21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsمعارف القرآن

Ayah 21:89

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور زکریا کو جب پکارا اس نے اپنے رب کو، اے رب نہ چھوڑ تو مجھ کو اکیلا اور تو ہے سب سے بہتر وارث

خلاصہ تفسیر اور زکریا (علیہ السلام کے قصہ) کا تذکرہ کیجئے جب کہ انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ اے میرے رب مجھ کو لاوارث نہ رکھیو (یعنی مجھ کو فرزند دیجئے جو میرا وارث ہو) اور (یوں تو) سب وارثوں سے بہتر یعنی حقیقی وارث) آپ ہی ہیں (اس لئے فرزند بھی وارث حقیقی نہ ہوگا بلکہ ایک وقت وہ بھی فنا ہوجاوے گا لیکن اس ظاہری وارث سے بعض دینی فوائد اور منافع حاصل ہوجائیں گے اس لئے اس کی طلب ہے) سو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ہم نے ان کو یحییٰ (فرزند) عطا فرمایا اور ان کی خاطر سے ان کی بی بی کو بھی (جو بانجھ تھیں) اولاد کے قابل کردیا یہ سب (انبیاء جن کا اس سورت میں ذکر ہوا ہے) نیک کاموں میں دوڑتے تھے اور امید و بیم کے ساتھ ہماری عبادت کیا کرتے تھے اور ہمارے سامنے دب کر رہتے تھے۔ معارف و مسائل حضرت زکریا ؑ کی خواہش تھی کہ ایک فرزند وارث عطا ہو اس کی دعا مانگی مگر ساتھ یہ بھی عرض کردیا کہ اَنْتَ خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ کہ بیٹا ملے یا نہ ملے ہر حال میں آپ تو بہتر وارث ہیں یہ پیغمبرانہ رعایت ادب ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی اصل توجہ حق تعالیٰ کی طرف ہونا چاہئے غیر اللہ کی طرف ان کی توجہ ہو بھی تو اصل مرکز سے نہ ہٹنے پاوے۔
Ayah 21:90

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

پھر ہم نے سن لی اس کی دعا اور بخشا اس کو یحییٰ اور اچھا کردیا اس کی عورت کو وہ لوگ دوڑتے تھے بھلائیوں پر اور پکارتے تھے ہم کو توقع سے اور ڈر سے اور تھے ہمارے آگے عاجز۔

وَيَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّرَهَبًا، وہ رغبت و خوف یعنی راحت اور تکلیف کی ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں اور اس کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ اپنی عبادت و دعا کے وقت امید و بیم دونوں کے درمیان رہتے ہیں اللہ تعالیٰ سے قبول اور ثواب کی امید بھی رہتی ہے اور اپنے گناہوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے خوف بھی (قرطبی)
Ayah 21:91

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور وہ عورت جس نے قابو میں رکھی اپنی شہوت پھر پھونک دی ہم نے اس عورت میں اپنی روح اور کیا اس کو اور اس کے بیٹے کو نشانی جہان والوں کے واسطے۔

خلاصہ تفسیر اور ان بی بی (مریم کے قصہ) کا بھی تذکرہ کیجئے جنہوں نے اپنے ناموس کو (مردوں سے) بچایا (نکاح سے بھی اور ناجائز سے بھی) پھر ہم نے ان میں (بواسطہ جبرئیل علیہ السلام) اپنی روح پھونک دی (جس سے ان کو بےشوہر کے حمل رہ گیا) اور ہم نے ان کو اور ان کے فرزند (عیسیٰ علیہ السلام) کو دنیا جہان والوں کے لئے (اپنی قدرت کاملہ کی) نشانی بنادیا (کہ ان کو دیکھ سن کر سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے وہ بغیر باپ کے بھی اولاد پیدا کرسکتا ہے اور بغیر ماں اور باپ کے بھی جیسا کہ آدم ؑ
Ayahs 21:92–94

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں تمہارے دین کے سب ایک دین پر اور میں ہوں رب تمہارا سو میری بندگی کرو

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

اور ٹکڑے ٹکڑے بانٹ لیا لوگوں نے آپس میں اپنا کام، سب ہمارے پاس

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

پھر آئیں گے سو جو کوئی کرے کچھ نیک کام اور وہ رکھتا ہو ایمان سو اکارت نہ کریں گے اس کی سعی کو اور ہم اس کو لکھ لیتے ہیں

