23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 23:76–77

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور ہم نے پکڑا تھا ان کو آفت میں پھر نہ عاجزی کی اپنے رب کے آگے اور نہ گڑ گڑائے

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب کھول دیں ہم ان پر دروازہ ایک سخت آفت کا تب اس میں ان کی آس ٹوٹے گی۔

وَلَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَـضَرَّعُوْنَ ، اس سے پہلی آیت میں مشرکین کے بارے میں یہ کہا گیا تھا کہ یہ لوگ جو عذاب میں مبتلا ہونے کے وقت اللہ سے یا رسول سے فریاد کرتے ہیں اگر ہم ان کی فریاد پر رحم کھا کر عذاب ہٹا دیں تو ان کی جبلی شرارت و سرکشی کا عالم یہ ہے کہ عذاب سے نجات پانے کے بعد پھر اپنی سرکشی اور نافرمانی میں مشغول ہوجائیں گے اس آیت میں ان کے ایک اسی طرح کے واقعہ کا بیان ہے کہ ان کو ایک عذاب میں پکڑا گیا مگر عذاب سے بدعا نبی کریم ﷺ نجات پانے کے بعد بھی یہ اللہ کے سامنے نہیں جھکے اور برابر اپنے کفر و شرک پر جمے رہے۔ اہل مکہ پر قحط کا عذاب اور روسل اللہ ﷺ کی دعا سے اس کا دفع ہونا پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ پر قحط کا عذاب مسلط ہونے کی دعا کی تھی۔ اس کی وجہ سے یہ سخت قحط میں مبتلا ہوئے اور مردار وغیرہ کھانے پر مجبور ہوگئے۔ یہ دیکھ کر ابو سفیان رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ طیبہ حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں اور صلہ رحمی کی، کیا آپ نے یہ نہیں کہا کہ میں اہل عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں، آپ نے فرمایا بیشک کہا ہے اور واقعہ بھی یوں ہی ہے۔ ابو سفیان نے کہا کہ آپ نے اپنی قوم کے بڑوں کو تو بدر کے معرکہ میں تلوار سے قتل کردیا اور جو اب رہ گئے ہیں ان کو بھوک سے قتل کر رہے ہیں اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ عذاب ہم سے ہٹ جائے رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی یہ عذاب اسی وقت ختم ہوگیا اسی پر یہ آیت مذکورہ نازل ہوئی وَلَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ۔ اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ عذاب میں مبتلا ہونے پھر اس سے نجات پانے کے بعد بھی یہ لوگ اپنے رب کے سامنے نہیں جھکے چناچہ واقعہ یہی تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی دعا سے قحط رفع بھی ہوگیا مگر مشرکین مکہ اپنے شرک و کفر پر اسی طرح جمے رہے۔ (مظھری وغیرہ)
Ayahs 23:78–87

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اور اسی نے بنا دیئے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل تم بہت تھوڑا حق مانتے ہو

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور اسی نے تم کو پھیلا رکھا ہے زمین میں اور اسی کی طرف جمع ہو کر جاؤ گے

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

اور وہی ہے جلاتا اور مارتا اور اسی کا کام ہے بدلنا رات اور دن کا سو کیا تم کو سمجھ نہیں

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

کوئی بات نہیں یہ تو وہی کہہ رہے جیسا کہا کرتے تھے پہلے لوگ

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

کہتے ہیں کیا جب ہم مر گئے اور ہوگئے مٹی اور ہڈیاں کیا ہم کو زندہ ہو کر اٹھنا ہے

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

وعدہ دیا جاتا ہے ہم کو اور ہمارے باپ دادوں کو یہی پہلے سے اور کچھ بھی نہیں یہ نقلیں ہیں پہلوں کی

