18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 18:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے اپنے بندے (محمد ﷺ پر (یہ) کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کجی اور پیچیدگی نہ رکھی۔

تفسیر 1۔” الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتاب “ اللہ تعالیٰ نے قرآن کا انعام کر کے اپنی ثناء کی اور اس میں بندوں کو حمد خداوندی کرنے کی تعلیم بھی دے دی ۔ یہاں خاص طور پر نبی کریم ﷺ کا ذکر کیا کیونکہ قرآن کا نزول خصوصی طور پر نبی کریم ﷺ کا ذکر کیا کیونکہ قرآن کا نزول خصوصی طور پر نبی کریم ﷺ پر نعمت ہے اور باقی امت پر عمومی طور پر نعمت ہے۔” ولم یجعل لہ عوجاً “۔
Ayah 18:2

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

(بلکہ) سیدھی (اور سلیس اتاری) تاکہ (لوگوں کو) عذاب سخت سے جو اسکی طرف سے (آنے والا) ہے ڈرائے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں خوشخبری سنائے کہ ان کے لیے (ان کے کاموں کا) نیک بدلہ (یعنی بہشت) ہے

تفسیر 2۔” فیما “ اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اس کا معنی یہ ہے کہ میں نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی جس میں کوئی کجی نہیں ۔ ابن عباس ؓ نے اس کا ترجمہ کیا ہے، عدل سے فراء کا بیان ہے کہ یہ کتاب ما قبل تمام کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ نے جو کچھ اپنے بندے پر نازل فرمایا اس میں کوئی کجی نہیں لیکن اللہ نے اس کتاب کو راہ ہدایت بنایا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ولم یعجل لہ عوجاً “ اس میں اختلاف نہیں ہے۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا ” ولو کان من عند غیر اللہ لو جدو ا فیہ اختلافا ً کثیرا ً “ بعض نے کہا کہ اس کو مخلوق نہیں بنایا ۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت کا مطلب ہے ” قرآنا عربیا غیر ذی عوج “ وہ مخلوق نہیں ۔ ” لینذرباسا شدیدا ً “ تا کہ وہ سخت عذاب سے ڈرائے ۔” من لدنہ “ اس کی طرف سے ” ویبشر المومنین الذین یعملون الصالحات ان لھم اجرا ً حسنا ً “ اس سے مرادجنت ہے۔
Ayah 18:3

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں وہ ابد الآباد رہیں گے۔

3۔” ما کثین فیہ ابد اً “ اس میں وہ مقیم رہیں گے۔
Ayah 18:4

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو بھی ڈرائے جو کہتے ہیں کہ خدا نے (کسی کو) بیٹا بنا لیا ہے۔

4۔” وینذر الذین قالوا اتخذ اللہ ولداً “
Ayah 18:5

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

ان کو اس بات کا کچھ بھی علم نہیں اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو تھا (یہ) بڑی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے (اور کچھ شک نہیں کہ) یہ جو کچھ کہتے ہیں محض جھوٹ ہے۔

5۔” ما لھم بہ من علم ولا لا بائھم “ یہ انہوں نے جہالت کی بناء پر کہا نہ کہ علم کی بناء پر ( یعنی اللہ کی اولاد قرار دینے کا علم) ” کبرت “ وہ بہت بڑی تہمت ہے۔” کلمۃ “ منصوب ہے تمیزہونے کی وجہ سے ۔ بعض نے کہا کہ عبارت اس طرح تھی ” کبرت الکلمۃ کلمۃ “ ایک کلمہ کو حذف کردیا گیا ۔ اس محذوف من کی وجہ سے یہ منصوب ہے۔” تخرج من افواھم “ ظاہر کرتے ہیں ، اپنی زبانوں سے ” ان یقولون “ جو کچھ وہ کہتے ہیں ۔ ” الا کذبا ً “
Ayah 18:6

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ اگر یہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں تو شاید تم ان کے پیچھے رنج کر کر کے اپنے تئیں ہلاک کردو گے۔

6۔” فعلک باخع نفسک علی آثارھم “ اس کے بعد وہ اپنے آپ کو ہلاک کردیں ۔” ان لم یومنوا بھذا الحدیث “ اس مراد قرآن ہے۔” اسفا “ وہ غمگین اور بعض نے کہا کہ وہ غصہ ہوں گے۔
Ayah 18:7

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

جو چیز زمین پر ہے ہم نے اس کو زمین کے لیے آرائش بنایا ہے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے۔

انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا شبہ اور اس کا ازالہ سوال کیا جائے کہ زینت میں تو ایسی چیزیں بھی شامل ہیں جو بظاہر نقصان دہ ہیں ۔ سانپ ، بچھو ، شیاطین ۔ اس کا جواب یہ دیا کہ زینت اس اعتبار سے ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں ۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد خاص طور پر مرد ہیں کیونکہ یہی زمین کی زینت ہیں ۔ بعض نے کہا کہ زینت سے مراد علماء و صلحاء ہیں ۔ بعض نے کہا کہ زینت سے مراد نباتات ، درخت اور نہیں ہیں ۔ جیسے کہا جاتا ہے۔ ” حتیٰ اذا اخذت الارض زخرفھاوازینت “۔۔۔۔” لنبلوھم “ تا کہ ہم تمہیں اس کی خبردیں۔” ایھم احسن عملاً “ تاکہ ہم ان کے اعمال کی اصلاح کریں ، بعض نے کہا کہ کون ہے جو دنیا کو ترک کر دے۔
Ayah 18:8

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور جو چیز زمین پر ہے ہم اس کو (نابود کر کے) بنجر میدان کردیں گے۔

7۔” وانا لجاعلون ما علیھا صعیداً جرزا “ صعید اس چیز کو کہتے ہیں جو زمین پر ہو یعنی ( مٹی) بعض نے کہا کہ اس سے مراد مٹی ہے۔ ” جرزا “ ان سب اشیاء کو ہم مٹی کردیں گے اور یہ سب چٹیل میدان بن جائے گا جیسے کہا جاتا ہے ” جرزت الارض ‘ جب زمین سب کچھ نگل جائے۔
Ayah 18:9

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور لوح والے ہماری نشانیوں میں سے عجیب تھے ؟

تفسیر 9۔” ام حسبت ان اصحاب الکہف والرقیم کانوا من ایاتنا عجباً “ اے محمد ! کیا آپ گمان کرتے ہیں کہ کہف ورقیم والے ہماری عجائبات میں سے کوئی عجیب چیز تھے۔ بعض نے کہا کہ یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ کہف و رقیم والے کوئی عجیب نشانی تھے ایسا نہیں ہے بلکہ زمین و آسمان اور اس میں جو کچھ ہم نے پیدا کیا وہ اس سے بھی زیاد تعجب خیز ہیں ۔ کہف پہاڑی میں کشادہ غا ر کو کہتے ہیں۔ الرقیم کی مختلف تفاسیر رقیم کے معنی میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ۔ سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے کہ وہ ایک پتھر کی تختی تھی جس میں اصحاب کہف کے نام اور ان کا قصہ لکھا ہوا تھا۔ یہ تمام قولوں میں اظہر قول ہے ، پھر اس تختی کو کہف والوں کی غار کے باہر لگا دیا گیا ۔ بعض نے کہا کہ رقیم سے مراد پتھر ہے۔ اس صورت میں رقیم مرقوم کے معنی میں ہوگا ۔ یعنی لکھا ہوا اور رقم کا معنی ہے لکھنا۔ ایک روایت میں ابن عباس ؓ کا قول آیا ہے۔ کہ انہوں نے کہا کہ رقیم اس وادی کا نام ہے جس میں اصحاب کہف کا غار تھا۔ اس قول پر رقیم کا اشتقاق ” رقمۃ الودی سے ہوگا۔ کعب احبار نے کہا رقیم اس بستی کا نام ہے جہاں سے اصحاب کہف کا قصہ ذکر کیا ہے۔
Ayah 18:10

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جب وہ جوان غار میں جا رہے تو کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر اپنے ہاں سے رحمت نازل فرما اور ہمارے کام میں درستی (کے سامان) مہیا کر۔

