Ayah 19:1سورة مریم۔
تفسیر۔
1۔ کھیعص، ، ابوعمرو نے ھاء کے کسرہ اور، ی ، کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن عامر اور حمزہ نے دونوں کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے کسائی ، ابوبکر اور دوسرے قراء نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ یہ قرآن کے ناموں میں سے ایک نام ہے بعض نے کہا یہ سورة کا نام ہے بعض نے کہا یہ قسم ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھائی تھی۔
سعید بن جبیر ؓ نے بیان کیا کہ ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ ، ، کھیعص، ، میں کاف سے مراد مریم، کبیر ہے اور ھاء سے مراد ھاد (ہدایت دینے والا) اوری سے رحیم، عین سے علیم، وعظیم اور صاد سے صادق ۔ کلبی کا بیان ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو کافی ہے اور اپنے بندوں کو ہدایت دینے والا ان کے ہاتھوں پر اس کا ہاتھ، تمام عالم کو جاننے والا اور اپنے وعدہ میں صادق ہے۔
Ayah 19:22۔ ذکر، ، وہ جو ہم آپ کے سامنے ذکر کریں گے ۔ رحمت ربک، اس میں تقدیم و تاخیر ہے ۔ ، ذکرربک، ، تیرے رب کا ذکر، عبدہ زکریا، ان کو اپنی رحمت ملنے کی وجہ سے عہد کہا۔
Ayah 19:33۔ اذ نادی، جب پکارا، ربہ ، محراب سے ، ندآء خفیا، آہستہ آواز کے نصف حصے میں۔
Ayah 19:44۔ ، قال رب انی وھن، جب وہ بوڑھے اور کمزور ہوگئے۔ العظم منی، ہڈیاں بوڑھی ہوگئیں۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد دانتوں کا گرجانا ہے۔ واشتعل الراس، جب سر کے بال سفید ہوگئے۔ شیبا، وہ سفید ہوگیا، ولم اکن بدعائک رب شقیا۔ پہلے زندگی میں جو میں نے تجھ سے دعائیں مانگیں تونے قبول فرمائیں میری دعا کو قبول کرنا تیرا معمولی رہا اس معاملے میں تم نے مجھے رسوا نہیں کیا۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ جب تونے مجھے ایمان کی طرف دعوت دی میں نے تیری دعوت قبول کی، ایمان کو ترک کرکے بدبخت اور نامراد نہیں ہوا۔
Ayah 19:55۔ وانی خفت الموالی، ، موالی چچا کے بیٹوں کو کہتے ہیں یا وہ لوگ جو میرے بعد میری امت کے درستگی کے متولی ہوں گے مجاہد کا بیان ہے کہ اس سے مراد عصبات ہیں۔ ابوصالح کہتے ہیں کہ اس سے مراد کلالہ ہے ۔ کلبی کا قول ہے کہ اس سے مراد ورثہ ہیں۔ ، من وراء ی، میری موت کے بعد۔ ابن کثیر نے ، من وراء ی ، یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے سکون کیساتھ پڑھا ہے ۔ وکانت امرتی عاقرا، جو بچے نہ جنتی ہو۔ فھب لی من لدنک، ، اپنی طرف سے مجھے عطا کیجئے ۔ ولیا، ،
Ayah 19:66۔ ، یرثنی ویرث من ال یعقوب، ، ابوعمرو اور کسائی نے ثاء کے جزم کے ساتھ دعا کے جواب میں فرمایا اور دوسرے قراء نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے حال اور صفت ہونے کی وجہ سے یعنی ، ولیا وارثا، ،۔
وراثت کے متعلق ائمہ کے اقوال۔
وراثت میں مفسرین کا اختلاف ہے حسن ؓ کا قول ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ جو میرے مال اور آل یعقوب کا وارث ہوجوان کا ذمہ دار اور متولی ہو اور خاندان یعقوب کا بھی صحیح متولی ہو۔ بعض نے کہا کہ میراث سے مراد نبوت اور علم کی میراث ہے ۔ اور بعض حضرات نے کہا کہ اس سے مراد احبار کی وراثت ہے کیونکہ حضرت زکریا (علیہ السلام) احبار کے بڑے تھے۔ زجاج کا قول ہے کہ اولی یہ ہے کہ یہاں اس کو محمول کیا جائے غیرمال پر کیونکہ تمام نسل یعقوب کا میراث کا وارث ہوناتوممکن ہی نہیں تھا اور حضرت زکریا (علیہ السلام) نبی برحق تھے آپ (علیہ السلام) کی شان سے بعید تھا۔ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ میں خوف کرتا ہوں اللہ کا دین ان کے ہاتھوں متغیر نہ ہوجائے اور احکام کو تبدیل نہ کریں جس طرح کہ بنی اسرائیلیوں نے اللہ کے احکام کو تبدیل کرکے پھر انبیاء (علیہم السلام) کو بھی قتل کیا میں اپنے رب سے نیک صالح اولاد کا سوال کرتا ہوں جس سے ان کی امت محفوظ و سلامت رہے اور وہ میری نبوت کا وارث ہو اور اس پر عمل کا وارث ہو۔ واجعلہ رب رضیا، ، یعنی تو اس کو اپنا پسندیدہ بنانا اور ان کے قول وعمل کو پسند فرمانا۔
Ayah 19:7تفسیر۔
