21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 21:1

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

لوگوں کا حساب (اعمال کا وقت) نزدیک آپہنچا ہے اور وہ غفلت میں (پڑے اس سے) منہ پھیر رہے ہیں

سورة الانبیاء۔ تفسیر۔ 1۔ اقترب للناس۔ لام بمعنی من کے ہے ۔ حسابھم یعنی لوگوں کے ا کے حساب کا وقت قریب ہے۔ وہ اپنے اعمال کے محاسبہ کا وقت جان لیں گے قیامت کے دن ۔ یہ آیت بعثت کے منکرین کے بارے میں نازل ہوئی۔ 2۔ وھم فی غفلۃ، ، اور وہ اس سے روگرداں ہوں گے۔
Ayah 21:2

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

ان کے پاس کوئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے نہیں آتی مگر وہ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں

3۔ مایاتیھم من ذکر۔۔۔۔ قرآن میں سے جو چیز اللہ نازل کرے خواہ وہ کوئی وعظ ہو یا نصیحت ہو۔ مقاتل کا بیان ہے کہ ایک حکم کے بعد دوسرا حکم نازل ہونا اور بعض نے کہا کہ ذکر من ربھم محدث سے مراد جو نبی کریم نے فرمای اور آپ کی سنن اور نصائح جو قران کے علاوہ ہیں، من ربھم، اللہ رب العزت نے جو فرمایا وھم یلعبون ، وہ صرف ہنسی مذاق کے لیے سنتے ہیں نہ کہ نصیحت اور عبرت پکڑنے کے لیے۔
Ayah 21:3

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالم لوگ (آپس میں) چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں کہ یہ (شخص کچھ بھی) نہیں مگر تمہارے جیسا آدمی ہے تو تم آنکھوں دیکھتے جادو (کی لپیٹ) میں کیوں آتے ہو ؟

3۔ لاھیۃ “ وہ بھول جانے اور غافل رہنے والے ہیں۔ قلوبھم اللہ کے ذکر سے اعراض کرانے والے۔ لاھیۃ، ماقبل اسم کے لیے صفت ہے اور موصوف صفت اعرابی میں ایک ہی ہوتے ہیں ۔ اور جب موصوف اسم سے مقدم ہوجائے تو اس کی دوحالتیں ہیں فصل والی اور وصل والی۔ فصل والی حالت میں نصب آئے گا جیسا کہ اللہ کا فرمان ، خشعا ابصارھم، ودانیۃ علیھم ظلالھا،۔ ولاھیۃ قلوبھ، ماوروصل کی صورت میں یہ ماقبل کے اعراب کی طرح ہوگا۔ ربنا اخرجنا من ھذہ القریۃ الظالم اھلھا، واسروا النجوی الذین ظلمو، اس سے مراد شرک ہے ۔ واسروا، یہ فعل ہے جو جمع سے مقدم ہے۔ کسائی کا قول ہے کہ یہاں تقدیم و تاخیر ہوئی ہے۔ اس سے مراد جنہوں نے ظلم کیا اور چھپ کر سرگوشی کی اور بعض نے کہا کہ یہ ابتدائ، مبتداء ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ چھپ چھپ کر سرگوشیاں کرتے ہیں۔ پھر فرمای اجن لوگوں نے ظلم کیا اور بعض حضرات نے کہا کہ مرفوع ہے بدل ہونے کی وجہ سے۔ اسروا کی ضمیر سے بدل ہے۔ مبرد کا قول ہے کہ یہ اس قول کی طرح ہے کہ کوئی یوں کہے ، ان الذین فی الدار انطلقوا بنوعبداللہ، یہ بدل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور یہ ، انطلقوا کی ضمیر سے بدل ہے ۔ پھر اس کے بعد ان کی سرگوشی کو بیان کیا جو وہ آپس میں کررہے تھے۔ ھل ھذا الابشر مثلکم، ، وہ بشر کی رسالت کے منکر ہوگئے اور ملائکہ کی رسالت طلب کرنے لگے۔ افتاتون السحر ، ، یعنی تم اس کو جادو مانتے ہو اور وہ یہ کہتے ہیں کہ اس کی دعوت کو قبول کرنے جاتے ہو۔ وانتم تبصرون، حالانکہ تم جانتے ہو کہ وہ جادو ہے۔
Ayah 21:4

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

(پیغمبر نے) کہا کہ جو بات آسمان اور زمین میں (کہی جاتی) ہے، میرا پروردگار اسے جانتا ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

4۔ قال، ، ان کو آپ نے فرمایا، ربی یعلم القول فی السماء والارض، حمزہ اور کسائی اور حفص نے یونہی پڑھ ا ہے۔ قال ربی، خبر ہونے کی وجہ سے ۔ مبتدا لفظ (محمد) ہے۔ یعلم القول فی السماء والارض، اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے ، وھو السمیع العلیم، وہ تمہاری باتوں کو سننے والا ، العلیم اور تمہارے افعال کا جاننے والا ہے۔
Ayah 21:5

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

بلکہ (ظالم) کہنے لگے کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں (نہیں بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا ہے (نہیں) بلکہ یہ شعر جو اس) شاعر (کا نتیجہ طبع) ہے تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے

تفسیر۔ 5۔ بل قالو اضغاث احلام، وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ باطل اور پرانے قصے کہانیاں ہیں اور مخلوط وگڑ بڑ خوابوں کا مجموعہ ہے ، بل افتراہ اس کو اپنی طرف سے بنایا ہے۔ بل ھوشاعر، بعض مشرکین نے کتاب اللہ کو پراگندہ خواب کہا، کچھ لوگوں نے من گھڑت دروغ بندی قرار دیا، اور بعض نے قرآن کو شعر کہا، اور رسول اللہ کوشاعر، فلیاتنا، لے آئیں محمد، بایۃ ، اگر وہ سچے ہیں۔ کماارسل الاولون، رسول کو اور ان کے ساتھ معجزوں کو بھیجا، اللہ ان کو جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔
Ayah 21:6

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لائی تھیں تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے

6۔ ما آمنت قبلھم۔ اس سے پہلے مشرکین مکہ بھی ایمان نہیں لائے۔ من قریۃ، بستی والوں کے پاس نشانیاں نہیں آئیں۔ اھلکنا ھا، تو انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور پھر ہم نے ان کو ہلاک کیا جھٹلانے کی وجہ سے۔ افھم یومنون، یہ استفہام انکاری ہے یعنی مکہ کے مشرک تو گزشتہ کافروں سے کفر میں سخت ہیں۔ جب گزشتہ کافر ایمان نہیں لائے تو یہ لوگ یقینا ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayah 21:7

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور ہم نے سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بناکر) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو

7۔ وماارسلناک قبلک، ،،۔ یہ اس قول کا جواب ہے۔ ھل ھذا الابشرمثلکم ، کہ ہم نے پہلے بھی انبیاء فرشتوں میں سے نہیں بھیجے بلکہ ان اقوام کی طرف بھی تم میں سے تمہاری طرح بشر کو نبی بناکربھیجتے رہے۔ فاسئلوا اھل الذکر، ، پس تم سوال کرو توریت والوں سے اور انجیل والوں سے ان سے پوچھنے کا حکم دینے کی وجہ یا تو وہ یہ ہے کہ مشرکین مکہ کو رسول اللہ کے سلسلہ میں اہل کتاب پر اعتماد تھا۔ ان سے مشورہ لیا کرتے تھے یا اس وجہ سے کہ اہل کتاب رسولوں کے منکر نہیں تھے کہ وہ بشر ہی ہوتے ہیں۔ بشر ہونے سے انکار نہ کرتے۔ اگرچہ یہ بھی نبی کریم کی نبو ت کے منکر تھے۔ مشرکین کو حکم دیا کہ وہ ان سے پوچھیں تاکہ ان کو اس بات کی تصدیق ہوجائے، ان لوگوں سے بھی جو نبی کریم پر ایمان نہیں لاتے ان سے زیادہ قریب ہیں جو نبی کریم پر ایمان لائے۔ ابن زید کا بیان ہے کہ ذکر سے مراد قرآن ہے کہ مومنین سے سوال کریں جو اہل قرآن میں سے ہیں ۔ ان کنتم لاتعلمون۔
Ayah 21:8

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانانہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے

8۔ وماجعلنا ھم، اس سے مراد رسول ہیں۔ جسدا ، اجساد نہیں کہاکیون کہ یہ اسم جنس ہے۔ لایاکلون الطعام، یہ اس قول کی تردید ہے ، مالھذا، الرسول یا کل الطعام ، کافر یہ کہتے تھے کہ یہ رسول کھانا کھاتا ہے ان کی اس آیت میں تردید ہے ، وماکانوخالدین، اور نہ ہی وہ دنیا میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 21:9

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بارے میں (اپنا) وعدہ سچا کردیا تو ان کو اور جس کو چاہا نجات دی اور حد سے نکل جانے والوں کو ہلاک کردیا

9۔ ثم صدقنا ھم الوعد، پھر ہم نے جوان کے ساتھ کفار کے ہلاک کرنے کا وعدہ کیا تھا وہ سچ کردکھایا، فانجیناھم ومن نشائ، اور ہم نے ان مومنین کو نجات دی جنہوں نے تصدیق کی اور ایمان لائے ان کو اپنے عذاب اور کفار کی ایذاء رسانیوں سے محفوظ فرمایا۔ واھلکنا المسرفین، مشرکین مکذبین کو جھٹلایا، اور ہر مشرک اپنے آپ پر زیادتی کرنے والا ہے۔
Ayah 21:10

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے کیا تم نہیں سمجھتے ؟

10۔ لقدانزلنا الیکم کتابا، اے قریش کے گروہ ، فی ذکرکم، ذکر سے مراد فضیلت و بزرگی ہے۔ وانہ للذکرلک ولقومک ، وہ باعث عزت و تعظیم ہیں جو ایمان لائے۔ مجاہد کا قول ہے کہ کہ اس جگہ باتین مراد ہیں۔ حسن (رح) کا قول ہے کہ ذکر سے مراد دین کی طرف جس کی زیادہ احتیاجیت ہو وہ ہے ۔ افلاتعقلون۔
Ayah 21:11

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو سمتگار تھیں ہلاک کرمارا اور ان کے بعد اور لوگ پیدا کردیئے

تفسیر۔ 11۔ وکم قصمنا، اس سے بکثرت ہلاک ہونا مراد ہے قصم کسرہ کے ساتھ ہے۔ من قریۃ کانت ظالمہ، ظالمہ سے مراد کافرہ بستی ہے اور اس کے اہل خانہ ۔ وانشاء ھا بعدھا، ہم نے اس بستی کو تباہ کرنے کے بعد وارث بنادیا۔ قوما آخرین۔
Ayah 21:12

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

جب انہوں نے ہمارے (مقدمہ) عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے

12۔ فلمااحسو باسنا، یعن جب انہوںں ے عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیا۔ اذاھم منھا یرکضون وہ ایڑی لگاکربھاگنے لگے۔
Ayahs 21:13–14

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

مت بھاگو اور جن (نعمتوں) میں تم عیش و آسائش کرتے تھے ان کی اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ، شاید تم سے اس بارے میں دریافت کیا جائے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

کہنے لگے ہائے شامت بیشک ہم ظالم تھے

13۔ لاترکضوا، ،۔ گویا کہ ان کو کہا گیا کہ نہ بھاگو اور نہ واپس چلو۔ وارجعوا الی مااترفتھم فیہ، جس عیش میں تم پڑے رہے ہو اس کی طرف پلٹو۔ ومساکنکم لعلکم تسئلون، قتل نبی کے متعلق باز پرس کی جائے گی۔ بعض نے کہا کہ شاید تم سے دنیاوی متاع وغیرہ مانگا جائے ۔ اس آیت کا نزول حضرت موت کے باشندوں کے متعلق ہوا۔ یہ یمن کی ایک بستی تھی جس کے باشندے عرب تھے ، اللہ نے انکوہدایت کے لیے ایک نبی کو مبعوث فرمایا۔ پیغمبر نے ان کو توحید کی دعوت دی۔ ان بستی والوں نے نبی کی تکذیب کی اور اس کو قتل کردیا، اور اللہ نے شاہ بخت نصر کو ان پر مسلط کردیا۔ بخت نصر نے ان کو قتل اور قید کردیا۔ جب عام طورپر لوگ قتل ہونے لگے تو پشیمان ہوئے اور بستی چھوڑ کر بھاگ گئے فرشتوں نے انکوآواز لگائی بھاگو مت اپنی گھروں اور مالوں کی طرف لوٹو شاید تم سے کچھ مانگاجائے۔ قتادہ کا بیان ہے کہ شاید تم سے کچھ دنیاوی مال ومتاع مانگا جائے اور پھر جس کو چاہو توم دے دو اور جس کو چاہو نہ دو تم بڑے مال دار اور اہل ثروت ہو۔ غرض بخت نصر نے انکا تعاقب کیا اور بے دریغ قتل کیا اور کسی ہاتف نے اوپر سے آواز لگائی ، انبیاء کا انتقام یہ حالت دیکھ کر ان کو اپنے کیے پر پشیمانی ہوئی لیکن اقرار قصور نے ان کو کچھ فائد ہ نہ دیا۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ بعض لوگوں نے بعض سے کہا بھاگو نہیں لوٹ کر گھرون کو چلو، شاید تم سے بطور تاوان مال طلب کیا جائے اور تم مال دے کر قتل ہونے سے بچ جاؤ ۔ اس وقت آسمان سے نداء آئی انبیاء کا انتقام، لیکن جب انہوں نے عذاب کو دیکھ لیا تو اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا لیکن اس وقت ان کو توبہ نے نفع نہیں دیا۔
Ayah 21:15

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

تو وہ ہمیشہ اسی طرح پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو (کھیتی کی طرح) کاٹ کر (اور آگ کی طرح) بجھا کر ڈھیر کردیا

15۔ فمازالت تلک دعواھم۔ وہ بار بار یہ کلمہ پکارتے رہے، یاویلناہ، وہ اس طرح پکارتے رہے اور اس کا جواب ان کو اسی وقت ملتارہا۔ حتی جعلنا ھم حصیدا، تلوار کے ساتھ اسی طر ح کردیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی، ہو، خامدین، مردے بچھے ہوئے۔
Ayah 21:16

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان دونوں کے درمیان ہے اس کو لہو و لعب کے لئے پیدا نہیں کیا

16۔ وماخلقناالسمائ۔۔۔۔ اس سے مراد عبث اور باطل ہے۔
Ayah 21:17

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اگر ہم چاہتے کہ کھیل (کی چیزیں یعنی زن و فرزند) بنائیں تو اگر ہم کو کرنا ہی ہوتا تو ہم اپنے پاس سے بنا لیتے

17۔ لواردنا ان نتخذ لھوا۔۔ لھو کے معنی میں اختلاف ہے۔ عطاء کی روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا، لھو سے مراد عورت ہے ۔ یہی قول حسن اور قتادہ کا ہے کہ اس سے مراد عورت ہے کیونکہ جماع کو لغت میں لھو کہتے ہیں ۔ اور عورت محل جماع ہے۔ لاتخذناہ من لدنا، جو حور عین سے ہو نہ کہ وہ عورتیں جو دنیا میں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ہم لھو کرنے والے ہی ہوتے تو اپنی شان کے مطابق ان چیزوں کو ذریعہ لھو بناتے جو ہماری ذات کی مناسب تھیں۔ اس آیت میں نصاری کے عقیدہ کی تردید ہے جو مسیح کو اللہ کا بیٹا اور مسیح کی ماں کو اللہ کی بیوی قرار دیتے ہیں۔ اللہ نے ان کے قول کی تردید کی اور فرمایا، لاتخذناہ من لدنا، اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ مرد کی بیوی اور بیٹا اس کے پاس ہوتے ہیں نہ کہ کسی اور کے پاس۔ ان کنافاعلین۔ قتادہ ، مقاتل، اور ابن جریج کے نزدیک ان مافیہ ہے ۔ یعنی ہم ایسا کرنے والے نہیں۔ گویا یہ جملہ کلام سابق کا نتیجہ ہے اور بعض نے کہا کہ یہ شرط ہے ، مطلب یہ ہوگا کہ اگر ہم ان میں سے ہوتے جو یہ کرتے ہیں اور ہم ان میں سے نہیں ہیں کیونکہ یہ ہمارے حق میں محال ہے۔
Ayah 21:18

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اسکا سر توڑ دیتا ہے اور جھوٹ اسی وقت نابود ہوجاتا ہے اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے تمہاری خرابی ہے

تفسیر۔ 18۔ بل، ، ان باتوں کو چھوڑ دیجئے جو انہوں نے کہا، کیونکہ یہ جھوٹ اور باطل ہے نقذف ہم پھینکتے ہیں یا مسلط کردیتے ہیں ۔ بالحق ، حق سے مراد ایمان ہے۔ علی الباطل، اس سے مراد کفر ہے۔ بعض نے کہا کہ حق سے مراد اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کیونکہ اس کی کوئی اولاد نہیں ۔ باطل سے مراد کفر اور جھوٹ ہے۔ فیدمغہ، اس کو فنا کردیتا ہے۔ دمغ، اصل میں کہاجاتا ہے سرتوڑ دینا، بھیجاکچل دیناجس سے ہلاکت واقع ہوجائے۔ فاذا ھوزاھق، ہلاک ہونے والاجس کانشان بھی باقی نہ رہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا کذ ب باطل ہوگیا حق کے ظاہر ہونے کے ساتھ۔ یہاں تک کہ وہ تباہ اور ہلاک ہوگیا۔ ولکم الویل، اے کفار کے گروہ، مماتصفون، جو نامناسب اوصاف تم بیان کرتے ہو اور جو اللہ کی شان کو زیبا نہیں ہیں ان کی وجہ سے تمہارے لیے ہلاکت ہوگی۔
Ayah 21:19

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

اور جو لوگ آسمانوں میں اور زمین میں ہیں سب اسی کے (مملوک اور اسی کے مال) ہیں۔ اور جو (فرشتے) اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ کتراتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں

19۔ ولہ من فی السماوات والارض۔ جو میرے بندے اور جو بھی میری ملک ہیں۔ ومن عندہ ، اس سے مراد فرشتے ہیں ۔ لایستکبرون عن عبادتہ، وہ عبادت سے نہیں تھکتے اور نہ ہی اس میں تکبر کرتے ہیں۔ ولایستحسرون، اور نہ ہی اس سے ہارتے ہیں کہاجاتا ہے ، حسر واستحسر، جب وہ تھک جائے اور ہار جائے۔ سدی کا قول ہے کہ وہ عبادت میں مشغول رہتے ہیں کبھی بھی نہیں تھکتے۔
Ayah 21:20

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

وہ جو کام کرتا ہے رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں) نہ اکتاتے ہیں

20۔ یسبحون اللیل والنھار لایفترون، کمزور نہیں پڑتے۔ کعب احبا کا بیان ہے ملائکہ کے لیے تسبیح خداوندی ایسی ہے جیسے آدمیوں کے لیے سانسیں۔
Ayah 21:21

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

بھلا لوگوں نے جو زمین کی چیزوں سے (بعض کو) معبود بنا لیا ہے (تو کیا) وہ انکو (مرنے کے بعد) اٹھا کھڑا کریں گے ؟

21۔ ام اتخذوالھۃ۔ استفہام بمعنی جحد کے ہے خدا کے سوا تم معبود نہ پکڑو۔ من الارض، اس سے مراد بت ہیں خواہ وہ لکڑی تراشیدہ ہوں یاپتھر کے تراشیدہ ہوں۔ ھم ینشرون ، کیا وہ مردوں کو زندہ کرکے اٹھائیں گے اور کہاوہ الہ کہنے کے مستحق ہیں مگر وہ مستحق عبادت ہے جو زندہ کرنے ، مارنے اور کامل نعمتیں عطا کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور جب مشرک بتوں کو بھی معبود قرار دیتے ہیں تو گویا اس بات کے مدعی ہیں کہ بت بھی زندہ کرنے مردہ کرنے اور نعمتیں عطا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور یہ دعوی واقعیت کے خلاف ہے۔
Ayah 21:22

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر آسمان اور زمین میں خدا کے سوا اور معبود ہوتے تو (زمین و آسمان) درہم برہم ہوجاتے۔ جو باتیں یہ لوگ بتاتے ہیں خدائے مالک عرش ان سے پاک ہے

22۔ لوکان فیھما، زمین و آسمان میں، الھۃ الا اللہ، اللہ کے سوا کوئی معبود ہوتا۔ لفسدتا، ، تو زمین میں بگاڑ پیدا ہوتا اور دونوں پیدا ہی نہ ہوتے اور دونوں کی طرف سے حکم صادر ہوتا اور ٹکڑاؤ پیدا ہوتا۔ اس طرح نظام میں اکثر بگاڑ پیدا ہوتا اللہ رب العزت نے اس کی تردید فرمائی۔ ” فسبحان اللہ رب العرش عمایصفون۔ یعنی مشرکین جوان کے لیے اللہ کی بیوی، بچے اور شرکاء ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہیں۔
Ayah 21:23

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

وہ جو کام کرتا ہے اس کی پرسش نہیں ہوگی اور (جو کام یہ لوگ کرتے ہیں اس کی) ان سے پرسش ہوگی

