20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 20:40–44

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

جب چلنے لگی تیری بہن اور کہنے لگی میں بتاؤ تم کو ایسا شخص جو اس کو پالے پھر پہنچا دیا ہم نے تجھ کو تیری ماں کے پاس کہ ٹھنڈی رہے اس کی آنکھ اور غم نہ کھاوے اور تو نے مار ڈالا ایک شخص کو پھر بچا دیا ہم نے تجھ کو اس غم سے اور جانچا ہم نے تجھ کو ایک ذرا جانچنا، پھر ٹھہرا رہا تو کئی برس مدین والوں میں پھر آیا تو تقدیر سے اے موسیٰ

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

اور بنایا میں نے تجھ کو خاص اپنے واسطے

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

جا تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں لے کر اور سستی نہ کریو میری یاد میں

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

جاؤ طرف فرعون کے اس نے بہت سر اٹھایا

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

سو کہو اس سے بات نرم شاید وہ سوچے یا ڈرے۔

اِذْ تَمْشِيْٓ اُخْتُكَ ، موسیٰ ؑ کی بہن کا اس تابوت کے تعاقب میں جانا اور اس کے بعد کا قصہ جس کا اجمال اس آیت میں آیا ہے جس کے آخر میں فرمایا ہے وَفَتَنّٰكَ فُتُوْنًا یعنی ہم نے آپ کی آزمائش کی بار بار (قالہ ابن عباس) یا آپ کو مبتلائے آزمائش کیا بار بار (قالہ الضحاک) اس کی پوری تفصیل سنن نسائی کی ایک طویل حدیث میں بروایت ابن عباس آئی ہے وہ یہ ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کا مفصل قصہ حدیث الفتون کے نام سے طویل حدیث سنن نسائی کتاب التفسیر میں بروایت ابن عباس نقل کی ہے اور ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بھی اس کو پورا نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ حضرت ابن عباس نے اس روایت کو مرفوع یعنی نبی کریم ﷺ کا بیان قرار دیا ہے اور ابن کثیر نے بھی حدیث کے مرفوع ہونے کی توثیق کے لئے فرمایا ہے کہ۔ وصدق ذٰلک عندی، یعنی اس حدیث کا مرفوع ہونا میرے نزدیک درست ہے پھر اس کے لئے ایک دلیل بھی بیان فرمائی لیکن اس کے بعد یہ بھی نقل فرمایا ہے کہ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے بھی اپنی اپنی تفسیروں میں یہ روایت نقل کی ہے مگر وہ موقوف یعنی ابن عباس کا اپنا کلام ہے، مرفوع حدیث کے جملے اس میں کہیں کہیں آئے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابن عباس نے یہ روایت کعب احبار سے لی ہے جیسا کہ بہت سے مواقع میں ایسا ہوا ہے مگر ابن کثیر جیسے ناقد حدیث اور نسائی جیسے امام حدیث اس کو مرفوع مانتے ہیں اور جنہوں نے مرفوع تسلیم نہیں کیا وہ بھی اس کے مضمون پر کوئی نکیر نہیں کرتے اور اکثر حصہ اس کا تو خود قرآن کریم کی آیات میں آیا ہوا ہے اس لئے پوری حدیث کا ترجمہ لکھا جاتا ہے جس میں حضرت موسیٰ ؑ کے تفصیلی قصے کے ضمن میں بہت سے علمی اور عملی فوائد بھی ہیں۔ حدیث الفتون بسند امام نسائی قاسم بن ابی ایوب فرماتے ہیں کہ مجھے سعید بن حبیر نے خبر دی کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی جو حضرت موسیٰ ؑ کے بارے میں آئی ہے یعنی وَفَتَنّٰكَ فُتُوْنًا میں نے دریافت کیا کہ اس میں فتون سے کیا مراد ہے ؟ ابن عباس نے فرمایا کہ اس کا واقعہ بڑا طویل ہے صبح کو سویرے آجاؤ تو بتلا دیں گے، جب اگلے دن صبح ہوئی تو میں سویرے ہی ابن عباس کی خدمت میں حاضر ہوگیا تاکہ کل جو وعدہ فرمایا تھا اس کو پورا کراؤں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ سنو (ایک روز) فرعون اور اس کے ہم نشینوں میں اس بات کا ذکر آیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ سے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کی ذریت میں انبیاء اور بادشاہ پیدا فرماویں گے۔ بعض شرکاء مجلس نے کہا کہ ہاں بنی اسرائیل تو اس کے منتظر ہیں جس میں ان کو ذرا شک نہیں کہ ان کے اندر کوئی نبی و رسول پیدا ہوگا اور پہلے ان لوگوں کا خیال تھا کہ وہ نبی یوسف بن یعقوب ؑ ہیں جب ان کی وفات ہوگئی تو کہنے لگے کہ ابراہیم ؑ سے جو وعدہ کیا گیا تھا یہ اس کے مصداق نہیں (کوئی اور نبی و رسول پیدا ہوگا اور جو اس وعدہ کو پورا کرے گا)۔ فرعون نے یہ سنا تو (اس کو فکر لاحق ہوگئی کہ اگر بنی اسرائیل میں جن کو اس نے غلام بنا رکھا تھا کوئی نبی و رسول پیدا ہوگیا تو وہ ان کو مجھ سے آزاد کرائے گا) اس لئے حاضرین مجلس سے دریافت کیا کہ اس آفت سے بچنے کا کیا راستہ ہے یہ لوگ آپس میں مشورے کرتے رہے اور انجام کار سب کی رائے اس پر متفق ہوگئی کہ (بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو اس کو ذبح کردیا جائے اس کے لئے) ایسے سپاہی مقرر کردیئے گئے جن کے ہاتھوں میں چھریاں تھیں اور وہ بنی اسرائیل کے ایک ایک گھر میں جاکر دیکھتے تھے جہاں کوئی لڑکا نظر آیا اس کو ذبح کردیا۔ کچھ عرصہ یہ سلسلہ جاری رہنے کے بعد ان کو یہ ہوش آیا کہ ہماری سب خدمتیں اور محبت مشقت کے کام تو بنی اسرائیل ہی انجام دیتے ہیں اگر یہ سلسلہ قتل کا جاری رہا تو ان کے بوڑھے تو اپنی موت مر جائیں گے اور بچے ذبح ہوتے رہے تو آئندہ بنی اسرائیل میں کوئی مرد نہ رہے گا جو ہماری خدمتیں انجام دے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ سارے مشقت کے کام ہمیں خود ہی کرنا پڑیں گے اس لئے اب یہ رائے ہوئی کہ ایک سال میں پیدا ہونے والے لڑکوں کو چھوڑ دیا جائے، دوسرے سال میں پیدا ہونے والوں کو ذبح کردیا جائے۔ اس طرح بنی اسرائیل میں کچھ جوان بھی رہیں گے جو اپنے بوڑھوں کی جگہ لے سکیں اور ان کی تعداد اتنی زیادہ بھی نہ ہوگی جس سے فرعونی حکومت کو خطرہ ہوسکے۔ یہ بات سب کو پسند آئی اور یہی قانون نافذ کردیا گیا (اب حق تعالیٰ کی قدرت و حکمت کا ظہور اس طرح ہوا کہ) حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ کو ایک حمل اس وقت ہوا جبکہ بچوں کو زندہ چھوڑ دینے کا سال تھا، اس میں حضرت ہارون ؑ پیدا ہوئے فرعونی قانون کی رو سے ان کے لئے کوئی خطرہ نہیں تھا اگلے سال جو لڑکوں کے قتل کا سال تھا اس میں حضرت موسیٰ حمل میں آئے تو ان کی والدہ پر رنج و غم طاری تھا کہ اب یہ بچہ پیدا ہوگا تو قتل کردیا جائے گا۔ ابن عباس نے قصہ کو یہاں تک پہنچا کر فرمایا کہ اے ابن جبیر فتون یعنی آزمائش کا یہ پہلا موقع ہے کہ موسیٰ ؑ ابھی دنیا میں پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کہ ان کے قتل کا منصوبہ تیار تھا۔ اس وقت حق تعالیٰ نے ان کی والدہ کو بذریعہ وحی الہام یہ تسلی دے دی کہ وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْـزَنِيْ ۚ اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ، یعنی تم کوئی خوف و غم نہ کرو (ہم اس کی حفاظت کریں گے اور کچھ دن جدا رہنے کے بعد) ہم ان کو تمہارے پاس واپس کردیں گے پھر ان کو اپنے رسولوں میں داخل کرلیں گے۔ جب موسیٰ ؑ پیدا ہوگئے تو ان کی والدہ کو حق تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس کو ایک تابوت میں رکھ کر دریا (نیل) میں ڈال دو۔ موسیٰ ؑ کی والدہ نے اس حکم کی تعمیل کردی۔ جب وہ تابوت کو دریا کے حوالے کر چکیں تو شیطان نے ان کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ یہ تو نے کیا کام کیا اگر تیرا بچہ تیرے پاس رہ کر ذبح بھی کردیا جاتا تو اپنے ہاتھوں سے کفن دفن کر کے کچھ تو تسلی ہوتی اب تو اس کو دریا کے جانور کھائیں گے (موسیٰ ؑ کی والدہ اسی رنج و غم میں مبتلا تھیں کہ) دریا کی موجوں نے تابوت کو ایک ایسی چٹان پر ڈال دیا جہاں فرعون کی باندیاں لونڈیاں نہانے دھونے کے لئے جایا کرتی تھیں، انہوں نے یہ تابوت دیکھا تو اٹھا لیا اور کھولنے کا رادہ کیا تو ان میں سے کسی نے کہا کہ اگر اس میں کچھ مال ہوا اور ہم نے کھول لیا تو فرعون کی بیوی کو یہ گمان ہوگا کہ ہم نے اس میں سے کچھ الگ رکھ لیا ہے ہم کچھ بھی کہیں اس کو یقین نہیں آئے گا اس لئے سب کی رائے یہ ہوگئی کہ اس تابوت کو اسی طرح بند اٹھا کر فرعون کی بیوی کے سامنے پیش کردیا جائے۔ فرعون کی بیوی نے تابوت کھولا تو اس میں ایک ایسا لڑکا دیکھا جس کو دیکھتے ہی اس کے دل میں اس سے اتنی محبت ہوگئی جو اس سے پہلے کسی بچے سے نہیں ہوئی تھی (جو درحقیقت حق تعالیٰ کے اس ارشاد کا ظہور تھا (وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ) دوسری طرف حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ بوسوسہ شیطانی اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کو بھول گئیں اور حالت یہ ہوگئی وَاَصْبَحَ فُؤ َادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا، یعنی حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ کا دل ہر خوشی اور ہر خیال سے خالی ہوگیا (صرف حضرت موسیٰ ؑ کی فکر غالب آگئی) ادھر جب لڑکوں کے قتل پر مامور پولیس والوں کو فرعون کے گھر میں ایک لڑکا آجانے کی خبر ملی تو وہ چھریاں لے کر فرعون کی بیوی کے پاس پہنچ گئے کہ یہ لڑکا ہمیں دو تاکہ ذبح کردیں۔ ابن عباس نے یہاں پہنچ کر پھر ابن جبیر کو مخاطب کیا کہ اے ابن جبیر فتون یعنی آزمائش کا (دوسرا) واقعہ یہ ہے۔ فرعون کی بیوی نے ان لشکری لوگوں کو جواب دیا کہ ابھی ٹہرو کہ صرف اس ایک لڑکے سے تو بنی اسرائیل کی قوت نہیں بڑھ جائے گی میں فرعون کے پاس جاتی ہوں اور اس بچے کی جاں نشینی کراتی ہوں، اگر فرعون نے اس کو بخش دیا تو یہ بہتر ہوگا ورنہ تمہارے معاملے میں دخل نہ دوں گی یہ بچہ تمہارے حوالے ہوگا۔ یہ کہہ کر وہ فرعون کے پاس گئی اور کہا کہ یہ بچہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے فرعون نے کہا کہ ہاں تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہونا تو معلوم ہے مگر مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد ابن عباس نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم اس ذات کی جس کی قسم کھائی جاسکتی ہے اگر فرعون اس وقت بیوی کی طرح اپنے لئے بھی موسیٰ ؑ کی قرة العین آنکھوں کی ٹھنڈک ہونے کا اقرار کرلیتا تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی ہدایت کردیتا جیسا اس کی بیوی کو ہدایت ایمان عطا فرمائی۔ (بہرحال بیوی کے کہنے سے فرعون نے اس لڑکے کو قتل سے آزاد کردیا) اب فرعون کی بیوی اس کو دودھ پلانے کے لیے اپنے آس پاس کی عورتوں کو بلایا۔ سب نے چاہا کہ موسیٰ ؑ کو دودھ پلانے کی خدمت سرانجام دیں مگر حضرت موسیٰ ؑ کو کسی کی چھاتی نہ لگتی (وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ) اب فرعون کی بیوی کو فکر ہوگئی کہ جب کسی کا دودھ نہیں لیتے تو زندہ یہ کیسے رہیں گے اس لئے اپنی کنیزوں کے سپرد کیا کہ اس کو بازار اور لوگوں کے مجمع میں لے جائیں شاید کسی عورت کا دودھ یہ قبول کرلیں۔ اس طرف موسیٰ ؑ کی والدہ نے بےچین ہو کر اپنی بیٹی کو کہا کہ ذرا باہر جا کر تلاش کرو اور لوگوں سے دریافت کرو کہ اس تابوت اور بچہ کا کیا انجام ہوا، وہ زندہ ہے یا دریائی جانوروں کی خوراک بن چکا ہے اس وقت تک ان کو اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ یاد نہیں آیا تھا جو حالت حمل میں ان سے حضرت موسیٰ ؑ کی حفاظت اور چند روزہ مفارقت کے بعد واپسی کا کیا گیا تھا۔ حضرت موسیٰ کی بہن باہر نکلیں تو (قدرت حق کا یہ کرشمہ دیکھا کہ) فرعون کی کنیزیں اس بچے کو لئے ہوئے دودھ پلانے والی عورت کی تلاش میں ہیں، جب انہوں نے یہ ماجرا دیکھا کہ یہ بچہ کسی عورت کا دودھ نہیں لیتا اور یہ کنیزیں پریشان ہیں تو ان سے کہا کہ میں تمہیں ایک ایسے گھرانے کا پتہ دیتی ہوں جہاں مجھے امید ہے کہ یہ ان کا دودھ بھی لیں گے اور وہ اس کو خیر خواہی و محبت کے ساتھ پالیں گے۔ یہ سن کر ان کنیزوں نے ان کو اس شبہ میں پکڑ لیا کہ یہ عورت شاید اس بچے کی ماں یا کوئی عزیز خاص ہے جو وثوق کے ساتھ یہ کہہ رہی ہے کہ وہ گھر والے اس کے خیر خواہ اور ہمدرد ہیں (اس وقت یہ بہن بھی پریشان ہوگئی)۔ ابن عباس نے اس جگہ پہنچ کر پھر ابن جبیر کو خطاب کیا کہ یہ (تیسرا) واقعہ فتون یعنی آزمائش کا ہے اس وقت موسیٰ ؑ کی بہن نے بات بنائی اور کہا کہ میری مراد اس گھر والوں کے ہمدرد خیر خواہ ہونے سے یہی تھی کہ فرعونی دربار تک ان کی رسائی ہوگی اس سے ان کو منافع پہنچنے کی امید ہوگی اس لئے وہ اس بچے کی محبت و ہمدردی میں کسر نہ کریں گے۔ یہ سن کر کنیزوں نے ان کو چھوڑ دیا۔ یہ واپس اپنے گھر پہنچی اور موسیٰ ؑ کی والدہ کو واقعہ کی خبر دی وہ ان کے ساتھ اس جگہ پہنچیں جہاں یہ کنیزیں جمع تھیں، کنیزوں کے کہنے سے انہوں نے بھی بچے کو گود میں لے لیا، موسیٰ ؑ فوراً ان کی چھاتیوں سے لگ کر دودھ پینے لگے یہاں تک کہ پیٹ بھر گیا۔ یہ خوشخبتی فرعون کی بیوی کو پہنچی کہ اس بچے کے لیے دودھ پلانے والی مل گئی۔ فرعون کی بیوی نے موسیٰ ؑ کی والدہ کو بلوایا۔ انہوں نے آکر حالات دیکھے اور یہ محسوس کیا کہ فرعون کی بیوی میری حاجت و ضرورت محسوس کر رہی ہے تو ذرا خود داری سے کام لیا۔ اہلیہ فرعون نے کہا کہ آپ یہاں رہ کر اس بچے کو دودھ پلائیں کیونکہ مجھے اس بچے سے اتنی محبت ہے کہ میں اس کو اپنی نظروں سے غائب نہیں رکھ سکتی۔ موسیٰ ؑ کی والدہ نے کہا کہ میں تو اپنے گھر کو چھوڑ کر یہاں نہیں رہ سکتی کیونکہ میری گود میں خود ایک بچہ ہے جس کو دودھ پلاتی ہوں، میں اس کو کیسے چھوڑوں۔ ہاں اگر آپ اس پر راضی ہوں کے بچہ میرے سپرد کریں میں اپنے گھر رکھ کر اس کو دودھ پلاؤں اور یہ وعدہ کرتی ہوں کہ اس بچے کی خبر گیری اور حفاظت میں ذرا کوتاہی نہ کروں گی۔ موسیٰ ؑ کی والدہ کو اس وقت اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ بھی یاد آگیا جس میں فرمایا کہ چند روز کی جدائی کے بعد ہم ان کو تمہارے پاس واپس دے دیں گے اس لئے وہ اور اپنی بات پر جم گئیں۔ اہلیہ فرعون نے مجبور ہو کر ان کی بات مان لی اور یہ اسی روز حضرت موسیٰ ؑ کو لے کر اپنے گھر آئیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کا نشو و نما خاص طریقے پر فرمایا۔ جب موسیٰ ؑ ذرا قوی ہوگئے تو اہلیہ فرعون نے ان کی والدہ سے کہا کہ یہ بچہ مجھے لا کر دکھلا جاؤ (کہ میں اس کے دیکھنے کے لئے بےچین ہوں) اور اہلیہ فرعون نے اپنے سب درباریوں کو حکم دیا کہ یہ بچہ آج ہمارے گھر آرہا ہے تم میں سے کوئی ایسا نہ رہے جو اس کا اکرام نہ کرے اور کوئی ہدیہ اس کو پیش نہ کرے اور میں خود اس کی نگرانی کروں گی کہ تم لوگ اس معاملہ میں کیا کرتے ہو۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ جس وقت موسیٰ ؑ اپنی والدہ کے ساتھ گھر سے نکلے اسی وقت سے ان پر تحفوں اور ہدایا کی بارش ہونے لگی یہاں تک کہ اہلیہ فرعون کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے پاس سے خاص تحفے اور ہدیے الگ پیش کیے۔ اس کے بعد اہلیہ فرعون ان کو دیکھ کر بیحد مسرور ہوئی اور یہ سب تحفے حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ کو دے دئیے۔ اس کے بعد اہلیہ فرعون نے کہا کہ اب میں ان کو فرعون کے پاس لے جاتی ہوں وہ ان کو انعامات اور تحفے دیں گے جب ان کو لے کر فرعون کے پاس پہنچی تو فرعون نے ان کو اپنی گود میں لے لیا۔ موسیٰ ؑ نے فرعون کی داڑھی پکڑ کر زمین کی طرف جھکا دیا۔ اس وقت دربار کے لوگوں نے فرعون سے کہا کہ آپ نے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ابراہیم ؑ سے جو وعدہ کیا تھا بنی اسرائیل میں ایک نبی پیدا ہوگا جو آپ کے ملک و مال کا وارث ہوگا، آپ پر غالب آئے گا اور آپ کو پچھاڑے گا، یہ وعدہ کس طرح پورا ہو رہا ہے۔ فرعون متنبہ ہوا اور اسی وقت لڑکوں کو قتل کرنے والے سپاہیوں کو بلا لیا تاکہ اس کو ذبح کردیں ابن عباس نے یہاں پہنچ کر پھر ابن جبیر کو خطاب کیا کہ یہ (چوتھا) واقعہ فتون یعنی آزمائش کا ہے کہ پھر موت سر پر منڈلانے لگی۔ اہلیہ فرعون نے یہ دیکھا تو کہا کہ آپ تو یہ بچہ مجھے دے چکے ہیں پھر اب یہ کیا معاملہ ہو رہا ہے، فرعون نے کہا تم یہ نہیں دیکھتیں کہ یہ لڑکا اپنے عمل سے گویا یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ مجھ کو زمین پر پچھاڑ کر مجھ پر غالب آجائے گا۔ اہلیہ فرعون نے کہا کہ آپ ایک بات کو اپنے اور میرے معاملہ کے فیصلہ کے لئے مان لیں جس سے حق بات ظاہر ہوجاوے گی (کہ بچے نے یہ معاملہ بچپن کی بیخبر ی میں کیا ہے یا دیدہ دانستہ کسی شوخی سے) آپ دو انگارے آگ کے اور دو موتی منگوا لیجئے اور دونوں کو ان کے سامنے کر دیجئے اگر یہ موتیوں کی طرف ہاتھ بڑھائیں اور آگ کے انگاروں سے بچیں تو آپ سمجھ لیں کہ اس کے افعال عقل و شعور سے دیدہ و دانستہ ہیں اور اگر اس نے موتیوں کی بجائے انگارے ہاتھ میں اٹھائے تو یہ یقین ہوجائے گا کہ یہ کام کسی عقل و شعور سے نہیں کیا گیا کیونکہ کوئی عقل والا انسان آگ کو ہاتھ میں نہیں اٹھا سکتا (فرعون نے اس آزمائش کو مان لیا) دو انگارے اور دو موتی موسیٰ ؑ کے سامنے پیش کئے تو موسیٰ ؑ نے انگارے اٹھا لئے (بعض دوسری روایات میں ہے کہ موسیٰ ؑ موتیوں کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہتے تھے کہ جبرئیل امین نے ان کا ہاتھ انگاروں کی طرف پھیر دیا) فرعون نے یہ ماجرا دیکھا تو فوراً ان کے ہاتھ سے انگارے چھین لئے کہ ان کا ہاتھ نہ جل جائے (اب تو اہلیہ فرعون کی بات بن گئی) اس نے کہا کہ آپ نے واقعہ کی حقیقت کو دیکھ لیا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے پھر یہ موت موسیٰ ؑ سے ٹلا دی کیونکہ قدرت خداوندی کو ان سے آگے کام لینا تھا۔ (حضرت موسیٰ ؑ اسی طرح فرعون کے شاہانہ اعزازو اکرام اور شاہانہ خرچ پر اپنی والدہ کی نگرانی میں پرورش پاتے رہے یہاں تک یہ جوان ہوگئے)۔ ان کے شاہی اکرام و اعزاز کو دیکھ کر فرعون کے لوگوں کو بنی اسرائیل پر وہ ظلم و جور اور تذلیل و توہین کرنے کی ہمت نہ رہی جو اس سے پہلے آل فرعون کی طرف سے ہمیشہ بنی اسرائیل پر ہوتا رہتا تھا۔ ایک روز موسیٰ ؑ شہر کے کسی گوشہ میں چل رہے تھے تو دیکھا کہ دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں جن میں سے ایک فرعونی ہے اور دوسرا اسرائیلی۔ اسرائیلی نے موسیٰ ؑ کو دیکھ کر امداد کے لئے پکارا۔ موسیٰ ؑ کو فرعونی آدمی کی جسارت پر بہت غصہ آگیا کہ اس نے شاہی دربار میں موسیٰ ؑ کے اعزازو اکرام کو جانتے ہوئے اسرائیلی کو ان کے سامنے پکڑ رکھا ہے جبکہ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ موسیٰ ؑ اسرائیلیوں کی حفاظت کرتے ہیں اور لوگوں کو تو صرف یہی معلوم تھا کہ ان کا تعلق اسرائیلی لوگوں سے صرف رضاعت اور دودھ پینے کی وجہ سے ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی والدہ یا کسی اور ذریعہ سے یہ معلوم کردیا ہو کہ یہ اپنی دودھ پلانے والی عورت ہی کے بطن سے پیدا ہوئے اور اسرائیلی ہیں۔ غرض موسیٰ ؑ نے غصہ میں آکر اس فرعونی کے ایک مکا رسید کیا جس کو وہ برداشت نہ کرسکا اور وہیں مر گیا مگر اتفاق سے وہاں کوئی اور آدمی موسیٰ ؑ اور ان دونوں لڑنے والوں کے سوا موجود نہیں تھا، فرعونی تو قتل ہوگیا اسرائیلی اپنا آدمی تھا اس سے اس کا اندیشہ نہ تھا کہ یہ مخبری کردے گا۔ جب یہ فرعونی موسیٰ ؑ کے ہاتھ سے مارا گیا تو موسیٰ ؑ نے کہا هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ ۭ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيْنٌ، یعنی یہ کام شیطان کی طرف سے ہوا ہے وہ کھلا دشمن گمراہ کرنے والا ہے (پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی) رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ فَغَفَرَ لَهٗ ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ ، یعنی اے میرے پروردگار میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا (کہ یہ خطا قتل فرعونی کی مجھ سے سرزد ہوگئی) مجھے معاف فرما دیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا کیونکہ وہ ہی بہت معاف کرنے والا اور بہت رحمت کرنے والا ہے۔ موسیٰ ؑ اس واقعہ کے بعد خوف و ہراس کے عالم میں یہ خبریں دریافت کرتے رہے (کہ اس کے قتل پر آل فرعون کا ردعمل کیا ہوا اور دربار فرعون تک یہ معاملہ پہنچا یا نہیں) معلوم ہوا کہ معاملہ فرعون تک اس عنوان سے پہنچا کہ کسی اسرائیلی نے آل فرعون کے ایک آدمی کو قتل کردیا ہے اس لئے اسرائیلیوں سے اس کا انتقام لیا جائے۔ اس معاملے میں ان کے ساتھ کوئی ڈھیل کا معاملہ نہ کیا جائے۔ فرعون نے جواب دیا کہ اس کے قاتل کو متعین کرکے مع شہادت کے پیش کرو۔ کیونکہ بادشاہ اگرچہ تمہارا ہی ہے مگر اس کے لئے یہ کسی طرح مناسب نہیں کہ بغیر شہادت و ثبوت کے کسی سے قصاص لے لے۔ تم اس کے قاتل کو تلاش کرو اور ثبوت مہیا کرو میں ضرور تمہارا انتقام بصورت قصاص اس سے لوں گا۔ فرعون کے لوگ یہ سن کر گلی کوچوں اور بازاروں میں گھومنے لگے کہ کہیں اس کے قتل کرنے والے کا سراغ مل جائے مگر ان کو کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ اچانک یہ واقعہ پیش آیا کہ اگلے روز موسیٰ ؑ گھر سے نکلے تو اسی اسرائیلی کو دیکھا کہ کسی دوسرے فرعونی شخص سے مقاتلہ کرنے میں لگا ہوا ہے اور پھر اس اسرائیلی نے موسیٰ ؑ کو مدد کے لئے پکارا مگر موسیٰ ؑ کل کے واقعہ پر ہی نادم ہو رہے تھے اور اس وقت اسی اسرائیلی کو پھر لڑتے ہوئے دیکھ کر اس پر ناراض ہوئے (کہ خطا اسی کی معلوم ہوتی ہے یہ جھگڑالو آدمی ہے اور لڑتا ہی رہتا ہے) مگر اس کے باوجود موسیٰ ؑ نے ارادہ کیا کہ فرعونی شخص کو اس پر حملہ کرنے سے روکیں لیکن اسرائیلی کو بھی بطور تنبیہ کہنے لگے تو نے کل بھی جھگڑا کیا تھا آج پھر لڑ رہا ہے، تو ہی ظالم ہے۔ اسرائیلی نے موسیٰ ؑ کو دیکھا کہ وہ آج بھی اسی طرح غصے میں ہیں جیسے کل تھے تو اس کو موسیٰ ؑ کے ان الفاظ سے یہ شبہ ہوگیا کہ یہ آج مجھے ہی قتل کردیں گے تو فوراً بول اٹھا کہ اے موسیٰ کیا تم چاہتے ہو کہ مجھے قتل کر ڈالو جیسے کل تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا۔ یہ باتیں ہونے کے بعد یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوگئے مگر فرعونی شخص نے آل فرعون کے ان لوگوں کو جو کل کے قاتل کی تلاش میں تھے جا کر یہ خبر پہنچا دی کہ خود اسرائیلی نے موسیٰ ؑ کو کہا ہے کہ تم نے کل ایک آدمی قتل کردیا ہے۔ یہ خبر دربار فرعون تک فوراً پہنچائی گئی۔ فرعون نے اپنے سپاہی موسیٰ ؑ کو قتل کرنے کے لئے بھیج دئیے۔ یہ سپاہی جانتے تھے کہ وہ ہم سے بچ کر کہاں جائیں گے۔ اطمینان کے ساتھ شہر کی بڑی سڑک سے موسیٰ ؑ کی تلاش میں نکلے۔ اس طرف ایک شخص کو موسیٰ ؑ کے متبعین میں سے جو شہر کے کسی بعید حصہ میں رہتا تھا اس کی خبر لگ گئی کہ فرعونی سپاہی موسیٰ ؑ کی تلاش میں بغرض قتل نکل چکے ہیں اس نے کسی گلی کوچے کے چھوٹے راستہ سے آگے پہنچ کر حضرت موسیٰ ؑ کو خبر دی۔ یہاں پہنچ کر پھر ابن عباس نے ابن جبیر کو خطاب کیا کہ اے ابن جبیر یہ (پانچواں) واقعہ فتون یعنی آزمائش کا ہے کہ موت سر پر آچکی تھی اللہ نے اس سے نجات کا سامان کردیا۔ حضرت موسیٰ ؑ یہ خبر سن کر فوراً شہر سے نکل گئے اور مدین کی طرف رخ پھر گیا۔ یہ آج تک شاہی ناز و نعمت میں پلے تھے کبھی محنت و مشقت کا نام نہ آیا تھا مصر سے نکل کھڑے ہوئے مگر راستہ بھی کہیں کا نہ جانتے تھے مگر اپنے رب پر بھروسہ تھا کہ عَسٰى رَبِّيْٓ اَنْ يَّهْدِيَنِيْ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ ، یعنی امید ہے کہ میرا رب مجھے راستہ دکھاوے گا۔ جب شہر مدین کے قریب پہنچے تو شہر سے باہر ایک کنویں پر لوگوں کا اجتماع دیکھجا جو اس پر اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے۔ اور دیکھا کہ دو عورتیں اپنی بکریوں کو سمیٹے ہوئے الگ کھڑی ہیں، موسیٰ ؑ نے ان عورتوں سے پوچھا کہ تم الگ کیوں کھڑی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ہم ان سب لوگوں سے مزاحمت اور مقابلہ کریں اس لیے ہم اس انتظار میں ہیں کہ جب یہ سب لوگ فارغ ہوجائیں تو جو کچھ بچا ہوا پانی مل جائے گا اس سے ہم اپنا کام نکالیں گے۔ موسیٰ ؑ نے ان کی شرافت دیکھ کر خود ان کے لئے کنویں سے پانی نکالنا شروع کردیا اللہ تعالیٰ نے قوت و طاقت بخشی تھی بڑی جلدی ان کی بکریوں کو سیراب کردیا۔ یہ عورتیں اپنی بکریاں لے کر اپنے گھر گئیں اور موسیٰ ؑ ایک درخت کے سایہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی رَبِّ اِنِّىْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيْرٌ، یعنی اے میرے پروردگار میں محتاج ہوں اس نعمت کا جو آپ میری طرف بھیجیں (مطلب یہ تھا کہ کھانے کا اور ٹھکانہ کا کوئی انتظام ہوجائے) یہ لڑکیاں جب روزانہ کے وقت سے پہلے بکریوں کو سیراب کر کے گھر پہنچیں تو ان کے والد کو تعجب ہوا اور فرمایا آج تو کوئی نئی بات ہے، لڑکیوں نے موسیٰ ؑ کے پانی کھینچنے اور پلانے کا قصہ والد کو سنا دیا۔ والد نے ان میں سے ایک کو حکم دیا کہ جس شخص نے یہ احسان کیا ہے اس کو یہیں بلا لاؤ، وہ بلا لائی، والد نے موسیٰ ؑ سے ان کے حالات دریافت کئے اور فرمایا لَا تَخَفْ ڣ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ ، یعنی اب آپ خوف و ہراس اپنے دل سے نکال دیجئے، آپ ظالموں کے ہاتھ سے نجات پاچکے ہیں ہم نہ فرعون کی سلطنت میں ہیں نہ اس کا ہم پر کچھ حکم چل سکتا ہے۔ اب ان دو لڑکیوں میں سے ایک نے اپنے والد سے کہا يٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ ۡ اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْـتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ ، یعنی ابا جان، ان کو آپ ملازم رکھ لیجئے کیونکہ ملازمت کے لئے بہترین آدمی وہ ہے جو قوی بھی ہو اور امانت دار بھی۔ والد کو اپنی لڑکی سے یہ بات سن کر غیرت سی آئی کہ میری لڑکی کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ قوی بھی ہیں اور امین بھی۔ اس لئے اس سے سوال کیا کہ تمہیں ان کی قوت کا اندازہ کیسے ہوا اور ان کی امانت داری کس بات سے معلوم کی۔ لڑکی نے عرض کیا کہ ان کی قوت کا مشاہدہ تو ان کے کنویں سے پانی کھینچنے کے وقت ہوا کہ سب چرواہوں سے پہلے انہوں نے اپنا کام کرلیا، دوسرا کوئی ان کے برابر نہیں آسکا اور امانت کا حال اس طرح معلوم ہوا کہ جب میں ان کو بلانے کے لئے گئی اور اول نظر میں جب انہوں نے دیکھا کہ میں ایک عورت ہوں تو فوراً اپنا سر نیچا کرلیا اور اس وقت تک سر نہیں اٹھایا جب تک کہ میں نے ان کو آپ کا پیغام نہیں پہنچا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تم میرے پیچھے پیچھے چلو مگر مجھے اپنے گھر کا راستہ پیچھے سے بتلاتی رہو اور یہ بات صرف وہی مرد کرسکتا ہے جو امانت دار ہو۔ والد کو لڑکی کی اس دانشمندانہ بات سے مسرت ہوئی اور اس کی تصدیق فرمائی اور خود بھی ان کے بارے میں قوت و امانت کا یقین ہوگیا۔ اس وقت لڑکیوں کے والد نے (جو اللہ کے رسول حضرت شعیب ؑ تھے) موسیٰ ؑ سے کہا کہ آپ کو یہ منظور ہے کہ میں ان دونوں میں سے ایک کا نکاح آپ سے کردوں جس کی شرط یہ ہوگی کہ آپ آٹھ سال تک ہمارے یہاں مزدوری کریں، اور اگر آپ دس سال پورے کردیں تو اپنے اختیار سے کردیں بہتر ہوگا مگر ہم یہ پابندی آپ پر عائد نہیں کرتے تاکہ آپ پر زیادہ مشقت نہ ہو۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اس کو منظور فرما لیا جس کی رو سے موسیٰ ؑ پر صرف آٹھ سال کی خدمت بطور معاہدہ کے لازم ہوگئی باقی دو سال کا وعدہ اختیاری رہا، اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر موسیٰ ؑ سے وہ وعدہ بھی پورا کرا کر دس سال پورے کرا دئیے۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک نصرانی عالم مجھے ملا، اس نے سوال کیا کہ تم جانتے ہو کہ موسیٰ ؑ نے دونوں میعادوں میں سے کون سی میعاد پوری فرمائی ؟ میں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں کیونکہ اس وقت تک ابن عباس کی یہ حدیث مجھے معلوم نہ تھی۔ اس کے بعد میں ابن عباس سے ملا ان سے سوال کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ آٹھ سال کی میعاد پورا کرنا تو موسیٰ ؑ پر واجب تھا اس میں کچھ کمی کرنے کا تو احتمال ہی نہیں اور یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے رسول کا اختیاری وعدہ بھی پورا ہی کرنا منظور تھا اس لئے دس سال کی میعاد پوری کی۔ اس کے بعد میں اس نصرانی عالم سے ملا اور اس کو یہ خبر دی تو اس نے کہا کہ تم نے جس شخص سے یہ بات دریافت کی ہے کیا وہ تم سے زیادہ علم والے ہیں، میں نے کہا کہ بیشک وہ بہت بڑے عالم اور ہم سب سے افضل ہیں۔ (دس سال کی میعاد خدمت پوری کرنے کے بعد جب) حضرت موسیٰ ؑ اپنی اہلیہ محترمہ کو ساتھ لے کر شعیب ؑ کے وطن مدین سے رخصت ہوئے، راستہ میں سخت سردی اندھیری رات، راستہ نامعلوم، بےکسی اور بےبسی کے عالم میں اچانک کوہ طور پر آگ دیکھنے پھر وہاں جانے اور حیرت انگیز مناظر کے بعد معجزہ عصا و ید بیضاء اور اس کے ساتھ منصب نبوت و رسالت عطا ہونے کے بعد (جس کا پورا قصہ قرآن میں اوپر گزر چکا ہے) حضرت موسیٰ ؑ کو یہ فکر ہوئی کہ میں فرعونی دربار کا ایک مفرور ملزم قرار دیا گیا ہوں مجھ سے قبطی کا قصاص لینے کا حکم وہاں سے ہوچکا ہے اب اس کے پاس دعوت رسالت لے کر جانے کا حکم ہوا ہے، نیز اپنی زبان میں لکنت کا عذر بھی سامنے آیا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض معروض پیش کی حق تعالیٰ نے ان کی فرمائش کے مطابق ان کے بھائی حضرت ہارون کو شریک رسالت بنا کر ان کے پاس وحی بھیج دی اور یہ حکم دیا کہ وہ حضرت موسیٰ ؑ کا شہر مصر سے باہر استقبال کریں۔ اس کے مطابق موسیٰ ؑ وہاں پہنچے۔ ہارون ؑ سے ملاقات ہوئی دونوں بھائی (حسب الحکم) فرعون کو دعوت دینے کے لئے اس کے دربار میں پہنچے کچھ وقت تک تو ان کو دربار میں حاضری کا موقع نہیں دیا گیا۔ یہ دونوں دروازے پر ٹہرے رہے پھر بہت سے پردوں میں گزر کر حاضری کی اجازت ملی اور دونوں نے فرعون سے کہا اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ ، یعنی ہم دونوں تیرے رب کی طرف سے قاصد اور پیغامبر ہیں۔ فرعون نے پوچھا فَمَنْ رَّبُّكُمَا (تو بتلاؤ تمہارا رب کون ہے) موسیٰ و ہارون ؑ نے وہ بات کہی جس کا قرآن نے خود ذکر کردیا (رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى، اس پر فرعون نے پوچھا کہ پھر تم دونوں کیا چاہتے ہو اور ساتھ ہی قبطی مقتول کا واقعہ ذکر کرکے حضرت موسیٰ ؑ کو مجرم ٹہرایا (اور اپنے گھر میں ان کی پرورش پانے کا احسان جتلایا) حضرت موسیٰ ؑ نے دونوں باتوں کا وہ جواب دیا جو قرآن میں مذکور ہے (یعنی مقتول کے معاملہ میں تو اپنی خطا اور غلطی کا اعتراف کر کے ناواقفیت کا عذر ظاہر کیا اور گھر میں پرورش پر احسان جتلانے کا جواب یہ دیا کہ تم نے سارے بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا رکھا ہے ان پر طرح طرح کے ظلم کر رہے ہو اسی کے نتیجہ میں بہ نیرنگ تقدیر میں تمہارے گھر میں پہنچا دیا گیا اور جو کچھ اللہ کو منظور تھا وہ ہوگیا اس میں تمہارا کوئی احسان نہیں۔ پھر موسیٰ ؑ نے فرعون کو خطاب کر کے پوچھا کہ کیا تم اس پر راضی ہو کہ اللہ پر ایمان لے آؤ اور بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کردو۔ فرعون نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ اگر تمہارے پاس رسول رب ہونے کی کوئی علامت ہے تو دکھلاؤ۔ موسیٰ ؑ نے اپنی عصا زمین پر ڈال دی تو وہ عظیم الشان اژدہا کی شکل میں منہ کھولے ہوئے فرعون کی طرف لپکی۔ فرعون خوفزدہ ہو کر اپنے تخت کے نیچے چھپ گیا اور موسیٰ ؑ سے پناہ مانگی کہ اس کو روک لیں۔ موسیٰ ؑ نے اس کو پکڑ لیا۔ پھر اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چمکنے لگا یہ دوسرا معجزہ فرعون کے سامنے آیا پھر دوبارہ گریبان میں ہاتھ ڈالا تو وہ اپنی اصلی حالت پر آگیا۔ فرعون نے ہیبت زدہ ہو کر اپنے درباریوں سے مشورہ کیا (کہ تم دیکھ رہے ہو یہ کیا ماجرا ہے اور ہمیں کیا کرنا چاہیے) درباریوں نے متفقہ طور پر کہا کہ (کچھ فکر کی بات نہیں) یہ دونوں جادوگر ہیں اپنے جادو کے ذریعہ تم کو تمہارے ملک سے نکالنا چاہتے ہیں اور تمہارے بہترین دین و مذہب کو (جو ان کی نظر میں فرعون کی پرستش کرنا تھا) یہ مٹانا چاہتے ہیں۔ آپ ان کی کوئی بات نہ مانیں (اور کوئی فکر نہ کریں) کیونکہ آپ کے ملک میں بڑے بڑے جادوگر ہیں، آپ ان کو بلا لیجئے وہ اپنے جادو سے ان کے جادو پر غالب آجائیں گے۔ فرعون نے اپنی مملکت کے سب شہروں میں حکم دے دیا کہ جتنے آدمی جادوگری میں ماہر ہوں وہ سب دربار میں حاضر کردیئے جاویں، ملک بھر کے جادوگر جمع ہوگئے تو انہوں نے فرعون سے پوچھا کہ جس جادوگر سے آپ ہمارا مقابلہ کرانا چاہتے ہیں وہ کیا عمل کرتا ہے، اس نے بتلایا کہ وہ اپنی لاٹھی کو سانپ بنا دیتا ہے، جادوگروں نے بڑی بےفکری سے کہا کہ یہ تو کوئی چیز نہیں، لاٹھیوں اور رسیوں کو سانپ بنا دینے کے جادو کا تو جو کمال ہمیں حاصل ہے اس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا، مگر یہ طے کردیجئے کہ اگر ہم اس پر غالب آگئے تو ہمیں کیا ملے گا۔ فرعون نے کہا کہ تم غالب آگئے تو تم میرے خاندان کا جز اور مقربین خاص میں داخل ہوجاؤ گے اور تمہیں وہ سب کچھ ملے گا جو تم چاہو گے۔ اب جادوگروں نے مقابلہ کا وقت اور جگہ موسیٰ ؑ سے طے کر کے اپنی عید کے دن چاشت کا وقت مقرر کردیا۔ ابن جبیر فرماتے ہیں کہ ابن عباس نے مجھ سے بیان فرمایا کہ ان کا یوم الزینہ (یعنی عید کا دن) جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو فرعون اور اس کے جادوگروں پر فتح عطا فرمائی وہ عاشوراء یعنی محرم کی دسویں تاریخ تھی۔ جب سب لوگ ایک وسیع میدان میں مقابلہ دیکھنے کے لئے جمع ہوگئے تو فرعون کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو کہنے لگے لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِيْنَ ، یعنی ہمیں یہاں ضرور رہنا چاہئے تاکہ یہ ساحر یعنی موسیٰ و ہارون اگر غالب آجائیں تو ہم بھی ان پر ایمان لے آئیں، ان کی یہ گفتگو ان حضرات کے ساتھ استہزاء و مذاق کے طور پر تھی (ان کا یقین تھا کہ یہ ہمارے جادوگروں پر غالب نہیں آسکیں گے)۔ میدان مقابلہ مکمل آراستہ ہوگیا تو جادوگروں نے موسیٰ ؑ کو خطاب کیا کہ پہلے آپ کچھ ڈالیں (یعنی اپنا سحر دکھلائیں) یا ہم پہلے ڈال کر ابتداء کریں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے ان سے کہا کہ تم ہی پہل کرو، اپنا جادو دکھلاؤ۔ ان لوگوں نے اپنی لاٹھیاں اور کچھ رسیاں زمین پر یہ کہتے ہوئے ڈال دیں بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ ، یعنی بطفیل فرعون ہم ہی غالب آئیں گے (یہ لاٹھیاں اور رسیاں دیکھنے میں سانپ بن کر چلنے لگیں) یہ دیکھ کر موسیٰ ؑ پر ایک خوف طاری ہوا (فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِهٖ خِيْفَةً مُّوْسٰى) یہ خوف طبعی ہوسکتا ہے جو مقتضائے بشریت ہے، انبیاء بھی اس سے مستشنیٰ نہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خوف اس بات کا ہو کہ اب اسلام کی دعوت جس کو میں لے کر آیا ہوں اس میں رکاوٹ پیدا ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ اپنی عصا ڈال دو۔ موسیٰ ؑ نے اپنی عصا ڈالی تو وہ ایک بڑا اژدہا بن گیا جس کا منہ کھلا ہوا تھا اس اژدہا نے ان تمام سانپوں کو نگل لیا جو جادوگروں نے لاٹھیوں اور رسیوں کے بنائے تھے۔ فرعونی جادوگر جادو کے فن کے ماہر تھے یہ ماجرا دیکھ کر ان کو یقین ہوگیا کہ موسیٰ ؑ کی عصا کا یہ اژدہا جادو سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اس لئے جادوگروں نے اسی وقت اعلان کردیا کہ ہم اللہ پر اور موسیٰ ؑ کے لائے ہوئے دین پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے پچھلے خیالات و عقائد سے توبہ کرتے ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کی کمر توڑ دی اور انہوں نے جو جال پھیلایا تھا وہ سب باطل ہوگیا (فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِيْنَ) فرعون اور اس کے ساتھی مغلوب ہوگئے اور ذلت و رسوائی کیساتھ اس میدان سے پسپا ہوئے۔ جس وقت یہ مقابلہ ہورہا تھا فرعون کی بیوی آسیہ پھٹے پرانے کپڑے پہن کر اللہ تعالیٰ سے موسیٰ ؑ کی مدد کے لئے دعا مانگ رہی تھی اور آل فرعون کے لوگ یہ سمجھتے رہے کہ یہ فرعون کی وجہ سے پریشان حال ہیں اس کے لئے دعا مانگ رہی ہیں حالانکہ ان کا غم و فکر سارا موسیٰ ؑ کے لئے تھا (اور انہیں کے غالب آنے کی دعا مانگ رہی تھیں) اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ جب کوئی معجزہ دکھاتے اور اللہ کی طرف سے اس پر حجت تمام ہوجاتی تو اسی وقت وعدہ کرلیتا تھا کہ اب میں بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیج دوں گا مگر جب موسیٰ ؑ کی دعا سے وہ عذاب کا خطرہ ٹل جاتا تو اپنے وعدہ سے پھرجاتا تھا) اور یہ کہہ دیتا تھا کہ کیا آپ کا رب کوئی اور بھی نشانی دکھا سکتا ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا بالآخر اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون پر طوفان اور ٹڈی دل اور کپڑوں میں جوئیں اور برتنوں اور کھانے میں مینڈکوں اور خون وغیرہ کے عذاب میں مسلط کردئیے، جن کو قرآن میں آیات مفصلات کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔ اور فرعون کا حال یہ تھا کہ جب ان میں سے کوئی عذاب آتا اور اس سے عاجز ہوتا تو موسیٰ ؑ سے فریاد کرتا کہ کسی طرح یہ عذاب ہٹا دیجئے تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردیں گے پھر جب عذاب ٹل جاتا تو پھر بدعہدی کرتا۔ یہاں تک کہ حق تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو یہ حکم دے دیا کہ اپنی قوم بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے نکل جائیں۔ حضرت موسیٰ ؑ ان سب کو لے کر رات کے وقت شہر سے نکل گئے فرعون نے جب صبح دیکھا کہ یہ سب لوگ چلے گئے تو اپنی فوج تمام اطراف سے جمع کر کے ان کے تعاقب میں چھوڑ دی۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے اس دریا جو موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کے راستہ میں تھا یہ حکم دے دیا کہ جب موسیٰ ؑ تجھ پر لاٹھی ماریں تو دریا میں بارہ راستے بن جانے چاہئیں۔ جن سے بنی اسرائیل کے بارہ قبائل الگ الگ گزر سکیں۔ اور جب یہ گزر جائیں تو ان کے تعاقب میں آنے والوں پر یہ دریا کے بارہ حصے پھر مل جائیں۔ حضرت موسیٰ ؑ جب دریا کے قریب پہنچے تو یہ یاد نہ رہا کہ لاٹھی مارنے سے دریا میں راستے پیدا ہوں گے اور ان کی قوم نے ان سے فریاد کی اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَ یعنی ہم تو پکڑ لئے گئے (کیونکہ پیچھے فرعونی فوجوں کو آتا دیکھ رہے تھے اور آگے دریا حائل تھا) اس وقت موسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ یاد آیا کہ دریا پر لاٹھی مارنے سے اس میں رستے پیدا ہوجاویں گے اور فوراً دریا پر اپنی لاٹھی ماری۔ یہ وہ وقت تھا کہ بنی اسرائیل کے پچھلے حصوں سے فرعونی افواج کے اگلے حصے تقریباً مل چکے تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے معجزے سے دریا کے الگ الگ ٹکڑے ہو کر وعدہ ربانی کے مطابق بارہ راستے بن گئے اور موسیٰ ؑ اور تمام بنی اسرائیل ان راستوں سے گزر گئے۔ فرعونی افواج جو ان کے تعاقب میں تھی انہوں نے دریا میں راستے دیکھ کر ان کے تعاقب میں اپنے گھوڑے اور پیادے ڈال دئیے تو دریا کے یہ مختلف ٹکڑے بامر ربانی پھر آپس میں مل گئے۔ جب موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل دوسرے کنارے پر پہنچ گئے تو ان کے اصحاب نے کہا کہ ہمیں یہ خطرہ ہے کہ فرعون ان کے ساتھ غرق نہ ہوا ہو اور اس نے اپنے آپ کو بچا لیا ہو تو موسیٰ ؑ نے دعا فرمائی کہ فرعون کی ہلاکت ہم پر ظاہر کردے قدرت حق نے فرعون کی مردہ لاش کو دریا سے باہر پھینک دیا اور سب نے اس کی ہلاکت کا آنکھوں سے مشاہدہ کرلیا۔ اس کے بعد یہ بنی اسرائیل موسیٰ ؑ کے ساتھ آگے چلے تو راستہ میں ان کا گزر ایک قوم پر ہوا جو اپنے بنائے ہوئے بتوں کی عبادت اور پرستش کر رہے تھے۔ تو یہ بنی اسرائیل موسیٰ ؑ سے کہنے لگے (يٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰـهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ ۭقَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْـهَلُوْنَ ، اِنَّ هٰٓؤ ُ لَاۗءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيْهِ) یعنی اے موسیٰ ہمارے لئے بھی کوئی ایسا ہی معبود بنا دیجئے جیسے انہوں نے بہت سے معبود بنا رکھے ہیں۔ موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ تم عجیب قوم ہو کہ ایسی جہالت کی باتیں کرتے ہو، یہ لوگ جو بتوں کی عبادت میں مشغول ہیں ان کی عبادت برباد ہونے والی ہے (موسیٰ ؑ نے فرمایا) کہ تم اپنے پروردگار کے اتنے معجزات اور اپنے اوپر انعامات دیکھ چکے ہو پھر بھی تمہارے یہ جاہلانہ خیالات نہیں بدلے۔ یہ کہہ کر حضرت موسیٰ ؑ مع اپنے ان ساتھیوں کے یہاں سے آگے بڑھے اور ایک مقام پر جا کر ان کو ٹہرا دیا اور فرمایا تم سب یہاں ٹہرو، میں اپنے رب کے پاس جاتا ہوں، تیس دن کے بعد واپس آجاؤں گا اور میرے پیچھے ہارون ؑ میرے نائب و خلیفہ رہیں گے ہر کام میں ان کی اطاعت کرنا۔ موسیٰ ؑ ان سے رخصت ہو کر کوہ طور پر تشریف لے گئے اور (اشارہ ربانی سے) تیس دن رات کا مسلسل روزہ رکھا تاکہ اس کے بعد کلام ربانی سے مستفید ہو سکیں گے مگر تیس دن رات کے مسلسل روزہ سے جو ایک قسم کی بو روزہ دار کے منہ میں ہوجاتی ہے یہ فکر ہوئی کہ اس بو کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی نامناسب ہے، تو پہاڑی گھاس کے ذریعہ مسواک کر کے منہ صاف کرلیا۔ جب بارگاہ حق میں حاضر ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا کہ تم نے افطار کیوں کرلیا (اور اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ موسیٰ ؑ نے کچھ کھایا پیا نہیں بلکہ منہ صاف کرلینے کو پیغمبرانہ امتیاز کی بنا پر افطار کرنے سے تعبیر فرمایا) موسیٰ ؑ نے اس حقیقت کو سمجھ کر عرض کیا کہ اے میرے پروردگار مجھے یہ خیال ہوا کہ آپ سے ہم کلام ہونے کے لئے منہ کی بو دور کر کے صاف کرلوں۔ حکم ہوا کہ موسیٰ کیا تمہیں خبر نہیں کہ روزہ دار کے منہ کی بو ہمارے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ محبوب ہے، اب آپ لوٹ جائیے اور دس دن مزید روزے رکھئے پھر ہمارے پاس آئیے موسیٰ ؑ نے حکم کی تعمیل کی۔ اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ معارف القرآن جلد میں دیکھیں
Ayah 20:45

