Ayahs 22:1–2خلاصہ تفسیر
اے لوگو اپنے رب سے ڈرو (اور ایمان و اطاعت اختیار کرو کیونکہ) یقیناً قیامت کا زلزلہ بڑی بھاری چیز ہوگی (جس کا آنا ضروری ہے اس روز کے شدائد سے بچنے کی اب فکر کرو جس کا طریقہ تقویٰ ہے آگے اس زلزلہ کی شدت کا بیان ہے) جس روز تم لوگ اس (زلزلہ) کو دیکھو گے اس روز (یہ حال ہوگا کہ) تمام دودھ پلانے والیاں (ہیبت و دہشت کی وجہ سے) اپنے دودھ پیتے (بچہ) کو بھول جاویں گی اور تمام حمل والیاں اپنا حمل (دن پورے ہونے سے پہلے) ڈال دیں گی اور تجھ کو (اے مخاطب) لوگ نشہ کی سی حالت میں دکھائی دیں گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہوں گے (کیونکہ وہاں کسی نشہ کی چیز استعمال کرنے کا کوئی امکان و احتمال ہی نہیں) لیکن اللہ کا عذاب ہی سخت چیز ہے (جس کے خوف کی وجہ سے ان کی حالت نشہ والے کی سی ہوجاوے گی)۔
معارف و مسائل
خصوصیات سورت
اس سورت کے مکی یا مدنی ہونے میں مفسرین کا اختلاف ہے حضرت ابن عباس ہی سے دونوں روایتیں منقول ہیں۔ جمہور مفسرین کا قول یہ ہے کہ یہ سورت آیات مکیہ اور مدنیہ سے مخلوط سورت ہے۔ قرطبی نے اسی کو اصح قرار دیا ہے۔ نیز فرمایا کہ اس سورت کے عجائب میں سے یہ بات ہے کہ اس کی آیات کا نزول بعض کا رات میں، بعض کا دن میں، بعض کا سفر میں، بعض کا حضر میں، بعض کا مکہ میں، بعض کا مدینہ میں، بعض کا جنگ و جہاد کے وقت اور بعض کا صلح و امن کی حالت میں ہوا ہے اور اس میں بعض آیتیں ناسخ ہیں اور بعض منسوخ، بعض محکم ہیں بعض متشابہ کیونکہ تمام اصناف تنزیل پر مشتمل ہے۔
يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ، یہ آیت نبی کریم ﷺ پر بحالت سفر نازل ہوئی تو آپ نے بلند آواز سے اس کی تلاوت شروع فرمائی۔ رفقاء سفر صحابہ کرام آنحضرت ﷺ کی آواز سن کر جمع ہوگئے۔ آپ نے صحابہ کرام کو خطاب کر کے فرمایا کہ زلزلہ قیامت جس کا ذکر اس آیت میں ہے آپ جانتے ہیں کہ کس دن میں ہوگا صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ اور رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہوگا جس میں اللہ تعالیٰ آدم ؑ سے خطاب کر کے فرماویں گے کہ جہنم میں جانے والوں کو اٹھائیے۔ آدم ؑ دریافت کریں گے کہ وہ جہنم میں جانے والے کون لوگ ہیں تو حکم ہوگا کہ ہر ایک ہزار میں نو سو ننانوے، اور فرمایا کہ یہی وہ وقت ہوگا کہ ہول اور خوف سے بچے بوڑھے ہوجاویں گے اور حمل والی عورتوں کا حمل ساقط ہوجاوے گا۔ صحابہ کرام یہ سن کر سہم گئے اور پوچھنے لگے پھر یا رسول اللہ ہم میں سے وہ کون ہوگا جو نجات پائے تو فرمایا کہ تم بےفکر رہو جہنم میں جانے والا یاجوج ماجوج میں سے ایک ہزار اور تم میں سے ایک ہوگا۔ یہ مضمون صحیح مسلم وغیرہ کی روایات میں ابو سعید خدری سے مروی ہے اور بعض روایات میں ہے کہ اس روز تم ایسی دو مخلوقوں کے ساتھ ہوگے کہ وہ جب کسی جماعت کے ساتھ ہوں تو وہی تعداد میں غالب اور اکثر رہیں گے۔ ایک یاجوج ماجوج اور دوسرے ابلیس اور اس کی ذریت اور اولاد آدم میں سے جو لوگ پہلے مر چکے ہیں (اس لئے نو سو ننانوے میں بڑی تعداد انہیں کی ہوگی) تفسیر قرطبی وغیرہ میں یہ سب روایات نقل کی ہیں۔
زلزلہ قیامت کب ہوگا
قیامت قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ زندہ ہونے کے بعد یا اس سے پہلے، بعض نے فرمایا کہ یہ قیامت سے پہلے اسی دنیا میں ہوگا اور قیامت کی آخری علامت میں شمار ہوگا جس کا ذکر قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں آیا ہے۔ اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا۔ وَّحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً۔ اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا وغیرہ۔ اور بعض حضرات نے حدیث مذکور جس میں آدم ؑ کو خطاب کرنے کا ذکر ہے اس سے استدلال کرتے ہوئے یہ قرار دیا ہے کہ زلزلہ حشر و نشر اور دوبارہ زندہ ہونے کے بعد ہوگا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ دونوں میں کوئی منافات نہیں۔ قیامت سے پہلے زلزلہ ہونا بھی آیات قرآن اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور حشر و نشر کے بعد ہونا اس حدیث مذکور سے ثابت ہے واللہ اعلم۔
اس زلزلہ قیامت کی جو کیفیت آگے آیت میں ذکر کی گئی ہے کہ تمام حمل والی عورتوں کے حمل ساقط ہوجاویں گے اور دودھ پلانے والی عورتیں اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جاویں گی۔ اگر یہ زلزلہ اسی دنیا میں قبل القیامة ہے تو ایسا واقعہ پیش آنے میں کوئی اشکال نہیں اور اگر حشر و نشر قیامت کے بعد ہے تو اس کی توجیہ یہ ہوگی کہ جو عورت اس دنیا میں حالت حمل میں مری ہے قیامت کے روز اسی حالت میں اس کا حشر ہوگا۔ اور جو دودھ پلانے کے زمانے میں مر گئی ہے وہ اسی طرح بچے کے ساتھ اٹھائی جائے گی (کما ذکرہ القرطبی) واللہ اعلم
Ayahs 22:3–4خلاصہ تفسیر
اور بعضے آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں (یعنی اس کی ذات یا صفات یا افعال کے متعلق) بےجانے بوجھے جھگڑا کرتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کے پیچھے ہو لیتے ہیں (یعنی گمراہی کی ایسی قابلیت ہے کہ جو شیطان جس طرح بہکاوے اس کے بہکانے میں آجاتا ہے پس اس شخص میں انتہائی درجہ کی ضلالت ہوئی کہ اس پر ہر شیطان کی دسترس ہوجاتی ہے) جس کی نسبت (خدا کے یہاں سے) یہ بات لکھی جا چکی ہے (اور طے ہوچکی ہے) کہ جو شخص اس سے تعلق رکھے گا (یعنی اس کا اتباع کرے گا) تو اس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ اس کو (راہ حق سے) بےراہ کر دے گا اور اس کو عذاب دوزخ کا راستہ دکھلا دے گا (آگے ان مجادلین کو خطاب ہے کہ) اے لوگو اگر تم (قیامت کے روز) دوبارہ زندہ ہونے (کے امکان) سے شک میں ہو تو (ذرا مضمون آئندہ میں غور کرلو تاکہ شک رفع ہوجاوے اور وہ یہ کہ) ہم نے (اول بار) تم کو مٹی سے بنایا (کیونکہ غذا جس سے نطفہ بنتا ہے اول عناصر سے پیدا ہوتی ہے جس میں ایک جزو مٹی بھی ہے) پھر نطفہ سے (جو کہ غذا سے پیدا ہوتا ہے) پھر خون کے لوتھڑے سے (کہ نطفہ میں غلظت اور سرخی آنے سے حاصل ہوتا ہے) پھر بوٹی سے (کہ علقہ میں سختی آجانے سے حاصل ہوتا ہے) کہ (بعضی) پوری ہوتی ہے (کہ اس میں پورے اعضاء بن جاتے ہیں) اور (بعضی) ادھوری بھی (ہوتی ہے کہ بعض اعضاء ناقص رہ جاتے ہیں یہ اس طرح کی ساخت اور ترتیب اور تفاوت سے اس لئے بنایا) تاکہ ہم تمہارے سامنے (اپنی قدرت) ظاہر کردیں (اور اسی سے ظاہر ہے کہ وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے) اور (تتمہ اس مضمون کا یہ ہے جس سے اور زیادہ قدرت ظاہر ہوتی ہے کہ) ہم (ماں کے) رحم میں جس (نطفہ) کو چاہتے ہیں ایک مدت معین (یعنی وضع حمل کے وقت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں (اور جس کو ٹھہرانا نہیں چاہتے ہیں وہاں اسقاط ہوجاتا ہے) پھر (اس مدت معینہ کے بعد) ہم تم کو بچہ بنا کر (ماں کے پیٹ سے) باہر لاتے ہیں پھر (اس کے بعد تین قسمیں ہوجاتی ہیں ایک قسم یہ کہ تم میں سے بعض کو جوانی تک مہلت دیتے ہیں) تاکہ تم اپنی بھری جوانی (کی عمر) تک پہنچ جاؤ اور بعضے تم میں وہ بھی ہیں جو (جوانی سے پہلے ہی) مر جاتے ہیں (یہ دوسری قسم ہوئی) اور بعضے تم میں وہ ہیں جو نکمی عمر (یعنی زیادہ بڑھاپے) تک پہنچا دیئے جاتے ہیں جس کا اثر یہ ہے کہ ایک چیز سے باخبر ہو کر پھر بیخبر ہوجاتے ہیں (جیسا اکثر بوڑھوں کو دیکھا کہ ابھی ایک بات بتلائی اور ابھی پھر پوچھ رہے ہیں۔ یہ تیسری قسم ہوئی یہ سب احوال بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت عظیمہ کی نشانیاں ہیں ایک استدلال تو یہ تھا) اور (آگے دوسرا استدلال ہے کہ) اے مخاطب تو زمین کو دیکھتا ہے کہ خشک (پڑی) ہے پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم (یعنی قسم قسم کی خوشنما نباتات اگاتی ہے (سو یہ بھی دلیل ہے قدرت کاملہ کے آگے استدلال کو اور واضح کرنے کے لئے تصرفات مذکورہ کی علت اور حکمت کا بیان فرماتے ہیں یعنی) یہ (جو کچھ اوپر دونوں استدلالوں کے ضمن میں اشیاء مذکورہ کا ایجاد و اظہار مذکور ہوا یہ سب) اس سبب سے ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہستی میں کامل ہے (یہ تو اس کا کمال ذاتی ہے) اور وہ ہی بےجانوں میں جان ڈالتا ہے (یہ اس کا کمال فعلی ہے) اور وہی ہر چیز پر قادر ہے (یہ اس کا کمال وصفی ہے اور یہ تینوں امور ملکر امور مذکورہ کی علت ہیں کیونکہ اگر کمالات ثلٰثہ میں سے ایک بھی غیر متحقق ہوتا تو ایجاد نہ پایا جاتا چناچہ ظاہر ہے) اور (نیز اس سبب سے ہوا کہ) قیامت آنے والی ہے اس میں ذرا شبہ نہیں اور اللہ تعالیٰ (قیامت میں) قبر والوں کو دوبارہ پیدا کرے گا (یہ امور مذکورہ کی حکمت ہیں یعنی ہم نے وہ تصرفات مذکورہ اس لئے ظاہر کئے کہ اس میں منجملہ اور حکمتوں کے ایک حکمت اور غایت یہ تھی کہ ہم کو قیامت کا لانا اور مردوں کو زندہ کرنا منظور تھا تو ان تصرفات سے ان کا امکان لوگوں پر ظاہر ہوجاوے گا پس ایجاد اشیاء مذکورہ کی تین علتیں اور دو حکمتیں مذکور ہوئیں اور سبب بالمعنی الاعم سب کو عام ہوا اس لئے بان اللہ کی باء سبییة سب پر داخل ہوگئی) اور (یہاں تک تو مجادلین کی گمراہی اور اس کے رد میں استدلال مذکور تھا آگے ان کا اضلال۔ یعنی دوسروں کو گمراہ کرنا۔ اور دونوں ضلال واضلال کا وبال عظیم مذکور ہوتا ہے) بعضے آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں (یعنی اس کی ذات یا صفات یا افعال کے مقدمہ میں) بدون واقفیت (یعنی علم ضروری) اور بدون دلیل (یعنی علم استدلالی عقلی) اور بدون کسی روشن کتاب (یعنی علم استدلالی نقلی) کے (اور دوسرے محقق کے اتباع و تقلید سے) تکبر کرتے ہوئے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ (دوسرے لوگوں کو بھی) اللہ کی راہ سے (یعنی دین حق سے) بےراہ کردیں ایسے شخص کے لئے دنیا میں رسوائی ہے (خواہ کسی قسم کی رسوائی ہو چناچہ بعضے گمراہ قتل و قید وغیرہ سے ذلیل ہوتے ہیں بعضے مناظرہ اہل حق میں مغلوب ہو کر عقلاء کی نظر میں بےعزت ہوتے ہیں) اور قیامت کے دن ہم اس کو جلتی آگ کا عذاب چکھا دیں گے (اور اس سے کہا جاوے گا) کہ یہ تیرے ہاتھ کے کئے ہوئے کاموں کا بدلہ ہے اور یہ بات ثابت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ (اپنے) بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں (پس تجھ کو بلا جرم سزا نہیں دی گئی)۔
معارف و مسائل
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ ، یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی جو بڑا جھگڑالو تھا، فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں اور قرآن کو پچھلے لوگوں کے افسانے کہا کرتا تھا اور قیامت اور دوبارہ زندہ ہونے کا منکر تھا (کذارواہ ابن ابی حاتم عن ابی مالک۔ مظہری)
نزول آیت کا اگرچہ ایک خاص شخص کے بارے میں ہوا مگر حکم اس کا سب کے لئے عام ہے جس میں اس طرح کی بری خصلتیں پائی جائیں۔
Ayahs 22:5–8بطن مادر میں تخلیق انسانی کے درجات اور مختلف احوال
فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ، اس آیت میں بطن مادر کے اندر انسان کی تخلیق کے مختلف درجات کا بیان ہے۔ اس کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے جو حضرت عبداللہ ابن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اور وہ سچ بولنے والے اور سچے سمجھے جانے والے ہیں کہ انسان کا مادہ چالیس روز تک رحم میں جمع رہتا ہے پھر چالیس دن کے بعد علقہ یعنی منجمد خون بن جاتا ہے پھر چالیس ہی دن میں وہ مضغہ یعنی گوشت بن جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونک دیتا ہے اور اس کے متعلق چار باتیں اسی وقت فرشتہ کو لکھوا دی جاتی ہیں۔ اول یہ کہ اس کی عمر کتنی ہے دوسرے رزق کتنا ہے، تیسرے عمل کیا کیا کرے گا، چوتھے یہ کہ انجام کار یہ شقی اور بدبخت ہوگا یا سعید خوش نصیب (قرطبی)
دوسری ایک روایت میں جس کو ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے حضرت عبداللہ بن مسعود ہی سے روایت کیا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ نطفہ جب کئی دور سے گزرنے کے بعد مضغہ گوشت بن جاتا ہے تو اس وقت وہ فرشتہ جو ہر انسان کی تخلیق پر مامور ہے وہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کرتا ہے یا رب مخلقہ او غیر مخلقہ (یعنی اس مضغہ سے انسان کا پیدا کرنا آپ کے نزدیک مقدر ہے یا نہیں) اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ جواب ملتا ہے کہ یہ غیر مخلقہ ہے تو رحم اس کو ساقط کردیتا ہے تخلیق کے دوسرے مراتب تک نہیں پہنچتا اور اگر حکم ہوتا کہ یہ مخلقہ ہے تو پھر فرشتہ سوال کرتا ہے کہ لڑکا ہے یا لڑکی، اور شقی ہے یا سعید اور اس کی عمر کیا ہے اور اس کا عمل کیسا ہے اور کہاں مرے گا (یہ سب چیزیں اسی وقت فرشتہ کو بتلا دی جاتی ہیں (ابن کثیر) مخلقہ و غیر مخلقہ کی یہ تفسیر حضرت ابن عباس سے بھی منقول ہے (قرطبی)