خلاصہ تفسیر ربط آیات یہاں تک انبیاء (علیہم السلام) کے قصص اور واقعات اور ان کے ضمن میں بہت سے اصولی اور فروعی مسائل کا بیان تھا۔ اصول مثلاً توحید و رسالت اور عقیدہ آخرت، سب انبیاء (علیہم السلام) میں اصول مشترک ہیں جو ان کی دعوت کی بنیاد ہے جیسا کہ واقعات مذکورہ میں ان حضرات کی سب کوششوں کا محور توحید حق سبحانہ و تعالیٰ کا مضمون تھا۔ اگلی آیات میں بطور نتیجہ قصص توحید کا اثبات اور شرک کی مذمت کا بیان ہے۔ اے لوگو (اوپر جو انبیاء (علیہم السلام) کا طریقہ و عقیدہ توحید کا معلوم ہوچکا ہے) یہ تمہارا طریقہ ہے (جس پر تم کو رہنا واجب ہے) کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے (جس میں کسی نبی اور کسی شریعت کو اختلاف نہیں ہوا) اور (حاصل اس طریقہ کا یہ ہے کہ) میں تمہارا رب ہوں تو تم میری عبادت کیا کرو اور (لوگوں کو چاہئے تھا کہ جب یہ ثابت ہوچکا کہ تمام انبیاء اور تمام آسمانی کتابیں اور شریعتیں اسی طریقہ کی داعی ہیں تو وہ بھی اسی طریقہ پر رہتے مگر ایسا نہ کیا بلکہ) ان لوگوں نے اپنے دین میں اختلاف پیدا کرلیا (مگر اس کی سزا دیکھیں گے کیونکہ) سب ہمارے پاس آنے والے ہیں (اور آنے کے بعد ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ملے گا) تو جو شخص نیک کام کرتا ہوگا اور وہ ایمان والا بھی ہوگا تو اس کی محنت اکارت جانے والی نہیں اور ہم اس کو لکھ لیتے ہیں (جس میں بھول اور خطا کا امکان نہیں رہتا اس لکھے ہوئے کے مطابق اس کو ثواب ملے گا) اور (ہم نے جو یہ کہا ہے کہ سب کے سب ہمارے پاس آنے والے ہیں اس میں منکرین یہ شبہ کرتے ہیں کہ دنیا کی اتنی عمر گزر چکی ہے اب تک تو ایسا ہوا نہیں کہ مردے زندہ ہوئے ہوں ان کا حساب ہوا ہو، ان کا یہ شبہ اس لئے غلط ہے کہ اللہ کی طرف لوٹنے کے لئے ایک دن قیامت کا مقرر ہے اس سے پہلے کوئی نہیں لوٹتا۔ یہی وجہ ہے کہ) ہم جن بستیوں کو (عذاب یا موت سے) فنا کرچکے ہیں ان کے لئے یہ بات (بامتناع شرعی) ناممکن ہے کہ وہ (دنیا میں حساب کتاب کے لئے) پھر لوٹ کر آویں (مگر یہ نہ لوٹنا دائمی نہیں بلکہ وقت موعود یعنی قیامت تک ہے) یہاں تک کہ جب (وہ وقت موعود آپہنچے گا جس کا ابتدائی سامان یہ ہوگا کہ) یاجوج ماجوج (جن کا اب سد ذوالقرنین کے ذریعہ راستہ رکا ہوا ہے وہ) کھول دیئے جاویں گے اور وہ (انتہائی کثرت کے سبب) ہر بلندی (ٹیلہ اور پہاڑ) سے نکلتے (معلوم) ہوں گے اور (اللہ کی طرف لوٹنے کا سچا وعدہ) نزدیک آپہنچا ہوگا تو بس پھر یکایک یہ حالت ہوجائے گی کہ منکروں کی نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جاویں گی (اور وہ یوں کہتے نظر آویں گے) ہائے ہماری کم بختی ہم اس سے غفلت میں تھے (پھر کچھ سوچ کر کہیں گے کہ اس کو غفلت تو جب کہا جاسکتا کہ کسی نے ہمیں آگاہ نہ کیا ہوتا) بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) ہم ہی قصور وار تھے (حاصل یہ ہوا کہ جو لوگ قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کے منکر تھے وہ بھی اس وقت اس کے قائل ہوجاویں گے، آگے مشرکین کے لئے وعید ہے) بلاشبہ تم اور جس کو تم خدا کے سوا پوج رہے ہو سب جہنم میں جھونکے جاؤ گے (اور) تم سب اس میں داخل ہوگے (اس میں وہ انبیاء اور فرشتے داخل نہیں ہو سکتے جن کو دنیا میں بعض مشرکین نے خدا اور معبود بنا لیا تھا کیونکہ ان میں ایک مانع شرعی موجود ہے کہ وہ اس کے مستحق نہیں اور نہ ان کا اس میں کوئی قصور ہے آگے آیت میں اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ سے بھی اس شبہ کو دفع کیا گیا ہے اور یہ بات سمجھنے کی ہے کہ) اگر (یہ تمہارے معبود) واقعی معبود ہوتے، تو اس (جہنم) میں کیوں جاتے اور (جانا بھی ایسا کہ چند روزہ نہیں بلکہ) سب (عابدین اور معبودین) اس میں ہمیشہ کو رہیں گے (اور) ان کا اس میں شور و غل ہوگا اور وہاں (اپنے شور و غل میں) کسی کی کوئی بات سنیں گے بھی نہیں (یہ تو دوزخیوں کا حال ہوا اور) جن کے لئے ہماری طرف سے بھلائی مقدر ہوچکی ہے (اور اس کا ظہور ان کے اعمال و افعال میں ہوا) وہ لوگ اس (دوزخ) سے (اس قدر) دور رکھے جاویں گے کہ اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے (کیونکہ یہ لوگ جنت میں ہوں گے اور جنت دوزخ میں بڑا بعد ہے) اور وہ لوگ اپنی جی چاہی چیزوں میں ہمیشہ رہیں گے (اور) ان کو بڑی گھبراہٹ (یعنی قیامت میں زندہ ہونے اور محشر کے ہولناک مناظر دیکھنے کی حالت) غم میں نہ ڈالے گی اور (قبر سے نکلتے ہی) فرشتے ان کا استقبال کریں گے (اور کہیں گے) یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (یہ اکرام کا معاملہ اور بشارت ان کے لئے زیادہ خوشی و مسرت کا سبب ہوجائے گا اور اگر کسی روایت سے یہ ثابت ہوجائے کہ قیامت کے ہول اور خوف سے کوئی مستثنیٰ نہیں سب کو پیش آئے گا تو چونکہ نیک بندوں کیلئے اس کا زمانہ بہت قلیل ہوگا اس لئے وہ کالعدم ہے اور وہ دن (بھی) یاد کرنے کے قابل ہے جس روز ہم (نفحہ اولیٰ کے بعد) آسمانوں کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح لکھے ہوئے مضامین کا کاغذ لپیٹ دیا جاتا ہے (پھر لپیٹنے کے بعد خواہ معدوم محض کردیا جائے یا نفحہ ثانیہ تک اسی حالت پر رہے دونوں باتیں ممکن ہیں اور) ہم نے جس طرح اول بار پیدا کرنے کے وقت (ہر چیز کی) ابتداء کی تھی اسی طرح (آسانی سے) اس کو دوبارہ پیدا کردیں گے یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے ہم ضرور (اس کو پورا) کریں گے اور (اوپر جو نیک بندوں سے ثواب و نعمت کا وعدہ ہوا ہے وہ بہت قدیم اور موکد وعدہ ہے چناچہ ہم (سب آسمانی) کتابوں میں لوح محفوظ (میں لکھنے) کے بعد لکھ چکے ہیں کہ اس زمین (جنت) کے مالک میرے نیک بندے ہوں گے (قدامت اس وعدہ کی تو اس سے ظاہر ہے کہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور تاکید اس بات سے کہ کوئی آسمانی کتاب اس سے خالی نہیں)
Ayah 21:95

