Ayahs 23:1–6سورة مومنون مکہ میں اتری اور اس کی ایک سو اٹھارہ آیتیں ہیں اور چھ رکوع
فضائل و خصوصیات سورة مومنون
مسند احمد میں حضرت فاروق اعظم عمر بن خطاب کی روایت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو پاس والوں کے کان میں ایسی آواز ہوتی جیسے شہد کی مکھیوں کی آواز ہوتی ہے۔ ایک روز آپ کے قریب ایسی ہی آواز سنی گئی تو ہم ٹھہر گئے کہ تازہ آئی ہوئی وحی سن لیں۔ جب وحی کی خاص کیفیت سے فراغت ہوئی تو آنحضرت ﷺ قبلہ رخ ہو کر بیٹھ گئے اور یہ دعا کرنے لگے اللھم زدنا ولا تنقصنا و اکرمنا ولاتھنا واعطنا ولا تحرمنا واثرنا ولا توثر علینا وارض عنا و ارضنا (یعنی یا اللہ ہمیں زیادہ دے کم نہ کر اور ہماری عزت بڑھا ذلیل نہ کر اور ہم پر بخشش فرما، محروم نہ کر اور ہمیں دوسروں پر ترجیح دے ہم پر دوسروں کو ترجیح نہ دے اور ہم سے راضی ہو اور ہمیں بھی اپنی رضا سے راضی کر دے) اس کے بعد فرمایا کہ مجھ پر اس وقت دس آیتیں ایسی نازل ہوئی ہیں کہ جو شخص ان پر پورا پورا عمل کرے تو وہ (سیدھا) جنت میں جائے گا۔ پھر یہ دس آیتیں جو اوپر لکھی گئی ہیں پڑھ کر سنائی۔ (ابن کثیر)
اور نسائی نے کتاب التفسیر میں یزید بن بابنوس سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا خلق کیسا اور کیا تھا، انہوں نے فرمایا آپ کا خلق یعنی طبعی عادت وہ تھی جو قرآن میں ہے اس کے بعد یہ دس آیتیں تلاوت کر کے فرمایا کہ بس یہی خلق و عادت تھی رسول اللہ ﷺ کی۔ (ابن کثیر)
خلاصہ تفسیر
بالتحقیق ان مسلمانوں نے (آخرت میں) فلاح پائی جو (تصحیح عقائد کے ساتھ صفات ذیل کے ساتھ بھی موصوف ہیں یعنی وہ) اپنی نماز میں (خواہ فرض ہو یا غیر فرض) خشوع کرنے والے ہیں اور جو لغو (یعنی فضول) باتوں سے (خواہ قولی ہوں یا فعلی) برکنار رہنے والے ہیں اور جو (اعمال و اخلاق میں) اپنا تزکیہ کرنے والے ہیں۔ اور جو اپنی شرمگاہوں کی (حرام شہوت رانی سے) حفاظت رکھنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا اپنی (شرعی) لونڈیوں سے (حفاظت نہیں کرتے) کیونکہ ان پر (اس میں) کوئی الزام نہیں۔ ہاں جو اس کے علاوہ (اور جگہ شہوت رانی کا) طلبگار ہو ایسے لوگ حد (شرعی) سے نکلنے والے ہیں اور جو اپنی (سپردگی میں لی ہوئی) امانتوں اور اپنے عہد کا (جو کسی عقد کے ضمن میں کیا ہو یا ویسے ہی ابتداءً کیا ہو) خیال رکھنے والے ہیں اور جو اپنی (فرض) نمازوں کی پابندی کرتے ہیں ایسے ہی لوگ وارث ہونے والے ہیں جو فردوس (بریں) کے وارث ہوں گے (اور) وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
معارف و مسائل
فلاح کیا چیز ہے اور کہاں اور کیسے ملتی ہے
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤ ْمِنُوْنَ ، لفظ فلاح قرآن و سنت میں بکثرت استعمال ہوا ہے اذان و اقامت میں پانچ وقت ہر مسلمان کو فلاح کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ فلاح کے معنے یہ ہیں کہ ہر مراد حاصل ہو اور ہر تکلیف دور ہو (قاموس) یہ لفظ جتنا مختصر ہے اتنا ہی جامع ایسا ہے کہ کوئی انسان اس سے زیادہ کسی چیز کی خواہش کر ہی نہیں سکتا۔ اور یہ ظاہر ہے کہ مکمل فلاح کہ ایک مراد بھی ایسی نہ رہے جو پوری نہ ہو اور ایک بھی تکلیف ایسی نہ رہے جو دور نہ ہو، یہ دنیا میں کسی بڑے سے بڑے انسان کے بس میں نہیں چاہے دنیا کا سب سے بڑا بادشاہ ہفت اقلیم ہو یا سب سے بڑا رسول اور پیغمبر ہو۔ اس دنیا میں کسی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ کوئی چیز خلاف طبع پیش نہ آئے اور جو خواہش جس وقت دل میں پیدا ہو بلا تاخیر پوری ہوجائے۔ اگر اور بھی کچھ نہیں تو ہر نعمت کے لئے زوال اور فنا کا کھٹکا اور ہر تکلیف کے واقع ہوجانے کا خطرہ، اس سے کون خالی ہوسکتا ہے ؟
اس سے معلوم ہوا کہ فلاح کامل تو ایسی چیز ہے جو اس ملک دنیا میں دستیاب ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ دنیا تو دار التکلیف و المحنت بھی ہے اور اس کی کسی چیز کو بقاء وقرار بھی نہیں۔ یہ متاع گرانمایہ ایک دوسرے عالم میں ملتی ہے جس کا نام جنت ہے۔ وہ ہی ایسا ملک ہے جس میں انسان کی ہر مراد ہر وقت بلا انتظار حاصل ہوگی وَّلَهُمْ مَّا يَدَّعُوْنَ (یعنی ان کو ملے گی ہر وہ چیز جو وہ چاہیں گے) اور وہاں کسی ادنیٰ رنج و تکلیف کا گزر نہ ہوگا اور ہر شخص یہ کہتا ہوا وہاں داخل ہوگا الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ۭ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُ ، الَّذِيْٓ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم دور کردیا بلاشبہ ہمارا رب معاف کرنے والا قدر دان ہے جس نے ہمیں اپنے فضل سے ایک مقام میں پہنچا دیا جس کی ہر چیز قائم و دائم ہے اس آیت میں یہ بھی اشارہ موجود ہے کہ دار دنیا میں کوئی بھی ایسا نہ ہوگا جس کو کبھی کوئی رنج و غم نہ پہنچا ہو۔ اس لئے جنت میں قدم رکھتے ہوئے ہر شخص یہ کہے گا کہ اب ہمارا غم دور ہوا۔ قرآن کریم نے سورة اعلیٰ میں جہاں فلاح حاصل کرنے کا یہ نسخہ بتلایا کہ اپنے آپ کو گناہوں سے پاک کرے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى اس کے ساتھ ہی یہ بھی اشارہ فرمایا کہ کامل فلاح کی جگہ اصل میں آخرت ہے صرف دنیا سے دل لگانا طالب فلاح کا کام نہیں۔ فرمایا بَلْ تُـؤ ْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا، وَالْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى، یعنی تم لوگ دنیا ہی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت بہتر بھی ہے کہ اسی میں ہر مراد حاصل اور ہر تکلیف دور ہو سکتی ہے اور وہ باقی رہنے والی بھی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ کامل و مکمل فلاح تو صرف جنت ہی میں مل سکتی ہے دنیا اس کی جگہ ہی نہیں۔ البتہ اکثری حالات کے اعتبار سے فلاح یعنی بامراد ہونا اور تکلیفوں سے نجات پانا یہ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا فرماتے ہیں۔ آیات مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے فلاح پانے کا وعدہ ان مومنین سے کیا ہے جن میں وہ سات صفات موجود ہوں جن کا ذکر ان آیات کے اندر آیا ہے۔ یہ فلاح عام اور شامل ہے جس میں آخرت کی کامل مکمل فلاح بھی داخل ہے اور دنیا میں جس قدر فلاح حاصل ہونا ممکن ہے وہ بھی۔