مُّخَلَّقَةٍ وَّغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ ، حدیث مذکور سے ان دونوں کی تفسیر یہ معلوم ہوئی کہ جس نطفہ انسانی کا پیدا ہونا مقدر ہوتا ہے وہ مخلقہ ہے اور جس کا ضائع اور ساقط ہوجانا مقدر ہے وہ غیر مخلقہ ہے اور بعض حضرات مفسرین مخلقہ اور غیر مخلقہ کی تفسیر یہ کرتے ہیں کہ جس بچے کی تخلیق مکمل اور تمام اعضاء صحیح سالم اور متناسب ہوں وہ مخلقہ اور جس کے بعض اعضاء ناقص ہوں یا قد اور رنگ وغیرہ غیر متناسب ہو وہ غیر مخلقہ ہے خلاصہ تفسیر مذکور میں اسی تفسیر کو لیا گیا ہے واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا، یعنی پھر بطن مادر سے تم کو نکالتے ہیں۔ طفل ضعیف کی صورت میں اس کا بدن بھی کمزور ہوتا ہے سماعت و بصارت بھی۔ حواس و عقل بھی، حرکت و گرفت کی قوت بھی غرضیکہ سب قوتیں انتہائی ضعیف و کمزور ہوتی ہیں پھر تدریجاً ان میں ترقی دی جاتی ہے یہاں تک کہ پوری قوت تک پہنچ جاتے ہیں ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّكُمْ کے یہی معنے ہیں۔ لفظ اشد، شدة کی جمع ہے جیسے انعم نعمة کی جمع آتی ہے معنے یہ ہوئے کہ تدریجی ترقی کا سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک کہ تمہاری ہر قوت مکمل نہ ہوجائے جو جوانی کے وقت میں ہوتی ہے۔
اَرْذَلِ الْعُمُرِ ، یعنی وہ عمر جس میں انسان کے عقل و شعور اور حواس میں خلل آنے لگے۔ نبی کریم ﷺ نے ایسی عمر سے پناہ مانگی ہے۔ نسائی میں بروایت سعد منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ حسب ذیل الفاظ پر مشتمل یہ دعا بکثرت مانگتے تھے اور راوی حدیث حضرت سعد یہ دعا اپنی سب اولاد کو یاد کرا دیتے تھے وہ دعا یہ ہے اللھم انی اعوذ بک من البخل واعوذ بک من الجبن واعوذ بک من ان ارد الی ارذل العمر واعوذ بک من فتنة الدنیا و عذاب القبر۔ (قرطبی)
انسان کی ابتدائی تخلیق کے بعد عمر کے مختلف مدارج اور ان کے احوال
مسند احمد اور مسند ابو یعلی میں حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بچہ جب تک بالغ نہیں ہوتا اس کے نیک عمل اس کے والد یا والدین کے حساب میں لکھے جاتے ہیں اور جو کوئی برا عمل کرے تو وہ نہ اس کے حساب میں لکھا جاتا ہے نہ والدین کے، پھر جب وہ بالغ ہوجاتا ہے تو قلم حساب اس کے لئے جاری ہوجاتا ہے اور دو فرشتے جو اس کے ساتھ رہنے والے ہیں ان کو حکم دے دیا جاتا ہے کہ اس کی حفاظت کریں اور قوت بہم پہنچائیں جب حالت اسلام میں چالیس سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو (تین قسم کی بیماریوں سے) محفوظ کردیتے ہیں یعنی جنون اور جذام اور برص سے۔ جب پچاس سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا حساب ہلکا کردیتے ہیں۔ جب ساٹھ سال کو پہنچتا ہے تو اللہ اس کو اپنی طرف رجوع کی توفیق دے دیتے ہیں۔ جب ستر سال کو پہنچتا ہے تو سب آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب اسی سال کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے حسنات کو لکھتے ہیں اور سیئات کو معاف فرما دیتے ہیں پھر جب نوے سال کی عمر ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کے سب اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیتے ہیں اور اس کو اپنے اہل بیت کے معاملے میں شفاعت کرنے کا حق دیتے ہیں اور اس کی شفاعت قبول فرماتے ہیں اور اس کا لقب امین اللہ اور اسیر اللہ فی الارض (یعنی زمین میں اللہ کا قیدی) ہوجاتا ہے (کیونکہ اس عمر میں پہنچ کر عموماً انسان کی قوت ختم ہوجاتی ہے کسی چیز میں لذت نہیں رہتی، قیدی کی طرح عمر گزارتا ہے اور جب ارذل عمر کو پہنچ جائے تو اس کے تمام وہ نیک عمل نامہ اعمال میں برابر لکھے جاتے ہیں جو اپنی صحت و قوت کے زمانے میں کیا کرتا تھا اور اگر اس سے کوئی گناہ ہوجاتا ہے تو وہ لکھا نہیں جاتا۔
یہ روایت حافظ ابن کثیر نے مسند ابو یعلی سے نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے ھذا حدیث غریب جدا وفیہ نکارة شدیدة (یعنی یہ حدیث غریب ہے اور اس میں سخت نکارت ہے) پھر فرمایا و مع ھذا قد رواہ الامام احمد بن حنبل فی مسندہ موقوفاً و مرفوعاً (یعنی اس غرابت و نکارت کے باوجود امام احمد نے اپنی مسند میں اس کو موقوفاً اور مرفوعاً دونوں طرح روایت کیا ہے پھر ابن کثیر نے مسند احمد سے یہ دونوں قسم کی روایتیں نقل کی ہیں جن کا مضمون تقریباً وہی ہے جو بحوالہ مسند ابو یعلی اوپر نقل ہوا ہے واللہ اعلم۔
Ayahs 22:9–10ثَانِيَ عِطْفِهٖ ، عطف کے معنے جانب اور کروٹ کے ہیں یعنی کروٹ موڑنے والا۔ اس سے مراد اس کا اعراض کرنا ہے۔
Ayahs 22:11–13خلاصہ تفسیر
اور بعض آدمی اللہ کی عبادت (ایسے طور پر) کرتا ہے (جیسے کوئی کسی چیز کے) کنارہ پر (کھڑا ہو اور موقع پا کر چل دینے پر تیار ہو) پھر اگر اس کو کوئی (دنیوی) نفع پہنچ گیا تو اس کی وجہ سے (ظاہری) قرار پا لیا اور اگر اس پر کچھ آزمائش ہوگئی تو منہ اٹھا کر (کفر کی طرف) چل دیا (جس سے) دنیا و آخرت دونوں کو کھو بیٹھا یہی ہے کھلا نقصان (دنیا کا نقصان تو دنیاوی آزمائش جو کسی مصیبت سے ہوتی وہ ظاہر ہی ہے اور آخرت کا نقصان یہ ہوا کہ اسلام اور) خدا کو چھوڑ کر اسی چیز کی عبادت کرنے لگا جو (اس قدر عاجز اور بےبس ہے کہ) نہ اس کو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع پہنچا سکتی ہے (یعنی اس کی عبادت نہ کرو تو کوئی نقصان پہنچانے کی اور کرو تو نفع پہنچانے کی کوئی قدرت نہیں۔ ظاہر ہے کہ قادر مطلق کو چھوڑ کر ایسی بےبس چیز کو اختیار کرنا خسارہ ہی خسارہ ہے) یہ انتہا درجہ کی گمراہی ہے (صرف یہی نہیں کہ اس کی عبادت سے کوئی نفع نہ پہنچے بلکہ الٹا ضرر اور نقصان ہے کیونکہ) وہ ایسے کی عبادت کر رہا ہے کہ اس کا ضرر اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے۔ ایسا کار ساز بھی برا اور ایسا رفیق بھی برا (جو کسی طرح کسی حال کسی کے کام نہ آوے کہ اس کو مولیٰ اور آقا بنا لو یا دوست اور ساتھی بنا لو کسی حال اس سے کچھ نفع نہیں)۔
معارف و مسائل
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ ، بخاری اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ میں مقیم ہوگئے تو بعض ایسے لوگ بھی آ کر مسلمان ہوجاتے تھے (جن کے دل میں ایمان کی پختگی نہیں تھی) اگر اسلام لانے کے بعد اس کی اولاد اور مال میں ترقی ہوگئی تو کہتا تھا کہ یہ دین اچھا ہے اور اگر اس کے خلاف ہوا تو کہتا تھا کہ یہ برا دین ہے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ لوگ ایمان کے ایک کنارہ پر کھڑے ہیں۔ اگر ان کو ایمان کے بعد دنیوی راحت اور مال و سامان مل گیا تو اسلام پر جم گئے اور اگر وہ بطور آزمائش کسی تکلیف و پریشانی میں مبتلا ہوگئے تو دین سے پھرگئے۔
