Ayah 20:11۔ طہ، ، ابوعمرو نے طاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور ھاء کے کسرہ کے ساتھ۔ حمزہ، کسائی ، ابوبکر نے دونوں کے کسرہ کے ساتھ ذکر کیا ہے اور دوسرے قراء نے دونوں کے فتحہ کے ساتھ پڑھاے۔ بعض نے کہا کہ یہ لفظ قسم ہے بعض نے کہا کہ اللہ کے اسماء میں سے ہے۔ مجاہد عطائ، ضحاک کا قول ہے کہ ، طہ کا معنی ہے اے مرد۔ قتادہ نے کہا کہ سریانی زبان میں اس کا معنی ہے اے مرد۔
کلبی کا قول ہے کہ قبیلہ عک کے محاورے میں، طہ، ، کا ترجمہ ہے اے انسان۔ مقاتل کا بیان ہیے کہ طہ کا معنی ہے زمین کو اپنے دونوں قدموں سے پامال کردو یعنی تہجد کی نماز میں ۔ محمد بن کعب قرظی کا قول ہے کہ یہ قسم ہے جو اللہ تعالیٰ نے اٹھائی ہے۔ سعید بن جبیرؓ کا قول ہے کہ طاء سے طاہر اور ھا سے مراد ھاد ہے۔ کلبی کا بیان ہے کہ جب مکہ میں رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو آپ عبادت میں زیادہ سرگرم رہنے لگے نماز میں طویل قیام کی وجہ سے کبھی ایک پاؤں ٹیکتے اور کبھی دوسرا پاؤں اٹھاتے اور دوسرا ٹیکتے۔ توپہلا اٹھالیتے ، اور رات بھر نماز میں مشغول رہتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور حکم ہوا کہ اپنے نفس کے لیے تخفیف کریں۔
Ayah 20:22۔ ماانزلنا علیک القرآن لتشقی، ، بعض نے کہا کہ جب مشرکین نے آپ کو عبات میں زیادہ مشغول دیکھاتو وہ کہنے لگے ، اے محمد آپ کے اوپر قرآن نازل ہوا ہے آپ کو اس نے مشقت میں ڈال دیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم نے اس قرآن کو آپ کی مشقت کے لیے نازل نہیں فرمایا۔ شقی اصل میں سختی اور تنگی کو کہتے ہیں۔
Ayah 20:33۔ الاتذکرۃ لمن یخشی، ، اس کا نازل ہونا نصیحت ہے جو شخص ڈرا اور بعض نے کہا کہ تقدیری عبارت یوں ہوگی کہ ہم نے اس کو اس وجہ سے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں بلکہ اس لیے نازل کیا کہ اس سے نصیحت حاصل کرے وہ شخص جوڈرے۔
Ayahs 20:4–54۔ تنزیلا، ، تذکرہ کے بدلے میں ذکر کیا ہے۔ ممن خلق الارض، ، اس ذات کی طرف سے ہے جس نے زمین کو پیدا کیا ۔ والسماوات العلی، اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا۔ العلی، جمع ہے علیا کی جیسے کبری جمع ہے کبر کی۔۔
Ayah 20:66۔ لہ مافی السماوات ومافی الارض ومابینھما۔ اس سے مراد ہوا ہے۔ و ماتحت الثری ، ثری سے مراد نمناک جو مٹی کے نیچے ہوتی ہے۔ ضحاک کا قول ہے کہ جو مٹی کے نیچے چھپی ہوئی ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ زمینیں مچھلی کی پشت پر ہیں اور مچھلی سمندر پر اور مچھلی کی دم اور سرعرش کے نیچے باہم مل گئے ہیں۔ سمندر پتھر کی ایک آسمانی رنگ کی چٹان پر ہے۔ یہ چٹان وہی ہے جس کا ذکر حضرت لقمان کے قصہ میں اللہ نے کیا ہے۔ فتکن فی صخرۃ، چٹان بیل کے سینگ پر رکھی ہوئی ہے اور بیل ثری پر قائم ہے اور ثری سے نیچے کیا ہے اسے سوائے اللہ کے اور کوئی واقف نہیں ۔ بیل منہ کھولے ہوئے ہے جب اللہ سمندروں کو ملاکر ایک سمندر کردے گا تویہ سب سمندراس بیل کے منہ کے اندر جاکرپیٹ میں اتر کر خشک ہوجائیں گے۔
Ayahs 20:7–8تفسیر۔
7۔۔ وان تجھر بالقول، ، اگر تم اس کا اعلان کرو گے۔ فانہ یعلم السر واخفی “ ‘۔
سر اور اخفی کی تفسیر۔