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

بولے اے رب ہمارے ہم ڈرتے ہیں کہ بھبک پڑے ہم پر یا جوش میں آجائے

خلاصہ تفسیر (جب یہ حکم دونوں صاحبوں کو پہنچ چکا تو) دونوں نے عرض کیا کہ اے ہمارے پروردگار ہم تبلیغ کے لئے حاضر ہیں لیکن) ہم تبلیغ کے لئے حاضر ہیں لیکن) ہم کو اندیشہ ہے کہ (کہیں) وہ ہم پر (تبلیغ سے پہلے ہی) زیادتی نہ کر بیٹھے (کہ تبلیغ ہی رہ جاوے) یا یہ کہ (عین تبلیغ کے وقت اپنے کفر میں) زیادہ شرارت نہ کرنے لگے کہ اپنی بک بک میں تبلیغ نہ سنے نہ سننے دے جس سے وہ عدم تبلیغ کے برابر ہوجاوے) ارشاد ہوا کہ (اس امر سے مطلق) اندیشہ نہ کرو (کیونکہ) میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سب سنتا دیکھتا ہوں (میں تمہاری حفاظت کروں گا اور اس کو مرعوب کردوں گا جس سے پوری تبلیغ کرسکو گے جیسا دوسری آیت میں ہے وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا) سو تم (بےخوف و خطر) اس کے پاس جاؤ اور (اس سے) کہو کہ ہم دونوں تیرے پروردگار کے فرستادے ہیں (کہ ہم کو نبی بنا کر بھیجا ہے) سو (تو ہماری اطاعت کر اصلاح عقیدہ میں بھی کہ توحید کی تصدیق کر اور اصلاح اخلاق میں بھی کہ ظلم وغیرہ سے باز آ اور) بنی اسرائیل کو (جن پر تو ناحق ظلم کرتا ہے اپنے پنجہ ظلم سے رہا کر کے) ہمارے ساتھ جانے دے (کہ جہاں چاہیں اور جس طرح چاہیں رہیں) اور ان کو تکلیفیں مت پہنچا (اور) ہم (جو دعویٰ نبوت کا کرتے ہیں تو خالی خولی نہیں بلکہ ہم) تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے (اپنی نبوت کا) نشان (یعنی معجزہ بھی) لائے ہیں اور (تصدیق اور قبول حق کا ثمرہ اس قاعدہ کلیہ سے معلوم ہوگا کہ) ایسے شخص کے لئے (عذاب الٰہی سے) سلامتی ہے جو (سیدھی) راہ پر چلے (اور تکذیب و رد حق کے باب میں) ہمارے پاس یہ حکم پہنچا ہے کہ (اللہ کا) عذاب (قہر کا) اس شخص پر ہوگا جو (حق کو) جھٹلاوے اور (اس سے) روگردانی کرے (غرض یہ سارا مضمون جا کر اس سے کہو چناچہ دونوں حضرات تشریف لے گئے اور جا کر اس سے سب کہہ دیا) وہ کہنے لگا کہ پھر (جواب میں) موسیٰ ؑ نے کہا کہ ہمارا (دونوں کا بلکہ سب کا) رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے مناسب بناوٹ عطا فرمائی پھر (ان میں جو جاندار چیزیں تھیں ان کو ان کے منافع و مصالح کی طرف) رہنمائی فرمائی (چنانچہ ہر جانور اپنی مناسب غذا اور جوڑہ اور مسکن وغیرہ ڈھونڈ لیتا ہے پس وہی ہمارا بھی رب ہے۔) معارف و مسائل حضرت موسیٰ کو خوف کیوں ہوا اِنَّنَا نَخَافُ ، حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) نے اس جگہ اللہ تعالیٰ کے سامنے دو طرح کے خوف کا اظہار کیا۔ ایک اَنْ يَّفْرُطَ کے لفظ سے جس کے اصلی معنے حد سے تجاوز کرنے کے ہیں تو مطلب یہ ہوا کہ شاید فرعون ہماری بات سننے سے پہلے ہی ہم پر حملہ کردے، دوسرا خوف اَنْ يَّــطْغٰي کے لفظ سے بیان فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ ممکن ہے وہ اس سے بھی زیادہ سرکشی پر اتر آئے کہ آپ کی شان میں نامناسب کلمات بکنے لگے۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابتداء کلام میں جب حضرت موسیٰ ؑ کو منصب نبوت و رسالت عطا فرمایا گیا اور انہوں نے حضرت ہارون کو اپنے ساتھ شریک کرنے کی درخواست کی اور یہ درخواست قبول ہوئی تو اسی وقت حق تعالیٰ نے ان کو یہ بتلا دیا تھا کہ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيْكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا يَصِلُوْنَ اِلَيْكُمَا، نیز یہ بھی اطمینان دلا دیا گیا تھا کہ آپ کی درخواست میں جو جو چیزیں طلب کی گئی ہیں وہ سب ہم نے آپ کو دیدیں قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤ ْلَكَ يٰمُوْسٰى ان مطلوب چیزوں میں شرح صدر بھی جس کا حاصل یہی تھا کہ مخالف سے کوئی دل تنگی اور خوف و ہراس پیدا نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ان وعدوں کے بعد پھر یہ خوف اور اس کا اظہار کیسا ہے اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ پہلا وعدہ کہ ہم آپ کو غلبہ عطا کریں گے اور وہ لوگ آپ تک نہیں پہنچ سکیں گے یہ ایک مبہم وعدہ ہے کہ مراد غلبہ سے حجت و دلیل کا غلبہ بھی ہوسکتا ہے اور مادی غلبہ بھی۔ نیز یہ خیال بھی ہوسکتا ہے کہ ان پر غلبہ تو جب ہوگا کہ وہ ان کے دلائل سنیں معجزات دیکھیں مگر خطرہ یہ ہے کہ وہ کلام سننے سے پہلے ہی ان پر حملہ کر بیٹھے اور شرح صدر کے لئے یہ لازم نہیں کہ طبعی خوف بھی جاتا رہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ خوف کی چیزوں سے طبعی خوف تو تمام انبیاء (علیہم السلام) کی سنت ہے جو وعدوں پر پورا ایمان و یقین ہونے کے باوجود بھی ہوتا ہے خود حضرت موسیٰ ؑ اپنی ہی لاٹھی کے سانپ بن جانے کے بعد اس کے پکڑنے سے ڈرنے لگے تو حق تعالیٰ نے فرمایا لاَ تَخَف ڈر نہیں اور دوسرے تمام مواقع خوف میں ایسا ہی ہوتا رہا کہ طبعی اور بشری خوف لاحق ہوا پھر اللہ تعالیٰ نے بشارت کے ذریعہ اس کو زائل فرمایا۔ اسی واقعہ کی آیات میں فَخَـــرَجَ مِنْهَا خَاۗىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ اور فَاَصْبَحَ فِي الْمَدِيْنَةِ خَاۗىِٕفًا اور فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِهٖ خِيْفَةً مُّوْسٰى کی آیات اس مضمون پر شاہد ہیں حضرت خاتم الانبیاء اور سید الانبیاء ﷺ نے اسی بشری خوف کی وجہ سے مدینہ شریف کی طرف اور کچھ صحابہ کرام نے پہلے حبشہ کی پھر مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ غزوہ احزاب میں اسی خوف سے بچنے کے لئے خندق کھودی۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعدہ نصرت و غلبہ بار بار آ چکا تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ مواعید ربانی سے یقین تو ان سب کو پورا حاصل تھا مگر طبعی خوف جو بمقضائے بشریت انبیاء میں بھی ہوتا ہے وہ اس کے منافی نہیں۔
Ayahs 20:46–49

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

فرمایا نہ ڈرو میں ساتھ ہوں تمہارے سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

سو جاؤ اس کے پاس اور کہو ہم دونوں بھیجے ہوئے ہیں تیرے رب کے سو بھیج دے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اور مت ستا ان کو ہم آئے ہیں تیرے پاس نشانی لیکر تیرے رب کی اور سلامتی ہو اس کی جو مان لے راہ کی بات

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

ہم کو حکم ملا ہے کہ عذاب اس پر ہے جو جھٹلائے اور منہ پھیر لے

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

بولا پھر کون ہے رب تم دونوں کا اے موسیٰ

اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سب کچھ سنتا اور دیکھتا رہوں گا۔ معیت سے مراد نصرت و امداد ہے جس کی پوری حقیقت و کیفیت کا ادراک انسان کو نہیں ہو سکتا۔ موسیٰ ؑ نے فرعون کو دعوت ایمان کے ساتھ اپنی قوم کو معاشی مصیبت سے بھی چھڑانے کی دعوت دی اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) جیسے خلق خدا کو ہدایت ایمان دینے کا منصب رکھتے ہیں اسی طرح اپنی امت کو دنیوی اور معاشی مصائب سے آزاد کرنا بھی ان کے منصب میں شامل ہوتا ہے اس لئے قرآن کریم میں حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت فرعون میں دونوں چیزیں شامل ہیں اول اللہ پر ایمان، دوسرے بنی اسرائیل کی آزادی خصوصاً اس آیت مذکورہ میں تو صرف اسی دوسرے جزء کے ذکر پر اکتفا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا فرمایا اور پھر ہر ایک کے وجود کے مناسب اس کو ہدایت فرمائی جس سے وہ اس کام میں لگ گئی تفصیل اس کی یہ ہے کہ ایک ہدایت جو انبیاء (علیہم السلام) کا وظیفہ اور فرض منصبی ہے وہ تو خاص ہدایت ہے جس کے مخاطب اہل عقول انسان اور جنات ہی ہوتے ہیں۔ ایک دوسری قسم کی تکوینی ہدایت بھی ہے جو مخلوقات میں ہر چیز کے لئے عام اور شامل ہے۔ آگ، پانی، مٹی اور ہوا اور ان سے مرکب ہونے والی ہر شئی کو حق تعالیٰ نے ایک خاص قسم کا ادراک و شعور دیا ہے جو اگرچہ انسان و جن کی برابر نہیں، اسی لئے احکام حلال و حرام ان چیزوں پر عائد نہیں ہوتے مگر ادراک و شعور سے خالی نہیں، اسی ادراک و شعور کے راستہ حق تعالیٰ نے ہر شئے کو اس کی ہدایت کردی کہ تو کس کام کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ تجھے کیا کرنا ہے۔ اسی تکوینی حکم اور ہدایت کے تابع زمین و آسمان اور ان کی تمام مخلوقات اپنے اپنے کام اور اپنی اپنی ڈیوٹی پر لگے ہوئے ہیں۔ چاند سورج اپنا کام کر رہے ہیں اور دوسرے سیارے و ثوابت اپنے اپنے کام میں اس طرح لگے ہوئے ہیں کہ ایک منٹ یا سیکنڈ کا بھی کبھی فرق نہیں ہوتا۔ ہوا، پانی، آگ اور مٹی اپنی اپنی منشاء پیدائش میں لگے ہوئے ان سے بغیر حکم ربانی سرمو فرق نہیں کرتے۔ ہاں جب ان کا حکم ہوتا ہے تو کبھی آگ گلزار بھی بن جاتی ہے جیسے ابراہیم ؑ کے لئے اور کبھی پانی آگ کا بھی کام کرنے لگتا ہے جیسے قوم نوح کے لئے اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا بچہ کو ابتداء پیدائش کے وقت جبکہ اس کو کوئی بات سکھانا کسی کے بس میں نہیں یہ کس نے سکھایا کہ ماں کی چھاتی سے اپنی غذا حاصل کرے، اس کے لئے چھاتی کو دبا کر چوسنے کا ہنر کس نے بتلایا، بھوک پیاس سردی گرمی کی تکلیف ہو تو رو پڑنا اس کی ساری ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی ہوجاتا ہے۔ مگر یہ رونا کس نے سکھایا ؟ یہ وہی ہدایت ربانی ہے جو ہر مخلوق کو اسی کی حیثیت اور ضرورت کے مطابق غیب سے بغیر کسی کی تعلیم کے عطا ہوتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف سے ایک عام ہدایت تکوینی ہر ہر مخلوق کے لئے ہے جس کی ہر مخلوق تکوینی طور پر پابند ہے اور اس کے خلاف کرنا اس کی قدرت سے خارج ہے، دوسری ہدایت خاص اہل عقول انسان و جن کے لئے ہے یہ ہدایت تکوینی اور جبری نہیں بلکہ اختیاری ہوتی ہے، اسی اختیار کے نتیجہ میں اس پر ثواب یا عذاب مرتب ہوتا ہے۔
Ayah 20:50

