Ayah 22:28لِّيَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ ، یعنی ان کی یہ حاضری دور دراز سفر طے کر کے اپنے ہی منافع کیلئے ہے قرآن میں منافع کو بصیغہ نکرہ لا کر اس کے عموم کی طرف اشارہ کردیا ہے جس میں دینی منافع تو بیشمار ہیں ہی دنیوی منافع بھی بہت مشاہدہ میں آتے ہیں۔ کم از کم اتنی بات خود قابل تعجب و حیرت ہے کہ حج کے سفر پر عموماً بڑی رقم خرچ ہوتی ہے جو بعض لوگ ساری عمر محنت کر کے تھوڑی تھوڑی بچا کر جمع کرتے ہیں اور یہاں بیک وقت خرچ کر ڈالتے ہیں لیکن ساری دنیا کی تاریخ میں کوئی ایک واقعہ ایسا نہیں بتایا جاسکتا کہ کوئی شخص حج یا عمرہ میں خرچ کرنے کی وجہ سے فقیر و محتاج ہوگیا ہو۔ اس کے سوا دوسرے کاموں مثلاً بیاہ شادی کی رسموں میں مکان تعمیر کرنے میں خرچ کر کے ہزاروں آدمی محتاج و فقیر ہونے والے ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سفر حج وعمرہ میں یہ خصوصیت بھی رکھی ہے کہ اس سے کوئی شخص دنیوی فقر و فاقہ میں مبتلا نہیں ہوتا بلکہ بعض روایات میں ہے کہ حج وعمرہ میں خرچ کرنا افلاس و محتاجی کو دور کردیتا ہے غور کیا جائے تو اس کا بھی مشاہدہ عموماً پایا جائے گا اور حج کے دینی منافع تو بہت ہیں ان میں سے ایک یہی کچھ کم نہیں جو حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے اللہ کے لئے حج کیا اور اس میں بےحیائی کی باتوں سے اور گناہ کے کاموں سے بچتا رہا تو وہ حج سے ایسی حالت میں واپس آئے گا کہ گویا یہ اپنی ماں کے پیٹ سے آج برآمد ہوا ہے یعنی جیسے ابتداء ولادت میں بچہ بےگناہ معصوم ہوتا ہے یہ بھی ایسا ہی ہوجائے گا۔ رواہ البخاری و مسلم (مظھری) بیت اللہ کے پاس جمع ہونے والے حجاج کے آنے کا ایک فائدہ تو اوپر مذکور ہوا کہ وہ اپنے دینی اور دنیوی منافع اور فوائد کا مشاہدہ کرلیں۔ دوسرا فائدہ یہ بتلایا گیا کہ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِيْٓ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰي مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ ، یعنی تاکہ وہ اللہ کا نام ذکر کریں ایام معلومات میں ان چوپایہ جانوروں پر جو اللہ نے ان کو عطا فرمائے ہیں۔ اس میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ قربانی کے گوشت اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد پر نظر نہ ہونی چاہئے بلکہ اصل چیز اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے جو ان دنوں میں قربان کرنے کے وقت جانوروں پر کیا جاتا ہے جو روح عبادت ہے۔ قربانی کا گوشت ان کے لئے حلال کردیا گیا یہ مزید انعام ہے۔ اور ایام معلومات سے مراد وہی دن ہیں جن میں قربانی جائز ہے یعنی ذی الحجہ کی دسویں، گیا رہویں، بارہویں تاریخیں۔ اور مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ کے الفاظ عام ہیں اس میں ہر طرح کی قربانی داخل ہے خواہ واجب ہو یا مستحب فَكُلُوْا مِنْهَا، یہاں لفظ کلوا اگرچہ بصیغہ امر آیا ہے مگر مراد اس سے وجوب نہیں بلکہ اباحت اور جواز ہے جیسا قرآن کی آیت ۭوَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا میں شکار کا حکم بمعنے اجازت ہے۔
مسئلہ
مکہ معظمہ اور زمانہ حج میں مختلف قسم کے جانور ذبح کئے جاتے ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جو کسی جرم کی سزا کے طور پر جانور کی قربانی واجب ہوجاتی ہے جیسے کسی نے حرم شریف کے اندر شکار مار دیا تو اس پر اس کی جزاء میں کسی جانور کی قربانی واجب ہوتی ہے جس کی تفصیل کتب فقہ میں ہے کہ کون سے جانور کے بدلے میں کس طرح کا جانور قربان کرنا ہے۔ اسی طرح جو کام احرام کی حالت میں ممنوع ہیں اگر کسی نے وہ کام کرلیا تو اس پر بھی جانور ذبح کرنا لازم اور واجب ہوجاتا ہے جس کو فقہاء کی اصطلاح میں دم جنایت کہا جاتا ہے اس میں بھی کچھ تفصیل ہے، بعض ممنوعات کے کرلینے سے گائے یا اونٹ ہی کی قربانی دینا ضروری ہوتا ہے اور بعض کیلئے بکرے دنبے کی کافی ہوتی ہے بعض میں دم واجب نہیں ہوتا صرف صدقہ دینا کافی ہوتا ہے ان تفصیلات کی یہ جگہ نہیں، احقر نے اپنے رسالہ احکام الحج میں بقدر ضرورت لکھ دیا ہے۔ یہ قسم دم کی جو کسی جنایت اور جرم کی سزا کے طور پر لازم ہوا ہے اس کا گوشت کھانا خود اس شخص کیلئے جائز نہیں بلکہ یہ صرف فقراء و مساکین کا حق ہے کسی دوسرے مالدار آدمی کو بھی اس کا کھانا جائز نہیں۔ اس پر تمام فقہاء امت کا اتفاق ہے۔ باقی قسمیں قربانی کی خواہ واجب ہوں یا نفلی، واجب میں حنفیہ مالکیہ شافعیہ کے نزدیک دم تمتع اور دم قرآن بھی داخل ہے ان سب کا گوشت قربانی کرنے والا اس کے احباب و اعزاء اگرچہ اغنیاء ہوں وہ بھی کھا سکتے ہیں اس آیت میں اسی کا بیان ہے اور پوری تفصیل اس کے مسائل کی کتب فقہ میں دیکھی جائے۔ عام قربانی کا گوشت ہو یا خاص حج کی قربانیاں ان سب کا حکم یہی ہے کہ قربانی کرنے والا خود اور ہر مسلمان غنی ہو یا فقیر اس میں سے کھا سکتا ہے لیکن مستحب یہ ہے کہ کم از کم ایک تہائی حصہ غرباء فقراء کو دے دیا جائے۔ اسی امر مستحب کا بیان آیت کے اگلے جملے میں اس طرح فرمایا ہے وَاَطْعِمُوا الْبَاۗىِٕسَ الْفَقِيْرَ ، بائس کے معنے بہت تنگدست مصیبت زدہ اور فقیر کے معنے حاجت مند کے ہیں مطلب یہ ہے کہ قربانی کے گوشت میں سے ان کو بھی کھلانا اور دینا مستحب اور مطلوب ہے۔
Ayah 22:29ثُمَّ لْيَقْضُوْا تَفَثَهُمْ ، تفث کے لغوی معنے میل کچیل کے ہیں جو انسان کے بدن پر جمع ہوجاتا ہے حالت احرام میں چونکہ بالوں کا مونڈنا، کاٹنا، نوچنا اسی طرح ناخن تراشنا، خوشبو لگانا یہ سب چیزیں حرام ہوتی ہیں تو ان کے نیچے میل کچیل جمع ہونا طبعی امر ہے اس آیت میں یہ فرمایا کہ جب حج میں قربانی سے فارغ ہوجاؤ تو اس میل کچیل کو دور کرو مطلب یہ ہے کہ اب احرام کھول ڈالو اور سر منڈا لو ناخن تراشو۔ زیر ناف کے بال صاف کرلو۔ آیت مذکورہ میں پہلے قربانی کرنے کا ذکر آیا اس کے بعد احرام کھولنے کا اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ اسی ترتیب سے کام کرنا چاہئے قربانی سے پہلے حلق کرنا یا ناخن کاٹنا وغیرہ ممنوع ہے اور جو ایسا کرے گا اس پر دم جنایت واجب ہوگا۔
افعال حج میں ترتیب کا درجہ
