23. Surah Al-Muminoon
المؤمنونThe Believers · 118 ayahsمعارف القرآن
فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader
سو بہت اوپر ہے اللہ وہ بادشاہ سچا کوئی حاکم نہیں اس کے سوائے مالک اس عزت کے تخت کا
وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader
اور جو کوئی پکارے اللہ کے ساتھ دوسرا حاکم جس کی سند نہیں اس کے پاس سو اس کا حساب ہے اس کے رب کے نزدیک، بیشک بھلا نہ ہوگا منکروں کا
خلاصہ تفسیر
(اور یہ سب مضامین جب معلوم ہوچکے) سو (اس سے یہ کامل طور پر ثابت ہوگیا کہ) اللہ تعالیٰ بہت ہی عالیشان ہے جو کہ بادشاہ (ہے اور بادشاہ بھی) حقیقی ہے اس کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں (اور وہ) عرش عظیم کا مالک ہے اور جو شخص (اس امر پر دلائل قائم ہونے کے بعد) اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کی بھی عبادت کرے کہ جس (کے معبود ہونے) پر اس کے پاس کوئی بھی دلیل نہیں سو اس کا حساب اس کے رب کے یہاں ہوگا (جس کا نتیجہ لازمی یہ ہے کہ) یقینا کافروں کو فلاح نہ ہوگی (بلکہ ابد الآباد معذب رہیں گے) اور (جب حق تعالیٰ کی یہ شان ہے تو آپ (اور دوسرے لوگ بدرجہ اولیٰ) یوں کہا کریں کہ اے میرے رب (میری خطائیں) معاف کر اور (ہر حالت میں مجھ پر) رحم کر (معاش میں بھی، توفیق طاعات میں بھی، نجات آخرت میں بھی، عطائے جنت میں بھی) اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
معارف و مسائل
یہ سورة مومنون کی آخری آیتیں اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ سے آخر سورت تک خاص فضیلت رکھتی ہیں۔ بغوی اور ثعلبی نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے کہ ان کا گزر ایک ایسے بیمار پر ہوا جو سخت امراض میں مبتلا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس کے کان میں سورة مومنون کی یہ آیتیں اَفَحَسِبْتُمْ سے آخر تک پڑھ دی وہ اسی وقت اچھا ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے اس کے کان میں کیا پڑھا ؟ عبداللہ بن مسعود نے عرض کیا کہ یہ آیتیں پڑھی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کوئی آدمی جو یقین رکھنے والا ہو یہ آیتیں پہاڑ پر پڑھ دے تو پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ سکتا ہے۔ (قرطبی و مظھری)
وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader
اور تو کہہ اے رب معاف کر اور رحم کر اور تو ہے بہتر سب رحم والوں سے۔
رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ یہاں اغفر اور ارحم دونوں کا مفعول ذکر نہیں کیا گیا کہ کیا معاف کریں اور کس چیز پر رحم کریں اس سے اشارہ عموم کی طرف ہے کہ دعاء مغفرت شامل ہے ہر مضر اور تکلیف دہ چیز کے ازالہ کو اور دعا رحمت شامل ہے ہر مراد اور محبوب چیز کے حاصل ہونے کو۔ کیونکہ دفع مضرت اور جلب منفعت جو انسانی زندگی اور اس کے مقاصد کا خلاصہ ہیں دونوں اس میں شامل ہوگئے (مظھری) اور رسول اللہ ﷺ کو دعا مغفرت و رحمت کی تلقین باوجودیکہ آپ معصوم اور مرحوم ہی ہیں دراصل امت کو سکھانے کیلئے ہے کہ تمہیں اس دعا کا کتنا اہتمام کرنا چاہئے (قرطبی)
اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ ، سورة مومنون کی ابتدا قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤ ْمِنُوْنَ سے ہوئی تھی اور انتہا لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ پر کی گئی، جس سے معلوم ہوا کہ فلاح یعنی مکمل کامیابی مومنین ہی کا حصہ ہے کفار اس سے محروم ہیں۔
تمت سورة المومنون فی ثمانیة ایام من اول المحرم 1391 ھ وذلک فی یوم عاشوراء یوم الاثنین وللہ الحمد اولہ واخرہ وایاہ اسال التوفیق لاتمام الباقی کما یحب و یرضاہ وان یتقبل منی و یجعلہ ذخرا لاخرتی و ھو المستعان۔