Ayah 22:60خلاصہ تفسیر
یہ (مضمون تو) ہوچکا اور (آگے یہ سنو کہ) جو شخص (دشمن کو) اسی قدر تکلیف پہنچا دے جس قدر (دشمن کی طرف سے) اس کو تکلیف پہنچائی گئی تھی پھر (اس برابر سرابر ہوجانے کے بعد اگر اس دشمن کی طرف سے) اس شخص پر زیادتی کی جاوے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی ضرور امداد کرے گا بیشک اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا بہت مغفرت کرنے والا ہے۔
معارف و مسائل
چند آیات پہلے یہ مضمون مذکور ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ مظلوم کی مدد کرتا ہے ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰي نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُ مگر مظلوم کی دو قسم ہیں ایک تو وہ جس نے دشمن سے ظلم کا کوئی انتقام اور بدلہ لیا ہی نہیں بلکہ معاف کردیا یا چھوڑ دیا۔ دوسرا وہ شخص جس نے اپنے دشمن سے برابر سرابر بدلہ اور انتقام لے لیا جس کا مقتضی یہ تھا کہ اب دونوں برابر ہوگئے آگے یہ سلسلہ ختم ہو مگر دشمن نے اس کے انتقام لینے کی بنا پر مشتعل ہو کر دوبارہ حملہ کردیا اور مزید ظلم کیا تو یہ شخص پھر مظلوم ہی رہ گیا۔ اس آیت میں اس دوسری قسم کے مظلوم کی امداد کا بھی وعدہ ہے مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسند یہ ہے کہ آدمی پہلے ہی ظلم پر صبر کرے اور معاف کر دے انتقام نہ لے جیسا کہ بہت سی آیات میں اس کا ذکر ہے مثلاً فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَي اللّٰهِ اور وَاَنْ تَعْفُوْٓا اَقْرَبُ للتَّقْوٰى اور وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ ، ان سب آیات میں ترغیب اس کی دی گئی ہے کہ ظلم کا بدلہ نہ لے بلکہ معاف کر دے اور صبر کرے۔ قرآن کریم کی ان ہدایات سے اسی طرز کا افضل و اولیٰ ہونا ثابت ہوا۔ شخص مذکور جس نے اپنے دشمن سے برابر کا بدلہ لے لیا اس نے اس افضل و اولیٰ اور قرآنی ہدایات مذکورہ پر عمل ترک کردیا تو اس سے شبہ ہوسکتا تھا کہ اب یہ شاید اللہ کی نصرت سے محروم ہوجائے اس لئے آخر آیت میں ارشاد فرما دیا اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ، یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص کی اس کوتاہی پر کہ افضل و اولیٰ پر عمل نہیں کیا اس سے کوئی مواخذہ نہیں فرمائے گا بلکہ اب بھی اگر مخالف نے اس پر دوبارہ ظلم کردیا تو اس کی امداد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگی۔ (روح المعانی)
Ayahs 22:61–64خلاصہ تفسیر
یہ (مومنین کا غالب کردینا) کہ اللہ تعالیٰ (کی قدرت بڑی کامل ہے وہ) رات (کے اجزاء) کو دن میں اور دن (کے اجزاء) کو رات میں داخل کردیتا ہے (یہ کائناتی انقلاب ایک قوم کو دوسری پر غالب کرنے والے انقلاب سے زیادہ عجیب ہے) اور اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ (ان سب کے اقوال و احوال کو) خوب سننے والا اور خوب دیکھنے والا ہے (وہ کفار کے ظلم اور مومنین کی مظلومیت کو سنتا دیکھتا ہے اس لئے وہ سب حالات سے باخبر بھی ہے اور قوت وقدرت بھی اس کی سب سے بڑی ہے یہ مجموعہ سبب ہوگیا کمزوروں کو غالب کرنے کا) اور (نیز) یہ (نصرت) اس سبب سے (یقینی) ہے کہ (اس میں کسی طاقت کی مجال نہیں جو اس میں اللہ تعالیٰ کی مزاحمت کرے کیونکہ) اللہ ہی ہستی میں کامل ہے اور جن چیزوں کی اللہ کے سوا یہ لوگ عبادت کر رہے وہ ہی لچر ہیں۔ (کہ وہ خود اپنے وجود میں محتاج بھی ہیں کمزور بھی وہ کیا اللہ کی مزاحمت کرسکتے ہیں) اور اللہ ہی عالیشان سب سے بڑا ہے (اس میں غور کرنے سے توحید کا حق ہونا اور شرک کا باطل ہونا ہر شخص سمجھ سکتا ہے اس کے علاوہ) کیا تجھ کو خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا جس سے زمین سرسبز ہوگئی (پھر) بیشک اللہ تعالیٰ بہت مہربان سب باتوں کی خبر رکھنے والا ہے (اس لئے بندوں کی ضرورتوں پر مطلع ہو کر ان کے مناسب مہربانی فرماتا ہے) سب اسی کا جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ ہی ایسا ہے جو کسی کا محتاج نہیں ہر طرح کی تعریف کے لائق ہے (اور اے