Ayah 22:1تفسیر۔
1۔ یا ایھا الناس اتقوا ربکم، اس کے عذاب سے ڈرتے رہو، اورا س کی اطاعت و فرمانبرداری میں لگے رہو، ان زلزلۃ الساعۃ شئی عظیم، کسی چیز کا شدت سے حرکت کرنا۔ یہ زلزلہ کب آئے گا، اس بارے میں علقمہ اور شعبی کا قول ہے کہ یہ قیامت سے پہلے آئے گا، اور یہ قیامت کی خصوسی نشانی ہوگی۔ حسن اور سدی کا قول ہے کہ یہ زلزلہ قیامت کے دن آئے گا، ابن عباس کا قول ہے کہ قیامت کا زلزلہ اس کے ساتھ ساتھ ہوگا۔
Ayah 22:22۔ یوم ترونھا، اس سے مراد قیامت ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد زلزلہ ہے۔ تذھل، ابن عباس کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے ، تشتغل، اپنے بچے میں مشغول ہوجائے گی، بعض نے کہا کہ وہ اس دن اپنے دودھ پینے والے بچے کو بھول جائے گی جیسا کہ کہاجاتا ہے ، ذھلت عن کذا، جب وہ کسی چیز کو چھوڑ دیتے ہیں اسو قت یہ بولتے ہیں اور وہ دوسرے کام میں مشغول ہوجائے۔ کل مرضعۃ عماارضعت ، ہر وہ عورت جس کے ساتھ دودھ پیتابچہ ہوگا جو کو وہ دودھ پلاتی ہو، جیسے کہاجاتا ہے ، امراۃ مرضع، بغیر ھا کے۔ جب کہ اس کی صفت مراد لی جائے۔ اگرچہ فی الوقت وہ دودھ نہ پلارہی ہو۔ پھر بھی اس کو دودھ پلانے والی عورت کہاجاتا ہے۔ جیسے حائضہ اور حاملہ کہا جاتا ہے۔ جس کسی چیز کے فعل کا ارادہ کیا جائے تو اس وقت اس پر ھا دا (رح) خل کی جاتی ہے۔ وتضع کل ذات حمل حملھا، یعنی وہ اپنے بچے کو گرادے گی اس دن کی ہیبت کی وجہ سے۔
حسن کا قول ہے کہ اس دن مرضعہ اپنے دودھ پیتے بچے کو دودھ چھڑانے سے غافل ہوجائے گی اور حاملہ کو ناقص اسقاط ہوجائے گا۔ یہ اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ یہ زلزلہ دنیا پر برپا ہوگانہ کہ قیامت کے دن کیونکہ قیامت کے دن اٹھ جانے کے بعد کوئی عورت حاملہ نہ ہوگی ، اور جو لو گ کہتے ہیں کہ یہ زلزلہ قیامت کے دن آئے گا وہ اس امر کی تعظیم کی وجہ سے کہتے ہیں نہ کہ حقیقت کے طور پر۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے مجھے فلاں کام کی وجہ سے بڑھاپا آگیا، اس سے مراد اس کام کی شدت بیان کرنا مقصود ہوتا ہے وترالناس سکاری وماھم بسکاری۔
حمزہ اور کسائی نے ، سکری وماھم بسکری، پڑھا ہے بغیر الف کے اس مں دونوں لغات ہیں۔ یہ سکران کی جمع ہے جیسے کسلی اور کسالی، حسن کا قول ہے کہ خوف کی وجہ سے تم لوگ سکر کی حالت میں نظر آئیں گے وہ شراب کانشہ نہیں ہوگا، بعض نے کہا کہ تو لوگوں کو دیکھے گا گویا وہ نشے کی حالت میں ہیں۔ ولکن عذاب اللہ شدید۔
یاجوج ماجوج کا قصہ۔
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت آدم سے کہیں گے اے آدم، کھڑے ہوں اور جہنم میں جانے والی اولاد میں سے نکالیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت آدم فرمائیں گے ، حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، خیر تیرے ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے دوزخ میں جانے والاحصہ نکالوا۔ آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے دوزخ کا کتناحصہ ہے۔ اللہ فرمائے گا ہر ہزار میں سے نوسوننانوے ، اس وقت بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور ہر حاملہ عورت اسقاط حمل کردے گی تم لوگوں کو متوالادیکھو گے حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب سخت ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ وہ ہزار میں سے ایک ہم میں سے کون ہوگا ؟ فرمایا تم میں سے ایک جنتی ہوگا اور یاجوج وماجوج میں سے ہزار کم ایک پھر فرمایا قسم ہے اقس کی جس کے ہاتھ میری جان ہے میں امید رکھتا ہوں تم جنت والوں کا چہارم حصہ ہوں گے۔ ہم نے سن کر تکبیر کہی۔ حضور نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہوں گے۔ ہم نے یہ سن کر تکبیر کہی، فرمایا میں امید کرتا ہوں تم لوگ اہل جنت کے آدھے ہوں گے۔ ہم نے اللہ اکبر کہا، فرمایا تم لوگ دوسرے لوگوں کی بنست اتنے ہوں گے جیسے ایک کالابال سفید بیل کی کھال پر یاجی سے ایک سفید بال کالے بیل کی کھال پر۔
حضرت عمران بن حصین اور حضرت ابوسعید کی روایت ہے کہ یہ دونوں آیتیں غزوہ بنی مصطلق کے دوران رات کے وقت نازل ہوئیں ۔ حضور نے ندا کرکے سب کو بلوایا اور یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں آیات کو سن لوگ اتنا روئے کہ اس رات سے زیادہ رونے والے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ یہ بات صحابہ کرام پر بہت شاق گزری وہ رونے لگے اور عرض کیا یارسول اللہ پھر کون نجات پائے گا حضور نے فرمایا تم خوش ہوجاؤ اور سیدھی چال رکھو تمہارے ساتھ دومخلوقیں اور بھی ہوں گی جو ہر قوم سے زائدہ ہوں گی یعنی یاجوج وماجوج۔ پھر فرمایا مجھے امید ہے کہ تم کل اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہوں گے یہ سن کر لوگوں نے اللہ اکبر کا کہا، اور اللہ کی حمد کی۔ حضور نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم کل اہل جنت کا آدھا ہوں گے۔ صحابہ کرام نے یہ بات سن کر اللہ اکبر کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ پھر حضور نے فرمایا مجھے تواب یہ امید ہے کہ تمہاری تعداد جنت کی دوتہائی ہوگی۔ اہل جنت کی ایک سوبیس قطاریں ہوں گی ان میں سے اسی (80) قطاریں میری امت کی ہوں گی۔
کافروں کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد اتنی ہوگی جیسے اونٹ کے پہلو پر تل یا گھوڑے کے پاؤں پر دوسرے رنگ کی لکیر یا دھبہ، بلکہ جیسے سفید بیل کی پشت پر ایک سیاہ بال یاسیاہ بیل کی پشت پر ایک سفید بال۔ پھر فرمایا میری امت کے سترہزار آدمی بلاحساب جنت میں جائیں گے ۔ حضرت عمر نے فرمایا سترہزار فرمایا، ہاں اور ہر ایک کے ساتھ سترہزار یہ سن کر عکاشہ بن محصن کھڑے ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان میں سے کردے۔ فرمایا تم ان میں سے ہو ، اس کے بعد ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (ﷺ ) اللہ سے دعا فرمائیے کہ اللہ مجھے بھی ان میں شامل کردے فرمایا عکاشہ تم سے سبقت لے گئے۔
Ayah 22:3تفسیر۔