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور مقرر ہوچکا ہر بستی پر جس کو غارت کردیا ہم نے کہ وہ پھر کر نہیں آئیں گے

معارف و مسائل وَحَرٰمٌ عَلٰي قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَآ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ ، اس جگہ لفظ حرام بمعنے ممتنع شرعی کے ہے جس کا ترجمہ خلاصہ تفسیر میں ناممکن سے کیا گیا ہے اور لَا يَرْجِعُوْنَ میں اکثر حضرات مفسرین کے نزدیک حرف لا زائد ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ جو بستی اور اس کے آدمی ہم نے ہلاک کردیئے ہیں ان کے لئے محال ہے کہ وہ پھر لوٹ کر دنیا میں آجائیں اور بعض حضرات مفسرین نے لفظ حرام کو اس جگہ بمعنی واجب قرار دے کر لا کو اپنے معروف معنی نفی کے لئے رکھا ہے اور مفہوم آیت کا یہ لکھا ہے کہ واجب ہے اس بستی پر جس کو ہم نے عذاب سے ہلاک کردیا ہے کہ وہ دنیا میں نہیں لوٹیں گے (قرطبی) آیت کا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی دنیا میں آ کر عمل صالح کرنا چاہے تو اس کا موقع نہیں ملے گا، اب تو صرف روز قیامت کی زندگی ہوگی۔
Ayahs 21:96–97

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب کھول دیئے جائیں یاجوج اور ماجوج اور وہ ہر اوچان سے پھسلتے چلے آئیں

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور نزدیک آ لگے سچا وعدہ پھر اس دم اوپر لگی رہ جائیں منکروں کی آنکھیں ہائے کم بختی ہماری ہم بیخبر رہے اس سے، نہیں، پر ہم تھے گنہگار

حَتّٰٓي اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ ، لفظ حَتّٰٓي سابق مضمون پر تفریع و ترتیب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آیت سابقہ میں یہ کہا گیا تھا کہ جو لوگ کفر پر مر چکے ہیں ان کا دوبارہ دنیا میں زندہ ہو کر لوٹنا ناممکن ہے اس عدم امکان کی انتہا یہ بتلائی گئی کہ دوبارہ زندہ ہو کر لوٹنا ناممکن اس وقت تک ہے جب تک کہ یہ واقعہ یاجوج ماجوج کا پیش نہ آجائے جو قیامت کی قریبی علامت ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ ہم چند صحابہ ایک روز آپس میں کچھ مذاکرہ کر رہے تھے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، دریافت فرمایا کہ کیا مذاکرہ تمہارے درمیان جاری ہے ہم نے عرض کیا کہ قیامت کا ذکر کر رہے ہیں آپ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دس علامتیں اس سے پہلے ظاہر نہ ہوجائیں۔ ان دس علامتوں میں خروج یاجوج ماجوج کا بھی ذکر فرمایا۔ آیت میں یاجوج ماجوج کے لئے لفظ فُتِحَتْ یعنی کھولنا استعمال فرمایا گیا ہے جس کے ظاہری معنے یہی ہیں کہ اس وقت سے پہلے وہ کسی بندش اور رکاوٹ میں رہیں گے قرب قیامت کے وقت جب اللہ تعالیٰ کو ان کا نکلنا منظور ہوگا تو یہ بندش راستے سے ہٹا دی جاویں گی۔ اور ظاہر قرآن کریم سے یہ ہے کہ یہ رکاوٹ سد ذوالقرنین ہے جو قرب قیامت میں ختم ہوجاوے گی خواہ اس سے پہلے بھی وہ ٹوٹ چکی ہو مگر ان کے لئے بالکل راستہ ہموار اسی وقت ہوگا۔ سورة کہف میں یاجوج ماجوج اور سد ذوالقرنین کے محل وقوع اور دوسرے متعلقہ مسائل پر تفصیلی بحث ہوچکی ہے وہاں دیکھ لیا جاوے۔ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ ، لفظ حدب ہر اونچی جگہ کو کہا جاتا ہے وہ بڑے پہاڑ ہوں یا چھوٹے چھوٹے ٹیلے۔ سورة کہف میں جہاں یاجوج ماجوج کے محل وقوع پر گفتگو کی گئی ہے اس سے معلوم ہوچکا ہے کہ ان کی جگہ دنیا کے شمالی پہاڑوں کے پیچھے ہے اس لئے خروج کے وقت اسی طرف سے پہاڑوں ٹیلوں سے امنڈتے ہوئے نظر آئیں گے۔
Ayahs 21:98–100