جو ترتیب افعال حج کی قرآن و حدیث میں آئی اور فقہاء نے اس کو منضبط کیا اسی ترتیب سے افعال حج ادا کرنا باتفاق امت کم از کم سنت ضرور ہے واجب ہونے میں اختلاف ہے امام اعظم ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک واجب ہے جس کے خلاف کرنے سے ایک دم جنایت لازم ہوتا ہے۔ امام شافعی کے نزدیک سنت ہے اس لئے اس کے خلاف کرنے سے ثواب میں کمی آتی ہے مگر دم لازم نہیں ہوتا۔ حضرت ابن عباس کی حدیث میں ہے من قدم شیئاً من نسکہ او اخرہ فلیھرق دما رواہ ابن ابی شیبة موقوفا و ھو فی حکم المرفوع (مظھری) یعنی جس شخص نے افعال حج میں سے کسی کو مقدم یا موخر کردیا اس پر لازم ہے کہ ایک دم دے۔ یہ روایت طحاوی نے بھی مختلف طرق سے نقل کی ہے اور حضرت سعید بن جبیر، قتادہ، نخفی، حسن بصری رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے کہ خلاف ترتیب کرنے والے پر دم لازم کرتے ہیں۔ تفسیر مظہری میں اس جگہ اس مسئلہ کی پوری تفصیل و تحقیق مذکور ہے۔ نیز دوسرے مسائل حج بھی مفصل لکھے ہیں۔
وَلْيُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ ، نذور، نذر کی جمع ہے جس کو اردو میں منت کہا جاتا ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ جو کام شرعاً کسی شخص پر لازم، واجب نہیں تھا اگر وہ زبان سے یہ نذر کرلے اور منت مان لے کہ میں یہ کام کروں گا یا اللہ کے لئے مجھ پر لازم ہے کہ فلاں کام کروں تو یہ نذر ہوجاتی ہے۔ جس کا حکم یہ ہے کہ اس کا پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے اگرچہ اصل سے واجب نہیں تھا مگر اس کے واجب ہوجانے کے لئے یہ شرط تو باتفاق امت ہے کہ وہ کام شرعاً گناہ اور ناجائز نہ ہو۔ اگر کسی شخص نے گناہ کے کام کی نذر مان لی تو اس پر وہ گناہ کرنا اس سے لازم نہیں ہوجاتا ہے بلکہ اس کے خلاف کرنا واجب ہے البتہ اس پر کفارہ قسم لازم ہوجائے گا۔ اور ابوحنیفہ وغیرہ ائمہ فقہاء کے نزدیک یہ بھی شرط ہے کہ وہ کام ایسا ہو جس کی جنس میں کوئی عبادت مقصودہ شرعیہ پائی جاتی ہو جیسے نماز، روزہ، صدقہ، قربانی وغیرہ کہ ان کی جنس میں کچھ شرعی واجبات اور عبادت مقصودہ ہیں۔ تو اگر کوئی شخص نفلی نماز روزے صدقہ وغیرہ کی نذر مان لے تو وہ نفل اس کے ذمہ واجب ہوجاتی ہے اس کا پورا کرنا اس کے ذمہ لازم و واجب ہے۔ آیت مذکورہ سے یہی حکم ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں نذر کے ایفاء یعنی پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
مسئلہ
یہ یاد رہے کہ صرف دل میں کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرنے سے نذر نہیں ہوتی جب تک زبان سے الفاظ نذر ادا نہ کرے۔ تفسیر مظہری میں اس جگہ نذر اور منت کے احکام و مسائل بڑی تفصیل سے جمع کردیئے ہیں جو اپنی جگہ بہت اہم ہیں مگر یہاں ان کی گنجائش نہیں۔
ایک سوال اور جواب
اس آیت سے پہلے بھی اعمال حج قربانی اور احرام کھولنے وغیرہ کا ذکر ہوا ہے اور آگے بھی طواف زیارت کا بیان ہے درمیان میں ایفاء نذر کا ذکر کس مناسبت سے ہوا جبکہ ایفائے نذر ایک مستقل حکم ہے حج میں ہو یا حج کے بغیر اور حرم شریف میں ہو یا باہر کسی ملک میں۔
جواب یہ ہے کہ اگرچہ ایفاء نذر ایک مستقل حکم شرعی ہے ایام حج اور افعال حج یا حرم کے ساتھ مخصوص نہیں لیکن اس کا ذکر یہاں افعال حج کے ضمن میں شاید اس وجہ سے ہے کہ انسان جب حج کے لئے نکلتا ہے تو دل کا داعیہ ہوتا ہے کہ اس سفر میں زیادہ سے زیادہ نیک کام اور عبادات ادا کرے اس میں بہت سی چیزوں کی نذر بھی کرلیتا ہے خصوصاً جانوروں کی قربانی کی نذر کرنے کا تو عام رواج ہے۔ حضرت ابن عباس نے یہاں نذر سے مراد قربانی ہی کی نذر قرار دی ہے۔ اور ایک مناسبت نذر کی احکام حج سے یہ بھی ہے کہ جس طرح نذر اور قسم سے انسان پر بہت سی چیزیں جو اصل شرع کی رو سے واجب نہیں تھیں واجب ہوجاتی ہیں۔ اور بہت سی چیزیں جو اصل احکام کی رو سے حرام ناجائز نہیں تھیں وہ اس شخص پر ناجائز و حرام ہوجاتی ہیں۔ احرام کے تمام احکام تقریباً ایسے ہی ہیں کہ سلے ہوئے کپڑے، خوشبو کا استعمال بال مونڈنا، ناخن تراشنا وغیرہ فی نفسہ کوئی ناجائز کام نہ تھے مگر اس نے احرام باندھ کر یہ سب کام اپنے اوپر حرام کر لئے۔ اسی طرح حج کے دوسرے اعمال و افعال جو فرض تو عمر میں ایک ہی مرتبہ ہوتے ہیں مگر بعد میں حج وعمرہ کے لئے احرام باندھ کر یہ سب کام اس کے لئے فرض ہوجاتے ہیں۔ اسی لئے حضرت عکرمہ نے اس جگہ نذور کی تفسیر میں یہی فرمایا کہ اس سے مواجب حج مراد ہیں جو حج کی وجہ سے اس پر لازم ہوگئے ہیں۔
وَلْيَطَّوَّفُوْا بالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ ، یہاں طواف سے مراد طواف زیارت ہے جو دسویں تاریخ ذی الحجہ کو رمی جمرہ اور قربانی کے بعد کیا جاتا ہے یہ طواف حج کا دوسرا رکن اور فرض ہے پہلا رکن وقوف عرفات ہے جو اس سے پہلے ادا ہوجاتا ہے۔ طواف زیارت پر احرام کے سب احکام مکمل ہو کر پورا احرام کھل جاتا ہے (روی ذلک عن ابن عباس و مجاہد و الضحاک و جماعة بل قال الطبری و ان لم یسلم لہ لا خلاف بین المتاولین فی انہ طواف الافاضہ و یکون ذلک یوم النحر از روح المعانی)
بیت عتیق، بیت اللہ کا نام بیت عتیق اس لئے ہے کہ عتیق کے معنے آزاد کے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے اپنے گھر کا نام بیت عتیق اس لئے رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کفار و جبابرہ کے غلبہ اور قبضہ سے آزاد کردیا ہے (رواہ الترمذی و حسنہ و الحاکم و صححہ و ابن جریر و الطبرانی وغیرھم از روح المعانی) کسی کافر کی مجال نہیں کہ اس پر قبضہ یا غلبہ کرسکے۔ اصحاب فیل کا واقعہ اس پر شاہد ہے واللہ اعلم۔ تفسیر مظہری میں اس موقع پر طواف کے مفصل احکام و مسائل جمع کردیئے ہیں جو بہت اہم قابل دید ہیں۔ واللہ اعلم
Ayahs 22:30–31خلاصہ تفسیر
یہ بات تو ہوچکی (جو حج کے خصوص احکام تھے) اور (اب دوسرے عام احکام جن میں حج اور علاوہ حج کے دوسرے مسائل بھی ہیں سنو کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کے محترم احکام کی وقعت کرے گا سو یہ اس کے حق میں اس کے رب کے نزدیک بہتر ہے (احکام کی وقعت کرنے میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کا علم بھی حاصل کرے اور یہ بھی کہ ان پر عمل کا اہتمام کرے اور احکام خداوندی کی وقعت کا اس کے لئے بہتر ہونا اس لئے ہے کہ وہ عذاب سے نجات اور دائمی راحت کا سامان ہے) اور ہاں مخصوص چوپاؤں کو باستثنائی ان (بعض بعض) کے جو تم کو پڑھ کر سنا دیئے گئے ہیں (یعنی سورة انعام وغیرہ کی آیت قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا میں حرام جانوروں کی تفصیل بتلا دی گئی ہے ان کے سوا دوسرے چوپائے) تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے۔