3۔ ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیرعلم، ، اس آیت کا نزول نضر بن حارث کے حق میں ہوا۔ نضر بڑا جھگڑالو شخص تھا وہ کہتا تھا کہ ملائکہ خدا کی بیٹیاں ہیں قرآن گزشتہ لوگوں کی لکھی ہوئی (داستان ہے) یہ شخص حشر جسمانی کا منکر تھا اور یہ کہتا تھا جو چیز خاک ہوگئی اس کو زندہ کرنا ناممکن ہے۔ ویتبع ، اللہ تعالیٰ کے احکام کے مقابلے میں بغیر دلیل کے وہ لڑتا تھا، کل شیطان مرید جو خیر سے خالی ہو اور شر میں ڈوبا ہوا ہو۔
Ayah 22:4تفسیر۔
4۔ کتب علیہ ، اللہ تعالیٰ نے شیطان کے متعلق یہ لکھ دیا ہے یعنی فیصلہ کردیا ہے جو شخص اس کے پیچھے چلے گا، انہ من تولاہ ، اور جو اس شیطان کی پیروی کرے گا، فانہ وہ اسی میں سے ہوگا، یضلہ ، جو اس کی پیروی کرے گا شیطان ضرور اس کو بھٹکادے گا، ویھدیہ الی عذاب السعیر۔ اپنی حجت تام کرلیتا ہے اور بعثت کامنکر بنادیتا ہے۔
Ayah 22:55۔ یا ایھا الناس ان کنتم فی ریب، اس میں کوئی شک نہیں ، من البعث فاناخلقناکم، ہم نے تمہاری اصل کو یعنی آڈم کو پیدا کیا جس سے تمہاری نسل جاری ہوئی ہے۔ من تراب ثم من نطفۃ، آدم کی اولاد کو نطفہ سے پیدا کیا اور وہ نطفہ منی کا تھا، اصل میں یہ ماء قلیل پر بولاجاتا ہے اس کی جمع نطاف آتی ہے۔ ثم من علقۃ ، اور وہ جماہوا خون جو ایک لوتھڑے کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس کی جمع علق ہے اور یہ اس وجہ سے کہ نطفہ پہلے خون بنتا ہے پھر گوشت کالوتھڑا۔ ثم من مضغہ، یہ گوشت کا چھوٹا ساٹکرا۔ مخلقہ وغیر مخلقۃ، ابن عباس اور قتادہ کا قول ہے کہ ، مخلقہ کا معنی ہے مکمل ملاوٹ والا اور ناتمام ساخت والا مجاہدکاقول ہے کہ اس سے مراد مصورہ اور غیر مصورہ (جس کی صورت بنادی دی گئی ہو یا وہ جس کی صورت ابھی نہ بنائی گئی ہو) بعض نے لکھا کہ مخلقہ سے وہ بچہ مراد ہے جو اپنی پوری مدت حمل گزار کر اپنے وقت پر پیدا ہوتا ہے اور غیر مخلقہ سے مراد ہے وہ بچہ جو وقت سے پہلے ساقط ہوجاتا ہے۔
” ونقر فی الارحام مانشائ، اس مدت میں نہ بچے کو باہر پھینکنتے ہیں اور نہ ہی اسقاط حمل کرتے ہیں ۔ الی اجل مسمی، ایک مدت تک ہم اس کو رحم میں ٹھہرائے رکھتے ہیں جب تک اس کی خلقت پوری نہ ہوجائے اور مدت تمام نہ ہوجائے پھر تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالتے ہیں۔ طفلا، اس سے مراد بچہ ہے اطفال نہیں فرمایا کیونکہ عرب لوگ جمع کے صیغہ کو واحد کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ مصدر کے ساتھ تشبیہ دی ۔
” ثم لتبلغوا اشدکم، جب تم اپنی عقلی اور جسمانی طاقت کے اس کمال کو پہنچ جاؤ جو اللہ کی طرف سے تمہارے لیے مقرر کردیا گیا ہے۔ ومنکم من یتوفی، بوڑھاپے سے پہلے ۔ ومنکم من یرد الی ارذل العمر۔ انتہائی پیری اور سن خرافت تک۔ لیکلا یعلم من بعد علم شیئا، اتنی عمر تک پہنچ جائے کہ جس عمر میں عقل متغیر ہوجائے اور اس کی سمجھ کمزور پڑجائے پھر دوسری دلیل بعث پر ذکر کی۔ وتری الارض ھامدۃ، وہ خشک زمین تھی اس پر کوئی سبزہ نہیں تھا، فاذا انزلنا علیھا المائ، پھر ہم نے اس پر بارش برسائی ، اھتزت ، وہ سبزہ کی روئیدگی کے سبب ہلنے لگی۔ وربت، اور وہ بڑھ گئی ابھرآئی ، پھول گئی۔ ابوجعفر نے اس کو، رابت، پڑھا ہے ہمزہ کے ساتھ اور اسی طرح حم سجدہ میں پڑھا ہے یعنی وہ بلند ہوگئی اور حرکت کرنے لگ گئی۔ مبرد کا قول ہے کہ زمین کی طرف لہلہانے اور ابھرنے کی نسبت بطور مجاز کی گئی ہے اس کو مونث ذکر کیا الارض کی وجہ سے۔
اوربعض نے کہا کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہوئی ہے عبارت اصل یوں تھی ، ، ربت اھتزت، ، وانبتت من کل زوج بھیج، ہر صنف اور ہر قسم کے خوبصورت جوڑے جو دیکھنے میں بھلے لگتے ہیں۔ یہ دوسری دلیل ہے جو بعث بعدالموت پر دلالت کرتی ہے۔
Ayahs 22:6–7تفسیر۔
6۔ ذالک بان اللہ ھوالحق، ، کہ جان لو کہ وہی حق ہے ۔ وانہ یحییٰ الموتی وانہ علی کل شئی قدیر۔
Ayah 22:88۔ ومن الناس من یجادل فی اللہ ، ، اس سے مراد نضر بن حارث ہے۔ ولاھدی، وہ بیان جو معرفت الٰہیہ تک پہنچانے والا ہو ، ولاکتاب منیر۔
Ayah 22:99۔ ثانی عطفہ، روگردانی کرنا تکبر کی وجہ سے ۔ مجاہد نے کہا کہ اس سے مراد ہے گردن پھیرنا ، ابن جریج کا قول ہے کہ حق سے پھرجانا تکبر کی وجہ سے ۔ عطف ایک جانب کو کہتے ہیں عطف الرجل کہاجاتا ہے جو شخص اپنی گردن دائیں یا بائیں موڑ دے۔ انسان اعراض کے وقت جس حصہ کو بدن کو موڑلیتا ہے اور گھمالیتا ہے اس کو عطف کہتے ہیں۔ اس کی مثال واذاتتلی علیہ ، ایتنا ولی مستکبرا، ، اور دوسری جگہ ارشاد ہے ، واذاقیل لھم تعالوا یستغفرلکم رسول اللہ،۔۔ لیضل عن سبیل اللہ۔ تاکہ وہ اللہ کے دین سے لوگوں کو گمراہ کردے۔ لہ فی الدنیا خزی، اس سے مراد عذاب ہے جو بدر کے دن قتل کردیے گئے ۔ اس دن نضر بن حارث، عقبہ بن ابی معیط بدر کے دن قتل کیے گئے۔ ونذیقہ یوم القیامۃ عذاب الحریق۔
Ayah 22:1010۔ ذالک بماقدمت یداک وان اللہ لیس بظلام للعبید۔ وہ گناہ کے بغیر سزا دے یہ اس کی شان نہیں اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں پر تصر کا اختیار ہے جس طرحچا ہے کرے۔ اس کا سارے کا سارافیصلہ عدل ہی ہے وہ ظالم نہیں۔
Ayah 22:1111۔ ومن الناس من یعبداللہ علی حرف، ان آیات کا نزول ان بدوی دیہاتیوں کے متعلق ہوا جو صحرا کو چھوڑ کر مدینے میں آکر مسلمان ہوجاتے اور وہی رہ پڑتے۔ اگر قیام مدینہ کے زمانے میں ان کی صحت درست رہتی، بیویوں کے کے لڑے پیدا ہوتے اور گھوڑیوں کے خوبصورت بچھڑے ہوتے تو کہتے یہ اچھا مذہب ہے اور اس سے مجھے بڑافائدہ ہوا اور اگر اس کے خلاہوتا یعنی ان کی صحت بگڑجاتی، عورتوں کے ہاں لڑکیاں پیدا ہوتیں تو کہتے کہ ہم اس مذہب میں داخل ہوئے ہم کو کوئی بھلائی حاصل نہیں ہوئی۔ یہ کہہ کر اسلام سے مرتد ہوجاتے اور اسلام سے منہ موڑ لیتے۔ یہی فتنہ ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ومن الناس من یعبداللہ علی حرف۔
بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ حرف کا معنی کنارہ ہے۔ شک کرنے والا، منافق دونوں گروہوں کے کنارے پر ہوتا ہے۔ مومنوں کے گروہ کے کنارے پر اور کافروں کے گروہ کے کنارے پر۔ کبھی ادھر ادھر مڑجاتا ہے کبھی ادھر اور منافق بھی فوج کے آخری کنارے پر ہوتا ہے اگر فتح محسوس کرتا ہے توٹھہرارہتا ہے اور اگر شکست محسوس کرتا ہے توبھاگ کھڑا ہوتا ہے۔
