Ayahs 19:1–2خلاصہ تفسیر
کھیعص (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ (جو آئندہ قصہ آتا ہے) تذکرہ ہے آپ کے پروردگار کے مہربانی فرمانے کا اپنے (مقبول) بندہ (حضرت) زکریا (علیہ السلام کے حال) پر جبکہ انہوں نے اپنے پروردگار کو پوشیدہ طور پر پکارا (جس میں یہ) عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میری ہڈیاں (بوجہ پیری کے) کمزور ہوگئیں اور (میرے) سر میں بالوں کی سفیدی پھیل پڑی (یعنی تمام بال سفید ہوگئے اور اس حالت کا مقتضاء یہ ہے کہ میں اس حالت میں اولاد کی درخواست نہ کروں مگر چونکہ آپ کی قدرت و رحمت بڑی کامل ہے) اور (میں اس قدرت و رحمت کے ظہور کا خوگر ہمیشہ رہا ہوں چناچہ اس کے قبل کبھی) آپ سے (کوئی چیز) مانگنے میں اے میرے رب ناکام نہیں رہا ہوں (اس بنا پر بعید سے بعید مقصود بھی طلب کرنا مضائقہ نہیں) اور (اس طلب کا مرجح یہ امر خاص ہوگیا ہے کہ) میں اپنے (مرنے کے) بعد (اپنے) رشتہ داروں (کی طرف) سے (یہ) اندیشہ رکھتا ہوں (کہ میری مرضی کے موافق شریعت اور دین کی خدمت نہ بجالاویں گے۔ یہ امر مرجح ہے طلب اولاد کے لئے جس میں خاص خاص اوصاف پائے جاویں جن کو توقع خدمت دین میں داخل ہو) اور (چونکہ میری پیرانہ سالی کے ساتھ) میری بیوی (بھی) بانجھ ہے (جس کے کبھی باوجود صحت مزاج کے اولاد ہی نہیں ہوئی اس لئے اسباب عادیہ اولاد ہونے کے بھی مفقود ہیں سو (اس صورت میں) آپ مجھ کو خاص اپنے پاس سے (یعنی بلا توسط اسباب عادیہ کے) ایک ایسا وارث (یعنی بیٹا) دے دیجئے کہ وہ (میرے علوم خاصہ میں) میرا وارث بنے اور (میرے جد) یعقوب ؑ کے خاندان (کے علوم متوارثہ میں ان) کا وارث بنے (یعنی علوم سابقہ و لاحقہ اس کو حاصل ہوں) اور (بوجہ باعمل ہونے کے) اس کو اے میرے رب (اپنا) پسندیدہ (ومقبول) بنائیے (یعنی عالم بھی ہو اور عامل بھی ہو۔ حق تعالیٰ کا بواسطہ ملائکہ کے ارشاد ہوا کہ) اے زکریا ہم تم کو ایک فرزند کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا کہ اس کے قبل (خاص اوصاف میں) ہم نے کسی کو اس کا ہم صفت نہ بنایا ہوگا (یعنی جس علم و عمل کی تم دعا کرتے ہو وہ تو اس فرزند کو ضرور ہی عطا کریں گے اور مزید برآں کچھ اوصاف خاصہ بھی عنایت کئے جاویں گے مثلاً خشیت الٰہی سے خاص درجہ کی رقت قلب وغیرہ۔ چونکہ اس اجابت دعا میں کوئی خاص کیفیت حصول ولد کی بتلائی نہ گئی تھی اس لئے اس کے استفار کیلئے) زکریا ؑ نے عرض کیا کہ اے میرے رب میرے اولاد کس طرح پر ہوگی حالانکہ میری بی بی بانجھ ہے اور (ادھر) میں پڑھاپے کے انتہائی درجہ کو پہنچ چکا ہوں (پس معلوم نہیں کہ ہم جوان ہوں گے یا مجھ کو دوسرا نکاح کرنا ہوگا یا بحالت موجودہ اولاد ہوگی) ارشاد ہوا کہ حالت (موجودہ) یوں ہی رہے گی (اور پھر اولاد ہوگی اے زکریا) تمہارے رب کا قول ہے کہ یہ (امر) مجھ کو آسان ہے اور (یہ کیا اس سے بڑا کام کرچکا ہوں مثلاً) میں نے تم کو (ہی) پیدا کیا ہے حالانکہ (پیدائش کے قبل) تم کچھ بھی نہ تھے (اسی طرح خود اسباب عادیہ بھی کوئی چیز نہ تھے جب معدوم کو موجود کرنا آسان ہے تو ایک موجود سے دوسرا موجود کردینا کیا مشکل ہے یہ سب ارشاد تقویت رجا کے لئے تھا نہ کہ دفع شبہ کے لئے، کیونکہ زکریا ؑ کو کوئی شبہ نہ تھا جب) زکریا (علیہ السلام کو قوی امید ہوگئی تو انہوں) نے عرض کیا کہ اے میرے رب (وعدہ پر تو اطمینان ہوگیا اب اس وعدہ کے قریب وقوع یعنی حمل کی بھی) کوئی علامت میرے لئے مقرر فرمادیجئے (تاکہ زیادہ شکر کروں اور خود وقوع تو محسوسات ظاہرہ ہی میں سے ہے) ارشاد ہوا کہ تمہاری (وہ) علامت یہ ہے کہ تم تین رات (اور تین دن تک) آدمیوں سے بات (چیت) نہ کرسکو گے حالانکہ تندرست ہوگے (کوئی بیماری وغیرہ نہ ہوگی اور اسی وجہ سے ذکر اللہ کے ساتھ تکلم پر قدرت رہے گی چناچہ باذن اللہ تعالیٰ زکریا ؑ کی بیوی حاملہ ہوئیں اور حسب انبار الٰہی زکریا ؑ کی زبان پستہ ہوگئی) پس حجرے میں سے اپنی قوم کے پاس برآمد ہوئے اور ان کو ارشارہ سے فرمایا (کیونکہ زبان سے تو بول نہ سکتے تھے) کہ تم لوگ صبح اور شام خدا کی پاکی بیان کیا کرو۔ (یہ تسبیح اور امر بالتسبیح یا تو حسب معمول تھا ہمیشہ تذکیرا زبان سے کہتے تھے آج اشارہ سے کہا یا اس نعمت جدیدہ کے شکر میں خود بھی تسبیح کی کثرت فرمائی اور اوروں کو بھی اسی طور پر امر فرمایا غرض پھر یحییٰ ؑ پیدا ہوئے اور سن شعور کو پہنچے تو ان کو حکم ہوا کہ) اے یحییٰ کتاب کو (یعنی توریت کو کہ اس وقت وہی کتاب شریعت تھی اور انجیل کا نزول بعد میں ہوا) مضبوط ہو کرلو (یعنی خاص کوشش کی ساتھ عمل کرو) اور ہم نے ان کو (انکے) لڑکپن ہی میں (دین کی) سمجھ اور خاص اپنے پاس سے رقت قلب (کی صفت) اور پاکیزگی (اخلاق کی) عطا فرمائی تھی (حکم میں علم کی طرف اور حنان اور زکوٰة میں اخلاق کی طرف اشارہ ہوگیا) اور (آگے اعمال ظاہرہ کیطرف اشارہ فرمایا کہ) وہ بڑے پرہیزگار اور اپنے والدین کے خدمت گزار تھے (اس میں حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی طرف اشارہ ہوگیا) اور وہ (خلق کے ساتھ) سرکشی کرنے والے (یا حق تعالیٰ کی) نافرمانی کرنے والے نہ تھے اور (عنداللہ ایسے وجیہ اور مکرم تھے کہ انکے حق میں منجانب اللہ یہ ارشاد ہوتا ہے کہ) ان کو (اللہ تعالیٰ کا) سلام پہنچے جس دن کہ وہ پیدا ہوئے اور جس دن کہ وہ انتقال کریں گے اور جس دن (قیامت میں) زندہ ہو کر اٹھائے جاویں گے۔
معارف و مسائل
سورة کہف کے بعد سورة مریم شاید اس مناسبت سے رکھی گئی جیسے سورة کہف بہت سے واقعات عجیبہ پر مشتمل تھی اسی طرح سورة مریم بھی ایسے واقعات غریبہ پر مشتمل ہے (روح المعانی) کھیعص حروف مقطعہ اور متشابہات میں سے ہے جسکا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے بندوں کے لئے اس کی تفتیش بھی اچھی نہیں۔
Ayah 19:3نِدَاۗءً خَفِيًّااس سے معلوم ہوا کہ دعا کا آہستہ اور خفیہ کرنا افضل ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان خیر الذکر الخفی وخیر الرزق مایکفی، یعنی بہتر ذکر خفی (آہستہ) ہے اور بہترین رزق وہ ہے جو کافی ہوجائے (ضرورت سے نہ گٹھے نہ بڑھے (قرطبی)
Ayah 19:4اِنِّىْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّيْ وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَيْبًاکمزوری ہڈیوں کی ذکر فرمائی کیونکہ وہی عمود بدن ہیں، جب ہڈی ہی کمزور ہوجائے تو سارے بدن کی کمزوری ہے۔ اشتعال کے لفظی معنی بھڑک اٹھنے کے ہیں اس جگہ بالوں کی سفیدی کو آگ کی روشنی سے تشبیہ دے کر اس کا پورے سر پر پھیل جانا مقصود ہے۔
دعا میں اپنی حاجت مندی کا اظہار مستحب ہے۔:
اس جگہ دعا سے پہلے حضرت زکریا ؑ نے اپنے ضعف و کمزوری کا ذکر کیا، اس کی ایک وجہ تو وہ ہے جس کی طرف خلاصہ تفسیر میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ان حالات کا مقتضا یہ تھا کہ اولاد کی خواہش نہ کروں۔ ایک دوسری وجہ امام قرطبی نے تفسیر میں یہ بھی بیان فرمائی کہ دعا مانگنے کے وقت اپنے صنف و بدحالی اور حاجتمندی کا ذکر کرنا قبولیتِ دُعا کے لئے اقرب ہے اسی لئے علماء نے فرمایا کہ انسان کو چاہیے کہ دعا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اپنی حاجتمندی کا ذکر کرے۔
Ayah 19:5الْمَوَالِيَ ، مولیٰ کی جمع ہے۔ عربی زبان میں یہ لفظ بہت سے معانی کے لیے استعمام ہوتا ہے ان میں سے ایک معنی چچا زاد بھائی اور اپنے عصبات کے بھی آتے ہیں اس جگہ وہی مراد ہے۔
Ayah 19:6انبیاء ؑ کے مال میں وراثت نہیں چلتی۔
يَّرِثُنِيْ وَيَرِثُ مِنْ اٰلِ يَعْقُوْبَ ، باتفاق جمہور علماء اس جگہ وراثت سے وراثت مالی مراد نہیں، کیونکہ اول تو حضرت زکریا کے پاس کوئی بڑی دولت ہونا ثابت نہیں جس کی فکر ہو کہ اس کا وارث کون ہوگا اور ایک پیغمبر کی شان سے بھی ایسی فکر کرنا بعید ہے اس کے علاوہ صحیح حدیث جس پر صحابہ کرام کا اجماع ثابت ہے اسمیں ہے
ان العلماء ورثۃ الانبیاء وان الانبیاء لم یورثوا دینارا ولا درھما انما ورثوا لعلم فمن اخذہ اخذ بحظ وافر (رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ والترمذی)
ترجمہ بیشک علماء وارث ہیں انبیاء کے کیونکہ انبیاء
علیہم السلام دنیار و درہم کی وراثت نہیں چھوڑتے
بلکہ ان کی وراثت علم ہوتا ہے جس نے علم حاصل
کرلیا اس نے بڑی دولت حاصل کرلی۔
یہ حدیث کتب شیعہ کافی، کلینی وغیرہ میں بھی موجود ہے، اور صحیح بخاری میں حضرت صدیقہ عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
لانورث وماترکنا صدقة
ہم انبیاء کی مالی وراثت کسی کو نہیں ملتی ہم جو مال چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔
اور خود اس آیت میں یرثنی کے بعد ویرث من ال یعقوب کا اضافہ اس کی دلیل ہے کہ وراثت مالی مراد نہیں کیونکہ جس لڑکے کی پیدائش کی دعا کی جارہی ہے اس کا آل یعقوب کے لیے مالی وارث بننا بظاہر حال ممکن نہیں کیونکہ آل یعقوب کے وارث ان کے عصبات قریبہ ہوں گے اور وہ وہی موالی ہیں جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا وہ بلاشبہ قرابت وعصوبت میں حضرت یحییٰ ؑ سے اقرب ہیں اقرب کے ہوتے ہوئے عصبہ بعید کو وراثت ملنا اصول وراثت کے خلاف ہے۔
روح المعانی میں کتب شیعہ سے یہ بھی نقل کیا ہے
روی الکلینی فی الکافی عن ابی البختری عن عبداللہ قال ان سلیمان وارث داؤد وان محمدا ورث سلیمان۔