7۔ ی زکریا انانبشرک ، ، اس میں اختصار ہے ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ نے ان کی دعا کو سن لیا اور فرمایا اے زکریا (علیہ السلام ) ہم آپ کو اس غلام کی خوش خبری دیتے ہیں۔ ، بغلم، اس سے مراد لڑکا ہے۔ ،، اسمہ یحیٰ لم نجعل لہ من قبل سمیا، قتادہ اور کلبی کا بیان ہے کہ اس کا معنی ہم نام ہے اور صراحت کی ہے کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے پہلے کسی کا نام یحییٰ نہیں رکھا۔ سعید بن جبیر (رح) تعالیٰ اور عطاء کا قول ہے کہ اس سے شبیہ اور مثل مراد ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ھل تعلم لہ سمیا، اس کی مثال اور اس کی شبیہ کو جانتے ہو۔ معنی اس کا یہ ہے کہ اس کا کوئی مثل نہیں اس کا کوئی مثل نہیں کیونکہ اس نے نہ کبھی نافرمانی کی اور نہ ہی نافرمانی کا ارادہ کیا اور بعض نے کہا کہ انہوں نے کبھی عورتوں کی طرف میلان نہیں کیا کیونکہ یہ سیدا وحصورا ہیں۔
علی بن ابی طلحہ نے حضرت کا تفسیر قول نقل کیا ہے کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے پہلے کسی بانجھ کے ایسا لڑکا پیدا نہیں ہوا جو حضرت یحییٰ کے مثل ہوتا اور بعض نے کہا کہ جو فضائل حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے اندر موجود تھے وہ فضائل کسی اور نبی میں نہیں تھے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بحیثیت مجموعی تمام گزشتہ انبیاء سے افض (رح) ہوں گے کیونکہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور موسیٰ کلیم اللہ ان سے پہلے گزرچکے تھے جوان سے افضل ہیں۔
Ayah 19:88۔ قال رب انی، ،، وہ کہاں سے آئے گا۔ یکون لی غلام وکانت امرتی عاقرا وقد بلغت من الکبر عتیا، ، انتہاء کی بڑھاپے کو پہنچ چکا ہوں ۔ قتادہ کا قول ہے کہ کیا ہماری ہڈیوں کو واپس جوان کیا جائے گا، جیسے کہاجاتا ہے ، عتا الشیخ یعتو عتیا، جب وہ انتہائی بڑھاپے میں پہنچ جائے تو اس کے اعضاء وغیرہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ عاتی وہ بوڑھا آدمی جس کی ہڈیاں خشکی کی طرف مائل ہوجائیں ، سوکھنے لگیں ، عتا الشیخ، اس بوڑھے کی عمر انتہاء کو پہنچ گئی۔
Ayah 19:99۔ قال کذالک قال ربک ھو علی ھین، بمعنی آسان ہے۔ وقد خلقتک ، حمزہ اور کسائی نے ، خلقناک، پڑھا ہے ۔ نون اور الف کے ساتھ تعظیم کے معنی میں ہے۔ من قبل ، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے پہلے۔ ولم تک شیئا،۔
Ayah 19:1010۔ قال رب اجعل لی اٰیۃ، ، میری بیوی کے حمل کی کوئی نشانی بتلادیجئے۔ قال ایتک الاتکلم الناس ثلاث لیال سویا، ، ایسی حالت میں کہ وہ صحیح سالم ہوگا۔ یعنی کوئی بیماری لاحق نہ ہوگی گونگاپن نہیں ہوگا۔ مجاہد نے کہا کہ کلام سے روکنے والا کوئی مرض نہیں ہوگا، بعض نے سویا کا ترجمہ کیا ہے مسلسل متواتر ، اول ترجمہ صحیح ہے ۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) تین دن تین رات کسی سے بات نہیں کرسکے ، صرف اللہ کا ذکر کرتے تھے۔
Ayah 19:11تفسیر۔
11۔ فخرج علی قومہ من المحراب، ، لوگ مسجد کے باہر منتظر تھے کہ زکریا (علیہ السلام) اندر سے دروازہ کھولیں تو وہ اندر جاکر نماز پڑھیں، اچانک زکریا (علیہ السلام) دروازہ کھول کر باہر آگئے چہرے کا رنگ بدلہ ہوا تھا لوگوں نے کیفیت دریافت کی تو آپ نے اشارے سے ان کو تسبیح وتنزیہہ کا حکم دیا۔ فاوحی الیھم، مجاہد فرماتے ہیں کہ اوحی کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر لکھ دیا۔ ان سبحوہ ، کہ اللہ کے لیے نماز پڑھو، بکرۃ ، صبح کے وقت ، وعشیا، میرے ساتھ۔ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) صبح وشام اپنی قوم پر نکلتے تو وہ ان کو تسبیح وصلوۃ کا حکم دیتے۔ جب ان کی زوجہ کو حمل ہوا تو ان کو بات کرنے سے روکا گیا پھر یہ نماز کا حکم اشارے کے ساتھ کرتے تھے
Ayah 19:1212۔ یایحییٰ ، اس میں حذف کلام ہوا ہے، پورا کلام اس طرح تھا زکریاعلیہ السلام کی بیوی حاملہ ہوگئی، پھر یحییٰ (علیہ السلام) پیدا ہوگئے جب وہ بولنے کے قابل ہوگئے توہم نے ان کو خطاب کیا۔ خذ الکتاب، تورات کو پکڑو، بقوہ، کوشش کے ساتھ۔ واتیناہ الحکم، ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد نبوت ہے ۔ صبیا اور وہ تین سال کے تھے۔ بعض نے کہا کہ حکم سے مراد کتاب کی سمجھ، وہ تورات پڑھتے تھے بچپن میں۔ بعض سلف و صالحین کا قول ہیھ کہ جس نے بلوغت سے پہلے قرآن یاد کرلیا سیکھ لیا وہ ان میں سے شمار ہوگا جن کو بچپن میں حکمت عطا کی گئی۔
