20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 20:55–57

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

اسی زمین سے ہم نے تم کو بنایا اور اسی میں پھر پہنچا دیتے ہیں اور اسی سے نکا لیں گے تم کو دوسری بار

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور ہم نے فرعون کو دکھلا دیں اپنی سب نشانیاں، پھر اس نے جھٹلایا اور نہ مانا

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

بولا کیا تو آیا ہے ہم کو نکالنے ہمارے ملک سے اپنے جادو کے زور سے اے موسیٰ

ہر انسان کے خمیر میں نطفہ کے ساتھ اس جگہ کی مٹی بھی شامل ہوتی ہے جہاں وہ دفن ہوگا مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ مِنْهَا کی ضمیر زمین کی طرف راجع ہے اور معنے یہ ہیں کہ ہم نے تم کو زمین کی مٹی سے پیدا کیا مخاطب اس کے سب انسان ہیں حالانکہ عام انسانوں کی پیدائش مٹی سے نہیں بلکہ نطفہ سے ہوئی بجز آدم ؑ کے کہ ان کی پیدائش براہ راست مٹی سے ہوئی تو یہ خطاب یا تو اس بناء پر ہوسکتا ہے کہ انسان کی اصل اور سب کے باپ حضرت آدم ؑ ہیں ان کے واسطے سے سب کی تخلیق مٹی کی طرف منسوب کردینا کچھ بعید نہیں بعض حضرات نے فرمایا کہ ہر نطفہ مٹی ہی کی پیداوار ہوتا ہے اس لئے نطفہ سے تخلیق درحقیقت مٹی ہی سے تخلیق ہوگئی۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ الفاظ قرآن کا ظاہر یہی ہے کہ ہر انسان کی تخلیق مٹی ہی سے تخلیق ہوگئی۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ الفاظ قرآن کا ظاہر یہی ہے کہ ہر انسان کی تخلیق مٹی سے ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ہر انسان کی تخلیق میں حق تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے مٹی شامل فرماتے ہیں اس لئے ہر ایک انسان کی تخلیق کو براہ راست مٹی کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ الفاظ قرآن کا ظاہر یہی ہے کہ ہر انسان کی تخلیق مٹی سے عمل میں آئی ہے اور حضرت ابوہریرہ کی ایک حدیث اس پر شاہد ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ ہر پیدا ہونے والے انسان پر رحم مادر میں اس جگہ کی مٹی کا کچھ جزء ڈالا جاتا ہے جس جگہ اس کا دفن ہونا اللہ کے علم میں مقدر ہے۔ یہ حدیث ابو نعیم نے ابن سیرین کے تذکرہ میں روایت کر کے فرمایا ہے ہذا حدیث غریب من حدیث عون لم نکتبہ الا من حدیث عاصم بن نبیل و ہو احد الثقات الاعلام من اہل بصرہ، اور اسی مضمون کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود سے بھی منقول ہے اور عطا خراسانی نے فرمایا کہ جب رحم میں نطفہ قرار پاتا ہے تو جو فرشتہ اس کی تخلیق پر مامور ہے وہ جا کر اس جگہ کی مٹی لاتا ہے جس جگہ اس کا دفن ہونا مقرر ہے اور یہ مٹی اس نطفہ میں شامل کردیتا ہے اس لئے تخلیق نطفہ اور مٹی دونوں سے ہوتی ہے اور اسی آیت سے استدلال کیا۔ مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيْهَا نُعِيْدُكُمْ (قرطبی) تفسیر مظہری میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والے بچے کی ناف میں ایک جزء مٹی کا ڈالا جاتا ہے اور جب مرتا ہے تو اسی زمین میں دفن ہوتا ہے جہاں کی مٹی اس کے خمیر میں شامل کی گئی تھی اور فرمایا کہ میں اور ابوبکر و عمر ایک ہی مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں اور اسی میں دفن ہوں گے۔ یہ روایت خطیب نے نقل کر کے فرمایا ہے کہ حدیث غریب ہے اور ابن جوزی نے اس کو موضوعات میں شمار کیا ہے مگر شیخ محدث میرزا محمد حارثی بدخشی نے فرمایا کہ اس حدیث کے بہت سے شواہد حضرت ابن عمر، ابن عباس، ابو سعید، ابوہریرہ ؓ سے منقول ہیں۔ جن سے اس روایت کو قوت پہنچتی ہے اس لئے یہ حدیث حسن (لغیرہ) سے کم نہیں (مظہری)
Ayah 20:58

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

سو ہم بھی لائیں گے تیرے مقابلہ میں ایک ایسا ہی جادو، سو ٹھہرا لے ہمارے اور اپنے بیچ میں ایک وعدہ نہ ہم خلاف کریں اس کا اور نہ تو ایک میدان صاف میں

مَكَانًا سُوًى، فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ اور جادوگروں کے مقابلہ کے لئے یہ خود تجویز کیا کہ ایسے مقام پر ہونا چاہئے جو آل فرعون اور حضرت موسیٰ و بنی اسرائیل کے لئے مسافت کے اعتبار سے برابر ہو تاکہ کسی فریق پر زیادہ دور جانے کی مشقت نہ پڑے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اس کو قبول کر کے دن اور وقت کی تعیین اس طرح فرما دی
Ayah 20:59

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

کہا وعدہ تمہارا ہے جشن کا دن اور یہ کہ جمع ہوں لوگ دن چڑھے۔

مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّيْنَةِ وَاَنْ يُّحْشَرَ النَّاسُ ضُـحًي، یعنی یہ مقابلہ یوم الزینتہ میں ہونا چاہئے۔ مراد عید یا کسی میلے وغیرہ کے اجتماع کا دن ہے۔ اس میں اختلاف ہے کہ وہ کونسا دن تھا ؟ بعض نے کہا کہ آل فرعون کی کوئی عید مقرر تھی جس میں وہ زینت کے کپڑے پہن کر شہر سے باہر نکلنے کے عادی تھے، بعض نے کہا کہ وہ نیروز کان تھا کسی نے کہا کہ یوم السبت یعنی ہفتہ کا دن تھا جس کی یہ لوگ تعظیم کرتے تھے، بعض نے کہا کہ وہ عاشورا، یعنی محرم کی دسویں تاریخ تھی۔ فائدہ حضرت موسیٰ ؑ نے دن اور وقت کی تعیین میں بڑی حکمت سے کام لیا کہ دن ان کی عید کا تجویز کیا جس میں سب چھوٹے بڑے ہر طبقے کے لوگوں کا اجتماع پہلے سے متعین تھا جس کا نتیجہ لازمی یہ تھا کہ یہ اجتماع بہت بڑا پورے شہر کے لوگوں پر مشتمل ہوجائے اور وقت ضحی یعنی چاشت کا رکھا جو آفتاب کے بلند ہونے کے بعد ہوتا ہے جس میں ایک مصلحت تو یہ ہے کہ سب لوگوں کو اپنی ضروریات سے فارغ ہو کر اس میدان میں آنا آسان ہو۔ دوسری مصلحت یہ بھی ہے کہ یہ وقت روشنی اور ظہور کے اعتبار سے سارے دن میں بہتر ہے ایسے ہی وقت میں دلجمعی اور سکون کے ساتھ اہم کام کئے جاتے ہیں اور ایسے وقت کے اجتماع سے جب لوگ منتشر ہوتے ہیں تو بات دور دور تک پھیل جاتی ہے چناچہ اس روز جب حق تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو فرعونی ساحروں پر غلبہ عطا فرمایا تو ایک ہی دن میں پورے شہر میں بلکہ دور دور تک اس کی شہرت ہوگئی۔ جادو کی حقیقت اور اس کی اقسام اور شرعی احکام یہ مضمون پوری تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ ہاروت و ماروت کے قصہ میں معارف القرآن جلد اول ص 217 سے 223 تک بیان ہوچکا ہے وہاں دیکھ لیا جائے۔
Ayah 20:60