حسن کا قول ہے کہ سروہ خفی بات ہے جو آدمی چپکے سے دوسرے سے کہہ دیتا ہے اور اخفی وہ پوشیدہ بات جس کو اپنے دل ہی میں چھپائے رکھتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سعید بن جبیرؓ نے فرمایا سر وہ پوشیدہ بات ہے جو آدمی اپنے دل میں رکھتا ہے اور اخفی وہ بات جو آئندہ اللہ دل میں پیدا کردیتا ہے اور اس وقت تک کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ آئنداللہ کی طرف سے دل میں کیا بات پیدا ہوگی ہم آج جس چیز کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھتے ہیں اس سے تو واقف ہوتے ہیں لیکن کل کو ہمارے دل میں جو کیا بات آئے گی ا س سے ناواقف ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ آج کے پوشیدہ خیال سے بھی واقف ہے اور آئندہ کے جو کچھ ہم دل میں پوشیدہ رکھیں گے اس سے بھی واقف ہے۔
علی بن طلحہ کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول اس طرح آیا ہے ، کہ سر وہ پوشیدہ بات ہے جو آدمی اپنے دل میں چھپائے رکھتا ہے اور اخفی وہ بات ہے جو آدمی کو خود بھی نہیں معلوم کہ وہ آئندہ کیا کرے گا، جب تک کر نہ لے۔ اس کو معلوم نہیں ہوتی۔ مجاہد کا قول ہے کہ سر وہ پوشیدہ کام ہے جس کو تم لوگوں سے چھپاتے ہو اور اخفی سے مراد وہ وسوسہ ہے۔ بعض علماء نے کہا سر سے مراد ہے عزیمت ، کسی بات کا پختہ ارادہ اور اخفی وہ خیال ہے جو دل میں گزرتا ہے مگر اس کا پختہ ارادہ نہیں ہوتا۔ زید بن اسلم نے کہا کہ اللہ پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے اور اپنے بندوں سے ان کو پوشیدہ رکھا ہے کسی کو اپنے اسرار پر واقف نہیں ۔
Ayah 20:99۔ وھل اتک حدیث موسی، ، استفہام تقریری ہے یقینا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ تمہیں پہنچ گیا ہے۔
Ayah 20:1010۔ اذ رای نارا، ، حضرت موسیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے مصر لوٹ کرجانے کی اجازت طلب کی تاکہ اپنی والدہ اور بہن کی زیارت کرسکیں ۔ حضرت شعیب نے اجازت دے دی، آپ اپنی بی بی کے ساتھ چل پڑے، سردی کاموسم تھا بادشاہان شام کے خوف سے آپ عام راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلنے لگے ۔ بیوی ایام سے تھیں، صبح شام کا بھروسہ نہ تھا، راستوں سے واقف نہ تھے صحرا میں بغیر جانے ایک راستے پر چل پڑے، وہ راستہ کوہ طور کے دائیں مغرب جانب جاتا تھا رات کی تاریکی اور فضا ٹھنڈی تھی راستہ میں بیوی کو دردزہ ہونے لگا، آپ نے چقمقاق کو رگڑا اس سے آگ نہیں نکلی، بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ حضرت موسیٰ غیرت مند آدمی تھے چونکہ بی بی ساتھ تھیں اس لیے رفقاء سفر کے ساتھ رات کو چلتے تھے اور دن کو علیحدہ ہوجاتے تھے ایک مرتبہ اتفاقا راستہ بھٹک گئے تاریکی رات تھی اور برف زدہ بھی، چقمقاق کو رگڑا آگ نہیں نکلی نظر اٹھائی تودورآگ روشن دکھائی دی جو طور کی جانب سے راستہ کے بائیں طرف تھی۔
” فقال لاھلہ امکثو، ، آپ یہیں ٹھہرو، حمزہ نے ھا کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ انی انست، کہ میں نے دیکھی ہے۔ نارالعلی اتیکم منھابقبس، آگ کا ایک ٹکڑا لے آؤں، قبس کہتے ہیں کہ آگ کے انگارے کو، آگ کا وہ حصہ جو زیادہ آگ سے حاصل کیا جائے ، اواجد علی النار ھدی، یا میں اس آگ کے پاس کسی سے راستہ کا پتہ معلوم کرلوں۔
Ayah 20:1111۔ فلمااتاھا ، ، جب موسیٰ وہاں پہنچے آپ نے ایک درخت کو دیکھا جو اوپر سے نیچے تک بالکل سبز تھا، اور اس کے گردا گرد شفاف سفید، آگ اس کو گھیرے ہوئے تھی جو بہت زیادہ روشن تھی، نہ درخت کی سبزی آگ کی روشنی اور سفیدی میں مخل آتی نہ آگ کی نورانیت درخت کی سبزی نمایاں ہونے سے مانع تھی، ابن مسعود کا قول ہے کہ درخت کا رنگ گندمی سبز تھا۔