Ayah 19:1313۔ وحنانا من لدنا، ، ہماری طرف سے رحمت۔ وزکاۃ ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ زکوۃ سے مراد اخلاص اور فرمانبرداری ہے ۔ حضرت قتادہ ؓ کا قول ہے کہ اس سے عمل صالح مراد ہے ۔ یہی امام ضحاک کا قول ہے ۔ آیت کا معنی ہوگا کہ ہم نے اس کو اپنی طرف سے رحمت عطا فرمائی ، وہ اپنے بندوں پر دل کی نرمی سے پیش آتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو اس کی طاعت کی طرف بلائیں اور ان کے ذریعے لوگوں سے عمل صالح کروائیں۔
کلبی کا بیان ہیے کہ زکوۃ سے مراد محض عطیہ الٰہی جو حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے والدین کو بصورت یحییٰ عطا ہوا تھا، وکان تقیا، وہ اطاعت شعار، طاعت گزار جس نے نہ کبھی گناہ کیا نہ گناہ کا ارادہ کیا۔
Ayah 19:1414۔ وبرا بوالدیہ، ، والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا، ان پر بوجھ بننے والا نہیں تھا بلکہ ان پر احسان کرنے والا۔ ولم یکن جبارا عصیا، اس سے مراد جبار متکبر ہے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ جبار وہ شخص ہے جو شت غضب سے مارتا اور قتل کرتا ہو۔
Ayah 19:1515، وسلام علیہ ، ، ہر دکھ اور اذیت سے اللہ کی طرف سے اس کے لیے سلامتی ہے۔ یوم ولد ویوم یموت ویوم یبعث حیا، سفیان بن عیینہ کا قول ہے کہ انسان کے یہ ہی تین عجیب احوال ہوتے ہیں ۔ ماں کے پیٹ کو چھوڑ کر باہر اس دنیا میں آتا ہے دنیا سے نکل کر دوسرے عالم میں پہنچتا ہے جہاں اس کو وہ اشخاص ملتے ہیں جو اس دنیا میں اس کو کبھی نظر نہیں آئے، زندہ ہوکر میدان حشر میں پہنچے گا اور ایسا میدان اور اجتماع اس نے کبھی نہ دیکھا ہوگا ان تینوں حالات و مقامات میں محفوظ رہنے کی خصوصیت اللہ تعالیٰ نے یحییٰ (علیہ السلام) کو عطا فرمائی۔
Ayah 19:1616۔ واذکر فی الکتاب، ، کتاب سے مراد قرآن مجید ہے ، مریم اذانبذت ، الگ ہوگئیں اور دور ہوگئیں۔ من اھلھا، اپنی قوم سے ، مکاناشرقیا، مکان کے مشرقی حصہ میں ایک جگہ چونکہ سردی کا زمانہ اور سرد دن تھا، اس لیے حضرت مریم (علیہما السلام) مکان کی شرقی جانب سر میں کنگھا کرنے کے لیے بیٹھیں اور بعض نے کہا کہ حیض سے طہارت کا غسل کرنے کے لیے سب سے الگ اور دور چلی گئیں۔ حسن بصری (رح) کا قول ہے کہ اس وجہ سے عیسائی مشرق کی طرف منہ کرکے عبادت کرتے ہیں۔
Ayah 19:17تفسیر۔
17۔ فاتخذت ، ، پس ڈال دیا۔ من دونھم حجابا، ابن عباس کا قول ہے کہ حجاب سے مراد پردہ ہے بعض نے کہا کہ وہ دیوار کی اوٹ میں بیٹھ گئیں ۔ مقاتل کا بیان ہیی کہ وہ پہاڑ کی اوٹ میں بیٹھ گئیں۔ عکرمہ کا قول ہے کہ حضرت مریم (علیہما السلام) مسجد میں رہتی تھیں لیکن ایما حیض میں مسجد سے ہٹ کر اپنی خالہ کے گھرچلی جاتی تھیں اور فراغت کے بعد پھر مسجد میں آجاتی تھیں۔ اتفاقا ایک روز کپڑے اتارے غسل کررہی تھیں کہ حضرت جبرائیل ایک خوش رویے بےریش وبرودت ، روشن چہرہ، گھنگھریالے بال متناسب القامت نوجوان کے بھیس میں آکھڑے ہوئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، فارسلناالیھا روحنا، اس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ فتمثل لھا بشرا سویا، بعض لوگوں نے کہا روح سے مراد حضرت عیسیٰ کی روح ہے جو بشر کی شکل میں آگئی تھی۔ پہلاقول زیادہ صحیح ہے۔ مریم (علیہما السلام) نے حضرت جبرائیل کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا اور ان کو آدمی ہی خیال کیا تو دور سے ہی پکارا۔
Ayah 19:1818۔ قالت انی اعوذ بالرحمن منک ان کنت تقیا، ، اگر تو مومن مطیع ہے سوال یہ ہے کہ فاجر شخص سے تعوذ طلب کیا جاتا ہے پھر حضرت مریم نے کیسے فرمادیا، انی اعوذ بالرمن منک ان کنت تقیا، اس کا جواب دیا گیا یہ اس قول کی طر ہے جیسے کوئی کہنے والا کہے کہ اگر تو مومن ہے تو مجھ پر ظلم نہیں کرو گے اس کا مطلب یہ ہے کہ مناسب ہے کہ تمہارا ایمان ظلم سے مانع ہو۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ مناسب یہ ہے کہ تمہارا تقوی تمہارے لیے فجور سے مانع ہو، خلاصہ جواب کا یہ ہوا کہ اگر تو پرہیزگار بھی ہے تب بھی میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اور اگر پرہیزگار نہیں ہے بدکار ہے تب تو اللہ کی پناہ کی خواستگار بدرجہ اولی ہوں۔
Ayah 19:1919۔ قال، حضرت مریم (علیہما السلام) کو جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا، انما انارسول ربک لاھب لک، نافع اور اہل بصرہ کی یہی قرات ہے ۔ لیھب لک، تاکہ تجھے تیرے رب کی طرف سے ہبہ کرووں۔ دوسرے قراء نے ، لاھب لک، پڑھا ہے فعل کی نسبت رسول کی طرف کی ہے ، اللہ کی طرف ہبہ کی نسبت اسلیے کہ کیونکہ فرشتہ اللہ کی طرف سے بھیجا گیا تھا، غلاما زکیا، نیک صالح لڑکا جو گناہوں سے پاک ہے۔