مخاطب) کیا تجھ کو خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے کام میں لگا رکھا ہے زمین کی چیزوں کو اور کشتی کو (بھی) کہ وہ دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہے اور وہی آسمانوں کو زمین پر گرنے سے تھامے ہوئے ہے ہاں مگر یہ کہ اسی کا حکم ہوجاوے (تو یہ سب کچھ ہوسکتا ہے اور بندوں کے گناہ اور برے اعمال اگرچہ ایسا حکم ہوجانے کے مقتضی ہیں مگر پھر بھی جو ایسا حکم نہیں دیتا تو وجہ یہ ہے کہ) بالیقین اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑی شفقت اور رحمت فرمانے والا ہے اور وہی ہے جس نے تم کو زندگی دی پھر (وقت موعود پر) تم کو موت دے گا پھر (قیامت میں) تم کو زندہ کرے گا (ان انعامات و احسانات کا تقاضا تھا کہ لوگ توحید اور اللہ کے شکر کو اختیار کرتے مگر) واقعی انسان ہے بڑا ناشکر (کہ اب بھی کفر و شرک سے باز نہیں آتا۔ مراد سب انسان نہیں بلکہ وہی جو اس ناشکری میں مبتلا ہوں)۔
Ayahs 22:65–66معارف و مسائل
سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ ، یعنی زمین کی سب چیزوں کو انسان کا مسخر بنادیا۔ مسخر بنانے کے ظاہری اور عام معنے یہ سمجھے جاتے ہیں کہ وہ اس کے حکم کے تابع چلے۔ اس معنے کے لحاظ سے یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ زمین کے پہاڑ اور دریا اور درندے پرندے اور ہزاروں چیزیں انسان کے حکم کے تابع تو نہیں چلتے مگر کسی چیز کو کسی شخص کی خدمت میں لگا دینا جو ہر وقت یہ خدمت انجام دیتی رہے یہ بھی درحقیقت اس کے لئے تسخیر ہی ہے اگرچہ وہ اس کے حکم سے نہیں بلکہ مالک حقیقی کے حکم سے یہ خدمت انجام دے رہی ہے۔ اسی لئے یہاں ترجمہ تسخیر کا کام میں لگا دینے سے کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں یہ بھی تھا کہ ان سب چیزوں کو انسان کا تابع حکم بھی بنا دیتے مگر اس کا نتیجہ خود انسان کے حق میں مضر پڑتا، کیونکہ انسانوں کی طبائع، خواہشات اور ضرورتیں مختلف ہوتی ہیں ایک انسان دریا کو اپنا رخ دوسری طرف موڑنے کا حکم دیتا اور دوسرا اس کے خلاف تو انجام بجز فساد کے کیا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لئے ان سب چیزوں کو تابع حکم تو اپنا ہی رکھا مگر تسخیر کا جو اصل فائدہ تھا وہ انسان کو پہنچا دیا۔
Ayahs 22:67–70خلاصہ تفسیر
(جتنی امتیں اہل شرائع گزری ہیں ان میں) ہم نے ہر امت کے واسطے ذبح کرنے کا طریق مقرر کیا ہے کہ وہ اسی طریقہ پر ذبح کیا کرتے تھے تو (اعتراض کرنے والے) لوگوں کو چاہئے کہ اس امر (ذبح) میں آپ سے جھگڑا نہ کریں (ان کو تو آپ سے بحث اور جھگڑا کرنے کا حق نہیں مگر آپ کو حق ہے اس لئے) آپ (ان کو) اپنے رب (یعنی اس کے دین) کی طرف بلاتے رہے آپ یقینا صحیح راستہ پر ہیں۔ (صحیح راستہ پر چلنے والے کو حق ہوتا ہے کہ غلط راستے پر چلنے والے کو اپنی طرف بلائے غلط راستہ والے کو یہ حق نہیں ہوتا) اور اگر (اس پر بھی) یہ لوگ آپ سے جھگڑا کرتے رہیں تو آپ یہ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو خوب جانتا ہے (وہی تم کو سمجھے گا آگے اسی کی توضیح یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان قیامت کے دن (عملی) فیصلہ فرما دے گا جن چیزوں میں تم اختلاف کرتے تھے (آگے اسی کی تائید ہے کہ) اے مخاطب کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ سب چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے (اور علم الٰہی میں محفوظ ہونے کے ساتھ یہ بھی) یقینی بات ہے کہ یہ (یعنی ان کے سب اقوال و اعمال) نامہ اعمال میں (بھی محفوظ) ہے (پس) یقینا (ثابت ہوگیا کہ) یہ (فیصلہ کرنا) اللہ تعالیٰ کے نزدیک آسان ہے۔
معارف و مسائل
لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا، یہی مضمون تقریباً انہیں الفاظ کے ساتھ اسی سورت کی آیت نمبر 34 میں گزر چکا ہے مگر دونوں جگہ لفظ منسک کے معنے اور مراد میں فرق ہے۔ وہاں نسک اور منسک قربانی کے معنے میں بضمن احکام حج آیا تھا اور اس لئے وہاں واؤ کے ساتھ وَلِكُلِّ اُمَّةٍ فرمایا گیا۔ یہاں منسک کے دوسرے معنے (یعنی احکام ذبائح یا علم احکام شرعیہ) اور دوسرا مفہوم مراد ہے اور یہ ایک مستقل حکم ہے اس لئے اس کو عطف کر کے نہیں بیان کیا گیا۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک قول تو وہ ہے جو خلاصہ تفسیر میں لیا گیا ہے کہ بعض کفار مسلمانوں سے ان کے ذبائح کے متعلق فضول بحث وجدال کرتے تھے اور کہتے تھے کہ تمہارے مذہب کا یہ حکم عجیب ہے کہ جس جانور کو تم خود اپنے ہاتھ سے قتل کرو وہ تو حلال اور جس کو اللہ تعالیٰ براہ راست مار دے یعنی عام مردار جانور وہ حرام۔ ان کے اس جدال کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی (کما رواہ الحاکم و صححہ و البیہقی فی الشعب عن علی بن حسن و ابن عباس انہا نزلت بسبب قول الخزاعیین، روح المعانی) تو یہاں منسک کے معنی طریقہ ذبح کے ہوں گے اور حاصل جواب کا یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک امت اور شریعت کے لئے ذبیحہ کے احکام الگ الگ رکھے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی شریعت ایک مستقل شریعت ہے اس کے احکام کا معارضہ کسی پہلی شریعت کے احکام سے کرنا بھی جائز نہیں چہ جائیکہ تم اس کا معارضہ خالص اپنی رائے اور خیال باطل سے کر رہے ہو یعنی مردار جانور کا حلال نہ ہونا تو اس امت و شریعت کے ساتھ مخصوص نہیں سب پچھلی شریعتوں میں بھی حرام رہا ہے تو تمہارا یہ قول تو بالکل ہی بےبنیاد ہے اس بےبنیاد خیال کی بنا پر صاحب شریعت نبی سے مجادلہ اور معارضہ کرنا حماقت ہی حماقت ہے (ہکذا بین فی روح المعانی معنی الایة) اور جمہور مفسرین نے اس جگہ لفظ منسک عام احکام شریعت کے معنے میں لیا ہے کیونکہ اصل لغت میں منسک کے معنی ایک معین جگہ کے ہیں جو کسی خاص عمل خیر یا شر کے لئے مقرر ہو اور اسی لئے احکام حج کو مناسک الحج کہا جاتا ہے کہ ان میں خاص خاص مقامات خاص احکام و اعمال کے لئے مقرر ہیں (ابن کثیر) اور قاموس میں لفظ نسک کے معنی عبادت کے لکھے ہیں قرآن میں اَرِنَا مَنَاسِكَنَا اسی معنے کے لئے آیا ہے مناسک سے مراد عبادت کے احکام شرعیہ ہیں۔ حضرت ابن عباس سے یہ دوسری تفسیر بھی روایت کی گئی ہے۔ ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی، روح المعانی وغیرہ میں اسی معنی عام کی تفسیر کو اختیار کیا گیا ہے اور آیت کا سیاق وسباق بھی اسی کا قرینہ ہے کہ منسک سے مراد شریعت اور اس کے احکام عام ہیں اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ مشرکین اور مخالفین اسلام جو شریعت محمدیہ کے احکام میں جدال اور جھگڑے کرتے ہیں اور بنیاد یہ ہوتی ہے کہ ان کے آبائی مذہب میں وہ احکام نہ تھے تو وہ سن لیں کہ پچھلی کسی شریعت و کتاب سے نئی شریعت و کتاب کا معارضہ مجادلہ کرنا باطل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر امت کو اس کے وقت میں ایک خاص شریعت اور کتاب دی ہے جس کا اتباع اس امت پر اس وقت تک درست تھا جب تک کوئی دوسری امت اور دوسری شریعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ آگئی۔ اور جب دوسری شریعت آگئی تو اتباع اس جدید شریعت کا کرنا ہے اگر اس کا کوئی حکم پہلی شریعتوں کے مخالف ہے تو پہلے حکم کو منسوخ اور اس کو ناسخ سمجھا جائے گا اس لئے اس صاحب شریعت سے کسی کو مجادلہ اور منازعت کی اجازت نہیں ہو سکتی۔ آیت کے آخری الفاظ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْاَمْرِ کا یہی حاصل ہے کہ موجودہ زمانہ میں جبکہ خاتم الانبیاء ﷺ ایک مستقل شریعت لے کر آگئے تو کسی کو اس کا حق نہیں کہ ان کی شریعت کے احکام میں جدال اور نزاع پیدا کرے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ پہلی تفسیر اور اس دوسری تفسیر میں درحقیقت کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا ہے کہ آیت کا نزول کسی خاص نزاع دربارہ ذبائح کے سبب سے ہوا ہو مگر آیت کے عام الفاظ تمام احکام شرعیہ پر مشتمل ہیں اور اعتبار عموم لفظ کا ہوتا ہے خصوص مورد کا نہیں ہوتا۔ تو حاصل دونوں تفسیروں کا یہی ہوجائے گا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہر امت کو الگ الگ شریعت دی ہے جن میں احکام جزئیہ مختلف بھی ہوتے ہیں تو کسی پچھلی شریعت پر عمل کرنے والے کو نئی شریعت سے معارضہ اور نزاع کا کوئی حق نہیں بلکہ اس پر اس نئی شریعت کا اتباع واجب ہے اسی لئے آخر آیت میں فرمایا گیا، وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ ۭ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِيْمٍ ، یعنی آپ ان لوگوں کی چہ میگوئیوں اور نزاع وجدال سے متاثر نہ ہوں بلکہ برابر اپنے منصبی فریضہ دعوت الی الحق میں مشغول رہیں کیونکہ آپ حق اور صراط مستقیم پر ہیں آپ کے مخالف ہی راستہ سے ہٹے ہوئے ہیں۔