قتادہ اور مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ وہ عوسج کا درخت تھا، اور بعض نے کہا کہ وہ عناب کا درخت تھا، یہیابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے اہل تفسیر یہ کہتے ہیں کہ موسیٰ نے جس کو آگ سمجھا تھا وہ آگ نہ تھی نور تھا، موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو آگ ہی خیال کیا تھا اس لیے اللہ نے بھی اس کو نار ہی فرمایا۔ اکثر مفسرین اس بات کے قائل ہیں کہ وہ نور رب تھا۔ یہ قولابن عباس ؓ، عکرمہ ؓ وغیرہ کا تھا۔ سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے کہ وہ حقیقت میں آگ ہی تھی آگ ہی چہرہ خداوندی کا حجاب ہے جس پر حضرت موسیٰ اشعری کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا اس کا حجاب آگ ہے ۔ اگر اس حجاب آتشیں کو کھول دے تو اس کی تجلی جمال اس تمام مخلوق کو سوختہ کردے جو اس کی حد نگاہ تک ہو۔ اس قصہ میں آیا ہے موسیٰ کچھ خشک گھاس لے کر آگ کی طرف دوڑے تو آگ دور ہوگئی، جس قدر اس کے قریب جاتے تھے وہ اور ہٹ جاتی تھی اور جب موسیٰ پیچھے ہٹ جاتے تھے تو آگ قریب آجاتی تھی ، موسیٰ (علیہ السلام) حیران ہوئے اور کھڑے ہوگئے آپ نے وہاں ملائکہ کی تسبیح سنی اس وقت آپ کے اوپر سکینہ کا القاء ہوا۔ (نودی یاموسی) ۔
Ayah 20:1212۔ انی اناربک ، ، ابوجعفر ، ابن کثیر، ابوعمرو، نے اسی طرح پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے الف کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ کہا گیا کہ حضرت موسیٰ کو فرمایا گیا کہ میں تمہارا رب ہوں وہب کا بیان ہے کہ درخت سے آواز آئی کہ میرا تیرا رب ہوں۔ جب کہا گیا اے موسیٰ ، تو انہوں نے بہت جلدی جواب دیا، وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کو کہاں سے پکارا جارہا ہے۔ کہا میں آپ کی آواز سن رہا ہوں لیکن آپ کی جگہ معلوم نہیں، آپ کہاں ہیں ؟ آواز آئی میں آپ کے اوپر ، آپ کے ساتھ، آپ کے سامنے اور آپ کے پیچھے اور آپ کے نفس کے زیادہ قریب ہوں، اس وقت حضرت موسیٰ کو یقین ہوا کہ یہ اللہ ہے۔ یہ شان تو اسی کی ہے۔
” فاخلع نعلیک، ، اس کا سبب وہ ہے جو ہم نے حضرت ابن مسعود سے مرفوعا نقل کیا ہے بعض نے کہا کہ حضرت موسیٰ کے جوتے مردار گدھے کے چمڑے سے بنے ہوئے تھے ۔ اور ایک روایت میں آتا ہے کہ وہ چمڑا غیر مدبوغ تھا۔ عکرمہ اور مجاہد کا قول ہے کہ ننگے پاؤں ہوجانے کا حکم اس لیے دیا گیا کہ اس پاک زمین کی خاک سے حضرت موسیٰ کے قد م محروم نہ رہیں۔ پاک سرزمین کی برکت حضڑت موسیٰ کے قدموں کو حاصل ہوجائے۔ حضرت موسیٰ نے فورا جوتے اتار کروادی کی دوسری طرف پھینک دیے۔ انک باالواد المقدس طوی، کہ آپ پاک وادی میں ہیں۔ طو ی یہ وادی کا نام ہے ۔ اہل کوفہ اور شام نے ، طوی ، تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اور سورت نازعات میں بھی اور دوسرے قراء نے تنوین کے بغیر پڑھا ہے کیونکہ یہ طاو سے معدول ہوکرآیا ۔ ضحاک کا قول ہے کہ وادی طوی گہری تھی اور طور کی طرح مستدیر تھی۔
Ayah 20:1313۔ وانااخترتک، ، اور ہم نے آپ کی رسالت کو شمار کیا۔ حمزہ نے نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ بطور تعظیم کے ہم نے آپ کو چنا ، فاستمع لمایوحی، ، جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اس کو غور سے سنو۔
Ayah 20:1414۔ اننی انا اللہ لاالہ الاانافاعبدنی، ، میرے علاوہ کسی اور معبود کی عبادت نہ کریں۔ واقم الصلوۃ لذکری، مجاہد کا قول ہے کہ نماز قائم کریں تاکہ اس کے ذریعے سے میری یاد ہو۔ مقاتل کا بیان ہے کہ جب تم نماز چھوڑ دو پھر مجھے یاد کرو، اس کو قائم کرو۔
