام قانون شرعی یہ قرار دیا گیا ہے کہ اگر جانور کے مالک نے خود اپنے قصد و ارادے سے کسی کے کھیت میں نہیں چھوڑا، جانور بھاگ کر چلا گیا تو اس کے نقصان کا ضمان جانور کے مالک پر نہیں ہوگا اور حضرت براء بن عازب کے واقعہ کی روایت کی سند میں فقہاء حنفیہ نے کلام کیا ہے اور فرمایا کہ اس کو صحیحین کی حدیث مذکور کے مقابلے میں حجت نہیں قرار دیا جاسکتا۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح
وَّسَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ ۭ وَكُنَّا فٰعِلِيْنَ ، حضرت داؤد ؑ کو حق تعالیٰ نے ظاہری کمالات میں سے ایک کمال حسن صوت کا بھی عطا فرمایا تھا، جب وہ زبور پڑھتے تھے تو پرندے ہوا میں ٹھہرنے لگتے تھے اور ان کے ساتھ تسبیح کرنے لگتے تھے اسی طرح پہاڑ اور ہر شجر و مدر سے تسبیح کی آواز نکلنے لگتی تھی۔ خوش آوازی کا کمال تو ظاہری کمالات میں سے تھا اور پرندوں اور پہاڑوں کا تسبیح میں شریک ہوجانا بتسخیر خداوندی بطور معجزہ کے تھا اور معجزہ کے لئے یہ بھی ضروری نہیں کہ پرندوں اور پہاڑوں میں حیات و شعور ہو بلکہ بطور معجزہ ہر غیر ذی شعور میں بھی شعور پیدا ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ تحقیق یہی ہے کہ پہاڑوں اور پتھروں میں بھی حیات و شعور بقدر ان کی حیثیت کے موجود ہے صحابہ کرام میں حضرت ابو موسیٰ اشعری بہت خوش آواز تھے ایک روز وہ قرآن پڑھ رہے تھے رسول اللہ ﷺ کا گزر ان کی طرف ہوا تو آپ ان کی تلاوت سننے کے لئے ٹھہر گئے اور سنتے رہے پھر فرمایا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے خوش آوازی حضرت داؤد ؑ کی عطا فرمائی ہے۔ جب ابو موسیٰ کو معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ ان کی تلاوت سن رہے تھے تو عرض کیا کہ اگر مجھے آپ کا سننا معلوم ہوجاتا تو میں اور زیادہ سنوار کر پڑھنے کی کوشش کرتا (ابن کثیر)
فائدہ
اس سے معلوم ہوا کہ تلاوت قرآن میں حسن صوت اور اچھا لہجہ جس سے دلکشی پیدا ہو ایک درجہ میں مطلوب و محبوب ہے بشرطیکہ آج کل کے قراء کی طرح اس میں غلو نہ ہو کہ صرف آواز ہی سنوارنے اور لوگوں کو لبھانے کی فکر رہ جائے تلاوت کا اصل مقصد ہی غائب ہوجائے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 21:80زردہ بنانے کی صنعت حضرت داؤد ؑ کو منجانب اللہ عطا کی گئی
وَعَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لفظ لبوس لغت کے اعتبار سے اسلحہ میں سے ہر چیز کو کہا جاتا ہے جو انسان اوڑھ کر یا گلے میں ڈال کر استعمال کرے۔ مراد اس جگہ آہنی زرہ ہے جو جنگ میں حفاظت کے لئے پہنی جاتی ہے دوسری آیت میں ہے وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ یعنی ہم نے ان کے لئے لوہے کو نرم کردیا تھا خواہ اس طرح کہ لوہا ان کے ہاتھ میں آ کر خود بخود نرم ہوجاتا ہو کہ اس کو جس طرح موڑیں مڑ جائے اور باریک یا موٹا کرنا چاہیں تو ہوجائے جیسے موم ہوتا ہے یا اس طرح کہ ان کو آگ میں پگھلا کر نرم کرنے کی تدبیر بتلا دی جو سب لوہے کے کارخانوں میں آج استعمال کی جاتی ہے۔
ایسی صنعت جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچے مطلوب اور فعل انبیاء ہے
اس آیت میں زرہ سازی کی صنعت داؤد ؑ کو سکھانے کے ذکر کے ساتھ اس کی حکمت بھی یہ بتلائی ہے کہ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ ، یعنی تاکہ یہ زرہ تمہیں جنگ کے وقت تیز تلوار کے خطرہ سے محفوظ رکھ سکے یہ ایک ایسی ضرورت ہے کہ جس سے اہل دین اور اہل دنیا سب کو کام پڑتا ہے اس لئے اس صنعت کے سکھانے کو اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک انعام قرار دیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ جس صنعت کے ذریعہ لوگوں کی ضرورتیں پوری ہوں اس کا سیکھنا سکھانا داخل ثواب ہے بشرطیکہ نیت خدمت خلق کی ہو، صرف کمائی ہی مقصد نہ ہو۔ حضرات انبیاء (علیہم السلام) سے مختلف قسم کی صنعتوں کا عمل کرنا منقول ہے حضرت آدم ؑ سے کھیتی بونے کاٹنے کا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو صنعتکار اپنی صنعت میں نیت نیک یعنی خدمت خلق کی رکھے اس کی مثال ام موسیٰ کی سی ہوجاتی ہے کہ انہوں نے اپنے ہی بچہ کو دودھ پلایا اور معاوضہ فرعون کی طرف سے مفت میں ملا۔ اسی طرح خدمت خلق کی نیت سے صنعتکاری کرنے والے کو اپنا مقصد ثواب خدمت خلق تو حاصل ہوگا ہی صنعت کا نفع دنیوی مزید برآں اس کو ملے گا یہ حدیث حضرت موسیٰ ؑ کے قصہ میں سورة طٰہٰ میں گزر چکی ہے۔
حضرت سلیمان ؑ کیلئے ہوا کی تسخیر اور اس کے متعلقہ مسائل