اصحاب کہف کا واقعہ 10۔” اذی اوی الفتیۃ الی الکہف “ انہوں نے اپنی طرف ٹھکانہ بنا لیا ۔ مفسرین کا اس بات میں اختلاف ہے کہ یہ لوگ پہاڑ کی غار میں پناہ گزین کیوں ہوئے۔ محمد بن اسحاق نے بیان کیا عام عیسائیوں کی دینی حالت بہت بگڑ گئی تھی ، بت پرستی تک نوبت پہنچ گئی تھی ، بتوں پر چڑھاوے چڑھانے اور ان کے نام پر قربانیاں کرنے کا بھی روج ہوگیا تھا ، بادشاہ بھی سرکش اور بےدین ہوگئے تھے لیکن کچھ لوگ صحیح دین عیسوی پر قائم تھے اور اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے تھے ، بےدین مخالف توحید بادشاہوں میں سے دقیانوس نام کا بھی ایک بادشاہ تھا، اس کی حکومت بلا د روم پر تھی ، یہ بت پرستی کرتا اور بتوں کے نام کی قربانیاں کرتا تھا اور جو لوگ توحید پر قائم رہتے تھے ان کو قتل کر ا دیتا ، اپنے ملکوں کی مختلف بستیوں میں جاتا اور وہاںے باشندوں کی جانچ کرتا تھا اور جو لوگ توحید پر قائم رہتے تھے ان کو قتل کرادیتا ، اپنے ملکوں کی مختلف بستیوں میں جاتا اور وہاں کے باشندوں کی جانچ کرتا جو بت پرستی اختیار کرلیتا ، اس کو چھوڑ دیتا اور جو انکار کرتا ، اس کو قتل کرا دیتا تھا۔ حسب عادت ایک بار یہ شہر افسوس میں جا کر اترا ، جو لوگ اہل ایمان تھے ڈر کے مارے وہ چھپ گئے اور جدھر کو جس کا منہ اٹھا بھاگ نکلے جو اہل ایمان پکڑے جاتے ، ان کو بت پرستی کی ترغیب دی جاتی ، اگر وہ توحید چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرنے لگتے تو ان کو چھوڑ دیا جاتا ورنہ قتل کردیا جاتا اور مقتولین کے ٹکڑے کر کے شہر پناہ کی دیواروں پر اور دروازہ پر لٹکا دیا جاتا ۔ چند مؤمن نوجوان جن کی تعداد آٹھ بتائی گئی ہے، ایمان میں بڑے پختہ اور نماز روزے کے بہت پابند تھے اور سب رومی امراء کے لڑکے تھے، سخت گھبرا گئے اور مضطرب ہو کر زاری کے ساتھ انہوں نے دعا کی ” ربنا رب السموات والارض ۔۔۔۔۔ ‘ ‘ ہمارا رب وہی ہے جو زمین و آسمان کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی معبود کی عبادت ہرگز نہیں کریں گے ورنہ یہ بڑی زیادتی اور حق سے تجاوز ہوگا ۔ اے رب ! اپنے ایماندار بندوں سے اس فتنہ کو دور کر دے ان کی مصیبت دفع کر دے کہ وہ تیری عبادت علی الاعلان کرسکیں ۔ یہ لوگ مسجد کے اندر سجدوں میں بڑے یہ دعا کر ہی رہے تھے کہ سرکاری آفیسر آپہنچے اور سب کو گرفتار کر کے دقیا نوس کے پاس لے گئے اور کہا آپ دوسرے لوگوں کو تو اپنے معبودوں کی خوشنودی کے لیے قتل کراتے ہیں اور یہ لوگ جو آپ ہی کے خاندان کے ہیں ، آپ کے حکم کے خلاف کرتے اور آپ کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ بادشاہ نے حکم دیا ان کو پیش کرو، یہ نوجوان پیش کیے گئے ، سب کے چہرے غبار آلود تھے اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، بادشاہ نے کہا تمہارے شہر کے سردار ہمارے معبودوں کی پر شت کرتے اور ان پر قربانیاں چڑھاتے ہیں تم ان کی طرح کیوں نہیں کرتے اور ان کا رنگ ڈھنگ کیوں نہیں اختیار کرتے ، میں تم کو اختیاردیتا ہوں کہ یا تو ہمارے معبودوں پر بھینٹ چڑھائو اور ان کی پوجا کرو ورنہ میں تم کو قتل کرا دوں گا ۔ مکسلمینا نے جو سب میں بڑا تھا کہا ہمارا معبود وہ ہے جس کی عظمت سے تمام آسمان بھرے ہوئے ہیں ، ہم اس کے سوا کبھی کسی کی عبادت نہیں کریں گے ، اسی کے لیے حمد ، بزرگی اور پاکی ہے ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں ، اسی سے نجات اور خیر کے طلب گار ہیں ، آپ جو چاہیں کریں ، ہم آپ کے بتوں کی پوجا نہیں کرسکتے۔ مکسلمینا کے دوسرے ساتھیوں نے بھی دقیا نوس کو یہی جواب دیا ۔ یہ جواب سن کردقیا نویس نے حکم دیا کہ ان کے امیر انہ کپڑے اتروا لیے جائیں ۔ حکم کی تعمیل کردی گئی ، پھر کہنے لگا میں ذرا ( دوسروں سے) فارغ ہو لوں تو تم کو وہ سزا دوں گا جو تمہارے لیے میں نے تجویز کی ہے، تم ابھی نوجوان ہو تم کو قتل کرنا میں نہیں چاہتا ، اسی لیے میں تم کو سزا دینے میں جلدی نہیں کر رہا ہوں اور تم کو مہلت دیتا ہوں کہ تم اپنے معاملہ میں غور کرلو۔ اس کے بعد ان کے سارے امیرانہ زیور اتا ر لیے گئے اور دربار سے نکال دیا گیا اور دقیانوس اس بستی کو چھوڑ کر کسی دوسرے شہر کو چل دیا (اور واپسی تک کی ان کو سوچنے کی مہلت دے گیا) جب وہ شہر سے چلا گیا تو سب نے باہم مشورہ کیا کہ اس کی واپسی سے پہلے پہلے کچھ تدبیر کرنی ضروری ہے ، چناچہ باہم مشورہ کر کے طے کیا کہ ہر شخص اپنے اپنے گھر سے کچھ روپیہ لے کر آئے ، اس میں سے کچھ تو غریبوں کو بانٹ دے اور کچھ کھانے پینے کے لیے رکھ لے ، پھر سب شہر کے قریب کوہ بیجلوس کے غا ر میں جا کر اللہ کی عبادت میں مشغول ہوگئے اور دقیانوس کی واپسی وہیں ٹھہرے رہیں ، جب دقیا نوس آجائے تو اس کے سامنے آ کر کھڑے ہوجائیں ، پھر وہ جو کچھ چاہے کرے ( یعنی ہر ایک کو قتل ہونے کے لیے تیار ہو کر دقیا نوس کے پاس جانا چاہیے) حسب مشورہ ہر شخص اپنے باپ کے گھرجا کر کچھ روپیہ لے آیا ، کچھ اس میں سے خیرات کردیا اور باقی اپنی گزر بسر کے لیے رکھ لیا ، اور ایک غار میں داخل ہوگئے ۔ ایک کتاب بھی ان کے پیچھے ہو لیا ، وہ بھی غار میں چلا گیا ۔ سب غار میں جا کر ٹھہر گئے۔ کعب احبار کا بیان ہے اثناء راہ میں ایک کتا ان کے پیچھے ہو لیا ، انہوں نے بھگا دیا لیکن وہ پھر لوٹ آیا ، انہوں نے پھر بھگا دیا، کتا پھر لوٹ آیا ، ایسا چند مرتبہ کیا تو کتا بولا لوگو ! تم چاہتے کیا ہو میری طرف سے اندیشہ نہ کرو، جن کو اللہ سے محبت ہے مجھے ان سے محبت ہے تم وہاں سونا میں تمہاری چوکیداری کروں گا ۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے یہ لوگ رات کو دقیا نوس سے بھاگے تھے ، کل سات آدمی تھے، ایک چرواہے کی طرف سے گزرے جس کے پاس کتا تھا، چرواہا بھی ان کا ہم مذہب ہوگیا اور ساتھ ہو لیا اور کتا بھی پیچھے پیچھے آگیا ، سب لوگ شہر سے نکل کر ایک قریبی غار کی طرف چلے گئے ( اور اس میں داخل ہوگئے) اور وہیں قیام پذیر ہو کر نماز ، روزے ، تمحید ، تسبیح اور تکبیر ( اللہ کی حمد کرنے اس کی پاکی بیان کرنے اور عظمت کا اقرار کرنے) میں مشغول ہوگئے۔ اس کے علاوہ ہر شغل کو چھوڑ دیا اور کل روپیہ اپنے ایک ساتھی جس کا نام تملیخا تھا کے پاس رکھ دیا ، تملیخا بڑاہی خوش تدبیر ، خوبصورت اور بہادر تھا، شہر کو چھپ کرجاتا اور سب کے لیے کھانے پینے کی چیزیں خرید لاتا تھا۔ تملیخا جب شہر کو جانا چاہتا تو اپنے بڑھیا خوب صورت کپڑے اتار کر فقیروں اور بھیگ منگوں کے جیسے کپڑے پہن لیتا اور سکہ لے کر شہر میں جا کر کھانے پینے کی چیزیں خریدتا اور ٹوہ لگاتا کہ دقیا نوس یا اس کے ساتھیوں میں سے کسی نے ان لوگوں کا کچھ تذکرہ کیا یا نہیں ، پھر لوٹ کر آجاتا اور ساتھیوں کو مطلع کردیتا ، اس طرح غار کے اندر یہ لوگ مدت تک رہے ، مدت کے بعد دقیا نوس شہر میں ( واپس ) آیا اور سرداران شہر کو بتوں پر قربانیاں چڑھانے کا حکم دیا۔ اہل ایمان میں پھر کھلبلی مچ گئی ، تملیخا بھی اس وقت شہر کے اندر ہی تھا، ساتھیوں کے لیے کھانے پینے کی چیزیں خریدنے گیا تھا، غریب تھوڑا سا کھانا لے کر روتا ہوالوٹ آیا اور آ کر ساتھیوں کو بتایا کہ وہ ظالم شہر میں آگیا ہے اور وہ اس کے ساتھی اور شہر کے بڑے لوگ ہماری جستجو میں ہیں ، یہ بات سن کر سب گھبرا گئے اور سجدہ میں پڑ کر گڑگڑا کر اللہ سے دعا کرنے اور فتنہ سے پناہ مانگنے میں مشغول ہوگئے۔ تملیخا نے کہا یارو ! سروں کو اٹھا ئو ، کھانا کھائو اور اللہ پر توکل رکھو ، سب نے سجدے سے سر اٹھائے آنکھوں سے آنسو جاری تھی ، پھر سب نے کھانا کھایا ۔ یہ واقعہ غروب آفتاب کے وقت کا تھا، کھانے کے بعد آپس میں باتیں کرنے اور پڑھنے پڑھانے اور باہم نصیحتیں کرنے میں مشغول ہوگئے ، غار کے اندر باتوں میں ہی مشغول تھے کہ یکدم اللہ نے سب پر نیند کو مسلط کردیا ، سب سو گئے ، کتا درازے پر پائوں پھیلائے پڑا تھا جو نیند اللہ نے ان لوگوں پر مسلط کی تھی وہی کتے پر بھی مسلط کردی ۔ اس وقت ان کا سارا روپیہ سرہانے پڑا رہا۔ دوسرے دن صبح ہوئی تو دقیا نوس نے ان کو تلاش کرایا لیکن کسی کو نہ پاسکا ، کہنے لگا مجھے ان جوانوں کے کیس نے پریشان کررکھا ہے۔ انہوں نے خیال کیا کہ ان پر ناراض ہوں ( اور ضرور قتل کرا دوں گا اس لیے چھپ گئے) وہ اپنی نادانی کی وجہ سے میرے سلوک سے واقف نہ تھے ، اگر وہ توبہ کرلیتے اور میرے معبودوں کو پوجنے لگتے تو میں ان پر کسی قسم کا بار نہیں ڈالتا ، شہر کے سرداروں نے کہا کہ آپ کو ان سرکشوں ، نافرمانوں اور بدکاروں پر رحم کرنا ہی نہیں چاہیے تھا ( وہ اس قابل ہی نہیں تھے) آپ نے ان کو ایک محدود مہلت دے دی تھی ، اگر وہ چاہتے تو اس مدت کے اندر توبہ کرلیتے اور ( فرماں برداری کی طرف) لوٹ آتے لیکن انہوں نے تو توبہ ہی نہیں کی ، بادشاہ یہ بات سن کر سخت مشتعل ہوگیا اور اصحاب کہف کے باپوں کو بلوایا اور ان کے نبیوں کے متعلق جواب طلب کیا اور دریافت کیا تمہارے وہ سرکش بیٹے کہاں ہیں جنہوں نے میرے حکم سے سرتابی کی ۔ وہ بولے ہم نے تو آپ کی نافرمانی نہیں کی ، پھر ان سرکشوں کے جرم کی وجہ سے آپ ہم کو قتل نہ کریں وہ تو ہمارا بھی مال لے گئے اور لے جاکر بازاروں میں برباد کردیا ( یعنی فقیروں کی بانٹ دیا) یہ معذرت سن کر بادشاہ نے ان کو چھوڑ دیا او کچھ آدمیوں کو کوہ بیجلوس کی طرف بھیجا اور اس کے سوا کوئی تدبیر سمجھ میں نہیں آتی کہ جس غار کے اندر اصحاب کہف داخل ہوئے تھے اس کا منہ بند کرا دے ، اللہ کی مشیت تھی کہ اصحاب کہف کو عزت عطا فرما دے اور آنے والی قوموں کے لیے اپنی قدرت کی نشانی بنا دے اور لوگوں کو دکھادے کہ قیامت ضرور آئے گی اور ( جس طرح اس غار کے اندر نیند کی حالت میں اللہ نے ان کو سینکڑوں برس رکھ کر پھر زندہ اٹھایا اسی طرح) اللہ قبروں سے مردوں کو زندہ کر کے اٹھائے گا۔ غرض دقیانوس نے غار کا منہ بند کرا دیا اور کہا جس غار کو انہوں نے اپنے لیے پسند کیا ہے اسی غار کو ان کے لیے قبریں بنادو ۔ وہیں گھٹ گھٹ کر بھوکے پیاسے مرجائیں ۔ اس کا خیال تھا کہ اصحاب کہف بیدار ہیں اور غار کے بند ہوجانے کا ان کو علم ہے حالانکہ اللہ نے نیند کی حالت کی طرح ان کی روحوں کو قبض کرلیا تھا ، کتا غار کے دروازے پر اگلے دونوں پائوں پھیلائے بیٹھا تھا اور جس طرح نیند اصحاب کہف پر مسلط کردی گئی تھی اسی طرح کتے پر بھی نیند چھا گئی تھی ۔ اللہ کے حکم سے اصحاب کہف سوتے میں دائیں بائیں کروٹیں بھی لیتے تھے (اگر ایک پہلو پر پڑے رہتے تو ممکن تھا گوشت گل جاتا اس لیے کروٹ لینا ضروری تھا) شاہ دقیا نوس کے خاندان میں دو آدمی مؤمن بھی تھے اور جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھے ایک کا نام یندروس اور دوسرے کو رایاش تھا ، دونوں نے مشورہ کرنے کے بعد اصحاب کہف کے نام نسب ، خاندان اور پورا واقعہ رانگ کیا ایک تختی پر لکھ کرتانبے کے صندوق میں تختی کو رکھ کر ایک بنیاد میں صندوق کو اس خیال سے دفن کردیا کہ قیامت سے پہلے ممکن ہے اہل ایمان کا کوئی گروہ اس جگہ قابض ہوجائے اور اس تحریر کو پڑھ کر ان کو اصحاب کہف کا واقعہ معلوم ہوجائے۔ دقیا نوس اور اس کی قوم کے بعد صدیاں گزر گئیں اور پے در پے بادشاہ آتا جاتے رہے ( اور اصحاب کہف غار کے اندر استراحت فرماتے رہے اور صندوق دفن رہا) عبید بن عمیر کا بیان ہے کہ اصحاب کہف چند نوجوان تھے جو گلے میں طوق اور ہاتھوں میں کنگن پہنے ہوئے تیھ ، زلفیں چھوڑی ہوئی تھیں ، ایک شکاری کتا ان کے ساتھ تھا کسی بڑے تہوار کے موقع پر بن سج کر گھوڑوں پر سوار ہو ک نکلے اور ساتھ میں ان بتوں کو بھی لے لیا جن کو پوجتے تھے ، اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان پیدا کردیا ، ان میں سے ایک وزیر بھی تھا سب در پردہ مؤمن تو ہوگئے لیکن ہر ایک نے دوسرے سے اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھا اور ہر ایک نے دل میں طے کرلیا کہ ان کافروں کے ساتھ مجھے نہ رہنا چاہیے کہیں ان کے جرائم پر آنے والا عذاب مجھ پر نہ آجائے۔ غرض سب الگ الگ ہوگئے ۔ پہلا ایک جا کر کسی درخت کے سایہ میں تنہا بیٹھ گیا ، دوسرے نے اس کو تنہا بیٹھے دیکھا تو خیال کیا کہ شاید اس کی حالت بھی میری حالت کی طرح ہوگئی ، اس لیے زبان سے ظاہر کیے بغیر اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا ، پھر تیسرا اسی خیال کو لے کر چلا اور دونوں کے پاس جا کر بیٹھ گیا ، اس طرح ایک ایک کر کے سب جمع ہوگئے ۔ پھر ایک نے ایمان کو پوشیدہ رکھتے ہوئے ڈرتے ڈرتے دوسرے سے کہا ، آپ حضرات یہاں کس غرض سے جمع ہوئے ہیں ، دوسرے نے بھی یہی پوچھا اور تیسرے چوتھے غرض سب نے یہی سوال کیا ۔ پھر دو دو کی ٹکڑیاں بنا کر انتہائی راز داری کے ساتھ ایک نے دوسرے پر حقیقت ظاہر کی اور معلوم ہوا کہ سب مؤمن ہیں ، پہاڑ میں قریب ہی ایک غار تھا، سب نے مشورہ کرکے اس کی طرف رخ کیا اور غار میں چلے گئے ، شکاری کتا بھی ساتھ تھا اندر جا کر سب سو گئے اور 309 برس تک سوتے رہے۔ قوم والوں نے ان کو تلاش کیا لیکن اللہ نے غار کو ہی ان کی نظر سے غائب کردیا اور تمام نشانات محو کردیئے۔ مجبوراً ان کے نام ، نسب ، خاندان ایک تختی پر تحریر کیے اور لکھ دیا کہ فلاں فلاں اشخاص جو فلاں فلاں بادشاہ ( امرائ) کے بیٹے تھے، فلاں بادشاہ کے دور حکومت میں فلاں سال فلاں مہینے کھو گئے اور تلاش کے بعد بھی نہیں ملے ، پھر یہ تختی سرکاری محافظ خانہ میں رکھ دی گئی ، کچھ مدت کے بعد وہ بادشاہ مرگیا اور صدیاں گزرتی گئیں۔ وہب بن منبہ نے بیان کیا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ایک حواری اصحاب کہف کے شہر کو گیا تھا، شہر کے اندر داخل ہونے کا ارادہ کیا ، کسی نے کہا شہر کے دروازے پر ایک بت ہے، پہلے اس بت کو سجدہ کرنا پڑتا ہے، پھر اندر داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے ، حواری نے اس حرکت کو پسند نہیں کیا اور شہر کے قریب ایک حمام میں جا کر حمام والے کی نوکری کرلی اور کام کرنے لگا، حمام والے کو حواری کے آتے ہی بڑی برکت حاصل ہوئی ( اس کے کام کو بہت ترقی ہوگئی ) شہر کے بعض نوجوانوں کا بھی اس حواری سے کچھ تعلق ہوگیا ، وہ اس کے پاس بیٹھنیل گے ، حواری ان کو آسمان و زمین کی خبریں سناتا تھا ( اور وہ شوق سے سنتے تھے) آخر وہ لوگ حواری پر ایمان لے آئے اور عیسائی ہوگئے۔ حواری نے حمام والے سے شرط کرلی تھی کہ رات کو میری نماز میں کوئی مداخلت نہ کرے ، رات میری ہے، رات کو کوئی کام نہیں کروں گا۔ ایک روز شہر ادہ ایک عورت کو لے کر حمام میں آیا۔ حواری نے کہا آپ شہزادے ہیں اور اس عورت کو لے کر حمام میں داخل ہو رہے ہیں۔ شہزادہ کو شرم آئی اور واپس چلا گیا لیکن دوسری مرتبہ پھر آیا اور حواری نے پہلی بار کی طرح نصیحت کی ۔ اس مرتبہ حواری کی طرف کوئی توجہ نہیں کی بلکہ اس کو جھڑک دیا ، دونوں حما م میں داخل ہوگئے ، بادشاہ کو کسی نے اطلاع دی کہ شہزادہ کو حمامی نے قتل کردیا ہے، بادشاہ نے حمامی کی تلاش کے لیے آدمی بھیجے مگر وہ بھاگ گیا ، ہاتھ نہیں آیا ، بادشاہ نے پوچھا اس کے ساتھ کون لوگ رہتے ہیں ، لوگوں نے بتلایا فلاں فلاں جوان رہتے تھے، ان جوانوں کی جستجو کی گئی لیکن وہ بھی شہر سے باہر نکل گئے اور راستہ میں ایک اور شخص کو بھی ساتھ لے لیا جو انہیں کی طرح ایمان پر قائم تھا۔ ایک کتا بھی ساتھ ہوگیا اور طے کرلیا کہ آج رات یہیں رہو، صبح ہوگئی تو کچھ سوچیں گے۔ چناچہ اندر پہنچ کر رات کو بیخبر ہوگئے، بادشاہ نے اپنے ساتھیوں کو لے کر ان کی جستجو میں نکلا اور غار پر جا پہنچا ۔ معلوم ہوا کہ وہ لوگ اندر جا چکے ہیں ، بادشاہ کے ساتھیوں میں سے کسی شخص نے اندر جانے کا ارادہ کیا مگر دہشت زدہ ہوگیا، پھر کسی میں اندر گھسنے کی ہمت نہ ہوئی ، ایک شخص نے بادشاہ سے کہا اگر وہ آپ کے ہاتھ آجائے تو کیا آپ کا ارادہ ان کو قتل کرا دینے کا نہ تھا۔ بادشاہ نے کہا بلا شبہ یہی ارادہ تھا۔ اس شخص نے کہا تو اب غار کے دروازے کو بند کرا کے کوئی دیوار بنوا دیجئے کہ اندر بھوکے مرجائیں ، چناچہ بادشاہ نے تو ایسا ہی کیا ۔ وہب کا بیان ہے کہ دروازے کے بندش کو اس کے بعد طویل زمانہ گزر گیا ، ایک دور کے بعد دوسرا دور آیا اور گزرتا چلا گیا ، کچھ مدت کے بعد اتفاقاً جنگل میں کسی چرواہے کو بارش نے آگھیرا ، وہ بکریاں بھیڑیں لے کر پناہ لینے کے لیے اس غار کی طرف آیا اور بکریوں کو سائے میں محفوظ رکھنے کی کوشش کر کے اس نے درازہ کھول دیا ۔ ادھر صبح ہوئی تو اللہ نے ان کی روحیں لوٹا دیں ، ان کو ایسا معلوم ہوا کہ رات بھر سو کر صبح کو اٹھے ہوئے ہوں۔ محمد بن اسحاق نے لکھا ہے ( مدت کے بعد) وہاں کی حکومت ایک نیک آدمی کے ہاتھ آگئی ، اس شخص کا نام بیدو سیس تھا۔ اس کی حکومت کو جب 68 سال گزر گئے تو لوگ دو گروہوں میں بٹ گئے ، ایک گروہ مؤمنوں کا تھا جو اللہ پر ایمان رکھتا اور قیامت کو حق جانتا تھا اور ڈوسرا گروہ کافروں کا تھا جو اللہ اور قیامت کا منکر تھا۔ بیدوسیس کو یہ پھوٹ اور گمراہی کا پھیلائو دیکھ کر بڑا رنج ہوا، وہ اللہ کے سامنے رو دیا ، گریہ وزاری کی اور اس کو اس بات سے بڑا دکھ ہوا کہ اہل باطل حق پرستوں پر غالب ہوتے چلے جا رہے ہیں ، اہل باطل حشر جسمانی کے قائل نہیں تھے صرف حشر روحانی کو مانتے تھے اور دنیوی زندگی پر ہی ریجھے ہوئے تھے ، بیدو سیس نے ان لوگوں کو بلوایا جن کے متعلق خیال تھا کہ وہ ائمہ حق اور اصحاب خیر ہیں ، جب وہ آئے تو دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ بھی قیامت کے قائل نہیں ہیں اور لوگوں کو حواریوں کے دین و مذہب سے مرتد بنا دینے اور لوٹا دینے کے خواستگار ہیں ، یہ دیکھ کر بادشاہ اپنے کمرے میں چلا گیا ، دروازہ بند کرلیا ، کمبل کا لباس ( یعنی فقیر انہ لباس) پہن لیا اور راکھ بچھا کر اس پر بیٹھ گیا اور مدت تک رات دن مسلسل اللہ کے سامنے گریہ وزاری کرتا اور دعا کرتا رہا کہ الٰہی تو ان لوگوں میں تفرقہ پڑجانے سے واقف ہے کوئی ایسی نشانی ظاہر دے جس سے ان لوگوں کو اپنے عقیدہ کا غلط اور باطل ہونا واضح ہوجائے۔ یوں بھی اللہ رحمن و رحیم ہے اس کو اپنے بندوں کا تباہ ہونا پسند نہیں، اس نے اپنے نیک بندے بیدوسیس کی دعا قبول فرما لی اور اصحاب کہف کی حالت کو ظاہر کرنا اور ان کو منکرین قیامت کے خلاف بطور دلیل پیش کرنا اور ثبوت قیامت اور مردوں کی بعثت پر یقین دلانے کے لیے ایک نشانی نمایاں کرنا چاہا، اس کی یہ بھی مرضی ہوئی کہ مسلمانوں کا بکھرا شیرازہ پھر مجتمع ہوجائے جس کی صورت اس نے یہ پیدا کی کہ جس بستی میں اصحاب کہف کا غار تھا وہیں ایک باشندہ کے دل میں یہ ارادہ پیدا کردیا کہ غار کے دروازے پر جو عمارت بنائی گئی تھی اس کو ڈھا کر اپنی بکریوں کے لیے ایک باڑہ بنا دے اس شخص کا نام اولیاس تھا۔ اولیاس نے دو مزدور رکھ کر غار کے دروازے کی عمارت کے پتھر اکھڑوانا اور اپنی بکریوں کیلئے باڑہ بنوانا شروع کردیا۔ آخر دروازہ کی ساری عمارت صاف کردی اور دروزہ کھل گیا۔ پھر اللہ نے اصحاب کہف کو اٹھا کر بٹھا دیا، وہ خوش خوش شگفتہ رو، ہشاش بشاش اٹھے اور خیال کیا کہ حسب معمول ہم رات کو سوئے تھے اور صبح ہوئی تو بیدار ہوگئے۔ پھر معمولی کے مطابق انہوں نے نمازیں پڑھیں اور کوئی ایسی علامت ان کے چہروں پر نمودار نہیں ہوئی جس سے اجنبیت یا انوکھا پن ظاہر ہوتا۔ وہ یہ ہی سمجھتے رہے کہ بادشاہ دقیانوس ہماری جستجو میں لگا ہوا ہے۔ اتنی بات ضرور تھی کہ وہ یہ سمجھے تھے کہ ہم آج کچھ زیادہ سوئے۔ اس لیے انہوں نے باہم پوچھنا شروع کیا ہم کتنی دیر سوئے، کسی نے کہا ایک دن، دوسرے نے کہا کچھ کم ایک دن سوئے ہوں گے (تعین کے ساتھ صحیح مقدار خواب کوئی نہ بتا سکا) بالآخر بول اٹھے اللہ ہی جانے ہم کتنے وقت (سوتے) رہے۔ نماز کے بعد انہوں نے اپنے ایک ساتھی سے جس کا آنام تملیخا تھا اور جس کے پاس سب کا خرچ تھا، کہا ذرا جا کر خبر لائو کہ اس ظالم کے سامنے شام کو (ہمارے آنے کے بعد) لوگوں نے کیا باتیں کہیں، تملیخا نے کہا کیا تم شہر میں نہیں ہو، وہ ظالم چاہتا ہے کہ تم کو پکڑوا لے اور تم اس کے بتوں پر قربانیاں چڑھائو اور انکار کرو تو وہ تم کو قتل کرا دے جو اللہ چ ہے گا وہ ہوگا ( فکر کس بات کی ہے) مکسلمینا بولا دوستو ! خوب سمجھ لو کہ تم سب کو اللہ کے سامنے جانا ہے، اللہ کے اس دشمن کے کہنے سے اپنا ایمان چھوڑ کر کافر نہ بن جانا، اس کے بعد سب نے تملیخا کو مامور کیا کہ شہر کو جا کر خبر لائے کہ وہاں کیا تذکرے ہو رہے ہیں اور دقیانوس سے کیا باتیں کہی جا رہی ہیں اور ذرا چالاکی سے جانا کسی کو تمہارا پتہ نہ چل جائے اور وہاں سے کھانے کے لیے بھی کچھ زیادہ خرید کر لانا، ہم سب بھوکے ہیں۔ تملیخا تیار ہوگیا، اول بھیس بدلا، کپڑے اتار کر دوسرے پہنے اور دقیانوسی سکہ لے کر باہر نکلنے کے لیے چل دیا، غار کے دروازے پر پہنچا تو دیکھا دروازے کے پتھر اکھڑے ہوئے ہیں، دیکھ کر تعجب کیا لیکن کچھ زیادہ پروا نہیں کی اور چھپتا چھپاتا اور راستے سے کتراتا شہر کے دروازے پر پہنچ گیا، وہ دقیانوس ہی کا زمانہ سمجھا تھا، اس لیے ڈرتا تھا کہ کوئی اس کو پہچان نہ لے۔ اس کو معلوم ہی نہ تھا کہ دقیانوس کو مرے ہوئے تین سو برس ہوگئے۔ شہر کے دروازے پر پہنچا اور دروازے کے اوپر نظر پڑی تو ایسی علامتیں دکھائی دیں کہ ایمان والوں کو یہاں آزادی ہے، علامات سے اس بستی کا ایمانداروں کی بستی ہونا ظاہر ہو رہا تھا، یہ دیکھ کر بڑا تعجب کیا اور پوشیدہ طور پر حیرت سے دروازے کو دیکھنے لگا، پھر اس دروازے کو چھوڑ کر شہر کے دوسرے دروازے کی طرف گیا، وہاں بھی وہی علامتیں دکھائی دیں جو پہلے دروازے پر تھیں، خیال کیا کہ یہ وہ شہر ہی نہیں ہے، کوئی دوسرا شہر ہے جو میری شناخت میں نہیں آ رہا ہے، وہاں کچھ لوگوں کو باتیں کرتے ہوئے پایا تو وہ لوگ بھی غیر نظر آئے۔ غرض تعجب میں پڑگیا اور خیال کیا کہ راستہ بھٹک گیا، پھر لوٹ کر پہلے دروازہ پر آگیا اور حیرت کرنے لگا کہ یہ وہی چیزیں ہیں جو کل رات تھیں، یہ نشانیاں تو مسلمانوں کی ہیں جن کو وہ پوشیدہ رکھا کرتے تھے اور آج یہ نظروں کے سامنے ہیں، کیا میں سوتے میں خواب دیکھ رہا ہوں، پھر خود ہی کہتا تھا میں جاگ رہا ہوں، آخر اپنی چادر سر پر ڈالی اور شہر میں داخل ہوگیا، چلتے چلتے بازار میں پہنچا تو وہاں کچھ لوگوں کو حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی قسمیں کھاتے ہوئے سنا۔ اس کے دل میں اور زیادہ ڈر پیدا ہوا اور یقین کرلیا کہ میں راستہ بھول کر کہیں اور آ نکلا، ایک دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا اور دل ہی دل میں کہنے لگا کل شام تو سوائے چند آدمیوں کے اس سرزمین پر عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کا نام لینے والا کوئی بھی نہ تھا، آج صبح کیا بات ہوگئی کہ جس سے سنتا ہوں وہ بےدھڑک عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کر رہا ہے۔ شاید میں کسی انجان شہر میں آگیا۔ مگر ہمارے شہر کے قریب تو کوئی اور بستی بھی نہ تھی پھر ایک جوان سے ملاقات ہوئی اور اس سے تملیخا نے اس شہر کا نام پوچھا، جوان نے کہا اس شہر کا نام افسوس ہے۔ تملیخا نے دل میں کہا شاید میں مسلوب الحواس اور بےعقل ہوگیا۔ اب تو میرے لیے یہی مناسب ہے کہ میں یہاں سے نکل جائوں، اس سے پہلے کہ میری بےعزتی کی جائے یا کوئی اور افتاد مجھ پر پڑے اور میں مارا جائوں، پھر ذرا ہوش آیا تو کہنے لگا قبل اس کے لوگ مجھے جان لیں، یہاں سے بہت جلد نکل جانا ہی مناسب ہے، یہ سوچ کر فوراً نان فروشوں کے پاس گیا اور چاندی کا سکہ جو ساتھ لایا تھا نکال کر ایک نان فروش کو دے کر کھانا طلب کیا۔ نان فروش نے روپیہ لے کر اس کو غور سے دیکھا، مہر اور سکہ کی ضرب پر نظر کی اور تعجب کیا، پھر ایک اور آدمی کی طرف اس کو پھینک دیا، اس نے بھی غور سے دیکھا، اس طرح چند آدمی دیکھنے لگے، ایک دوسرے کی طرف پھینک دیتا اور وہ دیکھ کر تیسرے کی طرف پھینک دیتا۔ اب ان لوگوں نے آپس میں کہنا شروع کیا کیا پرانے زمانے کا گڑا ہوا کوئی پوشیدہ دفینہ اس شخص کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ تملیخا نے جوان لوگوں کو سکے کے متعلق گفتگو کرتے دیکھا تو اس کو بڑا ڈر لگا، خوف کے مارے کانپنے لگا اور سمجھ گیا کہ یہ لوگ بھی مجھے پہچان گئے اور شاہ دقیانوس کے پاس مجھے پکڑ کرلے جانا چاہتے ہیں، کچھ دوسرے لوگ اور بھی آگئے اور تملیخا کو انہوں نے پہچاننے کی کوشش کی مگر پہچان نہ سکے۔ تملیخا نے ان لوگوں سے ڈرتے ڈرتے کہا، مجھ پر مہربانی کرو تم نے میرا روپیہ بھی لے لیا اور کھانا بھی نہیں دیا۔ اب مجھے تمہارے کھانے کی ضرورت نہیں اور روپیہ بھی تم ہی رکھ لو، لوگوں نے پوچھا اے شخص تو کون ہے اور واقعہ کیا ہے ؟ یقینا گزشتہ لوگوں میں سے کسی کا کوئی دفینہ تجھے مل گیا ہے تو اس کو ہم سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ہم کو اپنے ساتھ لے کر چل اور دفینہ دکھا اور ہم کو بھی اس میں حصہ دار بنا۔ اس صورت سے تو ہم تیرا معاملہ پوشیدہ رکھیں گے۔ ورنہ حاکم کے پاس لے جائیں گے، اس کے سپرد کردیں گے اور تو مارا جائے گا۔ تملیخا نے ان کی باتیں سن لیں تو کہا اسی مصیبت میں پھنس گیا جس کا مجھے اندیشہ تھا، لوگوں نے کہا اے شخص خدا کی قسم ! اب تو ہم سے چھپا کے تو نہیں رکھ سکتا، تملیخا کی سمجھ میں نہ آیا کہ ان باتوں کا کیا جواب دے، ڈر کے مارے خاموش رہا۔ کچھ بھی نہیں بتایا، لوگوں نے دیکھا کہ وہ بولتا ہی نہیں تو سر سے چادر کھینچ کر گلے میں ڈال کر کھینچتے ہوئے شہر کی گلیوں میں لے گئے، گلیوں والے وجہ پوچھتے تو بتاتے یہ شخص اس لیے پکڑا گیا ہے کہ اس کے پاس (پرانا) دفینہ ہے۔ غرض شہر کے تمام باشندے چھوٹے بڑے جمع ہونے لگے اور تملیخا کو دیکھ کر کہنے لگے یہ آدمی اس شہر کا رہنے والا تو نہیں ہے۔ ہم نے اس کو کبھی نہیں دیکھا، تملیخا ڈر کے مارے خاموش تھا، بات ہی نہیں کرتا تھا لیکن یہ اس کو یقین تھا کہ اس کا باپ، بھائی اور قرابت دار اسی شہر میں موجود ہیں اور اس شہر کے بڑے لوگ ہیں جب وہ سنیں گے تو یقینا آئیں گے اور یہ لوگ اگر پکڑ کرلے جانا چاہیں گے تو گھر والے آ کر چھڑا لیں گے۔ بیچارہ اسی انتظار میں تھا کہ لوگ اس کو شہر کے دو حاکموں کے پاس لے جانے لگے۔ یہ دونوں حاکم شہر کے منتظم تھے اور نیک آدمی تھے، ایک کا نام اریوس اور دوسرے کا نام اشطیوس تھا، تملیخا سمجھا تھا کہ دقیانوس کے پاس لے جائیں گے لیکن وہ لے گئے شہر کے ان دو حاکموں کے پاس جن سے تملیخا واقف نہ تھا، راستہ میں گھر والوں کے انتظار میں دائیں بائیں دیکھتا جاتا تھا اور لوگ پاگل کی طرح اس کی ہنسی بنا رہے تھے۔ تملیخانے روتے ہوئے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور کہا اے اللہ ! تو آسمانوں اور زمین کا الٰہ ہے۔ آج میرے دل میں صبر ڈال دے اور اپنی طرف سے میرے ساتھ روح (جبرئیل علیہ السلام) یا اور کوئی غیبی مددگار کو بھیج دے جو اس ظالم کے سامنے میری مدد کرے۔ غریب تملیخا آنسو بہا رہا تھا اور دل میں کہہ رہا تھا، دوستوں سے مفارقت ہوگئی، میں ان سے بچھڑ گیا جو کچھ مجھے پیش آیا کاش اس کی ان کو اطلاع ہوجاتی تو وہ یقینا آجاتے اور سب مل کر اس ظالم کے سامنے جاتے کیونکہ ہم نے آپس میں معاہدہ کرلیا تھا کہ کوئی جدا نہ ہو سب ساتھ رہیں گے، زندگی میں بھی اور مرنے میں بھی۔ وہ اپنے دل میں یہ باتیں کر ہی رہا تھا کہ لوگ دو نیک حاکموں یعنی اریوس اور اشطیوس کے پاس لے پہنچے، جب تملیخا نے دیکھا کہ مجھے دقیانوس کے پاس نہیں لے جایا جائے گا تو ہوش درست ہوگئے اور رونا موقوف کردیا۔ اریوس اور اشطیوس نے روپیہ لے کر دیکھا اور اچنبھے میں پڑگئے اور دریافت کیا اے شخص جو دفینہ تجھ کو ملا ہے وہ کہاں ہے ؟ تملیخا نے کہا مجھے تو کوئی دفینہ نہیں ملا یہ روپیہ تو میرے باپ دادا سے میرے پاس آیا ہے۔ ضرب اور ٹکسال اسی شہر کی ہے لیکن میری سمجھ میں خود اپنی حالت نہیں آتی ( کہ میں کہاں ہوں، کل میں نے کیا دیکھا تھا اور آج کیا دیکھ رہا ہوں) کہوں کیا۔ حاکم نے پوچھا تم کون ہو ؟ تملیخا نے جواب دیا میں اسی شہر کا رہنے والا ہوں، پوچھا تمہارے باپ کا کیا نام ہے اور تم کو کوئی پہچاننے والا بھی ہے ؟ تملیخا نے باپ کا نام بتایا لیکن حاضرین میں کوئی شخص بھی ایسا نہ تھا جو اس کے باپ کو جانتا ہو۔ حاکم نے کہا تو جھوٹا ہے سچی بات نہیں بتاتا۔ تملیخا نے سر جھکا لیا اور سمجھ میں نہ آیا کہ جواب کیا دے۔ ایک شخص بولا یہ دیوانہ ہے، دوسرا بولا دیوانہ نہیں ہے چھوٹنے کے لیے دیوانہ بن رہا ہے، حاکم نے تملیخا کو سخت نظروں سے دیکھا اور کہا کیا تو یہ خیال کرتا ہے کہ ہم تجھے چھوڑ دیں گے اور تیری اس بات کو مان لیں گے کہ یہ سکہ تجھے باپ دادا سے ملا ہے، اس کی ضرب اور نقوش تو تین سو برس سے بھی زیادہ پہلے کے ہیں، نوجوان لڑکا ہے ہم سے باتیں بنا کر ہماری ہنسی اڑانا چاہتا ہے حالانکہ ہمارے بال سفید ہوچکے ہیں اور تیرے گرداگرد شہر کے سردار اور کرتادھرتا ہیں۔ اس شہر کے تمام دفینے ہمارے ہاتھوں میں ہیں، ان میں کوئی درہم و دینار اس ضرب کا نہیں ہے۔ میرا خیال ہو رہا ہے کہ تجھے سخت سزا دے کر قید کردینے کا حکم جاری کر دوں اور اس وقت تک قید رکھوں کہ تو دفینہ ملنے کا اقرار کرلے، حاکم کی یہ تقریر سن کر تملیخا نے کہا میں آپ لوگوں سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، اگر آپ اس کا جواب دے دیں گے تو جو کچھ میرے پاس ہے میں بھی وہ سچ سچ تم کو بتادوں گا۔ حاضرین نے کہا پوچھو ہم تم سے کوئی بات نہیں چھپائیں گے۔ تملیخا نے کہا دقیانوس بادشاہ کہاں گیا ؟ لوگوں نے جواب دیا آج روئے زمین پر اس نام کا کوئی بادشاہ موجود نہیں ہے۔ بہت پرانے زمانے میں دقیانوس بادشاہ تھا وہ مرگیا اور اس کے بعد صدیاں بیت گئیں۔ تملیخا نے کہا تو یقینا میں راہ سے بھٹک گیا ہوں، کوئی شخص مجھے سچا نہیں جانے گا لیکن میں کہتا ہوں کہ ہم چند جوان دین اسلام پر قائم تھے۔ بادشاہ نے ہم کو بت پرستی پر مجبور کیا، ہم نے انکار کیا اور کل شام بھاگ نکلے اور غار میں جا کر سو رہے، صبح کو بیدار ہوئے تو میں کھانا خریدنے اور احوال کی ٹوہ لگانے کے لیے نکلا، کوہ بیجلوس کے غار تک تم لوگ میرے ساتھ چلو، میں اپنے ساتھیوں سے تمہاری ملاقات کر ائوں گا۔ تملیخا کی یہ بات سن کر اریوس، اشطیوس اور تمام شہر والے چھوٹے بڑے اصحاب کہف کو دیکھنے کے لیے تملیخا کے ساتھ چل پڑے۔ ادھر اصحاب کہف کے پاس کھانا لے کر جب تملیخا واپس نہیں پہنچا اور مقررہ مدت سے زیادہ وقت گزر گیا تو انہوں نے خیال کرلیا کہ تملیخا گرفتار ہوگیا اور پکڑ کر دقیانوس کے پاس لے گئے، وہ یہ خیال کر ہی رہے تھے کہ کچھ آوازیں اور گھوڑوں کی ٹاپوں کی کھٹ کھٹ سنائی دی، فوراً سمجھ گئے کہ یہ ظالم دقیانوس کے بھیجے ہوئے لوگ ہیں اور ہم کو گرفتار کرنے کے لیے ان کو بھیجا گیا ہے، فوراً نماز کو کھڑے ہوگئے اور (نما کے بعد) ایک نے دوسرے کو دعاء سلامتی دی اور (حق پر قائم رہنے کی) وصیت کی۔ پھر آپس میں کہا چلو اپنے بھائی تملیخا کے پاس چلیں وہ ظالم دقیانوس کے پاس ہمارے پہنچنے کے انتظار میں ہوگا وہ غار کے اندر سامنے کے رخ میں بیٹھے یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ اریوس اور اس کے ساتھی غار کے دروازے پر آ کھڑے ہوگئے اور تملیخا آگے بڑھ کر روتا ہوا اندر آگیا اور اس کو روتا دیکھ کر اصحاب کہف نے حالات دریافت کیے۔ تملیخا نے کل حال بیان کردیا، اس وقت سب کی سمجھ میں آیا کہ اس پوری مدت میں اللہ کے حکم سے ہم سوتے رہے۔ اللہ ہم کو ایک نشانی اور قبروں سے مردوں کے اٹھانے کی ایک دلیل بنانا چاہتا ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ قیامت حق ہے اس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں (جو اللہ تین سو برس تک سلانے کے بعد بیدار کر کے اٹھا سکتا ہے وہ مردوں کو بھی زندہ کر کے اٹھا سکتا ہے کیونکہ نیند بھی ایک قسم کی موت ہی ہے) تملیخا کے پیچھے اریوس بھی اندر پہنچ گیا، دروازہ پر اس کو تانبے کا ایک صندوق دکھائی دیا جس پر چاندی کی مہر لگی تھی، اریوس نے باہر سے ایک سردار کو بلا کر اس کے سامنے صندوق کھولا، صندوق کے اندر رانگ کی دو تختیاں ملیں، ان پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی۔ مکسلمینا، مخشلمینا، تملیخا، مرطونس، بشر طونس، بیربوس، دیومس اور یطنومس ظالم بادشاہ دقیانوس کے ڈر سے بھاگ گئے تاکہ بادشاہ ان کے دین سے ان کو منحرف نہ کرسکے اور یہ لوگ اس غار کے اندر گھس گئے۔ بادشاہ کو اطلاع ملی کہ وہ لوگ اس غار کے اندر چلے گئے تو اس نے پتھروں سے غار کا منہ بند کردینے کا حکم دے دیا، ہم نے ان حضرات کا حال اور واقعہ اس لیے لکھ دیا کہ بعد کو آنے والے لوگوں کو اس کا علم ہوجائے، اگر وہ اس تحریر سے واقف ہوجائیں۔ تمام حضرات کو یہ تحریر پڑھ کر تعجب ہوا اور اللہ کا شکر ادا کرنے لگے جس نے ان کو اپنی قدرت کی نشانی دکھا دی، پھر اریوس اور اس کے ساتھی غار کے اندر اصحاب کہف سے جا کر ملے۔ اصحاب کہف بیٹھے ہوئے تھے، چہرے نور سے دمک رہے تھے، ان کے کپڑے بھی پرانے نہیں ہونے پائے تھے۔ اصحاب کہف کو اس حالت میں دیکھ کر اریوس اور اس کے ساتھی اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑے اور اللہ کی حمد میں رطب اللسان ہوگئے جس نے ان کو یہ نشانی دکھائی۔ اس کے بعد اصحاب کہف نے اریوس اور اس کے ساتھیوں کو اپنی سرگزشت سنائی۔ اریوس نے ایک قاصد اپنے دیندار بادشاہ بیدروس کے پاس بھیجا اور تحریر کیا کہ آپ فوراً آجائیں تاکہ اللہ کی قدرت کی وہ نشانی آپ بھی دیکھ لیں جو اللہ نے آپ کے دور سلطنت میں لوگوں کی ہدایت کے لیے نمودار کی ہے کہ تین سو برس مردہ رکھنے کے بعد اللہ نے ان لوگوں کو زندہ کر کے اٹھا دیا، بادشاہ نے جونہی یہ اطلاع سنی اس کا سارا غم جاتا رہا اور اللہ کی ستائش کرتے ہوئے اس نے کہا شکر ہے تیرا اے آسمانوں کے، زمین کے مالک ! میں تیری عبادت کرتا ہوں (تمام عیوب و نقائص سے) تیرے پاک ہونے کا اقرار کرتا ہوں، تو نے مجھ پر بڑا احسان کیا۔ بڑی مہربانی کی اور جو روشنی تو نے میرے آباء و اجداد اور نیک بندے قسطیطینوس کو عطا فرمائی تھی وہ مجھے بھی مرحمت فرمائی، میرے لیے اس نور کو نہیں بجھایا، ملک والوں کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو وہ بھی شہر افسوس میں آگئے اور سب بیدروس کے ساتھ غار کی طرف چل دیئے۔ بیدروس کو دیکھ کر اصحاب کہف خوشی سے کھل پڑے اور اللہ کے سامنے سربسجود ہوگئے۔ بیدروس ان کے سامنے جا کر کھڑا ہوا اور دوزانو ہو کر ان کو گلے لگا لیا اور زمین پر ان کے پاس بیٹھ گیا۔ کچھ دیر کے بعد اصحاب کہف نے بیدروس سے کہا اب رخصت۔ فی امان اللہ آپ پر اللہ کی طرف سے سلامتی اور رحمت ہو، اللہ آپ کو اور آپ کی حکومت کو (شر سے) محفوظ رکھے اور جن و انس کے شر سے بچائے۔ ہم آپ کو اور آپ کے ملک کو اللہ کی پناہ میں دیتے ہیں، بادشاہ کھڑا ہوگیا اور ابھی کھڑا ہی تھا کہ وہ لوگ اپنی خواب گاہوں کی طرف واپس چلے گئے اور سو گئے اور اللہ نے ان کی روحوں کو قبض کرلیا۔ بادشاہ نے ان کو کپڑے اوڑھا دیئے اور حکم دیا کہ ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ سونے کے صندوقوں میں رکھ دیا جائے۔ جب رات ہوئی اور بادشاہ سو گیا تو خواب میں اصحاب کہف نے آ کر اس سے کہا ہم کو سونے چاندی سے نہیں پیدا کیا گیا تھا، مٹی سے بنایا گیا تھا، ہم مٹی ہی کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، اس لیے قیامت تک ہم کو مٹی پر اسی حالت میں چھوڑ دو جس حالت میں ہم غار کے اندر تھے۔ قیامت کے دن اللہ ہم کو اسی مٹی سے اٹھائے گا، یہ خواب دیکھ کر بادشاہ نے سار کی لکڑی کے صندوق بنوا دیئے اور صندوقوں میں رکھوا کر ان کو وہیں چھوڑ کر چلے آئے، پھر اللہ نے ان کو لوگوں کی نظروں سے چھپا دیا اور خوف کی وجہ سے کوئی ان کو دیکھ بھی نہ سکا نہ غار کے اندر جاسکا۔ بادشاہ نے غار کے دروازے پر نماز کے لیے ایک مسجد بنوا دی اور ہر سال وہاں خوشی منانے کے لیے جمع ہونے کا حکم دے دیا۔ بعض روایات میں اس طرح آیا ہے کہ تملیخا کو جب بادشاہ کے سامنے لے جایا گیا اور بادشاہ نے پوچھا تو کون ہے ؟ تملیخا نے جواب دیا میں اسی شہر کا رہنے والا ہوں، فلاں جگہ میرا مکان ہے، فلاں فلاں لوگ میرے رشتہ دار ہیں، کل شام میں یہاں سے نکلا تھا تو کسی نے نہ تملیخا کو پہچانا نہ ان ناموں کے آدمیوں کو جن کا ذکر تملیخا نے کیا تھا، بادشاہ نے پہلے کبھی سنا تھا کہ پرانے زمانہ میں کچھ نوجوان تھے جن کے نام محافظ خانہ کے اندر کسی تختی پر لکھے ہوئے ہیں۔ تملیخا کی بات سن کر اس نے تختی منگوا کر دیکھی اور مندرجہ ناموں کو پڑھا تو ثابت ہوا کہ تملیخا کا نام اس کے اندر موجود ہے۔ باقی لوگوں کے متعلق تملیخا نے کہا یہ میرے ساتھیوں کے نام ہیں۔ اس بات پر بادشاہ اپنے ساتھیوں کو لے کر تملیخا کی نشاندہی پر چل پڑا۔ غار کے دروازے پر پہنچ کر تملیخا نے کہا مجھے اجازت دیجئے کہ میں پہلے اندر جا کر ان کو خوشخبری دے دوں کیوں کہ اگر تم (بغیر اطلاع کے) میرے ساتھ اندر جا پہنچو گے تو وہ لوگ خوفزدہ ہوجائیں گے۔ تملیخا اجازت ملنے کے بعد اندر گیا اور غار والوں کو خوش خبری دی، خوش خبری سنتے ہی اللہ نے ان کی روحیں قبض کرلیں اور بادشاہ یا اس کے ساتھیوں کی نظروں سے اللہ نے ان کو اوجھل کردیا، کسی کو ان کا نشان اور راستہ بھی نہیں ملا۔ آیت ” اذ اوی الفتیۃ الی الکھف “ میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ پھر بادشاہ نے کہف والوں پر ایک مکان تعمیر کیا۔ یہ غار جبل مخلوس میں ہے۔ کہف کا نام خیرم ہے۔ ” فقالوا ربنا آتنا من لدنک رحمۃ “ رحمت سے مراد دین میں ہدایت پر ہونا۔ بعض نے کہا کہ رحمت سے مراد رزق ہے۔ ” وھیٔ لنا “ آسان کر دے ہمارے لیے اس کام کو ” من امرنا رشدا “ کہ ہم تلاش نہیں کرتے اس خیر میں تیری رضا اور تیری طرف ہدایت کا راستہ۔ ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ اس سے مراد غار سے سلامتی کے ساتھ کسی راستے کی رہنمائی فرما۔
Ayah 18:11