ایک شبہ کا جواب
اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ شریعت محمدیہ کے نزول کے بعد کسی پہلی شریعت پر ایمان رکھنے والے مثلاً یہودی نصرانی وغیرہ کو یہ کہنے کا حق نہیں کہ خود قرآن نے ہمارے لئے اس آیت میں یہ کہہ کر گنجائش دی ہے کہ ہر شریعت اللہ ہی کی طرف سے ہے اس لئے اگر زمانہ اسلام میں بھی ہم شریعت موسویہ یا عیسویہ پر عمل کرتے رہیں تو مسلمانوں کو ہم سے اختلاف نہ کرنا چاہئے کیونکہ آیت میں ہر امت کو شریعت خاصہ دینے کا ذکر کرنے کے بعد پوری دنیا کے لوگوں کو یہ حکم بھی دے دیا گیا ہے کہ شریعت محمدیہ کے قائم ہوجانے کے بعد وہ اس شریعت کی مخالفت نہ کریں۔ یہ نہیں فرمایا کہ مسلمان ان کی سابقہ شریعت کے کسی حکم کے خلاف نہ بولیں اور اس آیت کے بعد کی آیات سے یہ مضمون اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے جن میں شریعت اسلام کے خلاف مجادلہ کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ان حرکتوں کو خوب جانتا ہے وہی اس کی سزا دے گا۔ وَاِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔
Ayahs 22:71–72خلاصہ تفسیر
اور یہ (مشرک) لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن (کے جواز عبادت) پر اللہ تعالیٰ نے کوئی حجت (اپنی کتاب میں) نہیں بھیجی اور نہ ان کے پاس اس کی کوئی (عقلی) دلیل ہے اور (قیامت میں) جب (ان کو شرک پر سزا ہونے لگے گی تو) ان ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا (نہ قولاً کہ ان کے فعل کے استحسان پر کوئی حجت پیش کرسکے نہ عملاً کہ ان کو عذاب سے بچا لے) اور (ان لوگوں کو اسی گمراہی اور اہل حق سے عناد رکھنے میں یہاں تک غلو ہے کہ) جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں (متعلق توحید وغیرہ کے) جو کہ (اپنے مضامین میں) خوب واضح ہیں (اہل حق کی زبان سے) پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو تم کافروں کے چہروں میں (بوجہ ناگواری باطنی کے) برے آثار دیکھتے ہو (جیسے چہرے پر بل پڑجانا، ناک چڑھ جانا، تیور بدل جانا اور ان آثار سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) قریب ہے کہ ان لوگوں پر (اب) حملہ کر بیٹھیں (گے) جو ہماری آیتیں ان کے سامنے پڑھ رہے ہیں یعنی حملہ کا شبہ ہمیشہ ہوتا ہے اور گاہ گاہ اس حملہ کا تحقق بھی ہوا ہے پس يَكَادُوْنَ استمرار کے اعتبار سے فرمایا) آپ (ان مشرکین سے) کہیئے کہ (تم کو جو یہ آیات قرآنیہ سن کر ناگواری ہوئی تو) کیا میں تم کو اس (قرآن) سے (بھی) زیادہ ناگوار چیز بتلا دوں وہ دوزخ ہے (کہ) اس کا اللہ تعالیٰ نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے (یعنی قرآن سے ناگواری کا نتیجہ ناگوار دوزخ ہے اس ناگواری کا تو غیظ سے غضب سے انتقام سے کچھ تدارک بھی کرلیتے ہو مگر اس ناگواری کا کیا علاج کرو گے جو دوزخ سے ہوگی۔ آگے ایک بدیہی دلیل سے شرک کا ابطال ہے کہ) اے لوگو ایک عجیب بات بیان کی جاتی ہے اس کو کان لگا کر سنو (وہ یہ ہے کہ) اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جن کی تم لوگ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو وہ ایک (ادنیٰ) مکھی کو تو پیدا کر ہی نہیں سکتے گو سب کے سب بھی (کیوں نہ) جمع ہوجاویں اور (پیدا کرنا تو بڑی بات ہے وہ تو ایسے عاجز ہیں کہ) اگر ان سے مکھی کچھ (ان کے چڑھاوے میں سے) چھین لے جائے تو اس کو (تو) اس سے چھڑا (ہی) نہیں سکتے ایسا عابد بھی لچر اور ایسا معبود بھی لچر (افسوس ہے) ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی جیسی تعظیم کرنا چاہئے تھی (کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرتے) وہ نہ کی (کہ شرک کرنے لگے حالانکہ) اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا سب پر غالب ہے۔ (تو عبادت اس کا خالص حق تھا نہ کہ غیر قوی اور غیر عزیز کا جس کی عدم قوت باوضح وجوہ معلوم ہوچکی۔