حضرت حسن بصری سے منقول ہے کہ جب حضرت سلیمان کا یہ واقعہ پیش آیا کہ لشکری گھوڑوں کے معائنہ میں مشغول ہو کر عصر کی نماز فوت ہوگئی تو اپنی اس غفلت پر افسوس ہوا اور یہ گھوڑے جو اس غفلت کا سبب بنے تھے ان کو بیکار کر کے چھوڑ دیا، چونکہ ان کا یہ عمل اللہ کی رضا جوئی کیلئے ہوا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو گھوڑوں سے بہتر اور تیز رفتار سواری ہوا کی عطا فرما دی اس واقعہ کی تفصیل اور اس سے متعلقہ آیات کی تفسیر سورة صٓ میں آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔
Ayah 21:81وَلِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ عَاصِفَةً ، یہ جملہ سابقہ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ پر عطف ہے یعنی جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کے لئے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا تھا جو ان کی آواز کے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے اسی طرح حضرت سلیمان ؑ کے لئے ہوا کو مسخر کردیا تھا جس پر سوار ہو کر وہ جہاں چاہتے بہت جلد آسانی سے پہنچ جاتے تھے اس جگہ یہ امر قابل لحاظ ہے کہ تسخیر داؤد ؑ میں تو لفظ مَعَ استعمال فرمایا کہ ان کے ساتھ پہاڑوں پرندوں کو مسخر کردیا تھا اور یہاں حرف لام کے ساتھ فرمایا کہ ہوا کو سلیمان ؑ کے لئے مسخر کردیا تھا اس میں لطیف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ دونوں تسخیروں میں فرق تھا، داؤد ؑ جب تلاوت کرتے تو پہاڑ اور پرندے خود بخود تسبیح کرنے لگتے تھے ان کے حکم کے منتظر نہ رہتے تھے اور حضرت سلیمان ؑ کے لئے ہوا کو ان کے حکم کے تابع بنادیا گیا کہ جب چاہیں جس وقت چاہیں جس طرف جانا چاہیں ہوا کو حکم دے دیا اس نے پہنچا دیا پھر جہاں اترنا چاہیں وہاں اتار دیا پھر جب واپس چلنے کا حکم ہوا واپس پہنچا دیا۔ (روح عن البیضاوی)
تفسیر ابن کثیر میں تخت سلیمان ؑ جو ہوا پر چلتا تھا اس کی کیفیت یہ بیان کی ہے کہ سلیمان ؑ نے لکڑی کا ایک بہت بڑا وسیع تخت بنوایا تھا جس پر خود مع اعیان سلطنت اور مع لشکر اور آلات حرب کے سب سوار ہوجاتے پھر ہوا کو حکم دیتے وہ اس عظیم الشان وسیع و عریض تخت کو اپنے کاندھوں پر اٹھا کر جہاں کا حکم ہوتا وہاں جا کر اتار دیتی تھی۔ یہ ہوائی تخت صبح سے دوپہر تک ایک مہینہ کی مسافت طے کرتا تھا اور دوپہر سے شام تک ایک مہینہ کی یعنی ایک دن میں دو مہینوں کی مسافت ہوا کے ذریعہ طے ہوجاتی تھی۔ ابن ابی حاتم نے حضرت سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ اس تخت سلیمانی پر چھ لاکھ کرسیاں رکھی جاتی تھی جس میں سلیمان ؑ کے ساتھ اہل ایمان انسان سوار ہوتے تھے اور ان کے پیچھے اہل ایمان جن بیٹھتے تھے پھر پرندوں کو حکم ہوتا کہ وہ اس پورے تخت پر سایہ کرلیں تاکہ آفتاب کی تپش سے تکلیف نہ ہو پھر ہوا کو حکم دیا جاتا تھا وہ اس عظیم الشان مجمع کو اٹھا کر جہاں کا حکم ہوتا پہنچا دیتی تھی۔ اور بعض روایات میں ہے کہ اس ہوائی سفر کے وقت پورے راستہ میں حضرت سلیمان ؑ سر جھکائے ہوئے اللہ کے ذکر و شکر میں مشغول رہتے تھے دائیں بائیں کچھ نہ دیکھتے تھے اور اپنے عمل سے تواضع کا اظہار فرماتے تھے (ابن کثیر)
عَاصِفَةً ، ریح عاصفہ کے لفظی معنی سخت اور تیز ہوا کے ہیں۔ قرآن کریم کی دوسری آیت میں اس ہوا کی صفت رخاء بیان کی گئی ہے جس کے معنی نرم ہوا کے ہیں جس سے نہ غبار اڑے نہ فضا میں تلاطم پیدا ہو۔ بظاہر یہ دو متضاد صفتیں ہیں لیکن دونوں صفتوں کا جمع ہونا اس طرح ممکن ہے کہ یہ ہوا اپنی ذات میں بڑی سخت اور تیز ہو جس کی وجہ سے چند گھنٹوں میں ایک مہینہ کی مسافت طے کرسکے لیکن قدرت حق تعالیٰ نے اس کو ایسا بنادیا ہو کہ اس سے فضاء میں تلاطم نہ پیدا ہو چناچہ اس کا یہ حال بیان کیا گیا ہے کہ جس فضا میں یہ تخت روانہ ہوتا تھا وہاں کسی پرندے کو بھی کوئی نقصان نہ پہنچتا تھا۔
Ayah 21:82سلیمان ؑ کیلئے تسخیر جنات و شیاطین
وَمِنَ الشَّيٰطِيْنِ مَنْ يَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَيَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ ۚ وَكُنَّا لَهُمْ حٰفِظِيْنَ ، یعنی ہم نے سلیمان ؑ کے لئے مسخر کردیا شیاطین جن میں سے ایسے لوگوں کو جو دریاؤں میں غوطہ لگا کر سلیمان ؑ کے لئے جواہرات نکال کر لاتے تھے اور اس کے علاوہ دوسرے کام بھی کرتے تھے جن میں سے بعض کا ذکر دوسری آیات میں آیا ہے۔ يَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا يَشَاۗءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ وَتَمَاثِيْلَ وَجِفَانٍ كَالْجَــوَابِ ، یعنی بناتے ہیں حضرت سلیمان کے لئے محرابیں اور شاندار مکانات اور مورتیں اور پتھر کے بڑے بڑے پیالے جو حوض کی طرح کام دیں ان سے سلیمان بڑی مشقت کے کام بھی لیتے تھے اور عجیب و غریب صنعتوں کے بھی، اور ہم ہی ان کے محافظ تھے۔