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

تو کہہ کس کی ہے زمین اور جو کوئی اس میں ہے بتاؤ اگر تم جانتے ہو

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

اب کہیں گے سب کچھ اللہ کا ہے، تو کہہ پھر تم سوچتے نہیں

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

تو کہہ کون ہے مالک ساتوں آسمانوں کا اور مالک اس بڑے تخت کا

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

اب بتائیں گے اللہ کو تو کہہ پھر تم ڈرتے نہیں

خلاصہ تفسیر اور وہ (اللہ) ایسا (قادر اور منعم) ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (کہ آرام بھی برتو اور دین کا بھی ادراک کرو لیکن) تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو (کیونکہ اصلی شکر یہ تھا کہ اس منعم کے پسندیدہ دین کو قبول کرتے اور دوبارہ قیامت میں زندہ کرنے کا انکار نہ کرتے) اور وہ ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلا رکھا ہے اور تم سب (قیامت میں) اسی کے پاس لائے جاؤ گے (اس وقت اس کفران نعمت کی حقیقت معلوم ہوگی) اور وہ ایسا ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کے اختیار میں ہے رات اور دن کا گھٹنا بڑھنا سو کیا تم (اتنی بات) نہیں سمجھتے (کہ یہ دلائل قدرت توحید اور قیامت میں دوسری زندگی، دونوں پر دال ہیں مگر) پھر بھی مانتے نہیں، بلکہ یہ بھی ویسی ہی بات کہتے ہیں جو اگلے (کافر) لوگ کہتے چلے آئے ہیں (یعنی) یوں کہتے ہیں کہ کیا ہم جب مر جاویں گے اور ہم مٹی اور ہڈیاں رہ جاویں گے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کئے جاویں گے اس کا تو ہم سے اور (ہم سے) پہلے ہمارے بڑوں سے وعدہ ہوتا چلا آیا ہے یہ کچھ بھی نہیں محض بےسند باتیں ہیں جو اگلوں سے منقول ہوتی چلی آتی ہیں (چونکہ اس قول سے انکار قدرت لازم آتا ہے اور اس سے مثل انکار بعث کے انکار توحید کا بھی ہوتا ہے اس لئے اس قول کے جواب میں اثبات قدرت کے ساتھ اثبات توحید کا بھی ارشاد ہے یعنی) آپ (جواب میں) یہ کہہ دیجئے کہ (اچھا یہ بتلاؤ کہ) یہ زمین اور جو اس پر رہتے ہیں کس کی ملک ہیں، اگر تم کو کچھ خبر ہے۔ وہ ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ کے ہیں (تو) ان سے کہیے کہ پھر کیوں نہیں غور کرتے (کہ قدرت علی البعث اور توحید دونوں کے حکم کا ثبوت ہوجاوے اور) آپ یہ بھی کہئے کہ (اچھا یہ بتاؤ کہ) ان سات آسمانوں کا مالک اور عالیشان عرش کا مالک کون ہے (اس کا بھی) وہ ضرور یہی جواب دیں گے کہ یہ بھی (سب) اللہ کا ہے آپ (اس وقت) کہئے کہ پھر تم (اس سے) کیوں نہیں ڈرتے (کہ اس کی قدرت اور آیات بعث کا انکار کرتے ہو اور) آپ (ان سے) یہ بھی کہئے کہ (اچھا) وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں تمام چیزوں کا اختیار ہے اور وہ (جس کو چاہتا ہے) پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا اگر تم کو کچھ خبر ہے (تب بھی جواب میں) وہ ضرور یہی کہیں گے کہ یہ سب صفتیں بھی اللہ ہی کی ہیں آپ (اس وقت) کہئے کہ پھر تم کو کیسا خبط ہو رہا ہے (کہ ان سب مقدمات کو مانتے ہو اور نتیجہ کو کہ توحید اور قیامت کا اعتقاد ہے نہیں مانتے۔ یہ تو استدلال تھا مقصود پر ان کے جواب میں، آگے ان کے مقدمہ کی دلیل یعنی اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ الخ کا ابطال ہے یعنی یہ جو ان کو بتلایا جا رہا ہے کہ قیامت آوے گی اور مردے زندہ ہوں گے یہ اساطیر الاولین نہیں ہے) بلکہ ہم نے ان کو سچی بات پہنچائی ہے اور یقیناً یہ (خود ہی) جھوٹے ہیں (یہاں تک مکالمہ ختم ہوچکا اور توحید و بعث دونوں ثابت ہوگئے مگر ان دونوں مسئلوں میں چونکہ توحید کا مسئلہ زیادہ مہتمم بالشان اور حقیقت میں مسئلہ قیامت و آخرت کا بھی مبنیٰ اور محل کلام بھی زیادہ تھا اس لئے تتمہ تقریر میں اس کو مستقلاً ارشاد فرماتے ہیں کہ) اللہ تعالیٰ نے کسی کو اولاد قرار نہیں دیا (جیسا مشرکین ملائکہ کی نسبت کہتے تھے) اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور خدا ہے، اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی مخلوق کو (تقسیم کر کے) جدا کرلیتا اور (پھر دنیا کے بادشاہوں کی عادت کے مطابق دوسرے کی مخلوقات چھیننے کے لئے) ایک دوسرے پر چڑھائی کرتا (پھر مخلوق کی تباہی کی تو کیا انتہا ہے لیکن نظام عالم بدستور قائم ہے اس سے ثابت ہوا کہ) اللہ تعالیٰ ان (مکروہ) باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ (اس کی نسبت) بیان کرتے ہیں، جاننے والا ہے سب پوشیدہ اور آشکارا کا، غرض ان لوگوں کے شرک سے وہ بالاتر (اور منزہ) ہے۔
Ayahs 23:88–92

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

تو کہہ کس کے ہاتھ میں ہے حکومت ہر چیز کی اور وہ بچا لیتا ہے اور اس سے کوئی بچا نہیں سکتا بناؤ اگر تم جانتے ہو

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

اب بتائیں گے اللہ کو تو کہہ پھر کہاں سے تم پر جادو آپڑتا ہے

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

کوئی نہیں ہم نے ان کو پہنچایا سچ اور وہ البتہ جھوٹے ہیں

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

اللہ نے کوئی بیٹا نہیں کیا اور نہ اس کے ساتھ کسی کا حکم چلے یوں ہوتا تو لے جاتا ہر حکم والا اپنی بنائی چیز کو اور چڑھائی کرتا ایک پر ایک اللہ نرالا ہے ان کی بتلائی باتوں سے

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

جاننے والا چھپے اور کھلے کا وہ بہت اوپر ہے اس سے جس کو یہ شریک بتلاتے ہیں۔

معارف و مسائل وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ ، یعنی اللہ تعالیٰ جس کو چاہے عذاب اور مصیبت رنج و تکلیف سے پناہ دیدے اور یہ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے مقابلہ پر کسی کو پناہ دے کر اس کے عذاب و تکلیف سے بچا لے۔ یہ بات دنیا کے اعتبار سے بھی صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو کوئی نفع پہنچانا چاہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا اور جس کو کوئی تکلیف و عذاب دینا چاہے اس سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ اور آخرت کے اعتبار سے بھی یہ مضمون صحیح ہے کہ جس کو وہ عذاب میں مبتلا کرے گا اس کو کوئی بچا نہ سکے گا اور جس کو جنت اور راحت دے گا اس کو کوئی روک نہ سکے گا (قرطبی)
Ayah 23:93