سلیمان ؑ داؤد ؑ کے وارث ہوئے اور محمد ﷺ سیلمان علیہٰ السلام کے وارث ہوئے۔
ؑ یہ ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حضرت سیلمان ؑ کی مالی وراثت ملنے کا کوئی احتمال و امکان ہی نہیں، مراد اس سے علوم نبوت کی وراثت ہے اس سے معلوم ہوا کہ ورث سلیمن داؤد میں بھی وراثت مالی مراد نہیں۔
Ayah 19:7لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا، لفظ سمی کے معنے ہمنام کے بھی آتے ہیں، اور مثل ومشابہ کے بھی، اس جگہ اگر پہلے معنے مراد لئے جاویں تو مطلب واضح ہے کہ ان سے پہلے یحییٰ نام کسی شخص کا نہیں ہوا تھا۔ یہ نام کی یکتائی اور امتیاز بھی بعض خاص صفات میں انکی یکتائی کیطرف مشیر تھی اسلئے اس کو ان صفات اور حالات ان کے ایسے ہیں جو پچھلے انبیاء میں سے کسی میں نہ تھے ان صفات خاصہ میں وہ بےمثل تھے۔ مثلا ان کا حصور ہونا وغیرہ اسلئے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یحییٰ ؑ پچھلے سارے انبیاء سے مطلقا افضل ہوں کیونکہ ان میں حضرت خلیل اللہ اور حضرت کلیم اللہ کا ان سے افضل ہونا مسلم و معروف ہے۔ (مظہری)
Ayahs 19:8–9عِتِيًّاعتو سے مشتق ہے جس کے اصلی معنے تأثر قبول نہ کرنا ہے مراد اس سے ہڈیوں کا خشک ہوجانا ہے۔
Ayahs 19:10–12سَوِيًّاکے معنے تندرست کے ہیں یہ لفظ اس لئے بڑھایا گیا کہ زکریا ؑ پر اس حالت کا طاری ہونا کہ کسی انسان سے بات نہ کرسکیں کسی بیماری کی وجہ سے نہیں تھا اور اسی وجہ سے ذکر اللہ اور عبادت میں انکی زبان ان تینوں دنوں میں برابر کھلی ہوئی تھی بلکہ یہ حالت بطور معجزہ اور علامت حمل کے ان پر طاری کی گئی تھی۔
Ayahs 19:13–15حَنَانًالفظ کے لغوی معنے رقت قلب اور رحمت و شفقت کے ہیں جو حضرت یحییٰ ؑ کو امتیازی طور پر دی گئی تھی۔
Ayah 19:16خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ اس کتاب (یعنی قرآن کے اس خاص حصہ یعنی سورت) میں (حضرت) مریم (علیہٰا السلام) کا قصہ بھی ذکر کیجئے (کہ وہ زکریا ؑ کے قصہ مذکورہ سے خاص مناسبت رکھتا ہے اور وہ اسوقت واقع ہوا) جب کہ وہ اپنے گھر والوں سے علیحدہ (ہوکر) ایک ایسے مکان میں جو مشرق کی جانب میں تھا (غسل کے لئے) گئیں پھر ان (گھروالے) لوگوں کے سامنے سے انھوں نے (درمیان میں پردہ ڈال) لیا (تاکہ اس کی آڑ میں غسل کرسکیں) پس (اس حالت میں) ہم نے اپنے فرشتہ (جبرئیل علیہٰ السلام) بھیجا اور وہ (فرشتہ) ان کے سامنے (ہاتھ پاؤں اور صورت و شکل میں) ایک پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا (چونکہ حضرت مریم نے اس کو انسان سمجھا اس لئے گھبرا کر) کہنے لگیں کہ میں تجھ سے اپنے خدا کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو (کچھ) خدا ترس ہے (تو یہاں سے ہٹ جاوے گا) فرشتہ نے کہا کہ (میں بشر نہیں کہ تم مجھ سے ڈرتی ہو بلکہ) میں تو تمہارے رب کا بھیجا ہوا (فرشتہ) ہوں (اس لئے آیا ہوں) تاکہ تم کو ایک پاکیزہ لڑکا دوں (یعنی تمہارے منہ میں یا گریبان میں دَم کردوں جس کے اثر سے باذن اللہ حمل رہ جاوے اور لڑکا پیدا ہو) وہ (تعجب سے) کہنے لگیں (نہ کہ انکار سے) کہ میرے لڑکا کس طرح ہوجاوے گا حالانکہ (اس کی شرائط عادیہ میں سے مرد کے ساتھ مقاربت ہے اور وہ بالکل مفقود ہے کیونکہ) مجھ کو کسی بشر نے ہاتھ تک نہیں لگایا (یعنی نہ تو نکاح ہوا) اور نہ میں بدکار ہوں، فرشتہ نے کہا کہ (بس بغیر کسی بشر کے چھونے کے) یوں ہی (لڑکا) ہوجاوے گا (اور میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ) تمہارے رب نے ارشاد فرمایا ہے کہ بات (کہ بغیر اسباب عادیہ کے بچہ پیدا کردوں) مجھ کو آسان ہے اور (یہ بھی فرمایا ہے کہ ہم بغیر اسباب عادیہ کے) اسے خاص طور پر اس لئے پیدا کریں گے تاکہ ہم اس فرزند کو لوگوں کے لئے ایک نشانی (قدرت کی) بنادیں اور (نیز اسکے ذریعہ لوگوں کو ہدایت پانے کے لئے) اس کو باعث رحمت بنادیں اور یہ (بےشک کے اس بچہ کا پیدا ہونا) ایک طے شدہ بات ہے (جو ضرور ہو کر رہے گی)۔
معَارف ومسَائِل
انْتَبَذَتْنبذ سے مشتق ہے جس کے اصلی معنے دور ڈالنے اور پھینکنے کے ہیں۔ انتباذ کے معنی مجمع سے ہٹ کر دور چلے جانے کے ہوئے۔ مکانا شرقیا، یعنی گھر کے اندر مشرقی جانب کے کسی گوشہ میں چلی گیئں۔ ان کا گوشہ میں جانا کس غرض کے لئے تھا اسمیں احتمالات اور اقوال مختلف ہیں بعض نے کہا کہ غسل کرنے کے لئے اس گوشہ میں گئی تھیں۔ بعض نے کہا کہ حسب عادت عبادت الہٰی میں مشغول ہونے کے لئے محراب کی شرقی جانب کے کسی گوشہ کو اختیار کیا تھا۔ قرطبی نے اسی دوسرے احتمال کو احسن قرار دیا ہے۔ حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ نصارٰی نے جو جانب مشرق کو اپنا قبلہ بنایا اور اس جانب کی تعظیم کرتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے۔