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ صفات مذکور کے حامل مومنین کو آخرت کی کامل فلاح ملنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن دنیا میں فلاح تو بظاہر کفار فجار کا حصہ بنی ہوئی ہے اور ہر زمانے کے انبیاء اور ان کے بعد صلحا امت عموماً تکلیفوں میں مبتلا رہے ہیں۔ مگر جواب اس کا ظاہر ہے کہ دنیا میں مکمل فلاح کا تو وعدہ نہیں کہ کوئی تکلیف پیش ہی نہ آوے بلکہ کچھ نہ کچھ تکلیف تو یہاں پر صالح و متقی کو بھی اور ہر کافر فاجر کو بھی پیش آنا ناگزیر ہے اور یہی حال حصول مراد کا ہے کہ کچھ نہ کچھ یہ مقصد بھی ہر انسان کو خواہ وہ صالح و متقی ہو خواہ کافر و بدکار ہو حاصل ہوتا ہی ہے۔ پھر ان دونوں میں فلاح پانے والا کس کو کہا جائے تو اس کا اعتبار عواقب اور انجام پر ہے۔
دنیا کا تجربہ اور مشاہدہ شاہد ہے کہ جو اہل صلاح ان سات اوصاف کے حامل اور ان سے متصف اور ان پر قائم ہیں گو دنیا میں وقتی تکلیف ان کو بھی پیش آجائے مگر انجام کار ان کی تکلیف جلد دور ہوتی ہے اور مراد حاصل ہوجاتی ہے ساری دنیا ان کی عزت کرنے پر مجبور ہوتی ہے اور دنیا میں نیک نام انہی کا باقی رہتا ہے۔ جتنا دنیا کے حالات کا غور و انصاف سے مطالعہ کیا جائے گا ہر دور ہر زمانے ہر خطہ میں اس کی شہادتیں ملتی چلی جائیں گی۔
مومن کامل کے وہ سات اوصاف جن پر آیات مذکورہ میں فلاح دنیا و آخرت کا وعدہ ہے
سب سے پہلا وصف تو مومن ہونا ہے مگر وہ ایک بنیادی چیز اور اصل الاصول ہے اس کو الگ کر کے سات اوصاف جو یہاں بیان کئے گئے ہیں یہ ہیں۔
اول نماز میں خشوع، خشوع کے لغوی معنے سکون کے ہیں اصطلاح شرع میں خشوع یہ ہے کہ قلب میں بھی سکون ہو۔ یعنی غیر اللہ کے خیال کو قلب میں بالقصد حاضر نہ کرے اور اعضاء بدن میں بھی سکون ہو کہ عبث اور فضول حرکتیں نہ کرے (بیان القرآن) خصوصاً وہ حرکتیں جن سے رسول اللہ ﷺ نے نماز میں منع فرمایا ہے اور فقہاء نے ان کو مکروہات نماز کے عنوان سے جمع کردیا ہے۔ تفسیر مظہری میں خشوع کی یہی تعریف حضرت عمرو بن دینار سے نقل کی ہے اور دوسرے بزرگوں سے جو خشوع کی تعریف میں مختلف چیزیں نقل کی گئی ہیں وہ دراصل اسی سکون قلب وجوارح کی تفصیلات ہیں۔ مثلاً حضرت مجاہد نے فرمایا کہ نظر اور آواز کو پست رکھنے کا نام خشوع ہے۔ حضرت علی نے فرمایا کہ دائیں بائیں التفات یعنی گوشتہ چشم سے دیکھنے سے بچنا خشوع ہے۔ حضرت عطاء نے فرمایا کہ بدن کے کسی حصہ سے کھیل نہ کرنا خشوع ہے۔ حدیث میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نماز کے وقت اپنے بندے کی طرف برابر متوجہ رہتا ہے جب تک وہ دوسری طرف التفات نہ کرے جب دوسری طرف التفات کرتا ہے یعنی گوشہ چشم سے دیکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے رخ پھیر لیتے ہیں۔ (رواہ احمد والنسائی و ابو داؤد وغیرہم۔ مظہری) اور نبی کریم ﷺ نے حضرت انس کو حکم دیا کہ اپنی نگاہ اس جگہ رکھو جس جگہ سجدہ کرتے ہو اور یہ کہ نماز میں دائیں بائیں التفات نہ کرو (رواہ البیہقی فی السنن الکبریٰ و مظہری)
اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نماز میں اپنی داڑھی سے کھیل رہا ہے تو فرمایا لو خشع قلب ھذا الخشعت جوارحہ (رواہ الحاکم والترمذی بسند ضعیف) یعنی اگر اس شخص کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضاء میں بھی سکون ہوتا۔ (مظہری)
نماز میں خشوع کی ضرورت کا درجہ
امام غزالی و قرطبی اور بعض دوسرے حضرات نے فرمایا کہ نماز میں خشوع فرض ہے اگر پوری نماز خشوع کے بغیر گزر جائے تو نماز ادا ہی نہ ہوگی۔ دوسرے حضرات نے فرمایا کہ اس میں شبہ نہیں کہ خشوع روح نماز ہے اس کے بغیر نماز بےجان ہے مگر اس کو رکن نماز کی حیثیت سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ خشوع نہ ہوا تو نماز ہی نہ ہوئی اور اس کا اعادہ فرض قرار دیا جائے۔
حضرت سیدی حکیم الامة نے بیان القرآن میں فرمایا کہ خشوع صحت نماز کیلئے موقوف علیہ تو نہیں اور اس درجہ میں وہ فرض نہیں مگر قبول نماز کا موقوف علیہ اور اس مرتبہ میں فرض ہے حدیث میں طبرانی نے معجم کبیر میں بسند حسن حضرت ابوالدرداء سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے جو چیز اس امت سے اٹھ جائے گی یعنی سلب ہوجائے گی وہ خشوع ہے یہاں تک کہ قوم میں کوئی خاشع نظر نہ آئے گا۔ کذا فی مجمع الزوائد (بیان)
مومن کامل کا دوسرا وصف، لغو سے پرہیز کرنا ہے والَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ لغو کے معنے فضول کلام یا کام جس میں کوئی دینی فائدہ نہ ہو۔ لغو کا اعلیٰ درجہ معصیت اور گناہ ہے جس میں فائدہ دینی نہ ہونے کے ساتھ دینی ضرر و نقصان ہے اس سے پرہیز واجب ہے اور ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ نہ مفید ہو نہ مضر، اس کا ترک کم از کم اولیٰ اور موجب مدح ہے حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا من حسن اسلام المرا ترکہ مالا یعنیہ یعنی انسان کا اسلام جب اچھا ہوسکتا ہے جبکہ وہ بےفائدہ چیزوں کو چھوڑ دے۔ اسی لئے آیت میں اس کو مومن کامل کی خاص صفت قرار دیا ہے۔
تیسرا وصف، زکوٰة ہے لفظ زکوٰة کے معنے لغت میں پاک کرنے کے ہیں۔ اصطلاح میں شرح مال کا ایک خاص حصہ کچھ شرائط کے ساتھ صدقہ کرنے کو زکوٰة کہا جاتا ہے اور قرآن کریم میں عام طور پر یہ لفظ اسی اصطلاحی معنے میں استعمال ہوا ہے۔ اس آیت میں یہ معنے بھی مراد ہو سکتے ہیں اور اس پر جو شبہ کیا جاتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے مکہ میں زکوٰة فرض نہ ہوئی تھی ہجرت مدینہ کے بعد فرض ہوئی، اس کا جواب ابن کثیر وغیرہ مفسرین کی طرف سے یہ ہے کہ زکوٰة کی فرضیت مکہ ہی میں ہوچکی تھی سورة مزمل جو بالاتفاق مکی ہے اس میں بھی اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ کے ساتھ اٰتُوا الزَّكٰوةَ کا ذکر موجود ہے مگر سرکاری طور پر اس کے وصول کرنے کا عام انتظام اور نصابات وغیرہ کی تفصیلات مدینہ طیبہ جانے کے بعد جاری ہوئیں۔ جن لوگوں نے زکوٰة کو مدنی احکام میں شمار کیا ہے ان کا یہی منشاء ہے۔ اور جن حضرات نے فرضیت زکوٰة کو مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد حکم قرار دیا ہے انہوں نے اس جگہ زکوٰة کا مضمون عام لغوی معنی میں اپنے نفس کو پاک کرنا قرار دیا ہے خلاصہ تفسیر میں بھی یہی لیا گیا ہے اس معنے کا قرینہ اس آیت میں یہ بھی ہے کہ عام طور پر قرآن کریم میں جہاں زکوٰة فرض کا ذکر آیا ہے تو اس کو (آیت) ایتاء الزکوٰة یوتون الزکوٰة اور اتوا الزکوة کے عنوان سے بیان کیا گیا، یہاں عنوان بدل کر للزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَ فرمایا اس کا قرینہ ہے کہ یہاں زکوٰة کے وہ اصطلاحی معنے مراد نہیں اس کے علاوہ فاعلون کا بےتکلف تعلق فعل سے ہوتا ہے اور زکوٰة اصطلاحی فعل نہیں بلکہ ایک حصہ مال ہے اس حصہ مال کیلئے فاعلون کہنا بغیر تاویل کے نہیں ہو سکتا۔ اگر آیت میں زکوٰة کے معنی اصطلاحی زکوٰة کے لئے جاویں تو اس کا فرض ہونا اور مومن کے لئے لازم ہونا کھلا ہوا معاملہ ہے اور اگر مراد زکوٰة سے تزکیہ نفس ہے یعنی اپنے نفس کو رذائل سے پاک کرنا تو وہ بھی فرض ہی ہے کیونکہ شرک، ریا، تکبر، حسد، بغض، حرص، بخل جن سے نفس کو پاک کرنا تزکیہ کہلاتا ہے یہ سب چیزیں حرام اور گناہ کبیرہ ہیں۔ نفس کو ان سے پاک کرنا فرض ہے۔
چوتھا وصف، شرمگاہوں کی حفاظت حرام سے والَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ ، اِلَّا عَلٰٓي اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ ، یعنی وہ لوگ جو اپنی بیویوں اور شرعی لونڈیوں کے علاوہ سب سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ان دونوں کے ساتھ شرعی ضابطہ کے مطابق شہوت نفس پوری کرنے کے علاوہ اور کسی سے کسی ناجائز طریقہ پر شہوت رانی میں مبتلا نہیں ہوتے۔ اس آیت کے ختم پر ارشاد فرمایا فَاِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ ، یعنی شرعی قاعدے کے مطابق اپنی بیوی یا لونڈی سے شہوت نفس کو تسکین دینے والوں پر کوئی ملامت نہیں اس میں اشارہ ہے کہ اس ضرورت کو ضرورت کے درجہ میں رکھنا ہے مقصد زندگی بنانا نہیں۔ اس کا درجہ اتنا ہی ہے کہ جو ایسا کرے وہ قابل ملامت نہیں واللہ اعلم۔
Ayah 23:7فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ ، یعنی منکوحہ بیوی یا شرعی قاعدہ سے حاصل شدہ لونڈی کے ساتھ شرعی قاعدے کے مطابق قضاء شہوت کے علاوہ اور کوئی بھی صورت شہوت پورا کرنے کی حلال نہیں اس میں زنا بھی داخل ہے اور جو عورت شرعاً اس پر حرام ہے اس سے نکاح بھی حکم زنا ہے اور اپنی بیوی یا لونڈی سے حیض و نفاس کی حالت میں یا غیر فطری طور پر جماع کرنا بھی اس میں داخل ہے۔ یعنی کسی مرد یا لڑکے سے یا کسی جانور سے شہوت پوری کرنا بھی۔ اور جمہور کے نزدیک استمنا بالید یعنی اپنے ہاتھ سے منی خارج کرلینا بھی اس میں داخل ہے۔ (از تفسیر بیان القرآن۔ قرطبی۔ بحر محیط وغیرہ)
Ayah 23:8پانچواں وصف امانت کا حق ادا کرنا والَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ لفظ امانت کے لغوی معنے ہر اس چیز کو شامل ہیں جس کی ذمہ داری کسی شخص نے اٹھائی ہو اور اس پر اعتماد و بھروسہ کیا گیا ہو۔ اس کی قسمیں چونکہ بیشمار ہیں اسی لئے باوجود مصدر ہونے کے اس کو بصیغہ جمع لایا گیا ہے تاکہ امانت کی سب قسموں کو شامل ہوجائے خواہ وہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے حقوق اللہ سے متعلق امانات تمام شرعی فرائض و واجبات کا ادا کرنا اور تمام محرمات و مکروہات سے پرہیز کرنا ہے اور حقوق العباد سے متعلق امانات میں مالی امانت کا داخل ہونا تو معروف و مشہور ہے کہ کسی شخص نے کسی کے پاس اپنا کوئی مال امانت کے طور پر رکھ دیا یہ اس کی امانت ہے اس کی حفاظت اس کے واپس کرنے تک اس کی ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ کسی نے کوئی راز کی بات کسی سے کہی وہ بھی اس کی امانت ہے بغیر اذن شرعی کے کسی کا راز ظاہر کرنا امانت میں خیانت ہے۔ مزدور، ملازم کو جو کام سپرد کیا گیا اس کے لئے جتنا وقت خرچ کرنا باہم طے ہوگیا اس میں اس کام کو پورا کرنے کا حق ادا کرنا اور مزدوری ملازمت کے لئے جتنا وقت مقرر ہے اس کو اسی کام میں لگانا بھی امانت ہے کام کی چوری یا وقت کی چوری خیانت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ امانت کی حفاظت اور اس کا حق ادا کرنا بڑا جامع لفظ ہے۔ سب مذکورہ تفصیلات اس میں داخل ہیں۔
چھٹا وصف عہد پورا کرنا ہے۔ عہد ایک تو وہ معاہدہ ہے جو دو طرف سے کسی معاملے کے سلسلے میں لازم قرار دیا جائے اس کا پورا کرنا فرض اور اس کے خلاف کرنا غدر اور دھوکا ہے جو حرام ہے۔ دوسرا وہ جس کو وعدہ کہتے ہیں یعنی یکطرفہ صورت سے کوئی شخص کسی شخص سے کسی چیز کے دینے کا یا کسی کام کے کرنے کا وعدہ کرلے۔ اس کا پورا کرنا بھی شرعاً لازم و واجب ہوجاتا ہے۔ حدیث میں ہے العدة دین یعنی وعدہ ایک قسم کا قرض ہے۔ جیسے قرض کی ادائیگی واجب ہے ایسے ہی وعدہ کا پورا کرنا واجب ہے۔ بلا عذر شرعی اس کے خلاف کرنا گناہ ہے۔ فرق دونوں قسموں میں یہ ہے کہ پہلی قسم کے پورا کرنے پر دوسرا آدمی اس کو بذریعہ عدالت بھی مجبور کرسکتا ہے یکطرفہ وعدہ کو پورا کرنے کے لئے بذریعہ عدالت مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ دیانةً اس کا پورا کرنا بھی واجب اور بلا عذر شرعی خلاف کرنا گناہ ہے۔
Ayah 23:9ساتواں وصف نماز پر محافظت ہے والَّذِيْنَ هُمْ عَلٰي صَلَوٰتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ ، نماز کی محافظت سے مراد اس کی پابندی کرنا اور ہر ایک نماز کو اس کے وقت مستحب میں ادا کرنا ہے۔ (کذا فسّرہ ابن مسعود، روح) یہاں صلوات کا لفظ جمع اس لئے لایا گیا ہے کہ مراد اس سے پانچ وقت کی نمازیں ہیں جن کو اپنے اپنے وقت مستحب میں پابندی سے ادا کرنا مقصود ہے اور شروع میں جہاں مقصود بالذکر خشوع تھا وہاں لفظ مفرد لایا گیا ہے کہ مطلقاً جنس نماز خواہ فرض ہو یا واجب، سنت ہو یا نفل سب کی روح خشوع ہے۔ غور کیا جائے تو ان سات اوصاف مذکورہ میں تمام حقوق اللہ اور حقوق العباد اور ان سے متعلقہ احکام آجاتے ہیں جو شخص ان اوصاف کے ساتھ متصف ہوجائے اور اس پر جما رہے وہ مومن کامل فلاح دنیا و آخرت کا مستحق ہے۔
