Ayahs 23:37–41اِنْ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ (اس دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں۔ پس مرنا جینا اسی دنیا کا ہے اور پھر دوبارہ زندہ ہونا نہیں) یہی قول عام کفار کا ہے جو قیامت کے منکر ہیں۔ یہ انکار جو زبان سے کرتے ہیں وہ تو کھلے کافر ہیں ہی، لیکن افسوس اور بہت فکر کی چیز یہ ہے کہ اب بہت سے مسلمانوں میں بھی عملی طور پر یہ انکار ان کے ہر قول و فعل سے مترشح ہوتا ہے کہ آخرت اور قیامت کے حساب کی طرف کبھی دھیان بھی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اس مصیبت سے نجات عطا فرماویں۔
Ayahs 23:42–50خلاصہ تفسیر
پھر ان (عاد یا ثمود) کے (ہلاک ہونے کے) بعد ہم نے اور امتوں کو پیدا کیا (جو کہ تکذیب رسول کے سبب وہ بھی ہلاک ہوئے اور ان کے ہلاک ہونے کی جو مدت علم الٰہی میں مقرر تھی) کوئی امت (ان امتوں میں سے) اپنی (اس) مدت معینہ سے (ہلاک ہونے میں نہ پیش دستی کرسکتی تھی اور نہ (اس مدت سے) وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے تھے (بلکہ عین وقت پر ہلاک کئے گئے غرض وہ امتیں اول پیدا کی گئیں) پھر (ان کے پاس) ہم نے اپنے پیغمبروں کو یکے بعد دیگرے (ہدایت کے لئے) بھیجا (جس طرح وہ امتیں یکے بعد دیگرے پیدا ہوئیں مگر ان کی حالت یہ ہوئی کہ) جب کبھی کسی امت کے پاس اس امت کا (خاص) رسول (خدا کے احکام لے کر) آیا انہوں نے اس کو جھٹلایا سو ہم نے (بھی ہلاک کرنے میں) ایک کے بعد ایک کا تار باندھ دیا اور ہم نے ان کی کہانیاں بنادیں (یعنی وہ ایسے نیست و نابود ہوئے کہ بجز کہانیوں کے ان کا کچھ نام و نشان نہ رہا) سو خدا کی مار ان لوگوں پر جو (انبیاء کے سمجھانے پر بھی) ایمان نہ لاتے تھے۔ پھر ہم نے موسیٰ ؑ اور ان کے بھائی ہارون ؑ کو اپنے احکام اور کھلی دلیل (یعنی معجزہ صریحہ کہ دلیل نبوت ہے) دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس (بھی پیغمبر بنا کر) بھیجا اور (بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہونا بھی معلوم ہے) سو ان لوگوں نے (ان کی تصدیق و اطاعت سے) تکبر کیا اور وہ لوگ تھے ہی متکبر (یعنی پہلے ہی سے ان کا دماغ سڑا ہوا تھا) چناچہ وہ (باہم) کہنے لگے کہ کیا ہم ایسے دو شخصوں پر جو ہماری طرح کے آدمی ہیں (ان میں کوئی بات امتیاز کی نہیں) ایمان لے آویں (اور ان کے فرمانبردار بن جاویں) حالانکہ ان کی قوم کے لوگ (تو خود) ہمارے زیر حکم ہیں (یعنی ہم کو تو خود ان کی قوم پر ریاست حاصل ہے پھر ان دونوں کے اقتدار اور ریاست کو ہم کیسے تسلیم کرسکتے ہیں، ان لوگوں نے ریاست دینیہ کو ریاست دنیویہ پر قیاس کیا کہ ہم کو ایک قسم کی ریاست یعنی دنیوی حاصل ہے تو دوسری قسم کے بھی ہم ہی مستحق ہیں اور جب ان کو دنیوی ریاست نہیں ملی تو دینی کیسے مل سکتی ہے اور فساد اس قیاس کا ظاہر ہے) غرض وہ لوگ ان دونوں کی تکذیب ہی کرتے رہے پس (اس تکذیب کی وجہ سے) ہلاک کئے گئے اور (ان کے ہلاک ہونے کے بعد) ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب (یعنی توراة) عطا فرمائی تاکہ (اس کے ذریعہ سے) وہ لوگ (یعنی موسیٰ ؑ کی قوم بنی اسرائیل) ہدایت پائیں اور ہم نے (اپنی قدرت و توحید پر دلالت کے لئے اور نیز بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے) مریم