الشَّيٰطِيْنِ ، وہ آگ کے بنے ہوئے اجسام لطیفہ ہیں جو عقل و شعور رکھتے ہیں اور انسان کی طرح احکام شرع کے مکلف ہیں۔ اس نوع کے لئے اصل لفظ جن یا جنات استعمال ہوتا ہے ان میں جو ایمان قبول نہ کریں کافر رہیں ان کو شیاطین کہا جاتا ہے ظاہر یہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے لئے مسخر تو سبھی جنات تھے خواہ مومن یا کافر، مگر مومنین تو تسخیر کے بغیر بھی سلیمان ؑ کے احکام کی تعمیل ایک مذہبی فریضہ کی حیثیت سے کرتے تھے ان کے لئے تسخیر کے ذکر کی ضرورت نہیں۔ اس لئے تسخیر میں صرف شیاطین یعنی کفار جنات کا ذکر فرمایا کہ وہ باوجود اپنے کفر و سرکشی کے زبردستی حضرت سلیمان کے تابع فرمان رہتے تھے اور شاید اسی لئے آیت کے آخر میں یہ جملہ بڑھایا گیا کہ ہم ہی ان کے محافظ تھے ورنہ کفار جنات سے تو ہر وقت یہ خطرہ تھا کہ وہ کوئی نقصان نہ پہنچا دیں مگر حفاظت خداوندی کا پہرہ ان پر لگا ہوا تھا اس لئے کوئی گزند نہ پہنچا سکتے تھے۔
ایک لطیفہ
حضرت داؤد ؑ کے لئے تو حق تعالیٰ نے سب سے زیادہ سخت اور کثیف اجسام کو مسخر فرمایا جن میں پہاڑ اور لوہا جیسی سخت چیزیں شامل ہیں، اس کے بالمقابل سلیمان ؑ کیلئے ایسے اجسام لطیفہ کو مسخر فرمایا جو دیکھنے میں بھی نہ آسکیں جیسے ہوا اور جنات اس میں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ہر قسم کی مخلوقات پر حاوی ہونا ضروری کیا گیا ہے (تفسیر کبیر للرازی)
Ayahs 21:83–84خلاصہ تفسیر
اور ایوب (علیہ السلام کے قصے کا تذکرہ کیجئے جب کہ انہوں نے (مرض شدید میں مبتلا ہونے کے بعد) اپنے رب کو پکارا کہ مجھ کو یہ تکلیف پہنچ رہی ہے اور آپ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں (تو اپنی مہربانی سے میری یہ تکلیف دور کر دیجئے) تو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو جو تکلیف تھی اس کو دور کردیا اور (بغیر ان کی درخواست کے) ہم نے ان کا کنبہ (یعنی اولاد جو ان سے غائب ہوگئے تھے (قالہ الحسن کذا فی الدار المنثور) یا مر گئے تھے (کما قال غیرہ) عطا فرمایا (اس طرح سے کہ وہ اس کے پاس آگئے یا بایں معنی کہ اتنے ہی اور پیدا ہوگئے، قالہ عکرمہ کما فی فتح المنان) اور ان کے ساتھ (گنتی میں) ان کے برابر اور بھی (دیئے، یعنی جتنی اولاد پہلے تھی اس کے برابر اور بھی دے دیے خواہ خود اپنی صلب سے یا اولاد کی اولاد ہونے کی حیثیت سے) (کذا فی فتح المنان من کتاب ایوب) اپنی رحمت خاصہ کے سبب سے اور عبادت کرنے والوں کے لئے ایک یادگار رہنے کے سبب سے۔
معارف و مسائل
قصہ ایوب ؑ
حضرت ایوب ؑ کے قصہ میں اسرائیلی روایات بڑی طویل ہیں، ان میں سے جن کو حضرات محدثین نے تاریخی درجہ میں قابل اعتماد سمجھا ہے وہ نقل کی جاتی ہیں۔ قرآن کریم سے تو صرف اتنی بات ثابت ہے کہ ان کو کوئی شدید مرض پیش آیا جس پر وہ صبر کرتے رہے بالآخر اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اس سے نجات ملی اور یہ کہ اس بیماری کے زمانے میں ان کی اولاد اور احباب سب غائب ہوگئے خواہ موت کی وجہ سے یا کسی دوسری وجہ سے، پھر حق تعالیٰ نے ان کو صحت و عافیت دی اور جتنی اولاد تھی وہ سب ان کو دے دی بلکہ اتنی ہی اور بھی زیادہ دیدی، باقی حصے کے اجزاء بعض تو مستند احادیث میں موجود ہیں اور زیادہ تر تاریخی روایات ہیں حافظ ابن کثیر نے اس قصے کی تفصیل یہ لکھی ہے کہ
ایوب ؑ کو حق تعالیٰ نے ابتداء میں مال و دولت اور جائیداد اور شاندار مکانات اور سواریاں اور اولاد اور حشم و خدم بہت کچھ عطا فرمایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو پیغمبرانہ آزمائش میں مبتلا کیا یہ سب چیزیں ان کے ہاتھ سے نکل گئی اور بدن میں بھی ایسی سخت بیماری لگ گئی جیسے جذام ہوتا ہے کہ بدن کا کوئی حصہ بجز زبان اور قلب کے اس بیماری سے نہ بچا وہ اس حالت میں زبان و قلب کو اللہ کی یاد میں مشغول رکھتے اور شکر ادا کرتے رہتے تھے۔ اس شدید بیماری کی وجہ سے سب عزیزوں، دوستوں اور پڑوسیوں نے ان کو الگ کر کے آبادی سے باہر ایک کوڑا کچرہ ڈالنے کی جگہ پر ڈال دیا۔ کوئی ان کے پاس نہ جاتا تھا صرف ان کی بیوی ان کی خبر گیری کرتی تھی جو حضرت یوسف ؑ کی بیٹی یا پوتی تھی جس کا نام لیّا بنت میشا ابن یوسف ؑ بتلایا جاتا ہے (ابن کثیر) مال و جائیداد تو سب ختم ہوچکا تھا ان کی زوجہ محترمہ محنت مزدوری کر کے اپنے اور ان کے لئے رزق اور ضروریات فراہم کرتی اور ان کی خدمت کرتی تھیں۔ ایوب ؑ کا یہ ابتلاء و امتحان کوئی حیرت و تعجب کی چیز نہیں، نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الصالحون ثم الامثل فالامثل، یعنی سب سے زیادہ سخت بلائیں اور آزمائشیں انبیاء (علیہم السلام) کو پیش آتی ہیں ان کے بعد دوسرے صالحین کو درجہ بدرجہ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ہر انسان کا ابتلاء اور آزمائش اس کی دینی صلابت اور مضبوطی کے اندازے پر ہوتا ہے جو دین میں جتنا زیادہ مضبوط ہوتا ہے اتنی اس کی آزمائش و ابتلاء زیادہ ہوتی ہے (تاکہ اسی مقدار سے اس کے درجات اللہ کے نزدیک بلند ہوں) حضرت ایوب ؑ کو حق تعالیٰ نے زمرہ انبیاء (علیہم السلام) میں دینی صلابت اور صبر کا ایک امتیازی مقام عطا فرمایا تھا (جیسے داؤد ؑ کو شکر کا ایسا ہی امتیاز دیا گیا تھا) مصائب و شدائد پر صبر میں حضرت ایوب ؑ ضرب المثل ہیں۔ یزید بن میسرہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایوب ؑ کو مال و اولاد وغیرہ سب دنیا کی نعمتوں سے خالی کر کے آزمائش فرمائی تو انہوں نے فارغ ہو کر اللہ کی یاد اور عبادت میں اور زیادہ محنت شروع کردی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے مال جائیداد اور دولت دنیا اور اولاد عطا فرمائی جس کی محبت میرے دل کے ایک ایک جزء پر چھا گئی پھر اس پر بھی شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے ان سب چیزوں سے فارغ اور خالی کردیا اور اب میرے اور آپ کے درمیان حائل ہونے والی کوئی چیز باقی نہ رہی۔
حافظ ابن کثیر یہ مذکورہ روایات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ وہب بن منبہ سے اس قصہ میں بڑی طویل روایات منقول ہیں جن میں غرابت پائی جاتی ہے اور طویل ہیں اس لئے ہم نے ان کو چھوڑ دیا ہے۔
حضرت ایوب ؑ کی دعا صبر کے خلاف نہیں
حضرت ایوب ؑ اس شدید بلاء میں کہ سب مال و جائیداد اور دولت و دنیا سے الگ ہو کر ایسی جسمانی بیماری میں مبتلا ہوئے کہ لوگ پاس آتے ہوئے گھبرائیں، بستی سے باہر ایک کوڑے کچرے کی جگہ پر سات سال چند ماہ پڑے رہے کبھی جزع و فزع یا شکایت کا کوئی کلمہ زبان پر نہیں آیا۔ نیک بی بی لیّا زوجہ محترمہ نے عرض بھی کیا کہ آپ کی تکلیف بہت بڑھ گئی ہے اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ تکلیف دور ہوجائے تو فرمایا کہ میں نے ستر سال صحیح تندرست اللہ کی بیشمار نعمت و دولت میں گزارے ہیں کیا اس کے مقابلے میں سات سال بھی مصیبت کے گزرنے مشکل ہیں۔ پیغمبرانہ عزم و ضبط اور صبر و ثبات کا یہ عالم تھا کہ دعا کرنے کی بھی ہمت نہ کرتے تھے کہ کہیں صبر کے خلاف نہ ہوجائے (حالانکہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا اور اپنی احتیاج و تکلیف پیش کرنا بےصبری میں داخل نہیں) بالآخر کوئی ایسا سبب پیش آیا جس نے ان کو دعا کرنے پر مجبور کردیا اور جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے یہ دعا دعا ہی تھی کوئی بےصبری نہیں تھی حق تعالیٰ نے ان کے کمال صبر پر اپنے کلام میں مہر ثبت فرما دی ہے فرمایا اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا اس سبب کے بیان میں روایات بہت مختلف اور طویل ہیں اس لئے ان کو چھوڑا جاتا ہے۔
ابن ابی حاتم نے حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت کیا ہے کہ (جب ایوب ؑ کی دعا قبول ہوئی اور ان کو حکم ہوا کہ زمین پر ایڑ لگائیے یہاں سے صاف پانی کا چشمہ پھوٹے گا اس سے غسل کیجئے اور اس کا پانی پیجئے تو یہ سارا روگ چلا جائے گا۔ حضرت ایوب نے اس کے مطابق کیا تمام بدن جو زخموں سے چور تھا اور بجز ہڈیوں کے کچھ نہ رہا تھا اس چشمہ کے پانی سے غسل کرتے ہی سارا بدن کھال اور بال یکایک اپنی اصلی حالت پر آگئے تو) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جنت کا ایک لباس بھیج دیا وہ زیب تن فرمایا اور اس کوڑے کچرے سے الگ ہو کر ایک گوشہ میں بیٹھ گئے۔ زوجہ محترمہ حسب عادت ان کی خبر گیری کے لئے آئی تو ان کو اپنی جگہ پر نہ پا کر رونے لگی۔ ایوب ؑ جو ایک گوشہ میں بیٹھے ہوئے تھے ان کو نہیں پہچانا کہ حالت بدل چکی تھی، انہیں سے پوچھا کہ اے خدا کے بندے (کیا تمہیں معلوم ہے کہ) وہ بیمار مبتلا جو یہاں پڑا رہتا تھا کہاں چلا گیا، کیا کتوں یا بھیڑیوں نے اسے کھالیا ؟ اور کچھ دیر تک اس معاملے میں ان سے گفتگو کرتی رہی۔ یہ سب سن کر ایوب ؑ نے ان کو بتلایا کہ میں ہی ایوب ہوں مگر زوجہ محترمہ نے اب تک بھی نہیں پہچانا۔ کہنے لگی اللہ کے بندے کیا آپ میرے ساتھ تمسخر کرتے ہیں تو ایوب ؑ نے پھر فرمایا کہ غور کرو میں ہی ایوب ہوں اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرما لی اور میرا بدن ازسرنو درست فرما دیا۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کا مال و دولت بھی ان کو واپس دے دیا اور اولاد بھی، اور اولاد کی تعداد کے برابر مزید اولاد بھی دے دی (ابن کثیر)
ابن مسعود نے فرمایا کہ حضرت ایوب ؑ کے سات لڑکے سات لڑکیاں تھیں اس ابتلاء کے زمانے میں یہ سب مر گئے تھے، جب اللہ نے ان کو عافیت دی تو ان کو بھی دوبارہ زندہ کردیا اور ان کی اہلیہ سے نئی اولاد بھی اتنی ہی اور پیدا ہوگئی جس کو قرآن میں وَمِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ فرمایا ہے۔ ثعلبی نے کہا کہ یہ قول ظاہر آیت قرآن کے ساتھ اقرب ہے۔ (قرطبی)