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

تو ہم نے غار میں کئی سال تک ان کے کانوں پر (نیند کا) کا پردہ ڈالے (یعنی ان کو سلائے) رکھا۔

تفسیر 11 ۔ ” فضربنا علی آذانھم “ ہم نے ان کے کانوں پر نیند کا غلبہ ڈال دیا۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے ان کے کانوں پر ایسے پردے ڈال دیئے ہیں کہ باہر کی آواز اندر داخل نہیں ہوسکتی تھی۔ ہم نے ان کو ایسا سلا دیا کہ کسی آواز سے بیدار نہیں ہوسکتے تھے۔ ” فی الکھف سنین عددا “ ہم نے ان پر نیند کو مسلط کیا کچھ سال۔ عدد کا تذکرہ بطور تاکید کے کیا ہے۔ بعض نے کہا کہ اس کا ذکر کثرت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ کم چیز کو کوئی گنا نہیں کرتا۔
Ayah 18:12

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ان کو جگا اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ جتنی مدت وہ (غار میں) رہے دونوں جماعتوں میں سے اس کی مقدار کس کو خوب یاد ہے۔

تفسیر 12 ۔ ” ثم بعثناھم “ پھر ان کو نیند سے اٹھایا۔ ” لنعلم “ اپنے علم کے مشاہدہ سے معلوم کرلیں۔ ” ای العزبین “ وہ دو جاعتیں ” احصی لما لبثوا امدا “ ان بستی والوں نے اس میں اختلاف کیا کہ وہ یہاں کتنی مدت ٹھہرے رہے۔ جتنی دیر میں ہم نے ان پر نیند کو مسلط کر رکھا تھا، ہم نے ان کو اپنی حفاظت میں رکھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ عددا منصوب ہے تفسیر ہونے کی وجہ سے۔
Ayah 18:13

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

ہم ان کے حالات تم کو صحیح صحیح بیان کرتے ہیں وہ کئی جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کو اور زیادہ ہدایت دی تھی۔

تفسیر 13 ۔ ” نحن نقص علیک “ ہم آپ پر پڑھتے ہیں۔ ” نباھم “ اصحاب کہف کا واقعہ ” بالحق “ سچائی کے ساتھ۔ ” انھم فتیۃ “ کہ وہ جوان شخص تھا ” امنوا بربھم وزدناھم ھدی “ ایمان اور بصیرت کے ساتھ۔
Ayah 18:14

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور ان کے دلوں کو مربوط (یعنی مضبوط) کردیا جب وہ (اٹھ) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے ہم اس کے سوا کسی کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی۔

14 ۔ ” وربطنا “ اور ہم نے ان کے دل کو مضبوط کردیا۔ ” علی قلوبھم “ صبر اور ثابت قدمی کے ساتھ اور ہم نے ان کے دل کو مضبوط کردیا نور ایمان کے ساتھ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے گھروں اور اپنی قوم والوں کو چھوڑنے اور اپنی راحت والی زندگی کو ترک کرنے اور کہف کے دین پر ثابت قدم رکھنے کی توفیق اور صبر سے نوازا۔ ” اذقاموا “ جب دقیانوس نے بت پرستی ترک کرنے پر ان کو ملامت کی تو اس کے سامنے کھڑے ہو کر فخر سے کہا ” فقالوا ربنا رب السموت والارض لن ندعوا من دونہ الھا “ یہ اس وجہ سے کہا کہ ان کی قوم بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ” لقد قلنا اذا شططا “ اگر وہ پکاریں گے غیر اللہ کو تو پھر یہ ایسا ہوگا کہ وہ حق سے دور اور جدا ہوگیا اور ظلم میں داخل ہوگیا۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ وہ ظلم میں داخل ہوگا اور قتادہ کا قول ہے کہ وہ جھوٹ ہوگا۔ شطط و استطاط کہتے ہیں قدرت اور افراط سے تجاوز کرنا۔
Ayah 18:15

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

ان ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سواء اور معبود بنا رکھے ہیں۔ بھلا یہ ان (کے خدا ہونے پر) کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے ؟ تو اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے۔

15 ۔ ” ھولاء قومنا “ اس شہر والوں نے ” اتخذوا من دونہ “ اللہ کے سوا معبود بنا رکھا ہے۔ ” الھۃ “ بت جن کو وہ پوجتے تھے ” لولا “ کیوں نہیں ” یاتون علیھم “ ان کی عبادت پر ” بسلطان بین “ واضح حجت کے ساتھ ” فمن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبا “ ان کا یہ گمان تھا کہ اس کا کوئی شریک ہے یا اس کی کوئی اولاد ہے۔
Ayah 18:16

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

اور جب تم نے ان (مشرکوں) سے اور جن کی یہ خدا کے سواء عبادت کرتے ہیں ان سے کنارہ کرلیا ہے تو غار میں چل رہو تمہارا پروردگار تمہارے لئے اپنی رحمت وسیع کر دے گا اور تمہارے کاموں میں آسانی (کے سامان) مہیا کرے گا۔