Ayah 19:17فَاَرْسَلْنَآ اِلَيْهَا رُوْحَنَاروح سے مراد جمہور کے نزدیک حضرت جبرئیل ؑ ہیں اور بعض نے کہا کہ خود حضرت عیسیٰ ؑ مراد ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے بطن سے بپیدا ہونے والے بشر کی شبیہ ان کے سامنے کردی۔ مگر پہلا قول راجح ہے بعد کے کلمات سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔
فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّافرشتہ کو اس کی اپنی اصلی صورت وہیئت میں دیکھنا انسان کے لئے آسان نہیں، اس کی ہیبت غالب آجاتی ہے جیسے رسول اللہ ﷺ کو غار حراء میں اور بعد میں پیش آیا۔ اس مصلحت سے جبرئیل امین حضرت مریم علیہا اسلام کے سامنے بشکل انسانی ظاہر ہوئے۔ جب حضرت مریم نے ایک انسان کو اپنے قریب دیکھا جو پردہ کے اندر آگیا تو خطرہ ہوا کہ اس کا ارادہ برا معلوم ہوتا ہے اس لئے فرمایا
Ayah 19:18اِنِّىْٓ اَعُوْذُ بالرَّحْمٰنِ مِنْكَ(میں اللہ رحمن کی پناہ مانگتی ہوں تجھ سے) بعض روایات میں ہے کہ جبرئیل امین نے یہ کلمہ سنا تو اللہ کے نام کی تعظیم کے لئے کچھ پیچھے ہٹ گئے۔
اِنْ كُنْتَ تَقِيًّایہ کلمہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص کسی ظالم سے مجبور ہو کر فریاد کرے کہ اگر تو مومن ہے تو مجھ پر ظلم نہ کر۔ ترا ایمان اس ظلم سے روکنے کے لئے کافی ہونا چاہئیے۔ مطلب یہ ہوا کہ تمہارے لئے مناسب ہے کہ اللہ سے ڈرو، غلط اقدام سے بچو۔ خلاصہ یہ ہے کہ اِنْ كُنْتَ تَقِيًّا، استعاذہ کی شرط نہیں بلکہ استعاذہ کے مؤ ثر ہونے کی شرط برائے ترغیب ہے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ کلمہ بطور مبالغہ کے لایا گیا ہے کہ اگر تم متقی بھی ہو تب بھی میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اور اسکے خلاف ہو تو معاملہ ظاہر ہے۔ (مظہری)
Ayahs 19:19–21لِاَهَبَ لَكِاب میں عطاء فرزند کو جبرئیل ؑ نے اپنی طرف اس لئے منسوب کیا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے بھیجا تھا کہ ان کے گریبان میں پھونک ماردیں۔ یہ پھونک عطاء فرزند کا ذریعہ بن جائے گی، اگرچہ یہ عطاء دراصل فعلِ الٰہی ہے۔
Ayah 19:22خلاصہ تفسیر
پھر (اس گفتگو کے بعد جبرئبل ؑ نے ان کے گریبان میں پھونک مار دی جس سے) ان کے پیٹ میں لڑکا رہ گیا، پھر (جب اپنے وقت پر حضرت مریم کو بچہ کی پیدائش کے آثار محسوس ہوئے تو) اس حمل کو لئے ہوئے (اپنے گھر سے) کسی دور جگہ (چنگل پہاڑ میں) الگ چلی گئیں پھر (جب درد شروع ہوا تو) درد زِہ کی وجہ سے کھجور کے درخت کی طرف آئیں (کہ اس کے سہارے بیٹھیں اٹھیں، اب حالت یہ تھی کہ نہ کوئی انیس نہ جلیس، دور سے بےچین، ایسے وقت جو سامان راحت و ضرورت کا ہونا چاہئیے وہ ندارد ادھر بچہ ہونے پر بدنامی کا خیال، آخر گھبرا کر) کہنے لگیں کاش میں اس (حالت) سے پہلے مرگئی ہوتی اور ایسی نیست و نابود ہوجاتی کہ کسی کو یاد بھی نہ رہتی، پس (اسی وقت خدا تعالیٰ کے حکم سے حضرت) جبرئیل ؑ پہنچے اور ان کے احترام کی وجہ سے سامنے گئے بلکہ جس مقام پر حضرت مریم تھی اس سے اسفل مقام میں آڑ میں آئے اور انھوں) نے ان کے (اس) پائیں (مکان) سے ان کو پکارا۔ (جس کو حضرت مریم نے پہچانا کہ یہ اسی فرشتہ کی آواز ہے جو اوّل ظاہر ہوا تھا) کہ تم (بےسروسامانی سے یا خوف بدنامی سے) مغموم مت ہو، (کیونکہ بےسروسامانی کا تو یہ انتظام ہوا ہے کہ) تمہارے رب نے تمہارے پائیں (مکان) میں ایک نہر پیدا کردی ہے (جس کے دیکھنے سے اور پانی پینے سے فرحت طبعی ہو ونیز حسب روایت روح انکو اس وقت پیاس بھی لگی تھی اور حسب مسئلہ طبیہ گرم چیزوں کا استعمال قبل وضع مسہل ولادت و دافع فضلات ومقوی طبیعت بھی ہے اور پانی میں اگر سخونت (گرمی) بھی ہو جیسا بعض چشموں میں مشاہد ہے تو اور زیادہ مزاج کے موافق ہوگا، ونیز کھجور کثیر الغذاء مولد خون، مسمّن ومقوی گردہ کمر و مفاصل ہونے کی وجہ سے زچہ کے لئے سب غذاؤں اور دواؤں سے بہتر ہے اور حرارت کی وجہ سے جو اس کی مضرت کا احتمال ہے سو اوّل تو رطب میں حرارت کم ہے، دوسرے پانی سے اس کی اصلاح ہوسکتی ہے تیسرے مضرت کا ظہور جب ہوتا ہے کہ عضو میں ضعف ہو ورنہ کوئی چیز بھی کچھ نہ کچھ مضرت سے خالی نہیں ہوتی و نیز خرق عادت (کرامت) کا ظہور اللہ کے نزدیک مقبولیت کی علامت ہونے کی وجہ سے موجب مسرّت روحانی بھی ہے) اور اس کھجور کے تنہ کو (پکڑ کر) اپنی طرف ہلاؤ اس سے تم پر تروتازہ کھجوریں جھڑیں گی (کہ اس سے پھل کے کھانے میں لذت جسمانی اور بطور خرق عادت کے