کے بیٹے (عیسیٰ علیہ السلام) کو ان کی ماں (حضرت مریم علیہا السلام) کو بڑی نشانی (اپنی قدرت کی اور ان کے صدق کی) بنایا (کہ بےباپ تولد ہونا دونوں کے متعلق آیت عظیمہ ہے) اور (چونکہ ان کو نبی بنانا منظور تھا اور ایک ظالم بادشاہ بچپن ہی میں ان کے درپئے قتل ہوگیا تھا اس لئے) ہم نے (اس سے بچا کر) ان دونوں کو ایک ایسی بلند زمین پر لیجا کر پناہ دی جو (بوجہ غلات اور میوہ جات پیدا ہونے کے) ٹھہرنے کے قابل اور (بوجہ نہر جاری ہونے کے) شاداب جگہ تھی (یہاں تک کہ امن وامان سے جوان ہوئے اور نبوت عطا ہوئی تو توحید و دعویٰ رسالت میں ان کی تصدیق ضروری تھی مگر بعض نے نہ کی)۔
Ayah 23:51خلاصہ تفسیر
ہم نے جس طرح تم کو اپنی نعمتوں کے استعمال کی اجازت دی اور عبادت کا حکم دیا اسی طرح سب پیغمبروں کو اور ان کے واسطے سے ان کی امتوں کو بھی حکم دیا کہ) اے پیغمبرو ! تم (اور تمہاری امتیں) نفیس چیزیں کھاؤ (کہ خدا کی نعمت ہیں) اور (کھا کر شکر ادا کرو کہ) نیک کام کرو (یعنی عبادت اور) میں تم سب کے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں (تو عبادت اور نیک کاموں پر ان کی جزا اور ثمرات عطا کروں گا) اور (ہم نے ان سے یہ بھی کہا کہ جو طریقہ تمہیں ابھی بتایا گیا ہے) یہ ہے تمہارا طریقہ (جس پر تم کو چلنا اور رہنا واجب ہے) کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے (سب انبیاء اور ان کی امتوں کا کسی شریعت میں یہ طریقہ نہیں بدلا) اور (حاصل اس طریقہ کا یہ ہے کہ) میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو (یعنی میرے احکام کی مخالفت نہ کرو کیونکہ رب ہونے کی حیثیت سے تمہارا خالق ومالک بھی ہوں اور منعم ہونے کی حیثیت سے تم کو بیشمار نعمتیں بھی دیتا ہوں، ان سب چیزوں کا تقاضا اطاعت و فرمانبرداری ہے) سو (اس کا نتیجہ تو یہ ہونا تھا کہ سب ایک ہی طریقہ مذکورہ پر رہتے مگر ایسا نہ کیا بلکہ) ان لوگوں نے اپنے دین اپنا طریق الگ الگ کر کے اختلاف پیدا کرلیا ہر گروہ کے پاس جو دین (یعنی اپنا بنایا ہوا طریقہ) ہے وہ اسی پر مگن اور خوش ہے (اس کے باطل ہونے کے باوجود اسی کو حق سمجھتا ہے) تو آپ ان کو ان کی جہالت میں ایک خاص وقت تک رہنے دیجئے (یعنی ان کی جہالت پر آپ غم نہ کیجئے جب مقرر وقت ان کی موت کا آ جاوے گا تو سب حقیقت کھل جاوے گی اور اب جو فوری طور پر ان پر عذاب نہیں آتا تو) کیا (اس سے) یہ لوگ یوں گمان کر رہے ہیں کہ ہم ان کو جو کچھ مال و اولاد دیتے ہیں تو ہم ان کو جلدی جلدی فائدے پہنچا رہے ہیں (یہ بات ہرگز نہیں) بلکہ یہ لوگ (اس ڈھیل دینے کی وجہ) نہیں جانتے (یعنی یہ ڈھیل تو ان کو بطور استدراج کے دی جا رہی ہے جو انجام کار ان کے لئے اور زیادہ عذاب کا سبب بنے گی کیونکہ ہماری مہلت اور ڈھیل دینے سے یہ اور مغرور ہو کر سرکشی اور گناہوں میں زیادتی کریں گے اور عذاب زیادہ ہوگا)۔
معارف و مسائل
يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا، لفظ طیبات کے لغوی معنی ہیں پاکیزہ نفیس چیزیں۔ اور چونکہ شریعت اسلام میں جو چیزیں حرام کردی گئی ہیں نہ وہ پاکیزہ ہیں نہ اہل عقل کے لئے نفیس و مرغوب۔ اس لئے طیبات سے مراد صرف حلال چیزیں ہیں جو ظاہری اور باطنی ہر اعتبار سے پاکیزہ و نفیس ہیں۔ اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کو اپنے اپنے وقت میں دو ہدایات دی گئی ہیں ایک یہ کہ کھانا حلال اور پاکیزہ کھاؤ، دوسرے یہ کہ عمل نیک صالح کرو۔ اور جب انبیاء (علیہم السلام) کو یہ خطاب کیا گیا ہے جن کو اللہ نے معصوم بنایا ہے تو ان کی امت کے لوگوں کے لئے یہ حکم زیادہ قابل اہتمام ہے اور اصل مقصود بھی امتوں ہی کو اس حکم پر چلانا ہے۔