23۔ لایسئل عمایفعل، وہ اپنی مخلوق پر حاکم ہے کیونکہ وہ رب ہے دونوں جہانوں کا پالنے والا ہے۔ اس لیے اس سے نہیں پوچھاجائے گا، وھم یسئلون ، اور مخلوقات سے پوچھاجائے گا، ان کے اعمال و افعال کے بارے میں کیوں کہ وہ اس کے بندے ہیں۔
Ayah 21:24

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

کیا لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر معبود بنا لیے ہیں ؟ کہہ دو کہ (اس بات پر) اپنی دلیل پیش کرو یہ (میری اور) میرے ساتھ والوں کی کتاب بھی ہے اور جو مجھ سے پہلے (پیغمبر) ہوئے ہیں انکی کتابیں بھی ہیں بلکہ (بات یہ ہے کہ) ان میں اکثر حق بات کو نہیں جانتے اور اس لئے منہ پھیر لیتے ہیں

تفسیر۔ 24۔ ام تخذا من دونہ الھۃ۔ استفہام انکاری توبیخ کے لیے ہے۔ قل ھاتوا برھانکم، اس پر حجت اور دلیل لے آؤ۔ پھر جملہ کو دوبارہ ذکر کیا۔ ھذا، اس سے مراد قرآن ہے۔ ذکر من معی، اس میں خبر وہ موجود ہے جو میرے پاس ہے اور یہ میری امت کے لیے بھی نصیحت نامہ ہے کہ جنہوں نے اس پر عمل کیا اور اس کی اطاعت کی۔ انکوثواب کامل حاصل ہوا۔ وذکر، خبر ہے۔ من قبلی، ماقبل امتوں میں بھی ایسا نہیں ہوا اور نہ ہی آخرت میں اس کا کوئی شریک ہوگا۔ عطاء کی روایت میں ابن عباس ؓ عنہماکاقول آیا ہے کہ ذکر من معی، سے مراد قرآن ہے اور ذکر من قبلی سے مراد تورات اور انجیل ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ بتاؤ کہ کس جگہ میں بھی یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ نے کسی کو اپناشریک یابیٹا بنایا ہو یا اپنے سوا کسی اور کی عبادت کا حکم دیا ہو۔ بل اکثرھم لایعلمون الحق فھم معرضون۔
Ayah 21:25

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اور جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو

25۔ وماارسلناک من قبلک من رسول الانوحی الیہ۔ حمزہ، کسائی ، حفص نے عاصم کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ نوحی، الیہ، نون کے ساتھ اور حاء کے کسرہ کے ساتھ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، وماارسلناک ، اور دوسرے قراء نے یاء اور حاء کے فتحہ کے ساتھ فعل مجہول پڑھا ہے ۔ انہ لاالہ الاانا فاعبدون۔ اس سے مراد توحید ہے۔
Ayah 21:26

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے وہ پاک ہے (اسکے نہ بیٹا ہے نہ بیٹی) بلکہ (جن کو یہ لوگ اس کے بیٹے اور بیٹیاں سمجھتے ہیں) وہ اس کے عزت والے بندے ہیں

26۔ وقالواتخذ الرحمن ولد۔ یہ آیت قبیلہ خزاعہ کے بارے میں نازل ہوئی جو یہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ سبحانہ ، ان کے اس قول سے برات اختیار کی۔ بل عباد، ہم اس کے بندے ہیں یعنی فرشتے اللہ کی بیٹیاں نہیں ہیں خدا ان کا باپ نہیں خالق ہے۔ مکرمون ۔
Ayah 21:27

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

اس کے آگے بڑھ کر بول نہیں سکتے اور اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں

27۔ لایسبقونہ بالقول۔ اس کی بات کے آگے کوئی کلام نہ کرتے اور اللہ کی اجازت اور اذن کے بغیر کوئی بات نہیں کہتے اور اللہ جو حکم ان کو دیتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ اس کے حکم خلاف کچھ نہیں کرتے۔ وھم بامرہ یعملون، اس کا معنی یہ ہے کہ وہ ان کی مخالفت نہیں کرتے نہ قولا اور نہ عملا۔
Ayah 21:28

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

جو کچھ ان کے آگے ہوچکا ہے اور جو پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اسکے پاس کسی کی) سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے خدا خوش ہوا اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں

28۔ یعلم مابین ایدیھم وماخلفھم، جو انہوں نے عمل کرلیے اور جو عمل ابھی تک انہوں نے نہیں کیے بعض نے کہا کہ اس سے مراد جو اس سے پہلے پیدا کیا اور جوان کے بعد پیدا ہوئے۔ ولایشفعون الالمن ارتضی، ابن عباس کا بیان ہے کہ اس سے مراد جو شخص لاالہ الا اللہ کہے، مجاہد کا بیان ہے کہ جس سے اس کا رب راضی ہو۔ وھم من خشیۃ مشفقون، وہ سب اللہ کی ہیبت سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی کسی کی طرف سے دکھ پہنچنے سے ڈرتے ہیں۔
Ayah 21:29

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور جو شخص ان میں سے یہ کہے کہ خدا کے سوا میں معبود ہوں تو اسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے (اور) ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

29۔ ومن یقل منھم انی الہ من دونہ، ، مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے مراد ابلیس ہے جو حقیقتا یاحکما ملائکہ میں سے تھا کہ جب اس نے لوگوں کو اپنی عبادت کی طرف بلایا اور اپنے نفس کی طرف اطاعت کرنے کا کہا حالانکہ فرشتوں میں سے ، کسی کا کوئی کلام ایسا نہیں کہ کوئی یہ کہہ دے کہ ، انی الہ من دون اللہ، ،۔۔ تا۔۔ الظالمین۔ جو الوہیت کا دعوی کرے اور جس کی عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے علاوہ کی عبادت کرے۔
Ayah 21:30