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

یوں کہہ اے رب اگر تو دکھانے لگے مجھ کو جو ان سے وعدہ ہوا ہے

خلاصہ تفسیر آپ (حق تعالیٰ سے) دعا کیجئے کہ اے میرے رب جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے (جیسا اوپر اِذَا فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ سے بھی معلوم ہوا) اگر آپ مجھ کو دکھا دیں (مثلاً یہ کہ وہ عذاب ان پر میری زندگی میں اس طور سے آوے کہ میں بھی دیکھوں کیونکہ اس عذاب موعود کا کوئی وقت خاص نہیں بتلایا گیا ہے چناچہ آیت مذکورہ بھی مبہم ہے جس میں یہ احتمال مذکور بھی ہے غرض اگر ایسا ہوا) تو اے میرے رب مجھ کو ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے اور ہم اس بات پر کہ جو ان سے وعدہ کر رہے ہیں آپ کو بھی دکھلا دیں قادر ہیں (باقی جب تک ان پر عذاب نہ آوے) آپ (ان کے ساتھ یہ معاملہ رکھئے کہ) ان کی بدی کا دفعیہ ایسے برتاؤ سے کردیا کیجئے جو بہت ہی اچھا (اور نرم) ہو (اور اپنی ذات کے لئے بدلہ نہ لیجئے بلکہ ہمارے حوالہ کردیا کیجئے) ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ (آپ کی نسبت) کہا کرتے ہیں اور (اگر آپ بمقتضائے بشریت غیظ آ جایا کرے تو) آپ یوں دعا کیا کیجئے کہ اے میرے رب میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں شیطانوں کے وسوسوں سے (جو مفضی ہوجاویں کسی ایسے امر کی طرف جو خلاف مصلحت ہو گو خلاف شریعت نہ ہو) اور اے میرے رب میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ شیطان میرے پاس بھی آویں (اور وسوسہ ڈالنا تو درکنار پس اس سے وہ غیظ جاتا رہے گا۔ یہ کفار اپنے کفر و انکار معاد سے باز نہیں آتے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی (کے سر) پر موت آ (کھڑی) ہوتی ہے (اور آخرت کا معائنہ ہونے لگتا ہے) اس وقت (آنکھیں کھلتی ہیں اور اپنے جہل و کفر پر نادم ہو کر) کہتا ہے کہ اے میرے رب (مجھ سے موت کو ٹال دیجئے اور) مجھ کو (دنیا میں) پھر واپس بھیج دیجئے تاکہ جس (دنیا) کو میں چھوڑ آیا ہوں اس میں (پھر جا کر) نیک کام کروں (یعنی تصدیق و اطاعت حق تعالیٰ اس درخواست کو رد فرماتے ہیں کہ) ہرگز (ایسا) نہیں (ہوگا) یہ (اس کی) ایک بات ہی بات ہے جس کو یہ کہے جا رہا ہے (اور پوری ہونے والی نہیں) اور (وجہ اس کی یہ ہے کہ) ان لوگوں کے آگے ایک (چیز) آڑ (کی آنے والی) ہے (کہ جس کا آنا ضروری ہے اور وہی دنیا میں واپس آنے سے مانع ہے مراد اس سے موت ہے کہ اس کا وقوع بھی وقت مقدر پر ضروری ہے وَلَنْ يُّؤ َخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَاۗءَ اَجَلُهَا اور موت کے بعد دنیا میں لوٹ کر آنا بھی) قیامت کے دن تک (قانون الٰہی کے خلاف ہے)
Ayah 23:94

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تو اے رب مجھ کو نہ کرلو ان گنہگار لوگوں میں

معارف و مسائل قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِيَــنِّيْ مَا يُوْعَدُوْنَ ، رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِيْ فِي الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں مشرکین و کفار پر عذاب کی وعید مذکور ہے جو عام ہے قیامت میں تو اس کا وقوع قطعی اور یقینی ہے دنیا میں ہونے کا بھی احتمال ہے پھر یہ عذاب اگر دنیا میں ان پر واقع ہو تو اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے بعد آئے اور یہ بھی احتمال ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں آپ ہی کے سامنے ان پر اللہ کا کوئی عذاب آجائے اور دنیا میں جب کسی قوم پر عذاب آتا ہے تو بعض اوقات اس عذاب کا اثر صرف ظالموں ہی پر نہیں رہتا بلکہ نیک لوگ بھی اس سے دنیاوی تکلیف میں متاثر ہوتے ہیں گو آخرت میں ان کو کوئی عذاب نہ ہو بلکہ اس دنیا کی تکلیف پر جو ان کو پہنچتی ہے اجر بھی ملے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے واتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَاۗصَّةً ، یعنی ایسے عذاب سے ڈرو جو اگر آ گیا تو صرف ظالموں ہی تک نہیں رہے گا دوسرے لوگ بھی اس کے لپیٹ میں آئیں گے۔ ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا تلقین فرمائی گئی ہے کہ یا اللہ اگر ان لوگوں پر آپ کا عذاب میرے سامنے اور میرے دیکھتے ہوئے ہی آنا ہے تو مجھے ان ظالموں کے ساتھ نہ رکھئے۔ رسول اللہ ﷺ کا معصوم اور عذاب الٰہی سے محفوظ ہونا اگرچہ آپ کے لئے یقینی تھا مگر پھر بھی اس دعا کی تلقین اس لئے فرمائی گئی کہ آپ ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھیں اس سے فریاد کرتے رہیں تاکہ آپ کا اجر بڑھے۔ (قرطبی)
Ayah 23:95

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

اور ہم کو قدرت ہے کہ تجھ کو دکھلا ویں جو ان سے وعدہ کردیا ہے

وَاِنَّا عَلٰٓي اَنْ نُّرِيَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ ، یعنی ہم کو اس پر پوری قدرت ہے کہ ہم آپ کے سامنے ہی آپ کو ان پر عذاب آتا ہوا دکھلا دیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اگرچہ اس امت پر آنحضرت ﷺ کی برکت سے عذاب عام نہ آنے کا وعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوچکا ہے وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ ، یعنی ہم ان لوگوں کو اس حالت میں ہلاک کرنے والے نہیں کہ آپ ان کے اندر موجود ہوں لیکن خاص خاص لوگوں پر خاص حالات میں عذاب دنیا ہی میں آجانا اس کے منافی نہیں۔ اس آیت میں جیسا کہ فرمایا ہے کہ ہم اس پر قادر ہیں کہ آپ کو بھی ان کا عذاب دکھلا دیں وہ اہل مکہ پر قحط اور بھوک کا عذاب پھر غزوہ بدر میں مسلمانوں کی تلوار کا عذاب آپ کے سامنے ہی ان پر پڑچکا تھا (قرطبی)
Ayah 23:96