(اس جگہ چوپایہ جانوروں کے حلال ہونے کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ حالت احرام میں شکار کی ممانعت سے کسی کو احرام کی حالت میں عام چوپائے جانوروں کی ممانعت کا شبہ نہ ہوجائے اور جب دین و دنیا کی بھلائی احکام خداوندی کی تعظیم میں منحصر ہے) تو تم لوگ گندگی سے یعنی بتوں سے کنارہ کش رہو (کیونکہ بتوں کو خدا کے ساتھ شریک کرنا تو حکم الٰہی سے کھلی بغاوت ہے اس جگہ شرک سے بچنے کی ہدایت خاص طور پر اس لئے کی گئی کہ مشرکین مکہ اپنے حج میں جو تلبیہ پڑھتے تھے اس میں الا شریکا ھو لک ملا دیتے تھے یعنی اللہ کا کوئی شریک بجز ان بتوں کے نہیں ہے جو خود اسی اللہ کے ہیں) اور جھوٹی بات سے بچتے رہو (خواہ وہ عقائد کا جھوٹ ہو جیسے مشرکین کا اعتقاد شرک یا دوسری قسم کا جھوٹ) اس طور سے کہ اللہ کی طرف جھکے رہو اس کے ساتھ (کسی کو) شریک مت ٹھہراؤ اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے تو (اس کی حالت ایسی ہوگی جیسے) گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر پرندوں نے اس کی بوٹیاں نوچ لیں یا اس کو ہوا نے کسی دور دراز جگہ لے جا کر پٹک دیا۔ یہ بات بھی (جو بطور قاعدہ کلیہ کے تھی) ہوچکی اور (اب ایک ضروری بات قربانی کے جانوروں کے متعلق اور سن لو کہ) جو شخص دین خداوندی کے ان (مذکورہ) یادگاروں کا پورا لحاظ رکھے گا تو اس کا یہ لحاظ رکھنا دل کے ساتھ خدا سے ڈرنے سے حاصل ہوتا ہے (یادگاروں کا لحاظ رکھنے سے مراد احکام الٰہیہ کی پابندی ہے جو قربانی کے متعلق ہیں خواہ ذبح سے قبل کے احکام ہوں یا ذبح کے وقت ہوں جیسا اس پر اللہ کا نام لینا یا بعد ذبح کے ہوں جیسے اس کا کھانا یا نہ کھانا کہ جس کا کھانا جس کے لئے حلال ہے وہ کھائے جس کا کھانا جس کے لئے حلال نہیں وہ نہ کھائے۔ ان احکام میں کچھ تو پہلے بھی ذکر کئے جا چکے اور کچھ یہ ہیں کہ) تم کو ان سے ایک معین وقت تک فوائد حاصل کرنا جائز ہے (یعنی جب تک وہ قواعد شرعیہ کے مطابق ہدی نہ بنائے جاویں تو ان سے دودھ یا سواری بار برداری وغیرہ کا فائدہ اٹھانا جائز ہے مگر جب ان کو بیت اللہ اور حج یا عمرہ کے لئے ہدی بنادیا تو پھر ان سے کوئی نفع اٹھانا جائز نہیں (پھر یعنی ہدی بننے کے بعد) اس کے ذبح حلال ہونے کا موقع بیت عتیق کے قریب ہے (مراد پورا حرم ہے یعنی حرم سے باہر ذبح نہ کریں)۔
معارف و مسائل
حُرُمٰتِ اللّٰهِ سے مراد اللہ کی محترم اور معزز بنائی ہوئی چیزیں یعنی احکام شرعیہ ہیں۔ ان کی تعظم یعنی ان کا علم حاصل کرنا اور اس پر عمل کرنا سرمایہ سعادت دنیا و آخرت ہے۔
وَاُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ ، انعام سے مراد اونٹ، گائے، بکرا، مینڈھا، دنبہ وغیرہ ہیں کہ یہ جانور حالت احرام میں بھی حلال ہیں اور اِلَّا مَا يُتْلٰى میں جن جانوروں کو مستثنیٰ کرنے کا ذکر ہے ان کا بیان دوسری آیات میں آیا ہے وہ مردار جانور اور موقوذہ اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو یا جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو یہ سب ہمیشہ کے لئے حرام ہیں حالت احرام کی ہو یا غیر احرام کی۔
فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ ، (جس کے معنے ناپاکی اور گندگی کے ہیں اور اوثان وثن کی جمع ہے بت کے معنے میں۔ بتوں کو نجاست اس لئے قرار دیا کہ وہ انسان کے باطن کو شرک کی نجاست سے بھر دیتے ہیں۔
وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ، قول زور سے مراد جھوٹ ہے، حق کے خلاف جو کچھ ہے وہ باطل اور جھوٹ میں داخل ہے خواہ عقائدہ فاسدہ شرک و کفر ہوں یا معاملات میں اور شہادت میں جھوٹ بولنا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب کبیرہ گناہوں میں سے بڑے کبیرہ یہ گناہ ہیں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا اور عام باتوں میں جھوٹ بولنا۔ رسول اللہ ﷺ نے آخری لفظ وَقَوْلَ الزُّوْرِ کو بار بار فرمایا (رواہ البخاری)
Ayah 22:32وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ ، شعائر شعیرہ کی جمع ہے جس کے معنے علامت کے ہیں جو چیزیں کسی خاص مذہب یا جماعت کی علامات خاص سمجھی جاتی ہوں وہ اس کے شعائر کہلاتے ہیں شعائر اسلام ان خاص احکام کا نام ہے جو عرف میں مسلمان ہونے کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ حج کے اکثر احکام ایسے ہی ہیں۔
مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ ، یعنی شعائر اللہ کی تعظیم دل کے تقویٰ کی علامت ہے ان کی تعظیم وہی کرتا ہے جس کے دل میں تقویٰ اور خوف خدا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ تقویٰ کا تعلق اصل میں انسان کے دل سے ہے جب اس میں خوف خدا ہوتا ہے تو اس کا اثر سب اعمال افعال میں دیکھا جاتا ہے۔
Ayah 22:33لَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى، یعنی چوپائے جانوروں سے دودھ، سواری، باربرداری ہر قسم کے منافع حاصل کرنا تمہارے لئے اس وقت تک تو حلال ہے جب تک ان کو حرم مکہ میں ذبح کرنے کے لئے نامزد کر کے ہدی نہ بنا لیا ہو۔ ہدی اسی جانور کو کہتے ہیں جو حج یا عمرہ کرنے والا اپنے ساتھ کوئی جانور لے جائے کہ اس کو حرم شریف میں ذبح کیا جائے گا۔ جب اس کو ہدی حرم کے لئے نامزد اور مقرر کردیا تو پھر اس سے کسی قسم کا نفع اٹھانا بغیر کسی خاص مجبوری کے جائز نہیں جیسے اونٹ کو ہدی بنا کر ساتھ لیا اور خود پیدل چل رہا ہے سواری کے لئے کوئی دوسرا جانور موجود نہیں اور پیدل چلنا اس کے لئے مشکل ہوجائے تو مجبوری اور ضرورت کی بناء پر اس وقت سوار ہونے کی اجازت ہے۔
ثُمَّ مَحِلُّهَآ اِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيْقِ ، یہاں بیت عتیق سے مراد پورا حرم شریف ہے جو درحقیقت بیت اللہ ہی کا حریم خاص ہے جیسے سابقہ آیت میں مسجد حرام کے لفظ سے پورا حرم مراد لیا گیا، یہاں بیت عتیق کے لفظ سے بھی پورا حرم مراد ہے اور محلھا میں محل کے معنے موضع حلول اجل کے ہیں مراد اس سے موضع ذبح ہے یعنی ہدی کے جانوروں کے ذبح کرنے کا مقام بیت عتیق کے پاس ہے اور مراد پورا حرم ہے کہ وہ بیت عتیق ہی کے حکم میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہدی کا ذبح کرنا حرم کے اندر ضروری ہے حرم سے باہر جائز نہیں۔ اور پھر حرم عام ہے خواہ منحر منیٰ ہو یا مکہ مکرمہ کی کوئی اور جگہ ہو (روح المعانی)
Ayah 22:34خلاصہ تفسیر