علماء نے فرمایا کہ ان دونوں حکموں کو ایک ساتھ لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ حلال غذا کا عمل صالح میں بڑا دخل ہے جب غذا حلال ہوتی ہے تو نیک اعمال کی توفیق خود بخود ہونے لگتی ہے اور غذا حرام ہو تو نیک کام کا ارادہ کرنے کے باوجود بھی اس میں مشکلات حائل ہوجاتی ہیں۔ حدیث میں ہے کہ بعض لوگ لمبے لمبے سفر کرتے ہیں اور غبار آلود رہتے ہیں پھر اللہ کے سامنے دعا کے لئے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور یا رب یا رب پکارتے ہیں مگر ان کا کھانا بھی حرام ہوتا ہے پینا بھی، لباس بھی حرام ہی تیار ہوتا ہے اور حرام ہی کی ان کو غذا ملتی ہے ایسے لوگوں کی دعا کہاں قبول ہو سکتی ہے۔ (قرطبی)
اس سے معلوم ہوا کہ عبادت اور دعا کے قبول ہونے میں حلال کھانے کو بڑا دخل ہے جب غذا حلال نہ ہو تو عبادت اور دعا کی مقبولیت کا بھی استحقاق نہیں رہتا۔
Ayah 23:52وَاِنَّ هٰذِهٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً ، لفظ امت، ایک جماعت اور کسی خاص پیغمبر کی قوم کے معنی میں معروف و مشہور ہے اور کبھی یہ لفظ طریقہ اور دین کے معنی میں بھی آتا ہے جیسے قرآن کی ایک آیت (آیت) وجدنا ابآءنا علی امة، اس میں امت سے مراد ایک دین اور طریقہ ہے۔ یہی معنے اس جگہ بھی مراد ہیں۔
Ayahs 23:53–56فَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرًا، زبر، زبور کی جمع ہے جو کتاب کے معنے میں آتا ہے اس معنے کے اعتبار سے مراد آیت کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو سب انبیاء اور ان کی امتوں کو اصول اور عقائد کے مسائل میں ایک ہی دین اور طریقہ پر چلنے کی ہدایت فرمائی تھی مگر امتوں نے اس کو نہ مانا اور آپس میں ٹکڑے مختلف ہوگئے ہر ایک نے اپنا اپنا طریقہ الگ اور اپنی کتاب الگ بنا لی۔ اور زبر کبھی زبرہ کی جمع بھی آتی ہے جس کے معنے قطعہ اور فرقہ کے ہیں۔ یہی معنے اس جگہ زیادہ واضح ہیں اور مراد آیت کی یہ ہے کہ یہ لوگ عقائد اور اصول میں بھی مختلف فرقے بن گئے لیکن فروعی اختلاف ائمہ مجتہدین کا اس میں داخل نہیں۔ کیونکہ ان اختلافات سے دین و ملت الگ نہیں ہوجاتا اور ایسا اختلاف رکھنے والے الگ الگ فرقے نہیں کہلاتے۔ اور اس اجتہادی اور فروعی اختلاف کو فرقہ واریت کا رنگ دینا خالص جہالت ہے جو کسی مجتہد کے نزدیک جائز نہیں۔
Ayahs 23:57–59خلاصہ تفسیر
اس میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں اور جو لوگ اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور جو لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے اور جو لوگ (اللہ کی راہ میں) دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور (باوجود اللہ کی راہ میں دینے اور خرچ کرنے کے) ان کے دل اس سے خوفزدہ رہتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے پاس جانے والے ہیں (دیکھئے وہاں جا