Ayah 22:14خلاصہ تفسیر
بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل فرمائیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی (اور اللہ جس شخص یا قوم کو کوئی ثواب یا عذاب دینا چاہے اس کو کوئی روکنے والا نہیں کیونکہ) اللہ تعالیٰ (قادر مطلق ہے) جو ارادہ کرتا ہے کر گزرتا ہے (اور جن لوگوں کے دین حق میں مجادلہ کرنے کا ذکر آیا ہے اگلی آیت میں ان کی ناکامی اور محرومی کا بیان ہے فرمایا) جو شخص (رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مخالفت اور مخاصمت کر کے) اس بات کا خیال رکھتا ہو کہ (میں غالب آجاؤں گا اور آپ کے دین کی ترقی کو روک دوں گا اور یہ کہ) اللہ تعالیٰ رسول ﷺ کی (اور آپ کے دین کی) دنیا و آخرت میں مدد نہ کرے گا تو اس کو چاہئے کہ ایک رسی آسمان تک تان لے (اور آسمان سے باندھ دے) پھر (اس رسی کے ذریعہ اگر آسمان پر پہنچ سکے تو پہنچ جائے تاکہ) اس وحی کو موقوف کرا دے (اور ظاہر ہے کہ ایسا کوئی نہیں کرسکتا) تو پھر غور کرنا چاہئے آیا اس کی (یہ) تدبیر (جس سے بالکل عاجز ہے) اس کے غیظ و غضب کی چیز کو (یعنی وحی کو) موقوف کرسکتی ہے اور ہم نے اس (قرآن) کو اسی طرح اتارا ہے (کہ اس میں ہمارے ارادے اور قدرت کے سوا کسی کا دخل نہیں) جس میں کھلی کھلی دلیلیں (تعیین حق کی) ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔
Ayahs 22:15–16معارف و مسائل
مَنْ كَانَ يَظُنُّ ، حاصل یہ ہے کہ اسلام کا راستہ روکنے والے معاند جو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اس کے دین کی مدد نہ کرے ان کو سمجھنا چاہئے کہ یہ تو جبھی ہوسکتا ہے جبکہ معاذ اللہ آنحضرت ﷺ سے منصب نبوت سلب ہوجائے اور آپ پر وحی آنا منقطع ہوجائے کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو نبوت و رسالت سپرد فرماتا ہے اور اس کو وحی الٰہی سے نوازتا ہے اس کی مدد تو دنیا و آخرت میں کرنے کا اس کی طرف سے پختہ عہد ہے اور عقلاً بھی اس کے خلاف نہ ہونا چاہئے تو جو شخص آپ کی اور آپ کے دین کی ترقی کو روکنا چاہتا ہے اس کو اگر اس کے قبضہ میں ہو تو ایسی تدبیر کرنا چاہئے کہ یہ منصب نبوت سلب ہوجائے اور وحی الٰہی منقطع ہوجائے۔ اس مضمون کو ایک فرض محال کے عنوان سے اس طرح تعبیر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے وحی کو منقطع کرنے کا کام کرنا چاہتا ہے تو کسی طرح آسمان پر پہنچے وہاں جا کر اس سلسلہ وحی کو ختم کر دے۔ اور ظاہر ہے کہ نہ کسی کا اس طرح آسمان پر جانا ممکن نہ اللہ تعالیٰ سے قطع وحی کو کہنا ممکن تو پھر جب تدبیر کوئی کارگر نہیں تو اسلام و ایمان کے خلاف غیظ و غضب کا کیا نتیجہ ؟ یہ تفسیر بعینہ در منثور میں ابن زید سے روایت کی ہے اور میرے نزدیک یہ سب سے بہتر اور صاف تفسیر ہے (بیان القران مع تسھیل)
قرطبی نے اسی تفسیر کو ابن جعفر نحاس سے نقل کر کے فرمایا کہ یہ سب سے احسن تفسیر ہے اور حضرت ابن عباس سے بھی اس تفسیر کو نقل کیا ہے۔ اور بعض حضرات نے اس آیت کی تفسیر یہ کی ہے کہ سماء سے مراد اپنے مکان کی چھت ہے اور مراد آیت کی یہ ہے کہ اگر کسی معاند جاہل کی خواہش یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اس کے دین کی مدد نہ کرے اور وہ اسلام کے خلاف غیظ و غضب لئے ہوئے ہے تو سمجھ لے کہ اس کی یہ مراد تو کبھی پوری نہ ہوگی اس احمقانہ غیظ و غضب کا تو علاج یہی ہے کہ چھت میں رسی ڈال کر پھانسی لے لے اور مر جائے۔ (مظہری وغیرہ)
Ayahs 22:17–18خلاصہ تفسیر
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان اور یہود اور صابئین اور نصاریٰ اور مجوس اور مشرکین، اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان میں قیامت کے روز (عملی) فیصلہ کر دے گا (کہ مسلمانوں کو جنت میں اور سب اقسام کافروں کو جہنم میں داخل کرے گا) بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے۔
اے مخاطب کیا تجھ کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے (اپنی اپنی حالت کے مناسب) سب عاجزی کرتے ہیں جو کہ آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور (تمام مخلوقات کے مطیع و فرمانبردار ہونے کے باوجود انسان جو خاص درجہ کی عقل بھی رکھتا ہے وہ سب کے سب مطیع و فرمانبردار نہیں بلکہ) بہت سے (تو) آدمی بھی (اطاعت اور عاجزی کرتے ہیں) اور بہت سے ایسے ہیں جن پر عذاب کا استحقاق ثابت ہوگیا ہے اور (سچ یہ ہے کہ) جس کو خدا ذلیل کرے (کہ اس کو ہدایت کی توفیق نہ ہو) اس کا کوئی عزت دینے والا نہیں (اور) اللہ تعالیٰ (کو اختیار ہے اپنی حکمت سے) جو چاہے کرے۔
معارف و مسائل
پہلی آیت میں تمام اقوام عالم مومنین اور کفار پھر کفار کے مختلف العقائد گروہوں کے متعلق یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کا فیصلہ فرما دیں گے اور وہ ہر ایک کے ظاہر و باطن سے باخبر ہیں۔ فیصلہ کیا ہوگا اس کا ذکر بار بار قرآن میں آ چکا ہے کہ مومنین صالحین کے لئے ابدی اور لازوال راحت ہے اور کفار کے لئے دائمی عذاب۔ دوسری آیت میں تمام مخلوقات خواہ زندہ ذی روح ہوں یا جمادات و نباتات سب کا حق تعالیٰ کے لئے مطیع اور فرمانبردار ہونا بعنوان سجدہ بیان فرما کر بنی نوع انسان کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک مطیع و فرمانبردار سجدہ میں سب کے ساتھ شریک اور دوسرا سرکش باغی سجدہ سے منحرف۔ اور تابع فرمان ہونے کو سجدہ کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے جس کا ترجمہ خلاصہ تفسیر میں عاجزی کرنے سے کیا ہے تاکہ مخلوقات کی ہر نوع اور ہر قسم کے سجدہ کو شامل ہوجائے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کا سجدہ اس کے مناسب حال ہوتا ہے انسان کا سجدہ زمین پر پیشانی رکھنے کا نام ہے دوسری مخلوقات کا سجدہ اپنی اپنی خدمت جس کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے اس کو انجام دینے کا اور خدمت کا حق ادا کرنے کا نام ہے۔
تمام مخلوقات کے مطیع و فرمانبردار ہونے کی حقیقت