اور (اوپر جو قربانی کا حرم میں ذبح کرنے کا حکم ہے اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ مقصود اصلی تعظیم حرم کی ہے بلکہ اصل مقصود اللہ ہی کی تعظیم اور اس کے ساتھ تقرب ہے اور نہ مذبوح اور مذبح اس کا ایک آلہ اور ذریعہ ہے اور تخصیص بعض حکمتوں کی وجہ سے ہے اور اگر یہ تخصیصات مقصود اصلی ہوتیں تو کسی شریعت میں نہ بدلتیں مگر ان کا بدلتا رہنا ظاہر ہے البتہ تقرب الی اللہ جو اصل مقصود تھا وہ سب شرائع میں محفوظ رہا چنانچہ) ہم نے (جتنے اہل شرائع گزرے ہیں ان میں سے) ہر امت کے لئے قربانی کرنا اس غرض سے مقرر کیا تھا کہ وہ ان مخصوص چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو عطا فرمایا تھا (پس اصلی مقصود یہ نام لینا تھا) سو (اس سے یہ بات نکل آئی کہ) تمہارا معبود (حقیقی) ایک ہی خدا ہے (جس کا ذکر کر کے سب کو تقرب کا حکم ہوتا رہا) تو تم ہمہ تن اسی کے ہو کر رہو (یعنی موحد خالص رہو، کسی مکان وغیرہ کو معظم بالذات سمجھنے سے ذرہ برابر شرک کا شائبہ اپنے عمل میں نہ ہونے دو) اور (اے محمد ﷺ جو لوگ ہماری اس تعلیم پر عمل کریں) آپ (ایسے احکام الٰہیہ کے سامنے) گردن جھکا دینے والوں کو (جنت وغیرہ کی) خوشخبری سنا دیجئے جو (اس توحید خالص کی برکت سے) ایسے ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ (کے احکام وصفات اور وعدہ وعید) کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جو ان مصیبتوں پر کہ ان پر پڑتی ہیں صبر کرتے ہیں اور جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (بقدر حکم اور توفیق کے) خرچ کرتے ہیں (یعنی توحید خالص ایسی بابرکت چیز ہے کہ اس کی بدولت کمالات نفسانیہ و بدنیہ و مالیہ پیدا ہوجاتے ہیں) اور (اسی طرح اوپر جو تعظیم شعائر اللہ الخ میں بعض انتفاعات کا ممنوع ہونا معلوم ہوا ہے اس سے بھی ان قربانیوں کے معظم بالذات ہونے کا شبہ نہ کیا جاوے کیونکہ اس سے بھی اصل وہی اللہ تعالیٰ کی اور اس کے دین کی تعظیم ہے اور یہ تخصیصات اس کا ایک طریق ہے پس) قربانی کے اونٹ اور گائے کو (اور اسی طرح بکری بھیڑ کو بھی) ہم نے اللہ (کے دین) کی یادگار بنایا ہے (کہ اس کے متعلق احکام کے علم اور عمل سے اللہ کی عظمت اور دین کی وقعت ظاہر ہوتی ہے کہ اس کے نامزد چیز سے منتفع ہونے میں مالک مجازی کی رائے اہل اعتبار نہ رہے جس سے اس کی پوری عبدیت اور مالک حقیقی کی معبودیت ظاہر ہوتی ہے اور اس حکمت دینی کے علاوہ) ان جانوروں میں تمہارے (اور بھی) فائدے ہیں (مثلاً دنیوی فائدہ کھانا اور کھلانا اور اخروی فائدہ ثواب ہے) سو (جب اس میں یہ حکمتیں ہیں تو) تم ان پر کھڑے کر کے (ذبح کرنے کے وقت) اللہ کا نام لیا کرو (یہ صرف اونٹوں کے اعتبار سے فرمایا کہ ان کا کھڑے کر کے ذبح کرنا بوجہ آسانی ذبح و خروج روح کے بہتر ہے پس اس سے تو اخروی فائدہ یعنی ثواب حاصل ہوا اور نیز اللہ کی عظمت ظاہر ہوئی کہ اس کے نام پر ایک جان قربان ہوئی جس سے اس کا خالق اور اس کا مخلوق ہونا ظاہر کردیا گیا) پس جب وہ (کسی) کروٹ کے بل گر پڑیں (اور ٹھنڈے ہوجاویں) تو تم خود بھی کھاؤ اور بےسوال اور سوالی (محتاج) کو (جو کہ بائس فقیر کی دو قسمیں ہیں) بھی کھانے کو دو۔ (کہ یہ دنیوی فائدہ بھی ہے اور) ہم نے ان جانوروں کو اس طرح تمہارے زیر حکم کردیا (کہ تم باوجود تمہارے ضعف اور ان کی قوت کے اس طرح اس کے ذبح پر قادر ہوگئے) تاکہ تم (اس تسخیر پر اللہ تعالیٰ کا) شکر کرو (یہ حکمت مطلق ذبح میں ہے۔ قطع نظر اس کی قربانی ہونے کے اور آگے ذبح کی تخصیصات کے مقصود بالذات نہ ہونے کو ایک عقلی قاعدے سے بیان فرماتے ہیں کہ دیکھو ظاہر بات ہے کہ) اللہ تعالیٰ کے پاس نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، و لیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ (کہ نیت تقرب و اخلاص اس کے شعبوں میں سے ہے البتہ) پہنچتا ہے (پس وہی تعظیم الٰہی کی مقصودیت ثابت ہوگئی اور جیسے اوپر كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا الخ میں تسخیر کی ایک عام حکمت یعنی قربانی ہونے کی خصوصیت سے قطع نظر کرنے کے اعتبار سے بیان ہوئی تھی آگے تسخیر کی ایک خاص حکمت یعنی لحاظ قربانی ہونے کے ارشاد فرماتے ہیں کہ) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارا زیر حکم کردیا کہ تم (اللہ کی راہ میں ان کو قربانی کر کے) اس بات پر اللہ کی بڑائی (بیان) کرو کہ اس نے تم کو (اس طرح قربانی کرنے کی) توفیق دی (ورنہ اگر توفیق الٰہی رہبر نہ ہوتی تو یا تو ذبح ہی میں شبہات نکال کر اس عبادت سے محروم رہتے اور یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے لگتے) اور (اے محمد ﷺ اخلاص والوں کو خوشخبری سنا دیجئے (اس سے پہلے خوشخبری اخلاص کے شعبوں پر تھی یہ خاص اخلاص پر ہے)
معارف و مسائل
وَلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لفظ منسک اور نسک، عربی زبان کے اعتبار سے کئی معنے کے لئے بولا جاتا ہے۔ ایک معنی جانور کی قربانی کے دوسرے معنے تمام افعال حج کے اور تیسرے معنی مطلقاً عبادت کے ہیں۔ قرآن کریم میں مختلف مواقع پر یہ لفظ ان تین معنے میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں تینوں معنے مراد ہو سکتے ہیں اسی لئے ائمہ تفسیر میں سے مجاہد وغیرہ نے اس جگہ منسک کو قربانی کے معنے میں لیا ہے۔ اس پر معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ قربانی کا حکم جو اس امت کے لوگوں کو دیا گیا ہے کوئی نیا حکم نہیں۔ پچھلی سب امتوں کے بھی ذمہ قربانی کی عبادت لگائی گئی تھی۔ اور قتادہ نے دوسرے معنے میں لیا ہے جس پر مراد آیت کی یہ ہوگی کہ افعال حج جیسے اس امت پر عائد کئے گئے ہیں پچھلی امتوں پر بھی حج فرض کیا گیا تھا۔ ابن عرفہ نے تیسرے معنے لئے ہیں اس اعتبار سے مراد آیت کی یہ ہوگی کہ ہم نے اللہ کی عبادت گزاری سب پچھلی امتوں پر بھی فرض کی تھی طریقہ عبادت میں کچھ کچھ فرق سب امتوں میں رہا ہے مگر اصل عبادت سب میں مشترک رہی ہے۔
وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ لفظ خبت عربی زبان میں پست زمین کے معنی میں آتا ہے اسی لئے خبیت اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اپنے آپ کو حقیر سمجھے۔ اسی لئے حضرت قتادہ و مجاہد نے مخبتین کا ترجمہ مواضعین سے کیا ہے۔ عمرو بن اوس فرماتے ہیں کہ مخبتین وہ لوگ ہیں جو لوگوں پر ظلم نہیں کرتے اور اگر کوئی ان پر ظلم کرے تو اس سے بدلہ نہیں لیتے۔ سفیان نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی قضاء و تقدیر پر راحت و کلفت فراخی اور تنگی ہر حال میں راضی رہتے ہیں۔
Ayah 22:35وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ ، وجل کے اصلی معنے اس خوف وہیبت کے ہیں جو کسی کی عظمت کی بناء پر دل میں پیدا ہو۔ اللہ کے نیک بندوں اور صلحاء کا یہی حال ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور نام سن کر ان کے دلوں پر اس کی عظمت اور بڑائی کے سبب ایک خاص ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔
Ayah 22:36وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَاۗىِٕرِ اللّٰهِ ، پہلے گزر چکا ہے کہ شعائر ان خاص احکام و عبادات کا نام ہے جو دین اسلام کی علامات سمجھی جاتی ہیں۔ قربانی بھی انہیں میں سے ہے ایسے احکام کی پابندی زیادہ اہم ہے۔
فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا صَوَاۗفَّ ، صواف بمعنے مصفوفہ ہے یعنی صف بستہ، حضرت عبداللہ بن عمر نے اس کی تفسیر یہ بیان فرمائی ہے کہ جانور تین پاؤں پر کھڑا ہو ایک ہاتھ بندھا ہوا ہو۔ یہ صورت قربانی کی اونٹ کے ساتھ مخصوص ہے اس کی قربانی کھڑے ہونے کی حالت میں سنت اور بہتر ہے، باقی جانوروں کو لٹا کر ذبح کرنا سنت ہے۔
فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا، یہاں وجبت بمعنے سقطت آیا ہے جیسے وجبت الشمس بمعنے سقطت کا محاورہ مشہور ہے مراد اس سے جانور کی جان کا نکل جانا ہے۔
الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ، پچھلی آیت میں جن لوگوں کو قربانی کا گوشت دینا چاہئے ان کو بائس فقیر کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے جس کے معنے ہیں مصیبت زدہ محتاج۔ اس آیت میں اس کی جگہ قانع اور معتر کے دو لفظوں میں اس کی تفسیر و توضیح کی گئی ہے۔ قانع سے مراد وہ محتاج فقیر ہے جو لوگوں سے سوال کرتا اپنی غربت و فقر کے باوجود اپنی جگہ بیٹھ کر جو مل جائے اس پر قناعت کرتا ہے اور معتر جو ایسے مواقع پر جائے جہاں سے کچھ ملنے کی امید ہو خواہ زبان سے سوال کرے یا نہ کرے (مظھری)
Ayah 22:37عبادات کی خاص صورتیں اصل مقصود نہیں بلکہ دل کا اخلاص و اطاعت مقصود ہے
لَنْ يَّنَال اللّٰهَ لُحُوْمُهَا میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ قربانی جو ایک عظیم عبادت ہے اللہ کے پاس اس کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا نہ وہ مقصود قربانی ہے بلکہ مقصود اصلی اس پر اللہ کا نام لینا اور حکم ربی کی بجا آوری دلی اخلاص کے ساتھ ہے۔ یہی حکم دوسری تمام عبادات کا ہے کہ نماز کی نشست و برخاست کرنا اور بھوکا پیاسا رہنا اصل مقصود نہیں بلکہ مقصود ا صلی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل دلی اخلاص و محبت کے ساتھ ہے اگر یہ عبادات اس اخلاص و محبت سے خالی ہیں تو صرف صورت اور ڈھانچہ ہے روح غائب ہے مگر عبادات کی شرعی صورت اور ڈھانچہ بھی اس لئے ضروری ہے کہ حکم ربانی کی تعمیل کیلئے اس کی طرف سے یہ صورتیں متعین فرما دی گئی ہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 22:38خلاصہ تفسیر
بلاشبہ اللہ تعالیٰ (ان مشرکین کے غلبہ اور ایذا رسانی کی قدرت کو) ایمان والوں سے (عنقریب) ہٹا دے گا (کہ پھر حج وغیرہ سے روک ہی نہ سکیں گے) بیشک اللہ تعالیٰ کسی دغا باز کفر کرنے والے کو نہیں چاہتا (بلکہ ایسے لوگوں سے ناراض ہے اس لئے انجام کار ان لوگوں کو مغلوب اور مومنین مخلصین کو غالب کرے گا)
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں اس کا ذکر تھا کہ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کو جو عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ مکرمہ کے قریب مقام حدیبیہ پر پہنچ چکے تھے حرم شریف اور مسجد حرام میں جانے اور عمرہ ادا کرنے سے روک دیا تھا اس آیت میں مسلمانوں کو اس وعدہ کے ساتھ تسلی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان مشرکین کی اس قوت کو توڑ دے گا جس کے ذریعہ وہ مسلمانوں پر ظلم کرتے ہیں یہ واقعہ 6 ہجری میں پیش آیا تھا اس کے بعد سے مسلسل کفار مشرکین کی طاقت کمزور اور ہمت پست ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ 8 ھ میں مکہ مکرمہ فتح ہوگیا۔ اگلی آیات میں اس کی تفصیل آ رہی ہے۔
Ayah 22:39خلاصہ تفسیر
(گو اب تک بمصالح کفار سے لڑنے کی ممانعت تھی لیکن اب) لڑنے کی ان لوگوں کو اجازت دے دیگئی جن سے (کافروں کی طرف سے) لڑائی کی جاتی ہے اس وجہ سے کہ ان پر (بہت) ظلم کیا گیا ہے (یہ علت ہے مشروعیت جہاد کی) اور (اس حالت اذن میں مسلمانوں کی قلت اور کفار کی کثرت پر نظر نہ کرنا چاہئے کیونکہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کے غالب کردینے پر پوری قدرت رکھتا ہے (آگے ان کی مظلومیت کا بیان ہے کہ) جو (بیچارے) اپنے گھروں سے بےوجہ نکالے گئے محض اتنی بات پر کہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے (یعنی عقیدہ توحید پر کفار کا یہ تمام تر غیظ و غضب تھا کہ ان کو اس قدر پریشان کیا کہ وطن چھوڑنا پڑا آگے جہاد کی حکمت ہے) اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ (ہمیشہ سے) لوگوں کا ایک دوسرے (کے ہاتھ) سے زور نہ گھٹواتا رہتا (یعنی اہل حق کو اہل باطل پر وقتاً فوقتاً غالب نہ کرتا رہتا) تو (اپنے اپنے زمانوں میں) نصاریٰ کے خلوت خانے اور عبادت خانے اور یہود کے عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) وہ مسجدیں جن میں اللہ کا نام بکثرت لیا جاتا ہے سب منہدم (اور منعدم) ہوگئے ہوتے (آگے اخلاص فی الجہاد پر غلبہ کی بشارت ہے) اور بیشک اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے گا جو کہ اللہ (کے دین) کی مدد کرے گا (یعنی اس کے لڑنے میں خالص نیت اعلاء کلمة اللہ کی ہو) بیشک اللہ تعالیٰ قوت والا (اور) غلبہ والا ہے (وہ جس کو چاہے قوت و غلبہ دے سکتا ہے آگے ان کی فضیلت ہے) یہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر ہم ان کو دنیا میں حکومت دیدیں تو یہ لوگ خود بھی نماز کی پابندی کریں اور زکوٰة دیں اور (دوسروں کو بھی) نیک کاموں کے کرنے کو کہیں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام تو خدا ہی کے اختیار میں ہے (پس مسلمانوں کی موجودہ حالت دیکھ کر یہ کوئی کیونکر کہہ سکتا ہے کہ انجام بھی ان کا یہی رہے گا بلکہ ممکن ہے کہ اس کا عکس ہوجاوے چناچہ ہوا)۔
معارف و مسائل
کفار کے ساتھ جہاد کا پہلا حکم
مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر کفار کے مظالم کا یہ حال تھا کہ کوئی دن خالی نہ جاتا کہ کوئی مسلمان ان کے دست ستم سے زخمی اور چوٹ کھایا ہوا نہ آتا ہو۔ قیام مکہ کے آخری دور میں مسلمانوں کی تعداد بھی خاصی ہوچکی تھی وہ کفار کے ظلم و جور کی شکایت اور ان کے مقابلے میں قتل و قتال کی اجازت مانگتے تھے رسول اللہ ﷺ جواب میں فرماتے کہ صبر کرو مجھے ابھی تک قتال کی اجازت نہیں دی گئی یہ سلسلہ دس سال تک اسی طرح جاری رہا (قرطبی عن ابن عربی)