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

کہا رب ہمارا وہ ہے جس نے دی ہر چیز کو اس کی صورت پھر راہ سمجھائی۔

اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى میں پہلی ہی قسم کی ہدایت مذکور ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون کو سب سے پہلے رب العالمین کا وہ کام بتلایا جو ساری مخلوق پر حاوی ہے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ کام ہم نے یا کسی دوسرے انسان نے کیا ہے۔ فرعون اس کا تو کوئی جواب نہ دے سکا اب ادھر ادھر کی باتوں میں ٹلایا اور ایک سوال موسیٰ ؑ سے کیا کہ جس کا حقیقی جواب عوام سنیں تو موسیٰ ؑ سے بدگمان ہوجائیں وہ یہ کہ پچھلے دور کی تمام امتیں اور اقوام عالم جو بتوں کی پرستش کرتے رہے آپ کے نزدیک ان کا کیا حکم ہے وہ کیسے ہیں ان کا انجام کیا ہوا ؟ مقصد یہ تھا کہ اس کے جواب میں موسیٰ ؑ فرمائیں گے کہ یہ سب وہ کیسے ہیں ان کا انجام کیا ہوا ؟ مقصد یہ تھا کہ اس کے جواب میں موسیٰ ٰعلیہ السلام فرمائیں گے کہ یہ سب گمراہ اور جہنمی ہیں تو مجھے یہ کہنے کا موقع ملے گا لو یہ ساری دنیا ہی کو بیوقوف گمراہ اور جہنمی سمجھتے ہیں اور لوگ یہ سن کر ان سے بدگمان ہوں گے تو ہمارا مقصد پورا ہوجائے گا مگر پیغمبر خدا موسیٰ ؑ نے اس کا ایسا حکیمانہ جواب دیا جس سے اس کا یہ منصوبہ غلط ہوگیا۔
Ayah 20:51

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

بولا پھر کیا حقیقت ہے ان پہلی جماعتوں کی

خلاصہ تفسیر فرعون نے (اس پر شبہ کیا (آیت) ان العذاب علی من کذب و تولی اور) کہا کہ اچھا تو پہلے لوگوں کا کیا حال ہوا (جو انبیاء کی تکذیب کرتے تھے ان پر کون سا عذاب نازل ہوا) موسیٰ ؑ نے فرمایا (کہ میں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ عذاب موعود دنیا ہی میں آنا ضرور ہے بلکہ کبھی دنیا میں بھی آجاتا ہے اور آخرت میں ضرور ہی ہوگا چنانچہ) ان لوگوں (کی بد اعمالیوں) کا علم میرے پروردگار کے اس دفتر (اعمال) میں (محفوظ) ہے (گو ان کو دفتر کی حاجت نہیں مگر بعض حکمتوں سے ایسا ہی کیا گیا ہے غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے اعمال معلوم ہیں اور) میرا رب (ایسا جاننے والا ہے کہ) نہ غلطی کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے (پس ان کے اعمال کا صحیح صحیح علم اس کو حاصل ہے مگر عذاب کے لئے وقت مقرر کر رکھا ہے جب وہ وقت آوے گا وہ عذاب ان پر جاری کردیا جاوے گا۔ پس دنیا میں عذاب نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ کفر و تکذیب علت عذاب کی نہ ہو یہاں تک موسیٰ ؑ کی تقریر ہوچکی آگے اللہ تعالیٰ اپنی شان ربوبیت کی کچھ تفصیل بیان فرماتت ہیں جس کا ذکر اجمالاً موسیٰ ؑ کے اس کلام میں تھا رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي الخ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ الخ لَا يَضِلُّ رَبِّيْ الخ چناچہ ارشاد ہے کہ) وہ (رب) ایسا ہے جس نے تم لوگوں کے لئے زمین کو (مثل) فرش (کے) بنایا (کہ اس پر آرام کرتے ہو) اور اس (زمین) میں تمہارے (چلنے کے) واسطے رستے بنائے اور آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس (پانی) کے ذریعہ سے اقسام مختلفہ کے نباتات پیدا کئے (اور تم کو اجازت دی کہ) خود (بھی) کھاؤ اور اپنے مواشی کو (بھی) چراؤ ان سب (مذکورہ) چیزوں میں اہل عقل کے (استدلال کے) واسطے (قدرت الٰہیہ کی) نشانیاں ہیں (اور جس طرح نباتات کو زمین سے نکالتے ہیں اسی طرح) ہم نے تم کو اسی زمین سے (ابتدا میں) پیدا کیا، (چنانچہ آدم ؑ مٹی سے بنائے گئے سو ان کے واسطے سے سب کا مادہ بعید خاک ہوئی) اور اسی میں ہم تم کو (بعد موت) لے جاویں گے (چنانچہ کوئی مردہ کسی حالت میں ہو لیکن آخر کو گو مدتوں کے بعد سہی مگر مٹی میں ضرور ملے گا) اور (قیامت کے روز) پھر دوبارہ اسی سے ہم تم کو نکال لیں گے (جیسا پہلی بار اس سے پیدا کرچکے ہیں) اور ہم نے اس (فرعون کو اپنی (وہ) سب ہی نشانیاں دکھلائیں (جو کہ موسیٰ ؑ کو عطا ہوئی تھیں) سو وہ (جب بھی) جھٹلایا ہی کیا اور انکار ہی کرتا رہا (اور) کہنے لگا کہ اے موسیٰ تم ہمارے پاس (یہ دعوی لے کر) اس واسطے آئے ہو (گے) کہ ہم کو ہمارے ملک سے اپنے جادو (کے زور) سے نکال باہر کرو (اور خود عوام کو فریضہ اور تابع بنا کر رئیس بن جاؤ) سو اب ہم بھی تمہارے مقابلے میں ایسا ہی جادو لاتے ہیں تو ہمارے اور اپنے درمیان میں ایک وعدہ مقرر کرلو جس کے نہ ہم خلاف کریں اور نہ تم خلاف کرو کسی ہموار میدان میں (تاکہ سب دیکھ لیں) موسیٰ (علیہ السلام نے فرمایا تمہارے (مقابلہ کے) وعدہ کا وقت وہ دن ہے جس میں (تمہارا) میلا ہوتا ہے، اور (جس میں) دن چڑھے لوگ جمع ہوتے ہیں (اور ظاہر ہے کہ میلے کا موقع اکثر ہموار ہی زمین میں ہوتا ہے اسی سے مکان سویٰ کی شرط بھی پوری ہوجاوے گی۔)
Ayah 20:52

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

کہا ان کی خبر میرے رب کے پاس لکھی ہوئی ہے نہ بہکتا ہے میرا رب اور نہ بھولتا ہے

معارف و مسائل قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ فِيْ كِتٰبٍ ۚ لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَلَا يَنْسَى، فرعون نے پچھلی امتوں کے انجام کا سوال کیا تھا اگر اس کے جواب میں موسیٰ ؑ ان کے گمراہ اور جہنمی ہونے کا صاف طور سے اظہار کرتے تو فرعون کو موقع اس طعن کا مل جاتا کہ یہ تو صرف ہمیں ہی نہیں ساری دنیا کو گمراہ جہنمی سمجھتے ہیں اور عوام اس سے شبہ میں پڑجاتے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے ایسا حکیمانہ جواب دیا کہ بات بھی پوری آگئی اور فرعون کو بہکانے کا موقع نہ ملا۔ فرمایا کہ ان کا علم میرے رب کے پاس ہے کہ ان کا کیا انجام ہوگا، میرا رب نہ غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے۔ غلطی کرنے سے مراد یہ ہے کہ کرنا کچھ چاہے ہوجائے کچھ اور بھولنے کا مطلب ظاہر ہے۔
Ayah 20:53

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہ ہے جس نے بنادیا تمہارے واسطے زمین کو بچھونا اور چلائیں تمہارے لئے اس میں راہیں اور اتارا آسمان سے پانی پھر نکالی ہم نے اس سے طرح طرح کی سبزی

اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى، ازواج بمعنے انواع و اصناف ہے اور شتی شتیت کی جمع ہے جس کے معنی ہیں متفرق۔ مراد یہ ہے کہ نباتات کی اتنی بیشمار قسمیں پیدا فرمائیں کہ ان کی قسموں کا احاطہ بھی انسان نہیں کرسکتا۔ پھر ہر نبات جڑی، بوٹی، پھول، پھل، درخت کی چھال میں اللہ تعالیٰ نے ایسی ایسی خاصیتیں رکھی ہیں کہ علم طب اور ڈاکٹری کے ماہرین حیران ہیں اور ہزاروں سال سے اس کی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہونے کے باوجود یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس کے متعلق جو کچھ لکھ دیا گیا ہے وہ حرف آخر ہے اور یہ ساری نباتات کی مختلف قسمیں انسان اور اس کے پالتو جانوروں اور جنگلی جانوروں کی غذا یا دوا ہوتی ہیں، ان کی لکڑی سے انسان مکانوں کی تعمیر میں کام لیتا ہے اور گھریلو سامان استعمال کی ہزاروں قسمیں بناتا ہے ۭفَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ ،
Ayah 20:54

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

کھاؤ اور چراؤ اپنے چوپایوں کو البتہ اس میں نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کو

اسی لئے اس کے آخر میں فرمایا اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى، یعنی اس میں بہت سی نشانیاں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ہیں عقل والوں کے لئے۔ نہٰی نُہیَتٌہ کی جمع ہے نہیتہ عقل کو اس لئے کہا جاتا کہ وہ انسان کو برے اور مضر کاموں سے روکتی ہے۔