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

تم اور جو کچھ تم پوجتے ہو اللہ کے سوائے ایندھن ہے دوزخ کا تم کو اس پر پہنچنا ہے

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر ہوتے یہ بات معبود تو نہ پہنچتے اس پر اور سارے اس میں سدا پڑے رہیں گے

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

ان کو وہاں چلانا ہے اور اس میں کچھ نہ سنیں گے

اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ، یعنی تم اور تمہارے معبود بجز اللہ کے سب کے سب جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اس آیت میں تمام معبودات باطلہ جن کی ناجائز پرستش کفار کے مختلف گروہوں نے دنیا میں کی سب کا جہنم میں داخل ہونا بیان فرمایا گیا ہے اس پر یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ ناجائز عبادت تو حضرت مسیح اور عزیر اور فرشتوں کی بھی کی گئی ہے تو سب کے جہنم میں جانے کا کیا مطلب ہوگا ؟ اس کا جواب حضرت ابن عباس نے دیا ہے ان کی روایت تفسیر قرطبی میں اس طرح ہے کہ ابن عباس نے فرمایا کہ قرآن کی ایک آیت ایسی ہے جس میں لوگ شبہات کرتے ہیں مگر عجیب اتفاق ہے کہ اس کے متعلق لوگ مجھ سے سوال نہیں کرتے، معلوم نہیں کہ شبہات کا جواب ان لوگوں کو معلوم ہوگیا ہے اس لئے سوال نہیں کرتے یا انہیں شبہ اور جواب کی طرف التفات ہی نہیں ہوا۔ لوگوں نے عرض کیا وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ آیت اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ الآیة ہے جب یہ آیت نازل ہوئی تو کفار قریش کو سخت ناگوار ہوا اور کہنے لگے کہ اس میں تو ہمارے معبودوں کی سخت توہین کی گئی ہے یہ لوگ (عالم اہل کتاب) ابن الزبعری کے پاس گئے اور اس کی شکایت کی اس نے کہا کہ اگر میں وہاں موجود ہوتا تو ان کو اس کا جواب دیتا۔ ان لوگوں نے پوچھا کہ آپ کیا جواب دیتے، اس نے کہا کہ میں ان سے کہتا کہ نصاریٰ حضرت مسیح ؑ کی اور یہود حضرت عزیر ؑ کی عبادت کرتے ہیں ان کے بارے میں آپ کیا کہیں گے (کیا معاذ اللہ وہ بھی جہنم میں جائیں گے) کفار قریش یہ سن کر بڑے خوش ہوئے کہ واقعی یہ بات تو ایسی ہے کہ محمد ﷺ اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتے، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی جو آگے آتی ہے۔
Ayahs 21:101–102

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

جن کے لئے پہلے سے ٹھہر چکی ہماری طرف سے نیکی وہ اس سے دور رہیں گے

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

نہیں سنیں گے اس کی آہٹ اور وہ اپنے جی کے مزوں میں سدا رہیں گے

اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ ، یعنی جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے بھلائی اور اچھا نتیجہ مقدر ہوچکا ہے وہ اس جہنم سے بہت دور رہیں گے۔ اور اسی ابن الزبعری کے متعلق قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ ، یعنی جب ابن زبعری نے حضرت ابن مریم کی مثال پیش کی تو آپ کی قوم کے لوگ قریش خوشی سے شور مچانے لگے۔
Ayah 21:103

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

نہ غم ہوگا ان کو اس بڑی گھبراہٹ میں اور لینے آئیں گے ان کو فرشتے آج دن تمہارا ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا

لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ ، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ فزع اکبر سے مراد صور کا نفخہ ثانیہ ہے جس سے سب مردے زندہ ہو کر حساب کے لئے کھڑے ہوں گے بعض حضرات نے نفخہ اولے ٰ کو فزع اکبر قرار دیا ہے۔ ابن عربی کا قول یہ ہے کہ نفخات تین ہوں گے پہلا نفخہ فزع ہوگا جس سے ساری دنیا کے لوگ گھبرا اٹھیں گے اسی کو یہاں فزع اکبر کہا گیا ہے۔ دوسرا نفخہ نفخہ صعق ہوگا جس سے سب مر جائیں گے اور فنا ہوجائیں گے، تیسرا نفخہ نفخہ بعث ہوگا جس سے سب مردے زندہ ہوجائیں گے اس کی شہادت میں مسند ابو یعلی اور بیہقی، عبد بن حمید، ابو الشیخ، ابن جریر طبری وغیرہ سے حضرت ابوہریرہ کی ایک حدیث نقل کی گئی ہے (مظھری) واللہ اعلم
Ayah 21:104