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

پھر الٹا پھرا فرعون پھر جمع کئے اپنے سارے داؤ، پھر آیا

خلاصہ تفسیر غرض (یہ سن کر) فرعون (دربار سے اپنی جگہ) لوٹ گیا پھر اپنا مکر کا (یعنی جادو کا) سامان جمع کرنا شروع کیا پھر (سب کو لے کر اس میدان میں جہاں وعدہ ٹھہرا تھا، آیا (اس وقت) موسیٰ ؑ نے ان (جادوگر) لوگوں سے فرمایا کہ ارے کمبختی مارو ! اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا مت کرو (کہ اس کے وجود یا توحید کا انکار کرنے لگو یا اس کے ظاہر کئے ہوئے معجزات کو سحر بتلانے لگو) کبھی خدا تعالیٰ تم کو کسی قسم کی سزا سے بالکل نیست و نابود ہی کر دے اور جو جھوٹ باندھتا ہے وہ (آخر کو) ناکام رہتا ہے پس جادوگر (یہ بات سن کر ان دونوں حضرات کے بارہ میں) باہم اپنی رائے میں اختلاف کرنے لگے اور خفیہ گفتگو کرتے رہے (بالاخر سب متفق ہوکر) کہنے لگے کہ بیشک یہ دونوں جادوگر ہیں ان کا مطلب یہ ہے کہ اپنے جادو (کے زور) سے تم کو تمہاری سر زمین سے نکال باہر کریں اور تمہارے عمدہ (مذہبی) طریقہ کا دفتر ہی اٹھادیں تو اب تم مل کر اپنی تدبیر کا انتظام کرو اور صفیں آراستہ کر کے (مقابلہ میں) آؤ اور آج وہی کامیاب ہے جو غالب ہو (پھر) انہوں نے (موسیٰ ؑ سے) کہا کہ اے موسیٰ (کہئے) آپ (اپنا عصا) پہلے ڈالیں گے یا ہم پہلے ڈالنے والے بنیں آپ نے (نہایت بےپروائی سے) فرمایا نہیں تم ہی پہلے ڈالو (چنانچہ انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور نظر بندی کردی) پس یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کی نظر بندی سے موسیٰ ؑ کے خیال میں ایسی معلوم ہونے لگیں جیسے (سانپ کی طرح) چلتی دوڑتی ہوں سو موسیٰ ؑ کے دل میں تھوڑا سا خوف ہوا (کہ جب دیکھنے میں یہ رسیاں اور لاٹھیاں بھی سانپ معلوم ہوتی ہیں اور میرا عصا بھی بہت سے بہت سانپ بن جاوے گا تو دیکھنے والے تو دونوں چیزوں کو ایک ہی سا سمجھیں گے تو حق و باطل میں امتیاز کس طرح کریں گے اور یہ خوف باقتضائے طبع تھا ورنہ حضرت موسیٰ علیہ السلا کو یقین تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے تو اس کے تمام نشیب و فراز کا بھی انتظام کردے گا اور اپنے مرسل کی کافی مدد کرے گا اور ایسا خوف طبعی جو درجہ وسوسہ میں تھا شان کمال کے منافی نہیں الغرض جب یہ خوف ہوا اس وقت) ہم نے کہا کہ تم ڈرو نہیں تم ہی غالب رہو گے اور اس کی صورت یہ ہے کہ) یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں جو (عصا) ہے اس کو ڈال دو ، ان لوگوں نے جو کچھ (سانگ) بنایا ہے یہ (عصا) سب کو نگل جاوے گا یہ جو کچھ بنایا ہے جادوگروں کا سانگ ہے اور جادوگر کہیں جاوے (معجزے کے مقابلے میں کبھی) کامیاب نہیں ہوتا (موسیٰ ؑ کو تسلی ہوگئی کہ اب امتیاز خوب ہوسکتا ہے چناچہ انہوں نے عصا ڈالا اور واقعی وہ سب کو نگل گیا) سو جادوگروں (نے جو یہ فعل فوق السحر دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ بیشک معجزہ ہے اور فوراً ہی سب) سجدہ میں گر گئے (اور با آواز بلند) کہا کہ ہم تو ایمان لے آئے ہارون اور موسیٰ (علیہما السلام) کے پروردگار پر، فرعون نے (یہ واقعہ دیکھ کر جادوگروں کو دھمکایا اور کہا کہ بدون اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں (یعنی میری خلاف مرضی) تم موسیٰ ؑ پر ایمان لے آئے واقعی (معلوم ہوتا ہے کہ) وہ (سحر میں) تمہارے بھی بڑے (اور استاذ) ہیں کہ انہوں نے تم کو سحر سکھلایا ہے (اور استاد شاگردوں نے سازش کر کے جنگ زرگری کی ہے تاکہ تم کو ریاست حاصل ہو) سو (اب حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے) میں تم سب کے ہاتھ پاؤں کٹواتا ہوں ایک طرف کا ہاتھ اور ایک طرف کا پاؤں اور تم سب کو کھجوروں کے درختوں پر ٹنگواتا ہوں (تاکہ سب دیکھ کر عبرت حاصل کریں) اور یہ بھی تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ ہم دونوں میں (یعنی مجھ میں اور رب موسیٰ میں) کس کا عذب زیادہ سخت اور دیرپا ہے ان لوگوں نے صاف جواب دے دیا کہ ہم تجھ کو کبھی ترجیح نہ دیں گے بمقابلہ ان دلائل کے جو ہم کو ملے ہیں اور بمقابلہ اس ذات کے جس نے ہم کو پیدا کیا ہے تجھ کو جو کچھ کرنا ہو (دل کھول کر کر ڈال تو بجز اس کے کہ اس دنیوی زندگانی میں کچھ کرلے اور کر ہی کیا سکتا ہے بس ہم تو اپنے پروردگار پر ایمان لا چکے تاکہ ہمارے (پچھلے) گناہ (کسر وغیرہ) معاف کردیں اور تو نے جو جادو (کے مقدمہ) میں ہم پر زور ڈالا اس کو بھی معاف کردیں اور اللہ تعالیٰ (با اعتبار ذات وصفات کے بھی تجھ سے) بدرجہا اچھے ہیں اور (با اعتبار ثواب و عقاب کے بھی) زیادہ بقا والے ہیں (اور تجھ کو نہ خیریت نصیب ہے نہ بقا تو تیرا کیا انعام جس کا وعدہ ہم سے کیا تھا اور کیا عذاب جس کی اب وعید سناتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے جس ثواب اور عذاب کو بقا ہے اس کا قانون یہ ہے کہ) جو شخص (بغاوت کا) مجرم ہو کر (یعنی کافر ہو کر) اپنے رب کے پاس حاضر ہوگا اس کے لئے دوزخ (مقرر) ہے اس میں نہ مرے ہی گا اور نہ جئے ہی گا (نہ مرنا تو ظاہر ہے اور نہ جینا یہ کہ جینے کا آرام نہ ہوگا) اور جو شخص اس کے پاس مومن ہو کر حاضر ہوگا جس نے نیک کام بھی کئے ہوں سو ایسوں کے لئے بڑے اونچے درجے ہیں یعنی ہمیشہ رہنے کے باغات جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے اور جو شخص (کفر و معصیت سے) پاک ہو اس کا یہی انعام ہے (پس اس قانون کے موافق ہم نے کفر کو چھوڑ کر ایمان اختیار کرلیا۔) معارف و مسائل فَـجَمَعَ كَيْدَهٗ ، فرعون نے اپنے کید یعنی مقابلہ موسیٰ ؑ کی تدبیر میں ساحروں اور ان کے آلات کو جمع کرلیا۔ حضرت ابن عباس سے ان ساحروں کی تعداد بہتر منقول ہے اور دوسرے اقوال ان کی تعداد میں بہت مختلف ہیں، چار سو سے لے کر نو لاکھ تک ان کی تعداد بتلائی گئی ہے اور یہ سب اپنے ایک رئیس شمعون کے ماتحت اس کے حکم کے مطابق کام کرتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ ان کا رئیس ایک اندھا آدمی تھا (قرطبی) واللہ اعلم
Ayah 20:61

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

کہا ان کو موسیٰ نے کم بختی تمہاری جھوٹ نہ بولو اللہ پر پھر غارت کر دے تم کو کسی آفت سے، اور مراد کو نہیں پہنچا جس نے جھوٹ باندھا

موسیٰ ؑ کا جادوگروں کو پیغمبرانہ خطاب جادو کا مقابلہ معجزات سے کرنے سے پہلے حضرت موسیٰ ؑ نے جادوگروں کو ہمدردانہ نصیحت آمیز چند کلمات کہہ کر اللہ کے عذاب سے ڈرایا وہ الفاظ یہ تھے وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ ۚ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى یعنی تمہاری ہلاکت سامنے آ چکی ہے، اللہ تعالیٰ پر افتراء اور بہتان نہ لگاؤ کہ اس کے ساتھ خدائی میں فرعون یا کوئی اور شریک ہے، اگر تم ایسا کرو گے تو وہ تم کو عذاب میں پیس ڈالے گا اور تمہاری جڑی بنیاد اکھاڑ دے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھتا ہے وہ انجام کار ناکام اور محروم ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ فرعون کی طاغوتی طاقت و قوت اور چشم و خدم کے سہارے جو لوگ مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں آ چکے تھے ان واعظانہ کلمات کا ان پر کوئی اثر ہونا بہت ہی بعید تھا مگر انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین کیساتھ حق کی ایک مخفی طاقت و شوکت ہوتی ہے ان کے سادے الفاظ بھی سخت سے سخت دلوں پر تیر و نشتر کا کام کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ کے یہ جملے سن کر ساحروں کی صفوں میں ایک زلزلہ پڑگیا اور آپس میں اختلاف ہونے لگا کہ یہ کلمات کوئی جادوگر نہیں کہہ سکتا ہی تو اللہ ہی کی طرف سے معلوم ہوتے ہیں اس لئے بعض نے کہا کہ ان کا مقابلہ کرنا مناسب نہیں اور بعض اپنی بات پر جمے رہے۔
Ayah 20:62

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

پھر جھگڑے اپنے کام پر آپس میں اور چھپ کر کیا مشورہ

(فَتَنَازَعُوْٓا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ) کا یہی مطلب ہے، پھر اس اختلاف کو دور کرنے کے لئے آپس میں سرگوشی اور آہستہ مشورے ہونے لگے (وَاَسَرُّوا النَّجْوٰى) مگر بالاخر مجموعی رائے مقابلہ کرنے ہی پر جم گئی اور کہنے لگے
Ayah 20:63

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

بولے مقرر یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ نکال دیں تم کو تمہارے ملک سے اپنے جادو کے زور سے اور موقوف کرا دیں تمہارے اچھے خاصے چلن کو

اِنْ ھٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ يُرِيْدٰنِ اَنْ يُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَيَذْهَبَا بِطَرِيْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى یعنی یہ دونوں جادوگر ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے ذریعہ تم کو یعنی فرعن اور آل فرعن کو تمہاری زمین مصر سے نکال دیں، مطلب یہ ہے کہ جادو کے ذریعہ تمہارے ملک پر اپنا قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ تمہارا طریقہ جو سب سے افضل و بہتر ہے اس کو مٹا دیں۔ مثلی، امثل کا صیغہ مونث ہے جس کے معنے افضل و اعلیٰ کے ہیں، مطلب یہ تھا کہ تمہارا مذہب و طریقہ کہ فرعون کو اپنا خدا اور صاحب اختیار و اقتدار مانتے ہو یہی سب سے افضل و بہتر طریقہ ہے یہ لوگ اس کو مٹا کر اپنا دین و مذہب پھیلانا چاہتے ہیں اور لفظ طریقہ کے ایک معنی یہ بھی آتے ہیں کہ قوم کے سرداروں اور نمائندہ لوگوں کو اس قوم کا طریقہ کہا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس اور علی مرتضی سے اس جگہ طریقہ کی یہی تفسیر منقول ہے کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تمہاری قوم کے سرداروں اور باعزت لوگوں کو ختم کردیں اس لئے تم لوگوں کو چاہئے کہ مقابلہ کے لئے اپنی پوری تدبیر و توانائی صرف کرو اور سب جادوگر صف بستہ ہو کر یکبارگی ان کے مقابلے پر عمل کرو۔
Ayahs 20:64–65

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

سو مقرر کرلو اپنی تدبیر پھر آؤ قطار باندھ کر اور جیت گیا آج جو غالب رہا

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

بولے اے موسیٰ یا تو تو ڈال اور یا ہم ہوں پہلے ڈالنے والے

(فَاَجْمِعُوْا كَيْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا) صف بستہ ہونے کو مقابل پر رعب ڈالنے کا ایک خاص اثر ہوتا ہے اس لئے جادوگروں نے اپنی صف بندی کر کے مقابلہ کیا۔
Ayah 20:66

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

کہا نہیں تم ڈالو پھر تبھی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں اس کے خیال میں آئیں ان کے جادو سے کہ دوڑ رہی ہیں

جادوگروں نے اپنی بےفکری اور بےپروائی کا مظاہرہ کرنے کے لئے پہلے حضرت موسیٰ ؑ ہی سے کہا کہ پہل آپ کرتے ہیں یا ہم کریں یعنی پہلے آپ اپنا عمل کرتے ہیں یا ہم کریں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے جواب میں فرمایا بَلْ اَلْقُوْا یعنی پہلے تمہیں ڈالو اور اپنے جادو کا کرشمہ دکھلاؤ حضرت موسیٰ ؑ کے اس جواب میں بہت سی حکمتیں مضمر تھیں۔ اول تو ادب مجلس کہ جب جادوگروں نے اپنا یہ حوصلہ دکھلایا کہ مخالف کو پہلے حملہ کرنے کی اجازت دی تو اس کا شریفانہ جواب یہی تھا کہ ان کی طرف سے اس سے زیادہ حوصلے کے ساتھ ان کو ابتداء کرنے کی اجازت دی جائے۔ دوسرے یہ کہ جادگروں کا یہ کہنا اپنے اطمینان اور بےفکری کا مظاہرہ تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے ان ہی کو ابتداء کرنے کا موقع دے کر اپنی بےفکری اور اطمینان کا ثبوت دیدیا۔ تیسرے یہ کہ حضرت موسیٰ ؑ کے سامنے ان کے جادو کے سب کرشمے آ جاویں اس کے بعد اپنے معجزات کا اظہار کریں تو بیک وقت غلبہ حق کا ظہور واضح طور پر ہوجائے۔ جادوگروں نے حضرت موسیٰ ؑ کے اس ارشاد پر اپنا عمل شروع کردیا اور اپنی لاٹھیاں اور رسیاں جو بڑی تعداد میں تھیں بیک وقت زمین پر ڈال دیں اور وہ سب کی سب بظاہر سانپ بن کر دوڑتی ہوئی نظر آنے لگیں۔ يُخَيَّلُ اِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰي، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعونی جادوگروں کا جادو ایک قسم کی نظربندی تھی جو مسمریزم کے ذریعہ بھی ہوجاتی ہے کہ دیکھنے والوں کو یہ لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن کر دوڑتی ہوئی دکھائی دینے لگیں، وہ حقیقتاً سانپ نہ بنی تھیں اور اکثر جادو اسی قسم کے ہوتے ہیں۔
Ayahs 20:67–68

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

پھر پانے لگا اپنے جی میں ڈر موسیٰ ،

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے کہا تو مت ڈر، مقرر تو ہی رہے گا غالب

فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِهٖ خِيْفَةً مُّوْسٰى، یعنی حضرت موسیٰ ؑ پر یہ صورتحال دیکھ کر خوف طاری ہوا جس کو انہوں نے اپنے نفس میں چھپائے رکھا دوسروں پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔ یہ خوف اگر موسیٰ ؑ کو اپنی جان کے لئے ہوا تو مقضائے بشریت سے ایسا ہونا نبوت کے خلاف نہیں لیکن ظاہر یہ ہے کہ خوف اپنی جان کا نہیں تھا بلکہ اس کا تھا کہ اس مجمع کے سامنے ساحروں کا غلبہ محسوس کیا گیا تو جو مقصد دعوت نبوت کا تھا وہ پورا نہ ہو سکے گا اسی لئے اس کے جواب میں حق تعالیٰ کی طرف سے جو ارشاد ہوا اس میں یہ اطمینان دلایا گیا کہ جادوگر غالب نہ آسکیں گے آپ ہی کو فتح اور غلبہ حاصل ہوگا۔ اگلی آیت میں لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى فرما کر اس خطرہ کو دور کیا گیا ہے۔
Ayahs 20:69–70

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

اور ڈال جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے کہ نکل جائے جو کچھ انہوں نے بتایا، ان کا بنایا ہوا تو فریب ہے جادوگر کا

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

اور بھلا نہیں ہوتا جادوگر کا جہاں ہو پھر گر پڑے جادوگر سجدہ میں بولے ہم یقین لائے رب پر ہارون اور موسیٰ کے

وَاَلْقِ مَا فِيْ يَمِيْنِكَ ، موسیٰ ؑ کو بذریعہ وحی خطاب ہوا کہ آپ کے ہاتھ میں جو چیز ہے اس کو ڈال دو ، مراد اس سے موسیٰ ؑ کی عصا تھی مگر یہاں عصا کا ذکر نہیں فرمایا۔ اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ ان کے جادو کی کوئی حقیقت نہیں، اس کی پروا نہ کرو اور جو کچھ بھی تمہارے ہاتھ میں ہے ڈال دو وہ ان کے سب سانپوں کو نگل جائے گا چناچہ ایسا ہی ہوا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی عصا ڈال دی وہ ایک بڑا اژدھا بن کر ان سب جادو کے سانپوں کو نگل گیا۔ فرعونی جادوگروں کا مسلمان ہو کر سجدہ میں پڑجانا حضرت موسیٰ ؑ کی عصا نے اژدھا بن کر جب ان کے خیالی سانپوں کو نگل لیا تو چونکہ یہ لوگ جادو کے ماہرین تھے ان کو یقین ہوگیا کہ یہ کام جادو کے ذریعہ نہیں ہوسکتا بلکہ یہ بلاشبہ معجزہ ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ظاہر ہوتا ہے اس لئے سجدہ میں گر گئے اور اعلان کردیا کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لے آئے۔ بعض روایات حدیث میں ہے کہ ان جادوگروں نے سجدہ سے اس وقت تک سر نہیں اٹھایا جب تک کہ ان کو جنت اور دوزخ کا مشاہدہ قدرت نے نہیں کرا دیا (رواہ عبد ابن حمید وابن ابی حاتم و ابن المنذر عن عکرمہ۔ روح)
Ayah 20:71

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

بولا فرعون تم نے اس کو مان لیا میں نے ابھی حکم نہ دیا تھا وہ ہی تمہارا بڑا ہے جس نے سکھلایا تم کو جادو سو اب میں کٹواؤں گا تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں اور سولی دوں گا تم کو کھجور کے تنہ پر اور جان لو گے ہم میں کس کا عذاب سخت ہے اور دیر تک رہنے والا

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ ، فرعون کی رسوائی اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان مجمع کے سامنے واضح کردی تو بوکھلا کر اول تو ساحروں کو یہ کہنے لگا کہ بغیر میری اجازت کے تم کیسے ان پر ایمان لائے۔ گویا لوگوں کو یہ بتلانا تھا کہ میری اجازت کے بغیر ان جادوگروں کا کوئی قول فعل معتبر نہیں مگر ظاہر ہے کہ اس کھلے ہوئے معجزہ کے بعد کسی کی اجازت کی ضرورت کسی عاقل انسان کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتی، اس لئے اب جادوگروں پر اس سازش کا الزام لگایا کہ اب معلوم ہوا کہ تم سب موسیٰ کے شاگرد ہو اسی جادوگر نے تمہیں جادو سکھایا ہے اور تم نے سازش کر کے اس کے سامنے اپنی ہار مان لی ہے۔ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ، اب جادوگروں کو سخت سزا سے ڈرایا کہ تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں گے جس کی صورت یہ ہوگی کہ داہنا ہاتھ کٹے گا تو بایاں پاؤں کاٹا جائے گا۔ یہ صورت یا تو اس لئے تجویز کی کہ فرعونی قانون میں سزا کا یہی طریقہ رائج ہوگا یا اس لئے کہ اس صورت میں انسان ایک عبرت کا نمونہ بن جاتا ہے۔ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمْ فِيْ جُذُوْعِ النَّخْلِ یعنی ہاتھ پاؤں کاٹ کر پھر تمہیں کھجور کے درختوں پر سولی دی جاوے گی کہ تم ان پر اسی طرح لٹکے رہو گے یہاں تک کہ بھوک اور پیاس سے مر جاؤ۔
Ayah 20:72

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

وہ بولے ہم تجھ کو زیادہ نہ سمجھیں گے اس چیز سے جو پہنچی ہم کو صاف دلیل اور اس سے جس نے ہم کو پیدا کیا تو تو کر گزر جو تجھ کو کرنا ہے تو یہی کرے گا اس دنیا کی زندگی میں

قَالُوْا لَنْ نُّؤ ْثِرَكَ عَلٰي مَا جَاۗءَنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَالَّذِيْ فَطَرَنَا، جادوگروں نے فرعون کی یہ سخت دھمکی اور سخت سزا دینے کا اعلان سن کر اپنے ایمان پر بڑی پختگی کا ثبوت دیا کہنے لگے کہ ہم تجھے یا تیرے کسی قول کو ان بینات و معجزات پر ترجیح نہیں دے سکتے جو حضرت موسیٰ ؑ کے ذریعے ہمارے سامنے آ چکے ہیں۔ حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ جادوگر جب سجدہ میں گرے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو جنت کے ان مقامات عالیہ اور نعمتوں کا مشاہدہ کرا دیا جو ان کو ملنے والے تھے اس کو ان لوگوں نے کہا کہ ان بینات کے ہوتے ہوئے ہم تیری بات نہیں مان سکتے (قرطبی) نیز خالق کائنات رب سموات کو چھوڑ کر تجھے اپنا رب نہیں مان سکتے، فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ اب جو تیرا جی چاہے ہمارے بارے میں فیصلہ کرے اور جو چاہے سزا تجویز کر اِنَّمَا تَقْضِيْ هٰذِهِ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا یعنی اگر تو نے ہمیں سزا دے بھی دی تو وہ سزا صرف اسی دنیا کی چند روزہ زندگی ہی تک ہوگی مرنے کے بعد تو تیرا ہم پر قبضہ نہیں رہے گا بخلاف حق تعالیٰ کے کہ ہم اس کے قبضہ میں مرنے سے پہلے بھی ہیں اور مرنے کے بعد بھی، اس کی سزا کی فکر سب سے مقدم ہے۔
Ayah 20:73

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم یقین لائے ہیں اپنے رب پر تاکہ بخشے ہم کو ہمارے گناہ اور جو تو نے زبردستی کروایا ہم سے یہ جادو اور اللہ بہتر ہے اور سدا باقی رہنے والا

وَمَآ اَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ ، جادوگروں نے اب فرعون پر یہ الزام لگایا کہ ہمیں جادوگری پر تو نے ہی مجبور کر رکھا تھا ورنہ ہم اس لغو کام کے پاس نہ جاتے، اب ہم ایمان لا کر اللہ سے اس جادو کے گناہ کی بھی معافی مانگتے ہیں۔ یہاں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ یہ جادوگر تو خود اپنے اختیار سے مقابلہ کرنے کے لئے آئے تھے اور اس مقابلہ کی سودا بازی بھی فرعون سے کرچکے تھے کہ ہم غالب آئیں تو کیا ملے گا، پھر انکار فرعون پر یہ الزام لگانا کہ تو نے ہمیں جادو کرنے پر مجبور کر رکھا تھا یہ کیسے صحیح ہوگا ؟ اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ یہ جادوگر شروع میں تو شاہی انعام و اکرام کے لالچ میں مقابلہ کے لئے تیار تھے بعد میں ان کو کچھ احساس ہوا کہ ہم معجزہ کا مقابلہ نہیں کرسکتے اس وقت فرعون نے ان کو مجبور کیا۔ دوسری وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ فرعون نے اپنے ملک میں جادوگری کی تعلیم کو جبری بنایا ہوا تھا اس لئے ہر شخص جادو سیکھنے پر مجبور تھا۔ (روح) اہلیہ فرعون آسیہ کا انجام خیر تفسیر قرطبی میں ہے کہ حق و باطل کے اس معرکہ کے وقت فرعون کی بیوی برابر خبر رکھتی رہی کہ انجام کیا ہوا۔ جب اس کو یہ بتلایا گیا کہ موسیٰ و ہارون غالب آگئے تو فوراً اس نے اعلان کردیا کہ میں بھی رب موسیٰ و ہارون پر ایمان لے آئی۔ فرعون کو اپنے گھر کی خبر لگی تو حکم دیا کہ ایک بڑے پتھر کی چٹان اٹھا کر اس کے اوپر ڈال دو ، آسیہ نے جب یہ دیکھا تو آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور اللہ سے فریاد کی۔ حق تعالیٰ نے پتھر اس کے اوپر گرنے سے پہلے اس کی روح قبض کرلی پھر پتھر اس بےجان جسم پر گرا۔
Ayahs 20:74–76

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

بات یہی ہے کہ جو کوئی آیا اپنے رب کے پاس گناہ لے کر سو اس کے واسطے دوزخ ہے نہ مرے اس میں نہ جئے

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو آیا اس کے پاس ایمان لے کر نیکیاں کر کر سو ان لوگوں کے لئے ہیں درجے بلند

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

باغ ہیں بسنے کے بہتی ہیں ان کے نیچے سے نہریں، ہمیشہ رہا کریں گے ان میں اور یہ بدلہ ہے اس کا جو پاک ہوا۔

فرعونی جادوگروں میں عجیب انقلاب اِنَّهٗ مَنْ يَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا الی وَذٰلِكَ جَزٰۗؤ ُ ا مَنْ تَزَكّٰى، یہ کلمات جن کا تعلق خالص اسلامی عقائد اور عالم آخرت سے ہے ان جادوگروں کی زبان سے ادا ہو رہے ہیں جو ابھی ابھی مسلمان ہوئے ہیں اور اسلامی عقائد و اعمال کی کوئی تعلیم ان کو ملی نہیں، یہ سب حضرت موسیٰ ؑ کی صحبت کی برکت اور ان کے اخلاص کا اثر تھا کہ حق تعالیٰ نے ان پر دین کے تمام حقائق آن کی آن میں ایسے کھول دیئے کہ ان کے مقابلے میں نہ اپنی جان کی پروا رہی نہ کسی بڑی سے بڑی سزا اور تکلیف کا خوف رہا، گویا ایمان کے ساتھ ساتھ ہی ان کو ولایت کا بھی وہ مقام حاصل ہوگیا جو دوسروں کو عمر بھر کے مجاہدوں ریاضتوں سے بھی حاصل ہونا مشکل ہے فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ حضرت عبداللہ ابن عباس اور عبید بن عمیر نے فرمایا کہ قدرت حق کا یہ کرشمہ دیکھو کہ یہ لوگ شروع دن میں کفار جادوگر تھے اور آخر دن اولیاء اللہ اور شہداء (ابن کثیر)
Ayahs 20:77–79

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور ہم نے حکم بھیجا موسیٰ کو کہ لے نکل میرے بندوں کو رات سے پھر ڈال دے ان کے لئے سمندر میں رستہ سوکھا نہ خطرہ کر آپکڑنے کا اور نہ ڈر ڈوبنے سے ،

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

پھر پیچھا کیا ان کا فرعون نے اپنے لشکروں کو لے کر، پھر ڈھانپ لیا ان کو پانی نے جیسا کہ ڈھانپ لیا

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور بہکایا فرعون نے اپنی قوم کو اور نہ سمجھایا

خلاصہ تفسیر اور (جب فرعون اس پر بھی ایمان نہ لایا اور ایک عرصہ تک مختلف معاملات و واقعات ہوتے رہے اس وقت) ہم نے موسیٰ ؑ کے پاس وحی بھیجی کہ ہمارے (ان) بندوں کو (یعنی بنی اسرائیل کو مصر سے) راتوں رات (باہر) لے جاؤ (اور دور چلے جاؤ تاکہ فرعون کے ظلم و شدائد سے ان کو نجات ہو) پھر (راہ میں جو دریا ملے گا تو) ان کے لئے دریا میں (عصا مار کر) خشک راستہ بنادینا (یعنی عصا مارنا کہ اس سے خشک راستہ بن جاوے گا) نہ تو تم کو کسی کے تعاقب کا اندیشہ ہوگا (کیونکہ اہل تعاقب کامیاب نہ ہوں گے گو تعاقب کریں) اور نہ اور کسی قسم کا (مثلاً غرق وغیرہ کا) خوف ہوگا (بلکہ امن و اطمینان سے پار ہوجاؤ گے۔ چناچہ موسیٰ ؑ موافق حکم کے ان کو شباشب نکال لے گئے اور صبح مصر میں خبر مشہور ہوئی) پس فرعون اپنے لشکروں کو لے کر ان کے پیچھے چلا (اور بنی اسرائیل موافق وعدہ الہیہ کے دریا سے پار ہوگئے اور ہنوز وہ دریائی راستے اسی طرح اپنی حالت پر تھے جیسا دوسری آیت میں ہے واتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوً آ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ ، فرعونیوں نے جلدی میں کچھ آگا پیچھا سوچا نہیں، ان رستوں پر ہو لئے، جب سب اندر آگئے) تو (اس وقت چاروں طرف سے) دریا (کا پانی سمٹ کر) ان پر جیسا ملنے کو تھا آ ملا (اور سب غرق ہو کر رہ گئے) اور فرعون نے اپنی قوم کو بری راہ پر لگایا اور نیک راہ ان کو نہ بتلائی (جس کا اس کو دعویٰ تھا وَمَآ اَهْدِيْكُمْ اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ ، اور بری راہ ہونا ظاہر ہے کہ دنیا کا بھی ضرر ہوا کہ سب ہلاک ہوئے اور آخرت کا بھی، کیونکہ جہنم میں گئے جیسا کہ آیت میں ہے اَدْخِلُوْٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ ، پھر بنی اسرائیل کو فرعون کے تعاقب اور غرق دریا سے نجات کے بعد اور نعمتیں عنایت ہوئیں مثلاً عطائے توراة اور من وسلوی ان نعمتوں کو عطا کر کے ہم نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ) اے بنی اسرائیل (دیکھو) ہم نے (تم کو کیسی کیسی نعمتیں دیں کہ) تم کو تمہارے (ایسے بڑے) دشمن سے نجات دی اور ہم نے تم سے (یعنی تمہارے پیغمبر سے تمہارے نفع کے واسطے) کوہ طور کی داہنی جانب آنے کا (اور وہاں آنے کے بعد توراة دینے کا) وعدہ کیا اور وادی تیہ میں) ہم نے تم پر من وسلوی نازل فرمایا (اور اجازت دی کہ) ہم نے جو نفیس چیزیں (شرعاً بھی کہ خلال ہیں اور طبعاً بھی کہ لذیذ ہیں) تم کو دی ہیں ان کو کھاؤ اور اس (کھانے) میں حد (شرعی) سے مت گزرو (مثلاً یہ کہ حرام سے حاصل کیا جاوے، کذا فی الدریا کھا کر معصیت کی جاوے) کہیں میرا غضب تم پر واقع ہوجائے اور جس شخص پر میرا غضب واقع ہوتا ہے وہ بالکل گیا گزرا ہوا اور (نیز اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ) میں ایسے لوگوں کے لئے بڑا بخشنے والا بھی ہوں جو (کفر و معصیت سے) توبہ کرلیں اور ایمان لے آویں اور نیک عمل کریں پھر (اسی راہ) پر قائم (بھی) رہیں (یعنی ایمان و عمل صالح پر مداومت کریں یہ مضمون ہم نے بنی اسرائیل سے کہا تھا کہ تذکیر نعمت اور امر بالشکر و نہی عن المعصیت اور وعد وعید یہ خود بھی دینی نعمت ہے۔ معارف و مسائل اَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓى، حق و باطل معجزہ اور جادو کے فیصلہ کن معرکہ نے فرعون اور آل فرعون کی کمر توڑی دی اور بنی اسرائیل حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کی قیادت میں جمع ہوگئے تو اب ان کو یہاں سے ہجرت کا حکم ملتا ہے اور چونکہ فرعون کے تعاقب اور آگے دریا کے راستہ میں حائل ہونے کا خطرہ سامنے تھا اس لئے دونوں چیزوں سے حضرت موسیٰ ؑ کو مطمئن کردیا گیا کہ دریا پر اپنی لاٹھی ماریں گے تو درمیان سے خشک راستے نکل آئیں گے اور پیچھے سے فرعون کے تعاقب کا خطرہ نہ رہے گا جس کا تفصیلی واقعہ حدیث الفتون کے تحت میں اسی سورة میں گزر چکا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے دریا پر لاٹھی ماری تو اس میں بارہ سڑکیں اس طرح بن گئیں کہ پانی کے تودے بحر منجمد کی طرح دونوں طرف پہاڑ کی برابر کھڑے رہے اور درمیان سے راستے خشک نکل آئے جیسا کہ سورة شعراء میں ہے فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِ ، اور درمیان میں جو یہ پانی کی دیواریں ان بارہ سڑکوں کے درمیان تھیں ان کو قدرت نے ایسا بنادیا کہ ایک سڑک سے گزرنے والے دوسری سڑکوں سے گزرنے والوں کو دیکھتے بھی جاتے تھے اور باہم باتیں بھی کر رہے تھے تاکہ ان کے دلوں میں یہ خوف و ہراس بھی نہ رہے کہ ہمارے دوسرے قبیلوں کا کیا حال ہوا (قرطبی) مصر سے نکلنے کے وقت بنی اسرائیل کے بعض حالات اور ان کی تعداد اور لشکر فرعون کی تعداد تفسیر روح المعانی میں یہ روایت ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ شروع رات میں بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے دریائے قلزم کی طرف نکلے۔ بنی اسرائیل نے اس سے پہلے شہر کے لوگوں میں یہ شہرت دے دیتھی کہ ہماری عید ہے ہم عید منانے کے لئے باہر جائیں گے اور اس بہانے سے قبطی لوگوں سے کچھ زیورات عاریۃً مانگ لئے کہ عید سے آ کر واپس کردیں گے۔ بنی اسرائیل کی تعداد اس وقت چھ لاکھ تین ہزار اور دوسری روایت میں چھ لاکھ ستر ہزار تھی (یہ اسرائیلی روایات ہیں جن میں مبالغہ ہوسکتا ہے لیکن اتنی بات قرآن کریم کے اشارات اور روایات حدیث سے ثابت ہے کہ ان کے بارہ قبیلے تھے اور ہر قبیلے کی بہت بڑی تعداد تھی۔ یہ بھی قدرت حق تعالیٰ کا ایک عظیم مشاہدہ تھا کہ جب یہ حضرات یوسف ؑ کے زمانے میں مصر آئے تو بارہ بھائی تھے، اب بارہ بھائیوں کے بارہ قبیلوں کی اتنی عظیم الشان تعداد مصر سے نکلی جو چھ لاکھ سے زائد بتلائی جاتی ہے۔ فرعون کو جب ان کے نکل جانے کی اطلاع ملی تو اپنی فوجیں جمع کیں جن میں ستر ہزار سیاہ گھوڑے تھے اور لشکر کے مقدمہ میں سات لاکھ سوار تھے۔ جب پیچھے سے اس فوجی سیلاب کو اور آگے دریائے قلزم کو بنی اسرائیل نے دیکھا تو گھبرا اٹھے اور موسیٰ ؑ سے فریاد کی اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَ کہ ہم تو پکڑ لئے گئے۔ موسیٰ ؑ نے تسلی دی کہ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ کہ میرے ساتھ میرا رب ہے وہ مجھے راستہ دے گا، پھر بحکم ربانی دریا پر لاٹھی ماری اور اس میں بارہ سڑکیں خشک نکل آئیں۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے ان سے گزر گئے۔ جس وقت فرعون اور اس کا لشکر یہاں پہنچا تو لشکر فرعون یہ حیرت انگیز منظر دیکھ کر سہم گیا کہ ان کے لئے دریا میں کس طرح راستے بن گئے مگر فرعون نے ان کو کہا کہ یہ سب کرشمہ میری ہیبت کا ہے جس سے دریا کی روانگی رک کر راستے بن گئے ہیں یہ کہہ کر فوراً آگے بڑھ کر اپنا گھوڑا دریا کے اس راستہ میں ڈال دیا اور سب لشکر کو پیچھے آنے کا حکم دیا۔ جس وقت فرعون مع اپنے تمام لشکر کے ان دریائی راستوں کے اندر سما چکے اسی وقت حق تعالیٰ نے دریا کو روانی کا حکم دے دیا اور دریا کے سب حصے مل گئے فَغَشِيَهُمْ مِّنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْ کا یہی حاصل ہے (روح المعانی)
Ayahs 20:80–82

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے اولاد اسرائیل چھڑا لیا ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے اور وعدہ ٹھہرایا تم سے داہنی طرف پہاڑ کی اور اتارا تم پر من اور سلویٰ

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

کھاؤ ستھری چیزیں جو روزی دی ہم نے تم کو اور نہ کرو اس میں زیادتی پھر تو اترے گا تم پر میرا غصہ اور جس پر اترا میرا غصہ سو وہ پٹکا گیا

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

اور میری بڑی بخشش ہے اس پر جو توبہ کرے اور یقین لائے اور کرے بھلا کام پھر راہ پر رہے۔

وَوٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَيْمَنَ ، فرعون سے نجات اور دریا سے پار ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ سے اور ان کے واسطے سے تمام بنی اسرائیل سے یہ وعدہ فرمایا کہ وہ کوہ طور کی داہنی جانب چلے آئیں تاکہ حضرت موسیٰ ؑ کو تورات عطا کی جائے اور بنی اسرائیل خود بھی ان کے شرف ہم کلامی کا مشاہدہ کرلیں۔ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب بنی اسرائیل عبور دریا کے بعد آگے بڑھے اور ایک مقدس شہر میں داخل ہونے کا ان کو حکم ملا۔ انہوں نے خلاف ورزی کی اس کی یہ سزا دی گئی کہ اس وادی میں جس کو وادی تیہ کہتے ہیں قید کردیئے گئے۔ یہاں سے چالیس سال تک باہر نہ نکل سکے۔ اس سزا کے باوجود حضرت موسیٰ ؑ کی برکت سے ان پر اس قید کے زمانے میں بھی طرح طرح کے انعامات ہوتے رہے انہیں میں سے من وسلوی کا انعام تھا جو ان کی غذا کے لئے دیا جاتا تھا۔
Ayahs 20:83–84

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اور کیوں جلدی کی تو نے اپنی قوم سے اے موسیٰ

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

بولا وہ یہ آ رہے ہیں میرے پیچھے اور میں جلدی آیا تیری طرف اے میرے رب تاکہ تو راضی ہو،

خلاصہ تفسیر اور (جب اللہ تعالیٰ کو توراة دینا منظور ہوا تو موسیٰ ؑ کو کوہ طور پر آنے کا حکم فرمایا اور قوم کو بھی یعنی بعضوں کو ساتھ آنے کا حکم ہوا (کذا فی فتح المنان عن الباب التاسع عشر من سفر الخروج) موسیٰ ؑ شوق میں سب سے آگے تنہا جا پہنچے اور دوسرے لوگ اپنی جگہ رہ گئے طور کا ارادہ ہی نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ سے پوچھا کہ) اے موسیٰ آپ کو اپنی قوم سے آگے جلدی آنے کا کیا سبب ہوا، انہوں نے (اپنے گمان کے موافق) عرض کیا کہ وہ لوگ یہی تو ہیں میرے پیچھے پیچھے (آ رہے ہیں) اور میں (سب سے پہلے) آپ کے پاس (یعنی اس جگہ جہاں مکالمت و مخاطبت کا آپ نے وعدہ فرمایا) جلدی سے اس لئے چلا آیا کہ آپ (زیادہ) خوش ہوں گے (کیوکنہ امتثال امر میں پیش قدمی کرنا زیادہ موجب خوشنودی کا ہے) ارشاد ہوا کہ تمہاری قوم کو تو ہم نے تمہارے (چلے آنے کے) بعد ایک بلا میں مبتلا کردیا اور ان کو سامری نے گمراہ کردیا (جس کا بیان آگے آتا ہے فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْــلًا الخ اور فَتَنَّا میں اس ابتلاء کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب اس لئے کیا کہ خالق ہر فعل کا وہی ہے ورنہ اصل نسبت اس فعل کی سامری کی طرف ہے جس کو اَضَلَّـهُمُ السَّامِرِيُّ میں ظاہر فرمایا ہے) غرض موسیٰ (علیہ السلام بعد انقضائے میعاد کے) غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف واپس آئے (اور) فرمانے لگے کہ اے میری قوم کیا تم سے تمہارے رب نے ایک اچھا (اور سچا) وعدہ نہیں کیا تھا (کہ ہم تم کو ایک کتاب احکام کی دیں گے تو اس کتاب کا تو تم کو انتظار واجب تھا) کیا تم پر (میعاد مقرر سے بہت) زیادہ زمانہ گزر گیا تھا (کہ اس کے ملنے سے ناامیدی ہوگئی اس لئے اپنی طرف سے ایک عبادت ایجاد کرلی) یا (باوجود ناامیدی نہ ہونے کے) تم کو یہ منظور رہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب واقع ہوا اس لئے تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا (کہ آپ کی واپسی تک کوئی نیا کام نہ کریں گے اور آپ کے نائب ہارون ؑ کی اطاعت کریں گے (اس کے خلاف کیا وہ کہنے لگے کہ ہم نے جو آپس سے وعدہ کیا تھا اس کو اپنے اختیار سے خلاف نہیں کیا (یہ معنی نہیں کہ کسی نے ان سے زبردستی یہ فعل کرا لیا بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس رائے کو ہم نے ابتداءً جبکہ خالی الذہن تھے اختیار کرلیا تھا، اس کے خلاف سامری کا فعل ہمارے لئے منشاء اشتباہ بن گیا جس سے ہم نے وہ رائے سابق یعنی توحید اختیار نہ کی بلکہ رائے بدل گئی۔ گو اس پر بھی عمل اختیار ہی سے ہوا چناچہ آئندہ کہا گیا و لیکن قوم (ضبط) کے زیور میں سے ہم پر بوجھ لد رہا تھا سو ہم نے اس کو (سامری کے کہنے سے آگ میں) ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے (بھی اپنے ساتھ کا زیور) ڈال دیا (آگے اللہ تعالیٰ قصہ کی تکمیل اس طرح فرماتے ہیں) پھر اس (سامری) نے ان لوگوں کے لئے ایک بچھڑا (بنا کر) ظاہر کیا کہ وہ ایک قالب (خالی از کمالات) تھا جس میں ایک (بےمعنی) آواز تھی سو (اس کی نسبت وہ احمق لوگ (ایک دوسرے سے) کہنے لگے کہ تمہارا اور موسیٰ کا بھی معبود تو یہ ہے (اس کی عبادت کرو) موسیٰ تو بھول گئے (کہ طور پر خدا کی طلب میں گئے ہیں حق تعالیٰ ان کی احمقانہ جسارت پر فرماتے ہیں کہ) کیا وہ لوگ اتنا بھی نہیں دیکھتے تھے کہ وہ (بواسطہ یا بلاواسطہ) نہ تو ان کی کسی بات کا جواب دے سکتا ہے اور نہ ان کے کسی ضرر یا نفع پر قدرت رکھتا ہے (ایسا ناکارہ خدا کیا ہوگا اور الہ حق بواسطہ انبیاء کے خطاب و کلام ضروری فرماتا ہے۔) معارف و مسائل جب حضرت موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل فرعون کے تعاقب اور دریا سے نجات پانے کے بعد آگے بڑھے تو ان کا گزر ایک بت پرست قوم پر ہوا اور ان کی عبادت پرستش کو دیکھ کر بنی اسرائیل کہنے لگے کہ جس طرح انہوں نے موجود اور محسوس چیزوں یعنی بتوں کو اپنا خدا بنا رکھا ہے ہمارے لئے بھی کوئی ایسا ہی معبود بنا دیجئے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے ان کے احمقانہ سوال کے جواب میں بتلایا کہ تم بڑے جاہل ہو یہ بت پرست لوگ تو سب ہلاک ہونے والے ہیں اور ان کا طریقہ باطل ہی اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْـهَلُوْنَ ، اِنَّ هٰٓؤ ُ لَاۗءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيْهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، اس وقت حق تعالیٰ نے موسیٰ ؑ سے یہ وعدہ فرمایا کہ اپنی قوم کے ساتھ کوہ طور پر آ جایئے تو ہم آپ کو اپنی کتاب تورات عطا کریں گے جو آپ کے اور آپ کی قوم کے لئے دستور العمل ہوگا مگر عطاء تورات سے پہلے آپ تیس روز اور تیس رات کا مسلسل روزہ رکھیں پھر اس کے بعد اس میعاد میں دس کا اور اضافہ کر کے چالیس روز کردیئے گئے اور حضرت موسیٰ ؑ مع اپنی قوم کے کوہ طور کی طرف روانہ ہوگئے۔ حضرت موسیٰ ؑ کو اس وعدہ ربانی کی وجہ سے شوق بھڑک اٹھا اور اپنی قوم کو یہ وصیت کر کے آگے چلے گئے کہ تم بھی میرے پیچھے آجاؤ، میں آگے جا کر عبادت روزہ وغیرہ میں مشغول ہوتا ہوں جس کی میعاد مجھے تیس روز بتلائی گئی ہے، میری غیبت میں ہارون ؑ میرے نائب اور قائم مقام ہوں گے۔ بنی اسرائیل مع ہارون ؑ کے اپنی رفتار سے پیچھے چلتے رہے اور حضرت موسیٰ ؑ جلدی کر کے آگے بڑھ گئے اور خیال یہ تھا کہ قوم کے لوگ بھی پیچھے پیچھے کوہ طور کے قریب پہنچیں گے مگر وہاں وہ سامری کا فتنہ گو سالہ پرستی کا پیش آ گیا۔ بنی اسرائیل کے تین فرقے ہو کر اختلاف میں مبتلا ہوگئے اور حضرت موسیٰ ؑ کے پیچھے پیچھے پہنچنے کا معاملہ رک گیا۔ حضرت موسیٰ ؑ جب حاضر ہوئے تو حق تعالیٰ نے یہ خطاب فرمایا وَمَآ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ يٰمُــوْسٰى یعنی اے موسیٰ آپ اپنی قوم سے آگے جلدی کر کے کیوں آگئے۔ حضرت موسیٰ ؑ سے عجلت کرنے کا سوال اور اس کی حکمت سوال کا مقصد بظاہر یہ تھا کہ موسیٰ ؑ اپنی قوم کی حالت سے بیخبر رہ کر یہ توقع کر رہے تھے کہ وہ بھی کوہ طور کے قریب پہنچ گئے ہوں گے اور قوم فتنہ میں مبتلا ہوچکی ہے اس کی خبر موسیٰ کو دے دیجائے (از تفسیر ابن کثیر) اور روح المعانی میں بحوالہ کشف اس سوال کی وجہ حضرت موسیٰ ؑ کو اپنی قوم کی تربیت کے متعلق ایک خاص ہدایت دینا اور ان کی اس عجلت پر تنبیہ کرنا تھا کہ آپ کے منصب رسالت کا تقاضا یہ تھا کہ قوم کے ساتھ رہتے ان کو اپنی نظر میں رکھتے اور ساتھ لاتے۔ آپ کی عجلت کرنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ قوم کو سامری نے گمراہ کردیا۔ اس میں خود فعل عجلت کی مذمت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ شان انبیاء کی نہ ہونی چاہئے اور بحوالہ انتصاف نقل کیا ہے کہ اس میں حضرت موسیٰ ؑ کو قوم کے ساتھ سفر کرنے کا طریقہ بتلایا گیا کہ رئیس القوم کو پیچھے رہنا چاہئے جیسے لوط ؑ کے واقعہ میں حق تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کو مؤمنین کو اپنے ساتھ لے کر شہر سے نکل جایئے، ان کو آگے رکھ کر خود ان سب کے پیچھے رہئے۔ وَاتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ اللہ تعالیٰ کے مذکورہ سوال کے جواب میں حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے گمان کے مطابق عرض کیا کہ میری قوم کے لوگ بھی پیچھے پیچھے پہنچنا ہی چاہتے ہیں اور میں کچھ جلدی کر کے آگے اس لئے آگیا کہ حکم کی تعمیل میں پیش قدمی کرنا حاکم کی زیادہ خوشنودی کا سبب ہوا کرتا ہے۔ اس وقت حق تعالیٰ نے ان کو قوم بنی اسرائیل میں پیش آنے والے فتنہ گو سالہ پرستی کی اطلاع دے دی اور یہ کہ ان کو تو سامری نے گمراہ کردیا ہے اور وہ فتنہ میں مبتلا ہوچکے ہیں۔
Ayah 20:85

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

فرمایا ہم نے تو بچلا دیا تیری قوم کو تیرے پیچھے اور بہکایا ان کو سامری نے

سامری کون تھا بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ آل فرعن کا قبطی آدمی تھا جو موسیٰ ؑ کے پڑوس میں رہتا تھا موسیٰ ؑ پر ایمان لے آیا اور جب بنی اسرائیل کو لے کر موسیٰ ؑ مصر سے نکلے تو یہ بھی ساتھ ہو لیا۔ بعض نے کہا کہ یہ بنی اسرائیل ہی کے ایک قبیلہ سامرہ کا رئیس تھا اور قبیلہ سامرہ ملک شام میں معروف ہے۔ حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ یہ فارسی شخص کرمان کا رہنے والا تھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ ایک ایسی قوم کا آدمی تھا جو گائے کی پرستش کرنے والی تھی یہ کسی طرح مصر پہنچ گیا اور بظاہر دین بنی اسرائیل میں داخل ہوگیا مگر اس کے دل میں نفاق تھا (قرطبی) حاشیہ قرطبی میں ہے کہ یہ شخص ہندوستان کا ہندو تھا جو گائے کی عبادت کرتے ہیں۔ انتہی۔ موسیٰ ؑ پر ایمان لے آیا پھر اپنے کفر کی طرف لوٹ گیا یا پہلے ہی سے منافقانہ طور پر ایمان کا اظہار کیا واللہ اعلم مشہور یہ ہے کہ سامری کا نام موسیٰ ابن ظفر تھا۔ ابن جریر نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ موسیٰ سامری پیدا ہوا تو فرعون کی طرف سے تمام اسرائیلی لڑکوں کے قتل کا حکم جاری تھا اس کی والدہ کو خوف ہوا کہ فرعونی سپاہی اس کو قتل کردیں گے تو بچہ کو اپنے سامنے قتل ہوتا دیکھنے کی مصیبت سے یہ بہتر سمجھا کہ اس کو جنگل کے ایک غار میں رکھ کر اوپر سے بند کردیا (کبھی کبھی اس کی خبر گیری کرتی ہوگی) ادھر اللہ تعالیٰ نے جبرئیل امین کو اس کی حفاظت اور غذا دینے پر مامور کردیا وہ اپنی ایک انگلی پر شہد ایک پر مکھن ایک پر دودھ لاتے اور اس بچہ کو چٹا دیتے تھے یہاں تک کہ یہ غار ہی میں پل کر بڑا ہوگیا اور اس کا انجام یہ ہوا کہ کفر میں مبتلا ہوا اور بنی اسرائیل کو مبتلا کیا پھر قہر الٰہی میں گرفتا ہوا۔ اسی مضمون کو کسی شاعر نے دو شعروں میں اس طرح ضبط کیا ہے۔ (از روح المعانی) اذا المرء لم یخلق سعیدا تحیرت عقول مربیہ و خاب المومل فموسی الذی رباہ جبریل کافر و موسیٰ الذی رباہ فرعون مرسل (ترجمہ) جب کوئی شخص اصل پیدائش میں نیک بخت نہ ہو تو اس کے پرورش کرنے والوں کی عقلیں بھی حیران رہ جاتی ہیں اور اس سے امید کرنے والا محروم ہوجاتا ہے۔ دیکھو جس موسیٰ کو جبرائیل امین نے پالا تھا وہ تو کافر ہوگیا اور جس موسیٰ کو فرعون لعین نے پالا تھا وہ خدا کا رسول بن گیا۔
Ayah 20:86

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

پھر الٹا پھرا موسیٰ اپنی قوم کے پاس غصہ میں بھرا پچتاتا ہوا کہا اے قوم کیا تم سے وعدہ نہ کیا تھا تمہارے رب نے اچھا وعدہ کیا طویل ہوگئی تم پر مدت یا چاہا تم نے کہ اترے تم پر غضب تمہارے رب کا اس لئے خلاف کیا تم نے میرا وعدہ

اَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَـنًا، حضرت موسیٰ ؑ نے رنج و غم کے عالم میں واپس آ کر قوم سے خطاب کیا اور پہلے ان کو اللہ تعالیٰ کا وعدہ یاد دلایا جس کے لئے وہ سب قوم کو لے کر طور کی جانب ایمن کی طرف چلے تھے کہ یہاں پہنچ کر اللہ تعالیٰ اپنی کتاب ہدایت عطا فرمائیں گے اور جس کے ذریعہ دین و دنیا کے تمام مقاصد تمہارے پورے ہوں گے۔ اَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ ، یعنی اللہ کے اس وعدہ پر کوئی بڑی مدت بھی تو نہیں گزری جس میں تمہارے بھول جانے کا احتمال ہو کہ وعدہ کا انتظار زمانہ دراز تک کرنے کے بعد مایوس ہوگئے اس لئے دوسرا طریقہ اختیار کرلیا۔ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ يَّحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ ، یعنی بھول جانے یا انتظار سے تھک جانے کا تو کوئی احتمال نہیں تو اب اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ تم نے خود ہی اپنے قصد و اختیار سے اپنے رب کے غضب کو دعوت دی۔
Ayah 20:87

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

بولے ہم نے خلاف نہیں کیا تیرا وعدہ اپنے اختیار سے، لیکن اٹھوایا ہم سے بھاری بوجھ قوم فرعون کے زیور کا سو ہم نے اس کو پھینک دیا، پھر اس طرح ڈھالا سا مری نے

قَالُوْا مَآ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا، لفظ ملک بفتح میم و بضم میم دونوں کے معنے تقریباً ایک ہیں اور مراد اس جگہ اس سے اپنا اختیار ہے اور مقصد اس کا یہ ہے کہ ہم نے گو سالہ کی پرستش پر اقدام اپنے اختیار سے نہیں کیا بلکہ سامری کے عمل کو دیکھ کر ہم مجبور ہوگئے۔ ظاہر ہے کہ ان کا یہ دعویٰ غلط اور بےبنیاد ہے۔ سامری یا اس کے عمل نے ان کو مجبور تو نہیں کردیا تھا خود ہی غور و فکر سے کام نہ لیا تو مبتلا ہوگئے آگے سامری کا وہ واقعہ بیان کیا۔ وَلٰكِنَّا حُمِّلْنَآ اَوْزَارًا مِّنْ زِيْنَةِ الْقَوْمِ ، لفظ اوزار وزر کی جمع ہے جس کے معنے ثقل اور بوجھ کے ہیں انسان کے گناہ بھی چونکہ قیامت کے روز اس پر بوجھ بن کر لادے جائیں گے اس لئے گناہ کو زر اور گناہوں کو اوزار کہا جاتا ہے۔ زِيْنَةِ الْقَوْمِ ، لفظ زینت سے مراد زیور ہے اور قوم سے مراد قوم فرعون (قبط) ہے جن سے بنی اسرائیل نے عید کا بہانہ کر کے کچھ زیورات مستعار لے لئے تھے اور وہ پھر ان کے ساتھ رہے۔ ان کو اوزار بمعنی گناہوں کا بوجھ اس لئے کہا کہ عاریت کا نام کر کے ان لوگوں سے لئے تھے جس کا حق یہ تھا کہ ان کو واپس کئے جاویں چونکہ واپس نہیں کئے گئے تو اس کو گناہ قرار دیا اور حدیث فتون کے نام سے جو مفصل حدیث اوپر نقل کی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہارون ؑ نے ان لوگوں کو اس کے گناہ ہونے پر متنبہ کیا اور ایک گڑھے میں یہ سب زیورات ڈال دینے کا حکم دیا۔ بعض روایات میں ہے کہ سامری نے اپنا مطلب نکالنے کے لئے ان کو کہا یہ زیورات دوسروں کا مال ہے تمہارے لئے اس کا رکھنا و بال ہے اس کے کہنے سے گڑھے میں ڈالے گئے۔ کفار کا مال مسلمانوں کے لئے کس صورت میں حلال ہے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کفار جو اہل ذمہ یعنی مسلمانوں کی حکمت میں ان کے قانون کی پابندی کر کے بستے ہیں اسی طرح وہ کفار جن سے مسلمانوں کا کوئی معاہدہ جان و مال وغیرہ کے امن کا ہوجائے ان کافروں کا مال تو ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے لئے حلال نہیں لیکن جو کافر نہ مسلمانوں کا اہل ذمہ ہے نہ اس سے ان کا کوئی عہد و معاہدہ ہے جن کو فقہاء کی اصطلاح میں کافر حربی کہا جاتا ہے ان کے اموال تو مسلمانوں کے لئے مباح الاصل اشیاء کی طرح حلال ہیں پھر ہارون ؑ نے ان کو وزر و گناہ کیسے قرار دیا اور ان کے قبضہ سے نکال کر گڑھے میں ڈالنے کا حکم کیوں دیا۔ اس کا ایک جواب تو مشہور ہے جو عامہ مفسرین نے لکھا ہے کہ کفار حربی کا مال لینا اگرچہ مسلمان کے لئے جائز ہے مگر وہ مال بحکم مال غنیمت ہے اور مال غنیمت کا قانون شریعت اسلام سے پہلے یہ تھا کہ کافروں کے قبضہ سے نکال لینا تو اس کا جائز تھا مگر مسلمانوں کے لئے اس کا استعمال اور اس سے نفع اٹھانا حلال نہیں تھا بلکہ مال غنیمت جمع کر کے کسی ٹیلہ وغیرہ پر رکھ دیا جاتا تھا اور آسمانی آگ (بجلی وغیرہ) آ کر اس کو کھا جاتی تھی یہی علامت ان کے جہاد قبول ہونے کی تھی اور جس مال غنیمت کو آگ نہ کھائے وہ علامت اس کی تھی کہ جہاد مقبول نہیں اس لئے وہ مال بھی منحوس سمجھا جاتا اور کوئی اس کے پاس نہ جاتا۔ رسول اللہ ﷺ کی شریعت میں جو مخصوص رعایتیں اور سہولتیں دی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مال غنیمت کو مسلمانوں کے لئے حلال کردیا گیا جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں اس کی تصریح ہے۔ اس قاعدہ کے اعتبار سے بنی اسرائیل کے قبضہ میں آیا ہوا مال جو قوم فرعون سے لیا تھا مال غنیمت ہی کے حکم میں قرار دیا جائے تب بھی اس کا استعمال ان کے لئے جائز نہیں تھا اسی وجہ سے اس مال کو اوزار کے لفظ سے تعبیر کیا گیا اور حضرت ہارون کے حکم سے اس کو ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا۔ فائدہ مہمہ لیکن فقہی نظر سے اس معاملہ کی جو تحقیق امام محمد کی کتاب سیر اور اس کی شرح سرخسی میں بیان کی گئی ہے وہ بہت اہم اور اقرب الی الصواب ہے۔ وہ یہ ہے کہ کافر حربی کا مال بھی ہر حال میں مال غنیمت نہیں ہوتا بلکہ اس کی شرط یہ ہے کہ باقاعدہ جہاد و قتال کے ذریعہ بزور شمشیر ان سے حاصل کیا جائے اسی لئے شرح سیر میں مغالبہ بالمحاربہ شرط قرار دیا ہے اور کافر حربی کا جو مال مغالبہ اور محاربہ کی صورت سے حاصل نہ ہو وہ مال غنیمت نہیں بلکہ اس کو مال فیئی کہتے ہیں مگر اس کے حلال ہونے میں ان کفار کی رضاء و اجازت شرط ہے جیسے کوئی اسلامی حکومت ان پر ٹیکس عائد کر دے اور وہ اس پر راضی ہو کہ یہ ٹیکس دیدے تو اگرچہ یہ کوئی جہاد و قتال نہیں مگر رضامندی سے دیا ہوا مال مال فیئی کے حکم میں ہے اور وہ بھی حلال ہے۔ یہاں قوم فرعون سے لئے ہوئے زیورات ان دونوں قسموں میں داخل نہیں کیونکہ یہ ان سے عاریت کہہ کر لئے گئے تھے وہ ان کو مالکانہ طور پر دینے کے لئے رضامند نہ تھے کہ اس کو مال فیئی کہا جائے اور کوئی جہاد و قتال تو وہاں ہوا ہی نہیں کہ مال غنیمت شمار کیا جائے اس لئے شریعت اسلام کی رو سے بھی یہ مال ان کے لئے حلال نہ تھا۔ واقعہ ہجرت میں رسول اللہ ﷺ نے جب مدینہ طیبہ جانے کا قصد فرما لیا اور آپ کے پاس عرب کے کفار کی بہت سی امانتیں رکھی تھیں کیونکہ سارا عرب آپ کو امانتدار یقین کرتا اور امین کے لفظ سے خطاب کرتا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی امانتوں کو واپس کرنے کا اتنا اہتمام فرمایا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سپرد کر کے اپنے پیچھے ان کو چھوڑا اور حکم دیا کہ جس کی امانت ہے اس کو واپس کردی جائے آپ اس سے فارغ ہو کر ہجرت کریں۔ اس مال کو رسول اللہ ﷺ نے مال غنیتم کے تحت حلال قرار نہیں دیا ورنہ وہ مسلمانوں کا حق ہوتا کافروں کو واپس کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ واللہ اعلم فَقَذَفْنٰهَا یعنی ہم نے ان زیورات کو پھینک دیا۔ حدیث فنون مذکورہ کی رو سے یہ عمل حضرت ہارون ؑ کے حکم سے کیا گیا اور بعض روایات میں ہے کہ سامری نے ان کو بہکا کر زیورات گڑھے میں ڈلوا دیئے اور دونوں باتیں جمع ہوجائیں یہ بھی کوئی مستبعد نہیں۔ فَكَذٰلِكَ اَلْقَي السَّامِرِيُّ ، حدیث فتون مذکور میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہارون ؑ نے جب بنی اسرائیل کے سب زیورات گڑھے میں ڈلوا دیئے اور اس میں آگ جلوا دی کہ سب زیورات پگھل کر یک جسم ہوجائیں پھر حضرت موسیٰ ؑ کے آنے کے بعد اس کا معاملہ طے کیا جاوے گا کہ کیا کیا جائے۔ جب سب لوگ اپنے اپنے زیورات اس میں ڈال چکے تو سامری بھی مٹھی بند کئے ہوئے پہنچا اور حضرت ہارون ؑ سے کہا کہ میں بھی ڈال دوں۔ حضرت ہارون ؑ نے یہ سمجھا کہ اس کے ہاتھ میں بھی کوئی زیور ہوگا، فرمایا کہ ڈال دو۔ اس وقت سامری نے ہارون ؑ سے کہا کہ میں جب ڈالوں گا کہ آپ یہ دعا کریں کہ جو کچھ میں چاہتا ہوں وہ پورا ہوجائے۔ ہارون ؑ کو اس کا نفاق و کفر معلوم نہیں تھا دعا کردی۔ اب جو اس نے اپنے ہاتھ سے ڈالا تو زیور کے بجائے مٹی تھی جس کو اس نے جبرئیل امین کے گھوڑے کے قدم کے نیچے سے کہیں یہ حیرت انگیز واقعہ دیکھ کر اٹھا لیا تھا کہ جس جگہ اس کا قدم پڑتا ہے وہیں مٹی میں نشو و نما اور آثار حیات پیدا ہوجاتے ہیں جس سے اس نے سمجھا کہ اس مٹی میں آثار حیات رکھے ہوئے ہیں شیطان نے اس کو اس پر آمادہ کردیا کہ یہ اس کے ذریعہ ایک بچھڑا زندہ کر کے دکھلا دے۔ بہرحال اس مٹی کا ذاتی اثر ہو یا حضرت ہارون ؑ کی دعا کا کہ یہ سونے چاندی کا پگھلا ہوا ذخیرہ اس مٹی کے ڈالنے اور ہارون ؑ کی دعا کرنے کے ساتھ ایک زندہ بچھڑا بن کر بولنے لگا جن روایات میں ہے کہ سامری ہی نے بنی اسرائیل کو زیورات اس گڑھے میں ڈالنے کا مشورہ دیا تھا ان میں یہ بھی ہے کہ اس نے زیورات کو پھگلا کر ایک بچھڑے کی مورت تیار کرلی تھی مگر اس میں کوئی زندگی نہیں تھی۔ پھر یہ جبرائیل امین کے نشان قدم کی مٹی ڈالنے کے بعد اس میں حیات پیدا ہوگئی (یہ سب روایات تفسیر قرطبی وغیرہ میں مذکور ہیں اور ظاہر ہے کہ اسرائیلی روایات ہیں جن پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا مگر ان کو غلط کہنے کی بھی کوئی دلیل موجود نہیں)
Ayah 20:88

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

پھر بنا نکالا ان کے واسطے ایک بچھڑا ایک دھڑ جس میں آواز گائے کی، پھر کہنے لگے یہ معبود ہے تمہارا اور معبود ہے موسیٰ کا سو وہ بھول گیا

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْــلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ یعنی نکال لیا سامری نے ان زیوات سے ایک بچھڑے کا جسم جس میں گائے کی آواز (خوار) تھی۔ لفظ جسدا سے بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ یہ محض ایک جسد اور جسم تھا زندگی اس میں نہیں تھی اور آواز بھی ایک خاص صفت کے سبب اس سے نکلتی تھی، عامہ مفسرین کا قول وہی ہے جو اوپر لکھا گیا کہ اس میں آثار زندگی کے تھے۔ فَقَالُوْا ھٰذَآ اِلٰـــهُكُمْ وَاِلٰهُ مُوْسٰى ۥ فَنَسِيَ ، یعنی سامری اور اس کے ساتھی یہ بچھڑا بولنے والا دیکھ کر دوسرے بنی اسرائیل سے کہنے لگے کہ یہی تمہارا اور موسیٰ کا خدا ہے موسیٰ ؑ بھول بھٹک کر کہیں اور چلے گئے۔ یہاں تک بنی اسرائیل کے عذر لنگ کا بیان تھا جو انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کے عتاب کے وقت پیش کیا اس کے بعد
Ayah 20:89

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

بھلا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ وہ جو اب تک نہیں دیتا ان کو کسی بات کا اور اختیار نہیں رکھتا ان کے برے کا اور نہ بھلے کا۔

اَفَلَا يَرَوْنَ اَلَّا يَرْجِعُ اِلَيْهِمْ قَوْلًا ڏ وَّلَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا میں ان کی حماقت اور گمراہی کو بیان فرمایا ہے کہ اگر یہ فی الواقع ایک بچھڑا زندہ ہی ہوگیا اور گائے کی طرح بولنے بھی لگا تو عقل کے دشمنو یہ تو سمجھو کہ خدائی کا اس سے کیا واسطہ ہے جبکہ نہ وہ تمہاری کسی بات کا جواب دے سکتا ہے نہ تمہیں کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے تو اس کو خدا ماننے کی حماقت کا کیا جواز ہے۔