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے ان کو جدا جدا کردیا ؟ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے ؟

تفسیر۔ 30۔ اولم یرالذین کفرو، ، عام قراء نے واؤ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن کثیر نے ، لم یر، پڑھا ہے بغیر واؤ کے۔ اسی طرح ان کے مصحف میں بھی ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اگر جان لیتے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا۔ ان السموات والارض کانتا رتقا، ابن عباس ، ضحاک عطاء و قتادہ کا بیان ہے کہ آسمان و زمین سب باہم چسپاں اور ایک ہی تھے۔ ففتقناھما کی مختلف تفاسیر۔ ” ففتقناھما “ پھر ہوا داخل کرکے ہم نے دونوں کو الگ الگ کردیا۔ رتق، لغت میں کہاجاتا ہے بند باندھنا، ملادینا اور رفیق کا معنی ہے پھاڑ دینا، کھول دینا، کعب نے کہا اللہ نے آسمان اور زمین کو اوپرنیچے بنایا تھا۔ پھر ہوا پیدا کرکے اس کو دونوں کے بیچ مین داخل کرکے دونوں کو کھول دیا۔ مجاہد اور سدی نے کہا کہ آسمان و زمین چسپاں اور ایک ہی طبقہ تھے۔ پھر اللہ نے ایک آسمان کے سات کردیے اور اسی طرح ایک زمین تھی اس کے سات طبقے بنادیے۔ عکرمہ اور عطیہ نے کہا کہ آسمان بند تھا، اس سے بارش نہیں ہوتی تھی اور زمین بھی بند تھی اس سے کوئی سبزہ نہیں اگتا تھا۔ پھر اللہ نے بارش کے ذریعے سے آسمان میں شگاف اور سبزہ اگا کر زمین میں سوراخ بنادیے۔ اس مطلب پر، السموات ، سے مراد آسمان دنیا اور چونکہ اس کے اجزاء بہت ہیں اس لیے ، سموات ، کے لفظ کا اس پر طلاق کیا یاسموات سے متعدد آسمان ہی مراد ہیں اور سب آسمانوں کو بارش برسانے میں دخل ہے۔ اور بعض حضرات نے کہا کہ ، رتقا ، مفرد ہے۔ اس صورت میں یہ صفت ہوگی ۔ سماوات والارض۔ کی کیونکہ یہ مصدر ہے اور مصدر قائم مقام اسم کے ہے جیسے زور اورصوم ہیں۔ وجعلنا، اور ہم نے اس سے پیدا کیے۔ من الماء کل شئی حی، جس کو پانی کے ذریعے زندگی دی جاتی ہے۔ اس کا نزول آسمان سے ہوتا ہے تاکہ اس سے تمام اشیاء کو حیات نوحاصل ہے۔ اس حیات میں انسان، حیوان، شجر، وغیرہ ہیں۔ یعنی یہ بارش ان کے لیے زندگی کا سبب ہے۔ مفسرین کا قول ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہرچیز زندہ ہے اور وہ پانی سے پیدا ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔ واللہ خلق کل دابۃ من مائ، ابوالعالیہ کا بیان ہے کہ اس سے مراد نطفہ ہے۔ سوال : یہ سوال کیا جائے کہ بعض اشیاء اللہ نے پیدا کیں، مگر ان کی پیدائش پانی کے ساتھ نہیں ہوئی ؟ جواب : یہ بطور تفکر کے ہے۔ یعنی زمین پر جتنی اشیاء کو پیدا کیا گیا ان کی پیدائش کا سبب پانی ہی ہے یا ان کی زندگی کا بقاء پانی ہے۔ افلایومنون۔
Ayah 21:31

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ لوگوں (کے بوجھ) سے ہلنے (اور جھکنے) نہ لگے اور اس میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ ان پر چلیں

31۔ وجعلنا فی الارض رواسی، جمے ہوئے پہاڑ اور گڑھے ہوئے پہار، ان تمیدبھم، تاکہ وہ اپنے باشندوں کو لے کر نہ لرزے۔ وجعلنا فیھا، زمین میں یا پہاڑوں میں، فجاجا، کشادہ راستے بنائے۔ دو پہاڑوں کے درمیان۔ فج، اسی کو کہتے ہیں کہ ہم نے ان پہاڑوں کے درمیان راستے بنادیے تاکہ تم اپنے مقاصد اور کام کاج میں لگے رہو۔ سبلا، فجاج کی تفسیر ہے ۔ لعلھم یھتدون۔
Ayah 21:32

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا اس پر بھی وہ ہماری نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں

32۔ وجعلناالسماء سقفا محفوظا، ، کہ وہ تم پر گرجائے۔ اس کے گرنے سے محفوظ بنالیا۔ ویمسک السماء ان تقع علی الارض الاباذنہ، ، بعض نے کہا کہ آسمان کو محفوظ کردیاشہاب ثاقب کے ساتھ۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ، وحفظناھا من کل شیطان رجیم۔ وھم ، اس سے کفار مراد ہیں۔ عن ایا تھا، یعنی چاند ستارے ، سورج اور ان کے مختلف احوال جو صانع کے وجود وحدوث اور کمال قدرت اور وسعت حکمت پر دلالت کررہے ہیں ان کی طرف سے وہ لوگ روگرداں ہیں غور نہیں کرتے۔ معرضون، اس میں غور و فکر نہیں کرتے اور نہ ہی عبرت پکڑتے ہیں۔
Ayah 21:33