Ayah 19:2020۔ قالت، حضرت مریم (علیہما السلام) نے کہا، انی، وہ کہاں سے آئے گا، یکون لی غلام ولم یمسسنی بشر، مجھے کسی بشر نے نہیں چھوا، یعنی میرا کوئی شوہر نہیں ہے جس نے میری قربت کی ہو۔ ولم اک بغیا، اور نہ میں گناہ گار عورت ہوں ۔ حضرت مریم کی مراد یہ تھی کہ لڑکے کا ہونا یاتونکاح کی وجہ سے ہوتا ہے یابرے کام سے جبکہ یہاں دونوں نہیں۔
Ayah 19:2121۔ قال، ، حضرت جبرائیل نے جواب دیا، کذالک، بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اے مریم ! جس طرح آپ کہتی ہو اسی طرح ہوگا لیکن ، قال ربک، تمہارے رب نے کہا، ھو علی ھین، کہ وہ بغیر باپ کے پیدا کرنا میرے لیے آسان ہے۔ ولنجعلہ ایۃ۔ علامت بنادیں گے ، للناس، جو ہماری قدرت پر دلالت کرنے والی ہوگی۔ ورحمۃ منا، اور نعمت بنادیں گے جو اس کے دین کی تابعداری کرے گا، وکان، اور یہ کام ، امرامقضیا، یہ فیصلہ ہوچکا اور لوح محفوظ میں لکھ دیاجاچکا نہ اس کام کو رد کیا جائے گ اورنہ ہی تبدیل کیا جائے گا۔
Ayah 19:2222۔ فحملتہ، ، بعض حضرات کا قول ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کرتے کے گریبان کو چٹکی سے پکڑ کر کھینچا اور پھر گریبان پر پھونک مار دی ، جب انہوں نے وہ کرتا پہنچا تو وہ حاملہ ہوگئیں، اور بعض نے کہا کہ حضرت مریم کے دوپٹہ کو انگلی سے پکڑ کر کھینچا اور اس پر پھونک ماردی بعض نے کہا کہ قمیص کی آستین میں پھونک ماری بعض نے کہا کہ حضرت مریم علیہماالسلام کے منہ میں پھونک ماری اور بعض حضرات نے کہا کہ حضرت جبرائیل نے دور سے ان کے گربیان میں پھونک ماردی۔ فانتبذت بہ، جب وہ حاملہ ہوگئیں توحمل کو لیے ہوئے گھر سے دور چلی گئیں، مکانا قضیا، اپنے گھروالوں سے دور ہوگئیں۔ ابن عباس کا قول ہے کہ وادی بیت المقدس کے آخری حصے میں چلی گئیں تاکہ لوگ بدنام نہ کریں تہمت سے بچنے کے لیے وہ سب سے علیحدہ چلی گئیں ۔ ان کے مدت حمل اور وضع حمل میں آئمہ کے مختلف اقوال ہیں۔
ابن عباس کا قول ہے کہ حمل اور ولادت ایک ہی گھڑی میں ہوئی۔ بعض کا قول ہے کہ ان کی مدت حمل نوماہ ہوئی جیسے عام عورتوں کی مدت حمل ہوتی ہے۔ اور بعض نے کہا کہ آٹھ ماہ حمل کی مدت رہی ، دوسری آیت میں ہے کہ کوئی بچہ اپنی ماں کے پیٹ آٹھ ماہ زندہ نہیں رہتا، صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) زندہ رہے۔ اتن مدت میں حضرت عیسیٰ اپنی والدہ کے پیٹ میں آٹھ ماہ زندہ اور پیدا ہوئے۔ بعض نے چھ ماہ کا قول نقل کیا ہے۔ مقاتل بن سلیمان کا قول ہے کہ وہ ایک ساعت میں حاملہ ہوئیں ۔ دوسری ساعت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی صورت بنی اور تیسری ساعت میں زوال کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوگئے اس وقت حضرت مریم (علیہما السلام) کی عمر دس سال تھی اور حاملہ ہونے سے پہلے دو بار حیض ہوچکا تھا۔
Ayah 19:23تفسیر۔
23۔ فاجاء ھا، ، درد ولادت نے ان کو مجبور کیا اور ان کو لے آیا۔ المخاض، ولادت کا درد، الی جذع النخلہ، یہ کھجور کا درخت صحرا میں سخت گرمی کی وجہ سے خشک کھڑا تھا اور اس پر کوئی پتہ وغیرہ نہ تھا کہ جس سے سایہ حاصل کرسکیں اور بعض نے کہا کہ درد ا کو لے آیا۔ درخت کے ایک تنے کی طرف تاکہ وہ اس کے ساتھ سہارا بھی لگائیں اور اس سے پردہ بھی کریں۔ قالت یالیتنی مت قبل ھذا، وہ موت کی تمنا کرنے لگیں لوگوں سے حیا کرنے کی وجہ سے اور رسوائی کے خوف سے، وکنت نسیا، حمزہ اور حفص نے (نسیا) نون کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ دوسرے قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس میں دونوں لغتیں جیسے وتر، اور وتر، جسر، جسر، وہ چیز جو بھولی جاچکی ہو، لغت میں نسی وہ چیز جو پھینک دی گئی اور حقیر ہونے کی وجہ سے قابل ذکر نہ ہو۔ منسیا، چھوڑی ہو (بھولی بسری) ایسی چیز جو نہ پہچانی جائے اور نہ ہی اس کا تذکرہ کیا جائے۔ عکرمہ اور ضحاک کا قول ہے اور مجاہد کا قول ہے کہ مردار جو پھینک دیا گیا ہو۔ بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کاش ! میں پیداہی نہ ہوتی۔