Ayah 22:73معارف و مسائل
شرک و بت پرستی کی احمقانہ حرکت کی ایک مثال سے توضیح
ضُرِبَ مَثَلٌ، ضرب مثل کا لفظ عام طور پر جو کسی خاص قصہ کی تمثیل کے لئے استعمال ہوتا ہے یہاں ضرب مثل سے یہ صورت مراد نہیں بلکہ شرک و بت پرستی کی حماقت کو ایک واضح مثال سے بیان کرنا ہے کہ یہ بت جن کو تم لوگ اپنا کارساز سمجھتے ہو یہ تو ایسے بیکس بےبس ہیں کہ سب ملا کر ایک مکھی جیسی حقیر چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے اور پیدا کرنا تو بڑا کام ہے تم روز ان کے سامنے مٹھائی اور پھل وغیرہ کھانے کی چیزیں رکھتے ہو اور مکھیاں اس کو کھا جاتی ہیں، ان سے اتنا تو ہوتا نہیں کہ مکھیوں سے اپنی چیز ہی کو بچا لیں یہ تمہیں کسی آفت سے کیا بچائیں گے اسی لئے آخر آیت میں ان کی جہالت اور بیوقوفی کو ان الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ یعنی جس کا معبود ہی ایسا بےبس ہو اس کا عابد اس سے بھی زیادہ کمزور ہوگا۔
Ayah 22:74مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ یعنی کیسے بیوقوف احسان فراموش ہیں ان لوگوں نے اللہ کی کچھ قدر نہ پہچانی کہ ایسے عظیم الشان قدرت والے کے ساتھ ایسے بےبس بےشعور پتھروں کو برابر کردیا۔ واللہ اعلم
Ayahs 22:75–76خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ (کو اختیار ہے رسالت کے لئے جس کو چاہتا ہے) منتخب کرلیتا ہے فرشتوں میں سے (جن فرشتوں کو چاہے) احکام (الٰہیہ نبیوں کے پاس) پہنچانے والے (مقرر فرما دیتا ہے) اور (اسی طرح) آدمیوں میں سے بھی جس کو چاہے عامہ ناس کے لئے احکام پہنچانے والے مقرر کردیتا ہے یعنی رسالت کا مدار اصطفاء خداوندی پر ہے اس میں کچھ ملکیت یعنی فرشتہ ہونے کی خصوصیت نہیں بلکہ جس طرح ملکیت کے ساتھ رسالت جمع ہو سکتی ہے جس کو مشرکین بھی مانتے ہیں چناچہ فرشتوں کے رسول ہونے کی وہ خود تجویز کرتے تھے اسی طرح بشریت کے ساتھ بھی وہ جمع ہو سکتی ہے رہا یہ کہ اصطفا کسی ایک خاص کے ساتھ کیوں واقع ہوا تو ظاہری سبب تو اس کا خصوصیات احوال ان رسل کے ہیں اور یہ) یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے (یعنی) وہ ان (سب فرشتوں اور آدمیوں) کی آئندہ اور گزشتہ حالتوں کو (خوب) جانتا ہے (تو حالت موجودہ کو بدرجہ اولیٰ جانے گا غرض سب احوال مسموعہ و مبصرہ اس کو معلوم ہیں ان میں بعض کا حال مقتضی اس اصطفا کا ہوگیا) اور (حقیقی سبب اس کا یہ ہے کہ) تمام کاموں کا مدار اللہ ہی پر ہے (یعنی وہ مالک مستقل بالذات و فاعل مختار ہے اس کا ارادہ مرجح بالذات ہے۔ اس ارادہ کے لئے کسی مرجح کی ضرورت نہیں، پس سبب حقیقی ارادہ خداوندی ہے اور اس کا سبب پوچھنا لغو ہے وھو معنی قولہ تعالیٰ لا یسئل عما یفعل، یعنی اللہ تعالیٰ سے اس کے کسی فعل کا سبب دریافت کرنے کا کسی کو حق نہیں۔
(آگے ختم سورت پر اول فروع و شرائع کا بیان ہے اور ملتہ ابراہیم پر استقامت کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی ترغیب کے لئے بعض مضامین ارشاد فرمائے ہیں) اے ایمان والو (تم اصول کے قبول کرنے کے بعد فروع کی بھی پابندی رکھو۔ خصوصاً نماز کی، پس تم) رکوع کیا کرو اور سجدہ کیا کرو اور (عموماً دوسرے فروع بھی بجا لا کر) اپنے رب کی عبادت کیا کرو اور نیک کام کیا کرو۔ امید (یعنی وعدہ) ہے کہ تم فلاح پاؤ گے اور اللہ کے کام میں خوب کوشش کیا کرو جیسا کوشش کرنے کا حق ہے، اس نے تم کو (دوسری امتوں سے) ممتاز فرمایا (جیسا کہ آیت جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا وغیرہ میں مذکور ہے) اور تم پر دین میں کسی قسم کی تنگی نہیں کی (اور اے ایمان والو، جس اسلام کا تم کو امر کیا گیا ہے کہ احکام کی پوری بجا آوری ہو اور یہی ملت ابراہیمی ہے) تم اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر قائم رہو اس نے تمہارا لقب مسلمان رکھا پہلے بھی اور اس (قرآن) میں بھی، تاکہ تمہارے لئے رسول اللہ گواہ ہوں اور (اس شہادت رسول کے قبل) تم (ایک بڑے مقدمہ میں جس میں ایک فریق حضرات انبیاء ہوں گے اور فریق ثانی ان کی مخالف قومیں ہوں گی ان مخالف) لوگوں کے مقابلہ میں گواہ ہو (اور رسول کی شہادت سے تمہاری شہادت کی تصدیق ہو اور حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں فیصلہ ہو) سو (ہمارے احکام کی پوری بجا آوری کرو، پس) تم لوگ (خصوصیت کے ساتھ) نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰة دیتے رہو اور (بقیہ احکام میں بھی) اللہ ہی کو مضبوط پکڑے رہو (یعنی عزم و ہمت کے ساتھ دین کے احکام بجا لاؤ، غیر اللہ کی رضا و عدم رضا اور اپنے نفس کی مصلحت و مضرت کی طرف التفات مت کرو) وہ تمہارا کار ساز ہے سو کیسا اچھا کار ساز ہے اور کیسا اچھا مددگار ہے۔
Ayah 22:77معارف و مسائل
سورة حج کا سجدہ تلاوت
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّكُمْ ، سورة حج میں ایک آیت تو پہلے گزر چکی ہے جس پر سجدہ تلاوت کرنا باتفاق واجب ہے۔ اس آیت پر جو یہاں مذکور ہے سجدہ تلاوت کے وجوب میں ائمہ کا اختلاف ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، سفیان ثوری رحمہم اللہ کے نزدیک اس آیت پر سجدہ تلاوت واجب نہیں کیونکہ اس میں سجدہ کا ذکر رکوع وغیرہ کے ساتھ آیا ہے جس سے نماز کا سجدہ مراد ہونا ظاہر ہے جیسے واسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ میں سب کا اتفاق ہے کہ سجدہ نماز مراد ہے اس کی تلاوت کرنے سے سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوتا اسی طرح آیت مذکورہ پر بھی سجدہ تلاوت واجب نہیں۔ امام شافعی، امام احمد وغیرہ کے نزدیک اس آیت پر بھی سجدہ تلاوت واجب ہے ان کی دلیل ایک حدیث ہے جس میں یہ ارشاد ہے کہ سورة حج کو دوسری سورتوں پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ اس میں دو سجدہ تلاوت ہیں۔ امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس روایت کے ثبوت میں کلام ہے۔ تفصیل اس کی کتب فقہ و حدیث میں دیکھی جاسکتی ہے۔
Ayah 22:78وَجَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ ، لفظ جہاد اور مجاہدہ کسی مقصد کی تحصیل میں اپنی پوری طاقت خرچ کرنے اور اس کے لئے مشقت برداشت کرنے کے معنے میں آتا ہے۔ کفار کے ساتھ قتال میں بھی مسلمان اپنے قول فعل اور ہر طرح کی امکانی طاقت خرچ کرتے ہیں اس لئے اس کو بھی جہاد کہا جاتا ہے اور حق جہاد سے مراد اس میں پورا اخلاص اللہ کیلئے ہونا ہی ہے جس میں کسی دنیوی نام و نمود یا مال غنیمت کی طمع کا شائبہ نہ ہو۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ حق جہاد یہ ہے کہ جہاد میں اپنی پوری طاقت خرچ کرے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت پر کان نہ لگائے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے اس جگہ جہاد کے معنی عام عبادات اور احکام الٰہیہ کی تعمیل میں اپنی پوری طاقت پورے اخلاص کے ساتھ خرچ کرنے کے لئے ہیں ضحاک اور مقاتل نے فرمایا کہ مراد آیت کی یہ ہے کہ اعملو اللہ حق عملہ واعبدوہ حق عبادتہ یعنی عمل کرو اللہ کے لئے جیسا کہ اس کا حق ہے اور عبادت کرو اللہ کی جیسا کہ اس کا حق ہے۔ اور حضرت عبداللہ ابن مبارک نے فرمایا کہ یہاں جہاد سے مراد اپنے نفس اور اس کی بیجا خواہشات کے مقابلہ میں جہاد کرنا ہے اور یہی حق جہاد ہے۔ امام بغوی وغیرہ نے اس قول کی تائید میں ایک حدیث بھی حضرت جابر بن عبداللہ سے نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام کی ایک جماعت جو جہاد کفار کے لئے گئی ہوئی تھی واپس آئی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا، قدمتم خیر مقدم من الجھاد الاصغر الی الجھاد و الاکبر قال (یعنی الراوی) مجاہدة العبد لھواہ رواہ البیہقی و قال ھذا اسناد فیہ مضعف، یعنی تم لوگ خوب واپس آئے چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف یعنی اپنے نفس کی خواہشات بیجا کے مقابلہ کا جہاد اب بھی جاری ہے اس روایت کو بیہقی نے روایت کیا ہے مگر کہا ہے کہ اس کے اسناد میں ضعف ہے۔