بعض حضرات نے فرمایا کہ نئی اولاد خود اپنے سے اتنی ہی مل گئی جتنی پہلے تھی اور ان کے مثل اولاد سے مراد اولاد کی اولاد ہے۔ واللہ اعلم
Ayahs 21:85–86خلاصہ تفسیر
اور اسمعٰیل اور ادریس اور ذوالکفل (کے قصہ) کا تذکرہ کیجئے یہ سب (احکام الٰہیہ شریعیہ اور تکوینیہ پر) ثابت قدم رہنے والے لوگوں میں سے تھے اور ہم نے ان (سب) کو اپنی رحمت (خاصہ) میں داخل کرلیا تھا بیشک یہ (سب) کمال صلاحیت والوں میں تھے۔
معارف و مسائل
حضرت ذوالکفل نبی تھے یا ولی اور ان کا قصہ عجیبہ
آیات مذکورہ میں تین حضرات کا ذکر ہے جن میں حضرت اسمعٰیل اور حضرت ادریس (علیہما السلام) کا نبی و رسول ہونا قرآن کریم کی بہت سی آیات سے ثابت اور ان کا تذکرہ بھی قرآن میں جا بجا آیا ہے۔ تیسرے بزرگ ذوالکفل ہیں۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ ان کا نام ان دونوں پیغمبروں کے ساتھ شامل کر کے ذکر کرنے سے ظاہر یہی ہے کہ یہ بھی کوئی اللہ کے نبی اور پیغمبر تھے مگر بعض دوسری روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ زمرہ انبیاء میں نہیں تھے بلکہ ایک مرد صالح اولیاء اللہ میں سے تھے۔ امام تفسیر ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ مجاہد سے نقل کیا ہے کہ حضرت یسع (جن کا نبی و پیغمبر ہونا قرآن میں مذکور ہے) جب بوڑھے اور ضعیف ہوگئے تو ارادہ کیا کہ کسی کو اپنا خلیفہ بنادیں جو ان کی زندگی میں وہ سب کام ان کی طرف سے کرے جو نبی کے فرائض میں داخل ہیں۔
اس مقصد کے لئے حضرت یسع ؑ نے اپنے صحابہ کو جمع کیا کہ میں اپنا خلیفہ بنانا چاہتا ہوں جس کے لئے تین شرطیں ہیں جو شخص ان شرائط کا جامع ہو اس کو خلیفہ بناؤں گا۔ وہ تین شرطیں یہ ہیں کہ وہ ہمیشہ روزہ رکھتا ہو اور ہمیشہ رات کو عبادت میں بیدار رہتا ہو اور کبھی غصہ نہ کرتا ہو۔ مجمع میں سے ایک ایسا غیر معروف شخص کھڑا ہوا جس کو لوگ حقیر ذلیل سمجھتے تھے اور کہا کہ میں اس کام کے لئے حاضر ہوں۔ حضرت یسع نے دریافت کیا کہ کیا تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور ہمیشہ شب بیداری کرتے ہو اور کبھی غصہ نہیں کرتے۔ اس شخص نے عرض کیا کہ بیشک میں ان تین چیزوں کا عامل ہوں۔ حضرت الیسع (کو شاید کچھ اس کے قول پر اعتماد نہ ہوا اس لئے) اس روز اس کو رد کردیا پھر کسی دوسرے روز اس طرح مجمع سے خطاب فرمایا اور سب حاضرین ساکت رہے اور یہی شخص پھر کھڑا ہوگیا اس وقت حضرت یسع نے ان کو اپنا خلیفہ نامزد کردیا۔ شیطان نے یہ دیکھا کہ ذوالکفل اس میں کامیاب ہوگئے تو اپنے اعوان شیاطین سے کہا کہ جاؤ کسی طرح اس شخص پر اثر ڈالو کہ یہ کوئی ایسا کام کر بیٹھے جس سے یہ منصب اس کا سلب ہوجائے۔ اعوان شیطان نے عذر کردیا۔ کہ وہ ہمارے قابو میں آنے والا نہیں شیطان ابلیس نے کہا کہ اچھا تم اس کو مجھ پر چھوڑو (میں اس سے نمٹ لوں گا) حضرت ذوالکفل اپنے اقرار کے مطابق دن بھر روزہ رکھتے اور رات بھر جاگتے تھے صرف دوپہر کو قیلولہ کرتے تھے (قیلولہ دوپہر کے سونے کو کہتے ہیں) شیطان عین دوپہر کو ان کے قیلولہ کے وقت آیا اور دروازہ پر دستک دی یہ بیدار ہوگئے اور پوچھا کون ہے کہنے لگا کہ میں بوڑھا مظلوم ہوں، انہوں نے دروازہ کھول دیا۔ اس نے اندر پہنچ کر ایک افسانہ کہنا شروع کردیا کہ میری برادری کا مجھ سے جھگڑا ہے انہوں نے مجھ پر یہ ظلم کیا وہ ظلم کیا، ایک طویل داستان شروع کردی یہاں تک کہ دوپہر کے سونے کا وقت ختم ہوگیا۔ حضرت ذوالکفل نے فرمایا کہ جب میں باہر آؤں تو میرے پاس آجاؤ میں تمہارا حق دلواؤں گا۔
حضرت ذوالکفل باہر تشریف لائے اور اپنی مجلس عدالت میں اس کا انتظار کرتے رہے مگر اس کو نہیں پایا۔ اگلے روز پھر جب وہ عدالت میں فیصلہ مقدمات کے لئے بیٹھے تو اس بوڑھے کا انتظار کرتے رہے اور یہ نہ آیا۔ جب دوپہر کو پھر قیلولہ کے لئے گھر میں گئے تو یہ شخص آیا اور دروازہ کوٹنا شروع کردیا۔ انہوں نے پھر پوچھا کون ہے ؟ جواب دیا کہ ایک مظلوم بوڑھا ہے، انہوں نے پھر دروازہ کھول دیا اور فرمایا کیا میں نے کل تم سے نہیں کہا تھا کہ جب میں اپنی مجلس میں بیٹھوں تو تم آجاؤ (تم نہ کل آئے نہ آج صبح سے آئے) اس نے کہا کہ حضرت میرے مخالف بڑے خبیث لوگ ہیں جب انہوں نے دیکھا کہ آپ اپنی مجلس میں بیٹھے ہیں اور میں حاضر ہوں گا تو آپ ان کو میرا حق دینے پر مجبور کریں گے تو انہوں نے اس وقت اقرار کرلیا کہ ہم تیرا حق دیتے ہیں، پھر جب آپ مجلس سے اٹھ گئے تو انکار کردیا۔ انہوں نے پھر اس کو یہی فرمایا کہ اب جاؤ جب میں مجلس میں بیٹھوں تو میرے پاس آجاؤ۔ اسی گفت و شنید میں آج کے دوپہر کا سونا بھی رہ گیا اور وہ باہر مجلس میں تشریف لے گئے اور اس بوڑھے کا انتظار کرتے رہے (اگلے روز بھی دوپہر تک انتظار کیا وہ نہیں آیا پھر جب تیسرے روز دوپہر کا وقت ہوا اور نیند کو تیسرا دن ہوگیا تھا نیند کا غلبہ تھا) تو گھر میں آ کر گھر والوں کو اس پر مقرر کیا کہ کوئی شخص دروازے پر دستک نہ دے سکے۔ یہ بوڑھا پھر تیسرے روز پہنچا اور دروازے پر دستک دینا چاہا لوگوں نے منع کیا تو ایک روشندان کے راستے سے اندر داخل ہوگیا اور اندر پہنچ کر دروازہ بجانا شروع کردیا یہ پھر نیند سے بیدار ہوگئے اور دیکھا کہ یہ شخص گھر کے اندر ہے اور دیکھا کہ دروازہ بدستور بند ہے اس سے پوچھا، تو کہاں سے اندر پہنچا، اس وقت حضرت ذوالکفل نے پہچان لیا کہ یہ شیطان ہے اور فرمایا کہ کیا تو خدا کا دشمن ابلیس ہے ؟ اس نے اقرار کیا کہ ہاں، اور کہنے لگا کہ تو نے مجھے میری ہر تدبیر میں تھکا دیا کبھی میرے جال میں نہیں آیا، اب میں نے یہ کوشش کی کہ تجھے کسی طرح غصہ دلا دوں تاکہ تو اپنے اس اقرار میں جھوٹا ہوجائے جو یسع نبی کے ساتھ کیا ہے، اس لئے میں نے یہ سب حرکتیں کیں۔ یہ واقعہ تھا جس کی وجہ سے ان کو ذوالکفل کا خطاب دیا گیا، کیونکہ ذوالکفل کے معنی ہیں ایسا شخص جو اپنے عہد اور ذمہ داری کو پورا کرے، حضرت ذوالکفل اپنے اس عہد پر پورے اترے۔ (ابن کثیر)
مسند احمد میں ایک روایت اور بھی ہے مگر اس میں ذوالکفل کے بجائے الکفل کا نام آیا ہے۔ اسی لئے ابن کثیر نے اس روایت کو نقل کر کے کہا کہ یہ کوئی دوسرا شخص کفل نامی ہے وہ ذوالکفل جن کا ذکر اس آیت میں آیا ہے وہ نہیں۔ روایت یہ ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث سنی ہے اور ایک دو مرتبہ نہیں بلکہ سات مرتبہ سے زائد سنی ہے وہ یہ کہ آپ نے فرمایا کہ کفل بنی اسرائیل کا ایک شخص تھا جو کسی گناہ سے پرہیز نہ کرتا تھا، اس کے پاس ایک عورت آئی اس نے اس کو ساٹھ دینار (گنیاں) دیں اور فعل حرام پر اس کو راضی کرلیا۔ جب وہ مباشرت کے لئے بیٹھ گیا تو یہ عورت کانپنے اور رونے لگی اس نے کہا کہ رونے کی کیا بات ہے کیا میں نے تم پر کوئی جبر اور زبردستی کی ہے۔ اس نے کہا نہیں جبر تو نہیں کیا، لیکن یہ ایسا گناہ ہے جو میں نے کبھی عمر بھر نہیں کیا اور اس وقت مجھے اپنی ضرورت نے مجبور کردیا اس لئے اس پر آمادہ ہوگئی یہ سن کر وہ شخص اسی حالت میں عورت سے الگ ہو کر کھڑا ہوگیا اور کہا کہ جاؤ یہ دینار بھی تمہارے ہیں اور اب سے کفل بھی کوئی گناہ نہیں کرے گا، اتفاق یہ ہوا کہ اسی رات میں کفل کا انتقال ہوگیا اور صبح اس کے دروازے پر غیب سے یہ تحریر لکھی ہوئی دیکھی گئی غفر اللہ للکفل یعنی اللہ نے کفل کو بخش دیا ہے۔
ابن کثیر نے یہ روایت مسند احمد کی نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس کو صحاح ستہ میں سے کسی نے روایت نہیں کیا اور اسناد اس کی غریب ہے اور بہرحال اگر روایت ثابت بھی ہے تو اس میں ذکر کفل کا ہے ذوالکفل کا نہیں، یہ کوئی دوسرا شخص معلوم ہوتا ہے واللہ اعلم
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ذوالکفل حضرت یسع نبی کے خلیفہ اور ولی صالح تھے، ان کے خاص محبوب اعمال کی بنا پر ہوسکتا ہے کہ ان کا ذکر اس آیت میں بزمرہ انبیاء کردیا گیا اور اس میں بھی کوئی بعد نہیں معلوم ہوتا کہ شروع میں یہ حضرت یسع کے خلیفہ ہی ہوں پھر حق تعالیٰ نے ان کو منصب نبوت عطا فرما دیا ہو۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Ayah 21:87خلاصہ تفسیر
اور مچھلی والے (پیغمبر یعنی یونس ؑ کے قصہ) کا تذکرہ کیجئے جب وہ (اپنی قوم سے جبکہ وہ ایمان نہ لائی) خفا ہو کر چل دیئے (اور ان کی قوم پر سے عذاب ٹلنے کے بعد بھی خود واپس نہ آئے اور اس سفر کے لئے ہمارے حکم کا انتظار نہیں کیا) اور انہوں نے (اپنے اجتہاد سے) یہ سمجھا کہ ہم (اس چلے جانے میں) ان پر کوئی داروگیر نہ کریں گے (یعنی چونکہ اس فرار کو انہوں نے اپنے اجتہاد سے جائز سمجھا اس لئے وحی کا انتظار نہ کیا لیکن چونکہ امید وحی تک وحی کا انتظار انبیاء کے لئے مناسب ہے اور یہ مناسب کام ان سے ترک ہوگیا لہٰذا ان کو یہ ابتلا پیش آیا کہ راستہ میں ان کو کوئی دریا ملا اور وہاں کشتی میں سوار ہوئے، کشتی چلتے چلتے رک گئی یونس ؑ سمجھ گئے کہ میرا یہ بلا اجازت فرار ناپسند ہوا اس کی وجہ سے یہ کشتی رکی، کشتی والوں سے فرمایا کہ مجھ کو دریا میں ڈال دو ، وہ راضی نہ ہوئے غرض قرعہ پر اتفاق ہوا تب بھی ان ہی کا نام نکلا، آخر ان کو دریا میں ڈال دیا اور خدا کے حکم سے ان کو ایک مچھلی نے نگل لیا، اخرجہ، ابن ابی حاتم عن ابن عباس کذا فی الدار المنثور) پس انہوں نے اندھیروں میں پکارا (ایک اندھیرا مچھلی کے پیٹ کا، دوسرا دریا کے پانی کا دونوں گہرے اندھیرے جو بہت سے اندھیروں کے قائم مقام، یا تیسرا اندھیرا رات کا، قالہ ابن مسعود کما فی الدر المنثور، غرض ان تاریکیوں میں دعا کی) کہ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں (یہ توحید ہے) آپ سب نقائص سے) پاک ہیں (یہ تنزیہ ہے) میں بیشک قصور وار ہوں (یہ استغفار ہے جس سے مقصود یہ ہے کہ میرا قصور معاف کر کے اس شدت سے نجات دیجئے) سو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو اس گھٹن سے نجات دی (جس کا قصہ سورة صافات میں فَنَبَذْنٰهُ بالْعَرَاۗءِ الخ میں مذکور ہے) اور ہم اسی طرح (اور) ایمان والوں کو (بھی کرب اور غم سے) نجات دیا کرتے ہیں (جبکہ چندے غم میں رکھنا مصلحت نہ ہو)