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا جو شخص نماز سے بھول جائے جب اس کو یاد آئے تو اس کو پڑھ لے ، اس کا کفارہ یہی ہے ، پھر میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے فرمایا، اقم الصلوۃ لذکری، ،۔
Ayah 20:15تفسیر۔
15۔ ان الساعۃ آتیۃ اکاد اخفیھا، ، اس کا معنی یہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے میں اس کے مقررہ وقت کو پوشیدہ رکھوں گا، اکاد صلہ ہے اکثر مفسرین کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ میں اس کو اپنے آپ سے بھی پوشیدہ رکھتا۔ اسی طرح ابی بن کعب کے مصحف میں بھی ہے اور عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں بھی اسی طرح ہے کہ اگر میں اس کو اپنے سے بھی پوشیدہ رکھتا تو مخلوق کو کی سے پتہ چلتا اور بعض قرات میں ہے کہ پھر تمہارے لیے کیسے ظاہر ہوتی۔ عرب کی عادت ہے کہ جب وہ کسی چیز کے پوشیدہ ہونے میں مبالغہ کرتے تو کہتے کہ میں نے اس چیز کو اپنے آپ سے بھی پوشیدہ رکھا، اور اللہ سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہے اور کہا، اکاد میں ارادہ کرتا ہوں آیت کا معنی یہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے میر ارادہ اس کو مخفی رکھنے کا ہے اس کے چھپانے اور پوشیدہ رکھنے میں یہ حکمت ہے کہ جب لوگ اس کے وقو ع کا علم نہیں جانیں گے توہروقت اسی کا خوف ان کے دامن گیر رہے گا۔ حسن نے الف کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اس کا معنی ہوگا کہ میں ظاہر کردوں جیسے کہاجاتا ہے، خفیت الشئی، کہ میں نے اس چیز کو ظاہر کردیا، اخفیتہ ، میں نے اس کو چھپا دیا۔ لتجزی کل نفس بماتسعی، تمہارے عمل کا بدلہ دیں خواہ وہ نیک ہوں یابد۔
Ayah 20:1616۔ فلایصدنک عنھا، قیامت کے بارے میں لوگوں کے مختلف سوالات کی وجہ سے اپنے ایمان سے نہ پھرجانا۔ من لایومن بھا واتبع ھواہ، اللہ کے حکم کے خلاف ، فتردی ، اس کی وجہ سے ہلاک ہوجائیں۔
Ayah 20:1717۔ وماتلک بیمینک یاموسی، ، اس سوال میں یہ حکمت ہے کہ موسیٰ کو مانوس بنانے اور ان کی وحشت کو دور کرنے کے لیے یہ سوال کیا گیا کیونکہ جب اس لاٹھی کو سانپ کی شکل دی جائے گی تو یہ معلوم کرلیں گے کہ یہ عظیم معجزہ ہے عرب کے ہاں بھی بھی یہ عادت تھی کہ کسی کی بات کو پختہ کرنے کے لیے کہاجاتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے تاکہ اس کو بعد میں شک نہ ہوتا کہ اس کے ذریعے سے قلب کی معرفت زبان سے ادا ہو۔
Ayah 20:1818۔ قالھی عصای، ، اس کا بالائی سر دوشاخہ تھا اور نچلی جانب برچھی پیوست تھی، مقاتل نے کہا اس لاٹھی کا نام تبعہ تھا۔ اتوکا علیھا، کہ جب میں چلتا ہوں تو اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور جب میں تھک جاتا ہوں تو اس پر ٹیک لگاکرکھڑا ہوجاتا ہوں۔ واھش بھا علی غنمی، اس کے ذریعے سے میں درخت پر مارتا ہوں اور اس سے سوکھے پتے جھڑتے ہیں جن کو بھیڑ بکریاں کھاتی ہیں،۔ عکرمہ اس کو، اھس، سین کے ساتھ پڑھتے ہیں اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کے ذریعے بکریوں کو چلاتاہوں۔ ھس کہتے ہیں کہ بکریوں کو زجر کرنا۔ ولی فیھا مارب اخری، اس لاٹھی کے ذریعے اور کام بھی سرانجام دیتا ہوں اور منافع بھی اس سے حاصل کرتاہوں۔ مارب ، جمع ماربۃ کی راء کے فتحہ کے ساتھ ۔ مارب سے مراد وہ امور ہیں جو سفر میں استعمال کیے جاتے ہیں ، مثلا اس کے ذریعے سے زاد راحلہ کا لٹکانا اور اس کے ساتھ رسی کا باندھ دینا اور کنویں سے پانی نکالنا اور اس کے ذریعے موذی جانور سانپ اور درندوں کو مارنا، اور اس کے ذریعے سے گرمی میں سرپرچھاؤ کرنا۔
حضرتابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ حضرت موسیٰ اس لاٹھی پر اپنازاد راہ راحلہ اور پانی کا مشکیزہ لٹکایا کرتے تھے اس کے ذڑیعے سے وہ ٹیک لگاکرچلتے اور اس سے اور کام بھی سرانجام دیتے تھے۔ اس لاٹھی کو زمین پر مارتے تھے اور اس سے اس دن کا طعام نکل جاتا اور اس کو گاڑ دیتے تھے اس کے ساتھ اس سے پانی نکلتا، جب اس کو اٹھاتے تھے تو وہ پانی بند ہوجاتا تھا۔ جب حضرت موسیٰ کسی پھل کے کھانے کی خواہش کرتے تو اس کو گاڑتے تو وہ سرسبز ٹہنی بن جاتی اور اس پر پتے لگتے اور پھل لگتے، اور جب پیاس لگتی توکنویں سے پانی نکالنے کے لیی اس لاٹھی کو کنویں میں ڈالتے تو اس لاٹھی میں اس طرح پانی آجاتا جیسے ڈول میں آجاتا ہے۔ پھر اس سے پیتے تھے اور رات کے وقت وہ لاٹھی چراغ کا کام دیتی اور جب کوئی دشمن آجائے تو اس لاٹھی کے ذریعے اس دشمن کو ماردیتے۔
Ayah 20:19تفسیر۔
19۔ قال، ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، القھا یاموسی، اس کو ڈال دے ۔ وہب کا بیان ہے کہ پھینک دینے کا حکم سن کر حضرت موسیٰ سمجھے کہ اس لا تھی کو بھی جوتوں کی طرح پھینک۔
Ayah 20:2020۔ فالقاھا، ، جب حضرت موسیٰ نے اس کو پھینک دیا ، پھر تعمیل حکم کے بعد نظر موڑ کر دیکھا تو کیا، فاذاھی حیۃ، زرد رنگ کا بڑا سانپ، تسع، وہ زمین پر بڑی تیزی سے چل رہا تھا، دوسری جگہ میں اس طرح ذکر کیا گیا، کانھا جان، چھوٹے سانپ کو کہاجاتا ہے جو بہت خفیف الحرکت ہوتا ہیا وردوسری جگہ ارشاد فرمایا، ثعبان، اس کا ترجمہ ہے اژدھا جو سانپوں میں سب سے بڑا ہوتا ہے ۔ لفظ ، حیہ کا اطلاق سانپ پر ہوتا ہے بڑا ہو یا چھوٹا، یامادہ یانر، جان سانپ کی ابتدائی حالت کو کہتے ہیں کہ پھر وہ لاٹھی کی طرح بڑا ہونے لگا پھر وہ بڑھتا گیا اور پھولتا گیا حتی کہ اژدھا بن گیا اور ثعبان انتہائی حالت کی وجہ سے کہا اور بعض نے کہا کہ بڑا جثہ ہونے کے اعتبار سے اس کو ثعبان کہا اور تیزی میں چلنے کی وجہ سے جان کہا۔
محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ نے جب اپنی لاٹھی کو دیکھا تو ان کو بجائے لاٹھی ایک بڑا اژدھا نظر آیا، لا تھی کادوشاخہ سانپ کی دوباچھیں بن گیا تھا، اور لاٹھی کی موٹھ سانپ کی گردن ہوگئی تھی جس کے سر پر بال بھی تھے، انگارے کی طرح اس کی دونوں آنکھیں دہک رہی تھیں، اور اس کے دانتوں کے رگڑنے کی کر کر کی طرح آواز سنائی دے رہی تھی، تیزی کے ساتھ ادھر ادھر دوڑ رہا تھا، بڑی چٹان پر منہ مارتا رہا تھا تو اس کو بھی لقمہ بنالیتا تھا اور بڑے بڑے درختوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتا تھا۔ موسیٰ یہ دیکھ کر پشت پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے لیکن پھر ان کے دل میں اپنے رب کا خیال آیاتوشرمندہ ہوکررک کھڑے ہوگئے آواز آئی۔