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

بری بات کے جواب میں وہ کہہ جو بہتر ہے ہم خوب جانتے ہیں جو یہ بتاتے ہیں

اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ، یعنی آپ برائی کو بھلائی کے ذریعہ ظلم کو انصاف کے ذریعہ اور بےرحمی کو رحم کے ذریعہ دفع فرما دیں۔ یہ مکارم اخلاق کی تعلیم ہے جو رسول اللہ ﷺ کو دی گئی ہے جو مسلمانوں کے باہم معاملات کے لئے ہمیشہ جاری ہے البتہ کفار و مشرکین سے ان کے مظالم کے مقابلے میں عفو و درگزر ہی کرتے رہنا، ان پر ہاتھ نہ اٹھانا، یہ حکم آیات جہاد سے منسوخ ہوگیا مگر عین حالت جہاد میں بھی اس حسن خلق کے بہت سے مظاہر باقی رکھے گئے کہ عورت کو قتل نہ کیا جائے، بچے کو قتل نہ کیا جائے جو مذہبی لوگ مسلمانوں کے مقابلے پر جنگ میں شریک نہیں ان کو قتل نہ کیا جائے اور جس کو بھی قتل کریں تو اس کا مثلہ نہ بنادیں کہ ناک کان وغیرہ کاٹ لیں، وغیر ذلک من احکام مکارم الاخلاق۔ اسی لئے بعد کی آیت میں آنحضرت ﷺ کو شیطان اور اس کے وساوس سے پناہ مانگنے کی دعا تلقین کی گئی کہ عین میدان قتال میں بھی آپ کی طرف سے عدل و انصاف اور مکارم اخلاق کے خلاف کوئی چیز شیطان کے غصہ دلانے سے صادر نہ ہونے پائے وہ دعا یہ ہے۔
Ayah 23:97

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور کہہ اے رب میں تیری پناہ چاہتا ہوں شیطان کی چھیڑ سے

وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ ، وَاَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ ، لفظ ھمز کے معنے دھکا دینے اور دبانے کے آتے ہیں۔ اور پیچھے کی طرف سے آواز دینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ دعا اپنے مفہوم عام کے اعتبار سے ایک جامع دعا شیطان کے شر اور مکر سے بچنے کے لئے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو اس دعا کی تلقین فرمائی ہے تاکہ ایسے غصہ اور غیظ و غضب کی حالت میں جبکہ انسان کو اپنے نفس پر قابو نہیں رہتا اور اس میں ھمز شیطان کا دخل ہوتا ہے اس سے محفوظ رہیں۔ اس کے علاوہ شیاطین اور جنات کے دوسرے آثار اور حملوں سے بچنے کے لئے بھی یہ دعا مجرب ہے۔ حضرت خالد ؓ کو شب میں نیند نہ آتی تھی رسول اللہ ﷺ نے ان کو یہ کلمات دعا تلقین فرمائے کہ یہ پڑھ کر لیٹا کریں۔ انہوں نے پڑھا تو یہ شکایت جاتی رہی وہ دعا یہ ہے اعوذ بکلمات اللہ التامة من غضب اللہ و عقابہ و من شر عبادہ و من ھمزت الشیطین و ان یحضرون۔
Ayah 23:98

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور پناہ تیری چاہتا ہوں اے رب اس سے کہ میرے پاس آئیں

اَنْ يَّحْضُرُوْنِ ، صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ شیطان تمہارے ہر کام میں ہر حال میں تمہارے پاس آتا ہے اور ہر کام میں گناہوں اور غلط کاموں کا وسوسہ دل میں ڈالتا رہتا ہے (قرطبی) اسی سے پناہ مانگنے کے لئے یہ دعا تلقین فرمائی گئی ہے۔
Ayah 23:99

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پہنچے ان میں کسی کو موت کہے گا اے رب مجھ کو پھر بھیج دو

رَبِّ ارْجِعُوْنِ ، یعنی موت کے وقت کافر پر جب آخرت کا عذاب سامنے آنے لگتا ہے تو وہ تمنا کرتا ہے کہ کاش میں پھر دنیا میں لوٹ جاؤں اور نیک عمل کر کے اس عذاب سے نجات حاصل کرلوں۔ ابن جریر نے بروایت ابن جریج نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ موت کے وقت مومن جب رحمت کے فرشتے اور رحمت کے سامان سامنے دیکھنے لگتا ہے تو فرشتے اس سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم چاہتے ہو کہ پھر تمہیں دنیا میں واپس کردیا جائے تو وہ کہتا ہے کہ میں اس غموں اور تکلیفوں کے عالم میں جا کر کیا کروں گا مجھے تو اب اللہ کے پاس لے جاؤ اور کافر سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتا ہے رَبِّ ارْجِعُوْنِ یعنی مجھے دنیا میں لوٹا دو۔
Ayah 23:100

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

شاید کچھ میں بھلا کام کرلوں اس میں جو پیچھے چھوڑ آیا ہرگز نہیں یہ ایک بات ہے کہ وہی کہتا ہے اور ان کے پیچھے پردہ ہے اس دن تک کہ اٹھائے جائیں۔

كَلَّا ۭ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَاۗىِٕلُهَا ۭ وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ ، برزخ کے لفظی معنے حاجز اور فاصل کے ہیں۔ دو حالتوں یا دو چیزوں کے درمیان جو چیز فاصل ہو اس کو برزخ کہتے ہیں اسی لئے موت کے بعد قیامت اور حشر تک کے زمانے کو برزخ کہا جاتا ہے کہ یہ دنیاوی حیات اور آخرت کی حیات کے درمیان حد فاصل ہے اور معنے آیت کے یہ ہیں کہ جب مرنے والا کافر، فرشتوں سے دوبارہ دنیا میں بھیجنے کو کہتا ہے تو یہ کلمہ تو اس کو کہنا ہی تھا کیونکہ اب عذاب سامنے آ چکا ہے مگر اس کلمہ کا اب کوئی فائدہ اس لئے نہیں کہ وہ اب برزخ میں پہنچ چکا ہے جس کا قانون یہ ہے کہ برزخ سے لوٹ کر کوئی دنیا میں نہیں آتا اور قیامت اور بعث و نشر سے پہلے دوسری زندگی نہیں ملتی۔ واللہ اعلم۔
Ayah 23:101