Ayah 19:2424۔ فناداھا من تحتھا، ، ابوجعفر، نافع، حمزہ اور کسائی نے ، من تحتھا، کے میم وتاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ حضرت مریم علیہماالسلام ایک ٹیلہ پر تھیں اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ٹیلے سے پیچھے نشیبی جانب سے حضرت مریم کی بےصبری اور بے قراری سن کر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آواز لگائی غمگین نہ ہو۔
بعض حضرات نے کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب حضرت مریم کے بطن سے پیدا ہوئے اس وقت حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آواز لگائی ، الاتحزنی، یہ قول مجاہد اور حسن کا ہے۔ اول قولابن عباس ؓ عنہماکا ہے یہی قول امام سدی ، قتادہ، ضحاک کا بھی ہے اور ایک جماعت کا قول ہے کہ جب حضرت مریم علیہماالسلام کی جزع فزع سنی۔ اس وقت حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آواز لگائی کہ غمگین نہ ہو۔ قد جعل ربک تحتک سریا، والسری چھوٹی نہر کو کہتے ہیں۔ اور بعض نے کہا کہ اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ اگر تو حکم دے گی توچشمہ جاری ہوجائے اور رکنے کا حکم دے گی تورک جائے گا۔
حضرتابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ حضرت جبرائیل نے زمین پر اپنا پاؤں مارا جس سے شیریں پانی کا چشمہ برآمد ہوگیا اور بہنے لگا اور بعض حضرات نے کہا کہ وہاں پر خشک نہر تھی ، اللہ نے اس نہر کا جاری کردیا اور اس نہر کی وجہ سے خشک کھجور کا درخت تروتازہ ہوگیا اور پھل دار ہوگیا حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ حضرت عیسیٰ سری تھے یعنی عالی قد سردار تھے۔
Ayah 19:2525۔ وھزی الیک، ، حضرت مریم کو کہا گیا کہ وہ اس کو حرکت دیں۔ بجذع النخلہ، عرب کہتے ہیں کہ، ھزہ وھزبہ، جیسا کہاجاتا ہے ، حز راستہ وحزبراسہ، اس نے سرہلایا اور اس نے اپنے سر کو جھکایا، تساقط علیک، تاء کے فتحہ کے ساتھ معروف قرات ہے ، تاء اور کاف کے فتحہ کے ساتھ اور سین کی تشدید کے ساتھ۔ یہ اصل میں ، تتساقط یہاں پر دوتائیں میں ادغام کیا۔ مطلب یہ ہوگا کہ اس کھجور کے تنے کو ہلاؤ گی تو اس سے تر کھجور گریں گی ، حمزہ نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور تاء کو حذف کیا ہے ۔ حضرت حفص نے تاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور قاف کے کسرہ کے ساتھ، تفاعل کے وزن پر اس صورت میں تساقط بمعنی ، اسقط کے ہوگا، اس میں تانیث نخلہ کے مونث ہونے کی وجہ سے ہے۔ یعقوب نے (یساقط) پڑھا ہے یاء کی تشدید کے ساتھ اس صورت میں یہ جذع کی طرف راجع ہوگی۔ رطبا جن یا، بمعنی مجنیا کے معنی میں ہے بعض نے کہا جنی اس کو کہتے ہیں کہ جو انتہائی درجہ تک پہنچ جائے ۔ ربیع بن خیثم کا قول ہے۔
Ayah 19:2626۔ فکلی واشربی، ، اے مریم ! ان تر کھجوروں سے کھاؤ اور اس پانی کی نہر سے پیو۔ قری عینا، اس سے اپنے آپ کو خوش کر بعض نے کہا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کر۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے ، قر اللہ عینک، اللہ تیری آنکھ کو قرار دے۔ یعنی آنکھ کو صاف رکھے یا اللہ تیرے دل کو قرار دے خوش کرے اور خوش کن مناظردکھائے بعض نے کہا کہ تمہیں اللہ اس سے سلادے۔ کہاجاتا ہے کہ ، قر یقرا ذاسکن ، جب آنکھ سے خوشی کے آنسو نکلتے ہیں توٹھنڈے ہوتے ہیں اور اور غمی کے آنسو گرم ہوتے ہیں۔ بعض نے کہا اللہ نے ان کی آنکھ ٹھہرا دی یعنی سلادیا۔ فاماترین من البشر، احد، اس پر نون تاکید داخل ہوگیا تویاء کو کسرہ دے دیا۔ التقاء ساکنین کی وجہ سے ، فقولی، انی نذرت للرحمن صوما، اس سے مراد خاموش رہنا ہے۔ حضرت ابن مسعود عنہماکابیان ہے کہ صوم لغت میں مطلق رکنے کو کہتے ہیں کھانے پینے اور کلام سے۔ سدی کا قول ہے کہ بنی اسرائیل میں جو لوگ زیادہ مجاہدہ کرتے تھے وہ جس طرح روزہ میں کھانا نہیں کھاتے تھے کلام بھی کسی سے نہیں کرتے تھے شام تک خاموش رہتے تھے۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مریم کو یہ بات اشارہ سے کہنے کا حکم دیا تھا بعض حضرات نے کہا زبان سے صرف اتنی ہی بات کہنے کا اللہ کی طرف سے حکم ہوگا تھا اس کے بعد خاموش رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ فلن اکلم الیوم انسیا، کہاجاتا ہے کہ حضرت مریم ملائکہ سے بات کرتی تھی انسان سے بات نہیں کرتی تھی۔