یہ بات قابل نظر ہے کہ ان سات اوصاف کو شروع بھی نماز سے کیا گیا اور ختم بھی نماز پر کیا گیا اس میں اشارہ ہے کہ اگر نماز کو نماز کی طرح پابندی اور آداب نماز کے ساتھ ادا کیا جائے تو باقی اوصاف اس میں خود بخود پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔ واللہ اعلم
Ayahs 23:10–11اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ ، الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ، اوصاف مذکورہ کے حامل لوگوں کو اس آیت میں جنت الفردوس کا وارث فرمایا ہے۔ لفظ وارث میں اشارہ اس طرف ہے کہ جس طرح مورث کا مال اس کے وارث کو پہنچنا قطعی اور لازمی ہے اسی طرح ان اوصاف والوں کا جنت میں داخلہ یقینی ہے اور قد افلح کے بعد اوصاف مفلحین پورے ذکر کرنے کے بعد اس جملے میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ فلاح کامل اور اصلی فلاح کی جگہ جنت ہی ہے۔
Ayah 23:12خلاصہ تفسیر
(اول بیان ہے ایجاد انسان کا) اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ (یعنی غذا) سے بنایا (یعنی اول مٹی ہوتی ہے پھر اس سے بذریعہ نباتات کے غذا حاصل ہوتی ہے) پھر ہم نے اس کو نطفہ سے بنایا جو کہ (ایک مدت معینہ تک) ایک محفوظ مقام (یعنی رحم) میں رہا (اور وہ غذا سے حاصل ہوا تھا) پھر ہم نے اس نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنایا پھر ہم نے اس خون کے لوتھڑے کو (گوشت کی) بوٹی بنادیا پھر ہم نے اس بوٹی (کے بعض اجزاء) کو ہڈیاں بنادیا پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا (جس سے وہ ہڈیاں ڈھک گئیں) پھر (ان سب انقلابات کے بعد) ہم نے (اس میں روح ڈال کر) اس کو ایک دوسری ہی (طرح کی) مخلوق بنادیا (جو حالات سابقہ سے نہایت ہی متمائز و متبائن ہے کیونکہ اس سے پہلے سب انقلابات ایک جماد بےجان میں ہو رہے تھے اور اب یہ ایک ذی حیات زندہ انسان بن گیا) سو کیسی شان ہے اللہ کی جو تمام صناعوں سے بڑھ کر ہے (کیونکہ دوسرے صناع تو اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں جوڑ توڑ کر کے ہی بنا سکتے ہیں۔ زندگی پیدا کرنا یہ خاص اللہ ہی کا کام ہے اور نطفہ پر مذکورہ انقلاب کی تفصیل اسی ترتیب کے ساتھ قانون وغیرہ کتب طبیہ میں بھی مذکور ہے آگے انسان کے آخری انجام فنا کا بیان ہے) پھر تم بعد اس (تمام قصہ عجیبہ) کے ضرور ہی مرنے والے ہو (آگے بیان ہے اعادہ کا یعنی) پھر تم قیامت کے روز دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے (اور جس طرح ہم نے تم کو ابتداء وجود عطا فرمایا اسی طرح تمہاری بقا کا سامان بھی کیا کہ) ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان (جن میں ملائکہ کے آمد و رفت کیلئے راہیں ہیں) بنائے (کہ اس سے تمہاری بھی بعض مصلحتیں متعلق ہیں) اور ہم مخلوق (کی مصلحتوں) سے بیخبر نہ تھے۔ (بلکہ ہر مخلوق کو مصالح و حکم کی رعایت کر کے بنایا) اور ہم نے (انسان کی بقاء اور نشو و نما کے لئے آسمان سے (مناسب) مقدار کے ساتھ پانی برسایا پھر ہم نے اس کو (مدت تک) زمین میں ٹھہرایا (چنانچہ کچھ پانی تو زمین کے اوپر رہتا ہے اور کچھ اتر جاتا ہے جو وقتاً فوقتاً نکلتا رہتا ہے) اور ہم (جس طرح اس کے برسانے پر قادر ہیں اسی طرح) اس (پانی) کے معدوم کردینے پر (بھی) قادر ہیں (خواہ ہوا کی طرف مستحیل کر کے خواہ اتنی دور زمین کی گہرائی میں اتار کر کہ آلات کے ذریعہ سے نہ نکال سکو مگر ہم نے باقی رکھا) پھر ہم نے اس (پانی) کے ذریعہ سے باغ پیدا کئے کھجوروں کے انگوروں کے تمہارے واسطے ان (کھجوروں انگوروں) میں بکثرت میوے بھی ہیں (جبکہ ان کو تازہ تازہ کھایا جاوے تو میوہ سمجھا جاتا ہے) اور ان میں سے (جو بچا کر خشک کر کے رکھ لیا جاتا ہے اس کو بطور غذا کے) کھاتے بھی ہو اور (اسی پانی سے) ایک (زیتون کا) درخت بھی (ہم نے پیدا کیا) جو کہ طور سینا میں (بکثرت) پیدا ہوتا ہے جو اگتا ہے تیل لئے ہوئے اور کھانے والوں کے لئے سالن لئے ہوئے (یعنی اس کے پھل سے دونوں فوائد حاصل ہوتے ہیں خواہ روشن کرنے والوں کے لئے سالن لئے ہوئے (یعنی اس کے پھل سے دونوں فوائد حاصل ہوتے ہیں خواہ روشن کرنے کے اور مالش کرنے کے کام میں لاؤ خواہ اس میں روٹی ڈبو کر کھاؤ یہ سامان مذکور پانی اور نباتات سے تھا) اور (آگے حیوانات کے ذریعہ انسان کے منافع اور آسانیوں کا بیان ہے کہ) تمہارے لئے مواشی میں (بھی) غور کرنے کا موقع ہے کہ ہم تم کو ان کے جوف میں کی چیز (یعنی دودھ) پینے کو دیتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں (کہ ان کے بال اور اون کام آتی ہے) اور (نیز) ان میں سے بعض کو کھاتے بھی ہو اور ان (میں جو باربرداری کے قابل ہیں ان) پر اور کشتی پر لدے لدے پھرتے (بھی) ہو۔
معارف و مسائل
پچھلی آیات میں انسان کی فلاح دنیا و آخرت کا طریقہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے احکام کی تعمیل میں اپنے ظاہر و باطن کو پاک رکھنے اور تمام انسانوں کے حقوق ادا کرنے سے بیان کیا گیا تھا۔ آیات مذکورہ میں اللہ جل شانہ کی قدرت کاملہ اور بنی نوع انسان کی تخلیق میں اس کے مظاہر خاص کا ذکر ہے جس سے واضح ہوجائے کہ انسان جس کو عقل و شعور ہو وہ اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ اختیار کر ہی نہیں سکتا۔
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ ، سلالہ بمعنے خلاصہ اور طین، گیلی مٹی، جس کے معنے یہ ہیں کہ زمین کی مٹی کے خاص اجزاء نکال کر اس سے انسان کو پیدا کیا گیا۔ انسان کی تخلیق کی ابتداء حضرت آدم ؑ سے اور ان کی تخلیق اس مٹی کے خلاصہ سے ہوئی اس لئے ابتدائی تخلیق کو مٹی کی طرف منسوب کیا گیا۔ اس کے بعد ایک انسان کا نطفہ دوسرے انسان کی تخلیق کا سبب بنا۔ اگلی آیت میں اسی کا بیان ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً سے فرمایا ہے مطلب یہ ہے کہ ابتدائی تخلیق مٹی سے ہوئی پھر آگے سلسلہ تخلیق اسی مٹی کے جزء لطیف یعنی نطفہ سے جاری کردی گئی۔ جمہور مفسرین نے آیت مذکورہ کی تفسیر یہی لکھی ہے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ سے مراد بھی نطفہ انسانی ہو کیونکہ وہ غذا سے پیدا ہوتا ہے اور غذا انسانی مٹی سے بنتی ہے۔ واللہ اعلم۔
تخلیق انسانی کے سات مدارج