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

جس دن ہم لپیٹ لے ویں آسمان کو جیسے لپیٹتے ہیں طومار میں کاغذ جیسا سرے سے بنایا تھا ہم نے پہلی بار، پھر اس کو دہرائیں گے، وعدہ ضرور ہوچکا ہے ہم پر ہم کو پورا کرنا ہے

يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاۗءَ كَـطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ لفظ سجل کے معنے حضرت ابن عباس سے صحیفہ کے منقول ہیں علی بن طلحہ، عوفی، مجاہد، قتادہ وغیرہ نے بھی یہی معنے بیان کئے ہیں۔ ابن جریر ابن کثیر وغیرہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور کتب اس جگہ بمعنے المکتوب ہے معنی یہ ہیں کہ آسمان کو اس طرح لپیٹ دیا جائے گا جس طرح کوئی صحیفہ اپنے اندر لکھی ہوئی تحریر کے ساتھ لپیٹ دیا جاتا ہے (کذا قالہ ابن کثیر و ذکرہ فی الروح) سجل کے متعلق دوسری روایات کہ وہ کسی شخص یا فرشتہ کا نام ہے محدثین کے نزدیک ثابت نہیں (فصلہ ابن کثیر) آیت کے مفہوم کے متعلق صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز سب زمینوں اور آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے ہاتھ میں رکھیں گے ابن ابی حاتم نے اپنی سند سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ساتوں آسمانوں کو ان کے اندر کی تمام مخلوقات کے ساتھ اور ساتوں زمینوں کو ان کی تمام مخلوقات کے ساتھ لپیٹ کر ایک جگہ کردیں گے اور وہ سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ایک رائی کے دانے کی مثل ہوں گے (ابن کثیر)
Ayah 21:105

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور ہم نے لکھ دیا ہے زبور میں نصیحت کے پیچھے کہ آخر زمین پر مالک ہوں گے میرے نیک بندے۔

وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ لفظ زبور، زبر کی جمع ہے جس کے معنی کتاب کے ہیں اور زبور اس خاص کتاب کا نام بھی ہے جو حضرت داؤد ؑ پر نازل ہوئی۔ اس جگہ زبور سے کیا مراد ہے اس میں اقوال مختلف ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس کی ایک روایت میں یہ ہے کہ ذکر سے مراد آیت میں تورات ہے اور زبور سے مراد وہ سب کتابیں ہیں جو تورات کے بعد نازل ہوئیں۔ انجیل، زبور داؤد۔ اور قرآن (اخرجہ ابن جریر) یہی تفسیر ضحاک سے بھی منقول ہے۔ اور ابن زید نے فرمایا کہ ذکر سے مراد لوح محفوظ ہے اور زبور سے مراد تمام کتابیں جو انبیاء (علیہم السلام) پر نازل ہوئی ہیں۔ زجاج نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ (روح المعانی) الْاَرْضَ ، اس جگہ ارض سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک ارض جنت ہے۔ ابن جریر نے ابن عباس سے یہ تفسیر نقل کی ہے اور یہی تفسیر مجاہد، ابن جبیر، عکرمہ، سدی اور ابو العالیہ سے بھی منقول ہے۔ امام رازی نے فرمایا کہ قرآن کی دوسری آیت اسی کی موید ہے جس میں فرمایا وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَـتَبَوَّاُ مِنَ الْجَــنَّةِ حَيْثُ نَشَاۗءُ ، اور آیت میں جو یہ فرمایا کہ اس ارض کے وارث صالحین ہوں گے یہ بھی اسی کا قرینہ ہے کہ ارض سے ارض جنت مراد ہو۔ دنیا کی زمین کے وارث تو مومن کافر سبھی ہوجاتے ہیں۔ نیز یہ کہ یہاں صالحین کا وارث ارض ہونا ذکر قیامت کے بعد آیا ہے اور قیامت کے بعد جنت کی زمین کے سوا کوئی دوسری زمین نہیں۔ اور حضرت ابن عباس کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس ارض سے مراد عام ارض ہے دنیا کی زمین بھی اور جنت کی زمین بھی جنت کی زمین کے تو تنہا وارث صالحین ہونا ظاہر ہے۔ دنیا کی پوری زمین کے وارث ہونا بھی ایک وقت میں مومنین صالحین کے لئے موعود ہے جس کی خبر قرآن کریم کی متعدد آیات میں دی گئی ہے۔ ایک آیت میں ہے، ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ ، ایک دوسری آیت میں ہے وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ الآیة، تیسری ایک آیت میں اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ ، مومنین صالحین کا دنیا کے معظم معمورہ پر قابض اور وارث ہونا ایک مرتبہ دنیا پہلے مشاہدہ کرچکی ہے اور زمانہ دراز تک یہ صورت قائم رہی اور پھر مہدی ؑ کے زمانے میں ہونے والی ہے (روح المعانی و ابن کثیر)
Ayah 21:106