پھل کے آنے میں لذت روحانی مجتمع ہے) پھر (اس پھل کو) کھاؤ اور (وہ پانی) پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو (یعنی بچہ کے دیکھنے سے اور کھانے پینے سے اور علامت قبول عنداللہ ہونے سے خوش رہو) پھر (جب بدنامی کے احتمال کا موقع آوے یعنی کوئی آدمی اس قصہ پر مطلع ہو تو اس کا یہ انتظام ہوا ہے کہ) اگر تم آدمیوں میں سے کسی کو بھی (آتا اور اعتراض کرتا) دیکھو تو (تم کچھ مت بولنا بلکہ اشارہ سے اس سے) کہہ دینا کہ میں نے تو اللہ کے واسطے (ایسے) روزہ کی منت مان رکھی ہے (جس میں بولنے کی بندش ہے) سو (اسوجہ سے) میں آج (دن بھر) کسی آدمی سے نہیں بولوں گی (اور خدا کے ذکر اور دعا میں مشغول ہونا اور بات ہے بس تم اتنا جواب دے کر بےفکر ہوجانا، اللہ تعالیٰ اس مولود مسعود کو خرق عادت کے طور پر بولتا کردے گا جس سے ظہور اعجاز دلیل نزاہت وعصمت ہوجاوے گی غرض ہر غم کا علاج ہوگیا۔)
Ayah 19:23معارف مسائل
تمنائے موت کا حکم
یہ تمنّا موت اگر غم دنیا سے تھی تب تو غلبہ حال کو اس کا عذر کیا جاوے گا جس میں انسان من کُلّ الوجود مکلف نہیں رہتا اور اگر غم دین سے تھا کہ لوگ بدنام کریں گے اور شاید مجھے اس پر صبر نہ ہوسکے تو بےصبری کی معصیت میں ابتلا ہوگا، موت سے اس معصیت کی حفاظت رہے گی تو ایسی تمنّا ممنوع نہیں ہے اور اگر شبہ ہو کہ حضرت مریم کو جو کہا گیا کہ تم کہہ دینا کہ میں نے نذر کی ہے سو انہوں نے نذز تو نہ کی تھی، جواب یہ ہے کہ اسی سے یہ حکم بھی مفہوم ہوگیا کہ تم نذر بھی کرلینا اور اس کو ظاہر کردینا۔
سکوت کا روزہ شریعت قبل از اسلام یہ بھی عبادت میں داخل تھا کہ بولنے کا روزہ رکھے، صبح سے رات برے کلام گالی گلوچ، جھوٹ، غیبت وغیرہ سے پرہیز کیا جائے۔ عام گفتگو ترک کرنا اسلام میں کوئی عبادت نہیں رہی اس لئے اس کی نذر ماننا بھی جائز نہیں۔ لما رواہ ابوداؤد مرفوعا لایتم بعد احتلام ولاصمات یوم الی اللیل وحسنہ السیوطی والعزیزی یعنی بچہ بالغ ہونے کے بعد باپ کے مرنے سے یتیم نہیں کہلاتا، اس پر احکام یتیم کے جاری نہیں ہوتے اور صبح سے شام تک خاموش رہنا تو (اسلام میں) کوئی عبادت نہیں۔ اور درد زِہ میں پانی اور کھجور کا استعمال بھی مفید ہے اور اکل وشرب کا حکم بظاہر اباحت کے لئے معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم
بغیر مرد کے تنہا عورت سے بچہ پیدا ہوجانا خلاف عقل نہیں
اور حمل وتولد بلا توسط مرد کے خارق عادت (معجزہ) ہے اور خوارق میں کتنا ہی استبعاد ہو مضائقہ نہیں بلکہ وصف اعجاز کا اور زیادہ ظہور ہے لیکن اس میں اسوجہ سے زیادہ استبعاد بھی نہیں کہ حسب تصریح کتب طب عورت کی منی میں قوت منعقدہ کے ساتھ قوت عاقدہ بھی ہے اس لئے مرض رجا میں اعضاء کی کچھ ناتمام صورت بھی بن جاتی ہے ہے کما صرح بہ فی القانون، پس اگر یہی قوت عاقدہ اور بڑھ جائے تو زیادہ مستبعد نہیں ہے۔ (بیان القران) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا اسلام کو کھجور کا درخت ہلانے کا حکم دیا، حالانکہ اس کی قدرت میں تحصیل رزق کے لئے کوشش کرنے کا سبق ملتا ہے اور یہ بھی بتلانا ہے کہ رزق کے حاصل کرنے میں کوشش اور محنت کرنا توکل کے خلاف نہیں۔ (رُوح المعَانی)
Ayahs 19:24–25سَرِيًّالفظ سری کے لغوی معنی چھوٹی نہر کے ہیں۔ اس موقع پر حق تعالیٰ نے ایک چھوٹی نہر اپنی قدرت سے بلا واسطہ جاری فرمادی یا جبرئیل کے ذریعہ چشمہ جاری کرادیا، دونوں طرح کی روایتیں ہیں۔ یہاں یہ امر قابل لحاظ ہے کہ حضرت مریم کی تسلی کے اسباب ذکر کرنے کے وقت تو پہلے پانی کا ذکر فرمایا پھر کھانے کی چیز کھجور کا، اور جب استعمال کا ذکر آیا تو ترتیب بدل کر پہلے کھانے کا حکم فرمایا پھر پانی پینے کا۔
Ayah 19:26(آیت) فَكُلِيْ وَاشْرَبِيْوجہ غالباً یہ ہے کہ انسان کی فطری عادت ہے کہ پانی کا اہتمام کھانے سے پہلے کرتا ہے خصوصاً ایسی غذا جس کے بعد پیاس لگنا یقینی ہو اسکے کھانے سے پہلے پانی مہیا کرتا ہے مگر استعمال کی ترتیب یہ ہوتی ہے کہ پہلے غذا کھاتا ہے پھر پانی پیتا ہے۔ (رُوح المعانی)
Ayah 19:27خلاصہ تفسیر