معارف و مسائل
وَذَا النُّوْنِ ، حضرت یونس بن متی ؑ کا قصہ قرآن کریم نے سورة یونس، سورة انبیاء پھر سورة صافات اور سورة نون میں ذکر فرمایا کہیں ان کا اصل نام ذکر فرمایا ہے کہیں ذوالنون یا صاحب الحوت کے القاب سے ذکر کیا گیا ہے۔ نون اور حوت دونوں کے معنے مچھلی کے ہیں ذوالنون اور صاحب الحوت کا ترجمہ ہے مچھلی والا، حضرت یونس ؑ کو بتقدیر الٰہی چند روز بطن ماہی میں رہنے کا واقعہ غریبہ پیش آیا تھا اس کی مناسبت سے ان کو ذوالنون بھی کہا جاتا ہے اور صاحب الحوت کے الفاظ سے بھی تعبیر کیا گیا۔
قصہ یونس ؑ
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ یونس ؑ کو علاقہ موصل کی ایک بستی نینوی کے لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا تھا۔ یونس ؑ نے ان کو ایمان و عمل صالح کی دعوت دی، انہوں نے تمرد اور سرکشی سے کام لیا۔ یونس ؑ ان سے ناراض ہو کر بستی سے نکل گئے اور ان کو کہہ دیا کہ تین دن کے اندر تمہارے اوپر عذاب آجائے گا۔ یونس ؑ بستی چھوڑ کر نکل گئے تو ان کو فکر ہوئی کہ اب عذاب آ ہی جائے گا (اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب کے بعض آثار کا ان کو مشاہدہ بھی ہوگیا) تو انہوں نے اپنے شرک و کفر سے توبہ کی اور بستی کے سب مرد عورت اور بچے جنگل کی طرف نکل گئے اور اپنے مویشی جانوروں اور ان کے بچوں کو بھی ساتھ لے گئے اور بچوں کو ان کی ماؤں سے الگ کردیا اور سب نے گریہ وزاری کرنا شروع کی اور الحاح وزاری کے ساتھ اللہ سے پناہ مانگی، جانوروں کے بچوں نے جن کو ان کی ماؤں سے الگ کردیا گیا تھا الگ شور و غل کیا۔ حق تعالیٰ نے ان کی سچی توبہ اور الحاح وزاری کو قبول کرلیا اور عذاب ان سے ہٹا دیا۔ ادھر حضرت یونس ؑ اس انتظار میں رہے کہ قوم پر عذاب آ رہا ہے وہ ہلاک ہوگئی ہوگی جب ان کو یہ پتہ چلا کہ عذاب نہیں آیا اور قوم صحیح سالم اپنی جگہ ہے تو (ان کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ اب میں جھوٹا سمجھا جاؤں گا، اور بعض روایات میں ہے کہ ان کی قوم میں یہ رسم جاری تھی کہ کسی کا جھوٹا ہونا ثابت ہوجائے تو اس کو قتل کردیا جاتا تھا (مظہری) اس سے حضرت یونس ؑ کو اپنی جان کا بھی خطرہ لاحق ہوگیا تو) یونس ؑ نے اپنی قوم میں واپس جانے کے بجائے کسی دوسری جگہ کو ہجرت کرنے کے قصد سے سفر اختیار کیا۔ راستہ میں دریا تھا اس کو پار کرنے کے لئے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ اتفاق سے کشتی ایسے گرداب میں پھنسی کہ غرق ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا ملاحوں نے یہ طے کیا کہ کشتی میں سوار لوگوں میں سے ایک کو دریا میں ڈال دیا جائے تو باقی لوگ غرقابی سے محفوظ رہ سکیں گے۔ اس کام کے لئے کشتی والوں کے نام پر قرعہ اندازی کی گئی اتفاق سے قرعہ حضرت یونس ؑ کے نام پر نکل آیا (کشتی والے شاید ان کی بزرگی سے واقف تھے) ان کو دریا میں ڈالنے سے انکار کیا اور دوبارہ قرعہ ڈالا پھر بھی اس میں نام یونس ؑ کا نکلا، ان کو پھر بھی تامل ہوا تو تیسری مرتبہ قرعہ ڈالا پھر بھی انہیں کا نام نکل آیا۔ اسی قرعہ اندازی کا ذکر قرآن کریم میں دوسری جگہ ان الفاظ سے آیا ہے فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ یعنی قرعہ اندازی کی گئی تو یونس ؑ ہی اس قرعہ میں متعین ہوئے۔ اس وقت یونس ؑ کھڑے ہوگئے اور اپنے غیر ضروری کپڑے اتار کر اپنے آپ کو دریا میں ڈال دیا ادھر حق تعالیٰ نے بحر اخضر سے ایک مچھلی کو حکم دیا وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی فوراً یہاں پہنچ گئی (کما قالہ ابن مسعود) اور یونس ؑ کو اپنے اندر لے لیا۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو یہ ہدایت فرما دی تھی کہ نہ ان کے گوشت کو کوئی نقصان پہنچے نہ ہڈی کو یہ تیری غذا نہیں بلکہ تیرا پیٹ چند روز کے لئے ان کا قید خانہ ہے (یہاں تک یہ سب واقعہ روایت ابن کثیر میں ہے بجز ان کلمات کے جو قوسین میں لئے گئے ہیں وہ دوسری کتابوں سے لئے ہوئے ہیں) قرآن کریم کے اشارات اور بعض تصریحات سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یونس ؑ کا بغیر اللہ تعالیٰ کے صریح حکم کے اپنی قوم کو چھوڑ کر نکل جانا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسند ہوا اسی پر عتاب نازل ہوا اور دریا میں پھر مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی نوبت آئی۔