16 ۔ پھر بعض نے بعض کے ساتھ کہا ” واذاعتزلتموھم “ تمہاری قوم ” وما تعبدون الا اللہ “ بعض نے کہا کہ اس کو یعبدون بھی پڑھ سکتے ہیں۔ معروف و مشہور قرأت یہی ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے اور ان کے ساتھ بتوں کی بھی عبادت کرتے۔ اس لیے ان کی عبادت کے ساتھ ساتھ الا اللہ کہنے کی ضرورت پیش آئی۔ بعض نے کہا کہ اللہ نے فرمایا کہ اصحاب کہف اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ ” فاؤوا الی الکھف “ یعنی غار کی طرف منتقل ہو جائو۔ ” ینشرلکم “ تمہارے لیے رزق کو کشادہ کر دے گا۔ ” ربکم من رحمتہ ویھیی لکم “ اور اس کو تمہارے لیے آسان کر دے گا۔ ” من امرکم مرفقا “ وہ ذریعہ جس سے فائدہ حاصل ہو۔ ابو جعفر، نافع ابن عامر وغیرہ نے ” مرفقا “ فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور رفاء کے کسرہ کے ساتھ اور دوسرے قراء نے میم کے کسرہ اور رفاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کا معنی ایک ہی ہے۔
Ayah 18:17

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ (دھوپ) ان کے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس کے میدان میں تھے۔ یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے۔ جس کو خدا ہدایت دے وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو گمراہ کردے تو تم اسکے لیے کوئی دوست راہ بتانے والا نہ پاؤ گے۔

17 ۔ ” وتری الشمس اذا طلعت تز اور “ ابن عامر، یعقوب نے زاء کے سکون کے ساتھ اور راء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے تحمر کے وزن پر۔ اہل کوفہ نے زاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے زاء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ ان سب کا معنی ایک ہی ہے، مڑ جانا پھرجانا۔ ” عن کھفھم ذات الیمین “ وہ دائیں جانب ” واذا غربت تقرضھم “ ان کو چھوڑ دیتا ہے اور ان کو کاٹ دیتا ہے۔ ” ذات الشمال “ قرض اصل میں کاٹنا پھرجانے کو کہا جاتا ہے۔ ” وھم فی فجوۃ منہ “ کشادہ جگہ، اس کی جمع ” فجوات “ آتی ہے۔ ابن قتیبہ کا بیان ہے کہ غار کا رخ بنات النعش کی طرف تھا۔ غار کے محاذات میں قریب ترین مشرق و مغرب راس سرطان کا مشرق و مغرب تھا۔ جس وقت سورج کا مدار اور سرطان کا مدار ایک ہوتا تو سورج کا طلوع اس کے مقابل بجانب یمین ہوتا اور غروب کے وقت غار میں مقابل سورج بجانب شمال ہوتا۔ اس طرح غار کے دونوں پہلوئوں پر سورج کی دونوں شعاعیں پڑتیں اور عفونت پیدا نہ ہونے پاتی تھی اور ہوا میں اعتدال قائم رہتا تھا اور آفتاب کی کرنیں اصحاب کہف کے جسموں پر نہ پڑنے پاتی تھیں کہ بدن جھلس نہ جائیں، دکھ پائیں اور کپڑے فرسودہ ہوجائیں۔ بعض علماء نے کہا کہ بنات النعش کے سامنے غاز کا ہونا خواہ اثر انداز ہو لیکن حقیقت میں اللہ کی قدرت کارفرما تھی کہ اللہ اصحاب کہف کی طرف سے سورج کو پھیر دیتا تھا، اس کی طرف اشارہ آئندہ آیت میں کیا گیا۔ ” ذلک من آیات اللہ “ اللہ تعالیٰ کی صفت کی، اعجوبہ کاری اور اس کی قدرت کی نشانی ہے۔ ان کے لیے جو اس نشانی سے عبرت حاصل کرنے والے ہوں۔ ” من یھد اللہ فھو المھتدی ومن یضلل “ جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ ” فلن نجد لہ ولیا “ اس کے لیے کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ ” مرشدًا “
Ayah 18:18

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور تم ان کو خیال کرو کہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ تو سوتے ہیں۔ اور ہم ان کو دائیں بائیں کروٹ بدلاتے تھے اور ان کا کتا چوکھٹ پر دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر تم ان کو جھانک کر دیکھتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور ان سے دہشت میں آجاتے۔

تفسیر۔ 18: ” وتحسبھم ایقاظًا “ ان کو تم بیدار سمجھو گے۔ ایقاظ جمع ہے یقظ کی۔ ” وھم رقود “ راقد کی جمع ہے اور وہ سو رہے ہوں گے۔ اس حالت کے ساتھ تشبیہ اس لیے دی کہ ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں۔ وہ سانس لیتے تھے لیکن کلام نہیں کرتے تھے۔ ” ونقلبھم ذات الیمین وذات الشمال “ ایک مرتبہ وہ دائیں جانب کروٹ لیتے اور ایک مرتبہ بائیں جانب کروٹ لیتے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ وہ سال میں ایک مرتبہ کروٹ لیتے تھے تاکہ ایک جانب کو مٹی نہ کھاجائے۔ بعض نے کہا کہ وہ عاشوراء کے روز کروٹ بدلتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول ہے کہ وہ سال میں دو مرتبہ کروٹ لیتے تھے۔ اصحاب کہف کے کتے کے بارے میں تفصیل ” وکلبھم باسط ذراعیہ بالوصید “ اہل تفسیر کا قول ہے کہ وہ کہف والوں کا کتا ہی تھا جو اسی جنس (کتا) میں شامل ہو۔ ابن جریج نے کہا کہ وہ کتا نہیں تھا وہ شیر تھا یا شیر کو کتا کہہ دیا۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے عتبہ بن ابی الہب کو بددعا دیتے ہوئے کہا تھا الٰہی اپنے کتوں میں سے اس پر کوئی کتا مسلط کر دے، پھر عتبہ کو شیر نے پھاڑ دیا تھا۔ پہلا قول مشہور ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ وہ چت کبرا کتا تھا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ قلطی سے بڑا اور کردی (کتے) سے چھوٹا۔ قلط چینی کتے کو کہتے ہیں۔ مقاتل کا بیان ہے کہ اس کا رنگ زرد تھا۔ قرظی کا قول ہے گہرا زرد مائل بسرخی تھا۔ کلبی کا قول ہے اس کا رنگ دھنی ہوئی اون کی طرح تھا۔ بعض نے کہا کہ حجرمی رنگ تھا۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کا نام قطمیر ہے اور حضرت علی ؓ کے قول کے مطابق اس کا نام ریان تھا۔ اوزاعی کا قول ہے کہ اس کا نام یثور تھا۔ سدی کا قول ہے کہ اس کا نام یور تھا۔ کعب کے نزدیک اس کا نام صہبا تھا۔ خالد بن معدان کا بیان ہے کہ جنت میں جانوروں میں سے کوئی جانور نہیں جائے گا مگر اصحاب کہف کا کتا اور بلعم بن باعور کا گدھا۔ ” بالوصید “ مجاہد اور ضحاک نے وصید کا ترجمہ کیا ہے غار کا صحن۔ عطاء کا قول ہے کہ وصید سے مراد دہلیز ہے۔ سدی کا قول ہے کہ وصید دروازے کو کہتے ہیں۔ عکرمہ کی روایت میں ابن عباس ؓ سے یہی مروی ہے۔ سوال : اگر یہ کہا جائے کہ اصحاب کہف نہ تو دروازے میں تھے اور نہ ہی دہلیز میں ؟ وہ دروازے کی جگہ پر ہے اور دہلیز پر اس کتے کے بازو تھے جو اس نے پھیلائے ہوئے تھے اور اس کا چہرہ ان کی رف تھا۔ سدی کا قول ہے کہ جب اصحاب کہف والے کروٹ لیتے تھے تو کتا بھی ان کے ساتھ کروٹ لیتا تھا۔ اصحاب کہف دائیں طرف کروٹ لیتے تھے تو کتا اپنے بائیں بل پر ہوجاتا اور اصحاب کہف بائیں کروٹ لیتے تھے تو کتا اپنا بائیں کان توڑ کر (بائیں) بل ہوجاتا تھا۔ ” لواطلعت علیھم “ اے محمد ! (ﷺ) ” لو لیت منھم فرارا “ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہیبت ڈال دی تھی کہ تم میں سے کوئی بھی ان کے قریب نہیں پہنچ سکتا۔ یہاں تک کہ ہمارا لکھا ہوا ان تک پہنچ جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو نیند سے اٹھا لے گا۔ ” ولملئت منھم رعباً “ اس سے مراد خوف ہے۔ اہل حجاز نے لام کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس رعب کے متعلق ان کے اقوال میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ جگہ کے سنسان اور وحشت کی وجہ سے ہے۔ کلبی کا بیان ہے کہ اصحاب کہف کی آنکھیں بیدار آدمیوں کی طرح کھلی ہوئی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے اب بولنے ہی والے ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ ان کے بال بڑھے ہوئے اور ناخن لمبے ہوگئے ہیں۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ اس ہولناکی اور رعب آگینی کی وجہ سے کوئی وہاں جا نہیں سکتا۔ اس مقام کی رعب آگینی مانع دخول ہے۔ سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ ہم معاویہ کی معیت میں روم کے جہاد کو گئے، راستہ میں اصحاب کہف کے غار کی طرف سے گزر ہوا۔ معاویہ بولے اگر غار کھول دیا جاتا تو ہم اصحاب کہف کو دیکھ لیتے۔ میں نے کہا وہ ذات جو آپ سے بہتر تھی اس کو بھی اس سے روک لیا تھا۔ اللہ نے فرما دیا تھا ” لو اطلعت علیھم لولیت منھم فرارا “ معاویہ نے میری بات نہیں سنی اور کچھ لوگوں کو دیکھنے کے لیے بھیج دیا، وہ لوگ جب غار میں داخل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے کوئی ہوا ایسی پیدا کردی کہ سب جل گئے۔