آیات مذکورہ میں انسان کی تخلیق کی سات دور ذکر کئے گئے ہیں۔ سب سے پہلے سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ ، دوسرے درجہ میں نطفہ، تیسرے میں علقہ، چوتھے میں مضغہ پانچویں میں عظام یعنی ہڈیاں، چھٹے دور میں ہڈیوں پر گوشت چڑھانا، ساتواں دور تکمیل تخلیق کا ہے یعنی روح پھونکنا۔
ایک لطیفہ عجیبہ از حضرت ابن عباس
تفسیر قرطبی میں اس جگہ حضرت عبداللہ بن عباس سے اسی آیت سے استدلال کر کے ایک عجیب لطیفہ شب قدر کی تعیین میں نقل کیا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت فاروق اعظم نے ایک مرتبہ اکابر صحابہ کے مجمع سے سوال کیا کہ شب قدر رمضان کی کون سی تاریخ میں ہے ؟ سب نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ اللہ اعلم کوئی تعیین بیان نہیں کی۔ حضرت ابن عباس ان سب میں چھوٹے تھے ان سے خطاب فرمایا کہ آپ کیا کہتے ہیں تو ابن عباس نے فرمایا کہ امیر المومنین اللہ تعالیٰ نے آسمان سات پیدا کئے، زمینیں سات پیدا کیں، انسان کی تخلیق سات درجات میں فرمائی۔ انسان کی غذا سات چیزیں بنائیں اس لئے میری سمجھ میں تو یہ آتا ہے کہ شب قدر ستائیسویں شب ہوگی۔ فاروق اعظم نے یہ عجیب استدلال سن کر اکابر صحابہ سے فرمایا کہ آپ سے وہ بات نہ ہوسکی جو اس لڑکے نے کی جس کے سر کے بال بھی ابھی مکمل نہیں ہوئے۔ یہ حدیث طویل ابن ابی شیبہ کے مسند میں ہے۔ حضرت ابن عباس نے تخلیق انسانی کے سات درجات سے مراد وہی لیا ہے جو اس آیت میں ہے اور انسان کی غذا کی سات چیزیں سورة عبس کی آیت میں ہیں فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا حَبًّا، وَّعِنَبًا وَّقَضْبًا، وَّزَيْتُوْنًا وَّنَخْلًا، وَّحَدَاۗىِٕقَ غُلْبًا، وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا، اس آیت میں آٹھ چیزیں مذکور ہیں جن میں پہلی سات انسان کی غذا ہے اور آخری یعنی اب یہ جانوروں کی غذا ہے۔ (قرطبی)
پھر تخلیق انسانی پر جو سات دور گزرتے ہیں قرآن کریم کی بلاغت دیکھئے کہ ان سب کو ایک ہی انداز سے بیان نہیں فرمایا بلکہ کہیں ایک دور سے دوسرے دور تک انقلاب کو لفظ ثم سے تعبیر کیا ہے جو تراخی یعنی کچھ دیر سے ہونے پر دلالت کرتا ہے کہیں اس انقلاب کا ذکر حرف فاء سے کیا ہے جو بلا تاخیر ہونے پر دلالت کرتا ہے اس میں اشارہ اس ترتیب کی طرف ہے جو ایک انقلاب سے دوسرے انقلاب کے درمیان فطرةً ہوتی ہے کہ بعض انقلابات انسانی عقل کے لحاظ سے بہت مشکل اور بہت دیر طلب ہوتے ہیں۔ بعض اتنے دیر طلب نہیں ہوتے چناچہ قرآن کریم نے ابتدائی تین دور کو لفظ ثم کے ساتھ بیان کیا ہے اول سلالہ طین پھر اس کو نطفہ کی صورت میں تبدیل کرنا۔
Ayah 23:13اس کو لفظ ثم سے فرمایا ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً کیونکہ مٹی سے غذا کا پیدا ہونا پھر غذا کا جزو بدن ہونا پھر اس میں سے جزء خاص کا نطفہ کی صورت میں تبدیل ہونا انسانی قیاس کی رو سے بڑا وقت چاہتا ہے۔
Ayah 23:14اسی طرح اس کے بعد تیسرا درجہ نطفہ کا گوشت کے ٹکڑے کی شکل میں تبدیل ہونا، یہ بھی ایک طویل وقت چاہتا ہے اس کو بھی ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً سے تعبیر فرمایا۔ اس کے بعد کے تین دور علقہ سے مضغہ مضغہ سے ہڈیاں اور ہڈیوں پر گوشت چڑھانا ان سب کا تھوڑی تھوڑی مدت میں ہوجانا مستبعد نہیں معلوم ہوتا تو ان تینوں کو حرف فاء سے بیان فرمایا ہے۔ پھر آخری دور جو نفخ روح اور زندگی پیدا کرنے کا ہے اس کو بھی لفظ ثم سے تعبیر فرمایا کیونکہ ایک غیر ذی روح جماد میں روح اور حیات پیدا کرنا قیاس عقل میں بڑی مدت چاہتا ہے اس لئے یہاں پھر لفظ ثم لایا گیا۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایک دور سے دوسرے دور کی طرف انقلاب جن صورتوں میں انسانی عقل و قیاس کے مطابق دیر طلب اور مدت کا کام تھا وہاں لفظ ثم سے اس کی طرف اشارہ کردیا گیا اور جہاں عام انسانی قیاس کی رو سے زیادہ مدت درکار نہیں تھی وہاں حرف فاء سے تعبیر کر کے اس کی طرف اشارہ کردیا گیا۔ اس لئے اس پر اس حدیث سے شبہ نہیں ہوسکتا جس میں یہ بیان فرمایا ہے کہ ہر دور سے دوسرے دور تک منقلب ہونے میں چالیس چالیس دن صرف ہوتے ہیں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا کام ہے جو انسانی قیاس کے تابع نہیں۔
تخلیق انسانی کا آخری مقام یعنی اس میں روح وحیات پیدا کرنا
اس کا بیان قرآن کریم نے ایک خاص اور ممتاز انداز سے اس طرح فرمایا ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ ، یعنی پھر ہم نے اس کو ایک خاص قسم کی اور پیدائش عطا کی۔ اس امتیاز بیان کی وجہ یہ ہے کہ پہلے چھ دور تخلیق کے عالم عناصر اور مادیات سے اور ان میں انقلاب و تبدیل سے متعلق تھے اور یہ آخری ساتواں دور دوسرے عالم یعنی عالم ارواح سے روح کو اس کے جسم میں منتقل کرنے کا دور تھا اس لئے اس کو خلقاً آخر سے تعبیر کیا گیا۔
روح حقیقی اور روح حیوانی
یہاں خَلْقًا اٰخَرَ کی تفسیر حضرت ابن عباس، مجاہد، شعبی، عکرمہ، ضحاک، ابو العالیہ (رحمہم اللہ) وغیرہ نے نفخ روح سے فرمائی ہے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ غالباً مراد اس روح سے روح حیوانی ہے کہ وہ بھی مادی اور ایک جسم لطیف ہے جو جسم حیوانی کے ہر ہر جزو میں سمایا ہوا ہوتا ہے جس کو اطباء اور فلاسفہ روح کہتے ہیں۔ اس کی تخلیق بھی تمام اعضاء انسانی کی تخلیق کے بعد ہوتی ہے اس لئے اس کو لفظ ثم سے تعبیر فرمایا ہے۔ اور روح حقیقی جس کا تعلق عالم ارواح سے ہے، وہیں سے لا کر اس روح حیوانی کے ساتھ اس کا کوئی رابطہ حق تعالیٰ اپنی قدرت سے پیدا فرما دیتے ہیں جس کی حقیقت کا پہچاننا انسان کے بس کا نہیں اس روح حقیقی کی تخلیق تو تمام انسانوں کی تخلیق سے بہت پہلے ہے انہیں ارواح کو حق تعالیٰ نے ازل میں جمع کر کے اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ فرمایا اور سب نے بَلٰي کے لفظ سے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار کیا۔ ہاں اس کا تعلق جسم انسانی کے ساتھ تخلیق اعضاء انسانی کے بعد ہوتا ہے۔ اس جگہ نفح روح سے اگر یہ مراد لی جائے کہ روح حیوانی کے ساتھ روح حقیقی کا تعلق اس وقت قائم فرمایا گیا تو یہ بھی ممکن ہے۔ اور درحقیقت حیات انسان اسی روح حقیقی سے متعلق ہے جب اس کا تعلق روح حیوانی کے ساتھ ہوجاتا ہے تو انسان زندہ کہلاتا ہے جب منقطع ہوجاتا ہے تو انسان مردہ کہلاتا ہے وہ روح حیوانی بھی اپنا عمل چھوڑ دیتی ہے۔
فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ ، خلق و تخلیق کے اصلی معنے کسی چیز کو ازسرنو بغیر کسی مادہ سابقہ کے پیدا کرنا ہے جو حق تعالیٰ جل شانہ، کی مخصوص صفت ہے۔ اس معنے کے اعتبار سے خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے کوئی دوسرا شخص فرشتہ ہو یا انسان کسی ادنیٰ چیز کا خالق نہیں ہو سکتا۔ لیکن کبھی کبھی یہ لفظ خلق و تخلیق صنعت کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے اور صنعت کی حقیقت اس سے زائد نہیں کہ اللہ جل شانہ نے جو مواد اور عناصر اس جہان میں اپنی قدرت کاملہ سے پیدا فرما دیئے ہیں ان کو جوڑ توڑ کر ایک دوسرے کے ساتھ مرکب کر کے ایک نئی چیز بنادی جائے یہ کام ہر انسان کرسکتا ہے اور اسی معنے کے لحاظ سے کسی انسان کو بھی کسی خاص چیز کا خالق کہہ دیا جاتا ہے۔ خود قرآن کریم نے فرمایا تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا اور حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں فرمایا اَنِّىْٓ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ كَهَيْــــَٔــةِ الطَّيْرِ ، ان تمام مواقع میں لفظ خلق مجازی طور پر صنعت کے معنے میں بولا گیا ہے۔
اسی طرح یہاں لفظ خٰلِقِيْنَ بصیغہ جمع اسی لئے لایا گیا ہے کہ عام انسان جو اپنی صنعت گری کے اعتبار سے اپنے کو کسی چیز کا خالق سمجھتے ہیں اگر ان کو مجازاً خالق کہا بھی جائے تو اللہ تعالیٰ ان سب خالقوں یعنی صنعت گروں میں سب سے بہتر صنعت کرنے والے ہیں۔ واللہ اعلم
Ayah 23:15ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ ، پچھلی تین آیتوں میں انسان کے مبدا یعنی ابتداء آفرینش کا ذکر تھا۔ اب دو آیتوں میں اس کے معاد یعنی انجام کار کا ذکر ہے۔ آیت مذکورہ میں فرمایا کہ پھر تم سب اس دنیا میں آنے اور رہنے کے بعد موت سے دوچار ہونے والے ہو جس سے کوئی مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔
Ayah 23:16پھر فرمایا کہ ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ ، یعنی مرنے کے بعد پھر قیامت کے روز تم سب زندہ کر کے اٹھائے جاؤ گے تاکہ تمہارے اعمال کا حساب لے کر اصلی ٹھکانے جنت یا دوزخ تک پہنچا دیا جائے۔ یہ انسان کا انجام ہوا، آگے آغاز و انجام یعنی مبدا و معاد کے درمیانی حالات اور ان میں انسان پر حق تعالیٰ کے احسانات و انعامات کی تھوڑی سی تفصیل ہے جس کو اگلی آیت میں آسمان کی تخلیق کے ذکر سے شروع فرمایا ہے۔
Ayah 23:17وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَاۗىِٕقَ ، طرائق، طریقة کی جمع ہے اس کو بمعنی طبقہ بھی لیا جاسکتا ہے جس کے معنے یہ ہوں گے کہ تہ بہ تہ سات آسمان تمہارے اوپر بنائے گئے اور طریقہ کے معنے مشہور راستہ کے ہیں۔ یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ سب آسمان فرشتوں کی گزرگاہیں ہیں جو احکام لے کر زمین پر آتے جاتے ہیں۔
وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِيْنَ اس میں یہ بتلایا کہ ہم نے انسان کو صرف پیدا کر کے نہیں چھوڑ دیا اور اس سے غافل نہیں ہو سکتے بلکہ اس کے نشو و نما اور رہائش و آسائش کے سامان بھی مہیا کئے جس کی ابتداء آسمانوں کی تخلیق سے ہوئی پھر آسمان سے بارش برسا کر انسان کے لئے غذا اور اس کی آسائش کا سامان پھلوں پھولوں سے پیدا کیا جس کا ذکر بعد کی آیت میں اس طرح فرمایا۔
Ayah 23:18وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِي الْاَرْضِ ڰ وَاِنَّا عَلٰي ذَهَابٍۢ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَ
انسانوں کو آب رسانی کا قدرتی عجیب و غریب نظام
اس آیت میں آسمان سے پانی برسانے کے ذکر کے ساتھ ایک قید بقدر کی بڑھا کر اس طرف اشارہ کردیا کہ انسان ایسا ضعیف الخلقت ہے کہ جو چیزیں اس کے لئے مدار زندگی ہیں اگر وہ مقدار مقدر سے زائد ہوجاویں تو وہی اس کیلئے وبال جان اور عذاب بن جاتی ہیں۔ پانی جیسی چیز جس کے بغیر کوئی انسان و حیوان زندہ نہیں رہ سکتا اگر ضرورت سے زیادہ برس جائے تو طوفان آجاتا ہے اور انسان اور اس کے سامان کے لئے وبال و عذاب بن جاتا ہے۔ اس لئے آسمان سے پانی برسانا بھی ایک خاص پیمانے سے ہوتا ہے جو انسان کی ضرورت پوری کر دے اور طوفان کی صورت اختیار نہ کرے بجز ان خاص مقامات کے جن پر اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہی کسی وجہ سے طوفان مسلط کرنے کا سبب ہوجائے۔ اس کے بعد بڑا غور طلب مسئلہ یہ تھا کہ پانی اگر روزانہ کی ضرورت کا روزانہ برسا کرے تو بھی انسان مصیبت میں آجائے روز کی بارش اس کے کاروبار اور مزاج کے خلاف ہے۔ اور اگر سال بھر یا چھ مہینے یا تین مہینے کی ضرورت کا پانی ایک دفعہ برسایا جائے اور لوگوں کو حکم ہو کہ اپنا اپنا کوٹہ پانی کا چھ مہینے کے لئے جمع کر کے رکھو اور استعمال کرتے رہو تو ہر انسان کیا اکثر انسان بھی اتنے پانی کے جمع رکھنے کا انتظام کیسے کریں اور کسی طرح بڑے حوضوں اور گڑھوں میں بھر لینے کا انتظام بھی کرلیں تو چند روز کے بعد یہ پانی سڑ جائے گا جس کا پینا بلکہ استعمال کرنا بھی دشوار ہوجائے گا اس لئے قدرت حق جل شانہ نے اس کا نظام یہ بنایا کہ پانی جس وقت برستا ہے اس وقت وقتی طور پر جتنے درخت اور زمینیں سیرابی کے قابل ہیں وہ سیراب ہوجاتے ہیں پھر زمین کے مختلف تالابوں، حوضوں اور قدرتی گڑھوں میں یہ پانی جمع رہتا ہے جس کو انسان اور جانور ضرورت کے وقت استعمال کرتے ہیں مگر ظاہر ہے یہ پانی چند روز میں ختم ہوجاتا ہے۔ دائمی طور پر روزانہ انسان کو تازہ پانی کس طرح پہنچے جو ہر خطے کے باشندوں کو مل سکے ؟ اس کا نظام قدرت نے یہ بنایا کہ پانی کا بہت بڑا حصہ برف کی صورت میں ایک بحر منجمد بنا کر پہاڑوں کے سروں پر ایسی پاک صاف فضاء میں رکھ دیا جہاں نہ گرد و غبار کی رسائی نہ کسی آدمی اور جانور کی اور جس میں نہ سڑنے کا امکان ہے نہ اس کے ناپاک یا خراب ہونے کی کوئی صورت ہے۔ پھر یہ برف کا پانی آہستہ آہستہ رس رس کر پہاڑوں کی رگوں کے ذریعہ زمین کے اندر پھیلتا ہے اور یہ قدرتی پائپ لائن پوری زمین کے گوشہ گوشہ میں پہنچ جاتی ہے جہاں سے کچھ تو چشمے خود پھوٹ نکلتے ہیں اور ندی نالے اور نہروں کی شکل میں زمین پر بہنے لگتے ہیں، تازہ بتازہ جاری پانی کروڑوں انسانوں اور جانوروں کو سیراب کرتا ہے اور کچھ یہی پہاڑی برف سے بہنے والا پانی زمین کی تہ میں اتر کر نیچے نیچے بہتا رہتا ہے اور اس کو کنواں کھود کر ہر جگہ نکالا جاسکتا ہے۔ قرآن کریم کی آیت مذکورہ میں اس پورے نظام کو ایک لفظ فَاَسْكَنّٰهُ فِي الْاَرْضِ سے بیان فرما دیا ہے آخر میں اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ زمین کی تہ سے جو پانی کنوؤں کے ذریعہ نکالا جاتا ہے یہ بھی قدرت کی طرف سے آسانی ہے کہ بہت زیادہ گہرائی میں نہیں بلکہ تھوڑی گہرائی میں یہ پانی رکھا گیا ہے۔ ورنہ یہ بھی ممکن تھا بلکہ پانی کی طبعی خاصیت کا تقاضا یہی تھا کہ یہ پانی زمین کی گہرائی میں اترتا چلا جاتا، جہاں تک انسان کی رسائی ممکن نہیں۔ اسی مضمون کو آیت کے آخری جملہ میں ارشاد فرمایا وَاِنَّا عَلٰي ذَهَابٍۢ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَ۔
Ayah 23:19آگے پانی کے ذریعہ پیدا ہونے والی خاص خاص چیزوں کو عرب کے مزاج و مذاق کے مطابق ذکر فرمایا کہ کھجور اور انگور کے باغات اس سے پیدا ہوئے اور دوسرے پھلوں کو ایک عام لفظ میں جمع کر کے ذکر فرمایا لَكُمْ فِيْهَا فَوَاكِهُ كَثِيْرَةٌ، یعنی ان باغات میں تمہارے لئے کھجور و انگور کے علاوہ ہزاروں قسم کے پھل پیدا کئے جن کو تم محض تفریحی اور شوقیہ طور پر بھی کھاتے ہو اور ان میں سے بعض پھلوں کا ذخیرہ کر کے تمہاری مستقل غذا بھی ان سے تیار ہوتی ہے وَّمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ کا یہی مطلب ہے۔ آگے خصوصیت سے زیتون اور اس کے تیل کے پیدا کرنے کا ذکر فرمایا کیونکہ اس کے منافع بیشمار ہیں۔ اور چونکہ زیتون کے درخت کوہ طور پر زیادہ پیدا ہوتے ہیں اس لئے اس کی طرف نسبت کردی گئی
Ayah 23:20وَشَجَــرَةً تَخْــرُجُ مِنْ طُوْرِ سَيْنَاۗءَ ، سیناء اور سینین اس مقام کا نام ہے جس میں کوہ طور واقع ہے۔ زیتون کا تیل، تیل کی ضروریات مثلاً بدن کی مالش اور چراغ میں جلانے کے بھی کام آتا ہے اور کھانے میں سالن کا بھی کام دیتا ہے اسی کو فرمایا تَنْۢبُتُ بالدُّهْنِ وَصِبْغٍ لِّلْاٰكِلِيْنَ ، زیتون کے درخت کے لئے کوہ طور کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ درخت سب سے پہلے کوہ طور ہی پر پیدا ہوا ہے اور بعض نے کہا کہ طوفان نوح کے بعد سب سے پہلا درخت جو زمین پر اگا ہے وہ زیتون تھا۔ (مظھری)
Ayah 23:21اس کے بعد ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے جانوروں، چوپایوں کے ذریعہ انسان کو عطا فرمائی تاکہ انسان ان سے عبرت حاصل کرے اور حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور رحمت کاملہ پر استدلال کر کے توحید و عبادت میں مشغول ہو۔ اسی لئے فرمایا وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً ، یعنی تمہارے لئے چوپایہ جانوروں میں ایک عبرت و نصیحت ہے آگے اس کی کچھ تفصیل اس طرح بتائی نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهَا، کہ ان جانوروں کے پیٹ میں ہم نے تمہارے لئے پاکیزہ دودھ تیار کیا جو انسان کی بہترین غذا ہے اور پھر فرمایا کہ صرف دودھ ہی نہیں، ان جانوروں میں تمہارے لئے بہت سے (بیشمار) منافع اور فوائد ہیں وَلَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ كَثِيْرَةٌ، غور کرو تو جانوروں کے جسم کا ایک ایک جزء، رواں رواں انسان کے کام آتا ہے اور اس سے انسان کی معیشت کے لئے بیشمار قسم کے سامان تیار ہوتے ہیں۔ جانوروں کے بال، ہڈی، آنتیں، پٹھے اور سبھی اجزاء سے انسان اپنی معیشت کے کتنے سامان بناتا اور تیار کرتا ہے اس کا شمار بھی مشکل ہے ان بیشمار منافع کے علاوہ ایک بڑا نفع یہ بھی ہے کہ ان میں سے جانور حلال ہیں ان کا گوشت بھی انسان کی بہترین غذا ہے وَّمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۔ آخر میں ان جانوروں کا ایک اور عظیم فائدہ ذکر کیا گیا کہ تم ان پر سوار بھی ہوتے ہو اور باربرداری کا بھی ان سے کام لیتے ہو۔ اس آخری فائدہ میں چونکہ جانوروں کے ساتھ دریا میں چلنے والی کشتیاں بھی شریک ہیں کہ سواری اور باربرداری کا بڑا کام ان سے نکلتا ہے اس لئے کشتیوں کو بھی اس کے ساتھ ذکر فرما دیا۔
Ayah 23:22وَعَلَيْهَا وَعَلَي الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ ، فلک یعنی کشتیوں ہی کے حکم میں وہ تمام سواریاں بھی ہیں جو پہیوں کے ذریعہ چلنے والی ہیں۔
Ayahs 23:23–26خلاصہ تفسیر
(اس سے پہلی آیتوں میں انسان کی تخلیق اور اس کی بقاء و آسائش کے لئے مختلف قسم کے سامان پیدا کرنے کا ذکر تھا آگے اس کی روحانی تربیت اور دینی فلاح کا جو انتظام فرمایا اس کا ذکر ہے اور ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف پیغمبر کر کے بھیجا سو انہوں نے (اپنی قوم سے) فرمایا کہ اے میری قوم اللہ ہی کی عبادت کیا کرو اس کے سوا کوئی تمہارے لئے معبود بنانے کے لائق نہیں (اور جب یہ ایک بات ثابت ہے تو) پھر کیا تم (دوسروں کے معبود بنانے سے) ڈرتے نہیں ہو پس (نوح ؑ کی یہ بات سن کر) ان کی قوم میں جو کافر رئیس تھے (عوام سے) کہنے لگے کہ یہ شخص بجز اس کے کہ تمہاری طرح کا ایک (معمولی) آدمی ہے اور کچھ (رسول وغیرہ) نہیں ہے (اس دعوے سے) ان کا (اصل) مطلب یہ ہے کہ تم سے برتر ہو کر رہے (یعنی اس کا مقصد محض اپنی جاہ و عزت ہے) اور اگر اللہ کا (رسول بھیجنا) منظور ہوتا تو (اس کام کے لئے) فرشتوں کو بھیجتا (پس دعویٰ ان کا غلط ہے اسی طرح ان کی دعوت کرنا توحید کی طرف یہ دوسری غلطی ہے کیونکہ) ہم نے یہ بات (کہ اور کسی کو معبود مت قرار دو) اپنے پہلے بڑوں میں (کبھی) نہیں سنی بس یہ ایک آدمی ہے جس کو جنون ہوگیا ہے (اس واسطے ساری دنیا کے خلاف باتیں کرتا ہے کہ میں رسول ہوں اور معبود ایک ہے) سو ایک وقت خاص (یعنی اس کے مرنے کے وقت) تک اس (کی حالت) کا انتظار کرلو (آخر ایک وقت پر پہنچ کر ختم ہوجاوے گا اور سب پاپ کٹ جاوے گا) نوح ؑ نے (ان کے ایمان لانے سے