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

اس میں مطلب کو پہنچتے ہیں لوگ بندگی والے

خلاصہ تفسیر بلاشبہ اس (قرآن یا اس کے جز، یعنی سورت مذکورہ) میں کافی مضمون ہے ان لوگوں کے لئے جو عبادت کرنے والے ہیں (اور جو عبادت اور اطاعت سے سرکشی کرنے والے ہیں یہ ہدایت تو ان کے لئے بھی ہے مگر ان میں ہدایت کی طلب نہیں، اس لئے اس کے فائدے سے محروم ہیں) اور ہم نے آپ کو کسی اور بات کے واسطے (رسول بنا کر) نہیں بھیجا مگر دنیا جہان کے لوگوں پر (اپنی) مہربانی کرنے کے لئے (وہ مہربانی یہی ہے کہ لوگ رسول سے ان مضامین کو قبول کریں اور ہدایت کے ثمرات حاصل کریں اور جو قبول نہ کرے وہ اس کا قصور ہے اس سے اس مضمون کی صحت میں کوئی فرق نہیں پڑتا) آپ ان لوگوں سے (بطور خلاصہ کلام کے مکرر) فرما دیجئے کہ میرے پاس تو (موحدین اور مشرکین کے باہمی اختلاف کے بارے میں) صرف یہ وحی آئی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو (اس کی حقانیت ثابت ہوجانے کے بعد) اب بھی تم مانتے ہو (یا نہیں یعنی اب تو مان لو) پھر بھی اگر یہ لوگ (اس کے قبول کرنے سے) سرتابی کریں تو آپ (بطور اتمام حجت کے) فرما دیجئے کہ میں تم کو نہایت واضح اطلاع کرچکا ہوں (جس میں ذرہ برابر خفاء پوشیدگی نہیں رہی توحید اور حقانیت اسلام کی اطلاع بھی اور اس کے انکار پر جو سزا ملے گی وہ بھی صاف صاف بیان ہوچکی ہے اب نہ مجھ پر تبلیغ حق کی کوئی ذمہ داری باقی رہی نہ تمہارا کوئی عذر باقی رہا) اور اگر (اس کے حق ہونے میں تم کو اس وجہ سے شبہ ہو کہ جو سزا بتلائی گئی ہے وہ مل کیوں نہیں جاتی تو سمجھ لو کہ سزا کا ملنا تو یقینی ہے مگر) میں یہ نہیں جانتا کہ جس (سزا) کا تم سے وعدہ ہوا ہے آیا وہ قریب (واقع ہونے والی ہے) یا دور دراز (زمانے میں واقع ہونے والی) ہے (البتہ اس کا واقع ہونا ضروری ہے کیونکہ) اللہ تعالیٰ کو (تمہاری) پکار کر کہی ہوئی بات کی بھی خبر ہے اور جو تم دل میں رکھتے ہو اس کی بھی خبر ہے اور (تاخیر عذاب سے اس کے واقع نہ ہونے کے دھوکے میں نہ رہنا یہ تاخیر کسی مصلحت و حکمت سے ہو رہی ہے) میں نہیں جانتا (کہ وہ مصلحت کیا ہے ہاں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ) شاید (یہ تاخیر عذاب) تمہارے لئے امتحان ہو (کہ شاید متنبہ ہو کر ایمان لے آویں) اور ایک وقت (محدود یعنی موت کے وقت) فائدہ پہنچانا ہو (کہ خوب غفلت بڑھے اور عذاب بڑھتا چلا جائے۔ پہلا معاملہ یعنی امتحان رحمت ہے اور دوسرا معاملہ یعنی عمر دراز اور اس کی سہولتیں دینا یہ عقوبت و سزا ہے، اور جب ان سب مضامین سے ہدایت نہ ہوئی تو) پیغمبر ﷺ نے (باذن الٰہی) کہا کہ اے میرے رب (ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان) فیصلہ کر دیجئے (جو کہ ہمیشہ) حق کے موافق (ہوا کرتا ہے مطلب یہ ہے کہ عملی فیصلہ فرما دیجئے کہ مسلمانوں سے جو فتح و نصرت کے وعدے ہیں وہ واقع کر دیجئے تاکہ ان پر اور زیادہ حجت تمام ہوجائے) اور (رسول اللہ ﷺ نے کفار سے یہ بھی فرمایا کہ) ہمارا رب بڑا مہربان ہے جس سے ان باتوں کے مقابلے میں مدد چاہی جائے جو تم بنایا کرتے ہو (کہ مسلمان جلد نیست و نابود ہوجاویں گے یعنی ہم اسی مہربان رب سے تمہارے مقابلہ میں مدد چاہتے ہیں)۔
Ayahs 21:107–112