منافق میں ثابت قدمی نہیں ہوتی اور گر ٹھہر بھی جائے توپہاڑ کی ایک طرف ٹھہرنے کی طرح ٹھہرتا ہے کہ جو شخص پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوتا ہے اور وہ پہاڑ اگر جامد نہ ہو تو پھر خطرہ ہوتا ہے کہ کسی جانب گرجائے تو یہ منافق بھی اسی طرح ہے ڈرتا رہتا ہے کہ کب میرے اوپر پہاڑ گرجائے گا، اگر یہ اللہ کی عبادت کرتے اور تنگی کی حالت میں شکر کرتے اور مصیبت کے وقت صبر کرتے تو یہ ایک طرف کنارے نہ رہتے۔
حسن بصری کا قول ہے کہ منافق زبان سے عبادت کرتا ہے نہ کہ دل سے۔ فان اصابہ خیر، ان کو صحت و عافیت مل جائے اور معیشت زندگی آسان ہوجائے۔ اطمائن بہ، وہ اس پر رضامند رہتا ہے اور سکون میں رہتا ہے۔ وان اصابتہ ، اور اگر ان کے جسم میں کوئی آفت ہوجائے اور ان کو مالی تنگی ہوجائے، انقلب علی وجھہہ، تو وہ مرتد ہوجاتے ہیں جیسے کہ پہلے کفر پر تھے۔ خسرالدنیا یہ اس شک کا انجام ہے کہ دنیا میں بھی خسارہ کہ اس نے جو امیدیں لگائی ہوئی تھیں وہ پوری نہ ہوئیں۔ والاخرۃ، دین حق کو چھوڑنے کی وجہ سے آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہنا پڑے گا، یعقوب نے (خاسر) پڑھا ہے والاخرۃ، کو مجرور پڑھا ہے ، ذالک ھوالخسران المبین۔ اور اس کا یہ کھلا ہوانقصان ہے۔
Ayah 22:12تفسیر۔
12۔ یدعوا من دون اللہ مالایضرہ، ، وہ ایسی چیز کی پوجا کرتا ہے کہ اس کی پوجا نہ کرتے تو وہ چیز ان کو ضرر نہیں پہنچاسکتی۔ ومالاینفعہ، اور اس کو پوجے تو وہ فائدہ نہیں دے سکتی۔ ذالک ھوالضلال البعید۔ حق کا راستہ نہ ملنا، راہ مستقیم سے دور ہوجانا ہے۔
Ayahs 22:13–1413۔ یدعوالمن ضرہ اقرب من نفعہ، یہ آیت مشکلات قرآن میں سے شمار کی جاتی ہے اس میں چند سوالات ذکر کیے جاتے ہیں۔
سوال : پہلی آیت مٰں اللہ نے فرمایا، یدعوا من دون اللہ، ،، اور اس آیت میں ارشاد فرمایا ، لمن ضرہ اقرب من نفعہ، ان دونوں آیات میں توفیق کیسے ممکن ہے ؟۔
جواب : پہلی آیت میں ، یدعوا من دون اللہ مالایضرہ، اس آیت سے مراد ہے کہ ترک عبادت سے اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ یعنی اگر وہ بتوں کی عبادت نہیں بھی کرے گا تو وہ بت اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے اور دوسری آیت میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ اس کا ان بتوں کی عبادت کرنا زیادہ ضرررساں ہے۔
سوال : یہاں کیسے فرمایا کہ ، لمن ضرہ اقرب من نفعہ، حالانکہ بتوں سے بالکل ہی نفع حاصل نہیں کیا جاسکتا ؟۔
جواب : یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جو چیز بالکل موجود نہ ہو اس کے بعد متعلق، بعد، کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں شئی بعید ہے یعنی معدوم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ذالک رجع بعید، یہ لوٹنا بعید ہے یعنی ہو نہیں سکتا چونکہ بتوں سے چناچہ بتوں سے فائدہ حاصل ہونا ناممکن نہیں تھا، اس لیے ضرہ اقرب من نفعہ، فرمایا، مطلب یہ کہ بت پرستی کا ضرر ضرور ہوگا۔
جواب : بعض حضرات نے کہا کہ کسی چیز کا ضرر اس کے نفع سے بڑھ کر ہے۔
” لمن ضرہ اقرب من نفعہ، یہ لام کونسا ہے۔ اس کے متعلق مفسرین رحہم اللہ کا قول ہے کہ بعض نے کہا یہ صلہ ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ تم ایسے معبود کو پکارتے ہو جس کا نقصان نفع سے زیادہ ہے۔ یہی ابن مسعود کی قرات ہے اور بعض نے کہا کہ ، یدعوا، بمعنی یقول کے ہے۔ اس کی خبر محذوب ہے۔ ای یقول لمن ضرہ اقرب من نفعہ، ھوالہ۔ بعض نے کہا کہ یہاں پر دوسرا ، یدعوا، محذوف ہے ۔ عبارت یوں ہوگی ، یدعوا لمن ضرہ اقرب من نفعہ، یدعو یہاں عبارت میں دوسرے یدعو اکومحذوف قرار دیں پہلے یدعو کی بنا پر۔
بعض نے کہا کہ یدعو من، یہ صلہ ہے۔ ان کا قول ، ذالک ھوالضلال البعید، گویا اس نے یوں کہا ، ھوالضلال البعید یدعوا، اس کے بعد جملہ کو دوبارہ ذکر کیا۔ اس صورت میں من، محل ، رفع میں مبتداء ہے اور اس کی خبر، لبئس المولی، مولی کا معنی ہے مددگار بعض نے کہا کہ اس سے مراد مبعود ہے ۔ ولبئس العشیر، اس کا ساتھی اس کارفیق یعنی بت۔ عرب کے ہاں زوج کو عشیر کہاجاتا ہے کہ وہ ہر وقت کا ساتھی اور رفیق معاشرت ہوتا ہے۔
Ayah 22:15تفسیر۔
15۔ من کان یظن ان لنصرہ اللہ، جو یہ گمان کرتا ہے نبی کریم کی مدد اللہ نہیں کرے گا، فی الدنیا والاخرۃ فلیمدد بسبب، رسی تان لے، الی السمائ، اس سے مراد گھر کی چھت ہے ۔ مطلب یہ کہ چھت کے ساتھ ایک رسی باندھ کر اس کو اپنے گلے میں ڈال لوتا کہ مرجائے۔ ثم لیقطع پھر اسی رسی کو کاٹ دو ، بعض نے کہا کہ پھر تو اس کو کاٹ دے۔ یعنی تم اس رسی کو لمباچھوڑ دو تاکہ اس کے ذریعے رگیں کٹ جائیں یادب جائیں اس سے وہ مرجائے ، فلینظر ھل یذھبن کیدہ، اس کی کاریگری اور اس کاحیلہ، مایغیظ ، ما بمعنی مصدر کے ہے۔ کیا اس کا غصہ پر مکروفریب چلاجائے گا، اس کا معنی ہے کہ وہ غصے کے ساتھ اپنی گردن کو رسی سے باندھ لے تاکہ غصہ کی وجہ سے مرجائے جیسا کہ حاسد کے لیے کہاجاتا ہے اگر تو اس بات پر راضی نہیں تو اپنا گھلاگھوٹ کرمرجانا۔
ابن زید کا قول ہے کہ ، آیت میں ، السمائ، سے مراد آسمان دنیا ہے مطلب یہ کہ جو شخص خیال کرتا ہو کہ اللہ اپنے نبی کی مدد نہیں کرے گا، اس کو چاہیے کہ اس سلسلہ کو جڑ سے ہی کاٹ دے اور رسی تان کر آسمان دنیاتک پہنچ جائے اور وہاں سے آنے والی خداوندی نصرت کو روک دے اس کا مطلب یہ کہ آسمان دنیا تک پہنچ کر وہاں سے وحی کا آنا بند کردے، تو پھر وہ دیکھ لے کہ وہ اس کے ذریعے سے اپنے غصہ کو ٹھنڈا کرلے۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ اس آیت کا نزول بنی اسد اور بنی غطفان کے حق میں ہوا۔ ان دونوں قبیلوں کا یہودیوں سے باہم امداد کا معاہدہ ہے ۔ رسول اللہ نے جب ان کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے کہا ہمارے لیے مسلمان ہو ناممکن نہیں کیونکہ ہم کو اندیشہ ہے کہ اللہ محمد کی مدد نہیں کرے گا، اور مسلمان ہونے کے بعد ہمارا یہودیوں سے معاہدہ ٹوٹ چکا ہوگا، وہ ہم کو غلہ دیں گے نہ ٹھہرنے کی جگہ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