کر ان صدقات کا کیا ثمرہ ظاہر ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ دینا حکم کے موافق نہ ہو مثلاً مال حلال نہ ہو یا نیت اللہ کے لئے خالص نہ ہو اور نیت میں اخلاص کامل نہ ہونا یا مال کا حرام ہونا ہمیں معلوم نہ ہو تو الٹا اس پر مواخذہ ہونے لگے تو جن لوگوں میں یہ صفات ہوں) یہ لوگ اپنے فائدے جلدی جلدی حاصل کر رہے ہیں اور وہ ان کی طرف دوڑ رہے ہیں اور (یہ اعمال مذکورہ کچھ سخت بھی نہیں جن کا کرنا مشکل ہو کیونکہ) ہم کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ کام کرنے کو نہیں کہتے (اس لئے یہ سب کام آسان ہیں اور اس کے ساتھ ان کا اچھا انجام اور ثمرہ یقینی ہے کیونکہ) ہمارے پاس ایک دفتر (نامہ اعمال کا محفوظ) ہے جو ٹھیک ٹھیک (سب کا حال) بتلا دے گا اور لوگوں پر ذرا ظلم نہ ہوگا۔
Ayah 23:60معارف و مسائل
وَالَّذِيْنَ يُؤ ْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ، لفظ یوتون، ایتاء سے مشتق ہے جس کے معنے دینے اور خرچ کرنے کے ہیں اس لئے اس کی تفسیر صدقات کے ساتھ کی گئی ہے اور حضرت صدیقہ عائشہ سے ایک قرات اس کی یاتون ما اتو بھی منقول ہے یعنی عمل کرتے ہیں جو کچھ کرتے ہیں اس میں صدقات نماز، روزہ اور تمام نیک کام شامل ہوجاتے ہیں اور مشہور قرات پر اگرچہ ذکر یہاں صدقات ہی کا ہوگا مگر مراد بہرحال عام اعمال صالحہ ہیں جیسا کہ ایک حدیث سے ثابت ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس آیت کا مطلب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یہ کام کر کے ڈرنے والے لوگ وہ ہیں جو شراب پیتے یا چوری کرتے ہیں ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا، اے صدیق کی بیٹی یہ بات نہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے اور نمازیں پڑھتے ہیں اور صدقات دیتے ہیں اس کے باوجود اس سے ڈرتے رہتے ہیں کہ شاید ہمارے یہ عمل اللہ کے نزدیک (ہماری کسی کوتاہی کے سبب) قبول نہ ہوں ایسے ہی لوگ نیک کاموں میں مسارعت اور مسابقت کیا کرتے ہیں (رواہ احمد والترمذی و ابن ماجہ۔ مظہری) اور حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو نیک عمل کر کے اتنے ڈرتے تھے کہ تم برے عمل کر کے بھی اتنا نہیں ڈرتے (قرطبی)
Ayahs 23:61–62اُولٰۗىِٕكَ يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَــيْرٰتِ وَهُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ ، مسارعت فی الخیرات سے مراد یہ ہے کہ جیسے عام لوگ دنیا کے منافع کے پیچھے دوڑتے اور دوسروں سے آگے بڑھنے کی فکر میں رہتے ہیں یہ حضرات دین کے فوائد میں ایسا ہی عمل کرتے ہیں اسی لئے وہ دین کے کاموں میں دوسروں سے آگے رہتے ہیں۔
Ayah 23:63خلاصہ تفسیر
(یہ تو اوپر مومنین کی حالت سنی مگر کفار ایسے نہیں ہیں) بلکہ (برعکس) ان کفار کے قلوب اس دین کی طرف سے (جس کا ذکر بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ میں ہے) جہالت (اور شک) میں (ڈوبے ہوئے ہیں (جن کا حال اوپر بھی معلوم ہوچکا فَذَرْهُمْ فِيْ غَمْرَتِهِمْ) اور اس (جہالت و انکار) کے علاوہ ان لوگوں کے اور بھی (برے برے خبیث) عمل ہیں جن کو یہ (مسلسل) کرتے رہتے ہیں (یہ لوگ شرک اور اعمال سیہ کے برابر خوگر رہیں گے) یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوشحال لوگوں کو (جن کے پاس مال و دولت اور نوکر چاکر سب کچھ ہے) عذاب (بعد الموت) میں دھر پکڑیں گے (اور غریب غرباء تو کس گنتی میں ہیں اور وہ تو عذاب سے کیا بچاؤ کرسکتے ہیں، غرض یہ کہ جب ان سب پر عذاب نازل ہوگا) تو فوراً چلا اٹھیں گے (اور سارا انکار و استکبار جس کے اب عادی ہیں کافور ہوجاوے گا اس وقت ان سے کہا جاوے گا کہ) اب مت چلاؤ (کہ کوئی فائدہ نہیں کیونکہ) ہماری طرف سے تمہاری مطلق مدد نہ ہوگی (کیونکہ یہ دار الجزاء ہے دار العمل نہیں ہے جس میں چلانا اور عاجزی کرنا مفید ہو جو دار العمل تھا اس میں تو تمہارا یہ حال تھا کہ) میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر (رسول کی زبان سے) سنائی جایا کرتی تھیں تو تم الٹے پاؤں بھاگتے تھے تکبر کرتے ہوئے قرآن کا مشغلہ بناتے ہوئے (اس قرآن کی شان) میں بیہودہ بکتے ہوئے (کہ کوئی اس کو سحر کہتا تھا کوئی شعر کہتا تھا اور مشغلہ کا یہی مطلب ہے پس تم نے دار العمل میں جیسا کیا آج دار الجزاء میں ویسا بھگتو۔ اور یہ لوگ جو قرآن کی اور صاحب قرآن کی تکذیب کر رہے ہیں تو اس کا کیا سبب ہے) کیا ان لوگوں نے اس کلام (الٰہی) میں غور نہیں کیا (جس سے اس کا اعجاز ظاہر ہوجاتا اور یہ ایمان لے آتے) یا (تکذیب کی یہ وجہ ہے کہ) ان کے پاس کوئی ایسی چیز آئی ہے جو ان کے پہلے بڑوں کے پاس نہیں آئی تھی (مراد اس سے احکام الٰہیہ کا آنا ہے جو کوئی نئی بات نہیں، ہمیشہ سے انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ ان کی امتوں کو یہی احکام دیئے جاتے رہے ہیں کقولہ تعالیٰ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ ، پس تکذیب کی یہ وجہ بھی باطل ٹھہری اور یہ دو وجہ تو قرآن کے متعلق ہیں۔ آگے صاحب قرآن کے متعلق فرماتے ہیں یعنی) یا (وجہ تکذیب کی یہ ہے کہ) یہ لوگ اپنے رسول (کی صفت دیانت و صدق و امانت) سے واقف نہ تھے اس وجہ سے ان کے منکر ہیں، (یعنی یہ وجہ بھی باطل ہے کیونکہ آپ کے صدق و دیانت پر سب کا اتفاق تھا) یا (یہ وجہ ہے کہ) یہ لوگ (نعوذ باللہ) آپ کی نسبت جنون کے قائل ہیں (سو آپ کا اعلیٰ درجہ کا صاحب عقل اور صاحب الرائے ہونا بھی ظاہر ہے۔ سو واقع میں ان میں سے کوئی وجہ بھی معقول نہیں) بلکہ (اصلی وجہ یہ ہے کہ) یہ رسول ان کے پاس حق بات لے کر آئے ہیں اور ان میں اکثر لوگ حق بات سے نفرت رکھتے ہیں۔ (بس یہ تمام تر وجہ ہے تکذیب کی اور عدم اتباع حق کی اور یہ لوگ اس دین حق کا اتباع تو کیا کرتے یہ تو اور الٹا یہ چاہتے ہیں کہ وہ دین حق ہی ان کے خیالات کے تابع کردیا جاوے اور جو مضامین قرآن میں ان کے خلاف ہیں ان کو خارج یا ترمیم کردیا جاوے کقولہ تعالیٰ فی سورة یونس قال الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْرِ ھٰذَآ اَوْ بَدِّلْهُ) اور (بفرض محال) اگر (ایسا امر واقع ہوجاتا) اور دین حق ان کے خیالات کے تابع (اور موافق) ہوجاتا تو (تمام عالم میں کفر و شرک پھیل جاتا اور اس کا اثر یہ ہوتا کہ حق تعالیٰ کا غضب تمام عالم پر متوجہ ہوجاتا اور اس کا مقتضا یہ تھا کہ) تمام آسمان اور زمین اور جو ان میں (آباد) ہیں سب تباہ ہوجاتے (جیسا قیامت میں تمام انسانوں میں گمراہی عام ہوجانے کے سبب اللہ تعالیٰ کا غضب بھی سب پر عام ہوگا اور غضب الٰہی عام ہونے سے سب کی ہلاکت بھی عام ہوگی اور اول تو کسی امر کا حق ہونا مقتضی ہے اس کے وجوب قبول کو گو نافع بھی نہ ہو۔ اور اس کا قبول نہ کرنا خود عیب ہے مگر ان لوگوں میں صرف یہی ایک عیب نہیں کہ حق سے کراہت ہو) بلکہ (اس سے بڑھ کر دوسرا عیب اور بھی ہے کہ حق کا اتباع جو انہیں کے نفع کا سامان ہے اس سے دور بھاگتے ہیں بس) ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت (اور نفع) کی بات بھیجی سو یہ لوگ اپنی نصیحت سے بھی روگردانی کرتے ہیں یا (علاوہ وجوہ مذکورہ کے ان کی تکذیب کی یہ وجہ ہے کہ ان کو یہ شبہ ہوا ہو کہ) آپ ان سے کچھ آمدنی چاہتے ہیں تو (یہ بھی غلط ہے کیونکہ جب آپ جانتے ہیں کہ) آمدنی تو آپ کے رب کی سب سے بہتر ہے اور وہ سب دینے والوں سے اچھا ہے (تو آپ لوگوں سے کیوں مانگتے ہیں) اور (خلاصہ ان کی حالت کا یہ ہے کہ) آپ تو ان کو سیدھے رستہ کی طرف (جس کو اوپر حق کہا ہے) بلا رہے ہیں اور ان لوگوں کی جو کہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یہ حالت ہے کہ اس (سیدھے) رستہ سے ہٹے جاتے ہیں (مطلب یہ کہ حق ہونا اور مستقیم ہونا اور نافع ہونا یہ سب مقتضیات ایمان کے جمع ہیں اور جو وجوہات مانع ہو سکتی تھیں وہ کوئی موجود نہیں، پھر ایمان نہ لانا اشد درجہ کی جہالت اور ضلالت ہے) اور (ان کی قسادت وعناد کی یہ حالت ہے کہ جس طرح یہ لوگ آیات شرعیہ سے متاثر نہیں ہوتے اسی طرح آیات قہریہ مصائب و بلیات سے بھی متاثر نہیں ہوتے گو مصیبت کے وقت طبعی طور پر ہم کو پکارتے بھی ہیں لیکن وہ دفع الوقتی ہوتی ہے چنانچہ) اگر ہم ان پر مہربانی فرما دیں اور ان پر جو تکلیف ہے اس کو ہم دور بھی کردیں تو وہ لوگ (پھر) اپنی گمراہی میں بھٹکتے ہوئے اصرار کرتے رہیں (اور وہ قول وقرار جو مصیبت میں کئے تھے سب ختم ہوجاویں کقولہ تعالیٰ وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَان الضُّرُّ دَعَانَا الخ وقولہ تعالیٰ اِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ الخ) اور (شاہد اس کا یہ ہے کہ بعض اوقات) ہم نے ان کو گرفتار عذاب بھی کیا ہے سو ان لوگوں نے نہ اپنے رب کے سامنے (پورے طور پر) فروتنی کی اور نہ عاجزی اختیار کی (پس جب عین مصیبت میں اور مصیبت بھی ایسی سخت جس کو عذاب کہا جاسکے جیسے قحط جو مکہ میں حضور ﷺ کی بددعا سے ہوا تھا انہوں نے عاجزی اختیار نہیں کی تو بعد زوال مصیبت کے تو بدرجہ اولیٰ ان سے اس کی توقع نہیں مگر ان کی یہ ساری بےپروائی و بیباکی ان مصائب تک ہے جن کے عادی ہوچکے ہیں) یہاں تک کہ ہم جب ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے (جو کہ فوق العادة ہو خواہ دنیا ہی میں کہ کوئی غیبی قہر آ پڑے یا بعد الموت کہ ضرور ہی واقع ہوگا) تو اس وقت بالکل حیرت زدہ رہ جاویں گے (کہ یہ کیا ہوگیا اور سب نشہ ہرن ہوجاوے گا)
معارف و مسائل
غَمْرَةٍ ، ایسے گہرے پانی کو کہتے ہیں جس میں آدمی ڈوب جائے اور جو اس میں داخل ہونے والے کو اپنے اندر چھپا لے اسی لئے لفظ غمرہ پردہ اور ہر ڈھانپ لینے والی چیز کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ یہاں ان کی مشرکانہ جہالت کو غمرہ کہا گیا ہے جس میں ان کے دل ڈوبے ہوئے اور چھپے ہوئے ہیں کہ کسی طرف سے ان کو روشنی کی کرن نہیں پہنچتی۔
وَلَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ ، یعنی ان کی گمراہی کے لئے تو ایک شرک و کفر ہی کا پردہ غفلت کافی تھا مگر وہ اسی پر بس نہیں کرتے اس کے ساتھ دوسرے اعمال خبیثہ بھی مسلسل کرتے ہی رہتے ہیں۔
Ayahs 23:64–66مُتْرَفِيْهِمْ ، مترف، ترف سے مشتق ہے جس کے معنے تنعم اور خوشحالی کے ہیں۔ اس جگہ اس قوم کو عذاب میں پکڑنے کا ذکر ہے جس میں امیر غریب خوشحال بدحال سبھی داخل ہوں گے مگر مترفین اور خوشحالوں کا ذکر خاص طور پر اس لئے کیا کہ ایسے ہی لوگ دنیا کے مصائب سے اپنے بچاؤ کا کچھ سامان کرلیا کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کا عذاب جب آتا ہے تو سب سے پہلے یہی لوگ بےبس ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس آیت میں جس عذاب کے اندر ان کے پکڑے جانے کا ذکر ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو غزوہ بدر میں مسلمانوں کی تلوار سے ان کے سرداروں پر پڑا تھا۔ اور بعض حضرات نے اس عذاب سے مراد قحط کا عذاب لیا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی بددعا سے مکہ والوں پر مسلط کردیا گیا تھا یہاں تک کہ وہ مردار جانور اور کتے اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہوگئے۔ نبی کریم ﷺ نے کفار کے لئے بددعا بہت کم کی ہے لیکن اس موقع میں مسلمانوں پر ان کے مظالم کی شدت سے مجبور ہو کر یہ بددعا کی تھی۔ اللھم اشدد وطاتک علی مضر واجعلھا علیھم سنین کسنی یوسف (رواہ البخاری ومسلم)۔ (قرطبی و مظھری)
Ayah 23:67مُسْتَكْبِرِيْنَ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ ، اس میں لفظ بہ کی ضمیر اکثر مفسرین نے حرم کی طرف راجع قرار دی جو اگرچہ اوپر کہیں مذکور نہیں مگر حرم سے قریش مکہ کا گہرا تعلق اور ان پر ان کا ناز اتنا معروف و مشہور تھا کہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں اور معنے اس کے یہ ہیں کہ قریش مکہ کا اللہ کی آیتیں سن کر پچھلے پاؤں بھاگنے اور نہ ماننے کا سبب حرم مکہ کی نسبت اور اس کی خدمت پر ان کا تکبر اور ناز تھا۔ اور سامراً ، سمر سے مشتق ہے جس کے اصل معنے چاندنی رات کے ہیں۔ عرب کی عادت تھی کہ چاندنی رات میں بیٹھ کر قصے کہانیاں کہا کرتے تھے اس لئے لفظ سمر قصہ کہانی کے معنے میں استعمال ہونے لگا اور سامر قصہ گو کو کہا جاتا ہے یہ لفظ اگرچہ مفرد ہے مگر معنی میں جمع کے لئے بھی بولا جاتا ہے اس جگہ سامر بمعنے سامرین جمع کے لئے استعمال ہوا ہے۔ مشرکین کا ایک حال جو آیات الٰہیہ سے انکار کا سبب بنا ہوا تھا حرم مکہ کی نسبت و خدمت پر ان کا ناز تھا۔ دوسرا حال یہ بیان فرمایا کہ یہ لوگ بےاصل اور بےبنیاد قصے کہانیوں میں مشغول رہنے کے عادی ہیں ان کو اللہ کی آیات سے دلچسپی نہیں۔
تھجرون، یہ لفظ ہجر بضم الہاء سے مشتق ہے جس کے معنے فضول بکواس اور گالی گلوچ کے ہیں یہ تیسرا حال ان مشرکین کا بیان کیا گیا کہ یہ لوگ فضول بکواس اور گالی گلوچ کے عادی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی شان میں بعض ایسے ہی گستاخانہ کلمات کہتے رہتے ہیں۔
عشاء کے بعد قصہ گوئی کی ممانعت اور خاص ہدایات