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور تجھ کو ہم نے بھیجا سو مہربانی کر کر جہان کے لوگوں پر

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

تو کہہ مجھ کو تو حکم یہی آیا ہے کہ معبود تمہارا ایک معبود ہے پھر کیا ہو تم حکمبرداری کرنے والے

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دے میں نے خبر کردی تم کو دونوں طرف برابر، اور میں نہیں جانتا نزدیک ہے یا دور ہے جو تم سے وعدہ ہوا

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

وہ رب جانتا ہے جو بات پکار کر کرو اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور میں نہیں جانتا شاید تاخیر میں تم کو جانچنا ہے اور فائدہ دینا ہے ایک وقت تک

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

رسول نے کہا اے رب فیصلہ کر انصاف کا اور رب ہمارا رحمن ہے اسی سے مدد مانگتے ہیں ان باتوں پر جو تم بتلاتے ہو۔

معارف و مسائل وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ ، عالمین عالم کی جمع ہے جس میں ساری مخلوقات انسان، جن، حیوانات، نباتات، جمادات سبھی داخل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ان سب چیزوں کے لئے رحمت ہونا اس طرح ہے کہ تمام کائنات کی حقیقی روح اللہ کا ذکر اور اس کی عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت زمین سے یہ روح نکل جائے گی اور زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو ان سب چیزوں کی موت یعنی قیامت آجائے گی اور جب ذکر اللہ و عبادت کا ان سب چیزوں کی روح ہونا معلوم ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ کا ان سب چیزوں کے لئے رحمت ہونا خود بخود ظاہر ہوگیا کیونکہ اس دنیا میں قیامت تک ذکر اللہ اور عبادت آپ ہی کے دم قدم اور تعلیمات سے قائم ہے اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے انا رحمة مھداة میں اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی رحمت ہوں۔ (اخرجہ ابن عساکر عن ابی ھریرة) اور حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انا رحمة مھداة برفع قوم و خفض اخرین، یعنی میں اللہ کی بھیجی ہوئی رحمت ہوں تاکہ (اللہ کے حکم ماننے والی) ایک قوم کو سربلند کردوں اور دوسری قوم (جو اللہ کا حکم ماننے والی نہیں ان کو) پست کر دوں (ابن کثیر) اس سے معلوم ہوا کہ کفر و شرک کو مٹانے کیلئے کفار کو پست کرنا اور ان کے مقابلے میں جہاد کرنا بھی عین رحمت ہے جس کے ذریعہ سرکشوں کو ہوش آ کر ایمان اور عمل صالح کا پابند ہوجانے کی امید کی جاسکتی ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ تم تفسیر سورة الانبیاء وللہ الحمد لیلة الرابع والعشرین من ذی الحجة الحرام 1390 من الھجرة النبویة قبل العشاء ولہ الحمد اولا واخرا وظاھرا و باطنا و ھوا المرجو لا تمام الباقی وما ذلک علیہ بعزیز ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم