Ayahs 20:90–94خلاصہ تفسیر
اور ان لوگوں سے ہارون ؑ نے (حضرت موسیٰ ؑ کے لوٹنے سے) پہلے بھی کہا تھا کہ اے میری قوم تم اس (گو سالہ) کے سبب گمراہی میں پھنس گئے ہو (یعنی اس کی پرستش کسی طرح درست نہیں ہو سکتی یہ کھلی گمراہی ہے) اور تمہارا رب (حقیقی) رحمان ہے (نہ کہ یہ گو سالہ) سو تم (دین کے بارے میں) میری راہ پر چلو اور (اس بات میں) میرا کہنا مانو (یعنی میرے قول و فعل کی اقتدا کرو) انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو جب تک موسیٰ ؑ واپس (ہوکر) آئیں اسی (کی عبادت) پر برابر جمے بیٹھے رہیں گے (غرض ہارون ؑ کا کہنا نہیں مانا تھا یہاں تک کہ موسیٰ ؑ بھی آگئے اور قوم سے اول خطاب کیا جو اوپر آ چکا بعد اس کے ہارون ؑ کی طرف متوجہ ہوئے اور) کہا اے ہارون جب تم نے (ان کو) دیکھا تھا کہ یہ (بالکل) گمراہ ہوگئے (اور نصیحت بھی نہیں سنی) تو (اس وقت) تم کو میرے پاس چلے آنے سے کون امر مانع ہوا تھا (یعنی اس وقت میرے پاس چلا آنا چاہئے تھا تاکہ ان لوگوں کو اور زیادہ یقین ہوتا کہ تم ان کے فعل کو نہایت ناپسند کرتے ہو اور نیز ایسے باغیوں سے قطع تعلقات جس قدر زیادہ ہو بہتر ہے) سو کیا تم نے میرے کہنے کے خلاف کیا (کہ میں نے کہا تھا وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ جیسا پارہ نہم میں ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ آپ مفسدین کے راستہ کا اتباع نہ کریں جس کے عموم میں یہ بھی داخل ہے کہ مفسدین کے ساتھ تعلقات نہ رکھیں اور سب سے الگ ہوجائیں) ہارون ؑ نے کہا کہ اے میرے مَیّا جائے (یعنی میرے بھائی) تم میری داڑھی مت پکڑ و اور نہ سر (کے بال) پکڑو (اور میرا عذر سن لو میرے تمہارے پاس نہ آنے کی یہ وجہ تھی کہ) مجھ کو یہ اندیشہ ہوگیا کہ (اگر میں آپ کی طرف چلا تو میرے ساتھ وہ لوگ بھی چلیں گے جو گو سالہ پرستی سے الگ رہے تو بنی اسرائیل کی جماعت کے دو ٹکڑے ہوجاویں گے کیونکہ گو سالہ کی پرستش کو برا سمجھنے والے میرے ساتھ ہوں گے اور دوسرے لوگ اس کی عبادت پر ہی جمے رہیں گے اور اس حالت میں) تم کہنے لگو کہ تم نے بنی اسرائیل کے درمیان تفرق ڈال دی (جو بعض اوقات ان کے ساتھ رہنے سے زیادہ مضر ہوتی ہے کہ مفسدین خالی میدان پا کر بےخطر فساد میں ترقی کرتے ہیں) اور تم نے میری بات کا پاس نہ کیا (کہ میں نے کہا تھا اَصْلِحْ ، یعنی اس صورت میں آپ مجھے یہ الزام دیتے کہ میں نے تمہیں اصلاح کرنے کا حکم دیا تھا تم نے بنی اسرائیل میں تفریق ڈال کر فساد کھڑا کردیا۔)
معارف و مسائل
بنی اسرائیل میں گو سالہ پرستی کا فتنہ پھوٹ پڑا تو حضرت ہارون ؑ نے موسیٰ ؑ کی خلافت اور نیابت کا حق ادا کر کے قوم کو سمجھایا مگر جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے ان میں تین فرقے ہوگئے ایک فرقہ تو حضرت ہارون کے ساتھ رہا ان کی اطاعت کی اس نے گو سالہ پرستی کو گمراہی سمجھا ان کی تعداد بارہ ہزار بتلائی گئی ہے، کذا فی القرطبی، باقی دو فرقے گو سالہ پرستی میں تو شریک ہوگئے فرق اتنا رہا کہ ان دونوں میں سے ایک فرقے نے یہ اقرار کیا کہ موسیٰ ؑ واپس آ کر اس سے منع کریں گے تو ہم گو سالہ پرستی کو چھوڑ دیں گے۔ دوسرا فرقہ اتنا پختہ تھا کہ اس کا یقین یہ تھا کہ موسیٰ ؑ بھی واپس آ کر اسی کو معبود بنالیں گے اور ہمیں اس طریقے کو بہرحال چھوڑنا نہیں ہے جب ان دونوں فرقوں کا یہ جواب حضرت ہارون نے سنا کہ ہم نے تو موسیٰ ؑ کی واپسی تک گوسالہ ہی کی عبادت پر جمے رہیں گے تو حضرت ہارون ؑ اپنے ہم عقیدہ بارہ ہزار ساتھیوں کو لے کر ان سے الگ تو ہوگئے مگر رہنے سہنے وغیرہ کی جگہ وہی تھی اس میں ان کے ساتھ اشتراک رہا۔
حضرت موسیٰ ؑ نے واپس آ کر اول تو بنی اسرائیل کو وہ خطاب کیا جو پچھلی آیتوں میں بیان ہوا ہے پھر اپنے خلیفہ حضرت ہارون ؑ کی طرف متوجہ ہو کر ان پر سخت غصہ اور ناراضی کا اظہار کیا ان کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ لئے اور فرمایا کہ جب ان بنی اسرائیل کو آپ نے دیکھ لیا کہ کھلی گمراہی یعنی شرک و کفر میں مبتلا ہو کر گمراہ ہوگئے تو تم نے میرا اتباع کیوں نہ کیا، میرے حکم کی خلاف ورزی کیوں کی۔
مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَيْتَهُمْ ضَلُّوْٓا اَلَّا تَتَّبِعَنِ ، اس جگہ موسیٰ ؑ کا یہ ارشاد کہ تمہیں میرا اتباع کرنے سے کس چیز نے روکا، اس اتباع کا ایک مفہوم تو وہی ہے جو خلاصہ تفسیر میں اختیار کیا گیا کہ اتباع سے مراد موسیٰ ؑ کے پاس طور پر چلا جانا ہے اور بعض مفسرین نے اتباع کی مراد یہ قرار دی کہ جب یہ لوگ گمراہ ہوگئے تو آپ نے ان کا مقابلہ کیوں نہ کیا کیونکہ میری موجودگی میں ایسا ہوتا تو میں یقیناً اس شرک و کفر پر قائم رہنے والوں سے جہاد اور مقاتلہ کرتا تم نے ایسا کیوں نہ کیا۔ دونوں صورتوں میں حضرت موسیٰ ؑ کی طرف سے ہارون ؑ پر الزام یہ تھا کہ ایسی گمراہی کی صورت میں یا تو ان سے مقاتلہ اور جہاد کیا جاتا یا پھر ان سے برات اور علیحدگی اختیار کر کے میرے پاس آجاتے ان کے ساتھ رہتے بستے رہنا حضرت موسیٰ ؑ کے نزدیک ان کی خطا اور غلطی تھی حضرت ہارون ؑ نے اس معاملے کے باوجود ادب کی پوری رعایت کے ساتھ موسیٰ ؑ کو نرم کرنے کے لئے خطاب يَبْنَـؤ ُ مَّ کے الفاظ سی کیا یعنی میری ماں کے بیٹے اس خطاب میں ایک خاص اشارہ سختی کا معاملہ نہ کرنے کی طرف تھا کہ میں آپ کا بھائی ہی تو ہوں کوئی مخالف تو نہیں اس لئے آپ میرا عذر سنیں۔ پھر عذر یہ بیان کیا کہ مجھے خطرہ یہ پیدا ہوگیا کہ اگر میں نے ان لوگوں سے مقابلہ اور مقاتلہ کرنے پر آپ کے آنے سے پہلے اقدام کیا یا ان کو چھوڑ کر خود بارہ ہزار بنی اسرائیل کے ساتھ آپ کے پاس چلا گیا، تو بنی اسرائیل میں تفرقہ پیدا ہوجائے گا اور آپ نے جو چلتے وقت مجھے یہ ہدایت فرمائی کہ اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ وَاَصْلِحْ میں اس اصلاح کا مقتضا یہ سمجھا تھا کہ ان میں تفرقہ نہ پیدا ہونے دوں (ممکن ہے کہ آپ کے واپس آنے کے بعد یہ سب ہی سمجھ جائیں اور ایمان و توحید پر واپس آجائیں) اور دوسری جگہ قرآن کریم میں ہارون ؑ کے عذر میں یہ قول بھی ہے کہ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِيْ وَكَادُوْا يَقْتُلُوْنَنِيْ یعنی قوم بنی اسرائیل نے مجھے ضعیف و کمزور سمجھا کیونکہ میرے ساتھی دوسروں کے مقابلہ میں بہت کم تھے اس لئے قریب تھا کہ وہ مجھے قتل کر ڈالتے۔
خلاصہ عذر کا یہ ہے کہ میں ان کی گمراہی کا ساتھی نہیں تھا جتنا سمجھانا اور ہدایت پر رکھنا میرے بس میں تھا وہ میں نے پورا کیا ان لوگوں نے میری بات نہ مانی اور میرے قتل کرنے کے در پے ہوگئے ایسی صورت میں ان سے مقاتلہ کرتا یا ان کو چھوڑ کر آپ کے پاس جانے کا ارادہ کرتا تو صرف یہ بارہ ہزار بنی اسرائیل میرے ساتھ ہوتے باقی سب مقاتلہ اور مقابلہ پر آجاتے اور باہمی معرکہ گرم ہوجاتا، میں نے اس سے بچنے کے لئے آپ کی واپسی تک کے لئے کچھ مساہلت کی صورت اختیار کی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے یہ عذر سنا تو ہارون ؑ کو چھوڑ دیا اور اصل بانی فساد سامری کی خبر لی۔ قرآن میں یہ کہیں مذکور نہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ نے ہارون ؑ کی رائے کو صحیح مان لیا یا محض ان کی خطاء اجتہادی سمجھ کر چھوڑ دیا۔
دو پیغمبروں میں اختلاف رائے اور دونوں طرف صواب کے پہلو
اس واقعہ میں حضرت موسیٰ ؑ کی رائے از روئے اجتہاد یہ تھی کہ اس حالت میں ہارون ؑ اور ان کے ساتھیوں کو اس مشرک قوم کے ساتھ نہیں رہنا چاہئے تھا ان کو چھوڑ کر موسیٰ ؑ کے پاس آجاتے جس سے ان کے عمل سے مکمل بیزاری کا اظہار ہوجاتا۔
حضرت ہارون ؑ کی رائے از روئے اجتہاد یہ تھی کہ اگر ایسا کیا گیا تو ہمیشہ کے لئے بنی اسرائیل کے ٹکڑے ہوجائیں گے اور تفرقہ قائم ہوجائے گا اور چونکہ ان کی اصلاح کا یہ احتمال موجود تھا کہ حضرت موسیٰ ؑ کی واپسی کے بعد ان کے اثر سے پھر یہ سب ایمان اور توحید کی طرف لوٹ آویں اس لئے کچھ دنوں کے لئے ان کے ساتھ مساہلت اور مساکنت کو ان کی اصلاح کی توقع تک گوارا کیا جائے۔ دونوں کا مقصد اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل، ایمان و توحید پر لوگوں کو قائم کرنا تھا مگر ایک نے مفارقت اور مقاطعہ کو اس کی تدبیر سمجھا، دوسرے نے اصلاح حال کی امید تک ان کے ساتھ مساہلت اور نرمی کے معاملہ کو اس مقصد کے لئے نافع سمجھا۔ دونوں جانبین اہل عقل و فہم اور فکر و نظر کے لئے محل غور و فکر ہیں۔ کسی کو خطا کہنا آسان نہیں مجتہدین امت کے اجتہادی اختلافات عموماً اسی طرح کے ہوتے ہیں ان میں کسی کو گناہگار یا نافرمان نہیں کہا جاسکتا رہا حضرت موسیٰ ؑ کا ہارون ؑ کے بال پکڑنے کا معاملہ تو یہ دین کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کے لئے شدت و غضب کا اثر تھا کہ تحقیق حال سے پہلے انہوں نے ہارون ؑ کو ایک واضح غلطی پر سمجھا اور جب ان کا عذر معلوم ہوگیا تو پھر اپنے لئے اور ان کے لئے دعا مغفرت فرمائی۔
Ayah 20:95خلاصہ تفسیر
(پھر سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے) کہا کہ اے سامری تیرا کیا معاملہ ہے (یعنی تو نے یہ حرکت کیوں کی) اس نے کہا کہ مجھ کو ایسی چیز نظر آئی تھی جو اوروں کو نظر نہ آئی تھی (یعنی حضرت جبرئیل ؑ گھوڑے پر چڑھے ہوئے جس روز دریا سے پار اترے ہیں جو بمصلحت نصرت مؤمنین و اہلاک کفار کے آئے ہوں گے اور تاریخ طبری میں سدی سے بسند نقل کیا ہے کہ حضرت جبرئیل موسیٰ ؑ کے پاس یہ حکم لے کر گھوڑے پر سوار ہو کر آئے تھے کہ آپ طور پر جاویں تو اس وقت سامری نے دیکھا تھا) پھر میں نے اس فرستادہ (خداوندی کی سواری) کے نقش قدم سے ایک مٹھی (بھر کر خاک) اٹھا لی تھی (اور خود بخود میرے قلب میں یہ بات آئی کہ اس میں زندگی کے اثرات ہوں گے جس چیز پر ڈالی جائے گی اس میں زندگی پیدا ہوجائے گی) سو میں نے وہ مٹھی (خاک اس بچھڑے کے قالب کے اندر) ڈال دی اور میرے جی کو یہی بات) بھائی اور) پسند آئی، آپ نے فرمایا تو بس تیرے لئے اس (دنیوی) زندگی میں یہ سزا (تجویز کی گئی) ہے کہ تو یہ کہتا پھرے گا کہ مجھ کو کوئی ہاتھ نہ لگانا اور تیرے لئے (اس سزا کے علاوہ) ایک اور وعدہ (حق تعالیٰ کے عذاب کا) ہے جو تجھ سے ٹلنے والا نہیں (یعنی آخرت میں جدا عذاب ہوگا) اور تو اپنے اس معبود (باطل) کو دیکھ جس (کی عبادت) پر تو جما ہوا بیٹھا تھا (دیکھ) ہم اس کو جلا دیں گے پھر اس (کی راکھ) کو دریا میں بکھیر کر بہا دیں گے (تاکہ نام و نشان اس کا نہ رہے) بس تمہارا (حقیقی) معبود تو صرف اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ (اپنے) علم سے تمام چیزوں کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔
Ayah 20:96معارف و مسائل
بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِهٖ ، (یعنی وہ چیز دیکھی جو دوسروں نے نہیں دیکھی) اس سے مراد جبرئیل امین ہیں اور ان کے دیکھنے کے واقعہ میں ایک روایت تو یہ ہے کہ جس وقت حضرت موسیٰ ؑ کے اعجاز سے دریائے قلزم میں خشک راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان راستوں سے گزر گئے اور فرعونی لشکر دریا میں داخل ہو رہا تھا تو جبرئیل امین گھوڑے پر سوار یہاں موجود تھے دوسری روایت یہ ہے کہ دریا سے پار ہونے کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کو طور پر آنے کی دعوت دینے کے لئے جبرئیل امین گھوڑے پر سوار تشریف لائے تھے ان کو سامری نے دیکھ لیا دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوسکا اس کی وجہ حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں یہ ہے کہ سامری کی پرورش خود جبرئیل امین کے ذریعہ ہوئی تھی جس وقت اس کی ماں نے اس کو غار میں ڈال دیا تھا تو جبرئیل امین روزانہ اس کو غذا دینے کے لئے آتے تھے اس کی وجہ سے وہ ان سے مانوس تھا اور پہچانتا تھا دوسرے لوگ نہیں پہچان سکے۔ (بیان القرآن)
فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ ، رسول سے مراد اس جگہ فرستادہ خداوندی حضرت جبرئیل امین ہیں۔ سامری کے دل میں شیطان نے یہ بات ڈالی کہ جبرئیل امین کے گھوڑے کا قدم جس جگہ پڑتا ہے وہاں کی مٹی میں حیات و زندگی کے خاص اثرات ہوں گے یہ مٹی اٹھا لی جاوے اس نے نشان قدم کی مٹی اٹھا لی۔ یہ بات حضرت ابن عباس کی روایت میں ہے القی فی روعہ انہ لا یلقیھا علی شیئی فیقول کن کذا الاکان، یعنی سامری کے دل میں خود بخود یہ بات پیدا ہوئی کہ نشان قدم کی اس مٹی کو جس چیز پر ڈال کر یہ کہا جائے گا کہ فلاں چیز بن جا تو وہ وہی چیز بن جائے گی اور بعض حضرات نے فرمایا کہ سامری نے گھوڑے کے نشان قدم کا یہ اثر مشاہدہ کیا کہ جس جگہ قدم پڑتا وہیں سبزہ فوراً نمودار ہوجاتا تھا جس سے یہ استدلال کیا کہ اس مٹی میں آثار حیات ہیں، کذا فی الکمالین، اسی تفسیر کو روح المعانی میں صحابہ وتابعین اور جمہور مفسرین سے منقول کہا ہے اور اس میں آج کل ظاہر پرست لوگوں نے جو شبہات نکالے ہیں ان سب کا جواب دیا ہے فجزاہ اللہ خیر الجزاء (بیان القرآن)
پھر جب بنی اسرائیل کے جمع کئے زیورات سے اس نے ایک بچھڑے کی ہئیت بنا لی تو اپنے گمان کے مطابق کہ اس مٹی میں آثار حیات ہیں جس چیز میں ڈالی جائے گی اس میں زندگی پیدا ہوجائے گی اس نے یہ مٹی اس بچھڑے کے اندر ڈال دی۔ بقدرت خداوندی اس میں حیات کے آثار پیدا ہوگئے اور بولنے لگا۔ اور حدیث فتون جو پہلے مفصل آ چکی ہے اس میں یہ ہے کہ اس نے حضرت ہارون ؑ سے دعا کرائی کہ میں اپنے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس کو ڈالتا ہوں شرط یہ ہے کہ آپ یہ دعا کردیں کہ جو میں چاہتا ہوں وہ ہوجاوے۔ حضرت ہارون اس کے نفاق اور گو سالہ پرستی سے واقف نہ تھے دعا کردی اور اس نے وہ خاک نشان قدم کی اس میں ڈال دی تو حضرت ہارون کی دعا سے اس میں حیات کے آثار پیدا ہوگئے۔ ایک روایت کے حوالے سے یہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ سامری فارس یا ہندوستان کا باشندہ اس قوم کا فرد تھا جو گائے کی پرستش کرتی ہے، مصر پہنچ کر حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لے آیا بعد میں پھر مرتد ہوگیا یا پہلے ہی ایمان کا اظہار منافقانہ کیا تھا پھر نفاق ظاہر ہوگیا۔ اس اظہار ایمان کا فائدہ اس کو یہ پہنچا کہ بنی اسرائیل کے ساتھ دریا سے پار ہوگیا۔
Ayahs 20:97–98فَاِنَّ لَكَ فِي الْحَيٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ ، حضرت موسیٰ ؑ نے سامری کے لئے دنیا کی زندگی میں یہ سزا تجویز کی کہ سب لوگ اس سے مقاطعہ کریں کوئی اس کے پاس نہ جاوے اور اس کو بھی یہ حکم دیا کہ کسی کو ہاتھ نہ لگائے اور زندگی بھر اسی طرح وحشی جانوروں کی طرح سب سے الگ رہے۔ یہ سزا ہوسکتا ہے کہ ایک قانون کی صورت میں ہو جس کی پابندی اس پر اور دوسرے سب بنی اسرائیل پر منجانب موسیٰ ؑ لازم کردی گئی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ قانونی حیثیت کی سزا سے آگے خود اس کی ذات میں بقدرت خداوندی کوئی ایسی بات پیدا کردی گئی ہو کہ نہ وہ دوسروں کو چھو سکے نہ کوئی دوسرا اس کو چھو سکے جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ موسیٰ ؑ کی بد دعا سے اس میں یہ کیفیت پیدا ہوگئی تھی کہ اگر یہ کسی کو ہاتھ لگا دے یا کوئی اس کو ہاتھ لگا دے تو دونوں کو بخار چڑھ جاتا تھا، کذا فی المعالم۔ اس ڈر کے مارے وہ سب سے الگ بھاگا پھرتا تھا اور جب کسی کو قریب آتا دیکھتا تو دور سے پکارتا تھا لامساس یعنی کوئی مجھے نہ چھوئے۔
سامری کی سزا میں ایک لطیفہ
روح المعانی میں بحوالہ بحر محیط نقل کیا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے سامری کو قتل کردینے کا ارادہ کیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی سخاوت اور لوگوں کی خدمت کرنے کی وجہ سے قتل کی سزا سے منع فرما دیا۔ (بیان القرآن)
لَنُحَرِّقَنَّهٗ (یعنی ہم اس کو آگ میں جلائیں گے) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بچھڑا سونے چاندی کے زیورات سے گھڑا ہوا تھا تو اس کے آگ میں جلانے کی کیا صورت ہوگی سونا چاندی پگھلنے والی چیز ہے جلنے والی نہیں۔ جواب یہ ہے کہ اول تو خود اس میں اختلاف ہے کہ بچھڑے میں آثار حیات پیدا ہونے کے بعد بھی وہ چاندی سونے ہی کا رہا یا اس کی حقیقت تبدیل ہو کر گوشت اور خون بن گیا۔ اگر وہ گوشت اور لحم و دم بن گیا تھا تو ظاہر ہے کہ اس کو جلانے کا مطلب یہ ہوگا کہ ذبح کر کے جلا دیا جاوے گا اور اگر دوسرا قول لیا جاوے تو اس کے جلانے کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کو سوہان سے ریت کر ذرہ ذرہ کردیا جاوے گا (کما فی الدر المنثور) یا کسی حیلہ اکسیریہ سے جلا دیا جاوے گا (کما فی روح المعانی) اور یہ بھی کوئی امر مستبعد نہیں کہ احراق اور جلانا بطور خرق عادت و معجزہ ہو واللہ اعلم (بیان القرآن)
Ayah 20:99خلاصہ تفسیر
ربط آیات
سورة طہ میں اصل بیان توحید، رسالت اور آخرت کے اصولی مسائل کا ہے انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات اسی سلسلہ میں بیان ہوئے اور حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ بڑی تفصیل سے ذکر ہوا ہے اور اس کے ضمن میں رسالت محمدیہ کا اثبات بھی ہے اسی اثبات رسالت محمدیہ کا یہ حصہ ہے جو اگلی آیات میں بیان ہوا ہے کہ ان واقعات و قصص کا اظہار ایک نبی امی کی زبان سے خود دلیل رسالت و نبوت اور وحی الہی کی ہے اور ان سب کا سرچشمہ قرآن ہے اور حقیقت قرآن کے ذیل میں کچھ تفصیل معاد و آخرت کی بھی آگئی ہے (جس طرح ہم نے موسیٰ ؑ کا قصہ بیان کیا) اسی طرح ہم آپ سے اور واقعات گزشتہ کی خبریں (اور حکایتیں) بھی بیان کرتے رہتے ہیں (تاکہ نبوت کے دلائل میں زیادتی ہوتی چلی جائے) اور ہم نے آپ کو اپنے پاس سے ایک نصیحت نامہ دیا ہے (یعنی قرآن جس میں وہ خبریں ہیں اور وہ خود بھی استقلالاً بوجہ اپنے اعجاز کے دلیل نبوت ہے اور وہ نصیحت نامہ ایسا ہے کہ) جو لوگ اس (کے مضامین ماننے) سے روگردانی کریں گے سو وہ قیامت کے روز بڑا بھاری بوجھ (عذاب کا) لادے ہوں گے (اور) وہ اس (عذاب) میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بوجھ قیامت کے روز ان کے لئے بڑا (بوجھ) ہوگا جس روز صور میں پھونک ماری جاوے گی (جس سے مردے زندہ ہوجاویں گے) اور ہم اس روز مجرم (یعنی کافر) لوگوں کو میدان قیامت میں) اس حالت سے جمع کریں گے کہ (نہایت بدصورت ہوں گے کہ آنکھوں سے) کرنجے ہوں گے (جو آنکھوں کا بدترین رنگ شمار ہوتا ہے اور خوفزدہ اس قدر ہوں گے کہ) چپکے چپکے آپس میں باتیں کرتے ہوں گے (اور ایک دوسرے سے کہتے ہوں گے) کہ تم لوگ (قبروں میں) صرف دس روز رہے ہوگے (مطلب یہ کہ ہم تو یوں سمجھے تھے کہ مر کر پھر زندہ ہونا نہیں یہ گمان تو بالکل غلط نکلا، نہ زندہ ہونا تو درکنار یہ بھی تو نہ ہوا کہ دیر ہی میں زندہ ہوتے بلکہ بہت ہی جلدی زندہ ہوگئے کہ وہ مدت دس روز کے برابر معلوم ہوتی ہے۔ وجہ اس مقدار کے برابر معلوم ہونے کی اس روز کی درازی اور ہول اور پریشانی ہے کہ قبر میں رہنے کی مدت اس کے سامنے اس قدر کم معلوم ہوگی حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ) جس (مدت) کی نسبت وہ بات چیت کریں گے اس کو ہم خوب جانتے ہیں (کہ وہ کس قدر ہے جبکہ ان سب میں کا زیادہ صائب الرائے یوں کہتا ہوگا کہ نہیں تم تو ایک ہی روز (قبر میں) رہے ہو (اس کو صائب الرائی اس لئے فرمایا کہ یوم کے طول اور ہول کے اعتبار سے یہی نسبت اقرب ہے پس اس شخص کو حقیقت شدت کا زیادہ ادراک ہوا اس لئے اس شخص کی رائے پہلے شخص کے اعتبار سے بہتر ہے اور یہ مقصود نہیں کہ اس شخص کی بات بالکل صحیح ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ دونوں مقداریں اصلی تحدید کے اعتبار سے صحیح نہیں اور نہ ان قائلین کا یہ مقصود تھا) اور (اے نبی ﷺ قیامت کا حال سن کر بعضے) لوگ آپ سے پہاڑوں کی نسبت پوچھتے ہیں (کہ قیامت میں ان کا کیا حال ہوگا) سو آپ (جواب میں) فرما دیجئے کہ میرا رب ان کو (ریزہ ریزہ کر کے) بالکل اڑا دے گا پھر زمین کو ایک میدان ہموار کر دے گا کہ جس میں تو (اے مخاطب) نہ ناہمواری دیکھے گا اور نہ کوئی بلندی (پہاڑ ٹیلہ وغیرہ کی) دیکھے گا اس روز سب کے سب (خدائی) بلانے والے (یعنی صور پھونکنے والے فرشتہ) کے کہنے پر ہو لیں گے (یعنی وہ اپنی صور پھونکنے کی آواز سے سب کو قبروں سے بلاوے گا تو سب نکل پڑیں گے) اس کے سامنے (کسی کا) کوئی ٹیڑھا پن نہ رہے گا (کہ قبر سے زندہ ہو کر نہ نکلے جیسے دنیا میں انبیاء (علیہم السلام) کے سامنے ٹیڑھے رہتے تھے کہ تصدیق نہ کرتے تھے) اور (مارے ہیبت کے) تمام آوازیں اللہ تعالیٰ کے سامنے دب جاویں گی سو (اے مخاطب) تو بجز پاؤں کی آہٹ کے (کہ میدان حشر کی طرف چپکے چپکے چل رہے ہوں گے) اور کچھ (آواز) نہ سنے گا (خواہ بوجہ اس کے کہ اس وقت بولتے ہی نہ ہوں گے گو دوسرے موقع پر آہستہ آہستہ بولیں جیسا اوپر آیا ہے يّتَخَافَتُوْنَ اور خواہ بوجہ اس کے کہ بہت آہستہ بولتے ہوں گے جو ذرا فاصلے سے ہو وہ نہ سن سکے) اس روز (کسی کو کسی کی) سفارش نفع نہ دے گی مگر ایسے شخص کو (انبیاء و صلحاء کی سفارش نفع دے گی) کہ جس (کی سفارش کرنے) کے واسطے اللہ تعالیٰ نے (شافعین کو) اجازت دے دیہو اور اس شخص کے واسطے (شافع کا) بولنا پسند کرلیا ہو (مراد اس سے مومن ہے کہ شافعین کو اس کی سفارش کے لئے اجازت ہوگی اور اس باب میں شافع کا بولنا پسندیدہ حق ہوگا اور کفار کے لئے سفارش کی کسی کو اجازت ہی نہ ہوگی پس عدم نفع بوجہ عدم شفاعت کے ہے اس میں اعتراض کرنے والے کفار کو ڈرانا ہے کہ تم تو شفاعت سے بھی محروم رہو گے اور وہ (اللہ تعالیٰ) ان سب کے آگے پچھلے احوال کو جانتا ہے اور اس (کے معلومات) کو ان کا علم احاطہ نہیں کرسکتا (یعنی ایسا تو کوئی امر نہیں جو خلق کو معلوم ہو اور اللہ تعالیٰ کو معلوم نہ ہو اور ایسے بہت امور ہیں جو اللہ تعالیٰ کو معلوم ہیں اور خلق کو معلوم نہیں پس مخلوقات کے وہ سب احوال بھی اس کو معلوم ہیں جن پر شفاعت کی قابلیت یا عدم قابلیت مرتب ہے، سو جو اس کا اہل ہوگا اس کے واسطے سفارش کرنے کی شافعین کو اجازت ہوگی اور جو اہل نہ ہوگا اس کے لئے اجازت نہ ہوگی) اور (اس روز) تمام چہرے اس حی وقیوم کے سامنے جھکے ہوں گے (اور سب متکبرین اور منکرین کا تکبر و انکار ختم ہوجاوے گا) اور (اس وصف میں تو سب مشترک ہوں گے پھر آگے ان میں یہ فرق ہوگا کہ) ایسا شخص تو (ہر طرح) ناکام رہے گا جو ظلم (یعنی شرک) لے کر آیا ہوگا اور جس نے نیک کام کئے ہوں گے اور وہ ایمان بھی رکھتا ہوگا سو اس کو (کامل ثواب ملے گا) نہ کسی زیادتی کا اندیشہ ہوگا اور نہ کمی کا (مثلاً کہ کوئی گناہ اس کے نامہ اعمال میں زیادہ لکھ دیا جاوے یا کوئی نیکی کم لکھ دی جاوے اور یہ کنایہ ہے کمال ثواب سے پس اس کے مقابلہ میں کفار سے ثواب کی نفی مقصود ہوگی بوجہ عدم موجب ثواب کے گو ظلم اور حق تلفی کفار کی بھی نہ ہوگی اور کفار کے نیک اعمال کا حساب میں نہ لکھا جانا یہ کوئی ظلم نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ ان کے اعمال شرط ایمان سے خالی ہونے کی وجہ سے کالعدم ہوگئے) اور ہم نے (جس طرح یہ مضامین مذکورہ مقام صاف صاف ارشاد کئے ہیں) اسی طرح اس کو (سارے کو) عربی قرآن کر کے نازل کیا ہے (جس کے الفاظ واضح ہیں) اور اس میں ہم نے طرح طرح سے وعید (قیامت و عذاب کی) بیان کی ہے (جس سے معنی بھی واضح ہوگئے مطلب یہ کہ سارے قرآن کے مضامین ہم نے صاف صاف بتلائے ہیں) تاکہ وہ (سننے والے) لوگ (اس کے ذریعہ سے بالکل) ڈر جائیں (اور فی الحال ایمان لے آئیں) یا (اگر بالکل نہ ڈریں تو یہی ہو کہ) یہ قرآن کے لئے کسی قدر (تو) سمجھ پیدا کردے (یعنی اگر پورا اثر نہ ہو تو تھوڑا ہی ہو اور اسی طرح چند بار تھوڑا تھوڑا جمع ہو کر کافی مقدار ہوجاوے اور کسی وقت مسلمان ہوجاویں) سو اللہ تعالیٰ جو بادشاہ حقیقی ہے عالی شان ہے (کہ ایسا نافع کلام نازل فرمایا) اور (جس طرح عمل کرنا اور نصیحت ماننا جو اوپر مذکور ہوئے قرآن کی تبلیغ کا حق واجب ہے جس کا ادا کرنا سب مسلمانوں پر جو احکام کے مکلف ہیں فرض ہے اسی طرح بعض آداب قرآن کی تنزیل سے بھی متعلق ہیں جن کے ادا کرنے کا تعلق آپ سے ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ) قرآن (پڑھنے) میں قبل اس کے کہ آپ پر اس کی وحی پوری نازل ہوچکے عجلت نہ کیا کیجئے (کہ اس میں آپ کو تکلیف ہوتی ہے کہ جبرئیل ؑ سے سننا اور اس کو پڑھنا ساتھ ساتھ کرنا پڑتا ہے سو ایسا نہ کیجئے اور اس کا اندیشہ نہ کیجئے کہ شاید یاد نہ رہے یاد کرانا ہمارے ذمہ ہے) اور آپ (بھی یاد ہونے کے لئے ہم سے) یہ دعا لیجئے کہ اے میرے رب میرا علم بڑھا دے (اس میں علم حاصل کے یاد رہنے کی اور غیر حاصل کے حصول کی اور جو حاصل ہونے والا نہیں اس میں عدم حصول ہی کو خیر اور مصلحت سمجھنے کی اور سب علوم میں خوش فہمی کی یہ سب دعائیں داخل ہیں تو لا تعجل کے بعد اس کا آنا نہایت ہی مناسب ہوا حاصل یہ کہ تدابیر حفظ میں سے تدبیر تعجیل کو ترک کیجئے اور تدبیر دعا کو اختیار کیجئے۔)
معارف و مسائل
قَدْ اٰتَيْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًا ذکر سے مراد اس جگہ جمہور مفسرین کے نزدیک قرآن ہے۔
Ayahs 20:100–101مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ يَحْمِلُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وِزْرًا، یعنی جو شخص قرآن سے اعراض (روگردانی) کرے گا قیامت کے روز اس کے اوپر گناہوں کا بڑا بوجھ لدا ہوگا۔ قرآن سے اعراض کی مختلف صورتیں ہیں اس کی تلاوت کی طرف کوئی دھیان ہی نہ کرے نہ کبھی قرآن پڑھنے اور سکیھنے کی فکر کرے یا قرآن کو پڑھے مگر غلط سلط پڑھے تصحیح حروف کی فکر نہ کرے یا صحیح بھی پڑھے مگر بےدلی اور بےپروائی سے پڑھے یا کسی دنیوی مال و عزت کی خواہش سے پڑھے۔ اسی طرح قرآن کے احکام کو سمجھنے کی طرف توجہ نہ دینا بھی قرآن سے اعراض ہے اور سمجھنے کے بعد ان پر عمل کرنے میں کوتاہی یا اس کے احکام کی خلاف ورزی یہ تو اعراض کا انتہائی درجہ ہے۔ غرض قرآن کے حقوق سے بےپروائی کرنے کا بڑا وبال ہے جو قیامت کے روز بارگراں بن کر اس کی گردن پر لاد دیا جاوے گا جیسا کہ روایات حدیث میں ہے کہ انسان کے برے اعمال اور گناہ قیامت کے روز ایک بار گراں بن کر اس کے اوپر لادا جائے گا۔
Ayahs 20:102–113يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ، حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ ایک گاؤں والے نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیا کہ صور کیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا کہ ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی، مراد یہ ہے کہ سینگ کی طرح کی کوئی چیز ہے جس میں فرشتہ کی پھونک مارنے کا پوری دنیا پر یہ اثر ہوگا کہ سب مردے زندہ ہو کر کھڑے ہوجاویں گے حقیقت اس صور کی اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔
Ayah 20:114وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰٓى اِلَيْكَ وَحْيُهٗ ، صحیح حدیث میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ ابتداء وحی میں جب جبرئیل امین کوئی آیت قرآن لے کر آتے اور رسول اللہ ﷺ کو سناتے تو آپ ان کے ساتھ ساتھ آیت کو پڑھنے کی بھی کوشش فرماتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یاد سے نکل جائے اس میں آپ پر دوہری مشقت ہوتی تھی اول قرآن کو جبرئیل سے سننے اور سمجھنے کی اس کے ساتھ اس کو یاد رکھنے کے لئے اپنی زبان سے ادا کرنے کی حق تعالیٰ نے اس آیت میں نیز سورة قیامہ کی آیت لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ میں آپ کے لئے آسانی یہ پیدا فرما دی کہ جو آیات قرآن آپ پر نازل کی جاتی ہیں ان کا یاد رکھنا آپ کی ذمہ داری نہیں وہ ہمارے ذمہ ہے ہم خود آپ کو یاد کرا دیں گے اس لئے آپ کو جبرئیل امین کے ساتھ ساتھ پڑھنے اور زبان کو حرکت دینے کی ضرورت نہیں آپ اس وقت صرف اطمینان کے ساتھ سنا کریں البتہ یہ دعا کرتے رہیں کہ رب زدنی علما یعنی اے میرے پروردگار میرا علم بڑھا دیجئے اس جامع دعا میں نازل شدہ قرآن کا یاد رکھنا بھی داخل ہے اور غیر نازل شدہ کی طلب بھی اور اس کے سمجھنے کی توفیق بھی۔
Ayah 20:115خلاصہ تفسیر
اور اس سے (بہت زمانہ) پہلے ہم آدم ؑ کو ایک حکم دے چکے تھے (جس کا بیان آگے آتا ہے) سو ان سے غفلت (اور بےاحتیاطی) ہوگئی اور ہم نے (اس حکم کے اہتمام میں) ان میں پختگی (اور ثابت قدمی) نہ پائی اور (اس اجمال کی تفصیل اگر مطلوب ہو تو) وہ وقت یاد کرو جبکہ ہم نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ آدم ؑ کے سامنے سجدہ (تحیت) کرو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے (کہ) اس نے انکار کیا پھر ہم نے (آدم سے) کہا کہ اے آدم (یاد رکھو) یہ بلاشبہ تمہارا اور تمہاری بی بی کا (اس وجہ سے) دشمن ہے (کہ تمہارے معاملہ میں مرد و ہوا) سو کہیں تم دونوں کو جنت سے نہ نکلوا دے (یعنی اس کے کہنے سے کوئی ایسا کام مت کر بیٹھنا کہ جنت سے باہر کئے جاؤ) پھر مصیبت (اکتساب معاش) میں پڑجاؤ (اور ساتھ میں تمہاری بی بی بھی مگر زیادہ حصہ مصیبت کا تم کو بھگتنا پڑے اور) یہاں جنت میں تو تمہارے لئے یہ (آرام) ہے کہ تم نہ کبھی بھوکے ہو گے (جس سے تکلیف ہو یا اس کی تدبیر میں دیر اور پریشانی ہو) اور نہ ننگے ہوں گے (کہ کپڑا نہ ملے یا احتیاج کے اتنی دیر بعد ملے کہ تکلیف ہونے لگے) اور نہ یہاں پیاسے ہوگے (کہ پانی نہ ملے یا دیر ہونے سے تکلیف ہو) اور نہ دھوپ میں تپو گے (کیونکہ جنت میں دھوپ ہی نہیں اور مکان بھی ہر طرح پناہ کے ہیں بخلاف اس حالت کے کہ اگر جنت سے نکل کر دنیا میں گئے تو ساری مصیبتیں پیش آویں گی اس لئے ان امور کو پیش نظر رکھ کر خوب ہی ہوشیاری و بیداری سے رہنا) پھر ان کو شیطان نے (جھانسہ دیا یعنی) بہکایا، کہنے لگا کہ اے آدم کیا میں تم کو ہمیشگی (کی خاصیت) کا درخت بتلا دوں (کہ اس کے کھانے سے ہمیشہ شاد و آباد رہو اور ایسی بادشاہی جس میں کبھی ضعف نہ آوے سو (اس کے بہکانے سے) دونوں نے اس درخت سے کھالیا (جس سے ممانعت ہوئی تھی اور شیطان نے اس کو شجرة الخلد کہہ کر بہکایا تھا) تو (اس کے کھاتے ہی) ان دونوں کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور (اپنا بدن ڈھانکنے کو) دونوں اپنے (بدن کے) اوپر جنت (کے درختوں) کے پتے چپکانے لگے اور آدم سے اپنے رب کا قصور ہوگیا سو (جنت میں ہمیشہ رہنے کا مقصد حاصل کرنے کے باب میں) غلطی میں پڑگئے پھر (جب انہوں نے معذرت کی تو) ان کے رب نے (زیادہ) مقبول بنا لیا سو ان پر (مہربانی سے) توجہ فرمائی اور راہ (راست) پر ہمیشہ قائم رکھا (کہ پھر ایسی خطا نہیں ہوئی اور جب درخت کھالیا تو) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دونوں کے دونوں جنت سے اترو (اور دنیا میں) ایسی حالت سے جاؤ کہ (تمہارے فرزندوں میں) ایک کا دشمن ایک ہوگا پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت (کا ذریعہ یعنی رسول یا کتاب) پہنچے تو (تم میں) جو شخص میری اس ہدایت کا اتباع کرے گا تو وہ نہ (دنیا میں) گمراہ ہوگا اور نہ (آخرت میں) شقی ہوگا اور جو شخص میری اس نصیحت سے اعراض کرے گا تو اس کے لئے (قیامت) سے پہلے دنیا اور قبر میں) تنگی کا جینا ہوگا اور قیامت کے روز ہم اس کو اندھا کر کے (قبر سے) اٹھائیں گے وہ (تعجب سے) کہے گا کہ اے میرے رب آپ نے مجھ کو اندھا کر کے کیوں اٹھایا میں تو (دنیا میں) آنکھوں والا تھا (مجھ سے ایسی کیا خطا ہوئی) ارشاد ہوگا کہ (جیسی تجھ کو سزا ہوئی ہے) ایسا ہی (تجھ سے عمل ہوا تھا وہ یہ کہ) تیرے پاس (انبیاء و علماء کے واسطے سے) ہمارے احکام پہنچے تھے پھر تو نے ان کا کچھ خیال نہ کیا اور ایسا ہی آج تیرا کچھ خیال نہ کیا جاوے گا (جیسا تو نے خیال نہ کیا تھا) اور (جس طرح کہ یہ سزا مناسب عمل دی گئی) اسی طرح (ہر) اس شخص کو ہم (مناسب عمل) سزا دیں گے جو حد (اطاعت) سے گزر جاوے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لاوے اور واقعی آخرت کا عذاب ہے بڑا سخت اور بڑا دیرپا (کہ اس کے کہیں انتہا ہی نہیں تو اس سے بچنے کا بہت ہی اہتمام کرنا واجب ہے۔)
معارف و مسائل
ربط
یہاں سے حضرت آدم ؑ کا قصہ بیان ہوتا ہے یہ قصہ اس سے پہلے سورة بقرہ اور اعراف میں پھر کچھ سورة حجر اور سورة کہف میں گزر چکا ہے اور آخر میں سورة صٓ میں آئے گا، ہر مقام پر اس کے مناسب اجزاء قصہ کو مع ہدایات متعلقہ کے بیان کیا گیا ہے۔
اس مقام پر اس قصہ کی مناسبت پچھلی آیات سے حضرات مفسرین نے مختلف پہلوؤں سے بیان فرمائی ہے ان میں سب سے زیادہ روشن اور بےغبار بات یہ ہے کہ سابقہ آیات میں یہ ارشاد آیا ہے كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ مَا قَدْ سَبَقَ ، اس میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ آپ کی نبوت و رسالت کے اثبات اور آپ کی امت کو متنبہ کرنے کے لئے ہم انبیاء سابقین کے حالات و واقعات آپ سے بیان کرتے ہیں جن میں حضرت موسیٰ ؑ کا تفصیلی قصہ اس آیت سے پہلے بیان ہوچکا ہے اور ان تمام قصوں میں سب سے پہلا اور بعض حیثیات میں سب سے اہم حضرت آدم ؑ کا قصہ ہے۔ یہاں سے اس کو شروع کیا گیا ہے جس میں امت محمدیہ کو اس پر تنبیہ کرنا ہے کہ شیطان تمام بنی آدم کا پرانا دشمن ہے اس نے سب سے پہلے تمہارے ماں باپ سے اپنی دشمنی نکالی اور طرح طرح کے حیلوں بہانوں اور ہمدردانہ مشوروں کے جال پھیلا کر ان کو ایک لغزش میں مبتلا کردیا جس کے نتیجہ میں جنت سے اترنے کے احکام جاری ہوئے اور جنت کی پوشاک ان سے سلب ہوگئی پھر حق تعالیٰ کی طرف رجوع اور لغزش کی معافی ہو کر ان کو رسالت و نبوت کا مقام بلند عطا ہوا۔ اس لئے تمام بنی آدم کو اغواء شیطانی سے کبھی بےفکر نہ ہونا چاہئے، احکام دین کے معاملے میں شیطانی وساوس اور حیلوں سے بچنے کا بڑا اہمتام کرنا چاہئے۔
وَلَقَدْ عَهِدْنَآ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا، اس میں لفظ عہدنا امرنا یا وصینا کے معنے میں ہے (بحر محیط) مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس واقعہ کے متعلق آپ سے بہت پہلے آدم ؑ کو ایک وصیت کی تھی یعنی تاکیدی حکم دیا تھا (جس کا ذکر سورة بقرہ وغیرہ میں بھی آ چکا ہے اور آگے بھی کچھ آ رہا ہے کہ ایک درخت کو معین کر کے بتلا دیا تھا کہ اس درخت کو یعنی اس کے پھل پھول یا کسی جز کو نہ کھانا اور اس کے قریب بھی نہ جانا، باقی ساری جنت کے باغات اور نعمتیں تمہارے لئے کھلی ہوئی ہیں ان کو استعمال کرتے رہو اور جیسا کے آگے آتا ہے یہ بھی بتلا دیا تھا کہ ا بلیس تمہارا دشمن ہے کہیں اس کے بہکانے میں نہ آجانا کہ تمہارے لئے مصیبت بنے مگر آدم ؑ بھول گئے اور انہیں ہم نے ارادہ کی پختگی نہ پائی۔ یہاں دو لفظ آئے ہیں ایک نسیان دوسرے عزم، نسیان کے معنی مشہور ہیں بھول جانا، غفلت میں پڑجانا اور عزم کے لفظی معنے کسی کام کے لئے اپنے ارادے کو مضبوط باندھنے کے ہیں۔ ان دونوں لفظوں سے مراد اس جگہ کیا ہے اس کے سمجھنے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ حضرت آدم ؑ اللہ تعالیٰ کے اوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں اور پیغمبر سب کے سب گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔
پہلے لفظ میں حضرت آدم ؑ پر نسیان اور بھول طاری ہوجانے کا ذکر ہے اور چونکہ بھول اور نسیان غیر اختیاری امر ہے اس لئے اس کو گناہ ہی میں شمار نہیں کیا گیا جیسا کہ حدیث صحیح میں ہے رفع عن امتی الخطا و النسیان یعنی میری امت سے خطا اور نسیان کا گناہ معاف کردیا گیا ہے اور قرآن کریم کا ارشاد عام ہے لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا یعنی اللہ تعالیٰ کسی شخص کو ایسا حکم نہیں دیتے جو اس کے اختیار وقدرت سے باہر ہو۔ لیکن یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ حق تعالیٰ نے اس عالم میں ایسے اسباب بھی رکھے ہیں کہ ان کو پوری احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جائے تو انسان بھول اور خطا سے بچ سکتا ہے انبیاء (علیہم السلام) چونکہ حق تعالیٰ کے مقربین خاص ہیں ان سے اتنی بات پر بھی مواخذہ ہوسکتا ہے کہ ان اسباب اختیاریہ سے کیوں کام نہ لیا جن کے ذریعہ اس بھول سے بچ سکتے تھے۔ بسا اوقات ایک وزیر سلطنت کے لئے وہ کام قابل مواخذہ سمجھا جاتا ہے جو عام نوکروں کے لئے قابل انعام ہوتا ہے۔ اسی کو حضرت جنید بغدادی ؒ نے فرمایا ہے حسنات الابرار سیات المقربین، یعنی امت کے صالحین اور نیک لوگوں کے بہت سے نیک عمل مقربان بارگاہ الٰہی کے حق میں سیات اور لغزش قرار دی جاتی ہے۔
حضرت آدم ؑ کا یہ واقعہ اول تو نبوت و رسالت سے پہلے کا ہے جس میں کسی گناہ کا صدور انبیاء سے بعض علمائے اہل سنت کے نزدیک عصمت کے خلاف نہیں۔ دوسرے درحقیقت یہ بھول ہے جو گناہ نہیں مگر حضرت آدم ؑ کے مقام بلند اور تقرب حق سبحانہ و تعالیٰ کے لحاظ سے اس کو بھی ان کے حق میں ایک لغزش قرار دی گئی جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہوا اور ان کو متنبہ کرنے کے لئے اس لغزش کو عصیان کے لفظ سے تعبیر کیا گیا جیسا کہ آگے آتا ہے۔
دوسرا لفظ عزم ہے اور اسی آیت میں یہ فرمایا کہ آدم ؑ میں عزم نہ پایا گیا اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ عزم کے معنی کسی کام کے ارادہ پر مضبوطی سے قائم رہنے کے ہیں۔ حضرت آدم ؑ حکم ربانی کی تعمیل کا مکمل فیصلہ اور قصد کئے ہوئے تھے مگر شیطانی وساوس سے اس قصد کی مضبوطی میں فرق آ گیا اور بھول نے اس پر قائم نہ رہنے دیا۔ واللہ اعلم
Ayah 20:116وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ ، یہ اس عہد کا مختصر بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ سے لیا تھا اس میں تخلیق آدم کے بعد سب فرشتوں کو اور ان کے ضمن میں ابلیس کو بھی، کیونکہ اس وقت تک ابلیس جنت میں فرشتوں کے ساتھ رہتا سہتا تھا یہ حکم دیا گیا کہ سب کے سب آدم ؑ کو سجدہ کریں سب فرشتوں نے سجدہ کرلیا مگر ابلیس نے انکار کردیا جس کی وجہ دوسری آیات میں اس کا تکبر تھا کہ میں آگ سے بنا ہوں یہ مٹی سے، اور آگ بہ نسبت مٹی کے افضل و اشرف ہے میں اس کو سجدہ کیوں کروں، اس پر ابلیس تو ملعون ہو کر جنت سے نکالا گیا۔ حضرت آدم و حوا کے لئے جنت کے سب باغات اور ساری نعمتوں کے دروازے کھول دیئے گئے اور ہر چیز کے استعمال کی اجازت دی گئی صرف ایک معین درخت کے متعلق یہ ہدایت کی گئی کہ اس کو (یعنی اس کے پھول پھول وغیرہ کو) نہ کھائیں اور اس کے قریب بھی نہ جائیں۔ یہ مضمون بھی سورة بقرہ و اعراف کی آیتوں میں آ چکا ہے یہاں اس کا ذکر کرنے کے بجائے حق تعالیٰ نے اپنا وہ ارشاد ذکر کیا ہے جو اس عہد کے محفوظ رکھنے اور اس پر قائم رہنے کے سلسلہ میں فرمایا کہ دیکھو شیطان ابلیس جیسا کہ واقعہ سجدہ کے وقت ظاہر ہوچکا ہے تم دونوں یعنی آدم و حوا کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ وہ کسی مکر و حیلے سے دھوکہ دے کر تم سے اس عہد کی خلاف ورزی کرا دے جس کا نتیجہ یہ ہو کہ تم جنت سے نکالے جاؤ۔
Ayah 20:117فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰي، یعنی یہ شیطان کہیں تمہیں جنت سے نہ نکلوا دے جس کی وجہ سے تم مصیبت اور مشقت میں پڑجاؤ۔ لفظ تشقی شقاوت سے مشتق ہے۔ یہ لفظ دو معنے کے لئے استعمال ہوتا ہے ایک شقاوت آخرت، دوسرے شقاوت دنیا یعنی جسمانی مشقت و مصیبت اس جگہ یہی دوسرے معنی مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ پہلے معنی میں کسی پیغمبر کے لئے تو کیا کسی نیک مسلمان کے لئے بھی یہ لفظ نہیں بولا جاسکتا اس لئے فراء نے اس شقاوت کی تفسیر یہ کی ہے کہ ھو ان یا کل من کد یدیہ یعنی شقاوت سے اس جگہ مراد یہ ہے کہ اپنے ہاتھوں کی محنت سے خوراک حاصل کرنا پڑے گی (قرطبی) اور اس جگہ قرینہ مقام بھی دوسرے ہی معنی کے لئے شاہد ہے کیونکہ اس کے بعد کی آیت میں جنت کی نعمتوں میں سے ان چار نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جو ہر انسان کی زندگی کے لئے عمودی حیثیت رکھتی ہیں اور ضروریات زندگی میں سب سے اہم ہیں۔ یعنی کھانا، پینا، لباس اور مکسن۔ اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ یہ سب نعمتیں جنت میں تو بلا کسی کسب و اکتساب اور محنت و مشقت کے ملتی ہیں۔ اس میں اشارہ پایا گیا کہ یہاں سے نکل گئے تو یہ نعمتیں سلب ہوجائیں گی اور شاید اسی اشارہ کے لئے یہاں جنت کی بڑی بڑی نعمتوں کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ صرف ان کا ذکر کیا جن پر انسانی زندگی موقوف ہے اور اس سے ڈرایا گیا کہ شیطانی اغواء میں آ کر کہیں ایسا نہ ہو کہ جنت سے نکالے جاؤ اور یہ سب نعمتیں سلب ہوجائیں اور پھر زمین پر ان ضروریات زندگی کو ایسی محنت مشقت اٹھا کر حاصل کرنا پڑے یہ مفہوم لفظ فتشقی کا ہے جو جمہور مفسرین نے لکھا ہے۔ امام قرطبی نے اس جگہ یہ بھی ذکر کیا ہے کہ آدم ؑ جب زمین پر تشریف لائے تو جبرئیل نے جنت سے کچھ دانے گیہوں چاول وغیرہ کے لا کردیئے کہ ان کو زمین میں کاشت کرو پھر جب یہ پودا نکلے اور اس پر دانے جمیں تو اس کو کاٹو پھر پیس کر روٹی بناؤ اور ان سب کاموں کے طریقے بھی حضرت آدم کو سمجھا دیئے اس کے مطابق آدم ؑ نے روٹی پکائی اور کھانے کے لئے بیٹھے تھے کہ روٹی ہاتھ سے چھٹ کر پہاڑ کے نیچے لڑھک گئی آدم ؑ اس کے یچھے چلے اور بڑی محنت کر کے واپس لائے تو جبرئیل امین نے کہا کہ اے آدم آپ کا اور آپ کی اولاد کا رزق زمین پر اسی طرح محنت مشقت سے حاصل ہوگا۔ (قرطبی)
بیوی کا نفقہ ضروریہ شوہر کے ذمہ ہے
اس مقام پر شروع آیت میں حق تعالیٰ نے آدم ؑ کے ساتھ حضرت حوا کو بھی خطاب میں شریک کیا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ جس میں بتلایا ہے کہ شیطان آپ کا بھی دشمن ہے اور آپ کی بیوی کا بھی اور یہ کہ ایسا نہ ہو کہ تم دونوں کو یہ جنت سے نکلوا دے مگر آخر آیت میں لفظ فتشقی کو مفرد استعمال فرمایا بیوی کو اس میں شریک نہیں کیا ورنہ بمقتضائے مقام فتشقیا کہا جاتا۔ امام قرطبی نے اس سے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ ضروریات زندگی بیوی کی مرد کے ذمہ ہیں ان کے حصول میں جو محنت و مشقت ہو اس کا تنہا ذمہ دار مرد ہے اسی لئے فتشقی بصیغہ مفرد لا کر اشارہ کردیا کہ زمین پر اتارے گئے تو ان ضروریات زندگی کی تحصیل میں جو کچھ محنت مشقت اٹھانا پڑے گی وہ حضرت آدم ؑ پر پڑے گی کیونکہ حواء کا نفقہ اور ضروریات زندگی فراہم کرنا ان کے ذمہ ہے۔
نفقہ واجبہ صرف چار چیزیں ہیں
قرطبی نے فرمایا کہ اسی آیت نے ہمیں یہ بھی بتلا دیا کہ عورت کا جو نفقہ مرد کے ذمہ ہے وہ صرف چار چیزیں ہیں۔ کھانا پینا اور لباس اور مسکن۔ اس سے زائد جو کچھ شوہر اپنی بیوی کو دیتا یا اس پر خرچ کرتا ہے وہ تبرع و احسان ہے واجب و لازم نہیں۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بیوی کے علاوہ جس کسی کا نفقہ شریعت نے کسی شخص کے ذمہ عائد کیا ہے اس میں بھی چار چیزیں اس کے ذمہ واجب ہوتی ہیں جیسے ماں باپ کا نفقہ اولاد کے ذمہ جبکہ وہ محتاج اور معذور ہوں و غیر ذلک جس کی تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے۔
Ayahs 20:118–119اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِيْهَا وَلَا تَعْرٰى، جنت میں ضروریات زندگی کی یہ بنیادی چاروں چیزیں بےمانگ بلامشقت ملتی ہیں اور جنت میں بھوک نہ لگنے سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ جب تک بھوک نہ لگے کھانے کا ذائقہ اور لذت ہی نہیں آسکتی، اسی طرح جب تک پیاس نہ ہو ٹھنڈے پانی کی لذت و راحت نہیں محسوس ہو سکتی۔ وجہ یہ ہے کہ جنت میں بھوک پیاس نہ لگنے کا مطلب یہ ہے کہ بھوک پیاس کی تکلیف نہیں اٹھانی پڑتی کہ بھوک کے وقت کھانے کو اور پیاس کے وقت پینے کو نہ ملے یا دیر میں ملے بلکہ ہر وہ چیز جس کو اس کا دل چاہے گا فوراً حاضر موجود ملے گی۔