مجاہد نے کہا کہ نصرکامعنی ہے رزق اور ھاء راجع ہے۔ من کی طرف اس صور میں اس کا معنی یہ ہوگا کہ جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ اس کو دنیا میں اور آخرت میں رزق عطا نہیں کرے گا، اس کے برے گمان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کیونکہ اس کو یہ خوف ہے کہ اس کو کوئی رزق نہیں دے گا، اور تحقیق مدد آپہنچی، اس سے مراد رزق ہے جیسا کہ عرب کا قول ہے ، من ینصرنی نصرہ اللہ، جو کچھ مجھے عطا کیا گیا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا گیا۔
ابوعبیدہ کا قول ہے کہ عربی زبان میں ارض منصورہ اس زمین کو کہتے ہیں جس پر بارش ہوگئی ۔ ابوعمرو، نافع، ابن عامر، اور یعقوب نے ، ثم لیقطع پڑھا ہے۔ پھر وہ فیصلہ کرے ، لام کے کسرہ کے ساتھ اور دوسرے قراء نے جزم کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن عامر نے ، ولیوفوا ولیطوفوا، میں دونوں جگہ لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے جو حضرات کسرہ پڑھتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ، ثم لیقطع ، ثم لیقضوا، میں فرق ہے کہ ، ثم دونوں کلاموں کے درمیان فاصلہ کرنے کے لیے لایا گیا ہے اور واؤ کے ساتھ کلمہ کا ذکر کرنا ایسا ہے گویا کہ وہ نفس کلمہ ہے، جیسے فلینظر ، میں فاء ہے۔
Ayah 22:1616۔ وکذالک، جس طرح ہم نے وہ آیات نازل کیں جن سے امکان حشر ، توحید اور صداقت اور دوسری آیات قرآنی مراد ہیں، انزلناہ، اس سے مراد قرآن ہے۔ آیات بینات وان اللہ یھدی من یرید،۔
Ayah 22:1717۔ ان الذین آمنوا، والذین ھادوا، ،، شرک سے مراد بتوں کی پوجا کرنا ہے۔
ان اللہ یفصل بینھم، ، ان کے درمیان ہم فیصلہ کرتے ہیں، یوم القیامۃ ان اللہ علی کل شی شھید۔
Ayah 22:18تفسیر۔
18۔ الم، ، کیا آپ نہیں جاتے، بعض نے کہا، الم، تر، تم اپنے دل کی آنکھوں سے ، ان اللہ یسجد لہ من فی السموات ومن فی الارض والشمس والقمر ، والنجوم والجبال ، والشجر والدواب۔ مجاہد کا قول ہے کہ ان کا سجدہ کرنا ان کے سایہ کا دوسری طرف مائل ہونا ہے۔ ابوالعالیہ کا بیان ہے کہ آسمان میں جو کچھ بھی ہے ستارے ہوں یا سورج یاچاند غروب شمس کے وقت یہ سب سجدے میں ہوتے ہیں۔ پھر وہ دوسرے دن اس وقت تک طلوع نہیں ہوتا۔ جب تک کہ اس کو اجازت نہ دی جائے۔ بعض حضرات نے کہا کہ سجود سے مراد طاعت و فرمانبرداری ہے جماد میں سے کوئی بھی ایسی چیز نیہں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہ کرتی ہو۔ اللہ ہی ک لیے عاجزی ہے اور تسبیح نہ کرتی ہو۔ جیسا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کے متعلق خبردی ہے۔ قالتا اتیناطائعین، بعض نے پتھر کی وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا، وان منھا لمایھبط من خشیۃ اللہ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، ان من شئی الایسبح بحمدہ ولکن لاتفقھون تسبیحھم، یہ اہل سنت کے موافق صحیح قول ہے۔
” وکثیر من الناس، ان تمام اشیاء میں وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہٰں۔ اسی طرح انسانوں میں سے بہت سے لوگ (یعنی مسلمان) اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ وکثیر حق علیہ العذاب۔ ، اس سے مراد کفار ہیں۔ ان کے کفر اور ترک سجود کے باعث ان پر اللہ کا عذاب ثابت ہوچکا ہے ، وکثیر حق علیہ العذاب، اس میں جملہ واؤ مستانفہ ہے۔ ومن یھن اللہ، جس کو اللہ ذلیل کردے۔ فمالہ من مکرم، اس کو کوئی عزت نہیں دے سکتا، ان اللہ یفعل مایشائ، اللہ تعالیٰ جس کو چاہے اپنی طرف سے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے نیک بختی اور بدبختی اس کے ارادہ اور مشیت سے ہے۔
Ayah 22:1919۔ ھذان خصمان اختصموا فی ربھم، وہ جھگڑتے ہیں اپنے دین میں اور اس کے حکم میں۔ خصم، اس شبیہ ہے مصدر کا۔ اس وجہ سے اللہ نے فرامیا، اختصموا، لفظ جمع کے ساتھ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے ، وھل اتاک نباالخصم اذ تسوروالمحراب۔
ھذان خصمان کی تفسیر۔
ان دونوں خصمین کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔
حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ آیت، ھذان خصمان ، اختصموا فی ربھم، کا نزول حضرت حمزہ، حضرت عبید ، حضرت علی اور شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ، عتبہ بن زبیعہ کے متعلق ہوا۔ اول تینوں حضرات مومن تھے اور آخری تینوں اشخاص کافر تھے۔
حضرت علی سے روایت ہے کہ یہ آیت ہمارے متعلق اور بدر کے دن کافروں سے ہمارے مقابلے کے سلسلے میں نازل ہوئی، انہوں نے دوسری روایت منقول ہے جو قیس بن عبادہ نے نقل کی ہے کہ حضرت علی نے فرمایا، قیامت کے دن کافروں سے جھگڑا کرنے کے لیے سب سے پہلے میں ہی رحمت (الٰہی) کے سامنے دوزانوں بیٹھوں گا۔ قیس نے کہا کہ انہی لوگوں کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی جن لوگوں نے بدر کے دن باہم مقابلہ کیا تھا، علی حمزہ، عبید ، شبیعہ ، عتبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ انہی کے سلسلہ میں آیت کا نزول ہوا۔
بدر کے روز حضرت علی، حمزہ، اور عبیدہ ، ؓ کا کافروں سے مقابلہ کرنا۔
محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ بدر کے دن عتبہ بن ربیعہ، شیبہ، اور ولید بن عتبہ نکل کر آئے اور صف تک پہنچ کر انہوں نے اپنے حریفوں کو میدان میں نکل کر آنے کی دعوت دی۔ ان کے مقابلے میں عبداللہ بن رواحہ اور تین انصاری ، جوان عوف معاذ ومعوذ نکل کر سامنے آئے۔ موخرالذکر تینوں جواب حارث کے بیٹے تھے۔ ان کی ماں کا نام عفراء تھا۔ فریق اول نے پوچھا کہ تم کون لوگ ہو ؟ فریق دوم نے کہا ہم انصاری ہیں اور نسب میں تمہارے ہم سفر اور شرفاء ہیں۔ فریق اول کی منادی نے پکارا محمد ہمارے مقابلے کے لیے ہمارے ہمسروں کو بھیجو جو ہماری قوم میں سے ہوں۔
رسول اللہ نے فرمایا، عبیدہ بن حارث اٹھو، حمزہ بن عبدالمطلب اٹھو، علی بن ابی طالب اٹھو، حسب الحکم تینوں حضرات نکل کر میدان میں پہنچے فریق اول نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ فریق دوم نے اپنے نام بتائے فریق اول نے ہاں تم ہم سر اور شرفاء ہو۔ عبیدہ سب سے زیادہ عمر رسیدہ تھے انہوں نے عتبہ کو للکار ا اور حمزہ شیبہ کے مقابلے پر نکلا اور حضرت علی ولید بن عبتہ کے مقابلے میں نکلے ۔ حضر ت حمزہ نے اپنے مقابل کو تودم ہی نہیں لینے دیا، فورا ہی شیبہ کو قتل کردیا اور علی نے ولید کا کام تمام کردیا، البتہ عبیدہ اور عتبہ کے درمیان چوٹیں رہیں۔ دونوں اپنی جگہ ڈتے رہے یہ دیکھ کر حمزہ اور علی نے اپنی تلواریں لے کر عتبہ پر ٹوٹ پڑے اور قتل کردیا اور عبیدہ کو اٹھا کر اپنے ساتھیوں کے پاس لے آئے، حضرت عبیدہ کی ٹانگ کٹ گئی تھی اور اس سے خون بہہ رہا تھا، جب یہ حضرات عبیدہ کو لے کر خدمت گرامی میں پہنچے توعبیدہ نے کہا کیا میں شہید نہیں ہوں گا، حضور نے فرمایا کیوں نہیں، عبیدہ نے کہا کہ اگر حضرت ابوطالب زندہ ہوتے تو ان کو معلوم ہوجاتا کہ ان کے ان شعروں کا میں ہی زیادہ مستحق ہو اور ان کے اشعار یہ تھے۔
ونسلمہ حتی نصرع حولہ، ونذھل عن انبانا والحلائل۔
(ہم اس وقت تک ان کو تمہاری سپرد نہیں کرسکتے جب تک اپنے اہل و عیال کی طرف سے بےپرواہ ہوکرا کے گردہماری لاشیں نہ پڑی ہوں
مجاہد اور عطاء بن رباح نے کہا کہ ھذان خصمان سے تمام مسلمان مراد ہیں بعض علماء نے کہا اس آیت، ان لذین امنووالذین ھادو، میں چھ مذاہب کا تذکرہ کیا گیا ہے ایک مذہب والوں کو جنتی اور پانچ مذہب والوں کو دوزخی قرار دیا گیا ہے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ باہم جھگڑا کرنے والی دوچیزیں جنت اور دوزخ ہیں۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا جنت اور دوزخ کا باہم جھگڑا ہوا۔ دوزخ نے کہا میں اعلی ہوں مجھے تکبر کرنے والوں اور مغرور کے لیے پسند کیا گیا ہے۔ جنت نے کہا کہ میں اعلی ہوں میرے اندر تو سوائے کمزور گرے پڑے لوگوں اور مسکینوں کے اور کوئی بھی داخل نہیں ہوگا، اللہ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے۔ میں اپنے جس بندے سے چاہوں گا تیرے ذریعہ سے رحم کروں گا اور دوزخ سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ذریعہ سے میں جس کو چاہوں گا عذاب دوں گا، تم دونوں میں سے ہر ایک کو ضرور بھراجائے گا۔ دوزخ و اس ووقت تک نہیں بھرے گی جب تک اللہ تعالیٰ اپنی ایڑھی مبارک نہ رکھ لیں۔ جب اللہ اس کے اندراپناقدم مبارک رکھ دے گا تو دوزخ بھرجائے گی اور کہے گی بس بس اور وہ باہم سمٹ جائے گی۔ اللہ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا، اور جنت کے لیے اللہ دوسری مخلوق پیدا کردے گا۔
” فالذین کفروا قطعت لھم ثیاب من نار، ، سعید بن جبیر ؓ نے کہا پگھلائے ہوئے تانبے کے کپڑے ہوں گے کوئی دھات بھی ایسی نہیں کہ تپانے کے بعد اس لباس سے زیادہ گرم ہو چونکہ لباس کی طرح پگھلاہوا تانباکافروں کے جسم کو محیط ہوگا اس لیے اس کو لباس قرار دیا۔
بعض علماء نے کہا کہ دوزخیوں کو آگ کے ٹکڑے پہنائے جائیں گے۔ یصب من فوقھم روسھم الحمیم، حمیم سے مراد گرم پانی ہے جو اپنی حرارت میں آخری درجہ تک پہنچ جائے۔
Ayah 22:20تفسیر۔
20۔ یصھر بہ ، وہ گرم پانی کی وجہ سے پگھل جائے گا، مافی بطونھم ، جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے ان سب کو جلادے گی ، انتڑیاں اور چربی۔ جب ان پر گرم پانی ڈالاجائے گا، توبیرونی جسم کے ساتھ ساتھ اندرونی جسم بھی پگھل جائے گا۔ والجلود، اس کی گرمی کی وجہ سے ان کی جلد گرجائے گی، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا گرم پانی ان کے سروں کے اوپرڈالاجائے گا، اور بہہ کر پیٹ کے اندر داخ (رح) ہوکردونوں قدموں کے درمیان نکل جائے گا، صہر کا معنی ہے باربارایسا ہی کیا جائے گا۔
” ولھم مقامع من حدید، لوہے کے گرز ہوں گے اس کی واحد، مقمعہ، ہے لیث کا قول ہے کہ لوہے کے گرز کے مشابہ ہے۔ یہ قمعت راسہ، کے محاورے سے ماخوذ ہے۔ قمعت میں نے سخت ضرب رسید کی۔ اگر اس گرز کو زمین پر گاڑ دیاجائے پھر جن وانس جمع ہوجائیں تو اس کو زمین سے نکال نہ سکیں۔
Ayahs 22:21–2221۔ کلماارادو ان یخرجوا، ،، جب بھی وہ آگ سے نکلنے کی کوشش کریں گے تو دوبارہ اس غم و تکلیف میں لوٹا دیے جائیں گے۔ اعیدوفیھا، ان کو گرزو کے ذریعے واپس لوٹایاجائے گا۔ تفسیر میں ہے کہ جہنم میں گروہ درگروہ داخل ہوں گے وہ آگ ان کو اوپر سے ڈھانپ دے گی۔ وہ اس سے نکلنے کی کوشش کریں گے۔ ان کو لوہے کے گرزوں کے ساتھ ماراجائے گا، تو وہ سترسال زمین میں دھنستاچلاجائے گا۔ وذوقواعذاب الحریق، ان کو فرشتے کہیں گے اب چکھومزہ آگ کا تم جلتے رہو دردناک عذاب اور دردناک تکلیف کے ساتھ۔ زجاج نے کہا یہاں تک ایک فریق کا ذکر تھا دوسرے فریق کا تذکرہ اگلی حدیث کے ذیل میں آرہا ہے۔
Ayah 22:2323۔ ان اللہ یدخل الذین آمنوا، ،، ،، اساور من ذھب۔ اساور سوار کی جمع ہے۔ ولولوئ، قراء اہل مدینہ اور عاصم نے ، لولوء منصوب کے ساتھ پڑھا ہے اور سورة الملائکہ میں بھی اس کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعقوب نے اس جگہ معنی موافقت کی ہے اور مصاحف میں الف کے ساتھ لکھا ہے۔ اور دوسرے قراء نے اس کو جر کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں اس کا عطف، من ذھب، پر ہوگا، اور پورے قرآن میں ہمزہ اولی کو چھوڑ دیاپورے قرآن میں، ابوبکر، ابوجعفر، نے ان کی موافقت کی ہے۔ باقی رہی بات الف کو باقی رکھا جائے گایا نہیں ؟ اس بارے میں بعض حضرات نے کہا کہ اس کے الف کو باقی رکھاجائے گا۔ جیسا کہ قالوا اور کانوا میں الف کو باقی رکھاجاتا ہے کسائی کا قول ہے کہ ہمزہ کو ثابت رکھاجائے گا، جیسا کہ ہمزہ کو ثابت رکھاجاتا ہے۔ ولباسھم فیھا حریر، کہ جنت میں لوگ ریشم کالباس پہنیں گے وہ لباس دنیا میں ان پر حرام کیا گیا تھا۔
حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم سے روایت کرتے ہیں کہ جو شخص دنیا می ریشم کالباس پہنے گا اس کو آخرت میں ریشم نہیں ملے گا، اور گر وہ جنت میں پہنچ بھی جائے تب بھی اس کو ریشمی لباس نہیں ملے گا۔
Ayah 22:2424۔ وھدوا الی الطیب۔ ابن عباس نے فرمایا طیب قول سے مراد ہے کہ لاالہ الا اللہ واللہ اکبر والحمدللہ۔ کی شہادت۔ ابن زید کا قول ہے کہ اس سے مراد لاالہ الاالہ واللہ اکبر ۔ سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد قرآن مجید ہے اور بعض نے کہا کہ اہل جنت کا قول الحمدللہ ہے کہ اس نے اپناوعدہ سچ کردکھایا۔ وھدوالی صراط الحمید۔ اس سے مراد اللہ کا دین اسلام ہے ۔ حمید سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں محمود سے مراد اچھے افعال ہیں۔
Ayah 22:25تفسیر۔
25۔ ان الذین کفروا یصدون عن سبیل اللہ۔ مستقبل کا عطف ماضی پر ہے کیونکہ یہاں لفظ مستقبل سے ماضی مراد ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا، الذین کفروا صدو ا عن سبیل اللہ ، بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے ، ان الذین کفروا سے جو ماقبل میں گزرچکے ہیں۔ ویصدون عن سبیل اللہ ، سے حال مراد ہے۔ یعنی وہ روکنے والے ہیں۔ والمسجد الحرام، اور وہ مسجد حرام سے روکتے ہیں۔ الذی جعلناہ للناس، ان کے لیے قبلہ بنایا تاکہ اس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں اور حج کرنے کی جگہ بنائی۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے، وضع للناس، ،،۔ سواء ، حفص نے عاصم و یعقوب کے حوالے سے منصوب پڑھا ہے۔ سوائ، اس صورت میں یہ دونوں مفعولوں کی طرف متعدی ہوگا۔ العاکف فیہ والباد، دوسرے قراء نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں یہ مبتداء ہوگا اور اس کے مابعد والا جملہ خبر کہلائے گا، للناس تک یہ کلام تام ہوجائے گا، عاکف سے مراد مقیمین ہیں۔
العاکف فیہ والباد کی تشریح۔
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں شہری اور دیہاتی دونوں برابر ہیں خانہ کعبہ کی تعظیم اور حرمت میں اور حج کے مناسک ادا کرنے میں اور اسی طرف مجاہد، حسن اور ایک جماعت گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مسجد حرام ہ ہے۔ اور تسویہ سے مراد کعبہ کی تعظیم اور مسجدحرام میں نماز کی فضیلت افضل ہے۔ اور بیت حرام میں طواف کرنا۔ اس اعتبار سے یہ افضل ہے بعض نے کہا کہ اس سے مراد پوری مسجد حرام ہے تسوی کا معنی ہے یہ مقیم اور بدوی اس میں برابر ہیں کسی کو کسی پر فویقت نہیں جو شخص بھی حرم کے اندر کسی جگہ پہلے ٹھہرجائے اس کو پیچھے آنے والانکال نہیں سکتا۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماسعید بن جبیر ؓ ک اورابن زید کا قول یہی ہے۔
ان حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ مقیسم ہو یا مسافر حرم کے اندرمکانوں اور فرودگاہوں پر سب کا حق ہے عبدالرحمن بن سابط کا قول ہے کہ حاجی جب مکہ میں آتے ہیں توم کہ کے باشندوں کو بھی اپنے مکانوں پر ترجیحی حقوق باقی نہیں رہے۔ حضرت عمر بن خطاب موسم حج میں لوگوں کو اپنے گھروں کے دروازے بندرکھنے سے منع فرماتے تھے۔ اسی قول کی بناء پر کہ مکہ کے گھروں کو فروخت کرنا اور ان کو اجارہ پر دینا جائز نہیں یہی قول اول ہے اور یہی صواب کے زیادہ لائق ہے۔
یہ قول طاؤس ، عمر بن دینا اور امام شافعی کا ہے ۔ ومن یرد فیہ بالحاد بظلم ، فیہ کی ضمیر مسجد حرام کی طرف راجع ہے خواہ اس سے کعبہ مراد ہو یا عام حرم۔ بالحاد میں باء زائدہ ہے مبرد نے اس بات کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ آیت کا معنی ہے جو شخص حرم میں الحاد کا ارادہ کرے گا ظلم کے ساتھ۔
الحاد کی تفسیر۔
الحاد کے بارے میں آئمہ مفسرین کے مختلف اقوال ہیں مجاہد اور قتادہ کے نزدیک اس جگہ شرک اور غیر اللہ کی پرستش مراد ہے۔ بعض علماء نے کہا کہ تمام ممنوعات کا ارتکاب مراد ہے خواہ قولی ہو یا فعلی ہو ، یہاں تک کہ خادم کو گالی دینا بھی اس میں داخل ہے عطاء کا قول ہے کہ بغیر احرام کے حرم میں داخل ہونا۔
اورحرم کے اندر کوئی خلاف حرمت حرم کوئی کام کرنا، شکار کرنا، درخت کاٹنامراد ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ حرم میں الحادیہ ہے کہ جو شخص تم کو قتل نہ کررہا ہو تم اس کو قتل کردو اور جو شخص تم پر ظلم نہ کررہا ہو تم اس پر طلم کرو، یہ قول ضحاک کا بھی قول ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ مکہ کے اندر گناہ کا درجہ بھی باہر کے گناہ کے مقابلے میں چند گنا ہوجاتا ہے جیسے حرم کے اندر نیکیوں کا درجہ چندگنا ہوتا ہے۔
حبیب بن ابی ثابت کا بیان ہے کہ حرم میں طعام کا ذخیرہ کرنا، عبداللہ بن مسعود کے اس فرمان کے مطابق، من یرد دیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم، کہ جس شخص نے صرف گناہ کا ارادہ کیا اور ارتکاب نہیں کیا تو اس کے اعمال نامے میں گناہ نہیں لکھاجائے گا، لیکن اگر کسی شخص کو مکہ میں قتل کرنے کا ارادہ کرلیا اور جس کو قتل کرنے کا ارادہ کیا وہ عدن میں ہے یا کسی اور شہریں تو ایسا ارادہ کرنے والے کو عذاب الیم کا مزہ چکھائے گا، سدی کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو عذاب الیم کا مزہ چکھائے گا، مگر یہ کہ وہ توبہ کرلے۔
Ayah 22:2626۔ واذ بوانا لاابراہیم مکان البیت۔ ہم نے ان کے لیے اس کو وطن کی جگہ بنایا۔ ابن عباس نے اس کا ترجمہ کیا ہے ہم نے بنایا اور بعض نے کہا کہ ہم نے ان کے لیے جگہ مقرر کردی۔ زجاج کے نزدیک اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم نے ابراہیم کے لیے بیت اللہ کی جگہ معین کردی ۔
مقاتل بن حیان کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے ہم نے اس کو بلند کیا۔ اوپراٹھالیا۔ حضرت نوح کے طوفان کے زمانے میں کعبہ کو آسمان کی طرف اٹھالیا گیا تھا پھر جب اللہ نے حضرت ابراہیم کو تعمیر کعبہ کا حکم دیا تو حضرت ابراہیم حیران ہوئے اور آپ کو پتہ بھی نہ چلا کہ کعبہ کا مقام کہاں ہے اور کہاں بناؤں۔ بحکم خدا ایک تندآندھی آئی جس کی وجہ سے کعبہ کے خطوط اساسی پر پڑی ہوئی ریت اور مٹی ہٹ گئی اور آپ کو کعبہ کی بنیادیں معلوم ہوگئیں۔
کلبی کا بیان ہے کہ اللہ نے مسافت کعبہ کے بقدر ایک ہوا بھیجی جو کعبہ کے مقام پر آکھڑی ہوئی اس کے اندر سر تھا جو کہہ رہا تھا ابراہیم میری قد کے برابر عمارت بناؤ حضرت ابراہیم نے اسی مقدار کے بموجب تعمیر کی۔ ان لاتشرک بی شئیا، ہم نے ابراہیم سے عہد لیا اور ہم نے اس کو کہا کہ وہ ہماری عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرے گا۔ وطھر بیتی للطائفین ، جو لوگ اس گھر کا طواف کرتے ہیں ، والقائمین، اور جو اس میں مقیم ہیں ، والرکع السجود، اور جو اس میں نماز پڑھتے ہیں۔