تمام کائنات و مخلوقات کا اپنے خالق کے زیر حکم اور تابع مشیت ہونا ایک تو تکوینی اور تقدیری طور پر غیر اختیاری ہے جس سے کوئی بھی مخلوق مومن یا کافر زندہ یا مردہ، جمادات یا نباتات مستثنیٰ نہیں اس حیثیت میں سب کے سب یکساں طور پر حق تعالیٰ کے زیر حکم و مشیت ہیں۔ جہان کا کوئی ذرہ یا پہاڑ اس کے اذن و مشیت کے بغیر کوئی ادنیٰ حرکت نہیں کرسکتا۔ دوسری اطاعت و فرمانبرداری اختیاری ہے کہ کوئی مخلوق اپنے قصد و اختیار سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کرے اس میں مومن و کافر کا فرق ہوتا ہے کہ مومن اطاعت شعار فرمانبردار ہوتا ہے کافر اس سے منحرف اور منکر ہوتا ہے۔ اس آیت میں چونکہ مومن و کافر کا فرق بیان فرمایا ہے یہ قرینہ اس کا ہے کہ اس میں سجدہ اور فرمانبرداری سے مراد صرف تکوینی و تقدیری اطاعت نہیں بلکہ اختیاری اور ارادی اطاعت ہے۔ اس میں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ اختیاری اور ارادی اطاعت تو صرف ذوی العقول انسان اور جن وغیرہ میں ہو سکتی ہے۔ حیوانات، نباتات، جمادات میں عقل و شعور ہی نہیں تو پھر قصد و ارادہ کہاں اور اطاعت اختیاری کیسی ؟ کیونکہ قرآن کریم کی بیشمار نصوص اور تصریحات سے یہ بات ثابت ہے کہ عقل و شعور اور قصد و ارادہ سے کوئی بھی مخلوق خالی نہیں، کمی بیشی کا فرق ہے۔ انسان اور جن کو اللہ تعالیٰ نے عقل و شعور کا ایک کامل درجہ عطا فرمایا ہے اور اسی لئے ان کو احکام امر و نہی کا مکلف بنایا گیا ہے ان کے سوا باقی مخلوقات میں سے ہر نوع اور ہر صنف کو اس صنف کی ضروریات کے موافق عقل و شعور دیا گیا، انسان کے بعد سب سے زیادہ یہ عقل و شعور حیوانات میں ہے اس کے دوسرے نمبر میں نباتات ہیں، تیسرے میں جمادات ہیں۔ حیوانات کا عقل و شعور تو عام طور پر محسوس کیا جاتا ہے نباتات کا عقل و شعور بھی ذرا سا غور و تحقیق کرنے والا پہچان لیتا ہے لیکن جمادات کا عقل و شعور اتنا کم اور مخفی ہے کہ عام انسان اس کو نہیں پہچان سکتے۔ مگر ان کے خالق ومالک نے خبر دی ہے کہ وہ بھی عقل و شعور اور قصد و ارادے کے مالک ہیں۔ قرآن کریم نے آسمان و زمین کے بارے میں فرمایا ہے (آیت) قالتا اتینا طائعین، یعنی جب اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو حکم دیا کہ تم کو ہمارے تابع فرمان رہنا ہے اپنی خوشی سے فرمانبرداری اختیار کرو ورنہ جبراً اور حکماً تابع رہنا ہی ہے تو آسمان و زمین نے عرض کیا کہ ہم اپنے ارادے اور خوشی سے اطاعت و فرمانبرداری قبول کرتے ہیں اور دوسری جگہ پہاڑ کے پتھروں کے متعلق قرآن کریم کا ارشاد ہے وَاِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْـيَةِ اللّٰهِ ، یعنی بعض پتھر ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی خشیت و خوف کے مارے اوپر سے نیچے لڑھک جاتے ہیں۔ اسی طرح احادیث کثیرہ میں پہاڑوں کی باہم گفتگو اور دوسری مخلوقات میں عقل و شعور کی شہادتیں بکثرت ملتی ہیں۔ اس لئے اس آیت میں جس اطاعت و فرمانبرداری کو سجدہ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اس سے اطاعت اختیاری و ارادی مراد ہے اور معنے آیت کے یہ ہیں کہ نوع انسان کے علاوہ (جن کے ضمن میں جنات بھی داخل ہیں) باقی تمام مخلوقات اپنے قصد و اختیار سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز یعنی تابع فرمان ہیں صرف انسان اور جن ایسے ہیں جن میں دو حصے ہوگئے ایک مومن و مطیع سجدہ گزار دوسرے کافر و نافرمان سجدہ سے منحرف جن کو اللہ نے ذلیل کردیا ہے کہ ان کو سجدہ کی توفیق نہیں بخشی واللہ اعلم۔
Ayahs 22:19–22خلاصہ تفسیر
(جن کا ذکر اوپر آیت اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا میں ہوا ہے) یہ دو فریق ہیں (ایک مومن دوسرا کافر۔ پھر کافر گروہ کی کئی قسمیں ہیں۔ یہود، نصاریٰ ، صابئین، مجوس اور بت پرست) جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں (اعتقاد اور کبھی کبھی مباحثةً بھی) باہم اختلاف کیا (اس اختلاف کا فیصلہ قیامت میں اس طرح ہوگا کہ) جو لوگ کافر تھے ان کے (پہننے کے لئے) آگ کے کپڑے قطع کئے جاویں گے (یعنی آگ ان کے پورے بدن پر اس طرح محیط ہوگی جیسے لباس، اور ان کے سر کے اوپر سے تیز گرم پانی چھوڑا جاوے گا جس سے ان کے پیٹ کی چیزیں (یعنی آنتیں) اور کھالیں سب گل جاویں گی، (یعنی یہ کھولتا ہوا تیز پانی کچھ پیٹ کے اندر چلا جاوے گا جس سے آنتیں اور پیٹ کے اندر کے سب اجزاء اعضاء گل جاویں گے کچھ اوپر بہے گا جس سے کھال گل جاوے گی) اور ان کے (مارنے کے لئے) لوہے کے گرز ہوں گے (اور اس مصیبت سے کبھی نجات نہ ہوگی) وہ لوگ جب (دوزخ میں) گھٹے گھٹے (گھبرا جائیں گے اور) اس سے باہر نکلنا چاہیں گے تو پھر اسی میں دھکیل دیئے جاویں گے اور کہا جاوے گا کہ جلنے کا عذاب (ہمیشہ کے لئے) چکھتے رہو (کبھی نکلنا نصیب نہ ہوگا اور) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے (بہشت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان کو وہاں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جاویں گے اور پوشاک ان کی وہاں ریشم ہوگی اور (یہ سب انعام و اکرام ان کے لئے اس سبب سے ہے کہ دنیا میں ان کو) کلمہ طیب (کے اعتقاد) کی ہدایت ہوگئی تھی اور ان کو اس (خدا) کے رستہ کی ہدایت ہوگئی تھی جو لائق حمد ہے (وہ راستہ اسلام ہے)۔
معارف و مسائل
ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا، یہ دو فریق جن کا ذکر اس آیت میں ہے عام مومنین اور ان کے مقابلہ میں تمام گروہ کفار ہیں خواہ قرن اول کے ہوں یا قرون مابعد کے۔ البتہ نزول اس آیت کا ان دو فریق کے بارے میں ہوا ہے جو میدان بدر کے مبارزہ میں ایک دوسرے کے مقابل نبرد آزما ہوئے تھے مسلمانوں میں سے حضرت علی و حمزہ و عبیدہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور کفار میں سے عتبہ بن ربیعہ اور اس کا بیٹا ولید اور اس کا بھائی شیبہ تھے جن میں سے کفار تو تینوں مارے گئے اور مسلمانوں میں سے حضرت علی و حمزہ صحیح سالم واپس آئے اور عبیدہ شدید زخمی ہو کر آئے اور آنحضرت ﷺ کے قدموں میں پہنچ کر دم توڑ دیا۔ آیت کا نزول ان مبارزین بدر کے بارے میں ہونا بخاری و مسلم کی احادیث سے ثابت ہے لیکن یہ ظاہر ہے کہ یہ حکم ان کے ساتھ مخصوص نہیں پوری امت کیلئے عام ہے، کسی بھی زمانے میں ہو۔
Ayah 22:23اہل جنت کو کنگن پہنائے جانے کی حکمت