Ayah 19:2727۔ فاتت بہ قومھا تحملہ، ، بعض نے کہا ولادت کے بعد فورا حضرت عیسیٰ کو اٹھائے قوم والوں ک پاس آحضرت مریم آئی تھیں۔ حضرت کلبی کا بیان ہے کہ یوسف نجار نے حضڑت مریم اور ان ک بیٹے عیسیٰ کو ایک غار میں لے جاکررکھ تھا وہاں آپ چالیس دن تک رہیں جب ایام نفاس ختم ہوگئے توعیسی (علیہ السلام) کو لے کرنکلیں راستے میں حضرت حضرت عیسیٰ نے کہا ، اماں تم کو بشارت ہو میں اللہ کا بندہ اور مسیح ہوں، جبوہ حضڑت عیسیٰ کو اٹھائے ہوئے قوم والوں کے پاس پہنچیں ، وہ لوگ بڑے دیندار اور نیکو کار تھے۔ مریم (علیہما السلام) کے پاس بچے کو دیکھ کر اتنے رنجیدہ ہوئے کہ رو پڑے اور ان کے گھر والے صالحین میں سے تھے۔
قالو یا مریم لقد جت شیئا فریا، ، بڑامنکر کام۔ ابوعبیدہ کا قول ہے کہ کلام ہو یا عمل جو بھی فائق ہو یا عجیب ہو اس کو فری کہاجاتا ہے ۔ آپ ﷺ نے حضرت عمر کے متعلق فرمایا ، فلم اری عبقریا یفری فریہ، کہ میں نے کوئی کامل حاذق ایسا نہیں دیکھا جو عمر کے عمل کی طرح عجیب تعجب آفریں عمل کرتا ہو۔
Ayah 19:2828۔ یا اخت ہارون، مراد اس سے حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ تشبیہ دینا ہے۔
یا اخت ہارون سے کون مراد ہیں ؟
قتادہ کا قول ہے کہ بنی اسرائیل میں ہارون بہت نیک صالح شخص تھا۔ روایت میں آتا ہے کہ جب یہ نیک صالح شخص مراتو اس کے جنازے میں چالیس ہزار ہارون نام کے شامل ہوئے دوسرے لوگوں کے علاوہ، حضرت مریم علیہماالسلام بھی بڑی عبادت گزار تھیں، نیکی اور عبادت کی وجہ سے ا ن لوگوں نے مریم کو ہارون کو بہن کہہ دیا۔ نسبی بہن مراد نہیں جس طرح اللہ نے ، ان المبذرین کانو اخوان الشیاطین، فرمایا ہے اور فضول مال برباد کرنے والوں کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے یعنی شیطانوں کی طرح نہ کہ شیطان کانسبی بھائی۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ کا بیان ہے کہ جب میں خراسان پہنچا تو اہل خراسان نے مجھ سے کہا کہ تم قرآن میں ، یا اخت ہارون ، پڑھتے ہو حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا زمانہ عیسیٰ سے اتنا اتنا یعنی بہت مدت پہلے کا تھا میں نے یہ بات رسول اللہ سے دریافت کی حضور نے فرمایا وہ لوگ اپنے انبیاء اور گزشتہ نیک لوگوں کے ناموں پر اپنا نام رکھتے تھے۔
کلبی کا بیان ہے کہ حضرت مریم کے علاتی بھائی کا نام ہارون تھا۔ بنی اسرائیل میں وہ بہت ہی بزرگ اور نیک آدمی تھا سدی کا قول ہے کہ اخت ہارون کہنے سے ان کی مراد تھی حضرت موسیٰ کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کی نسل میں سے ہونا ہے ۔ تمیم کے قبیلہ کے فرد کو اخو تمیم کہاجاتا ہے بعض نے کہا کہ بنی اسرائیل میں ایک بڑا بد چلن آدمی تھا جس کا نام ہارون تھا، ماکان ابوک، اس سے مراد حضرت عمران ہیں، امرا سوء ، ابن عباس کا قول ہے کہ اس کا معنی زانیا ہے۔ وماکانت امک، ماں سے مراد حضرت حنا ہیں، بغیا، اس سے مراد زانی ہے تو یہ بچہ کہاں سے لائی ہو۔
Ayah 19:29تفسیر۔
29۔ فاشارت ، ، حضرت مریم نے اشارہ کیا، الیہ، حضرت عیسیٰ کی طرف تاکہ وہ کلام کریں، حضڑتابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ حضرت مریم کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی، اس لیے حضرت عیسیٰ کی طرف اشارہ کیا تا کہ عیسیٰ علیہا لسلام کا کلام سن کر ان کی صداقت کی دلیل بن جائے ۔ روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت مریم نے حضرت عیسیٰ کی طرف اشارہ کیا تو قوم والے غصہ ہونے لگے اور کہنے لگے کہ ایک تو تم نے جرم کیا اور دوسرا ہمارے ساتھ مذاق کررہی ہو۔ پھر فرمایا، قالو کیف نکلم من کان فی المھد صبیا، آپ کی گود میں کون ہے ؟ مہد سے مراد گود ہے ۔ کام بمعنی ھو کے ہے۔ ابوعبیدہ کا قول ہے کہ کان صلہ ہے مطلب یہ ہوگا کہ بچہ گود میں کیسے کلام کرے گا۔ بعض جگہ آیا ہے کلام میں یہ زائد معنی کا اعتبار ہے ، اس کا کوئی معنی نہیں ۔ جیسا کہ ان کا قول، ھل کنت الابشرا رسولا، اس کا مطلب ہے ، ھل انا، کیا می ہوں، سدی کا قول ہے کہ جب حضرت مریم نے ان کا کلام سنا تودودھ پینا چھوڑ دیا اور قوم کی طرف رخ کرکے بول اٹھے اور بعض روایات میں آتا ہے کہ جونہی حضرت مریم نے حضرت عیسیٰ کی طرف اشارہ کیا تو آپ نے فورا منہ پستان سے ہٹالیا اور بائیں طرف کو ذرا سہارا لے کر قوم کی طرف متوجہ ہوکر دائیں ہاتھ سے اشارہ کیا۔