Ayah 20:2121۔ قال خذھا، دائیں ہاتھ سے اس کو پکڑ لیجے، ولاتخف سنعیدھا سیرتھا الاولی، ، ہم اس کو پہلی حالت پر لوٹا دیں گے اس کو عصا بنادیں گے ۔ حضرت موسیٰ اس وقت اونی چغہ پہنے ہوئے تھے ، جب حکم ہوا، خذھا، اس کو پکڑ لو تو آپ نے چغہ کا دامن ہاتھ کو لپیٹ کر پکڑنا چاہا، اللہ نے حکم دیا کہ ہاتھ کھول دو ، حضرت موسیٰ نے ہاتھ سے اس کو کھول دیا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ نے ہاتھ پر دامن کا چغہ لپیٹ لیا، تو فرشتے نے کہا، دیکھو آپ کو کس بات کا خوف ہے ؟ اگر اس کے واقع ہوجانے کا اللہ حکم دے دے توکیایہ چغہ اس کو دور کرسکتا ہے ۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا نہیں لیکن میں کمزور ہوں اور میراضعف خلقی ہے اس کے بعد آپ نے ہاتھ کھول کر سانپ کے منہ میں دے دیا، یکدم سانپ لاٹھی بن گیا اور ویسی ہی کھڑی ہوگئی جیسی پہلے تھی اور لاٹھی کا وہ دوشاخہ سراہا، ہاتھ میں آگیا، جس پر سہارا دے کر آپ کھڑے ہوتے تھے، مفسرین کا قول ہے کہ اللہ نے یہ نشان قدرت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس لیے دکھایا کہ جب فرعون کے سامنے موسیٰ یہ معجزہ دکھائیں تو خود خوف زدہ نہ ہوجائیں۔ سیرتھا، منصوب ہے الی کے حذف کے ہونے کے ساتھ۔
Ayah 20:2222۔ واضمم یدک الی جناحک، ، اپنی بغل سے اپنے ہاتھ نکالیں، مجاہد کا بیان ہے کہ اپنے پہلو سے نکالو، جناح آدمی کا بازو بغل کے اندر تک جناح کہلاتا ہے۔ تخرج بیضائ، وہ چمکتا ہوانظر آئے گا، من غیر سوء ، بغیر کسی کے عیب سے سوء سے مراد یہاں برص ہے ، ابن عباس کا قول ہے حضرت موسیٰ کے ہاتھ سے روشن، چمک دار نور برآمد ہوتا تھا، جو دن میں یا رات میں ہر وقت چاند سورج کی طرح جھلکتا تھا، آیۃ اخری، یہ دوسری نشانی ہے آپ کی صداقت پر عصا کے علاوہ۔
Ayah 20:2323۔ لنریک من آیاتناالکبری، ، کبرذکر نہیں کیا، اور بعضنے کہا کہ اس میں اضمار ہے۔ اس کا معنی یہ ہوگا کہ تاکہ ہم اس کے ذریعے سے بڑے بڑے معجزے دکھائیں۔ اس پر حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ حضرت موسیٰ کے ہاتھ پر بڑی بڑی نشانیاں واضح ہوئیں۔
Ayah 20:24تفسیر۔
24۔ اذھب الی فرعون انہ طغی، ، وہ نافرمانی میں حد سے تجاوز کرچکا ہے اس کو میری عبادت کی طرف دعوت دو ۔
Ayah 20:2525۔ قال، ، حضرت موسیٰ نے فرمایا، رب اشرح لی صدری، ، حق کے لیے میرے سینے کو کشادہ کردے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ یہ کہنا چاہتے تھے کہ میں تیرے سوا کسی سے بھی نہ ڈروں۔ بات یہ تھی کہ فرعوں اور اس کے لشکر اور اقتدار کی وہ شان و شوکت تھی کہ حضرت موسیٰ کو بھی اس سے خوف محسوس ہوتا تھا۔ اس لیے آپ نے شرح صدر اور بے خوف ہوجانے کی دعا کی۔
Ayah 20:2626۔ ویسرلی امری، ، فرعون کو تبلیغ و دعوت دینے کے امر میں میری مدد اور آسانی فرما۔ واحلل عقدۃ من لسانی، یہ اس وجہ سے کہ بچپن میں حضرت موسیٰ فرعون کی پرورش میں تھے کہ آپ نے اس کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ مارا اور اس کی داڑھی نوچ ڈالی۔ فرعون نے اپنی بیوی آسیہ سے کہا کہ یہ میرا دشمن ہے میں اس کو قتل کروائے دیتا ہوں۔ آسیہ نے کہا کہ یہ بچہ ہے بےسمجھ، اس کو کچھ اور تمیز نہیں ، اچھے اور برے کو نہیں پہچانتا۔
Ayah 20:2727۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ کی والدہ نے آپ کو دودھ چھڑایاتو واپس لاکر آسیہ کودے دیا۔ چناچہ آپ نے فرعون اور اس کی بیوی کی گود میں پرورش پائی۔ دونوں نے آپ کو بیٹا بنالیا۔ ایک روز فرعون کے سامنے کھیل رہے تھے اور ہاتھ میں چھڑی تھی ، یکدم چھڑی فرعون کے سر پردے ماری۔ فرعون غضباک ہوکرقتل کرنے کا ارادہ کرلیا تھا، آسیہ نے کہا بادشاہ سلامت یہ بےسمجھ بچہ ہے۔ اگر آپ چاہیں تو تجربہ کرلیں۔ چناچہ آسیہ نے دوطشت منگوائے، اس میں ایک کے اندر انگارے بھردیے اور دوسرے میں جواہرات اور یاقوت وغیرہ اور دونوں طشت موسیٰ کے سامنے رکھ دیے۔ موسیٰ نے ہاتھ بڑھا کر جواہرات کے طشت میں ڈالنا چاہا لیکن حضرت جبرائیل نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر انگاروں والے طشت میں ڈال دیا۔ آپ نے انگارا پکڑ کر منہ میں رکھ لیا، جس سے آپ کی زبان جل گئی اور زبان میں گرہ پیدا ہوگئی۔