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جب پھونک ماریں صور میں تو نہ قرابتیں ہیں ان میں اس دن اور نہ ایک دوسرے کو پوچھے

خلاصہ تفسیر پھر جب (قیامت کا روز ہوگا اور) صور پھونکا جاوے گا تو (ایسی ہول وہیبت میں گرفتار ہوں گے کہ) ان میں (جو) باہمی رشتے ناتے (تھے) اس روز (وہ بھی گویا) نہ رہیں گے (یعنی کوئی کسی کی ہمدردی نہ کرے گا جیسے اجنبی اجنبی ہوتے ہیں) اور نہ کوئی کسی کو پوچھے گا (کہ بھائی تم کس حالت میں ہو، غرض نہ رشتہ ناتا کام آوے گا نہ دوستی اور تعارف، پس وہاں کام کی چیز ایک ایمان ہوگا جس کی عام شناخت کے لئے کہ سب پر ظاہر ہوجاوے ایک ترازو کھڑی کی جاوے گی اور اس سے اعمال و عقائد کا وزن ہوگا) سو جس شخص کا پلہ (ایمان کا) بھاری ہوگا (یعنی وہ مومن ہوگا) تو ایسے لوگ کامیاب (یعنی نجات پانے والے) ہوں گے (اور مذکور ہول وہیبت کے حالات کہ نہ کسی کا رشتہ کام آوے نہ دوستی اور نہ کوئی کسی کو پوچھے کہ کس حال میں ہو، یہ ان مومنین کو پیش نہ آئیں گے لقولہ تعالیٰ لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ۔ الایة) اور جس شخص کا پلہ (ایمان کا) ہلکا ہوگا (یعنی وہ کافر ہوگا) سو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کرلیا اور جہنم میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے ان کے چہروں کو (اس جہنم کی) آگ جھلسی ہوگی اور اس (جہنم) میں ان کے منہ بگڑے ہوں گے (اور ان سے حق تعالیٰ بالواسطہ یا بلا واسطہ ارشاد فرما ویں گے کہ) کیوں کیا میری آیتیں (دنیا میں) تم کو پڑھ کر سنائی نہیں جایا کرتی تھیں، اور تم ان کو جھٹلایا کرتے تھے (یہ اس کی سزا مل رہی ہے) وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب (واقعی) ہماری بدبختی نے ہم کو (ہمارے ہاتھوں) گھیر لیا تھا اور (بیشک) ہم گمراہ لوگ تھے (یعنی ہم جرم کا اقرار اور اس پر ندامت و معذرت کا اظہار کر کے درخواست کرتے ہیں کہ) اے ہمارے رب ہم کو اس (جہنم) سے (اب) نکال دیجئے (اور دوبارہ دنیا میں بھیج دیجئے لقولہ تعالیٰ فی الم السجدة فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا) پھر اگر ہم دوبارہ (ایسا) کریں تو ہم بیشک پورے قصور وار ہیں (اس وقت ہم کو خوب سزا دیجئے اور اب چھوڑ دیجئے) ارشاد ہوگا کہ اسی (جہنم) میں راندے ہوئے پڑے رہو اور مجھ سے بات مت کرو (یعنی ہم نہیں منظور کرتے، کیا تم کو یاد نہیں رہا کہ) میرے بندوں میں ایک گروہ (ایمانداروں کا) تھا جو (بیچارے ہم سے) عرض کیا کرتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو ہم کو بخش دیجئے اور ہم پر رحمت فرمائیے اور آپ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والے ہیں سو تم نے (محض اس بات پر جو ہر طرح قابل قدر تھی) ان کا مذاق مقرر کیا تھا (اور) یہاں تک (اس کا مشغلہ کیا) کہ ان کے مشغلہ نے تم کو ہماری یاد بھی بھلا دی اور تم ان سے ہنسی کیا کرتے تھے (سو ان کا تو کچھ نہ بگڑا چند روز کی کلفت تھی کہ صبر کرنا پڑا جس کا یہ نتیجہ ملا کہ) میں نے ان کو آج ان کے صبر کا یہ بدلہ دیا، کہ وہی کامیاب ہوئے (اور تم اس ناکامی میں گرفتار ہوئے مطلب جواب کا یہ ہوا کہ تمہارا قصور اس قابل نہیں کہ سزا کے وقت اقرار کرنے سے معاف کردیا جاوے کیونکہ تم نے ایسا معاملہ کیا جس سے ہمارے حقوق کا بھی اتلاف ہوا اور حقوق العباد کا بھی۔ اور عباد بھی کیسے ہمارے مقبول اور محبوب جو ہم سے خصوصیت خاصہ رکھتے تھے کیونکہ ان کو سخریہ بنانے میں ان کی ایذاء کہ اضاعة حق العبد ہے اور تکذیب حق جو منشا سخریہ کا ہے کہ اضاعة حق اللہ ہے دونوں لازم آئے پس اس کی سزا کے لئے دوام اور تمام ہی مناسب ہے اور مومنین کو ان کے سامنے جنت کی نعمتوں سے کامیاب کرنا یہ بھی ایک سزا ہے کفار کیلئے کیونکہ اعداء کی کامیابی سے روحانی ایذا ہوتی ہے یہ تو جواب ہوگیا ان کی درخواستوں کا آگے تنبیہ ہے ان کے بطلان اعتقاد و مشرب پر تاکہ ذلت پر ذلت و حسرت پر حسرت ہونے سے عقوبت میں شدت ہو، اس لئے) ارشاد ہوگا کہ (اچھا یہ بتلاؤ) تم برسوں کے شمار سے کس قدر مدت زمین میں رہے ہوگے (چونکہ وہاں کے ہول وہیبت سے ان کے ہوش و حواس گم ہوچکے ہوں گے اور اس دن کا طول بھی پیش نظر ہوگا) وہ جواب دیں گے کہ (برس کیسے، بہت رہے ہوں گے تو) ایک دن یا ایک دن سے بھی کم ہم رہے ہوں گے (اور سچ یہ ہے کہ ہم کو یاد نہیں) سو گننے والوں سے (یعنی فرشتوں سے کہ اعمال و اعمار سب کا حساب کرتے تھے) پوچھ لیجئے، ارشاد ہوگا کہ (یوم اور بعض یوم تو غلط ہے مگر اتنا تو تمہارے اقرار سے جو کہ صحیح بھی ہے ثابت ہوگیا کہ) تم (دنیا میں) تھوڑی ہی مدت رہے (لیکن) کیا خوب ہو تاکہ تم (یہ بات اس وقت) سمجھتے ہوتے (کہ دنیا کی بقا ناقابل اعتبار ہے اور اس کے سوا اور کوئی دار القرار ہے مگر وہاں تو بقاء کو دنیا ہی میں منحصر سمجھا اور اس عالم کا انکار کرتے رہے وَقَالُوْٓا اِنْ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ ، اور اب جو غلطی ظاہر ہوئی اور صحیح سمجھے تو بیکار، اور غلطی اعتقاد پر تنبیہ کے بعد آگے پھر اس اعتقاد پر زجر ہے، جو بطور خلاصہ مضمون فرد قرار داد جرم کے ہے کہ) ہاں تو کیا تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تم کو یوں ہی مہمل (خالی از حکمت) پیدا کردیا ہے اور یہ (خیال کیا تھا) کہ تم ہمارے پاس نہیں لائے جاؤ گے (مطلب یہ کہ جب ہم نے آیات میں جن کا صدق دلائل صحیحہ سے ثابت ہے قیامت اور اس میں اعمال کے بدلے کی خبر دی تھی تو معلوم ہوگیا تھا کہ مکلفین کی تخلیق کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اس کا منکر ہونا کتنا بڑا امر منکر تھا)۔ معارف و مسائل فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ ، قیامت کے روز صور دو مرتبہ پھونکا جائے گا نفخہ اولیٰ یعنی پہلے صور کا یہ اثر ہوگا کہ سارا عالم زمین و آسمان اور جو اس کے درمیان ہے فنا ہوجائے گا اور نفخہ ثانیہ سے پھر سارے مردے زندہ ہو کر کھڑے ہوجائیں گے قرآن کریم کی آیت ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ اس آیت میں صور کا نفخہ اولیٰ مراد ہے یا نفخہ ثانیہ، اس میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس سے بروایت ابن جبیر منقول ہے کہ اس آیت میں مراد نفخہ اولیٰ ہے اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا اور بروایت عطا یہی بات حضرت ابن عباس سے بھی منقول ہے کہ مراد اس جگہ نفخہ ثانیہ ہے۔ تفسیر مظہری میں اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود کا قول یہ ہے کہ قیامت کے روز ایک ایک بندے مرد و عورت کو محشر کے میدان میں لایا جائے گا اور تمام اولین و آخرین کے اس بھرے مجمع کے سامنے کھڑا کیا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ کا ایک منادی یہ نداء کرے گا کہ یہ شخص فلاں بن فلاں ہے اگر کسی کا کوئی حق اس کے ذمہ ہے تو سامنے آجائے اس سے اپنا حق وصول کرلے۔ یہ وہ وقت ہوگا کہ بیٹا اس پر خوش ہوگا کہ میرا حق باپ کے ذمہ نکل آیا، اور باپ کا کوئی حق بیٹے پر ہوا تو باپ خوش ہوگا کہ اس سے وصول کروں گا اسی طرح میاں بیوی اور بھائی بہن جس کا جس پر کوئی حق ہوگا یہ منادی سن کر اس سے وصول کرنے پر آمادہ اور خوش ہوگا، یہی وہ وقت ہے جس کے متعلق اس آیت مذکورہ میں آیا ہے فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ ، یعنی اس وقت باہمی نسبی رشتے اور قرابتیں کام نہ آئیں گی کوئی کسی پر رحم نہ کرے گا، ہر شخص کو اپنی اپنی فکر لگی ہوگی یہی مضمون اس آیت کا ہے يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ ، وَاُمِّهٖ وَاَبِيْهِ ، وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيْهِ ، یعنی وہ دن جس میں ہر انسان اپنے بھائی سے، ماں اور باپ سے، بیوی اور اولاد سے دور بھاگے گا۔ محشر میں مومنین اور کفار کے حالات میں فرق مگر یہ حال کافروں کا ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ اوپر اس کا ذکر موجود ہے مومنین کا یہ حال نہیں ہوگا کیونکہ مومنین کا حال خود قرآن نے یہ ذکر کیا ہے اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ ، یعنی مومنین صالحین کی اولاد کو بھی اللہ تعالیٰ (بشرط ایمان) اپنے آباء صالحین کے ساتھ لگا دیں گے اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز جس وقت محشر میں سب پیاسے ہوں گے تو مسلمان بچے جو نابالغی کی حالت میں مر گئے تھے وہ جنت کا پانی لئے ہوئے نکلیں گے لوگ ان سے پانی مانگیں گے تو وہ کہیں گے کہ ہم تو اپنے ماں باپ کو تلاش کر رہے ہیں یہ پانی ان کے لئے ہے (رواہ ابن ابی الدنیا عن عبداللہ بن عمر و عن ابی ذر۔ مظہری) اسی طرح ایک صحیح حدیث میں جس کو ابن عساکر نے بسند صحیح حضرت ابن عمر سے نقل کیا ہے یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز ہر نسبی تعلق یا زوجیت کے تعلق سے جو رشتے پیدا ہوں گے وہ سب منقطع ہوجائیں گے (کوئی کسی کے کام نہ آوے گا) بجز میرے نسب اور میری زوجیت کے رشتہ کے، علماء نے فرمایا کہ اس نسب نبوی میں ساری امت کے مسلمان بھی داخل ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ امت کے باپ اور آپ کی ازواج مطہرات امت کی مائیں ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ رشتہ اور دوستی کا کوئی تعلق کسی کے کام نہ آنا یہ حال محشر میں کافروں کا ہوگا مومنین ایک دوسرے کی شفاعت اور مدد کریں گے اور ان کے تعلقات ایک دوسرے کے کام آئیں گے۔ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ ، یعنی آپس میں کوئی کسی کی بات نہ پوچھے گا اور دوسری ایک آیت میں جو یہ مذکور ہے وَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَسَاۗءَلُوْنَ ، یعنی محشر میں لوگ باہم ایک دوسرے سے سوالات کریں گے اور حالات پوچھیں گے۔ اس کے بارے میں حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ محشر میں مختلف موقف ہوں گے ہر موقف کا حال مختلف ہوگا۔ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ کوئی کسی کو نہ پوچھے گا پھر کسی موقف میں جب وہ ہیبت اور ہول کا غلبہ کم ہوجائے گا تو باہم ایک دوسرے کا حال بھی دریافت کریں گے۔ (مظھری)
Ayahs 23:102–103