Ayah 19:3030۔ قال انی عبداللہ، وہب نے کہا جب حضرت مریم کی قوم سے گفتگو ہورہی تھی تو حضرت زکریا (علیہ السلام) آگئے اور حضرت عیسیٰ سے فرمایا گر تجھے حکم دیا گیا ہے تو اپنی دلیل بیان کر اوربول اس پر حضرت عیسیٰ بول اٹھے اس وقت آپ چالیس دن کے تھے۔ حضرت مقاتل کا بیان ہے کہ پیدا ہوتے ہی آپ نے اپنی عبدیت کا اظہار کیا اور سب سے پہلا کلام یہی کیا تھا تاکہ لوگ آپ کو الہ نہ سمجھنے لگے۔
اتانی الکتاب وجعلنی نبیا۔ بعض حضرات نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ہم آپ کو عنقریب کتاب دیں گے اور آپ کو اپنا نبی منتخب کریں گے بعض نے کہا یہ وہ خبر ہے جو لوح محفوظ میں لکھی گئی ہے جیسے رسول اللہ سے جب دریافت کیا گیا کہ آپ نبی کب ہوئے تو آپ نے فرمایا میں اس وقت نبی تھا جب آدم روح اور جسم کے درمیان تھے۔ اکثر علماء کے نزدیک اس سے مرادانجیلے کہ بچپن میں ہی آپ کو انجیل عطا کردی گئی تھی جب کہ آپ مردانہ عقل کی حد تک پہنچے بھی نہ تھے۔ اور حسن (رح) کا قول ہے کہ ان کو تورات اس وقت عطا کی گئی تھی جب یہ اپنی والدہ کے پیٹ میں تھے۔
Ayah 19:31تفسیر۔
31۔ وجعلنی مبارکا اینما کنت، جس طرح آپ متوجہ ہوں گے اس جانب کو ہم آپ کے لیے نافع بنادیں گے۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس سے معلم خیرہونا مراد ہے۔ عطاء نے کہا اللہ کی توحید و عبادت کی طرف بلانے والا، بعض نے کہا مجھے اللہ نے ان لوگوں کے لیے جو میری پیروی کریں مبارک بنایا ہے۔ واوصانی بالصلاۃ والزکاۃ ، مجھے ان دونوں کا حکم دیا گیا۔
سوال : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس مال نہیں تھا پھر زکوۃ کا حکم کیسے دے دیا ؟
جواب نمبر 1۔ بعض حضرات نے کہا اگر آپ مال دار ہوتے تو پھر زکوۃ ہوگی۔ 2۔ آپ کو زکوۃ کا حکم دیا گیا مطلب یہ ہے کہ آپ اس کا حکم آگے جاری کریں۔ جو صاحب استطاعت ہوں وہ اپنی زکوۃ نکالیں۔ 3۔ بعضنے کہا زکوۃ سے مراد اس جگہ مالی زکوۃ نہیں بلکہ بکثرت بھلائی کرنا مراد ہے۔ ، مادمت حیا،۔
Ayah 19:3232۔ وبرابوالدتی، ، اور مجھے اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے والا بنا۔ ولم یجعلنی جباراشقیا، اور اپنے رب کا نافرمان نہ بنا، اور بعض نے کہا کہ شقی وہ ہے جو گناہ تو کرے لیکن توبہ نہ کرے۔
Ayah 19:3333۔ والسلام علی یوم ولدت۔ پیدائش کے وقت شیطان کی چونک سے محفوظ رہے۔ ویوم اموت، اور موت کے وقت شرک سے حفاظت کروں گا، ویوم ابعث، حیا، اور اٹھائے جانے والے ھول سے حفاظت کروں گا۔ جب حضرت عیسیٰ نے کلام کیا تو اس کلام کے بعد سب لوگ سمجھ گئے کہ مریم گناہ سے پاک ہیں۔ اس کے بعد عیسیٰ خاموش ہوگئے اور عمر تک کوئی بات نہیں جس عمر تک معمولا بچے بات نہیں کرتے۔
Ayah 19:3434۔ ذالک عیسیٰ ابن مریم، ، زجاج کا قول ہے کہ حضرت عیسیٰ نے کہا، انی عبداللہ ، عیسیٰ بن مریم۔۔۔۔ قول الحق، ، ابن عامر عاصم، یعقوب نے لام کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ نصب مصدر کی وجہ سے ہے۔ بعض نے کہا کہ اس نے حق کہا، الذی فیہ یمترون، اس کا معنی ہے اس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، کہنے والے نے کہا نعوذ بااللہ وہ اللہ کا بیٹا ہے اور بعض کہنے والوں نے کہا وہ نعوذ بااللہ اللہ ہے اور بعض نے نعوذ بااللہ کہا کہ وہ ایک جادوگر ہے اور دوسرے قراء نے لام کے رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی وہی حق ہے ۔ قول کی اضافت حق کی طرف کردی۔ جیسے کہاجاتا ہے ، حق الیقین، ووعد الصدق، ، اور بعض نے کہایہ حضرت عیسیٰ کی صفت ہے یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا کلمہ برحق ہیں۔ وہ جس میں لوگ شک کرتے ہیں اور اس میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور وہ اس کو ناحق سمجھتے تھے پھر اپنے سے ولد کی نفی کرتے ہیں ، پھر فرماتے ہیں۔
Ayah 19:3535۔ ماکان للہ ان یتخذ من ولد، ، اللہ کے لیے کسی طرح زیبا نہیں کہ وہ اپنے لیے کوئی اولاد اختیار کرے بعض حضرات نے کہایہ لام منقول ہے ، ای ماکان للہ ان یتخذ ولدا،۔۔ سبحانہ اذاقضی، جب وہ کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے ، فانما یقول لہ کن فیکون۔
Ayah 19:3636۔ وان اللہ ربی وربکم۔ اہل حجاز اور ابوعمرو نے ، ان اللہ، الف کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں یہ ماقبل جملہ کی طرف لوٹے گا۔ واوصانی بالصلوۃ والزکوۃ ، اور اس وجہ سے کہ اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ۔ اہل شام کوفہ ، یعقوب نے الف کے کسرہ کے ساتھ جملہ مستانفہ نقل کیا ہے۔ فاعبدوہ ھذاصراط مستقیم، ،۔