Ayah 20:2828۔ یفقھواقولی، ، میری اس گرہ کو کھول دیجئے تاکہ وہ مریا کلام سن سکیں۔
Ayah 20:2929۔ واجعل لی وزیرا، ، میرے لیے وزیر اور مددگار بنائیے، من اھلی، وزیر یوازرک سے ہے۔ ایسا وزیر جو میرے ساتھ کچھ بوجھ اٹھائے پھر بیان کیا کہ وہ وزیر کون ہوگا۔
Ayah 20:3030۔ ہارون اخی، حضرت ہارون (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے چار سال بڑے تھے اور وہ فصیح لسان تھے اور خوبصورت تھے سفید رنگ کے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) حضرت آدم کی طرح۔
Ayah 20:3131۔ اشدد بہ ازری، ، اس کے ذریعے سے میری کمر کو مضبوط کردے۔
Ayah 20:3232۔ واشر کہ فی امری، ، میری نبوت اور تبلیغ رسالت میں ہارون کو میرا ساتھی بنادے۔ بعض قراء نے ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے اس کو دعاء اور سوال پر محمول کیا ۔ جیسا کہ ماقبل میں گزرا ہے۔ رب الشرح لی صدری ویسرلی امری،۔
Ayah 20:33تفسیر۔
33۔ کی نسبحک کثیرا۔ کلبی کا قول ہے کہ تسبیح سے نماز پڑھنا۔
Ayah 20:3434۔ ونذکرک کثیر، ، ہم تیری ہی حمد کرتے ہیں اور تیری ثناء کرتے ہیں جن نعمتوں کا ولی بنایا۔
Ayah 20:3535۔ انک کنت بنابصیرا، ، احوال کو جاننے والا ۔
Ayah 20:3636۔ قال اللہ تعالیٰ نے فرمایا، قداوتیت ، تونے عطا کیا۔ سوء لک، وہ تمام اشیاء جن کا میں نے تم سے سوال کیا۔ یاموسی۔
Ayah 20:3737۔ ولقد مننا علیک، ، ہم نے آپ پر نعمت دی۔ مرۃ اخری، یعنی اس سے پہلے ایک اور وقت بعض نے کہا یہ ایک ہی بار مراد ہے۔
Ayah 20:3838۔ اذ اوحینا الی امک ، ، یہ وحی الہام ہے۔ مایوحی ، جو الہام ہوتا ہے ۔ پھر الہام کی تفسیر بیان کی اور آپ پر جو نعمتیں کی ہیں ان کو شمار کیا۔
Ayah 20:3939۔ ان اقذفیہ فی التابوت۔ ہم نے ان کو الہام کیا کہ اس کو تابوت میں ڈال دو ۔ فاقذ فیہ فی الیم، ، اس کو نیل کے سمندر میں ڈال دے۔ فلیلقہ الیم بالساحل، دریا اس کو نہر میں لاڈالے گا یہ امر ہے بمعنی خبر کے ۔ یعنی دریا اس کو لاڈالے گا۔ یاخذہ عدولی وعدولہ، فرعون جو اس کا دشمن ہے اس کو لے لے لگا۔ حضرت موسیٰ کی والدہ نے ایک صندوق لے کر اس کے اندر دھنی ہوئی روئی بچھائی اور موسیٰ کو اس میں رکھ کر سرپوش ڈھانک کر تمام دراڑیں اور شگاف روغن قیر سے بند کرکے صندوق کو نیل میں ڈال دیا، نیل سے ایک نہر نکل کر فرعون کے مکان کے اندر جاتی تھی ، صندوق بہتا بہتا اس شاخ کے اندر چلا گیا، فرعون اپنی بی بی آسیہ کے ساتھ اس وقت نہر کے دہانے پر بیٹھا تفریح کررہا تھا، کہ بہتا ہوا صندوق اندر آگیا، فرعون نے باندیوں اور غلاموں کو حکم دیا کہ اس کو نکال لائیں۔ خادم صندوق کو پکڑ کرلائے، سرپوش کھول کر دیکھا تواندر ایک نہایت شگفتہ رنگ کا خوبصورت بچہ برآمد ہوا۔ فرعون دیکھتے ہی اس پرفریفتہ ہوگیا، اور ایسا بےقابو ہوکرضبط نہ کرسکا، اس آیت میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ والقیت علیک محبۃ منی، ابن عباس کا قول ہے کہ میں نے اس سے محبت کی ۔ پس مخلوق کی نظر میں بھی اس کو محبوب بنادیا۔ عکرمہ کا قول ہے جو بھی اس بچے کو دیکھتا تھا پیار کرنے لگتا تھا۔ قتادہ کا قول ہے کہ موسیٰ کی آنکھوں میں عجیب ملاحت تھی کہ جو بھی آپ کو دیکھتا تھا عاشق اور فریفتہ ہوجاتا ۔ ولتصنع علی عینی، اس کی خوب خدمت کی اور نہگداشت کی ۔ ابوجعفر نے جزم کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 20:4040۔ اذ تمشی اختک، ، ان کا نام مریم تھا۔ ان کی خبر لینے کے لیے ان کے پیچھے پیچھے چلتی تھیں، فتقول ھل ادلکم علی من یکفلہ، ایسی عورت پر جو حضرت موسیٰ کو دودھ پلائے اور اس کو اپنے ساتھ لائے، کیونکہ حضرت موسیٰ کسی عورت کادودھ نہیں پی رہے تھے تو جب انہوں نے ان کی بات سنی تو کہنے لگے کہ ان کو لے آئیں۔ جب حضرت موسیٰ کی والدہ آئیں تو انہوں نے دودھ پلایا تو وہ پینے لگے۔
” فرجعناک الی امک کی تقر عینھا، ، تمہاری ملاقات سے ، ولاتحزن ، تاکہ اس پر غم چلاجائے۔ وقتلت نفسا، ابن عباس عنہما کا قول ہے کہ فرمایا کہ ایک قبطی کافر کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قتل کروادیا۔ کعب احبار کا بیان ہے اس وقت آپ کی عمر بارہ سال کی تھی۔ فنجیناک من الغم، حضرت موسیٰ کو اس کے قتل کرنے کے بعد اللہ کا خوف تھا۔ وفتناک فتونا۔
حضرتابن عباس ؓ عنہمانے اس کا ترجمہ کیا ہے کہ ہم نے آپ کی خوب آزمائش کی ۔ ضحاک اور مقاتل کا بیان ہے کہ ہم نے آپ کی خوب جانچ کرلی۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم نے خالص بنالیا۔ ابن عباس کی روایت ہے کہ جو سعید بن جبیر ؓ نے ان کا قول نقل کیا ہے کہ فتون سے مراد ہے مصیبتوں میں پڑنا، جن سے بالآخر اللہ نے آپ کو نجات عطا فرمادی۔ پہلی مصیبت یہ تھی کہ آپ اس سال ماں کے پیٹ میں آئے جو سال فرعون کی طرف سے نوزائیدہ لڑکوں کے قتل کا تھا۔ دوسری مصیبت یہ تھی کہ آپ کو صندوق میں رکھ کر دریامیں پھینک دیا گیا۔ تیسرا امتحان کا موقع وہ تھا کہ آپ نے ماں کے سوا کسی اور عورت کی پستان منہ میں نہ لی، چوتھا نزول مصیبت وقت وہ تھا کہ آپ نے فرعون کی داڑھی پکڑ لی تھی، اور فرعون نے آپ کو قتل کردینے کا ارادہ کرلیا تھا، لیکن آسیہ کی سفارش سے جب آپ کے پاس طشت میں انگارے اور ایک میں یاقوت لائے گئے اور آپ نے انگارہ پکڑ لیا تھا، پانچویں مصیبت قبطی کو قتل کرنے اور مدین کی طرف بھاگ کھڑے ہونے کی تھی۔
سعید بن جبیر ؓ نے یہ قصہ حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے اس جگہ ، فتناک، کا معنی خلصناک، سے کیا۔ ان مشکلات سے جیسا کہ سونے کو آگ سے پگھلانے سے اس کی ساری کھوٹ دور ہوجاتی ہے ، فتون مصدر ہے، فلبثت ، پھر وہ کچھ عرصہ وہاں ٹھہرے رہے، پھر وہ مصر کی سرزمین سے نکل کر مدین کی طرف آئے وہاں رہے۔
” سنین فی اھل مدین، ، انہوں نے دس سال وہاں بکریاں چرائیں، مدین حضرت شعیب کا شہر تھا اور یہ مصر سے آٹھ کوس دور تھا، وہب کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ حضرت شعیب کے پاس اٹھائیس برس رہے دس سال تو مہر زوجہ کے عوض اور اٹھارہ سال اس کے بعد، آپ کی اولاد وہیں ہوئی۔ چم جنت علی قدر یاموسی، مقاتل کا بیان ہے یہ ہمارا ان کے ساتھ وعدہ ہے اور یہ مقررہ مدت کا وعدہ اللہ کی تقدیر میں تھا۔
محمد بن کعب کا بیان ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے پاس وحی بھیجنے کا اندازہ عمر جو مقرر کردیا گیا تھا تم اس کو پہنچ گئے ۔ انبیاء (علیہم السلام) کے پاس وحی چالیس سال کی عمر میں آتی تھی ، جبکہ ان کے پاس اس عمر سے کم میں سوائے حضرت عیسیٰ سے کسی کے پاس نہیں آئی۔ یہی قول عبدالرحمن بن کیسان کا ہے اور یہ معنی اکثر مفسرین کا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ اور اس کی قدرت یہی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو رسالت چالیس سال کے بعد دیتا ہے۔