جس وقت رسول کریم ﷺ وطن مکہ چھوڑنے اور ہجرت کرنے پر مجبور کردیئے گئے اور صدیق اکبر آپ کے رفیق تھے تو مکہ مکرمہ سے نکلتے وقت آپ کی زبان سے نکلا اخرجوا نبیھم لیھلکن یعنی ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکالا ہے اب ان کی ہلاکت کا وقت آ گیا ہے اس پر مدینہ طیبہ پہنچنے کے بعد یہ آیت مذکورہ نازل ہوئی (جس میں مسلمانوں کو کفار سے قتال کی اجازت دے دیگئی) رواہ النسائی والترمذی عن ابن عباس)۔ (قرطبی)
اور حضرت ابن عباس سے ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان اور حاکم وغیرہ نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کو حسن فرمایا ہے روایت یہ ہے کہ ابن عباس نے فرمایا کہ یہ پہلی آیت ہے جو قتال کفار کے معاملہ میں نازل ہوئی جبکہ اس سے پہلے ستر سے زیادہ آیتوں میں قتال کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔
Ayah 22:40جہاد و قتال کی ایک حکمت
وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ ، اس میں جہاد و قتال کی حکمت کا اور اس کا بیان ہے کہ یہ کوئی نیا حکم نہیں۔ پچھلے انبیاء اور ان کی امتوں کو بھی قتال کفار کے احکام دیئے گئے ہیں اور اگر ایسا نہ کیا جاتا تو کسی مذہب اور دین کی خیر نہ تھی سارے ہی دین و مذہب اور ان کی عبادت گاہیں ڈھا دی جاتیں۔
لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ جتنے دین و مذہب دنیا میں ایسے ہوئے ہیں کہ کسی زمانے میں ان کی اصل بنیاد اللہ کی طرف سے اور وحی کے ذریعہ سے قائم ہوئی تھی پھر وہ منسوخ ہوگئے اور ان میں تحریف ہو کر کفر و شرک میں تبدیل ہوگئے مگر اپنے اپنے وقت میں وہی حق تھے ان سب کی عبادت گاہوں کا اس آیت میں ذکر فرمایا ہے کیونکہ اپنے اپنے وقت میں ان کی عبادت گاہوں کا احترام اور حفاظت فرض تھی ان مذاہب کے عبادت خانوں کا ذکر نہیں فرمایا جن کی بنیاد کسی وقت بھی نبوت اور وحی الٰہی پر نہیں تھی جیسے آتش پرست مجوس یا بت پرست ہندو کیونکہ ان کے عبادت خانے کسی وقت بھی قابل احترام نہ تھے۔
آیت میں صَوَامِعُ ، صومعہ کی جمع ہے جو نصاریٰ کے تارک الدنیا راہبوں کی مخصوص عبادت گاہ کو کہا جاتا ہے اور بیع بیعة کی جمع ہے جو نصاریٰ کے عام کنیسوں کا نام ہے اور صَلَوٰتٌ صلوت کی جمع ہے جو یہود کے عبادت خانہ کا نام ہے اور مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہوں کا نام ہے۔
مطلب آیت کا یہ ہے کہ اگر کفار سے قتال و جہاد کے احکام نہ آتے تو کسی زمانے میں کسی مذہب و ملت کے لئے امن کی جگہ نہ ہوتی۔ موسیٰ ؑ کے زمانے میں صلوت اور عیسیٰ ؑ کے زمانے میں صوامع اور بیع اور خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانے میں مسجدیں ڈھا دی جاتیں (قرطبی)
Ayah 22:41خلفائے راشدین کے حق میں قرآن کی پیشین گوئی اور اس کا ظہور
اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ ، اس آیت میں الذین صفت ہے ان لوگوں کی جن کا ذکر اس سے پہلے آیت میں ان الفاظ سے آیا ہے الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ ، یعنی وہ لوگ جن کو ان کے گھروں سے ظلماً بغیر کسی حق کے نکال دیا گیا۔ ان لوگوں کے بارے میں اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ان کو زمین میں حکومت و اقتدار دے دیا جائے تو یہ لوگ اپنے اقتدار کو ان کاموں میں صرف کریں گے کہ نمازیں قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں اور نیک کاموں کی طرف لوگوں کو دعوت دیں برے کاموں سے روکیں۔ اور یہ اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ یہ آیات ہجرت مدینہ کے فوراً بعد اس وقت نازل ہوئی ہیں جبکہ مسلمانوں کو کسی بھی زمین میں حکومت و اقتدار حاصل نہیں تھا مگر حق تعالیٰ نے ان کے بارے میں پہلے ہی یہ خبر دے دی کہ جب ان کو اقتدار حکومت ملے گا تو یہ دین کی مذکورہ اہم خدمات انجام دیں گے اسی لئے حضرت عثمان غنی نے فرمایا ثناء قبل بلاء، یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد عمل کے وجود میں آنے سے پہلے اس کے عمل کرنے والوں کی مدح وثناء ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی اس خبر کا جس کا وقوع یقینی تھا اس دنیا میں وقوع اس طرح ہوا کہ چاروں خلفائے راشدین اور مہاجرین الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا کے مصداق صحیح تھے پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں کو سب سے پہلے زمین کی مکنت وقدرت یعنی حکومت و سلطنت عطا فرمائی اور قرآن کی پیشین گوئی کے مطابق ان کے اعمال و کردار اور کارناموں نے دنیا کو دکھلا دیا کہ انہوں نے اپنے اقتدار کو اسی کام میں استعمال کیا کہ نمازیں قائم کیں زکوٰة کا نظام مضبوط کیا اچھے کاموں کو رواج دیا برے کاموں کا راستہ بند کیا۔
اسی لئے علماء نے فرمایا کہ یہ آیت اس کی دلیل ہے کہ خلفاء راشدین سب کے سب اسی بشارت کے مصداق ہیں اور جو نظام خلافت ان کے زمانے میں قائم ہوا وہ حق و صحیح اور عین اللہ تعالیٰ کے ارادے اور رضا اور پیشگی خبر کے مطابق ہے (روح المعانی)
یہ تو اس آیت کے شان نزول کا واقعاتی پہلو ہے لیکن یہ ظاہر ہے کہ الفاظ قرآن جب عام ہوں تو وہ کسی خاص واقعہ میں منحصر نہیں ہوتے ان کا حکم عام ہوتا ہے۔ اسی لئے ائمہ تفسیر میں سے ضحاک نے فرمایا کہ اس آیت میں ان لوگوں کے لئے ہدایت بھی ہے جن کو اللہ تعالیٰ ملک و سلطنت عطا فرما دیں کہ وہ اپنے اقتدار میں یہ کام انجام دیں جو خلفاء راشدین نے اپنے وقت میں انجام دیئے تھے۔ (قرطبی مع توضیح)
Ayahs 22:42–45خلاصہ تفسیر
اور یہ (مجادلہ کرنے والے لوگ) اگر آپ کی تکذیب کرتے ہوں (تو آپ مغموم نہ ہوں کیونکہ ان لوگوں سے پہلے قوم نوح اور عاد وثمود اور قوم ابراہیم اور قوم لوط اور اہل مدین بھی (اپنے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی) تکذیب کرچکے ہیں اور موسیٰ ؑ کو بھی کاذب قرار دیا گیا (مگر تکذیب کے بعد) میں نے ان کافروں کو (چند روز) مہلت دی جیسے آج کے منکروں کو مہلت دے رکھی ہے پھر میں نے ان کو (عذاب میں) پکڑ لیا تو (دیکھو) میرا عذاب کیسا ہوا۔ غرض کتنی بستیاں ہیں جن کو ہم نے (عذاب سے) ہلاک کیا جن کی یہ حالت تھی کہ وہ نافرمانی کرتی تھیں تو (اب ان کی یہ کیفیت ہے کہ) وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں (یعنی ویران ہیں کیونکہ عادةً اول چھت گرا کرتی ہے پھر دیواریں آپڑتی ہیں) اور (اس طرح ان بستیوں میں) بہت سے بیکار کنویں (جو پہلے آباد تھے) بہت سے پختہ قلعی چونے کے محل (جو اب شکستہ ہوگئے یہ سب ان بستیوں کے ساتھ تباہ ہوئے پس اسی طرح وقت موعود پر اس زمانے کے لوگ بھی عذاب میں پکڑے جاویں گے) تو کیا یہ (سن کر) لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں جس سے ان کے دل ایسے ہوجاویں کہ ان سے سمجھنے لگیں یا ان کے کان ایسے ہوجاویں کہ ان سے سننے لگیں بات یہ ہے کہ (نہ سمجھنے والوں کی کچھ) آنکھیں اندھی نہیں ہوجایا کرتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہوجاتے ہیں (ان موجودہ منکرین کے بھی دل اندھے ہوگئے ورنہ پچھلی امتوں کے حالات سے سبق سیکھ لیتے) اور یہ لوگ (نبوت میں شبہ ڈالنے کے لئے) آپ سے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں (اور عذاب کے جلدی نہ آنے سے یہ دلیل پکڑتے ہیں کہ عذاب آنے والا ہی نہیں) حالانکہ اللہ تعالیٰ کبھی اپنا وعدہ خلاف نہ کرے گا (یعنی وعدہ کے وقت ضرور عذاب واقع ہوگا) اور آپ کے رب کے پاس کا ایک دن (جس میں عذاب واقع ہوگا یعنی قیامت کا دن اپنے امتداد یا اشتداد میں) ایک ہزار سال کی برابر ہے تم لوگوں کی شمار کے مطابق (تو یہ بڑے بیوقوف ہیں کہ ایسی مصیبت کا تقاضا کرتے ہیں) اور (جواب مذکور کا خلاصہ پھر سن لو کہ) بہت سی بستیاں ہیں جن کو میں نے مہلت دی تھی اور وہ نافرمانی کرتی تھیں پھر میں نے ان کو (عذاب میں) پکڑ لیا اور سب کو میری ہی طرف لوٹنا ہوگا (اس وقت پوری سزا ملے گی) اور آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ اے لوگو میں تو تمہارے لئے ایک صاف ڈرانے والا ہوں (عذاب واقع کرنے نہ کرنے میں میرا دخل نہیں نہ میں نے اس کا دعویٰ کیا ہے) تو جو لوگ (اس ڈر کو سن کر) ایمان لے آئے اور اچھے کام کرنے لگے ان کے لئے مغفرت اور عزت کی روزی (یعنی جنت) ہے اور جو لوگ ہماری آیتوں کے متعلق (ان کے انکار اور ابطال کی) کوشش کرتے رہتے ہیں (نبی کو اور اہل ایمان کو) ہرانے (یعنی عاجز کرنے) کیلئے ایسے لوگ دوزخ میں (رہنے والے) ہیں۔
Ayah 22:46معارف و مسائل
زمین کی سیر و سیاحت اگر عبرت و بصیرت حاصل کرنے کے لئے ہو تو مطلوب دینی ہے
اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ، اس آیت میں زمین کی سیر و سیاحت جبکہ بچشم عبرت ہو اس کی طرف ترغیب ہے اور فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ سے اس طرف اشارہ ہے کہ زمانہ ماضی اور گزشتہ اقوام عالم کے حالات و کیفیات کا مشاہدہ انسان کو عقل و بصیرت عطا کرنے والا ہے بشرطیکہ ان حالات کو بعض تاریخی سوانح کی حیثیت سے نہیں بلکہ عبرت کی نظر سے دیکھے تو ہر واقعہ ایک بصیرت کا سبق دے گا۔ ابن ابی حاتم نے کتاب التفکر میں حضرت مالک بن دینار سے نقل کیا ہے کہ حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو حکم دیا کہ لوہے کے جوتے بناؤ اور لوہے کی عصا ہاتھ میں لو اور اللہ کی زمین میں اتنے پھرو کہ یہ آہنی جوتے گھس جائیں اور آہنی عصا ٹوٹ جائے (روح المعانی) اگر یہ روایت صحیح ہے تو اس سیر و سیاحت کا مقصد وہی عبرت و بصیرت حاصل کرنا ہے۔
Ayahs 22:47–51آخرت کا دن ایک ہزار سال ہونے کا مطلب
آیت مذکورہ میں جو یہ فرمایا ہے اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ ، یعنی آپ کے رب کے پاس ایک دن دنیا کے ایک ہزار سال کی برابر ہوگا۔ اس میں دو احتمال ہیں ایک یہ کہ اس دن سے مراد قیامت کا دن لیا جائے اور اس کا ایک ہزار سال کی برابر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس دن کے ہولناک واقعات اور ہیبت ناک حالات کی وجہ سے یہ دن اتنا دراز محسوس ہوگا جیسے ایک ہزار سال خلاصہ تفسیر مذکور میں اسی کو اشتداد کے لفظ سے تعبیر کیا ہے بہت سے حضرات مفسرین نے اس کے یہی معنے قرار دیئے ہیں۔
دوسرے یہ کہ واقع میں عالم آخرت کا ایک دن ہمیشہ کے لئے دنیا کے ایک ہزار سال ہی کے برابر ہو بعض روایات حدیث سے اسی معنے کی شہادت ملتی ہے۔ مسند احمد، ترمذی میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز فقراء مہاجرین کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم کو میں قیامت کے روز مکمل نور کی بشارت دیتا ہوں اور یہ کہ تم اغنیاء اور مالداروں سے آدھا دن پہلے جنت میں جاؤ گے اور اللہ کے یہاں ایک دن ایک ہزار سال کا ہوگا اس لئے فقراء اغنیاء سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے (رواہ الترمذی و حسنہ۔ مظہری)
خلاصہ تفسیر میں اسی دوسرے معنے کو بلفظ امتداد تعبیر کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم
ایک شبہ کا جواب
سورة معارج میں جو آخرت کے دن کو پچاس ہزار سال کے برابر قرار دیا ہے کان مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَـنَةٍ اس میں بھی دونوں تفسیریں اشتداد اور امتداد کی ہو سکتی ہیں اور ہر شخص کی شدت و مصیبت چونکہ دوسروں سے مختلف اور کم و بیش ہوگی اس لئے وہ دن کسی کو ایک ہزار سال کا محسوس ہوگا کسی کو پچاس ہزار سال کا، اور اگر دوسرے معنے لئے جاویں کہ حقیقةً آخرت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا تو ان دونوں آیتوں میں بظاہر تعارض ہوتا ہے کہ ایک میں ایک ہزار سال اور دوسری میں پچاس ہزار سال کا ذکر ہے تو اس کی تطبیق سیدی حکیم الامت قدس سرہ نے بیان القرآن میں بیان فرمائی ہے جو اہل علم کے لئے علمی اور اصطلاحی الفاظ ہی میں نقل کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ تفاوت ایک ہزار سال سے پچاس ہزار سال تک اختلاف آفاق کے اعتبار سے ہو جس طرح دنیا میں معدل النہار کی حرکت کہیں دولابی ہے کہیں حمائلی کہیں رحوی اور اسی وجہ سے خط استواء پر ایک رات دن چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے اور عرض تسعین (قطب شمالی) پر ایک سال کا اور ان دونوں کے درمیان مختلف مقادیر پر مختلف ہوتا چلا جاتا ہے اسی طرح ممکن ہے کہ اول شمس کی حرکت جو معدل کے ساتھ ہے بطور خرق عادت و اعجاز اس قدر سست ہوجائے کہ ایک افق پر ایک ہزار سال کا دن ہو اور جو افق اس سے پچاس حصے ہٹا ہوا ہو اس پر پچاس ہزار برس کا ہو اور درمیان میں اسی نسبت سے متفاوت ہو، واللہ اعلم (بیان القرآن)