Ayah 19:3737۔ فاختلف الاحزاب من بینھم، اس سے مراد یہودی و عیسائی ی انصاری کے تینوں فرقے مراد ہیں، عیسائیوں کے تین بڑے فرقے ہیں ۔ نسطوریہ، ملکانیہ، یعقوبیہ، فویل للذین کفرو من مشھد یوم عظیم، یوم سے قیامت کا دن مراد ہے۔
Ayahs 19:38–39تفسیر۔
38۔ اسمع بھم وابصر، ، وہ قیامت کے دن اس طرح ہوں گے گویا کہ انہوں نے نہ کچھ سنا اور نہ دیکھا جب ان کو نہ کوئی سننا فائدہ دے گا اور نہ ہی دیکھنا کہ وہ آخرت میں سنتے اور دیکھتے ہیں جو انہوں نے نہ دنیا میں سنا ہوگا اور نہ ہی آخرت میں ۔ کلبی کا بیان ہے کہ قیامت کے دن کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہوگا وہ یہ کہہ دے کہ نہ انہوں نے سنا اور نہ ہی دیکھا جب اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) سے کہیں گے ، ا انت قلت للناس ۔۔ یوم یاتوتنا لکن الظالمون الیوم فی ضلال مبین، یہ کھلی گمراہی میں پڑے رہے۔ وانذرھم یوم الحسرۃ اذ قضی الامر ، ، یہ حسرت اس وقت ہوگی جب اہل جنت جنت میں چلے جائیں گے اور دوزخی دوزخ میں اور موت کو ذبح کردیاجائے گا۔
قیامت کے دن موت کو مینڈھے کی شکل میں ذبح کیا جائے گا۔
حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا موت کو چت کبرے مینڈھے کی شکل میں لایاجائے گا۔ پھر ایک منادی پکارنے والا کہے گا، اے اہل جنت، جنت والے سراٹھا کر جھانک کر دیکھیں گے منادی کہے گا کہ کیا اس کو پہچانتے ہو اہل جنت کہیں گے ہاں یہ موت ہے پھر سب کی نظروں کے سامنے اس کو ذبح کردیاجائے گا۔ اور منادی کہے گا اے جنت والو دوامی زندگی ہے موت نہیں پھر وہی منادی دوزخیوں کو پکارے گا دوزخ والو، تم کو یہاں ہمیشہ رہنا ہے موت نہیں آئے گی۔ اس کے بعد حضور نے یہ آیت ، وانذرھم یوم الحسرۃ اذ قضی الامر، تلاوت فرمائی۔
اوراعمش نے اسی اسناد کے ساتھ اور زیادہ نقل کی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ جنت میں رہنے والوں کے لیے اگر یہ خوش خبری سنا دیں کہ وہ کبھی نہ مریں گے اور ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے تو وہ خوشی کے ساتھ مرجاتے اور اگر ہل جہنم کے لیے اللہ تعالیٰ فرمادیتے کہ تمہاری بقاء اور ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہنا ہوگاتو پھر یہ افسوس کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔ حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ جب اہل جنت میں جنت والے چلے جائیں گے اور دوزخی دوزخ میں چلے جائیں گے تو موت کو جنت و دوزخ کے درمیان لایاجائے گا، پھر اس کو ذبح کیا جائے گا، آواز دینے والاآواز لگائے گا کہ اے جنتیو تمہیں اب موت نہیں آئے گی اور اہل دوزخ والے تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی ، اس اعلان کی وجہ سے اہل جنتیوں کی خوشیوں میں اضافہ ہوگا اور دوزخیوں کے غم میں اضافہ ہوگا۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی جنتی اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوگا جب تک وہ جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ نہ لے۔ تاکہ وہ اگر گناہ گار ہوتا تو اس کے لشکر میں مزید اضافہ ہو۔ اور جو شخص جہنم میں جائے گا تو اس کو دوزخ میں جانے سے پہلے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھایا جائے گا، تاکہ اس کو معلوم ہوجائے کہ اگر وہ نیکی کرتا (تو اس کو یہ ملتا) اس کو اس پر حسرت ہوگی۔
حضرت یحییٰ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابی سے کہا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ ہر مرنے والے کو پشیمانی ضرور ہوگی۔ صحابہ نے عرض کیا کیسی پیشمانی ؟ فرمایا اگر وہ نیکو کار تو اس کو اس بات کی پشیمانی ہوگی کہ اس نے اس سے زیادہ نیکی کیوں نہ کی، اور بدکار کو اس بات کی پشیمانی ہوگی کہ وہ بدکاری سے باز کیوں نہ رہے۔ وھم فی غفلۃ ، آخرت میں ان سے جو معاملہ کیا جائے گا اس کی طرف سے بھی غافل ہیں۔ وھم لایومنون ، اس کی تصدیق نہیں کرتے۔
Ayah 19:40تفسیر۔
40۔ انانحن نرث الارض ومن علیھا، جب زمین میں رہنے والے سب کو موت دی جائے گی اور سب کو ہلاک کردیاجائے گا، اللہ رب العزت اکیلے رہ جائیں گے جس طرح مورث کے مرنے کے بعد وارث رہ جاتا ہے ۔ والینا یرجعون ، ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیں گے۔