مایوس ہو کر جناب باری تعالیٰ میں) عرض کیا کہ اے میرے رب (ان سے) میرا بدلہ لے بوجہ اس کے کہ انہوں نے مجھ کو جھٹلایا ہے پس ہم نے (ان کی دعا قبول کی اور) ان کے پاس حکم بھیجا کہ تم کشتی تیار کرلو ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم سے (کہ اب طوفان آوے گا اور تم اور مومنین اس کے ذریعہ سے محفوظ رہو گے) پھر جس وقت ہمارا حکم (عذاب کا قریب) آپہنچے اور (علامت اس کی یہ ہے کہ) زمین سے پانی ابلنا شروع ہوجاوے تو (اس وقت) ہر قسم (کے جانوروں) میں سے (جو کہ انسان کے کارآمد ہیں اور پانی میں زندہ نہیں رہ سکتے، جیسا بھیڑ، بکری، گائے، بیل، اونٹ، گھوڑا گدھا وغیرہ) ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ یعنی دو دو عدد اس (کشتی) میں داخل کرلو اور اپنے گھر والوں کو بھی (سوار کرلو) باستثناء اس کے جس پر ان میں سے (غرق ہونے کا) حکم نافذ ہوچکا ہے (یعنی آپ کے اہل و عیال میں جو کافر ہو اس کو مت سوار کرو) اور (یہ سن لو کہ عذاب آنے کے وقت) مجھ سے کافروں کی (نجات) کے بارے میں کچھ گفتگو مت کرنا (کیونکہ) وہ سب غرق کئے جاویں گے پھر جس وقت تم اور تمہارے ساتھی (مسلمان) کشتی میں بیٹھ چکو تو یوں کہنا کہ شکر ہے خدا کا جس نے ہم کو کافر لوگوں سے (یعنی ان کے افعال سے اور ان کے وبال سے) نجات دی اور (جب بعد فرو ہونے طوفان کے کشتی سے زمین پر آنے لگو تو) یوں کہنا کہ اے میرے رب مجھ کو (زمین پر) برکت کا اتارنا اتاریو (یعنی اطمینان ظاہری و باطنی کے ساتھ رکھیو) اور آپ سب (اپنے پاس بطور مہمانی کے) اتارنے والوں سے اچھے ہیں (یعنی اور لوگ جو مہمان کو اتار لیتے ہیں وہ اپنے مہمان کی مقصد براری اور مصائب سے نجات پر قدرت نہیں رکھتے آپ کو ان سب چیزوں پر قدرت ہے) اس (واقعہ مذکورہ) میں (اہل عقل کے لئے ہماری قدرت کی) بہت سی نشانیاں ہیں اور ہم (یہ نشانیاں معلوم کرا کر اپنے بندوں کو) آزماتے ہیں (کہ دیکھیں کہ کون ان سے نفع اٹھاتا ہے کون نہیں اٹھاتا، اور نشانیاں یہ ہیں۔ رسول بھیجنا، ایمان داروں کو بچا لینا، کافروں کو ہلاک کردینا دفعةً طوفان پیدا کردینا، کشتی کو محفوظ رکھنا وغیرہ وغیرہ)۔
Ayahs 23:27–30معارف و مسائل
وَفَار التَّنُّوْرُ ، تنور، اس خاص جگہ کو بھی کہا جاتا ہے جو روٹی پکانے کیلئے بنائی جاتی ہے اور یہی معنے معروف و مشہور ہیں۔ دوسرے معنے میں تنور پوری زمین کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ خلاصہ تفسیر میں اسی معنے کے اعتبار سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ اور بعض حضرات نے اس سے ایک خاص تنور روٹی پکانے والا مراد لیا ہے جو کوفہ کی مسجد میں اور بعض کے نزدیک ملک شام میں کسی جگہ تھا۔ اس تنور سے پانی ابلنے لگنا حضرت نوح ؑ کے لئے طوفان کی علامت یہ قرار دی گئی تھی (مظھری) حضرت نوح ؑ اور ان کے طوفان اور کشتی کا واقعہ پچھلی سورتوں میں تفصیل سے گزر چکا ہے)۔
Ayahs 23:31–36خلاصہ تفسیر
پھر (قوم نوح کے بعد) ہم نے دوسرا گروہ پیدا کیا (مراد عاد ہے یا ثمود) پھر ہم نے ان میں ایک پیغمبر کو بھیجا جو ان ہی میں کے تھے (مراد ہود ؑ یا صالح علیہ السلام) ہیں، ان پیغمبر نے کہا کہ) تم لوگ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود (حقیقی) نہیں، کیا تم (شرک سے) ڈرتے نہیں ہو، اور (ان پیغمبر کی یہ بات سن کر) ان کی قوم میں سے جو رئیس تھے جنہوں نے (خدا اور رسول کے ساتھ) کفر کیا تھا اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا تھا اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں عیش بھی دیا تھا کہنے لگے کہ بس یہ تو تمہاری طرح ایک (معمولی) آدمی ہیں (چنانچہ) یہ وہی کھاتے ہیں جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتے ہیں جو تم پیتے ہو اور (جب یہ تمہارے ہی جیسے بشر ہیں تو) اگر تم اپنے جیسے ایک (معمولی) آدمی کے کہنے پر چلنے لگو تو بیشک تم (عقل کے) گھاٹے میں ہو (یعنی بڑی بےوقوفی ہے) کیا یہ شخص تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے اور (مر کر) مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے (چنانچہ جب اجزاء لحمیہ خاک ہوجاتے ہیں تو ہڈیاں بےگوشت رہ جاتی ہیں پھر بعد چندے وہ بھی خاک ہوجاتی ہیں تو یہ شخص کہتا ہے کہ جب اس حالت پر پہنچ جاؤ گے) تو (پھر دوبارہ زندہ کر کے زمین سے) نکالے جاؤ گے (تو بھلا ایسا شخص کہیں قابل اطاعت و اتباع ہوسکتا ہے اور) بہت ہی بعید اور بہت ہی بعید ہے جو بات تم سے کہی جاتی ہے بس زندگی تو یہی ہماری دنیوی زندگی ہے کہ ہم میں کوئی مرتا ہے اور کوئی پیدا ہوتا ہے اور ہم دوبارہ زندہ نہ کئے جاویں گے بس یہ ایک ایسا شخص ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے (کہ اس نے مجھ کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور کوئی دوسرا معبود نہیں اور قیامت آوے گی) اور ہم تو ہرگز اس کو سچا نہ سمجھیں گے۔ پیغمبر نے دعا کی کہ اے میرے رب میرا بدلہ لے اس وجہ سے کہ انہوں نے مجھ کو جھٹلایا، ارشاد ہوا کہ یہ لوگ عنقریب پشیمان ہوں گے چناچہ ان کو ایک سخت آواز نے (یا سخت عذاب نے) موافق وعدہ برحق کے (کہ لَّيُصْبِحُنَّ نٰدِمِيْنَ) آپکڑا (جس سے وہ سب ہلاک ہوگئے) پھر (ہلاک کرنے کے بعد) ہم نے ان کو خس و خاشاک (کی طرح پامال) کردیا سو خدا کی مار کافر لوگوں پر۔
معارف و مسائل
اس سے پہلی آیات میں حضرت نوح ؑ کا قصہ بسلسلہ ہدایت ذکر کیا گیا تھا، آگے دوسرے پیغمبروں اور ان کی امتوں کا کچھ حال اجمالا بغیر نام متعین کئے ذکر کیا گیا ہے۔ آثار و علامات سے حضرات مفسرین نے فرمایا کہ مراد امتوں سے عاد یا ثمود یا دونوں ہیں۔ عاد کی طرف حضرت ہود ؑ کو بھیجا گیا تھا اور ثمود کے پیغمبر حضرت صالح ؑ تھے۔ اس قصہ میں ان قوموں کا ہلاک ہونا ایک صیحہ یعنی غیبی سخت آواز کے ذریعہ بیان فرمایا ہے اور صیحہ کے ذریعہ ہلاک ہونا دوسری آیات میں قوم ثمود کا بیان ہوا ہے اس سے بعض حضرات نے فرمایا کہ ان آیات میں قَرْنًا اٰخَرِيْنَ سے مراد ثمود ہیں مگر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صیحہ کا لفظ اس جگہ مطلق عذاب کے معنے میں لیا گیا ہو تو پھر یہ قوم عاد کے ساتھ بھی لگ سکتا ہے۔ واللہ اعلم