Ayahs 21:37–46جلد بازی مذموم
خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ، عجل بمعنے عجلت اور جلدی کے ہے جس کی حقیقت کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے طلب کرنا ہے اور یہ وصف فی نفسہ مذموم ہے قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی اس کو انسانی کمزوری کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا یعنی انسان بڑا جلد باز ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ جب کوہ طور پر اپنی قوم سے آگے بڑھ کر حق تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو وہاں بھی اس عجلت پر عتاب ہوا اور انبیاء و صلحاء کے بارے میں جو مسارعت اور مسابقت فی الخیرات کو بطور مدح کے ذکر کیا گیا ہے وہ جلد بازی اور عجلت کے مفہوم میں داخل نہیں۔ کیونکہ وہ وقت سے پہلے کسی چیز کی طلب نہیں بلکہ وقت پر تکثیر خیرات و حسنات کی کوشش ہے واللہ اعلم
اور خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی طبیعت میں جس طرح کچھ دوسری کمزوریاں رکھ دی گئی ہیں ان میں سے ایک کمزوری عجلت کی بھی ہے اور جو چیز طبیعت اور جبلت میں داخل ہوتی ہے عرب اس کو اسی عنوان سے تعبیر کرتے ہیں کہ یہ شخص اس چیز سے پیدا کیا گیا جیسے کسی کے مزاج میں غصہ غالب ہوگا تو کہا جائے گا کہ یہ غصہ کا بنا ہوا آدمی ہے۔
سَاُورِيْكُمْ اٰيٰتِيْ ، اس میں آیات سے مراد وہ معجزات اور حالات ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے صدق و حقانیت پر شہادت دیتے ہیں (قرطبی) جیسے غزوہ بدر وغیرہ میں یہ نشانیاں کھلے طور پر ظاہر ہوئیں اور انجام کار ان مسلمانوں کا غلبہ سب کی آنکھوں نے دیکھ لیا جن کو سب سے زیادہ ضعیف و ذلیل سمجھا جاتا تھا۔
Ayah 21:47قیامت میں وزن اعمال اور اس کی میزان
وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ لفظ مَوَازِيْنَ میزان کی جمع ہے جو ترازو کے معنے میں آتا ہے اس جگہ میزان کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے بعض حضرات مفسرین نے یہ قرار دیا ہے کہ وزن اعمال کے لئے بہت سی میزانیں استعمال کی جائیں گی خواہ ہر شخص کے لئے الگ الگ میزان ہو یا خاص خاص اعمال کے لئے الگ الگ میزانیں ہوں مگر جمہوری علماء اس پر متفق ہیں کہ میزان ایک ہی ہوگی اس کو بصیغہ جمع اس لئے تعبیر کردیا ہے کہ وہ بہت سی موازین کا کام دے گی کیونکہ ساری مخلوقات آدم ؑ سے قیامت تک جن کی تعداد اللہ ہی جانتا ہے ان سب کے اعمال کو یہی ترازو تولے گی۔ اور قسط کے معنی عدل و انصاف کے ہیں معنے یہ ہیں کہ یہ میزان عدل و انصاف کے ساتھ وزن کرے گی ذرا کمی بیشی نہ ہوگی۔ مستدرک حاکم میں بروایت حضرت سلمان روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز جو میزان وزن اعمال کے لئے رکھی جائے گی اتنی بڑی اور وسیع ہوگی کہ اس میں آسمان و زمین کو تولنا چاہیں تو وہ بھی اس میں سما جائیں۔ (مظہری)
حافظ ابوالقاسم لالکائی نے اپنی سنن میں حضرت انس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میزان پر ایک فرشتہ مقرر ہوگا اور ہر انسان کو اس میزان کے سامنے لایا جائے گا۔ اگر اس کی نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگیا تو فرشتہ منادی کرے گا جس کو تمام اہل محشر سنیں گے کہ فلاں شخص کامیاب ہوگیا اب کبھی اس کو محرومی نہیں ہوگی، اور اگر نیکیوں کا پلہ ہلکا رہا تو یہ فرشتہ منادی کرے گا کہ فلاں شخص شقی اور محروم ہوگیا اب کبھی کامیاب بامراد نہیں ہوگا، اور حافظ مذکور نے حضرت حذیفہ سے روایت کیا ہے کہ یہ فرشتہ جو میزان پر مقرر ہوگا حضرت جبریل امین ہیں۔ (قرطبی)
حاکم اور بیہقی اور آجری نے حضرت صدیقہ عائشہ سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا قیامت کے روز بھی آپ اپنے اہل و اولاد کو یاد رکھیں گے تو فرمایا کہ قیامت میں تین مقام تو ایسے ہوں گے کہ ان میں کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا۔ ایک وہ وقت جب میزان عدل کے سامنے وزن اعمال کے لئے حاضر ہوں گے جب تک یہ نتیجہ معلوم نہ ہوجائے کہ اس کا پلہ نیکیوں کا بھاری ہوا یا ہلکا رہا کسی کو کسی کی یاد نہ آوے گی اور دوسرام مقام وہ ہے جب نامہائے اعمال اڑائے جاویں گے جب تک یہ متعین نہ ہوجائے کہ نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آیا (جو نجات کی علامت) یا بائیں ہاتھ یا پشت کی طرف آیا (جو عذاب کی علامت ہے) اور تیسرا مقام پل صراط سے گزرنے کا وقت ہے جب تک پار نہ ہوجاویں کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا۔ (مظہری)
وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا، یعنی یوم حساب اور میزان اعمال کے وقت انسان کے سارے چھوٹے بڑے اچھے برے اعمال حاضر کئے جائیں گے تاکہ حساب اور وزن میں شامل ہوں۔
وزن اعمال کی صورت
یہ بھی ہو سکتی ہے کہ فرشتوں کے لکھے ہوئے اعمال نامے تولے جائیں جیسا کہ حدیث بطاقہ سے اس طرف اشارہ نکلتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عین اعمال کو وہاں جواہر مستقلہ کی شکل دے دیجائے اور ان کا وزن کیا جائے عام طور سے روایات اسی پر شاہد ہیں اور جمہور علماء نے اسی صورت کو اختیار کیا ہے۔ قرآن مجید میں وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا وغیرہ آیات اور بہت سی روایات حدیث سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔
اعمال کا محاسبہ
ترمذی نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے سامنے آ کر بیٹھا اور بیان کیا یا رسول اللہ میرے دو غلام ہیں جو مجھے جھوٹا کہتے ہیں اور معاملات میں خیانت کرتے ہیں اور میرے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں میں ان کو زبان سے بھی برا بھلا کہتا ہوں اور ہاتھ سے مارتا بھی ہوں، تو میرا اور ان غلاموں کا انصاف کس طرح ہوگا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان کی نافرمانی اور خیانت اور سرکشی کو تولا جائے گا، پھر تمہارے سب و شتم اور مار پیٹ کو تولا جائے گا۔ اگر تمہاری سزا اور ان کا جرم برابر ہوئے تو معاملہ برابر ہوجائے گا اور اگر تمہاری سزا ان کے جرم سے کم رہی تو وہ تمہارا احسان شمار ہوگا اور اگر ان کے جرم سے بڑھ گئی تو جتنی تم نے زیادتی کی ہی اس کا تم سے انتقام اور قصاص لیا جاوے گا۔ یہ شخص یہاں سے اٹھ کر الگ بیٹھ گیا اور رونے لگا آپ نے فرمایا کہ کیا تم نے قرآن میں یہ آیت نہیں پڑھی وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ اس نے عرض کیا کہ اب تو میرے لئے اس کے سوا کوئی راہ نہیں کہ میں ان کو آزاد کر کے اس حساب کے غم سے بےفکر ہوجاؤں۔ (قرطبی)
Ayahs 21:48–50خلاصہ تفسیر
اور ہم نے (آپ کے قبل) موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو ایک فیصلہ کی اور روشنی کی اور متقیوں کے لئے نصیحت کی چیز (یعنی توریت) عطا فرمائی تھی جو (متقی) اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور (خدا ہی سے ڈرنے کے سبب) وہ لوگ قیامت سے (بھی) ڈرتے ہیں (کیونکہ قیامت میں اس کا خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور سزا نہ ہونے لگے) اور (جیسے ان کو وہ کتاب ہم نے دی تھی اسی طرح) یہ (قرآن بھی) ایک کثیر الفائدہ نصیحت (کی کتاب) ہے جس کو ہم نے نازل کیا، سو کیا (بعد اس کے کہ تنزیل کتب کا عادة اللہ ہونا معلوم ہوگیا اور خود اس کا منزل من اللہ ہونا دلیل سے ثابت ہے) پھر بھی تم اس کے (منزل من اللہ ہونے کے) منکر ہو۔
معارف و مسائل
الْـفُرْقَانَ وَضِيَاۗءً وَّذِكْرًا لِّـلْمُتَّـقِيْنَ ، یہ تینوں صفتیں تورات کی ہیں کہ فرقان یعنی حق و باطل میں امتیاز کرنے والی ہے اور قلوب کے لئے ضیاء و نور ہے اور لوگوں کے لئے ذکر و تذکیر اور ذریعہ ہدایت ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ فرقان سے مراد اللہ تعالیٰ کی مدد ہے جو ہر موقع پر حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ رہی کہ فرعون کے گھر میں پرورش ہوئی اور پھر اس سے مقابلے کے وقت اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ذلیل کیا پھر لشکر فرعون کے تعاقب کے وقت دریا میں راستے پیدا ہو کر اس سے نجات ملی اور لشکر فرعون غرق کیا گیا اسی طرح بعد کے ہر موقع پر اس مدد خداوندی کا مشاہدہ ہوتا رہا اور ضیاء و ذکر دونوں تورات کی صفتیں ہیں، قرطبی نے اسی کو ترجیح دی ہے کیونکہ الفرقان کے بعد واؤ کے ذریعہ فاصلہ کرنے سے اس طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ فرقان تورات کے علاوہ کوئی چیز ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 21:51–56خلاصہ تفسیر
اور ہم نے اس (زمانہ موسوی) سے پہلے ابراہیم ؑ کو ان کی (شان کے مناسب) خوش فہمی عطا فرمائی تھی اور ہم ان (کے کمالات علمیہ و عملیہ) کو خوب جانتے تھے (یعنی وہ بڑے کامل تھے ان کا وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی برادری سے (ان کو بت پرستی میں مشغول دیکھ کر) فرمایا کہ کیا (واہیات) مورتیں ہیں جن (کی عبادت) پر تم جمے بیٹھے ہو (یعنی یہ ہرگز قابل عبادت نہیں) وہ لوگ (جواب میں) کہنے لگے کہ ہم نے اپنے بڑوں کو ان کی عبادت کرتے ہوئے دیکھا ہے، (اور وہ لوگ عاقل تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مورتیں لائق عبادت کے ہیں) ابراہیم ؑ نے کہا کہ بیشک تم اور تمہارے باپ دادے (ان کو لائق عبادت سمجھنے میں) صریح غلطی میں (مبتلا) ہو۔ (یعنی خود ان ہی کے پاس ان کی معبودیت کی کوئی دلیل اور سند نہیں ہے وہ تو اس لئے ضلال میں ہیں اور تم ایسوں کی تقلید کرتے ہو جو بےدلیل بےثبوت اوہام کے پیچھے چلنے والے ہیں اس لئے تم ضلال میں ہو چونکہ ان لوگوں نے ایسی بات سنی نہ تھی نہایت متعجب ہو کر) وہ لوگ کہنے لگے کہ کیا تم (اپنے نزدیک) سچی بات (سمجھ کر) ہمارے سامنے پیش کر رہے ہو یا (یوں ہی) دل لگی کر رہے ہو، ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ نہیں (دل لگی نہیں بلکہ سچی بات ہے اور صرف میرے ہی نزدیک نہیں بلکہ واقع میں بھی سچی بات یہی ہے کہ یہ عبادت کے قابل نہیں) بلکہ تمہارا رب (حقیقی جو لائق عبادت ہے) وہ ہے جو تمام آسمانوں کا اور زمین کا رب ہے جس نے (علاوہ تربیت کے) ان سب (آسمانوں اور زمین اور ان میں جو مخلوق ہے جس میں یہ اصنام بھی داخل ہیں سب) کو پیدا کیا اور میں اس (دعوی) پر دلیل بھی رکھتا ہوں (تمہاری طرح کو رانہ تقلید سے کام نہیں کرتا) اور خدا کی قسم میں تمہارے ان بتوں کی گت بناؤں گا جب تم (ان کے پاس سے) چلے جاؤ گے (تاکہ ان کا عاجز اور درماندہ ہونا زیادہ مشاہدے میں آ جاوے، ان لوگوں نے یہ سمجھ کر کہ یہ اکیلے ہمارے مخالف کارروائی کیا کرسکتے ہیں کچھ التفات نہ کیا ہوگا اور چلے گئے) تو (ان کے چلے جانے کے بعد) انہوں نے ان بتوں کو (تبر وغیرہ سے توڑ پھوڑ کر) ٹکڑے ٹکڑے کردیا بجز ان کے ایک بڑے بت کے (جو جثے میں یا ان لوگوں کی نظر میں معظم ہونے میں بڑا تھا کہ اس کو چھوڑ دیا جس سے ایک قسم کا استہزاء مقصود تھا کہ ایک کے سالم اور دوسروں کے قطع و برید سے ایہام ہوتا ہے کہ کہیں اسی نے تو سب کو نہیں توڑا، پس ابتداء تو ایہام ہے پھر جب وہ لوگ قطع و برید کرنے والے کی تحقیق کریں گے اور اس بڑے بت پر احتمال بھی نہ کریں گے تو ان کی طرف سے اس کے عجز کا بھی اعتراف ہوجاوے گا اور جحت اور لازم تر ہوجاوے گی۔ پس انتہاءً یہ الزام و افحام ہے یعنی لاجواب کرنا ہے اور مقصود مشترک اثبات عجز ہے، بعض کا انکار سے اور ایک کا ان کے اقرار سے، غرض ایک کو اس مصلحت سے چھوڑ کر سب کو توڑ دیا) کہ شاید وہ لوگ ابراہیم کی طرف (دریافت کرنے کے طور پر) رجوع کریں (اور پھر وہ تقریر جواب سے مکرر پوری طرح احقاق حق کرسکیں۔ غرض وہ لوگ جو بت خانہ میں آئے تو بتوں کی بری گت بنی دیکھی آپس میں) کہنے لگے کہ یہ (بےادبی کا کام) ہمارے بتوں کے ساتھ کس نے کیا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے بڑا ہی غضب کیا (یہ بات ایسے لوگوں نے پوچھی جن کو اس قول کی اطلاع نہ تھی تاللّٰهِ لَاَكِيْدَنَّ الخ یا تو اس وجہ سے کہ وہ اس وقت موجود نہ ہوں گے کیونکہ اس مناظرہ کے وقت تمام قوم کا مجتمع ہونا ضرور نہیں اور یا موجود ہوں مگر سنا نہ ہو اور بعضوں نے سن لیا ہو، کذا فی الدر المنثور عن ابن مسعود نحوا منہ) بعضوں نے کہا (جن کو اس قول کا علم تھا) کہ ہم نے ایک نوجوان آدمی کو جس کو ابراہیم کر کے پکارا جاتا ہے ان بتوں کا (برائی کے ساتھ) تذکرہ کرتے سنا ہے (پھر) وہ (سب) لوگ (یا جنہوں نے اول استفسار کیا تھا) بولے کہ (جب یہ بات ہے) تو اچھا اس کو سب آدمیوں کے سامنے حاضر کرو تاکہ (شاید وہ اقرار کرلے اور) وہ لوگ (اس کے اقرار کے) گواہ ہوجائیں (پھر اتمام حجت کے بعد سزا دی جائے جس پر کوئی ملامت نہ کرسکے، غرض سب کے روبرو وہ آئے اور ان سے) ان لوگوں نے کہا کہ کیا ہمارے بتوں کے ساتھ تم نے یہ حرکت کی ہے اے ابراہیم، انہوں نے (جواب میں) فرمایا کہ (تم یہ احتمال کیوں نہیں فرض کرتے کہ یہ حرکت میں نے) نہیں کی، بلکہ ان کے اس بڑے (گرو) نے کی (اور جب اس کبیر میں فاعل ہونے کا احتمال ہوسکتا ہے تو ان صغار میں ناطق ہونے کا احتمال بھی ہوگا) سو ان (ہی) سے پوچھ لو (نا) اگر یہ بولتے ہوں (اور اگر بڑے بت کا فاعل اس عمل کا ہونا اور دوسرے بتوں میں بولنے کی طاقت ہونا باطل ہے تو عجز ان کا تمہارے نزدیک مسلم ہوگیا پھر اعتقاد الوہیت کی کیا وجہ ہے) اس پر وہ لوگ اپنے جی میں سوچے پھر (آپس میں) کہنے لگے کہ حقیقت میں تم ہی لوگ ناحق پر ہو (اور ابراہیم حق میں جو ایسا عاجز ہو وہ کیا معبود ہوگا) پھر (شرمندگی کے مارے) اپنے سروں کو جھکا لیا (ابراہیم ؑ سے نہایت مغلوبانہ لہجہ میں بولے کہ) اے ابراہیم تم کو تو معلوم ہی ہے کہ یہ بت (کچھ) بولتے نہیں (ہم ان سے کیا پوچھیں اور اس سے فاعلیت کبیر کی نفی بدرجہ اولی ہوگی اس وقت) ابراہیم ؑ نے (خوب خبر لی اور) فرمایا کہ (افسوس جب یہ ایسے ہیں) تو کیا خدا کو چھوڑ کر تم ایسی چیز کی عبادت کرتے ہو جو تم کو نہ کچھ نفع پہنچا سکے اور نہ (بالمباشرة) کچھ نقصان پہنچا سکے تف ہے تم پر (کہ باوجود وضوح حق کے باطل پر مصر ہو) اور ان پر (بھی) جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے (اس تمام تقریر سے خصوص اس سے کہ توڑنے پھوڑنے سے انکار نہیں فرمایا باوجودیکہ احتمال انتقام مقتضی انکار کو تھا ان کو ثابت ہوگیا کہ یہ کام ان ہی کا ہے اور تقریر کا کچھ جواب بن نہ آیا تو بمقضائے اس قول کے کہ
چو حجت نماند جفا جوئے را بہ پرخاش درہم کشد روئے را
یعنی جب جاہل جواب نہ رکھتا ہو اور قدرت رکھتا ہو تو برسر پیکار آجاتا ہے، آپس میں) وہ لوگ کہنے لگے کہ ان (ابراہیم) کو آگ میں جلا دو اور اپنے معبودوں کا (ان سے) بدلا لو اگر تم کو کچھ کرنا ہے (تو یہ کام کرو ورنہ بالکل ہی بات ڈوب جاوے گی۔ غرض سب نے متفق ہو کر اس کا سامان کیا اور ان کو آتش سوزاں میں ڈال دیا اس وقت) ہم نے (آگ کو) حکم دیا کہ اے آگ تو ٹھنڈی اور بےگزند ہوجا، ابراہیم کے حق میں (یعنی نہ ایسی گرم رہ جس سے جلنے کی نوبت آوے اور نہ بہت ٹھنڈی برف ہوجا کہ اس کی ٹھنڈک سے تکلیف پہنچے بلکہ مثل ہوائے معتدل کے بن جا چناچہ ایسا ہی ہوگیا) اور ان لوگوں نے ان کے ساتھ برائی کرنا چاہا تھا (کہ ہلاک ہوجائیں گے) سو ہم نے ان ہی لوگوں کو ناکام کردیا (کہ ان کا مقصود حاصل نہ ہوا بلکہ اور بالعکس حقانیت ابراہیم ؑ کا زیادہ ثبوت ہوگیا) اور ہم نے ابراہیم کو اور (ان کے برادر زادہ کذا فی الدر المنثور عن ابن عباس) لوط ؑ کو (کہ انہوں نے برخلاف قوم کے ابراہیم ؑ کی تصدیق کی تھی قال تعالیٰ فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ اور اس وجہ سے لوگ ان کے بھی مخالف اور درپے تھے) ایسے ملک (یعنی شام) کی طرف بھیج کر (کافروں کے شر و ایذا سے) بچا لیا جس میں ہم نے دنیا جہان والوں کے واسطے (خیر و) برکت رکھی ہے (دنیوی بھی کہ ہر قسم کے عمدہ پھل پھول بکثرت پیدا ہوتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی اس سے منتفع ہو سکتے ہیں اور دینی بھی کہ بکثرت انبیاء (علیہم السلام) وہاں ہوئے جن کے شرائع کی برکت دور دور عالم میں پھیلی یعنی انہوں نے ملک شام کی طرف باذن الٰہی ہجرت فرمائی) اور (ہجرت کے بعد) ہم نے ان کو اسحاق (بیٹا) اور یعقوب پوتا عطا کیا اور ہم نے ان سب (باپ بیٹے پوتے) کو (اعلیٰ درجہ کا) نیک کیا (اعلی درجہ کی نیکی کا مصداق عصمت ہے جو بشریت میں خواص نبوت سے ہے پس مراد یہ ہے کہ ان سب کو نبی بنایا) اور ہم نے ان (سب) کو مقتدا بنایا (جو کہ لوازم نبوت سے ہے) کہ ہمارے حکم سے (خلق کو) ہدایت کیا کرتے تھے (جو کہ مناصب نبوت سے ہے) اور ہم نے ان کے پاس نیک کاموں کے کرنے کا اور (خصوصاً) نماز کی پابندی کا اور زکوة ادا کرنے کا حکم بھیجا (یعنی یہ حکم بھیجا کہ ان کاموں کو کیا کرو) اور وہ (حضرات) ہماری (خوب) عبادت کیا کرتے تھے (یعنی ان کو جو حکم ہوا تھا اس کو اچھی طرح بجا لاتے تھے پس صالحین میں کمال نبوت کی طرف اور اَوْحَيْنَآ اِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ میں کمال علم کی طرف اور کانُوْا لَنَا عٰبِدِيْنَ میں کمال عمل کی طرف اور اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ میں دوسروں کی ہدایت و تربیت کی طرف اشارہ کافیہ ہے۔
Ayah 21:57معارف و مسائل
وَتَاللّٰهِ لَاَكِيْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ ، الفاظ آیت سے ظاہر یہی ہے کہ یہ بات ابراہیم ؑ نے اپنی برادری کے سامنے کہی تھی مگر اس پر شبہ یہ ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے ان سے اِنِّىْ سَقِيْمٌ (میں بیمار ہوں) کا عذر کر کے ان کے ساتھ عید کے اجتماع میں جانے سے گریز کیا تھا اور جب بتوں کو توڑنے کا واقعہ پیش آیا تو برادری اس تلاش میں پڑی کہ یہ کس نے کیا۔ اگر ابراہیم ؑ کا یہ کلام پہلے ہی برادری کو معلوم تھا تو یہ سب باتیں کیسے ہوئیں اس کا جواب اوپر خلاصہ تفسیر میں یہ دیا گیا کہ ابراہیم ؑ اس خیال کے اکیلے آدمی تھے پوری برادری کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت نہ سمجھ کر ممکن ہے کہ ان کے کلام کی طرف التفات نہ کیا ہو اور بھول بھی گئے ہوں (بیان القرآن) اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تلاش و تحقیق کرنے والے دوسرے لوگ ہوں جن کو ابراہیم ؑ کی اس گفتگو کا علم نہیں تھا اور مفسرین میں سے مجاہد اور قتادہ کا قول یہ ہے کہ یہ کلام حضرت ابراہیم ؑ نے برادری کے سامنے نہیں کیا بلکہ اپنے دل میں کہا یا برادری کے جانے کے بعد ایک دو ضعیف آدمی جو رہ گئے تھے ان سے کہا پھر جب بت شکنی کا واقعہ پیش آیا اور برادری کو ایسا کرنے والے کی تلاش ہوئی تو ان لوگوں نے مخبری کردی (قرطبی)
Ayahs 21:58–62فَجَــعَلَهُمْ جُذٰذًا، جذاد جِذٌّ بکسر الجیم کی جمع ہے جس کے معنی ٹکڑے کے ہیں مراد یہ ہے کہ ابراہیم ؑ نے توڑ کر ان سب بتوں کے ٹکڑے کردیئے۔
اِلَّا كَبِيْرًا لَّهُمْ ، یعنی صرف بڑے بت کو بغیر توڑے ہوئے چھوڑ دیا، اس کا بڑا ہونا یا تو حسی اعتبار سے ہو کہ اپنے جسم اور جثے کے اعتبار سے یہ دوسرے بتوں سے بڑا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جسم اور جثے میں سب کے برابر ہونے کے باوجود یہ بت ان بت پرستوں کے عقیدہ میں سب سے بڑا مانا جاتا ہو۔
لَعَلَّهُمْ اِلَيْهِ يَرْجِعُوْنَ ، اس میں الیہ کی ضمیر میں دو احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ ضمیر ابراہیم ؑ کی طرف راجع ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں ایسا ہی بیان کیا گیا اور اس کے مناسب آیت کی یہ تشریح کی گئی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کا مقصد اس عمل سے خود ہی یہ تھا کہ یہ لوگ میری طرف رجوع کریں مجھ سے پوچھیں کہ تم نے ایسا کیوں کیا تو میں ان کو ان کی بیوقوفی پر مطلع کروں اور اِلَيْهِ يَرْجِعُوْنَ کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ عمل اس امید پر کیا کہ شاید اپنے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے دیکھ کر ان میں عقل آجائے کہ یہ پرستش کے قابل نہیں پھر وہ حضرت ابراہیم ؑ کے دین کی طرف رجوع ہوجاویں۔ اور کلبی نے فرمایا کہ الیہ کی ضمیر کبیر کی طرف راجع ہے اور معنی یہ ہیں کہ جب یہ لوگ واپس آ کر سارے بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے اور بڑے بت کو صحیح سالم اور اس کے مونڈھے پر کلہاڑا رکھا ہوا دیکھیں گے تو شاید اس بڑے بت کی طرف رجوع ہوں اور اس سے پوچھیں کہ ایسا کیوں ہوا وہ کوئی جواب نہ دے گا تو اس کا بھی عاجز ہونا ان پر واضح ہوجاوے گا۔
Ayahs 21:63–68حضرت ابراہیم ؑ کا قول جھوٹ نہیں بلکہ ایک کنایہ تھا اس کی تفصیل و تحقیق
بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ یعنی جب ابراہیم ؑ کو ان کی برادری نے گرفتار کرکے بلایا اور ان سے اقرار لینے کے لئے سوال کیا کہ کیا آپ نے ہمارے بتوں کے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے تو ابراہیم ؑ نے جواب دیا کہ بلکہ ان کے بڑے نے یہ کام کیا ہے تم خود ان سے دریافت کرلو اگر یہ بول سکتے ہوں۔
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام تو حضرت ابراہیم ؑ نے خود کیا تھا پھر اس سے انکار اور ان کے بڑے کی طرف منسوب کرنا بظاہر خلاف واقعہ ہے جس کو جھوٹ کہا جاتا ہے حضرت خلیل اللہ کی شان اس سے بالا و برتر ہے۔ اس کے جواب کے لئے حضرات مفسرین نے بہت سے احتمالات بیان فرمائے ہیں ان میں سے ایک وہ بھی ہے جس کو خلاصہ تفسیر بیان القرآن میں اختیار کیا گیا ہے کہ ابراہیم ؑ کا یہ قول بطور فرض کے تھا یعنی تم یہ کیوں نہیں فرض کرلیتے کہ یہ کام بڑے بت نے کیا ہوگا اور بطور فرض کے کوئی خلاف واقعہ بات کہنا جھوٹ میں داخل نہیں جیسے خود قرآن میں ہے اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ یعنی اگر اللہ رحمن کے کوئی لڑکا ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والوں میں داخل ہوتا۔ لیکن بےغبار اور بےتاویل وہ توجیہ ہے جس کو بحر محیط، قرطبی، روح المعانی وغیرہ میں اختیار کیا ہے کہ یہ اسناد مجازی ہے جو کام ابراہیم ؑ نے اپنے ہاتھ سے کیا تھا اس کو بڑے بت کی طرف بطور اسناد مجازی کے منسوب کردیا کیونکہ اس کام پر حضرت ابراہیم ؑ کو آمادہ کرنے ولا یہی بت تھا اور اس کی تخصیص شاید اس وجہ سے ہو کہ ان کی برادری اس بت کی تعظیم سب سے زیادہ کرتی تھی اس کی مثال ایسی ہوگی جیسے کوئی چور کی سزا میں اس کا ہاتھ کاٹ دے اور پھر کہے کہ یہ میں نے نہیں کاٹا بلکہ تیرے عمل اور تیری کجروی نے ہاتھ کاٹا ہے کیونکہ ہاتھ کاٹنے کا سبب اس کا عمل ہے۔
حضرت ابراہیم ؑ نے عملی طور پر بھی بتوں کے توڑنے کو بڑے بت کی طرف منسوب کیا تھا جیسا کہ روایات میں ہے کہ جس تبر یا کلہاڑے سے ان کے بت توڑے تھے یہ کلہاڑا بڑے بت کے مونڈھے پر یا اس کے ہاتھ میں رکھ دیا تھا کہ دیکھنے والے کو یہ خیال پیدا ہو کہ اس نے ہی یہ کام کیا ہے اور قولاً بھی اس کی طرف منسوب فرمایا تو یہ ایک اسناد مجازی ہے جیسے عربی کا مشہور مقولہ انبت الربیع البقلۃ اس کی معروف مثال ہے (یعنی موسم ربیع کی بارش نے کھیتی اگائی ہے) کہ اگرچہ اگانے والا درحقیقت حق تعالیٰ ہے مگر اس کے ایک ظاہری سبب کی طرف منسوب کردیا گیا ہے اور اس کو کوئی جھوٹ نہیں کہہ سکتا اسی طرح حضرت ابراہیم ؑ کا بڑے بت کی طرف اس فعل کو عملاً اور قولاً منسوب کردینا جھوٹ ہرگز نہیں۔ البتہ بہت سی مصالح دینیہ کے لئے یہ توریہ اختیار فرمایا ان میں ایک مصلحت تو یہی تھی کہ دیکھنے والوں کو اس طرف توجہ ہوجائے کہ شاید اس بڑے بت کو اس پر غصہ آ گیا ہو کہ میرے ساتھ عبادت میں ان چھوٹے بتوں کو کیوں شریک کیا جاتا ہے۔ اگر یہ خیال ان کے دلوں میں پیدا ہو تو توحید حق کا راستہ کھل جاتا ہے کہ جب ایک بڑا بت اپنے ساتھ چھوٹے بتوں کی شرکت گوارا نہیں کرتا تو رب العالمین ان پتھروں کی شرکت اپنے ساتھ کیسے گوارا کرے۔
دوسرے یہ کہ ان کو یہ خیال اس وقت پیدا ہونا قرین عقل ہے کہ جن کو ہم خدا اور مختار کل کہتے ہیں اگر یہ ایسے ہی ہوتے تو کوئی ان کے توڑنے پر کیسے قادر ہوتا۔ تیسرے یہ کہ اگر اس فعل کو وہ بڑے بت کی طرف منسوب کردیں تو جو بت یہ کام کرسکے کہ دوسرے بتوں کو توڑ دے اس میں گویائی کی طاقت بھی ہونی چاہئے اس لئے فرمایا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ ، خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کے قول مذکور کو بلا تاویل کے اپنے ظاہر پر رکھ کر یہ کہا جائے کہ ابراہیم ؑ نے اس فعل کو بڑے بت کی طرف منسوب فرمایا اور یہ اسناد مجازی کے طور پر فرمایا تو اس میں کوئی جھوٹ اور خلاف واقعہ کا شبہ نہیں رہتا صرف ایک قسم کا توریہ ہے۔
حدیث میں حضرت ابراہیم ؑ کی طرف تین جھوٹ منسوب کرنے کی حقیقت
ایک سوال اب یہ رہ جاتا ہے کہ صحیح احادیث میں خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ان ابراہیم ؑ لم یکذب غیر ثلاث (رواہ البخاری و مسلم) یعنی حضرت ابراہیم ؑ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا بجز تین جگہوں کے پھر ان تینوں کی تفصیل اسی حدث میں اس طرح بیان فرمائی کہ ان میں سے دو جھوٹ تو خالص اللہ کے لئے بولے گئے ایک یہی جو اس آیت میں بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ فرمایا ہے، دوسرا عید کے روز برادری سے یہ عذر کرنا کہ اِنِّىْ سَقِيْمٌ میں بیمار ہوں اور تیرا اپنی زوجہ کی حفاظت کے لئے بولا گیا) وہ یہ کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنی اہلیہ محترمہ حضرت سارہ کے ساتھ سفر میں تھے کہ ایک ایسی بستی پر گزر ہوا جہاں کا رئیس ظالم بدکار تھا جب کسی شخص کے ساتھ اس کی بیوی کو دیکھتا تو بیوی کو پکڑ لیتا اور اس سے بدکاری کرتا۔ مگر یہ معاملہ اس صورت میں نہ کرتا تھا جبکہ کوئی بیٹی اپنے باپ کے ساتھ یا بہن اپنے بھائی کے ساتھ ہو۔ حضرت ابراہیم ؑ کے اس بستی میں مع اہلیہ کے پہنچنے کی مخبری اس ظالم بدکار کے سامنے کردی گئی تو اس نے حضرت سارہ کو گرفتار کر کے بلوا لیا۔ پکڑنے والوں نے ابراہیم ؑ سے پوچھا کہ یہ عورت رشتہ میں تم سے کیا تعلق رکھتی ہے ابراہیم ؑ نے ظالم کے خوف سے بچنے کے لئے یہ فرما دیا کہ یہ میری بہن ہے (یہی وہ چیز ہے جس کو حدیث میں تیسرے جھوٹ سے تعبیر کیا گیا ہے) مگر اس کے باوجود وہ پکڑ کرلے گئے اور ابراہیم ؑ نے حضرت سارہ کو بھی بتلا دیا کہ میں نے تم کو اپنی بہن کہا ہے تم بھی اس کے خلاف نہ کہنا اور وجہ یہ ہے کہ اسلامی رشتہ سے تم میری بہن ہو کیونکہ اس وقت اس زمین میں ہم دو ہی مسلمان ہیں اور اسلامی اخوت کا تعلق رکھتے ہیں۔ ابراہیم ؑ کو مقابلے پر قدرت نہ تھی۔ اللہ کے سامنے الحاح وزاری کے لئے نماز پڑھنا شروع کردیا۔ حضرت سارہ اس کے پاس پہنچیں یہ ظالم بری نیت سے ان کی طرف بڑھا تو قدرت نے اس کو اپاہج و معذور کردیا اس پر اس نے حضرت سارہ سے درخواست کی کہ تم دعا کردو کہ میری یہ معذوری دور ہوجاوے میں تمہیں کچھ نہ کہوں گا۔ ان کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے پھر اس کو صحیح سالم کردیا مگر اس نے عہد شکنی کی اور پھر بری نیت سے ان پر ہاتھ ڈالنا چاہا پھر اللہ نے اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا اسی طرح تین مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا تو اس نے حضرت سارہ کو واپس کردیا (یہ خلاصہ مضمون حدیث کا ہے) بہرحال اس حدیث میں حضرت ابراہیم ؑ کی طرف تین جھوٹ کی نسبت صراحۃً کی گئی ہے جو شان نبوت و عصمت کے خلاف ہے مگر اس کا جواب خود اسی حدیث کے اندر موجود ہے وہ یہ کہ دراصل ان میں سے ایک بھی حقیقی معنی جھوٹ نہ تھا یہ توریہ تھا جو ظلم سے بچنے کے لئے جائز و حلال ہوتا ہے وہ جھوٹ کے حکم میں نہیں ہوتا اس کی دلیل خود حدیث مذکور میں یہ ہے کہ ابراہیم ؑ نے حضرت سارہ سے کہا تھا کہ میں نے تمہیں اپنی بہن بتلایا ہے تم سے پوچھا جائے تو تم بھی مجھے بھائی بتلانا اور بہن کہنے کی وجہ بھی ان کو بتلا دی کہ ہم دونوں اسلامی برادری کے اعتبار سے بہن بھائی ہیں اسی کا نام توریہ ہے کہ الفاظ ایسے بولے جائیں جن کے دو مفہوم ہو سکیں، سننے والا اس سے ایک مفہوم سمجھے اور بولنے والے کی نیت دوسرے مفہوم کی ہو اور ظلم سے بچنے کے لئے یہ تدبیر توریہ کی باتفاق فقہاء جائز ہے یہ شیعوں کے تقیہ سے بالکل مختلف چیز ہے۔ تقیہ میں صریح جھوٹ بولا جاتا ہے اور اس پر عمل بھی کیا جاتا ہے توریہ میں صریح جھوٹ نہیں ہوتا بلکہ جس معنے سے متکلم بول رہا ہے وہ بالکل صحیح اور سچ ہوتے ہیں جیسے اسلامی برادری کے لحاظ سے بھائی بہن ہونا۔ یہ وجہ تو خود حدیث مذکور کے الفاظ میں صراحۃً مذکور ہے جس سے معلوم ہوا کہ یہ درحقیقت کذب نہ تھا بلکہ ایک توریہ تھا۔ ٹھیک اسی طرح کی توجیہ پہلے دونوں کلاموں میں ہو سکتی ہے، بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ کی توجیہ ابھی اوپر لکھی گئی ہے کہ اس میں بطور اسناد مجازی اس فعل کو بڑے بت کی طرف منسوب کیا ہے۔ اسی طرح اِنِّىْ سَقِيْمٌ کا لفظ ہے کیونکہ سقیم کا لفظ جس طرح ظاہری طور پر بیمار کے معنے میں آتا ہے اسی طرح رنجیدہ و غمگین اور مضمحل ہونے کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے، ابراہیم ؑ نے اسی دوسرے معنے کے لحاظ سے اِنِّىْ سَقِيْمٌ فرمایا تھا مخاطبوں نے اس کو بیماری کے معنے میں سمجھا اور اسی حدیث میں جو یہ الفاظ آئے ہیں کہ ان تین کذبات میں دو اللہ کی ذات کے لئے تھے یہ خود قرینہ قویہ اس کا ہے کہ یہ کوئی گناہ کا کام نہ تھا ورنہ گناہ کا کام اللہ کے لئے کرنے کا کوئی مطلب ہی نہیں ہوسکتا اور گناہ کا کام نہ ہونا جبھی ہوسکتا ہے جبکہ وہ حقیقتہ کذب نہ ہو بلکہ ایسا کلام ہو جس کے دو معنی ہو سکتے ہوں، ایک کذب اور دوسرا صحیح ہو۔
حدیث کذبات ابراہیم ؑ کو غلط قرار دینا جہالت ہے
مرزا قادیانی اور کچھ دوسرے مستشرقین سے مغلوب مسلمانوں نے اس حدیث کو باوجود صحیح السند ہونے کے اس لئے غلط اور باطل کہہ دیا کہ اس سے حضرت خلیل اللہ کی طرف جھوٹ کی نسبت ہوتی ہے اور سند کے سارے راویوں کو جھوٹا کہہ دینا اس سے بہتر ہے کہ خلیل اللہ کو جھوٹا قرار دیا جائے کیونکہ وہ قرآن کے خلاف ہے اور پھر اس سے ایک کلیہ قاعدہ یہ نکال لیا کہ جو حدیث قرآن کے خلاف ہو خواہ وہ کتنی ہی قوی اور صحیح اور معتبر اسانید سے ثابت ہو وہ غلط قرار دی جائے یہ بات اپنی جگہ تو بالکل صحیح اور ساری امت کے نزدیک بطور فرض محال کے مسلم ہے مگر علماء امت نے تمام ذخیرہ احادیث میں اپنی عمریں صرف کر کے ایک ایک حدیث کو چھان لیا ہے جس حدیث کا ثبوت قوی اور صحیح اسانید سے ہوگیا ان میں ایک بھی ایسی نہیں ہو سکتی کہ جس کو قرآن کے خلاف کہا جاسکے بلکہ وہ اپنی کم فہمی یا کج فہمی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ جس حدیث کو رد اور باطل کرنا چاہا اس کو قرآن سے ٹکرا دیا اور یہ کہہ کر فارغ ہوگئے کہ یہ حدیث خلاف قرآن ہونے کے سبب غیر معتبر ہے جیسا کہ اسی حدیث میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ الفاظ کذبات سے توریہ مراد ہونا خود حدیث کے اندر موجود ہے رہا یہ معاملہ کہ پھر حدیث میں توریہ کو کذبات کے لفظ سے کیوں تعبیر کیا گیا تو اس کی وجہ وہی ہے جو حضرت آدم ؑ کی بھول اور لغزش کو عصی اور غوی کے الفاظ سے تعبیر کرنے کی ابھی سورة طلہ میں موسیٰ ؑ کے قصہ میں گزر چکی ہے کہ مقربان بارگاہ حق تعالیٰ کے لئے ادنی کمزوری اور محض رخصت اور جائز پر عمل کرلینا اور عزیمت کو چھوڑ دینا بھی قابل مواخذہ سمجھا جاتا ہے اور ایسی چیزوں پر قرآن میں حق تعالیٰ کا عتاب انبیاء کے بارے میں بکثرت منقول ہے حدیث شفاعت جو مشہور و معروف ہے کہ محشر میں ساری مخلوق جمع ہو کر حساب جلد ہونے کے متعلق انبیاء سے شفاعت کے طالب ہوں گے۔ آدم ؑ سے لے کر خاتم الانبیاء سے پہلے تک تمام انبیاء کے پاس پہنچیں گے ہر پیغمبر اپنے کسی قصور اور کوتاہی کا ذکر کر کے شفاعت کی ہمت نہ کرے گا، آخر میں سب خاتم الانبیاء ؑ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور آپ اس شفاعت کبری کے لئے کھڑے ہوں گے۔ اس حدیث میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ ان کلمات کو جو بطور توریہ کے کہے گئے تھے حقیقۃً کذب نہ تھے مگر پیغمبرانہ عزیمت کے خلاف تھے اپنا قصور اور کوتاہی قرار دے کر عذر کردیں گے۔ اسی کوتاہی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے حدیث میں ان کو بلفظ کذبات تعبیر کردیا گیا جس کا رسول اللہ ﷺ کو حق تھا اور آپ کی حدیث روایت کرنے اور بیان کرنے کی حد تک ہمیں بھی حق ہے مگر اپنی طرف سے کوئی حضرت ابراہیم کے بارے میں یوں کہے کہ انہوں نے جھوٹ بولا یہ جائز نہیں جیسا کہ حضرت آدم ؑ کے قصہ کے ساتھ سورة طہ کی تفسیر میں قرطبی اور بحر محیط کے حوالہ سے بیان ہوچکا ہے کہ قرآن یا حدیث میں جو اس طرح کے الفاظ کسی پیغمبر کے بارے میں آئے ہیں ان کا ذکر بطور تلاوت قرآن یا تعلیم قرآن یا روایت حدیث کے تو کیا جاسکتا ہے خود اپنی طرف سے ان الفاظ کا کسی پیغمبر کی طرف منسوب کرنا بےادبی ہے جو کسی کے لئے جائز نہیں۔
حدیث مذکور میں ایک اہم ہدایت اور اخلاص عمل کی باریکی کا بیان
حدیث میں حضرت ابراہیم ؑ کے بارے میں جن کذبات ثلثہ کا ذکر آیا ہے حدیث میں ان میں سے پہلے دو کے بارے میں تو یہ آیا کہ اللہ کے لئے تھے، مگر تیسری بات جو حضرت سارہ کے بارے میں کہی گئی اس کو اللہ کے لئے نہیں فرمایا حالانکہ بیوی کی آبرو کی حفاظت بھی عین دین ہے اس پر تفسیر قرطبی میں قاضی ابوبکر بن عربی سے ایک بڑا نکتہ نقل کیا ہے جس کے متعلق ابن عربی نے فرمایا کہ یہ صلحاء و اولیاء کی کمر توڑ دینے والی بات ہے وہ یہ کہ تیسری بات بھی اگرچہ کام دین ہی کا تھا مگر اس میں کچھ اپنا حظ نفس بیوی کی عصمت اور حرم کی حفاظت کا بھی تھا، اتنی سی غرض دنیوی شامل ہوجانے کی بناء پر اس کو فی اللہ اور للہ کی فہرست سے الگ کردیا گیا کیونکہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ ، یہ معاملہ بیوی کی عصمت کی حفاظت کا اگر ہماری یا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو بلاشبہ اس کو بھی للہ فی اللہ ہی میں شمار کیا جاتا مگر انبیاء (علیہم السلام) کی عظمت شان کا مقام سب سے بلند ہے ان کے لئے اتنا سا حظ نفس شامل ہونا بھی اخلاص کامل کے منافی سمجھا گیا۔ واللہ اعلم وفقنا اللہ للاخلاص فی کل عمل۔
حضرت ابراہیم ؑ پر نار نمرود کے گلزار بن جانے کی حقیقت
جو لوگ معجزات اور خوارق عادات کے منکر ہیں انہوں نے تو اس میں عجیب و غریب تحریفات کی ہیں۔ بات یہ ہے کہ فلسفہ کا یہ ضابطہ کہ جو چیز کسی چیز کے لئے لازم ذات ہو وہ اس سے کسی وقت جدا نہیں ہو سکتی خود ایک باطل اور بےدلیل ضابطہ ہے حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں اور تمام مخلوقات میں کوئی چیز کسی کے لازم ذات نہیں بلکہ صرف عادة اللہ یہ جاری ہے کہ آگ کے لئے حرارت اور جلانا لازم ہے، پانی کے لئے ٹھنڈا کرنا اور بجھانا لازم ہے۔ مگر یہ لازم صرف عادی ہے عقلی نہیں کیونکہ فلاسفہ بھی اس کے عقلی ہونے کی کوئی معقول دلیل نہیں پیش کرسکے اور جب یہ لازم عادی ہوا تو جب اللہ تعالیٰ کسی خاص حکمت سے کسی عادت کو بدلنا چاہتے ہیں بدل دیتے ہیں اس کے بدلنے میں کوئی عقلی محال لازم نہیں آتا جب اللہ تعالیٰ چاہے تو آگ بجھانے اور ٹھنڈا کرنے کا کام کرنے لگتی ہے اور پانی جلانے کا حالانکہ آگ اپنی حقیقت میں آگ ہی ہوتی ہے اور پانی بھی پانی ہی ہوتا ہے مگر کسی خاص فرد یا جماعت کے حق میں بحکم خداوندی وہ اپنی خاصیت چھوڑ دیتی ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) کی نبوت کے ثبوت میں جو معجزات حق تعالیٰ ظاہر فرماتے ہیں ان سب کا حاصل یہی ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس آگ کو حکم دے دیا کہ ٹھنڈی ہوجا وہ ٹھنڈی ہوگئی اور اگر بَرْدًا کے ساتھ وَّسَلٰمًا کا لفظ نہ ہوتا تو آگ برف کی طرح ٹھنڈی ہو کر سبب ایذا بن جاتی اور قوم نوح جو پانی میں ڈوبی تھی ان کے بارے میں قرآن نے فرمایا اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا یعنی یہ لوگ پانی میں غرق ہو کر آگ میں داخل ہوگئے۔ حرقوة یعنی پوری برادری اور نمرود نے یہ فیصلہ کرلیا کہ ان کو آگ میں جلا دیا جائے۔ تاریخی روایات میں ہے کہ ایک مہینہ تک سارے شہر کے لوگ اس کام کے لئے لکڑی وغیرہ سوختہ کا سامان جمع کرتے رہے پھر اس میں آگ لگا کر سات دن تک اس کو ڈھونکتے اور بھڑکاتے رہے یہاں تک کہ اس کے شعلے فضائی آسمان میں اتنے اونچے ہوگئے کہ اگر کوئی پرندہ اس پر گزرے تو جل جائے۔ اس وقت ارادہ کیا کہ ابراہیم ؑ کو اس میں ڈالا جائے تو فکری ہوئی کہ ڈالیں کیسے اس کے پاس تک جانا کسی کے بس میں نہیں تھا شیطان نے ان کو منجنیق (گوپیا) میں رکھ کر پھینکنے کی ترکیب بتلائی۔ جس وقت اللہ کے خلیل منجنیق کے ذریعہ اس آگ کے سمندر میں پھینکے جا رہے تھے تو سب فرشتے بلکہ زمین و آسمان اور ان کی مخلوقات سب چیخ اٹھے کہ یا رب آپ کے خلیل پر کیا گزر رہی ہے حق تعالیٰ نے ان سب کو ابراہیم کی مدد کرنے کی اجازت دیدی۔ فرشتوں نے مدد کرنے کے لئے حضرت ابراہیم سے دریافت کیا تو ابراہیم ؑ نے جواب دیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کافی ہے وہ میرا حال دیکھ رہا ہے۔ جبرئیل امین نے عرض کیا کہ آپ کو میری کسی مدد کی ضرورت ہے تو میں خدمت انجام دوں، جواب دیا کہ حاجت تو ہے مگر آپ کی طرف نہیں بلکہ اپنے رب کی طرف۔ (مظہری)
Ayahs 21:69–70قُلْنَا يٰنَارُكُـوْنِيْ بَرْدًا وَّسَلٰمًا عَلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ ، اوپر گزر چکا ہے کہ آگ کے حضرت ابراہیم ؑ پر برد وسلام ہونے کی یہ صورت بھی ممکن ہے کہ آگ آگ ہی نہ رہی ہو بلکہ ہوا میں تبدیل ہوگئی ہو مگر ظاہر یہ ہے کہ آگ اپنی حقیقت میں آگ ہی رہی اور حضرت ابراہیم ؑ کے آس پاس کے علاوہ دوسری چیزوں کو جلاتی رہی بلکہ حضرت ابراہیم ؑ کو جن رسیوں میں باندھ کر آگ میں ڈالا گیا تھا ان رسیوں کو بھی آگ ہی نے جلا کر ختم کیا مگر حضرت ابراہیم ؑ کے بدن مبارک تک کوئی آنچ نہیں آئی (کما فی بعض الروایات)
تاریخی روایات میں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اس آگ میں سات روز رہے اور وہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے عمر میں کبھی ایسی راحت نہیں ملی جتنی ان سات دنوں میں حاصل تھی (مظہری)
Ayah 21:71وَنَجَّيْنٰهُ وَلُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا لِلْعٰلَمِيْنَ ، یعنی حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھ لوط (علیہما السلام) کو ہم نے اس زمین سے جس پر نمرود کا غلبہ تھا (یعنی عراق کی زمین) نجات دے کر ایک ایسی زمین میں پہنچا دیا جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لئے برکت رکھی ہے مراد اس سے ملک شام کی زمین ہے کہ وہ اپنی ظاہری اور باطنی حیثیت سے بڑی برکتوں کا مجموعہ ہے باطنی برکت تو یہ ہے کہ یہ زمین مخزن انبیاء ہے بیشتر انبیاء (علیہم السلام) اسی زمین میں پیدا ہوئے اور ظاہری برکات آب و ہوا کا اعتدال، نہروں اور چشموں کی فراوانی پھل پھول اور ہر طرح کی نباتات کا غیر معمول نشو و نما وغیرہ ہے جس کے فوائد صرف اس زمین کے رہنے والوں کو نہیں بلکہ عام دنیا کے لوگوں تک پہنچتے ہیں۔
Ayahs 21:72–73وَوَهَبْنَا لَهٗٓ اِسْحٰقَ ۭ وَيَعْقُوْبَ نَافِلَةً یعنی ہم نے عطا کردیا اس کو بیٹا اسحاق (ان کی دعا درخواست کے مطابق) اور اس پر زیادہ دے دیا پوتا یعقوب ؑ یعنی دعا تو صرف بیٹے کے لئے تھی اللہ نے اپنے فضل سے بیٹا بھی دیا پھر اس سے پوتا بھی اپنی طرف سے زائد عطا فرما دیا اسی لئے اس کو نافلہ کہا گیا ہے۔
Ayahs 21:74–75خلاصہ تفسیر
اور لوط (علیہ اسلام) کو ہم نے حکمت اور علم (مناسب شان انبیاء) عطا فرمایا اور ہم نے ان کو اس بستی سے نجات دی جس کے رہنے والے گندے گندے کام کیا کرتے تھے (جن میں سے سب سے بدتر لواطت تھی اور بھی بہت سے بیہودہ اور برے افعال کے یہ لوگ عادی تھی۔ شراب خوری، گانا بجانا، داڑھی کٹانا، مونچھیں بڑھانا، کبوتر بازی، ڈھیلے پھینکنا، سیٹی بجانا، ریشمی لباس پہننا، اخرجہ اسحاق بن بشر والخطیب وابن عساکر عن الحسن مرفوعا کذا فی الروح) بلاشبہ وہ لوگ بڑے بد ذات بدکار تھے اور ہم نے لوط کو اپنی رحمت میں (یعنی جن بندوں پر رحمت ہوتی ہے ان میں) داخل کیا (کیونکہ) بلاشبہ وہ بڑے (درجہ کے) نیکوں میں سے تھے (بڑے درجہ کے نیک سے مراد معصوم ہے جو نبی کی خصوصیت ہے۔)
معارف و مسائل
حضرت لوط ؑ کو جس بستی سے نجات دینے کا ذکر ان آیات میں آیا ہے اس بستی کا نام سَدُوم تھا اس کے تابع سات بستیاں اور تھیں جن کو جبرئیل نے الٹ کر تہہ وبالا کر ڈالا تھا صرف ایک بستی باقی چھوڑ دی تھی جس میں لوط ؑ مع اپنے متعلقین مومنین کے رہ سکیں (قالہ ابن عباس۔ قرطبی)
تَّعْمَلُ الْخَـبٰۗىِٕثَ ، خبائث خبیثہ کی جمع ہے۔ بہت سی خبیث اور گندی عادتوں کو خبائث کہا جاتا ہے۔ یہاں ان کی سب سے بڑی خبیث اور گندی عادت جس سے جنگلی جانور بھی پرہیز کرتے ہیں لواطت تھی، یعنی مرد کا مرد کے ساتھ شہوت پوری کرنا۔ یہاں اسی ایک عادت کو اس کے بڑے جرم ہونے کے سبب خبائث کہہ دیا گیا ہو تو یہ بھی بعید نہیں جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا ہے اور اس کے علاوہ دوسری خبیث عادتیں ان میں ہونا بھی روایات میں مذکور ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں بحوالہ روح المعانی گزر چکا ہے اس لحاظ سے مجموعہ کو خبائث کہنا تو ظاہری ہے۔ واللہ اعلم