یہاں یہ شبہ ہوتا ہے کہ کنگن ہاتھوں میں پہننا عورتوں کا کام اور انہیں کا زیور ہے۔ مردوں کے لئے معیوب سمجھا جاتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ دنیا کے بادشاہوں کی یہ امتیازی شان رہی ہے کہ سر پر تاج اور ہاتھوں میں کنگن استعمال کرتے تھے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سراقہ بن مالک کو جبکہ وہ مسلمان نہیں تھے اور سفر ہجرت میں آپ کو گرفتار کرنے کے لئے تعاقب میں نکلے تھے، جب ان کا گھوڑا باذن خداوندی زمین میں دھنس گیا اور اس نے توبہ کی تو آنحضرت ﷺ کی دعا سے گھوڑا نکل گیا اس وقت سراقہ بن مالک سے وعدہ فرمایا تھا کہ کسریٰ شاہ فارس کے کنگن مال غنیمت میں مسلمانوں کے پاس آئیں گے وہ تمہیں دیئے جائیں گے اور جب فاروق اعظم کے زمانے میں فارس کا ملک فتح ہوا اور ایران کے یہ کنگن دوسرے اموال غنیمت کے ساتھ آئے تو سراقہ بن مالک نے مطالبہ کیا اور ان کو دے دیے گئے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جیسے سر پر تاج پہننا عام مردوں کا رواج نہیں، شاہی اعزاز ہے اسی طرح ہاتھوں میں کنگن بھی شاہی اعزاز سمجھے جاتے ہیں اس لئے اہل جنت کو کنگن پہنائے جائیں گے۔ کنگن کے متعلق اس آیت میں اور سورة فاطر میں تو یہ ہے کہ وہ سونے کے ہوں گے اور سورة دھر میں یہ کنگن چاندی کے بتلائے گئے ہیں اس لئے حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اہل جنت کے ہاتھوں میں تین طرح کے کنگن پہنائے جائیں گے ایک سونے کا، دوسرا چاندی کا تیسرا موتیوں کا جیسا کہ اس آیت میں موتیوں کا بھی ذکر موجود ہے۔ (قرطبی)
ریشم کے کپڑے مردوں کے لئے حرام ہیں
آیت مذکورہ میں ہے کہ اہل جنت کا لباس ریشم کا ہوگا مراد یہ ہے کہ ان کے تمام ملبوسات اور فرش اور پردے وغیرہ ریشم کے ہوں گے جو دنیا میں سب سے زیادہ بہتر لباس سمجھا جاتا ہے اور جنت کا ریشم ظاہر ہے کہ دنیا کے ریشم سے صرف نام کی شرکت رکھتا ہے ورنہ اس کی عمدگی اور بہتری کو اس سے کوئی مناسبت نہیں۔
امام نسائی اور بزار اور بیہقی نے بسند جید حضرت عبداللہ بن عمر سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل جنت کا ریشمی لباس جنت کے پھلوں میں سے نکلے گا اور حضرت جابر کی ایک روایت میں ہے کہ جنت میں ایک درخت ایسا ہوگا جس سے ریشم پیدا ہوگا اہل جنت کا لباس اسی سے تیار ہوگا (مظہری)
حدیث میں امام نسائی نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا
من لبس الحریر فی الدنیا لم یلبسہ فی الاخرة و من شرب الخمر فی الدنیا لم یشربھا فی الاخرة و من شرب فی انیة الذھب و الفضة لم یشرب فیھا فی الاخرة ثم قال رسول اللہ ﷺ لباس اھل الجنة و شراب اھل الجنة وانیة اھل الجنة (از قرطبی بحوالہ نسائی)
" جو شخص ریشمی کپڑا دنیا میں پہنے گا وہ آخرت میں نہ پہنے گا اور جو دنیا میں شراب پئے گا وہ آخرت کی شراب سے محروم رہے گا اور جو دنیا میں سونے چاندی کے برتنوں میں (کھائے) پئے گا وہ آخرت میں سونے چاندی کے برتنوں میں نہ کھائے گا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تینوں چیزیں اہل جنت کے لئے مخصوص ہیں "۔
مراد یہ ہے کہ جس شخص نے دنیا میں یہ کام کئے اور توبہ نہیں کی وہ جنت کی ان تین چیزوں سے محروم رہے گا اگرچہ جنت میں داخل بھی ہوجائے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے دنیا میں شراب پی، پھر اس سے توبہ نہیں کی وہ آخرت میں جنت کی شراب سے محروم رہے گا (رواہ الائمہ۔ قرطبی) نیز ایک دوسری حدیث میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
من لبس الحریر فی الدنیا لم یلبسہ فی الاخرة وان دخل الجنة لبسہ اھل الجنة و لم یلبسہ ھو رواہ ابو داؤد الطیالسی فی مسندہ و قال القرطبی اسنادہ صحیح۔
" جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں نہ پہنے گا اگرچہ جنت میں داخل بھی ہوجائے دوسرے اہل جنت ریشم پہنیں گے یہ نہیں پہن سکے گا "۔
یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ جب ایک شخص جنت میں داخل کرلیا گیا پھر اگر وہ کسی چیز سے محروم کیا گیا تو اس کو حسرت و افسوس رہے گا اور جنت اس کی جگہ نہیں۔ وہاں کسی شخص کو کسی کا غم و افسوس نہ ہونا چاہئے اور اگر یہ حسرت و افسوس نہ ہو تو پھر اس محرومی کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ اس کا جواب قرطبی نے اچھا دیا ہے کہ اہل جنت کے جس طرح مقامات اور درجات مختلف اور متفاوت اعلیٰ و ادنیٰ ہوں گے۔ ان کے تفاوت کا احساس بھی سب کو ہوگا مگر اس کے ساتھ ہی حق تعالیٰ شانہ اہل جنت کے قلوب ایسے بنا دے گا کہ ان میں حسرت و افسوس کسی چیز کا نہ رہے گا۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Ayah 22:24وَهُدُوْٓا اِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ ، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس سے مراد کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ ہے۔ بعض نے فرمایا قرآن مراد ہے (قرطبی) صحیح یہ ہے کہ یہ سب چیزیں اس میں داخل ہیں۔
Ayah 22:25خلاصہ تفسیر
بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور (مسلمانوں کو) اللہ کے راستہ سے اور مسجد حرام سے روکتے ہیں (تاکہ مسلمان عمرہ ادا نہ کرسکیں حالانکہ حرم کی حیثیت یہ ہے کہ اس میں کسی کی خصوصیت نہیں بلکہ) اس کو ہم نے تمام آدمیوں کے واسطے مقرر کیا ہے کہ اس میں سب برابر ہیں اس (حرم کے داخل حدود) میں رہنے والا بھی (یعنی جو لوگ وہاں مقیم ہیں) اور باہر سے آنے والا (مسافر) بھی اور جو کوئی اس میں (یعنی حرم شریف میں) ظلم کے ساتھ کوئی بےدینی کا کام کرنے کا ارادہ کرے گا تو ہم اس شخص کو عذاب درد ناک چکھا دیں گے۔
معارف و مسائل
پچھلی آیت میں مومنین اور کفار کے دو فریق کی باہمی مخاصمت کا ذکر تھا اسی مخاصمت کی ایک خاص صورت اس آیت میں بیان کی گئی ہے کہ ان میں بعض ایسے کفار بھی ہیں جو خود گمراہی پر جمے ہوئے ہیں دوسروں کو بھی اللہ کے راستہ پر چلنے سے روکتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں نے رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ کو جبکہ وہ عمرہ کا احرام باندھ کر حرم شریف میں داخل ہونا چاہتے تھے مسجد حرام میں داخل ہونے سے روک دیا حالانکہ مسجد حرام اور حرم شریف کا وہ حصہ جس سے لوگوں کی عبادت عمرہ و حج کا تعلق ہے ان کی ملک میں داخل نہیں تھا جس کی بنا پر ان کو مزاحمت اور مداخلت کا کوئی حق پہنچتا، بلکہ وہ سب لوگوں کے لئے یکساں ہے جہاں باشندگان حرم اور باہر کے مسافر اور شہری اور پردیسی سب برابر ہیں۔ آگے ان کی سزا کا ذکر ہے کہ جو شخص مسجد حرام (یعنی پورے حرم شریف) میں کوئی بےدینی کا کام کرے گا جیسے لوگوں کو حرم میں داخل ہونے سے روکنا یا دوسرا کوئی خلاف دین کام کرنا، اس کو عذاب درد ناک چکھایا جائے گا خصوصاً جبکہ اس بےدینی کے کام کے ساتھ ظلم یعنی شرک بھی ملا ہوا ہو جیسا کہ مشرکین مکہ کا حال تھا جنہوں نے مسلمانوں کو حرم میں داخل ہونے سے روکا کہ ان کا یہ عمل بھی خلاف دین ناروا تھا پھر اس کے ساتھ وہ کفر و شرک میں بھی مبتلا تھے۔ اور اگرچہ ہر خلاف دین کام خصوصاً شرک و کفر ہر جگہ ہر زمانے میں حرام اور انتہائی جرم و گناہ اور موجب عذاب ہے مگر جو ایسے کام حرم محترم کے اندر کرے اس کا جرم دوگنا ہوجاتا ہے اس لئے یہاں حرم کی تخصیص کر کے بیان کیا گیا ہے۔
وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ، سبیل اللہ سے مراد اسلام ہے معنے آیت کے یہ ہیں کہ یہ لوگ خود تو اسلام سے دور ہیں ہی دوسروں کو بھی اسلام سے روکتے ہیں۔
وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، یہ ان کا دوسرا گناہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔ مسجد حرام اصل میں اس مسجد کا نام ہے جو بیت اللہ کے گرد بنائی ہوئی ہے اور یہ حرم مکہ کا ایک اہم جزو ہے لیکن بعض مرتبہ مسجد حرام بول کر پورا حرم مکہ بھی مراد لیا جاتا ہے جیسے خود اسی واقعہ یعنی مسلمانوں کو عمرہ کے لئے حرم میں داخل ہونے سے روکنے کی جو صورت پیش آئی وہ یہی تھی کہ کفار مکہ نے آپ کو صرف مسجد میں جانے سے نہیں بلکہ حدود حرم مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور قرآن کریم نے اس واقعہ میں مسجد حرام کا لفظ بمعنے مطلق حرم استعمال فرمایا ہے وَصَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۔
تفسیر در منثور میں اس جگہ مسجد حرام کی تفسیر میں پورا حرم مراد ہونا حضرت ابن عباس سے روایت ہے۔
حرم مکہ میں سب مسلمانوں کے مساوی حق کا مطلب
اتنی بات پر تمام امت اور ائمہ فقہاء کا اتفاق ہے کہ مسجد حرام اور حرم شریف مکہ کے وہ تمام حصے جن سے افعال حج کا تعلق ہے جیسے صفا مروہ کے درمیان کا میدان جس میں سعی ہوتی ہے اور منیٰ کا پورا میدان اسی طرح عرفات کا پورا میدان اور مزدلفہ کا پورا میدان، یہ سب زمینیں سب دنیا کے مسلمانوں کے لئے وقف عام ہیں۔ کسی شخص کی ذاتی ملکیت ان پر نہ کبھی ہوئی ہے نہ ہو سکتی ہے۔ ان کے علاوہ مکہ مکرمہ کے عام مکانات اور باقی حرم کی زمینیں ان کے متعلق بھی بعض ائمہ فقہاء کا یہی قول ہے کہ وہ بھی وقف عام ہیں۔ ان کا فروخت کرنا یا کرایہ دینا حرام ہے ہر مسلمان ہر جگہ ٹھہر سکتا ہے مگر دوسرے فقہاء کا مختار مسلک یہ ہے کہ مکہ کے مکانات ملک خاص ہو سکتے ہیں ان کی خریدو فروخت اور ان کو کرایہ پر دینا جائز ہے۔ حضرت فاروق اعظم سے ثابت ہے کہ انہوں نے صفوان بن امیہ کا مکان مکہ مکرمہ میں خرید کر اس کو مجرموں کے لئے قید خانہ بنایا تھا۔ امام اعظم ابوحنیفہ سے اس میں دو روایتیں منقول ہیں ایک پہلے قول کے مطابق دوسری دوسرے قول کے مطابق اور فتویٰ دوسرے قول پر ہے۔ کذا فی روح المعانی۔ یہ بحث کتب فقہ میں مفصل مذکور ہے مگر اس آیت میں حرم کے جن حصوں سے روکنے کا ذکر ہے وہ حصے بہرحال سب کے نزدیک وقف عام ہیں ان سے روکنا حرام ہے آیت مذکورہ سے اسی کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔
وَمَنْ يُّرِدْ فِيْهِ بِاِلْحَادٍۢ بِظُلْمٍ ، الحاد کے معنے لغت میں سیدھے راستے سے ہٹ جانے کے ہیں۔ اس جگہ الحاد سے مراد مجاہد و قتادہ کے نزدیک کفر و شرک ہے مگر دوسرے مفسرین نے اس کو اپنے عام معنے میں قرار دیا ہے جس میں ہر گناہ اور اللہ و رسول کی نافرمانی داخل ہے یہاں تک کہ اپنے خادم کو گالی دینا برا کہنا بھی۔ اور اسی معنے کے لحاظ سے حضرت عطاء نے فرمایا کہ حرم میں الحاد سے مراد اس میں بغیر احرام کے داخل ہوجانا یا ممنوعات حرم میں سے کسی ممنوع چیز کا ارتکاب کرنا ہے جیسے حرم کا شکار مارنا یا اس کا درخت کاٹنا وغیرہ۔ اور جو چیزیں شریعت میں ممنوع ناجائز ہیں وہ سبھی جگہ گناہ اور موجب عذاب ہیں حرم کی تخصیص اس بناء پر کی گئی کہ جس طرح حرم مکہ میں نیکی کا ثواب بہت بڑھ جاتا ہے اسی طرح گناہ کا عذاب بھی بہت بڑھ جاتا ہے (قالہ مجاہد) اور حضرت عبداللہ بن مسعود سے اس کی ایک تفسیر یہ بھی منقول ہے کہ حرم کے علاوہ دوسری جگہوں میں محض گناہ کا ارادہ کرنے سے گناہ نہیں لکھا جاتا جب تک عمل نہ کرے اور حرم میں صرف ارادہ پختہ کرلینے پر بھی گناہ لکھا جاتا ہے۔ قرطبی نے یہی تفسیر ابن عمر سے بھی نقل کی ہے اور اس تفسیر کو صحیح کہا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر حج کے لئے جاتے تو دو خیمے لگاتے تھے ایک حرم کے اندر دوسرا باہر۔ حرم میں اگر اپنے اہل و عیال یا خدام و متعلقین میں کسی کو کسی بات پر سرزنش اور عتاب کرنا ہوتا تو حرم سے باہر والے خیمے میں جا کر یہ کام کرتے تھے۔ لوگوں نے مصلحت دریافت کی تو فرمایا ہم سے یہ بیان کیا جاتا تھا کہ انسان جو عتاب و ناراضی کے وقت کلا واللہ یا بلی واللہ کے الفاظ بولتا ہے یہ بھی الحاد فی الحرم میں داخل ہے۔ (مظہری)
Ayah 22:26خلاصہ تفسیر
اور (اس قصہ کا تذکرہ کیجئے) جب کہ ہم نے ابراہیم ؑ کو خانہ کعبہ کی جگہ بتلا دی (کیونکہ اس وقت خانہ کعبہ بنا ہوا نہ تھا اور حکم دیا) کہ (اس مکان کو عبادت کے لئے تیار کرو اور اس عبادت میں) میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا (یہ دراصل ان کے بعد کے لوگوں کو سنانا تھا اور بناء بیت اللہ کے ساتھ شرک کی ممانعت کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ بیت اللہ کی طرف نماز اور اس کا طواف کرنے سے کسی جاہل کو یہ شبہ نہ ہوجائے کہ یہی معبود ہے) اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے اور (نماز میں) قیام اور رکوع و سجود کرنے والوں کے واسطے (ظاہری اور باطنی نجاسات یعنی کفر و شرک سے) پاک رکھنا (یہ بھی دراصل دوسروں کو سنانا تھا ابراہیم ؑ سے تو اس کے خلاف کا احتمال ہی نہ تھا) اور (ابراہیم ؑ سے یہ بھی کہا گیا کہ) لوگوں میں حج (کے فرض ہونے) کا اعلان کردو (اس اعلان سے) لوگ تمہارے پاس (یعنی تمہاری اس مقدس عمارت کے پاس) چلے آئیں گے پیادہ بھی اور (طول سفر کی وجہ سے دبلی ہوجانے والی) اونٹنیوں پر بھی جو کہ دور دراز راستوں سے پہنچی ہوں گی (اور وہ لوگ اس لئے آویں گے) تاکہ اپنے (اپنے دینی اور دنیوی) فوائد کیلئے حاضر ہوجاویں (دینی فوائد تو معلوم و مشہور ہیں دنیوی فوائد بھی اگر مقصود نہ ہوں مثلاً خریدو فروخت اور قربانی کا گوشت وغیرہ تو یہ بھی کوئی مذموم نہیں) اور (اس لئے آویں گے) تاکہ ایام مقررہ میں (جو قربانی کے ایام دسویں سے بارہویں ذی الحجہ تک ہیں) ان مخصوص چوپاؤں پر (یعنی قربانی کے جانوروں پر ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیں جو خدا تعالیٰ نے ان کو عطا کئے ہیں (ابراہیم ؑ کے خطاب کا مضمون ہوچکا آگے امت محمدیہ مخاطب ہے) ان (قربانی کے) جانوروں میں سے تم بھی کھایا کرو۔ (کہ یہ جائز ہے اور مستحب یہ ہے کہ) مصیبت زدہ محتاج کو بھی کھلایا کرو پھر (قربانی کے بعد) لوگوں کو چاہئے کہ اپنا میل کچیل دور کریں (یعنی احرام کھول ڈالیں سر منڈا لیں) اور اپنے واجبات کو (خواہ نذر سے قربانی وغیرہ واجب کرلی ہو یا بلا نذر جو افعال حج کے واجب ہیں ان سب کو پورا کریں اور (انہی ایام معلومات میں) اس مامون و محفوظ گھر (یعنی بیت اللہ) کا طواف کریں (یہ طواف زیارت کہلاتا ہے)۔