(غرض مریم ؑ کی اس کلام سے تسلی ہوئی عیسیٰ ؑ پیدا ہوئے) پھر وہ ان کو گود میں لیے ہوئے (وہاں سے بستی کو چلیں اور) اپنی قوم کے پاس لائیں، لوگوں نے (جو دیکھا کہ ان کی شادی تو ہوئی نہ تھی یہ بچہ کیسا، بدگمان ہو کر) کہا اے مریم ! تم نے بڑے غضب کا کام کیا (یعنی نعوذ باللہ بدکاری کی، اور یوں تو بدکاری کوئی بھی کرے برا ہے لیکن تم سے ایسا فعل ہونا زیادہ غضب کی بات ہے کیونکہ) اے ہارون کی بہن ! (تمہارے خاندان میں کبھی کسی نے ایسا نہیں کیا چنانچہ) تمہارے باپ کوئی برے آدمی نہ تھے (کہ ان سے یہ اثر تم میں آیا ہو) اور نہ تمہاری ماں بدکار تھیں (کہ ان سے یہ اثر تم میں آیا ہو، پھر ہارون جو تمہارے رشتہ کے بھائی ہیں جن کا نام ان ہارون نبی کے نام پر رکھا گیا ہے وہ کیسے کچھ نیک شخص ہیں، غرض جس کا خاندان کا خاندان پاک صاف ہو اس سے یہ حرکت ہونا کتنا بڑا غضب ہے) پس مریم (علیہا السلام) نے (یہ ساری تقریر سن کر کوئی جواب نہ دیا بلکہ) بچہ کی طرف اشارہ کردیا (کہ اس سے کہو جو کچھ کہنا ہو یہ جواب دے گا) وہ لوگ (سمجھے کہ یہ ہمارے ساتھ تمسخر کرتی ہیں) کہنے لگے کہ بھلا ہم ایسے شخص سے کیونکر باتیں کریں جو ابھی گود میں بچہ ہی ہے (کیونکہ بات اس شخص سے کی جاتی ہے جو کہ وہ بھی بات چیت کرتا ہو، سو جب یہ بچہ ہے اور بات پر قادر نہیں، تو اس سے کیا بات کریں اتنے میں) وہ بچہ (خود ہی) بول اٹھا میں اللہ کا (خاص) بندہ ہوں (نہ تو اللہ ہوں جیسا کہ جہلا نصاریٰ سمجھیں گے اور نہ غیر مقبول ہوں جیسا یہود سمجھیں گے اور بندہ ہونے کے اور پھر خاص ہونے کے یہ آثار ہیں کہ) اس نے مجھ کو کتاب (یعنی انجیل) دی (یعنی گو آئندہ دے گا مگر بوجہ یقینی ہونے کے ایسا ہی ہے جیسا کہ دے دی) اور اس نے مجھ کو نبی بنایا (یعنی بناوے گا) اور مجھ کو برکت والا بنایا (یعنی مجھ سے خلق کو دین کا نفع پہنچے گا) میں جہاں کہیں بھی ہوں (گا مجھ سے برکت پہنچے گی وہ نفع تبلیغ دین ہے خواہ کوئی قبول کرے یا نہ کرے انہوں نے تو نفع پہنچا ہی دیا) اس نے مجھ کو نماز اور زکوٰة کا حکم دیا جب تک میں (دنیا میں) زندہ ہوں (اور ظاہر ہے کہ آسمان پر جانے کے بعد مکلف نہیں رہے اور یہ دلیل ہے بندہ ہونے کی جیسا کہ دلائل ہیں خصوصیت کے) اور مجھ کو میری والدہ کا خدمت گذار بنایا (اور چونکہ بےباپ پیدا ہوئے ہیں اس لئے والدہ کی تخصیص کی گئی) اور اس نے مجھ کو سرکش بدبخت نہیں بنایا (کہ ادائے حق خالق یا ادائے حق والدہ سے سرکشی کروں یا حقوق و اعمال کے ترک سے بدبختی خریدلوں) اور مجھ پر (اللہ کی جانب سے) سلام ہے جس روز میں پیدا ہوا اور جس روز مروں گا (کہ وہ زمانہ قرب قیامت کا بعد نزول من السماء کے ہوگا) اور جس روز میں (قیامت میں) زندہ کر کے اٹھایاجاؤں گا (اور اللہ کا سلام دلیل ہے خاص بندہ ہونے کی)۔
معارف مسائل
فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ
ان الفاظ سے ظاہر یہی ہے کہ حضرت مریم کو جب غیبی بشارتوں کے ذریعہ اس کا اطمینان ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے بدنامی اور رسوائی سے بچاویں گے تو خود ہی اپنے نومولود بچے کو لے کر اپنے گھر واپس آگئیں۔ پھر یہ ایسی پیدائش کے کتنے دن بعد ہوئی۔ ابن عساکر کی روایت ابن عباس سے یہ ہے کہ ولادت سے چالیس روز بعد جب نفاس سے فراغت و طہارت ہوچکی اس وقت اپنے گھر والوں کے پاس آئیں۔ (روح المعافی)
شَـيْـــــًٔـا فَرِيًّا
لفظ فری عربی زبان میں دراصل کاٹنے اور پھاڑنے کے معنی میں آتا ہے جس کا یا جس چیز کے ظاہر ہونے میں غیر معمولی کاٹ چھانٹ ہو اس کو فری کہتے ہیں۔ ابو حیان نے فرمایا کہ ہر امر عظیم کو فری کہا جاتا ہے خواہ وہ اچھائی کے اعتبار سے عظیم ہو یا برائی کے اعتبار سے۔ اس جگہ بڑی برائی کے معنے میں استعمال ہوا ہے اور اس لفظ کا اکثر استعمال ایسی ہی چیز کے لیے معروف ہے جو اپنی شناعت اور برائی کے اعتبار سے غیر معمولی اور بڑی سمجھی جاتی ہو۔
Ayahs 19:28–29(آیت) يٰٓاُخْتَ هٰرُوْنَ حضرت ہارون ؑ جو حضرت موسیٰ ؑ کے بھائی اور ساتھی تھے حضرت مریم کے زمانے سے سینکڑوں برس پہلے گزر چکے تھے یہاں حضرت مریم کو ہارون کی بہن قرار دینا ظاہر ہے کہ اپنے اس ظاہری مفہوم کے اعتبار سے نہیں ہوسکتا اسی لیے جب حضرت مغیرہ بن شعبہ کو رسول اللہ ﷺ نے اہل نجران کے پاس بھیجا تو انہوں نے سوال کیا کہ تمہارے قرآن میں حضرت مریم کو اخت ہارون کہا گیا ہے حالانکہ ہارون ؑ ان سے بہت قرنوں پہلے گزر چکے ہیں حضرت مغیرہ کو اس کا جواب معلوم نہ تھا جب واپس آئے تو رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا کہ تم نے ان سے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ اہل ایمان کی عادت یہ ہے کہ تبرکا انبیاء علیہہم السلام کے ناموں پر اپنے نام رکھتے ہیں اور ان کی طرف نسبت کیا کرتے ہیں (رواہ احمد و مسلم والترمذی والنسائی) اس حدیث کے مطلب میں دو احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت مریم کی نسبت حضرت ہارون کی طرف اس لیے کردی گئی کہ وہ ان کی نسل و اولاد میں سے ہیں اگرچہ زمانہ کتنا ہی بعید ہوگیا ہو جیسے عرب کی عادت ہے، کہ قبلہ تمیم کے آدمی کو اخاتمیم اور عرب کے آدمی کو اخاعرب بولتے ہیں۔ دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ یہاں ہارون سے مراد ہارون نبی حضرت موسیٰ ؑ کے رفیق مراد نہیں بلکہ حضرت مریم کے اپنے بھائی کا نام ہارون تھا جو تبرکاً حضرت ہارون نبی کے نام پر رکھا گیا تھا اس طرح مریم کو اخت ہارون کہنا اپنے حقیقی مفہوم کے اعتبار سے درست ہوگیا۔