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو بنایا (یہ) سب (یعنی سورج اور چاند اور ستارے) آسمان میں (اس طرح چلتے ہیں گویا) تیر رہے ہیں

33۔ وھوالذی خلق اللیل والنھار والشمس والقمر کل فی فلک یسبحون، ، تیرتے ہیں تیز چلتے ہیں جیسے سمندر میں تیزی سے بھاگ رہے ہوں۔ یسبحون، فرمایا، تسبح نہیں فرمایا، کیونکہ یہ اشیاء ذوی العقول میں سے نہں ہیں اور تسبیح پڑھنا ذوی العقول کا کام ہے۔ فلک، یعنی مدار نجوم جو سب ستاروں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ فلک، کلام عرب میں ہرگول گھیرے کو فلک کہاجاتا ہے ۔ اسکی جمع افلاک ہے ۔ حسن کا قول ہے کہ چکی سے مراد یہ ہے کہ چکی کے گول چکر کی طرح ستارے دائرہ میں چلتے ہیں یعنی ستاروں کی رفتار مستدیر ہے۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ چکی کے گول چکر کی طرح چکر کاٹتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ فلک آسمان ہی ہے۔ آسمان دنیا ہی پر سب ستارے چلتے ہیں اور فلک کی تنوین بتلارہی ہے کہ ہر ستارہ ایک دائرہ میں چل رہا ہے تمام ستاروں کے مدار مختلف متعدد گھیروں پر ہیں جوا سکے لیے مقرر کردیے گئے ہیں۔ کلبی نے کہا کہ فلک آسمان کی گولائی کو کہتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ آسمان کے نیچے موج بستہ کا نام فلک ہے جس میں چاند سورج اور ستارے چلتے ہیں۔
Ayah 21:34

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کو بقائے دوام نہیں بخشا بھلا اگر تم مرجاؤ تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟

تفسیر۔ 34۔ وماجعلنا لبشر من قبلک الخلد،۔ دنیا میں ہمیشہ رہنا۔ افان مت فھم الخالدون، کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمیشہ رہیں گے آپ کے وفات پاجانے کے بعد۔ بعض نے کہا کہ اس آیت کا نزول اس وقت ہوا جب کافروں نے کہا تھا کہ ہم تو اس وقت کے منتظر ہیں جب محمد پر موت کا چکر پڑے۔
Ayah 21:35

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے اور ہم تم لوگوں کو سختی اور آسودگی میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں اور تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے

35۔ کل نفس ذائقۃ الموت ونبلوکم،۔ ہم تمہارے ساتھ ایسا ہی عمل کریں گے جیسا کہ امتحان لینے والا کرتا ہے۔ بالشر والخیر، سختی کے وقت اور نرمی کے وقت صحت کے زمانے میں اور بیماری کے زمانے میں، اور امیری کی حالت میں ، فقیری کی حالت میں، ہر طرح سے ہم تمہاری جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ خواہ تم اس چیز کو پسند کرتے ہو اور یا ناپسند کرتے ہو ۔ فتنہ، تمہیں مبتلا کردیں گے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ تم مرغوب و محبوب مقصد کو حاصل کرکے شکرادا کرتے ہو یا ناشکری اور دکھ پر صبر کرتے ہو یاشکوہ و شکایت وبے صبری ، والینا ترجعون۔
Ayah 21:36

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

اور جب کافر تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے استہزاء کرتے ہیں کہ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے ؟ حالانکہ وہ خود رحمن کے نام سے منکر ہیں

36۔ واذاراک الذین کفروا ان یتخذونک۔ وہ آپ کاٹھٹھا نہیں کرتے۔ ، الاھزوا، مگر مسخرہ کے طور پر، سدی کا قول ہے کہ یہ آیت ابوجہل کے متعلق نازل ہوئی کہ یہ ایک مرتبہ نبی کریم کے پاس سے گزرا تو نبی کریم ﷺ پر ہنس پڑا اور کہا کہ یہ عبد مناف کا نبی ہے۔ ” اھذا الذی، وہ بعض، بعض کے ساتھ کہنے لگے کہ یہ ہے وہی۔ یذکرآلھتکم، یعنی کیا یہ ہی وہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے۔ چونکہ دشمن کا ذکر برائی کے ساتھ ہوتا ہے اور دوست کا ذکر اچھائی کے ساتھ ہوتا ہے۔ جیسے کہاجاتا ہے ، فلانا یذکر فلانا، فلاں شخص اس آدمی کی برائی کررہا ہے ، وفلاں یذکراللہ، فلاں شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے یعنی اللہ کی اچھی صفات بیان کرتا ہے ۔ وھم بذکرالرحمن ھم کافرون، اور یہ اس وجہ کہ وہ کہتے تھے کہ رحمن یمامہ مسیلمہ کے علاوہ ہم کسی اور کو نہیں جانتے۔ وھم ، یہ ثانی صلہ ہے۔
Ayahs 21:37–38

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

انسان (کچھ جلدباز ہے کہ گویا) جلد بازی ہی سے بنایا گیا ہے میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھلاؤں گا تو تم جلدی نہ کرو

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعید (ہے وہ) کب آئے گا

37۔ خلق الانسان من عجل، ، اس بارے میں اختلاف ہے۔ بعض قوم نے کہا کہ انسان کی سرشت میں جلدبازی ہے اس کا معنی یہ ہے کہ انسان کی نیت اور اس کی خلقت میں عجلت ہے اور اسی کی طبیعت میں سرشت میں داخل ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ، وکان الانسان عجولا۔ سعید بن جبیر ؓ کا اور سدی کا قول ہے کہ جب حضرت آدم کے سر اور آنکھوں میں روح داخل ہوگئی تو جنت کے پھلوں پر فورا نظر پڑی اس کے بعد روح پیٹ کے اندر پہنچی تو آپ کو کھانے کی اشتہاء پیدا ہوگئی اور فورا ٹانگوں تک روح پہنچے سے پہلے ہی جنت کے پھل لینے کے لیے اٹھنے لگے لیکن اٹھ نہ سکے اور گرپڑے۔ اسی لیے کہا گیا، خلق الانسان ضعیفا، خلق الانسان من عجل، انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور ان کی اولاد میں عجلت وراثت میں عطا کی گئی ۔ عرب لوگ کہتے ہیں کہ جس چیز کی زیادہ عجلت پسندی ہو تو اس کے بارے میں کہتے ہیں، خلقت منہ، جیسے کہاجاتا ہے، خلقت من تعب، خلقت من غضب، اس کے وصف میں ، مبالغہ ، بولاجاتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان دلالت کرتا ہے ، وکان الانسان عجولا۔ بعض اہل مفسرین کا قول ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے تھوڑے وقت میں پیدا کیا، آدم (علیہ السلام) کی تخلیق میں عجلت سے کام لیا تھا، آپ کی پہلے دن کے آخری حصے تک پیدائش کی جاچکی تھی۔ حضرت آدم کے سر میں جب روح داخل ہوگئی تو آپ نے عرض کیا الٰہی غروب آفتاب سے پہلے میری تخلیق پوری کردے۔ یہ مجاہد کا قول ہے اور بعض نے کہا کہ حضرت آدم کو جلدی مین پیدا کیا گیا۔ ان کو تمام اشیاء کے پیدا کرنے کے بعد جمعہ کے آخری حصہ میں پیدا کیا گیا ان کی پیدائش میں مغرب سے پہلے پہلے جلدی کی۔ اوربعضنے کہا کہ ان کو جلدی اور تیزی سے بنایا بغیر ترتیب کے جیسے کہ دوسرے آدمیوں کو ترتیب سے بنایا۔ پہلے نطفہ، پھر علق، پھر مضغہ، وغیرھا۔ بعض مفسرین نے کہا کہ عجل کا معنی ہے گیلی مٹی، جیسا کہ شاعر کا قول ہے۔ والنبع فی صخرۃ الصماء منبتہ۔ والنخل ینبت بین الماء والعجل۔ ترجمہ :(درخت نبع کی پیدائش کا مقام ٹھوس پتھروں میں ہوتا ہے اور کھجور کا درخت پانی اور کیچڑ سے پیدا ہوتا ہے) ۔ ” ساوریکم آیاتی فلاتستعجلون۔ یہ خطاب مشرکین کو ہے۔ مشرکین عذاب کے طلب کرنے میں جلدی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا اور بعض نے کہا کہ اس کا نزول نضر بن حارث کے متعلق ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، ساوریکم آیاتی، کہ یہ میری طرف سے وعدہ کیا ہوا ہے اس میں جلدی نہ کرو۔ وقت عذاب کا مطالبہ نہ کریں پھر اللہ نے بدر کے دن ان کو عذاب دکھادیا اور بعض نے کہا کہ آخرت کے عذاب میں وہ جلدی کرتے ہیں۔
Ayah 21:39

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

اے کاش کافر اس وقت کو جانیں جب وہ اپنے من ہوں پر سے (دوزخ کی) آگ کو روک نہ سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھ پر سے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا

تفسیر۔ 39۔ لویعلم الذین کفرو حین لایکفون، نہ وہ پھیر سکیں گے ۔ عن وجوھھم النار ولاعن ظھورھم ، بعض نے کہا کہ وہ اپنی پیٹھوں کی جانب سے نہ روک سکیں گے۔ ولاھم ینصرون، اور نہ ہی ان سے عذاب کو روکا جائے گا۔ (لو) کا جواب اس قول میں ہے، لویعلم الذین ، یہ محذوف ہے ، اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ اگر کافر جان لیں کہ اس وقت کو جب کہ ان کی طرف سے ان کو آگ اپنے گھیرے میں لے لی گی اور اس کو وہ نہ خود دفع کرسکیں گے اور نہ کوئی ایسا مددگار بنے گا جو عذاب کو دفع کرسکے تو وہ اپنے کفر پر قائم نہیں رہیں گے یا عذاب آنے میں جلدی کریں گے اور یہ نہیں کہیں گے کہ اس کا وعدہ کب آئے گا۔
Ayah 21:40

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

بلکہ (قیامت) ان پر ناگہاں آواقع ہوگی اور انکے ہوش کھو دے گی پھر نہ تو وہ اس کو ہٹا سکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی

40۔ بل تاتیھم، ، قیامت کی گھڑی ان پر آپڑے گی۔ بغتہ، اچانک ناگہاں، فتبھتھم، اس وقت یہ حیران رہ جائیں گے جیسے کہا، جاتا ہے فلاں متحیر پریشان ہے۔ یعنی وہ حیران ہے۔ فلایستطیعون ردھا ولاھم ینظرون، اور ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