Ayahs 22:52–57خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ یہ لوگ جو شیطان کے اغواء سے آپ سے مجادلہ کرتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ) ہم نے آپ کے قبل کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس کو یہ قصہ پیش نہ آیا ہو کہ جب اس نے (اللہ تعالیٰ کے احکام میں سے) کچھ پڑھا (تب ہی) شیطان نے اس کے پڑھنے میں (کفار کے قلوب میں) شبہ (اور اعتراض) ڈالا (اور کفار انہی شبہات اور اعتراضات کو پیش کر کے انبیاء سے مجادلہ کیا کرتے جیسا دوسری آیات میں ارشاد ہے وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا، ۭوَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓي اَوْلِيٰۗـــِٕــهِمْ لِيُجَادِلُوْكُمْ) پھر اللہ تعالیٰ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو (جوابات قاطعہ و دلائل واضحہ سے) نیست و نابود کردیتا ہے (جیسا کہ ظاہر ہے کہ جواب صحیح کے بعد اعتراض دفع ہوجاتا ہے) پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات (کے مضامین) کو زیادہ مضبوط کردیتا ہے (گو وہ فی نفسہا بھی مستحکم تھیں لیکن اعتراضات کے جواب سے اس استحکام کا زیادہ ظہور ہوگیا) اور اللہ تعالیٰ (ان اعتراضات کے متعلق) خوب علم والا ہے (اور ان کے جواب کے تعلیم میں) خوب حکمت والا ہے (اور یہ سارا قصہ اس لئے بیان کیا ہے) تاکہ اللہ تعالیٰ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو ایسے لوگوں کے لئے آزمائش (کا ذریعہ) بنا دے جن کے دل میں (شک کا) مرض ہے اور جن کے دل (بالکل ہی) سخت ہیں (کہ وہ شک سے بڑھ کر باطل کا یقین کئے ہوئے ہیں، سو ان کی آزمائش ہوتی ہے کہ دیکھیں بعد جواب کے اب بھی شبہات کا اتباع کرتے ہیں یا جواب کو سمجھ کر حق کو قبول کرتے ہیں) اور واقعی (یہ) ظالم لوگ (یعنی اہل شک بھی اور اہل یقین بالباطل بھی) بڑی مخالفت میں ہیں (کہ حق کو باوجود واضح ہونے کے محض عناد کے سبب قبول نہیں کرتے شیطان کو وسوسہ ڈالنے کا تصرف تو اس لئے دیا گیا تھا کہ آزمائش ہو) اور (ان شبہات کا اجوبہ صحیحہ و نور ہدایت سے ابطال اس لئے ہوتا ہے) تاکہ جن لوگوں کو فہم (صحیح) عطا ہوا ہے وہ (ان اجوبہ و نور ہدایت سے) اس امر کا زیادہ یقین کرلیں کہ یہ (جو نبی نے پڑھا ہے وہ) آپ کے رب کی طرف سے حق ہے سو ایمان پر زیادہ قائم ہوجاویں پھر (زیادہ یقین کی برکت سے اس (پر عمل کرنے) کی طرف ان کے دل اور بھی جھک جاویں اور واقعی ان ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ ہی راہ راست دکھلاتا ہے (پھر کیونکر ان کو ہدایت نہ ہو۔ یہ تو ایمان والوں کی کیفیت ہوئی) اور (رہ گئے) کافر لوگ (سو وہ) ہمیشہ اس (پڑھے ہوئے حکم) کی طرف سے شک ہی میں رہیں گے (جو ان کے دل میں شیطان نے ڈالا تھا) یہاں تک کہ ان پر دفعةً آ جاوے (جس کی ہول ہی کافی ہے گو عذاب نہ بھی ہوتا) یا (اس سے بڑھ کر یہ کہ) ان پر کسی بےبرکت دن کا (کہ قیامت کا دن ہے) عذاب آپہنچے (اور دونوں کا جمع ہونا جو کہ واقع میں ہوگا اور بھی اشد مصیبت ہے مطلب یہ ہے کہ یہ بدون مشاہدہ عذاب کفر سے باز نہ آویں گے مگر اس وقت نافع نہ ہوگا) بادشاہی اس روز اللہ ہی کی ہوگی وہ ان سب (مذکورین) کے درمیان (عملی) فیصلہ فرما دے گا۔ سو جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور اچھے کام کئے ہوں گے وہ چین کے باغوں میں ہوں گے اور جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہوگا تو ان کے لئے ذلت کا عذاب ہوگا۔
معارف و مسائل
مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيٍّ ، ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اور نبی دو الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں ایک نہیں، ان دونوں میں فرق کیا ہے اس میں اقوال مختلف ہیں مشہور اور واضح یہ ہے کہ نبی تو اس شخص کو کہتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصب نبوت قوم کی اصلاح کے لئے عطا ہوا ہو اور اس کے پاس اللہ کی طرف سے وحی آتی ہو خواہ اس کو کوئی مستقل کتاب اور شریعت دی جائے یا کسی پہلے نبی ہی کی کتاب اور شریعت کی تبلیغ کے لئے مامور ہو۔ پہلے کی مثال حضرت موسیٰ و عیسیٰ اور خاتم الانبیاء (علیہم السلام) کی ہے اور دوسرے کی مثال حضرت ہارون ؑ کی ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کی کتاب تورات اور انہی کی شریعت کی تبلیغ وتعلیم کے لئے مامور تھے۔ اور رسول وہ ہے جس کو مستقل شریعت اور کتاب ملی ہو۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ہر رسول کا نبی ہونا ضروری ہے مگر ہر نبی کا رسول ہونا ضروری نہیں، یہ تقسیم انسانوں کیلئے ہے۔ فرشتہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لے کر آتا ہے اس کو رسول کہنا اس کے منافی نہیں، اس کی تفصیل سورة مریم میں آ چکی ہے۔
اَلْقَى الشَّيْطٰنُ فِيْٓ اُمْنِيَّتِهٖ لفظ تمنی اس جگہ بمعنے قراء ہے اور امنیہ کے معنی قراءت کے ہیں۔ عربی لغت کے اعتبار سے یہ معنے بھی معروف ہیں۔ اس آیت کی جو تفسیر اوپر خلاصہ تفسیر میں لکھی ہے وہ بہت صاف بےغبار ہے۔ ابو حیان نے بحر محیط میں اور بہت سے دوسرے حضرات مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ کتب حدیث میں اس جگہ ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے جو غرانیق کے نام سے معروف ہے یہ واقعہ جمہور محدثین کے نزدیک ثابت نہیں ہے۔ بعض حضرات نے اس کو موضوع ملحدین و زنادقہ کی ایجاد قرار دیا ہے اور جن حضرات نے اس کو معتبر بھی قرار دیا ہے تو اس کے ظاہری الفاظ سے جو شبہات قرآن و سنت کے قطعی اور یقینی احکام پر عائد ہوتے ہیں ان کے مختلف جوابات دیئے ہیں لیکن اتنی بات بالکل واضح ہے کہ اس آیت قرآن کی تفسیر اس واقعہ پر موقوف نہیں بلکہ اس کا سیدھا سادہ مطلب وہ ہے جو اوپر بیان ہوچکا ہے بلاوجہ اس کو اس آیت کی تفسیر کا جزء بنا کر شکوک و شبہات کا دروازہ کھولنا اور پھر جوابدہی کی فکر کرنا کوئی مفید کام نہیں اس لئے اس کو ترک کیا جاتا ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Ayahs 22:58–59خلاصہ تفسیر
اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں (یعنی دین کی حفاظت کے لئے) اپنا وطن چھوڑا (جن کا ذکر پچھلی آیت میں بھی الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ کے الفاظ سے آ چکا ہے) پھر وہ لوگ (کفار کے مقابلہ میں) قتل کئے گئے یا (ویسے ہی طبعی موت سے) مر گئے (وہ ناکام و محروم نہیں، گو ان کو دنیاوی فوائد نہ ملے مگر آخرت میں) اللہ تعالیٰ ان کو ضرور ایک عمدہ رزق دے گا (یعنی جنت کی بیشمار نعمتیں) اور یقیناً اللہ تعالیٰ سب دینے والوں سے اچھا (دینے والا) ہے (اور اس اچھے رزق کے ساتھ) اللہ تعالیٰ ان کو (مسکن بھی اچھا دے گا یعنی) ایسی جگہ لے جا کر داخل کرے گا جس کو وہ (بہت ہی) پسند کریں گے (رہی یہ بات کہ بعض مہاجرین اس طرح دنیاوی فتح و نصرت اور اس کے فوائد سے محروم کیوں ہوئے اور ان کے مقابلے کے کفار ان کے قتل کرنے پر قادر کیوں ہوگئے وہ قہر الٰہی سے کیوں نہ ہلاک کردیئے گئے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ (ہر کام کی حکمت و مصلحت کو) خوب جاننے والا ہے (ان کی اس ظاہری ناکامی میں بھی بہت سی مصلحتیں اور حکمتیں ہیں اور) بہت حلم والا ہے (اس لئے دشمنوں کو فوراً سزا نہیں دیتا)۔