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

سو جس کی بھاری ہوئی تول تو وہی لوگ کام لے نکلے

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جس کی ہلکی نکلی تول تو وہی لوگ ہیں جو ہار بیٹھے اپنی جان دوزخ ہی میں رہا کریں گے

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ، وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ فِيْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَ ، یعنی میزان عمل میں جس شخص کا نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا وہ ہی فلاح پانے والے ہیں اور جس کا پلہ نیکیوں کا ہلکا رہے گا تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں خود اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کیا اور اب وہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنے والے ہیں۔ اس آیت میں مقابلہ صرف مومنین کاملین اور کفار کا ہے اور انہیں کے وزن اعمال کا اور ان میں سے ہر ایک کے انجام کا ذکر کیا گیا کہ مومنین کاملین کا پلہ بھاری ہوگا ان کو فلاح حاصل ہوگی، کفار کا پلہ ہلکا رہے گا ان کو ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنا پڑے گا۔ اور قرآن کریم کی دوسری تصریحات سے ثابت ہے کہ اس جگہ مومنین کاملین کا پلہ بھاری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے پلے یعنی سیئات و معاصی کے پلے میں کوئی وزن ہی نہ ہوگا وہ خالی نظر آئے گا۔ اور کفار کا پلہ ہلکا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کے پلہ میں کوئی وزن ہی نہ ہوگا بالکل خالی جیسا ہلکا رہے گا جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا، یعنی ہم کفار اور ان کے اعمال کا قیامت کے دن کوئی وزن ہی قائم نہ کریں گے۔ یہ حال تو مومنین کاملین کا ہوا اور جن سے گناہ سرزد ہی نہیں ہوئے یا توبہ وغیرہ سے معاف کردیئے گئے وزن اعمال کے وقت سیئات کے پلہ میں ان کے نام پر کچھ نہ ہوگا۔ دوسری طرف کفار ہیں جن کے نیک اعمال بھی شرط ایمان موجود نہ ہونے کے سبب میزان عدل میں بےوزن ہوں گے۔ باقی رہا معاملہ گنہگار مسلمانوں کا جن کے نیکیوں کے پلہ میں بھی اعمال ہوں گے اور سیئات کے پلہ میں بھی اعمال ہوں گے ان کا ذکر اس آیت میں صراحةً نہیں کیا گیا بلکہ عموماً قرآن کریم میں گنہگار مسلمانوں کی سزا و جزاء سے سکوت ہی اختیار کیا گیا ہے اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ نزول قرآن کے زمانے میں جتنے مومنین صحابہ کرام تھے وہ سب کے سب عدول تھے یعنی عموماً تو وہ کبیرہ گناہوں سے پاک ہی رہے اور اگر کسی سے کوئی گناہ ہو بھی گیا تو اس نے توبہ کرلی توبہ سے معاف ہوگیا۔ (مظھری) قرآن مجید کی ایک آیت خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَـيِّـــًٔـا میں ایسے لوگوں کا ذکر ہے جن کے نیک و بداعمال مل جلے ہیں۔ ان کے متعلق حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ قیامت کے روز ان لوگوں کے اعمال کا حساب اس طرح ہوگا کہ جس شخص کی نیکیاں اس کے گناہوں سے بڑھ جائیں خواہ ایک ہی نیکی کی مقدار سے بڑھے وہ جنت میں جائے گا اور جس شخص کی سیئات اور گناہ نیکیوں سے بڑھ جائیں خواہ ایک ہی گناہ کی مقدار سے بڑھے وہ دوزخ میں جائے گا مگر اس مومن گنہگار کا دوزخ میں داخلہ تطہیر اور پاک کرنے کے لئے ہوگا جیسے لوہے، سونے وغیرہ کو آگ میں ڈال کر میل اور زنگ سے صاف کیا جاتا ہے اس کا جہنم میں جانا بھی ایسا ہی ہوگا۔ جس وقت جہنم کی آگ سے اس کے گناہوں کا زنگ دور ہوجاوے گا تو جنت میں داخل ہونے کے قابل ہوجاوے گا، جنت میں بھیج دیا جائے گا اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ قیامت کی میزان عمل ایسا صحیح وزن کرنے والی ہوگی کہ ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی کمی بیشی ہوگی تو پلہ جھک جائے گا یا اٹھ جائے گا۔ اور جس شخص کی حسنات اور سیئات میزان عمل میں بالکل برابر سرابر رہیں گے تو وہ اصحاب اعراف میں داخل ہوگا اور ایک زمانہ تک دوزخ اور جنت کے درمیان حکم ثانی کا منتظر رہے گا اور بالآخر اس کو بھی جنت میں داخلہ مل جائے گا (رواہ ابن ابی حاتم۔ مظہری) ابن عباس کے اس قول میں کفار کا ذکر نہیں صرف مومنین گنہگاروں کا ذکر ہے۔ وزن اعمال کی کیفیت بعض روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خود انسان مومن و کافر کو میزان عدل میں رکھ کر تولا جائے گا۔ کافر کا کوئی وزن نہ ہوگا خواہ وہ کتنا ہی فربہ اور موٹا ہو۔ (بخاری و مسلم من حدیث ابی ہریرة) اور بعض روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نامہ اعمال تولے جائیں گے۔ ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان اور حاکم نے یہ مضمون حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کیا ہے۔ اور بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کے اعمال جو دنیا میں بےوزن بےجسم اعراض ہوتے ہیں محشر میں ان کو مجسم کر کے میزان عمل میں رکھا جائے گا وہ تولے جائیں گے۔ طبرانی وغیرہ نے یہ روایت ابن عباس رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا ہے۔ ان سب روایات حدیث کے الفاظ اور متن تفسیر مظہری میں مکمل موجود ہیں وہاں دیکھے جاسکتے ہیں۔ اسی آخری قول کی تائید میں ایک حدیث عبد الرزاق نے فضل العلم میں ابراہیم نخعی سے نقل کی ہے کہ قیامت کے روز ایک شخص کے اعمال وزن کے لئے لائے جائیں گے اور ترازو کے پلہ میں رکھے جائیں گے تو یہ پلہ ہلکا رہے گا پھر ایک چیز ایسی لائی جائے گی جو بادل کی طرح ہوگی اس کو بھی اس کے حسنات کے پلہ میں رکھ دیا جائے گا تو یہ پلہ بھاری ہوجائے گا اس وقت اس شخص سے کہا جائے گا کہ تم جانتے ہو یہ کیا چیز ہے (جس نے تمہاری نیکیوں کا پلہ بھاری کردیا) وہ کہے گا مجھے کچھ معلوم نہیں۔ تو بتلایا جائے گا کہ یہ تیرا علم ہے جو تو لوگوں کو سکھایا کرتا تھا۔ اور ذہبی نے فضل علم میں حضرت عمران بن حصین سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز شہیدوں کا خون اور علماء کی روشنائی (جس سے انہوں نے علم دین کی کتابیں لکھی تھیں) باہم تولے جائیں گے تو علماء کی روشنائی کا وزن شہیدوں کے خون سے زیادہ نکلے گا۔ (مظھری) وزن اعمال کی کیفیت کے متعلق تینوں قسم کی روایات نقل کرنے کے بعد تفسیر مظہری میں فرمایا کہ اس میں کوئی بعد نہیں کہ خود انسان اور اس کے اعمال کو جسمانی شکل میں تولا جائے یا اس کے نامہ اعمال کو اس کے ساتھ رکھ کر تولا جائے اس لئے ان تینوں روایتوں میں کوئی تعارض اور اختلاف نہیں۔
Ayahs 23:104–107