(آیت) مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ ان الفاظ قرآن سے اس طرف اشارہ ہے کہ جو شخص اولیاء اللہ اور صالحین کی اولاد میں ہو وہ اگر کوئی برا کام کرتا ہے تو وہ عام لوگوں کے گناہ سے زیادہ بڑا گناہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے اس کے بڑوں کی رسوائی اور بدنامی ہوتی ہے اس لیے اولاد صالحین کو اعمال صالحہ اور تقویٰ کی زیادہ فکر کرنا چاہیے۔
Ayah 19:30(آیت) اِنِّىْ عَبْدُ اللّٰهِ ، ایک روایت میں ہے کہ جس وقت خاندان کے لوگوں نے حضرت مریم ؑ کو ملامت کرنا شروع کی حضرت عیسیٰ ؑ دودھ پی رہے تھے۔ جب انہوں نے ان لوگوں کی ملامت کو سنا تو دودھ چھوڑ دیا اور اپنی بائیں کروٹ پر سہارا لے کر ان کی طرف متوجہ ہوئے اور انگشت شہادت سے اشارہ کرتے ہوئے یہ الفاظ فرمائے اِنِّىْ عَبْدُ اللّٰهِ یعنی میں اللہ کا بندہ ہوں، اس پہلے ہی لفظ میں حضرت عیسیٰ ؑ نے اس غلط فہمی کا ازالہ کردیا کہ اگرچہ میری پیدائش معجزانہ انداز سے ہوئی ہے مگر میں خدا نہیں خدا کا بندہ ہوں تاکہ لوگ میری پرستش میں مبتلا نہ ہو جائیں
(آیت) اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ وَجَعَلَنِيْ نَبِيًّا ان الفاظ میں حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنی شیر خوارگی کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت اور کتاب ملنے کی خبر دی۔ حالانکہ کسی پیغمبر کو چالیس سال کی عمر سے پہلے نبوت و کتاب نہیں ملتی اس لئے مفہوم اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ طے فرما دیا ہے کہ مجھے اپنے وقت پر نبوت اور کتاب دیں گے اور یہ بالکل ایسا ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے نبوت اس وقت عطا کردی گئی تھی جب کہ آدم ؑ ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے ان کا خمیر ہی تیار ہو رہا تھا اس کا مطلب ظاہر ہے کہ اس کے سوا نہیں کہ عطا نبوت کا وعدہ محمد مصطفے ٰ ﷺ کے لئے قطعی اور یقینی تھا یہاں بھی اسی یقین کو عطا نبوت کے لفظ ماضی سے تعبیر کردیا گیا ہے۔ عطا نبوت کا اظہار کرنے سے ان لوگوں کی بدگمانی رفع کردی گئی کہ میری والدہ پر بدکاری کا الزام لگانا سراسر غلط ہے کیونکہ میرا نبی ہونا اور مجھے رسالت کا ملنا اس کی دلیل ہے کہ میری پیدائش میں کسی گناہ کا دخل نہیں ہوسکتا۔
Ayah 19:31(آیت) وَاَوْصٰىنِيْ بالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ کسی چیز کا حکم جب زیادہ تاکید کے ساتھ کیا جائے تو اس کو وصیت کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں حضرت عیسیٰ ؑ نے اس جگہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نماز اور زکوٰة کی وصیت فرمائی اس کا مفہوم یہی ہے کہ بڑی تاکید سے ان دونوں چیزوں کا مجھے حکم دیا۔
نماز اور زکوٰة، ایسی عبادتیں ہیں کہ آدم ؑ سے لے کر خاتم الانبیاء ﷺ تک ہر نبی و رسول کی شریعت میں فرض رہی ہیں البتہ مختلف شریعتوں میں ان کی تفصیلات اور جزیات مختلف رہی ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی شریعت میں بھی نماز اور زکوٰة فرض تھے۔ رہا یہ معاملہ کہ عیسیٰ ؑ تو کبھی مالدار ہی نہیں ہوئے، نہ گھر بنایا نہ کچھ جمع کیا پھر زکوٰة کا ان کو حکم دینا کس بناء پر ہے ؟ تو اس کا مقصد واضح یہ ہے کہ ان کی شریعت میں قانون یہ بنادیا گیا تھا کہ جس شخص کے پاس مال ہو اس پر زکوٰة فرض ہے، عیسیٰ ؑ بھی اس کے مخاطب ہیں کہ جب کبھی مال بقدر نصاب جمع ہوجاوے تو زکوٰة ادا کریں پھر اگر عمر بھی میں کبھی مال جمع ہی نہ ہو تو اس کے منافی نہیں۔ (روح)
(آیت) مَا دُمْتُ حَيًّا، یعنی نماز اور زکوٰة کا حکم میرے لئے دائمی ہے جب تک زندہ ہوں ظاہر ہے کہ اس سے مراد وہ حیات ہے جو اس عالم دنیا میں زمین پر ہے کیونکہ یہ اعمال اسی زمین پر ہو سکتے ہیں اور یہیں سے متعلق ہیں آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد نزول کے زمانے تک رخصت کا زمانہ ہے۔
Ayahs 19:32–33ډوَځ ا بِوَالِدَتِيْ اس جگہ صرف والدہ کا ذکر کیا والدین کا نہیں، اس میں اشارہ کردیا کہ میرا وجود معجزانہ طور پر بغیر والد کے ہوا ہے اور بچپن کا یہ معجزانہ کلام اس کے لئے کافی شہادت اور دلیل ہے۔
Ayahs 19:34–38خلاصہ تفسیر