معارف و مسائل
اس سے پہلی آیت میں مسجد حرام اور حرم سے روکنے والوں پر عذاب شدید کی وعید آئی ہے آگے اس کی مناسبت سے بیت اللہ کے خاص فضائل اور عظمت کا بیان ہے جس سے ان کے فعل کی قباحت اور زیادہ واضح ہوجائے۔
بناء بیت اللہ کی ابتدا
وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ ، بوء کا لفظ لغت میں کسی کو ٹھکانا اور رہنے کا مکان دینے کے معنے میں آتا ہے۔ معنے آیت کے یہ ہیں کہ یہ بات قابل ذکر اور یاد رکھنے کی ہے کہ ہم نے ابراہیم ؑ کو اس جگہ کا ٹھکانا دیا جہاں بیت اللہ ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ پہلے سے اس زمین پر آباد نہ تھے جیسا کہ روایات سے ثابت ہے کہ ان کو ملک شام سے ہجرت کرا کر یہاں لایا گیا تھا۔ اور مکان البیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ بیت اللہ حضرت ابراہیم ؑ سے پہلے موجود تھا جیسا کہ معتبر روایات میں ہے کہ اس کی پہلی بناء تو حضرت آدم ؑ کے زمین پر لانے سے پہلے یا اس کے ساتھ ہوئی تھی اور آدم ؑ اور ان کے بعد کے انبیاء بیت اللہ کا طواف کرتے تھے۔ حضرت نوح ؑ کے طوفان کے وقت بیت اللہ کی تعمیر اٹھا لی گئی تھی بنیادیں اور اس کی معین جگہ موجود تھی۔ حضرت ابراہیم ؑ کو یہیں لا کر ٹھہرایا گیا اور ان کو حکم دیا گیا اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا، یعنی میری عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ سے شرک کرنے کا کوئی احتمال نہیں۔ ان کی بت شکنی اور شرک کرنے والوں کا مقابلہ اور اس میں سخت ترین آزمائش کے واقعات پہلے ہوچکے تھے اس لئے مراد اس سے عام لوگوں کو سنانا ہے کہ شرک سے پرہیز کریں۔ دوسرا حکم یہ دیا گیا وّطَهِّرْ بَيْتِيَ (یعنی میرے گھر کو پاک کیجئے) اس وقت اگرچہ گھر موجود نہیں تھا مگر بیت اللہ دراصل در و دیوار اور تعمیر کا نام نہیں، وہ اس بقعہ مقدسہ کا نام ہے جس میں بیت اللہ پہلے بنایا گیا تھا اور اب دوبارہ بنانے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ وہ بقعہ اور مکان بہرحال موجود تھا اس کو پاک کرنے کا حکم اس لئے دیا گیا کہ اس زمانے میں بھی قوم جرہم اور عمالقہ نے یہاں کچھ بت رکھے ہوئے تھے جن کی پوجا پاٹ ہوتی تھی (ذکرہ القرطبی) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ حکم آئندہ آنے والوں کو سنانا ہو اور پاک کرنے سے مراد جیسے کفر و شرک سے پاک رکھنا ہے ایسے ہی ظاہری نجاسات اور گندگیوں سے پاک رکھنا بھی مراد ہے اور ابراہیم ؑ کو اس کا خطاب کرنے سے دوسرے لوگوں کو اہتمام کی فکر دلانا مقصود ہے کہ جب خلیل اللہ کو اس کا حکم ہوا جو خود ہی اس پر عامل تھے تو ہمیں اس کا اہتمام کتنا کرنا چاہئے۔
Ayah 22:27تیسرا حکم حضرت ابراہیم ؑ کو یہ دیا گیا کہ وَاَذِّنْ فِي النَّاس بالْحَجِّ ، یعنی لوگوں میں اعلان کر دیجئے کہ اس بیت اللہ کا حج تم پر فرض کردیا گیا ہے۔ بغوی۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ جب ابراہیم ؑ کو فرضیت حج کے اعلان کا حکم ہوا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ (یہاں تو جنگلی میدان ہے کوئی سننے والا نہیں) جہاں آبادی ہے وہاں میری آواز کیسے پہنچے گی ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کی ذمہ داری صرف اعلان کرنے کی ہے اس کے ساری دنیا میں پہنچانے اور پھیلانے کی ذمہ داری ہم پر ہے۔ ابراہیم ؑ نے مقام ابراہیم پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا جس کو اللہ تعالیٰ نے بہت اونچا کردیا اور بعض روایات میں ہے کہ آپ نے جبل ابی قبیس پر چڑھ کر یہ اعلان کیا، کانوں میں انگلیاں رکھ کر داہنے اور بائیں اور شرقاً و غرباً ہر طرف یہ ندا دی کہ اے لوگو تمہارے رب نے اپنا بیت بنایا ہے اور تم پر اس بیت کا حج فرض کیا ہے تو تم سب اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرو۔
اس روایت میں یہ بھی ہے کہ ابراہیم ؑ کی یہ آواز اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا میں پہنچا دی اور صرف اس وقت کے زندہ انسانوں تک ہی نہیں بلکہ جو انسان آئندہ تا قیامت پیدا ہونے والے تھے بطور معجزہ ان سب تک یہ آواز پہنچا دی گئی اور جس جس کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے حج کرنا لکھ دیا ہے ان میں سے ہر ایک نے اس آواز کے جواب میں لبیک اللہم لبیک کہا یعنی حاضر ہونے کا اقرار کیا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ حج کے تلبیہ کی اصل بنیاد یہی ندا ابراہیمی کا جواب ہے۔ (قرطبی و مظہری)
آگے آیت میں اس تاثیر کا ذکر ہے جو ابراہیم ؑ کے اعلان کو تمام انسانوں تک منجانب اللہ پہنچانے سے قیامت تک کے لئے قائم ہوگئی وہ یہ ہے يَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّعَلٰي كُلِّ ضَامِرٍ يَّاْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ ، یعنی اطراف عالم سے لوگ بیت اللہ کی طرف چلے آویں گے کوئی پیادہ کوئی سوار، اور سواری سے آنے والے بھی دور دراز ملکوں سے آئیں گے جس سے ان کی سواریاں بھی لاغر ہوجائیں گی۔ چناچہ اس وقت سے آج تک کہ ہزارہا سال گزر چکے ہیں بیت اللہ کی طرف حج کے لئے آنے والوں کی یہی کیفیت ہے۔ بعد میں آنے والے سب انبیاء اور ان کی امتیں بھی اس کی پابند رہیں اور عیسیٰ ؑ کے بعد طویل دور جاہلیت کا گزرا ہے اس میں بھی عرب کے باشندے اگرچہ بت پرستی کی بلاء میں مبتلا ہوگئے تھے مگر حج کے ارکان کے اسی طرح پابند تھے جس طرح ابراہیم ؑ سے منقول و ماثور چلا آتا تھا۔