Ayah 22:2727۔ واذن فی الناس۔ اور لوگوں میں اس کا اعلان کرو۔ بالحج، حضرت ابراہیم نے عرض کی، اے اللہ میری آواز کو پوری دنیا تک کون پہنچائے گا، حکم ہوا آپ کے اوپر اعلان کرنا ہے پہنچانا ہمارا کام ہے۔ حضرت ابراہیم مقام ابراہیم پر کھڑے ہوئے فورا مقام اٹھ کر بلندترین مقام کے برابر ہوگیا۔ حضرت ابراہیم نے اپنی دونوں انگلیوں دونوں کانوں میں رکھ کرچہرے کو دائیں اور بائیں اور مشرق کی طرف گھماتے ہوئے کہالوگو تمہارے رب نے ایک مکان بنایا ہے اور تم پرس کا حج کرنا فرض کردیا ہے۔ اپنے رب کی دعوت قبول کرو۔ سب نے باپوں کی پشت اور ماؤں کے پیٹ کے اندر سے ، لبیک اللھم لبیک، کہاحضرتابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ سب سے پہلے، لبیک کہنے والے اہل یمن تھے۔ اس لیے یمنی لوگ سب سے زیادہ حج کرتے ہیں۔ یہ بھی روایت ہے کہ کہ حضرت ابراہیم نے کوہ اباقبیس پرچڑھ کر ندادی تھی۔
حضرتابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا اس آیت میں الناس سے مراد اہل قبلہ ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ ، اذن فی الناس بالحج ، علیحدہ کلام ہے۔ اس میں رسول اللہ کو خطاب کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ حجۃ الوداع میں لوگوں کو حج کے لیے بلائیں۔
Ayah 22:2828۔ لیشھدوا، تاکہ ان کو حاضر کردے۔ منافع لھم ، سعید بن مسیب کا قول ہے کہ منافع سے اس جگہ مراد ہے عفو و مغفرت۔ سعید بن جبیر کے نزدیک منافع سے مراد تجارت ہے۔ یہی ایک روایت ابن زید سے ہے اور کہا کہ اس سے مراد بازار ہیں۔ مجاہد نے کہا کہ تجار ت بھی مراد ہے اور وہ تمام دنیاوی اور خروی امور مراد ہیں جن کو اللہ پسند فرماتا ہے۔ ویذکراسم اللہ ، ، اس سے مراد عشرہ ذی الحجہ ہیں۔ اکثر مفسرین کا قول بھی یہی ہے اور معلومات کہنے سے ان دنوں کی گنتی جاننے کی ترغیب دینامقصود ہے کیونکہ اس عشرے کے خاتمے پر حج کا وقت آتا ہے حضرت علی کا قول ہے کہ ان ایام سے مراد ہے قربانی کا دن اور تین روز اس کے بعد کے۔
عطا سیابن عباس ؓ کی روایت منقول ہے کہ ایام معلومات سے مراد عرفہ کا دن ہے قربانی کا دن اور ایام تشریق ۔ مقاتل نے ایام معلومات کو صرف ایام تشریق کہا ہے۔ علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام۔ اس سے مراد قربانی کے جانور جو کعبہ کی طرف بھیجے جاتے ہیں۔ خواہ قربانی واجب ہو یا مستحب۔ آیت میں کوئی قید نہیں۔ ہدایہ اور قربانی نع، سے کی جائے گی۔ نعم سے مراد اونٹ بقر، غنم ہے۔ زجاج نے اسی قول کو اختیار کیا ہے کہ ایام معلومات سے مراد یوم النحر ایام تشریق ہے۔ فکلوامنھا یہ حکم ابات کے لیے ہے واجب نہیں۔
زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنی قربانی کا گوشت کھانے کو جائز نہیں سمجھتے تھے اس بات میں علماء کا اتفاق ہے کہ ہدی اگر نفلی ہوتوپھرحاجی کے لیے اس سے کھاناجائز ہے اور اس طرح نفلی اضحیہ سے کھانا بھی جائز ہے۔
واجب ہدی حاجی کے لیے کھانا جائز ہے کہ نہیں۔
واجب ہدی کے متعلق شریعت میں اختلاف ہے کیا اس سے مہدی کھاسکتا ہے یا نہیں ؟ جیسے دم تمتع، دم قران، اور دم واجب اور حج کے فساد ہونے سے جو دم واجب ہوا ہے اس کے کھانے سے اور شکار کرنے کی صورت میں جو جزا واجب ہوتی ہے اس سے کھاناجائز ہے۔ امام شافعی کے نزدیک ان دموں قربانیوں میں سے کھاناجائز نہیں اور اسی طرح جو کسی نے اوپنے اوپر خود واجب کی ہوں ان کو کھانا جائز نہیں ابن عمر کا قول ہے کہ شکار کی جزا اور نذر کے ذبیحہ کے گوشت نہیں کھاسکتا اور اس کے علاوہ کا گوشت کھاسکتا ہے۔
امام احمد واسحق اور امام مالک کا قول ہے کہ وہ تمتع کی ہدی سے کھاسکتا ہے اور ہراس قربانی سے کھاسکتا ہے جو اس پر واجب ہوئی ہے لیکن وہ قربانی جو اس کے جرم کے باعث لازم ہوئی یا شکار کے بدلے میں لازم ہوئی یانذر کے بدلے مین لازم ہوئی اس سے نہیں کھاسکتا اور عام اصحاب الری کا قول ہے کہ وہ دم تمتع اور قران کی قربانی سے کھاسکتا ہے اور اس کے ماسوا قربانی سے نہیں کھاسکتا، واطعموالبائس الفقیر، جو سخت محتاجی والا ہو جس کے پاس کوئی چیز نہیں اور البائس اس کو کہتے ہیں جس کو سخت احتیاج ہو البوس شدت فقرکوہی کہتے ہیں۔
Ayahs 22:29–30تفسیر۔
تفثھم کی تفسیر۔
29۔ ثم لیقضوا تفثھم، تفث میل کچیل کو کہتے ہیں اور قذارہ کہتے ہیں بالوں اور ناخنوں کالمبا ہونا اور پراگندہ ہونا عرب کا قول ہے کہ جس چیز کو انسان ناپسند سمجھتا ہو، اس کے لیے یہ لفظ بولتے ہیں یعنی جس سے انسان نفرت کرے اور حاجی بھی پراگندہ بال اور غبارآلود ہوتے ہیں جو اپنے بالوں کونہ کاٹے اور اپنے ناخنوں کونہ کاٹے۔ قضاء تفث کہتے ہیں ان تمام اشیاء سے نکلنا ہے تاکہ اپنی میل کچیل کو دور کردیں مراد یہاں احرام سے نکلنا ہے۔ مونچھوں کا کاٹنا اور بغلوں کے بالوں کالینا اور اپنے ناخنوں کا کاٹنا اور کپڑے پہننا ۔ ابن عمروابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اس سے مراد حج کے مناسک کو پورا کرنا ہے۔ مجاہد نے کہا، تفث، سے مراد ہیں مناسک حج، لبیں کترنا، زیرناف اور بغلوں کو صاف کرنا ناخن تراشنا۔
اوربعض نے کہا کہ تفث ، اس جگہ رمی جمار ہے۔ زجاج کا قول ہے کہ تفث کا لفظ ہم کو قرآن ہی سے معلوم ہوا ۔ یعنی یہ لفظ کلام عرب میں زیادہ مستعمل نہیں۔ ولیوفوانذورھم، مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد حج اور ہدی اور وہ چیز جو انسان دوران حج کسی چیز کی نذر مانتا ہے تاکہ وہ اس کو پورا کرے۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد جو اس نے نذر مانی ہے اس کو پورا کرے۔ بعض نے کہا کہ اس نذر سے خروج ہے خواہ وہ اس نے مانی ہو یا نہ مانی ہو۔ عرب کے نزدیک ہر واجب کو پورا کرنے سے نکلنے کو کہتے ہیں کہ اس نے اپنی نذر کو پورا کیا ۔ عاصم نے ابوبکر کی روایت میں یہ پڑھا ہے ، ولیوفوا، واؤ کے نصب اورفاء کی تشدید کے ساتھ۔ ولیطوفوا بالبیت العتیق۔ اس سے مراد طواف واجب ہے اور طواف افاضۃ ہے جو یوم النحر کو رمی اور حلق کے بعد کیا جاتا ہے۔
طواف کی اقسام۔
طواف کی تین اقسام ہیں۔
اول : طواف قدوم۔ یہ وہ طواف ہے جب آفاقی مکہ آئے تو اس وقت جو طواف کرتا ہے پہلے تین چکروں میں رمل کرتا ہے اور چار چکروں میں چلتا ہے ، یہ سنت طواف ہے اس کو ترک کرنے سے کچھ واجب نہیں ہوتا۔
حضرت عروہ بن زبیر کا بیان ہے ، کہ رسول اللہ نے حج کیا جس کی تفصیل حضرت عائشہ صدیقہ نے مجھے یہ بتائی کہ مکہ پہنچ کر رسول اللہ نے سب سے پہلے وضو کرکے طواف کیا، اس کے بعد کوئی عمرہ نہ تھا پھر حضرت ابوبکر نے حج کیا اور اسب سے پہلے کعبہ کا طواف کیا، اب بھی عمرہ نہ تھا اس کے بعد پھر حضرت عثمان ؓ نے ایسا ہی کیا۔
حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ نے مکہ میں آکرسب سے اول جو حج یاعمرہ کا طواف کیا اس میں پہلے تین چکر لپک کر (تیزی کے ساتھ) کیسے اور چار چکر معمولی چال سے۔ پھر دوسجدے کیے پھر صفاومروہ کے درمیان سعی کی۔
الثانی : یہ طواف افاضۃ ہے۔ یوم النحر رمی اور حلق کے بعد کیا جاتا ہے یہ طواف افاضۃ ہے اسی طواف کے بعد احرام سے نکل کر انسان حلال ہوجاتا ہے۔
حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ حضرت صفیہ کو مکہ سے روانگی کے دن حیض آناشروع ہوگیا تو کہنے لگی کہ مجھے روک دیا گیا، اس پر نبی کریم نے فرمایا انہوں نے قربانی کے دن طواف زیارت کرلیا، عرض کیا گیا جی ہاں فرمایا تو روانہ ہو۔
ثالث : یہ طواف وداع ہے اس میں کوئی رخصت نہیں جو شخص مکہ سے جانے کا ارادہ کرے تو اس کو چاہیے کہ سات چکرلگائے اور جو شخص اس طواف کو چھوڑ دے اس پر دم واجب ہوتا ہے ۔ مگر وہ عورت جس کو حیض آجائے تو اس کے لیے طواف وداع ترک کرنا جائز ہے۔ حضرت طاؤس سے روایت ہے کہ لوگوں کو حکم دیا گیا کہ لوگوں کا اپناآخری کام بیت اللہ کا طواف ہونا چاہیے مگر حائضہ عورت کو رخصت دی ہے۔ پہلے تین چکروں میں رمل یہ طواف قدوم کے ساتھ خاص ہے۔ اور طواف افاضہ اور طواف وداع میں ضروری نہیں۔
عتیق کے معنی میں مفسرین کے اقوال۔
” بالبیت العتیق “ عتیق کے معنی میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت زبیر مجاہد اور قتادہ کے حوالے سے مذکور ہے۔
(1) ۔ اس کو عتیق کہنے کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ہرجابر اور بادشاہ ظالم کے قبضہ سی اللہ نے اس گھر کو ہمیشہ آزاد رکھا ہے کوئی جابر حاکم کبھی اس پر قبضہ نہ کرسکا نہ کرسکے گا، اس لیے اس کو عتیق کہاجاتا ہے۔
2) سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں کہ اس کو عتیق کہا گیا کیونکہ اس کا کوئی مالک نہیں ہوگا۔
3) حسن اور ابن زید کا قول ہے کہ عتیق اس وجہ سے کہا گیا کہ یہ قدیم گھر تھا اور سب سے پہلے بنایا گیا ہے جیسے کہاجاتا ہے دینار عتیق یعنی وہ پرانا دینار ہے۔
4) ۔ اور بعض نے کہا کہ اس کو عتیق کہا گیا کیونکہ اللہ نے اس کو طوفان نوح سے غرق ہونے سے بچایا۔
” ذلک “ جو ہم نے اعمال حج کے بارے میں ذکر کیا۔ ومن یعظم حرمات اللہ ، اللہ کی نافرمانی سے بچو یعنی جن چیزوں سے رکنے کا حکم دیا ان سے رک جائیں۔ لیث کا قول ہے کہ حرمات اللہ سے وہ امور مراد ہیں جن کی پابندی لازم ہے۔ یعنی تمام اوامر اور نواہی حرمات الٰہیہ ہیں۔
زجاج نے کہا کہ حرمت وہ چیز ہے جس کو پورا پورا ادا کرنا واجب ہے۔ اور کسی طرح کی اس میں کمی کرنا حرام ہے اور بعض اہل علم نے کہا کہ حرمات اللہ سے مراد ہیں آداب حج۔ ابن زید نے کہا کہ اس جگہ حرمات اللہ سے مراد ہیں بلدحرام اور بیت حرام اور ماہ حرام۔ فھو خیرلہ عندربہ، ان حرمات کی تعظیمات اللہ کے نزدیک بہتر ہے آخرت میں۔ واحلت لکم الانعام، جب تم ان کو ذبح کروتوان کے گوشت سے کھاؤ اور اس سے مراد اونٹ، گائے اور بھیڑ ہیں۔ الامایتلی علیکم، مگر جن کی حرمت ہم نے تمہارے لیے بیان کردی ہے اس کا ذکر سورة مائدہ میں حرمت علیکم المیت والدم
” فاجتنبوالرجس من الاوثان، ان کی عبادت کرنے سے۔ یہ رجس کا سبب ہے یہ عذاب کا سبب بنتا ہے۔ زجاج کا قول ہے کہ من یہاں پر تجنیس کے لیے ہے کہ تم ان بتوں سے بچو کیونکہ یہ رجس ہیں۔ واجتنبواقول الزور، زور سے مراد جھوٹ اور بہتان ہے ۔ ابن مسعود کا قول ہے کہ اس سے مراد جھوٹی گواہی ہے۔
روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا اے لوگو ! جھوٹی گواہی سے اجتناب کرو اللہ کے ساتھ شریک کرنے سے بچو، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی اور بعض نے کہا کہ جھوٹی گواہی سے مراد مشرکین کا تلبیہ کہنا کیونکہ کہ وہ لبیک کہتے وقت ، لبیک لاشریک لک الاشریکا تملکہ وماملک۔ تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے جس کا تو مالک ہے وہ تیرامالک نہیں۔
Ayah 22:31تفسیر۔
31۔ حنفاء للہ۔ اس کے ساتھ خالص رکھنے والے۔ غیر مشرکین بہ، قتادہ کا قول ہے کہ دورشرک میں لوگ حج کرتے تھے لیکن ماؤں ، بیٹیوں، اور بہنوں کو روکتے تھے اور اپنے کو حنیف کہتے تھے یعنی دین ابراہیمی پر قائم۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، حنفاء للہ غیر مشرکین بہ، وہ اللہ کے بارے میں مسلمان موحدین سے لڑتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص شرک کرے وہ موحد نہیں وہ حنیف نہیں۔ ومن یشرک بااللہ فکانما، وہ گرجاتا ہے۔ من السماء آسمان سے زمین پر، فتخطہ الطیر، اس کو پرندے اچک لیتے اور لے جاتے خطف اور اختطاف کسی چیز کو جلدی کے ساتھ اچک لینا۔
قراء اہل مدینہ نے خاء کے فتحہ کے ساتھ اور طاء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے، یتخطفہ،۔ اور تھوی بہ الریح، ، وہ اس کی طرف مائل ہوجاتے ہیں اور اس کو لے جاتے ہیں ، فی مکان سحیق، دور مکان ، اس کا معنی یہ ہوگا کہ جو شخص اللہ کی عبادت کرتے کرتے شرک کرنے لگے تو وہ ایسا ہے جیسے کہ وہ آسمان سے گر اور پرندے اس کو لے جائیں یا ہوا کے ذریعے سے اور جگہ چلاجائے تو وہ اپنی ھالت پر نہیں پہنچ سکتی۔
بعض نے کہا کہ مشر کی حالت کو آسمان سے گرنے کے ساتھ تشبیہ دی ہے ۔ کہ جب وہ آسمان سے گرتا ہے تو اس کو اپنے اوپر کوئی اختیار نہیں رہتا، تو وہ ہوا کے سپر دہوجاتا ہے اور ہلاک ہوجاتا ہے یا پھر اس کا گوشت پرندے کھاجاتے ہیں یا کسی گھاٹی میں جاکرگرتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ کفار کے اعمال کو اس حالت کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ وہ ان کو ہلاکت کی جگہ لے جاتا ہے۔ اس پر قادر نہیں ہوتے کہ اپنے آپ کو اس آفت سے بچاسکیں۔
Ayah 22:3232۔ ذالک، جو ہم نے ذکر کیا کہ گندگی اور جھوٹ سے بچنا۔ ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوب۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اس سے مراد وہ اونٹ اور قربانی کے جانور ہیں جو قربانی کے لیے بھیجے جاتے ہیں اور بعض نے کہا کہ اللہ کے دین کی نشانیاں ہیں کیونکہ انہی کے ذریعے دلوں کا تقوی حاصل ہوتا ہے اور ان دونوں کی تعطیم دل کا تقوی ہی ہے۔