یہ ہیں عیسیٰ بن مریم (جن کے اقوال و احوال مذکور ہوئے جس سے ان کا بندہ قبول ہونا معلوم ہوتا ہے نہ جیسے کہ عیسائیوں نے ان کو بندوں کی فہرست سے خارج کرکے خدا تک پہنچا دیا ہے اور نہ ویسے جیسا کہ یہودیوں نے ان کو مقبولیت سے خارج کر کے طرح طرح کی تہمتیں لگائی ہیں) میں (بالکل) سچی بات کہہ رہا ہوں جس میں یہ (افراط وتفریط کرنے والے) لوگ جھگڑ رہے ہیں (چنانچہ یہود و نصاریٰ کے اقوال اوپر معلوم ہوئے اور چونکہ یہود کا قول ظاہراً بھی موجب تنقیص نبی تھا جو کہ بداہتاً باطل ہے اس لیے اس کے رد کی طرف اس مقام پر توجہ نہیں فرمائی بخلاف قول نصارٰی کے کہ ظاہراً مثبت زیادت کمال تھا کہ نبوت کے ساتھ خدا کا بیٹا ہونا ثابت کرتے تھے اس لیے آگے اس کو رد فرماتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ اس میں حق تعالیٰ کی تنفیص بوجہ انکار توحید کے لازم آتی ہے حالانکہ) اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ (کسی کو) اولاد بنائے وہ (بالکل) پاک ہے (کیونکہ اس کی یہ شان ہے کہ) کمال کے واسطے اولاد کا ہونا عقلاً نقص ہے) اور (آپ اثبات توحید کے لئے لوگوں سے فرما دیجئے کہ مشرکین بھی سن لیں کہ) بیشک اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے سو (صرف) اسی کی عبادت کرو (اور) یہی (خالص خدا کی عبادت کرنا یعنی توحید اختیار کرنا (دین کا) سیدھا راستہ ہے سو (توحید پر باوجود ان عقلی اور نقلی دلائل قائم ہونے کے پھر بھی) مختلف گروہوں نے (اس بارہ میں) باہم اختلاف ڈال دیا (یعنی توحید کا انکار کر کے طرح طرح کے مذاہب ایجاد کرلئے) سو ان کافروں کے لئے ایک بڑے (بھاری) دن کے آجانے سے بڑی خرابی (ہونے والی) ہے (مراد اس سے قیامت کا دن ہے کہ یہ دن ایک ہزار سال دراز اور ہولناک ہونے کی وجہ سے بہت عظیم ہوگا) جس روز یہ لوگ (حساب و جزا کے لئے) ہمارے پاس آویں گے (اس روز) کیسے کچھ شنوا اور بینا ہوجائیں گے۔ (کیونکہ قیامت میں یہ حقائق پیش نظر ہوجاویں گے اور تمام تر غلطیاں رفع ہوجاویں گی) لیکن یہ ظالم آج (دنیا میں کیسی) صریح غلطی میں (مبتلا ہو رہے) ہیں، اور آپ لوگوں کو حسرت کے دن سے ڈرائیے جبکہ (جنت دوزخ کا) اخیر فیصلہ کردیا جاوے گا (جس کا ذکر حدیث میں ہے کہ جنت اور دوزخ والوں کو موت دکھلا کر اس کو ذبح کردیا جاوے گا اور دونوں کو خلود (یعنی ہمیشہ ہمیشہ اسی حال میں زندہ رہنے کا حکم سنا دیا جاوے گا، رواہ الشیخان والترمذی، اور اس وقت کی حسرت کا بیحد ہونا ظاہر ہے) اور وہ لوگ (آج دنیا میں) غفلت میں (پڑے) ہیں اور وہ لوگ ایمان نہیں لاتے (لیکن آخر ایک دن مریں گے) اور تمام زمین اور زمین پر رہنے والوں کے وارث (یعنی آخر مالک) ہم ہی رہ جاویں گے اور یہ سب ہمارے ہی پاس لوٹائے جاویں گے (پھر اپنے کفر و شرک کی سزا بھگتیں گے)۔
معارف مسائل
(آیت) ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق یہود و نصاریٰ کے بیہودہ خیالات میں افراط وتفریط کا یہ عالم تھا کہ نصاریٰ نے تو تعظیم میں اتنی زیادتی کی کہ ان کو خدا تعالیٰ کا بیٹا بنادیا، اور یہود نے ان کی توہین و تذلیل میں یہاں تک کہہ دیا کہ وہ یوسف نجار کی ناجزئز اولاد میں ہیں۔ معاذاللہ، حق تعالیٰ نے ان دونوں غلط کاروں کی غلطی بتلا کر اس کی صحیح حیثیت ان آیات میں واضح فرمادی۔ (قرطبی)
قَوْلَ الْحَــقِّ بفتح لام اس کی واضح ترکیب نحوی یہ ہے کہ اقول قول الحق اس کی اصل ہے اور بعض قراءتوں میں قول الحق بضم لام بھی ہے تو اس صورت میں مراد یہ ہوگا کہ عیسیٰ ؑ خود قول حق ہیں جیسا کہ ان کو کلمة اللہ کا لقب بھی دیا گیا ہے کیونکہ ان کی پیدائش بلا واسطہ سبب ظاہری کے صرف اللہ تعالیٰ کے قول سے ہوئی ہے۔ (قرطبی)
Ayahs 19:39–40يَوْمَ الْحَسْرَةِ اس روز کو یوم الحسرت اس لئے کہا گیا ہے کہ اہل جہنم کو تو یہ حسرت ہونا ظاہر ہے کہ اگر وہ مومن صالح ہوتے تو ان کو جنت ملتی اب جہنم کے عذاب میں گرفتار ہیں۔ ایک خاص قسم کی حسرت اہل جنت کو بھی ہوگی جیسا کہ طبرانی اور ابو یعلی نے بروایت حضرت معاذ یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل جنت کو کسی چیز پر حسرت نہ ہوگی بجز ان لمحات وقت کے جو بغیر ذکر اللہ کے گزر گئے۔ اور بغوی بروایت ابوہریرہ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر مرنے والے کو حسرت و ندامت سے سابقہ پڑے گا۔ صحابہ کرام نے سوال کیا کہ یہ ندامت و حسرت کس بناء پر ہوگی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ نیک اعمال کرنے والے کو اس پر حسرت ہوگی کہ اور زیادہ نیک اعمال کیوں نہ کر لئے کہ اور زیادہ درجات جنت ملتے اور بدکار آدمی کو اس پر حسرت ہوگی کہ وہ اپنی بدکاری سے باز کیوں نہ آگیا۔ (مظہری)