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

جھلس دے گی ان کے منہ کو آگ اور وہ اس میں بدشکل ہو رہے ہوں گے

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

کیا تم کو سنائی نہ تھیں ہماری آیتیں پھر تم ان کو جھٹلاتے تھے

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

بولے اے رب زور کیا ہم پر ہماری کم بختی نے اور رہے ہم لوگ بہکے ہوئے

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے ہمارے رب نکال لے ہم کو اس میں سے اگر ہم پھر کریں تو ہم گنہگار

وَهُمْ فِيْهَا كٰلِحُوْنَ ، کالح لغت میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے دونوں ہونٹ اس کے دانتوں کو نہ چھپائیں ایک اوپر رہے دوسرا نیچے دانت نکلے ہوئے نظر آئیں جو نہایت بدصورت ہے جہنم میں جہنمی کا اوپر کا ہونٹ اوپر چڑھ جائے گا اور نیچے کا ہونٹ نیچے لٹک جائے گا دانت کھلے نکلے نظر آویں گے۔
Ayahs 23:108–115

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

فرمایا پڑے رہو پھٹکارے ہوئے اس میں اور مجھ سے نہ بولو

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

ایک فرقہ تھا میرے بندوں میں جو کہتے تھے اے رب ہمارے ہم یقین لائے سو معاف کر ہم کو اور رحم کر ہم پر اور تو سب رحم والوں سے بہتر ہے

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

پھر تم نے ان کو ٹھٹھوں میں پکڑا یہاں تک کہ بھول گئے ان کے پیچھے میری یاد اور تم ان سے ہنستے رہے

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

میں نے آج دیا ان کو بدلہ ان کے صبر کرنے کا وہی ہیں مراد کو پہنچنے والے

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

فرمایا تم کتنی دیر رہے زمین میں برسوں کی گنتی سے

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

بولے ہم رہے ایک دن یا کچھ دن سے کم تو پوچھ لے گنتی والوں سے

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

فرمایا تم اس میں بہت نہیں تھوڑا ہی رہے ہو اگر تم جانتے ہوتے

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

سو کیا تم خیال رکھتے ہو کہ ہم نے تم کو بنایا کھیلنے کو اور تم ہمارے پاس پھر کر نہ آؤ گے۔

لَا تُكَلِّمُوْنِ ، حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ اہل جہنم کا یہ آخری کلام ہوگا جس کے جواب میں حکم ہوجائے گا کہ ہم سے کلام نہ کرو پھر وہ کسی سے کچھ کلام نہ کرسکیں گے جانوروں کی طرح ایک دوسرے کی طرف بھونکیں گے۔ اور بیہقی وغیرہ نے محمد بن کعب سے نقل کیا ہے کہ قرآن میں اہل جہنم کی پانچ درخواستیں نقل کی گئی ہیں ان میں سے چار کا جواب دیا گیا اور پانچویں کے جواب میں حکم ہوگیا لَا تُكَلِّمُوْنِ بس یہ ان کا آخری کلام ہوگا اس کے بعد کچھ نہ بول سکیں گے۔ (مظھری)