حضرت یونس ؑ نے جو قوم کو تین دن کے اندر عذاب آجانے سے ڈرایا تھا ظاہر یہ ہے کہ یہ اپنی رائے سے نہیں بلکہ وحی الٰہی سے ہوا تھا اور اس وقت قوم کو چھوڑ کر ان سے الگ ہوجانا بھی جو قدیم عادت انبیاء (علیہم السلام) کی ہے ظاہر یہ ہے کہ یہ بھی بحکم خداوندی ہوا ہوگا یہاں تک کوئی بات لغزش کی موجب عتاب نہیں تھی مگر جب قوم کی سچی توبہ اور الحاح وزاری کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرما کر ان سے عذاب ہٹا دیا اس وقت حضرت یونس ؑ کا اپنی قوم میں واپس نہ آنا اور بقصد ہجرت سفر اختیار کرنا یہ اپنے اس اجتہاد کی بنا پر ہوا کہ اس حالت میں اگر میں واپس اپنی قوم میں گیا تو جھوٹا سمجھا جاؤں گا اور میری دعوت بےاثر بےفائدہ ہوجاوے گی بلکہ اپنی جان کا بھی خطرہ ہے اور اگر میں ان کو چھوڑ کر کہیں چلا جاؤں تو یہ بات اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل مواخذہ و گرفت نہیں ہوگی اپنے اجتہاد کی بنا پر ہجرت کا قصد کرلینا اور اللہ تعالیٰ کے صریح حکم کا انتظار نہ کرنا اگرچہ کوئی گناہ نہیں تھا مگر اللہ تعالیٰ کو یونس ؑ کا یہ طرز عمل پسند نہ آیا کہ وحی کا انتظار کئے بغیر ایک فیصلہ کرلیا یہ اگرچہ کوئی گناہ نہیں تھا مگر خلاف اولیٰ ضرور ہوا۔ انبیاء (علیہم السلام) اور مقربان بارگاہ الٰہی کی شان بہت بلند ہوتی ہے ان کو مزاج شناس ہونا چاہئے۔ ان سے اس معاملے میں ادنیٰ کوتاہی ہوتی ہے تو اس پر بھی عتاب اور گرفت ہوتی ہے یہی معاملہ تھا جس پر عتاب ہوا۔
تفسیر قرطبی میں قشیری سے بھی یہ نقل کیا کہ ظاہر یہ ہے کہ یہ صورت غضب یونس ؑ کی اس وقت پیش آئی جبکہ قوم سے عذاب ہٹ گیا ان کو یہ پسند نہ تھا، اور مچھلی کے پیٹ میں چند روز رہنا بھی کوئی تعذیب نہیں بلکہ تادیب کے طور پر تھا جیسے اپنے نابالغ بچوں پر زجر و تنبیہ تعذیب نہیں ہوتی تادیب ہوتی ہے تاکہ آئندہ وہ احتیاط برتیں (قرطبی) واقعہ سمجھ لینے کے بعد آیات مذکورہ کے الفاظ کی تفسیر دیکھئے۔
ذَّهَبَ مُغَاضِبًایعنی چلے گئے غصہ میں آ کر، ظاہر ہے کہ مراد اس سے اپنی قوم پر غصہ ہے حضرت ابن عباس سے یہی منقول ہے اور جن حضرات نے مُغَاضِبًا کا مفعول رب کو قرار دیا ہے ان کی مراد بھی مُغَاضِبًا لربہ ہے یعنی اپنے رب کے لئے غصہ میں بھر کر چل دیئے اور کفار فجار سے اللہ کے لئے غصہ کرنا عین علامت ایمان ہے (کذا فی القرطبی و البحر المحیط)
فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَيْهِلفظ نَّقْدِرَ میں باعتبار لغت ایک احتمال یہ ہے کہ مصدر قدرت سے مشتق ہو تو معنے یہ ہوں گے کہ انہوں نے یہ گمان کرلیا کہ ہم ان پر قدرت اور قابو نہ پاسکیں گے ظاہر ہے کہ یہ بات کسی پیغمبر سے تو کیا کسی مسلمان سے بھی اس کا گمان نہیں ہوسکتا کیونکہ ایسا سمجھنا کفر صریح ہے اس لئے یہاں یہ معنے قطعاً نہیں ہو سکے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ مصدر قدر سے مشتق ہو جس کے معنے تنگی کرنے کے ہیں جیسے قرآن کریم میں ہے، اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَيَقْدِرُ لَهٗ ، یعنی اللہ تعالیٰ وسعت کردیتا ہے رزق میں جس کے لئے چاہے اور تنگ کردیتا ہے جس پر چاہے۔ ائمہ تفسیر میں سے عطاء، سعید بن جبیر، حسن بصری، اور بہت سے علماء نے یہی معنے اس آیت میں لئے ہیں اور مراد آیت کی یہ قرار دی کہ حضرت یونس ؑ کو اپنے قیاس و اجتہاد سے یہ گمان تھا کہ ان حالات میں اپنی قوم کو چھوڑ کر کہیں چلے جانے کے بارے میں مجھ پر کوئی تنگی نہیں کی جائے گی۔ اور تیسرا احتمال یہ بھی ہے کہ یہ لفظ قدر بمعنے تقدیر سے مشتق ہے جس کے معنے قضاء اور فیصلہ دینے کے ہیں تو معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ حضرت یونس ؑ کو یہ گمان ہوگیا کہ اس معاملہ میں مجھ پر کوئی گرفت اور مواخذہ نہیں ہوگا۔ ائمہ تفسیر میں سے قتادہ اور مجاہد اور فراء نے اسی معنے کو اختیار کیا ہے۔ بہرحال پہلے معنے کا تو اس جگہ کوئی احتمال نہیں دوسرے یا تیسرے معنے ہو سکتے ہیں۔
Ayah 21:88دعا یونس ؑ ہر شخص کے لئے ہر زمانے میں ہر مقصد کے لئے مقبول ہے
وَكَذٰلِكَ نُـــــْۨـجِي الْمُؤ ْمِنِيْنَ ، یعنی جس طرح ہم نے یونس ؑ کو غم اور مصیبت سے نجات دی اس طرح ہم سب مومنین کے ساتھ بھی یہی معاملہ کرتے ہیں جبکہ وہ صدق و اخلاص کے ساتھ ہماری طرف متوجہ ہوں اور ہم سے پناہ مانگیں۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ذوالنون کی وہ دعا جو انہوں نے بطن ماہی کے اندر کی تھی یعنی لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ ، جو مسلمان اپنے کسی مقصد کے لئے ان کلمات کے ساتھ دعا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمادیں گے (رواہ احمد والترمذی و الحاکم و صححہ من حدیث سعد بن ابی وقاص۔ از مظہری)