فائدہ
تفسیر مظہری میں اس دوسری تفسیر کو اختیار کر کے اس آیت سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ صحابہ کرام جب مقابلہ کفار میں جہاد کر رہے تھے خواہشات نفسانی کے مقابلہ کا جہاد تو اس وقت بھی جاری تھا مگر حدیث میں اس کو واپسی کے بعد ذکر کیا ہے اس میں اشارہ یہ ہے کہ اہواء نفس کے مقابلہ کا جہاد اگرچہ میدان کار زار میں بھی جاری تھا مگر عادةً یہ جہاد شیخ کامل کی صحبت پر موقوف ہے اس لئے وہ جہاد سے واپسی اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضری کے وقت ہی شروع ہوا۔
امت محمدیہ اللہ تعالیٰ کی منتخب امت ہے
هُوَ اجْتَبٰىكُمْ ، حضرت واثلہ ابن اسقع ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ نے تمام بنی اسماعیل میں کنانہ کا انتخاب فرمایا، پھر کنانہ میں سے قریش کا پھر قریش میں سے بنی ہاشم کا پھر بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا۔ (رواہ مسلم۔ مظھری)
وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے دین کے معاملہ میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ دین میں تنگی نہ ہونے کا مطلب بعض حضرات نے یہ بیان فرمایا کہ اس دین میں ایسا کوئی گناہ نہیں ہے جو توبہ سے معاف نہ ہو سکے اور عذاب آخرت سے خلاصی کی کوئی صورت نہ نکلے۔ بخلاف پچھلی امتوں کے کہ ان میں بعض گناہ ایسے بھی تھے جو توبہ کرنے سے بھی معاف نہ ہوتے تھے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ تنگی سے مراد وہ سخت و شدید احکام ہیں جو بنی اسرائیل پر عائد کئے گئے تھے جن کو قرآن میں اصر اور اغلال سے تعبیر کیا گیا ہے اس امت پر ایسا کوئی حکم فرض نہیں کیا گیا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ تنگی سے مراد وہ تنگی ہے جس کو انسان برداشت نہ کرسکے اس دین کے احکام میں کوئی حکم ایسا نہیں جو فی نفسہ ناقابل برداشت ہو۔ باقی رہی تھوڑی بہت محنت و مشقت تو وہ دنیا کے ہر کام میں ہوتی ہے۔ تعلیم حاصل کرنے پھر ملازمت، تجارت و صنعت میں کیسی کیسی محنتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں مگر اس کی وجہ سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کام بڑے سخت و شدید ہیں۔ ماحول کے غلط اور مخالف ہونے یا ملک و شہر میں اس کا رواج نہ ہونے کے سبب جو کسی عمل میں دشواری پیش آئے وہ عمل کی تنگی اور تشدد نہیں کہلائے گی۔ کرنے والے کو اس لئے بھاری معلوم ہوتی ہے کہ ماحول میں کوئی اس کا ساتھ دینے والا نہیں۔ جس ملک میں روٹی کھانے پکانے کی عادت نہ ہو وہاں روٹی حاصل کرنا کس قدر دشوار ہوجاتا ہے وہ سب جانتے ہیں مگر اس کے باوجود یہ نہیں کہا جاسکتا کہ روٹی پکانا بڑا سخت کام ہے۔
اور حضرت قاضی ثناء اللہ نے تفسیر مظہری میں فرمایا کہ دین میں تنگی نہ ہونے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو ساری امتوں میں سے اپنے لئے منتخب فرما لیا ہے اس کی برکت سے اس امت کے لوگوں کو دین کی راہ میں بڑی سے بڑی مشقت اٹھانا بھی آسان بلکہ لذیذ ہوجاتا ہے۔ محنت سے راحت ملنے لگی ہے خصوصاً جب دل میں حلاوت ایمان پیدا ہوجائے تو سارے بھاری کام بھی ہلکے پھلکے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ حدیث صحیح میں حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جعلت قرة عینی فی الصلوة یعنی نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک کردی گئی ہے۔ (رواہ احمد والنسائی و الحاکم و صححہ)
مِلَّـةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ ، یعنی یہ ملت ہے تمہارے باپ ابراہیم ؑ کی۔ یہ خطاب دراصل مومنین قریش کو ہے جو ابراہیم ؑ کی نسل میں ہیں پھر سب لوگ قریش کے تابع ہو کر اس فضیلت میں شامل ہوجاتے ہیں جیسے حدیث میں ہے الناس تبع لقریش فی ھذا الشان مسلمھم تبع لمسلمھم و کافرھم تبع لکافرھم (رواہ البخاری و مسلم (مظھری) یعنی سب لوگ اس دین میں قریش کے تابع ہیں، مسلمان مسلمان قریش کے تابع اور کافر لوگ کافر قریش کے تابع ہیں۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ابیکم ابراہیم کا خطاب سب امت کے مسلمانوں کو ہے اور ابراہیم ؑ کا ان سب کے لئے باپ ہونا اس اعتبار سے ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ امت کے روحانی باپ ہیں جیسا کہ ازواج مطہرات امہات المومنین ہیں اور نبی کریم ﷺ کا حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد میں ہونا ظاہر و معروف ہے۔
هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِـمِيْنَ ڏ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ ھٰذَا، یعنی حضرت ابراہیم ہی نے امت محمدیہ اور تمام اہل ایمان کا نام قرآن سے پہلے مسلم تجویز کیا ہے اور خود قرآن میں بھی، جیسا کہ ابراہیم کی دعا قرآن کریم میں یہ منقول ہے رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ۔ اور قرآن میں جو اہل ایمان کا نام مسلم رکھا گیا ہے اس کے رکھنے والے اگرچہ براہ راست ابراہیم ؑ نہیں مگر قرآن سے پہلے ان کا یہ نام تجویز کردینا قرآن میں اسی نام سے موسوم کرنے کا سبب بنا اس لئے اس کی نسبت بھی ابراہیم ؑ کی طرف کردی گئی ہے۔
لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ ، یعنی آپ محشر میں گواہی دیں گے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے احکام اس امت کو پہنچا دیئے تھے۔ اور امت محمدیہ اس کا اقرار کرے گی مگر دوسرے انبیاء جب یہ کہیں گے تو ان کی امتیں مکر جائیں گی اس وقت امت محمدیہ شہادت دے گی کہ بیشک سب انبیاء نے اپنی اپنی قوم کو اللہ کے احکام پہنچا دیئے تھے دوسری امتوں کی طرف سے ان کی شہادت پر یہ جرح ہوگی کہ ہمارے زمانے میں تو امت محمدیہ کا وجود بھی نہ تھا یہ ہمارے معاملے میں کیسے گواہ بن سکتے ہیں۔ ان کی طرف سے جرح کا یہ جواب ہوگا کہ بیشک ہم موجود نہ تھے مگر ہم نے یہ بات اپنے رسول ﷺ سے سنی ہے جن کے صدق میں کوئی شک و شبہ نہیں اس لئے ہم یہ گواہی دے سکتے ہیں۔ تو ان کی شہادت قبول کی جائے گی یہ مضمون اس حدیث کا ہے جس کو بخاری وغیرہ نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت کیا ہے۔
فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ، مراد یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر ایسے احسانات عظیمہ فرمائے ہیں جن کا ذکر اوپر آیا ہے تو تمہارا فرض ہے کہ احکام الٰہیہ کی پابندی میں پوری کوشش کرو ان میں سے اس جگہ نماز اور زکوٰة کے ذکر پر اکتفا اس لئے کیا گیا کہ بدن کے متعلقہ اعمال و احکام میں نماز سب سے اہم ہے اور مال سے متعلقہ احکام میں زکوٰة سب سے زیادہ اہم گویا مراد تمام ہی احکام شرعیہ کی پابندی کرنا ہے۔
وَاعْتَصِمُوْا باللّٰهِ ، یعنی اپنے سب کاموں میں صرف اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی سے مدد مانگو اور حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ مراد اس اعتصام سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کرو کہ تم کو تمام مکروہات دنیا و آخرت سے محفوظ رکھے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ واعْتَصِمُوْا باللّٰهِ کے معنے یہ ہیں کہ قرآن و سنت کے ساتھ تمسّک کرو ان کو ہر حال میں لازم پکڑو جیسا کہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ
ترکت فیکم امرین لن تضلوا ماتمسکتم بھما کتاب اللہ وسنة رسول رواہ مالک فی الموطاء مرسلا۔ (مظھری)
میں نے تمہارے لئے دو چیزیں ایسی چھوڑی ہیں کہ تم جب تک ان دونوں کو پکڑے رہو گے گمراہ نہ ہو گے ایک اللہ کی کتاب دوسرے اس کے رسول کی سنت۔
ثم تفسیر سورة الحج بعون اللہ سبحانہ و بہ نعتصم ھو مولانا و نعم النصیر
الحمد للہ سورة حج کی تفسیر کا اکثر حصہ اشہر حج کے آخری مہینہ ذی الحجہ میں پورا ہوا، پوری سورت کی تفسیر سات روز میں مکمل ہوئی پانچ روز ذی الحجہ 1390 ھ کے اور دو روز محرم 1391 ھ کے وللہ الحمد اولہ وآخرہ و بہ استعین فی تکمیل الباقی و ما ذلک علی اللہ بعزیز۔