رات کو افسانہ گوئی کا مشغلہ عرب و عجم میں قدیم سے چلا آتا ہے اور اس میں بہت سے مفاسد اور وقت کی اضاعت تھی۔ نبی کریم ﷺ نے اس رسم کو مٹانے کے لئے عشاء سے پہلے سونے کو اور عشاء کے بعد فضول قصہ گوئی کو منع فرمایا۔ حکمت یہ تھی کہ عشاء کی نماز پر انسان کے اعمال یومیہ ختم ہو رہے ہیں جو دن بھر کے گناہوں کا بھی کفارہ ہوسکتا ہے۔ یہی اس کا آخری عمل اس دن کا ہو تو بہتر ہے اگر بعد عشاء فضول قصہ گوئی میں لگ گیا تو اولاً یہ خود فعل عبث اور مکروہ ہے اس کے علاوہ اس کے ضمن میں غیبت جھوٹ اور دوسرے طرح طرح کے گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے اور ایک برا انجام اس کا یہ ہے کہ رات کو دیر تک جاگے گا تو صبح کو سویرے نہیں اٹھ سکے گا اسی لئے حضرت فاروق اعظم جب کسی کو عشاء کے بعد فضول قصوں میں مشغول دیکھتے تو تنبیہ فرماتے تھے اور بعض کو سزا بھی دیتے تھے اور فرماتے کہ جلد سو جاؤ شاید آخر رات میں تہجد کی توفیق ہوجائے۔ (قرطبی)
Ayah 23:68اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ سے اَمْ يَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ تک ایسی پانچ چیزوں کا ذکر ہے جو مشرکین کے لئے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے سے کسی درجہ میں مانع ہو سکتی تھیں اور ان میں سے ہر ایک وجہ کے منفی ہونے کا بیان اس کے ساتھ کردیا ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ جو وجوہ ان لوگوں کے لئے ایمان سے مانع ہو سکتی تھیں ان میں سے کوئی بھی وجہ موجود نہیں اور ایمان لانے کے لئے جو اسباب و وجوہ داعی ہیں وہ سب موجود ہیں اس لئے اب ان کا انکار خالص عناد اور ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں جس کا ذکر اس کے بعد کی آیت میں اس طرح فرمایا ہے بَلْ جَاۗءَهُمْ بالْحَقِّ وَاَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ۔ یعنی انکار رسالت کی کوئی عقلی یا طبعی وجہ تو موجود نہیں پھر انکار کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ حق بات لے کر آئے ہیں اور یہ لوگ حق بات ہی کو برا سمجھتے ہیں سننا نہیں چاہتے جس کا سبب ہوا، وہ ہوس کا غلبہ اور جاہلوں کو جو ریاست و اقتدار حاصل ہے اس کی محبت اور جاہلوں کی تقلید ہے۔ یہ پانچ وجوہ جن کا ذکر ایمان اور اقرار بالنبوت سے مانع ہونے کی حیثیت میں کیا گیا ہے ان میں ایک یہ بھی بیان فرمائی ہے۔
Ayahs 23:69–75اَمْ لَمْ يَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ ، یعنی ان کے انکار کی ایک وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ جو شخص دعوت حق اور دعوائے نبوت لے کر آیا ہے یہ کہیں باہر سے آیا ہوتا تاکہ یہ لوگ اس کے نام و نسب اور عادات و خصال اور کردار سے واقف نہ ہوتے تو یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم اس مدعی کے حالات سے واقف نہیں اس کو کیسے نبی و رسول مان کر اپنا مقتدا بنالیں۔ مگر یہاں تو یہ بات کھلی ہوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قریش ہی کے اعلیٰ نسب میں اسی شہر مکہ میں پیدا ہوئے اور بچپن سے لے کر جوانی اور مابعد کا سارا زمانہ انہیں لوگوں کے سامنے گزرا۔ آپ کا کوئی عمل کوئی عادت ان سے چھپی ہوئی نہیں تھی اور دعوائے نبوت سے پہلے تک سارے کفار مکہ آپ کو صادق و امین کہا کرتے تھے آپ کے کردار و عمل پر کسی نے بھی کبھی کوئی شبہ ظاہر نہیں کیا تھا تو اب ان کا یہ عذر بھی نہیں چل سکتا کہ وہ ان کو پہچانتے نہیں۔