Ayahs 20:120–122فَوَسْوَسَ اِلَيْهِ الشَّيْطٰنُ الی قولہ وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى، اس آیت میں جو یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے حضرت آدم و حوا کو کسی خاص درخت کے کھانے اور اس کے پاس جانے سے بھی روک دیا تھا اور اس پر مزید یہ تنبیہ بھی فرما دی تھی کہ شیطان تم دونوں کا دشمن ہے اس کے مکر و کید سے بچتے رہنا وہ کہیں تمہیں جنت سے نہ نکلوا دے اتنی واضح ہدایتوں کے بعد بھی یہ پیغمبر عالی مقام شیطان کے دھوکہ میں کس طرح آگئے اور یہ کہ یہ تو کھلی نافرمانی اور گناہ ہے۔ حضرت آدم ؑ اللہ کے نبی و رسول ہیں ان سے یہ گناہ کیسے سرزد ہوا جبکہ جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) ہر چھوٹے بڑے گناہ سے معصوم ہوتے ہی۔ ان سب سوالات کا جواب سورة بقرہ کی تفسیر معارف القرآن جلد اول صفحہ 136 پر گزر چکا ہے وہاں دیکھ لیا جائے اور اس آیت میں جو حضرت آدم ؑ کی نسبت صاف لفظوں میں عصی اور پھر غوی فرمایا گیا ہے اس کی وجہ بھی سورة بقرہ میں بیان ہوچکی ہے کہ اگرچہ آدم ؑ کا یہ عمل شرع قانون کی رو سے گناہ میں داخل نہیں تھا لیکن حضرت آدم ؑ اللہ تعالیٰ کے رسول اور مقربین خاص میں سے ہیں اس لئے ان کی ادنی لغزش کو بھی بھاری لفظوں سے عصیان کہہ کر تعبیر کیا گیا اور اس پر عتاب کیا گیا اور لفظ غوی دو معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے ایک معنی زندگی تلخ ہوجانے اور عیش خراب ہوجانے کے ہیں۔ دوسرے معنی گمراہ ہوجانے یا غافل ہوجانے کے۔ ائمہ تفسیر قشیری اور قرطبی وغیرہ نے اس جگہ لفظ غوی کے پہلے معنی ہی کو اختیار کیا ہے اور مراد یہ ہے کہ حضرت آدم ؑ کو جو عیش جنت میں حاصل تھا وہ نہ رہا زندگی تلخ ہوگئی۔
انبیاء (علیہم السلام) کے بارے میں ایک اہم ہدایت ان کے ادب و احترام کی حفاظت
قاضی ابوبکر ابن عربی نے احکام القرآن میں آیت مذکورہ میں جو الفاظ عصی وغیرہ آدم ؑ کے بارے میں ہیں اس سلسلہ میں انہوں نے ایک اہم بات ارشاد فرمائی ہے وہ انہیں کے الفاظ میں یہ ہے۔
لا یجوز لاحدنا الیوم ان یخبر بذلک عن ادم الا اذا ذکرناہ فی اثناء قولہ تعالیٰ عنہ او قول نبیہ، فاما ان یبتدی ذلک من قبل نفسہ فلاس بجائز لنا فی ابائنا الادنین الینا المماثلین لنا فکیف فی ابینا الا قدم الاعظم الاکرم النبی المقدم الذی عذرہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ و تاب علیہ و غفرلہ (از تفسیر قرطبی و ذکرہ فی البحر المحیط ایضا)
ہم میں سے کسی کے لئے آج یہ جائز نہیں کہ آدم ؑ کی طرف یہ لفظ عصیان منسوب کرے بجز اس کے کہ قرآن کی اس آیت کے یا کسی حدیث نبوی کے ضمن میں آیا ہو وہ بیان کرے لیکن یہ کہ اپنی طرف سے یہ لفظ منسوب کرنا ہمارے اپنے قریبی آباؤ و اجداد کے لئے بھی جائز نہیں، پھر ہمارے سب سے پہلے باپ جو ہر حیثیت میں ہمارے آباء سے مقدم اور اعظم و اکرام میں اور اللہ تعالیٰ کے پیغمبر معزز ہیں جن کا عذر اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور معافی کا اعلان کردیا ان کے لئے تو کسی حال میں جائز نہیں۔
اس لئے قشیری ابونصر نے فرمایا کہ اس لفظ کی وجہ سے حضرت آدم ؑ کو عاصی اور غادی کہنا امور ہیں یا نبوت سے پہلے کے ہیں۔ اس لئے بضمن آیات قرآن و روایت حدیث تو ان کا تذکرہ درست ہے لیکن اپنی طرف سے ان کی شان میں ایسے الفاظ استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ (قرطبی)
Ayah 20:123اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيْعًۢا یعنی اتر جاؤ جنت سے (دونوں) یہ خطاب حضرت آدم و ابلیس دونوں کے لئے بھی ہوسکتا ہے اور اس صورت میں بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ کا مضمون واضح ہے کہ دنیا میں جا کر بھی شیطان کی دشمنی جاری رہے گی اور اگر یہ کہا جائے کہ شیطان کو تو اس واقعہ سے پہلے ہی جنت سے نکالا جا چکا تھا اب اس کو اس خطاب میں شریک قرار دینا بعید ہے تو دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ یہ خطاب آدم و حواء (علیہما السلام) دونوں کو ہو۔ اس صورت میں باہمی عداوت سے مراد ان کی اولاد میں باہمی عداوت ہونے کو بیان کرنا ہے اور ظاہر ہے کہ اولاد میں باہمی عداوت ماں باپ کی زندگی بھی تلخ کردیتی ہے۔
Ayahs 20:124–127وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ ، یہاں ذکر سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک بھی جیسا کہ دوسری آیات میں ذکراً رسولاً آیا ہے دونوں کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص قرآن سے یا رسول سے اعراض کرے یعنی قرآن کی تلاوت اور اس کے احکام پر عمل سے یا رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے اعراض کرے اس کا انجام یہ ہے کہ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى یعنی اس کی معیشت تنگ ہوگی اور قیامت میں اس کو اندھا کر کے اٹھایا جائے گا۔ پہلا عذاب دنیا ہی میں اس کو مل جائے گا اور دوسرا یعنی اندھا ہونے کا عذاب قیامت میں ہوگا۔
کافر اور بدکار کی زندگی دنیا میں تلخ اور تنگ ہونے کی حقیقت
یہاں یہ سوال ہوتا ہے کہ دنیا میں معیشت کی تنگی تو کفار و فجار کے لئے مخصوص نہیں، مؤمنین صالحین کو بھی پیش آتی ہے بلکہ انبیاء (علیہم السلام) کو سب سے زیادہ شدائد و مصائب اس دنیا کی زندگی میں اٹھانے پڑتے ہیں۔ صحیح بخاری اور تمام کتب حدیث میں روایت سعد وغیرہ یہ حدیث منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دنیا کی بلائیں اور مصیبتیں سب سے زیادہ انبیاء پر سخت ہوتی ہیں ان کے بعد جو جس درجہ کا صالح اور ولی ہے اسی کی مناسبت سے اس کو یہ تکلیفیں پہنچتی ہیں۔ اس کے بالمقابل عموماً کفار و فجار کو خوشحال اور عیش و عشرت میں دیکھا جاتا ہے تو پھر یہ ارشاد قرآنی کہ ان کی معیشت تنگ ہوگی آخرت کے لئے تو ہوسکتا ہے دنیا میں خلاف مشاہدہ معلوم ہوتا ہے۔
اس کا صاف بےغبار جواب تو یہ ہے کہ یہاں دنیا کے عذاب سے قبر کا عذاب مراد ہے کہ قبر میں ان کی معیشت تنگ کردی جاوے گی۔ خود قبر جو ان کا مسکن ہوگا وہ ان کو ایسا دبائے گا کہ ان کی پسلیاں ٹوٹنے لگیں گی جیسا کہ بعض احادیث میں اس کی تصریح ہے اور مسند بزار میں بسند جید حضرت ابوہریرہ سے یہ حدیث منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود اس آیت کے لفظ مَعِيْشَةً ضَنْكًا کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ اس سے مراد قبر کا عالم ہے۔ (مظہری)
اور حضرت سعید بن جبیر نے تنگی معیشت کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ ان سے قناعت کا وصف سلب کرلیا جاوے گا اور حرص دنیا بڑھا دی جاوے گی (مظہری) جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے پاس کتنا ہی مال و دولت جمع ہوجائے کبھی قلبی سکون اس کو نصیب نہیں ہوگا ہمیشہ مال بڑھانے کی فکر اور اس میں نقصان کا خطرہ اس کو بےچین رکھے گا۔ اور یہ بات عام اہل تمول میں مشاہد و معروف ہے جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے پاس سامان راحت تو بہت جمع ہوجاتا ہے مگر جس کا نام راحت ہے وہ نصیب نہیں ہوتی کیونکہ وہ قلب کے سکون و اطمینان کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